Tafsir Ibn Kathir — النساء 4:127 – النساء 4:176
Contents
- النساء 4:127
- النساء 4:128
- النساء 4:129
- النساء 4:130
- النساء 4:131
- النساء 4:132
- النساء 4:133
- النساء 4:134
- النساء 4:135
- النساء 4:136
- النساء 4:137
- النساء 4:138
- النساء 4:139
- النساء 4:140
- النساء 4:141
- النساء 4:142
- النساء 4:143
- النساء 4:144
- النساء 4:145
- النساء 4:146
- النساء 4:147
- النساء 4:148
- النساء 4:149
- النساء 4:150
- النساء 4:151
- النساء 4:152
- النساء 4:153
- النساء 4:154
- النساء 4:155
- النساء 4:156
- النساء 4:157
- النساء 4:158
- النساء 4:159
- النساء 4:160
- النساء 4:161
- النساء 4:162
- النساء 4:163
- النساء 4:164
- النساء 4:165
- النساء 4:166
- النساء 4:167
- النساء 4:168
- النساء 4:169
- النساء 4:170
- النساء 4:171
- النساء 4:172
- النساء 4:173
- النساء 4:174
- النساء 4:175
- النساء 4:176
النساء 4:127
یتیموں کے مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے عائشہ فرماتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ولی وارث بھی وہی ہو مال میں شریک ہو گیا ہو اب چاہتا یہ ہو کہ اس یتیمہ سے میں نکاح کر لوں اس بنا پر اور جگہ اس کی شادی روکتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4600]
ایک روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا» [4-النساء:127] نازل فرمائی۔
فرماتی ہیں کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے «وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ» اس سے مراد پہلی آیت «وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا» [4-النساء:3] ہے
آپ سے بھی منقول ہے کہ یتیم لڑکیوں کے ولی وارث جب ان کے پاس مال کم پاتے یا وہ حسین نہ ہوتیں تو ان سے نکاح کرنے سے باز رہتے اور اگر مالدار اور صاحب جمال پاتے تو نکاح کی رغبت کرتے لیکن اس حال میں بھی چونکہ ان لڑکیوں کا اور کوئی محافظ نہیں ہوتا تھا ان کے مہر اور حقوق میں کمی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا کہ بغیر پورا مہر اور پورے حقوق دینے کے نکاح کر لینے کی اجازت نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ایسی یتیم بچی جس سے اس کے ولی کو نکاح حلال ہو تو وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے بشرطیکہ جو مہر اس جیسی اس کے کنبے قبیلے کی اور لڑکیوں کو ملا ہے اسے بھی اتنا ہی دے اور اگر ایسا نہ کرے تو اسے چاہیئے اس سے نکاح بھی نہ کرے۔ اس سورت کے شروع کی اس مضمون کی پہلی آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس یتیم بچی سے خود اس کا ایسا ولی جسے اس سے نکاح کرنا حلال ہے اسے اپنے نکاح میں لانا نہیں چاہتا خواہ کسی وجہ سے ہو لیکن یہ جان کر کہ جب یہ دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی تو جو مال میرے اس لڑکی کے درمیان شراکت میں ہے وہ بھی میرے قبضے سے جاتا رہے گا۔ تو ایسے ناواجبی فعل سے اس آیت میں روک دیا گیا۔
صفحہ نمبر1972
یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت میں دستور تھا کہ یتیم لڑکی کا والی جب لڑکی کو اپنی ولایت میں لیتا تو اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا اب کسی کی مجال نہ تھی کہ اس سے نکاح کرے اگر وہ صورت شکل میں اچھی اور مالدار ہوتی اس سے خود آپ نکاح کر لیتا اور مال بھی ہضم کر جاتا اور اگر وہ صورت شکل میں اچھی نہ ہوتی اور مالدار ہوتی تو اسے دوسری جگہ نکاح کرنے سے روک دیتا وہ بیچاری یونہی مر جاتی اور یہ اس کا مال قبضہ میں کر لیتا۔ اس سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں منع فرما رہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے ساتھ ہی یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت والے چھوٹے لڑکوں اور چھوٹی لڑکیوں کو وارث نہیں سمجھتے تھے اس رسم کو بھی قرآن نے ختم دیا اور ہر ایک کو حصہ دلوایا اور فرمایا کہ «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ» [4-النساء:11] لڑکی اور لڑکے کو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے حصہ ضرور دو۔
البتہ لڑکی کو آدھا اور لڑکے کو پورا یعنی دو لڑکیوں کے برابر اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف کا حکم دیا کہ جب جمال و مال والی سے خود تم اپنا نکاح کر لیتے ہو تو پھر ان سے بھی کر لیا کرو جو مال وجمال میں کم ہوں پھر فرمایا یقین مانو کہ تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ تمہیں چاہیئے کہ خیر کے کام کرو فرماں برداری کرو اور نیک جزا حاصل کرو۔
صفحہ نمبر1973
النساء 4:128
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لیے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لیے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جدا کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کہتی ہیں کہ میں اپنی باری کاحق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10613:صحیح] آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ [صحیح بخاری:5068]
بخاری مسلم میں ہے کہ سودہ کا دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1974
معجم ابوالعباس کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو طلاق کی خبر بجھوائی یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جابیٹھیں جب آپ تشریف لائے تو کہنے لگیں آپ کو اس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے جس نے آپ پر اپنا کلام نازل فرمایا اور اپنی مخلوق میں سے آپ کو برگزیدہ اور اپنا پسندیدہ بنایا آپ مجھ سے رجوع کر لیجئے میری عمر بڑی ہو گئی ہے مجھے مرد کی خاص خواہش نہیں رہی لیکن یہ چاہت ہے کہ قیامت کے دن آپ کی بیویوں میں اٹھائی جاؤں چنانچہ آپ نے یہ منظور فرما لیا اور رجوع کر لیا پھر یہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی باری کا دن اور رات آپ کی محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کرتی ہوں۔
صفحہ نمبر1975
بخاری شریف میں آتا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک بڑھیا عورت جو اپنے خاوند کو دیکھتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا بلکہ اسے الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنے حق چھوڑتی ہوں تو مجھے جدانہ کر تو آیت دونوں کو رخصت دیتی ہے۔ [صحیح بخاری:2450]
یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا (جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10584]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:10580]
سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1976
محمد بن مسلم کی صاحبزادی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھیں بوجہ بڑھاپے کے یا کسی اور امر کے یہ انہیں چاہتے نہ تھے یہاں تک کہ طلاق دینے کا ارادہ کر لیا اس پر انہوں نے کہا آپ مجھے طلاق تو نہ دیجئیے اور جو آپ چاہیں فیصلہ کریں مجھے منظور ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [مستدرک حاکم:308/2]
ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دیدے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے۔ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی۔ لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں۔
صفحہ نمبر1977
اس جملے کا کہ صلح خیر ہے ایک معنی تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ اختیار دینا کہ اگر تو چاہے تو اسی طرح رہ کر دوسری بیوی کے برابر تیرے حقوق نہ ہوں اور اگر تو چاہے تو طلاق لے لے، یہ بہتر ہے اس سے کہ یونہی دوسری کو اس پر ترجیح دئے ہوئے رہے۔ لیکن اس سے اچھا مطلب یہ ہے کہ بیوی اپنا کچھ چھوڑے دے اور خاوند اسے طلاق نہ دے اور آپس میں مل کر رہیں یہ طلاق دینے اور لینے سے بہتر ہے۔
جیسے کہ خود نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لیے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے۔
بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ [سنن ابوداود:2178،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے۔ اس لیے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟ ابن ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے، اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا۔ [سنن ابوداود:2134،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے۔
صفحہ نمبر1978
پھر فرمایا بالکل ہی ایک جانب جھک نہ جاؤ کہ دوسری کو لٹکا دو وہ نہ بے خاوند کی رہے نہ خاوند والی وہ تمہاری زوجیت میں ہو اور تم اس سے بےرخی برتو نہ تو اسے طلاق ہی دو کہ اپنا دوسرا نکاح کر لے نہ اس کے وہ حقوق ادا کرو جو ہر بیوی کے لیے اس کے میاں پر ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا [سنن ترمذي:1141،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی۔
پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بے نیاز کر دے گا، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دیدے گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے۔
صفحہ نمبر1979
النساء 4:129
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لیے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لیے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جدا کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کہتی ہیں کہ میں اپنی باری کاحق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10613:صحیح] آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ [صحیح بخاری:5068]
بخاری مسلم میں ہے کہ سودہ کا دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1974
معجم ابوالعباس کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو طلاق کی خبر بجھوائی یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جابیٹھیں جب آپ تشریف لائے تو کہنے لگیں آپ کو اس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے جس نے آپ پر اپنا کلام نازل فرمایا اور اپنی مخلوق میں سے آپ کو برگزیدہ اور اپنا پسندیدہ بنایا آپ مجھ سے رجوع کر لیجئے میری عمر بڑی ہو گئی ہے مجھے مرد کی خاص خواہش نہیں رہی لیکن یہ چاہت ہے کہ قیامت کے دن آپ کی بیویوں میں اٹھائی جاؤں چنانچہ آپ نے یہ منظور فرما لیا اور رجوع کر لیا پھر یہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی باری کا دن اور رات آپ کی محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کرتی ہوں۔
صفحہ نمبر1975
بخاری شریف میں آتا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک بڑھیا عورت جو اپنے خاوند کو دیکھتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا بلکہ اسے الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنے حق چھوڑتی ہوں تو مجھے جدانہ کر تو آیت دونوں کو رخصت دیتی ہے۔ [صحیح بخاری:2450]
یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا (جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10584]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:10580]
سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1976
محمد بن مسلم کی صاحبزادی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھیں بوجہ بڑھاپے کے یا کسی اور امر کے یہ انہیں چاہتے نہ تھے یہاں تک کہ طلاق دینے کا ارادہ کر لیا اس پر انہوں نے کہا آپ مجھے طلاق تو نہ دیجئیے اور جو آپ چاہیں فیصلہ کریں مجھے منظور ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [مستدرک حاکم:308/2]
ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دیدے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے۔ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی۔ لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں۔
صفحہ نمبر1977
اس جملے کا کہ صلح خیر ہے ایک معنی تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ اختیار دینا کہ اگر تو چاہے تو اسی طرح رہ کر دوسری بیوی کے برابر تیرے حقوق نہ ہوں اور اگر تو چاہے تو طلاق لے لے، یہ بہتر ہے اس سے کہ یونہی دوسری کو اس پر ترجیح دئے ہوئے رہے۔ لیکن اس سے اچھا مطلب یہ ہے کہ بیوی اپنا کچھ چھوڑے دے اور خاوند اسے طلاق نہ دے اور آپس میں مل کر رہیں یہ طلاق دینے اور لینے سے بہتر ہے۔
جیسے کہ خود نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لیے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے۔
بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ [سنن ابوداود:2178،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے۔ اس لیے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟ ابن ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے، اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا۔ [سنن ابوداود:2134،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے۔
صفحہ نمبر1978
پھر فرمایا بالکل ہی ایک جانب جھک نہ جاؤ کہ دوسری کو لٹکا دو وہ نہ بے خاوند کی رہے نہ خاوند والی وہ تمہاری زوجیت میں ہو اور تم اس سے بےرخی برتو نہ تو اسے طلاق ہی دو کہ اپنا دوسرا نکاح کر لے نہ اس کے وہ حقوق ادا کرو جو ہر بیوی کے لیے اس کے میاں پر ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا [سنن ترمذي:1141،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی۔
پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بے نیاز کر دے گا، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دیدے گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے۔
صفحہ نمبر1979
النساء 4:130
میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول ٭٭
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہو جاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کر دیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لیے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لیے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جدا کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کہتی ہیں کہ میں اپنی باری کاحق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10613:صحیح] آپ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ [صحیح بخاری:5068]
بخاری مسلم میں ہے کہ سودہ کا دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دیدوں تو کیا عجب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان فرماتے جو اوپر گذار [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1974
معجم ابوالعباس کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو طلاق کی خبر بجھوائی یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جابیٹھیں جب آپ تشریف لائے تو کہنے لگیں آپ کو اس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے جس نے آپ پر اپنا کلام نازل فرمایا اور اپنی مخلوق میں سے آپ کو برگزیدہ اور اپنا پسندیدہ بنایا آپ مجھ سے رجوع کر لیجئے میری عمر بڑی ہو گئی ہے مجھے مرد کی خاص خواہش نہیں رہی لیکن یہ چاہت ہے کہ قیامت کے دن آپ کی بیویوں میں اٹھائی جاؤں چنانچہ آپ نے یہ منظور فرما لیا اور رجوع کر لیا پھر یہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی باری کا دن اور رات آپ کی محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کرتی ہوں۔
صفحہ نمبر1975
بخاری شریف میں آتا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک بڑھیا عورت جو اپنے خاوند کو دیکھتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا بلکہ اسے الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنے حق چھوڑتی ہوں تو مجھے جدانہ کر تو آیت دونوں کو رخصت دیتی ہے۔ [صحیح بخاری:2450]
یہی صورت اس وقت بھی ہے کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے اس کی بوجہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کے محبت نہ ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا (جسے اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے ناپسند فرمایا اور اسے کوڑا ماردیا پھر ایک اور نے اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے کی ہیں اس سے ایسی صورت مراد ہے کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے اولاد نہیں ہوتی اس نے اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10584]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو بوجہ اپنے بڑھاپے کے یا بدصورتی کے یا بدخلقی کے یا گندگی کے اپنے خاوند کی نظروں میں گر جائے اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے نہ چھوڑے تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے یا اپنی باری معاف کر دے وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:10580]
سلف اور ائمہ سے برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے میرے خیال سے تو اس کا کوئی مخالف نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر1976
محمد بن مسلم کی صاحبزادی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھیں بوجہ بڑھاپے کے یا کسی اور امر کے یہ انہیں چاہتے نہ تھے یہاں تک کہ طلاق دینے کا ارادہ کر لیا اس پر انہوں نے کہا آپ مجھے طلاق تو نہ دیجئیے اور جو آپ چاہیں فیصلہ کریں مجھے منظور ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [مستدرک حاکم:308/2]
ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے اس عورت کا جس سے اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دیدے اور اگر وہ چاہے تو اس بات کو پسند کر کے اس کے گھر میں رہے کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے گا اب اسے اختیار ہے اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے تو شرعاً خاوند کو جائز ہے کہ اسے باری نہ دے اور جو مہر وغیرہ اس نے چھوڑا ہے اسے اپنی ملکیت سمجھے۔ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے نکاح کیا اور پھر اسے زیادہ چاہنے لگے اور اسے پہلی بیوی پر مقدم رکھنے لگے آخر اس سے تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے دے دی پھر عدت ختم ہونے کے قریب لوٹالی۔ لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے لگے اور اس کی طرف جھک گئے اس نے پھر طلاق مانگی آپ نے دوبارہ طلاق دے دی پھر لوٹالیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے قسم دی کہ مجھے طلاق دے دو تو آپ نے فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے اگر تم چاہو تو میں دے دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے اسے طرح منظور ہے چنانچہ وہ اپنے حقوق سے دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے سہنے لگیں۔
صفحہ نمبر1977
اس جملے کا کہ صلح خیر ہے ایک معنی تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ اختیار دینا کہ اگر تو چاہے تو اسی طرح رہ کر دوسری بیوی کے برابر تیرے حقوق نہ ہوں اور اگر تو چاہے تو طلاق لے لے، یہ بہتر ہے اس سے کہ یونہی دوسری کو اس پر ترجیح دئے ہوئے رہے۔ لیکن اس سے اچھا مطلب یہ ہے کہ بیوی اپنا کچھ چھوڑے دے اور خاوند اسے طلاق نہ دے اور آپس میں مل کر رہیں یہ طلاق دینے اور لینے سے بہتر ہے۔
جیسے کہ خود نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے اس فعل میں بھی آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ناموافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے نزدیک صلح افتراق سے بہتر ہے اس لیے یہاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے۔
بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے تمام حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسند چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ [سنن ابوداود:2178،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے درگذر کرنا اور اسے باوجود ناپسندیدگی کے اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے جسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں سکتے۔ اس لیے کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے کر سکتے ہو؟ ابن ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت چاہتے تھے، اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے تھے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی یہ وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں تھی اب جو چیز میرے قبضہ سے باہر ہے یعنی دلی تعلق اس میں تو مجھے ملامت نہ کرنا۔ [سنن ابوداود:2134،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی اسناد صحیح ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسری سند سے یہ مرسلاً مروی ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے۔
صفحہ نمبر1978
پھر فرمایا بالکل ہی ایک جانب جھک نہ جاؤ کہ دوسری کو لٹکا دو وہ نہ بے خاوند کی رہے نہ خاوند والی وہ تمہاری زوجیت میں ہو اور تم اس سے بےرخی برتو نہ تو اسے طلاق ہی دو کہ اپنا دوسرا نکاح کر لے نہ اس کے وہ حقوق ادا کرو جو ہر بیوی کے لیے اس کے میاں پر ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا [سنن ترمذي:1141،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مرفوع طریق سے سوائے ہمام کی حدیث کے پہچانی نہیں جاتی۔
پھر فرماتا ہے اگر تم اپنے کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے اختیار میں ہو عورتوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو، اس کے باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے ہو اسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے سے بے نیاز کر دے گا، اسے اس سے اچھا شوہر اور اسے اس سے اچھی بیوی دیدے گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے وہ بڑے احسانوں والا ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے سراسر بھرپور ہے۔
صفحہ نمبر1979
النساء 4:131
مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو ٭٭
اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے۔
جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا «فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے ان سے بے نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔“
اپنے تمام بندوں سے غنی اور اپنے تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا وہ مالک ہے اور ہر شخص کے تمام افعال پر وہ گواہ ہے اور ہرچیز کا وہ عالم اور شاہد ہے۔ وہ قادر ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں برباد کر دے اور غیروں کو آباد کر دے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے «وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ» [47-محمد:38] ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدل کر تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ “ بعض سلف سے منقول ہے کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچو کہ گنہگار بندے اللہ اکبر و اعلیٰ کے نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں؟
اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-ابراھیم:19،20 ] ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں۔“
صفحہ نمبر1982
پھر فرماتا ہے اے وہ شخص جس کا پورا قصد اور جس کی تمام تر کوشش صرف دنیا کے لیے ہے تو جان لے کہ دونوں جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اللہ کے قبضے میں ہیں، تو جب اس سے دونوں ہی طلب کرے گا تو وہ تجھے دے گا اور تجھے بےپرواہ کر دے گا اور آسودہ بنا دے گا اور جگہ فرمایا «فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ» [2-البقرة:200] بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا دے ان کا کوئی حصہ آخرت میں نہیں ،
اور ایسے بھی ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ «وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» [2-البقرة:201] اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرما۔
یہ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا پورا حصہ ملے گا اور جگہ ہے جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے اور آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» [17-الإسراء:18] ” جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے چاہیں جتنا چاہیں دنیا میں دے دیں۔ “
صفحہ نمبر1983
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جن منافقوں نے دنیا کی جستجو میں ایمان قبول کیا تھا انہیں دنیا چاہے مل گئی یعنی مسلمان سے مال غنیمت میں حصہ مل گیا، لیکن آخرت میں ان کے لیے الہ العلمین کے پاس جو تیاری ہے وہ انہیں وہاں ملے گی یعنی جہنم کی آگ اور وہاں کے گوناگوں عذاب۔ تو امام صاحب مذکور رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آیت مثل «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ» [11-هود:15] کے ہے۔
کوئی شک نہیں کہ اس آیت کے معنی تو بظاہر یہی ہیں لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے کیونکہ اس آیت کے الفاظ تو صاف بتا رہے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دینا الہ العالمین کے ہاتھ ہے تو ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے بلکہ دونوں چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو تمہیں دنیا دیتا ہے وہی آخرت کا مالک بھی ہے اور یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے والے سے تھوڑا مانگو، نہیں نہیں بلکہ تم دنیا اور آخرت کے بڑے بڑے کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو۔ یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے ہر ہر نفع اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی نہیں جسے اس کے ساتھ شراکت ہو یا اس کے کاموں میں دخل ہو سعادت و شقاوت اس نے تقسیم کی ہے خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اسے وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں دیکھنے سننے کی طاقت دینے والے کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔
صفحہ نمبر1984
النساء 4:132
مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو ٭٭
اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے۔
جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا «فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے ان سے بے نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔“
اپنے تمام بندوں سے غنی اور اپنے تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا وہ مالک ہے اور ہر شخص کے تمام افعال پر وہ گواہ ہے اور ہرچیز کا وہ عالم اور شاہد ہے۔ وہ قادر ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں برباد کر دے اور غیروں کو آباد کر دے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے «وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ» [47-محمد:38] ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدل کر تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ “ بعض سلف سے منقول ہے کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچو کہ گنہگار بندے اللہ اکبر و اعلیٰ کے نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں؟
اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-ابراھیم:19،20 ] ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں۔“
صفحہ نمبر1982
پھر فرماتا ہے اے وہ شخص جس کا پورا قصد اور جس کی تمام تر کوشش صرف دنیا کے لیے ہے تو جان لے کہ دونوں جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اللہ کے قبضے میں ہیں، تو جب اس سے دونوں ہی طلب کرے گا تو وہ تجھے دے گا اور تجھے بےپرواہ کر دے گا اور آسودہ بنا دے گا اور جگہ فرمایا «فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ» [2-البقرة:200] بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا دے ان کا کوئی حصہ آخرت میں نہیں ،
اور ایسے بھی ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ «وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» [2-البقرة:201] اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرما۔
یہ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا پورا حصہ ملے گا اور جگہ ہے جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے اور آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» [17-الإسراء:18] ” جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے چاہیں جتنا چاہیں دنیا میں دے دیں۔ “
صفحہ نمبر1983
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جن منافقوں نے دنیا کی جستجو میں ایمان قبول کیا تھا انہیں دنیا چاہے مل گئی یعنی مسلمان سے مال غنیمت میں حصہ مل گیا، لیکن آخرت میں ان کے لیے الہ العلمین کے پاس جو تیاری ہے وہ انہیں وہاں ملے گی یعنی جہنم کی آگ اور وہاں کے گوناگوں عذاب۔ تو امام صاحب مذکور رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آیت مثل «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ» [11-هود:15] کے ہے۔
کوئی شک نہیں کہ اس آیت کے معنی تو بظاہر یہی ہیں لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے کیونکہ اس آیت کے الفاظ تو صاف بتا رہے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دینا الہ العالمین کے ہاتھ ہے تو ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے بلکہ دونوں چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو تمہیں دنیا دیتا ہے وہی آخرت کا مالک بھی ہے اور یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے والے سے تھوڑا مانگو، نہیں نہیں بلکہ تم دنیا اور آخرت کے بڑے بڑے کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو۔ یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے ہر ہر نفع اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی نہیں جسے اس کے ساتھ شراکت ہو یا اس کے کاموں میں دخل ہو سعادت و شقاوت اس نے تقسیم کی ہے خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اسے وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں دیکھنے سننے کی طاقت دینے والے کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔
صفحہ نمبر1984
النساء 4:133
مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو ٭٭
اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے۔
جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا «فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے ان سے بے نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔“
اپنے تمام بندوں سے غنی اور اپنے تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا وہ مالک ہے اور ہر شخص کے تمام افعال پر وہ گواہ ہے اور ہرچیز کا وہ عالم اور شاہد ہے۔ وہ قادر ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں برباد کر دے اور غیروں کو آباد کر دے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے «وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ» [47-محمد:38] ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدل کر تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ “ بعض سلف سے منقول ہے کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچو کہ گنہگار بندے اللہ اکبر و اعلیٰ کے نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں؟
اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-ابراھیم:19،20 ] ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں۔“
صفحہ نمبر1982
پھر فرماتا ہے اے وہ شخص جس کا پورا قصد اور جس کی تمام تر کوشش صرف دنیا کے لیے ہے تو جان لے کہ دونوں جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اللہ کے قبضے میں ہیں، تو جب اس سے دونوں ہی طلب کرے گا تو وہ تجھے دے گا اور تجھے بےپرواہ کر دے گا اور آسودہ بنا دے گا اور جگہ فرمایا «فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ» [2-البقرة:200] بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا دے ان کا کوئی حصہ آخرت میں نہیں ،
اور ایسے بھی ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ «وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» [2-البقرة:201] اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرما۔
یہ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا پورا حصہ ملے گا اور جگہ ہے جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے اور آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» [17-الإسراء:18] ” جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے چاہیں جتنا چاہیں دنیا میں دے دیں۔ “
صفحہ نمبر1983
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جن منافقوں نے دنیا کی جستجو میں ایمان قبول کیا تھا انہیں دنیا چاہے مل گئی یعنی مسلمان سے مال غنیمت میں حصہ مل گیا، لیکن آخرت میں ان کے لیے الہ العلمین کے پاس جو تیاری ہے وہ انہیں وہاں ملے گی یعنی جہنم کی آگ اور وہاں کے گوناگوں عذاب۔ تو امام صاحب مذکور رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آیت مثل «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ» [11-هود:15] کے ہے۔
کوئی شک نہیں کہ اس آیت کے معنی تو بظاہر یہی ہیں لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے کیونکہ اس آیت کے الفاظ تو صاف بتا رہے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دینا الہ العالمین کے ہاتھ ہے تو ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے بلکہ دونوں چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو تمہیں دنیا دیتا ہے وہی آخرت کا مالک بھی ہے اور یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے والے سے تھوڑا مانگو، نہیں نہیں بلکہ تم دنیا اور آخرت کے بڑے بڑے کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو۔ یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے ہر ہر نفع اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی نہیں جسے اس کے ساتھ شراکت ہو یا اس کے کاموں میں دخل ہو سعادت و شقاوت اس نے تقسیم کی ہے خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اسے وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں دیکھنے سننے کی طاقت دینے والے کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔
صفحہ نمبر1984
النساء 4:134
مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو ٭٭
اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے۔
جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا «فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے ان سے بے نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔“
اپنے تمام بندوں سے غنی اور اپنے تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا وہ مالک ہے اور ہر شخص کے تمام افعال پر وہ گواہ ہے اور ہرچیز کا وہ عالم اور شاہد ہے۔ وہ قادر ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں برباد کر دے اور غیروں کو آباد کر دے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے «وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ» [47-محمد:38] ” اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدل کر تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ “ بعض سلف سے منقول ہے کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچو کہ گنہگار بندے اللہ اکبر و اعلیٰ کے نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں؟
اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [14-ابراھیم:19،20 ] ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں۔“
صفحہ نمبر1982
پھر فرماتا ہے اے وہ شخص جس کا پورا قصد اور جس کی تمام تر کوشش صرف دنیا کے لیے ہے تو جان لے کہ دونوں جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اللہ کے قبضے میں ہیں، تو جب اس سے دونوں ہی طلب کرے گا تو وہ تجھے دے گا اور تجھے بےپرواہ کر دے گا اور آسودہ بنا دے گا اور جگہ فرمایا «فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ» [2-البقرة:200] بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا دے ان کا کوئی حصہ آخرت میں نہیں ،
اور ایسے بھی ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ «وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» [2-البقرة:201] اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرما۔
یہ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا پورا حصہ ملے گا اور جگہ ہے جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے اور آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» [17-الإسراء:18] ” جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے چاہیں جتنا چاہیں دنیا میں دے دیں۔ “
صفحہ نمبر1983
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جن منافقوں نے دنیا کی جستجو میں ایمان قبول کیا تھا انہیں دنیا چاہے مل گئی یعنی مسلمان سے مال غنیمت میں حصہ مل گیا، لیکن آخرت میں ان کے لیے الہ العلمین کے پاس جو تیاری ہے وہ انہیں وہاں ملے گی یعنی جہنم کی آگ اور وہاں کے گوناگوں عذاب۔ تو امام صاحب مذکور رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آیت مثل «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ» [11-هود:15] کے ہے۔
کوئی شک نہیں کہ اس آیت کے معنی تو بظاہر یہی ہیں لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے کیونکہ اس آیت کے الفاظ تو صاف بتا رہے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دینا الہ العالمین کے ہاتھ ہے تو ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے بلکہ دونوں چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو تمہیں دنیا دیتا ہے وہی آخرت کا مالک بھی ہے اور یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے والے سے تھوڑا مانگو، نہیں نہیں بلکہ تم دنیا اور آخرت کے بڑے بڑے کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو۔ یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے ہر ہر نفع اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی نہیں جسے اس کے ساتھ شراکت ہو یا اس کے کاموں میں دخل ہو سعادت و شقاوت اس نے تقسیم کی ہے خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اسے وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں دیکھنے سننے کی طاقت دینے والے کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔
صفحہ نمبر1984
النساء 4:135
انصاف اور سچی گواہی تقوے کی روح ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل و انصاف پر مضبوطی سے جمے رہیں اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ سرکیں، ایسا نہ ہو کہ ڈر کی وجہ سے یا کسی لالچ کی بنا پر یا کسی خوشامد میں یا کسی پر رحم کھا کر یا کسی سفارش سے عدل و انصاف چھوڑ بیٹھیں۔ سب مل کر عدل کو قائم و جاری کریں ایک دوسری کی اس معاملہ میں مدد کریں اور اللہ کی مخلوق میں عدالت کے سکے جما دیں۔ اللہ کے لیے گواہ بن جائیں
جیسے اور جگہ ہے «وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ» [65-الطلاق:2] ” یعنی گواہیاں اللہ کی رضا جوئی کے لیے دو “ جو بالکل صحیح صاف سچی اور بیلاگ ہوں۔ انہیں بدلو نہیں، چھپاؤ نہیں، چبا کر نہ بولو صاف صاف سچی شہادت دو چاہے وہ تمہارے اپنے ہی خلاف ہو تم حق گوئی سے نہ رکو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار غلاموں کی مخلصی کی صورتیں بہت سی نکال دیتا ہے کچھ اسی پر موقوف نہیں کہ جھوٹی شہادت سے ہی اس کا چھٹکارا ہو۔ گو سچی شہادت ماں باپ کے خلاف ہوتی ہو گو اس شہادت سے رشتے داروں کا نقصان پہنچتا ہو، لیکن تم سچ ہاتھ سے نہ جانے دو گواہی سچی دو، اس لیے کہ حق ہر ایک پر غالب ہے، گواہی کے وقت نہ تونگر کا لحاظ کرو نہ غریب پر رحم کرو۔
صفحہ نمبر1988
ان کی مصلحتوں کو اللہ اعلیٰ و اکبر تم سے بہت بہتر جانتا ہے، تم ہر صورت اور ہر حالت میں سچی شہادت ادا کرو، دیکھو کسی کے برے میں آ کر خود اپنا برا نہ کر لو، کسی کی دشمنی میں عصبیت اور قومیت میں فنا ہو کر عدل و انصاف ہاتھ سے نہ جانے دو بلکہ ہر حال ہر آن عدل و انصاف کا مجسمہ بنے رہو۔
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ «وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى» [5-المائدة:8] ” کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے عدل کرتے رہو یہی تقویٰ کی شان کے قریب تر ہے۔ “
صفحہ نمبر1989
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کی کھیتیوں اور باغوں کا اندازہ کرنے کو بھیجا تو انہوں نے آپ کو رشوت دینا چاہی کہ آپ مقدار کم بتائیں تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام مخلوق سے زیادہ عزیز ہیں اور تم میرے نزدیک کتوں اور خنزیروں سے بدتر ہو لیکن باوجود اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آ کر یا تمہاری عداوت کو سامنے رکھ کر ناممکن ہے کہ میں انصاف سے ہٹ جاؤں اور تم میں عدل نہ کروں۔ یہ سن کر وہ کہنے لگے بس اسی سے تو زمین و آسمان قائم ہے۔ یہ پوری حدیث سورۃ المائدہ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ
پھر فرماتا ہے «وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» [2-البقرة:283] اگر تم نے شہادت میں تحریف کی یعنی بدل دی غلط گوئی سے کام لیا واقعہ کے خلاف گواہی دی دبی زبان سے پیچیدہ الفاظ کہے واقعات غلط پیش کر دئے یا کچھ چھپا لیا کچھ بیان کیا تو یاد رکھو اللہ جیسے باخبر حاکم کے سامنے یہ چال چل نہیں سکتی وہاں جا کر اس کا بدلہ پاؤ گے اور سزا بھگتو گے۔
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے [ حدیث ] «خَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا» بہترین گواہ وہ ہیں جو دریافت کرنے سے پہلے ہی سچی گواہی دے دیں۔ [صحیح مسلم:1719]
صفحہ نمبر1990
النساء 4:136
ایمان کی تکمیل مکمل اطاعت میں مضمر ہے ٭٭
ایمان والوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ایمان میں پورے پورے داخل ہو جائیں تمام احکام کو کل شریعت کو ایمان کی تمام جزئیات کو مان لیں، یہ خیال نہ ہو کہ اس میں تحصیل حاصل ہے نہیں بلکہ تکمیل کامل ہے۔ ایمان لائے ہو تو اب اسی پر قائم رہو اللہ جل شانہ کو مانا ہے تو جس طرح وہ منوائے مانتے چلے جاؤ۔
یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت کر، یعنی ہماری ہدایت کو ثابت رکھ مدام رکھ اس میں ہمیں مضبوط کر اور دن بدن بڑھاتا رہ، اسی طرح یہاں بھی مومنوں کو اپنی ذات پر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کو فرمایا ہے اور آیت میں ایمانداروں سے خطاب کر کے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ پہلی کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس سے پہلے کی کتاب سے مراد تمام نبیوں پر جو جو کتابیں نازل ہوئیں سب ہیں۔
قرآن کے لیے لفظ «نزل» بولا گیا اور دیگر کتابوں کے لیے «انزل» اس لیے کہ قرآن بتدریج وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا کر کے اترا اور باقی کتابیں پوری پوری ایک ساتھ نازل ہوئیں، پھر فرمایا جو شخص اللہ جل شانہ کے ساتھ اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں کے ساتھ اس کے رسولوں کے ساتھ آخرت کے دن کے ساتھ کفر کرے وہ راہ ہدایت سے بہک گیا اور بہت دور غلط راہ پڑ گیا گمراہی میں راہ حق سے ہٹ کر راہ باطل پہ چلا گیا۔
صفحہ نمبر1991
النساء 4:137
صحبت بد سے بچو ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان نہ اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے۔
صفحہ نمبر1992
پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخر ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا» [35-فاطر:10] اورفرمایا «وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [63-المنافقون:8] ” یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں۔
مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا۔
صفحہ نمبر1993
مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ» جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا۔ [مسند احمد:134/4،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1994
النساء 4:138
صحبت بد سے بچو ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان نہ اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے۔
صفحہ نمبر1992
پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخر ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا» [35-فاطر:10] اورفرمایا «وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [63-المنافقون:8] ” یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں۔
مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا۔
صفحہ نمبر1993
مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ» جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا۔ [مسند احمد:134/4،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1994
النساء 4:139
صحبت بد سے بچو ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان نہ اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے۔
صفحہ نمبر1992
پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخر ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا» [35-فاطر:10] اورفرمایا «وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [63-المنافقون:8] ” یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں۔
مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا۔
صفحہ نمبر1993
مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ» جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا۔ [مسند احمد:134/4،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1994
النساء 4:140
باب
پھر فرمان ہے جب میں تمہیں منع کر چکا کہ جس مجلس میں اللہ کی آیتوں سے انکار کیا جا رہا ہو اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اس میں نہ بیٹھو، پھر بھی اگر تم ایسی مجلسوں میں شریک ہوتے رہو گے تو یاد رکھو میرے ہاں تم بھی ان کے شریک کار سمجھے جاؤ گے۔ ان کے گناہ میں تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے جیسے ایک حدیث میں ہے کہ جس دستر خوان پر شراب نوشی ہو رہی ہے اس پر کسی ایسے شخص کو نہ بیٹھنا چاہیئے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو [سنن ترمذي:2801،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس آیت میں جس ممانعت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورۃ الانعام کی آیت جو مکیہ ہے یہ «وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ» [6-الأنعام:68] ” جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں میں غوطے لگانے بیٹھ جاتے ہیں تو تو ان سے منہ موڑ لے۔ “
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت کا یہ حکم «اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَۨا» [4-النساء:140]
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰي لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ» [6-الأنعام:69] سے منسوخ ہو گیا ہے یعنی متقیوں پر ان کے احسان کا کوئی بوجھ نہیں لیکن نصیحت ہے کیا عجب کہ وہ بچ جائیں۔
پھر فرمان باری ہے اللہ تعالیٰ تمام منافقوں کو اور سارے کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔ یعنی جس طرح یہ منافق ان کافروں کے کفر میں یہاں شریک ہیں قیامت کے دن جہنم میں بھی اور ہمیشہ رہنے والے وہاں کے سخت تر دل ہلا دینے والے عذابوں کے سہنے میں بھی ان کے شریک حال رہیں گے۔ وہاں کی سزاؤں میں وہاں کی قید و بند میں طوق و زنجیر میں گرم پانی کے کڑوے گھونٹ اتارنے میں اور پیپ کے لہو کے زہر مار کرنے میں بھی ان کے ساتھ ہوں گے اور دائمی سزا کا اعلان سب کو ساتھ سنا دیا جائے گا۔
صفحہ نمبر1997
النساء 4:141
عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان ٭٭
منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہو گئے اللہ کی مدد سے یہ غالب آ گئے تو ان کے پیٹ میں گھسنے کے لیے آ آ کر کہتے ہیں کیوں جی ہم بھی تو تمہارے ساتھی ہیں اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی آزمائش کے لیے اللہ جل شانہ نے کافروں کو غلبہ دے دیا جیسے احد میں ہوا تھا گو انجام کار حق ہی غالب رہا تو یہ ان کی طرف لپکتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو پوشیدہ طور پر تو ہم تمہاری تائید ہی کرتے رہے اور انہیں نقصان پہنچاتے رہے یہ ہماری ہی چالاکی تھی جس کی بدولت آج تم نے ان پر فتح پا لی۔
یہ ہیں ان کے کرتوت کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ چھوڑتے ہیں“دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا“ گو یہ اپنی اس مکاری کو اپنے لیے باعث فخر جانتے ہوں لیکن دراصل یہ سراسر ان کی بےایمانی اور کم یقینی کی دلیل ہے بھلا کچا رنگ کب تک رہتا ہے؟ گاجر کی پونگی کب تک بجے گی؟ کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی؟
وقت آ رہا ہے کہ اپنے کئے پر نادم ہوں گے اپنی بیوقوفی پر ہاتھ ملیں گے اپنے شرمناک کرتوت پر ٹسوے بہائیں گے اللہ کا سچا فیصلہ سن لیں گے اور تمام بھلائیوں سے ناامید ہو جائیں گے۔ بھرم کھل جائے گا ہر راز فاش ہو جائے گا اندر کا باہر آ جائے گا یہ پالیسی اور حکمت عملی یہ مصلحت وقت اور مقتضائے موقعہ نہایت ڈراؤنی صورت سے سامنے آ جائے گا اور عالم الغیب کے بےپناہ عذابوں کا شکار بن جائیں گے ناممکن ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ مومنوں پر غالب کر دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے اس کا مطلب پوچھا تو آپ نے اول جملے کے ساتھ ملا کر پڑھ دیا۔ مطلب یہ تھا کہ قیامت کے دن ایسا نہ ہو گا، یہ بھی مروی ہے کہ سبیل سے مراد حجت ہے، لیکن تاہم اس کے ظاہری معنی مراد لینے میں بھی کوئی مانع نہیں یعنی یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اب سے لے کر قیامت تک کوئی ایسا وقت لائے کہ کافر اس قدر غلبہ حاصل کر لیں کہ مسلمانوں کا نام مٹا دیں یہ اور بات ہے کہ کسی جگہ کسی وقت دنیاوی طور پر انہیں غلبہ مل جائے لیکن انجام کار مسلمانوں کے حق میں ہی مفید ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
صفحہ نمبر1998
فرمان الٰہی ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40۔غافر:51 ] ” ہم اپنے رسولوں اور ایماندار بندوں کو مدد دنیا میں بھی ضرور دیں گے “ اور یہ معنی لینے میں ایک لطافت یہ بھی ہے کہ منافقوں کے دلوں میں مسلمانوں کو ذلت اور بربادی کا شکار دیکھنے کا جو انتظار تھا مایوس کر دیا گیا کہ کفار کو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ اس طرح غالب نہیں کرے گا کہ تم پھولے نہ سماؤ اور کچھ لوگ جس ڈر سے مسلمانوں کا ساتھ کھلے طور پر نہ دیتے تھے ان کے ڈر کو بھی زائل کر دیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی وقت بھی مسلمان مٹ جائیں گے۔
اسی مطلب کی وضاحت «فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ» [5-المائدة:52] میں کر دی ہے۔
اس آیت کریمہ سے حضرات علماء کرام نے اس امر پر بھی استدلال کیا ہے کہ مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک کافر کو ایک مسلمان پر غالب کر دینا ہے اور اس میں مسلمان کی ذلت ہے جن بعض ذی علم حضرات نے اس سودے کو جائز رکھا ہے ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی ملک سے اس کو اسی وقت آزاد کر دے۔
صفحہ نمبر1999
النساء 4:142
دو ریوڑ کے درمیان کی بکری ٭٭
سورۃ البقرہ کے شروع میں بھی «يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ» [2-البقرة:9] اسی مضمون کی گذر چکی ہے، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ یہ کم سمجھ منافق اس اللہ تعالیٰ کے سامنے چالیں چلتے ہیں جو سینوں میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے پوشیدہ رازوں سے آگاہ ہے۔ کم فہمی سے یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ جس طرح ان کی منافقت اس دنیا میں چل گئی اور مسلمانوں میں ملے جلے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس بھی یہ مکاری چل جائے گی۔
چنانچہ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن بھی یہ لوگ اللہ خبیر و علیم کے سامنے اپنی یک رنگی کی قسمیں کھائیں گے جیسے یہاں کھاتے ہیں لکین اس عالم الغیب کے سامنے یہ ناکارہ قسمیں ہرگز کارآمد نہیں ہو سکتیں۔ اللہ بھی انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے وہ ڈھیل دیتا ہے حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ پھولے نہیں سماتے خوش ہوتے ہیں اور اپنے لیے اسے اچھائی سمجھتے ہیں، قیامت میں بھی ان کا یہی حال ہو گا مسلمانوں کے نور کے سہارے میں ہوں گے وہ آگے نکل جائیں گے یہ آوازیں دیں گے کہ ٹھہرو ہم بھی تمہاری روشنی میں چلیں جواب ملے گا کہ پیچھے مڑ جاؤ اور روشنی تلاش کر لاؤ یہ مڑیں گے ادھر حجاب حائل ہو جائے گا۔ مسلمانوں کی جانب رحمت اور ان کے لیے زحمت، حدیث شریف میں ہے جو سنائے گا اللہ بھی اسے سنائے گا اور جو ریا کاری کرے گا اللہ بھی اسے ویسا ہی دکھائے گا۔ [صحیح بخاری:6499] ایک اور حدیث میں ہے ان منافقوں میں وہ بھی ہوں گے کہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرمائے گا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ فرشتے لے جا کر دوزخ میں ڈال دیں گے اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔
صفحہ نمبر2000
پھر ان منافقوں کی بد ذوقی کا حال بیان ہو رہا ہے کہ انہیں نماز جیسی بہترین عبادت میں بھی یکسوئی اور خشوع و خضوع نصیب نہیں ہوتا کیونکہ نیک نیتی حسن عمل، حقیقی ایمان، سچا یقین، ان میں ہے ہی نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھکے ماندے بدن سے کسما کر نماز پڑھنا مکروہ جانتے تھے اور فرماتے تھے نمازی کو چاہیئے کہ ذوق و شوق سے راضی خوشی پوری رغبت اور انتہائی توجہ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو اور یقین مانے کہ اس کی آواز پر اللہ تعالیٰ کے کان ہیں، اس کی طلب پوری کرنے کو اللہ تعالیٰ تیار ہے۔
یہ تو ہوئی ان منافقوں کی ظاہری حالت کہ تھکے ہارے تنگ دلی کے ساتھ بطور بیگار ٹالنے کے نماز کے لیے آئے پھر اندرونی حالت یہ ہے کہ اخلاص سے کوسوں دور ہیں رب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے نمازی مشہور ہونے کے لیے لوگوں میں اپنے ایمان کو ظاہر کرنے کے لیے نماز پڑھ رہے ہیں، بھلا ان صنم آشنا دل والوں کو نماز میں کیا ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ان نمازوں میں جن میں لوگ ایک دوسرے کو کم دیکھ سکیں یہ غیر حاضر رہتے ہیں مثلاً عشاء کی نماز اور فجر کی نماز۔
صفحہ نمبر2001
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے زیادہ بوجھل نماز منافقوں پر عشاء اور فجر کی ہے۔ اگر دراصل یہ ان نمازوں کے فضائل کے دل سے قائل ہوتے تو گھٹنوں کے بل بھی چل کر آنا پڑتا یہ ضرور آ جاتے ہیں تو ارادہ کر رہا ہوں کہ تکبیر کہلوا کر کسی کو اپنی امامت کی جگہ کھڑا کر کے نماز شروع کرا کر کچھ لوگوں سے لکڑیاں اٹھوا کر ان کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیاں ان کے گھروں کے اردگرد لگا کر حکم دوں کہ آگ لگا دو اور ان کے گھروں کو جلا دو۔ [صحیح بخاری:657]
ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کی قسم اگر انہیں ایک چرب ہڈی یا دو اچھے کھر ملنے کی امید ہو تو دوڑے چلے آئیں لیکن آخرت کی اور اللہ کے ثوابوں کی انہیں اتنی بھی قدر نہیں۔ اگر بال بچوں اور عورتوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں مجھے خیال نہ ہوتا تو قطعاً میں ان کے گھر جلا دیتا۔ [صحیح بخاری:644]
صفحہ نمبر2002
ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کی موجودگی میں نماز کو سنوار کر ٹھہر ٹھہر کر ادا کرے لیکن جب کوئی نہ ہو تو بری طرح نماز پڑھ لے یہ وہ ہے جس نے اپنے رب کی اہانت کی۔ [مسند ابویعلیٰ:5117،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا یہ لوگ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم کرتے ہیں یعنی نماز میں ان کا دل نہیں لگتا، یہ اپنی کہی ہوئی بات سمجھتے بھی نہیں، بلکہ غافل دل اور بےپرواہ نفس سے نماز پڑھ لیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ نماز منافق کی ہے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کی طرف دیکھ رہا ہے یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا اور شیطان نے اپنے دونوں سینگ اس کے اردگرد لگا دیئے تو یہ کھڑا ہوا اور جلدی جلدی چار رکعت پڑھ لیں جن میں اللہ کا ذکر برائے نام ہی کیا [صحیح مسلم:622]
صفحہ نمبر2003
یہ منافق متحیر اور ششدر و پریشان حال ہیں ایمان اور کفر کے درمیان ان کا دل ڈانوا ڈول ہو رہا ہے نہ تو صاف طور سے مسلمانوں کے ساتھی ہیں نہ بالکل کفار کے ساتھ کبھی نور ایمان چمک اٹھا تو اسلام کی صداقت کرنے لگے کبھی کفر کی اندھیریاں غالب آ گئیں تو ایمان سے الگ تھلگ ہو گئے۔ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرف ہیں نہ یہودیوں کی جانب۔
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ منافق کی مثال ایسی ہے جیسی دو ریوڑ کے درمیان کی بکری کہ کبھی تو وہ میں میں کرتی اس ریوڑ کی طرف دوڑتی ہے کبھی اس طرف اس کے نزدیک ابھی طے نہیں ہوا کہ ان میں جائے یا اس کے پیچھے لگے۔ [صحیح مسلم:2784]
ایک روایت میں ہے کہ اس معنی کی حدیث سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں کچھ الفاظ کے ہیر پھیر سے بیان کی تو عبداللہ نے اپنے سنے ہوئے الفاظ دوہرا کر کہا یوں نہیں بلکہ دراصل حدیث یوں ہے جس پر عبید ناراض ہوئے۔ [صحیح ابن حبان:264:حسن لغیرہ]
(ممکن ہے ایک بزرگ نے ایک طرح کے الفاظ سنے ہوں دوسرے نے دوسری قسم کے)
صفحہ نمبر2004
ابن ابی حاتم میں ہے مومن کافر اور منافق کی مثال ان تین شخصوں جیسی ہے جو ایک دریا پر گئے ایک تو کنارے ہی کھڑا رہ گیا دوسرا پار ہو کر منزل مقصود کو پہنچ گیا تیسرا اتر چلا مگر جب بیچوں بیچ پہنچا تو ادھر والے نے پکارنا شروع کیا کہ کہاں ہلاک ہونے جا رہا ہے ادھر آ واپس چلا آ، ادھر والے نے آواز دی آ جاؤ نجات کے ساتھ منزل مقصود پر میری طرف پہنچ جاؤ آدھا راستہ طے کر چکے ہو اب یہ حیران ہو کر کبھی ادھر دیکھتا ہے کبھی ادھر نظر ڈالتا ہے تذبذب ہے کہ کدھر جاؤں کدھر نہ جاؤں؟ اتنے میں ایک زبردست موج آئی اور بہا کر لے گئی اور وہ غوطے کھا کھا کر مر گیا، پس پار جانے والا مسلمان ہے کنارے کھڑا بلانے والا کافر ہے اور موج میں ڈوب مرنے والا منافق ہے،
اور حدیث میں ہے منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو ہرے بھرے ٹیلے پر بکریوں کو دیکھ کر آئی اور سونگھ کر چل دی، پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھی اور سونگھ کر آ گئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10737]
پھر فرمایا جسے اللہ ہی راہ حق سے پھیر دے اس کا ولی و مرشد کون ہے؟ اس کے گمراہ کردہ کو کون راہ دکھا سکے؟ اللہ نے منافقوں کو ان کی بدترین بدعملی کے باعث راستی سے دھکیل دیا ہے اب نہ کوئی انہیں راہ راست پر لا سکے نہ چھٹکارا دلا سکے، اللہ کی مرضی کے خلاف کون کر سکتا ہے وہ سب پر حاکم ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں۔
صفحہ نمبر2005
النساء 4:143
دو ریوڑ کے درمیان کی بکری ٭٭
سورۃ البقرہ کے شروع میں بھی «يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ» [2-البقرة:9] اسی مضمون کی گذر چکی ہے، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ یہ کم سمجھ منافق اس اللہ تعالیٰ کے سامنے چالیں چلتے ہیں جو سینوں میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے پوشیدہ رازوں سے آگاہ ہے۔ کم فہمی سے یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ جس طرح ان کی منافقت اس دنیا میں چل گئی اور مسلمانوں میں ملے جلے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس بھی یہ مکاری چل جائے گی۔
چنانچہ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن بھی یہ لوگ اللہ خبیر و علیم کے سامنے اپنی یک رنگی کی قسمیں کھائیں گے جیسے یہاں کھاتے ہیں لکین اس عالم الغیب کے سامنے یہ ناکارہ قسمیں ہرگز کارآمد نہیں ہو سکتیں۔ اللہ بھی انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے وہ ڈھیل دیتا ہے حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ پھولے نہیں سماتے خوش ہوتے ہیں اور اپنے لیے اسے اچھائی سمجھتے ہیں، قیامت میں بھی ان کا یہی حال ہو گا مسلمانوں کے نور کے سہارے میں ہوں گے وہ آگے نکل جائیں گے یہ آوازیں دیں گے کہ ٹھہرو ہم بھی تمہاری روشنی میں چلیں جواب ملے گا کہ پیچھے مڑ جاؤ اور روشنی تلاش کر لاؤ یہ مڑیں گے ادھر حجاب حائل ہو جائے گا۔ مسلمانوں کی جانب رحمت اور ان کے لیے زحمت، حدیث شریف میں ہے جو سنائے گا اللہ بھی اسے سنائے گا اور جو ریا کاری کرے گا اللہ بھی اسے ویسا ہی دکھائے گا۔ [صحیح بخاری:6499] ایک اور حدیث میں ہے ان منافقوں میں وہ بھی ہوں گے کہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرمائے گا کہ انہیں جنت میں لے جاؤ فرشتے لے جا کر دوزخ میں ڈال دیں گے اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔
صفحہ نمبر2000
پھر ان منافقوں کی بد ذوقی کا حال بیان ہو رہا ہے کہ انہیں نماز جیسی بہترین عبادت میں بھی یکسوئی اور خشوع و خضوع نصیب نہیں ہوتا کیونکہ نیک نیتی حسن عمل، حقیقی ایمان، سچا یقین، ان میں ہے ہی نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھکے ماندے بدن سے کسما کر نماز پڑھنا مکروہ جانتے تھے اور فرماتے تھے نمازی کو چاہیئے کہ ذوق و شوق سے راضی خوشی پوری رغبت اور انتہائی توجہ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو اور یقین مانے کہ اس کی آواز پر اللہ تعالیٰ کے کان ہیں، اس کی طلب پوری کرنے کو اللہ تعالیٰ تیار ہے۔
یہ تو ہوئی ان منافقوں کی ظاہری حالت کہ تھکے ہارے تنگ دلی کے ساتھ بطور بیگار ٹالنے کے نماز کے لیے آئے پھر اندرونی حالت یہ ہے کہ اخلاص سے کوسوں دور ہیں رب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے نمازی مشہور ہونے کے لیے لوگوں میں اپنے ایمان کو ظاہر کرنے کے لیے نماز پڑھ رہے ہیں، بھلا ان صنم آشنا دل والوں کو نماز میں کیا ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ان نمازوں میں جن میں لوگ ایک دوسرے کو کم دیکھ سکیں یہ غیر حاضر رہتے ہیں مثلاً عشاء کی نماز اور فجر کی نماز۔
صفحہ نمبر2001
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے زیادہ بوجھل نماز منافقوں پر عشاء اور فجر کی ہے۔ اگر دراصل یہ ان نمازوں کے فضائل کے دل سے قائل ہوتے تو گھٹنوں کے بل بھی چل کر آنا پڑتا یہ ضرور آ جاتے ہیں تو ارادہ کر رہا ہوں کہ تکبیر کہلوا کر کسی کو اپنی امامت کی جگہ کھڑا کر کے نماز شروع کرا کر کچھ لوگوں سے لکڑیاں اٹھوا کر ان کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیاں ان کے گھروں کے اردگرد لگا کر حکم دوں کہ آگ لگا دو اور ان کے گھروں کو جلا دو۔ [صحیح بخاری:657]
ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کی قسم اگر انہیں ایک چرب ہڈی یا دو اچھے کھر ملنے کی امید ہو تو دوڑے چلے آئیں لیکن آخرت کی اور اللہ کے ثوابوں کی انہیں اتنی بھی قدر نہیں۔ اگر بال بچوں اور عورتوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں مجھے خیال نہ ہوتا تو قطعاً میں ان کے گھر جلا دیتا۔ [صحیح بخاری:644]
صفحہ نمبر2002
ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کی موجودگی میں نماز کو سنوار کر ٹھہر ٹھہر کر ادا کرے لیکن جب کوئی نہ ہو تو بری طرح نماز پڑھ لے یہ وہ ہے جس نے اپنے رب کی اہانت کی۔ [مسند ابویعلیٰ:5117،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا یہ لوگ ذکر اللہ بھی بہت ہی کم کرتے ہیں یعنی نماز میں ان کا دل نہیں لگتا، یہ اپنی کہی ہوئی بات سمجھتے بھی نہیں، بلکہ غافل دل اور بےپرواہ نفس سے نماز پڑھ لیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ نماز منافق کی ہے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کی طرف دیکھ رہا ہے یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا اور شیطان نے اپنے دونوں سینگ اس کے اردگرد لگا دیئے تو یہ کھڑا ہوا اور جلدی جلدی چار رکعت پڑھ لیں جن میں اللہ کا ذکر برائے نام ہی کیا [صحیح مسلم:622]
صفحہ نمبر2003
یہ منافق متحیر اور ششدر و پریشان حال ہیں ایمان اور کفر کے درمیان ان کا دل ڈانوا ڈول ہو رہا ہے نہ تو صاف طور سے مسلمانوں کے ساتھی ہیں نہ بالکل کفار کے ساتھ کبھی نور ایمان چمک اٹھا تو اسلام کی صداقت کرنے لگے کبھی کفر کی اندھیریاں غالب آ گئیں تو ایمان سے الگ تھلگ ہو گئے۔ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرف ہیں نہ یہودیوں کی جانب۔
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ منافق کی مثال ایسی ہے جیسی دو ریوڑ کے درمیان کی بکری کہ کبھی تو وہ میں میں کرتی اس ریوڑ کی طرف دوڑتی ہے کبھی اس طرف اس کے نزدیک ابھی طے نہیں ہوا کہ ان میں جائے یا اس کے پیچھے لگے۔ [صحیح مسلم:2784]
ایک روایت میں ہے کہ اس معنی کی حدیث سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں کچھ الفاظ کے ہیر پھیر سے بیان کی تو عبداللہ نے اپنے سنے ہوئے الفاظ دوہرا کر کہا یوں نہیں بلکہ دراصل حدیث یوں ہے جس پر عبید ناراض ہوئے۔ [صحیح ابن حبان:264:حسن لغیرہ]
(ممکن ہے ایک بزرگ نے ایک طرح کے الفاظ سنے ہوں دوسرے نے دوسری قسم کے)
صفحہ نمبر2004
ابن ابی حاتم میں ہے مومن کافر اور منافق کی مثال ان تین شخصوں جیسی ہے جو ایک دریا پر گئے ایک تو کنارے ہی کھڑا رہ گیا دوسرا پار ہو کر منزل مقصود کو پہنچ گیا تیسرا اتر چلا مگر جب بیچوں بیچ پہنچا تو ادھر والے نے پکارنا شروع کیا کہ کہاں ہلاک ہونے جا رہا ہے ادھر آ واپس چلا آ، ادھر والے نے آواز دی آ جاؤ نجات کے ساتھ منزل مقصود پر میری طرف پہنچ جاؤ آدھا راستہ طے کر چکے ہو اب یہ حیران ہو کر کبھی ادھر دیکھتا ہے کبھی ادھر نظر ڈالتا ہے تذبذب ہے کہ کدھر جاؤں کدھر نہ جاؤں؟ اتنے میں ایک زبردست موج آئی اور بہا کر لے گئی اور وہ غوطے کھا کھا کر مر گیا، پس پار جانے والا مسلمان ہے کنارے کھڑا بلانے والا کافر ہے اور موج میں ڈوب مرنے والا منافق ہے،
اور حدیث میں ہے منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو ہرے بھرے ٹیلے پر بکریوں کو دیکھ کر آئی اور سونگھ کر چل دی، پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھی اور سونگھ کر آ گئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10737]
پھر فرمایا جسے اللہ ہی راہ حق سے پھیر دے اس کا ولی و مرشد کون ہے؟ اس کے گمراہ کردہ کو کون راہ دکھا سکے؟ اللہ نے منافقوں کو ان کی بدترین بدعملی کے باعث راستی سے دھکیل دیا ہے اب نہ کوئی انہیں راہ راست پر لا سکے نہ چھٹکارا دلا سکے، اللہ کی مرضی کے خلاف کون کر سکتا ہے وہ سب پر حاکم ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں۔
صفحہ نمبر2005
النساء 4:144
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے ٭٭
کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [3-آل عمران:28] ” مومنوں کو چاہیئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں“
ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہیئے، ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔
صفحہ نمبر2007
پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے «درک» درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں «درک» ہیں ایک سے ایک پست۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کر لیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لیے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:6162/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2008
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بے نیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔
وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے والا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کون سا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھرپور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین)
صفحہ نمبر2009
«الحمداللہ» تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عامل بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، «آمین»
صفحہ نمبر2010
النساء 4:145
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے ٭٭
کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [3-آل عمران:28] ” مومنوں کو چاہیئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں“
ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہیئے، ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔
صفحہ نمبر2007
پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے «درک» درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں «درک» ہیں ایک سے ایک پست۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کر لیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لیے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:6162/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2008
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بے نیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔
وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے والا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کون سا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھرپور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین)
صفحہ نمبر2009
«الحمداللہ» تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عامل بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، «آمین»
صفحہ نمبر2010
النساء 4:146
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے ٭٭
کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [3-آل عمران:28] ” مومنوں کو چاہیئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں“
ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہیئے، ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔
صفحہ نمبر2007
پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے «درک» درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں «درک» ہیں ایک سے ایک پست۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کر لیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لیے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:6162/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2008
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بے نیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔
وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے والا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کون سا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھرپور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین)
صفحہ نمبر2009
«الحمداللہ» تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عامل بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، «آمین»
صفحہ نمبر2010
النساء 4:147
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے ٭٭
کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [3-آل عمران:28] ” مومنوں کو چاہیئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں“
ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہیئے، ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔
صفحہ نمبر2007
پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے «درک» درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں «درک» ہیں ایک سے ایک پست۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کر لیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لیے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:6162/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2008
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بے نیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔
وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے والا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کون سا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھرپور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین)
صفحہ نمبر2009
«الحمداللہ» تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عامل بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، «آمین»
صفحہ نمبر2010
النساء 4:148
مظلوم کو فریاد کا حق ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کر لے تو افضل یہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:344/9]
ابوداؤد میں ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو؟ [سنن ابوداود:4909،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہیئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہیئے «اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ» ” یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے۔ “ آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کوسنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔
عبدالکریم بن مالک جزری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں“گالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ» [42-الشورى:41] ” جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ “
ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں“دو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔ [صحیح مسلم:2578]
صفحہ نمبر2014
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص کسی کے ہاں مہمان بن کر جائے اور میزبان اس کا حق مہمانی ادا نہ کرے تو اسے جائز ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے میزبان کی شکایت کرے، جب تک کہ وہ حق ضیافت ادا نہ کرے۔
ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے“ آپ نے فرمایا اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ [صحیح بخاری:2461]
مسند احمد کی روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ [سنن ابوداود:3751،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے [سنن ابوداود:3750،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان احادیث کی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے،
ابوداؤد شریف وغیرہ میں ہے ایک شخص سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو ۔
اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آ گیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہا“اپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا۔ [صحیح بخاری:124]
صفحہ نمبر2015
پھر ارشاد ہے کہ اے لوگو تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تم پر کسی نے ظلم کیا ہو اور تم اس سے درگزر کرو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بڑا ثواب، پورا اجر اور اعلیٰ درجے ہیں۔ خود وہ بھی معاف کرنے والا ہے اور بندوں کی بھی یہ عادت اسے پسند ہے، وہ انتقام کی قدرت کے باوجود معاف فرماتا رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔
بعض تو کہتے ہیں دعا «سُبحانَكَ على حلمِكَ بَعدَ عِلمِكَ» یا اللہ تیری ذات پاک ہے کہ تو باوجود جاننے کے پھر بھی برد باری اور چشم پوشی کرتا ہے۔
بعض کہتے ہیں «سُبحانَكَ على عفوِكَ بعدَ قٌدرتِكَ» اے قدرت کے باوجود درگذر کرنے والے اللہ تمام پاکیاں تیری ذات کے لیے مختص ہیں۔
صحیح حدیث شریف میں ہے صدقے اور خیرات سے کسی کا مال گھٹتا نہیں، عفو و درگذر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ تعالیٰ اور عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم سے تواضع، فروتنی اور عاجزی اختیار کرے اللہ اس کا مرتبہ اور توقیر مزید بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588]
صفحہ نمبر2016
النساء 4:149
مظلوم کو فریاد کا حق ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کر لے تو افضل یہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:344/9]
ابوداؤد میں ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو؟ [سنن ابوداود:4909،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہیئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہیئے «اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ» ” یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے۔ “ آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کوسنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔
عبدالکریم بن مالک جزری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں“گالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ» [42-الشورى:41] ” جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ “
ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں“دو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔ [صحیح مسلم:2578]
صفحہ نمبر2014
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص کسی کے ہاں مہمان بن کر جائے اور میزبان اس کا حق مہمانی ادا نہ کرے تو اسے جائز ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے میزبان کی شکایت کرے، جب تک کہ وہ حق ضیافت ادا نہ کرے۔
ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے“ آپ نے فرمایا اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ [صحیح بخاری:2461]
مسند احمد کی روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ [سنن ابوداود:3751،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے [سنن ابوداود:3750،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان احادیث کی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے،
ابوداؤد شریف وغیرہ میں ہے ایک شخص سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو ۔
اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آ گیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہا“اپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا۔ [صحیح بخاری:124]
صفحہ نمبر2015
پھر ارشاد ہے کہ اے لوگو تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تم پر کسی نے ظلم کیا ہو اور تم اس سے درگزر کرو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بڑا ثواب، پورا اجر اور اعلیٰ درجے ہیں۔ خود وہ بھی معاف کرنے والا ہے اور بندوں کی بھی یہ عادت اسے پسند ہے، وہ انتقام کی قدرت کے باوجود معاف فرماتا رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔
بعض تو کہتے ہیں دعا «سُبحانَكَ على حلمِكَ بَعدَ عِلمِكَ» یا اللہ تیری ذات پاک ہے کہ تو باوجود جاننے کے پھر بھی برد باری اور چشم پوشی کرتا ہے۔
بعض کہتے ہیں «سُبحانَكَ على عفوِكَ بعدَ قٌدرتِكَ» اے قدرت کے باوجود درگذر کرنے والے اللہ تمام پاکیاں تیری ذات کے لیے مختص ہیں۔
صحیح حدیث شریف میں ہے صدقے اور خیرات سے کسی کا مال گھٹتا نہیں، عفو و درگذر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ تعالیٰ اور عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم سے تواضع، فروتنی اور عاجزی اختیار کرے اللہ اس کا مرتبہ اور توقیر مزید بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588]
صفحہ نمبر2016
النساء 4:150
کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے! ٭٭
اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، یوشع علیہ السلام موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔
مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2018
پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے۔
اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں، پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔ جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے،
پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» [2-البقرة:285]
پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔
صفحہ نمبر2019
النساء 4:151
کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے! ٭٭
اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، یوشع علیہ السلام موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔
مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2018
پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے۔
اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں، پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔ جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے،
پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» [2-البقرة:285]
پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔
صفحہ نمبر2019
النساء 4:152
کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے! ٭٭
اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، یوشع علیہ السلام موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔
مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2018
پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے۔
اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں، پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔ جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے،
پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» [2-البقرة:285]
پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔
صفحہ نمبر2019
النساء 4:153
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭
یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں۔
یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا۔ جس طرح سورۃ سبحان میں مذکور ہے کہ“جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور تروتازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ”
پس بطور تسلی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی۔
جیسے سورۃ البقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ملاحظہ ہو آیت «وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ» [2-البقرة:55] یعنی ” جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ “
صفحہ نمبر2022
پھر فرماتا ہے کہ ”بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔“ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا موسیٰعلیہ السلام کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا۔
لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ” ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو۔ “ جس کا پورا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور سورۃ طہٰ میں بھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا
صفحہ نمبر2023
اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ وزاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں، پھر پہاڑ ہٹایا گیا۔
صفحہ نمبر2024
ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حطتہ» کہیں ”یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سزا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے۔“ لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور «حنطتہ فی شعرۃ» کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے۔
پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ والے دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لیے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت «وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ» [7-الأعراف:163] ،
ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا۔ یہ پوری حدیث سورۃ سبحان کی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ!
صفحہ نمبر2025
النساء 4:154
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭
یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں۔
یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا۔ جس طرح سورۃ سبحان میں مذکور ہے کہ“جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور تروتازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ”
پس بطور تسلی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی۔
جیسے سورۃ البقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ملاحظہ ہو آیت «وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ» [2-البقرة:55] یعنی ” جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ “
صفحہ نمبر2022
پھر فرماتا ہے کہ ”بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔“ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا موسیٰعلیہ السلام کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا۔
لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ” ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو۔ “ جس کا پورا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور سورۃ طہٰ میں بھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا
صفحہ نمبر2023
اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ وزاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں، پھر پہاڑ ہٹایا گیا۔
صفحہ نمبر2024
ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حطتہ» کہیں ”یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سزا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے۔“ لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور «حنطتہ فی شعرۃ» کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے۔
پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ والے دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لیے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت «وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ» [7-الأعراف:163] ،
ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا۔ یہ پوری حدیث سورۃ سبحان کی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» [17-الإسراء:101] ، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ!
صفحہ نمبر2025
النساء 4:155
اہل کتاب ، قاتلان انبیاء ، عیسیٰ علیہ السلام کی روداد اور مراحل قیامت ٭٭
اہل کتاب کے ان گناہوں کا بیان ہو رہا ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمتوں سے دور ڈال دیئے گئے اور ملعون و جلا وطن کر دیئے گئے اولاً ان کی عہد شکنی یہ تھی کہ جو وعدے انہوں نے اللہ سے کئے ان پر قائم نہ رہے، دوسرے اللہ کی آیتوں یعنی حجت و دلیل اور نبیوں کے معجزوں سے انکار اور کفر، تیسرے بلا وجہ، ناحق انبیاء کرام علیہم السلام کا قتل۔ ان کے رسولوں کی ایک بڑی جماعت ان کے ہاتھوں قتل ہوئی۔
چوتھی ان کا یہ خیال اور قول کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں یعنی پردے میں ہیں، جیسے مشرکین نے کہا تھا آیت «وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ» [41-فصلت:5] یعنی ” اے نبی تیری دعوت سے ہمارے دل پردے میں ہیں۔ “
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ” ہمارے دل علم کے ظروف ہیں وہ علم و عرفان سے پُر ہیں۔ “ سورۃ البقرہ میں بھی اس کی نظیر گذر چکی ہے،
اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی تردید کرتا ہے کہ یوں نہیں بلکہ ان پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے کیونکہ یہ کفر میں پختہ ہو چکے تھے۔ پس پہلی تفسیر کی بنا پر یہ مطلب ہوا کہ وہ عذر کرتے تھے کہ ہمارے دل بوجہ ان پر غلاف ہونے کے نبی کی باتوں کو یاد نہیں کر سکتے تو انہیں جواب دیا گیا کہ ایسا نہیں بلکہ تمہارے کفر کی وجہ سے تمہارے دل مسخ ہو گئے ہیں اور دوسری تفسیر کی بنا پر تو جواب ہر طرح ظاہر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس کی پوری تفصیل و تشریح گذر چکی ہے۔ پس بطور نتیجے کے فرما دیا کہ اب ان کے دل کفر و سرکشی اور کمی ایمان پر ہی رہیں گے۔
صفحہ نمبر2027
پھر ان کا پانچواں جرم عظیم بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے سیدہ مریم علیہا السلام پر زناکاری جیسی بدترین اور شرمناک تہمت لگائی اور اسی زناکاری کے حمل سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا شدہ بتایا، بعض نے اس سے بھی ایک قدم آگے رکھا اور کہا کہ یہ بدکاری حیض کی حالت میں ہوئی تھی۔ اللہ کی ان پر پھٹکار ہو کہ ان کی بد زبانی سے اللہ کے مقبول بندے بھی نہ بچ سکے۔
صفحہ نمبر2028
پھر ان کا چھٹا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ بطور تمسخر اور اپنی بڑائی کے یہ ہانک بھی لگاتے ہیں کہ ”ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو مار ڈالا“ جیسے کہ بطور تمسخر کے مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے تو تو مجنون ہے۔ پورا واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت دے کر بھیجا اور آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزے دکھائے مثلاً بچپن کے اندھوں کو بینا کرنا، کوڑھیوں کو اچھا کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، مٹی کے پرند بنا کر پھونک مارنا اور ان کا جاندار ہو کر اڑ جانا وغیرہ
تو یہودیوں کو سخت طیش آیا اور مخالفت پر کمربستہ ہو گئے اور ہر طرح سے ایذاء رسانی شروع کر دی، آپ کی زندگی تنگ کر دی، کسی بستی میں چند دن آرام کرنا بھی آپ کو نصیب نہ ہوا، ساری عمر جنگلوں اور بیابانوں میں اپنی والدہ کے ساتھ سیاحت میں گذاری، پھر بھی انہیں چین نہ لینے دیا، یہ دمشق کے بادشاہ کے پاس گئے جو ستارہ پرست مشرک شخص تھا (اس مذہب والوں کے ملک کو اس وقت یونان کہا جاتا تھا) یہاں آکر بہت روئے پیٹے اور بادشاہ کو عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف اکسایا اور کہا کہ یہ شخص بڑا مفسد ہے۔ لوگوں کو بہکا رہا ہے، روز نئے فتنے کھڑے کرتا ہے، امن میں خلل ڈالتا ہے۔ لوگوں کو بغاوت پہ اکساتا ہے وغیرہ۔
بادشاہ نے اپنے گورنر کو جو بیت المقدس میں تھا، ایک فرمان لکھا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر لے اور سولی پر چڑھا کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ کر لوگوں کو اس دکھ سے نجات دلوائے۔ اس نے فرمان شاہی پڑھ کر یہودیوں کے ایک گروہ کو اپنے ساتھ لے کر اس مکان کا محاصرہ کر لیا جس میں روح اللہ علیہ السلام تھے، آپ کے ساتھ اس وقت بارہ تیرہ یا زیادہ سے زیادہ ستر آدمی تھے، جمعہ کے دن عصر کے بعد اس نے محاصرہ کیا اور ہفتہ کی رات تک مکان کو گھیرے میں لیے رہا
صفحہ نمبر2029
جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہ محسوس کر لیا کہ اب وہ مکان میں گھس کر آپ کو گرفتار کر لیں گے یا آپ کو خود باہر نکلنا پڑے گا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈال دی جائے یعنی اس کی صورت اللہ مجھ جیسی بنا دے اور وہ ان کے ہاتھوں گرفتار ہو اور مجھے اللہ مخلصی دے؟ میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔
اس پر ایک نوجوان نے کہا مجھے یہ منظور ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس قابل نہ جان کر دوبارہ یہی کہا، تیسری دفعہ بھی کہا مگر ہر مرتبہ صرف یہی تیار ہوئے رضی اللہ عنہ۔ اب آپ نے یہی منظور فرما لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی صورت قدرتاً بدل گئی بالکل یہ معلوم ہونے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام یہی ہیں اور چھت کی طرف ایک روزن نمودار ہو گیا اور عیسیٰ علیہ السلام پر اونگھ کی سی حالت ہو گئی اور اسی طرح وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔
صفحہ نمبر2030
جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:55] ، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اے عیسیٰ میں تم سے مکمل تعاون کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ “
روح اللہ کے سوئے ہوئے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد یہ لوگ اس گھر سے باہر نکلے، یہودیوں کی جماعت نے اس بزرگ صحابی کو جس پر جناب مسیح علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی تھی، عیسیٰ سمجھ کر پکڑ لیا اور راتوں رات اسے سولی پر چڑھا کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ دیا۔ اب یہود خوشیاں منانے لگے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو قتل کر دیا اور لطف تو یہ ہے کہ عیسائیوں کی کم عقل اور جاہل جماعت نے بھی یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی اور ہاں صرف وہ لوگ جو مسیح علیہ السلام کے ساتھ اس مکان میں تھے اور جنہیں یقینی طور پر معلوم تھا کہ مسیح آسمان پر چڑھا لیے گئے اور یہ فلاں شخص ہے جو دھوکے میں ان کی جگہ کام آیا۔ باقی عیسائی بھی یہودیوں کا سا راگ الاپنے لگے، یہاں تک کہ پھر یہ بھی گھڑ لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سولی تلے بیٹھ کر روتی چلاتی رہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے کچھ باتیں بھی کیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2031
دراصل یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے اپنے بزرگ بندوں کا امتحان ہیں جو اس کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہے، پس اس غلطی کو اللہ تعالیٰ نے واضح اور ظاہر کر کے حقیقت حال سے اپنے بندوں کو مطلع فرما دیا اور اپنے سب سے بہتر رسول اور بڑے مرتبے والے پیغمبر کی زبانی اپنے پاک، سچے اور بہترین کلام میں صاف فرما دیا کہ حقیقتاً نہ کسی نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا، نہ سولی دی بلکہ ان کی شبیہ جس پر ڈالی گئی تھی، اسے عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھ بیٹھے۔
جو یہود و نصاریٰ آپ کے قتل کے قائل ہو گئے وہ سب کے سب شک و شبہ میں حیرت و ضلالت میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں نہ انہیں خود کچھ علم ہے صرف سنی سنائی باتوں پہ یقین کے سوا کوئی ان کے پاس دلیل نہیں۔ اسی لیے پھر اسی کے متصل فرما دیا کہ ”یہ یقینی امر ہے کہ روح اللہ کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ جناب باری عزاسمہ نے جو غالب تر ہے اور جس کی قدرتیں بندوں کے فہم میں بھی نہیں آ سکتیں اور جس کی حکمتوں کی تہ تک اور کاموں کی لم تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اپنے خاص بندے کو جنہیں اپنی روح کہا تھا اپنے پاس اٹھا لیا“
صفحہ نمبر2032
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانا چاہا تھا، آپ گھر میں آئے اور گھر میں بارہ حواری تھے، آپ کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے فرمایا! تم میں بعض ایسے ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں مگر کچھ مجھ سے کفر کریں گے۔ پھر آپ نے فرمایا ”تم میں سے کون شخص اسے پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شبیہ ڈالی جائے اور میری جگہ وہ قتل کر دیا جائے اور جنت میں میرا رفیق بنے۔“
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ روح اللہ علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق بعض نے آپ سے بارہ بارہ بار کفر کیا۔ پھر ان کے تین گروہ ہو گئے، یعقوبیہ، نسطوریہ اور مسلمان، یعقوبیہ تو کہنے لگے خود اللہ ہم میں تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، نسطوریہ کا خیال ہو گیا کہ اللہ کا لڑکا ہم میں تھا، جسے ایک زمانے تک ہم میں رکھ کر پھر اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا کہ اللہ کا بندہ اور رسول ہم میں تھا جب تک اللہ نے چاہا وہ ہم میں رہا اور پھر اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پہلے دو گمراہ فرقوں کا زور ہو گیا اور انہوں نے تیسرے سچے اور اچھے فرقے کو کچلنا اور دبانا شروع کیا، چنانچہ یہ کمزور ہوتے گئے
صفحہ نمبر2033
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر اسلام کو غالب کیا۔ اس کی اسناد بالکل صحیح ہے اور نسائی میں سیدنا ابومعاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:1110/4]
اسی طرح سلف میں سے بہت سے بزرگوں کا قول ہے، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس وقت شاہی سپاہی اور یہودی عیسیٰ علیہ السلام پر چڑھ دوڑے اور گھیرا ڈال دیا اس وقت آپ کے ساتھ سترہ آدمی تھے۔ ان لوگوں نے جب دروازے کھول کر دیکھا تو دیکھا کہ سب کے سب عیسیٰ کی صورت میں ہیں تو کہنے لگے تم لوگوں نے ہم پر جادو کر دیا ہے، اب یا تو تم اسے جو حقیقی عیسیٰ علیہ السلام ہوں ہمیں سونپ دو یا اسے منظور کر لو کہ ہم تم سب کو قتل کر ڈالیں۔ یہ سن کر روح اللہ نے فرمایا ”کوئی ہے جو جنت میں میرا رفیق بنے اور یہاں میرے بدلے سولی پر چڑھنا منظور کرے“ ایک صحابی اس کے لیے تیار ہو گئے اور کہنے لگے عیسیٰ میں تیار ہوں، چنانچہ دشمنان دین نے انہیں گرفتار کیا قتل کیا اور سولی چڑھایا اور بغلیں بجانے لگے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا، حالانکہ دراصل ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ دھوکے میں پڑ گئے اور اللہ نے اپنے رسول کو اسی وقت اپنے پاس چڑھا لیا۔
صفحہ نمبر2034
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو یہ وحی کر دیا کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں تو آپ پر بہت گراں گذرا اور موت کی گھبراہٹ بڑھ گئی تو آپ نے حواریوں کی دعوت کی، کھانا تیار کیا اور سب سے کہدیا کہ آج رات کو میرے پاس تم سب ضرور آنا، مجھے ایک ضروری کام ہے۔ جب وہ آئے تو خود کھانا کھلایا سب کام کاج اپنے ہاتھوں کرتے رہے، جب وہ کھا چکے تو خود ان کے ہاتھ دھلائے اور اپنے کپڑوں سے کے ہاتھ پونچھے یہ ان پر بھاری پڑا اور برا بھی لگا
لیکن آپ نے فرمایا“اس رات میں جو کچھ کر رہا ہوں، اگر تم میں سے کسی نے مجھے اس سے روکا تو میرا اس کا کچھ واسطہ نہیں نہ وہ میرا نہ میں اس کا۔ ”چنانچہ وہ سب خاموش رہے۔ جب آپ ان تمام کاموں سے فارغ ہو گئے تو فرمایا دیکھو! تمہارے نزدیک میں تم سب سے بڑے مرتبے والا ہوں اور میں نے تمہاری خدمت خود کی ہے، یہ اس لیے کہ تم میری اس سنت کے عامل بن جاؤ، خبردار تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اپنے بھائیوں سے بڑا نہ سمجھے، بلکہ ہر بڑا چھوٹے کی خدمت کرے، جس طرح خود میں نے تمہاری خدمت کی ہے۔
اب تم سے میرا جو خاص کام تھا جس کی وجہ سے آج میں نے تمہیں بلایا ہے وہ بھی سن لو کہ“تم سب مل کر آج رات بھر خشوع و خضوع سے میرے لیے دعائیں کرو کہ اللہ میری اجل کو مؤخر کر دے۔ ”چنانچہ سب نے دعائیں شروع کیں لیکن خشوع و خضوع کا وقت آنے سے پہلے ہی اس طرح انہیں نیند آنے لگی کہ زبان سے ایک لفظ نکالنا مشکل ہو گیا، آپ نے انہیں بیدار کرنے کی کوشش میں ایک ایک کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہا تمہیں کیا ہو گیا؟ ایک رات بھی جاگ نہیں سکتے؟ میری مدد نہیں کرتے؟ لیکن سب نے جواب دیا اے رسول اللہ ہم خود حیران ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟
صفحہ نمبر2035
ایک چھوڑ کئی کئی راتیں جاگتے تھے، جاگنے کے عادی ہیں لیکن اللہ جانے، آج کیا بات ہے کہ بری طرح نیند نے گھیر رکھا ہے، دعا کے اور ہمارے درمیان کوئی قدرتی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے تو آپ نے فرمایا! اچھا پھر چرواہا نہ رہے گا اور بکریاں تین تیرہ ہو جائیں گی، غرض اشاروں کنایوں میں اپنا مطلب ظاہر کرتے رہے، پھر فرمایا ”دیکھو تم میں سے ایک شخص صبح کا مرغ بولنے سے پہلے تین مرتبہ میرے ساتھ کفر کرے گا اور تم میں سے ایک چندہ درہموں کے بدلے مجھے بیچ دے گا اور میری قیمت کھائے گا۔“
اب یہ لوگ یہاں سے باہر نکلے ادھر ادھر چلے گئے، یہود جو اپنی جستجو میں تھے، انہوں نے شمعون حواری کو پہچان کر اسے پکڑا اور کہا یہ بھی اس کا ساتھی ہے، مگر شمعون نے کہا ”غلط ہے میں اس کا ساتھی نہیں ہوں۔“ انہوں نے یہ باور کر کے اسے چھوڑ دیا لیکن کچھ آگے جا کر یہ دوسری جماعت کے ہاتھ لگ گیا، وہاں سے بھی اسی طرح انکار کر کے اپنا آپ چھڑایا۔ اتنے میں مرغ نے بانگ دی اب یہ پچھتانے لگے اور سخت غمگین ہوئے۔
صبح ایک حواری یہودیوں کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں تمہیں عیسیٰ کا پتہ بتا دوں تو تم مجھے کیا دلواؤ گے؟ انہوں نے کہا تیس درہم، چانچہ اس نے وہ رقم لے لی، اور عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ بتا دیا۔ اس سے پہلے وہ شبہ میں تھے، اب انہوں نے گرفتار کر لیا اور رسیوں میں جکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے چلے اور بطور طعنہ زنی کے کہتے جاتے تھے کہ آپ تو مردوں کو زندہ کرتے تھے، جنات کو بھگا دیا کرتے تھی، مجنون کو اچھا کر دیا کرتے تھے، اب کیا بات ہے کہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے ان رسیوں کو بھی نہیں توڑ سکتے، تھو ہے تمہارے منہ پر!
صفحہ نمبر2036
یہ کہتے جاتے تھے اور کانٹے ان کے اوپر ڈالتے جاتے تھے۔ اسی طرح بیدردی سے گھسیتے ہوئے جب اس لکڑی کے پاس لائے جہاں سولی دینا تھی اور ارادہ کیا کہ سولی پر چڑھا دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنی طرف چڑھا لیا اور انہوں نے دوسرے شخص کو جو آپ کے مشابہ تھا سولی پر چڑھا دیا۔
پھر سات دن کے بعد مریم اور وہ عورت جس کو عیسیٰ علیہ السلام نے جن سے نجات دلوائی تھی۔ وہاں آئیں اور رونے پیٹنے لگیں تو ان کے پاس عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان سے کہا کہ ”کیوں روتی ہو؟ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا ہے اور مجھے ان کی اذیتیں نہیں پہنچیں، ان پر تو شبہ ڈال دیا گیا ہے میرے حواریوں سے کہو کہ مجھ سے فلاں جگہ ملیں“
چنانچہ یہ بشارت جب حواریوں کو ملی تو وہ سب کے سب گیارہ آدمی اس جگہ پہنچے، جس حواری نے آپ کو بیچا تھا، اسے انہوں نے وہاں نہ پایا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ندامت اور شرمندگی کی وجہ سے اپنا گلا گھونٹ کر آپ ہی مر گیا، اس نے خودکشی کر لی۔ آپ نے فرمایا ”اگر وہ توبہ کرتا تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔“
پھر پوچھا کہ یہ بچہ جو تمہارے ساتھ ہے، اس کا نام یحییٰ ہے، اب یہ تمہارا ساتھی ہے سنو صبح کو تمہاری زبانیں بدل دی جائیں گی، ہر شخص اپنی اپنی قوم کی زبان بولنے لگے گا، اسے چاہیئے کہ اسی قوم میں جا کر اسے میری دعوت پہنچائے اور اللہ سے ڈرائے۔ یہ واقعہ نہایت ہی غریب ہے
صفحہ نمبر2037
ابن اسحاق کا قول ہے کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ جس نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لیے اپنی فوج بھیجی تھی اس کا نام داؤد تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت سخت گھبراہٹ میں تھے، کوئی شخص اپنی موت سے اس قدر پریشان حواس باختہ اور اس قدر واویلا کرنے والا نہ ہو گا، جس قدر آپ نے اس وقت کیا۔ یہاں تک کہ فرمایا یا اللہ اگر تو موت کے پیالے کو کسی سے بھی ٹالنے والا ہے تو مجھ سے ٹال دے اور یہاں تک کہ گھبراہٹ اور خوف کے مارے ان کے بدن سے خون پھوٹ کر بہنے لگا،
اس وقت اس مکان میں آپ کے ساتھ بارہ حواری تھے، جن کے نام یہ ہیں فرطوس، یعقوب، ربداء، یحنس، [ یعقوب کا بھائی ] اندرا اییس، فیلبس ابن یلما، منتا، طوماس، یعقوب بن حلقایا، تداوسیس، قثانیا، یودس ذکریا یوطا۔ بعض کہتے ہیں تیرہ آدمی تھے اور ایک کا نام سرجس تھا۔ اسی نے اپنا آپ سولی پر چڑھایا جانا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت پر منظور کیا تھا۔
صفحہ نمبر2038
جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چڑھا لیے گئے اور بقیہ لوگ یہودیوں کے ہاتھوں میں اسیر ہو گئے، اب جو گنتی گنتے ہیں تو ایک کم نکلا۔ اس کے بارے میں ان میں آپس میں اختلاف ہوا۔ یہ لوگ جب اس جماعت پر چھاپہ مارتے ہیں اور انہیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام کو چونکہ پہچانتے نہ تھے تو یودس ذکریا یوطا نے تیس درہم لے کر ان سے کہا تھا کہ میں سب سے پہلے جاتا ہوں جسے میں جا کر بوسہ دوں تم سمجھ لینا کہ عیسیٰ علیہ السلام وہی ہے۔
جب یہ اندر پہنچتے ہیں، اس وقت عیسیٰ اٹھا لیے گئے تھے اور سرجس آپ کی صورت میں بنا دیئے گئے تھے، اس نے جا کر حسب قرار داد انہی کا بوسہ لیا اور یہ گرفتار کر لیے گئے پھر تو یہ بہت نادم ہوا اور اپنے گلے میں رسی ڈال کر پھانسی پر لٹک گیا اور نصرانیوں میں ملعون بنا۔ بعض کہتے ہیں اس کا نام یودس رکریا بوطا تھا، یہ جیسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کی پہچان کرانے کے لیے اس گھر میں داخل ہوا، عیسیٰ علیہ السلام تو اٹھا لیے گئے اور خود اس کی صورت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور اسی کو لوگوں نے پکڑ لیا، یہ ہزار چیختا چلاتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں، میں تو تمہارا ساتھی ہوں، میں نے ہی تو تمہیں عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ دیا تھا لیکن کون سنتا؟ آخر اسی کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اب اللہ ہی کو علم ہے کہ یہی تھا یا وہ تھا، جس کا ذکر پہلے ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ روح اللہ علیہ السلام کی مشابہت جس پر ڈال دی گئی تھی اسے صلیب پر چڑھایا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
صفحہ نمبر2039
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ آپ کے ان تمام ساتھیوں پر ڈال دی گی تھی۔“ اس کے بعد ذکر ہوتا ہے کہ جناب روح اللہ علیہ السلام کی موت سے پہلے جملہ اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے اور قیامت تک آپ ان کے گواہ ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی تفسیر میں کئی قول ہیں
صفحہ نمبر2040
ایک تو یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام موت سے پہلے یعنی جب آپ دجال کو قتل کرنے کے لیے دوبارہ زمین پر آئیں گے اس وقت تمام مذاہب ختم ہو چکے ہوں گے اور صرف ملت اسلامیہ جو دراصل ابراہیم علیہ السلام حنیف کی ملت ہے رہ جائے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «موتہ» سے مراد موت عیسیٰ علیہ السلام ہے ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب جناب مسیح علیہ السلام اتریں گے، اس وقت کل اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:380/9]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور روایت میں ہے خصوصاً یہودی ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی نجاشی اور ان کے ساتھی آپ سے مروی ہے کہ قسم اللہ کی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس اب زندہ موجود ہیں۔ جب آپ زمین پر نازل ہوں گے، اس وقت اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ ہو گا جو آپ پر ایمان نہ لائے۔ آپ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی جاتی ہے تو آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اپنے پاس اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے آپ کو دوبارہ زمین پر اس حیثیت سے بھیجے گا کہ ہر نیک و بد آپ پر ایمان لائے گا۔ قتادہ، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بہت سے مفسرین کا یہی فیصلہ ہے اور یہی قول حق ہے اور یہی تفسیر بالکل ٹھیک ہے، ان شاءاللہ العظیم اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی توفیق سے ہم اسے بادلائل ثابت کریں گے۔
صفحہ نمبر2041
دوسرا قول یہ ہے کہ ہر اہل کتاب آپ پر اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے۔ اس لیے کہ موت کے وقت حق و باطل سب کھل جاتا ہے تو ہر کتابی عیسیٰ کی حقانیت کو زمین سے سدھارنے سے پہلے یاد کر لیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کوئی یہودی نہیں مرتا جب تک کہ وہ روح اللہ پر ایمان نہ لائے۔
مجاہد رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔ بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو یہاں تک مروی ہے کہ اگر کسی اہل کتاب کی گردن تلوار سے اڑا دی جائے تو اس کی روح نہیں نکلتی جب تک کہ وہ عیسیٰ پر ایمان نہ لائے اور یہ نہ کہدے کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ابی رحمہ اللہ کی تو قرأت میں «قبل موتھم» ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا ہے کہ فرض کرو کوئی دیوار سے گر کر مر جائے؟ فرمایا پھر بھی اس درمیانی فاصلے میں وہ ایمان لا چکتا ہے۔
عکرمہ، محمد بن سیرین، محمد ضحاک، سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ ایک قول امام حسن رحمہ اللہ سے ایسا بھی مروی ہے کہ جس کا مطلب پہلے قول کا سا بھی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ کی موت سے پہلے کا بھی ہو سکتا ہے۔
صفحہ نمبر2042
النساء 4:156
باب
تیسرا قول یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی موت سے پہلے ایمان لائے گا۔ عکرمہ رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سب اقوال میں زیادہ تر صحیح قول پہلا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے قیامت کے قریب اتریں گے، اس وقت کوئی اہل کتاب آپ پر ایمان لائے بغیر نہ رہے گا۔
فی الواقع امام صاحب کا یہ فیصلہ حق بجانب ہے۔ اس لیے کہ یہاں کی آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اصل مقصود یہودیوں کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنا ہے کہ ہم نے جناب مسیح علیہ السلام کو قتل کیا اور سولی دی اور اسی طرح جن جاہل عیسائیوں نے یہ بھی کہا ہے ان کے قول کو بھی باطل کرنا ہے، روح اللہ نہ مقتول ہیں، نہ مصلوب۔ تو اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ فی الواقع نفس الامر میں نہ تو روح اللہ مقتول ہوئے، نہ مصلوب ہوئے بلکہ ان کے لیے شبہ ڈال دیا گیا اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام جیسے ایک شخص کو قتل کیا لیکن خود انہیں اس حقیقت کا علم نہ ہو سکا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو اپنے پاس چڑھا لیا۔ وہ زندہ ہیں، اب تک باقی ہیں، قیامت کے قریب اتریں گے۔ جیسے صحیح متواتر احادیث میں ہے مسیح ہر گمراہ کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیروں کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہیں کریں گے، اعلان کر دیں گے کہ یا تو اسلام کو قبول کرو یا تلوار سے مقابلہ کرو۔
صفحہ نمبر2043
پس اس آیت میں خبر دیتا ہے کہ اس وقت تمام اہل کتاب آپ کے ہاتھ پر ایمان قبول کریں گے اور ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو اسلام کو مانے بغیر رہ جائے یا رہ سکے۔ پس جسے یہ گمراہ یہود اور یہ جاہل نصرانی مرا ہوا جانتے ہیں اور سولی پر چڑھایا ہوا مانتے ہیں، یہ ان کی حقیقی موت سے پہلے ہی ان پر ایمان لائیں گے اور جو کام انہوں نے ان کی موجودگی میں کئے ہیں اور کریں گے۔
یہ ان پر قیامت کے دن اللہ کے سامنے گواہی دیں گے یعنی آسمان پر اٹھائے جانے کے قبل زندگی کے مشاہدہ کئے ہوئے کام اور دوبارہ کی آخری زندگی جو زمین پر گذاریں گے۔ اس میں ان کے سامنے جتنے کام انہوں نے کئے وہ سب آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے اور انہیں اللہ کے سامنے انہیں پیش کریں گے۔
صفحہ نمبر2044
ہاں اس کی تفسیر میں جو دو قول اور بیان ہوئے ہیں وہ بھی واقعہ کے اعتبار سے بالکل صحیح اور درست ہیں۔ موت کا فرشتہ آ جانے کے بعد احوال آخرت، سچ جھوٹ کا معائنہ ہو جاتا ہے، اس وقت ہر شخص سچائی کو سچ کہنے اور سمجھنے لگتا ہے لیکن وہ ایمان اللہ کے نزدیک معتبر نہیں۔ اسی سورت کے شروع میں ہے آیت «وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا» [4-النساء:18]
اور جگہ فرمان ہے آیت «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [40-غافر:84] ، یعنی ” جو لوگ موت کے آ جانے تک برائیوں میں مشغول رہے ان کی توبہ قبول نہیں اور جو لوگ عذاب رب دیکھ کر ایمان لائیں، انہیں بھی ان کا ایمان نفع نہ دے گا۔ “
پس ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھ کر ہم کہتے ہیں کہ پچھلے دو اقوال جن کی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تردید کی ہے وہ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ امام صاحب فرماتے ہیں اگر پچھلے دونوں قولوں کو اس آیت کی تفسیر میں صحیح مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ کسی یہودی یا نصرانی کے اقرباء اس کے وارث نہ ہوں، اس لیے کہ وہ تو عیسیٰ علیہ السلام پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر مرا اور اس کے وارث یہود و نصاریٰ ہیں، مسلمان کا وارث کافر نہیں ہو سکتا۔
لیکن ہم کہتے ہیں یہ اس وقت ہے جب ایمان ایسے وقت لائے کہ اللہ کے نزدیک معتبر ہو، نہ ایسے وقت ایمان لانا جو بالکل بےسود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر گہری نظر ڈالئے کہ دیوار سے گرتے ہوئے، درندے کے جبڑوں میں، تلوار کے چلتے ہوئے وہ ایمان لاتا ہے تو ایسی حالت کا ایمان مطلق نفع نہیں دے سکتا۔
صفحہ نمبر2045
جیسے قرآن کی مندرجہ بالا دونوں آیتیں ظاہر کر رہی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
میرے خیال سے تو یہ بات بہت صاف ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے پچھلے دونوں قول بھی معتبر مان لینے سے کوئی اشکال پیش نہیں آتی۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہیں۔ لیکن ہاں آیت سے واقعی مطلب تو یہ نکلتا ہے جو پہلا قول ہے۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں، قیامت کے قریب زمین پر اتریں گے اور یہودیوں و نصرانیوں دونوں کو جھوٹا بتائیں گے اور جو افراط تفریط انہوں نے کی ہے، اسے باطل قرار دیں گے۔ ایک طرف ملعون جماعت یہودیوں کی ہے، جنہوں نے آپ کو آپ کی عزت سے بہت گرا دیا اور ایسی ناپاک باتیں آپ کی شان میں کہیں جن سے ایک بھلا انسان نفرت کرے۔ دوسری جانب نصرانی ہیں جنہوں نے آپ کے مرتبے کو اس قدر بڑھایا کہ جو آپ میں نہ تھا اس کے اثبات میں اتنے بڑھے کہ مقام نبوت سے مقام ربوبیت تک پہنچا دیا جس سے اللہ کی ذات بالکل پاک ہے۔
صفحہ نمبر2046
اب ان احادیث کو سنئے جن میں بیان ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آخر زمانے میں قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر اتریں گے اور اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی طرف سب کو بلائیں گے۔ صحیح بخاری شریف جسے ساری امت نے قبول کیا ہے اس میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ و کتاب ذکر انبیاء علیہم السلام میں یہ حدیث لائے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ عادل منصف بن کر صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ ہٹا دیں گے۔ مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ اسے لینا کوئی منظور نہ کرے گا، ایک سجدہ کر لینا دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب تر ہو گا۔
اس حدیث کو بیان فرما کر راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بطور شہادت قرآنی کے اسی آیت «وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ» [4-النساء:159] کی آخر تک تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:2476]
صفحہ نمبر2047
صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے اور سند سے یہی روایت بخاری مسلم میں مروی ہے اس میں ہے کہ سجدہ اس وقت فقط اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہو گا۔ اور اس آیت کی تلاوت میں «قبل موتہ» کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ «قبل موت عیسیٰ بن مریم» پھر اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تین مرتبہ دوہرانا بھی ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عیسیٰ علیہ السلام حج یا عمرے پر یا دونوں پر لبیک کہیں گے، میدان حج میں، روحاء میں۔ [مسند احمد:240/2-272:صحیح] یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1252]
مسند کی اور حدیث میں ہے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو مٹائیں گے، نماز با جماعت ہو گی اور اللہ کی راہ میں مال اس قدر کثرت سے دیا جائے گا کہ کوئی قبول نہ کرنے والا نہ ملے گا۔ خراج چھوڑ دیں گے، روحاء میں جائیں گے اور وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں ایک ساتھ کریں گے۔
پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی لیکن آپ کے شاگرد حنظلہ رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”حضرت عیسیٰ کے انتقال سے پہلے آپ پر ایمان لائیں گے۔“ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب حدیث کے ہی الفاظ ہیں یا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اپنے۔ [مسند احمد:290/2-291:صحیح]
صفحہ نمبر2048
النساء 4:157
باب
صحیح بخاری میں ہے اس وقت کیا ہو گا، جب تم میں مسیح بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا۔ [صحیح بخاری:3449]
ابوداؤد، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“انبیاء کرام علیہم السلام سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں، مائیں جدا جدا اور دین ایک۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو۔ درمیان قد ہے، سرخ سفید رنگ ہے۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہ کریں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ ان کے زمانے میں تمام ملتیں مٹ جائیں گی، صرف اسلام ہی اسلام رہے گا، ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر زمین پر امن ہی امن ہو گا یہاں تک کہ کالے ناگ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے، چالیس برس تک ٹھہریں گے، پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ [سنن ابوداود:4324،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی اسی روایت میں ہے، آپ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے، اس حدیث کا ایک ٹکڑا بخاری شریف میں بھی ہے اور روایت میں ہے سب سے زیادہ قریب تر عیسیٰ علیہ السلام سے دنیا اور آخرت میں میں ہوں۔ [صحیح بخاری:3443]
صفحہ نمبر2049
صحیح مسلم میں ہے قیامت قائم نہ ہو گی، جب تک رومی اعماق یا والق میں نہ اتریں اور ان کے مقابلہ کے لیے مدینہ سے مسلمانوں کا لشکر نہ نکلے گا، جو اس وقت تمام زمین کے لوگوں سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے، جب صفیں بندھ جائیں گی تو رومی کہیں گے تم سے ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم میں سے جو دین بدل کر تم میں ملے ہم ان سے لڑنا چاہتے ہیں تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ لیکن مسلمان کہیں گے واللہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اپنے ان کمزور بھائیوں کو تمہارے حوالے کر دیں۔ چنانچہ لڑائی شروع ہو گی مسلمانوں کے اس لشکر کا تہائی حصہ تو شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہو گا، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہ فرمائے گا اور تہائی حصہ شہید ہو جائے گا، جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہیں لیکن آخری تہائی حصہ فتح حاصل کرے گا اور رومیوں پر غالب آ جائے گا۔ پھر یہ کسی فتنے میں نہ پڑیں گے، قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی تو وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہوئے مال غنیمت تقسیم کر ہی رہے ہوں گے جو شیطان چیخ کر کہے گا کہ تمہارے بال بچوں میں دجال آ گیا، اس کے اس جھوٹ کو سچ جان کر مسلمان یہاں سے نکل کھڑے ہوں گے، شام میں پہنچیں گے، دشمنوں سے جنگ آزما ہونے کے لیے صفیں ٹھیک کر رہے ہوں گے کہ دوسری جانب نماز کی اقامت ہو گی۔ اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کی امامت کرائیں گے، جب دشمن رب انہیں دیکھے گا تو اسی طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے، اگر عیسیٰ علیہ السلام اسے یونہی چھوڑ دیں، جب بھی وہ گھلتے گھلتے ختم ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے حربے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ [صحیح مسلم:2897 ]
صفحہ نمبر2050
مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں معراج والی رات میں نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، آپس میں قیامت کی نسبت بات چیت ہونے لگی، ابراہیم علیہ السلام نے اپنی لاعلمی ظاہر کی، اس طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی، لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اس کے آنے کا ٹھیک وقت تو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا، ہاں مجھ سے میرے رب نے جو عہد لیا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس کے ہمراہ دو شاخیں ہوں گی، مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے گا جب وہ مجھے دیکھ لے گا یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے پیچھے ایک کافر ہے آو اور اسے قتل کر لیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو غارت کر دے گا اور لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے اپنے وطن اور شہروں کو لوٹ جائیں گے۔ اب یاجوج ماجوج نکلیں گے، ہر طرف سے چڑھ دوڑیں گے، تمام شہرں کو روندیں گے، جس جس چیز پر گذر ہو گا اسے ہلاک کر دیں گے، جس پانی کے پاس سے گذریں گے پی جائیں گے، لوگ پھر لوٹ کر میرے پاس آئیں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ ان سب کو ایک ساتھ فنا کر دے گا لیکن ان کے مردہ جسموں سے ہوا بگڑ جائے گی، بدبو پھیل جائے گی۔ پھر مینہ برسے گا اور اس قدر کہ ان کی تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا۔ بس اس وقت قیامت کی اس طرح آمد آمد ہو گی جس طرح پورے دن کی حاملہ عورت ہو کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ صبح کو بچہ ہو جائے یا شام کو، رات کو پیدا ہو یا دن کو؟ [مسند احمد:375/1:ضعیف]
صفحہ نمبر2051
مسند احمد میں ہے ابونضرہ فرماتے ہیں ہیں ہم سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ والے دن آئے کہ ہم اپنا لکھا ہوا قرآن ان کے قرآن سے ملائیں، جب جمعہ کا وقت آیا تو آپ نے ہم سے فرمایا ”غسل کر لو“ پھر خوشبو لے آئے جو ہم نے ملی، پھر ہم مسجد میں آئے اور ایک شخص کے پاس بیٹھ گئے جنہوں نے ہم سے دجال والی حدیث بیان کی پھر سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ آئے، ہم کھڑے ہو گئے، پھر سب بیٹھ گئے۔
آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہو جائیں گے، ایک دونوں سمندر کے ملنے کی جگہ پر، دوسرا حیرہ میں اور تیسرا شام میں، پھر تین گھبراہٹیں لوگوں کو ہوں گی، پھر دجال نکلے گا، یہ پہلے شہر کی طرف جائے گا، وہاں کے لوگ تین حصوں میں بٹ جائیں گے، ایک حصہ تو کہے گا ہم اس کے مقابلہ پر ٹھہرے رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟ دوسری جماعت گاؤں کے لوگوں میں مل جائے گی اور تیسری جماعت دوسرے شہر میں چلی جائے گی جو ان سے قریب ہو گا، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، جن کے سروں پر تاج ہوں گے، ان کی اکثریت یہودیوں کی اور عورتوں کی ہو گی۔ یہاں کے یہ مسلمان ایک گھاٹی میں سمٹ کر محصور ہو جائیں گے، ان کے جانور جو چرنے چگنے کو گئے ہوں گے، وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے، اس سے ان کے مصائب بہت بڑھ جائیں گے اور بھوک کے مارے برا حال ہو جائے گا، یہاں تک کہ اپنی کمانوں کی تانیں سینک سینک کر کھا لیں گے، جب سخت تنگی کا عالم ہو گا تو انہیں سمندر میں سے آواز آئے گی کہ لوگو تمہاری مدد آ گئی، اس آواز کو سن کر یہ لوگ خوش ہوں گے، کیونکہ آواز سے جان لیں گے کہ یہ کسی آسودہ شخص کی آواز ہے
صفحہ نمبر2052
عین صبح کی نماز کے وقت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کا امیر آپ سے کہے گا کہ اے روح اللہ علیہ السلام آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے لیکن آپ کہیں گے کہ اس امت کے بعض بعض کے امیر ہیں، چنانچہ انہی کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا، نماز سے فارغ ہو کر اپنا حربہ ہاتھ میں لے کر مسیح علیہ السلام دجال کا رخ کریں گے۔ دجال آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، آپ اس کے سینہ پر وار کریں گے جس سے وہ ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے، لیکن انہیں کہیں امن نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت تلے چھپیں گے تو وہ درخت پکار کر کہے گا کہ اے مومن یہ ایک کافر میرے پاس چھپا ہوا ہے اور اسی طرح پتھر بھی۔ [مسند احمد:216/3:ضعیف]
صفحہ نمبر2053
ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ کا کم و بیش حصہ دجال کا واقعہ بیان کرنے اور اس سے ڈرانے میں ہی صرف کیا، جس میں یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی ابتداء سے لے کر انتہا تک کوئی فتنہ اس سے بڑا نہیں، تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو اس سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو، وہ یقیناً تمہیں میں آئے گا، اگر میری موجودگی میں آ گیا تو میں آپ اس سے نمٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنے آپ کو اس سے بچانا پڑے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان کا خلیفہ بناتا ہوں۔ وہ شام و عراق کے درمیان نکلے گا، دائیں بائیں خوب گھومے گا، لوگو اے اللہ کے بندو! دیکھو دیکھو تم ثابت قدم رہنا، سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔ وہ ابتداء میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا میں اللہ ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ اللہ کو ان آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا، ہاں مرنے کے بعد دیدار باری تعالیٰ ہو سکتا ہے۔ اور سنو وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان“کافر“ لکھا ہو گا جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ غرض ہر ایماندار پڑھ لے گا۔ اس کے ساتھ آگ ہو گی اور باغ ہو گا اس کی آگ دراصل جنت ہو گی اور اس کا باغ دراصل جہنم ہو گا،
صفحہ نمبر2054
سنو تم میں سے جسے وہ آگ میں ڈالے، وہ اللہ سے فریاد رسی چاہے اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے، اس کی وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام پر نمرود کی آگ ہو گئی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے مرے ہوئے باپ کو زندہ کر دوں تو تو مجھے رب مان لے گا وہ اقرار کرے گا، اتنے میں دو شیطان اس کی ماں اور باپ کی شکل میں ظاہر ہوں گے اور ان سے کہیں گے بیٹے یہی تیرا رب ہے تو اسے مان لے، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا اسے آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کروا دے گا، پھر لوگوں سے کہے گا میرے اس بندے کو دیکھنا اب میں اسے زندہ کر دوں گا۔ لیکن پھر بھی یہی کہے گا کہ اس کا رب میرے سوا اور ہے، چنانچہ یہ اسے اٹھا بیٹھائے گا اور یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے۔ اللہ کی قسم اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہو گیا۔ دوسری سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“یہ مومن میری تمام امت سے زیادہ بلند درجہ کا جنتی ہو گا۔
صفحہ نمبر2055
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس حدیث کو سن کر ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما ہی ہوں گے آپ کی شہادت تک ہمارا یہی خیال رہا۔ [سنن ابن ماجہ:4077،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہو گی، وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار نکلے گی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا وہ اسے نہ مانیں گے، اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد اور ہلاک ہو جائیں گی، ایک اور قبیلے کے پاس جائے گا جو اسے خدا مان لے گا، اسی وقت اس کے حکم سے ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین پھل اور کھیتی اگائے گی، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام کا گشت کرے گا، جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لیے ہوئے پائے گا تو ضریب کی انتہائی حد پر ضریب احمر کے پاس ٹھہر جائے گا، پھر مدینے میں تین بھونچال آئیں گے، اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور جس قدر منافقہ عورتیں ہوں گی۔ سب مدینہ سے نکل کر اس کے لشکر میں مل جائیں گے اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دور پھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو لاگ کر دیتی ہے، اس دن کا نام یوم الخلاص ہو گا۔
صفحہ نمبر2056
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا اولاً تو ہوں گے ہی بہت کم اور اکثریت ان کی بیت المقدس میں ہو گی، ان کا امام ایک صالح شخص ہو گا جو آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھا رہا ہوگا، جیسے ہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہونگے۔ امام پچھلے پیروں پیچھے ہٹے گا تاکہ آپ آگے بڑھ کر امامت کرائیں لیکن آپ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ، اقامت تمہارے لیے کی گی ہے پس ان کا امام ہی نماز پڑھائے گا، فارغ ہو کر آپ فرمائیں گے، دروازہ کھول دو، پس کھول دیا جائے گا۔ ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لیے ہوئے موجود ہو گا، جن کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہو گا، دجال آپ کو دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا لیکن آپ فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے تو اسے ٹال نہیں سکتا۔ چنانچہ آپ اسے مشرقی باب لد کے پاس پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کریں گے، اب یہودی بد حواسی سے منتشر ہو کر بھاگیں گے لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی، ہر پتھر ہر درخت ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہو گا کہ اے مسلمان یہاں یہودی ہے، آ اسے مار ڈال، ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا رہنا چالیس سال تک ہو گا، سال آدھے سال کے برابر اور سال مہینہ بھر جیسا اور مہینہ جمعہ جیسا اور باقی دن مثل شرارہ کے۔
صفحہ نمبر2057
النساء 4:158
باب
صبح ہی ایک شخص شہر کے ایک دروازے سے چلے گا، ابھی دوسرے دروازے تک نہیں پہنچا تو شام ہو جائے گی۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر ان چھوٹے دنوں میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے؟
آپ نے فرمایا اندازہ کر لیا کرو جیسے ان لمبے دنوں میں اندازہ سے پڑھا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میری امت میں حاکم ہوں گے، عادل ہوں گے، امام ہوں گے، باانصاف ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ہٹا دیں گے صدقہ چھوڑ دیا جائے گا پس بکری اور اونٹ پر کوشش نہ کی جائے گی، حسد اور بغض بالکل جاتا رہے گا، ہر زہریلے جانور کا زہر ہٹا دیا جائے گا، بچے اپنی انگلی سانپ کے منہ میں ڈالیں گے لیکن وہ انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا۔ شیروں سے لڑکے کھیلیں گے نقصان کچھ نہ ہو گا، بھیڑئے بکریوں کے گلے میں اس طرح پھریں گے جیسے رکھوالا کتا ہو تمام زمین اسلام اور اصلاح سے اس طرح بھر جائے گی جیسے کوئی برتن پانی سے لبالب بھرا ہوا ہو، سب کا کلمہ ایک ہو جائے گا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہو گی، لڑائی اور جنگ بالکل موقف ہو جائے گی، قریش اپنا ملک سلب کر لیں گے، زمین مثل سفید چاندی کے منور ہو جائے گی اور جیسی برکتیں زمانہ آدم علیہ السلام میں تھیں لوٹ آئیں گی، ایک جماعت کو ایک انگور کا خوشہ پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہو گا، ایک انار اتنا ہو گا کہ ایک جماعت کھائی اور سیر ہو جائے بیل اتنی اتنی قیمت پر ملے گا اور گھوڑا چند درہموں پر ملے گا۔ لوگوں نے پوچھا اس کی قیمت گر جانے کی کیا وجہ؟ فرمایا اس لیے کہ لڑائیوں میں اس کی سواری بالکل نہ لی جائے گی۔ دریافت کیا گیا بیل کی قیمت بڑھ جانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا اس لیے کہ تمام زمین پر کھیتیاں ہونی شروع ہو جائیں گی۔
صفحہ نمبر2058
دجال کے آنے سے تین سال پیشتر سے سخت قحط سالی ہو گی، پہلے سال بارش کا تیسرا حصہ بحکم الٰہی روک لیا جائے گا اور زمین کی پیداوار کا بھی تیسرا حصہ کم ہو جائے گا، پھر دوسرے سال اللہ آسمان کو حکم دے گا کہ بارش کی دو تہائیاں روک لے اور یہی حکم زمین کو اپنی پیداوار کی دو تہائیاں کم کر دے، تیسرے سال آسمان بارش کا ایک قطرہ نہ برسے گا، نہ زمین سے کوئی روئیدگی پیدا ہو گی، تمام جانور اس قحط سے ہلاک ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے۔
آپ سے پوچھا گیا کہ پھر اس وقت لوگ زندہ کیسے رہ جائیں گے، آپ نے فرمایا ”ان کی غذا کے قائم مقام اس وقت ان کا «لا الہٰ الا اللہ» کہنا اور «اللہ اکبر» کہنا اور «سبحان اللہ» کہنا اور «الحمداللہ» کہنا ہو گا۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے استاد نے اپنے استاد سے سنا وہ فرماتے تھے یہ حدیث اس قابل ہے کہ بچوں کے استاد اسے بچوں کو بھی سکھا دیں بلکہ لکھوائیں تاکہ انہیں بھی یاد رہے۔ [المشکاۃ للالبانی:6044:ضعیف]
یہ حدیث اس سند سے ہے تو غریب لیکن اس کے بعض حصوں کی شواہد دوسری حدیثیں ہیں۔ اسی حدیث جیسی ایک حدیث سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اسے بھی ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے ایک دن صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور اس طرح اسے واضح بیان فرمایا کیا کہ ہم سمجھے، کہیں مدینہ کے نخلستان میں وہ موجود نہ ہو پھر جب ہم لوٹ کر آپ کی طرف آئے تو ہمارے چہروں سے آپ نے جان لیا اور دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟
صفحہ نمبر2059
ہم نے دل کی بات کہہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! دجال کے علاوہ مجھے تو تم سے اس سے بھی بڑا خوف ہے، اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں آپ اس سے سمجھ لوں گا اور اگر وہ میرے بعد آیا تو ہر مسلمان اس سے آپ بھگت لے گا، میں اپنا خلیفہ ہر مسلمان پر اللہ کو بناتا ہوں، وہ جوان ہو گا، آنکھ اس کی ابھری ہوئی ہو گی، بس یوں سمجھ لو کہ عبدالعزیٰ بن قطن جیسا ہو گا۔ تم میں جو اسے دیکھے اسے چاہیئے کہ سورۃ الکہف کی شروع کی آیتیں پڑھے وہ شام و عراق کے درمیانی گوشے سے نکلے گا اور دائیں بائیں گشت کرے گا، اے اللہ کے بندو! خوب ثابت قدم رہنا، ہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ رہے گا کتنی مدت؟ آپ نے فرمایا چالیس دن، ایک دن سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن جمعہ کے برابر اور باقی دن تمہارے معمولی دنوں جیسے، پھر ہم نے دریافت کیا کہ جو دن سال بھر کے برابر ہو گا، کیا اس میں ایک ہی دن کی نماز کافی ہوں گی؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اندازہ کر لو اور نماز ادا کر لو۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی رفتار کی سرعت کیسی ہو گی؟ فرمایا ایسی جیسے بادل ہواؤں سے بھاگتے ہیں۔ ایک قوم کو پانی طرف بلائے گا وہ مان لیں گے تو آسمان سے ان پر بارش برسے گی، زمین سے کھیتی اور پھل اگیں گے، ان کے جانور تروتازہ اور زیادہ دودھ والے ہو جائیں گے، ایک قوم کے پاس جائے گا جو اسے جھٹلائے گی اور اس کا انکار کر دے گی، یہ وہاں سے لوٹے گا تو ان کے ہاتھ میں کچھ نہ رہے گا وہ بنجر زمین پر کھڑے ہو کر حکم دے گا کہ اے زمین کے خزانو نکل آؤ تو وہ سب نکل آئیں گے اور شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے پھریں گے۔
صفحہ نمبر2060
یہ ایک نوجوان کو بلائے گا اور اسے قتل کرے گا اس کے ٹھیک دو ٹکڑے کر کے اتنی اتنی دور ڈال دے گا جو کسی تیر کی کمان سے نکلے ہوئے دوری ہو، پھر اسے آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر ہنستا ہوا اس کے پاس آ جائے گا۔ اب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا اور وہ دمشق کے سفید شرقی مینارے کے پاس دو چادریں اوڑھے دو فرشتوں کے پروں پر بازو رکھے ہوئے اتریں گے، جب سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو مثل موتیوں کے وہ قطرے لڑھکیں گے، جس کافر تک ان کا سانس پہنچ جائے وہ مر جائے گا اور آپ کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک نگاہ پہنچے، آپ دجال کا پیچھا کریں گے اور باب لد کے پاس اسے پا کر قتل کریں گے، پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے، جنہیں اللہ نے اس فتنے سے بچایا ہو گا، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور جنت کے درجوں کی انہیں خبر دیں گے، اب اللہ کی طرف سے عیسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی آئے گی کہ میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا تم میرے ان خاص بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۔
صفحہ نمبر2061
پھر یاجوج، ماجوج نکلیں گے اور وہ ہر طرف سے کودتے پھاندتے آ جائیں گے، بحیرہ طبریہ پر ان کا پہلا گروہ آئے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا، جب ان کے بعد ہی دوسرا گروہ آئے گا تو وہ اسے ایسا سوکھا ہوا پائے گا کہ وہ کہیں گے شاید یہاں کبھی پانی نہیں ہو گا؟ عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی مومن وہاں اس قدر محصور رہیں گے کہ ایک بیل کا سر انہیں اس سے بھی اچھا لگے جیسے تمہیں آج ایک سو دینار محبوب ہیں، اب آپ اور مومن اللہ سے دعائیں اور التجائیں کریں گے، اللہ ان پر گردن کی گلٹی کی بیماری بھیج دے گا، جس میں سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم میں فنا ہو جائیں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی زمین پر اتریں گے مگر زمین پر بالشت بھر بھی ایسی نہ پائیں گے جو ان کی لاشوں سے اور بدبو سے خالی ہو، پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں اور التجائیں کریں گے تو بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر ایک قسم کے پرند اللہ تعالیٰ بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ چاہے ڈال آئیں گے۔ پھر بارش ہو گی، جس سے تمام زمین دھل دھلا کر ہتھیلی جیسی صاف ہو جائے گی، پھر زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل نکال اور اپنی برکتیں لوٹا، اس دن ایک انار ایک جماعت کو کافی ہو گا اور وہ سب اس کے چھلکے تلے آرام حاصل کر سکیں گے، ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے سے نہیں پیا جائے گا۔ پھر پروردگار عالم ایک لطیف اور پاکیزہ ہوا چلائے گا جو تمام ایماندار مردوں عورتوں کی بغل تلے سے نکل جائے گی اور ساتھ ہی ان کی روح بھی پرواز کر جائے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح دھینگا مشتی میں مشغول ہو جائیں گے ان پر قیامت قائم ہو گی۔ [صحیح مسلم:2937]
مسند احمد میں بھی ایک ایسی ہی حدیث ہے اسے ہم سورۃ انبیاء کی آیت «حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» [21-الأنبياء:96] ، کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2062
النساء 4:159
باب
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ یہ کیا بات ہے جو مجھے پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں قیامت یہاں یہاں تک آ جائے گی آپ نے سبحان اللہ یا لا الہٰ الا اللہ کہہ کر فرمایا میرا تو اب جی چاہتا ہے کہ تمہیں اب کوئی حدیث ہی نہ سناؤں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ کچھ زمانے کے بعد تم بڑے بڑے امر دیکھو گے، بیت اللہ جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا وہ ہو گا وغیرہ۔
پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال نکلے گا اور میری امت میں چالیس تک ٹھہرے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، آپ کی صورت مثل سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہے۔ آپ اسے تلاش کر کے قتل کریں گے پھر سات سال تک لوگ اسی طرح رہیں گے کہ وہ بھی کچھ عداوت ہو گی، پھر ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے چلے گی اور سب ایمان والوں کو فوت کر دے گی، جس کے دل میں ایک ذرے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا اگرچہ وہ کسی پہاڑ کے غار میں ہو وہ بھی فوت ہو جائے گا، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور درندوں جیسے دماغوں والے ہوں گے، اچھائی برائی کی کی کوئی تمیز ان میں نہ ہو گی۔ شیطان ان کے پاس انسانی صورت میں آ کر انہیں بت پرستی کی طرف مائل کرے گا لیکن ان کی اس حالت میں بھی ان کی روزی کے دوازے ان پر کھلے ہوں گے اور زندگی بہ آرام گذر رہی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا، جس سے لوگ گرنے مرنے لگیں گے،
صفحہ نمبر2063
ایک شخص جو اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے ان کا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا، سب سے پہلے صور کی آواز اس کے کان میں پڑے گی، جس سے یہ اور تمام اور لوگ بیہوش ہو جائیں گے۔ غرض سب کچھ فنا ہو چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ مینہ برسائے گا، جو مثل شبنم کے یا مثل سائے کے ہو گا، اس سے دوبارہ جسم پیدا ہوں گے۔ پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا، سب کے سب جی اٹھیں گے، پھر کہا جائے گا لوگو اپنے رب کی طرف چلو، انہیں ٹھہرا کر ان سے سوال کیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا جہنم کا حصہ نکالو، پوچھا جائے گا کتنوں سے کتنے؟ جواب ملے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا اور یہی دن ہے جس میں پنڈلی کھولی جائے گی۔ [صحیح مسلم:2940]
صفحہ نمبر2064
مسند احمد میں ہے ابن مریم علیہ السلام باب لد کے پاس یا لد کی جانب مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ [مسند احمد:420/3:صحیح لغیرہ] ترمذی میں باب لد ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي:2244،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ نے چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام بھی لیے ہیں کہ ان سے بھی اس باب کی حدیثیں مروی ہیں تو اس سے مراد وہ حدیثیں ہیں جن میں دجال کا مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہونا مذکور ہے۔ صرف دجال کے ذکر کی حدیثیں تو بےشمار ہیں، جنہیں جمع کرنا سخت دشوار ہے۔ مسند میں ہے کہ عرفے سے آتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع کے پاس سے گذرے اس وقت وہاں قیامت کے ذکر افکار ہو رہے تھے تو آپ نے فرمایا جب تک دس باتیں نہ ہو لیں، قیامت قائم نہ ہو گی، آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا، دھوئیں کا آنا، دابتہ الارض کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، دجال کا آنا، تین جگہ زمین کا دھنس جانا، شرق میں، غرب میں اور جزیرہ عرب میں اور عدن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر ایک جگہ کر دے گی۔ وہ شب باشی بھی انہی کے ساتھ کرے گی اور جب دوپہر کو وہ آرام کریں گے یہ آگ ان کے ساتھ ٹھہری رہے گی۔ یہ حدیث مسلم اور سنن میں بھی ہے [صحیح مسلم:2901] اور سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یہی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ متواتر حدیثیں جو سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عثمان بن ابوالعاص، سیدنا ابوامامہ، سیدنا نواس بن سمعان، سیدنا عبداللہ بن عمرو، مجمع بن جاریہ، ابو شریحہ، حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہیںیہ صاف دلالت کرتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، ساتھ ہی ان میں یہ بھی بیان ہے کہ کس طرح اتریں گے اور کہاں اتریں گے اور کس وقت اتریں گے؟
صفحہ نمبر2065
یعنی صبح کی نماز کی اقامت کے وقت شام کے شہر دمشق کے شرقی مینارہ پر آپ اتریں گے۔ اس زمانہ میں یعنی سن سات سو اکتالیس میں جامع اموی کا مینارہ سفید پتھر سے بہت مضبوط بنایا گیا ہے، اس لیے کہ آگ کے شعلہ سے یہ جل گیا ہے آگ لگانے والے غالباً ملعون عیسائی تھے کیا عجب کہ یہی وہ مینارہ ہو جس پر مسیح بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے، صلیبوں کو توڑ دیں گے، جزیئے کو ہٹا دیں گے اور سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔
جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیثیں گذر چکیں، جن میں پیغمبر صادق و مصدق علیہ السلام نے یہ خبر دی ہے اور اسے ثابت بتایا ہے۔ یہ وہ وقت ہو گا جبکہ تمام شک شبے ہٹ جائیں گے، اور لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے ماتحت اسلام قبول کر لیں گے۔ جیسے اس آیت میں ہے اور جیسے فرمان ہے آیت «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ» [43-الزخرف:61] اور ایک قرأت میں «لعلم» ہے۔ یعنی جناب مسیح علیہ السلام قیامت کا ایک زبردست نشان ہے، یعنی قرب قیامت کا اس لیے کہ آپ دجال کے آچکنے کے بعد تشریف لائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی جس کا علاج نہ مہیا کیا ہو۔ [صحیح بخاری:5678] آپ ہی کے وقت میں یاجوج ماجوج نکلیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ہلاک کرے گا۔ قرآن کریم ان کے نکلنے کی خبر بھی دیتا ہے،
صفحہ نمبر2066
فرمان ہے آیت «حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَـٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ» [21-الأنبياء:96] یعنی ان کا نکلنا بھی قرب قیامت کی دلیل ہے۔
اب عیسیٰ کی صفتیں ملاحظہ ہوں۔ پہلے کی دو احادیث میں بھی آپ کی صفت گذر چکی ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ لیلتہ المعراج میں میں نے موسیٰ سے ملاقات کی وہ درمیانہ قد صاف بالوں والے ہیں، جیسی شنوہ قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں اور عیسیٰ سے بھی ملاقات کی، وہ سرخ رنگ میانہ قد ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں، ابراہیم کو بھی میں نے دیکھا بس وہ بالکل مجھ جیسے تھے۔ [صحیح بخاری:3437]
بخاری کی اور روایت میں ہے حضرت عیسیٰ سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں والے، چوڑے چکلے سینے والے تھے، موسیٰ گندمی رنگ کے جسم اور سیدھے بالوں والے تھے، جیسے زط کے لوگ ہوتے ہیں [صحیح بخاری:3438] اسی طرح آپ نے دجال کی شکل و صورت بھی بیان فرما دی ہے کہ اس کی داہنی آنکھ کافی ہو گی، جیسے پھولا ہوا انگور۔ [صحیح بخاری:3439]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے کعبہ کے پاس خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بہت گندمی رنگ والے آدمی جن کے سر کے پٹھے دونوں کندھوں تک تھے، صاف بالوں والے جن کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں، میں نے ان کے پیچھے ہی ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی آنکھ کافی تھی، ابن قطن سے بہت ملتا جلتا تھا، سخت الجھے ہوئے بال تھے، وہ بھی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، میں نے کہا یہ کون یہ؟ کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ [صحیح مسلم:169]
صفحہ نمبر2067
بخاری کی اور روایت میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کو سرخ رنگ نہیں بتایا بلکہ آپ نے گندمی رنگ بتایا ہے۔ پھر اوپر والی پوری حدیث ہے۔ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا، جو جاہلیت میں مر چکا تھا۔ [صحیح بخاری:3441]
وہ حدیث بھی گذر چکی جس میں یہ بیان ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام اپنے نزول کے بعد چالیس سال یہاں رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ [سنن ابوداود:4324] ہاں مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ یہاں سال ہا سال رہیں گے۔ [صحیح مسلم:2940]
تو ممکن ہے کہ چالیس سال کا فرمان اس مدت سمیت کا ہو جو آپ نے دنیا میں اپنے آسمانوں پر اٹھائے جانے پہلے گذاری ہے۔ جس وقت آپ اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر تینتیس سال کی تھی اور سات سال اب آخر زمانے کے تو پورے چالیس سال ہو گئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (ابن عساکر)
بعض کا قول ہے کہ جب آپ آسمانوں پر چڑھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ڈیڑھ سال کی تھی، یہ بالکل فضول سا قول ہے، ہاں حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بعض سلف سے یہ بھی لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں آپ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ [سنن ترمذي:3617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ارشاد ہے کہ یہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے یعنی اس بات کے کہ اللہ کی رسالت آپ نے انہیں پہنچا دی تھی اور خود آپ نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کیا تھا، جیسے سورۃ المائدہ کے آخر میں آیت «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ» سے «أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدة:116-118] تک ہے یعنی آپ کی گواہی کا وہاں ذکر ہے اور اللہ کے سوال کا۔
صفحہ نمبر2068
النساء 4:160
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے،
دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [3-آل عمران:93] ” یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ “
اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» [6-الأنعام:146] ، ” یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے “
پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔
صفحہ نمبر2069
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔
صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» [2-البقرة:177] الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔
بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» [2-البقرة:4] پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔
یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔
صفحہ نمبر2070
النساء 4:161
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے،
دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [3-آل عمران:93] ” یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ “
اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» [6-الأنعام:146] ، ” یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے “
پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔
صفحہ نمبر2069
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔
صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» [2-البقرة:177] الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔
بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» [2-البقرة:4] پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔
یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔
صفحہ نمبر2070
النساء 4:162
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے،
دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [3-آل عمران:93] ” یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ “
اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» [6-الأنعام:146] ، ” یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے “
پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔
صفحہ نمبر2069
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔
صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» [2-البقرة:177] الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔
بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» [2-البقرة:4] پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔
یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔
صفحہ نمبر2070
النساء 4:163
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نہیں مانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔“ اس پر یہ آیتیں اتریں،
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» [4-النساء:153-156] تک اتری .
اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» [6-الأنعام:91] الخ، نازل فرمائی .
لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153]
موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2073
پھر فرماتا ہے اس آیت یعنی مکی سورت کی آیت سے پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں بھی ہوا۔ جن انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن کے الفاظ میں آ گئے ہیں وہ یہ ہیں،: آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، یوشع، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، اور بقول اکثر مفسرین ذوالکفل اور ایوب اور الیاس علیہم السلام اور ان سب کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔
اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً]
اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً]
صفحہ نمبر2074
ایک اور حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی بھیجے ہیں، چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی اور لوگوں کی طرف۔ [مسند ابویعلیٰ:4132:ضعیف جداً] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں رنبری اور ان کے استاد رقاشی دونوں ضعیف ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً]
اور حدیث میں ہے میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً]
یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“
صفحہ نمبر2075
میں نے پوچھا ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”برائیوں کو چھوڑ دینا“ میں نے پوچھا کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا: ”لمبے قنوت والی“ میں نے کہا کون سا روزہ افضل ہے؟ فرمایا: ”فرض کفایت کرنے والا ہے اور اللہ کے پاس بہت بڑھا چڑھا ثواب ہے“ میں نے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے؟ ”فرمایا: جس کا گھوڑا بھی کاٹ دیا جائے اور خود اس کا بھی خون بہا دیا جائے۔“ میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“
صفحہ نمبر2076
پھر آپ نے فرمایا: سنو چار تو سریانی ہیں، آدم، شیث، خنوخ علیہم السلام اور یہی ادریس علیہ السلام ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا اور نوح اور چار عربی ہیں ہود، شعیب، صالح علیہم السلام اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔ اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔ عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے،
صفحہ نمبر2077
میں نے پوچھا: موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: وہ عبرت دلانے والی تحریروں کا مجموعہ تھے، مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر بھی غافل ہے، تقدیر کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مال دولت کے لیے پاگل ہو رہا ہے، ہائے وائے میں پڑا ہوا ہے، دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر بھی اسی کو سب کچھ سمجھتا رہے، قیامت کے دن حساب کو جانتا ہے پھر بےعمل ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» [87-الأعلى:19-14] میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے، فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔
صفحہ نمبر2078
میں نے کہا: کچھ اور بھی فرما دیجئیے فرمایا: اپنے سے نیچے درجے کے لوگوں کو دیکھا کر اور اپنے سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر نظریں نہ ڈالو، اس سے تمہارے دل میں اللہ کی نعمتوں کی عظمت پیدا ہو گی۔ میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ [مسند احمد:79/3:ضعیف]
صفحہ نمبر2079
ایک حدیث میں ہے ایک لاکھ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں بلکہ زیادہ کا۔ پھر فرمایا ہے موسیٰ سے خود اللہ نے صاف طور پر کلام کیا۔ یہ ان کی خاص صفت ہے کہ وہ کلیم اللہ تھے، ایک شخص ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک شخص اس جملہ کو یوں پڑھتا ہے «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ” یعنی موسیٰ نے اللہ سے بات کی ہے “
اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» [4-النساء:164] [طبرانی اوسط:8603:ضعیف]
غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔ کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» [7-الأعراف:143] ” یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا “ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔
صفحہ نمبر2080
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کا کسی صاف پتھر پر چلنا بھی دیکھ لیتے تھے۔ [مجمع الزوائد:373/8:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں اور جب موقوفاً بقول سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ثابت ہو جائے تو بہت ٹھیک ہے۔
مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔
صفحہ نمبر2081
بنو اسرائیل نے آپ سے جب کلام زبانی کی صفت پوچھی آپ نے فرمایا ”میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا“ انہوں نے کہا کچھ تشبیہ تو بیان کرو، آپ نے فرمایا تم نے کڑاکے کی آواز سنی ہو گی، وہ اس کے مشابہ تھی لیکن ویسی نہ تھی . [بزار:2353:ضعیف] اس کے ایک راوی فضل رقاشی ضعیف ہیں اور بہت ہی ضعیف ہیں .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔
یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔
صفحہ نمبر2082
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتابیں نازل فرمائی ہیں اور اپنے رسول بھیجے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے اوامر و نواہی کی تعلیم دلوائی یہ اس لیے کہ کسی کو کوئی حجت یا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» [20-طه:134] ” یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ “
اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [28-القصص:47]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ [صحیح بخاری:4637] دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ [صحیح مسلم:2760]
صفحہ نمبر2083
النساء 4:164
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نہیں مانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔“ اس پر یہ آیتیں اتریں،
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» [4-النساء:153-156] تک اتری .
اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» [6-الأنعام:91] الخ، نازل فرمائی .
لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153]
موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2073
پھر فرماتا ہے اس آیت یعنی مکی سورت کی آیت سے پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں بھی ہوا۔ جن انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن کے الفاظ میں آ گئے ہیں وہ یہ ہیں،: آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، یوشع، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، اور بقول اکثر مفسرین ذوالکفل اور ایوب اور الیاس علیہم السلام اور ان سب کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔
اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً]
اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً]
صفحہ نمبر2074
ایک اور حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی بھیجے ہیں، چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی اور لوگوں کی طرف۔ [مسند ابویعلیٰ:4132:ضعیف جداً] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں رنبری اور ان کے استاد رقاشی دونوں ضعیف ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً]
اور حدیث میں ہے میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً]
یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“
صفحہ نمبر2075
میں نے پوچھا ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”برائیوں کو چھوڑ دینا“ میں نے پوچھا کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا: ”لمبے قنوت والی“ میں نے کہا کون سا روزہ افضل ہے؟ فرمایا: ”فرض کفایت کرنے والا ہے اور اللہ کے پاس بہت بڑھا چڑھا ثواب ہے“ میں نے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے؟ ”فرمایا: جس کا گھوڑا بھی کاٹ دیا جائے اور خود اس کا بھی خون بہا دیا جائے۔“ میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“
صفحہ نمبر2076
پھر آپ نے فرمایا: سنو چار تو سریانی ہیں، آدم، شیث، خنوخ علیہم السلام اور یہی ادریس علیہ السلام ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا اور نوح اور چار عربی ہیں ہود، شعیب، صالح علیہم السلام اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔ اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔ عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے،
صفحہ نمبر2077
میں نے پوچھا: موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: وہ عبرت دلانے والی تحریروں کا مجموعہ تھے، مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر بھی غافل ہے، تقدیر کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مال دولت کے لیے پاگل ہو رہا ہے، ہائے وائے میں پڑا ہوا ہے، دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر بھی اسی کو سب کچھ سمجھتا رہے، قیامت کے دن حساب کو جانتا ہے پھر بےعمل ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» [87-الأعلى:19-14] میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے، فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔
صفحہ نمبر2078
میں نے کہا: کچھ اور بھی فرما دیجئیے فرمایا: اپنے سے نیچے درجے کے لوگوں کو دیکھا کر اور اپنے سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر نظریں نہ ڈالو، اس سے تمہارے دل میں اللہ کی نعمتوں کی عظمت پیدا ہو گی۔ میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ [مسند احمد:79/3:ضعیف]
صفحہ نمبر2079
ایک حدیث میں ہے ایک لاکھ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں بلکہ زیادہ کا۔ پھر فرمایا ہے موسیٰ سے خود اللہ نے صاف طور پر کلام کیا۔ یہ ان کی خاص صفت ہے کہ وہ کلیم اللہ تھے، ایک شخص ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک شخص اس جملہ کو یوں پڑھتا ہے «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ” یعنی موسیٰ نے اللہ سے بات کی ہے “
اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» [4-النساء:164] [طبرانی اوسط:8603:ضعیف]
غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔ کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» [7-الأعراف:143] ” یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا “ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔
صفحہ نمبر2080
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کا کسی صاف پتھر پر چلنا بھی دیکھ لیتے تھے۔ [مجمع الزوائد:373/8:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں اور جب موقوفاً بقول سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ثابت ہو جائے تو بہت ٹھیک ہے۔
مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔
صفحہ نمبر2081
بنو اسرائیل نے آپ سے جب کلام زبانی کی صفت پوچھی آپ نے فرمایا ”میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا“ انہوں نے کہا کچھ تشبیہ تو بیان کرو، آپ نے فرمایا تم نے کڑاکے کی آواز سنی ہو گی، وہ اس کے مشابہ تھی لیکن ویسی نہ تھی . [بزار:2353:ضعیف] اس کے ایک راوی فضل رقاشی ضعیف ہیں اور بہت ہی ضعیف ہیں .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔
یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔
صفحہ نمبر2082
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتابیں نازل فرمائی ہیں اور اپنے رسول بھیجے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے اوامر و نواہی کی تعلیم دلوائی یہ اس لیے کہ کسی کو کوئی حجت یا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» [20-طه:134] ” یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ “
اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [28-القصص:47]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ [صحیح بخاری:4637] دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ [صحیح مسلم:2760]
صفحہ نمبر2083
النساء 4:165
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نہیں مانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔“ اس پر یہ آیتیں اتریں،
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» [4-النساء:153-156] تک اتری .
اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» [6-الأنعام:91] الخ، نازل فرمائی .
لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153]
موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2073
پھر فرماتا ہے اس آیت یعنی مکی سورت کی آیت سے پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں بھی ہوا۔ جن انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن کے الفاظ میں آ گئے ہیں وہ یہ ہیں،: آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، یوشع، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، اور بقول اکثر مفسرین ذوالکفل اور ایوب اور الیاس علیہم السلام اور ان سب کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔
اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً]
اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً]
صفحہ نمبر2074
ایک اور حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی بھیجے ہیں، چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی اور لوگوں کی طرف۔ [مسند ابویعلیٰ:4132:ضعیف جداً] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں رنبری اور ان کے استاد رقاشی دونوں ضعیف ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً]
اور حدیث میں ہے میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً]
یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“
صفحہ نمبر2075
میں نے پوچھا ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”برائیوں کو چھوڑ دینا“ میں نے پوچھا کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا: ”لمبے قنوت والی“ میں نے کہا کون سا روزہ افضل ہے؟ فرمایا: ”فرض کفایت کرنے والا ہے اور اللہ کے پاس بہت بڑھا چڑھا ثواب ہے“ میں نے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے؟ ”فرمایا: جس کا گھوڑا بھی کاٹ دیا جائے اور خود اس کا بھی خون بہا دیا جائے۔“ میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“
صفحہ نمبر2076
پھر آپ نے فرمایا: سنو چار تو سریانی ہیں، آدم، شیث، خنوخ علیہم السلام اور یہی ادریس علیہ السلام ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا اور نوح اور چار عربی ہیں ہود، شعیب، صالح علیہم السلام اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔ اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔ عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے،
صفحہ نمبر2077
میں نے پوچھا: موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: وہ عبرت دلانے والی تحریروں کا مجموعہ تھے، مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر بھی غافل ہے، تقدیر کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مال دولت کے لیے پاگل ہو رہا ہے، ہائے وائے میں پڑا ہوا ہے، دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر بھی اسی کو سب کچھ سمجھتا رہے، قیامت کے دن حساب کو جانتا ہے پھر بےعمل ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» [87-الأعلى:19-14] میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے، فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔
صفحہ نمبر2078
میں نے کہا: کچھ اور بھی فرما دیجئیے فرمایا: اپنے سے نیچے درجے کے لوگوں کو دیکھا کر اور اپنے سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر نظریں نہ ڈالو، اس سے تمہارے دل میں اللہ کی نعمتوں کی عظمت پیدا ہو گی۔ میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ [مسند احمد:79/3:ضعیف]
صفحہ نمبر2079
ایک حدیث میں ہے ایک لاکھ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں بلکہ زیادہ کا۔ پھر فرمایا ہے موسیٰ سے خود اللہ نے صاف طور پر کلام کیا۔ یہ ان کی خاص صفت ہے کہ وہ کلیم اللہ تھے، ایک شخص ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک شخص اس جملہ کو یوں پڑھتا ہے «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ” یعنی موسیٰ نے اللہ سے بات کی ہے “
اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» [4-النساء:164] [طبرانی اوسط:8603:ضعیف]
غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔ کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» [7-الأعراف:143] ” یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا “ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔
صفحہ نمبر2080
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کا کسی صاف پتھر پر چلنا بھی دیکھ لیتے تھے۔ [مجمع الزوائد:373/8:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں اور جب موقوفاً بقول سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ثابت ہو جائے تو بہت ٹھیک ہے۔
مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔
صفحہ نمبر2081
بنو اسرائیل نے آپ سے جب کلام زبانی کی صفت پوچھی آپ نے فرمایا ”میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا“ انہوں نے کہا کچھ تشبیہ تو بیان کرو، آپ نے فرمایا تم نے کڑاکے کی آواز سنی ہو گی، وہ اس کے مشابہ تھی لیکن ویسی نہ تھی . [بزار:2353:ضعیف] اس کے ایک راوی فضل رقاشی ضعیف ہیں اور بہت ہی ضعیف ہیں .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔
یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔
صفحہ نمبر2082
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتابیں نازل فرمائی ہیں اور اپنے رسول بھیجے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے اوامر و نواہی کی تعلیم دلوائی یہ اس لیے کہ کسی کو کوئی حجت یا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» [20-طه:134] ” یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ “
اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [28-القصص:47]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ [صحیح بخاری:4637] دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ [صحیح مسلم:2760]
صفحہ نمبر2083
النساء 4:166
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭
چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت:42] ” اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ “
اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» [2-البقرة:255] [ 2۔ البقرہ: 255 ] اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]
عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔
صفحہ نمبر2086
یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف]
پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
صفحہ نمبر2087
النساء 4:167
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭
چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت:42] ” اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ “
اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» [2-البقرة:255] [ 2۔ البقرہ: 255 ] اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]
عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔
صفحہ نمبر2086
یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف]
پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
صفحہ نمبر2087
النساء 4:168
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭
چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت:42] ” اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ “
اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» [2-البقرة:255] [ 2۔ البقرہ: 255 ] اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]
عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔
صفحہ نمبر2086
یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف]
پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
صفحہ نمبر2087
النساء 4:169
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭
چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت:42] ” اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ “
اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» [2-البقرة:255] [ 2۔ البقرہ: 255 ] اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]
عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔
صفحہ نمبر2086
یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف]
پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
صفحہ نمبر2087
النساء 4:170
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭
چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت:42] ” اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ “
اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» [2-البقرة:255] [ 2۔ البقرہ: 255 ] اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]
عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔
صفحہ نمبر2086
یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف]
پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
صفحہ نمبر2087
النساء 4:171
اپنی اوقات میں رہو حد سے تجاوز نہ کرو! ٭٭
اہل کتاب کو زیادتی سے اور حد سے آگے بڑھ جانے سے اللہ تعالیٰ روک رہا ہے۔ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حد سے نکل گئے تھے اور نبوت سے بڑھا کر الوہیت تک پہنچا رہے تھے۔ بجائے ان کی اطاعت کرنے کے عبادت کرنے لگے تھے، بلکہ اور بزرگان دین کی نسبت بھی ان کا عقیدہ خراب ہو چکا تھا، وہ انہیں بھی جو عیسائی دین کے عالم اور عامل تھے معصوم محض جاننے لگ گئے تھے۔
اور یہ خیال کر لیا تھا کہ جو کچھ یہ ائمہ دین کہہ دیں اس کا ماننا ہمارے لیے ضروری ہے، سچ و جھوٹ، حق و باطل، ہدایت و ضلالت کے پرکھنے کا کوئی حق ہمیں حاصل نہیں۔ جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے آیت «اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ» [9-التوبة:31]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تم ایسا نہ بڑھانا جیسا نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بڑھایا، میں تو صرف ایک بندہ ہوں پس تم مجھے عبداللہ اور رسول اللہ کہنا۔ [صحیح بخاری:3445] یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے
اسی کی سند ایک حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار اور سردار کے لڑکے، اے ہم سب سے بہتر اور بہتر کے لڑکے! تو آپ نے فرمایا ”لوگو اپنی بات کا خود خیال کر لیا کرو تمہیں شیطان بہکا نہ دے، میں محمد بن عبداللہ ہوں، میں اللہ کا غلام اور اس کا رسول ہوں، قسم اللہ کی میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے مرتبے سے بڑھا دو۔“ [سنن نسائی:10078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2092
پھر فرماتا ہے اللہ پر افتراء نہ باندھو، اس سے بیوی اور اولاد کو منسوب نہ کرو، اللہ اس سے پاک ہے، اس سے دور ہے، اس سے بلند و بالا ہے، اس کی بڑائی اور عزت میں کوئی اس کا شریک نہیں، اس کے سوا نہ تو کوئی معبود اور نہ رب ہے۔ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام رسول اللہ ہیں، وہ اللہ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہیں اور اس کی مخلوق ہیں، وہ صرف کلمہ کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1123/4]
جس کلمہ کو لے کر جبرائیل علیہ السلام مریم صدیقہ علیہا السلام کے پاس گئے اور اللہ کی اجازت سے اسے ان میں پھونک دیا پس عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ چونکہ محض اسی کلمہ سے بغیر باپ کے آپ پیدا ہوئے، اس لیے خصوصیت سے کلمتہ اللہ کہا گیا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے آیت «مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ» [5-المائدة:75] ” یعنی مسیح بن مریم صرف رسول اللہ ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں “ ان کی والدہ سچی ہیں، یہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔
اور آیت میں ہے «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [3-آل عمران:59] ” عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گیا۔ “
صفحہ نمبر2093
قرآن کریم اور جگہ فرماتا ہے آیت «وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَآ اٰيَةً لِّـلْعٰلَمِيْنَ» [21-الأنبياء:91] ” جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اپنی روح پھونکی اور خود اسے اور اس کے بچے کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کی علامت بنایا۔ “
اور جگہ فرمایا آیت «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ» [66-التحريم:12]
عیسیٰ کی بابت ایک اور آیت میں ہے آیت «اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ» [43-الزخرف:59] [ 43۔ الزخرف: 59 ] ، ” وہ ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا۔ “ پس یہ مطلب نہیں کہ خود کلمتہ الٰہی عیسیٰ علیہ السلام بن گیا بلکہ کلمہ الٰہی سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے آیت «اذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ» [3-آل عمران:45] کی تفسیر میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ مراد ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ جو جبرائیل علیہ السلام کی معرفت پھونکا گیا، اس سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
صفحہ نمبر2094
صحیح بخاری میں ہے جس نے بھی اللہ کے ایک اور لا شریک ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی عیسیٰ علیہ السلام کے عبد و رسول ہونے اور یہ کہ آپ اللہ کے کلمہ سے تھے جو مریم رضی اللہ عنہا کی طرف پھونکا گیا تھا اور اللہ کی پھونکی ہوئی روح تھے اور جس نے جنت دوزخ کو برحق مانا وہ خواہ کیسے ہی اعمال پر ہو، اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے۔ [صحیح بخاری:3435]
ایک روایت میں اتنی زیادہ بھی ہے کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3435] جیسے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کو آیت و حدیث میں «روح منہ» کہا ہے ایسے ہی قرآن کی ایک آیت میں ہے آیت «وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ» [45-الجاثية:13] ” اس نے مسخر کیا تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، تمام کا تمام اپنی طرف سے۔ “ یعنی اپنی مخلوق اور اپنے پاس سے یہ مطلب «روح منہ» کا ہے۔
پس لفظ «من تبعیض» (اس کا حصہ) کے لیے نہیں جیسے ملعون نصرانیوں کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا ایک جزو تھے بلکہ «من» ابتداء کے لیے ہے۔
جیسے کہ دوسری آیت میں ہے «مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ» [5-المائدة:75] ، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «روح منہ» سے مراد «رسول منہ» ہے۔
اور لوگ کہتے ہیں آیت «محبتہ منہ» لیکن زیادہ قوی پہلا قول ہے یعنی آپ پیدا کئے گئے ہیں، روح سے جو خود اللہ کی مخلوق ہے۔ پس آپ کو روح اللہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے «ناقتہ اللہ» اور «بت اللہ» کہا گیا ہے یعنی صرف اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اپنی طرف نسبت کی اور حدیث میں بھی ہے کہ ”میں اپنے رب کے پاس اس کے گھر میں جاؤں گا۔“
صفحہ نمبر2095
پھر فرماتا ہے تم اس کا یقین کر لو کہ اللہ واحد ہے بیوی بچوں سے پاک ہے اور یقین مان لو کہ جناب عیسیٰ اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق اور اس کے برگزیدہ رسول ہیں۔ تم تین نہ کہو یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اللہ کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے۔ سورۃ المائدہ میں فرمایا آیت «لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ» [5-المائدة:73] ” یعنی جو کہتے ہیں کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے وہ کافر ہو گئے، اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں۔ “
سورۃ المائدہ کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہو گا کہ «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ» [5-المائدة:116] ” اپنی اور اپنی والدہ کی عبادت کا حکم لوگوں کو تم نے دیا تھا، آپ صاف طور پر انکار کر دیں گے۔ “
نصرانیوں کا اس بارے میں کوئی اصول ہی نہیں ہے، وہ بری طرح بھٹک رہے ہیں اور اپنے آپ کو برباد کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض تو عیسیٰ کو خود اللہ مانتے ہیں، بعض شریک الہیہ مانتے اور بعض اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر دس نصرانی جمع ہوں تو ان کے خیالات گیارہ ہوں گے۔ سعید بن بطریق اسکندری جو سن 400 ھ کے قریب گذرا ہے اس نے اور بعض ان کے اور بڑے علماء نے ذکر کیا ہے کہ قسطنطین بانی قسطنطنیہ کے زمانے میں اس وقت کے نصرانیوں کا اس بادشاہ کے حکم سے اجتماع ہوا، جس میں دو ہزار سے زیادہ ان کے مذہبی پیشوا شامل ہوتے تھے، باہم ان کے اختلاف کا یہ حال تھا کہ کسی بات پر ستر اسی آدمیوں کا اتفاق مفقود تھا، دس کا عقیدہ ایک ہے، بیس کا ایک خیال ہے، چالیس اور ہی کچھ کہتے ہیں، ساٹھ اور طرف جا رہے ہیں، غرض ہزار ہا کی تعداد میں سے بہ مشکل تمام تین سو اٹھارہ آدمی ایک قول پر جمع ہوئے۔
صفحہ نمبر2096
بادشاہ نے اسی عقیدہ کو لے لیا، باقی کو چھوڑ دیا اور اسی کی تائید و نصرت کی اور ان کے لیے کلیساء اور گرجے بنا دئے اور کتابیں لکھوا دیں، قوانین ضبط کر دئے، یہیں انہوں نے امانت کبریٰ کا مسئلہ گھڑا، جو دراصل بدترین خیانت ہے، ان لوگوں کو ملکانیہ کہتے ہیں۔
پھر دوبارہ ان کا اجتماع ہوا، اس وقت جو فرقہ بنا اس کا نام یعقوبیہ ہے۔ پھر تیسری مرتبہ کے اجتماع میں جو فرقہ بنا اس کا نام نسطوریہ ہے، یہ تینوں فرقے اقالیم ثلثہ کو عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ثابت کرتے ہیں، ان میں بھی باہم دیگر اختلاف ہے اور ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو تینوں کافر ہیں۔ اللہ فرماتا ہے اس شرک سے باز آؤ، باز رہنا ہی تمہارے لیے اچھا ہے، اللہ تو ایک ہی ہے، وہ توحید والا ہے، اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ تمام چیزیں اس کی مخلوق ہیں اور اس کی ملکیت میں ہیں، سب اس کی غلامی میں ہیں اور سب اس کے قبضے میں ہیں، وہ ہرچیز پر وکیل ہے، پھر مخلوق میں سے کوئی اس کی بیوی اور کوئی اس کا بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسری آیت میں ہے آیت «بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» [6-الأنعام:101] ” یعنی وہ تو آسمان و زمین کی ابتدائی آفرنیش کرنے والا ہے، اس کا لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟“ “
سورۃ مریم میں آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» (٨٨) «لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» (٨٩) «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» (٩٠) «أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» (٩١) «وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا» (٩٢) «إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» (٩٣) «لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» (٩٤) «وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] تک بھی اس کا مفصلاً انکار فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر2097
النساء 4:172
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں۔ لیکن دراصل اس کا کوئی ثبوت اس آیت میں نہیں، اس لیے یہاں ملائکہ کا عطف مسیح علیہ السلام پر ہے اور استنکاف کا معنی رکنے کے ہیں اور فرشتوں میں یہ قدرت بہ نسبت مسیح علیہ السلام کے زیادہ ہے۔
اس لیے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں، پھر ان کی پوجا کیسی؟ جیسے اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:26-29] ۔
اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے، منہ موڑے اور بغاوت کرے، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی۔
صفحہ نمبر2098
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ اجر تو یہ ہے کہ جنت میں پہنچا دیا اور زیادہ فضل یہ ہے کہ جو لوگ قابل دوزخ ہوں، انہیں بھی ان کی شفاعت نصیب ہو گی، جن سے انہوں نے بھلائی اور اچھائی کی تھی [طبرانی کبیر:10462:ضعیف] لیکن اس کی سند ثابت شدہ نہیں، ہاں اگر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر ہی اسے روایت کیا جائے تو ٹھیک ہے۔
پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ” جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ” یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بے بس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
صفحہ نمبر2099
النساء 4:173
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں۔ لیکن دراصل اس کا کوئی ثبوت اس آیت میں نہیں، اس لیے یہاں ملائکہ کا عطف مسیح علیہ السلام پر ہے اور استنکاف کا معنی رکنے کے ہیں اور فرشتوں میں یہ قدرت بہ نسبت مسیح علیہ السلام کے زیادہ ہے۔
اس لیے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں، پھر ان کی پوجا کیسی؟ جیسے اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:26-29] ۔
اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے، منہ موڑے اور بغاوت کرے، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی۔
صفحہ نمبر2098
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ اجر تو یہ ہے کہ جنت میں پہنچا دیا اور زیادہ فضل یہ ہے کہ جو لوگ قابل دوزخ ہوں، انہیں بھی ان کی شفاعت نصیب ہو گی، جن سے انہوں نے بھلائی اور اچھائی کی تھی [طبرانی کبیر:10462:ضعیف] لیکن اس کی سند ثابت شدہ نہیں، ہاں اگر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر ہی اسے روایت کیا جائے تو ٹھیک ہے۔
پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ” جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ” یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بے بس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
صفحہ نمبر2099
النساء 4:174
قرآن مجید اللہ تعالٰی کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی چیز، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان (دلیل) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور، صاف روشنی، پورا اجالا اتار دیا ہے، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے۔
ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔ شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2101
النساء 4:175
قرآن مجید اللہ تعالٰی کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی چیز، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان (دلیل) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور، صاف روشنی، پورا اجالا اتار دیا ہے، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے۔
ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔ شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2101
النساء 4:176
عصبہ اور کلالہ کی وضاحت! مسائل وراثت ٭٭
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورتوں میں سب سے آخری سورت سورۃ برأت اتری ہے اور آیتوں میں سب سے آخری آیت «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ» [4-النساء:176] اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4605]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں بیماری کے سبب بیہوش پڑا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ نے وضو کیا اور وہی پانی مجھ پر ڈالا، جس سے مجھے افاقہ ہوا اور میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وارثوں کے لحاظ سے میں کلالہ ہوں، میری میراث کیسے بٹے گی؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت فرائض نازل فرمائی۔ [صحیح بخاری:6723]
صفحہ نمبر2103
اور روایت میں بھی اسی آیت کا اترنا آیا ہے۔ [صحیح مسلم:1616] پس اللہ فرماتا ہے کہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں یعنی کلالہ کے بارے میں۔ پہلے یہ بیان گذر چکا ہے کہ لفظ کلالہ اکیل سے ماخوذ ہے جو کہ سر کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ اکثر علماء نے کہا ہے کہ کلالہ وہ ہے جس میت کے لڑکے پوتے نہ ہوں اور بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جس کے لڑکے نہ ہوں، جیسے کہا آیت میں ہے آیت «لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ»
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے جو مشکل مسائل آئے تھے، ان میں ایک یہ مسئلہ بھی تھا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے فرمایا تین چیزوں کی نسبت میری تمنا رہ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں ہماری طرف کوئی ایسا عہد کرتے کہ ہم اسی کی طرف رجوع کرتے دادا کی میراث، کلالہ اور سود کے ابواب۔ [صحیح بخاری:3032]
اور روایت میں ہے، آپ فرماتے ہیں کہ کلالہ کے بارے میں میں نے جس قدر سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے، اتنے کسی اور مسئلہ میں نہیں کئے یہاں تک کہ آپ نے اپنی انگلی سے میرے سینے میں کچوکا لگا کر فرمایا کہ تجھے گرمیوں کی وہ آیت کافی ہے، جو سورۃ نساء کے آخر میں ہے۔ [صحیح مسلم:1617]
صفحہ نمبر2104
اور حدیث میں ہے اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید اطمینان کر لیا ہوتا تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں کے ملنے سے زیادہ بہتر تھا ۔ [مسند احمد:38/1:منقطع و ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت موسم گرما میں نازل ہوئی ہو گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سمجھنے کی طرف رہنمائی کی تھی اور اسی کو مسئلہ کا کافی حل بتایا تھا، لہٰذا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس کے معنی پوچھنے بھول گئے، جس پر اظہار افسوس کر رہے ہیں۔
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا پس فرمایا ”کیا اللہ نے اسے بیان نہیں فرمایا۔ پس یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10870:منقطع و ضعیف]
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے خطبے میں فرماتے ہیں جو آیت سورۃ نساء کے شروع میں فرائض کے بارے میں ہے، وہ ولد و والد کے لیے ہے اور دوسری آیت میاں بیوی کے لیے ہے اور ماں زاد بہنوں کے لیے اور جس آیت سے سورۃ نساء کو ختم کیا ہے وہ سگے بہن بھائیوں کے بارے میں ہے جو رحمی رشتہ عصبہ میں شمار ہوتا ہے (ابن جریر)
اس آیت کے معنی «هَلَكَ» کے معنی ہیں مر گیا، جیسے فرمان ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ» [28-القصص:88] ” یعنی ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے ذات الٰہی کے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ “
جیسے اور آیت میں فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55-الرحمن:26-27] ” یعنی ہر ایک جو اس پر ہے فانی یہ اور تیرے رب کا چہرہ ہی باقی رہے گا جو جلال و اکرام والا ہے۔“
صفحہ نمبر2105
پھر فرمایا اس کا ولد نہ ہو، اس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ کلالہ کی شرط میں باپ کا نہ ہونا نہیں بلکہ جس کی اولاد نہ ہو وہ کلالہ ہے، بروایت ابن جریر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن صحیح قول جمہور کا ہے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ کلالہ وہ ہے جس کا نہ ولد ہو، نہ والد اور اس کی دلیل آیت میں اس کے بعد کے الفاظ سے بھی ثابت ہوتی ہے جو فرمایا آیت «وَّلَهٗٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ» [4-النساء:176] ” یعنی اس کی بہن ہو تو اس کے لیے کل چھوڑے ہوئے، مال کا آدھوں آدھ ہے۔ “
اور اگر بہن باپ کے ساتھ ہو تو باپ اسے ورثہ پانے سے روک دیتا ہے اور اسے کچھ بھی اجماعاً نہیں ملتا، پس ثابت ہوا کہ کلالہ وہ ہے جس کا ولد نہ ہو جو نص سے ثابت ہے اور باپ بھی نہ ہو یہ بھی نص سے ثابت ہوتا ہے لیکن قدرے غور کے بعد، اس لیے کہ بہن کا نصف حصہ باپ کی موجودگی میں ہوتا ہی نہیں بلکہ وہ ورثے سے محروم ہوتی ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا جاتا ہے کہ ایک عورت مر گئی ہے اس کا خاوند ہے اور ایک سگی بہن ہے تو آپ نے فرمایا آدھا بہن کو دے دو اور آدھا خاوند کو جب آپ سے اس کی دلیل پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا [مسند احمد:188/5:ضعیف]
صفحہ نمبر2106
سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے ابن جریر میں منقول ہے کہ ان دونوں کا فتویٰ اس میت کے بارے میں جو ایک لڑکی اور ایک بہن چھوڑ جائے، یہ تھا کہ اس صورت میں بہن محروم رہے گی، اسے کچھ بھی نہ ملے گا، اسی لیے کہ قرآن کی اس آیت میں بہن کو آدھا ملنے کی صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ میت کی اولاد نہ ہو اور یہاں اولاد ہے۔ لیکن جمہور ان کے خلاف ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی آدھا لڑکی کو ملے گا اور بہ سبب فرض اور عصبہ آدھا بہن کو بھی ملے گا۔
ابراہیم اسود کہتے ہیں ہم میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فیصلہ کیا کہ آدھا لڑکی کا اور آدھا بہن کا۔ [صحیح بخاری:6741]
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے لڑکی اور پوتی اور بہن کے بارے میں فتویٰ دیا کہ آدھا لڑکی کو اور آدھا بہن کو پھر فرمایا ذرا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ہو آؤ وہ بھی میری موافقت ہی کریں گے۔ لیکن جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بھی انہیں سنایا گیا تو آپ نے فرمایا ان سے اتفاق کی صورت میں گمراہ ہو جاؤں گا اور راہ یافتہ لوگوں میں میرا شمار نہیں رہے گا، سنو میں اس بارے میں وہ فیصلہ کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے آدھا تو بیٹی کو اور چھٹا حصہ پوتی کو تو دو ثلث پورے ہو گئے اور جو باقی بچا وہ بہن کو۔ ہم پھر واپس آئے اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی تو آپ نے فرمایا جب تک یہ علامہ تم میں موجود ہیں، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔ [صحیح بخاری:6736]
صفحہ نمبر2107
پھر فرمان ہے کہ یہ اس کا وارث ہو گا اگر اس کی اولاد نہ ہو، یعنی بھائی اپنی بہن کے کل مال کا وارث ہے جبکہ وہ کلالہ مرے یعنی اس کی اولاد اور باپ نہ ہو، اس لیے کہ باپ کی موجودگی میں تو بھائی کو ورثے میں سے کچھ بھی نہ ملے گا۔
ہاں اگر بھائی کے ساتھ ہی اور کوئی مقررہ حصے والا اور وارث ہو جیسے خاوند یا ماں جایا بھائی تو اسے اس کا حصہ دے دیا جائے گا اور باقی کا وارث بھائی ہو گا۔ صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرائض کو ان کے اہل سے ملا دو، پھر جو باقی بچے وہ اس مرد کا ہے جو سب سے زیادہ قریب ہو۔ [صحیح بخاری:6732]
پھر فرماتا ہے اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں مال متروکہ کے دو ثلث ملیں گے۔ یہی حکم دو سے زیادہ بہنوں کا بھی ہے، یہیں سے ایک جماعت نے دو بیٹیوں کا حکم لیا ہے۔ جیسے کہ دو سے زیادہ بہنوں کا حکم لڑکیوں کے حکم سے لیا ہے جس آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت «فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ» [4-النساء:11]
پھر فرماتا ہے اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو ہر مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، یہی حکم عصبات کا ہے خواہ لڑکے ہوں یا پوتے ہوں یا بھائی ہوں، جب کہ ان میں مرد و عورت دونوں موجود ہوں۔ تو جتنا دو عورتوں کو ملے گا اتنا ایک مرد کو۔
صفحہ نمبر2108
اللہ اپنے فرائض بیان فرما رہا ہے، اپنی حدیں مقرر کر رہا ہے، اپنی شریعت واضح کر رہا ہے۔ تاکہ تم بہک نہ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کے انجام سے واقف اور ہر مصلحت سے دانا، بندوں کی بھلائی برائی کا جاننے والا، مستحق کے استحقاق کو پہچاننے والا ہے۔
ابن جریر کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کا سر رسول اللہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے صحابی کے کجاوے کے پاس تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سواری کا سر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی سواری کے دوسرے سوار کے پاس تھا جو یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سنائی اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو۔ اس کے بعد پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس کے بارے میں سوال کیا تو کہا واللہ تم بے سمجھ ہو، اس لیے کہ جیسے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنائی ویسے ہی میں نے آپ کو سنا دی، واللہ میں تو اس پر کوئی زیادتی نہیں کر سکتا۔ پس سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے الٰہی اگرچہ تو نے ظاہر کر دیا ہو مگر مجھ پر تو کھلا نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10878:منقطع]
لیکن یہ روایت منقطع ہے اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ یہ سوال اپنی خلافت کے زمانے میں کیا تھا [مسند بزار:2206]
اور حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ کلالہ کا ورثہ کس طرح تقسیم ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لیکن چونکہ کی پوری تشفی نہ ہوئی تھی، اس لیے اپنی صاحبزادی زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی میں ہوں تو تم پوچھ لینا۔
صفحہ نمبر2109
چنانچہ حفصہ نے ایک روز ایسا ہی موقعہ پا کر دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تیرے باپ نے تجھے اس کے پوچھنے کی ہدایت کی ہے میرا خیال ہے کہ وہ اسے معلوم نہ کر سکیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما دیا تو بس میں اب اسے جان ہی نہیں سکتا۔ (مرسل)
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر جب حفصہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنگھے پر یہ آیت لکھوائی، پھر فرمایا کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے اس کے پوچھنے کو کہا تھا؟ میرا خیال ہے کہ وہ اسے ٹھیک ٹھاک نہ کر سکیں گے۔ کیا انہیں گرمی کی وہ آیت جو سورۃ نساء میں ہے کافی نہیں؟ وہ آیت «وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً» [4-النساء:12] ہے۔
پھر جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو وہ آیت اتری جو سورۃ نساء کے خاتمہ پر ہے اور کنگھی پھینک دی۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے کنگھے کے ایک ٹکڑے کو لے کر فرمایا میں کلالہ کے بارے میں آج ایسا فیصلہ کر دونگا کہ پردہ نشین عورتوں تک کو معلوم رہے۔
اسی وقت گھر میں سے ایک سانپ نکل آیا اور سب لوگ ادھر ادھر ہو گئے، پس آپ نے فرمایا اگر اللہ عزوجل کا ارادہ اس کام کو پورا کرنے کا ہوتا تو اسے پورا کر لینے دیتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10886:موقوف] اس کی اسناد صحیح ہے۔
صفحہ نمبر2110
مستدرک حاکم میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کاش میں تین مسئلے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیتا تو مجھے سرخ اونٹوں کے لینے سے بھی زیادہ محبوب ہوتا۔ ایک تو یہ کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہو گا؟ دوسرے یہ کہ جو لوگ زکوٰۃ کے ایک تو قائل ہوں لیکن کہیں کہ ہم تجھے ادا نہیں کریں گے ان سے لڑنا حلال ہے یا نہیں؟ تیسرے کلالہ کے بارے میں۔ [مستدرک حاکم:303/2:ضعیف و منقطع] ایک اور حدیث میں بجائے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے سودی مسائل کا بیان ہے۔ [مستدرک حاکم:304/2:موقوف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آخری وقت میں میں نے آپ سے سنا فرماتے تھے قول وہی ہے جو میں نے کہا، تو میں نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا یہ کہ کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ وہ۔ ایک اور روایت میں ہے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان کلالہ کے بارے میں اختلاف ہوا اور بات وہی تھی جو میں کہتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سگے بھائیوں اور ماں زاد بھائیوں کو جبکہ وہ جمع ہوں، ثلث میں شریک کیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے خلاف تھے۔ ابن جریر میں ہے کہ خلیفتہ المؤمنین سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک رقعہ پر دادا کے ورثے اور کلالہ کے بارے میں کچھ لکھا پھر استخارہ کیا اور ٹھہرے رہے اور اللہ سے دعا کی کہ پروردگار اگر تیرے علم میں اس میں بہتری ہے تو تو اسے جاری کر دے پھر جب آپ کو زخم لگایا گیا تو آپ نے اس رقعہ کو منگوا کر مٹا دیا اور کسی کو علم نہ ہوا کہ اس میں کیا تحریر تھا پھر خود فرمایا کہ میں نے اس میں دادا کا اور کلالہ کا لکھا تھا اور میں نے استخارہ کیا تھا۔
صفحہ نمبر2111
پھر میرا خیال یہی ہوا کہ تمہیں اسی پر چھوڑ دوں جس پر تم ہو۔
ابن جریر میں ہے میں اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف کرتے ہوئے شرماتا ہوں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فرمان تھا کہ کلالہ وہ ہے جس کا ولد و والد نہ ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/9]
اور اسی پر جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم اور ائمہ دین ہیں اور یہی چاروں اماموں اور ساتوں فقہاء کا مذہب ہے اور اسی پر قرآن کریم کی دلالت ہے جیسے کہ باری تعالیٰ عزاسمہ نے اسے واضح کر کے فرمایا اللہ تمہارے لیے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
الحمدللہ سورہ نساء کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
صفحہ نمبر2112