Lafzullah

Tafsir Bayan ul Quran — الزخرف 43:1 – الفتح 48:29

Author / source: Tafsir Bayan ul Quran

Contents
  1. الزخرف 43:1
  2. الزخرف 43:2
  3. الزخرف 43:3
  4. الزخرف 43:4
  5. الزخرف 43:5
  6. الزخرف 43:6
  7. الزخرف 43:7
  8. الزخرف 43:8
  9. الزخرف 43:9
  10. الزخرف 43:10
  11. الزخرف 43:11
  12. الزخرف 43:12
  13. الزخرف 43:13
  14. الزخرف 43:14
  15. الزخرف 43:15
  16. الزخرف 43:16
  17. الزخرف 43:17
  18. الزخرف 43:18
  19. الزخرف 43:19
  20. الزخرف 43:20
  21. الزخرف 43:21
  22. الزخرف 43:22
  23. الزخرف 43:23
  24. الزخرف 43:24
  25. الزخرف 43:25
  26. الزخرف 43:26
  27. الزخرف 43:27
  28. الزخرف 43:28
  29. الزخرف 43:29
  30. الزخرف 43:30
  31. الزخرف 43:31
  32. الزخرف 43:32
  33. الزخرف 43:33
  34. الزخرف 43:34
  35. الزخرف 43:35
  36. الزخرف 43:36
  37. الزخرف 43:37
  38. الزخرف 43:38
  39. الزخرف 43:39
  40. الزخرف 43:40
  41. الزخرف 43:41
  42. الزخرف 43:42
  43. الزخرف 43:43
  44. الزخرف 43:44
  45. الزخرف 43:45
  46. الزخرف 43:46
  47. الزخرف 43:47
  48. الزخرف 43:48
  49. الزخرف 43:49
  50. الزخرف 43:50
  51. الزخرف 43:51
  52. الزخرف 43:52
  53. الزخرف 43:53
  54. الزخرف 43:54
  55. الزخرف 43:55
  56. الزخرف 43:56
  57. الزخرف 43:57
  58. الزخرف 43:58
  59. الزخرف 43:59
  60. الزخرف 43:60
  61. الزخرف 43:61
  62. الزخرف 43:62
  63. الزخرف 43:63
  64. الزخرف 43:64
  65. الزخرف 43:65
  66. الزخرف 43:66
  67. الزخرف 43:67
  68. الزخرف 43:68
  69. الزخرف 43:69
  70. الزخرف 43:70
  71. الزخرف 43:71
  72. الزخرف 43:72
  73. الزخرف 43:73
  74. الزخرف 43:74
  75. الزخرف 43:75
  76. الزخرف 43:76
  77. الزخرف 43:77
  78. الزخرف 43:78
  79. الزخرف 43:79
  80. الزخرف 43:80
  81. الزخرف 43:81
  82. الزخرف 43:82
  83. الزخرف 43:83
  84. الزخرف 43:84
  85. الزخرف 43:85
  86. الزخرف 43:86
  87. الزخرف 43:87
  88. الزخرف 43:88
  89. الزخرف 43:89
  90. الدخان 44:1
  91. الدخان 44:2
  92. الدخان 44:3
  93. الدخان 44:4
  94. الدخان 44:5
  95. الدخان 44:6
  96. الدخان 44:7
  97. الدخان 44:8
  98. الدخان 44:9
  99. الدخان 44:10
  100. الدخان 44:11
  101. الدخان 44:12
  102. الدخان 44:13
  103. الدخان 44:14
  104. الدخان 44:15
  105. الدخان 44:16
  106. الدخان 44:17
  107. الدخان 44:18
  108. الدخان 44:19
  109. الدخان 44:20
  110. الدخان 44:21
  111. الدخان 44:22
  112. الدخان 44:23
  113. الدخان 44:24
  114. الدخان 44:25
  115. الدخان 44:26
  116. الدخان 44:27
  117. الدخان 44:28
  118. الدخان 44:29
  119. الدخان 44:30
  120. الدخان 44:31
  121. الدخان 44:32
  122. الدخان 44:33
  123. الدخان 44:34
  124. الدخان 44:35
  125. الدخان 44:36
  126. الدخان 44:37
  127. الدخان 44:38
  128. الدخان 44:39
  129. الدخان 44:40
  130. الدخان 44:41
  131. الدخان 44:42
  132. الدخان 44:43
  133. الدخان 44:44
  134. الدخان 44:45
  135. الدخان 44:46
  136. الدخان 44:47
  137. الدخان 44:48
  138. الدخان 44:49
  139. الدخان 44:50
  140. الدخان 44:51
  141. الدخان 44:52
  142. الدخان 44:53
  143. الدخان 44:54
  144. الدخان 44:55
  145. الدخان 44:56
  146. الدخان 44:57
  147. الدخان 44:58
  148. الدخان 44:59
  149. الجاثية 45:1
  150. الجاثية 45:2
  151. الجاثية 45:3
  152. الجاثية 45:4
  153. الجاثية 45:5
  154. الجاثية 45:6
  155. الجاثية 45:7
  156. الجاثية 45:8
  157. الجاثية 45:9
  158. الجاثية 45:10
  159. الجاثية 45:11
  160. الجاثية 45:12
  161. الجاثية 45:13
  162. الجاثية 45:14
  163. الجاثية 45:15
  164. الجاثية 45:16
  165. الجاثية 45:17
  166. الجاثية 45:18
  167. الجاثية 45:19
  168. الجاثية 45:20
  169. الجاثية 45:21
  170. الجاثية 45:22
  171. الجاثية 45:23
  172. الجاثية 45:24
  173. الجاثية 45:25
  174. الجاثية 45:26
  175. الجاثية 45:27
  176. الجاثية 45:28
  177. الجاثية 45:29
  178. الجاثية 45:30
  179. الجاثية 45:31
  180. الجاثية 45:32
  181. الجاثية 45:33
  182. الجاثية 45:34
  183. الجاثية 45:35
  184. الجاثية 45:36
  185. الجاثية 45:37
  186. الأحقاف 46:1
  187. الأحقاف 46:2
  188. الأحقاف 46:3
  189. الأحقاف 46:4
  190. الأحقاف 46:5
  191. الأحقاف 46:6
  192. الأحقاف 46:7
  193. الأحقاف 46:8
  194. الأحقاف 46:9
  195. الأحقاف 46:10
  196. الأحقاف 46:11
  197. الأحقاف 46:12
  198. الأحقاف 46:13
  199. الأحقاف 46:14
  200. الأحقاف 46:15
  201. الأحقاف 46:16
  202. الأحقاف 46:17
  203. الأحقاف 46:18
  204. الأحقاف 46:19
  205. الأحقاف 46:20
  206. الأحقاف 46:21
  207. الأحقاف 46:22
  208. الأحقاف 46:23
  209. الأحقاف 46:24
  210. الأحقاف 46:25
  211. الأحقاف 46:26
  212. الأحقاف 46:27
  213. الأحقاف 46:28
  214. الأحقاف 46:29
  215. الأحقاف 46:30
  216. الأحقاف 46:31
  217. الأحقاف 46:32
  218. الأحقاف 46:33
  219. الأحقاف 46:34
  220. الأحقاف 46:35
  221. محمد 47:1
  222. محمد 47:2
  223. محمد 47:3
  224. محمد 47:4
  225. محمد 47:5
  226. محمد 47:6
  227. محمد 47:7
  228. محمد 47:8
  229. محمد 47:9
  230. محمد 47:10
  231. محمد 47:11
  232. محمد 47:12
  233. محمد 47:13
  234. محمد 47:14
  235. محمد 47:15
  236. محمد 47:16
  237. محمد 47:17
  238. محمد 47:18
  239. محمد 47:19
  240. محمد 47:20
  241. محمد 47:21
  242. محمد 47:22
  243. محمد 47:23
  244. محمد 47:24
  245. محمد 47:25
  246. محمد 47:26
  247. محمد 47:27
  248. محمد 47:28
  249. محمد 47:29
  250. محمد 47:30
  251. محمد 47:31
  252. محمد 47:32
  253. محمد 47:33
  254. محمد 47:34
  255. محمد 47:35
  256. محمد 47:36
  257. محمد 47:37
  258. محمد 47:38
  259. الفتح 48:1
  260. الفتح 48:2
  261. الفتح 48:3
  262. الفتح 48:4
  263. الفتح 48:5
  264. الفتح 48:6
  265. الفتح 48:7
  266. الفتح 48:8
  267. الفتح 48:9
  268. الفتح 48:10
  269. الفتح 48:11
  270. الفتح 48:12
  271. الفتح 48:13
  272. الفتح 48:14
  273. الفتح 48:15
  274. الفتح 48:16
  275. الفتح 48:17
  276. الفتح 48:18
  277. الفتح 48:19
  278. الفتح 48:20
  279. الفتح 48:21
  280. الفتح 48:22
  281. الفتح 48:23
  282. الفتح 48:24
  283. الفتح 48:25
  284. الفتح 48:26
  285. الفتح 48:27
  286. الفتح 48:28
  287. الفتح 48:29

الزخرف 43:1

آیت 1 { حٰمٓ } ”ح ‘ م۔“

الزخرف 43:2

آیت 2 { وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ } ”قسم ہے اس کتاب کی جو بالکل واضح ہے۔“ یہاں پر چونکہ قرآن کی قسم کا ”جوابِ قسم“ یا مقسم علیہ محذوف ہے ‘ اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی سورة یٰسٓ کی آیت میں وارد الفاظ { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ ہی کو مانا جائے گا۔ یہ نکتہ قبل ازیں سورة یٰسٓکی آیت 3 کے ضمن میں واضح کیا جا چکا ہے کہ سورة یٰسٓ کے آغاز میں قرآن کی قسم چونکہ حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی کے طور پر کھائی گئی ہے ‘ اس لیے قرآن کے ان تمام مقامات پر جہاں قرآن کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے وہاں اس قسم کا مقسم علیہ منطقی طور پر ان ہی الفاظ { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ کو ہونا چاہیے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا کہ یہ کتاب مبین گواہ ہے کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے رسول ہیں !

الزخرف 43:3

آیت 3 { اِنَّا جَعَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّـعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ } ”ہم نے اس کو بنا یا ہے قرآن عربی تاکہ تم سمجھ سکو۔“

الزخرف 43:4

آیت 4 { وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ} ”اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی !“ یعنی اصل قرآن تو ”اُمّ الکتاب“ میں ہے۔ دنیا کو اس کی عربی زبان میں مصدقہ نقول فراہم کی گئی ہیں۔ اسی ”اُمّ الکتاب“ کو سورة الواقعہ کی آیت 78 میں کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ اور سورة البروج کی آخری آیت میں لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ بھی کہا گیا ہے۔

الزخرف 43:5

آیت 5 { اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ } ”کیا ہم اس ذکر کا رخ تمہاری طرف سے اس لیے پھیر دیں کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو !“ ہم نے اپنی یہ کتاب ہدایت ایک عظیم الشان نعمت کے طور پر تمہاری طرف نازل کی ‘ جو نصیحت و یاد دہانی پر مشتمل ہے ‘ مگر تم نے اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کی طرف سے روگردانی کی ہے۔ تو کیا ہم تمہارے اس رویے ّکی وجہ سے اپنی اس نعمت کو ہی اٹھا لیں ؟ نہیں ! ابھی ہم تم لوگوں کو مزید مہلت دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ابھی یہ کتاب تمہیں پڑھ کر سنائی جاتی رہے گی۔

الزخرف 43:6

آیت 6 { وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ } ”اور ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے پہلوں میں بھی۔“

الزخرف 43:7

آیت 7 { وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور نہیں آیا کوئی بھی نبی ان کے پاس مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔“

الزخرف 43:8

آیت 8 { فَاَہْلَکْنَآ اَشَدَّ مِنْہُمْ بَطْشًا } ”پھر ہم نے انہیں ہلاک کردیا جو ان سے بہت زیادہ بڑھ کر تھے قوت میں“ ہم نے ماضی میں بہت سی ایسی قوموں کو بھی نیست و نابود کردیا جو قریش ِمکہ ّسے کہیں بڑھ کر زور آور تھیں اور ان کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔ تو یہ کس کھیت کی مولی ہیں ؟ { وَّمَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ } ”اور پہلے لوگوں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔“ اقوامِ ماضی کے تفصیلی واقعات اور ان کے انجام کے بارے میں حقائق ان لوگوں کو بار بار بتائے جا چکے ہیں۔

الزخرف 43:9

آیت 9{ وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ } ”اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ لازماً یہی کہیں گے کہ انہیں بنایا ہے اس ہستی نے جو العزیز اور العلیم ہے۔“

الزخرف 43:10

آیت 10{ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا وَّجَعَلَ لَکُمْ فِیْہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْن } ”جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور پھر اس میں تمہارے لیے راستے بنا دیے تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔“ تاکہ تم ان قدرتی راستوں کی مدد سے اپنی منزلوں تک پہنچ سکو۔ مزید یہ کہ اللہ کی ان نعمتوں پر غور کر کے ہدایت کی منزل مقصود پانے میں کامیاب ہو جائو۔

الزخرف 43:11

آیت 11{ وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً م بِقَدَرٍ } ”اور وہ جس نے اتارا آسمان سے پانی ایک اندازے کے مطابق۔“ { فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا } ”تو اس سے ہم نے ُ مردہ زمین کو اٹھا کھڑا کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی سے بنجر زمین میں زندگی کے آثار پھیلا دیے ‘ اسے حیات تازہ بخش دی۔ { کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ } ”اسی طرح ایک روز تمہیں بھی نکال لیا جائے گا۔“ تمہیں بھی روز محشر اسی طرح زندہ کر کے تمہاری قبروں سے نکال کھڑا کیا جائے گا۔

الزخرف 43:12

آیت 12 { وَالَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا } ”اور وہ کہ جس نے بنائے ہیں تمام مخلوقات کے جوڑے“ { وَجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْکَبُوْنَ } ”اور تمہارے لیے بنائی ہیں کشتیاں بھی اور چوپائے بھی جن پر تم سواری کرتے ہو۔“

الزخرف 43:13

آیت 13 { لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ } ”تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر“ { ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ } ”پھر اپنے رب کے انعام کا ذکر کرو جب کہ تم ان کے اوپر جم کر بیٹھ جائو“ { وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ } ”اور تم کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان سواریوں کو ہمارے بس میں کردیا ہے ‘ اور ہم تو انہیں قابو میں لانے والے نہیں تھے۔“

الزخرف 43:14

آیت 14{ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ } ”اور یقینا ہم اپنے ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“

الزخرف 43:15

آیت 15{ وَجَعَلُوْا لَـہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا } ”اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا ایک ُ جزوٹھہرایا۔“ یعنی اس کے بعض بندوں کو اس کی اولاد قرار دے دیا۔ انسان کی اولاد دراصل اس کا جزو ہی ہوتا ہے۔ باپ کے جسم سے ایک سیل spermatozone نکل کر ماں کے جسم کے سیل ovum سے ملتا ہے اور ان دو cells کے ملاپ سے بچے کی تخلیق ہوتی ہے۔ -۔ - cells ماں اور باپ کے اپنے اپنے جسموں کے جزوہی ہوتے ہیں۔ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَـکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ } ”یقینا انسان بہت کھلا نا شکرا ہے۔“

الزخرف 43:16

آیت 16 { اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰٹکُمْ بِالْبَنِیْنَ } ”کیا اس نے بنا لی ہیں اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں اور تمہیں پسند کرلیا ہے بیٹوں کے ساتھ !“ یہ مضمون بہت تکرار کے ساتھ قرآن میں آیا ہے۔

الزخرف 43:17

آیت 17 { وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا } ”اور جب ان میں سے کسی کو اس کی بشارت دی جاتی ہے جس کی مثال وہ رحمان کے لیے بیان کرتا ہے“ وہ بڑی بےشرمی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہیں ‘ لیکن جب خود ان میں سے کسی کو اطلاع دی جاتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے : { ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ } ”تو اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم کے گھونٹ پی رہا ہوتا ہے۔“

الزخرف 43:18

آیت 18 { اَوَمَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِی الْْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ } ”کیا وہ جو پرورش پاتی ہے زیور میں اور بحث میں اپنا موقف واضح نہیں کرسکتی !“ بچیاں پیدائشی طور پر نازک ہوتی ہیں ‘ وہ بچپن سے ہی کھلونوں اور گڑیوں کے ساتھ کھیلتی ہیں اور زیورات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بحث و تکرار کے موقع پر اپنا مدعا بھی واضح انداز میں بیان نہیں کرسکتیں۔ اس کے برعکس لڑکے بچپن سے ہی نسبتاً مضبوط اور جفاکش ہوتے ہیں۔ وہ فطری طور پر ہتھیاروں کے کھلونوں سے کھیلنا اور مارشل گیمز میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں۔

الزخرف 43:19

آیت 19 { وَجَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا } ”اور انہوں نے فرشتوں کو ‘ جو کہ رحمان کے مقرب ّبندے ہیں اس کی بیٹیاں قرار دے دیا ہے۔“ { اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُہُمْ وَیُسْئَلُوْنَ } ”کیا یہ لوگ موجود تھے ان کی تخلیق کے وقت ؟ ان کی یہ گواہی کہ فرشتے مونث ہیں لکھ لی جائے گی اور پھر ان سے باز پرس ہوگی۔“

الزخرف 43:20

آیت 20 { وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی بندگی نہ کرتے۔“ { مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍق اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ } ”ان کے پاس اس کے لیے کوئی علمی سند نہیں ہے ‘ وہ تو محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔“

الزخرف 43:21

آیت 21 { اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَہُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ } ”کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟“ کیا ان لوگوں کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس سے یہ اپنی اس ملائکہ پرستی کے لیے دلیل پکڑتے ہوں ؟ یا ان کے معبودانِ باطل لات ‘ منات ‘ ُ عزیٰ ّاور ہبل میں سے کسی نے ان پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل کر رکھا ہے ؟ سورة ما قبل الشوریٰ کی آیت 21 میں بھی اس سے ملتا جلتا سوال کیا گیا ہے : { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُط } ”کیا ان کے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں کچھ ایسا طے کردیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ؟“

الزخرف 43:22

آیت 22 { بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ } ”بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباء و اَجداد کو پایا ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم پر ہدایت یافتہ ہیں۔“

الزخرف 43:23

آیت 23 { وَکَذٰلِکَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍاِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآ } ”اور اے نبی ﷺ ! اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کسی خبردار کرنے والے کو مگر اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا“ { اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ } ”کہ ہم نے پایا ہے اپنے آباء و اَجداد کو ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔“

الزخرف 43:24

آیت 24 { قٰلَ اَوَلَوْ جِئْتُکُمْ بِاَہْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ اٰبَآئَ کُمْ } ”اس خبردار کرنے والے نے کہا کہ خواہ میں لایا ہوں تمہارے پاس زیادہ ہدایت والی چیز اس کے مقابلے میں جس پر تم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا !“ ہر قوم کی طرف جو نبی بھیجا گیا اس نے اپنی قوم سے سوال کیا کہ خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتائوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے جب بھی تم انہی کے نقش قدم کی پیروی کرو گے اور اسی ڈگر پر چلتے جائو گے ؟ { قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”انہوں نے کہا کہ ہم اس کے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں ‘ منکر ہیں۔“ یوں ہر قوم کے لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر اپنے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے رہے۔

الزخرف 43:25

آیت 25 { فَانْـتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ } ”تو ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ تو دیکھ لو پھر کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا !“

الزخرف 43:26

آیت 26 { وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ } ”اور یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا اپنے والد اور اپنی قوم سے کہ یقینا میں بیزار ہوں ان سے جنہیں تم پوجتے ہو۔“

الزخرف 43:27

آیت 27 { اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّہٗ سَیَہْدِیْنِ } ”سوائے اس ہستی کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے ‘ تو یقینا وہی مجھے راستہ دکھائے گا۔“

الزخرف 43:28

آیت 28 { وَجَعَلَہَا کَلِمَۃًم بَاقِیَۃً فِیْ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ”اور اس نے اسی بات کو باقی رکھا اپنے پیچھے اپنی اولاد میں بھی تاکہ وہ اللہ ہی کی جناب میں رجوع کیے رہیں۔“ یہی بات سورة البقرۃ میں یوں بیان ہوئی ہے : { وَوَصّٰی بِہَآ اِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُط یٰـبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَـکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ } ”اور اسی کی وصیت کی تھی ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب علیہ السلام نے بھی ‘ کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے ‘ پس تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان !“

الزخرف 43:29

آیت 29 { بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَـآئَ ہُمْ حَتّٰی جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”لیکن میں نے ان لوگوں کو اور ان کے آباء و اَجداد کو کچھ سازو سامان دے دیا ‘ یہاں تک کہ ان کے پاس آگیا حق اور ایک واضح کردینے والا رسول۔“

الزخرف 43:30

آیت 30 { وَلَمَّا جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”اور جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔“

الزخرف 43:31

آیت 31 { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ”اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟“ یہاں اصل مرکب اضافی ”رَجُلٍ عَظِیْمٍ“ ہے ‘ لیکن ان دو الفاظ کے درمیان ”مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ“ آجانے سے ”رجل“ کی صفت عظیم آخر پر چلی گئی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر مخصوص صوتی آہنگ کے باعث ہوتی ہے جس کی مثالیں قرآن میں جا بجا ملتی ہیں۔ مکہ اور طائف نزولِ قرآن کے زمانے میں پاکستان کے راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر twin cities سمجھے جاتے تھے۔ دونوں شہروں کے لوگوں کے آپس میں گہرے مراسم تھے۔ مکہ کے اکثر سرداروں کی طائف میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ ان میں ولید بن مغیرہ کا ذکر روایات میں خاص طور پر آتا ہے کہ طائف میں اس کے بہت سے باغات اور مکانات تھے۔ مذکورہ جملہ دراصل اس پس منظر میں کسا گیا تھا کہ ان دونوں شہروں کی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر اللہ کو رسول بنانے اور اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے آخر قریش کا ایک یتیم ہی کیوں پسند آیا ہے !

الزخرف 43:32

آیت 32 { اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ } ”کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے ؟“ نبوت اور وحی اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مظہر ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ ہماری اس رحمت کا حقدار کون ہے اور ہم یہ فیصلہ اپنی مشیت و حکمت کے مطابق کرتے ہیں کہ اس بلند مرتبے پر کسے فائز ہونا ہے۔ چناچہ ہم نے خود اس منصب کے لیے محمد ﷺ کا انتخاب فرمایا ہے اور آپ کو رحمت ٌللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ ہمارے اس فیصلے پر اعتراض کرنے کا حق انہیں کس نے دیا ہے ؟ { نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کا سامان دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا ہے“ { وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ } ”اور ان میں سے بعض کو بعض پر ہم نے درجات میں فوقیت دے دی ہے“ کسی کو کھاتے پیتے والدین کے گھر پیدا کر کے پیدائشی طور پر خوشحال بنا دیا ہے تو کسی کو اس حال میں رکھا ہے کہ اسے دن بھر مشقت کر کے بھی دو وقت کا کھانا میسر نہیں ہوتا۔ { لِّیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا } ”تاکہ بعض لوگ دوسروں کو خدمت گار بنا سکیں۔“ اگر وہ سب کو ایک جیسا بنا دیتا تو کوئی کسی کی ملازمت کیوں کرتا ؟ اور مختلف کام کرنے والے مزدور کہاں سے ملتے ؟ بہر حال اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی اسی درجہ بندی کی بدولت دنیا میں ہر قسم کا کام کرنے والے پیشہ ور لوگ دستیاب ہیں اور اسی وجہ سے یہ کارخانہ ٔ تمدن چل رہا ہے۔ { وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ } ”اور آپ کے رب کی رحمت کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔“ سورة یونس میں بالکل یہی الفاظ قرآن مجید کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : { یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِج وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ } ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے امراض کی شفا اور اہل ایمان کے حق میں ہدایت اور بہت بڑی رحمت۔ اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوا ہے۔ تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں۔ وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“

الزخرف 43:33

آیت 33 { وَلَوْلَآ اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام لوگ ایک ہی امت بن جائیں گے“ یعنی اگر تمام لوگوں کے کافر اور منکر ہوجانے کا خدشہ نہ ہوتا : { لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّـکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِہِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُوْنَ } ”تو جو لوگ رحمن کا کفر کرتے ہم ان کے لیے بنا دیتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے۔“

الزخرف 43:34

آیت 34 { وَلِبُیُوْتِہِمْ اَبْوَابًا وَّسُرُرًا عَلَیْہَا یَتَّکِئُوْنَ } ”اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی چاندی کے ہوتے جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے۔“

الزخرف 43:35

آیت 35 { وَزُخْرُفًا } ”اور سونے کی بھی بنا دیتے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی ان چیزوں کی سرے سے کوئی وقعت ہے ہی نہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث نبوی ﷺ قبل ازیں متعدد بار دہرائی جا چکی ہے کہ اگر دنیا ومافیہا کی وقعت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے َپر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی دولت اور زیب وزینت کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں ‘ اس لیے وہ تو اپنے سرکش اور نافرمان انسانوں کو بھی طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ { وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”اور یہ سب کچھ تو بس دنیا کی زندگی کا سازو سامان ہے۔“ کسی کا محل سونے کا ہو یا چاندی کا ‘ وہ اسے اپنے ساتھ قبر میں تو نہیں لے جاسکتا۔ دنیا کا سازو سامان جو کچھ بھی ہو ‘ جتنا کچھ بھی ہو یہیں اسی دنیا میں چھوڑ کر انسان آخرت کو سدھار جائے گا۔ { وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ } ”اور آخرت کی کامیابی آپ کے رب کے نزدیک صرف اہل ِتقویٰ کے لیے ہے۔“

الزخرف 43:36

آیت 36 { وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَـیِّضْ لَـہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ} ”اور جو کوئی ُ منہ پھیر لے رحمان کے ذکر سے ‘ اس پر ہم ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں ‘ تو وہ اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔“

الزخرف 43:37

آیت 37 { وَاِنَّہُمْ لَیَصُدُّوْنَہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ مُّہْتَدُوْنَ } ”اور وہ شیاطین ان کو روکتے ہیں سیدھے راستے سے ‘ اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔“ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی منصوبہ بندی بڑی کامیاب ہے ‘ کاروبار خوب جم رہا ہے ‘ دولت تیزی سے بڑھ رہی ہے ‘ پہلے ایک فیکٹری تھی ‘ پھر دو ہوئیں اور اب تین ہوگئی ہیں۔ وہ اپنی انہیں کامیابیوں پر نازاں وفرحاں مسلسل دنیا سمیٹنے میں لگے رہتے ہیں۔

الزخرف 43:38

آیت 38{ حَتّٰٓی اِذَا جَآئَ نَا قَالَ یٰـلَیْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ } ”یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی شیطان سے کہے گا کہ کاش میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ‘ ُ تو تو بہت ہی برا ساتھی ہے !“

الزخرف 43:39

آیت 39 { وَلَنْ یَّنْفَعَکُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّکُمْ فِی الْْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ } ”اور جب کہ تم ظلم کرتے رہے ہو تو آج کے دن یہ بات تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گی کہ تم سب عذاب میں شریک ہو۔“ اپنے ظلم کے نتیجے میں تم اور تمہارے شیطان ساتھی جہنم کا عذاب اکٹھے بھگتو گے ‘ مگر ان شیاطین کا عذاب میں تمہارے ساتھ شریک ہونا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس سے تمہارے اپنے عذاب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

الزخرف 43:40

آیت 40{ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَہْدِی الْعُمْیَ وَمَنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے ‘ اور ان کو جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں !“

الزخرف 43:41

آیت 41 { فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ } ”تو اگر ہم آپ کو لے بھی جائیں ‘ تب بھی ان سے تو ہم انتقام لے کر ہی رہیں گے۔“ اگر ہم آپ کو اپنے پاس بلا لیں تب بھی انہیں تو ان کے جرائم کی سزا مل کر ہی رہے گی۔

الزخرف 43:42

آیت 42 { اَوْ نُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰہُمْ فَاِنَّا عَلَیْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ } ”یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں وہ کچھ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ‘ ہمیں یقینا ان پر پوری قدرت حاصل ہے۔“ ہم چاہیں تو آپ ﷺ کی زندگی میں ہی ان پر فیصلہ کن عذاب لے آئیں اور چاہیں تو آپ ﷺ کے بعد ان پر گرفت کریں۔

الزخرف 43:43

آیت 43 { فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْکَج اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ مضبوطی سے تھام لیجیے اس کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے ‘ یقینا آپ سیدھے راستے پر ہیں۔“ اسی فعل سے اسم الفاعل مُسْتَمْسِکُوْنَ اس سے قبل آیت 21 میں مشرکین کے حوالے سے آچکا ہے کہ کیا ان کے پاس اللہ کی دی ہوئی کوئی کتاب ہے جس کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟ پھر یہی لفظ نبی اکرم ﷺ کے خطبہحجۃ الوداع میں بھی آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمْسَکْتُمْ بِھِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ 1 ”میں آپ لوگوں کے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ‘ اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور وہ ہیں : اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔“

الزخرف 43:44

آیت 44 { وَاِنَّـہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ۔ } ”اور یہ قرآن آپ کے لیے بھی یاد دہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی ‘ اور عنقریب آپ سب سے پوچھ گچھ ہوگی۔“ یہ قرآن گویا آپ کا وظیفہ ہے۔ آپ ﷺ اسے ہمیشہ پڑھتے رہیے اور آپ ﷺ کی قوم کی ہدایت و فلاح بھی اسی میں ہے۔

الزخرف 43:45

آیت 45{ وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَآ } ”اور آپ پوچھ لیجیے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اپنے رسولوں میں سے“ یعنی عالم ِارواح میں تو آپ ﷺ کی ملاقات تمام انبیاء ورسل علیہ السلام سے رہی تھی۔ معراج کے موقع پر بھی بیت المقدس میں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی امامت کرائی تھی۔ آپ ان میں سے کسی سے بھی پوچھ لیجیے۔ { اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِہَۃً یُّعْبَدُوْنَ۔ } ”کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی اور بھی ایسے معبود بنائے ہیں کہ جن کی پوجا کی جائے ؟“ آپ جس سے بھی پوچھیں گے ایسی کوئی گواہی آپ کو نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی نبی کی تعلیمات سے ایسی کسی بات کا کہیں سراغ ملے گا۔

الزخرف 43:46

آیت 46 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلاَ ئِہٖ } ”اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف“ ان سے مراد وہ ابتدائی نشانیاں ہیں جنہیں لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں گئے تھے ‘ یعنی عصا اور ید ِبیضا۔ { فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو اس نے کہا کہ دیکھو میں تمام جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں۔“

الزخرف 43:47

آیت 47 { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَآ اِذَا ہُمْ مِّنْہَا یَضْحَکُوْنَ۔ } ”تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر تو وہ ان نشانیوں پر ہنسنے لگے۔“

الزخرف 43:48

آیت 48 { وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا } ”اور نہیں دکھاتے تھے ہم انہیں کوئی نشانی مگر وہ اپنی بہن اپنے جیسی پہلی نشانی سے زیادہ بڑی ہوتی تھی“ یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی مزید سات نشانیوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان میں ایک بہت بڑی نشانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جادوگروں سے مقابلہ تھا ‘ جس میں شکست کھا کر وہ ایمان لے آئے۔ مزید برآں مصر میں شدید قحط ‘ ہولناک طوفانِ باد و باراں ‘ ٹڈی دل کا خوفناک حملہ ‘ چچڑیوں اور کھٹملوں کی بہتات ‘ مینڈکوں کا امڈا ہو اسیلاب ‘ کنوئوں اور چشموں کے پانی کا خون میں تبدیل ہوجانا ‘ ایسی نشانیاں تھیں جن کا ظہور یکے بعد دیگرے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیشگی اعلان کے بعد ہوتا اور آنے والی آفت اس وقت تک نہ ٹلتی جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام اسے ٹالنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرتے۔ ان نشانیوں کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں ہوا ہے۔ { وَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ”اور ہم انہیں پکڑتے رہے اس عذاب کے ذریعے ‘ شاید کہ وہ باز آجائیں۔“ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص اصول اور قانون ہے کہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بڑے عذاب سے پہلے ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس اصول کا ذکر سورة السجدۃ میں اس طرح ہوا ہے : { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔ } ”اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے ‘ شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں“۔ نوٹ کیجیے ان دونوں آیات کے اختتامی الفاظ ایک سے ہیں۔

الزخرف 43:49

آیت 49 { وَقَالُوْا یٰٓاَیُّہَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ } ”اور ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے : اے جادوگر ! تم اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے۔“ سورة الاعراف میں یہ واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ جب وہ لوگ ایک عذاب سے تنگ آجاتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتے اور وعدہ کرتے کہ اگر ہماری یہ تکلیف دور ہوگئی تو : { اِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ } ”ہم ضرور ہدایت پر آجائیں گے۔“ سورة الاعراف میں ان کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : { لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَٓائِ یْلَ۔ } ”اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔“

الزخرف 43:50

آیت 50 { فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِذَا ہُمْ یَنْکُثُوْنَ } ”پھر جب ہم دور کردیتے تھے ان سے وہ عذاب تو اسی وقت وہ وعدے سے پھرجاتے تھے۔“

الزخرف 43:51

آیت 51 { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا“ { قَالَ یٰـــقَوْمِ اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ } ”اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟“ نوٹ کیجیے ! یہ سیاسی شرک شرک کی بد ترین قسم ہے۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے ‘ اس کے علاوہ جو کوئی بھی حاکمیت کا مدعی ہو ‘ چاہے وہ ایک فرد ہو ‘ ایک قوم ہو یا پوری نسل انسانی ‘ وہ اللہ کے ساتھ برابری کا دعویدار ہے۔ اور فرعون نے خدائی کا دعویٰ اسی مدعیت کے ساتھ اور اسی مفہوم میں کیا تھا ‘ ورنہ وہ زمین و آسمان کے خالق ہونے کا دعویدار تو ہرگز نہیں تھا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ جس طرح تمام انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی طرح پیدا ہوا ہے اور سب کی نظروں کے سامنے پلابڑھا ہے۔ چناچہ اس کے خدائی کے دعوے کی اصل حقیقت یہی تھی کہ وہ حاکمیت ِمطلق کا دعویدار تھا ‘ جو کہ صرف اور صرف اللہ کا حق ہے۔ Divine Rights of the Kings کا ذکر آپ کو اہل یورپ کی تاریخ میں بھی ملے گا۔ ان کے ہاں بھی قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آ رہا ہے کہ بادشاہوں کو خدائی اختیارات حاصل ہیں ‘ ان کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ final legistative authority ہیں۔ ان کی مرضی ہے وہ جو چاہیں قانون بنا دیں۔ جبکہ یہ سوچ اور یہ دعویٰ بد ترین شرک ہے ‘ جسے اہل یورپ نے دور حاضر میں جمہوریت کے نام سے عوام الناس میں تقسیم کردیا ہے۔ چناچہ جو گندگی کسی زمانے میں فرعون یا نمرود کے سر پر ٹنوں کے حساب سے لدی ہوتی تھی اسے انہوں نے تولوں اور ماشوں میں تقسیم کر کے اپنے ہر شہری کی جیب میں ڈال دیا ہے ‘ کہ یہ لو ووٹ کی اس پرچی کے بل پر اب تم میں سے ہر ایک حکومت میں حصہ دار ہے۔ اب تم اپنی اکثریت کے ذریعے جو قانون چاہو بنا لو۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں اس شیطانی فریب کو خوب بےنقاب کیا ہے۔ ابلیس کا ایک مشیر اقبالؔ کے الفاظ میں دوسرے مشیر سے کہتا ہے : ؎ خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر ؟rُتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر !کہ اب دنیا میں سلطانی جمہور عوام کی حکمرانی کے نام پر جو شور و غوغا اٹھا ہے وہ ابلیسی نظام کے لیے ایک بہت بڑا فتنہ اور خطرہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمارے سب ہتھکنڈوں کا توڑ ڈھونڈنے پر تلا بیٹھا ہے۔ اگر انسانوں کا بنایا ہوا عوامی حاکمیت کا یہ سکہ دنیا میں چل گیا تو ہمارا کاروبار تو ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اس کی اس بات پر دوسرا مشیر کہتا ہے : ؎ہوں ‘ مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر !کہ میں اس ”فتنے“ کی اصلیت سے خوب باخبر ہوں ‘ بہر حال تشویش کی کوئی بات نہیں۔ یہ جمہوریت بھی ملوکیت ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے : ؎ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر !اصل میں جب ہم نے دیکھا کہ انسان اپنے ”بنیادی حقوق“ کے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتا چلا جا رہا ہے تو ہم نے ”شاہی“ کو ”جمہوری“ لباس پہنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ لو بھئی اب تو تمہارا عام شخص بھی حاکم بن گیا ہے ‘ اب تو ہر شہری کو شاہی اختیار میں سے برابر کا حصہ مل گیا ہے۔ لہٰذا سلطانی ٔ جمہور کا یہ شوشہ ہماری ”ابلیسیت“ کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہی تیار کردہ منصوبہ ہے۔ ملوکیت اور جمہوریت کی حقیقت کو اس مثال سے سمجھنا چاہیے کہ گندگی تو گندگی ہی ہے چاہے ٹنوں کے حساب سے کسی ایک شخص کے سر پر لاد دی جائے یا ایک کروڑ انسانوں میں تولہ تولہ ماشہ ماشہ تقسیم کردی جائے۔ چناچہ فرعون کو اسی ”خدائی“ کا دعویٰ تھا اور اس نے اپنی ”خدائی“ کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اعلان کیا کہ لوگو ! دیکھو کیا مصر کی حکومت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ { وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ } ”اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟“ اس فقرے کا مفہوم ہمارے ہاں عام طور پر یوں سمجھ لیا جاتا ہے جیسے فرعون نے اپنے محل کے نیچے بہنے والے دریا کا ذکر کیا تھا ‘ جبکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ملک کے اندر آب پاشی کا پورا نظام جس پر تمہاری معیشت کا انحصار ہے ‘ میرے حکم کے تابع ہے۔ میں جسے چاہوں اور جس قدر چاہوں پانی مہیا کروں۔ جس کو چاہوں کم پانی دوں ‘ جس کو چاہوں زیادہ دوں اور جسے چاہوں پانی سے محروم کر دوں ‘ مجھے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ { اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟“

الزخرف 43:52

آیت 52 { اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ} ”کیا میں بہتر نہیں ہوں اس سے جو ایک بےعزت آدمی ہے ؟“ میں مصر کی حکومت اور اس کے معاشی وسائل کا بلاشرکت ِغیرے مالک ہوں۔ کیا یہ موسیٰ میرا مقابلہ کرسکتا ہے جو محض ہماری محکوم قوم کا ایک فرد ہے ! { وَّلَا یَکَادُ یُبِیْنُ۔ } ”اور صاف بات بھی نہیں کرسکتا !“ یہ خطابت پر بھی قادر نہیں ہے اور اپنا مدعا واضح طور پر بیان نہیں کرسکتا۔

الزخرف 43:53

آیت 53 { فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَہَبٍ } ”تو کیوں نہیں اتارے گئے اس پر سونے کے کنگن ؟“ اگر یہ واقعی اللہ کا فرستادہ ہے تو اللہ نے اسے سونے کے کنگن کیوں نہ مہیا کیے کہ ایک بادشاہ کے مقابلے میں جا رہے ہو ‘ کم از کم یہ سونے کے کنگن ہی پہنتے جائو۔ { اَوْ جَآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ } ”یا اس کے ساتھ فرشتے چلے آ رہے ہوتے صفیں باندھے ہوئے !“

الزخرف 43:54

آیت 54 { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ } ”تو اس طرح اس نے اپنی قوم کی مت مار دی اور انہوں نے اسی کا کہنا مانا۔“ یہاں پر لفظ اِسْتَخَفَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ان کو بالکل ہی خفیف اور ہلکا سمجھا۔ مراد یہ ہے کہ اس نے ان کی عقل ہی گنوا دی ‘ ان کو بیوقوف بنا لیا۔ اسی طرح آج کے سیاسی شعبدہ باز demagogs اپنے عوام کو نت نئے طریقوں سے بیوقوف بناتے ہیں۔ کوئی ان کے سامنے روٹی کپڑا اور مکان کی ڈگڈگی بجاتا ہے تو کوئی اس مقصد کے لیے کسی دوسرے نعرے کا سہارا لیتا ہے۔ بقول اقبالؔ ابلیس کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ میں جب چاہوں ہر قسم کے انسانوں کو بیوقوف بنا سکتا ہوں : ؎کیا امامانِ سیاست ‘ کیا کلیسا کے شیوخ سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ُ ہو !چنانچہ جب ابلیس یا ابلیس کا کوئی چیلہ عوام الناس کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر وہ اندھوں کی طرح اپنے ”محبوب لیڈر“ کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ پھر نہ تو وہ سامنے کے حقائق کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی کسی علمی و عقلی دلیل کو لائق توجہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنے اقتدار کے رعب و داب کی ڈگڈگی بجا کر اپنی قوم کو ایسا متاثر کیا کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے ہولیے۔ یہاں فَاَطَاعُوْہُ کے لفظ میں ان کے اسی رویے ّکی عکاسی کی گئی ہے۔{ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ } ”یقینا وہ لوگ خود بھی نافرمان ہی تھے۔“

الزخرف 43:55

آیت 55 { فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”تو جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔“

الزخرف 43:56

آیت 56 { فَجَعَلْنٰہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ } ”چناچہ ہم نے انہیں بنا دیا ماضی کی داستان اور بعد والوں کے لیے ایک نشان عبرت۔“

الزخرف 43:57

آیت 57 { وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ } ”اور جب قرآن میں ابن ِمریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو اس پر آپ کی قوم چلانے ّلگتی ہے۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین ِمکہ ّکی چیخ و پکار ایک تو سورة الانبیاء کی اس آیت کے حوالے سے تھی : { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَط اَنْتُمْ لَہَا وٰرِدُوْنَ۔ } ”یقینا تم لوگ اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ‘ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں پہنچ کر رہنا ہے“۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے سوا جتنے معبود لوگوں نے بنا رکھے ہیں اگر وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام ٰ بھی تو ان ہی میں شامل ہوں گے ‘ کیونکہ انہیں بھی تو دنیا میں پوجا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ کے مقابلے میں اگر فرشتوں ‘ اللہ کے مقرب بندوں ‘ ِجنات ّاور ُ بتوں وغیرہ کی پرستش کی گئی ہے تو جہنم میں جھونکے جانے کا مصداق ملائکہ ‘ انبیاء اور اولیاء اللہ تو نہیں ٹھہرتے۔ ظاہر ہے جو باطل ہوگا وہی جہنم میں جھونکا جائے گا۔ البتہ مشرکین مکہ اسی دلیل کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر شدت کے ساتھ چیخنا چلانا شروع کردیتے تھے۔ دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین مکہ کے مخصوص رد عمل کا باعث ان کا حضور ﷺ کے بارے میں یہ موقف بھی تھا کہ آپ ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کی تعریف و توصیف کے پردے میں نصرانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس طرح ہم لات و ُ عزیٰ ّوغیرہ کی پوجا کرتے ہیں اسی طرح عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو پوجتے ہیں۔ تو ایسا کیوں ہے کہ عیسائیوں کے معبود کی تو آپ ﷺ تعریف کرتے ہیں اور ہمارے معبودوں کی مذمت ؟ اس وجہ سے وہ لوگ حضور ﷺ پر عیسائیت کو قبول کرلینے اور عیسائیت کی تبلیغ کرنے کے الزامات لگاتے تھے۔ بلکہ جب مکہ میں مسلمانوں نے نماز پڑھنا شروع کی تو مشرکین ِمکہ ّنے حضور ﷺ اور مسلمانوں پر یہ الزام بھی لگادیا کہ یہ لوگ ”صابی“ ہوگئے ہیں۔ صابی لوگ عراق میں آباد تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے پیروکاروں کی نسل میں سے تھے۔ اگرچہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل دین کو تو بگاڑ دیا تھا لیکن ”نماز“ کسی نہ کسی شکل میں ان کے ہاں موجود تھی۔ چناچہ نماز کی اس مشابہت کے باعث مشرکین مکہ نے حضور ﷺ پر صابی ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔ بہر حال مذکورہ دو وجوہات کی بنا پر مشرکین مکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کے ذکر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے تھے۔

الزخرف 43:58

آیت 58 { وَقَالُوْٓا ئَ اٰلِہَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ہُوَ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟“ { مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًاط بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ } ”یہ باتیں وہ آپ سے نہیں کرتے مگر صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔“

الزخرف 43:59

آیت 59 { اِنْ ہُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ } ”وہ تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے خاص انعام فرمایا اور ہم نے اس کو ایک نشانی بنا دیا بنی اسرائیل کے لیے۔“ بنی اسرائیل کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں تھیں۔ آپ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے اور اپنی پیدائش کے فوراً بعد پنگھوڑے میں ہی آپ علیہ السلام نے باتیں کرنا شروع کردیں۔ اس کے علاوہ آپ کو خلق ِحیات اور احیائِ موتی ٰ سمیت اور بھی بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔

الزخرف 43:60

آیت 60 { وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ } ”اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے بنا دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔“

الزخرف 43:61

آیت 61 { وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ } ”اور یقینا وہ قیامت کی ایک علامت ہے“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ورود اوّل میں بنی اسرائیل کے لیے نشانی یعنی مجسم معجزہ تھے ‘ جبکہ اپنے ورود ثانی میں آپ علیہ السلام کا نزول قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور قرب قیامت کے زمانے کی کیفیت احادیث میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ { فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ } ”تو اس قیامت کے بارے میں تم ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“

الزخرف 43:62

آیت 62 { وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُج اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اور دیکھو شیطان تمہیں روک نہ دے ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ یعنی ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اس صراط مستقیم کی پیروی سے روک دے جس کی طرف میں بلا رہا ہوں۔ یہ مت بھولو کہ شیطان اس صراط مستقیم پر گامزن ہونے والوں کا کھلا دشمن ہے اور انہیں گمراہ کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزماتا ہے۔

الزخرف 43:63

آیت 63 { وَلَمَّا جَآئَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ } ”اور جب آئے عیسیٰ علیہ السلام ٰ واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں“ یہاں پر ”حکمت“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ انجیل میں ”کتاب“ شریعت نہیں تھی ‘ صرف حکمت تھی ‘ جبکہ تورات ”کتاب“ پر مشتمل تھی۔ اس میں احکامِ شریعت تو تھے ‘ حکمت نہیں تھی۔ دراصل نزول تورات کے زمانے میں نسل ِانسانی کا اجتماعی شعور ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ انہیں حکمت کی تلقین کی جاتی۔ اس لیے اس میں صرف احکام commandments دے دیے گئے تھے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو۔ یعنی صرف اوامرو نواہی dos and donts کا ذکر کیا گیا تھا۔ حکمت کے لیے بعد میں انجیل آئی۔ البتہ قرآن میں کتاب شریعت بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔ یعنی آخری کتاب ہونے کے حوالے سے یہ ما سبق تمام کتابوں کی جامع ہے۔ { وَلِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ } ”اور تاکہ میں واضح کردوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ‘ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“

الزخرف 43:64

آیت 64 { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”یقینا اللہ ہی ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ پس تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“

الزخرف 43:65

آیت 65 { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْ } ”پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہوگئے۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو بڑے گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پید اہو گئے۔ یہودی آپ علیہ السلام کی مخالفت میں اس حدتک چلے گئے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو جادوگر ‘ مرتد اور ولد الزنا نقل کفر ‘ کفر نباشد قرار دے دیا۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے دوسری انتہا پر جا کر آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ کا بیٹا بنا دیا اور آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ بھی گھڑ لیا کہ آپ علیہ السلام اپنے نام لیوائوں کی طرف سے خود سولی پر چڑھ گئے ہیں اور یوں آپ علیہ السلام کی یہ ”قربانی“ آپ علیہ السلام کے ہر ماننے والے کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہے۔ بہر حال یہ دونوں رویے ّانتہائی غلط ہیں۔ { فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ } ”پس تباہی اور بربادی ہے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے۔“

الزخرف 43:66

آیت 66 { ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو !“

الزخرف 43:67

آیت 67 { اَلْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍم بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ”بہت گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘ سوائے متقین کے۔“ دنیا کی تمام دوستیاں اس دن دشمنیوں میں بدل جائیں گی ‘ سوائے مومنین ِصادقین کی باہمی دوستیوں کے۔

الزخرف 43:68

آیت 68 { یٰـعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ } ”اُن سے کہا جائے گا : اے میرے بندو ! آج تم پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم رنجیدہ ہوگے۔“

الزخرف 43:69

آیت 69 { اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ } ”یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرماں بردار تھے۔“

الزخرف 43:70

آیت 70 { اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ تُحْبَرُوْنَ } ”داخل ہو جائو جنت میں تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی ‘ تمہارا اعزازو اکرام کیا جائے گا۔“

الزخرف 43:71

آیت 71 { یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَکْوَابٍ } ”گردش کرائے جائیں گے ان پر سونے کی طشتریاں اور پیالے۔“ { وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُج وَاَنْتُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ } ”اور وہاں ہوگا وہ سب کچھ جس کی طلب ہوگی انسان کے نفس کو اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں گی ‘ اور تم اب اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے۔“ جنت کے پھول ‘ باغیچے ‘ مناظر اور اہل جنت کی بیویاں غرض وہاں کی ہرچیز انتہائی حسین اور دلکش ہوگی۔

الزخرف 43:72

آیت 72 { وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُن اَعمال کی بنا پر جو تم کرتے تھے۔“ یعنی جنت میں تمہارا داخلہ اور اس کی تمام نعمتیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہیں جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی قدر دانی اور قدر افزائی کا ایک شاہانہ انداز ہے جو قرآن میں جا بجا ملتا ہے۔ دوسری طرف بندوں کے اس اعتراف کا ذکر بھی قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں اہل جنت کا اعتراف سورة الاعراف میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے : { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُج } آیت : 43 ”اور وہ کہیں گے ُ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ‘ اور ہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔“

الزخرف 43:73

آیت 73 { لَـکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو۔“

الزخرف 43:74

آیت 74 { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ } ”اس کے برعکس جو مجرم ہوں گے وہ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔“

الزخرف 43:75

آیت 75 { لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَہُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ } ”وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں پڑے رہیں گے بالکل ناامیدہو کر۔“ انہیں جہنم سے چھٹکارا پانے کا کوئی امکان نظر نہیں آئے گا۔

الزخرف 43:76

آیت 76 { وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا ہُمُ الظّٰلِمِیْنَ } ”اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“

الزخرف 43:77

آیت 77 { وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ } ”اور وہ ندا کریں گے کہ اے مالک ! اب تو آپ کا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔“ مالک سے یہاں مراد جہنم کا داروغہ ہے۔ اہل جہنم اسے مخاطب کر کے فریاد کریں گے کہ اب ہم سے عذاب کی سختی مزید نہیں جھیلی جاتی۔ آپ اپنے رب سے کہیں کہ وہ ہمیں موت دے کر ہمارا قصہ تمام کر دے۔ { قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ } ”وہ جواب دے گا کہ تمہیں تو اب ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔“

الزخرف 43:78

آیت 78 { لَقَدْ جِئْنٰـکُمْ بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ } ”ہم تو تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تمہاری اکثریت حق کو ناپسند کرتی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے تمہارے پاس سچا دین اور سچی تعلیمات پہنچا دی تھیں ‘ لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے بیزار ہی رہے ‘ جس کا نتیجہ آج تمہارے سامنے ہے۔

الزخرف 43:79

آیت 79 { اَمْ اَبْرَمُوْٓا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَ } ”کیا انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کرلیا ہے ؟ تو ہم بھی ایک قطعی فیصلہ کیے لیتے ہیں۔“ حق و باطل کی اس کشمکش میں مشرکین ِمکہ ّنے اگر حق کو نہ ماننے کا ہی فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ہم بھی ان کے بارے میں فیصلہ کرلیتے ہیں۔

الزخرف 43:80

آیت 80 { اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ وَنَجْوٰٹہُمْ } ”کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور راز دارانہ مشوروں کو سنتے نہیں ہیں !“ { بَلٰی وَرُسُلُنَا لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ } ”کیوں نہیں ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے ایلچی ان کے پاس ہی لکھ رہے ہوتے ہیں۔“ ہماری خفیہ ایجنسی کے کارندے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ساری رپورٹ تیار کرتے ہیں۔

الزخرف 43:81

آیت 81 { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَـدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا۔“ کہ جب میں خدائے رحمان کو اپنا معبود مانتا ہوں اور اس کی پرستش کرتا ہوں ‘ اگر واقعتا اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کی پرستش کرنے میں مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ یہ نفی کا بہت تیکھا انداز ہے۔ اس اسلوب کو ”تعلیق بالمحال“ کہا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے ‘ اس لیے اس کی اولاد کو پوجنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ ”تعلیق بالمحال“ کا یہی اسلوب اس حدیث میں بھی پایا جاتا ہے : لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا 1 ”اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا۔“ ایک دفعہ ٹورنٹو کینیڈا میں ایک قادیانی نے میرے ساتھ بحث کے دوران نبوت کے تسلسل کو ثابت کرنے کے لیے اسی حدیث کا حوالہ دیا تھا۔ اس حدیث میں حضور ﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم رض کا ذکر ہے ‘ جو حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ ان کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ زندہ رہتے تو وہ نبی ہوتے۔ اللہ کی مشیت کے مطابق ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا ‘ اس لیے نہ تو انہوں نے زندہ رہنا تھا اور نہ ہی نبوت کے سلسلے کو آگے چلنا تھا۔ بہر حال مذکورہ قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ میں نے اس کے جواب میں دلیل کے طور پر اسی آیت کا حوالہ دیا تھا : { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ 4 } کہ یہاں جو حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ تو کیا حضور ﷺ کا اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کا کچھ بھی امکان تھا ؟ اس پر اس نے تسلیم کیا کہ آپ کی یہ دلیل واقعتا مضبوط ہے۔

الزخرف 43:82

آیت 82{ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب ‘ عرش کا مالک ‘ ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔“

الزخرف 43:83

آیت 83 { فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان کو چھوڑ دیجئے ‘ یہ میں میخ نکالتے رہیں اور لہو و لعب میں پڑے رہیں“ { حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ یہ ملاقات کرلیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“

الزخرف 43:84

آیت 84 { وَہُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰــہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰــہٌط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ } ”اور وہی ہے جو آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ ہے۔ اور وہ بہت حکمت والا ‘ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“ یعنی پوری کائنات میں ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے۔ بائبل میں عیسائیوں کی جو Lords Prayer ہے اس کا مفہوم اس آیت کے بہت قریب ہیـ: Thy Kingdom comeThy will be done on Earth as it is in Heavensکہ اے اللہ ! تیری ہی سلطنت اور تیری حاکمیت قائم ہوجائے اور تیری مرضی جیسے آسمانوں پر پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ بہر حال الٰہ تو آسمانوں میں بھی وہی ہے اور زمین پر بھی وہی ہے۔ لیکن زمین پر انسانوں کو اس نے تھوڑی سی آزادی دے رکھی ہے کہ اگر کوئی انسان چاہے تو وہ نافرمانی اور ناشکری کی روش بھی اختیار کرسکتا ہے۔ بس زمین پر جو بھی فساد نظر آ رہا ہے وہ اس ”ذرا سی“ آزادی کا نتیجہ ہے۔ سورة الروم کی اس آیت میں یہی حقیقت بیان کی گئی ہے : { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } آیت 41 چناچہ بحر و بر میں اگر ہر جگہ فساد ہی فساد نظر آتا ہے تو وہ لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ہے ‘ ورنہ حکومت تو زمین پر بھی اللہ ہی کی ہے۔

الزخرف 43:85

آیت 85 { وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا } ”اور بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے اختیار میں ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دونوں کے درمیان کی ساری چیزوں کی۔“ فرعون کا خدائی کا دعویٰ تو صرف مصر کی حکومت تک محدود تھا ‘ مگر اللہ کی حکومت واقعتا آسمانوں اور دنیا ومافیہا پر محیط ہے۔ { وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَاِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم ‘ اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جائو گے۔“

الزخرف 43:86

آیت 86 { وَلَا یَمْلِکُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ } ”اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکار رہے ہیں اللہ کے سوا ‘ سوائے اس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں۔“ ظاہر بات ہے وہاں تو کوئی غلط بات زبان سے نہیں نکال سکے گا ‘ لہٰذا وہاں پر گواہی صرف حق ہی کی ہوگی۔

الزخرف 43:87

آیت 87 { وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ } ”اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے !“ یعنی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ خود ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان سے ان کے معبودوں کے بارے میں پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو بھی وہ جواب میں کہیں گے کہ انہیں بھی اللہ نے ہی بنایا ہے۔ { فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ } ”تو پھر یہ کہاں سے پھیر دیے جاتے ہیں !“

الزخرف 43:88

آیت 88 { وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ } ”اور قسم ہے نبی ﷺ کے اس قول کی کہ اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لا رہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کا انداز ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہاں نقل ہوا ہے کہ اے میرے پروردگار ! میری یہ قوم ہٹ دھرمی اور ضد پر اترآئی ہے۔ نہ تو یہ لوگ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی بطور نبی کے میری تصدیق کرنے کو تیار ہیں۔

الزخرف 43:89

آیت 89 { فَاصْفَحْ عَنْہُمْ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے در گزر کیجیے“ میرے خیال کے مطابق یہ سورة 4 نبوی ﷺ سے 8 نبوی ﷺ کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک چونکہ حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا ‘ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیر لیں اور فی الحال انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ { وَقُلْ سَلٰمٌ} ”اور کہیے سلام ہے !“ اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے الجھتے ہیں ‘ دعوت کے جواب میں آپ ﷺ سے استہزاء کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو سلام کہہ کر نظر انداز کردیں۔ سورة الفرقان میں ہم نے ”عباد الرحمن“ کی جو صفات پڑھی ہیں ان میں ایک صفت یہ بھی ہے : { وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ ”اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں جاہل لوگ تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں۔“ { فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”تو بہت جلد یہ لوگ جان جائیں گے۔“ اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب حقیقت ان پر منکشف ہوجائے گی۔ بہت جلد حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہونے والا ہے۔

الدخان 44:1

آیت 1 { حٰمٓ } ”ح ‘ م۔“

الدخان 44:2

آیت 2 { وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ } ”قسم ہے اس روشن کتاب کی۔“ جیسا کہ سورة الزخرف کے آغاز میں عرض کیا گیا ‘ سورة الدخان کی سورة الزخرف کے ساتھ نسبت ِزوجیت ہے اور اس کی ایک علامت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کی دو ابتدائی آیات مشترک ہیں اور ان کا اسلوب بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ سورة الزخرف کی طرح یہاں اس آیت میں بھی قرآن کی قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ ایسے مقامات پر مقسم علیہ گویا وہی حقیقت ہے جس کا ذکر سورة یٰسٓ کے آغاز میں ہوچکا ہے : { یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔۔ چناچہ یہاں پر اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کو مقدر understood مانتے ہوئے آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا : ”اے محمد ﷺ یہ کتاب ِمبین گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں“۔ گویا یہ روشن اور واضح کتاب ‘ یہ قرآن آپ ﷺ کی رسالت کا قطعی ثبوت ہے۔

الدخان 44:3

آیت 3 { اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } ”یقینا ہم نے اس کو نازل کیا ہے ایک مبارک رات میں“ یہ مضمون سورة القدر میں واضح تر انداز میں آیا ہے : { اِنَّآاَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ کہ ہم نے اسے ”لیلۃ القدر“ میں نازل فرمایا۔ چونکہ قرآن مجید میں عام طور پر اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ آئے ہیں اس لیے اس خاص رات کا ذکر بھی دو مرتبہ آیا ہے۔ وہاں ”لیلۃ القدر“ کے نام سے اور یہاں ”لیلۃ مبارکۃ“ کے نام سے۔ { اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ } ”یقینا ہم خبردار کردینے والے ہیں۔“ رسالت اور انزالِ کتب کا اصل مقصد لوگوں کا انذار خبردار کرنا ‘ آگاہ کرنا ہے۔ جیسے سورة المدثر میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا : { یٰٓـــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ ”اے چادر اوڑھنے والے ‘ اٹھئے اور لوگوں کو خبردار کیجیے“۔ دنیا کی زندگی اصل زندگی نہیں ہے۔ یہ تو اصل ”کتاب زندگی“ کے دیباچے کی مانند ہے۔ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہونے والی ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے لوگوں کو خبردار warn کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل علیہ السلام اور الہامی کتب کے ذریعے ہدایت کے ایک سلسلے کا اہتمام فرمایا تاکہ ان میں اصل اور ہمیشہ کی زندگی کو بہتر بنانے کا شعور پیداہو اور وہ اس کے لیے تیاری کرسکیں : { وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَہْوٌ وَّلَعِبٌط وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ 7 لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ العنکبوت ”یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ‘ جبکہ آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !“

الدخان 44:4

آیت 4 { فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ } ”اس رات میں تمام ُ پر حکمت امور کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔“ اس سے پہلے ہم سورة السجدۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ تدبیر ِکائنات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی منصوبہ بندی ایک ہزار سال کی ہوتی ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔ ”وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ امر چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے“۔ البتہ انسانی معاملات کے حوالے سے یہ رات لیلہ مبارکہ گویا اللہ تعالیٰ کی کائناتی سلطنت Cosmic Empire کے سالانہ بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ -۔ - لفظ فرق کے لغوی معنی علیحدہ کردینے کے ہیں۔ چناچہ یُفْرَقُ کا درست مفہوم یہ ہوگا کہ فیصلے جاری issue کردیے جاتے ہیں۔ یعنی یہ وہ رات ہے جس میں تمام سال کے فیصلے طے کر کے تعمیل و تنفیذ implementation کے لیے ملائکہ کے حوالے کردیے جاتے ہیں جو اس عظیم سلطنت کی ”سول سروس“ کا درجہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ آیت کے مطابق یہ وہی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو لوح محفوظ یا اُمّ الکتاب سے آسمانِ دنیا پر اتارا۔

الدخان 44:5

آیت 5 { اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَاط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ } ”طے شدہ احکام ہماری طرف سے۔ یقینا ہم ہی ہیں رسولوں کو بھیجنے والے۔“

الدخان 44:6

آیت 6 { رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ } ”رحمت کے طور پر آپ کے رب کی طرف سے۔ یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ جاننے والا۔“ یہ تمام فیصلے یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر قرآن کا نزول اور نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت تو نوع انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کا مظہر ہے۔

الدخان 44:7

آیت 7 { رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا 7 اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ } ”آسمانوں اور زمین کا رب اور جو کچھ ان کے مابین ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو !“ یقینا ساری کائنات کا پروردگار اور مالک اللہ ہی ہے۔ اس حقیقت کو مان لینا تو آسان ہے لیکن دل کی گہرائیوں میں اس کا یقین بٹھانا انسان کے لیے بہت مشکل ہے۔ انسان کا نفس اس سلسلے میں اسے قدم قدم پر دھوکہ دیتا ہے کہ فلاں چیز میری ہے اور فلاں چیز کا مالک میں ہوں۔ بہر حال ہمیں دل سے یقین کرلینا چاہیے کہ ہرچیز اللہ کی ہے اور وہی ہر شے کا مالک ہے : ؎ ایں امانت چند روزہ نزد ماست در حقیقت مالک ِ ہر شے خدا ست !گویا ہر انسان کی جان ‘ اس کا جسم ‘ جسم کے اعضاء اور زیر استعمال اشیاء وغیرہ اس کے پاس چند روز کے لیے امانت ہیں۔ حقیقت میں ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ آخرت میں ان میں سے ایک ایک امانت کا حساب لیا جائے گا اور اس حساب کے دوران انسان کے اپنے اعضاء اپنے مالک حقیقی کے سامنے اس کے خلاف گواہیاں دیں گے۔

الدخان 44:8

آیت 8 { لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ } ”اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی مارتا ہے۔“ { رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ } ”وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے آباء واجداد کا بھی رب ہے۔“

الدخان 44:9

آیت 9 { بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ } ”لیکن یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ جب اہل ِمکہ ّکے سامنے قرآن پیش کرتے تھے تو ان میں سے اکثر لوگ اسے کلام اللہ ماننے کے بجائے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ پھر اسی بنا پر وہ حضور ﷺ کا مذاق بھی اڑاتے تھے کہ دیکھیں جی ! یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔

الدخان 44:10

آیت 10 { فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ } ”تو آپ انتظار کیجیے اس دن کا جس دن آسمان لائے گا واضح دھواں۔“ اس آیت کے مفہوم کے بارے میں مفسرین ّکے درمیان شدید اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام رض کے زمانے میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت علی ‘ ابن عمر ‘ ابن عباس اور ابوسعید خدری علیہ السلام اور حسن بصری رح جیسے اکابر کی رائے ہے کہ اس سے وہ دھواں مراد ہے جو قیامت سے پہلے نمودار ہوگا۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ نے قیامت سے فوراً پہلے نمودار ہونے والی جن دس نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں دھویں دخان کا ذکر بھی ہے۔ اس کے برعکس حضرت عبداللہ بن مسعود رض کی بڑی شدت کے ساتھ یہ رائے ہے کہ حضور ﷺ کی نبوت کے ابتدائی سالوں میں مکہ میں جو قحط پڑا تھا اس آیت میں اس قحط کے بارے میں پیشگی خبردار کیا گیا ہے۔ صحرائی علاقوں میں اگر طویل مدت تک بارش نہ ہو تو پوری فضا گرد سے اٹ جاتی ہے اور آسمان کی طرف دیکھنے سے یوں لگتا ہے جیسے دھویں کے بادل چھا رہے ہیں۔ قحط کا یہ عذاب دراصل اسی قانونِ خداوندی کے تحت اہل مکہ پر مسلط ہوا تھا جس کا ذکر سورة الانعام میں اس طرح ہوا ہے : { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ۔ } ”اور ہم نے بھیجا ہے دوسری امتوں کی طرف بھی آپ ﷺ سے قبل رسولوں کو ‘ پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے شاید کہ وہ عاجزی کریں“۔ تابعین میں سے مجاہد ‘ قتادہ ‘ ابراہیم نخعی وغیرہ حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعود رض کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ بہر حال میں نے یہاں جلیل القدر صحابہ رض کی آراء بیان کردی ہیں۔ ان صحابہ رض کے عظیم مراتب کے پیش نظر ان آراء میں محاکمہ کرنا میرے نزدیک درست نہیں۔

الدخان 44:11

آیت 11 { یَّغْشَی النَّاسَط ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ”وہ ڈھانپ لے گا لوگوں کو۔ یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا۔“

الدخان 44:12

آیت 12 { رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ } ”اُس وقت لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کر دے ‘ ہم ایمان لانے والے ہیں۔“

الدخان 44:13

آیت 13 { اَنّٰی لَہُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ } ”کہاں ہے ان کے لیے یاد دہانی کی استعداد ‘ جبکہ آچکا ہے ان کے پاس ایک واضح کردینے والا رسول !“

الدخان 44:14

آیت 14 { ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّـمٌ مَّجْنُوْنٌ} ”پھر انہوں نے منہ پھیرلیا اس کی طرف سے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا ہوا مجنون ہے۔“ معاذ اللہ ! نقل کفر کفر نباشد ! وہ حضور ﷺ کے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ان کو یہ باتیں کسی اور نے سکھائی ہیں اور کبھی کہتے کہ ان پر آسیب اور ِجنات ّوغیرہ کا اثر ہوگیا ہے اور ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ معاذ اللہ !

الدخان 44:15

آیت 15 { اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّکُمْ عَآئِدُوْنَ } ”ہم دور کردیں گے اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ‘ تو تم لوٹ کر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔“ جیسے آلِ فرعون کے معاملے میں ہم سورة الاعراف کے چھٹے رکوع میں پڑھ چکے ہیں کہ ان پر پے در پے سات عذاب بھیجے گئے تھے۔ ہر مرتبہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے دعا کریں اور ہر بار وعدہ کیا کہ اگر یہ عذاب ٹل گیا تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ مگر جب عذاب ٹل جاتا تو وہ اپنے وعدے سے ِپھر جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض اس آیت کو اپنے مذکورہ موقف کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر اس دھویں سے مراد قبل از قیامت کا دھواں ہوتا تو اس کے دور کیے جانے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اس لیے اس سے مراد اسی نوعیت کا عذاب ہے جو کسی رسول کی بعثت کے بعد لوگوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے بھیجا جاتا ہے اور جس کا مقصد اور اصول سورة السجدۃ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ۔ ”اور ہم انہیں لازماً چکھائیں گے قریب کے کچھ چھوٹے عذاب بڑے عذاب سے پہلے تاکہ یہ باز آجائیں۔“

الدخان 44:16

آیت 16 { یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰیج اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ } ”جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ ‘ اُس دن یقینا ہم پورا پورا انتقام لیں گے۔“

الدخان 44:17

آیت 17 { وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَہُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ} ”اور ہم نے آزمایا تھا ان سے پہلے قوم فرعون کو بھی ‘ اور ان کے پاس بھی ایک بہت معزز رسول آیا تھا۔“

الدخان 44:18

آیت 18 { اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِط اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ} ”اس پیغام کے ساتھ کہ تم اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔ یقینا میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک معزز اور امانت دار رسول ہوں اور تمہاری طرف اللہ کا یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔

الدخان 44:19

آیت 19 { وَّاَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَی اللّٰہِج اِنِّیْٓ اٰتِیْکُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ } ”اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں ایک واضح سند۔“ اگر تم لوگ میری مخالفت کرو گے تو یہ گویا اللہ کی مخالفت اور اس کے خلاف سرکشی ہوگی۔ اس لیے کہ میں اللہ کا نمائندہ ہوں اور اسی کے پیغامات تم تک پہنچا رہا ہوں۔

الدخان 44:20

آیت 20 { وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ } ”اور میں نے پناہ پکڑ لی ہے اپنے اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔“

الدخان 44:21

آیت 21 { وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ } ”اور اگر تم لوگ میری بات نہیں مانتے ہو تو مجھ سے دوررہو !“ تمہاری سازشوں کے خلاف چونکہ میں نے اپنے رب کی پناہ حاصل کرلی ہے اس لیے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو بھی میرے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے سے باز رہنا۔

الدخان 44:22

آیت 22 { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ } ”پھر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم قوم ہے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیاـ:

الدخان 44:23

آیت 23{ فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ } ”پس میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو ‘ آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔“

الدخان 44:24

آیت 24 { وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَہْوًا } ”اور چھوڑ دینا سمندر کو ساکن !“ ہم سمندر کو پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنا دیں گے ‘ اس راستے سے گزر جانے کے بعد اسے اسی طرح ساکن چھوڑ دینا۔ { اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ } ”یہ ایک لشکر ہیں جو غرق کیے جائیں گے۔“ فرعون کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا اور اسی راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا ‘ لیکن ہم اس کو غرق کردیں گے۔

الدخان 44:25

آیت 25 ‘ 26 { کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ ”انہوں نے کتنے ہی باغوں ‘ چشموں ‘ کھیتوں اور شاندار رہائش گاہوں کو چھوڑا۔“

الدخان 44:26

آیت 25 ‘ 26 { کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ ”انہوں نے کتنے ہی باغوں ‘ چشموں ‘ کھیتوں اور شاندار رہائش گاہوں کو چھوڑا۔“

الدخان 44:27

آیت 27 { وَّنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْہَا فٰــکِہِیْنَ } ”اور کیسی کیسی نعمتوں کو جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے۔“

الدخان 44:28

آیت 28 { کَذٰلِکَقف وَاَوْرَثْنٰہَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ } ”یوں ہی ہوا ‘ اور ہم نے وارث بنا دیا ان چیزوں کا دوسرے لوگوں کو۔“

الدخان 44:29

آیت 29 { فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ } ”تو نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی گئی۔“

الدخان 44:30

آیت 30 { وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”اور ہم نے نجات دے دی بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے۔“

الدخان 44:31

آیت 31 { مِنْ فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ } ”یعنی فرعون سے ‘ یقینا وہ بڑا ہی سرکش ‘ حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔“ ایک طرف تو وہ معصیت کے ارتکاب میں حد سے بڑھا ہوا تھا اور دوسری طرف اس کی سرشت میں سرکشی بھی بہت تھی۔

الدخان 44:32

آیت 32 { وَلَقَدِ اخْتَرْنٰـہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ہم نے علم رکھنے کے باوجود اُن بنی اسرائیل کو اقوامِ عالم پر ترجیح دی تھی۔“ بنی اسرائیل کی تمام خرابیاں اور کوتاہیاں ہمارے علم میں تھیں۔ اس کے باوجود ہم نے دنیا کی تمام اقوام پر انہیں فضیلت دے کر برگزیدہ کیا تھا۔ بنی اسرائیل کی اس فضیلت کا ذکر قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں یہ آیت دو مرتبہ 47 اور 122 آئی ہے : { یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ 4 } ”اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی جہان والوں پر۔“ قرآن کریم خصوصی طور پر سورة البقرۃ میں بنی اسرائیل کے بڑے بڑے جرائم بھی ِگنوائے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کا سواد اعظم مسلسل توحید سے چمٹا رہا تھا۔ اگرچہ گاہے بگاہے ان میں مشرکانہ نظریات و اوہام بھی پنپتے رہے لیکن ان کی اکثریت بہر حال توحید پر قائم رہی۔ مثلاً ایک زمانے میں ان کے درمیان ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتا تھا لیکن اس دور میں بھی مجموعی طور پر ان میں سے اکثر لوگ توحید پرست ہی رہے۔

الدخان 44:33

آیت 33 { وَاٰتَیْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْہِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ } ”اور ہم نے انہیں بہت سی ایسی نشانیاں دیں جن میں بہت واضح آزمائش تھی۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو بار بار ایسی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا جو ان کے لیے ”بَلَآئً حَسَنًا“ الانفال : 17 کا درجہ رکھتی تھیں۔ یعنی ایسی آزمائشیں جو انسان کی بھلائیوں کو بڑھانے اور اچھائیوں کو نکھارنے کا باعث بنتی ہیں۔

الدخان 44:34

آیت 34 { اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَیَقُوْلُوْنَ } ”یہ لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں۔“ ہٰٓؤُلَآئِ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔ چونکہ یہ مکی سورت ہے اس لیے بنی اسرائیل کا ذکر کرنے کے بعد اب مشرکین مکہ کے اقوال و عقائد پر تبصرہ ہونے جا رہا ہے۔

الدخان 44:35

آیت 35 { اِنْ ہِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ } ”کچھ نہیں مگر ہماری یہ پہلی موت ہی ہوگی اور ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔“ کہ بس ہماری موت کے ساتھ ہی ہماری زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے عقیدے کو ہم نہیں مانتے۔

الدخان 44:36

آیت 36 { فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو ذرا ہمارے آباء و اَجداد کو ‘ اگر تم سچے ہو !“ اپنے موقف کے حمایت میں وہ لوگ یہ دلیل دیتے کہ اگر تم بعث بعد الموت کے عقیدے کو سچ مانتے ہو تو ذرا ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے دکھائو !

الدخان 44:37

آیت 37 { اَہُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍلا وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ بہتر ہیں یا ُ تبع ّکی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟“ یمن کے قدیم بادشاہ ”تبع“ کہلاتے تھے۔ جس طرح پرانے زمانے میں مصر کے بادشاہوں کا لقب ”فرعون“ اور عراق کے بادشاہوں کا لقب ”نمرود“ تھا اسی طرح یمن کے بادشاہوں کا لقب ”تبع“ تھا۔ { اَہْلَکْنٰہُمْ اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ } ”ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا ‘ بیشک وہ سب کے سب مجرم تھے۔“

الدخان 44:38

آیت 38 { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔“

الدخان 44:39

آیت 39 { مَا خَلَقْنٰہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اور ہم نے نہیں بنایا ان دونوں کو مگر حق کے ساتھ ‘ مگر ان لوگوں کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“

الدخان 44:40

آیت 40 { اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”یقینا فیصلے کا دن ان سب کا وقت ِمعین ّہے۔“

الدخان 44:41

آیت 41 { یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْئًا وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ”جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہیں آسکے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔“

الدخان 44:42

آیت 42 { اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰہُط اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ } ”سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرما دے۔ یقینا وہی ہے زبردست ‘ بہت رحم فرمانے والا۔“

الدخان 44:43

آیت 43 { اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ } ”یقینا زقوم کا درخت۔“

الدخان 44:44

آیت 44 { طَعَامُ الْاَثِیْمِ۔ } ”گنہگاروں کا کھانا ہے۔“

الدخان 44:45

آیت 45 { کَالْمُہْلِج یَغْلِیْ فِی الْْبُطُوْنِ } ”پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ‘ کھولے گا پیٹوں کے اندر۔“ اس درخت کا ذکر اس سے پہلے سورة الصافات کے دوسرے رکوع میں بھی ہوچکا ہے۔ اس کے شگوفے نہایت بد شکل ‘ بد ذائقہ اور بدبودار ہوں گے ‘ لیکن اہل جہنم اس کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔ جب وہ بھوک سے بےحال ہو کر اس کو کھائیں گے تو وہ ان کے پیٹوں میں پگھلے ہوئے تانبے کی طرح جوش مارے گا۔

الدخان 44:46

آیت 46 { کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ۔ } ”جیسے گرم پانی کھولتا ہے۔“

الدخان 44:47

آیت 47 { خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ۔ } ”پھر کہا جائے گا : پکڑو اس کو اور دھکیلتے ہوئے لے جائو اسے عین جہنم کے بیچوں بیچ۔“

الدخان 44:48

آیت 48 { ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ۔ } ”پھر انڈیل دو اس کے سر کے اوپر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب۔“

الدخان 44:49

آیت 49 { ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ۔ } ”اب چکھو ! تم تو بڑے طاقتور ‘ بہت معزز تھے نا !“ ہاں اے ابوجہل ! تمہیں اپنی سرداری اور جتھے ّداری پر بڑا فخر تھا نا ! اور ولید بن مغیرہ ! تم بھی تو اپنی دولت اور جوان بیٹوں کے َبل پر بڑے اکڑتے تھے نا ! آج جہنم کی آگ ‘ زقوم کے کھانے اور کھولتے ہوئے پانی کے عذاب کا مزا چکھو ! اب یہی تم لوگوں کا مقدر ہے۔

الدخان 44:50

آیت 50 { اِنَّ ہٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ } ”یقینایہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم شک کرتے تھے۔“

الدخان 44:51

آیت 51 { اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ۔ } ”اس کے برعکس متقین بڑی امن والی جگہ میں ہوں گے۔“

الدخان 44:52

آیت 52 { فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ } ”باغات اور چشموں میں۔“

الدخان 44:53

آیت 53 { یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ } ”باریک اور موٹے ریشم کا لباس پہنیں گے ‘ ایک دوسرے کی طرف رخ کیے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔“ ان کا نیچے کا لباس موٹے ریشم کا جبکہ اوپر کا لباس باریک ریشم کا ہوگا۔

الدخان 44:54

آیت 54 { کَذٰلِکَقف وَزَوَّجْنٰـہُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ } ”اسی طرح ہوگا ‘ اور ہم ان سے بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔“

الدخان 44:55

آیت 55 { یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیْنَ } ”وہ طلب کریں گے اس میں ہر طرح کے پھل اطمینان کے ساتھ۔“ جنت کے پھلوں میں سے جس پھل کی وہ خواہش کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کر دیاجائے گا۔

الدخان 44:56

آیت 56 { لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْہَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی وَوَقٰٹہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ } ”وہ نہیں چکھیں گے اس میں موت سوائے اس پہلی موت کے ‘ اور اللہ نے انہیں بچالیا ہے جہنم کے عذاب سے۔“ دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی وہی ان کی آخری موت ہوگی ‘ اب انہیں موت کی سختی کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جنت میں ان کا قیام ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوگا۔ اَللّٰھُمَ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ان بندوں میں شامل کرلے ‘ آمین !

الدخان 44:57

آیت 57 { فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکَط ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ”یہ فضل ہوگا آپ کے رب کی طرف سے۔ یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔“ بلاشبہ اس میں ان کی نیکیوں اور محنت کا بھی حصہ ہوگا ‘ لیکن اس دن کی کامیابی نیک اعمال کی کثرت کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے خصوصی فضل کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

الدخان 44:58

آیت 58 { فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰــہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے آپ کی زبان پر ‘ تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔“ قرآن کی زبان بہت فصیح وبلیغ ہونے کے باوجود بڑی سادہ اور آسان ہے۔ بعض مصنفین دقیق اور ثقیل الفاظ استعمال کر کے قارئین پر اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ عربی کی کتاب ”مقاماتِ حریری“ پڑھیں تو اس میں آپ کو بھاری بھر کم اور نامانوس الفاظ کی کثرت سے محسوس ہوگا کہ شاید کتاب لکھنے سے مصنف کا مقصود صرف اپنے ذخیرہ الفاظ کا مظاہرہ کرنا ہی ہے۔ بہر حال قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کا مقصد بنی نوع انسان کو ہدایت دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نعوذ باللہ قرآن کی عبارت کے ذریعے سے اپنی زبان دانی کی مہارت کا مظاہرہ کرنا مقصود نہیں تھا۔ چناچہ اس کتاب میں اگر ایک طرف ہمیں فصاحت و بلاغت کی معراج نظر آتی ہے تو دوسری طرف اس کی عبارت میں سہل ممتنع اور سادگی کا اعجاز بھی دکھائی دیتا ہے۔

الدخان 44:59

آیت 59 { فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ } ”تو آپ ﷺ انتظار کیجیے ‘ یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔“ یہی لفظ فَارْتَقِبْ قبل ازیں آیت 10 میں بھی آیا ہے ‘ جہاں دھویں کے عذاب کا ذکر ہے۔ گویا یہاں ایک دفعہ پھر اسی عذاب کے بارے میں پیشگی طور پر خبردار کردیا گیا ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود رض کے نزدیک اہل ِمکہ پر خشک سالی اور قحط کی صورت میں آنے والا تھا۔

الجاثية 45:1

آیت 1 { حٰمٓ } ”ح ‘ م۔“

الجاثية 45:2

آیت 2 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ”اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔“

الجاثية 45:3

آیت 3 { اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ماننے والوں کے لیے۔“

الجاثية 45:4

آیت 4 { وَفِیْ خَلْقِکُمْ وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ } ”اور تمہاری تخلیق میں ‘ اور جو اس نے پھیلادیے ہیں زمین میں جاندار ان میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔“

الجاثية 45:5

آیت 5 { وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ } ”اور رات اور دن کے اختلاف میں ‘ اور اس میں جو اللہ آسمان سے رزق اتارتا ہے“ رزق سے مراد یہاں بارش کا پانی ہے جو زمین سے روزی کے نکلنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بارش کے پانی کا نزول گویا انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے رزق کا نزول ہے۔ { فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا } ”پھر زندہ کردیتا ہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد“ وہ زمین جو بنجر اور بےآب وگیاہ پڑی تھی بارش کے برستے ہی ہریالی اور طرح طرح کے نباتات کے لباس میں ملبوس نظر آنے لگی۔ { وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ } ”اور ہوائوں کے چلنے میں ‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“ یہاں پر سورة البقرۃ کی وہ آیت ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں جسے میں نے ”آیت الآیات“ کا عنوان دیا تھا : { اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ } ”یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘ اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ‘ اور ان کشتیوں اور جہازوں میں جو سمندر میں یا دریائوں میں لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں ‘ اور اس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے ‘ پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ‘ اور ہر قسم کے حیوانات اور چرند پرند اس کے اندر پھیلادیے ‘ اور ہوائوں کی گردش میں ‘ اور ان بادلوں میں جو معلق کردیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان ‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“ گویا سورة البقرۃ کی اس آیت میں جو نشانیاں بیان ہوئی ہیں ان میں سے اکثر کا ذکر زیر مطالعہ تین آیات میں آگیا ہے۔

الجاثية 45:6

آیت 6 { تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ } ”یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم پڑھ کر سنا رہے ہیں آپ کو حق کے ساتھ۔“ { فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ } ”تو اب اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟“ اگر یہ لوگ کائنات میں موجود آیات آفاقی کا بچشم ِسر مشاہدہ کرنے اور قرآن کی آیات کو سننے کے بعد بھی ایمان نہیں لائے تو اور کس معجزے کو دیکھ کر ایمان لائیں گے ؟ ایمان کی دولت تو صرف اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو خود طالب ِہدایت ہو۔ بلاشبہ قرآن ہر طالب ہدایت کے لیے ایک بہت بڑا معجزہ ‘ سراج منیر اور منبع رشد و ہدایت ہے۔ لیکن اگر کسی کے دل میں ہدایت کی طلب ہی نہ ہو تو وہ بڑے سے بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے گا۔

الجاثية 45:7

آیت 7 { وَیْلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ } ”بربادی ہے ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار کے لیے۔“

الجاثية 45:8

آیت 8 { یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتْلٰی عَلَیْہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا } ”وہ سنتا ہے اللہ کی وہ آیات جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ‘ پھر وہ اڑ جاتا ہے ضد پر تکبر ّکرتے ہوئے جیسے کہ اس نے انہیں سنا ہی نہ ہو۔“ { فَـبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ } ”تو آپ ﷺ اسے ایک دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔“ یہ دراصل سردارانِ قریش کے رویے کا ذکر ہے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حال تھا۔

الجاثية 45:9

آیت 9 { وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَانِ اتَّخَذَہَا ہُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ} ”اور جب ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہوگا۔“

الجاثية 45:10

آیت 10 { مِنْ وَّرَآئِہِمْ جَہَنَّمُ } ”ان کے پیچھے جہنم ہے۔“ یعنی جہنم ان کی منتظر ہے۔ -۔ -۔ -۔ - وَرَاء کا لفظ ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو آدمی کی نظر سے اوجھل ہو خواہ آگے ہو یا پیچھے ہو۔ لہٰذا ان الفاظ کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”ان کے آگے جہنم ہے“ جس میں وہ گرنے والے ہیں۔ { وَلَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ مَّا کَسَبُوْا شَیْئًا } ”اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ ان کے ذرا بھی کام نہیں آسکے گا“ دُنیا میں انہوں نے جو کچھ کمایا ہے اور مال و دولت جمع کیا ہے ‘ یہ سب کچھ انہیں جہنم سے نہ بچا سکے گا۔ { وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَج وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ } ”اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے سوا مدد گار بنا رکھا ہے ‘ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔“ اللہ کے سوا انہوں نے جو جھوٹے معبود بنا رکھے ہیں اور ان کی سفارش اور شفاعت کا انہیں زعم بھی ہے ‘ وہ بھی اس دن انہیں جہنم کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔

الجاثية 45:11

آیت 11 { ہٰذَا ہُدًیج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ} ”یہ قرآن ہے ہدایت۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا کفر کیا ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہوگا۔“

الجاثية 45:12

آیت 12 { اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ } ”اللہ ہی ہے جس نے مسخر کردیا تمہارے لیے سمندر کو تاکہ اس میں کشتیاں چلیں اس کے حکم سے“ { وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } ”تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔“ اللہ کا فضل تلاش کرنے سے یہاں تجارت کے ذریعے روزی تلاش کرنا مراد ہے ‘ جبکہ کشتیاں اور جہاز سمندروں اور دریائوں میں سامانِ تجارت کی نقل و حمل کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔

الجاثية 45:13

آیت 13 { وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ } ”اور اس نے مسخر کردیا تمہارے لیے اپنی طرف سے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیں۔“ اس مفہوم کی تمام آیات قرآنی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں بنی نوع انسان کے لیے دعوت تسخیر ہے کہ اللہ نے تو زمین و آسمان کی ہر ہرچیز کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے ‘ اب یہ تمہاری ہمت پر منحصر ہے کہ تم اپنے علم اور ٹیکنالوجی کے َبل بوتے پر کس کس مقام اور کون کون سی چیز تک رسائی حاصل کرتے ہو۔ نیز ایسی آیات کے الفاظ میں نسل انسانی کے مستقبل کی ترقی کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ مستقبل میں نہ معلوم اللہ تعالیٰ انسان کو ترقی کی کون کون سی منازل طے کرائے گا۔

الجاثية 45:14

آیت 14 { قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ اہل ِایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ ذرا درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے“ اس آیت کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے تقریباً وسط میں نازل ہوئی ہے۔ گویا اس وقت حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے پانچ چھ سال ہی ہوئے تھے ‘ یعنی ابھی اہل ِمکہ ّپر اتمامِ حجت نہیں ہوا تھا اور ابھی ان کے لیے مزید مہلت درکار تھی۔ چناچہ اہل ایمان کو تلقین کی جارہی ہے کہ وہ مشرکین کے مخالفانہ روییّسے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ یہ جہالت میں ڈوبے ہوئے گمراہ لوگ ہیں ‘ انہیں ”ایام اللہ“ کے بارے میں کوئی کھٹکا اور اندیشہ ہے ہی نہیں۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ جس عذاب نے ماضی کی بڑی بڑی اقوام کو نیست و نابود کردیا تھا وہ ان پر بھی آسکتا ہے۔ لہٰذا ا بھی آپ لوگ ان سے درگزر کریں اور ان کے معاملے میں جلدی کرتے ہوئے یہ نہ سوچیں کہ نہ معلوم اللہ نے انہیں اس قدر ڈھیل کیوں دے رکھی ہے اور یہ کہ ان پر عذاب موعود آ کیوں نہیں جاتا ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ابھی مزید مہلت دینا چاہتا ہے۔ { لِیَجْزِیَ قَوْمًام بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تاکہ اللہ بدلہ دے ایک قوم کو ان کی اپنی کمائی کے مطابق۔“

الجاثية 45:15

آیت 15 { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَاز ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ } ”جس کسی نے اچھا کام کیا تو اس نے اپنے ہی بھلے کے لیے کیا ‘ اور جس کسی نے برا کام کیا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا ‘ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔“

الجاثية 45:16

آیت 16 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ } ”اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کی کتاب ‘ حکومت اور نبوت“ { وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ہم نے انہیں عطا کیں بہت سی پاکیزہ چیزیں ‘ اور انہیں ہم نے تمام جہان کی قوموں پر فضیلت دی۔“ ان لوگوں کا نسبی تعلق اگرچہ حضرت ابراہیم سے ہے ‘ لیکن جس قوم کا نام بنی اسرائیل ہے وہ حضرت یعقوب کی اولاد ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل“ اللہ کا بندہ تھا اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد سے بارہ قبیلے وجود میں آئے جو بنی اسرائیل کہلائے۔ قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کو فضیلت سے نوازے جانے کا ذکر تکرار سے آیا ہے۔ اس فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں نبوت کا وہ سلسلہ جو دو پیغمبروں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے شروع ہوا ‘ چودہ سو برس تک بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے جاری رہا۔ اس دوران ان کے ہاں پے در پے نبی آئے اور نبوت کی کڑی کے ساتھ کڑی یوں ملتی گئی کہ ایک مسلسل زنجیر بن گئی۔ پھر جس طرح اس زنجیر کا آغاز دو پیغمبروں سے ہوا تھا اسی طرح اس کا اختتام بھی دو پیغمبروں یعنی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ﷺ پر ہوا۔ بہر حال جتنے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف آئے ‘ دنیا میں کسی اور قوم کی طرف اتنے انبیاء نہیں آئے۔ اقوامِ عالم پر بنی اسرائیل کی یہ فضیلت آج بھی قائم ہے۔ بنی اسرائیل کے حوالے سے ہمارے لیے اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جب دین کی طرف پیٹھ پھر کر ‘ دنیا میں منہمک ہوگئے ‘ عیاشیوں میں پڑگئے اور آخرت کو بھول گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضیلت کی حامل اس قوم پر ذلت اور مسکنت تھوپ دی گئی : { وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ } اور اس فیصلے کا اعلان قرآن میں دو مرتبہ البقرۃ : 61 اور آلِ عمران : 112 کیا گیا۔ چناچہ بنی اسرائیل تاریخ میں آج ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا خصوصی فضل اور احسان فرمایا کہ ہمیں اس نے اپنے آخری رسول ﷺ کی امت بنایا اور اپنی آخری کتاب سے نوازا۔ مگر ہم نے بھی جب دین کی طرف سے پیٹھ پھیرلی اور آخرت کو بھول کر دنیا ہی کو اپنا اوڑھنا ‘ بچھونا بنا لیا تو ہمارے حصے میں بھی ویسی ہی ذلت و مسکنت آئی۔ چناچہ آج دنیا میں ڈیڑھ سو کروڑ مسلمان ہیں مگر اقوامِ عالم کے درمیان ان کی حیثیت یہ ہے کہ ع ”کس نمی پر سد کہ بھیا کیستی ؟“ آج بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کسی بھی فورم پر مسلمان ممالک کی رائے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی جاتی۔ بلکہ اب تو مسلمانوں کے اپنے معاملات کی باگ ڈور بھی غیروں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے میری انگریزی تقریر Turmoil in Muslim Ummah سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ‘ جبکہ اردو میں تو اس موضوع پر میری بہت سی تقاریر دستیاب ہیں۔

الجاثية 45:17

آیت 17 { وَاٰتَیْنٰہُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ } ”اور ہم نے انہیں عطا کیں دین کے معاملہ میں واضح ہدایات۔“ یہاں ”امر“ سے مراد دین و شریعت ہے۔ یعنی ان کے انبیاء کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام ضروری ہدایات مسلسل ملتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تورات ‘ زبور اور انجیل جیسی کتابیں بھی عطا گئیں۔ { فَمَا اخْتَلَفُوْٓا اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ لا بَغْیًام بَیْنَہُمْ } ”اور انہوں نے نہیں اختلاف کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ محض باہمی ِضدم ّضدا کے سبب سے۔“ کتاب اللہ کی واضح تعلیمات ان لوگوں تک پہنچ چکی تھیں۔ اس کے باوجود ضد بازی کی بنیاد پر ان کے اندر شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور انہی اختلافات کی وجہ سے یہ قوم مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ پہلے یہودی اور نصاریٰ الگ الگ ہوئے اور پھر ان دونوں گروہوں کے اندر باہمی ضدم ضدا کے باعث مزید کئی کئی فرقے بن گئے۔ دراصل کسی بھی قوم کی صفوں میں اختلاف کی بنیادی وجہ غلبہ حاصل کرنے کی وہ خواہش urge to dominate ہوتی ہے جو اس کے ہر دھڑے میں پائی جاتی ہے۔ ان اختلافات سے تفرقہ بازی جنم لیتی ہے جس کے باعث بالآخر اس قوم کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ { اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ”یقینا آپ ﷺ کا رب فیصلہ کر دے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان تمام باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔“

الجاثية 45:18

آیت 18 { ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا }“ پھر اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو قائم کردیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ شریعت پر ‘ تو آپ اسی کی پیروی کریں“ حضرت آدم سے لے کر نبی آخر الزماں ﷺ تک تمام انبیاء رسل علیہ السلام اسی دین کی دعوت کے لیے مبعوث ہوئے۔ سورة الشوریٰ میں اس نکتے کی وضاحت ہم پڑھ چکے ہیں : { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَـآ اِلَـیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی…} آیت 13 ”اے مسلمانو ! اس نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی طرف کی ہے اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم علیہ السلام کو ‘ موسیٰ علیہ السلام ٰ کو ‘ اور عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو…“ بہر حال ”امر اللہ“ یعنی اللہ کا دین تو شروع سے ایک ہی ہے۔ البتہ ہر زمانے کے تقاضوں کے لحاظ سے شریعتیں مختلف رہی ہیں ‘ مثلاً شریعت ِموسوی علیہ السلام کے بعض احکام شریعت ِمحمدی ﷺ کے بعض احکام سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ کا مفہوم لفظ ”شَرِیْعَۃٍ“ کے حوالے سے یہ ہے کہ اے محمد ﷺ بنی اسرائیل کے بعد ہم نے آپ ﷺ کو اپنے دین کا آخری اور تکمیلی ایڈیشن شریعت ِمحمدی ﷺ کے نام سے اس سند کے ساتھ عطا کیا ہے کہ : { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُم وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا } المائدۃ : 3 ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی ہے اور تم پر اتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا اور تمہارے لیے میں نے پسند کرلیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے“۔ چناچہ اب آپ اور آپ کے پیروکار اسی شریعت کا اتباع کریں۔ { وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ }“ اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے جن کے پاس کوئی علم ہی نہیں ہے۔“

الجاثية 45:19

آیت 19 { اِنَّہُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا } ”یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔“ یہ مضمون قرآن میں متعددبار آچکا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں یوں فرمایا گیا : { وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗق وَاِذًا لاَّتَّخَذُوْکَ خَلِیْلاً وَلَوْلَآ اَنْ ثَـبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْہِمْ شَیْئًا قَلِیْلاً اِذًا لَّاَذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا } ”اور یہ لوگ اس بات پر ُ تلے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ کو پھسلا دیں اس وحی سے جو ہم نے آپ ﷺ کی طرف کی ہے تاکہ اس کے علاوہ آپ ﷺ کوئی اور چیز گھڑ کر ہم سے منسوب کردیں ‘ اور اگر آپ ﷺ ایسا کرتے تب تو یہ لوگ آپ ﷺ کو اپنادوست بنا لیتے۔ اور اگر ہم آپ ﷺ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو عین ممکن تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک ہی جاتے۔ اگر ایساہو جاتا تو تب ہم آپ ﷺ کود گنی سزا دیتے زندگی میں اور دگنی سزا دیتے موت پر ‘ پھر نہ پاتے آپ ﷺ اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔“ { وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ } ”اور یقینا یہ ظالم مشرک لوگ ایک دوسرے کے مدد گار ہیں ‘ جبکہ اللہ مددگار ہے متقین کا۔“

الجاثية 45:20

آیت 20 { ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ } ”یہ ہیں آنکھیں کھولنے والی باتیں لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو ان پر یقین کریں۔“

الجاثية 45:21

آیت 21 { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”جو لوگ ُ بری باتوں کا ارتکاب کر رہے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ؟“ { سَوَآئً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ } ”کہ ان کی زندگی اور موت ایک جیسی ہوجائے ؟ بہت برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں !“ قیامت کے حساب اور آخرت کی زندگی کے بارے میں عقلی اور منطقی سطح پر یہ ایک مضبوط دلیل ہے۔ اگر دنیا کے نیکو کاروں کو کوئی اجر و انعام نہ ملے ‘ مجرموں کو اپنے جرائم کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور نیک و بد سب برابر ہوجائیں تو اس سے بڑا ظلم بھلا اور کیا ہوگا ؟ دنیا میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو حرام و حلال کی تمیز ختم کر کے اور جائز و ناجائز کی پابندیوں سے بےنیاز ہو کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو زندگی کے ہر معاملے میں ہمیشہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ وہ اپنے فائدے کے لیے کسی کا حق نہیں مارتے۔ وہ فاقوں سے رہنا برداشت کرلیتے ہیں مگر حرام نہیں کھاتے۔ اب فرض کریں کہ اگر دنیا کی زندگی ہی آخری زندگی ہو ‘ نہ آخرت ہو اور نہ ہی مرنے کے بعد بےلاگ حساب و کتاب کا کوئی مرحلہ درپیش ہو ‘ نہ نیک اور دیانت دار لوگوں کے لیے کوئی جزا ہو اور نہ برے لوگوں کے لیے کوئی سزا ‘ تو ایسی صورت میں قاتلوں ‘ لٹیروں اور ظالموں کے تو گویا وارے نیارے ہوگئے ‘ جبکہ نیک ‘ شریف اور دیانتدار قسم کے لوگ سرا سر گھاٹے میں رہ گئے۔ اس لیے اگر قیامت قائم نہیں ہوتی ‘ نیکوکاروں کو ان کے نیک اعمال کی جزا نہیں ملتی اور بدکاروں کو ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا تو یہ بنی نوع انسان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ چناچہ جو آخرت کو نہیں مانتا وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت ِعدل کا ہی منکر ہے۔

الجاثية 45:22

آیت 22 { وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور اللہ نے تو آسمان اور زمین کو حق عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ پورا پورا بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو کچھ اس نے کمایا ہو ‘ اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو۔“

الجاثية 45:23

آیت 23 { اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُ } ”کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟“ اس سے قبل یہ مضمون سورة الفرقان کی آیت 43 میں بھی آچکا ہے۔ یہاں اس کا اعادہ دراصل زیر مطالعہ آٹھ سورتوں سورۃ الزمر تا سورة الاحقاف کے مرکزی مضمون کے سیاق وسباق میں ہوا ہے۔ چناچہ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مضمون کے ذیلی عنوانات کی ترتیب کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے۔ ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی چار سورتوں الزمر تا الشوریٰ میں ”توحید ِعملی“ کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدیج کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ سورة الزمر میں تکرار کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے : { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ۔ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے“۔ اللہ کی اطاعت سے منہ موڑ کر کسی اور کی اطاعت کرنا شرک ہے اور مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت کرنا بھی شرک ہے جس سے خالق کی معصیت کا ارتکاب ہوتا ہو۔ اس کے بعد سورة المومن میں توحید عملی کے داخلی پہلو دعا کو اجاگر کیا گیا ہے اور بار بار حکم دیا گیا ہے : { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } کہ اللہ سے دعا کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس طرح ان دونوں سورتوں میں توحید عملی کا مضمون اپنے خارجی اور داخلی دونوں پہلوئوں سے ایک فرد کی حد تک مکمل ہوگیا ہے۔ اس کے بعد اگلی دو سورتوں سورة حٰمٓ السجدۃ اور سورة الشوریٰ میں توحید عملی کو فرد سے اجتماعیت کی طرف بڑھایا گیا ہے۔ چناچہ سورة حٰمٓ السجدۃ میں توحید کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے اور اس دعوت کی فضیلت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”اور اس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں بھی مسلمانوں میں سے ہوں !“ اس دعوت کا ذریعہ medium چونکہ قرآن ہے اس لیے اسی نسبت سے سورة حٰمٓ السجدۃ میں قرآن کی عظمت کا ذکر تکرار کے ساتھ چھ مرتبہ آیا ہے۔ اس کے بعد سورة الشوریٰ کا مرکزی مضمون اقامت دین ہے۔ تدریج کے حوالے سے اس کی وضاحت یوں ہوگی کہ جو لوگ توحید کی دعوت پر لبیک کہیں انہیں منظم کر کے ایک قوت میں تبدیل کیا جائے۔ پھر یہ سب لوگ مل کر باطل کے تسلط کو ختم کرنے اور معاشرے میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ اس طرح ان چار سورتوں میں ”توحید عملی“ کے مضمون کو فرد سے لے کر ایک ترتیب اور تدریج کے ساتھ اجتماعی نظام کی سطح تک مکمل کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد سورة الزخرف اور سورة الجاثیہ میں اس مضمون توحید فی الاطاعت کے تقابل کے طور پر شرک فی الاطاعت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ سورة الزخرف میں اجتماعیت کی بلند ترین سطح یعنی حاکمیت کی سطح کے شرک کا حوالہ ہے جبکہ سورة الجاثیہ میں خصوصی طور پر آیت زیر مطالعہ میں انفرادی سطح کے شرک کا ذکر ہے۔ جہاں تک اجتماعیت کی سطح پر شرک کا تعلق ہے اس کو یوں سمجھئے کہ ”انسانی حاکمیت“ کا تصور شرک کی بد ترین شکل ہے ‘ کیونکہ حاکم مطلق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ سورة یوسف میں ہم پڑھ چکے ہیں : { اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِط } آیت 40 کہ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس حوالے سے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کا یہ اعلان : { وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ } ”اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں“ اور سورة الکہف کی آیت 26 کے یہ الفاظ { وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا۔ ”اور وہ شریک نہیں کرتا اپنے حکم میں کسی کو بھی“ اپنے معانی و مفہوم میں بہت واضح ہیں۔ اب ایسے واضح احکام کے بعد اگر کوئی انسان ”حاکمیت مطلق“ کا دعویٰ کرے تو یہ گویا خدائی کا دعویٰ ہے اور یوں یہ شرک کی بد ترین شکل ہے۔ اسی شرک کا علمبردار نمرود تھا اور اسی جرم کا مرتکب فرعون بھی ہوا تھا۔ سورة الزخرف میں فرعون کے نعرہ شرک کا ذکر یوں آیا ہے : { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا ‘ اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اور یہ تمام نہریں میرے حکم کے تحت نہیں بہتی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ شرک فی الاطاعت کا دوسرا پہلو انفرادی ہے ‘ جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ اس آیت میں ایک ایسے شخص کی مثال بیان ہوئی ہے جس نے اپنی زندگی میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنے نفس کی خواہش پر چلنے کا طرز عمل اپنا رکھا ہے اور وہ اپنے نفس کے تقاضوں اور اس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے حلال و حرام کی تمیز روا نہیں رکھتا۔ ایسے شخص نے اپنے عمل سے گویا ثابت کردیا ہے کہ اس کا معبود اللہ نہیں ‘ بلکہ اس کا نفس ہے۔ اور وہ حقیقت میں اللہ کا نہیں اپنے نفس کا ”بندہ“ ہے۔ حضور ﷺ نے ایسے ہی شخص کو درہم و دینار کا بندہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ 1 ”ہلاک ہوجائے درہم و دینار کا بندہ“۔ یہ دراصل وہ شخص ہے جو دولت کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور حلال و حرام کی تمیز کو بالکل پس پشت ڈال چکا ہے۔ اب اس کے والدین نے اس کا نام ”عبدالرحمن“ ہی کیوں نہ رکھا ہو ‘ لیکن اس کے عمل سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصل میں وہ ”عبدالدینار“ ہے۔ بہر حال سورة الزخرف میں شرک فی الاطاعت کا ذکر معاشرے کی بلند ترین سطح یعنی ریاست اور حاکمیت کی سطح پر ہوا ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ سورت کی اس آیت میں اس کی دوسری انتہا یعنی انفرادی سطح کے شرک کا بیان ہے۔ شرک کی باقی تمام صورتیں ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہیں۔ آیت میں استفسار کے اسلوب سے زور کلام خاص طور پر زیادہ ہوگیا ہے کہ کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کی عبرتناک حالت پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِنفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟ { وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ } ”اور اللہ نے اسے گمراہ کر رکھا ہے اس کے علم کے باوجود“ ہوسکتا ہے وہ کوئی بہت بڑا عالم ہو یا اعلیٰ پائے کا محقق ہو یا کوئی نامور سائنسدان ہو ‘ مگر جس انسان نے اپنے نفس کا بندہ بن کر رہنا قبول کرلیا ہو اس کی علمی اہلیت ‘ تحقیقی استعداد اور سائنٹیفک اپروچ اسے نہ تو اللہ کی اطاعت کی راہ دکھا سکتی ہے ‘ اور نہ ہی اس کے دل کو ایمان اور اللہ کی معرفت کے نور سے منور کرسکتی ہے۔ ایسے بدقسمت لوگوں پر ہدایت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے جاتے ہیں : { خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ ط وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ ز } البقرۃ : 7۔ سورة البقرۃ کی اس آیت کے الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ دیکھئے یہاں بھی آگئے ہیں : { وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً } ”اور اللہ نے اس کی سماعت اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔“ اس مہر اور اس پردے کی کیفیت کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو آج کے سائنسدانوں کو دیکھ لیجیے۔ انہوں نے سات سمندروں کے پانیوں کو کھنگال مارا ہے ‘ روئے ارضی کے ذرّے ذرّے کی چھان پھٹک وہ کرچکے ہیں۔ خلا کی وسعتوں کے اندر دور دور تک وہ جھانک آئے ہیں۔ غرض سائنسی کرشموں کے سبب انہوں نے کائنات کے بڑے بڑے رازوں کو طشت ازبام کردیا ہے ‘ لیکن اس پوری کائنات میں اگر انہیں نظر نہیں آیا تو ایک اللہ نظر نہیں آیا ! مذکورہ ”پردہ“ ان کی آنکھوں پر اس قدر دبیز ہوچکا ہے کہ اس پوری کائنات میں کائنات کے خالق کا انہیں کہیں سراغ نہیں ملا۔ { فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اللّٰہِط اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ } ”تو اللہ کے اس فیصلے کے بعداب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے ‘ تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟“

الجاثية 45:24

آیت 24 { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا } ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں“ اس ایک جملے میں یوں سمجھئے کہ دہریت اور مادّیت Materialism کی پوری حقیقت سمو دی گئی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق اس کائنات کی اصل اور سب سے بڑی حقیقت مادّہ matter ہے ‘ مادّے کے علاوہ کسی اور شے کا کوئی وجود نہیں ‘ مادّے کی اپنی صفات ہیں ‘ کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تبدیلی آتی ہے وہ مادّے کی ہیئت میں تبدیلیوں physical and chemical changes کے باعث ہی ممکن ہے۔ یہ کائنات مادّے سے خود ہی وجود میں آئی تھی اور مادّے کے اٹل قوانین کے باعث خود ہی چل رہی ہے۔ انسانی زندگی بھی انہی اٹل قوانین کے تابع ہے۔ انہی لگے بندھے قوانین کے تحت انسان پیدا ہوتے ہیں ‘ اپنی طبعی عمر کے مطابق زندہ رہتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ نہ تو مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا کوئی امکان ہے۔ یہ فلسفہ دہریت کے بنیادی نکات ہیں ‘ جبکہ تجربیت پسندی بحیثیت نظریہ علم Empiricism اور منطقی اثباتیت Logical Positivism بھی اسی فلسفے کی ذیلی شاخیں ہیں اور مذکورہ نکات ان سب کے ہاں مشترک ہیں۔ { وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ } ”اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ“ کہ ہم تو محض زمانے کی گردش سے ہلاک ہوتے ہیں۔ نہ تو کوئی اللہ ہے جو انسانوں کی موت کے پروانے جاری کرتا ہو اور نہ ہی کسی فرشتے وغیرہ کا کوئی وجود ہے جو آکر کسی کی جان قبض کرتا ہو۔ { وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍج اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ } ”حالانکہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے ‘ وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں۔“ محض اٹکل کے تیر ُ تکے ّچلا رہے ہیں۔

الجاثية 45:25

آیت 25{ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَـآئِنَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو نہیں ہوتی ان کی کوئی دلیل سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ زندہ کر کے لے آئو ہمارے آباء و اَجداد کو اگر تم سچے ہو !“ اس ضمن میں ان کے پاس واحد حجت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ چلو اگر تم ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے ہمارے پاس لے آئو تو ہم بعث بعد الموت کے تمہارے دعوے کو مان لیں گے۔

الجاثية 45:26

آیت 26{ قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے ‘ پھر وہی تمہیں موت دے گا“ کہ میں نے تو کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں کسی کو زندہ کروں گا۔ ہر کسی کی زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اب وہ حضرات جو اس کائنات اور انسانی زندگی کو مادّیت اور دہریت کی عینک سے دیکھتے ہیں ‘ انہیں یہ بات بھلا کیونکر سمجھ میں آسکتی ہے کہ ہم اس سے پہلے ایک زندگی اور ایک موت کے مراحل طے کر کے اس دنیا میں آئے ہیں ! وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو : سورة المومن ‘ تشریح آیت 11 { ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”پھر تمہیں جمع کرے گا قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں ‘ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“

الجاثية 45:27

آیت 27 { وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔“ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ } ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن جھٹلانے والے بڑے خسارے میں ہوں گے۔“ جو لوگ حق کو باطل قرار دے رہے ہیں ‘ روزِ محشر انہیں عظیم خسارے کا سامنا کرنا ہوگا۔

الجاثية 45:28

آیت 28 { وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً } ”اور تم دیکھو گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہوگی۔“ { کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی کِتٰبِہَا } ”ہر امت کو بلایا جائے گا اس کے اعمال نامے کی طرف۔“ وہاں سر ِمحشر باری باری ندا ہوگی کہ فلاں قوم کو لے آیا جائے اور ان کا اعمال نامہ پیش کیا جائے۔ { اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا ان اعمال کا جو تم کرتے رہے ہو۔“

الجاثية 45:29

آیت 29 { ہٰذَا کِتٰـبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ } ”یہ ہمارا تیار کردہ اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ گواہی دے گا۔“ یہ وہ ریکارڈ ہے جس میں ہم نے تمہارے ایک ایک عمل کو محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ ابھی تمہاری ایک ایک حرکت کی ٹھیک ٹھیک تفصیل بتادے گا اور تمہارے خلاف بالکل ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔ { اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جا رہے تھے۔“ اس ”لکھنے“ کے مفہوم میں بہت وسعت اور جامعیت ہے۔ عام طور پر ہمارا ذہن لکھنے کے انسانی طور طریقوں کی طرف جاتا ہے۔ لیکن ان طریقوں میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایسی تبدیلیاں آچکی ہیں جن کے بارے میں زمانہ ماضی میں کبھی ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم قلم اور دوات سے لکھا کرتے تھے مگر آج اس سے کہیں بہتر لکھائی کمپیوٹر کے ذریعے سے ہوجاتی ہے۔ پھر آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ بھی تحریر ہی کی ترقی یافتہ صورت ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے ہاں کی لکھائی کا تصور ہمارے ذہن سے بہت بالا ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر انسان کی زندگی کے ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحے کی تفصیلی روداد تیار ہو رہی ہے۔ وقت آنے پر بس ایک اشارہ ہوگا اور متعلقہ انسان کی زندگی کی مکمل تصویر سامنے آجائے گی۔

الجاثية 45:30

آیت 30 { فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے“ { فَیُدْخِلُہُمْ رَبُّہُمْ فِیْ رَحْمَتِہٖ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ } ”تو ان کو داخل کر دے گا ان کا پروردگار اپنی رحمت میں۔ یہ بہت واضح کامیابی ہوگی۔“

الجاثية 45:31

آیت 31 { وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا“ { اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ } ”ان سے اللہ پوچھے گا کہ کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟“ اس آیت میں اگرچہ کفار کا ذکر ہے ‘ لیکن اس مفہوم کی آیات کے حوالے سے یہ اہم نکتہ مدنظر رہے کہ ہم بھی جب قرآن سنتے ہیں تو اپنے اور پڑھ کر سنانے والے کے بارے میں اس جملے کا مفہوم ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ان سطور کو پڑھنے والے ہر قاری کے ذہن میں بھی یہ تصور ضرور ہونا چاہیے کہ قرآن کا پیغام اس تک پہنچ گیا ہے اور وہ اس کے بارے میں ضرور مسئول ہوگا۔ { فَاسْتَکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ } ”تو تم نے استکبار کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔“ ہماری آیات کے آگے سر جھکانے اور ہمارے احکام کو تسلیم کرنے کے بجائے تم نے استکبار کا رویہ اپنا یا ‘ اس لحاظ سے واقعی تم بہت بڑے مجرم تھے۔

الجاثية 45:32

آیت 32 { وَاِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ لَا رَیْبَ فِیْہَا } ”اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور قیامت آنے میں کوئی شک نہیں“ { قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ } ”تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے“ السّاعۃ قیامت کی موعودہ گھڑی کا ذکر سن کر تم کہا کرتے تھے کہ ہم کسی ساعت واعت کو نہیں جانتے۔ تمہارے یہ گستاخانہ جملے ہمارے پاس ریکارڈ میں موجود ہیں۔ { اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا } ”ہاں ہمیں ایک گمان سا تو ہوتا ہے“ لیکن کبھی کبھی تم قیامت کا ذکر سن کر یوں بھی کہا کرتے تھے کہ ہاں قیامت کے قائم ہونے اور آخرت کی زندگی کے بارے میں ہمیں گمان سا تو ہوتا ہے ‘ ایک خیال سا تو آتا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ نیکی و بدی کے فرق اور سزا و جزا کی منطق کو تم لوگ خوب سمجھتے تھے۔ تم جانتے تھے کہ پیشہ ور مجرم اور نیک لوگ برابر نہیں ہوسکتے۔ کبھی کسی مظلوم کی بےبسی کو دیکھ کر تمہارے ذہن میں یہ سوال بھی چپک جاتا تھا کہ اس بےچارے کی کہیں تو داد رسی ہونی چاہیے اور کبھی کبھی تمہارا ضمیر تمہیں یہ بھی یاد دلایا کرتا تھا کہ ظالموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے کوئی موثر اور قطعی نظام تو ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن پھر دنیوی مفادات کی یلغار کو اپنے سامنے پا کر ایسی ہر سوچ کو مفروضہ قرار دے کر تم جھٹک دیا کرتے تھے۔ { وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ } ”اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔“ یہاں پر ”یقین“ کا لفظ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ دراصل ”آخرت“ کو ایک رسمی نظریے کے طور پر تسلیم کرلینا کافی نہیں۔ اس ”ایمان“ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اس کے بارے میں دل میں گہرا یقین ہونا بہت ضروری ہے۔ جب تک دل میں بعث بعد الموت اور آخرت کا پختہ یقین نہیں ہوگا انسان کا کردار درست نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سورة البقرۃ کی ابتدائی آیات میں متقین کی صفات کے حوالے سے جہاں غیب اور الہامی کتب پر ”ایمان لانے“ کی شرط کا ذکر ہے وہاں آخرت کے بارے میں ”یقین رکھنے“ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے : { وَبِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ }۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں دل کے اندر گہرایقین رکھے بغیر مقام تقویٰ تک پہنچنا ممکن ہی نہیں۔ چناچہ آج اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَکے الفاظ میں ہمیں اپنی باطنی کیفیت کی جھلک بھی نظر آئے گی۔ ہم موروثی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک عقیدے کے درجے میں تو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ‘ لیکن کیا دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کا پختہ یقین ہمارے دلوں میں موجود ہے ؟ اس سوال کا جواب ہم میں سے ہر شخص کو اپنے قلب کی گہرائیوں میں جھانک کر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ یقین کی مطلوبہ کیفیت تک کیسے پہنچا جائے تو اس کا جواب ہمیں سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران ملے گا۔

الجاثية 45:33

آیت 33 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کے وہ تمام ُ برے اعمال جو انہوں نے کیے تھے“ { وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور انہیں گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔“ دنیا میں وہ لوگ جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے ‘ چناچہ وہی جہنم انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے وہاں موجود ہوگی۔

الجاثية 45:34

آیت 34 { وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰٹکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } ”اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں اسی طرح نظر انداز کردیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو نظر انداز کررکھا تھا“ { وَمَاْوٰٹکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ } ”اور تمہارا ٹھکانہ اب آگ ہے اور تمہارے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے۔“ چناچہ اب تمہارے رونے دھونے اور چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اب تمہیں اس عذاب سے چھڑانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔

الجاثية 45:35

آیت 35 { ذٰلِکُمْ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّغَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا } ”یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا تھا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا۔“ { فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ } ”تو آج انہیں نکالا نہیں جائے گا اس سے اور نہ ہی انہیں موقع دیا جائے گا کہ وہ توبہ کرلیں۔“ اب ان کے لیے موقع نہیں ہوگا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ کو راضی کرلیں۔ توبہ کا موقع تو دنیا میں تھا اور وہ موقع وہ لوگ کھو چکے ہوں گے۔

الجاثية 45:36

آیت 36 { فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”پس ُ کل تعریف اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے۔“

الجاثية 45:37

آیت 37 { وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِص وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”اور اسی کے لیے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین میں۔ اور وہی ہے زبردست ‘ حکمت والا۔“ اللہ اکبر ! یقینا اللہ سب سے بڑا ہے ! وہ آسمانوں میں بھی سب سے بڑا ہے اور وہ زمین میں بھی سب سے بڑا ہے۔ مگر زمین میں عملی طور پر اسے بڑا نہیں مانا جا رہا۔ زمین میں اللہ کے بندے اللہ سے بغاوت کرچکے ہیں۔ وہ اللہ کے قوانین کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کی قانون سازی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی ملک کے عوام ہی اس کے اقتدارِ اعلیٰ sovereignty کے اصل مالک ہیں۔ لیکن یاد رکھیے ! ”حاکمیت“ کا یہی دعویٰ سب سے بڑا کفر اور سب سے بڑا شرک ہے ‘ چاہے یہ دعویٰ فردِ واحد کرے یا پوری قوم مل کر کرے۔ اس حوالے سے بائبل میں موجود Lords Prayer کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس دعا میں اسی دعوے کو ختم کرنے ‘ اسی کفر و شرک کو مٹانے اور آسمانوں کی طرح زمین پر بھی اللہ کی مرضی نافذ کرنے کا ذکر ہے : Thy Kingdom come Thy will be done on Earth As it is in Heavensکہ اے اللہ ! تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمانوں میں پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ آسمانوں کی مخلوق تو تیرے احکام کو من و عن تسلیم کرتی ہے۔ سورج تیری مرضی کے مطابق رواں دواں ہے۔ چاند تیرے حکم کا تابع ہے اور تمام کہکشائیں تیری مشیت کے سامنے سرنگوں ہیں ‘ لیکن ایک زمین ہے کہ جس کے بحر و بر کو انسان نے اپنے کرتوتوں کے سبب فساد سے بھر دیا ہے : { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } الروم : 41 … اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی مرضی جیسے آسمانوں پر نافذ ہے ویسے ہی زمین پر بھی نافذ ہو۔ زمین پر بھی اللہ کے حکم کو سپریم لاء کا درجہ حاصل ہو۔ اسی قانون کے مطابق فیصلے ہوں۔ اسی کیفیت کا نام ”اقامت دین“ ہے ‘ جس کے لیے ”تنظیم اسلامی“ جدوجہد میں مصروف ہے۔

الأحقاف 46:1

آیت 1 { حٰمٓ ”ح ‘ م۔“

الأحقاف 46:2

آیت 2 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ”اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ قبل ازیں سورة الجاثیہ کی آیت 2 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سورة الجاثیہ اور سورة الاحقاف کے آغاز کی آیات مشترک ہیں۔

الأحقاف 46:3

آیت 3 { مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ } ”اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ“ یہ ایک مستحکم نظام اور ایک با مقصد تخلیق ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ سورة الدخان میں اس بارے میں یوں فرمایا گیا ہے : { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ۔ } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔“ { وَاَجَلٍ مُّسَمًّی } ”اور ایک اجل معین کے لیے“ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ } ”اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔“ اس جملے میں الفاظ کی ترتیب دراصل یوں ہے : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْرِضُوْنَ عَمَّآ اُنْذِرُوْا۔ لیکن ایک مخصوص صوتی آہنگ rhythm برقرار رکھنے کے لیے یہاں الفاظ میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔ میں ”تعارفِ قرآن“ پر اپنے لیکچر زمین قرآن کے صوتی آہنگ پر گفتگو کرتے ہوئے یہ وضاحت کرچکا ہوں کہ ہم معروف معنوں میں جسے شاعری کہتے ہیں قرآن ویسی شاعری تو نہیں ہے لیکن ایک خاص آہنگ اور روانی کی وجہ سے قرآن کی آیات میں blank verse کا سا انداز پایا جاتا ہے اور جملوں میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر ہوجاتی ہے۔ اور غالباً یہ قرآنی اسلوب ہی دنیا میں blank verse کے رواج کا باعث بنا ہے۔

الأحقاف 46:4

آیت 4 { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟“ { اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟“ { اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو !“ اپنے ان معبودوں کے بارے میں مجھ سے کسی الہامی ثبوت یا علمی اور منطقی دلیل سے بات کرو۔

الأحقاف 46:5

آیت 5 { وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک“ وہ نہ تو ان کی دعائوں کو سن سکتے ہیں اور نہ قبول کرسکتے ہیں۔ { وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ } ”اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔“ وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ انہیں تو پتا ہی نہیں کہ کوئی ان سے دعا مانگ رہا ہے۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان میں کچھ تو بےجان اور بےعقل مخلوقات ہیں۔ ان کا تو اپنے پکارنے والوں کی دعائوں سے بیخبر ہونا ظاہر ہی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ بزرگ انسانوں کو بھی پکارا جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں اس عالم َمیں ہیں کہ جہاں انسانی آوازیں ان تک نہیں پہنچتیں۔ فرض کیجیے ایک شخص کسی بڑے ولی اللہ کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے تو عِلیِّیْن میں موجود اس کی روح کو کیا معلوم کہ دنیا میں اس کا کوئی معتقد اسے پکار رہا ہے۔

الأحقاف 46:6

آیت 6 { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَآئً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیْنَ } ”اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔“ قیامت کے دن وہ پیغمبر ‘ وہ فرشتے اور وہ اولیاء اللہ جن کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں اور ان سے دعا کرتے ہیں ‘ وہ اپنے ان ”عقیدت مندوں“ سے ناراضگی اور دشمنی کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے سامنے انہیں شرمسار کیا کہ انہیں اللہ کا مدمقابل ٹھہرایا۔ اس معاملے کی ”حساسیت“ ّکا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی رض نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے الفاظ ادا کیے : مَا شَائَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ یعنی جو اللہ چاہے اور جو آپ ﷺ چاہیں ! اس پر آپ ﷺ نے فوراً انہیں ٹوک دیا اور فرمایا : اَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ 1 ”کیا تم نے مجھے اللہ کا مدمقابل بنا دیا ہے ؟“ کیونکہ مشیت تو صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے۔

الأحقاف 46:7

آیت 7{ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیت ِبینات ‘ ّتو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں ‘ جبکہ وہ ان کے پاس آگیا ‘ کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔“

الأحقاف 46:8

آیت 8 { اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ } ”کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟“ کیا ان کا خیال ہے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو خود تصنیف کیا ہے ؟ { قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَلَا تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔“ سورة الحاقۃ میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : { وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔ } کہ اگر بالفرض محمد ﷺ کوئی چیز گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیں تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑیں گے اور پھر ان کی رگ جاں کو کاٹ دیں گے۔ ظاہر ہے اس اسلوب میں جو غصہ ہے وہ ان لوگوں پر ہے جو حضور ﷺ پر ایسا الزام لگانے کی جسارت کرتے تھے۔ { ہُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ } ”وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم لگے ہوئے ہو۔“ اللہ تعالیٰ تمہاری یہ گفتگو بھی سن رہا ہے اور وہ تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات سے بھی آگاہ ہے۔ { کَفٰی بِہٖ شَہِیْدًابَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ } ”وہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمہارے مابین ‘ اور وہ خوب بخشنے والا ‘ بہت رحم فرمانے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں۔

الأحقاف 46:9

آیت 9 { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں“ بِدْعًا کے معنی نیا نویلا یا نرالاہونے کے ہیں۔ لفظ ”بدعت“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ بدعت سے اصطلاحاً وہ چیز مراد ہے جو اصل میں دین کا حصہ نہ ہو بلکہ کسی وجہ سے دین میں رائج کردی گئی ہو۔ بہر حال یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میرا رسول ﷺ بن کر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے ‘ بلکہ میں تو آخری رسول ﷺ ہوں۔ بہت سے رسول علیہ السلام مجھ سے پہلے بھی دنیا میں آ چکے ہیں۔ سورة آلِ عمران میں حضور ﷺ کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ } آیت 144 ”اور محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں“۔ سورة المائدۃ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں : { مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ } آیت 75 ”مسیح علیہ السلام ابن مریم اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک رسول علیہ السلام تھے ‘ ان علیہ السلام سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔“ { وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ } ”اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔“ اس سے آخرت کا معاملہ مراد نہیں ہے ‘ کیونکہ آخرت کے بارے میں تو آنحضور ﷺ کو بہت واضح انداز میں بتادیا گیا تھا : { وَلَـلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ الضحیٰ یعنی آپ ﷺ کے لیے آخرت یقینا دنیا سے بہت بہتر ہوگی۔ بلکہ آیت زیر مطالعہ کا اشارہ اس کش مکش کی طرف ہے جو حضور ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان مسلسل جاری تھی۔ جیسے حضور ﷺ ایک امیدلے کر طائف تشریف لے گئے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہوا وہ آپ ﷺ کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے دسویں سال جب جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو آپ ﷺ کے اپنے قبیلے بنو ہاشم نے بھی آپ ﷺ سے اظہارِ براءت کردیا۔ اس کے بعد مکہ میں دنیوی اعتبار سے آپ ﷺ کا کوئی حلیف یا حمایتی نہ رہا۔ ان حالات میں آپ ﷺ طائف تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کا خیال تھا کہ اہل طائف میں سے اگر کوئی بڑا سردار ایمان لے آیا تو میں اپنی دعوت کا مرکز وہاں منتقل کرلوں گا۔ لیکن اہل طائف کا رویہ اہل ِمکہ ّسے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا مکہ کے ماحول میں جاری کشیدگی کے حوالے سے یہاں آپ ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اس چپقلش کے اندر آئندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کیا پیش آنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ} ”میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے ‘ اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔“

الأحقاف 46:10

آیت 10 { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ قرآن واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟“ تم لوگ مجھے الزام دیتے ہو کہ میں نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ‘ لیکن جب تمہیں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی کتاب تم بھی بنا کر دکھائو بلکہ ایک سورت ہی بنا لائو تو تم اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے ‘ اس لیے دل سے تم بھی مانتے ہو کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہے۔ بہر حال اگر تم اسے اللہ کا کلام نہیں مانتے تو یہ بات اچھی طرح سے سوچ لو کہ اگر واقعتا یہ اللہ ہی کا کلام ہوا تو تمہارے اس انکار کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ { وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی مِثْلِہٖ } ”اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی ہی کتاب کی۔“ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے عام اہل ِکتاب مؤ منین مراد ہیں ‘ جبکہ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ بظاہر یہ دوسری رائے زیادہ معتبر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عہد نامہ قدیم ‘ کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیات 18 ‘ 19 میں جو پیشین گوئی درج ہے اس میں یہ الفاظ ہیں :ـ ”اے موسیٰ علیہ السلام ٰ میں ان کے بھائیوں میں سے تیرے مثل ایک پیغمبر اٹھائوں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا“۔ ان الفاظ کے مطابق تو مثلہٖ کا یہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثل حضرت محمد ﷺ ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی صاحب ِشریعت رسول ہیں اور حضور ﷺ کو بھی قرآن کی شکل میں آخری اور کامل شریعت عطا کی گئی ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب رسول تو ہیں لیکن صاحب شریعت نہیں ہیں۔ سورة الزخرف کی آیت 63 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہم پڑھ چکے ہیں : { قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ } کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔ سورة الزخرف کی اس آیت کے ضمن میں یہ وضاحت بھی گزر چکی ہے کہ انجیل میں احکام اور شریعت نہیں صرف حکمت ہے ‘ جبکہ تورات اور قرآن قانون اور شریعت کی حامل کتابیں ہیں۔ { فَاٰمَنَ وَاسْتَکْبَرْتُمْ } ”پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم استکبار کر رہے ہو !“ یہود میں ایسے علماء بھی تھے اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی جو نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رض جو یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ } ”بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“

الأحقاف 46:11

آیت 11 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَیْہِ } ”اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ‘ ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ قرآن کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔“ یہ سردارانِ قریش کے موقف کا حوالہ ہے کہ ہم بڑے ہیں ‘ دانشور ہیں اور ہر اعتبار سے معاشرے کے سرکردہ لوگ ہیں۔ جب ہم اس دین کی طرف مائل نہیں ہوئے اور ہمیں اس قرآن میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بھلائی کی کوئی بات ہے ہی نہیں ‘ ورنہ یہ غریب غرباء اور گھٹیا لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ مکہ میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اگرچہ حضرت عثمان بن عفان ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رض جیسے لوگ بھی تھے ‘ جن کا تعلق اونچے گھرانوں سے تھا ‘ مگر ابتدا میں زیادہ تر نادار اور مزدور لوگ ہی حضور ﷺ پر ایمان لائے تھے ‘ جن میں کوئی غلام بھی تھے ‘ اور شروع شروع میں یہی لوگ زیادہ تر آپ ﷺ کے اردگرد موجود ہوتے تھے۔ چناچہ جس طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں کو اعتراض تھا کہ آپ علیہ السلام کے پیروکار نچلے طبقے کے لوگ ہیں ہود : 22 اسی طرح مکہ کے سرداروں کو بھی نادار اور غلام اہل ایمان کی موجود گی میں حضور ﷺ کی محفل میں بیٹھنا گوارا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مزدوروں ‘ غلاموں اور کمتر حیثیت کے لوگوں کے درمیان آکر بیٹھنا ہمارے شایانِ شان نہیں۔ ہاں ان لوگوں کو اگر آپ ﷺ اپنی محفل سے اٹھا دیں تو پھر ہم آپ ﷺ کے پاس آکر آپ ﷺ کی بات سننے پر غور کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے ان مومنین ِصادقین کے بارے میں حضور ﷺ سے فرمایا : { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗط مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْئٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور مت دھتکارئیے آپ ﷺ ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے ربّ کو صبح وشام اور اس کی رضا کے طالب ہیں۔ آپ ﷺ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے اور نہ آپ ﷺ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے ‘ تو اگر بالفرض آپ ﷺ انہیں دور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔“ { وَاِذْ لَمْ یَہْتَدُوْا بِہٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ ہٰذَآ اِفْکٌ قَدِیْمٌ} ”اور چونکہ انہوں نے اس قرآن کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔“

الأحقاف 46:12

آیت 12 { وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً } ”حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام ٰ کی کتاب موجود ہے ‘ راہنمائی کرنے والی اور رحمت !“ { وَہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا } ”اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے ‘ عربی زبان میں“ یعنی قرآن مصدق ہے تورات اور انجیل کا ‘ اور قرآن کی یہ تصدیق دو پہلو سے ہے۔ ایک طرف تو قرآن ان کتابوں کی اس لحاظ سے تصدیق کرتا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ یہ تصدیق ہمیں قرآن میں جابجا ملتی ہے۔ مثلاً سورة المائدۃ آیت 44 میں فرمایا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌج } کہ ہم نے تورات نازل کی تھی اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا۔ اور پھر سورة المائدۃ میں ہی آگے آیت 46 میں انجیل کی تصدیق ہے : { وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَّنُوْرٌ} کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام ٰ ابن مریم کو انجیل عطا کی ‘ یہ بھی ہدایت اور نور کا منبع ہے۔ چناچہ قرآن ایک تو ان دونوں کتابوں کے منزل ّمن اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے اگرچہ ان دونوں میں تحریف کردی گئی جبکہ اس تصدیق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تورات اور انجیل میں جو پیشین گوئیاں تھیں قرآن ان کا مصداق بن کر آیا ہے۔ { لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا } ”تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی“ خبردار اور متنبہ کردینے کی ذمہ داری ہی کی وجہ سے قرآن کو سادہ اور سلیس زبان میں نازل کیا گیا اور سمجھنے کے لیے آسان بنا دیا گیا تاکہ ہر شخص تک اس کا پیغام پہنچ جائے۔ { وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ } ”اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔“ ”محسنین“ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے درجے سے بتدریج آگے بڑھتے ہوئے ایمان اور پھر احسان کے درجے تک پہنچ جائیں۔

الأحقاف 46:13

آیت 13 { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا } ”بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے“ نوٹ کیجیے یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے ہم سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت 30 میں پڑھ آئے ہیں۔ وہاں بھی میں نے عرض کیا تھا اور اب پھر دہرا رہا ہوں کہ اس ”استقامت“ کو صرف ایک لفظ مت سمجھئے ‘ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ اس ”استقامت“ میں ایک ”قیامت“ مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہنا ‘ اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لینا ‘ اسی پر توکل ّکرنا ‘ اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور اس کی طرف سے عائد کردہ جملہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں اپنا تن من دھن دائو پر لگا دینا وغیرہ سب اس استقامت میں شامل ہے۔ سورة حٰمٓ السجدۃ آیت 30 کے مطالعہ کے دوران ہم حضرت سفیان بن عبداللہ رض کی حدیث پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایک بات ایسی بتادیجیے جسے میں پلے ّباندھ لوں اور میرے لیے وہ کافی ہوجائے۔ اس کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا : قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ”کہو کہ میں ایمان لایا اللہ پر ‘ پھر اس پر جم جائو !“ بہر حال اللہ پر ایمان لانے کے بعد استقامت یہی ہے کہ انسان کا دل اس سوچ پر جم جائے کہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی حاجت روا ‘ وہی مشکل کشا ہے اور وہی میری دعائوں کا سننے والا ہے ‘ اور پھر انسان خود کو اللہ کے لیے وقف کر دے۔ ایک بندہ مومن کی اسی کیفیت کا نقشہ سورة الانعام کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے : { قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ { فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ } ”تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔“ ملاحظہ کیجیے سورة یونس کی آیت 62 میں ”اولیاء اللہ“ کے مخصوص مقام و مرتبہ کے حوالے سے بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں : { اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ ”آگاہ ہو جائو ! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے“۔ گویا جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر مستقیم ہوگئے وہ اولیاء اللہ ہیں اور آخرت میں انہیں کسی قسم کے خوف اور حزن و ملال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

الأحقاف 46:14

آیت 14 { اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”یہی لوگ جنت والے ہیں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔“ جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قدر افزائی کے لیے جنت میں داخلے اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیتا ہے ‘ جبکہ اللہ کے یہ نیک بندے جنت میں پہنچ کر اللہ کا شکر کرتے ہوئے اعتراف کریں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل کے سبب ہی ممکن ہوا ‘ اور یہ کہ وہ اپنے اعمال کے َبل بوتے پر یہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے تھے : { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰنَا اللّٰہُ } الاعراف : 43 ”اور وہ کہیں گے ُ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ‘ اور ہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔“ بہر حال یہ اللہ کا اپنے بندوں پر بےپایاں فضل ہے کہ وہ قرآن میں بار بار ان کے نیک اعمال کی قدر دانی فرماتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ الدھر کے اختیار کے باوجود میرے شکر گزار بندے بن کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور اس پر مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کیں ‘ چناچہ میں نے بھی تمہاری مدد کرتے ہوئے اس راستے پر تمہارے لیے آسانیاں پیدا کردیں ‘ تمہیں آگے بڑھنے کی توفیق عطا کی اور آج میں تمہارے ان اعمال کا بدلہ تمہیں جنت کی ابدی اور دائمی نعمتوں کی صورت میں عطا کررہا ہوں۔

الأحقاف 46:15

آیت 15 { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا } ”اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔“ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے احکام قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کے اس حکم میں اس حوالے سے خصوصی تاکید پائی جاتی ہے : { وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلآَّ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْکِلٰہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا } ”اور فیصلہ کردیا ہے آپ ﷺ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ احسان کروگے۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں ‘ تو مت کہو ان کو اُف بھی اور مت جھڑکو ان کو ‘ اور بات کرو ان سے نرمی کے ساتھ۔“ اولاد کے لیے اگرچہ والد اور والدہ دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں ہی ان کے حسن سلوک کے مستحق ہیں لیکن بچے کی پیدائش اور پرورش میں ماں کی مشقت اور ذمہ داری چونکہ زیادہ ہے اس لیے اولاد کی طرف سے خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے اس کا حق بھی فائق ہے۔ چناچہ سورة لقمان میں ماں کے خصوصی حق کا ذکر یوں فرمایا گیا : { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ } ”اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں ‘ اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں کمزوری پر کمزوری جھیل کر ‘ پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں۔“ والدہ کے خصوصی حق کی وضاحت ایک حدیث میں بھی ملتی ہے۔ ایک صحابی رض نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا : یا رسول اللہ ! میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر مستحق کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تمہاری والدہ !“ انہوں رض نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”پھر تمہاری والدہ !“ یہ سوال انہوں نے چار مرتبہ دہرایا۔ جواب میں آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : تمہاری والدہ۔ جبکہ چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”پھر تمہارا والد !“ 1 البتہ اس حوالے سے یہ نکتہ مدنظر رہنا چاہیے کہ والدہ کے حق کی یہ فوقیت اخلاقی اعتبار سے ہے جبکہ قانونی طور پر والد کا حق ہی فائق ہے۔ مثلاً اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے : اَلْجَنَّۃ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّھَاتِ 2 لیکن اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہوجائے تو اسلامی قانون اولاد پر والد ہی کا حق تسلیم کرتا ہے۔ { حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا } ”اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا پیٹ میں تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔“ { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَہْرًا } ”اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے لگ بھگ تیس مہینے میں۔“ ان دو جملوں میں ان تمام اضافی تکالیف اور مشقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے جو والد کے مقابلے میں صرف والدہ کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ بچے کی پیدائش اور پرورش میں والد بالواسطہ طور پر حصہ لیتا ہے جبکہ والدہ اس پورے عمل میں براہ راست کردار ادا کرتی ہے۔ دورانِ حمل کی گونا گوں پریشانیوں ‘ وضع حمل کی جان لیوا تکلیفوں اور رضاعت و پرورش کی صبر آزما مشقتوں کو وہ تن تنہا جھیلتی ہے۔ { حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً } ”یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہوجاتا ہے“ بچے کی جسمانی بلوغت تو سولہ سترہ سال کی عمر میں ہوجاتی ہے ‘ لیکن یہاں ذہنی اور نفسیاتی بلوغت اور پختگی کا ذکر ہوا ہے اور اس کی کم از کم حد چالیس سال بتائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام کو چالیس برس کی عمر میں منصب ِنبوت پر فائز کیا جاتا رہا ہے ‘ جیسا کہ خود حضور ﷺ کو بھی نبوت چالیس برس کی عمر میں ملی۔ البتہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ استثناء کی مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں ہی حکمت عطا کردی گئی تھی ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت سے واضح ہے : { وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ ”اور ہم نے اسے عطا کردی حکمت و دانائی بچپن میں ہی“۔ اور ایسا ہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی تھا۔ لیکن عام قاعدہ کے تحت ذہنی و نفسیاتی بلوغت maturity کی حد چالیس سال ہی ہے۔ اور اس حوالے سے آیت زیر مطالعہ میں ایک بچے کی مثال دی گئی ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل طے کر کے چالیس برس کی عمر میں ذہنی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو : { قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ } ”وہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔“ { وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ } ”اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔“ اس دعا کا اسلوب خصوصی طور پر لائق توجہ ہے۔ دعا صرف یہ نہیں کہ میری اولاد کی اصلاح فرما دے اور انہیں نیک بنا دے ‘ بلکہ الفاظ کے مفہوم کی اصل روح یہ ہے کہ میری نسل میں میرے لیے اصلاح فرما دے ‘ ان میں میرے لیے بہتری پیدا فرما دے۔ اس لیے کہ بچے اگر صالح اور نیک ہوں گے تو اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ اگر والدین نے اولاد کی اچھی تربیت کی ہوگی تو ان کے نیک اعمال میں سے والدین کو بھی صدقہ جاریہ کے طور پر حصہ ملتا رہے گا۔ یوں اولاد کی بہتری اور اصلاح گویا والدین کے لیے بھی فائدہ مند ہوگی۔ بالکل یہی مفہوم اس دعا کا بھی ہے : { وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ الفرقان ”اور وہ لوگ کہ جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ‘ اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔“ { اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں تیرے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

الأحقاف 46:16

آیت 16{ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِہِمْ فِیْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے ‘ اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے ‘ اور وہ ہوں گے جنت والوں میں سے۔“ { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ } ”یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔“ ان آیات میں ایک ایسے شخص کے کردار کی تصویر دکھائی گئی ہے جو اپنے والدین کا نیک اور صالح بیٹا ہے۔ شعور کی پختگی کو پہنچتے پہنچتے اس کے دل و دماغ میں خیالات و نظریات کا جو ہیولا تیار ہوا ہے اس کا خوبصورت عکس اوپر آیت 15 کے دعائیہ الفاظ سے جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد آئندہ آیات میں جس کردار کی تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ اس کے برعکس ہے۔

الأحقاف 46:17

آیت 17 { وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ } ”اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے ‘ کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا زندہ کر کے قبر سے ؟“ والدین مسلمان ہیں ‘ نیک سیرت ہیں ‘ لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہوچکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتا ہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتاب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ! ُ تف ہے آپ لوگوں پر ! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آگیا ہوں ! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں ! میں کسی آخرت واخرت کو نہیں مانتا ! { وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْج } ”حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں !“ اب تک نسل در نسل کروڑوں ‘ اربوں لوگ اس دنیا میں آئے اور چلے گئے۔ ان میں سے تو آج تک کوئی اُٹھ کر نہ آیا۔ ایک وقت میں ان سب کا زندہ ہونا اور پھر ایک ایک کا حساب کتاب ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ میں ایسی دقیانوسی باتوں کو ماننے والا نہیں ہوں۔ { وَہُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَکَ اٰمِنْق اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّج } ”اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ‘ ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ { فَـیَقُوْلُ مَا ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“ یہ دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کی باتیں بس فرضی کہانیاں ہیں جو پچھلے زمانے سے سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

الأحقاف 46:18

آیت 18 { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات صادق آئی“ یعنی ایسے لوگ اللہ کے کلمہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ { فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ } ”یہ بھی شامل کردیے جائیں گے ان قوموں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں میں سے۔“ { اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ } ”یقینا یہی لوگ ہیں خسارے والے۔“

الأحقاف 46:19

آیت 19 { وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا } ”اور ہر ایک کے لیے درجے اور مقامات ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے۔“ { وَلِیُوَفِّیَہُمْ اَعْمَالَہُمْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔“

الأحقاف 46:20

آیت 20 { وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ } ”اور جس دن یہ کافر پیش کیے جائیں گے آگ پر۔“ { اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا } ”اُس وقت ان سے کہا جائے گا : تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے تم نے خوب فائدہ اٹھا لیا۔“ تم دنیا میں خوب عیش کرچکے ہو ‘ حلال و حرام کی تمیز سے بالاتر ہو کر تم نے وہاں بہت مزے اڑائے ہیں۔ { فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ } ”تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس تکبر کے جو تم زمین میں ناحق کرتے رہے ہو اور بسبب ان نافرمانیوں کے جو تم کرتے رہے ہو۔“

الأحقاف 46:21

آیت 21 { وَاذْکُرْ اَخَا عَادٍط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ } ”اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی ہود علیہ السلام کا ‘ جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں“ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی ساحلی علاقے کو پرانے زمانے میں ”احقاف“ کہا جاتا تھا جہاں قوم عاد آباد تھی ‘ اب یہ علاقہ لق و دق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ { وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ} ”اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے“ یعنی ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے۔ -۔ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے بارے میں قبل ازیں بھی کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء علیہ السلام بھیجے جاتے تھے اور پھر آخر میں اتمامِ حجت کے لیے ایک رسول علیہ السلام کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ سب کے سب ایک ہی دعوت دیتے تھے۔ { اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ } ”کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے !“ { اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ } ”مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا۔“

الأحقاف 46:22

آیت 22 { قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِکَنَا عَنْ اٰلِہَتِنَا } ”انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو ؟“ { فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ } ”تو جس عذاب کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو وہ ہم پر لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو !“

الأحقاف 46:23

آیت 23 { قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِز } ”اس نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے“ یعنی عذاب کے بارے میں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اگر آئے گا تو کب آئے گا اور کس صورت میں آئے گا۔ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔ { وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ } ”اور میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں وہ پیغام جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے“ میری ذمہ داری تو صرف اللہ کا پیغام تم لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دینے اور اس کے مطابق تمہیں خبردار کردینے کی حد تک ہے۔ { وَلٰکِنِّیْٓ اَرٰٹکُمْ قَوْمًا تَجْہَلُوْنَ } ”لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت کی روش اختیار کر رہے ہو۔“ یہ تمہاری جہالت کی انتہا ہے کہ میری یہ باتیں سننے اور ان پر غور کرنے کے بجائے بغیر سوچے سمجھے تم ان کی نفی کرنے پر ُ تل گئے ہو۔

الأحقاف 46:24

آیت 24 { فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ } ”پھر جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے“ { قَالُوْا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا } ”تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے۔“ وہ اسے دیکھ کر خوشیاں منانے لگے کہ ابھی بارش ہوگی اور جل تھل ایک ہوجائیں گے۔ { بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ } ”نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی !“ تم لوگ خود ہی کہتے تھے نا کہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لاسکتے ہو ‘ تو دیکھ لو : { رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے۔“ اس تیز ہوا کے جھکڑ کی کیفیت سورة الحاقہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے : { سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا لا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ } ”اللہ نے مسلط کیے رکھا اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن ‘ نیست و نابود کردینے کے لیے ‘ پس تم دیکھتے اس قوم کو اس میں پچھڑے ہوئے جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔“

الأحقاف 46:25

آیت 25 { تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْئٍم بِاَمْرِ رَبِّہَا } ”تباہ و برباد کرتا ہے ہر شے کو اپنے رب کے حکم سے“ دمر کے مادہ میں کسی درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چونکہ وہ بڑے قد آور لوگ تھے اس لیے ان کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اسی لیے سورة الحاقہ کی مذکورہ بالا آیت میں انہیں زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ { فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ } ”پھر وہ ایسے ہوگئے کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ان کے مسکنوں کے۔“ ان کے عالی شان گھر اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں تو نظر آرہی تھی مگر ان کے مکینوں کی کچھ خبر نہیں تھی۔ { کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کی قوم کو۔“

الأحقاف 46:26

آیت 26 { وَلَقَدْ مَکَّنّٰہُمْ فِیْمَآ اِنْ مَّکَّنّٰکُمْ فِیْہِ } ”اور ہم نے جو تمکن انہیں دیا تھا ایسا تمکن ّہم نے تمہیں نہیں دیا ہے“ قریش مکہ کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ جو طاقت اور شان و شوکت قوم عاد کو عطا ہوئی تھی اور جو وسائل انہیں میسر تھے تم لوگوں کے پاس تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ قبل ازیں سورة الاعراف کی آیت 69 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ تہذیب و تمدن کے اعتبار سے قوم عاد اپنے زمانے کی بہت ترقی یافتہ قوم تھی۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھا جس نے خصوصی طور پر ایک شہر بسا کر اسے جنت ِارضی کا نام دیا تھا۔ قوم عاد کا علاقہ اب لق ودق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس صحرا میں شداد کے مذکورہ شہر کی باقیات زیر زمین سیٹلائیٹ کے ذریعے سے دریافت ہوچکی ہیں۔ حتیٰ کہ شہر کی فصیل پر بنے ہوئے 30 کے قریب ستون بھی گن لیے گئے ہیں۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تمام نشانیاں ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتی چلی جائیں گی جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ { وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْئِدَۃً } ”اور ہم نے انہیں کان ‘ آنکھیں اور دل یاعقلیں عطا کیے تھے۔“ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَلَآ اَبْصَارُہُمْ وَلَآ اَفْئِدَتُہُمْ مِّنْ شَیْئٍ } ”تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے ان کے کان ‘ نہ ان کی آنکھیں اور نہ ہی ان کے دل عقلیں“ { اِذْ کَانُوْا یَجْحَدُوْنَ لا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”جبکہ وہ انکار ہی کرتے رہے اللہ کی آیات کا اور ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔“

الأحقاف 46:27

آیت 27 { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَا مَا حَوْلَکُمْ مِّنَ الْقُرٰی } ”اور ہم نے ہلاک کیا ہے بہت سی ایسی بستیوں کو جو تمہارے اردگرد آباد تھیں“ وہ تمام اقوام جن کے انجام کا ذکر قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے جزیرہ نمائے عرب کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھیں۔ احقاف یعنی قوم عاد کا علاقہ مکہ سے جنوب مشرق میں واقع تھا۔ قوم ثمود کا علاقہ مدائن صالح مکہ سے شمال میں تھا اور شمال ہی کے رخ میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا علاقہ مدین تھا۔ جبکہ بحیرئہ مردار Dead Sea کے ساحل پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کے شہروں کے کھنڈرات بھی بحیرہ مردار کے اندر سے دریافت ہوچکے ہیں۔ { وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ”اور ہم نے پھیر پھیر کر ان کو اپنی آیات سنائیں تاکہ وہ رجوع کریں۔“

الأحقاف 46:28

آیت 28 { فَلَوْلَا نَصَرَہُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُرْبَانًا اٰلِہَۃً } ”تو کیوں نہ مدد کی ان کی ان ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب ّ الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے !“ ان کا خیال تھا کہ ان کے معبود انہیں اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنیں گے اور ہر مشکل میں ان کی مدد کریں گے۔ { بَلْ ضَلُّوْا عَنْہُمْ } ”بلکہ وہ سب تو ان سے گم ہوگئے“ جب ان پر عذاب آیا تو ان کے معبودوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا اور انہیں یوں لگا جیسے کہ حقیقت میں ان کے معبودوں کا کوئی وجود تھا ہی نہیں ‘ بس بقول میر دردؔ: ع ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ‘ جو سنا افسانہ تھا !“ { وَذٰلِکَ اِفْکُہُمْ وَمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ } ”اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور جو کچھ وہ افترا کر رہے تھے۔“ آئندہ آیات میں ان ِجنات کا ذکر ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے قرآن سن کر ایمان لے آئے اور پھر اپنی قوم کی طرف مبلغ بن کر لوٹے۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے طائف سے واپسی کے سفر کے دوران پیش آیا۔ وہ ایام حضور ﷺ کے لیے یقینا بہت سخت تھے۔ ایک طرف آپ ﷺ اہل طائف کے رویے کی وجہ سے دل گرفتہ تھے تو دوسری طرف مکہ واپس جانے کے لیے بھی حالات سازگار نہیں تھے۔ اس صورت حال میں آپ ﷺ نے چند دن وادی نخلہ میں قیام فرمایا۔ وہاں ایک دن آپ ﷺ فجر کی نماز ادا فرما رہے تھے کہ ِجنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نماز میں حضور ﷺ امام تھے اور آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رض مقتدی تھے۔ وادی کی کھلی فضا ‘ فجر کا وقت اور اللہ کے رسول ﷺ کی زبان اطہر سے ”قرآن الفجر“ بنی اسرائیل : 78 کی طویل قراءت ! قریب سے گزرتے ہوئے جنات ٹھٹک کر رہ گئے۔ آپ ﷺ قرآن پڑھتے رہے اور وہ سنتے رہے۔ قراءت ختم ہوئی تو ان کی دنیا بدل چکی تھی ‘ وہ سب کے سب ایمان لے آئے ‘ بلکہ واپس جا کر انہوں نے اپنی قوم میں فوراً تبلیغ بھی شروع کردی۔ جنات کا یہ واقعہ ہمارے لیے اس لحاظ سے لائق عبرت ہے کہ جنات نے ایک ہی مرتبہ قرآن سنا اور وہ نہ صرف ایمان لے آئے بلکہ قرآن کے داعی اور مبلغ بھی بن گئے ‘ لیکن ہم بار بار قرآن سنتے ہیں اور ہر بار گویا ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ نہ تو قرآن ہمارے دلوں میں اترتا ہے اور نہ ہی ہماری زندگیوں میں اس سے کوئی تبدیلی آتی ہے۔

الأحقاف 46:29

آیت 29 { وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کردیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے۔“ { فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا } ”تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : چپ ہو جائو !“ تلاوتِ قرآن کی سماعت کے بارے میں خود قرآن کا بھی یہی حکم ہے : { وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } الاعراف ”اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طبعاً نیک اور شریف قسم کے ِجنات ّ تھے۔ اگلی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اہل کتاب جن تھے۔ چناچہ وہ فوراً ہی اللہ کے کلام کو پہچان گئے اور اس کو پورے ادب و احترم سے سننے لگے۔ { فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّــوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ } ”پھر جب قراءت ختم ہوئی تو وہ پلٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر۔“

الأحقاف 46:30

آیت 30 { قَالُوْا یٰــقَوْمَنَــآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰـبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی } ”انہوں نے کہا : اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام ٰ کے بعد نازل ہوئی ہے“ گویا وہ ِجنات ّحضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے۔ یہاں پر جنات کے اس قول کے حوالے سے یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ تورات کے بعد جو ”کتاب“ نازل ہوئی وہ قرآن ہے۔ اگرچہ ہم عرف عام میں انجیل کو بھی کتاب کہہ دیتے ہیں لیکن وہ اصطلاحی مفہوم میں باقاعدہ ”کتاب“ نہیں تھی۔ اس لیے کہ اس میں شریعت نہیں تھی۔ دراصل لفظ ”کتاب“ میں لغوی اعتبار سے شریعت قوانین ‘ احکام ‘ فرائض وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں احکام کی فرضیت کا ذکر اکثر ”کتب“ کے مشتقات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ سورة النساء کی آیت 103 میں نماز کے اوقات کے حوالے سے ”کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا“ کے الفاظ آئے ہیں ‘ پھر سورة البقرۃ کی آیت 235 میں ”کتاب“ کا لفظ ”عدت“ کے مترادف کے طور پر آیا ہے : { حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ }۔ اور ”کُتِبَ عَلَیْکُمْ“ کے الفاظ تو قرآن میں بہت تکرار سے آئے ہیں۔ ظاہر ہے مذکورہ جنات اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے تو وہ لازماً انجیل کو بھی جانتے ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اس کا ذکر کرنے کے بجائے صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیا کہ آپ علیہ السلام کے بعد اب ایک کتاب نازل ہوئی ہے جس کی تلاوت ہم سن کرا ٓئے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے لفظ ”کتاب“ کا اطلاق تورات پر ہوتا ہے یا پھر قرآن پر ‘ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شریعت ِموسوی علیہ السلام کے بعد جو شریعت آئی ہے وہ شریعت ِمحمدی ﷺ ہے۔ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو اس کے سامنے موجود ہے یعنی تورات ‘ راہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور ایک سیدھے راستے کی طرف۔“ ”طریق مستقیم“ کا بھی وہی مفہوم ہے جو ”صراطِ مستقیم“ کا ہے۔ طریق اور صراط دونوں کے لغوی معنی راستے کے ہیں۔ اسی طرح لفظ سبیل بھی راستے کے معنی دیتا ہے اور ”سواء السبیل“ کے معنی بھی سیدھے راستے کے ہیں۔

الأحقاف 46:31

آیت 31 { یٰـقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ } ”اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو“ { وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْ لَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ } ”اور اس پر ایمان لے آئو تاکہ وہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک درد ناک عذاب سے بچا لے۔“

الأحقاف 46:32

آیت 32 { وَمَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ } ”اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں“ { وَلَیْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئُط اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”اور نہیں ہوں گے اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ یہاں پر ”دَاعِیَ اللّٰہِ“ کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک دنیا میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا انبیاء ورسل ہی ”اللہ کے داعی“ تھے۔ لیکن اب حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے امتیوں کو ”دَاعِیَ اللّٰہِ“ کی حیثیت سے لوگوں کو قرآن کی طرف بلانا ہے ‘ انہیں اقامت دین کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا ہے اور اس جدوجہد میں اپنا تن من دھن کھپانے کے لیے انہیں اس طرح آمادہ کرنا ہے کہ ہر بندہ مومن کی زندگی سورة الانعام کی اس آیت کی تصویر بن جائے : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ اس کام کے لیے اب چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا ‘ اس لیے ”دعوت الی اللہ“ کا یہ مقدس فریضہ اس امت کو سونپ دیا گیا ہے : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } البقرۃ : 143 ”اور اے مسلمانو ! اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امت ِوسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو“۔ سورة آلِ عمران میں اس ذمہ داری کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی گئی : { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِِّ } آیت 110 ”تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے ‘ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور َبدی سے روکتے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔“

الأحقاف 46:33

آیت 33 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیََ الْمَوْتٰی } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں ‘ وہ اس پر قادر ہے کہ ُ مردوں کو زندہ کر دے !“ یہ عقلی دلیل ہے اس شخص کے لیے جو اللہ کو ”خالق“ تو مانتا ہے مگر بعث بعد الموت پر یقین نہیں رکھتا۔ سورة قٓکی آیت 15 میں بھی ایسے ”فلسفیوں“ سے سوال کیا گیا ہے : { اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ } کہ کیا ہم کائنات اور اس کی مخلوقات کو ایک دفعہ تخلیق کرنے کے بعد تھک گئے ہیں ؟ کیا اب ہماری تخلیقی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں ؟ اور کیا مزید نئی چیزیں بنانے کی ہماری صلاحیت اب ختم ہو کر رہ گئی ہے ؟ { بَلٰٓی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ } ”کیوں نہیں ‘ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“

الأحقاف 46:34

آیت 34 { وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِط اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّ } ”اور جس روز پیش کیے جائیں گے یہ کافر آگ پر ‘ اور ان سے پوچھا جائے گا : کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟“ کہ دنیا میں تو تم لوگ بعث بعد الموت کی باتوں کو ڈھکو سلے سمجھتے تھے ‘ آخرت اور اس کی سزا و جزا کی خبروں کو فرضی کہانیاں قرار دیتے تھے جبکہ جہنم اور اس کے عذاب کی وعیدیں تمہیں محض جھوٹے ڈراوے لگتے تھے۔ آج تم دوبارہ زندہ ہو کر ”آخرت“ کے عالم میں پہنچ چکے ہو ‘ اب تم آخرت کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ دیکھو ! یہ ہے جہنم کی آگ تمہارے سامنے جس کے بارے میں تمہیں بار بار خبردار کیا گیا تھا۔ اب بتائو کیا یہ حقیقت ہے یا تمہارا وہم ؟ { قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا } ”وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ حق ہے !“ { قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ } ”اللہ فرمائے گا : تو اب چکھو عذاب کا مزہ اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔“ اب آخر میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے خصوصی ہدایت دی جا رہی ہے :

الأحقاف 46:35

آیت 35 { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ } ”تو اے محمد ﷺ ! آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول علیہ السلام صبر کرتے رہے ہیں“ ”اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ“ کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ان سے مراد وہ پانچ پیغمبر ہیں جن کا ذکر قبل ازیں سورة الشوریٰ کی اس آیت میں ہوا ہے : { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَـیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی } آیت 13 ”اے مسلمانو ! تمہارے لیے دین میں اس نے وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے اے محمد ﷺ ! آپ کی طرف کی ہے اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم علیہ السلام کو اور موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اور عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو…“ گویا حضرت محمد ﷺ کے علاوہ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ البتہ بعض علماء حضرت ہود اور حضرت صالح ﷺ کو بھی ان کے ساتھ شامل کرتے ہیں اور اس طرح ان کے نزدیک ”اولوالعزمِ منَ الرسل“ کی تعداد سات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں ہر پیغمبر کی شخصیت کا کوئی خاص پہلو امتیازی شان کا حامل نظر آتا ہے۔ مثلاً دعوت و تبلیغ کے میدان میں عزم اور استقامت کے لحاظ سے حضرت نوح سب سے آگے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دعوت دی اور ان کی طرف سے ہر قسم کی مخالفت اور تکلیف کو برداشت کیا : { فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا } العنکبوت : 14۔ اسی طرح ذاتی تکلیف اور بیماری پر صبر کرنے کے اعتبار سے حضرت ایوب کا مرتبہ بہت بلند ہے اور اس لحاظ سے ”صبر ِایوب علیہ السلام“ ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے۔ { وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ”اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے !“ اس سے پہلے سورة الزخرف کے اختتام پر بھی ایسی ہی ہدایت دی گئی ہے : { فَاصْفَحْ عَنْہُمْ وَقُلْ سَلٰمٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے در گزر کیجیے اور کہیے سلام ہے ‘ تو بہت جلد یہ لوگ جان جائیں گے“۔ پھر سورة الدخان کے آخر میں بھی فرمایا گیا ہے : { فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ } ”تو آپ ﷺ انتظار کیجیے ‘ یقینا وہ بھی انتظار کر رہے ہیں“۔ ایک ہی گروپ کی ان سورتوں میں ایک جیسے الفاظ اور مفہوم کی حامل ان آیات کی تکرار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان سورتوں کے نزول کے زمانے میں مکہ کے حالات اہل ایمان کے لیے واقعتابہت سخت تھے اور ان کے لیے ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ ان حالات میں ممکن ہے کبھی حضور ﷺ کے دل میں بھی یہ خیال آتا ہو ‘ لیکن اہل ایمان کے ذہنوں میں ایسے سوالات کا آنا بالکل قرین ِقیاس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دشمنانِ حق کو ہم پر ظلم و ستم ڈھانے کی کھلی چھوٹ آخر کیوں دے رکھی ہے ؟ ان لوگوں پر پہلی نافرمان قوموں کی طرح عذاب کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا ؟ بلال رض پر تشدد کرتے ہوئے اُمیہ ّبن خلف کے ہاتھ کیوں شل نہیں ہوجاتے ؟ اللہ تعالیٰ تو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌہے۔ وہ اپنے ان باغیوں کو اتنی ڈھیل کیوں دیے جارہا ہے ؟ چناچہ اس انتہائی نازک صورت حال میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے گویا اہل ایمان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مشرکین ِمکہ ّپر عذاب کا وقت ابھی نہیں آیا ‘ ابھی اللہ کی مشیت میں ان لوگوں کو کچھ اور مہلت دینا مقصود ہے۔ لہٰذا تم لوگ صبر سے کام لو اور کچھ دیر مزید انتظا رکرو ! { کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَلا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّہَارٍ } ”جس دن یہ لوگ دیکھیں گے اس عذاب کو جس کی انہیں وعید سنائی جا رہی ہے تو ایسے محسوس کریں گے گویا نہیں رہے تھے دنیا میں مگر دن کی ایک گھڑی۔“ { بَلٰغٌج فَہَلْ یُہْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ } ”یہ پہنچا دینا ہے ! کیا سوائے نافرمان لوگوں کے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا ؟“ یعنی ہمارے رسول ﷺ کی ذمہ داری تو ان لوگوں تک اللہ کا یہ پیغام پہنچا کر حجت قائم کردینے کی حد تک ہے ‘ جو انہوں نے ادا کردی۔ -۔ اب ہلاک تو وہی ہوں گے جنہوں نے اس دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور نافرمانی کی روش اختیار کی۔

محمد 47:1

آیت 1 { اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ } ”جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور خود بھی رکے اللہ نے ان کی ساری جدوجہد کو رائیگاں کردیا۔“ صَدَّ یَـصُدُّ کے بارے میں قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ یعنی اس کے معنی خود رکنے اور باز رہنے کے بھی ہیں اور دوسرے کو روکنے کے بھی۔ یہ آیت اپنے مفہوم میں اہل ِایمان کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اب تک مخالفین حق نے جو جدوجہد بھی کی ہے وہ سب اکارت ہوچکی ہے اور تمام تر مخالفتوں کے باوجود انقلابِ نبوی ﷺ کا قافلہ عنقریب اپنی منزل مقصود پر خیمہ زن ہونے والا ہے۔

محمد 47:2

آیت 2 { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور جو ایمان لائے اس شے پر جو نازل کی گئی محمد ﷺ پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے“ { کَفَّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَاَصْلَحَ بَالَہُمْ } ”اللہ نے دور کردیں ان سے ان کی خطائیں اور ان کے حال کو سنوار دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رض کو مسلسل آزمائشوں کی بھٹیوں میں سے گزار کر ان کی شخصیات کو ُ کندن بنا دیا۔ اس کی نظر ِرحمت سے ان کی سیرتیں ایمان و یقین کے نور سے جگمگانے لگیں اور ان کے کردار ‘ اخلاق و عمل کی خوشبو سے مہک اٹھے۔

محمد 47:3

آیت 3{ ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ } ”یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی“ { وَاَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کی پیروی کی ‘ جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔“ { کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَہُمْ } ”اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔“ اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے۔ اس کی بنیادی وجہ الفاظ کی وہ تقدیم و تاخیر ہے جو ہمیں قرآن کی آیات میں بعض جگہ نظر آتی ہے۔ جیسا کہ کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے ‘ الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر قرآن کا خاص اسلوب ہے اور اس کا مقصد کلام کی روانی میں ایک خاص ردھم اور آہنگ کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں جہاں کہیں بھی ایسا معاملہ ہو وہاں مفہوم کے درست ادراک کے لیے الفاظ کی اصل ترتیب کے بارے میں گہرے غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ اس آیت کے مطالعے کے لیے بھی خصوصی توجہ درکار ہے۔

محمد 47:4

آیت 4 { فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”تو اے مسلمانو ! جب تمہاری مڈ بھیڑ ہو کافروں سے“ اب جبکہ تمہاری جدوجہد مسلح تصادم کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور تم لوگ تلوار کا جواب تلوار سے دینے کے لیے میدان میں اتر پڑے ہو تو جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے : { فَضَرْبَ الرِّقَابِ } ”تو ان کی گردنیں مارنا ہے !“ اب میدان کارزار میں تمہاری پہلی ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ جو دشمن حق تمہارے سامنے آئے وہ بچ کر نہ جائے۔ لہٰذا ان کی گردنیں اُڑائو ‘ انہیں قتل کرو ! { حَتّٰٓی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ } ”یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح سے ُ کچل دو تب انہیں مضبوطی کے ساتھ باندھو“ یعنی اس مرحلے پر تم بچے کھچے لوگوں کو قیدی بنا سکتے ہو۔ { فَاِمَّا مَنًّابَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا } ”پھر اس کے بعد تم انہیں چھوڑ سکتے ہو احسان کر کے یا فدیہ لے کر ‘ یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔“ اس آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر کے اسلوب پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ الفاظ کی اصل ترتیب یوں ہے : ”فَضَرْبَ الرِّقَابِ ، حَتّٰٓی اِذَا اَثْخَنْتُمُوْہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ، حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا فَاِمَّا مَنًّابَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً“۔ گویا اس جملے کے مطابق مقابلے کے مختلف مراحل کی ترتیب یہ ہوگی : پہلے ان کی گردنیں مارو ‘ جب ان کی طاقت اچھی طرح کچل ڈالی جائے تب انہیں قید میں مضبوط باندھو۔ پھر جب جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے تو اس کے بعد انہیں چھوڑا جاسکتا ہے ‘ چاہے احسان کر کے چھوڑو یا فدیہ لے کر۔ آیت کے درست مفہوم تک پہنچنے کے لیے اس اہم فلسفے کو بھی سمجھنا ضروری ہے جو یہاں ”حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا“ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس کے لیے انگریزی کے دو الفاظ war اور battle کو ذہن میں رکھئے۔ war سے مراد دو فریقوں کی باہمی محاذ آرائی اور کشمکش ہے جو ایک فریق کے فتح یاب اور دوسرے کے سرنگوں ہونے تک جاری رہتی ہے ‘ جبکہ battle سے مراد اس محاذ آرائی کے دوران متعلقہ فریقوں کے درمیان ہونے والا کوئی خاص معرکہ ہے۔ گویا ایک جنگ war کے دوران میں کئی لڑائیاں battles ہوسکتی ہیں۔ اب رسول اللہ ﷺ کی جدوجہد کے حوالے سے اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ مدنی دور میں غلبہ دین کی جنگ war چھ سال تک مسلسل جاری رہی۔ -۔ - اس میں صرف صلح حدیبیہ کی وجہ سے کچھ مدت کے لیے ایک وقفہ آیا تھا۔ -۔ - اس جنگ کے دوران غزوئہ بدر Battle of Badar ‘ غزوئہ اُحد Battle of Uhad ‘ غزوہ احزاب Battle of Ahzaab ‘ غزوہ بنی مصطلق Battle of Bani Mustalaq اور بہت سی دوسری لڑائیاں لڑی گئیں۔ لیکن جنگ war نے مکمل طور پر ہتھیار اس وقت ڈالے جب پورے جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کا دین اس حد تک غالب ہوگیا کہ اس کے مقابلے میں باطل کی طرف سے کسی قسم کی کوئی مزاحمت باقی نہ رہی۔ چناچہ زیر مطالعہ آیت میں جو حکمت بیان ہوئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد کے آخری مرحلے یعنی مسلح تصادم میں جب باطل قوتوں کو علی الاعلان للکارا جا چکاہو اور مردانِ حق اپنے سروں پر کفن باندھ کر میدانِ کارزار میں اتر پڑے ہوں تو یہ پنجہ آزمائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باطل پوری طرح سرنگوں نہ ہوجائے۔ اس دوران کسی مہم یا کسی لڑائی میں پکڑے جانے والے قیدیوں کو کسی بھی شرط پر آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ انہیں اگلے معرکے میں دوبارہ اپنے مقابلے میں آنے کا موقع دے رہے ہیں۔ جیسے غزوہ بدر میں کفار کے ّستر 70 جنگجوئوں کے مارے جانے سے ان کی طاقت کو ایک حد تک تو نقصان پہنچا تھا ‘ مگر ان کی جنگی صلاحیت پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔ چناچہ ان کے 70 قیدیوں کی آزادی ان کے لیے پھر سے تقویت کا باعث بن گئی اور فدیہ دے کر آزاد ہونے والے قیدیوں میں سے اکثر افراد اگلے سال مسلمانوں کے مقابلے کے لیے پھر سے میدان میں تھے۔ دوسری طرف اس حوالے سے ایک نکتہ یہ بھی ذہن نشین کرلیجئے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے سے متعلق حضور ﷺ کا فیصلہ ایک اجتہاد تھا ‘ جس کا تعلق جانچ judgement سے تھا۔ یعنی اس معاملے میں حضور ﷺ کا اندازہ تھا کہ کفار کی طاقت کچلی جا چکی ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ بہر حال اجتہاد کی دونوں صورتیں خطا اور صواب ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہیں اور دونوں پر ہی اجر بھی ملتا ہے۔ البتہ اجتہاد میں تصویب کی صورت میں دہرے اجر کا وعدہ ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں چونکہ قیدیوں کو فدیے کے عوض رہا کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اس لیے حضور ﷺ نے اس اختیار کی رو سے مذکورہ فیصلہ فرمایا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو بہتر طور پر معلوم تھا کہ کفر کی جنگی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسی لیے سورة الانفال جو اس سورت کے بعد نازل ہوئی میں حضور ﷺ کے اس فیصلے سے متعلق یہ تبصرہ نازل ہوا تھا : { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَاق وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ } ”کسی نبی کے لیے یہ روا نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ وہ کافروں کو قتل کرکے زمین میں خوب خوں ریزی نہ کر دے۔ تم دنیا کا سازو سامان چاہتے ہو ‘ اور اللہ کے پیش نظر آخرت ہے ‘ اور اللہ عزیز اور حکیم ہے“۔ { لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ } ”اگر اللہ کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جو کچھ فدیہ وغیرہ تم نے لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا سخت عذاب آتا“۔ یہاں ”کتاب“ سے مراد آیت زیر مطالعہ کا یہ حکم ہے جس میں فدیہ کے عوض قیدیوں کو چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورة محمد ﷺ کی آیت 4 کا حکم پہلے سے نازل نہ ہوچکا ہوتا تو فدیہ لینے کی وجہ سے تم پر سخت گرفت ہوتی۔ { فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّبًاز وَّاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ”تو اب کھائو جو تمہیں ملا ہے غنیمت میں سے کہ وہ تمہارے لیے حلال اور طیب ہے ‘ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقینا اللہ بخشنے والا ‘ رحم فرمانے والا ہے۔“ سورة الانفال کی یہ آیت بھی مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے بھی آیت زیر مطالعہ کی درست تفہیم ضروری ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ جب دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں خوب قتل کرو ‘ پھر جب کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ جائے تو ان کے بچے کھچے زندہ افراد کو قیدی بھی بنا یا جاسکتا ہے۔ پھر جب دشمن کی طرف سے مزاحمت بالکل ختم ہوجائے اور اس کے خلاف تمہاری جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے تو قیدیوں کو آزاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ‘ چاہے ان کے عوض فدیہ لے لو یا احسان کرتے ہوئے بلامعاوضہ انہیں رہا کر دو۔ { ذٰلِکَ وَلَوْ یَشَآئُ اللّٰہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ } ”یہ ہے اس بارے میں حکم ‘ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا“ { وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَا بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ } ”لیکن اللہ آزماتا ہے تمہارے بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے سے۔“ اللہ تعالیٰ ان کفار سے خود بھی انتقام لے سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو میدانِ بدر میں کفار کے ایک ہزار نفوس پر مشتمل لشکر کو آنِ واحد میں بھسم کر کے رکھ دیتا۔ لیکن اس نے تمہارے تین سو تیرہ افراد کو ایک ہزار کے طاقت ور لشکر کے مقابلے میں لا کر تمہارے صبر و ایمان اور جذبہ استقامت کا امتحان لینا پسند کیا۔ { وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَہُمْ } ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوگئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔“ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا انہیں بھر پور صلہ دے گا۔

محمد 47:5

آیت 5 { سَیَہْدِیْہِمْ وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ } ”وہ ان کی راہنمائی کرے گا اور ان کے احوال کو سنوار دے گا۔“

محمد 47:6

آیت 6 { وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمْ } ”اور داخل کرے گا انہیں جنت میں جس کی ان کو پہچان کرا دی ہے۔“ یعنی جنت اور اس کی نعمتوں کا قرآن میں تفصیلی تعارف کرا دیا گیا ہے۔

محمد 47:7

آیت 7 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ } ”اے اہل ِایمان ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔“ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت اہم قانون ہے۔ اگر تم لوگ اللہ کے فرماں بردار بندے بن کر رہو گے ‘ اسی سے مدد مانگو گے ‘ اسی پر توکل ّکرو گے اور اس کے دین کے غلبے کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مشن بنا لوگے تو وہ تمہیں بےسہارا اور بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا ‘ بلکہ ایسی صورت میں ہر جگہ ‘ ہر گھڑی اس کی مدد آپ لوگوں کے شامل حال رہے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر تم لوگ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائو گے ‘ ان کی وفاداریوں کا دم بھرو گے ‘ انہیں اپنا حمایتی اور مدد گار سمجھو گے ‘ تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دے گا۔ پھر تم اللہ سے رو رو کر بھی دعائیں کرو گے تو اس کے حضور تمہاری شنوائی نہیں ہوگی۔ اس کی عملی مثال 1971 ء کی پاک بھارت جنگ میں سامنے آئی تھی۔ اس جنگ کے دوران پاکستان کی کامیابی کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے اندر تو اتر کے ساتھ قنوت نازلہ پڑھی جاتی رہی ‘ مگر عین اسی وقت ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ تھی کہ وہ مدد اور حمایت کے لیے اللہ کے دشمنوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر ان کی مدد کا انتظار کر رہے تھے۔ یعنی دعائیں تو اللہ سے مانگی جا رہی تھیں لیکن بھروسا امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے پر تھا۔ لہٰذا دنیا نے دیکھ لیا کہ حرمین شریفین کے اندر مانگی گئی دعائیں بھی اللہ کے حضور درجہ قبولیت حاصل نہ کرسکیں اور سقوط ڈھا کہ کا بدترین سانحہ رونما ہو کر رہا۔ اس صورت حال کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ قومی و ملکی سطح پر اتنی بڑی ہزیمت اور ذلت اٹھانے کے بعد بھی ہم نے اپنی روش تبدیل نہیں کی۔ چناچہ آج بھی ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے بدستور اللہ کے باغیوں کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ پھیلا رکھے ہیں۔ ہمارے حکمران آج بھی انہی کو اپنا سرپرست سمجھتے ہیں اور انہیں کی مدد پر بھروسا کیے بیٹھے ہیں۔ ادھر پورے ملک کی معیشت ہے کہ بڑے دھڑلے ّسے سود پر چل رہی ہے۔ گویا ملک کے اندر ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلم کھلا اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں بھلا کیونکر سنے گا اور کیونکر اس کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی ؟ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں اس حوالے سے ہمارے لیے راہنمائی بھی ہے اور خوشخبری بھی کہ اگر تم اللہ کی اطاعت میں مخلص رہو گے ‘ اس کے دین کے جھنڈے کو تھامے رکھوگے اور اقامت دین کی جدوجہد میں اپنا تن من دھن لگانے کے لیے آمادہ رہو گے تو وہ تمہاری مدد کے لیے ہر جگہ تمہارے ساتھ موجود ہوگا اور تمہارے دشمنوں کے مقابلے میں تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔

محمد 47:8

آیت 8 { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّہُمْ وَاَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ } ”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو ان کے لیے نا کامی ہے اور وہ ان کے تمام اعمال کو برباد کر دے گا۔“ تَعْسکا معنی ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرنا ہے ‘ گویا ناکام و نامراد اور ذلیل و رسوا ہونا۔ اور اس سے مراد ہلاکت بھی ہے۔ یعنی جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی وہ دنیا کی زندگی میں بھی خائب و خاسر اور ذلیل و رسوا ہوں گے ‘ ٹھوکریں کھا کر منہ کے بل گرنا ان کا مقدر ہوگا۔ قیامت کے دن ایسے لوگ راندئہ درگاہ کردیے جائیں گے اور حصول دنیا کے لیے کی جانے والی ان کی تمام جدوجہد ان کے کسی کام نہیں آسکے گی۔

محمد 47:9

آیت 9 { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَرِہُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ } ”یہ اس لیے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے تمام اعمال کو ضائع کردیا۔“ ایسے لوگوں کے نامہ ہائے اعمال میں جو نیک اعمال ہوں گے وہ بھی سب کے سب ضائع کردیے جائیں گے۔ جیسے مشرکین میں سے بعض لوگ غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے اور حاجیوں کی مہمان نوازی کا خصوصی اہتمام کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بہت نیکی کے کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سورة التوبہ کی آیت 19 میں دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا : { اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط لاَ یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِط } ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد ِحرام کو آباد رکھنے کو برابر کردیا ہے اس شخص کے اعمال کے جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں ؟ یہ برابر نہیں ہوسکتے اللہ کے نزدیک“۔ بہر حال یہ اللہ کا حتمی فیصلہ اور اٹل قانون ہے کہ اگر کوئی اللہ کے نازل کردہ قرآن کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے تمام نیک اعمال بھی برباد ہوجائیں گے اور توشہ آخرت کے طور پر اس کے پاس کچھ بھی نہ بچے گا۔

محمد 47:10

آیت 10 { اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَـیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”تو کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے !“ { دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَلِلْکٰفِرِیْنَ اَمْثَالُہَا } ”اللہ نے ان پر ہلاکت کو مسلط کردیا ‘ اور ان کافروں کے لیے بھی ان ہی کی مثالیں ہوں گی۔“ جن نتائج سے پہلے گزرنے والی کافر اقوام دوچار ہوئیں ویسے ہی ہلاکت خیز نتائج ان کافروں کا مقدر ہیں۔

محمد 47:11

آیت 11 { ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ } ”یہ اس لیے کہ اللہ مولیٰ پشت پناہ ہے اہل ایمان کا اور یہ کہ کافروں کا کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔“ اسی آیت کے الفاظ سے رسول اللہ ﷺ نے وہ نعرہ اخذ فرمایا تھا جس سے میدانِ اُحد میں کفار کے نعرے کا جواب دیا گیا تھا۔ میدانِ اُحد میں وقتی طور پر مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس دوران رسول اللہ ﷺ کچھ صحابہ رض کے ساتھ جبل احد پر تشریف لے گئے تھے۔ اس وقت ابو سفیان اور خالد بن ولید بعد میں دونوں حضرات ایمان لا کر صحابہ رض میں شامل ہوئے سمیت بہت سے سردارانِ قریش پہاڑ کے دامن میں موجود تھے۔ ان میں سے ابوسفیان نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے ُ پر جوش انداز میں نعرہ بلند کیا تھا : اُعْلُ ھُبَل ، اُعْلُ ھُبَل ! ہبل کی جے ! یعنی آج ہمارے بت ُ ہبل کا بول بالا ہوا۔ -۔ - رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اس نعرے کا جواب ان الفاظ سے دیں : اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَل ! یعنی اللہ ہی سب سے بلند مرتبہ اور بزرگ و برتر ہے ‘ اسی کا بول بالا ہے ! اس کے جواب میں ابوسفیان نے ایک اور نعرہ لگایا : لَنَا الْعُزّٰی وَلا عُزّٰی لَکُمْ کہ ہمارے لیے توعزیٰ ّجیسی دیوی مدد کے لیے موجود ہے لیکن تمہاری تو کوئی عزیٰ ہی نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے مسلمانوں کو اس کا جواب اس نعرے سے دینے کا حکم دیا : اَللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْکہ ہمارا مولیٰ مدد گار ‘ پشت پناہ اور کارساز تو اللہ ہے ‘ جبکہ تمہارا تو کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔ 1

محمد 47:12

آیت 12 { اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”یقینا اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی۔“ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } ”اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کر رہے ہیں اور ایسے کھا رہے ہیں جیسے حیوانات کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔“

محمد 47:13

آیت 13 { وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو کہیں زیادہ قوت کی حامل تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکالا ہے۔“ قریش نے اپنی طاقت کے زعم میں اللہ کے رسول ﷺ کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور تو کردیا ہے ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلے دنیا میں ان کے شہر سے کہیں بڑے بڑے شہر آباد تھے اور ان شہروں کے باسی ان سے کہیں بڑھ کر طاقت و شوکت کے حامل تھے مگر : { اَہْلَکْنٰہُمْ فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ } ”انہیں ہم نے ہلاک کردیا ‘ پس ان کا کوئی مد دگارنہ ہوا۔“

محمد 47:14

آیت 14 { اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ”تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے“ یعنی اس کی سرشت اور فطرت بھی نیک ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اس کو دی ہے وہ اس ہدایت پر بھی قائم ہے۔ { کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جس کے لیے اس کے ُ برے اعمال مزین ّکر دیے گئے ہیں ‘ اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔“ ایسے لوگوں کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو ان کی خواہشات کا آئینہ انہیں دکھاتا ہے اور ظاہر ہے یہ آئینہ تو کالے کرتوتوں کو بھی خوشنما بنا کر ہی دکھاتا ہے۔ اسی وجہ سے فرعون نے اہل مصر کی تہذیب و روایات کو مثالی { بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی } طٰہٰ قرار دیا تھا۔ آیت زیرمطالعہ میں جن دو کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں باہم کوئی مقابلہ یا موازنہ ہے ہی نہیں۔ ایک طرف اللہ کے وہ بندے ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بینہ ّپر ہیں۔ یقینا وہ کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس کی غلامی اور اپنی خواہشات کی پیروی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بہرحال ناکام و نامراد ہیں۔

محمد 47:15

آیت 15 { مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ } ”مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔“ { فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ } ”اس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی ُ بو نہیں۔“ { وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّـبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ } ”اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔“ { وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ } ”اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔“ { وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی } ”اور نہریں ہیں صاف شفاف ّشہد کی۔“ { وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ } ”اور مزید برآں ان کے لیے ہوں گے اس میں ہر قسم کے پھل اور مغفرت ہوگی ان کے رب کی طرف سے۔“ تو بھلا وہ لوگ جو ان جنتوں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے کیا وہ : { کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآئَ ہُمْ } ”اُن جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور انہیں پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔“

محمد 47:16

اب یہاں سے اس سورت کا اصل مضمون شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس سورت کا مرکزی مضمون ”قتال فی سبیل اللہ“ ہے اور اسی نسبت سے اس کا دوسرا نام ”سورة القتال“ ہے۔ اس مضمون کے تحت آئندہ آیات میں ان لوگوں کی باطنی کیفیات کی جھلکیاں بھی نظر آئیں گی جن کے دلوں میں روگ تھا اور قتال کے ذکر سے ان پر گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی۔آیت 16 { وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔“ { حَتّی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا } ”یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر باہر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے کہ ابھی انہوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کہا تھا ؟“ یعنی آج حضور ﷺ نے یہ جو ایک نئی بات کہہ دی ہے کہ ہمیں جنگ کے لیے تیار ہونا ہے اور قریش کے تجارتی قافلوں کا تعاقب کرنا ہے ‘ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے یہاں اہل ِایمان بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اہل کتاب یہودی بھی۔ یعنی منافقین یہ بات ان مسلمانوں سے پوچھتے جنہیں وہ زیادہ سمجھدار سمجھتے تھے یا یہ کہ یہی بات وہ لوگ یہودیوں سے جا کر پوچھتے جنہیں اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا تھا۔ { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔“ جہاد و قتال کے تصور سے ان کے دلوں کی گھبراہٹ اور ایثار و قربانی کی باتوں کو قبول کرنے سے ان کی ہچکچاہٹ درحقیقت اس منافقت کی علامت ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوچکی ہے۔

محمد 47:17

آیت 17 { وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی وَّاٰتٰٹہُمْ تَقْوٰٹہُمْ } ”اور وہ لوگ جو ہدایت پر ہیں اللہ نے ان کی ہدایت میں اور اضافہ کردیا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرمایا ہے۔“ جب سے رسول اللہ ﷺ کی تحریک مرحلہ قتال میں داخل ہوئی ہے اہل ایمان کے جوشِ ایمانی ‘ ذوقِ شہادت اور تقویٰ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

محمد 47:18

آیت 18 { فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُہَا } ”تو یہ لوگ اب کس چیز کے منتظر ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آدھمکے ان پر اچانک ؟ پس اس کی علامات تو ظاہر ہو ہی چکی ہیں۔“ قیامت کی سب سے بڑی نشانی تو خود محمد عربی ﷺ کی بعثت ہے کہ آپ ﷺ آخری رسول ہیں۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو آپس میں ملا کر فرمایا : بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ 1 ”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی مانند جڑے ہوئے بھیجے گئے ہیں“۔ ظاہر ہے آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو آپ ﷺ کے بعداب قیامت ہی کو آنا ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ 2 ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“ { فَاَنّٰی لَہُمْ اِذَا جَآئَ تْہُمْ ذِکْرٰٹہُمْ } ”تو جب وہ ان پر آدھمکے گی تو اس وقت ان کا نصیحت حاصل کرنا کس کام کا ہوگا ؟“

محمد 47:19

آیت 19 { فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ } ”بس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی خطائوں کے لیے اللہ سے استغفار کرو“ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ کی ایک تاویل تو یہ ہے کہ یہ خطاب اگرچہ صیغہ واحد میں نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی وساطت سے یہ ہدایت آپ ﷺ کی امت کے لیے ہے۔ البتہ بعض علماء نے اس اسلوب کی وضاحت حضور ﷺ کے ”تعلق مع اللہ“ کے حوالے سے بھی کی ہے۔ اگر کسی عام بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت سے چند لمحات کے لیے تعلق مع اللہ میں انشراح کی کیفیت نصیب ہوجائے تو اس کے لیے یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے لیے تو ظاہر ہے ہر وقت ہی انشراح کی کیفیت رہتی تھی اور اس کیفیت کی شدت intensity میں کسی ایک لمحے کے لیے ذرا سی بھی کمی کو آپ ﷺ بہت بڑی کوتاہی سمجھتے تھے۔ چناچہ یہاں لفظ ”ذنب“ کے حوالے سے آپ ﷺ کے اسی احساس کی طرف اشارہ ہے۔ گویا یہ ”حَسَنَاتُ الاَبْرَار سَیِّئاتُ المُقَرّبِین“ والا معاملہ ہے۔ یعنی بعض اوقات ایک عام مسلمان کے معیار کی نیکی کسی مقرب بارگاہ کے معیارِ عمل کے سامنے کوتاہی یا گناہ کے درجے میں شمار ہوتی ہے۔ بہر حال نہ تو مقربین بارگاہ کے تعلق مع اللہ کا معاملہ عام مسلمانوں کا سا ہے اور نہ ہی ان کے معاملے میں لفظ ”ذنب“ کی تعریف definition کا وہ مفہوم درست ہے جس سے عام طور پر ہم لوگ واقف ہیں۔ اس معاملے میں میری ایک ذاتی رائے بھی ہے جس کا ذکراگلی سورت یعنی سورة الفتح کی آیت 2 کے ضمن میں بھی آئے گا۔ میری رائے میں یہاں پر لفظ ”ذنب“ کا تعلق اس ”اجتماعیت“ سے ہے جس کے سربراہ حضور ﷺ تھے۔ پچھلے کئی برسوں سے حضور ﷺ اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ غلبہ دین کے لیے جدوجہد میں مصروف تھے۔ ظاہر ہے اس اجتماعی جدوجہد میں شریک افراد سے کہیں کوئی غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہوگی اور کسی معاملے میں کبھی کوئی کوتاہی بھی رہ جاتی ہوگی۔ اگرچہ ایسی غلطیاں اور کوتاہیاں دوسروں سے ہوتی ہوں گی مگر تحریک اور جدوجہد کے قائد چونکہ حضور ﷺ تھے اس لیے ان کا ذکر یہاں آپ ﷺ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ جیسے جنگ میں پوری فوج حصہ لیتی ہے ‘ ایک ایک سپاہی لڑتا ہے لیکن فتح کا سہرا سپہ سالار کے سر بندھتا ہے ‘ اسی طرح اگر کسی فوج کو شکست سے دوچار ہونا پڑے تو بھی اس فوج کے کمانڈر ہی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ { وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ } ”اور اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کے لیے بھی استغفار کریں۔“ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰکُمْ } ”اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے لوٹنے کی جگہ کو اور تمہارے مستقل ٹھکانے کو۔“

محمد 47:20

آیت 20 { وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ } ”اور یہ لوگ جو ایمان کے دعویدار ہیں ‘ کہتے ہیں کہ قتال کے بارے میں کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوئی ؟“ زیر مطالعہ مضمون کے حوالے سے اس سورت کی یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے باہر قریش مکہ کے خلاف مہمات بھیجنا شروع کردیں۔ غزوہ بدر سے پہلے ایسی آٹھ مہمات کا بھیجا جانا تاریخ سے ثابت ہے۔ ان میں سے چار مہمات کا شمار تو غزوات میں ہوتا ہے کہ ان میں حضور ﷺ خود بھی تشریف لے گئے تھے۔ ان مہمات کے ذریعے سے آپ ﷺ نے خصوصی طور پر مندرجہ ذیل دو مقاصد حاصل کیے : الف : مکہ کی تجارتی شاہراہ سے ملحقہ علاقوں میں مسلح دستوں کی نقل و حرکت سے قریش مکہ کو آپ ﷺ نے ایک موثر پیغام پہنچا دیا کہ تمہاری شہ رگ life line اب ہر طرح سے ہمارے قبضہ میں ہے اور ہم جب چاہیں تمہاری مکمل معاشی ناکہ بندی کرسکتے ہیں۔ب : جن علاقوں میں آپ ﷺ نے مہمات بھیجیں یا آپ ﷺ خود تشریف لے گئے وہاں کے اکثر قبائل کو آپ ﷺ نے اپنا حلیف بنا لیا ‘ اور جو قبائل آپ ﷺ کے حلیف نہ بھی بنے انہوں نے قریش مکہ اور مسلمانوں کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کے معاہدے کرلیے۔ یوں اس پورے علاقے سے قریش مکہ کا اثر و رسوخ روز بروز کم ہونا شروع ہوگیا اور انہیں جزیرہ نمائے عرب میں صدیوں سے قائم اپنی سیاسی اجارہ داری کی بساط لپٹتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ حضور ﷺ کی طرف سے مذکورہ مہمات کی منصوبہ بندی ابتدائی اقدام initiative کی نئی حکمت عملی کے تحت کی جا رہی تھی۔ قریش مکہ کی طرف سے آپ ﷺ کے قیام مکہ کے دور کی زیادتیاں اپنی جگہ ‘ لیکن ہجرت کے بعد سے اب تک انہوں نے کوئی بھی جارحانہ اقدام نہیں کیا تھا۔ اس وقت تک جارحانہ اقدام سے متعلق قرآن میں بھی کوئی واضح ہدایت نہیں آئی تھی۔ سورة الحج کی آیت 39 میں جو حکم تھا وہ اذن اور اجازت کے درجے میں تھا ‘ اس حکم میں بھی جارحانہ اقدام کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ بلکہ ایک رائے کے مطابق تو اس وقت تک یہ حکم نازل بھی نہیں ہوا تھا ‘ کیونکہ سورة الحج کو بعض لوگ مدنی سورت مانتے ہیں ‘ اور اگر یہ رائے درست ہو تو پھر یہ بھی امکان ہے کہ سورة الحج واقعتا اس دور کے بعد نازل ہوئی ہو۔ دوسری طرف سورة البقرۃ اس وقت تک مکمل نازل ہوچکی تھی اور اس میں قتال کے بارے میں احکام بھی موجود ہیں ‘ مگر وہ احکام زیادہ سے زیادہ اس نوعیت کے ہیں : { وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ } البقرۃ : 190 کہ جو لوگ آپ سے لڑتے ہیں آپ لوگ ان کے خلاف لڑو ! اس پس منظر میں منافقین کی طرف سے حضور ﷺ کے مذکورہ اقدامات کے خلاف ”لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ“ کے اعتراض کا مفہوم بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ جب قریش کی طرف سے کوئی حریفانہ اقدام نہیں ہو رہا تو ہماری طرف سے ان کی تجارتی شاہراہ پر چھاپے مار کر اور ان کے قافلوں کا تعاقب کر کے خواہ مخواہ جنگی ماحول پیدا کرنے کا کوئی جواز نہیں ‘ اور اگر یہ اقدامات ایسے ہی ضروری تھے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کوئی واضح حکم کیوں نازل نہیں کیا ؟ اور اگر قرآن میں ایسا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ خود اپنی مرضی سے یہ مہم جوئی کر رہے ہیں۔ { فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْہَا الْقِتَالُ } ”پھر جب ایک محکم سورت نازل کردی گئی اور اس میں قتال کا حکم آگیا“ اس سے مراد زیر مطالعہ سورت یعنی سورة محمد ﷺ ہے اور اس سورت کا دوسرا نام ”سورة القتال“ اسی آیت سے ماخوذ ہے۔ { رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یَّـنْظُرُوْنَ اِلَـیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ } ”تو اب آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی طرف ایسے دیکھیں گے جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہوتی ہے۔“ { فَاَوْلٰی لَہُمْ } ”تو بربادی ہے ان کے لیے !“ دراصل یہ لوگ قتال سے جی چراتے ہیں۔ قبل ازیں اپنے بچائو کے لیے ان کی دلیل یہ تھی کہ اس بارے میں اللہ کا کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوا۔ اب جبکہ اللہ نے قتال کے بارے میں واضح حکم نازل کردیا ہے تو ان کی یہ دلیل ختم ہوگئی ہے۔

محمد 47:21

آیت 21 { طَاعَۃٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ} ”اطاعت لازم ہے اور کوئی بھلی بات کہی جاسکتی ہے۔“ ان کے لیے پسندیدہ روش اطاعت اور قول معروف کی تھی۔ یہ لوگ جب ایمان کے دعوے دار ہیں تو ان پر اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔ ایمان کے دعوے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف دلیل بازی نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر کسی معاملے میں یہ لوگ معروف طریقے سے کوئی مفید مشورہ دینا چاہتے تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ { فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُقف فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ } ”تو جب کوئی فیصلہ طے پا جائے تو پھر اگر وہ اللہ سے اپنے ایمان کے وعدے میں سچے ثابت ہوں ‘ تبھی ان کے لیے بہتری ہے۔“

محمد 47:22

آیت 22 { فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّـیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ } ”پس تم سے اس کے سوا کچھ متوقع نہیں ہے کہ اگر تم لوگوں کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد مچائو گے اور اپنے رحمی رشتے کاٹو گے۔“ عام طور پر اس آیت کے دو ترجمے کیے جاتے ہیں۔ دوسرے ترجمے کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم لوگ قتال سے منہ موڑو گے تو تم سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ تم زمین میں فساد مچائو گے اور خونی رشتوں کے تقدس کو پامال کرو گے۔ اوپر آیت کے تحت جو ترجمہ اختیار کیا گیا ہے وہ شیح الہند رح کے ترجمے کے مطابق ہے اور مجھے اسی سے اتفاق ہے۔ شیخ الہند رح کے ترجمے کے اصل الفاظ یہ ہیں : ”پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو خرابی ڈالوملک میں اور قطع کرو اپنی قرابتیں“۔ یعنی اس مرحلے پر جبکہ تم لوگوں نے تربیت کے ضروری مراحل ابھی طے نہیں کیے ہیں ‘ ابھی تم آزمائشوں کی بھٹیوں میں سے گزر کر کندن نہیں بنے ہو اور تزکیہ باطن اور تقویٰ کے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچے ہو ‘ ایسی حالت میں اگر تم لوگوں کو جزیرہ نمائے عرب میں اقتدار مل جائے تو اس کا نتیجہ ”فساد فی الارض“ کے سوا اور بھلا کیا نکلے گا ! اس آیت کے مخاطب دراصل مدینہ اور اس کے اطراف و جوانب کے وہ لوگ ہیں جو ہجرت کے فوراً بعد ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے ‘ انہوں نے ابتدائی دور کے اہل ایمان کی طرح اس راستے میں کڑی آزمائشوں کا سامنا نہیں کیا تھا اور اس لحاظ سے ان کے کردار و عمل میں ابھی مطلوبہ پختگی اور استقامت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس کا عملی ثبوت غزوہ احد کے موقع پر اس وقت سامنے آگیا جب مسلمانوں کی صفوں سے ایک تہائی لوگ اچانک بہانہ بنا کر طے شدہ لائحہ عمل سے لاتعلق ہو کر اپنے گھروں میں جا بیٹھے۔ گویا اس وقت اہل ایمان کے اندر اتنی بڑی تعداد میں ضعیف الاعتقاد مسلمان اور منافقین موجود تھے۔ اس اہم نکتے پر آج ان تمام دینی جماعتوں کو بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو اپنی دانست میں غلبہ دین کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اگر یہ جماعتیں اپنے کارکنوں کی مناسب تربیت پر توجہ نہیں دیں گی اور ان کے اندر اخلاص اور للہیت کے پاکیزہ جذبات پروان چڑھانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کریں گی تو انہیں اقتدار ملنے کے نتیجے میں اصلاح کی بجائے الٹا فساد پیدا ہوگا اور ایسی صورت حال دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے بدنامی کا باعث بنے گی۔ کیونکہ فاسق و فاجر قسم کے لوگوں اور لا دینی قوتوں کے پیدا کردہ فساد کو تو دنیا کسی اور زاویے سے دیکھتی ہے ‘ لیکن اگر کسی دینی جماعت کے اقتدار کی چھتری کے نیچے ”فساد فی الارض“ کی کیفیت پیدا ہوگی تو اس سے جماعت کی شہرت کے ساتھ دین بھی بدنام ہوگا۔

محمد 47:23

آیت 23 { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰیٓ اَبْصَارَہُمْ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ‘ پس ان کے کانوں کو بہرا اور ان کی نگاہوں کو اندھا کردیا ہے۔“

محمد 47:24

آیت 24 { اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا } ”کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں !“ اگر یہ لوگ قرآن کے احکام پر غور و فکر کرتے اور اس کے بین السطور ّپیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ غلبہ دین کی جدوجہد میں جن جن مراحل سے ان کو سابقہ پڑ رہا ہے ان تمام مراحل کے بارے میں تو انہیں پہلے سے ہی متنبہ کردیا گیا تھا۔ ذرا دیکھیں سورة العنکبوت کی ان آیات میں راہ حق کی آزمائشوں سے متعلق کیسے دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے : { اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ } ”کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا !“ { وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ } ”اور ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے ‘ چناچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں“۔ { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } العنکبوت ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔“

محمد 47:25

آیت 25 { اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ وَاَمْلٰی لَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جو پھرگئے اپنی پیٹھوں کے َبل ‘ اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہوچکی ‘ شیطان نے ان کے لیے ارتداد کا یہ مرحلہ آسان کردیا ہے اور انہیں لمبی لمبی امیدیں دلائی ہیں۔“ ”طولِ امل“ کے اس شیطانی چکر میں پڑ کر انسان آخرت کو بالکل ہی فراموش کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جس شخص نے لمبی لمبی امیدیں قائم کر کے اپنی زندگی میں بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہوں ‘ اس کے دل میں شہادت کی تمنا کیسے پیدا ہوسکتی ہے ‘ اور ایسا شخص میدان جنگ میں جانا بھلا کیونکر پسند کرے گا !

محمد 47:26

آیت 26 { ذٰلِکَ بِاَنَّـہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِج وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ } ”یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہیں اللہ کا نازل کیا ہوا قرآن ناپسند ہے ‘ کہا کہ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت جاری رکھیں گے۔ اور اللہ کو ان کی خفیہ باتوں کا خوب علم ہے۔“ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو ناپسند کرنے والے مشرکین اور یہود تھے ‘ جنہیں منافقین مسلسل اپنی وفاداریوں کا یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم بظاہر محمد ﷺ پر ایمان لا کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے ہیں مگر آپ لوگوں سے ہمارا رشتہ بدستور قائم رہے گا اور تمام اہم معاملات میں صلاح مشورہ ہم آئندہ بھی آپ لوگوں سے ہی کیا کریں گے۔ منافق تو کہتے ہی اس شخص کو ہیں جو اپنا رشتہ دونوں طرف جوڑنے کی کوشش میں رہے۔ سورة النساء میں منافقین کی اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : { مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَق لآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ وَلآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِط } آیت 143 ”یہ اس کے مابین مذبذب ہو کر رہ گئے ہیں ‘ نہ تو یہ ان کی جانب ہیں اور نہ ہی ان کی جانب ہیں“۔ جبکہ سورة البقرۃ میں ان کے دوغلے پن کا پردہ ان الفاظ میں چاک کیا گیا ہے : { وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور جب یہ اہل ِایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں ‘ اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو ہم محض مذاق کر رہے ہیں۔“

محمد 47:27

آیت 27 { فَکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ } ”تو کیا حال ہوگا ان کا اس وقت جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے ضربیں لگاتے ہوئے ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر۔“

محمد 47:28

آیت 28 { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَطَ اللّٰہَ } ”یہ اس لیے کہ انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہے“ { وَکَرِہُوْا رِضْوَانَہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ } ”اور انہوں نے ناپسند کیا اس کی رضا کو ‘ تو اس نے ان کے تمام اعمال اکارت کردیے۔“ قتال کے اس مرحلے پر ان لوگوں کا نفاق کھل کر سامنے آگیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسجد نبوی ﷺ میں رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں پڑھی گئی نمازوں سمیت ان کے اب تک کے تمام نیک اعمال ضائع کردیے۔

محمد 47:29

آیت 29 { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَہُمْ } ”کیا سمجھ رکھا تھا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ان کے کھوٹ کو ظاہر نہیں کرے گا ؟“ ان کا تو یہی خیال تھا کہ ان کے دوغلے پن کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوگی اور ان کے سینوں کے کھوٹ بےنقاب نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ان کے نفاق کو ظاہر کرنا ہی تھا۔ سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا : { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔“

محمد 47:30

آیت 30 { وَلَوْ نَشَآئُ لَاَرَیْنٰکَہُمْ فَلَعَرَفْتَہُمْ بِسِیْمٰٹہُمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو یہ لوگ دکھا دیں اس طرح کہ آپ ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیں گے۔“ انگریزی کی مشہور کہاوت ہے face is the index of mind یعنی انسان کے دل کی کیفیت کا عکس اس کے چہرے پر عیاں ہوتا ہے۔ چناچہ ایک صادق الایمان شخص کے چہرے اور ایک منافق کے چہرے کی شناخت چھپ تو نہیں سکتی۔ { وَلَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ } ”اور آپ انہیں لازماً پہچان لیں گے ان کی گفتگو کے انداز سے۔“ چہرے کی طرح انسان کی گفتگو کا انداز بھی اس کے دل کی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔ ایک سچے اور کھرے انسان کی گفتگو اور ایک منافق شخص کی گفتگو کے اطوار و انداز میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَعْمَالَکُمْ } ”اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔“

محمد 47:31

آیت 31 { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَلا وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ } ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔“ حَتّٰی نَعْلَمَ کا لفظی ترجمہ تو یوں ہوگا کہ ہم معلوم کرلیں ‘ لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے سے اس کے علم میں نہ ہو۔ اس لیے ان الفاظ کی ترجمانی یونہی ہوگی کہ ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں اور سب کو دکھا دیں کہ تم میں سے مجاہدین کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ؟ یہ آیت پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ } آیت 155 ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے“۔ سورة البقرۃ کی اس آیت کے نزول کے وقت چونکہ قتال کا حکم نہیں آیا تھا اس لیے اس میں آزمائشوں اور سختیوں کا ذکر تو ہے لیکن قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یوں سمجھئے کہ آیت زیر مطالعہ گویا سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت کی توسیع extension ہے ‘ جس میں قتال کے حوالے سے خصوصی طور پر فرمایا گیا ہے کہ اب ہم تم میں سے واقعتاجہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو چھان پھٹک کر الگ کرنا چاہتے ہیں۔

محمد 47:32

آیت 32 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّــوا الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدٰی لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جو روکتے رہے دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور وہ رسول ﷺ کی مخالفت میں سرگرم رہے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح ہوچکی تھی ‘ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور وہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔“ گزشتہ آیات میں منافقین کے حبط ِاعمال کا ذکر تھا ‘ اب آیت زیر مطالعہ میں کفارِ مکہ کے اعمال کی بربادی کا بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے زعم میں بیت اللہ کے متولی ّہونے اور حاجیوں کی خدمت بجا لانے جیسی نیکیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کی سند کے بغیر ان کا کوئی عمل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ سورة التوبہ کی اس آیت میں ان لوگوں کو اس حوالے سے براہ راست مخاطب کیا گیا ہے : { اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } آیت 19 ”کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد رکھنے کو برابر کردیا ہے اس شخص کے اعمال کے جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں ؟“ آیت زیر مطالعہ میں ”اللہ کے راستے سے روکنے اور اللہ اور رسول کی مخالفت“ کے حوالے سے مشرکین مکہ کی اس طویل اور جاں گسل ”جدوجہد“ کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں پچھلے اٹھارہ برسوں سے وہ اپنا تن من دھن کھپا رہے ہیں۔ آخر انہوں نے بھی تو اپنے ”دین“ کے لیے جنگیں لڑیں تھیں اور ان جنگوں میں انہوں نے جان و مال کی قربانیاں بھی دیں تھیں۔ صرف جنگ ِبدر میں انہوں نے اپنے 70 جنگجو قربان کیے تھے۔ اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کا جذبہ انفاق بھی دیدنی تھا۔ نو سو اونٹ تو انہوں نے صرف لشکر کی غذائی ضروریات نو یا دس اونٹ روزانہ کے حساب سے پوری کرنے کے لیے مہیا کیے تھے۔ اس ایک مد کے اخراجات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ”دین“ کے راستے میں کیسی کیسی قربانیاں دیں اور اپنے زعم میں کتنی بڑی بڑی نیکیاں کمائیں تھیں۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ اپنے زعم میں تم لوگوں نے جو بڑی بڑی نیکیاں کما رکھی ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے کفر اور اللہ و رسول ﷺ سے تمہاری مخالفت کی وجہ سے وہ سب برباد کردی ہیں۔

محمد 47:33

آیت 33 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ } ”اے اہل ِایمان ! تم لوگ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور کہیں اپنے اعمال ضائع نہ کر بیٹھنا۔“ اب تک تو تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر ”آمَنَّا وَصَدَّقْـنَا“ کہتے آئے ہو اور اللہ کے دین کے لیے جان و مال کی قربانیاں بھی دیتے آئے ہو۔ لیکن اب قتال کا جو نیا اور مشکل مرحلہ آرہا ہے اس مرحلے میں تم لوگوں سے اب مزید قربانیوں کا مطالبہ ہے۔ چونکہ ایمان کا اولین تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا جس وقت جو حکم ہو اس کی تعمیل کی جائے ‘ اس لیے دیکھنا ! اس مرحلے میں تم سے کہیں کوئی کوتاہی سرزد نہ ہونے پائے۔ اگر خدانخواستہ اس مرحلے پر تم لوگوں نے پیٹھ دکھا دی تو اس سے تمہارے تمام گزشتہ اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے۔

محمد 47:34

آیت 34 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے رکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے پھر وہ مرگئے اس حالت میں کہ کافر ہی رہے تو ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز نہیں بخشے گا۔“

محمد 47:35

آیت 35 { فَلَا تَہِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَی السَّلْمِ } ”تو اے مسلمانو ! تم لوگ ڈھیلے نہ پڑو اور صلح و سلامتی کی دعوت مت دو“ یاد رکھو ! غلبہ دین کی جدوجہد کا یہ مرحلہ تم سے سرفروشی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مرحلے میں اب تمہیں دشمنوں سے صلح و سلامتی کے لیے مذکرات کرنے اور جنگ سے بچنے کی حکمت عملی اپنانے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ تمہاری تحریک اب جس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اس مرحلے پر اب صلح و سلامتی کے پرچار کا موقع نہیں ‘ بلکہ جانیں قربان کرنے کا وقت ہے۔ { وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْ } ”اور تم لوگ ہی غالب ہو گے ‘ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔“

محمد 47:36

آیت 36 { اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ} ”یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل ہے اور کچھ جی کا بہلانا ہے۔“ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کی حیثیت لہو و لعب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی حقیقت کو سورة آلِ عمران میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : { وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ } ”اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔“ { وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ } ”اور اگر تم لوگ ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کیے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا“ { وَلَا یَسْئَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ } ”اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔“ قرآن میں ”‘ انفاق فی سبیل اللہ“ کے بارے میں بہت تلقین اور تاکید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے بار بار ان کے اموال کا براہ راست مطالبہ بھی کیا ہے : { مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا …} البقرۃ : 245 ”کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے…!“ اور انفاق سے گریز کی روش کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی ہے : { وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِج } البقرۃ : 195 ”خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں۔“ بہر حال قرآن میں اس موضوع پر جتنا بھی اصرار و تکرار ہے وہ ترغیب و تشویق کے انداز میں ہے ‘ اس میں جبر اور زبردستی کا پہلو بالکل نہیں ہے۔ حضور ﷺ کی عظیم الشان انقلابی جدوجہد کا یوں تو ہر انداز ہی مثالی اور قابل تعریف ہے ‘ لیکن زیر بحث موضوع کے حوالے سے آپ ﷺ کی اس تحریک کا جو پہلو خصوصی طور پر لائق توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کہیں ”ایمرجنسی“ کی صورت حال نظر نہیں آتی ہے۔ کسی بھی مرحلے میں کسی کا مال ”بحق سرکار“ ضبط نہیں کیا گیا ‘ اور نہ ہی کسی معرکے کے لیے لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی۔ ”نفیر عام“ بھی پوری تحریک کے دوران صرف ایک موقع غزوئہ تبوک پر ہوئی ‘ ورنہ لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے ہمیشہ ترغیب و تشویق کا ہی انداز اپنایا گیا : { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِط } الانفال : 65 ”اے نبی ﷺ ! ترغیب دلائیے اہل ایمان کو قتال کی“۔ بہر حال ترغیب کے لیے اہل ایمان کو اجر وثواب کا وعدہ دیا گیا اور انہیں ”شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن“ کا سبق پڑھایا گیا ‘ لیکن کبھی زور زبردستی نہیں کی گئی۔ اس سیاق وسباق میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے زبردستی تمہارے اموال نہیں مانگتا یا تم سے سارے کا سارا مال دے ڈالنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔

محمد 47:37

آیت 37{ اِنْ یَّسْئَلْکُمُوْہَا فَیُحْفِکُمْ تَـبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ اَضْغَانَـکُمْ } ”اگر وہ تم سے ان اموال کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے تو تم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے دلوں کے کھوٹ کو۔“ منافقین کے ساتھ عملی طور پر ایسا ہوتا بھی رہا کہ جب بھی کبھی مشکل حالات سے سابقہ پڑا ‘ ان کے دلوں کا کھوٹ فوراً ان کی زبانوں پر آگیا۔ جیسے غزوئہ احزاب کے موقع پر منافقین کے اندر کی خباثت ان الفاظ کے ساتھ ان کی زبانوں پر آگئی تھی : { مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا۔ الاحزاب : 12 کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے اور مستقبل کے بارے میں اب تک ہمیں سبز باغ ہی دکھائے جاتے رہے ہیں۔

محمد 47:38

آیت 38 { ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔“ { فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ } ”پس تم میں سے کوئی وہ بھی ہے جو بخل سے کام لیتا ہے ‘ اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ترغیب کے باوجود جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ سے جی چراتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملے میں بخل کر کے وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور نقصان بھی ایسا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر آخرت کے دائمی اور ابدی اجر وثواب سے خود کو محروم کرلینا اور ایک کے بدلے سات سو ملنے کے وعدہ خداوندی کو لائق ِالتفات نہ سمجھنا کوئی معمولی نقصان تو نہیں ہے۔ { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ } ”اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔“ اللہ تعالیٰ تو غنی اور بےنیاز ہے ‘ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ‘ وہ تو صرف تمہارے امتحان کے لیے تم سے کہتا ہے کہ مجھے قرض دو۔ اور اگر وہ تمہارے صدقات کو شرف قبولیت بخشتا ہے { وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ } التوبہ : 104 تو ایسا وہ محض تمہارے اعزازو اکرام کے لیے کرتا ہے۔ { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ } ”اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا ‘ پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ یہ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ اس حکم کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوا ہوگا جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی معیت میں رہتے ہوئے منافقت کی بنا پر پیٹھ موڑلی تھی۔ ظاہر ہے وہ لوگ جب اس آیت کے مصداق بنے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں راندئہ درگاہ کردیا اور ان کی جگہ نبی اکرم ﷺ کے لیے سچے ”جاں نثار“ اہل ِ ایمان ساتھی فراہم کردیے۔ لیکن اس کے بعد اس آیت کے مخاطب و مصداق دراصل ”اہل عرب“ ہیں جو امت مسلمہ کے مرکزہ nucleus کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ حضور ﷺ کی بعثت ِاصلی یا بعثت خصوصی ”امیین“ یعنی بنو اسماعیل اور ان کے تابع مشرکین عرب کے لیے تھی۔ بنیادی طور پر تو وہی لوگ تھے جن کے سپرد حضور ﷺ کا مشن اس واضح حکم کے ساتھ ہوا تھا : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط } البقرۃ : 143 ”اے مسلمانو ! اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہوں“۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں براہ راست خطاب دراصل حضور ﷺ کے ”اہل عرب“ اُمتیوں سے ہے کہ اگر تم نے اس مشن سے منہ موڑ لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو اس منصب پر فائز کر دے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ظہور بتمام و بکمال تیرہویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب ہلاکو خان کے ذریعے سلطنت ِعباسیہ کو تاخت و تاراج کردیا گیا۔ اس ہنگامے میں تاتاریوں کے ہاتھوں بلامبالغہ کروڑوں مسلمان قتل ہوئے۔ 1258 ء میں سقوط بغداد کا سانحہ اس انداز میں روپذیر ہوا کہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ تاتاری سپاہیوں نے بنو عباس کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کو گھسیٹ کر محل سے باہر نکالا اور کسی جانور کی کھال میں لپیٹ کر اسے گھوڑوں کے سموں تلے روندڈالا۔ یوں انتہائی عبرتناک طریقے سے عربوں کو امت مسلمہ کی قیادت سے معزول کردیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق معجزانہ طور پر ان ہی تاتاریوں کی اولاد میں سے ترکانِ تیموری ‘ ترکانِ صفوی ‘ ترکانِ سلجوقی اور ترکانِ عثمانی جیسی قومیں مسلمان ہو کر اسلام کی علمبردار بن گئیں۔ ؎ ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے اقبالؔ بالآخر امت مسلمہ کی قیادت کا سہرا سلطنت ِعثمانیہ The Great Ottoman Empire کے نام سے ترکانِ عثمانی کے سر باندھ دیا گیا اور اس طرح خلافت ِعثمانیہ کا جھنڈا عالم اسلام پر چار سو سال 1924 ء تک لہراتا رہا۔

الفتح 48:1

آیت 1 { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“

الفتح 48:2

آیت 2 { لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ } ”تاکہ اللہ بخش دے آپ کی کوئی کوتاہیاں جو پیچھے ہوئیں اور جو بعد میں ہوئیں“ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے لفظ ”ذنب“ کی وضاحت کے لیے سورة محمد ﷺ کی آیت 19 کی تشریح ملاحظہ ہو۔ یہاں بھی ذَنْبِکَ آپ کی کوتاہیوں سے مراد وہ خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جو غلبہ اسلام کی اس جدوجہد میں رہ گئی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمان کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان ساری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے درگزر کر کے محض اپنے فضل سے ان کی تلافی کردی ہے اور آپ ﷺ کے لیے فتح و نصرت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ { وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا } ”اور تاکہ اللہ اپنی نعمت کا اتمام فرما دے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی راہنمائی کرے سیدھے راستے کی طرف۔“ بظاہر اس فقرے سے بھی لفظ ”ذنب“ کی طرح اشکال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو پہلے ہی سیدھی راہ پر تھے بلکہ { وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ } الشوریٰ کا مصداق تھے ‘ اور آپ ﷺ کے تمام اہل ایمان ساتھی بھی پچھلے اٹھارہ برسوں سے سربکف ہو کر اسی راہ ہدایت پر گامزن تھے تو پھر یہاں { وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا } کے فرمان کا کیا مفہوم ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کی بہت سی آراء ہیں ‘ جن کی تفصیل بیان کرنا یہاں ممکن نہیں۔ بہر حال میرے نزدیک اس کی توجیہہ وہی ہے جو میں قبل ازیں سورة محمد کی آیت 19 کے ضمن میں لفظ ”ذنب“ کی وضاحت کے حوالے سے بیان کرچکا ہوں کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ اقامت ِدین کے لیے جو مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں ‘ اس حوالے سے اگر اہل ایمان میں سے کسی سے اب تک کسی قسم کی کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین کی برکت سے ایسی تمام کوتاہیوں کی تلافی فرما دے گا۔ اس کے بعد اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لیے آپ لوگوں کی یہ جدوجہد تیر کی طرح سیدھی اپنے ہدف کی طرف تیزی سے بڑھے گی اور ”اظہارِ دین حق“ کا عملی مظاہرہ اب بہت جلد دنیا کی نظروں کے سامنے آجائے گا۔ گویا اس مقام پر آپ ﷺ کو سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب فتح و کامرانی کا راستہ دکھانا ہے۔ جہاں تک آیت زیر مطالعہ میں ”اتمامِ نعمت“ کے وعدے کا تعلق ہے تو اس سے مراد دراصل دین کا اتمام ہی ہے جس کے بارے میں یہ خوشخبری ہم سورة المائدۃ کی آیت 3 میں پڑھ آئے ہیں : { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُم وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَـکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًاط } ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی ہے ‘ اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمادیا ہے ‘ اور تمہارے لیے میں نے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کرلیا ہے“۔ البتہ اس اہم مضمون کے درست ادراک کے لیے ضروری ہے کہ دین کے اتمام کی دونوں صورتیں پیش نظر رہیں۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ قرآن میں تمام احکامِ دین بیان کردیے گئے اور شریعت مکمل ہوگئی۔ لیکن دین اسلام چونکہ ایک ضابطہ حیات ہے اس لیے عملی طور پر اس کی تکمیل تب ہی ممکن تھی جب اس کے تحت باقاعدہ ایک حکومت قائم ہوتی اور معاشرے کے اندر اس کے تمام قوانین کی تنفیذ کا مظاہرہ اور نمونہ عملی طور پر سامنے آتا۔ اسی کیفیت کا نام دراصل ”اظہارِ دین“ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں تین مقامات التوبۃ : 33 ‘ الفتح : 28 ‘ اور الصف : 9 پر { لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } کے الفاظ میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ”مقصد“ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں یہاں خصوصی طور پر اسی ”نعمت“ کے اتمام کی طرف اشارہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کے ساتھیوں کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کی تلافی کے لیے ہم نے آپ ﷺ کو یہ ”فتح مبین“ عطا کردی ہے۔ اب آپ ﷺ کی جدوجہد تیزی کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھے گی اور جزیرہ نمائے عرب میں بہت جلد ”اظہارِ دین حق“ کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے آجائے گا۔

الفتح 48:3

آیت 3 { وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا } ”اور اللہ آپ کی مدد کرے گا ‘ بہت زبردست مدد۔“ اب آپ ﷺ کی جدوجہد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی مدد شامل ہوگی جسے کوئی شکست نہیں دے سکے گا۔

الفتح 48:4

آیت 4 { ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ } ”وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل کردی تاکہ وہ اضافہ کرلیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت اور طمانیت ہی تھی جس کے باعث صحابہ کرام رض اپنی جانیں قربان کردینے کے فیصلے پر پورے سکون قلب کے ساتھ جازم رہے۔ پھر اسی سکینت کے سہارے صحابہ کرام رض اس کڑے امتحان سے بھی سر خرو ہو کر نکلے جو اس خاص موقع پر انہیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے حوالے سے درپیش تھا۔ اس موقع پر اصل صورت حال یہ تھی کہ صحابہ رض میں سے کوئی ایک فرد بھی صلح کے حق میں نہیں تھا ‘ لیکن اس کے باوجود اس دوران ان کے نظم و ضبط کا یہ عالم رہا کہ بغیر کسی ایک استثناء کے پوری جماعت نے حضور ﷺ کے حکم پر سر تسلیم خم کردیا۔ بادی النظر میں یہ کہنا ذرا عجیب لگتا ہے کہ ”صحابہ رض میں سے کوئی بھی صلح کے حق میں نہیں تھا“ لیکن تاریخی حقائق بہر حال ایسی ہی صورت حال کی گواہی دیتے ہیں۔ چناچہ سیرت کی کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح نامہ پر دستخط ہوجانے کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانو ! اب اٹھو ‘ احرام کھول دو اور یہیں پر قربانیاں کر دو ‘ تو آپ ﷺ کے کہنے پر کوئی ایک مسلمان بھی نہ اٹھا۔ آپ ﷺ نے اپنا یہ حکم پھر دہرایا تو پھر بھی کوئی نہ اٹھا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا کہ لوگو اٹھو ! احرام کھول دو اور قربانی کے جانور ذبح کر دو ‘ تو آپ ﷺ کے تیسری مرتبہ فرمانے پر بھی کوئی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔ بلاشبہ صحابہ رض کا یہ ”توقف“ اضطراری کیفیت کے باعث تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے لیے امتحان کی کوئی صورت ہے ‘ اس کے بعد شاید کوئی نیا حکم آجائے گا اور صورت حال بدل جائے گی۔ دراصل یہ صورت حال صحابہ رض کی سمجھ سے باہر تھی کہ جو احرام انہوں نے حضور ﷺ کی اقتدا میں عمرے کے لیے باندھے ہیں وہ عمرہ ادا کیے بغیر میدانِ حدیبیہ میں ہی کھول دیے جائیں۔ بہر حال حضور ﷺ کے تیسری مرتبہ حکم دینے پر بھی جب کوئی احرام کھولنے کے لیے نہ اٹھا تو آپ ﷺ دل گرفتہ ہو کر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رض آپ ﷺ کے ساتھ تھیں۔ جب آپ ﷺ نے تمام صورت حال انہیں بتائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ اپنی زبان مبارک سے کچھ نہ فرمائیں ‘ بس آپ ﷺ اپنا احرام کھول دیں اور قربانی کا جانور ذبح کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ کے احرام کھولنے اور جانور ذبح کرنے پر سب مسلمانوں نے احرام کھول دیے اور اپنے اپنے جانور ذبح کردیے۔ صحابہ رض کے مذکورہ رد عمل سے یہ حقیقت بہرحال عیاں ہوتی ہے کہ اس موقع پر وہ سب کے سب ”صلح“ کو خوش آمدید کہنے کے بجائے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے زیادہ ُ پر عزم تھے۔ { وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا } ”اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر تو اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“

الفتح 48:5

آیت 5 { لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَیُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ } ”تاکہ وہ داخل کرے اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کو ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ‘ اور دور کر دے ان سے ان کی برائیوں کو۔“ { وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًا } ”اور یہی ہے اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی۔“

الفتح 48:6

آیت 6 { وَّیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْئِ } ”اور تاکہ اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں بہت ُ برے گمان رکھنے والے ہیں۔“ یہ الفاظ سورة الاحزاب کی آخری آیت کے الفاظ سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی زمانہ میں نازل ہوئی ہیں۔ سورة الاحزاب 5 ہجری میں نازل ہوئی تھی جبکہ سورة الفتح 6 ہجری میں۔ { عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ } ”انہی پر مسلط ہے برائی کا دائرہ۔“ یعنی برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ہیں۔ { وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَلَعَنَہُمْ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا } ”اور اللہ ان پر غضبناک ہوا ہے اور اس نے ان پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی۔“

الفتح 48:7

آیت 7{ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا } ”اور آسمانوں اور زمین کے لشکر ُ کل کے کل اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ اور اللہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔“ آیت 4 کے آخر پر بھی ہو بہو یہی الفاظ آئے ہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ آیت 4 کا اختتام ”علیمًا حکیمًا“ پر ہوتا ہے ‘ جبکہ یہ آیت ”عزیزًا حکیمًا“ پر ختم ہو رہی ہے۔

الفتح 48:8

آیت 8 { اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا ‘ بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر۔“ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کے گواہ prosecution witness کے طور پر پیش ہو کر گواہی دیں گے کہ اے اللہ ! تیرا دین جو مجھ تک پہنچا تھا میں نے وہ اپنی امت کے لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ لوگ اس کے بارے میں خود جوابدہ ہیں۔ اس عدالت اور اس میں ہونے والی گواہیوں کا نقشہ سورة النساء میں اس طرح کھینچا گیا ہے : { فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا۔ } ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ان پر گواہ بنا کر !“

الفتح 48:9

آیت 9 { لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ } ”تاکہ اے مسلمانو ! تم ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور رسول کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو۔“ { وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا } ”اور تاکہ تم اللہ کی تسبیح کرو صبح وشام۔“ اس آیت کے پہلے حصے میں ایمان کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کا ذکر ہے ‘ اس کے بعد دوسرے فقرے وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ میں ہُ کی دونوں ضمیریں ”رسول ﷺ“ کے لیے ہیں ‘ اور اس کے بعد وَتُسَبِّحُوْہُ میں ہُ کی ضمیر اللہ کے لیے ہے۔

الفتح 48:10

آیت 10 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ } ”اے نبی ﷺ ! یقینا وہ لوگ جو آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ حقیقت میں اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔“ { یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ } ”ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔“ اس بیعت کے اندر گویا تین ہاتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ‘ بیعت کرنے والے شخص کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔ { فَمَنْ نَّـکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ } ”تو اب جو کوئی اس کو توڑے گا تو اس کے توڑنے کا وبال اپنے اوپر ہی لے گا۔“ { وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا } ”اور جو کوئی پورا کرے گا اس معاہدے کو جو وہ اللہ سے کر رہا ہے تو وہ اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔“ اس آیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے سورة التوبہ کی اس آیت کو ایک مرتبہ پھر سے دہرا لیں : { اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَـیَـقْتُلُوْنَ وَیُـقْتَلُوْنَقف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِط وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖط } آیت 111 ”یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں ‘ پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں ‘ یہ وعدہ اللہ کے ذمے ہے سچا تورات ‘ انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو وفا کرنے والا کون ہے ؟ پس خوشیاں منائو اس بیع پر جس کا سودا تم نے اس کے ساتھ کیا ہے“۔ اب ان دونوں آیات کے باہمی ربط وتعلق کو اس طرح سمجھیں کہ سورة التوبہ کی اس آیت میں ایک ”بیع“ سودے کی ترغیب دی گئی ہے جبکہ زیر مطالعہ آیت میں اس بیع کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں بھی ب ی ع مادہ سے باب مفاعلہ بَایَعْتُمْ بِہٖ آیا ہے اور یہاں آیت زیر مطالعہ میں بھی اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ۔ لفظ بیعت دراصل بیع سے ہی مشتق ہے۔ عربوں کے ہاں رواج تھا کہ دو فریق جب خریدو فروخت بیع کا کوئی معاملہ کرتے تو سودا پکا ہوجانے پر آپس میں مصافحہ کرتے تھے۔ یہ مصافحہ دراصل ”بیع“ طے ہوجانے کا اعلان سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے ایسے مصافحے کو ”بیعت“ کا نام دے دیا گیا۔ سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ اور بندے کے مابین ہونے والی بیع و شراء میں بندے کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اس سودے کی بیعت براہ راست اللہ کے ہاتھ پر نہیں کرسکتا۔ اس لیے اسے یہ ”بیعت“ اللہ کے کسی نمائندے یعنی کسی انسان کے ہاتھ پر ہی کرنی پڑے گی اور اس طرح عملی طور پر اس سودے یا بیع میں تین فریق شامل ہوں گے ‘ یعنی اللہ ‘ سودا کرنے والا شخص اور وہ شخص جس کے ہاتھ پر اس سودے کی بیعت ہوگی۔ آج بالفرض اگر میں اپنا مال و جان اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کرتا ہوں تو میرے اور اللہ کے درمیان چونکہ غیب کا پردہ حائل ہے اس لیے مجھے یہ معلوم کرنے کے لیے کوئی ”انسان“ ہی ڈھونڈنا پڑے گا کہ میں اپنی جان کب اور کیسے قربان کروں ؟ اور اپنا مال کس طریقے سے کہاں خرچ کروں ؟ صحابہ کرام رض کو یہ ”انسان“ اللہ کے رسول ﷺ کی شکل میں میسر تھا ‘ انہوں نے اپنے مال و جان کے سودے کی ”بیعت“ حضور ﷺ کے ہاتھ پر کررکھی تھی۔ چناچہ جب حضور ﷺ انہیں بتاتے تھے کہ اب اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ کارزار میں پہنچ جائو اور اب اپنے اموال حاضر کردو تو صحابہ رض خوشی خوشی آپ ﷺ کے ہر حکم پر لبیک کہتے تھے۔ بلکہ وہ تو منتظر رہتے تھے کہ کب حضور ﷺ انہیں حکم دیں اور کب انہیں اللہ کی امانت کو لوٹانے کی سعادت نصیب ہو۔ صحابہ رض کے قلوب و اذہان کی اس کیفیت کی تصویر سورة الاحزاب کی اس آیت میں دکھائی گئی ہے : { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِج فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُز } آیت 23 ”اور اہل ایمان میں کچھ جواں مرد لوگ وہ ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ وعدہ جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا ‘ ان میں وہ بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ہیں اور ان میں کچھ وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں“۔ گویا اللہ کے ساتھ مذکورہ سودے بیع وشراء کے بعد وہ جواں مرد اپنی جانیں اور اپنے مال اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے مسلسل بےتاب و بےقرار رہتے تھے۔ کسی شاعر نے اس خوبصورت مضمون کو تغزل کے رنگ میں یوں ادا کیا ہے : ؎وبالِ دوشِ ہے سر جسم ِناتواں پہ مگر لگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لیے !کہ اے محبوب ! ہم تو اپنے جسم ناتواں پر اپنے سر کے اس ”بوجھ“ کو صرف اس لیے اٹھائے پھر رہے ہیں کہ تو جب چاہے اور جہاں چاہے بس اسی وقت وہیں پر ہم تیری راہ میں اسے قربان کردیں۔ اب تو ہم زندہ ہی اس ”انتظار“ میں ہیں کہ کب تیرا اشارہ ہو اور کب ہم اپنے سر کو کٹوا کر تیری امانت کے اس بوجھ سے سبکدوش ہوں۔ اب رسول اللہ ﷺ کے بعد قیامت تک کے زمانے کے لیے بھی اس لائحہ عمل کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے حضور ﷺ کے بعد اس نوعیت کی بیعت جس کسی کے ہاتھ پر بھی ہوگی وہ حضور ﷺ کا کوئی امتی ہی ہوگا۔ لہٰذا اس کی اطاعت مستقل بالذات اطاعت نہیں ہوگی بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے دائرے کے اندر رہ کر ہوگی۔ چناچہ اب اس نوعیت کی بیعت کسی ایسے داعی کے ہاتھ پر ہی ہونی چاہیے جو صرف اور صرف اللہ کے نام پر کھڑا ہو اور لوگوں کو قرآن اور دین کے نام پر پورے خلوص سے دعوت دے۔ پھر وہ اس دعوت پر لبیک کہنے والے افراد کو اقامت دین کی جدوجہد کے لیے ایک جمعیت کی شکل میں منظم کرنے کی کوشش بھی کرے۔ ظاہر ہے ”جمعیت“ کے بغیر اقامت دین کے لیے موثر اور منظم جدوجہد ممکن نہیں۔ جہاں تک جماعت سازی کے طریق کار کا تعلق ہے آج اس کے لیے بہت سے طریقے رائج ہیں۔ بعض تنظی میں فارم کے ذریعے رکنیت سازی کرتی ہیں ‘ بعض دستخطی مہم چلا کر ممبرز بناتی ہیں۔ کئی جماعتیں اپنے امیر کا انتخاب استصوابِ رائے کے ذریعے سے کرتی ہیں ‘ پھر کہیں دو سال کے لیے امیر منتخب ہوتا ہے اور کہیں چار سال کے لیے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب طریقے جائز اور مباح ہیں ‘ لیکن جماعت سازی کا منصوص ‘ مسنون اور ماثور طریقہ بیعت کا طریقہ ہی ہے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر جب صحابہ کرام رض خندق کھودنے میں مصروف تھے تو وہ سب مل کر بلند آواز میں یہ شعر پڑھتے تھے : نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا 1کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کر رکھی ہے اور اب یہ جہاد جاری رہے گا جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ جماعت سازی کے لیے بیعت کا طریقہ نص ِقرآنی اور نص حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں مختلف مواقع پر صحابہ رض سے بیعت لی۔ حضور ﷺ کے بعد خلافت راشدہ کا سلسلہ بھی بیعت کی بنیاد پر چلا۔ خلیفہ کے انتخاب کے لیے جب طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مشاورت ہوجاتی اور ایک فیصلہ کرلیا جاتا تو اس فیصلے پر باقاعدہ اعتماد کا اظہار لوگ بیعت کے ذریعے سے ہی کرتے تھے۔ پھر آگے چل کر جب خلافت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوئے تب بھی حضرت حسین رض اور حضرت عبداللہ بن زبیر رض نے اپنی اپنی جمعیتوں کی تشکیل بیعت کی بنیاد پر ہی کی تھی۔ حتیٰ کہ دور ملوکیت میں بھی مسلمان بادشاہ عوام سے اعتماد کا ووٹ بھی بیعت کے ذریعے سے ہی لیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ پچھلی صدی میں مسلمانوں کے اندر جتنی جہادی تحریکیں اٹھیں ان کی رکنیت سازی بھی بیعت کی بنیاد پر کی گئی۔ مثلاً سید احمد بریلوی رح کی سکھوں کے خلاف ‘ مہدی سوڈانی کی انگریزوں کے خلاف اور سنوسیوں کی اطالویوں کے خلاف جہادی تحریکوں کو بیعت کی بنیاد پر ہی منظم کیا گیا۔ صوفیاء کے ہاں بھی اپنے مریدین کے تزکیہ نفس کے لیے ”بیعت ارشاد“ کا سلسلہ رائج ہے۔ بہر حال اقامت دین کی جدوجہد کے لیے تنظیم سازی اور جمعیت ناگزیر ہے ‘ کیونکہ اکیلا چنا تو بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ البتہ کسی داعی کی دعوت پر لبیک کہنے سے پہلے اس کی شخصیت ‘ اس کے معمولات و معاملات ‘ معیارِ تقویٰ ‘ دین و دنیا کے بارے میں اس کے علم و شعور ‘ اقامت دین کے لیے اس کی جدوجہد کے طریق کار وغیرہ کے بارے میں اچھی طرح سے تحقیق کر لیجیے۔ پھر جب کسی شخصیت کے بارے میں دل مطمئن ہوجائے کہ واقعی وہ اقامت دین کی جدوجہد کے بارے میں مخلص ہے اور باقی ضروری شرائط پر بھی پورا اترتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اس کا ساتھ دیجیے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کے اندر رہتے ہوئے اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کیجیے کیونکہ ”سمع و اطاعت“ کے بغیر نہ تو کوئی جمعیت قائم ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے بغیر کوئی تنظیم اپنے ہدف کے حصول کے لیے موثر جدوجہد کرسکتی ہے۔

الفتح 48:11

دوسرے رکوع کی یہ آیات صلح حدیبیہ کے بعد حضور ﷺ کے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئیں ‘ بالکل اسی طرح جس طرح غزوئہ تبوک سے واپسی پر سورة التوبہ کی کچھ آیات نازل ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے تحت بعد میں نازل ہونے والی ان آیات کو پہلے سے جاری سلسلہ کلام کو منقطع کر کے یہاں پر رکھا گیا ہے۔ آیات کے تسلسل میں تقدیم و تاخیر کا بالکل یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة التوبہ کے آغاز میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ چناچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ پہلے رکوع کا مضمون یہاں پر منقطع ہو رہا ہے اور اس مضمون کا تسلسل اب تیسرے رکوع کے مضمون کے ساتھ جا کر ملے گا۔آیت 11 { سَیَقُوْلُ لَکَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ } ”عنقریب آپ ﷺ سے کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے والے تھے دیہاتیوں میں سے“ گویا رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کے مدینہ پہنچتے ہی اردگرد کے قبائل سے بادیہ نشین آپ ﷺ کے پاس آ آکر عذر پیش کریں گے کہ : { شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَہْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا } ”ہمیں مشغول رکھا ہمارے اموال اور اہل و عیال کی دیکھ بھال نے ‘ چناچہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجیے۔“ حضور ﷺ نے تمام مسلمانوں پر عمرے کے لیے نکلنا لازم قرار نہیں دیا تھا۔ لیکن آپ ﷺ نے اعلانِ عام کروایا تھا کہ جو کوئی عمرے کے لیے جاسکتا ہے ضرور چلے۔ بہر حال جو لوگ استطاعت کے باوجود آپ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے یہ ان کی منافقت کا ذکر ہے کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے اپنی نام نہاد مصروفیات کے بہانے بنائیں گے۔ { یَـقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ } ”یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔“ { قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِکُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا } ”آپ ﷺ ان سے کہیے کہ کون ہے جو کچھ اختیار رکھتا ہو تمہارے بارے میں اللہ کی طرف سے کچھ بھی اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے یا تمہیں نفع پہنچانے کا ارادہ کرے ؟“ اللہ تعالیٰ کا تمہارے بارے میں نفع یا نقصان کا جو بھی ارادہ ہو وہ تمہاری کسی تدبیر سے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اپنے گھروں میں رہ کر تم لوگ اللہ کی تقدیر کو نہیں بدل سکتے تھے۔ تمہارے گھروں میں اگر کوئی خیر آنا تھی تو وہ تمہاری عدم موجودگی میں بھی آسکتی تھی اور اگر کوئی شر تمہارے مقدر میں لکھا تھا تو وہ تمہاری موجودگی میں بھی آسکتا تھا۔ لہٰذا ہمارے ساتھ نہ جانے کے جواز میں تمہارے سب دلائل بےمعنی اور فضول ہیں۔ { بَلْ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا } ”بلکہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“ اب وہ بات بتائی جا رہی ہے جو اصل میں ان کے دلوں میں تھی۔

الفتح 48:12

آیت 12 { بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓی اَہْلِیْہِمْ اَبَدًا } ”بلکہ تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب رسول اور اہل ِایمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے“ تمہارا خیال تھا کہ ان لوگوں کا دماغ چل گیا ہے جو خود چل کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور یہ کہ قریش ِ مکہ انہیں جیتے جی کبھی واپس نہیں آنے دیں گے۔ { وَّزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئِ } ”اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برا گمان کیا۔“ { وَکُنْتُمْ قَوْمًام بُوْرًا } ”اور تم ہو ہی تباہ ہونے والے لوگ۔“ اس سے پہلے سورة محمد میں منافقین کے جس طرز عمل کا ذکر ہوا تھا وہ 2 ہجری کا دور تھا جبکہ ابھی قتال کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا۔ اس دور میں وہ لوگ ”اقدام“ سے متعلق حضور ﷺ کی حکمت عملی کے مقابلے میں صلح جوئی اور امن پسندی کی باتیں کرتے تھے۔ اب ان آیات میں ان کی 6 ہجری کے زمانے کی سوچ کی عکاسی کی گئی ہے۔

الفتح 48:13

آیت 13 { وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا } ”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ رکھے تو ہم نے ان کافروں کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔“

الفتح 48:14

آیت 14{ وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔“ { یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ } ”وہ بخشے گا جس کو چاہے گا اور عذاب دے گا جس کو چاہے گا۔“ { وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ”اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“

الفتح 48:15

آیت 15 { سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ } ”اے مسلمانو ! عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے ‘ جب تم لوگغنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جائو گے ‘ کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں۔“ اس آیت میں فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ خیبر یہودیوں کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ مسلمانوں سے بد عہدی کی بنا پر جن دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر کو مدینہ سے نکالا گیا تھا وہ بھی خیبر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنا کر عسکری اعتبار سے خود کو بہت مضبوط کرلیا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں کی منصوبہ بندیاں کرتے رہتے تھے۔ چناچہ صلح حدیبیہ کے بعد جب قریش کی طرف سے جنگ وغیرہ کا کوئی خطرہ نہ رہا تو اگلے ہی سال یعنی 7 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت کے ساتھ خیبر پر چڑھائی کا فیصلہ کیا۔ یہاں ان آیات کے ذریعے مسلمانوں کو پیشگی 6 ہجری میں مطلع کیا جا رہا ہے کہ جب اگلے سال تم لوگ خیبر کی طرف پیش قدمی کرو گے تو اس کی فتح کو یقینی سمجھتے ہوئے اور وہاں سے بہت بڑے اموالِ غنیمت کی توقع کرتے ہوئے یہ منافقین بھی اس مہم پر تمہارے ساتھ جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں گے۔ { یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ } ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کردیں !“ گویا یہ لوگ اللہ کے اس حکم کو خلافِ واقعہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خیبر کی مہم پر حضور ﷺ کے ساتھ صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ ﷺ کے ساتھ گئے تھے اور بیعت ِرضوان میں شریک ہوئے تھے ‘ جیسا کہ آگے آیات 18 ‘ 19 میں بصراحت ارشاد ہوا ہے۔ { قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جائو گے ‘ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔“ ان الفاظ کا اشارہ اسی سورت کی آیات 18 ‘ 19 کی طرف ہے ‘ جو اس سے پہلے نازل ہوچکی تھیں۔ { فَسَیَـقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا } ”اس پر وہ کہیں گے : بلکہ آپ لوگ ہم سے حسد کر رہے ہیں۔“ اس پر وہ آپ لوگوں پر الزام دھریں گے کہ آپ لوگ حسد کی بنا پر ہمیں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے کہ ہم بھی کہیں تمہیں حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت میں حصہ دار نہ بن جائیں۔ { بَلْ کَانُوْا لَا یَفْقَہُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا } ”بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فہم ہی نہیں رکھتے مگر بہت کم۔“

الفتح 48:16

آیت 16{ قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ } ”ان بدوئوں میں سے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تمہیں بلایا جائے گا ایک ایسی قوم کے ساتھ مقابلے کے لیے جو بہت طاقتور ہوگی ‘ یا تو تم ان سے قتال کرو گے یا وہ اطاعت قبول کرلیں گے۔“ ان الفاظ میں جنگوں کے اس طویل سلسلے کی طرف اشارہ ہے جو چند سال بعد سلطنت ِروما اور سلطنت ایران کے خلاف شروع ہونے والا تھا۔ گویا یہ انقلابِ محمدی ﷺ کی بین الاقوامی سطح پر پیش قدمی کے بارے میں پیشین گوئی ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کا پورا علاقہ تمہارے زیر تسلط آجانے کے بعد عنقریب تمہارا ٹکرائو سلطنت روما اور سلطنت ِایران کی ایسی افواج سے ہوگا جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ اپنے زمانے کے جدید ترین سامانِ حرب سے لیس ہیں۔ چناچہ اے نبی ﷺ ! آپ ان اعراب سے کہیں کہ توسیع و تصدیر انقلاب کے اس مرحلے میں تم لوگوں کو بھی اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ { فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِکُمُ اللّٰہُ اَجْرًا حَسَنًا } ”تو اس وقت اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہت اچھا اجر دے گا۔“ اگر تم لوگ ان معرکوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا دم بھرتے ہوئے اس کے رسول ﷺ کے مشن کے علمبردار بنو گے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا بہت اچھا صلہ پالو گے۔ { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } ”لیکن اگر تم نے اس موقع پر بھی پیٹھ دکھا دی جیسے کہ تم نے پہلے پیٹھ دکھائی تھی تو وہ تمہیں بہت درد ناک عذاب دے گا۔“ یہاں پر یہ اہم نکتہ نوٹ کرلیجئے کہ { تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ } کے الفاظ میں کسی قوم کے ساتھ مقابلے میں تین ممکنہ صورتوں کا ذکر ہے۔ ”تُقَاتِلُوْنَہُمْ“ میں مخالف فریق کے ساتھ مقابلے اور جنگ کی طرف اشارہ ہے جبکہ ”یُسْلِمُوْنَ“ میں ان کے اسلام لانے یا اطاعت قبول کرنے کی دونوں صورتیں شامل ہیں۔ چناچہ عرب سے باہر مسلمانوں کا جہاں کہیں بھی کوئی معرکہ ہوتا تھا اس میں ان کی طرف سے مخالف فریق کے سامنے یہی تین نکات پیش کیے جاتے تھے۔

الفتح 48:17

آیت 17{ لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ} ”ہاں کسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ ہی کسی لنگڑے پر اور نہ ہی کسی مریض پر کوئی تنگی ہے۔“ اگر جسمانی لحاظ سے کوئی معذور شخص جہاد میں حصہ نہیں لیتا تو اس کی معذوری کے پیش نظر اس پر اس حوالے سے کوئی سختی نہیں کی جائے گی۔ { وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ داخل کرے گا اس کو ان باغات مین جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔“ { وَمَنْ یَّـتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًا } ”اور جو کوئی پیٹھ پھیر لے تو اسے وہ ایک دردناک عذاب سے دوچار کرے گا۔“

الفتح 48:18

اب آئندہ آیات میں اسی مضمون کا تسلسل ہے جو پہلے رکوع میں { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَط } آیت 10 کے الفاظ سے شروع ہوا تھا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ حکمت الٰہی کے پیش نظر اس مضمون کا سلسلہ درمیان سے منقطع کرکے بعد میں نازل ہونے والی آیات کو وہاں جگہ دے دی گئی اور اب آیت 18 سے دوبارہ وہی مضمون شروع ہو رہا ہے۔آیت 18 { لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ } ”اللہ راضی ہوگیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے ‘ درخت کے نیچے ‘ تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا“ یعنی بیعت کے وقت تو ان کے دلوں میں فقط ذوق شہادت اور جوشِ جہاد تھا۔ صلح کی بات چیت تو ان کی بیعت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ { فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا } ”تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کردی اور انہیں بدلے میں ایک قریبی فتح بخشی۔“ یہ اشارہ ہے فتح خیبر کی طرف جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد جلد ہی ظہور میں آگئی۔ ان الفاظ میں اس امر کی صراحت ہے کہ یہ انعام ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ صفر 7 ھ میں خیبر پر چڑھائی کے لیے نکلے تو آپ ﷺ نے صرف انہی اصحاب کو ساتھ لیا۔

الفتح 48:19

آیت 19 { وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَہَا وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا } ”اور بہت سے اموالِ غنیمت جو وہ حاصل کریں گے۔ اور اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے۔“

الفتح 48:20

آیت 20 { وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہٰذِہٖ } ”اے مسلمانو ! اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے بہت سے اموالِ غنیمت کا جنہیں تم حاصل کرو گے ‘ پس یہ فتح تو اس نے تمہیں فوری طور پر عطاکر دی ہے“ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے ‘ جس کا ذکر سورت کے آغاز میں بایں الفاظ ہوا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“ { وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ } ”اور اس نے روک لیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے۔“ ظاہر ہے اگر جنگ ہوتی اور قریش بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تو کچھ نہ کچھ نقصان مسلمانوں کا بھی ضرور ہوتا۔ { وَلِتَـکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَیَہْدِیَکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا } ”تاکہ یہ اہل ِایمان کے لیے ایک نشانی بن جائے اور وہ تمہاری راہنمائی فرمائے سیدھے راستے کی طرف۔“ تاکہ اس کے بعد اقامت دین کے لیے تمہاری اجتماعی جدوجہد کامیابی کے مراحل جلد از جلد طے کرے اور اللہ تعالیٰ اسے تیر کی طرح سیدھا اس کے آخری ہدف اور منزل مقصود تک پہنچا دے۔

الفتح 48:21

آیت 21 { وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا } ”اور کچھ فتوحات اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی ‘ اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔“ یعنی اس کے فوراً بعد تمہیں خیبر کی فتح حاصل ہوگی اور اس کے بعد مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ ان کے علاوہ سرزمین عرب سے باہر بھی بہت سی فتوحات اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گھیر رکھی ہیں۔ ان فتوحات کے بارے میں دوسرے رکوع آیت 16 میں بھی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تیسرے رکوع کی یہ آیات دوسرے رکوع کی آیات سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“

الفتح 48:22

آیت 22 { وَلَوْ قٰــتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا } ”اور اگر یہ کافر قریش ِمکہ ّتم سے جنگ کرتے تو لازماً پیٹھ پھیر جاتے اور پھر نہ پاتے وہ اپنے لیے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔“

الفتح 48:23

آیت 23 { سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ”یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔“ یعنی یہ اللہ کا قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی مدد کرتا ہے۔ چناچہ اگر قریش مکہ اس موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تو اللہ اپنی سنت کے مطابق آپ لوگوں کی مدد کرتا اور ایسی صورت میں انہیں پیٹھ دکھانا پڑتی اور شکست ان کا مقدر بنتی۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا } ”اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔“

الفتح 48:24

آیت 24 { وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ } ”اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے اور تمہارے ہاتھ ان کی طرف بڑھنے سے مکہ کی وادی میں“ { مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ } ”اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر فتح دے دی تھی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے قریش ِمکہ ّکے حوصلے پست کردیے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے لیے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہ رہا اور انہوں نے اپنی تمام تر طاقت کے باوجود مسلمانوں کو اپنے برابر کا فریق تسلیم کرتے ہوئے ان سے صلح کرلی۔ اس صلح میں اگلے سال مسلمانوں کے عمرہ کرنے اور اس دوران مکہ شہر کو تین دن کے لیے مکمل طور پر خالی کردینے جیسی شرائط بھی شامل تھیں۔ دیکھا جائے تو قریش مکہ کے لیے مسلمانوں کو اپنا ہم ‘ پلہ ّسمجھتے ہوئے صلح کرنا اور پھر ایسی شرائط تسلیم کرلینا موت کا سامنا کرنے سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ بہر حال اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اندرونی طور پر اس قدر کمزور کردیا تھا کہ وہ یہ سب کچھ قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اس کے مقابلے میں وہ مسلمانوں سے صرف ایک یہ بات منوا سکے کہ اس سال عمرہ ادا کیے بغیر واپس چلے جائیں تاکہ وقتی طور پر ان کی ”ناک“ مکمل طور پر کٹنے سے بچ جائے۔ { وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا } ”اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“

الفتح 48:25

آیت 25 { ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہٗ } ”وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں روکے رکھا مسجد ِحرام تک جانے سے اور قربانی کے جانور بھی روکے گئے اپنی جگہ پہنچنے سے۔“ یہ ان جرائم کا تذکرہ ہے جن کا ارتکاب قریش مکہ نے اس پورے واقعے کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو احرام کی حالت میں ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کے طواف سے روکا بلکہ ان کے قربانی کے جانوروں کو بھی قربان گاہوں تک نہ پہنچنے دیا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فریقین کے ہاتھوں کو ایک دوسرے کی طرف بڑھنے سے روک دیا اور اس ممکنہ جنگ کو ٹال دیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے میں جو حکمت کارفرما تھی اب اس کا ذکر ہو رہا ہے : { وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْہُمْ اَنْ تَطَئُوْہُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْہُمْ مَّعَرَّۃٌ بِغَیْرِ عِلْمٍ } ”اور اگر نہ ہوتے مکہ میں موجود ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے ‘ اندیشہ تھا کہ تم لوگ انہیں بھی کچل دیتے تو ان کے بارے میں تم پر الزام آتا بیخبر ی میں تو جنگ نہ روکی جاتی۔“ عین موقع پر جنگ کو روکنے میں دراصل یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ اس وقت تک مکہ میں بہت سے ایسے اہل ِ ایمان افراد موجود تھے جو کسی نہ کسی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے۔ اس میں ضعفاء بھی تھے ‘ مریض بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ ان لوگوں کا ذکر سورة النساء کے چودھویں رکوع میں بھی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی معذوری کو دیکھتے ہوئے انہیں معاف کر دے گا اور ہجرت نہ کرسکنے کی بنا پر ان سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ چناچہ ایسے لوگوں کی شہر میں موجودگی کی صورت میں جب جنگ کی چکی ّچلتی تو یہ بےگناہ لوگ بھی اس میں پس جاتے اور الٹا مسلمانوں پر ان سے متعلق الزام بھی آتا کہ انہوں نے اپنے ہی اہل ایمان ساتھیوں کو قتل کردیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے ممکنہ جنگ کو روک دیا اور مسلمانوں کو بغیر لڑے صلح کی شکل میں فتح دے دی۔ { لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ } ”جنگ اس لیے روکی گئی تاکہ اللہ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے۔“ { لَوْ تَزَیَّلُوْا لَـعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } ”اگر وہ اہل ِایمان علیحدہ ہوچکے ہوتے تو ان اہل ّمکہ میں سے جو کافر تھے ان کو ہم ایک دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتے۔“ اگر وہ کمزور اور معذور اہل ایمان اس وقت تک مکہ سے نکل چکے ہوتے تو ہم یہ جنگ ہونے دیتے اور مسلمانوں کے ہاتھوں قریش مکہ کو ان کے جرائم کی بدترین سزا دلواتے۔

الفتح 48:26

آیت 26 { اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ } ”جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھالی ‘ جاہلیت کی حمیت“ قریش مکہ نے اس موقع پر جس حمیت کا مظاہرہ کیا وہ سراسر حمیت جاہلی تھی۔ ان کے دلوں میں قوم پرستی ‘ آباء پرستی اور روایت پرستی کا تعصب کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اسی تعصب کی بنا پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو اپنے باپ دادا کے دین سے ِپھر کر ”بےدین“ ہوچکے تھے۔ { فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } ”تو اللہ نے سکینت نازل کردی اپنے رسول ﷺ پر اور اہل ایمان پر“ { وَاَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْٓا اَحَقَّ بِہَا وَاَہْلَہَا } ”اور اس نے لازم کردیا ان پر تقویٰ کی بات کو اور وہ اس کے زیادہ حق دار بھی ہیں اور اس کے اہل بھی ہیں۔“ { وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا } ”اور اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔“

الفتح 48:27

آیت 27 { لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّئْ یَا بِالْحَقِّ } ”اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ۔“ یہ اس خواب کا ذکر ہے جس کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے عمرے کا قصد فرمایا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لیے ترغیب دی تھی۔ حضور ﷺ نے خواب میں خود کو مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کرتے ہوئے دیکھا تھا اور آپ ﷺ نے اپنے اس خواب کا تذکرہ صحابہ رض سے سرعام کیا تھا۔ چونکہ رسول کا خواب بھی وحی کے درجے میں ہوتا ہے اس لیے جب صلح حدیبیہ کے نتیجے میں عمرہ اگلے سال پر ملتوی ہوگیا تو ایسی صورت میں حضور ﷺ کے خواب کے بارے میں وضاحت ضروری تھی۔ مبادا کسی کے ذہن میں یہ شبہ جنم لیتا کہ ‘ نعوذ باللہ ‘ حضور ﷺ کا خواب سچا نہیں تھا۔ اس ضمن میں جب حضور ﷺ سے سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہ تو کہا تھا ہم عمرہ کریں گے لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ ضرور اسی سال کریں گے۔ آیت زیر مطالعہ میں پیشگی خبر دی جا رہی ہے کہ تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے خواب کے عین مطابق عمرہ ادا کرو گے۔ چناچہ اگلے ہی سال 7 ہجری کو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے ہمراہ عمرہ کیا۔ تاریخ میں یہ عمرہ ”عمرۃ القضاء“ کے نام سے مشہور ہے۔ { لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ } ” اے مسلمانو ! تم لازماً داخل ہو گے مسجد الحرام میں ‘ ان شاء اللہ ‘ پورے امن کے ساتھ“ { مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَلا لَا تَخَافُوْنَ } ”اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو ترشواتے ہوئے ‘ اُس وقت تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔“ اگلے سال یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ اگلے سال جب مسلمان عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو پورا شہر خالی تھا۔ قریش اپنے گھروں کو چھوڑ کر تین دن کے لیے پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔ اس دوران مسلمان مکہ میں مقیم رہے اور انہوں نے پورے اطمینان سے عمرہ ادا کیا۔ { فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا } ”تو اللہ وہ کچھ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے ‘ تو اس کے علاوہ اس نے تمہارے لیے ایک قریب کی فتح بھی رکھی ہے۔“ اس سے فتح خیبر مراد ہے جس کا ذکر اس سے پہلے آیت 15 کے ضمن میں بھی ہوچکا ہے۔ یعنی اگلے سال جب تم لوگ قضا عمرہ ادا کرنے کے لیے جائو گے تو اس سے پہلے تم یہودیوں کے گڑھ خیبر کو فتح کر کے اس کے غنائم سمیٹ چکے ہو گے۔ اب وہ عظیم آیت آرہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة التوبہ میں آیت 33 بھی پڑھ چکے ہیں۔ اس کے بعد یہ الفاظ سورة الصف 28 ویں پارے کی آیت 9 میں بھی آئیں گے۔ سورة التوبہ اور سورة الصف میں یہ آیت جوں کی توں آئی ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ سورت میں اس کا آخری حصہ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا مختلف ہے۔

الفتح 48:28

آیت 28{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ } ”وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کر“ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد عربی ﷺ کو قرآن حکیم دے کر بھیجا ہے جو نوع انسانی کے لیے ہدایت کاملہ ہے : ؎ نوعِ انساں را پیام آخریں حامل اُو رحمۃ ٌللعالمین ! اقبالؔمزید برآں ان کو سچا اور کامل دین بھی عطا فرمایا ہے ‘ جو عادلانہ نظام زندگی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ { لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”تاکہ وہ غالب کر دے اسے ُ کل کے کل نظام زندگی پر۔“ گویا قبل ازیں اس سورت کی آیت 2 اور آیت 20 میں جس سیدھے راستے صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا کا ذکر ہے وہ راستہ ”اظہارِ دین حق“ کی منزل کی طرف جاتا ہے اور اسی ہدف کو حاصل کرنے کا حکم سورة الشوریٰ کی آیت 13 میں اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَکے الفاظ میں ہوا کہ تم دین کو قائم کرو ! پھر سورة الشوریٰ کی آیت 21 میں جھوٹے معبودوں کے ابطال کی جو دلیل دی گئی ہے اور ان کے مقابلے میں معبود حقیقی کی جو شان بیان ہوئی ہے وہ بھی ”الدِّیْن“ نظامِ زندگی کے حوالے سے ہے۔ ملاحظہ ہوں متعلقہ آیت کے یہ الفاظ : { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُط } ”کیا ان کے لیے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں کچھ ایسا طے کردیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ؟“ یعنی اللہ کی شان تو یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو دین حق دیا ہے۔ ایک مکمل ضابطہ حیات اور عادلانہ نظام زندگی دیا ہے ‘ تو کیا اس کا کوئی شریک بھی ایسا ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ اس نے بھی اپنے ماننے والوں کو کوئی نظام زندگی دیا ہے ؟ بہر حال اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی ”اظہارِدین حق“ بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے الہدیٰ اور دین حق دے کر اپنے رسول ﷺ کو بھیجا ہی اس لیے ہے کہ وہ اس ”الدِّین“ کو پورے نظام زندگی پر غالب کر دے۔ { وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا } ”اور کافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔“ عام طور پر لفظ شَھِید کا ترجمہ ”گواہ“ کیا جاتا ہے ‘ لیکن یہاں پر خصوصی طور پر شھید کا ترجمہ ”مددگار“ ہوگا۔ سورة البقرۃ کی آیت 23 میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں آیا ہے ‘ جہاں قرآن جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج دینے کے بعد فرمایا گیا : { وَادْعُوْا شُہَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } کہ بلا لو اس کام کے لیے اپنے تمام مدد گاروں کو اللہ کے سوا۔ ”شَھِدَ یَشْھَدُ“ کے معنی کسی موقع یا وقوعہ پر حاضر ہونے کے ہیں۔ ”گواہی“ کے معنی اس لفظ میں اسی حاضری کے مفہوم کی وجہ سے آئے ہیں ‘ کیونکہ کسی واقعے کی صحیح گواہی کا اہل تو وہی شخص ہوسکتا ہے جو وہاں اس وقت موقع پر حاضر ہو۔ جبکہ اسی ”حاضری“ کی وجہ سے اس لفظ میں ”مددگار“ کے معنی بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ ظاہر ہے آپ کی مدد وہی شخص کرسکے گا جو آپ کے ساتھ موجود ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جو آپ کا بہت اچھا دوست ہو ‘ آپ کے ساتھ مخلص بھی ہو ‘ مگر جب آپ کو مدد کی ضرورت ہو اس وقت آپ کے پاس موجود ہی نہ ہو تو وہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ چناچہ سیاق وسباق کے اعتبار سے یہاں لفظ شھید کے معنی مددگار کے ہیں۔

الفتح 48:29

آیت 29 { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ } ”محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں ‘ وہ کافروں پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں“ آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ دو طرح سے کیا جاتا ہے۔ اگر پہلا فقرہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط پر مکمل کردیا جائے اور وَالَّذِیْنَ سے دوسرا فقرہ شروع کیا جائے تو آیت کا مفہوم وہی ہوگا جو اوپر ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھی ہیں وہ کفار پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں۔ لیکن اگر پہلے فقرے کو وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ تک پڑھا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کے رسول محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی ایک وحدت اور ایک جماعت ہیں۔ اس طرح دوسرے فقرے میں بیان کی گئی دو خصوصیات اس جماعت کی خصوصیات قرار پائیں گی۔ یعنی اللہ کے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی کفار پر بہت بھاری اور آپس میں بہت شفیق و مہربان ہیں۔ اہل ایمان کی اس شان کا ذکر زیر مطالعہ آیت کے علاوہ سورة المائدۃ آیت 54 میں بھی ہوا ہے۔ وہاں مومنین صادقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا : { اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَز } ”وہ اہل ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے ‘ کافروں پر بہت بھاری ہوں گے“۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے اس شعر میں اسی مضمون کی ترجمانی کی ہے : ؎ ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن ! یہاں پر یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ یہ آیت بیعت کے تذکرے کے بعد آئی ہے۔ اس ترتیب سے گویا یہ یاددہانی کرانا مقصود ہے کہ { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ } کے الفاظ میں جس جماعت کا ذکر ہوا ہے وہ بیعت کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ اس حوالے سے حضور ﷺ کی سیرت سے جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص آپ ﷺ پر ایمان لاتا ‘ آپ ﷺ اس سے بیعت لیتے تھے ‘ یہ ایمان کی بیعت تھی۔ لیکن سیرت کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اہل مکہ میں سے آپ ﷺ نے کسی سے ایمان کی بیعت کبھی نہیں لی ‘ بلکہ اہل مکہ میں سے جو کوئی ایمان لانا چاہتا وہ کلمہ شہادت پڑھتا اور بس حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتا۔ اس کے لیے کسی علامتی اقدام کی کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ہاں اگر کوئی شخص باہر سے آتا تو اس سے آپ ﷺ ایمان کی بیعت لیتے تھے۔ اس کے علاوہ مکی دور میں آپ ﷺ نے دو بیعتوں کا خصوصی طور پر اہتمام فرمایا تھا۔ یعنی بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ۔ ان میں بیعت عقبہ ثانیہ وہ بیعت ہے جس کی بنیاد پر مسلمان باقاعدہ ایک ”جماعت“ بنے تھے۔ اس بات کی گواہی اس بیعت کے الفاظ بھی دیتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک متفق علیہ روایت کے مطابق حضرت عبادہ بن صامت رض سے اس طرح نقل ہوئے ہیں : بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ ، فِی الْعُسْرِ والْیُسْرِ ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ ، وَعَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا ، وَعَلٰی اَنْ لَا نُـنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ ، وَعَلٰی اَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا ، لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ 1”ہم نے اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے ‘ خواہ آسانی ہو یا مشکل ‘ خواہ ہماری طبیعت آمادہ ہو یا ہمیں اس پر جبر کرنا پڑے ‘ اور خواہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دے دی جائے۔ ہم اصحابِ اختیار سے جھگڑیں گے نہیں ‘ لیکن سچ بولیں گے جہاں کہیں بھی ہم ہوں گے ‘ اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بےخوف رہیں گے۔“ غور کیجئے ‘ اس بیعت کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرہ کس قدر اہم اور سبق آموز ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بیعت کی تھی اللہ کے رسول ﷺ سے کہ ہم آپ ﷺ کا ہر حکم سنیں گے اور مانیں گے۔ خواہ مشکل ہو ‘ خواہ آسانی ہو ‘ خواہ اس کے لیے ہماری طبیعتیں آمادہ ہوں ‘ خواہ ہمیں اپنی طبیعتوں پر جبر کرنا پڑے اور خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے…یعنی ہم کبھی شکایت نہیں کریں گے کہ ہم آپ ﷺ کے پرانے ساتھی ہیں جبکہ آپ ﷺ ہمارے اوپر ایک نوواردکو امیر کیوں مقرر کر رہے ہیں ؟ بس یہ آپ ﷺ کا اختیار ہوگا کہ آپ ﷺ جس کو چاہیں امیر مقرر کریں ‘ آپ ﷺ جو فیصلہ چاہیں کریں… اور یہ کہ ہم آپ ﷺ کے مقرر کردہ امیر سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے…اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی بہت واضح ہے : مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ 1”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“ اطاعت امیر کے حوالے سے یہ نکتہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ جماعتی زندگی میں ”امیر“ صرف ایک نہیں ہوتابل کہ مختلف سطحوں پر اوپر نیچے بہت سے ”اُمراء“ ہوتے ہیں۔ جیسے فوج کا ایک سپہ سالار ہوتا ہے ‘ اس کے نیچے مختلف رجمنٹس ‘ بٹالینز ‘ کمپنیز اور پلاٹونز کے اپنے اپنے کمانڈرز ہوتے ہیں ‘ اسی طرح ایک تنظیم کا ایک مرکزی امیر ہوگا ‘ پھر صوبائی اُمراء ‘ ڈویثرنل امراء ‘ ضلعی امراء ہوں گے اور ان سب امراء کا سلسلہ وار سمع وطاعت کا نظام ہوگا۔ حضور ﷺ کی مذکورہ بیعت کی یہ آخری شق بھی بہت اہم ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے حق بات ضرور کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔ یعنی مشورہ مانگا جائے گا تو بےلاگ مشورہ دیں گے ‘ اپنی رائے کو چھپا کر نہیں رکھیں گے۔ -۔ اس حوالے سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایک مامور کی ذمہ داری صرف مشورہ دینے کی حد تک ہے۔ اس کے بعد امیر جو فیصلہ بھی کرے اسے دل و جان سے تسلیم کرنا اس پر لازم ہے ‘ جیسا کہ سورة محمد ﷺ کی آیت 21 کے الفاظ { فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُقف } سے واضح ہوتا ہے کہ جب فیصلہ ہوجائے تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔ بہر حال جب منہج ِانقلاب نبوی میں اقدام کا مرحلہ آنے کو تھا ‘ Passive Resistance تبدیل ہورہی تھی Active Resistance میں ‘ تو مسلمانوں میں ایک باقاعدہ جماعت کا نظم وجود میں آیا اور اس نظم کی بنیاد بیعت عقبہ ثانیہ بنی۔ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ } میں اسی جماعت اور اسی نظم کی طرف اشارہ ہے۔ { تَرٰٹہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّـبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًاز } ”تم دیکھو گے انہیں رکوع کرتے ہوئے ‘ سجدہ کرتے ہوئے ‘ وہ ہر آن اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں“ { سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ } ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر ظاہر ہے سجدوں کے اثرات کی وجہ سے۔“ سجدوں کے نشان سے عام طور پر پیشانی کا گٹہ ّمراد لے لیا جاتا ہے جو بعض نمازیوں کے چہروں پر کثرت سجود کی وجہ سے پڑجاتا ہے۔ لیکن یہاں اس سے اصل مراد ایک نمازی اور متقی مومن کے چہرے کی وہ نورانیت اور خاص کیفیت ہے جو اس کے عمل و کردار کی غمازی کرتی محسوس ہوتی ہے۔ { ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰٹۃِ } ”یہ ہے ان کی مثال تورات میں۔“ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رض کی یہ تمثیل تورات میں بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ نے تورات اور انجیل میں قطع و برید کر کے حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض کے بارے میں پیشین گوئیوں کو بالکل مسخ کردیا ہے ‘ تاہم آج بھی تورات اور انجیل دونوں میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا مصداق نبی آخرالزماں ﷺ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ مثلاً کتاب استثناء ‘ باب 33 ‘ آیت 2 ملاحظہ ہو : ”خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا ‘ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ان کے لیے تھی۔“ { وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَـہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ } ”اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے نکالی اپنی کو نپل ‘ پھر اس کو تقویت دی ‘ پھر وہ سخت ہوئی ‘ پھر وہ اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔“ { یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ } ”یہ کا شتکار کو بڑی بھلی لگتی ہے“ یہ ایک کھیتی کی مثال ہے۔ بیج کو جب زمین میں دبایا جاتا ہے تو اس سے ایک چھوٹی سی نرم و نازک کو نپل پھوٹتی ہے ‘ پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے ‘ پھر اس کا تنا بنتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک مضبوط پودے کی صورت میں بغیر کسی سہارے کے کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس طرح جب ایک کھیتی کے تمام پودے اپنے جوبن پر ہوں اور فصل خوب لہلہا رہی ہوتی ہے تو اسے دیکھ کر کاشتکار کا دل بھی خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ { لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ } ”تاکہ ان سے کافروں کے دل جلائے۔“ اس آخری جملے میں گویا واضح کردیا گیا کہ اس مثال یا تشبیہہ کے پردے میں جس کھیتی کی بات ہو رہی ہے وہ دراصل صحابہ کرام رض کی جماعت ہے اور اس کھیتی کا کاشتکار خود اللہ کا رسول ﷺ ہے۔ چشم تصور سے اس جماعت کے ماضی میں جھانکیں تو ہمیں چند سال پہلے کا وہ نقشہ نظر آئے گا جب سر زمین مکہ میں دعوت کے بیج سے ایک ایک کر کے اس کھیتی کی نرم و نازک کو نپلیں نمودار ہو رہی تھیں۔ اس وقت ان کو نپلوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بل پر کھڑی ہوسکتیں۔ جناب ابو طالب کے انتقال کے وقت مکہ میں بمشکل ڈیڑھ سو مسلمان تھے۔ خود حضور ﷺ کے قبیلے نے آپ ﷺ سے تعلق توڑ لیا تھا اور قبیلے کی حمایت کے بغیر مکہ میں رہنا بھی بظاہر آپ ﷺ کے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ اسی صورت حال کے پیش نظر آپ ﷺ اپنی دعوت اور تحریک کے متبادل مرکز کی تلاش میں طائف تشریف لے گئے تھے۔ لیکن وہاں سے بہت تکلیف دہ حالت میں خالی ہاتھ واپس آنا پڑا تھا۔ طائف سے واپسی تک صورت حال اس حد تک گھمبیر ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ کو مکہ میں داخل ہونے کے لیے ایک مشرک مطعم بن عدی کی امان لیناپڑی تھی۔ ایک صورت حال وہ تھی جو ُ کل سرزمین مکہ میں اہل ایمان کو برداشت کرنا پڑی تھی اور ایک منظر یہ تھا جس کا نظارہ آج حدیبیہ کا میدان کر رہا تھا ‘ جہاں چودہ سو یا اٹھارہ سو مجاہدین کی سربکف جمعیت سر کٹانے کے لیے بےتاب و بےقرار تھی۔ ان کا نظم و ضبط ‘ ان کا جذبہ ایثار ‘ بیعت علی الموت کے لیے ان کا جوش و خروش ‘ پھر جنگ کے ٹل جانے اور جانوں کے بچ جانے پر ان کا ملال اور بظاہر دب کر صلح کرنے پر ان کا رنج۔ غرض ان کی ہر ادا نرالی اور ان کا ہر انداز انوکھا تھا۔ یہ تھی وہ کھیتی جو آج حدیبیہ کے میدان میں لہلہاتی ہوئی دشمنوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی تھی۔ اس کھیتی کے جوبن کی اس نرالی شان کو آج ملائکہ مقربین بھی رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوں گے اور اس کے ”نگہبان“ کے اندازِ نگہبانی کی تحسین کے لیے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کے ترانے الاپتے ہوں گے۔ ”لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ“ کے الفاظ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی اس کھیتی پر جس کا دل جلتا ہو قرآن حکیم اس کے ایمان کی نفی کر رہا ہے۔ صحابہ رض سے بغض ہو اور دعویٰ ایمان کا ہو تو اس دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں۔ { وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا } ”اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ مغفرت اور اجر عظیم کا۔“ تفسیر عثمانی میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اگرچہ حضور ﷺ کے تمام صحابہ رض ایمان اور عمل صالح کا حق ادا کرچکے تھے ‘ پھر بھی یہاں مِنْہُمْ کی قید لگا کر ان پر واضح کردیا گیا کہ اس کیفیت پر موت تک قائم رہنا بھی ضروری ہے ‘ مبادا کہ بعد میں کسی کے اندر کسی قسم کا کوئی تزلزل پیدا ہوجائے۔ انسان چونکہ طبعاً کمزور واقع ہوا ہے ‘ اس لیے اگر اس کو کامیابی کا یقین دلادیا جائے تو اطمینان کی وجہ سے اس میں تساہل پیدا ہوجاتا ہے ‘ جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل کرلینے کے باوجود بھی انسان آخری دم تک ”بین الخوف و الرجاء“ کی کیفیت میں رہے۔