Tafsir Ibn Kathir — المائدة 5:97 – الأنعام 6:64
Contents
- المائدة 5:97
- المائدة 5:98
- المائدة 5:99
- المائدة 5:100
- المائدة 5:101
- المائدة 5:102
- المائدة 5:103
- المائدة 5:104
- المائدة 5:105
- المائدة 5:106
- المائدة 5:107
- المائدة 5:108
- المائدة 5:109
- المائدة 5:110
- المائدة 5:111
- المائدة 5:112
- المائدة 5:113
- المائدة 5:114
- المائدة 5:115
- المائدة 5:116
- المائدة 5:117
- المائدة 5:118
- المائدة 5:119
- المائدة 5:120
- الأنعام 6:1
- الأنعام 6:2
- الأنعام 6:3
- الأنعام 6:4
- الأنعام 6:5
- الأنعام 6:6
- الأنعام 6:7
- الأنعام 6:8
- الأنعام 6:9
- الأنعام 6:10
- الأنعام 6:11
- الأنعام 6:12
- الأنعام 6:13
- الأنعام 6:14
- الأنعام 6:15
- الأنعام 6:16
- الأنعام 6:17
- الأنعام 6:18
- الأنعام 6:19
- الأنعام 6:20
- الأنعام 6:21
- الأنعام 6:22
- الأنعام 6:23
- الأنعام 6:24
- الأنعام 6:25
- الأنعام 6:26
- الأنعام 6:27
- الأنعام 6:28
- الأنعام 6:29
- الأنعام 6:30
- الأنعام 6:31
- الأنعام 6:32
- الأنعام 6:33
- الأنعام 6:34
- الأنعام 6:35
- الأنعام 6:36
- الأنعام 6:37
- الأنعام 6:38
- الأنعام 6:39
- الأنعام 6:40
- الأنعام 6:41
- الأنعام 6:42
- الأنعام 6:43
- الأنعام 6:44
- الأنعام 6:45
- الأنعام 6:46
- الأنعام 6:47
- الأنعام 6:48
- الأنعام 6:49
- الأنعام 6:50
- الأنعام 6:51
- الأنعام 6:52
- الأنعام 6:53
- الأنعام 6:54
- الأنعام 6:55
- الأنعام 6:56
- الأنعام 6:57
- الأنعام 6:58
- الأنعام 6:59
- الأنعام 6:60
- الأنعام 6:61
- الأنعام 6:62
- الأنعام 6:63
- الأنعام 6:64
المائدة 5:97
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔“ [ابن ابی حاتم وغیرہ]
آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔“ [ابن جریر] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔
صفحہ نمبر2459
پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔
اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر2460
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935]
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2461
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2462
ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف]
بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔
صفحہ نمبر2463
ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔
مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2464
پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔
عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔
صفحہ نمبر2465
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔
تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824]
صفحہ نمبر2466
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔“ [موطا:354/1:حسن]
صفحہ نمبر2467
المائدة 5:98
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔“ [ابن ابی حاتم وغیرہ]
آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔“ [ابن جریر] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔
صفحہ نمبر2459
پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔
اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر2460
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935]
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2461
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2462
ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف]
بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔
صفحہ نمبر2463
ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔
مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2464
پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔
عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔
صفحہ نمبر2465
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔
تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824]
صفحہ نمبر2466
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔“ [موطا:354/1:حسن]
صفحہ نمبر2467
المائدة 5:99
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔“ [ابن ابی حاتم وغیرہ]
آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔“ [ابن جریر] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔
صفحہ نمبر2459
پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔
اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر2460
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935]
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2461
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2462
ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف]
بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔
صفحہ نمبر2463
ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔
مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2464
پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔
عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔
صفحہ نمبر2465
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔
تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824]
صفحہ نمبر2466
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔“ [موطا:354/1:حسن]
صفحہ نمبر2467
المائدة 5:100
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭
مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن]
ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف]
” اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ “۔
صفحہ نمبر2471
پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ” بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے “۔
صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4621]
بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزافہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی ۔ [صحیح بخاری:6362]
اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔“ [صحیح بخاری:7294]
صفحہ نمبر2472
ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا ، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805]
بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4622]
مسند احمد میں ہے کہ جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] نازل ہوئی یعنی ” صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے “، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔
صفحہ نمبر2473
ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف]
دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف]
ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ۔ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2474
پھر فرماتا ہے کہ ” جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا “۔
مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:7289]
یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے ۔ [صحیح بخاری:7288]
اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو ۔ [دارقطنی:183/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2475
پھر فرماتا ہے ” ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ ۔
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف]
بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔
صفحہ نمبر2476
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الإسراء:59] یعنی ” معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111-109] ” بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم “۔
صفحہ نمبر2477
المائدة 5:101
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭
مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن]
ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف]
” اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ “۔
صفحہ نمبر2471
پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ” بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے “۔
صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4621]
بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزافہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی ۔ [صحیح بخاری:6362]
اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔“ [صحیح بخاری:7294]
صفحہ نمبر2472
ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا ، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805]
بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4622]
مسند احمد میں ہے کہ جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] نازل ہوئی یعنی ” صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے “، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔
صفحہ نمبر2473
ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف]
دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف]
ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ۔ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2474
پھر فرماتا ہے کہ ” جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا “۔
مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:7289]
یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے ۔ [صحیح بخاری:7288]
اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو ۔ [دارقطنی:183/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2475
پھر فرماتا ہے ” ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ ۔
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف]
بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔
صفحہ نمبر2476
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الإسراء:59] یعنی ” معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111-109] ” بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم “۔
صفحہ نمبر2477
المائدة 5:102
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭
مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن]
ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف]
” اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ “۔
صفحہ نمبر2471
پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ” بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے “۔
صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4621]
بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزافہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی ۔ [صحیح بخاری:6362]
اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔“ [صحیح بخاری:7294]
صفحہ نمبر2472
ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا ، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805]
بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4622]
مسند احمد میں ہے کہ جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] نازل ہوئی یعنی ” صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے “، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔
صفحہ نمبر2473
ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف]
دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف]
ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ۔ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2474
پھر فرماتا ہے کہ ” جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا “۔
مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:7289]
یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے ۔ [صحیح بخاری:7288]
اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو ۔ [دارقطنی:183/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2475
پھر فرماتا ہے ” ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ ۔
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف]
بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔
صفحہ نمبر2476
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الإسراء:59] یعنی ” معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111-109] ” بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم “۔
صفحہ نمبر2477
المائدة 5:103
بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام؟ ٭٭
صحیح بخاری شریف میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ «بَحِيرَةٍ» اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے اسے کوئی دو ہتا نہ تھا «سَائِبَةٍ» ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ «وَصِيلَةٍ» وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ «حَامٍ» اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4623]
ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ۔ [صحیح بخاری:4624]
ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون رضی اللہ عنہ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جیسا ہے اس پر اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے؟ آپ نے فرمایا نہیں بے فکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12820:صحیح]
صفحہ نمبر2480
ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو اونٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کر دیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کر دیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں ۔
یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت «وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاىِٕنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَاىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاىِٕهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» [6-الأنعام:136] میں ہے۔
صفحہ نمبر2481
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد رحمة الله سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق رحمة الله کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لیے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہو جاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کر دیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بیحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کر دیا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق رحمة الله فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھا لیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہو جائیں یہ بھی مروی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہو جائے اسے وہ آزاد کر دیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اور اقوال بھی ہیں۔
صفحہ نمبر2482
حضرت مالک بن نفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تیرے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: کس قسم کا؟ کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند احمد:473/3:صحیح]
بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مر جاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کر دیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کر دیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر فرمان قرآن ہے کہ ” یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باپ دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بے راہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بے عقل ہو۔
صفحہ نمبر2483
المائدة 5:104
بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام؟ ٭٭
صحیح بخاری شریف میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ «بَحِيرَةٍ» اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے اسے کوئی دو ہتا نہ تھا «سَائِبَةٍ» ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ «وَصِيلَةٍ» وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ «حَامٍ» اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4623]
ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ۔ [صحیح بخاری:4624]
ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون رضی اللہ عنہ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جیسا ہے اس پر اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے؟ آپ نے فرمایا نہیں بے فکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12820:صحیح]
صفحہ نمبر2480
ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو اونٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کر دیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کر دیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں ۔
یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت «وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاىِٕنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَاىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاىِٕهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» [6-الأنعام:136] میں ہے۔
صفحہ نمبر2481
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد رحمة الله سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق رحمة الله کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لیے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہو جاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کر دیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بیحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کر دیا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق رحمة الله فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھا لیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہو جائیں یہ بھی مروی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہو جائے اسے وہ آزاد کر دیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اور اقوال بھی ہیں۔
صفحہ نمبر2482
حضرت مالک بن نفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تیرے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: کس قسم کا؟ کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند احمد:473/3:صحیح]
بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مر جاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کر دیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کر دیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر فرمان قرآن ہے کہ ” یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باپ دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بے راہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بے عقل ہو۔
صفحہ نمبر2483
المائدة 5:105
اپنی اصلاح آپ کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں خواہ اجنبی اور دور کے ہوں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ بار نہیں۔ مقاتل رحمة الله سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے بروں کو سزا اچھوں کو جزا۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم اور بری باتوں سے منع بھی نہ کرے، کیونکہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو سنو! میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگ جب بری باتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نہیں روکیں گے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی عام عذاب آ جائے ۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جھوٹ سے بچو جھوٹ ایمان کی ضد ہے [سنن ترمذي:2168،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2485
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم بھلائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرتے رہو یہاں تک کہ بخیلی کی پیروی اور خواہش نفس کی اتباع اور دنیا کی پسندیدگی اور ہر شخص کا اپنی رائے پر پھولنا عام نہ ہو جائے اس وقت تم صرف اپنی اصلاح میں مشغول ہو جاؤ اور عام لوگوں کو چھوڑ دو، یاد رکھو تمہارے پیچھے صبر کے دن آ رہے ہیں اس وقت دین اسلام پر جما رہنے والا ایسا ہوگا جیسے کوئی انگارے کو مٹھی میں لیے ہوئے ہو اس وقت عمل کرنے والے کو مثل پچاس شخصوں کے عمل کا اجر ملے گا جو بھی اچھے اعمال کرے گا ۔
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ مثل پچاس شخصوں کے ان میں سے یا ہم میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے ۔ [سنن ابوداود:4341،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2486
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جب اس آیت کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ وہ وقت نہیں آج تو تمہاری باتیں مان لی جاتی ہیں لیکن ہاں ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ نیک باتیں کہنے اور بھلائی کا حکم کرنے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی اور اس کی بات قبول نہ کی جائے گی اس وقت تم صرف اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جانا۔“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے دو شخصوں میں کچھ جھگڑا ہوگیا اور وہ آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تو ایک نے کہا میں اٹھتا ہوں اور انہیں نیکی کا حکم کرتا ہوں اور برائی سے روکتا ہوں تو دوسرے نے کہا مجھے کیا پڑی؟ تو اپنی اصلاح میں لگا رہ، پھر یہی آیت تلاوت کی اسے سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”چپ رہ اس آیت کے عمل کا یہ وقت نہیں قرآن میں کئی طرح کی آیتیں ہیں بعض تو وہ ہیں جن کے مضامین گزرچکے بعض وہ ہیں جن کے واقعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہو گئے، بعض کے واقعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئے بعض قیامت کے دن ہوں گے مثلاً جنت دوزخ وغیرہ، سنو جب تک تمہارے دل نہ پھٹیں تمہارا مقصود ایک ہی ہو تم میں پھوٹ نہ پڑی ہو تم میں لڑائی دنگے شروع نہ ہوئے ہوں تم اچھی باتوں کی ہدایت کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو۔ ہاں جب دلوں میں جدائی ہو جائے۔ آپس میں اختلاف پڑ جائیں لڑائیاں شروع ہو جائیں اس وقت صرف اپنے تیئس پابند شریعت رکھنا کافی ہے اور وہی وقت ہے اس آیت کے عمل کا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری]
صفحہ نمبر2487
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ان دنوں تو آپ رضی اللہ عنہ اگر اپنی زبان روک لیں تو اچھا ہو آپ رضی اللہ عنہ کو کیا پڑی کوئی کچھ ہی کرے آپ رضی اللہ عنہ نہ کسی کو روکیں نہ کچھ کہیں۔ دیکھئیے قرآن میں بھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” تم اپنے تئیں سنبھا لو گمراہوں کی گمراہی کا وبال تم پر نہیں جبکہ تم خود راہ راست پر ہو “۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ حکم میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے نہیں اس لیے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود لوگوں کو پہنچا دے ۔ پس ہم موجود تھے اور تم غیر موجود تھے۔ یہ آیت تو ان لوگوں کے حق میں ہے جو بعد میں آئیں گے وہ لوگوں کو نیک باتیں کہیں گے لیکن ان کی بات قبول نہ کی جائے گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12855:ضعیف]
صفحہ نمبر2488
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک صاحب آئے بڑے غصیل اور تیز زبان، کہنے لگے سنیئے جناب چھ شخص ہیں سب قرآن پڑھے ہوئے جاننے بوجھنے والے مجہتد سمجھدار لیکن ہر ایک دوسرے کو مشرک بتلاتا ہے، اس نے کہا میں تم سے نہیں پوچھتا میں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کرتا ہوں اور پھر وہی بات دوہرا دی تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”شاید تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے یہ کہہ دوں کہ جا انہیں قتل کر ڈال نہیں میں کہتا ہوں جا انہیں نصیحت کر انہیں برائی سے روک نہ مانیں تو اپنی راہ لگ“، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی۔
خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ابن مازن رحمة الله مدینے میں آتے ہیں یہاں مسلمانوں کا ایک مجمع جمع تھا جس میں سے ایک شخص نے اسی آیت کی تلاوت کی تو اکثر لوگوں نے کہا اس کے عمل کا وقت ابھی تک نہیں آیا۔ جبیر بن نفیر رحمة الله کہتے ہیں میں ایک مجلس میں تھا جس میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین موجود تھے یہی ذکر ہو رہا تھا کہ اچھی باتوں کا حکم کرنا چاہیئے اور بری باتوں سے روکنا چاہیئے میں اس مجلس میں سب سے چھوٹی عمر کا تھا لیکن جرأت کر کے یہ آیت پڑھ دی اور کہا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر مجھے جواب دیا کہ اس کا صحیح مطلب تمہیں معلوم نہیں اور جو مطلب تم لے رہے ہو بالکل غلط ہے مجھے بڑا افسوس ہوا۔ پھر وہ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے جب اٹھنے کا وقت آیا تو مجھ سے فرمایا تم ابھی بچے ہو بے موقعہ آیت پڑھ دیتے ہو اصلی مطلب تک نہیں پہنچتے بہت ممکن ہے کہ تم اس آیت کے زمانے کو پالو یہ حکم اس وقت ہے جب بخیلی کا دور دورہ ہو خواہش پرستی عام ہو ہر شخص اپنی سمجھ پر نازاں ہو اس وقت انسان خود نیکیوں اور بھلائیوں میں مشغول رہے گمراہوں کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ حسن رحمة الله نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”اس پر بھی اللہ کا شکر ہے اگلے اور پچھلے مومنوں کے ساتھ منافق ضرور رہے جو ان کے اعمال سے بیزار ہی رہے۔“
صفحہ نمبر2489
حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب تم نے اچھی بات کی نصیحت کر دی اور بری بات سے روک دیا پھر بھی کسی نے برائیاں کیں نیکیاں چھوڑیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”اس کا وقت وہ ہے جب مسجد دمشق کا کلیسا ڈھا دیا جائے اور تعصب بڑھ جائے۔“
صفحہ نمبر2490
المائدة 5:106
معتبر گواہی کی شرائط ٭٭
بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اثْنَیْنِ» ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کر دیا گیا ہے یعنی «اَنْ یَّشْهَدَ اِثْنَانِ» - «ذَوَاعَدْلٍ» صفت ہے، «مِنْکُمْ» سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، «مِنْ غَیْرِکُمْ» سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ «مِنْکُمْ» سے مراد قبیلہ میں اور «مِنْ غَیْرِکُمْ» سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، شریح سے یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر2491
امام احمد رحمة الله بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں، امام ابوحنیفہ رحمة الله ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں، زہری رحمة الله کا قول ہے کہ سنت جاری ہو چکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، پھر وصیت منسوخ ہو گئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کر دیا، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ؟
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آ جائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کر لے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریررحمة الله نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے۔
صفحہ نمبر2492
” نماز کے بعد ٹھہرا لو “ سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے۔
دنیوی مفاد کی بناء پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے۔ اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار۔
صفحہ نمبر2493
المائدة 5:107
باب
پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔
«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم۔
یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابومریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لیے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تونے لے لیے ہیں وہ بھی واپس کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے ۔ اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن العاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے۔ [سنن ترمذي:3059،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2494
ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکے میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [صحیح بخاری:2780]
ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو مان لیا۔ [سنن ابوداود:3065،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، تمیم بن داری رضی اللہ عنہ کا اسلام سنہ ٩ ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔
صفحہ نمبر2495
سدی رحمة الله فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہو جائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کر دیا جائے۔
اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ” اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے “۔
صفحہ نمبر2496
المائدة 5:108
باب
پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔
«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم۔
یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابومریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لیے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تونے لے لیے ہیں وہ بھی واپس کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے ۔ اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن العاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے۔ [سنن ترمذي:3059،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2494
ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکے میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [صحیح بخاری:2780]
ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو مان لیا۔ [سنن ابوداود:3065،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، تمیم بن داری رضی اللہ عنہ کا اسلام سنہ ٩ ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔
صفحہ نمبر2495
سدی رحمة الله فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہو جائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کر دیا جائے۔
اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ” اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے “۔
صفحہ نمبر2496
المائدة 5:109
روز قیامت انبیاء سے سوال ٭٭
اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ ” رسولوں سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ تمہاری امتوں نے تمہیں مانا یا نہیں؟ “۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ» [7-الأعراف:6] یعنی ” رسولوں سے بھی اور ان کی امتوں سے بھی یہ ضرور دریافت فرمائیں گے “۔
صفحہ نمبر2498
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:93-92] ” تیرے رب کی قسم ہم سب سے ان کے اعمال کا سوال ضرور ضرور کریں گے “۔ رسولوں کا یہ جواب کہ ” ہمیں مطلق علم نہیں “، اس دن کی ہول و دہشت کی وجہ سے ہو گا، گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ جواب بن نہ پڑے گا، یہ وہ وقت ہو گا کہ عقل جاتی رہے گی پھر دوسری منزل میں ہر نبی اپنی اپنی امت پر گواہی دے گا۔
ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سوال کی غرض یہ ہے کہ تمہاری امتوں نے تمہارے بعد کیا کیا عمل کئے اور کیا کیا نئی باتیں نکا لیں؟ تو وہ ان سے اپنی لاعلمی ظاہر کریں گے، یہ معنی بھی درست ہو سکتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا علم نہیں جو اے جناب باری تیرے علم میں نہ ہو۔ حقیقتاً یہ قول بہت ہی درست ہے کہ اللہ کے علم کے مقابلے میں بندے محض بے علم ہیں تقاضائے ادب اور طریقہ گفتگو یہی مناسب مقام ہے، گو انبیاء علیہم السلام جانتے تھے کہ کس کس نے ہماری نبوت کو ہمارے زمانے میں تسلیم کیا لیکن چونکہ وہ ظاہر کے دیکھنے والے تھے اور رب عالم باطن بین ہے اس لیے ان کا یہی جواب بالکل درست ہے کہ ہمیں حقیقی علم مطلقاً نہیں تیرے علم کی نسبت تو ہمارا علم محض لاعلمی ہے حقیقی عالم تو صرف ایک تو ہی ہے۔
صفحہ نمبر2499
المائدة 5:110
عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ٭٭
جناب مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ علیہ السلام کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ علیہ السلام کو بنایا۔ پھر آپ علیہ السلام کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت ان کی طرف بے ہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل علیہ السلام کو اپنے نبی علیہ السلام کی تائید پر مقرر کر دیا۔
بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا۔
صفحہ نمبر2500
مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔ تورات جو کلیم اللہ علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔ آپ علیہ السلام مٹی سے پرند کی صورت بناتے پھر اس میں دم کر دیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورۃ آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ علیہ السلام بلاتے تو وہ بحکم الٰہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آ جاتے۔
ابو ہذیل فرماتے ہیں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورۃ تبارک «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» [67-الملک] اور دوسری میں سورۃ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ» [32-السجدہ] پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اس کے سات نام لیتے جو یہ ہیں «يَا قَدِيمُ، يَا خَفِيُّ، يَا دَائِمُ، يَا فَرْدُ، يَا وَتْرُ، يَا أَحَدُ، يَا صَمَدُ» پھر آپ علیہ السلام کو کوئی سختی پہنچتی تو اللہ تعالیٰ کے سات نام اور لیتے «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ»، «یا اللہُ»، «یا رَّحْمَـٰن» ، «یا رَّحِيم»، «یا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ»، «یا نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ یارَبّ» ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1241/4] یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے۔
” اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو ان کے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا “۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ علیہ السلام سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اس کا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔
صفحہ نمبر2501
پھر اپنا ایک اور احسان بتایا کہ ” میں نے تیرے مددگار اور ساتھی بنا دیئے، حواریوں کے دل میں الہام اور القا کیا “۔
یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔
صفحہ نمبر2502
المائدة 5:111
عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ٭٭
جناب مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ علیہ السلام کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ علیہ السلام کو بنایا۔ پھر آپ علیہ السلام کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت ان کی طرف بے ہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل علیہ السلام کو اپنے نبی علیہ السلام کی تائید پر مقرر کر دیا۔
بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا۔
صفحہ نمبر2500
مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔ تورات جو کلیم اللہ علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔ آپ علیہ السلام مٹی سے پرند کی صورت بناتے پھر اس میں دم کر دیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورۃ آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ علیہ السلام بلاتے تو وہ بحکم الٰہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آ جاتے۔
ابو ہذیل فرماتے ہیں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورۃ تبارک «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» [67-الملک] اور دوسری میں سورۃ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ» [32-السجدہ] پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اس کے سات نام لیتے جو یہ ہیں «يَا قَدِيمُ، يَا خَفِيُّ، يَا دَائِمُ، يَا فَرْدُ، يَا وَتْرُ، يَا أَحَدُ، يَا صَمَدُ» پھر آپ علیہ السلام کو کوئی سختی پہنچتی تو اللہ تعالیٰ کے سات نام اور لیتے «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ»، «یا اللہُ»، «یا رَّحْمَـٰن» ، «یا رَّحِيم»، «یا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ»، «یا نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ یارَبّ» ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1241/4] یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے۔
” اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو ان کے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا “۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ علیہ السلام سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اس کا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔
صفحہ نمبر2501
پھر اپنا ایک اور احسان بتایا کہ ” میں نے تیرے مددگار اور ساتھی بنا دیئے، حواریوں کے دل میں الہام اور القا کیا “۔
یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔
صفحہ نمبر2502
المائدة 5:112
بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭
یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت « يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» [5-المائدہ:112] یعنی ” کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ “۔
مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔“
انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔
صفحہ نمبر2504
المائدة 5:113
بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭
یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت « يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» [5-المائدہ:112] یعنی ” کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ “۔
مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔“
انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔
صفحہ نمبر2504
المائدة 5:114
باب
اب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لیے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لیے کافی وافی ہونا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ”یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تونے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کر لیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ” اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو “۔
جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ» [40-غافر:46] کہ ” تم سخت تر عذاب میں داخل ہو جاؤ “، اور «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا» [4-النساء:145] ” جیسے منافقوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے “۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہو گا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو۔
صفحہ نمبر2506
اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم اللہ کے لیے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا۔“ انہوں نے تیس روزے پورے کرکے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ علیہ السلام بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے۔
ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لیے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ سور بندر بن گئے ۔ [سنن ترمذي:3061،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2507
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑتے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتا دیا کہ ” عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہو جانا “ لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کر دیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پڑے۔
اسحٰق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہو جائے اور کل کے لیے ہمارے پاس کچھ نہ رہے۔ مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ رحمة الله فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا۔ وہب بن منبہ رحمة الله فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اترتے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہو جاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں۔
صفحہ نمبر2508
سعید بن جیبررحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، وہب رحمة الله فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر عیسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ ”زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے نشان طلب کیا تھا۔“
لیکن حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ علیہ السلام ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ علیہ السلام اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کرکے غسل کرکے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملالیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کر دی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی۔ اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اترتے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں منا رہے تھے لیکن روح اللہ علیہ السلام کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بے ادبی ہوئی تو مارے گئے۔ زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ ”یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں توفیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لیے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر۔“
یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آ رہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گر پڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی اس دستر خوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح علیہ السلام نے فرمایا ”کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے؟“ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ علیہ السلام سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے؟ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ ”یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنا دیا جائے۔“
صفحہ نمبر2509
پھر واپس آئے اور «بِسْمِ اللَّهِ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں۔
شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو۔“ شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے! یقین مانئے کہ میری نیت بد نہیں۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کر دیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے۔“ شمعون نے کہا اے نبی اللہ علیہ السلام ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «سُبْحَانَ اللَّهِ» گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں؟ اچھا لو دیکھو“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام نے اس مچھلی سے فرمایا ”اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہو جا“، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہو گئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آ گئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لیے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہو جا۔“ چنانچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہو گئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ علیہ السلام اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ علیہ السلام کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھالیں گے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”معاذاللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے“، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑ جائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم دیا کہ ”تم کھانا شروع کر دو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تمہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ کر کھانا شروع کرو اور «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» پر ختم کرو۔“
پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہو گئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔
صفحہ نمبر2510
اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے۔ خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔
جناب مسیح علیہ السلام سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے ”قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی۔ آہ! اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہو جاؤ گے۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ ” جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو “۔
دن غروب ہوا اور یہ بے ادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن و امان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پاخانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کر دیا ہے تاکہ سمجھ آ جائے۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2511
بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔
چنانچہ مجاہد رحمة الله سے منقول ہے کہ ”جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔“ حسن رحمة الله کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حسن اور مجاہد رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر رحمة الله کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت «اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [5-المائدہ:115] میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔
تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المؤمنین ولید بن عبدالملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2512
مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل سچا وعدہ ہے ، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے ، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3388:صحیح]
صفحہ نمبر2513
المائدة 5:115
باب
اب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لیے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لیے کافی وافی ہونا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ”یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تونے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کر لیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ” اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو “۔
جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ» [40-غافر:46] کہ ” تم سخت تر عذاب میں داخل ہو جاؤ “، اور «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا» [4-النساء:145] ” جیسے منافقوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے “۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہو گا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو۔
صفحہ نمبر2506
اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم اللہ کے لیے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا۔“ انہوں نے تیس روزے پورے کرکے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ علیہ السلام بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے۔
ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لیے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ سور بندر بن گئے ۔ [سنن ترمذي:3061،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2507
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑتے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتا دیا کہ ” عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہو جانا “ لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کر دیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پڑے۔
اسحٰق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہو جائے اور کل کے لیے ہمارے پاس کچھ نہ رہے۔ مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ رحمة الله فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا۔ وہب بن منبہ رحمة الله فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اترتے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہو جاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں۔
صفحہ نمبر2508
سعید بن جیبررحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، وہب رحمة الله فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر عیسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ ”زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے نشان طلب کیا تھا۔“
لیکن حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ علیہ السلام ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ علیہ السلام اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کرکے غسل کرکے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملالیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کر دی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی۔ اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اترتے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں منا رہے تھے لیکن روح اللہ علیہ السلام کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بے ادبی ہوئی تو مارے گئے۔ زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ ”یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں توفیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لیے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر۔“
یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آ رہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گر پڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی اس دستر خوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح علیہ السلام نے فرمایا ”کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے؟“ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ علیہ السلام سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے؟ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ ”یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنا دیا جائے۔“
صفحہ نمبر2509
پھر واپس آئے اور «بِسْمِ اللَّهِ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں۔
شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو۔“ شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے! یقین مانئے کہ میری نیت بد نہیں۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کر دیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے۔“ شمعون نے کہا اے نبی اللہ علیہ السلام ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «سُبْحَانَ اللَّهِ» گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں؟ اچھا لو دیکھو“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام نے اس مچھلی سے فرمایا ”اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہو جا“، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہو گئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آ گئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لیے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہو جا۔“ چنانچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہو گئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ علیہ السلام اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ علیہ السلام کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھالیں گے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”معاذاللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے“، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑ جائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم دیا کہ ”تم کھانا شروع کر دو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تمہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ کر کھانا شروع کرو اور «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» پر ختم کرو۔“
پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہو گئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔
صفحہ نمبر2510
اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے۔ خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔
جناب مسیح علیہ السلام سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے ”قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی۔ آہ! اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہو جاؤ گے۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ ” جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو “۔
دن غروب ہوا اور یہ بے ادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن و امان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پاخانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کر دیا ہے تاکہ سمجھ آ جائے۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2511
بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔
چنانچہ مجاہد رحمة الله سے منقول ہے کہ ”جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔“ حسن رحمة الله کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حسن اور مجاہد رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر رحمة الله کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت «اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [5-المائدہ:115] میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔
تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المؤمنین ولید بن عبدالملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2512
مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل سچا وعدہ ہے ، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے ، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3388:صحیح]
صفحہ نمبر2513
المائدة 5:116
روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی ٭٭
جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرے گا کہ ” کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے؟ “ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت «هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ» [5-المائدہ:119] سے استدلال کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر2515
سدی رحمة الله فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو آسمان دنیا پر چڑھا لیا تھا، اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ کلام لفظ ماضی کے ساتھ ہے، دوسری دلیل آیت «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدة:118] ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں ٹھیک نہیں۔
پہلی دلیل کا جواب تو یہ ہے کہ بہت سے امور جو قیامت کے دن ہونے والے ہیں ان کا ذکر قرآن کریم میں لفط ماضی کے ساتھ موجود ہے، اس سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ وقوع اور ثبوت بخوبی ثابت ہو جائے۔ دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس سے مقصود جناب مسیح علیہ السلام کا یہ ہے کہ ان سے اپنی برأت ظاہر کر دیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں، اسے شرط کے ساتھ معلق رکھنے سے اس کا وقوع لازم نہیں جیسے کہ اسی جگہ اور آیتوں میں ہے، زیادہ ظاہر وہی تفسیر ہے جو قتادہ رحمة الله وغیرہ سے مروی ہے اور جو اوپر گزر چکی ہے یعنی یہ کہ یہ گفتگو اور یہ سوال جواب قیامت کے دن ہوں گے تاکہ سب کے سامنے نصرانیوں کی ذلت اور ان پر ڈانٹ ڈپٹ ہو۔
صفحہ نمبر2516
چنانچہ ایک مرفوع غریب و عزیز حدیث میں بھی مروی ہے، جسے حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ ابوعبداللہ مولی عمر بن عبدالعزیز رحمة الله کے حالات میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں سمیت اللہ کے سامنے بلوائے جائیں گے پھر عیسیٰ علیہ السلام بلوائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے احسان انہیں جتلائے گا جن کا وہ اقرار کریں گے فرمائے گا کہ «ا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ» [5-المائدہ:110] ” اے عیسیٰ علیہ السلام جو احسان میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کئے، انہیں یاد کر “، پھر فرمائے گا ” تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو الہ سمجھنا “۔ آپ علیہ السلام اس کا بالکل انکار کریں گے، پھر نصرانیوں کو بلا کر ان سے دریافت فرمائے گا تو وہ کہیں گے، ہاں انہوں نے ہی ہمیں اس راہ پر ڈالا تھا اور ہمیں یہی حکم دیا تھا۔ اسی لیے عیسیٰ علیہ السلام کے سارے بدن کے بال کھڑے ہو جائیں گے، جنہیں لے کر فرشتے اللہ کے سامنے جھکا دیں گے بہ مقدار ایک ہزار سال کے یہاں تک کہ عیسائیوں پر حجت قائم ہو جائے گی، اب ان کے سامنے صلیب کھڑی کی جائے گی اور انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچا دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1236/4:ضعیف]
جناب عیسیٰ علیہ السلام کے جواب کو دیکھئیے کہ کس قدر با ادب اور کامل ہے؟ دراصل یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، آپ علیہ السلام کو اسی وقت یہ جواب سکھایا جائے گا جیسے کہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ آپ علیہ السلام فرمائیں گے کہ باری تعالیٰ نے مجھے ایسی بات کہنے کا حق تھا نہ میں نے کہا، تجھ سے نہ میری کوئی بات پوشیدہ ہے نہ میرا کوئی ارادہ چھپا ہوا ہے، دلی راز تجھ پر ظاہر ہیں، ہاں تیرے بھید کسی نے نہیں پائے تمام ڈھکی چھپی باتیں تجھ پر کھلی ہوئی ہیں غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے ۔
جس تبلیغ پر میں مامور اور مقرر تھا میں نے تو وہی تبلیغ کی تھی جو کچھ مجھ سے اے جناب باری تو نے ارشاد فرمایا تھا وہی بلا کم و کاست میں نے ان سے کہہ دیا تھا۔ جس کا ما حصل یہ ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، وہی میرا رب ہے اور وہی تم سب کا پالنہار ہے، جب میں ان میں موجود تھا ان کے اعمال دیکھتا بھالتا تھا لیکن جب تو نے مجھے بلا لیا پھر تو، تو ہی دیکھتا بھالتا رہا اور تو تو ہر چیز پر شاہد ہے
صفحہ نمبر2517
المائدة 5:117
باب
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بے ختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا ۔ پس فرمایا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے ۔ [صحیح بخاری:4625]
صفحہ نمبر2518
اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اس کی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے بازپرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول علیہ السلام پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلند و برتر ہے۔
اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے ۔ [سنن ابن ماجہ:1350،قال الشيخ الألباني:حسن]
چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے۔ صبح کو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہو گی ۔ [مسند احمد:149/5:حسن] ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے سیدہ جرہ بنت دجاجہ رضی اللہ عنہا عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتی ہیں تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نماز میں مشغول ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہو گئے میں بھی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آ گیا، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چنانچہ وہ آکر بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کررہے تھے اور حضور علیہ السلام کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، باربار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھوں گا۔ اب میں نے خود ہی جرأت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں ہے ۔
صفحہ نمبر2519
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے دعا کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں ، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوشخبری پہنچا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بے پرواہ نہ ہو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدہ:118] تھی ۔ [مسند احمد:170/5:حسن]
صفحہ نمبر2520
ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے میرے رب میری امت! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، جبرائیل علیہ السلام آئے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے “۔ [صحیح مسلم:202] مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گر پڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو؟ تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا ” اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا “۔ سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ ” میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا “۔ میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لیے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔
صفحہ نمبر2521
چنانچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہو گی اور نہ سب کے سب مغلوب ہو جائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لیے غنیمت کا مال حلال طیب کر دیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی ۔ [مسند احمد:393/5:ضعیف]
صفحہ نمبر2522
المائدة 5:118
باب
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بے ختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا ۔ پس فرمایا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے ۔ [صحیح بخاری:4625]
صفحہ نمبر2518
اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اس کی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے بازپرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول علیہ السلام پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلند و برتر ہے۔
اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے ۔ [سنن ابن ماجہ:1350،قال الشيخ الألباني:حسن]
چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے۔ صبح کو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہو گی ۔ [مسند احمد:149/5:حسن] ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے سیدہ جرہ بنت دجاجہ رضی اللہ عنہا عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتی ہیں تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نماز میں مشغول ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہو گئے میں بھی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آ گیا، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چنانچہ وہ آکر بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کررہے تھے اور حضور علیہ السلام کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، باربار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھوں گا۔ اب میں نے خود ہی جرأت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں ہے ۔
صفحہ نمبر2519
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے دعا کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں ، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوشخبری پہنچا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بے پرواہ نہ ہو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدہ:118] تھی ۔ [مسند احمد:170/5:حسن]
صفحہ نمبر2520
ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے میرے رب میری امت! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، جبرائیل علیہ السلام آئے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے “۔ [صحیح مسلم:202] مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گر پڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو؟ تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا ” اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا “۔ سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ ” میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا “۔ میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لیے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔
صفحہ نمبر2521
چنانچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہو گی اور نہ سب کے سب مغلوب ہو جائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لیے غنیمت کا مال حلال طیب کر دیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی ۔ [مسند احمد:393/5:ضعیف]
صفحہ نمبر2522
المائدة 5:119
موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72] فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے “۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ” یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصفات:61] ” اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے “۔
اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26] ” رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں “۔
صفحہ نمبر2524
پھر فرماتا ہے ” سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے “۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]
(الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)
صفحہ نمبر2525
المائدة 5:120
موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72] فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے “۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ” یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی “۔
جیسے اور جگہ ہے «لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» [37-الصفات:61] ” اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے “۔
اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26] ” رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں “۔
صفحہ نمبر2524
پھر فرماتا ہے ” سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے “۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]
(الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)
صفحہ نمبر2525
الأنعام 6:1
تفسیر سورۃ الانعام:
یہ سورت مکے میں اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ ہی ایک ہی رات میں مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے، اس کے اردگرد ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح پڑھ رہے تھے۔ [طبرانی کبیر:12930:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے فرشتوں کی کثرت زمین سے آسمان تک تھی، یہ ستر ہزار فرشتے اس سورت کے پہنچانے کے لئے آئے تھے۔ [طبرانی کبیر:178/24:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہے، اس سورت کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مبارک سورت کو پہنچانے کیلئے اس قدر فرشتے آئے تھے کہ آسمان کے کنارے دکھائی نہیں دیتے تھے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:تحت الحدیث:5627:ضعیف و منقطع]
ابن مردویہ میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں کی اس وقت کی تسبیح نے ایک گونج پیدا کر دی تھی زمین گونج رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» پڑھ رہے تھے۔ [الدر المنشور للسیوطی:3/3:ضعیف]
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھ پر سورۃ انعام ایک دفعہ ہی اتری۔ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح و حمد بیان کر رہے تھے۔ [طبرانی صغیر:220:ضعیف]
اللہ کی بعض صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے۔
جیسے فرمان ربانی آیت «عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ» [16-النحل:48] میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت «وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [6۔ الانعام:153] میں۔
یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ۔
صفحہ نمبر2527
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «قَضَى أَجَلًا» سے مراد مدت دنیا ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] سے ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا» سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے۔
«عِنْدَهُ» سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ» [7۔ الأعراف:187] یعنی ” قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے “، سورۃ النازعات میں بھی فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» [79-النازعات:42-44] ” لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے “۔ باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں۔
اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ، اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے۔ آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ» [43۔ الزخرف:84] یعنی ” وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے “۔
صفحہ نمبر2528
اب اس آیت کا اور جملہ «يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» [6۔ الأنعام:3] خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔
پس «يَعْلَمُ» متعلق ہو گا «فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ» کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی آیت «وَهُوَ اللَّهُ یعلمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت «وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ» پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت «وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ» امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے “۔
صفحہ نمبر2529
الأنعام 6:2
تفسیر سورۃ الانعام:
یہ سورت مکے میں اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ ہی ایک ہی رات میں مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے، اس کے اردگرد ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح پڑھ رہے تھے۔ [طبرانی کبیر:12930:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے فرشتوں کی کثرت زمین سے آسمان تک تھی، یہ ستر ہزار فرشتے اس سورت کے پہنچانے کے لئے آئے تھے۔ [طبرانی کبیر:178/24:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہے، اس سورت کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مبارک سورت کو پہنچانے کیلئے اس قدر فرشتے آئے تھے کہ آسمان کے کنارے دکھائی نہیں دیتے تھے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:تحت الحدیث:5627:ضعیف و منقطع]
ابن مردویہ میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں کی اس وقت کی تسبیح نے ایک گونج پیدا کر دی تھی زمین گونج رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» پڑھ رہے تھے۔ [الدر المنشور للسیوطی:3/3:ضعیف]
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھ پر سورۃ انعام ایک دفعہ ہی اتری۔ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح و حمد بیان کر رہے تھے۔ [طبرانی صغیر:220:ضعیف]
اللہ کی بعض صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے۔
جیسے فرمان ربانی آیت «عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ» [16-النحل:48] میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت «وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [6۔ الانعام:153] میں۔
یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ۔
صفحہ نمبر2527
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «قَضَى أَجَلًا» سے مراد مدت دنیا ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] سے ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا» سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے۔
«عِنْدَهُ» سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ» [7۔ الأعراف:187] یعنی ” قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے “، سورۃ النازعات میں بھی فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» [79-النازعات:42-44] ” لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے “۔ باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں۔
اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ، اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے۔ آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ» [43۔ الزخرف:84] یعنی ” وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے “۔
صفحہ نمبر2528
اب اس آیت کا اور جملہ «يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» [6۔ الأنعام:3] خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔
پس «يَعْلَمُ» متعلق ہو گا «فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ» کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی آیت «وَهُوَ اللَّهُ یعلمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت «وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ» پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت «وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ» امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے “۔
صفحہ نمبر2529
الأنعام 6:3
تفسیر سورۃ الانعام:
یہ سورت مکے میں اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ ہی ایک ہی رات میں مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے، اس کے اردگرد ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح پڑھ رہے تھے۔ [طبرانی کبیر:12930:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے فرشتوں کی کثرت زمین سے آسمان تک تھی، یہ ستر ہزار فرشتے اس سورت کے پہنچانے کے لئے آئے تھے۔ [طبرانی کبیر:178/24:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہے، اس سورت کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مبارک سورت کو پہنچانے کیلئے اس قدر فرشتے آئے تھے کہ آسمان کے کنارے دکھائی نہیں دیتے تھے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:تحت الحدیث:5627:ضعیف و منقطع]
ابن مردویہ میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں کی اس وقت کی تسبیح نے ایک گونج پیدا کر دی تھی زمین گونج رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» پڑھ رہے تھے۔ [الدر المنشور للسیوطی:3/3:ضعیف]
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھ پر سورۃ انعام ایک دفعہ ہی اتری۔ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح و حمد بیان کر رہے تھے۔ [طبرانی صغیر:220:ضعیف]
اللہ کی بعض صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے۔
جیسے فرمان ربانی آیت «عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ» [16-النحل:48] میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت «وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [6۔ الانعام:153] میں۔
یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ۔
صفحہ نمبر2527
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «قَضَى أَجَلًا» سے مراد مدت دنیا ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] سے ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا» سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے۔
«عِنْدَهُ» سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ» [7۔ الأعراف:187] یعنی ” قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے “، سورۃ النازعات میں بھی فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» [79-النازعات:42-44] ” لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے “۔ باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں۔
اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ، اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے۔ آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ» [43۔ الزخرف:84] یعنی ” وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے “۔
صفحہ نمبر2528
اب اس آیت کا اور جملہ «يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» [6۔ الأنعام:3] خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔
پس «يَعْلَمُ» متعلق ہو گا «فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ» کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی آیت «وَهُوَ اللَّهُ یعلمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت «وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ» پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت «وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ» امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے “۔
صفحہ نمبر2529
الأنعام 6:4
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ ٭٭
کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں؟
وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے در پے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت تروتازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آ گئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کر دیئے گئے۔ تہس نہس ہو گئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔
صفحہ نمبر2532
الأنعام 6:5
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ ٭٭
کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں؟
وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے در پے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت تروتازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آ گئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کر دیئے گئے۔ تہس نہس ہو گئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔
صفحہ نمبر2532
الأنعام 6:6
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ ٭٭
کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں؟
وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے در پے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت تروتازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آ گئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کر دیئے گئے۔ تہس نہس ہو گئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔
صفحہ نمبر2532
الأنعام 6:7
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم احسان ٭٭
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کر لیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں۔
صفحہ نمبر2535
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15۔الحجر:15،14] یعنی ” اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے “۔
اور ایک آیت میں ہے «وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ» [52۔الطور:44] غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔
یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ” ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے «مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» [15۔الحجر:8] یعنی ” فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے “ اور جگہ ہے آیت «يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا» [25۔الفرقان:22] ” جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی “۔
صفحہ نمبر2536
الأنعام 6:8
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم احسان ٭٭
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کر لیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں۔
صفحہ نمبر2535
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15۔الحجر:15،14] یعنی ” اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے “۔
اور ایک آیت میں ہے «وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ» [52۔الطور:44] غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔
یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ” ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے «مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» [15۔الحجر:8] یعنی ” فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے “ اور جگہ ہے آیت «يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا» [25۔الفرقان:22] ” جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی “۔
صفحہ نمبر2536
الأنعام 6:9
باب
پھر فرماتا ہے ” بالفرض رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کر سکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہو جائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانے یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے “۔
اور آیت میں ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا» [17۔ الاسراء:95] یعنی ” اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے “۔ پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔
چنانچہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ» [3-آل عمران:164] یعنی ” یقیناً اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے “۔
مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لیے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل گرفتہ نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی جتنے انبیاء علیہم السلام آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہو گئے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی جو لوگ بے ادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے “۔
صفحہ نمبر2538
” لوگو! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بدسلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے “۔
صفحہ نمبر2539
الأنعام 6:10
باب
پھر فرماتا ہے ” بالفرض رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کر سکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہو جائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانے یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے “۔
اور آیت میں ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا» [17۔ الاسراء:95] یعنی ” اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے “۔ پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔
چنانچہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ» [3-آل عمران:164] یعنی ” یقیناً اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے “۔
مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لیے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل گرفتہ نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی جتنے انبیاء علیہم السلام آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہو گئے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی جو لوگ بے ادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے “۔
صفحہ نمبر2538
” لوگو! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بدسلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے “۔
صفحہ نمبر2539
الأنعام 6:11
باب
پھر فرماتا ہے ” بالفرض رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کر سکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہو جائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانے یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے “۔
اور آیت میں ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا» [17۔ الاسراء:95] یعنی ” اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے “۔ پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔
چنانچہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ» [3-آل عمران:164] یعنی ” یقیناً اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے “۔
مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لیے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل گرفتہ نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی جتنے انبیاء علیہم السلام آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہو گئے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی جو لوگ بے ادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے “۔
صفحہ نمبر2538
” لوگو! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بدسلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے “۔
صفحہ نمبر2539
الأنعام 6:12
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے “۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ۔ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
صفحہ نمبر2542
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ۔ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
صفحہ نمبر2543
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے “۔
فرماتا ہے ” میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے “، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ” وہ خود نہیں کھاتا “۔
صفحہ نمبر2544
قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں “۔ پھر فرماتا ہے ” خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے “
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] ” جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی “۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
صفحہ نمبر2545
الأنعام 6:13
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے “۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ۔ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
صفحہ نمبر2542
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ۔ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
صفحہ نمبر2543
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے “۔
فرماتا ہے ” میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے “، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ” وہ خود نہیں کھاتا “۔
صفحہ نمبر2544
قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں “۔ پھر فرماتا ہے ” خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے “
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] ” جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی “۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
صفحہ نمبر2545
الأنعام 6:14
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے “۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ۔ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
صفحہ نمبر2542
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ۔ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
صفحہ نمبر2543
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے “۔
فرماتا ہے ” میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے “، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ” وہ خود نہیں کھاتا “۔
صفحہ نمبر2544
قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں “۔ پھر فرماتا ہے ” خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے “
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] ” جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی “۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
صفحہ نمبر2545
الأنعام 6:15
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے “۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ۔ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
صفحہ نمبر2542
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ۔ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
صفحہ نمبر2543
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے “۔
فرماتا ہے ” میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے “، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ” وہ خود نہیں کھاتا “۔
صفحہ نمبر2544
قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں “۔ پھر فرماتا ہے ” خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے “
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] ” جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی “۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
صفحہ نمبر2545
الأنعام 6:16
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے “۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ۔ [ضعیف] یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔
صفحہ نمبر2542
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ۔ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔
صفحہ نمبر2543
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے “۔
فرماتا ہے ” میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے “، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ” وہ خود نہیں کھاتا “۔
صفحہ نمبر2544
قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں “۔ پھر فرماتا ہے ” خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے “
اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] ” جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی “۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔
صفحہ نمبر2545
الأنعام 6:17
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ” نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا “۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [35۔فاطر:2] ہے یعنی ” اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا “۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ۔ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ” وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر2550
پھر فرماتا ہے ” پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» [11۔ھود:17] یعنی ” دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے “۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
” مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا “ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» [6۔الأنعام:150] ” یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن “۔
یہاں فرمایا ” تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں “۔
صفحہ نمبر2551
پھر فرماتا ہے ” یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
صفحہ نمبر2552
الأنعام 6:18
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ” نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا “۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [35۔فاطر:2] ہے یعنی ” اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا “۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ۔ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ” وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر2550
پھر فرماتا ہے ” پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» [11۔ھود:17] یعنی ” دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے “۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
” مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا “ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» [6۔الأنعام:150] ” یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن “۔
یہاں فرمایا ” تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں “۔
صفحہ نمبر2551
پھر فرماتا ہے ” یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
صفحہ نمبر2552
الأنعام 6:19
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ” نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا “۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [35۔فاطر:2] ہے یعنی ” اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا “۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ۔ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ” وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر2550
پھر فرماتا ہے ” پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» [11۔ھود:17] یعنی ” دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے “۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
” مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا “ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» [6۔الأنعام:150] ” یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن “۔
یہاں فرمایا ” تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں “۔
صفحہ نمبر2551
پھر فرماتا ہے ” یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
صفحہ نمبر2552
الأنعام 6:20
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ” نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا “۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [35۔فاطر:2] ہے یعنی ” اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا “۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ۔ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ” وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر2550
پھر فرماتا ہے ” پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» [11۔ھود:17] یعنی ” دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے “۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
” مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا “ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» [6۔الأنعام:150] ” یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن “۔
یہاں فرمایا ” تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں “۔
صفحہ نمبر2551
پھر فرماتا ہے ” یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
صفحہ نمبر2552
الأنعام 6:21
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ” نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا “۔
اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [35۔فاطر:2] ہے یعنی ” اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا “۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ۔ [صحیح بخاری:844]
اس کے بعد فرماتا ہے ” وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر2550
پھر فرماتا ہے ” پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» [11۔ھود:17] یعنی ” دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے “۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف]
ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔“
” مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا “ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» [6۔الأنعام:150] ” یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن “۔
یہاں فرمایا ” تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں “۔
صفحہ نمبر2551
پھر فرماتا ہے ” یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔
صفحہ نمبر2552
الأنعام 6:22
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [28-القصص:62] میں بھی یہ موجود ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔
صفحہ نمبر2557
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔
یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [58-المجادلة:18] ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟
چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» [40-غافر:73،74] ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔
صفحہ نمبر2558
پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» [8-الأنفال:23] ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2559
اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔
جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔
صفحہ نمبر2560
الأنعام 6:23
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [28-القصص:62] میں بھی یہ موجود ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔
صفحہ نمبر2557
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔
یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [58-المجادلة:18] ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟
چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» [40-غافر:73،74] ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔
صفحہ نمبر2558
پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» [8-الأنفال:23] ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2559
اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔
جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔
صفحہ نمبر2560
الأنعام 6:24
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [28-القصص:62] میں بھی یہ موجود ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔
صفحہ نمبر2557
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔
یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [58-المجادلة:18] ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟
چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» [40-غافر:73،74] ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔
صفحہ نمبر2558
پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» [8-الأنفال:23] ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2559
اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔
جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔
صفحہ نمبر2560
الأنعام 6:25
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [28-القصص:62] میں بھی یہ موجود ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔
صفحہ نمبر2557
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔
یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [58-المجادلة:18] ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟
چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» [40-غافر:73،74] ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔
صفحہ نمبر2558
پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» [8-الأنفال:23] ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2559
اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔
جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔
صفحہ نمبر2560
الأنعام 6:26
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [28-القصص:62] میں بھی یہ موجود ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔
صفحہ نمبر2557
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔
یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [58-المجادلة:18] ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟
چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» [40-غافر:73،74] ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔
صفحہ نمبر2558
پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» [8-الأنفال:23] ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2559
اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔
جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔
صفحہ نمبر2560
الأنعام 6:27
کفار کا واویلا مگر سب بےسود ٭٭
کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں “۔
حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بے ایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے۔
صفحہ نمبر2565
چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ «قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ» [17-الإسراء:102] ” تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں “۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [17۔النمل:14] یعنی ” فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہراً مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔
اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ العنکبوت جہاں صاف فرمان ہے «وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ» [29۔العنکبوت:11] پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہو جائیں گے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لیے ہو گی۔
صفحہ نمبر2566
چنانچہ عالم الغیب اللہ ﷻ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہو جائیں گے “۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں، نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔
پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے، اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا ” کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہو گیا؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں؟ “ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو “۔ «أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [52-الطور:15] ” بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو “۔
صفحہ نمبر2567
الأنعام 6:28
کفار کا واویلا مگر سب بےسود ٭٭
کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں “۔
حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بے ایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے۔
صفحہ نمبر2565
چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ «قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ» [17-الإسراء:102] ” تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں “۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [17۔النمل:14] یعنی ” فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہراً مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔
اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ العنکبوت جہاں صاف فرمان ہے «وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ» [29۔العنکبوت:11] پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہو جائیں گے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لیے ہو گی۔
صفحہ نمبر2566
چنانچہ عالم الغیب اللہ ﷻ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہو جائیں گے “۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں، نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔
پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے، اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا ” کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہو گیا؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں؟ “ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو “۔ «أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [52-الطور:15] ” بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو “۔
صفحہ نمبر2567
الأنعام 6:29
کفار کا واویلا مگر سب بےسود ٭٭
کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں “۔
حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بے ایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے۔
صفحہ نمبر2565
چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ «قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ» [17-الإسراء:102] ” تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں “۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [17۔النمل:14] یعنی ” فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہراً مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔
اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ العنکبوت جہاں صاف فرمان ہے «وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ» [29۔العنکبوت:11] پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہو جائیں گے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لیے ہو گی۔
صفحہ نمبر2566
چنانچہ عالم الغیب اللہ ﷻ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہو جائیں گے “۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں، نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔
پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے، اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا ” کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہو گیا؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں؟ “ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو “۔ «أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [52-الطور:15] ” بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو “۔
صفحہ نمبر2567
الأنعام 6:30
کفار کا واویلا مگر سب بےسود ٭٭
کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں “۔
حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بے ایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے۔
صفحہ نمبر2565
چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ «قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ» [17-الإسراء:102] ” تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں “۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [17۔النمل:14] یعنی ” فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہراً مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔
اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ العنکبوت جہاں صاف فرمان ہے «وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ» [29۔العنکبوت:11] پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہو جائیں گے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لیے ہو گی۔
صفحہ نمبر2566
چنانچہ عالم الغیب اللہ ﷻ فرماتا ہے کہ ” اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہو جائیں گے “۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں، نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔
پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے، اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا ” کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہو گیا؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں؟ “ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو “۔ «أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [52-الطور:15] ” بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو “۔
صفحہ نمبر2567
الأنعام 6:31
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے «الْحَيَاةِ» ہو اور ممکن ہے «الْأَعْمَالِ» ہو اور ممکن ہے «الدَّارُ الْآخِرَةُ» ہو، ” یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔
آہ! کیا برا بوجھ ہے؟ ابو مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بدصورت ہو گا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آ رہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گا خواب! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں؟
یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بدصورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بدصورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہو جاؤں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ” وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے “۔
صفحہ نمبر2571
حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بدصورت سخت بدبودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بدصورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔“
دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے؟
صفحہ نمبر2572
الأنعام 6:32
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے «الْحَيَاةِ» ہو اور ممکن ہے «الْأَعْمَالِ» ہو اور ممکن ہے «الدَّارُ الْآخِرَةُ» ہو، ” یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔
آہ! کیا برا بوجھ ہے؟ ابو مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بدصورت ہو گا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آ رہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گا خواب! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں؟
یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بدصورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بدصورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہو جاؤں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ” وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے “۔
صفحہ نمبر2571
حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بدصورت سخت بدبودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بدصورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔“
دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے؟
صفحہ نمبر2572
الأنعام 6:33
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
الأنعام 6:34
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
الأنعام 6:35
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
الأنعام 6:36
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
الأنعام 6:37
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں “۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» [17-الإسراء:59] ” اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں “۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں “۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [29۔العنکبوت:60] ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر2582
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
صفحہ نمبر2583
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
صفحہ نمبر2584
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» [24-النور:40] یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
صفحہ نمبر2585
الأنعام 6:38
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں “۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» [17-الإسراء:59] ” اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں “۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں “۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [29۔العنکبوت:60] ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر2582
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
صفحہ نمبر2583
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
صفحہ نمبر2584
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» [24-النور:40] یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
صفحہ نمبر2585
الأنعام 6:39
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں “۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» [17-الإسراء:59] ” اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں “۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں “۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [29۔العنکبوت:60] ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر2582
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
صفحہ نمبر2583
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
صفحہ نمبر2584
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» [24-النور:40] یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
صفحہ نمبر2585
الأنعام 6:40
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
الأنعام 6:41
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
الأنعام 6:42
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
الأنعام 6:43
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
الأنعام 6:44
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
الأنعام 6:45
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
الأنعام 6:46
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
الأنعام 6:47
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
الأنعام 6:48
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
الأنعام 6:49
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
الأنعام 6:50
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے؟ “
اور آیت میں ہے کہ «أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 13-الرعد: 19 ] ” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں “۔
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکا رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لیے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اورثواب کے مستحق بن جائیں “۔
صفحہ نمبر2600
الأنعام 6:51
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے؟ “
اور آیت میں ہے کہ «أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 13-الرعد: 19 ] ” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں “۔
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکا رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لیے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اورثواب کے مستحق بن جائیں “۔
صفحہ نمبر2600
الأنعام 6:52
آیات ۵۲-۵۳
پھر فرماتا ہے ” یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18-الكهف:28] یعنی ” انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں “۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40۔ غافر:60] ” تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر “۔
جناب نوح علیہ السلام سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ علیہ السلام نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہو جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں صہیب رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ، خباب رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ تو آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک اتری ۔ [مسند احمد:420/1:حسن]
صفحہ نمبر2602
ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بے زر، بے سہارا لوگ ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں، دیکھئے حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں، آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13258:]
ابن ابی حاتم میں ہے قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بے حیثیت لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عرب کے وفد آیا کرتے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے۔ جب یہ بات طے ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے کہا، ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آ جانا چاہیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ منگوایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلوایا۔ مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور یہ آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حلقے میں لے لیا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7331/4:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ آیت مکی ہے اور اقرع اور عیینہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں۔
سیدنا شریح رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ آیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چھ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھتے تاکہ پور طرح شروع سے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی۔ اس کے برخلاف آیت اتری ۔ [صحیح مسلم:2413] ۔
پھر فرماتا ہے ” اس طرح ہم ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امراء ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کر دیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں اللہ کو یہی لوگ پسند آئے؟“
صفحہ نمبر2603
الأنعام 6:53
آیات ۵۲-۵۳
پھر فرماتا ہے ” یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18-الكهف:28] یعنی ” انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں “۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40۔ غافر:60] ” تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر “۔
جناب نوح علیہ السلام سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ علیہ السلام نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہو جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں صہیب رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ، خباب رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ تو آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک اتری ۔ [مسند احمد:420/1:حسن]
صفحہ نمبر2602
ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بے زر، بے سہارا لوگ ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں، دیکھئے حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں، آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13258:]
ابن ابی حاتم میں ہے قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بے حیثیت لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عرب کے وفد آیا کرتے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے۔ جب یہ بات طے ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے کہا، ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آ جانا چاہیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ منگوایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلوایا۔ مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور یہ آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حلقے میں لے لیا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7331/4:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ آیت مکی ہے اور اقرع اور عیینہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں۔
سیدنا شریح رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ آیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چھ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھتے تاکہ پور طرح شروع سے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی۔ اس کے برخلاف آیت اتری ۔ [صحیح مسلم:2413] ۔
پھر فرماتا ہے ” اس طرح ہم ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امراء ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کر دیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں اللہ کو یہی لوگ پسند آئے؟“
صفحہ نمبر2603
الأنعام 6:54
باب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بے مایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آ گیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء علیہم السلام کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔
قوم نوح نے کہا تھا «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» [11۔ ھود:27] یعنی ” ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے “۔
شاہ روم ہرقل نے جب ابوسفیان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے؟ یا ضعیف لوگوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7]
الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آ جائے اور ہم یونہی رہ جائیں؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ» [46۔ الاحقاف:11] ” اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے “۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا» [19۔ مریم:73] ” جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے؟ “
اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت «وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا» [19۔ مریم:74] یعنی ” ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں “۔
چنانچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ ” شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے “۔
صفحہ نمبر2605
جیسے فرمان ہے آیت «وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ» [29۔العنکبوت:69] ” جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشس کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے “۔
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2564]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہٰ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابوطالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کر لیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہو گی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آ جائے اور ہم بھی مان لیں۔ ابوطالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟ اللہ عزوجل نے «وَأَنْذِرْ» سے «بِالشَّاكِرِينَ» تک آیتیں اتاریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13264/11:مرسل و ضعیف]
یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات رضی اللہ عنہم اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» [6۔الأنعام:53] بھی نازل ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت «وَاِذَا جَاءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [6۔الأنعام:54] نازل ہوئی۔
آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ” ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رحم و کرم واجب کر لیا ہے “۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں”دنیا ساری جہالت ہے۔“
غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔
صفحہ نمبر2606
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضاء و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
ابن مردویہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ ”میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں ۔
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لیے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے ۔ یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں، آیت «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» [7۔ الأعراف:156] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوچھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ پھر فرمایا: جانتے ہو بندے جب یہ کر لیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:7373] مسند احمد میں یہ حدیث بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔
صفحہ نمبر2607
الأنعام 6:55
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
الأنعام 6:56
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
الأنعام 6:57
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
الأنعام 6:58
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
الأنعام 6:59
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
الأنعام 6:60
نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭
«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] یعنی ” جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں “۔
اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» [39-الزمر:42] یعنی ” اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے “۔
اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13۔ الرعد:10] یعنی ” چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [28-القصص:73] یعنی ” یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» [78۔النبأ:11۔10] ” رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا “۔
یہاں فرمایا ” رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے “۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے “ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔
صفحہ نمبر2617
ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف]
یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» [6۔ الأنعام:60] کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔
جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [13۔الرعد:11] پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الانفطار:12-10] ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» [50-ق:17] میں ہے۔
صفحہ نمبر2618
پھر فرمایا ” یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔“
اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-إبراهيم:27] میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2619
پھر فرمایا ” وہ کوئی کمی نہیں کرتے “ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔ اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:364/2:صحیح] جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔
صفحہ نمبر2620
” پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں “، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ” ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے “۔
یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62] ” اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا “۔
صفحہ نمبر2621
الأنعام 6:61
نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭
«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] یعنی ” جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں “۔
اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» [39-الزمر:42] یعنی ” اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے “۔
اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13۔ الرعد:10] یعنی ” چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [28-القصص:73] یعنی ” یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» [78۔النبأ:11۔10] ” رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا “۔
یہاں فرمایا ” رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے “۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے “ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔
صفحہ نمبر2617
ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف]
یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» [6۔ الأنعام:60] کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔
جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [13۔الرعد:11] پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الانفطار:12-10] ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» [50-ق:17] میں ہے۔
صفحہ نمبر2618
پھر فرمایا ” یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔“
اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-إبراهيم:27] میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2619
پھر فرمایا ” وہ کوئی کمی نہیں کرتے “ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔ اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:364/2:صحیح] جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔
صفحہ نمبر2620
” پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں “، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ” ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے “۔
یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62] ” اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا “۔
صفحہ نمبر2621
الأنعام 6:62
نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭
«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] یعنی ” جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں “۔
اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» [39-الزمر:42] یعنی ” اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے “۔
اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13۔ الرعد:10] یعنی ” چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [28-القصص:73] یعنی ” یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» [78۔النبأ:11۔10] ” رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا “۔
یہاں فرمایا ” رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے “۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے “ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔
صفحہ نمبر2617
ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف]
یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» [6۔ الأنعام:60] کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔
جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [13۔الرعد:11] پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الانفطار:12-10] ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» [50-ق:17] میں ہے۔
صفحہ نمبر2618
پھر فرمایا ” یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔“
اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-إبراهيم:27] میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2619
پھر فرمایا ” وہ کوئی کمی نہیں کرتے “ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔ اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:364/2:صحیح] جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔
صفحہ نمبر2620
” پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں “، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ” ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے “۔
یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62] ” اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا “۔
صفحہ نمبر2621
الأنعام 6:63
احسان فراموش نہ بنو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو “۔
یہی مضمون قرآن کریم کی آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» [17-الاسراء:67] میں اور آیت «ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» [10-یونس:22] میں اور آیت «اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [27-النمل:63] میں بھی بیان ہوا ہے۔
«تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً» کے معنی «جَهْرًا أَوْ سِرًّا» یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے “۔
صفحہ نمبر2624
پھر فرماتا ہے ” کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے “۔
جیسے کہ سورۃ سبحان میں آیت «رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا» [17۔ الاسراء:69-66] تک بیان فرمایا۔ یعنی ” تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لیے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کر سکے “۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس آیت میں اسی امت کو ڈرایا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔“
ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے «يَلْبِسَكُمْ» کے معنی «يَخْلِطَكُمْ» کے ہیں یہ لفظ «اِلْتِبَاسِ» سے ماخوذ ہے «شِيَعًا» کے معنی «فِرَقًا» کے ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ ” اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے “، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں ، اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ ” یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے “، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ۔ [صحیح بخاری:4628]
ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپس کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:32/3:ضعیف]
مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔ [مسند احمد:171/1:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر2625
مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی مناجات کی اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2890]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی؟“ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا ”جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟“ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے، دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ یہ سن کر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:445/5:صحیح]
ابن مردویہ میں ہے کہ حضور علیہ السلام بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبویا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:285/6:ضعیف]
صفحہ نمبر2626
ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی لمبی نماز آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم ے پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ نماز رغبت ور ڈر کی نماز تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1724:صحیح]
نسائی وغیرہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ رکعت پڑھیں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:920/1:صحیح لغیره]
نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں ۔ [سنن نسائی:1639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13370:صحیح بالشواهد]
مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لیے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لیے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لیے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ۔ [مسند احمد:123/4:صحیح]
صفحہ نمبر2627
ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:4112:صحیح بالشواهد]
مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے ۔ [مسند احمد:396/6:صحیح]
اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف]
صفحہ نمبر2628
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف]
سیدنا ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچیس (۲۵) سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا ۔ [مسند احمد:134/5:ضعیف]
حسن رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت «قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» [6۔الأنعام:65] اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نوکر چاکر ہیں“ یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت «ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ» [67-الملک:16] پیش ہو سکتی ہے۔
صفحہ نمبر2629
ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا ۔ [سنن ترمذي:2152،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جا بجا آئیں گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:صحیح] ،
ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، ” دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں “۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو ، اس پر لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں یہی ہوگا ۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت «وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ» [6-الانعام:66] ، اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:13381:مرسل و ضعیف]
صفحہ نمبر2630
الأنعام 6:64
احسان فراموش نہ بنو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو “۔
یہی مضمون قرآن کریم کی آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» [17-الاسراء:67] میں اور آیت «ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» [10-یونس:22] میں اور آیت «اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [27-النمل:63] میں بھی بیان ہوا ہے۔
«تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً» کے معنی «جَهْرًا أَوْ سِرًّا» یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے “۔
صفحہ نمبر2624
پھر فرماتا ہے ” کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے “۔
جیسے کہ سورۃ سبحان میں آیت «رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا» [17۔ الاسراء:69-66] تک بیان فرمایا۔ یعنی ” تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لیے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کر سکے “۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس آیت میں اسی امت کو ڈرایا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔“
ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے «يَلْبِسَكُمْ» کے معنی «يَخْلِطَكُمْ» کے ہیں یہ لفظ «اِلْتِبَاسِ» سے ماخوذ ہے «شِيَعًا» کے معنی «فِرَقًا» کے ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ ” اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے “، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں ، اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ ” یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے “، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ۔ [صحیح بخاری:4628]
ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپس کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:32/3:ضعیف]
مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔ [مسند احمد:171/1:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر2625
مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی مناجات کی اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2890]
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی؟“ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا ”جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟“ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے، دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ یہ سن کر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:445/5:صحیح]
ابن مردویہ میں ہے کہ حضور علیہ السلام بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبویا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:285/6:ضعیف]
صفحہ نمبر2626
ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی لمبی نماز آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم ے پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ نماز رغبت ور ڈر کی نماز تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1724:صحیح]
نسائی وغیرہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ رکعت پڑھیں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:920/1:صحیح لغیره]
نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں ۔ [سنن نسائی:1639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13370:صحیح بالشواهد]
مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لیے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لیے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لیے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ۔ [مسند احمد:123/4:صحیح]
صفحہ نمبر2627
ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:4112:صحیح بالشواهد]
مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے ۔ [مسند احمد:396/6:صحیح]
اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف]
صفحہ نمبر2628
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف]
سیدنا ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچیس (۲۵) سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا ۔ [مسند احمد:134/5:ضعیف]
حسن رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت «قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» [6۔الأنعام:65] اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نوکر چاکر ہیں“ یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت «ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ» [67-الملک:16] پیش ہو سکتی ہے۔
صفحہ نمبر2629
ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا ۔ [سنن ترمذي:2152،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جا بجا آئیں گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:صحیح] ،
ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، ” دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں “۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو ، اس پر لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں یہی ہوگا ۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت «وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ» [6-الانعام:66] ، اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:13381:مرسل و ضعیف]
صفحہ نمبر2630