Tafsir Ibn Kathir — التغابن 64:1 – الملك 67:30
Contents
- التغابن 64:1
- التغابن 64:2
- التغابن 64:3
- التغابن 64:4
- التغابن 64:5
- التغابن 64:6
- التغابن 64:7
- التغابن 64:8
- التغابن 64:9
- التغابن 64:10
- التغابن 64:11
- التغابن 64:12
- التغابن 64:13
- التغابن 64:14
- التغابن 64:15
- التغابن 64:16
- التغابن 64:17
- التغابن 64:18
- الطلاق 65:1
- الطلاق 65:2
- الطلاق 65:3
- الطلاق 65:4
- الطلاق 65:5
- الطلاق 65:6
- الطلاق 65:7
- الطلاق 65:8
- الطلاق 65:9
- الطلاق 65:10
- الطلاق 65:11
- الطلاق 65:12
- التحريم 66:1
- التحريم 66:2
- التحريم 66:3
- التحريم 66:4
- التحريم 66:5
- التحريم 66:6
- التحريم 66:7
- التحريم 66:8
- التحريم 66:9
- التحريم 66:10
- التحريم 66:11
- التحريم 66:12
- الملك 67:1
- الملك 67:2
- الملك 67:3
- الملك 67:4
- الملك 67:5
- الملك 67:6
- الملك 67:7
- الملك 67:8
- الملك 67:9
- الملك 67:10
- الملك 67:11
- الملك 67:12
- الملك 67:13
- الملك 67:14
- الملك 67:15
- الملك 67:16
- الملك 67:17
- الملك 67:18
- الملك 67:19
- الملك 67:20
- الملك 67:21
- الملك 67:22
- الملك 67:23
- الملك 67:24
- الملك 67:25
- الملك 67:26
- الملك 67:27
- الملك 67:28
- الملك 67:29
- الملك 67:30
التغابن 64:1
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
التغابن 64:2
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
التغابن 64:3
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
التغابن 64:4
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
التغابن 64:5
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے “۔
اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
صفحہ نمبر9541
التغابن 64:6
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے “۔
اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
صفحہ نمبر9541
التغابن 64:7
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
التغابن 64:8
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
التغابن 64:9
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
التغابن 64:10
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
التغابن 64:11
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
صفحہ نمبر9547
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں ۔ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ ۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ” امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی “۔
پھر فرمان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں “، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ” چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے “۔
صفحہ نمبر9548
التغابن 64:12
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
صفحہ نمبر9547
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں ۔ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ ۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ” امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی “۔
پھر فرمان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں “، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ” چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے “۔
صفحہ نمبر9548
التغابن 64:13
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
صفحہ نمبر9547
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں ۔ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ ۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ” امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی “۔
پھر فرمان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں “، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ” چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے “۔
صفحہ نمبر9548
التغابن 64:14
اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے “۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا “۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو “۔
بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
صفحہ نمبر9551
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [64-التغابن:14] ، یعنی ” اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» [3-آل عمران:14-15] ، یعنی ” بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے “۔
صفحہ نمبر9552
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا“ ۔ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند میں ہے سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف]
بزاز میں ہے اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے ۔ [مسند بزار:1819:ضعیف]
طبرانی میں ہے تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ ۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
صفحہ نمبر9553
التغابن 64:15
اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے “۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا “۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو “۔
بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
صفحہ نمبر9551
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [64-التغابن:14] ، یعنی ” اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» [3-آل عمران:14-15] ، یعنی ” بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے “۔
صفحہ نمبر9552
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا“ ۔ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند میں ہے سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف]
بزاز میں ہے اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے ۔ [مسند بزار:1819:ضعیف]
طبرانی میں ہے تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ ۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
صفحہ نمبر9553
التغابن 64:16
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔
بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
صفحہ نمبر9555
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔
صفحہ نمبر9556
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]
پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245] ” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر9557
التغابن 64:17
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔
بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
صفحہ نمبر9555
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔
صفحہ نمبر9556
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]
پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245] ” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر9557
التغابن 64:18
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔
بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
صفحہ نمبر9555
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔
صفحہ نمبر9556
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]
پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245] ” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر9557
الطلاق 65:1
طلاق کے مسائل ٭٭
اولاً تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی وہ اپنے میکے آ گئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ ” ان سے رجوع کر لو، وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24244:ضعیف و مرسل] یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا۔
صفحہ نمبر9560
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: ”اسے چاہیئے کہ رجوع کر لے، پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے، پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں“، یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ۔ [صحیح بخاری:4908] یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مذکور ہے۔
عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» [65-الطلاق:1] [صحیح مسلم:1471]
دوسری روایت میں «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔
صفحہ نمبر9561
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «عدت» سے مراد طہر ہے۔“ «قرء» سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو، جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں، یہیں سے باسمجھ علماء نے احکام طلاق لیے ہیں اور طلاق کی دو قسمیں کی ہیں طلاق سنت اور طلاق بدعت۔
طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟ طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9562
عدت کی حفاظت کرو ٭٭
پھر فرمان ہے ” عدت کی حفاظت کرو اور اس بارے میں اپنے ابتداء انتہا کی دیکھ بھال رکھو ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی پروردگار عالم سے ڈرتے رہو “۔ عدت کے زمانہ میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے۔
«فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔
صفحہ نمبر9563
عدت کا زمانہ مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیالات بدل جائیں، طلاق دینے پر نادم ہو، دل میں لوٹا لینے کا خیال پیدا ہو جائے اور پھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزارا کرنے لگیں، نیا کام پیدا کرنے سے مراد بھی رجعت ہے۔
اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔
ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔“
مسلم میں ہے نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ ۔ [صحیح مسلم:1480]
صفحہ نمبر9564
مسند احمد میں ہے کہ ان کے خاوند کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد پر بھیجا تھا، انہوں نے وہیں سے انہیں طلاق بھیج دی، ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جاؤ، انہوں نے کہا: نہیں! جب تک عدت ختم نہ ہو جائے میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے۔ اس نے انکار کیا، آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”نان نفقہ، گھربار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں، تم یہاں سے چلی جاؤ اور فلاں عورت کے گھر اپنی عدت گزارو ۔ پھر فرمایا: ”وہاں تو صحابہ کی آمد و رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہ گزارو وہ نابینا ہیں تمہیں دیکھ نہیں سکتے“ ۔ [مسند احمد:373/6:ضعیف]
طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ ۔ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9565
الطلاق 65:2
عائلی قوانین ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ “۔ (یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔
پھر فرمایا ہے ” اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو “۔
ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا ”اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح]
عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں “۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے“، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو “۔
صفحہ نمبر9566
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ”جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ”سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ ۔ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» [16-النحل:90] ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» [65-الطلاق:2] ، میں ہے۔“
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ”لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔“
ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ”وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ”یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔“
آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ”عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ” متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287]
صفحہ نمبر9567
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل]
صفحہ نمبر9568
جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے ۔ [طبرانی صغیر:321:ضعیف]
صفحہ نمبر9569
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد ۔ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» [13-الرعد:8] ” ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے “۔
صفحہ نمبر9570
الطلاق 65:3
عائلی قوانین ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ “۔ (یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔
پھر فرمایا ہے ” اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو “۔
ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا ”اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح]
عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں “۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے“، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو “۔
صفحہ نمبر9566
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ”جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ”سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ ۔ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» [16-النحل:90] ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» [65-الطلاق:2] ، میں ہے۔“
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ”لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔“
ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ”وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ”یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔“
آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ”عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ” متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287]
صفحہ نمبر9567
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل]
صفحہ نمبر9568
جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے ۔ [طبرانی صغیر:321:ضعیف]
صفحہ نمبر9569
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد ۔ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» [13-الرعد:8] ” ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے “۔
صفحہ نمبر9570
الطلاق 65:4
مسائل عدت ٭٭
جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» [2-البقرة:234] ” تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں “۔
اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔
صفحہ نمبر9572
دوسرا قول یہ ہے کہ ”ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔“ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف]
پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ” وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے “، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔
ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔“
صفحہ نمبر9573
صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی“ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں“ یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے“ ۔ [صحیح بخاری:4909] یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر9574
عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ ۔ [صحیح بخاری:3991]
صفحہ نمبر9575
صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ” حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے “۔ [صحیح بخاری:4910]
ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔
صفحہ نمبر9576
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے “۔
صفحہ نمبر9577
الطلاق 65:5
مسائل عدت ٭٭
جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» [2-البقرة:234] ” تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں “۔
اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔
صفحہ نمبر9572
دوسرا قول یہ ہے کہ ”ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔“ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف]
پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ” وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے “، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔
ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔“
صفحہ نمبر9573
صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی“ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں“ یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے“ ۔ [صحیح بخاری:4909] یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر9574
عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ ۔ [صحیح بخاری:3991]
صفحہ نمبر9575
صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ” حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے “۔ [صحیح بخاری:4910]
ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔
صفحہ نمبر9576
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے “۔
صفحہ نمبر9577
الطلاق 65:6
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔
صفحہ نمبر9579
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے “۔
اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔ اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ” رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے “۔
پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔
صفحہ نمبر9580
پھر فرماتا ہے کہ ” جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے “۔
ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔ فرمایا ” تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے “، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» [2-البقرۃ:233] یعنی ” بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو “۔
پھر فرماتا ہے ” اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے “۔
صفحہ نمبر9581
پھر فرماتا ہے کہ ” بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا “۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“
جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔“
طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ [طبرانی:3439:ضعیف]
جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:6] ” بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے “۔
صفحہ نمبر9582
اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭
مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ [مسند احمد:421/2:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔“ [مسند احمد:513/2:ضعیف]
صفحہ نمبر9583
الطلاق 65:7
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔
صفحہ نمبر9579
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے “۔
اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔ اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ” رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے “۔
پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔
صفحہ نمبر9580
پھر فرماتا ہے کہ ” جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے “۔
ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔ فرمایا ” تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے “، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» [2-البقرۃ:233] یعنی ” بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو “۔
پھر فرماتا ہے ” اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے “۔
صفحہ نمبر9581
پھر فرماتا ہے کہ ” بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا “۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“
جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔“
طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ [طبرانی:3439:ضعیف]
جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:6] ” بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے “۔
صفحہ نمبر9582
اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭
مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ [مسند احمد:421/2:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔“ [مسند احمد:513/2:ضعیف]
صفحہ نمبر9583
الطلاق 65:8
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔
«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» [15-الحجر:9] ، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔
پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔
چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشوریٰ:52] یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔
پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر9585
الطلاق 65:9
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔
«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» [15-الحجر:9] ، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔
پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔
چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشوریٰ:52] یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔
پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر9585
الطلاق 65:10
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔
«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» [15-الحجر:9] ، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔
پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔
چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشوریٰ:52] یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔
پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر9585
الطلاق 65:11
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔
«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» [15-الحجر:9] ، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔
پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔
چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشوریٰ:52] یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔
پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر9585
الطلاق 65:12
حیرت، افزا شان ذوالجلال ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنی عظیم الشان سلطنت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ مخلوق اس کی عظمت و عزت کا خیال کر کے اس کے فرمان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عامل بن کر اسے خوش کرے، تو فرمایا کہ ” ساتوں آسمانوں کا خلاق اللہ تعالیٰ ہے “، جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا» [71-نوح:15] ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ پاک نے ساتوں آسمانوں کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے؟ “
اور جگہ ارشاد ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ» [17-الاسراء:44] یعنی ” ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب اس اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں “۔ پھر فرماتا ہے ” اسی کے مثال زمینیں ہیں “۔
جیسے کہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے جو شخص ظلم کر کے کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے لے گا اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3196]
صحیح بخاری میں ہے اسے ساتویں زمین تک دھنسایا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3196] میں نے اس کی تمام سندیں اور کل الفاظ ابتداء اور انتہا میں زمین کی پیدائش کے ذکر میں بیان کر دیئے ہیں۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»
جن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہفت اقلیم ہے انہوں نے بے فائدہ دوڑ بھاگ کی ہے اور اختلاف بے جا میں پھنس گئے ہیں اور بلا دلیل قرآن حدیث کا صریح خلاف کیا ہے۔ سورۃ الحدید میں آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» [57- الحديد:3] ، کی تفسیر میں ساتوں زمینوں کا اور ان کے درمیان کی دوری کا اور ان کی موٹائی کا جو پانچ سو سال کی ہے پورا بیان ہو چکا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں بھی ہے ساتوں آسمان اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی لمبے چوڑے بہت بڑے چٹیل میدان میں ایک چھلا پڑا ہو ۔ [البدایة و والنهایة:14/1]
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”اگر میں اس کی تفسیر تمہارے سامنے بیان کروں تو اسے نہ مانو گے اور نہ ماننا جھوٹا جاننا ہے۔“ اور روایت میں ہے کہ کسی شخص نے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ”میں کیسے باور کر لوں کہ جو میں تجھے بتاؤں گا تو اس کا انکار کرے گا؟“
صفحہ نمبر9589
اور روایت میں مروی ہے کہ ہر زمین میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور اس زمین کی مخلوق کے ہے اور ابن مثنی والی اس روایت میں آیا ہے ہر آسمان میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے ہے۔
بیہقی کی کتاب «الْاَسْمَاءُ والصَّفَات» میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک میں نبی ہے مثل تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آدم ہیں مثل آدم علیہ السلام کے اور نوح ہیں مثل نوح علیہ السلام کے اور ابراہیم ہیں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور عیسیٰ ہیں مثل عیسیٰ علیہ السلام کے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:145/12]
پھر امام بیہقی نے ایک اور روایت بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وارد کی ہے اور فرمایا ہے اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ بالکل شاذ ہے ابوالضحیٰ جو اس کے ایک راوی ہیں میرے علم میں تو ان کی متابعت کوئی نہیں کرتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9590
مخلوق خدا میں غور و خوض ٭٭
ایک مرسل اور بہت ہی منکر روایت ابن ابی الدنیا لائے ہیں جس میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مجمع میں تشریف لائے دیکھا کہ سب کسی غور و فکر میں چپ چاپ ہیں، پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ جواب ملا، اللہ کی مخلوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرمایا: ”ٹھیک ہے مخلوقات پر نظریں دوڑاؤ لیکن کہیں اللہ کی بابت غور و خوض میں نہ پڑ جانا، سنو اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے اس کی سفیدی اس کا نور ہے“ یا فرمایا ”اس کا نور اس کی سفیدی ہے، سورج کا راستہ چالیس دن کا ہے، وہاں اللہ کی ایک مخلوق ہے جس نے ایک آنکھ جھکپنے کے برابر بھی کبھی اس کی نافرمانی نہیں کی“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا: پھر شیطان ان سے کہاں ہیں؟ فرمایا: ”انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ شیطان پیدا بھی کیا گیا ہے یا نہیں؟“ پوچھا: کیا وہ بھی انسان ہیں؟ فرمایا: ”انہیں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا بھی علم نہیں“ [كتابه التفكر والاعتبار:منکر]
«فالْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطلاق کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔
صفحہ نمبر9591
التحريم 66:1
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
صفحہ نمبر9592
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
صفحہ نمبر9593
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
صفحہ نمبر9594
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
صفحہ نمبر9595
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ ۔ [صحیح بخاری:4912]
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر9596
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ [صحیح بخاری:5268]
صفحہ نمبر9597
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9598
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
صفحہ نمبر9599
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
صفحہ نمبر9600
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صفحہ نمبر9601
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ [صحیح بخاری:4931]
صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔
صفحہ نمبر9602
التحريم 66:2
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
صفحہ نمبر9592
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
صفحہ نمبر9593
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
صفحہ نمبر9594
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
صفحہ نمبر9595
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ ۔ [صحیح بخاری:4912]
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر9596
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ [صحیح بخاری:5268]
صفحہ نمبر9597
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9598
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
صفحہ نمبر9599
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
صفحہ نمبر9600
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صفحہ نمبر9601
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ [صحیح بخاری:4931]
صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔
صفحہ نمبر9602
التحريم 66:3
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
صفحہ نمبر9592
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
صفحہ نمبر9593
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
صفحہ نمبر9594
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
صفحہ نمبر9595
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ ۔ [صحیح بخاری:4912]
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر9596
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ [صحیح بخاری:5268]
صفحہ نمبر9597
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9598
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
صفحہ نمبر9599
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
صفحہ نمبر9600
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صفحہ نمبر9601
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ [صحیح بخاری:4931]
صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔
صفحہ نمبر9602
التحريم 66:4
باب
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» [66-التحريم:4] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔
اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ” جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے “۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر9605
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری [صحیح بخاری:4916]
پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ [صحیح بخاری:4913]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [66-التحريم:1] ، نازل ہوئی ۔ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔
«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9606
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ” ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے “، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔
ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو ۔ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
صفحہ نمبر9607
التحريم 66:5
باب
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» [66-التحريم:4] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔
اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ” جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے “۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر9605
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری [صحیح بخاری:4916]
پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ [صحیح بخاری:4913]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [66-التحريم:1] ، نازل ہوئی ۔ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔
«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9606
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ” ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے “، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔
ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو ۔ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
صفحہ نمبر9607
التحريم 66:6
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ” اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ “۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ ، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
صفحہ نمبر9609
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ ”اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔“
ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» [21-الانبیاء:98] ” تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو “، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔
ایک رویات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ ، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
صفحہ نمبر9610
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ” اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
صفحہ نمبر9611
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ” آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا “۔
پھر ارشاد ہے کہ ” اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے “۔
نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف]
اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9612
التحريم 66:7
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ” اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ “۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ ، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
صفحہ نمبر9609
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ ”اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔“
ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» [21-الانبیاء:98] ” تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو “، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔
ایک رویات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ ، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
صفحہ نمبر9610
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ” اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
صفحہ نمبر9611
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ” آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا “۔
پھر ارشاد ہے کہ ” اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے “۔
نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف]
اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9612
التحريم 66:8
خالص توبہ ٭٭
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے“ ۔ [مسند احمد:33/1:صحیح]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں کہا گیا تھا کہ اس امت کے آخری لوگ قیامت کے قریب کیا کیا کام کریں گے؟ ان میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی یا لونڈی سے اس کے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق حرام کر دیا ہے اور جس فعل پر اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہوتی ہے، اسی طرح مرد مرد سے بدفعلی کریں گے جو حرام اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے، ان لوگوں کی نماز بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں جب تک کہ یہ «توبتہ النصوح» نہ کریں۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا «توبتہ النصوح» کیا ہے؟ فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصور سے گناہ ہو گیا، پھر اس پر نادم ہونا، اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا اور پھر اس گناہ کی طرف مائل نہ ہونا۔“
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «توبتہ النصوح» یہ ہے کہ جیسے گناہ کی محبت تھی ویسا ہی بغض دل میں بیٹھ جائے اور جب وہ گناہ یاد آئے اس سے استغفار ہو، جب کوئی شخص توبہ کرنے پر پختگی کر لیتا ہے اور اپنی توبہ پر جما رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام اگلی خطائیں مٹا دیتا ہے، جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کی تمام برائیاں اسلام فنا کر دیتا ہے اور توبہ سے پہلے کی تمام خطائیں توبہ سوخت کر دیتی ہے ۔ [صحیح مسلم:121]
اب رہی یہ بات کہ «توبتہ النصوح» میں یہ شرط بھی ہے کہ توبہ کرنے والا پھر مرتے دم تک یہ گناہ نہ کرے۔ جیسے کہ احادیث و آثار ابھی بیان ہوئے جن میں ہے کہ پھر کبھی نہ کرے، یا صرف اس کا عزم راسخ کافی ہے کہ اسے اب کبھی نہ کروں گا گو پھر بہ متضائے بشریت بھولے چوکے ہو جائے، جیسے کہ ابھی حدیث گزری کہ توبہ اپنے سے پہلے گناہوں کو بالکل مٹا دیتی ہے، تو تنہا توبہ کے ساتھ ہی گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا پھر مرتے دم تک اس کام کا نہ ہونا گناہ کی معافی کی شرط کے طور پر ہے؟
صفحہ نمبر9614
پس پہلی بات کی دلیل تو یہ صحیح حدیث ہے کہ جو شخص اسلام میں نیکیاں کرے وہ اپنی جاہلیت کی برائیوں پر پکڑا نہ جائے گا اور جو اسلام لا کر بھی برائیوں میں مبتلا رہے وہ اسلام اور جاہلیت کی دونوں برائیوں میں پکڑا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:6921]
پس اسلام جو کہ گناہوں کو دور کرنے میں توبہ سے بڑھ کر ہے، جب اس کے بعد بھی اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے پہلی برائیوں میں بھی پکڑ ہوئی، تو توبہ کے بعد بطور اولیٰ ہونی چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
لفظ «عَسٰی» گو تمنا، امید اور امکان کے معنی دیتا ہے لیکن کلام اللہ میں اس کے معنی تحقیق کے ہوتے ہیں پس فرمان ہے کہ خالص توبہ کرنے والے قطعاً اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں گے اور سرسبز و شاداب جنتوں میں آئیں گے۔
پھر ارشاد ہے ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو ہرگز شرمندہ نہ کرے گا، انہیں اللہ کی طرف سے نور عطا ہو گا جو ان کے آگے آگے اور دائیں طرف ہو گا، اور سب اندھیروں میں ہوں گے اور یہ روشنی میں ہوں گے “، جیسے کہ پہلے سورۃ الحدید کی تفسیر میں گزر چکا، جب یہ دیکھیں گے کہ منافقوں کو جو روشنی ملی تھی عین ضرورت کے وقت وہ ان سے چھین لی گئی اور وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے تو دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو ہماری روشنی تو آخر وقت تک ہمارے ساتھ ہی رہے ہمارا نور ایمان بجھنے نہ پائے۔
صفحہ نمبر9615
بنو کنانہ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو سنا ” «الَّلهُمَّ لاَ تُخْزِنِيْ يَوْمَ الْقِيَامَة» میرے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا“ ۔ [مسند احمد:234/4:صحیح]
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن سب سے پہلے سجدے کی اجازت مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھ ہی کو مرحمت ہو گی میں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظریں ڈال کر اپنی امت کو پہچان لوں گا“ ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ وہاں تو بہت سی امتیں مخلوط ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کی ایک نشانی تو یہ ہے کہ ان کے اعضاء وضو منور ہوں گے، چمک رہے ہوں گے کسی اور امت میں یہ بات نہ ہو گی دوسری پہچان یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تیسری نشانی یہ ہو گی کہ سجدے کے نشان ان کی پیشانیوں پر ہوں گے جن سے میں پہچان لوں گا چوتھی علامت یہ ہے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہو گا“ ۔ [مسند احمد:199/5:ضعیف]
صفحہ نمبر9616
التحريم 66:9
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے “۔
پھر مثال دے کر سمجھایا کہ ” کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا، خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ علیہم السلام انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا “۔
یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد «خیانت فی الدین» ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
صفحہ نمبر9617
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف]
یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“
اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ”جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]
صفحہ نمبر9618
التحريم 66:10
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے “۔
پھر مثال دے کر سمجھایا کہ ” کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا، خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ علیہم السلام انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا “۔
یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد «خیانت فی الدین» ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
صفحہ نمبر9617
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف]
یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“
اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ”جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]
صفحہ نمبر9618
التحريم 66:11
سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی) ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا “۔
جیسے اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً» [3-آل عمران:28] الخ ” ایمانداروں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں، جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں، ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لیے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔“
صفحہ نمبر9620
سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا، سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی، فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ علیہ السلام غالب رہے، بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے رب پر ایمان لائی۔
فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو، جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لیے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لیے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں، اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ ”اللہ! جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما“، اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے۔“ اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ [طبرانی:4379:ضعیف]
صفحہ نمبر9621
پھر دعا کرتی ہیں کہ ”مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ“، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم تھا۔
ان کے ایمان لانے کا واقعہ ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”فرعون کے داروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا، وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی، اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوں اس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرے باپ کا اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی، فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے، میں اسی کی عبادت کرتی ہوں، فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں، پھر ایک دن آیا اور کہا: اب تیرے خیالات درست ہوئے؟ وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے، فرعون نے کہا: اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا، انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال، اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا، جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا: اے ماں! خوش ہو جا، تیرے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی۔ انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں، فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنے ہی قتل کرا دیا۔
صفحہ نمبر9622
اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی، فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوشخبری سنی تھی، اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوشخبری سنی اور ایمان لے آئیں، ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا۔
یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی، اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟ تم اسے کیا جانتے ہو؟ سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا: تمہیں نہیں معلوم وہ بھی میرے سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے، پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیا، اس وقت آسیہ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ”پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا“، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں، ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا، لوگو! تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقیناً اس کا دماغ ٹھکانے نہیں، الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں“ «رضی اللہ عنہا» ۔
صفحہ نمبر9623
التحريم 66:12
مریم علیہا السلام ٭٭
پھر دوسری مثال مریم بنت عمران علیہا السلام کی بیان کی جاتی ہے کہ ” وہ نہایت پاک دامن تھیں، ہم نے اپنے فرشتے جبرائیل علیہ السلام کی معرفت ان میں روح پھونکی “۔ جبرائیل علیہ السلام کو انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دیں، اسی سے حمل رہ گیا اور عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
پس فرمان ہے کہ ” میں نے اس میں اپنی روح پھونکی “، پھر مریم علیہ السلام کی اور تعریف ہو رہی ہے کہ وہ ” اپنے رب کی تقدیر اور شریعت کو سچ ماننے والی تھیں اور پوری فرمانبردار تھیں “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟، انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں“ ۔ [مسند احمد:293/1:صحیح]
صفحہ نمبر9624
صحیح بخاری، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور مریم بنت عمران ہیں اور خدیجہ بنت خویلد ہیں اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر“ ۔ [صحیح بخاری:3769] ہم نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کے بیان کے موقعہ پر اس حدیث کی سندیں اور الفاظ بیان کر دیئے ہیں۔ «فالحمداللہ»
اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی سورت کی آیت کے الفاظ «سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحریم:5] کی تفسیر کے موقعہ پر وہ حدیث بھی ہم بیان کر چکے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتی بیویوں میں ایک آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم بھی ہیں ۔
صفحہ نمبر9625
الحمداللہ سورۃ التحریم کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے اٹھائیسویں پارے «قد سمع اللہ» کی تفسیر ختم ہوئی، پروردگار ہمیں اپنے کلام کی سچی سمجھ عطا فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔ باری تعالیٰ تو اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں کر لے «آمین!» ۔
صفحہ نمبر9626
الملك 67:1
تفسیر سورۃ الملک:
مسند احمد میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کریم میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔“ ابوداؤد، نسائی، اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:حسن]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں۔ تاریخ ابن عساکر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کا ایک شخص مر گیا جس کے ساتھ کتاب اللہ میں سے سوائے سورۃ «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» کے اور کوئی چیز نہ تھی جب اسے دفن کیا گیا اور فرشتہ اس کے پاس آیا تو یہ سورت اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ فرشتے نے کہا تو کتاب اللہ ہے میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا، تجھے معلوم ہے کہ تیرے یا اپنے یا اس میت کے کسی نفع نقصان کا مجھے اختیار نہیں اگر تو یہی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر اس کی سفارش کر چنانچہ یہ سورت اللہ عزوجل کے پاس جائے گی اور کہے گی، اے اللہ! تیری کتاب میں سے مجھے فلاں شخص نے سیکھا پڑھا اب کیا تو اسے آگ میں جلائے گا؟ کیا باوجودیکہ میں اس کے سینے میں محفوظ ہوں تو اسے عذاب کرے گا؟ اگر یہی کرنا ہے تو مجھے اپنی کتاب میں سے مٹا ڈال۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس وقت سخت غضبناک ہے۔ یہ کہے گی مجھے حق ہے کہ میں اپنی ناراضی ظاہر کروں۔ پس جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جا میں نے اسے تجھے دیا اور تیری سفارش قبول کر لی۔ اب یہ سورت اس کے پاس جائے گی اور عذاب کے فرشتے کو ہٹا دے گی اور اس کے منہ سے اپنا منہ ملا کر کہے گی اس منہ کو مرحبا ہو یہی میری تلاوت کیا کرتا تھا اس سینے کو صد شاباش ہو اس نے مجھے یاد کر رکھا تھا، ان دونوں قدموں کو مبارکباد ہو، یہیں کھڑے ہو کر راتوں کو میری قرأت کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے اور یہ سورت قبر میں اس کی مونس اور غم خوار بن جائے گی اور کوئی ڈر و دہشت اسے نہیں پہنچنے دے گی اس حدیث کے سنتے ہی تمام چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام نے اسے سیکھ لیا اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «منجیہ» رکھا، یعنی نجات دلوانے والی سورت، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ حدیث بہت ہی منکر ہے اس کے راوی فرات بن سائب کو امام احمد امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام ابوحاتم، امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ ضعیف کہتے ہیں۔
اور دوسری سند سے مروی ہے کہ یہ قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب اثبات عذاب قبر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مرفوع بھی بیان کی ہے اور موقوف بھی۔ اس میں بھی جو مضمون ہے وہ اس کی شہادت میں کام دے سکتا ہے۔ ہم نے اسے احکام کبریٰ کی کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔ «وللہ الحمد»
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کی ایک سورت ہے جس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے لڑ جھگڑ کر اسے جنت میں داخل کرایا وہ سورۃ تبارک ہے۔ [مجمع الزوائد:130/7،حسن]
ترمذی شریف میں ہے کہ کسی صحابی نے جنگل میں ایک ڈیرا لگایا جہاں ایک قبر بھی تھی لیکن اسے علم نہ تھا اس نے سنا کہ کوئی سورۃ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے اسے پورا پڑھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت روکنے والی ہے، یہ سورت نجات دلوانے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلواتی ہے“، یہ حدیث غریب ہے، [سنن ترمذي:2890،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورۃ السجدہ، اور سورۃ الملك ضرور پڑھ لیا کرتے تھے، [سنن ترمذي:2892،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طاؤس کی روایت ہے کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی اور سورتوں پر ستر نیکیاں فضیلت رکھتی ہیں، طبرانی میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے“ یعنی سورۃ تبارک۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس کا راوی ابراہیم ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد:11429،ضعیف] اور اسی جیسی روایت سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
مسند عبد بن حمید میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا آ میں تجھے ایک ایسا تحفہ دوں کہ تو خوش ہو جائے، سورة الملك پڑھا کر اور اسے اپنے اہل و عیال کو، اولاد کو، گھر کے بچوں کو اور پڑوسیوں کو سکھا یہ سورت نجات دلوانے والی اور شفاعت کرنے والی ہے، قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے سفارش کرے گی اور اسے عذاب آگ سے بچا لے گی اور عذاب قبر سے بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے ایک ایک امتی کے دل میں یہ ہو۔ [مسند عبد بن حمید،ص:206،ضعیف]
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ” تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے “۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» [2-البقرة:28] ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا “ “، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» [2-البقرة:28] ” وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا “۔
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
صفحہ نمبر9627
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر9628
الملك 67:2
تفسیر سورۃ الملک:
مسند احمد میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کریم میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔“ ابوداؤد، نسائی، اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:حسن]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں۔ تاریخ ابن عساکر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کا ایک شخص مر گیا جس کے ساتھ کتاب اللہ میں سے سوائے سورۃ «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» کے اور کوئی چیز نہ تھی جب اسے دفن کیا گیا اور فرشتہ اس کے پاس آیا تو یہ سورت اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ فرشتے نے کہا تو کتاب اللہ ہے میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا، تجھے معلوم ہے کہ تیرے یا اپنے یا اس میت کے کسی نفع نقصان کا مجھے اختیار نہیں اگر تو یہی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر اس کی سفارش کر چنانچہ یہ سورت اللہ عزوجل کے پاس جائے گی اور کہے گی، اے اللہ! تیری کتاب میں سے مجھے فلاں شخص نے سیکھا پڑھا اب کیا تو اسے آگ میں جلائے گا؟ کیا باوجودیکہ میں اس کے سینے میں محفوظ ہوں تو اسے عذاب کرے گا؟ اگر یہی کرنا ہے تو مجھے اپنی کتاب میں سے مٹا ڈال۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس وقت سخت غضبناک ہے۔ یہ کہے گی مجھے حق ہے کہ میں اپنی ناراضی ظاہر کروں۔ پس جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جا میں نے اسے تجھے دیا اور تیری سفارش قبول کر لی۔ اب یہ سورت اس کے پاس جائے گی اور عذاب کے فرشتے کو ہٹا دے گی اور اس کے منہ سے اپنا منہ ملا کر کہے گی اس منہ کو مرحبا ہو یہی میری تلاوت کیا کرتا تھا اس سینے کو صد شاباش ہو اس نے مجھے یاد کر رکھا تھا، ان دونوں قدموں کو مبارکباد ہو، یہیں کھڑے ہو کر راتوں کو میری قرأت کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے اور یہ سورت قبر میں اس کی مونس اور غم خوار بن جائے گی اور کوئی ڈر و دہشت اسے نہیں پہنچنے دے گی اس حدیث کے سنتے ہی تمام چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام نے اسے سیکھ لیا اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «منجیہ» رکھا، یعنی نجات دلوانے والی سورت، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ حدیث بہت ہی منکر ہے اس کے راوی فرات بن سائب کو امام احمد امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام ابوحاتم، امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ ضعیف کہتے ہیں۔
اور دوسری سند سے مروی ہے کہ یہ قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب اثبات عذاب قبر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مرفوع بھی بیان کی ہے اور موقوف بھی۔ اس میں بھی جو مضمون ہے وہ اس کی شہادت میں کام دے سکتا ہے۔ ہم نے اسے احکام کبریٰ کی کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔ «وللہ الحمد»
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کی ایک سورت ہے جس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے لڑ جھگڑ کر اسے جنت میں داخل کرایا وہ سورۃ تبارک ہے۔ [مجمع الزوائد:130/7،حسن]
ترمذی شریف میں ہے کہ کسی صحابی نے جنگل میں ایک ڈیرا لگایا جہاں ایک قبر بھی تھی لیکن اسے علم نہ تھا اس نے سنا کہ کوئی سورۃ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے اسے پورا پڑھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت روکنے والی ہے، یہ سورت نجات دلوانے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلواتی ہے“، یہ حدیث غریب ہے، [سنن ترمذي:2890،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورۃ السجدہ، اور سورۃ الملك ضرور پڑھ لیا کرتے تھے، [سنن ترمذي:2892،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طاؤس کی روایت ہے کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی اور سورتوں پر ستر نیکیاں فضیلت رکھتی ہیں، طبرانی میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے“ یعنی سورۃ تبارک۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس کا راوی ابراہیم ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد:11429،ضعیف] اور اسی جیسی روایت سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
مسند عبد بن حمید میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا آ میں تجھے ایک ایسا تحفہ دوں کہ تو خوش ہو جائے، سورة الملك پڑھا کر اور اسے اپنے اہل و عیال کو، اولاد کو، گھر کے بچوں کو اور پڑوسیوں کو سکھا یہ سورت نجات دلوانے والی اور شفاعت کرنے والی ہے، قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے سفارش کرے گی اور اسے عذاب آگ سے بچا لے گی اور عذاب قبر سے بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے ایک ایک امتی کے دل میں یہ ہو۔ [مسند عبد بن حمید،ص:206،ضعیف]
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ” تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے “۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» [2-البقرة:28] ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا “ “، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» [2-البقرة:28] ” وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا “۔
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
صفحہ نمبر9627
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر9628
الملك 67:3
تفسیر سورۃ الملک:
مسند احمد میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کریم میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔“ ابوداؤد، نسائی، اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:حسن]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں۔ تاریخ ابن عساکر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کا ایک شخص مر گیا جس کے ساتھ کتاب اللہ میں سے سوائے سورۃ «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» کے اور کوئی چیز نہ تھی جب اسے دفن کیا گیا اور فرشتہ اس کے پاس آیا تو یہ سورت اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ فرشتے نے کہا تو کتاب اللہ ہے میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا، تجھے معلوم ہے کہ تیرے یا اپنے یا اس میت کے کسی نفع نقصان کا مجھے اختیار نہیں اگر تو یہی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر اس کی سفارش کر چنانچہ یہ سورت اللہ عزوجل کے پاس جائے گی اور کہے گی، اے اللہ! تیری کتاب میں سے مجھے فلاں شخص نے سیکھا پڑھا اب کیا تو اسے آگ میں جلائے گا؟ کیا باوجودیکہ میں اس کے سینے میں محفوظ ہوں تو اسے عذاب کرے گا؟ اگر یہی کرنا ہے تو مجھے اپنی کتاب میں سے مٹا ڈال۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس وقت سخت غضبناک ہے۔ یہ کہے گی مجھے حق ہے کہ میں اپنی ناراضی ظاہر کروں۔ پس جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جا میں نے اسے تجھے دیا اور تیری سفارش قبول کر لی۔ اب یہ سورت اس کے پاس جائے گی اور عذاب کے فرشتے کو ہٹا دے گی اور اس کے منہ سے اپنا منہ ملا کر کہے گی اس منہ کو مرحبا ہو یہی میری تلاوت کیا کرتا تھا اس سینے کو صد شاباش ہو اس نے مجھے یاد کر رکھا تھا، ان دونوں قدموں کو مبارکباد ہو، یہیں کھڑے ہو کر راتوں کو میری قرأت کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے اور یہ سورت قبر میں اس کی مونس اور غم خوار بن جائے گی اور کوئی ڈر و دہشت اسے نہیں پہنچنے دے گی اس حدیث کے سنتے ہی تمام چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام نے اسے سیکھ لیا اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «منجیہ» رکھا، یعنی نجات دلوانے والی سورت، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ حدیث بہت ہی منکر ہے اس کے راوی فرات بن سائب کو امام احمد امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام ابوحاتم، امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ ضعیف کہتے ہیں۔
اور دوسری سند سے مروی ہے کہ یہ قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب اثبات عذاب قبر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مرفوع بھی بیان کی ہے اور موقوف بھی۔ اس میں بھی جو مضمون ہے وہ اس کی شہادت میں کام دے سکتا ہے۔ ہم نے اسے احکام کبریٰ کی کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔ «وللہ الحمد»
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کی ایک سورت ہے جس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے لڑ جھگڑ کر اسے جنت میں داخل کرایا وہ سورۃ تبارک ہے۔ [مجمع الزوائد:130/7،حسن]
ترمذی شریف میں ہے کہ کسی صحابی نے جنگل میں ایک ڈیرا لگایا جہاں ایک قبر بھی تھی لیکن اسے علم نہ تھا اس نے سنا کہ کوئی سورۃ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے اسے پورا پڑھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت روکنے والی ہے، یہ سورت نجات دلوانے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلواتی ہے“، یہ حدیث غریب ہے، [سنن ترمذي:2890،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورۃ السجدہ، اور سورۃ الملك ضرور پڑھ لیا کرتے تھے، [سنن ترمذي:2892،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طاؤس کی روایت ہے کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی اور سورتوں پر ستر نیکیاں فضیلت رکھتی ہیں، طبرانی میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے“ یعنی سورۃ تبارک۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس کا راوی ابراہیم ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد:11429،ضعیف] اور اسی جیسی روایت سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
مسند عبد بن حمید میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا آ میں تجھے ایک ایسا تحفہ دوں کہ تو خوش ہو جائے، سورة الملك پڑھا کر اور اسے اپنے اہل و عیال کو، اولاد کو، گھر کے بچوں کو اور پڑوسیوں کو سکھا یہ سورت نجات دلوانے والی اور شفاعت کرنے والی ہے، قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے سفارش کرے گی اور اسے عذاب آگ سے بچا لے گی اور عذاب قبر سے بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے ایک ایک امتی کے دل میں یہ ہو۔ [مسند عبد بن حمید،ص:206،ضعیف]
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ” تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے “۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» [2-البقرة:28] ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا “ “، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» [2-البقرة:28] ” وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا “۔
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
صفحہ نمبر9627
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر9628
الملك 67:4
تفسیر سورۃ الملک:
مسند احمد میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کریم میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔“ ابوداؤد، نسائی، اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:حسن]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں۔ تاریخ ابن عساکر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کا ایک شخص مر گیا جس کے ساتھ کتاب اللہ میں سے سوائے سورۃ «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» کے اور کوئی چیز نہ تھی جب اسے دفن کیا گیا اور فرشتہ اس کے پاس آیا تو یہ سورت اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ فرشتے نے کہا تو کتاب اللہ ہے میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا، تجھے معلوم ہے کہ تیرے یا اپنے یا اس میت کے کسی نفع نقصان کا مجھے اختیار نہیں اگر تو یہی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر اس کی سفارش کر چنانچہ یہ سورت اللہ عزوجل کے پاس جائے گی اور کہے گی، اے اللہ! تیری کتاب میں سے مجھے فلاں شخص نے سیکھا پڑھا اب کیا تو اسے آگ میں جلائے گا؟ کیا باوجودیکہ میں اس کے سینے میں محفوظ ہوں تو اسے عذاب کرے گا؟ اگر یہی کرنا ہے تو مجھے اپنی کتاب میں سے مٹا ڈال۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس وقت سخت غضبناک ہے۔ یہ کہے گی مجھے حق ہے کہ میں اپنی ناراضی ظاہر کروں۔ پس جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جا میں نے اسے تجھے دیا اور تیری سفارش قبول کر لی۔ اب یہ سورت اس کے پاس جائے گی اور عذاب کے فرشتے کو ہٹا دے گی اور اس کے منہ سے اپنا منہ ملا کر کہے گی اس منہ کو مرحبا ہو یہی میری تلاوت کیا کرتا تھا اس سینے کو صد شاباش ہو اس نے مجھے یاد کر رکھا تھا، ان دونوں قدموں کو مبارکباد ہو، یہیں کھڑے ہو کر راتوں کو میری قرأت کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے اور یہ سورت قبر میں اس کی مونس اور غم خوار بن جائے گی اور کوئی ڈر و دہشت اسے نہیں پہنچنے دے گی اس حدیث کے سنتے ہی تمام چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام نے اسے سیکھ لیا اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «منجیہ» رکھا، یعنی نجات دلوانے والی سورت، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ حدیث بہت ہی منکر ہے اس کے راوی فرات بن سائب کو امام احمد امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام ابوحاتم، امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ ضعیف کہتے ہیں۔
اور دوسری سند سے مروی ہے کہ یہ قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب اثبات عذاب قبر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مرفوع بھی بیان کی ہے اور موقوف بھی۔ اس میں بھی جو مضمون ہے وہ اس کی شہادت میں کام دے سکتا ہے۔ ہم نے اسے احکام کبریٰ کی کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔ «وللہ الحمد»
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کی ایک سورت ہے جس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے لڑ جھگڑ کر اسے جنت میں داخل کرایا وہ سورۃ تبارک ہے۔ [مجمع الزوائد:130/7،حسن]
ترمذی شریف میں ہے کہ کسی صحابی نے جنگل میں ایک ڈیرا لگایا جہاں ایک قبر بھی تھی لیکن اسے علم نہ تھا اس نے سنا کہ کوئی سورۃ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے اسے پورا پڑھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت روکنے والی ہے، یہ سورت نجات دلوانے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلواتی ہے“، یہ حدیث غریب ہے، [سنن ترمذي:2890،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورۃ السجدہ، اور سورۃ الملك ضرور پڑھ لیا کرتے تھے، [سنن ترمذي:2892،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طاؤس کی روایت ہے کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی اور سورتوں پر ستر نیکیاں فضیلت رکھتی ہیں، طبرانی میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے“ یعنی سورۃ تبارک۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس کا راوی ابراہیم ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد:11429،ضعیف] اور اسی جیسی روایت سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
مسند عبد بن حمید میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا آ میں تجھے ایک ایسا تحفہ دوں کہ تو خوش ہو جائے، سورة الملك پڑھا کر اور اسے اپنے اہل و عیال کو، اولاد کو، گھر کے بچوں کو اور پڑوسیوں کو سکھا یہ سورت نجات دلوانے والی اور شفاعت کرنے والی ہے، قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے سفارش کرے گی اور اسے عذاب آگ سے بچا لے گی اور عذاب قبر سے بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے ایک ایک امتی کے دل میں یہ ہو۔ [مسند عبد بن حمید،ص:206،ضعیف]
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ” تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے “۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» [2-البقرة:28] ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا “ “، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» [2-البقرة:28] ” وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا “۔
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
صفحہ نمبر9627
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر9628
الملك 67:5
باب
تو فرمایا ” آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں “۔
پھر ان کا ایک اور فائدہ بیان ہو رہا ہے کہ ” ان سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے ان میں سے شعلے نکل کر ان پر گرتے ہیں “ یہ نہیں کہ خود ستارہ ان پر ٹوٹے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
شیاطین کی دنیا میں یہ رسوائی تو دیکھتے ہی ہو آخرت میں بھی ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔ جیسے سورۃ صافات کے شروع میں ہے کہ «إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ» [37-الصافات:6-10] ” ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دی ہے اور سرکش شیطانوں کی حفاظت میں انہیں رکھا ہے، وہ بلند و بالا فرشتوں کی باتیں سن نہیں سکتے اور چاروں طرف سے حملہ کر کے بھگا دیئے جاتے ہیں اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے اگر کوئی ان میں سے ایک آدھ بات اچک کر لے بھاگتا ہے تو اس کے پیچھے چمکدار تیز شعلہ لپکتا ہے “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ستارے تین فائدے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں، آسمان کی زینت، شیطانوں کی مار اور راہ پانے کے نشانات۔ جس شخص نے اس کے سوا کوئی اور بات تلاش کی اس نے رائے کی پیروی کی اور اپنا صحیح حصہ کھو دیا اور باوجود علم نہ ہونے کے تکلف کیا۔“ [ابن جریر اور ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر9632
الملك 67:6
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» [39-الزمر:71] الخ ” جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا “۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں ۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
صفحہ نمبر9633
الملك 67:7
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» [39-الزمر:71] الخ ” جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا “۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں ۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
صفحہ نمبر9633
الملك 67:8
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» [39-الزمر:71] الخ ” جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا “۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں ۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
صفحہ نمبر9633
الملك 67:9
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» [39-الزمر:71] الخ ” جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا “۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں ۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
صفحہ نمبر9633
الملك 67:10
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» [39-الزمر:71] الخ ” جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا “۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں ۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
صفحہ نمبر9633
الملك 67:11
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» [39-الزمر:71] الخ ” جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا “۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں ۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
صفحہ نمبر9633
الملك 67:12
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے ۔ [صحیح بخاری:660]
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
صفحہ نمبر9639
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں “، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔
بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ” زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے “، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔
پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
صفحہ نمبر9640
الملك 67:13
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے ۔ [صحیح بخاری:660]
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
صفحہ نمبر9639
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں “، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔
بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ” زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے “، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔
پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
صفحہ نمبر9640
الملك 67:14
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے ۔ [صحیح بخاری:660]
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
صفحہ نمبر9639
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں “، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔
بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ” زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے “، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔
پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
صفحہ نمبر9640
الملك 67:15
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے ۔ [صحیح بخاری:660]
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
صفحہ نمبر9639
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں “، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔
بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ” زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے “، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔
پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
صفحہ نمبر9640
الملك 67:16
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» [35-فاطر:45] الخ، یعنی ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا “۔
یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ” کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے “۔
یہاں بھی فرمان ہے کہ ” اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» [16-النحل:79] الخ، ” کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں “۔
صفحہ نمبر9644
الملك 67:17
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» [35-فاطر:45] الخ، یعنی ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا “۔
یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ” کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے “۔
یہاں بھی فرمان ہے کہ ” اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» [16-النحل:79] الخ، ” کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں “۔
صفحہ نمبر9644
الملك 67:18
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» [35-فاطر:45] الخ، یعنی ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا “۔
یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ” کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے “۔
یہاں بھی فرمان ہے کہ ” اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» [16-النحل:79] الخ، ” کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں “۔
صفحہ نمبر9644
الملك 67:19
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» [35-فاطر:45] الخ، یعنی ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا “۔
یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ” کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے “۔
یہاں بھی فرمان ہے کہ ” اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں “۔
جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» [16-النحل:79] الخ، ” کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں “۔
صفحہ نمبر9644
الملك 67:20
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:21
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:22
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:23
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:24
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:25
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:26
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:27
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔
اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟
پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔
جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔
صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760]
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔
پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔
صفحہ نمبر9650
الملك 67:28
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو “۔
پھر فرمایا ” ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے “، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ “
پھر فرماتا ہے ” اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ “ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
صفحہ نمبر9658
الملك 67:29
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو “۔
پھر فرمایا ” ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے “، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ “
پھر فرماتا ہے ” اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ “ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
صفحہ نمبر9658
الملك 67:30
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو “۔
پھر فرمایا ” ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے “، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-ھود:123] ” اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ “
پھر فرماتا ہے ” اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ “ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
صفحہ نمبر9658