Tafsir Ibn Kathir — الفرقان 25:1 – الفرقان 25:77
Contents
- الفرقان 25:1
- الفرقان 25:2
- الفرقان 25:3
- الفرقان 25:4
- الفرقان 25:5
- الفرقان 25:6
- الفرقان 25:7
- الفرقان 25:8
- الفرقان 25:9
- الفرقان 25:10
- الفرقان 25:11
- الفرقان 25:12
- الفرقان 25:13
- الفرقان 25:14
- الفرقان 25:15
- الفرقان 25:16
- الفرقان 25:17
- الفرقان 25:18
- الفرقان 25:19
- الفرقان 25:20
- الفرقان 25:21
- الفرقان 25:22
- الفرقان 25:23
- الفرقان 25:24
- الفرقان 25:25
- الفرقان 25:26
- الفرقان 25:27
- الفرقان 25:28
- الفرقان 25:29
- الفرقان 25:30
- الفرقان 25:31
- الفرقان 25:32
- الفرقان 25:33
- الفرقان 25:34
- الفرقان 25:35
- الفرقان 25:36
- الفرقان 25:37
- الفرقان 25:38
- الفرقان 25:39
- الفرقان 25:40
- الفرقان 25:41
- الفرقان 25:42
- الفرقان 25:43
- الفرقان 25:44
- الفرقان 25:45
- الفرقان 25:46
- الفرقان 25:47
- الفرقان 25:48
- الفرقان 25:49
- الفرقان 25:50
- الفرقان 25:51
- الفرقان 25:52
- الفرقان 25:53
- الفرقان 25:54
- الفرقان 25:55
- الفرقان 25:56
- الفرقان 25:57
- الفرقان 25:58
- الفرقان 25:59
- الفرقان 25:60
- الفرقان 25:61
- الفرقان 25:62
- الفرقان 25:63
- الفرقان 25:64
- الفرقان 25:65
- الفرقان 25:66
- الفرقان 25:67
- الفرقان 25:68
- الفرقان 25:69
- الفرقان 25:70
- الفرقان 25:71
- الفرقان 25:72
- الفرقان 25:73
- الفرقان 25:74
- الفرقان 25:75
- الفرقان 25:76
- الفرقان 25:77
الفرقان 25:1
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» [4-النساء:136] پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔
جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [17-الإسراء:1]
اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» [72-الجن:19] ” اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں “ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔
صفحہ نمبر6001
پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:521] اور فرمان ہے: مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» [7-الأعراف:158] ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ “
پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
صفحہ نمبر6002
الفرقان 25:2
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» [4-النساء:136] پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔
جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [17-الإسراء:1]
اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» [72-الجن:19] ” اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں “ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔
صفحہ نمبر6001
پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:521] اور فرمان ہے: مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» [7-الأعراف:158] ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ “
پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
صفحہ نمبر6002
الفرقان 25:3
مشرکوں کی جہالت ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ خالق، مالک، مختار بادشاہ کو چھوڑ کر ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو ایک مچھر کا پر بھی نہیں بنا سکتے بلکہ وہ خود اللہ کے بنائے ہوئے اور اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی کسی نفع نقصان کے پہنچانے کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسرے کا بھلا کریں یا دوسرے کا نقصان کریں۔ یا دوسری کوئی بات کر سکیں۔ وہ اپنی موت زیست کا یا دوبارہ جی اٹھنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ پھر اپنی عبادت کرنے والوں کی ان چیزوں کے مالک وہ کیسے ہو جائیں گے؟
بات یہی ہے کہ ان تمام کاموں کا مالک اللہ ہی ہے، وہی جلاتا اور مارتا ہے، وہی اپنی تمام مخلوق کو قیامت کے دن نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ اس پر یہ کام مشکل نہیں، ایک کا پیدا کرنا اور سب کو پیدا کرنا، ایک کو موت کے بعد زندہ کرنا اور سب کو کرنا، اس پر یکساں اور برابر ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے میں اس کا پورا ہو جاتا ہے۔ صرف ایک آواز کے ساتھ تمام مری ہوئی مخلوق زندہ ہو کر اس کے سامنے ایک چٹیل میدان میں کھڑی ہو جائے گی۔ اور آیت میں فرمایا ہے صرف ایک دفعہ کی ایک آواز ہو گی کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے حاضر ہو جائے گی، وہی معبود برحق ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی رب ہے، نہ لائق عبادت ہے۔ اس کا چاہا ہوتا ہے، اس کے چاہے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ ماں باپ سے، لڑکی لڑکوں سے، عدیل و بدیل سے، وزیر و نظیر سے، شریک وسہیم سب سے پاک ہے۔ وہ «أَحَدٌ» ہے، «الصَّمَدُ» ہے، «لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ» ہے، اس کا کفو کوئی نہیں۔
صفحہ نمبر6004
الفرقان 25:4
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
صفحہ نمبر6005
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
صفحہ نمبر6006
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
صفحہ نمبر6007
الفرقان 25:5
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
صفحہ نمبر6005
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
صفحہ نمبر6006
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
صفحہ نمبر6007
الفرقان 25:6
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
صفحہ نمبر6005
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
صفحہ نمبر6006
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
صفحہ نمبر6007
الفرقان 25:7
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:8
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:9
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:10
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:11
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:12
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:13
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:14
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
الفرقان 25:15
ابدی لذتیں اور مسرتیں ٭٭
اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں، نہ حرکت کر سکیں، نہ بھاگ سکیں، نہ نکل سکیں۔
پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔ یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔ یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ” کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ “ [37-الصافات:62-70]
صفحہ نمبر6022
الفرقان 25:16
ابدی لذتیں اور مسرتیں ٭٭
اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں، نہ حرکت کر سکیں، نہ بھاگ سکیں، نہ نکل سکیں۔
پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔ یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔ یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ” کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ “ [37-الصافات:62-70]
صفحہ نمبر6022
الفرقان 25:17
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
صفحہ نمبر6024
چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
صفحہ نمبر6025
جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] الخ، ” اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ “
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
صفحہ نمبر6026
الفرقان 25:18
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
صفحہ نمبر6024
چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
صفحہ نمبر6025
جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] الخ، ” اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ “
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
صفحہ نمبر6026
الفرقان 25:19
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
صفحہ نمبر6024
چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
صفحہ نمبر6025
جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] الخ، ” اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ “
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
صفحہ نمبر6026
الفرقان 25:20
باب
کافر اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے، کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف، نیک خصائل، عمدہ اقوال، مختار افعال، ظاہر دلیلیں، اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا، ہر دانا بینا مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کر لے اور ان کی سچائی کو مان لے۔
اسی آیت جیسی اور آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] الخ، ہے۔ ” یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے نبی آئے، سب شہروں میں رہنے والے انسان ہی تھے۔ “
اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ» [21-الأنبياء:8] الخ، ” ہم نے انہیں ایسے جثے نہیں بنائے تھے کہ کھانے پینے سے وہ آزاد ہوں۔ “ ہم تو تم میں سے ایک ایک کی آزمائش ایک ایک سے کر لیا کرتے ہیں تاکہ فرمانبردار اور نافرمان ظاہر ہو جائیں۔ صابر اور غیر صابر معلوم ہو جائیں۔ تیرا رب دانا و بینا ہے، خوب جانتا ہے کہ مستحق نبوت کون ہے؟
جیسے فرمایا «اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» [6-الأنعام:124] ” منصب رسالت کی اہلیت کس میں ہے؟ اسے اللہ ہی بخوبی جانتا ہے۔ “ اسی کو اس کا بھی علم ہے کہ مستحق ہدایت کون ہیں؟ اور کون نہیں؟ چونکہ اللہ کا ارادہ بندوں کا امتحان لینے کا ہے، اس لیے نبیوں کو عموماً معمولی حالت میں رکھتا ہے ورنہ اگر انہیں بکثرت دنیا دیتا تو ان کے مال کے لالچ میں بہت سے ان کے ساتھ ہو جاتے تو پھر سچے جھوٹے مل جاتے۔
صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں خود تجھے اور تیری وجہ سے اور لوگوں کو آزمانے والا ہوں۔ [صحیح مسلم:2865]
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے رہتے۔ [مسند ابویعلیٰ:4920:صحیح]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور بادشاہ بننے میں اور نبی اور بندہ بننے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے بندہ اور نبی بننا پسند فرمایا۔ [مسند احمد:231/2:صحیح] «فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین»
صفحہ نمبر6029
الفرقان 25:21
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
الفرقان 25:22
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
الفرقان 25:23
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
الفرقان 25:24
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
الفرقان 25:25
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
الفرقان 25:26
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
الفرقان 25:27
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
الفرقان 25:28
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
الفرقان 25:29
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
الفرقان 25:30
شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [41-فصلت:26] ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ “
یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔
صفحہ نمبر6048
پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔
جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» [6-الأنعام:112] یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6049
پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔
مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔
صفحہ نمبر6050
الفرقان 25:31
شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [41-فصلت:26] ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ “
یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔
صفحہ نمبر6048
پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔
جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» [6-الأنعام:112] یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6049
پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔
مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔
صفحہ نمبر6050
الفرقان 25:32
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭
کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔
ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر6052
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [17-الإسراء:106] تلاوت فرمائی۔
اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
صفحہ نمبر6053
الفرقان 25:33
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭
کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔
ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر6052
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [17-الإسراء:106] تلاوت فرمائی۔
اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
صفحہ نمبر6053
الفرقان 25:34
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭
کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔
ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔
صفحہ نمبر6052
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [17-الإسراء:106] تلاوت فرمائی۔
اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
صفحہ نمبر6053
الفرقان 25:35
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔
فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔
جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔
صفحہ نمبر6056
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6057
اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6058
پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17]
قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31]
قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651]
پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
صفحہ نمبر6059
الفرقان 25:36
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔
فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔
جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔
صفحہ نمبر6056
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6057
اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6058
پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17]
قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31]
قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651]
پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
صفحہ نمبر6059
الفرقان 25:37
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔
فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔
جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔
صفحہ نمبر6056
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6057
اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6058
پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17]
قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31]
قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651]
پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
صفحہ نمبر6059
الفرقان 25:38
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔
فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔
جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔
صفحہ نمبر6056
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6057
اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6058
پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17]
قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31]
قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651]
پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
صفحہ نمبر6059
الفرقان 25:39
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔
فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔
جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔
صفحہ نمبر6056
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6057
اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6058
پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17]
قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31]
قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651]
پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
صفحہ نمبر6059
الفرقان 25:40
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔
فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔
جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔
صفحہ نمبر6056
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6057
اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6058
پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17]
قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31]
قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651]
پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
صفحہ نمبر6059
الفرقان 25:41
انبیاء کا مذاق ٭٭
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
صفحہ نمبر6065
الفرقان 25:42
انبیاء کا مذاق ٭٭
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
صفحہ نمبر6065
الفرقان 25:43
انبیاء کا مذاق ٭٭
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
صفحہ نمبر6065
الفرقان 25:44
انبیاء کا مذاق ٭٭
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
صفحہ نمبر6065
الفرقان 25:45
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭
اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔
جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6069
اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔
جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73]
صفحہ نمبر6070
الفرقان 25:46
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭
اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔
جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6069
اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔
جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73]
صفحہ نمبر6070
الفرقان 25:47
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭
اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔
جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6069
اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔
جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73]
صفحہ نمبر6070
الفرقان 25:48
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔
ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
صفحہ نمبر6073
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔
پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5]
علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28]
اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5]
پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔
صفحہ نمبر6074
بارش اللہ کے حکم سے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔
ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔
بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810]
صفحہ نمبر6075
الفرقان 25:49
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔
ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
صفحہ نمبر6073
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔
پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5]
علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28]
اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5]
پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔
صفحہ نمبر6074
بارش اللہ کے حکم سے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔
ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔
بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810]
صفحہ نمبر6075
الفرقان 25:50
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔
ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
صفحہ نمبر6073
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔
پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5]
علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28]
اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5]
پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔
صفحہ نمبر6074
بارش اللہ کے حکم سے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔
ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔
بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810]
صفحہ نمبر6075
الفرقان 25:51
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92]
اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3]
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
صفحہ نمبر6078
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔
اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر6079
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “
اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61]
اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
صفحہ نمبر6080
الفرقان 25:52
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92]
اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3]
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
صفحہ نمبر6078
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔
اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر6079
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “
اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61]
اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
صفحہ نمبر6080
الفرقان 25:53
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92]
اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3]
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
صفحہ نمبر6078
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔
اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر6079
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “
اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61]
اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
صفحہ نمبر6080
الفرقان 25:54
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92]
اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3]
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
صفحہ نمبر6078
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔
اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر6079
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “
اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61]
اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
صفحہ نمبر6080
الفرقان 25:55
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔
یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6084
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔
اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔
جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9]
اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “
اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر6085
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔
اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔
آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “
اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “
اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “
وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6086
الفرقان 25:56
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔
یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6084
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔
اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔
جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9]
اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “
اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر6085
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔
اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔
آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “
اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “
اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “
وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6086
الفرقان 25:57
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔
یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6084
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔
اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔
جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9]
اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “
اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر6085
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔
اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔
آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “
اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “
اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “
وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6086
الفرقان 25:58
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔
یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6084
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔
اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔
جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9]
اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “
اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر6085
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔
اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔
آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “
اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “
اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “
وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6086
الفرقان 25:59
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔
یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6084
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔
اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔
جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9]
اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “
اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر6085
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔
اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔
آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “
اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “
اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “
وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6086
الفرقان 25:60
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔
یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
صفحہ نمبر6084
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔
اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔
جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9]
اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “
اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر6085
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔
اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔
آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “
اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “
اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “
وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6086
الفرقان 25:61
اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔
اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» [78-النبأ:13] ” اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ “
اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ “ [10-يونس:5]
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» [71-نوح:15-16] ” کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ “
دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔ اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔ صحیح حدیث شریف میں ہے: اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ [صحیح مسلم:2759]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔
صفحہ نمبر6092
الفرقان 25:62
اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔
اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» [78-النبأ:13] ” اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ “
اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ “ [10-يونس:5]
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» [71-نوح:15-16] ” کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ “
دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔ اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔ صحیح حدیث شریف میں ہے: اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ [صحیح مسلم:2759]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔
صفحہ نمبر6092
الفرقان 25:63
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔
سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر6094
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6095
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]
پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
صفحہ نمبر6096
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔
جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»
یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
صفحہ نمبر6097
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
صفحہ نمبر6098
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔
اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]
بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
صفحہ نمبر6099
الفرقان 25:64
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔
سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر6094
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6095
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]
پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
صفحہ نمبر6096
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔
جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»
یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
صفحہ نمبر6097
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
صفحہ نمبر6098
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔
اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]
بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
صفحہ نمبر6099
الفرقان 25:65
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔
سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر6094
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6095
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]
پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
صفحہ نمبر6096
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔
جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»
یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
صفحہ نمبر6097
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
صفحہ نمبر6098
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔
اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]
بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
صفحہ نمبر6099
الفرقان 25:66
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔
سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر6094
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6095
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]
پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
صفحہ نمبر6096
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔
جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»
یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
صفحہ نمبر6097
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
صفحہ نمبر6098
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔
اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]
بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
صفحہ نمبر6099
الفرقان 25:67
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔
سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر6094
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6095
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ]
پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
صفحہ نمبر6096
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔
جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»
یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
صفحہ نمبر6097
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
صفحہ نمبر6098
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔
اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف]
بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف]
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
صفحہ نمبر6099
الفرقان 25:68
سب سے بڑا گناہ ٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509]
حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید]
صفحہ نمبر6104
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف]
یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6]
«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔
لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»
ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔
پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم)
آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
صفحہ نمبر6105
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (ابن ابی حاتم)
سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح]
ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
صفحہ نمبر6106
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔
پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “
اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
صفحہ نمبر6107
الفرقان 25:69
سب سے بڑا گناہ ٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509]
حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید]
صفحہ نمبر6104
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف]
یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6]
«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔
لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»
ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔
پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم)
آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
صفحہ نمبر6105
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (ابن ابی حاتم)
سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح]
ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
صفحہ نمبر6106
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔
پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “
اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
صفحہ نمبر6107
الفرقان 25:70
سب سے بڑا گناہ ٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509]
حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید]
صفحہ نمبر6104
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف]
یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6]
«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔
لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»
ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔
پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم)
آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
صفحہ نمبر6105
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (ابن ابی حاتم)
سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح]
ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
صفحہ نمبر6106
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔
پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “
اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
صفحہ نمبر6107
الفرقان 25:71
سب سے بڑا گناہ ٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509]
حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید]
صفحہ نمبر6104
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف]
یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6]
«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔
لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»
ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔
پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم)
آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
صفحہ نمبر6105
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (ابن ابی حاتم)
سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح]
ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
صفحہ نمبر6106
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔
پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “
اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
صفحہ نمبر6107
الفرقان 25:72
عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔
حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن]
بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654]
زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
صفحہ نمبر6111
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔
اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح]
اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084]
صفحہ نمبر6112
الفرقان 25:73
عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔
حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن]
بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654]
زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
صفحہ نمبر6111
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔
اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح]
اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084]
صفحہ نمبر6112
الفرقان 25:74
عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔
حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن]
بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654]
زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
صفحہ نمبر6111
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔
اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح]
اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084]
صفحہ نمبر6112
الفرقان 25:75
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭
مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔
یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر6115
الفرقان 25:76
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭
مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔
یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر6115
الفرقان 25:77
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭
مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔
یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر6115