Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الفيل 105:1 – الإخلاص 112:4

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الفيل 105:1
  2. الفيل 105:2
  3. الفيل 105:3
  4. الفيل 105:4
  5. الفيل 105:5
  6. قريش 106:1
  7. قريش 106:2
  8. قريش 106:3
  9. قريش 106:4
  10. الماعون 107:1
  11. الماعون 107:2
  12. الماعون 107:3
  13. الماعون 107:4
  14. الماعون 107:5
  15. الماعون 107:6
  16. الماعون 107:7
  17. الكوثر 108:1
  18. الكوثر 108:2
  19. الكوثر 108:3
  20. الكافرون 109:1
  21. الكافرون 109:2
  22. الكافرون 109:3
  23. الكافرون 109:4
  24. الكافرون 109:5
  25. الكافرون 109:6
  26. النصر 110:1
  27. النصر 110:2
  28. النصر 110:3
  29. المسد 111:1
  30. المسد 111:2
  31. المسد 111:3
  32. المسد 111:4
  33. المسد 111:5
  34. الإخلاص 112:1
  35. الإخلاص 112:2
  36. الإخلاص 112:3
  37. الإخلاص 112:4

الفيل 105:1

الم ترکیف ........................ الفیل (1:105) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز تعجب انگیزی کے لئے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ عجیب واقعہ تھا ، اور اس میں بہت بڑی عبرت ہے اور اس میں عظیم معانی پوشیدہ ہیں۔ یہ واقعہ عربوں میں معروف ومشہور تھا۔ بلکہ اس واقعہ سے عربوں میں کیلنڈر شروع ہوگیا تھا اور یہ اہم تاریخ بن گیا تھا۔ لوگ کہتے فلاں واقعہ ہاتھی والوں کے سال ہوا ، اور فلاں واقعہ عام الفیل سے دو سال پہلے ہوا۔ اور فلاں واقعہ عام الفیل کے دس سال بعدواقع ہوا۔ اور مشہور روایت یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی پیدائش بھی عام الفیل میں ہوئی اور یہ تقدیر کے فیصلوں کے مطابق عجیب اتفاق تھا۔ غرض اس سورت میں کوئی ایسا واقعہ بیان ہوا تھا جسے وہ نہ جانتے ہوں۔ یہ ایک واقعہ تھا جو ان کے علم میں تھا اور قرآن نے ان کو یاددلایا۔ اور مقصد اگلی جانب کی طرف متوجہ کرنا تھا۔

الفيل 105:2

اس کے بعد کا فقرہ بھی سوالیہ ہے لیکن استفہام تقریری ہے ، یعنی ایسا سوال جس کا جواب اثبات میں ہوتا ہے۔ الم یجعل ........................ تضلیل (2:105) ” کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا “۔ یعنی ان کے مکرو تدبیر کو اس طرح بےراہ نہیں کردیا کہ وہ نشانے پر نہ لگے اور اپنی منزل تک نہ پہنچے۔ اسی طرح جس طرح ایک انسان راہ گم کردے اور منزل مقصود تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ قریش کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان افعام و احسان کیا۔ ان کی حمایت کی اور اس گھر کو بچایا اور اس وقت بچایا جب وہ خود ابرہہ کے لشکر جرار کا سامنا کرنے سے قاصر تھے۔ شاید کہ وہ شرم کریں اور اس ذات باری کا انکار نہ کریں۔ جس نے ان کی مدد نہایت کمزوری اور عاجزی کی حالت میں کی تھی۔ ان کا کردار اس وقت بعینہ اسی طرح کا ہے جس طرح ابرہہ کا تھا۔ وہ مکہ کے مٹھی بھر مسلمان کو اپنے غرور اور قوت کے بل بوتے پر روندڈالنا چاہتے تھے۔ ان کو چاہئے کہ ذرا اس زور آور کا حال یاد کرلیں جس نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تھی اور اس کی حرمت کو پامال کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ اللہ یہ طاقت رکھتا ہے کہ جس طرح اس نے بیت اللہ کو بچایا ، اسی طرح اس کی دعوت کو لے کر چلنے والی حزب اللہ کو بھی بچائے۔ سوال یہ ہے کہ اللہ نے پھر ان کی مکاری کو کس طرح گمراہ اور خطا کردیا ، تو اس کی تصویر کشی بھی قرآن کریم نہایت خوبصورت انداز میں کرتا ہے۔

الفيل 105:3

وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات نے چپا کر ریزہ ریزہ کردیا اور پیس دیا۔ یہ ایک حسی تصویر کشی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے جھنڈ ان پر پتھر مارتے تھے تو ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوجاتے تھے۔ لہٰذا ایسی تاویلات کی ضرورت نہیں ہے کہ چیچک یا خسرے کی وجہ سے ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوگئے۔ اس واقعہ میں جو حقائق بیان ہوئے وہ کئی زاویوں سے ہمارے لئے عبرت انگیز اور بصیرت افروز ہیں : اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ وہ اپنے گھر کی حمایت اور اس کا بچاﺅ مشرکین کے ذریعہ انجام دے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو اس گھر کی طرف منسوب کرتے تھے ، وہ اسے بچانے کی کوشش بھی کرتے اور اس میں پناہ بھی لیتے۔ جب اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ اس گھر کو بچائے اور اس کی حفاظت کرے اور سا کی حمایت کا اعلان کرے اور اس گھر پر غیرت کرے ، تو اللہ نے مشرکین مکہ کی حالت اس طرح کردی کہ وہ اس جارح قوت کے سامنے بےبس ہوجائیں اور قدرت الٰہیہ بالکل عیاں ہو کر اپنے گھر کی حفاظت کرے جو ایک محترم گھر ہے تاکہ بیت اللہ کی حفاظت میں مشرکین کا کوئی تاریخی کردار نہ ہو ، جس کے تحت حمیت جاہلیت کا کذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہ نکتہ اس بات کو بھی ترجیح دے دیتا ہے کہ اس حملہ آور لشکر کی ہلاکت میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی اور معجزانہ انداز اختیار کیا۔ اور ان کی ہلاکت میں کوئی عام مالوف طریقہ اختیار نہ کیا گیا تھا۔ یہ بات زیادہ مناسب اور قرین قیاس ہے۔ خانہ کعبہ کی حمایت میں اس کھلی مداخلت کا تقاضا یہ تھا کہ قریش اور بیت اللہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عرب نبی ﷺ کی بعثت کے بعد خود اسلام میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کی خدمت اور فوقیت پر فخر نہ کرتے اور بیت اللہ کے ارد گرد انہوں نے بت پرستی کا جو جال پھیلا رکھا تھا وہ ان کے اسلام میں داخل ہونے کے لئے مانع نہ ہوتا مگر افسوس کہ انہوں نے اسالم قبول نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اس حادثہ کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اہل قریش کو شرمندہ کیا جائے اور یہ گویا ان پر تنقید ہے اور ان کے معاندانہ موقف پر تعجب کا اظہار ہے کہ کیوں نہ انہوں نے اس واقعہ سے کوئی عبرت لی۔ اس سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے اہل کتاب ، ابرہہ اور اس کے لشکر کو توفیق نہ دی کہ وہ اس گھر کو گراسکیں اور اس مقدس سرزمین پر اپنی حکومت قائم کرسکیں۔ اگرچہ اسگھر کے متوالی بھی مشرک ہوں ، تاکہ یہ گھر کسی بھی استعماری قوت کے تسلط سے آزاد رہے۔ اس علاقے میں کوئی بیرونی سازش کارفرمانہ ہو۔ اور اس سرزمین کی آزادی محفوظ ہوتا کہ اللہ کی تقدیر میں یہاں سے جو جدید دین اور جدید نظریہ اٹھنے والا تھا وہ آزادی کی فضا میں نمودار ہو۔ اس پر کسی حکومتی اقتدار کا دباﺅ نہ ہو۔ اور کوئی بیرونی ڈکٹیٹر یہاں سرکشی نہ کرسکے اور کوئی دین اس دین سے برتر نہ ہو جو تمام ادیان کو اپنی گرفت میں لینے والا تھا اور جو پوری انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ اپنے ہاتھ میں لینے والا تھا ، کسی سے رہنمائی لینے والا نہ تھا۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر نبی آخر الزمان اور آپ کے دین کے لئے۔ یہ بات اس وقت ہورہی تھی ، جب کہ لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ اس نئے دین کا قائد اسی سال پیدا ہوگیا ہے۔ آج عالمی صلبیت اور عالمی صیہونیت مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو نہایت فاجرانہ اور لالچی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کے ان مکارانہ منصوبوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ، لیکن اس سورت سے ہمیں جو اشارات ملتے ہیں ان سے ہمیں ایک گونہ اطمینان نصیب ہوجاتا ہے کہ اسلام کے مقامات مقدسہ کے خلاف ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جس اللہ نے اپنے گھر کو اہل کتاب سے اس وقت بھی بچایا جب اس کے متولی اور مجاور مشرک تھے تو وہ اس کی حفاظت آج بھی کرے گا۔ اسی طرح اللہ اپنے نبی کے شہر کو بھی ان سازشوں اور للچائی ہوئی مکارانہ نظروں سے بچائے گا۔ تیسری بات یہ کہ اس کرہ ارض پر ماضی میں عربوں کا کوئی قابل ذکر کردار نہ تھا بلکہ اسلام سے قبل ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یمن میں وہ اہل فارس اور حبشیوں کے غلام تھے۔ اگر کہیں جنوبی عرب میں ان کی کوئی حکومت قائم بھی ہوئی تو وہ ایرانیوں کے زیر انتداب تھی۔ شمال میں شام کا علاقہ رومی مملکت کے تحت تھا۔ یہ علاقہ یا تو براہ راست رومی سلطنت کے تحت ہوتا یا وہ یہاں اپنے زیر حمایت کوئی عربی سلطنت قائم کرتے۔ صرف جزیرة العرب کا قلب ہی ایسا علاقہ تھا جو کسی غیر حکومت کے اثرورسوخ سے پاک تھا لیکن اس علاقے کا کوئی عالمی کردار نہ تھا۔ یہ ایک پسماندہ بدوی علاقہ تھا۔ اس علاقے میں جب قبائلی جنگ چھڑ جاتی تو یہ چالیس چالیس سال تک جاری رہتی۔ اس انتشار کی وجہ سے ان علاقوں کے باشندوں کی کوئی وقعت قریب ممالک کے ہاں نہ تھی۔ ان کی جو جنگی حیثیت تھی اس کا اظہار ہاتھ والوں کی مہم کے دوران ہوگیا تھا کہ وہ کسی بیرونی حملہ آور کے مقابلے کی ہمیت نہ رکھتے تھے۔ عربوں کا عالمی کردار ادا کرنے کا موقعہ ، سب سے پہلے اسلام کے جھنڈے تلے نصیب ہوا۔ ان کی ایک ایسی عالمی مملکت وجود میں آئی جس کی کوئی حیثیت تھی اور لوگ اس کا شمار بھی کرتے تھے۔ یہ دراصل سیلاب کی طرح ایک عالمی انقلاب تھا۔ اس انقلاب میں کئی مملکتیں بہہ گئیں ، کئی تخت گر گئے اور انسانیت کی قیادت کا مقام عربوں کو حاصل ہوگیا ۔ یہ اس وقت ہوا جب اس کرہ ارض پر سے گمراہ اور کھوٹی قیادتوں کے اختیارات زائل کردیئے گئے۔ سول یہ ہے کہ عربوں کو یہ مقام کب اور کیوں حاصل ہوا ؟ یہ مقام انہیں اس وقت حاصل ہوا جب انہوں نے اس بات کو بھلا دیا کہ وہ عرب ہیں۔ انہوں نے علاقائی ، نسل اور لسانی عصبیت کے نعروں کو بھلا دیا۔ انہوں نے صرف اس بات کو یاد رکھا کہ وہ مسلم ہیں اور صرف مسلم ہیں۔ انہوں نے صرف اسلام کے جھنڈے بلند کیے اور وہ ایک عظیم نظریہ حیات لے کر اٹھے اور اسے تمام انسانوں تک پہنچا دیا۔ وہ انسانیت کے لئے رحم اور اس کے لئے بھلائی کے حامل بن گئے۔ انہوں نے نہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ، نہ نسلی عصبیت کا ، بلکہ وہ ایک آسمانی ہدایت پر مبنی فکر لے کر اٹھے اور اسے ایک آسمانی ہدایت کے طور پر لوگوں تک پہنچایا۔ انہوں نے دین اسلام کو ایک دنیاوی مذہب اور دنیاوی نظریہ کے طور پر نہ لیا جس سے ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ کوئی عربی امپیریلزم قائم کردیں ، تاکہ اس کے زیر سایہ اس زمین پر خوب پھریں اور چگیں۔ ان کی ناک اونچی ہو ، اور وہ دنیا میں اس شہنشاہیت کی وجہ سے بڑے بن جائیں اور لوگوں کو رومیوں اور فارسیوں کی حکومت سے نکال کر عربوں کی حکومت میں داخل کردیں بلکہ وہ اس لئے اٹھے تھے کہ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کریں۔ جیسا کہ یزدگرد کی مجلس میں مسلمانوں کے نمائندے حضرت ربعی ابن عامر نے کہا۔” اللہ نے ہمیں اس لئے اٹھیا ہے کہ ہم لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں۔ اور دنیا کی تنگ دامنی سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں داخل کردیں اور عوام کو دوسرے ادیان کے ظلم سے نکال کر اسلام کے انصاف میں داخل کریں “۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں عربوں کا وجود قائم ہوا ، ان کو قوت ملی ، ان کی قیادت قائم ہوئی ، لیکن یہ دعوت اللہ کے لئے تھی اور یہ جہاد اللہ کی راہ میں تھا۔ یہ قوت ایک عرصہ تک قائم رہی ، ایک زمانہ تک وہ انسانیت کے قائد رہے ، جب تک کہ وہ اپنے طریقے پر قائم رہے۔ جب انہوں نے اسلامی نظریہ حیات سے انحراف کیا اور وہ قومی عصبیت کے داعی بنے اور انہوں نے اللہ کے جھنڈے بلند کرنے کی بجائے عصبیت کے جھنڈے اٹھا لئے ، تو زمین نے ان کو پرے پھینک دیا ، اقوام عالم نے انہیں روند ڈالا کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ نے ان کو چھوڑ دیا اور جس طرح انہوں نے اللہ کو بھلا دیا اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے سوا عربوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ اگر وہ اسلامی عقیدہ ، اسلامی تصورات اور افکار کو ایک طرف رکھ دیں تو ان کے پاس کیا چیز ہے جو وہ انسانیت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ؟ اور اگر کسی قوم کے پاس انسانوں کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے تو وہ قوم ہی کیا ہے ؟ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جن اقوام نے کبھی انسانیت کی قیادت کی ، ان کے پاس ایک فکر تھی ، ایک پیغام تھا جو انہوں نے انسانیت کو دیا۔ جن اقوام کے پاس کوئی پیغام نہ تھا مثلاً تاتاری ، جنہوں نے پورے مشرق کو روندڈالا اور برابر جنہوں نے عالم عرب پر سے رومیوں کی سلطنت کو ختم کیا۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک زندہ نہ رہ سکے ، بلکہ یہ ان اقوام ہی کے اندر پگھل گئے جن کو انہوں نے فتح کیا تھا۔ یاد رہے کہ عربوں نے انسانیت کو جس نظریہ سے نوازا وہ فقط اسلامی نظریہ حیات تھا۔ اس نظریہ کی وجہ سے وہ عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ جب انہوں نے اس نظریہ کو پس پشت ڈال دیا تو اس کرہ ارض پر ان کا کوئی کام ہی نہ رہا۔ تاریخ سے ان کا کردار ختم ہوگیا۔ آج عرب اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس سبق کو یاد رکھیں۔ اگر وہ قوت اور قیادت چاہتے ہیں ورنہ ان کی کوئی حیثیت قائم نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہی ہے جو گمراہوں کو ہدایت دے سکتا ہے۔

الفيل 105:4

وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات نے چپا کر ریزہ ریزہ کردیا اور پیس دیا۔ یہ ایک حسی تصویر کشی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے جھنڈ ان پر پتھر مارتے تھے تو ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوجاتے تھے۔ لہٰذا ایسی تاویلات کی ضرورت نہیں ہے کہ چیچک یا خسرے کی وجہ سے ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوگئے۔ اس واقعہ میں جو حقائق بیان ہوئے وہ کئی زاویوں سے ہمارے لئے عبرت انگیز اور بصیرت افروز ہیں : اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ وہ اپنے گھر کی حمایت اور اس کا بچاﺅ مشرکین کے ذریعہ انجام دے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو اس گھر کی طرف منسوب کرتے تھے ، وہ اسے بچانے کی کوشش بھی کرتے اور اس میں پناہ بھی لیتے۔ جب اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ اس گھر کو بچائے اور اس کی حفاظت کرے اور سا کی حمایت کا اعلان کرے اور اس گھر پر غیرت کرے ، تو اللہ نے مشرکین مکہ کی حالت اس طرح کردی کہ وہ اس جارح قوت کے سامنے بےبس ہوجائیں اور قدرت الٰہیہ بالکل عیاں ہو کر اپنے گھر کی حفاظت کرے جو ایک محترم گھر ہے تاکہ بیت اللہ کی حفاظت میں مشرکین کا کوئی تاریخی کردار نہ ہو ، جس کے تحت حمیت جاہلیت کا کذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہ نکتہ اس بات کو بھی ترجیح دے دیتا ہے کہ اس حملہ آور لشکر کی ہلاکت میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی اور معجزانہ انداز اختیار کیا۔ اور ان کی ہلاکت میں کوئی عام مالوف طریقہ اختیار نہ کیا گیا تھا۔ یہ بات زیادہ مناسب اور قرین قیاس ہے۔ خانہ کعبہ کی حمایت میں اس کھلی مداخلت کا تقاضا یہ تھا کہ قریش اور بیت اللہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عرب نبی ﷺ کی بعثت کے بعد خود اسلام میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کی خدمت اور فوقیت پر فخر نہ کرتے اور بیت اللہ کے ارد گرد انہوں نے بت پرستی کا جو جال پھیلا رکھا تھا وہ ان کے اسلام میں داخل ہونے کے لئے مانع نہ ہوتا مگر افسوس کہ انہوں نے اسالم قبول نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اس حادثہ کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اہل قریش کو شرمندہ کیا جائے اور یہ گویا ان پر تنقید ہے اور ان کے معاندانہ موقف پر تعجب کا اظہار ہے کہ کیوں نہ انہوں نے اس واقعہ سے کوئی عبرت لی۔ اس سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے اہل کتاب ، ابرہہ اور اس کے لشکر کو توفیق نہ دی کہ وہ اس گھر کو گراسکیں اور اس مقدس سرزمین پر اپنی حکومت قائم کرسکیں۔ اگرچہ اسگھر کے متوالی بھی مشرک ہوں ، تاکہ یہ گھر کسی بھی استعماری قوت کے تسلط سے آزاد رہے۔ اس علاقے میں کوئی بیرونی سازش کارفرمانہ ہو۔ اور اس سرزمین کی آزادی محفوظ ہوتا کہ اللہ کی تقدیر میں یہاں سے جو جدید دین اور جدید نظریہ اٹھنے والا تھا وہ آزادی کی فضا میں نمودار ہو۔ اس پر کسی حکومتی اقتدار کا دباﺅ نہ ہو۔ اور کوئی بیرونی ڈکٹیٹر یہاں سرکشی نہ کرسکے اور کوئی دین اس دین سے برتر نہ ہو جو تمام ادیان کو اپنی گرفت میں لینے والا تھا اور جو پوری انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ اپنے ہاتھ میں لینے والا تھا ، کسی سے رہنمائی لینے والا نہ تھا۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر نبی آخر الزمان اور آپ کے دین کے لئے۔ یہ بات اس وقت ہورہی تھی ، جب کہ لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ اس نئے دین کا قائد اسی سال پیدا ہوگیا ہے۔ آج عالمی صلبیت اور عالمی صیہونیت مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو نہایت فاجرانہ اور لالچی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کے ان مکارانہ منصوبوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ، لیکن اس سورت سے ہمیں جو اشارات ملتے ہیں ان سے ہمیں ایک گونہ اطمینان نصیب ہوجاتا ہے کہ اسلام کے مقامات مقدسہ کے خلاف ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جس اللہ نے اپنے گھر کو اہل کتاب سے اس وقت بھی بچایا جب اس کے متولی اور مجاور مشرک تھے تو وہ اس کی حفاظت آج بھی کرے گا۔ اسی طرح اللہ اپنے نبی کے شہر کو بھی ان سازشوں اور للچائی ہوئی مکارانہ نظروں سے بچائے گا۔ تیسری بات یہ کہ اس کرہ ارض پر ماضی میں عربوں کا کوئی قابل ذکر کردار نہ تھا بلکہ اسلام سے قبل ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یمن میں وہ اہل فارس اور حبشیوں کے غلام تھے۔ اگر کہیں جنوبی عرب میں ان کی کوئی حکومت قائم بھی ہوئی تو وہ ایرانیوں کے زیر انتداب تھی۔ شمال میں شام کا علاقہ رومی مملکت کے تحت تھا۔ یہ علاقہ یا تو براہ راست رومی سلطنت کے تحت ہوتا یا وہ یہاں اپنے زیر حمایت کوئی عربی سلطنت قائم کرتے۔ صرف جزیرة العرب کا قلب ہی ایسا علاقہ تھا جو کسی غیر حکومت کے اثرورسوخ سے پاک تھا لیکن اس علاقے کا کوئی عالمی کردار نہ تھا۔ یہ ایک پسماندہ بدوی علاقہ تھا۔ اس علاقے میں جب قبائلی جنگ چھڑ جاتی تو یہ چالیس چالیس سال تک جاری رہتی۔ اس انتشار کی وجہ سے ان علاقوں کے باشندوں کی کوئی وقعت قریب ممالک کے ہاں نہ تھی۔ ان کی جو جنگی حیثیت تھی اس کا اظہار ہاتھ والوں کی مہم کے دوران ہوگیا تھا کہ وہ کسی بیرونی حملہ آور کے مقابلے کی ہمیت نہ رکھتے تھے۔ عربوں کا عالمی کردار ادا کرنے کا موقعہ ، سب سے پہلے اسلام کے جھنڈے تلے نصیب ہوا۔ ان کی ایک ایسی عالمی مملکت وجود میں آئی جس کی کوئی حیثیت تھی اور لوگ اس کا شمار بھی کرتے تھے۔ یہ دراصل سیلاب کی طرح ایک عالمی انقلاب تھا۔ اس انقلاب میں کئی مملکتیں بہہ گئیں ، کئی تخت گر گئے اور انسانیت کی قیادت کا مقام عربوں کو حاصل ہوگیا ۔ یہ اس وقت ہوا جب اس کرہ ارض پر سے گمراہ اور کھوٹی قیادتوں کے اختیارات زائل کردیئے گئے۔ سول یہ ہے کہ عربوں کو یہ مقام کب اور کیوں حاصل ہوا ؟ یہ مقام انہیں اس وقت حاصل ہوا جب انہوں نے اس بات کو بھلا دیا کہ وہ عرب ہیں۔ انہوں نے علاقائی ، نسل اور لسانی عصبیت کے نعروں کو بھلا دیا۔ انہوں نے صرف اس بات کو یاد رکھا کہ وہ مسلم ہیں اور صرف مسلم ہیں۔ انہوں نے صرف اسلام کے جھنڈے بلند کیے اور وہ ایک عظیم نظریہ حیات لے کر اٹھے اور اسے تمام انسانوں تک پہنچا دیا۔ وہ انسانیت کے لئے رحم اور اس کے لئے بھلائی کے حامل بن گئے۔ انہوں نے نہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ، نہ نسلی عصبیت کا ، بلکہ وہ ایک آسمانی ہدایت پر مبنی فکر لے کر اٹھے اور اسے ایک آسمانی ہدایت کے طور پر لوگوں تک پہنچایا۔ انہوں نے دین اسلام کو ایک دنیاوی مذہب اور دنیاوی نظریہ کے طور پر نہ لیا جس سے ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ کوئی عربی امپیریلزم قائم کردیں ، تاکہ اس کے زیر سایہ اس زمین پر خوب پھریں اور چگیں۔ ان کی ناک اونچی ہو ، اور وہ دنیا میں اس شہنشاہیت کی وجہ سے بڑے بن جائیں اور لوگوں کو رومیوں اور فارسیوں کی حکومت سے نکال کر عربوں کی حکومت میں داخل کردیں بلکہ وہ اس لئے اٹھے تھے کہ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کریں۔ جیسا کہ یزدگرد کی مجلس میں مسلمانوں کے نمائندے حضرت ربعی ابن عامر نے کہا۔” اللہ نے ہمیں اس لئے اٹھیا ہے کہ ہم لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں۔ اور دنیا کی تنگ دامنی سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں داخل کردیں اور عوام کو دوسرے ادیان کے ظلم سے نکال کر اسلام کے انصاف میں داخل کریں “۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں عربوں کا وجود قائم ہوا ، ان کو قوت ملی ، ان کی قیادت قائم ہوئی ، لیکن یہ دعوت اللہ کے لئے تھی اور یہ جہاد اللہ کی راہ میں تھا۔ یہ قوت ایک عرصہ تک قائم رہی ، ایک زمانہ تک وہ انسانیت کے قائد رہے ، جب تک کہ وہ اپنے طریقے پر قائم رہے۔ جب انہوں نے اسلامی نظریہ حیات سے انحراف کیا اور وہ قومی عصبیت کے داعی بنے اور انہوں نے اللہ کے جھنڈے بلند کرنے کی بجائے عصبیت کے جھنڈے اٹھا لئے ، تو زمین نے ان کو پرے پھینک دیا ، اقوام عالم نے انہیں روند ڈالا کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ نے ان کو چھوڑ دیا اور جس طرح انہوں نے اللہ کو بھلا دیا اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے سوا عربوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ اگر وہ اسلامی عقیدہ ، اسلامی تصورات اور افکار کو ایک طرف رکھ دیں تو ان کے پاس کیا چیز ہے جو وہ انسانیت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ؟ اور اگر کسی قوم کے پاس انسانوں کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے تو وہ قوم ہی کیا ہے ؟ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جن اقوام نے کبھی انسانیت کی قیادت کی ، ان کے پاس ایک فکر تھی ، ایک پیغام تھا جو انہوں نے انسانیت کو دیا۔ جن اقوام کے پاس کوئی پیغام نہ تھا مثلاً تاتاری ، جنہوں نے پورے مشرق کو روندڈالا اور برابر جنہوں نے عالم عرب پر سے رومیوں کی سلطنت کو ختم کیا۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک زندہ نہ رہ سکے ، بلکہ یہ ان اقوام ہی کے اندر پگھل گئے جن کو انہوں نے فتح کیا تھا۔ یاد رہے کہ عربوں نے انسانیت کو جس نظریہ سے نوازا وہ فقط اسلامی نظریہ حیات تھا۔ اس نظریہ کی وجہ سے وہ عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ جب انہوں نے اس نظریہ کو پس پشت ڈال دیا تو اس کرہ ارض پر ان کا کوئی کام ہی نہ رہا۔ تاریخ سے ان کا کردار ختم ہوگیا۔ آج عرب اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس سبق کو یاد رکھیں۔ اگر وہ قوت اور قیادت چاہتے ہیں ورنہ ان کی کوئی حیثیت قائم نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہی ہے جو گمراہوں کو ہدایت دے سکتا ہے۔

الفيل 105:5

وارسل ................................ کعصف ماکول (3:105 تا 5) ” اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے ، پھر ان کا یہ حال کردی جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا “۔ ابابیل (3:105) کے معنی جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ سجیل (4:105) فارسی سے معرب ہے اور دولفظوں سے مرکب ہے ” سنگ گل “ یعنی مٹی کو پکاکر اس سے پتھر بنادیا گیا تھا ، یا ایسے پتھر تھے جو کیچڑ کے ساتھ آلودہ تھے۔ کعصف (5:105) کے معنی ہیں درختوں کے خشک پتے ۔ عصف کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ماکول ہے۔ یعنی کھایا ہوا ہے یعنی پتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو حشرات الارض نے کھا کر پیس دیا ہے ، یا حیوانات نے چپا کر ریزہ ریزہ کردیا اور پیس دیا۔ یہ ایک حسی تصویر کشی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے جھنڈ ان پر پتھر مارتے تھے تو ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوجاتے تھے۔ لہٰذا ایسی تاویلات کی ضرورت نہیں ہے کہ چیچک یا خسرے کی وجہ سے ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہوگئے۔ اس واقعہ میں جو حقائق بیان ہوئے وہ کئی زاویوں سے ہمارے لئے عبرت انگیز اور بصیرت افروز ہیں : اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ وہ اپنے گھر کی حمایت اور اس کا بچاﺅ مشرکین کے ذریعہ انجام دے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو اس گھر کی طرف منسوب کرتے تھے ، وہ اسے بچانے کی کوشش بھی کرتے اور اس میں پناہ بھی لیتے۔ جب اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ اس گھر کو بچائے اور اس کی حفاظت کرے اور سا کی حمایت کا اعلان کرے اور اس گھر پر غیرت کرے ، تو اللہ نے مشرکین مکہ کی حالت اس طرح کردی کہ وہ اس جارح قوت کے سامنے بےبس ہوجائیں اور قدرت الٰہیہ بالکل عیاں ہو کر اپنے گھر کی حفاظت کرے جو ایک محترم گھر ہے تاکہ بیت اللہ کی حفاظت میں مشرکین کا کوئی تاریخی کردار نہ ہو ، جس کے تحت حمیت جاہلیت کا کذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہ نکتہ اس بات کو بھی ترجیح دے دیتا ہے کہ اس حملہ آور لشکر کی ہلاکت میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی اور معجزانہ انداز اختیار کیا۔ اور ان کی ہلاکت میں کوئی عام مالوف طریقہ اختیار نہ کیا گیا تھا۔ یہ بات زیادہ مناسب اور قرین قیاس ہے۔ خانہ کعبہ کی حمایت میں اس کھلی مداخلت کا تقاضا یہ تھا کہ قریش اور بیت اللہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عرب نبی ﷺ کی بعثت کے بعد خود اسلام میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کی خدمت اور فوقیت پر فخر نہ کرتے اور بیت اللہ کے ارد گرد انہوں نے بت پرستی کا جو جال پھیلا رکھا تھا وہ ان کے اسلام میں داخل ہونے کے لئے مانع نہ ہوتا مگر افسوس کہ انہوں نے اسالم قبول نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اس حادثہ کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اہل قریش کو شرمندہ کیا جائے اور یہ گویا ان پر تنقید ہے اور ان کے معاندانہ موقف پر تعجب کا اظہار ہے کہ کیوں نہ انہوں نے اس واقعہ سے کوئی عبرت لی۔ اس سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے اہل کتاب ، ابرہہ اور اس کے لشکر کو توفیق نہ دی کہ وہ اس گھر کو گراسکیں اور اس مقدس سرزمین پر اپنی حکومت قائم کرسکیں۔ اگرچہ اسگھر کے متوالی بھی مشرک ہوں ، تاکہ یہ گھر کسی بھی استعماری قوت کے تسلط سے آزاد رہے۔ اس علاقے میں کوئی بیرونی سازش کارفرمانہ ہو۔ اور اس سرزمین کی آزادی محفوظ ہوتا کہ اللہ کی تقدیر میں یہاں سے جو جدید دین اور جدید نظریہ اٹھنے والا تھا وہ آزادی کی فضا میں نمودار ہو۔ اس پر کسی حکومتی اقتدار کا دباﺅ نہ ہو۔ اور کوئی بیرونی ڈکٹیٹر یہاں سرکشی نہ کرسکے اور کوئی دین اس دین سے برتر نہ ہو جو تمام ادیان کو اپنی گرفت میں لینے والا تھا اور جو پوری انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ اپنے ہاتھ میں لینے والا تھا ، کسی سے رہنمائی لینے والا نہ تھا۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر نبی آخر الزمان اور آپ کے دین کے لئے۔ یہ بات اس وقت ہورہی تھی ، جب کہ لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ اس نئے دین کا قائد اسی سال پیدا ہوگیا ہے۔ آج عالمی صلبیت اور عالمی صیہونیت مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو نہایت فاجرانہ اور لالچی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کے ان مکارانہ منصوبوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ، لیکن اس سورت سے ہمیں جو اشارات ملتے ہیں ان سے ہمیں ایک گونہ اطمینان نصیب ہوجاتا ہے کہ اسلام کے مقامات مقدسہ کے خلاف ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جس اللہ نے اپنے گھر کو اہل کتاب سے اس وقت بھی بچایا جب اس کے متولی اور مجاور مشرک تھے تو وہ اس کی حفاظت آج بھی کرے گا۔ اسی طرح اللہ اپنے نبی کے شہر کو بھی ان سازشوں اور للچائی ہوئی مکارانہ نظروں سے بچائے گا۔ تیسری بات یہ کہ اس کرہ ارض پر ماضی میں عربوں کا کوئی قابل ذکر کردار نہ تھا بلکہ اسلام سے قبل ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یمن میں وہ اہل فارس اور حبشیوں کے غلام تھے۔ اگر کہیں جنوبی عرب میں ان کی کوئی حکومت قائم بھی ہوئی تو وہ ایرانیوں کے زیر انتداب تھی۔ شمال میں شام کا علاقہ رومی مملکت کے تحت تھا۔ یہ علاقہ یا تو براہ راست رومی سلطنت کے تحت ہوتا یا وہ یہاں اپنے زیر حمایت کوئی عربی سلطنت قائم کرتے۔ صرف جزیرة العرب کا قلب ہی ایسا علاقہ تھا جو کسی غیر حکومت کے اثرورسوخ سے پاک تھا لیکن اس علاقے کا کوئی عالمی کردار نہ تھا۔ یہ ایک پسماندہ بدوی علاقہ تھا۔ اس علاقے میں جب قبائلی جنگ چھڑ جاتی تو یہ چالیس چالیس سال تک جاری رہتی۔ اس انتشار کی وجہ سے ان علاقوں کے باشندوں کی کوئی وقعت قریب ممالک کے ہاں نہ تھی۔ ان کی جو جنگی حیثیت تھی اس کا اظہار ہاتھ والوں کی مہم کے دوران ہوگیا تھا کہ وہ کسی بیرونی حملہ آور کے مقابلے کی ہمیت نہ رکھتے تھے۔ عربوں کا عالمی کردار ادا کرنے کا موقعہ ، سب سے پہلے اسلام کے جھنڈے تلے نصیب ہوا۔ ان کی ایک ایسی عالمی مملکت وجود میں آئی جس کی کوئی حیثیت تھی اور لوگ اس کا شمار بھی کرتے تھے۔ یہ دراصل سیلاب کی طرح ایک عالمی انقلاب تھا۔ اس انقلاب میں کئی مملکتیں بہہ گئیں ، کئی تخت گر گئے اور انسانیت کی قیادت کا مقام عربوں کو حاصل ہوگیا ۔ یہ اس وقت ہوا جب اس کرہ ارض پر سے گمراہ اور کھوٹی قیادتوں کے اختیارات زائل کردیئے گئے۔ سول یہ ہے کہ عربوں کو یہ مقام کب اور کیوں حاصل ہوا ؟ یہ مقام انہیں اس وقت حاصل ہوا جب انہوں نے اس بات کو بھلا دیا کہ وہ عرب ہیں۔ انہوں نے علاقائی ، نسل اور لسانی عصبیت کے نعروں کو بھلا دیا۔ انہوں نے صرف اس بات کو یاد رکھا کہ وہ مسلم ہیں اور صرف مسلم ہیں۔ انہوں نے صرف اسلام کے جھنڈے بلند کیے اور وہ ایک عظیم نظریہ حیات لے کر اٹھے اور اسے تمام انسانوں تک پہنچا دیا۔ وہ انسانیت کے لئے رحم اور اس کے لئے بھلائی کے حامل بن گئے۔ انہوں نے نہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ، نہ نسلی عصبیت کا ، بلکہ وہ ایک آسمانی ہدایت پر مبنی فکر لے کر اٹھے اور اسے ایک آسمانی ہدایت کے طور پر لوگوں تک پہنچایا۔ انہوں نے دین اسلام کو ایک دنیاوی مذہب اور دنیاوی نظریہ کے طور پر نہ لیا جس سے ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ کوئی عربی امپیریلزم قائم کردیں ، تاکہ اس کے زیر سایہ اس زمین پر خوب پھریں اور چگیں۔ ان کی ناک اونچی ہو ، اور وہ دنیا میں اس شہنشاہیت کی وجہ سے بڑے بن جائیں اور لوگوں کو رومیوں اور فارسیوں کی حکومت سے نکال کر عربوں کی حکومت میں داخل کردیں بلکہ وہ اس لئے اٹھے تھے کہ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کریں۔ جیسا کہ یزدگرد کی مجلس میں مسلمانوں کے نمائندے حضرت ربعی ابن عامر نے کہا۔” اللہ نے ہمیں اس لئے اٹھیا ہے کہ ہم لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں۔ اور دنیا کی تنگ دامنی سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں داخل کردیں اور عوام کو دوسرے ادیان کے ظلم سے نکال کر اسلام کے انصاف میں داخل کریں “۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں عربوں کا وجود قائم ہوا ، ان کو قوت ملی ، ان کی قیادت قائم ہوئی ، لیکن یہ دعوت اللہ کے لئے تھی اور یہ جہاد اللہ کی راہ میں تھا۔ یہ قوت ایک عرصہ تک قائم رہی ، ایک زمانہ تک وہ انسانیت کے قائد رہے ، جب تک کہ وہ اپنے طریقے پر قائم رہے۔ جب انہوں نے اسلامی نظریہ حیات سے انحراف کیا اور وہ قومی عصبیت کے داعی بنے اور انہوں نے اللہ کے جھنڈے بلند کرنے کی بجائے عصبیت کے جھنڈے اٹھا لئے ، تو زمین نے ان کو پرے پھینک دیا ، اقوام عالم نے انہیں روند ڈالا کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ نے ان کو چھوڑ دیا اور جس طرح انہوں نے اللہ کو بھلا دیا اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے سوا عربوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ اگر وہ اسلامی عقیدہ ، اسلامی تصورات اور افکار کو ایک طرف رکھ دیں تو ان کے پاس کیا چیز ہے جو وہ انسانیت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ؟ اور اگر کسی قوم کے پاس انسانوں کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے تو وہ قوم ہی کیا ہے ؟ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جن اقوام نے کبھی انسانیت کی قیادت کی ، ان کے پاس ایک فکر تھی ، ایک پیغام تھا جو انہوں نے انسانیت کو دیا۔ جن اقوام کے پاس کوئی پیغام نہ تھا مثلاً تاتاری ، جنہوں نے پورے مشرق کو روندڈالا اور برابر جنہوں نے عالم عرب پر سے رومیوں کی سلطنت کو ختم کیا۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک زندہ نہ رہ سکے ، بلکہ یہ ان اقوام ہی کے اندر پگھل گئے جن کو انہوں نے فتح کیا تھا۔ یاد رہے کہ عربوں نے انسانیت کو جس نظریہ سے نوازا وہ فقط اسلامی نظریہ حیات تھا۔ اس نظریہ کی وجہ سے وہ عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ جب انہوں نے اس نظریہ کو پس پشت ڈال دیا تو اس کرہ ارض پر ان کا کوئی کام ہی نہ رہا۔ تاریخ سے ان کا کردار ختم ہوگیا۔ آج عرب اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس سبق کو یاد رکھیں۔ اگر وہ قوت اور قیادت چاہتے ہیں ورنہ ان کی کوئی حیثیت قائم نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہی ہے جو گمراہوں کو ہدایت دے سکتا ہے۔

قريش 106:1

رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔ پھر جب اصحاب الفیل نے اس گھر کو منہدم کرنے کا ارادہ کرلیا جس کی تفصیلات سورت الفیل میں گزر گئی ہیں ، اللہ نے اس گھر کے امن کی حفاظت فرمائی اور اس کے احترام کو بحال رکھا جبکہ اس کے ماحول میں لوگوں کی حالت یہ تھی۔ اولم یروا ............................ من حولھم (67:29) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک ایسا حرم بنایا ہے جو امن کی جگہ ہے ، جبکہ لوگوں کو اس کے گردوپیش سے اچک لیا جاتا ہے “۔ جب فیل کا واقعہ ہوا تو عربوں کے دلوں میں بیت اللہ کا احترام بڑھ گیا۔ اور اس بات کا پورے جزیرة العرب میں غلغلہ ہوگیا۔ اسی طرح اس واقعہ کی وجہ سے اہل مکہ اور بیت اللہ کے مجاوروں کا احترام بڑھ گیا اور اس وجہ سے وہ نہایت امن وامان کے ساتھ پورے عرب میں چلتے پھرتے۔ اور یہ جہاں بھی ٹھہرتے لوگ ان کی رعایت اور احترام کرتے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے قافلوں کے لئے دو عموی راستے بنالیے۔ یہ راستے مکہ سے شمال کی طرف شام تک جاتے اور مکہ سے جنوب کی طرف یمن تک جاتے ، اہل مکہ نے دو تجارتی سفر بھی منظم کرلیے۔ سردیوں کے موسم میں وہ یمن کے سفر پر جاتے اور گرمیوں کے موسم میں یہ شام کی طرف نکل جاتے۔ باوجود اس امر کے جزیرة العرب کے اطراف واکناف میں امن وامان کی حالت کچھ اچھی نہ تھی ، ڈاکے اور لوٹ مار ہر طرف عام تھے ، لیکن بیت اللہ کے احترام کی وجہ سے قریش کے یہ تجارتی سفر پر امن رہتے اور یہ قریش کی ایک ممتاز خصوصیت ہوگئی تھی۔ اور اس وجہ سے ان کے سامنے رزق کے وسیع ذرائع کھل گئے تھے۔ اور وہ نہایت اطمینان سے اور امن وسلامتی سے یہ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ چناچہ قریش ان مفید اور نفع بخش سفروں کے عادی ہوگئے تھے۔ اور وہ ان کے بغیر چین سے نہ بیٹھتے تھے۔ جس طرح بعثت نبوی کے بعد واقعہ فیل کو بطور احسان ان کے سامنے پیش کیا گیا ، اس طرح اس سورت میں بتایا گیا کہ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ تم سردیوں اور گرمیوں کے سفر کے عادی ہوگئے ہو ، اور ان سفروں سے تمہیں بہت تجارتی نفع ہوتا ہے۔ ان کا علاقہ بنجر اور خشک ہے اور وہ اس کے اندر نہایت ہی خوشگوار اور خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم ہی کی وجہ سے وہ خوف سے مامون ہیں۔ چاہے وہ بیت اللہ کے جوار میں اپنے گھروں میں ہوں یا وہ اپنے سفر میں ہوں ، اس گھر کے احترام کی وجہ سے وہ ہر قسم کی زیادتی اور ظلم سے محفوظ ہیں۔ اللہ اپنا یہ احسان کو یاددلاتا ہے کہ وہ حیا کریں اور اس گھر میں اللہ کے سوا ، اس کے اور شریکوں اور بتوں کی بندگی نہ کریں کیونکہ یہ گھر اس کا ہے ، وہی رب ہے اور اسی نے اس گھر کو امن دیا ہے جس کے اندر وہ مزے سے رہتے ہیں ، اس گھر کے نام سے ان کے سفر محفوظ ہیں اور سفروں سے یہ صحیح سالم گھروں کو لوٹتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قریش چونکہ گرمیوں اور سردیوں کے عادی ہوگئے ہیں تو انہیں چاہئے کہ صرف اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے ان سفروں کے دوران ان کے امن وامان کا بندوبست کیا اور انہیں اس سفر کا عادی بنایا جس کی وجہ سے انہیں مالی مفادات ملتے ہیں۔ فلیعبدو ........................ من جوع (4:106) ” لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا “۔ ان کی زمین کی پیداوار کی جو حیثیت ہے ، اس کے مطابق ان کی حالت تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ وہ بھوک سے مرتے ، لیکن اللہ نے ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست فراوانی سے کیا اور وہ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔ وامنھم من خوف (4:106) ” اور خوف سے بچا کر امن دیا “۔ ان کی جو جنگی قوت تھی ، ان کے ارد گرد جو سوسائٹی تھی ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت خائف رہتے لیکن اللہ نے ان کا یہ خوف امن سے بدل دیا۔ یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جس کی وجہ سے انسان کے اندر حیا پیدا ہوتی ہے ، وہ شرمندہ ہوتا ہے اور اپنے رویے پر نظرثانی کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ اس گھر کی اہمیت کیا ہے اور اس گھر کے احترام کی وجہ سے ان کی زندگی پر جو اثرات تھے وہ ان سے بھی بیخبر نہ تھے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ تھی کہ انتہائی شدید اور کربناک حالات میں وہ صرف اس گھر کے رب ہی کو پکارتے تھے۔ مثلاً دیکھئے کہ عبدالمطلب ابرہہ کا مقابلہ فوج سے نہیں کرتے اور نہ اس کی قوت کے مقابلے میں مادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ اس گھر کے رب سے خطاف کرتے ہیں ، جو اس کا حقیقی متولی اور حامی تھا۔ اس موقعہ پر عبدالمطلب نے نہ کسی بت کی طرف توجہ کی اور نہ کسی معبود کی طرف اور نہ انہوں نے ابرہہ سے کہا کہ اس گھرکے بہت سے الٰہ ہیں وہ اس کی حمایت کریں گے ۔ بلکہ انہوں نے یہ کہا ” میں تو اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا ایک مالک ہے ، وہ خود اس کی حفاظت کرے گا “۔ لیکن جاہلیت پر کبھی منطق اور حقیقت کا اثر نہیں ہوا کرتا اور نہ جاہلیت حق کو تسلیم کرتی ہے اور نہ وہ معقول بات کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ سورت ، اپنے موضوع اور فضا کے اعتبار سے سورت فیل کا تسلسل ہے۔ اگرچہ یہ مستقل سورت ہے اور دونوں کے درمیان مصاحف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم درج ہے۔ قرآن کی ترتیب نزولی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة الفیل اور سورة القریش کے درمیان 9 سورتیں نازل ہوئیں ، لیکن مصحف میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے پیوست کیا گیا ہے کہ اس میں موضوع ومضمون کی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

قريش 106:2

رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔ پھر جب اصحاب الفیل نے اس گھر کو منہدم کرنے کا ارادہ کرلیا جس کی تفصیلات سورت الفیل میں گزر گئی ہیں ، اللہ نے اس گھر کے امن کی حفاظت فرمائی اور اس کے احترام کو بحال رکھا جبکہ اس کے ماحول میں لوگوں کی حالت یہ تھی۔ اولم یروا ............................ من حولھم (67:29) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک ایسا حرم بنایا ہے جو امن کی جگہ ہے ، جبکہ لوگوں کو اس کے گردوپیش سے اچک لیا جاتا ہے “۔ جب فیل کا واقعہ ہوا تو عربوں کے دلوں میں بیت اللہ کا احترام بڑھ گیا۔ اور اس بات کا پورے جزیرة العرب میں غلغلہ ہوگیا۔ اسی طرح اس واقعہ کی وجہ سے اہل مکہ اور بیت اللہ کے مجاوروں کا احترام بڑھ گیا اور اس وجہ سے وہ نہایت امن وامان کے ساتھ پورے عرب میں چلتے پھرتے۔ اور یہ جہاں بھی ٹھہرتے لوگ ان کی رعایت اور احترام کرتے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے قافلوں کے لئے دو عموی راستے بنالیے۔ یہ راستے مکہ سے شمال کی طرف شام تک جاتے اور مکہ سے جنوب کی طرف یمن تک جاتے ، اہل مکہ نے دو تجارتی سفر بھی منظم کرلیے۔ سردیوں کے موسم میں وہ یمن کے سفر پر جاتے اور گرمیوں کے موسم میں یہ شام کی طرف نکل جاتے۔ باوجود اس امر کے جزیرة العرب کے اطراف واکناف میں امن وامان کی حالت کچھ اچھی نہ تھی ، ڈاکے اور لوٹ مار ہر طرف عام تھے ، لیکن بیت اللہ کے احترام کی وجہ سے قریش کے یہ تجارتی سفر پر امن رہتے اور یہ قریش کی ایک ممتاز خصوصیت ہوگئی تھی۔ اور اس وجہ سے ان کے سامنے رزق کے وسیع ذرائع کھل گئے تھے۔ اور وہ نہایت اطمینان سے اور امن وسلامتی سے یہ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ چناچہ قریش ان مفید اور نفع بخش سفروں کے عادی ہوگئے تھے۔ اور وہ ان کے بغیر چین سے نہ بیٹھتے تھے۔ جس طرح بعثت نبوی کے بعد واقعہ فیل کو بطور احسان ان کے سامنے پیش کیا گیا ، اس طرح اس سورت میں بتایا گیا کہ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ تم سردیوں اور گرمیوں کے سفر کے عادی ہوگئے ہو ، اور ان سفروں سے تمہیں بہت تجارتی نفع ہوتا ہے۔ ان کا علاقہ بنجر اور خشک ہے اور وہ اس کے اندر نہایت ہی خوشگوار اور خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم ہی کی وجہ سے وہ خوف سے مامون ہیں۔ چاہے وہ بیت اللہ کے جوار میں اپنے گھروں میں ہوں یا وہ اپنے سفر میں ہوں ، اس گھر کے احترام کی وجہ سے وہ ہر قسم کی زیادتی اور ظلم سے محفوظ ہیں۔ اللہ اپنا یہ احسان کو یاددلاتا ہے کہ وہ حیا کریں اور اس گھر میں اللہ کے سوا ، اس کے اور شریکوں اور بتوں کی بندگی نہ کریں کیونکہ یہ گھر اس کا ہے ، وہی رب ہے اور اسی نے اس گھر کو امن دیا ہے جس کے اندر وہ مزے سے رہتے ہیں ، اس گھر کے نام سے ان کے سفر محفوظ ہیں اور سفروں سے یہ صحیح سالم گھروں کو لوٹتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قریش چونکہ گرمیوں اور سردیوں کے عادی ہوگئے ہیں تو انہیں چاہئے کہ صرف اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے ان سفروں کے دوران ان کے امن وامان کا بندوبست کیا اور انہیں اس سفر کا عادی بنایا جس کی وجہ سے انہیں مالی مفادات ملتے ہیں۔ فلیعبدو ........................ من جوع (4:106) ” لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا “۔ ان کی زمین کی پیداوار کی جو حیثیت ہے ، اس کے مطابق ان کی حالت تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ وہ بھوک سے مرتے ، لیکن اللہ نے ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست فراوانی سے کیا اور وہ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔ وامنھم من خوف (4:106) ” اور خوف سے بچا کر امن دیا “۔ ان کی جو جنگی قوت تھی ، ان کے ارد گرد جو سوسائٹی تھی ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت خائف رہتے لیکن اللہ نے ان کا یہ خوف امن سے بدل دیا۔ یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جس کی وجہ سے انسان کے اندر حیا پیدا ہوتی ہے ، وہ شرمندہ ہوتا ہے اور اپنے رویے پر نظرثانی کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ اس گھر کی اہمیت کیا ہے اور اس گھر کے احترام کی وجہ سے ان کی زندگی پر جو اثرات تھے وہ ان سے بھی بیخبر نہ تھے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ تھی کہ انتہائی شدید اور کربناک حالات میں وہ صرف اس گھر کے رب ہی کو پکارتے تھے۔ مثلاً دیکھئے کہ عبدالمطلب ابرہہ کا مقابلہ فوج سے نہیں کرتے اور نہ اس کی قوت کے مقابلے میں مادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ اس گھر کے رب سے خطاف کرتے ہیں ، جو اس کا حقیقی متولی اور حامی تھا۔ اس موقعہ پر عبدالمطلب نے نہ کسی بت کی طرف توجہ کی اور نہ کسی معبود کی طرف اور نہ انہوں نے ابرہہ سے کہا کہ اس گھرکے بہت سے الٰہ ہیں وہ اس کی حمایت کریں گے ۔ بلکہ انہوں نے یہ کہا ” میں تو اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا ایک مالک ہے ، وہ خود اس کی حفاظت کرے گا “۔ لیکن جاہلیت پر کبھی منطق اور حقیقت کا اثر نہیں ہوا کرتا اور نہ جاہلیت حق کو تسلیم کرتی ہے اور نہ وہ معقول بات کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ سورت ، اپنے موضوع اور فضا کے اعتبار سے سورت فیل کا تسلسل ہے۔ اگرچہ یہ مستقل سورت ہے اور دونوں کے درمیان مصاحف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم درج ہے۔ قرآن کی ترتیب نزولی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة الفیل اور سورة القریش کے درمیان 9 سورتیں نازل ہوئیں ، لیکن مصحف میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے پیوست کیا گیا ہے کہ اس میں موضوع ومضمون کی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

قريش 106:3

رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔ پھر جب اصحاب الفیل نے اس گھر کو منہدم کرنے کا ارادہ کرلیا جس کی تفصیلات سورت الفیل میں گزر گئی ہیں ، اللہ نے اس گھر کے امن کی حفاظت فرمائی اور اس کے احترام کو بحال رکھا جبکہ اس کے ماحول میں لوگوں کی حالت یہ تھی۔ اولم یروا ............................ من حولھم (67:29) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک ایسا حرم بنایا ہے جو امن کی جگہ ہے ، جبکہ لوگوں کو اس کے گردوپیش سے اچک لیا جاتا ہے “۔ جب فیل کا واقعہ ہوا تو عربوں کے دلوں میں بیت اللہ کا احترام بڑھ گیا۔ اور اس بات کا پورے جزیرة العرب میں غلغلہ ہوگیا۔ اسی طرح اس واقعہ کی وجہ سے اہل مکہ اور بیت اللہ کے مجاوروں کا احترام بڑھ گیا اور اس وجہ سے وہ نہایت امن وامان کے ساتھ پورے عرب میں چلتے پھرتے۔ اور یہ جہاں بھی ٹھہرتے لوگ ان کی رعایت اور احترام کرتے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے قافلوں کے لئے دو عموی راستے بنالیے۔ یہ راستے مکہ سے شمال کی طرف شام تک جاتے اور مکہ سے جنوب کی طرف یمن تک جاتے ، اہل مکہ نے دو تجارتی سفر بھی منظم کرلیے۔ سردیوں کے موسم میں وہ یمن کے سفر پر جاتے اور گرمیوں کے موسم میں یہ شام کی طرف نکل جاتے۔ باوجود اس امر کے جزیرة العرب کے اطراف واکناف میں امن وامان کی حالت کچھ اچھی نہ تھی ، ڈاکے اور لوٹ مار ہر طرف عام تھے ، لیکن بیت اللہ کے احترام کی وجہ سے قریش کے یہ تجارتی سفر پر امن رہتے اور یہ قریش کی ایک ممتاز خصوصیت ہوگئی تھی۔ اور اس وجہ سے ان کے سامنے رزق کے وسیع ذرائع کھل گئے تھے۔ اور وہ نہایت اطمینان سے اور امن وسلامتی سے یہ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ چناچہ قریش ان مفید اور نفع بخش سفروں کے عادی ہوگئے تھے۔ اور وہ ان کے بغیر چین سے نہ بیٹھتے تھے۔ جس طرح بعثت نبوی کے بعد واقعہ فیل کو بطور احسان ان کے سامنے پیش کیا گیا ، اس طرح اس سورت میں بتایا گیا کہ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ تم سردیوں اور گرمیوں کے سفر کے عادی ہوگئے ہو ، اور ان سفروں سے تمہیں بہت تجارتی نفع ہوتا ہے۔ ان کا علاقہ بنجر اور خشک ہے اور وہ اس کے اندر نہایت ہی خوشگوار اور خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم ہی کی وجہ سے وہ خوف سے مامون ہیں۔ چاہے وہ بیت اللہ کے جوار میں اپنے گھروں میں ہوں یا وہ اپنے سفر میں ہوں ، اس گھر کے احترام کی وجہ سے وہ ہر قسم کی زیادتی اور ظلم سے محفوظ ہیں۔ اللہ اپنا یہ احسان کو یاددلاتا ہے کہ وہ حیا کریں اور اس گھر میں اللہ کے سوا ، اس کے اور شریکوں اور بتوں کی بندگی نہ کریں کیونکہ یہ گھر اس کا ہے ، وہی رب ہے اور اسی نے اس گھر کو امن دیا ہے جس کے اندر وہ مزے سے رہتے ہیں ، اس گھر کے نام سے ان کے سفر محفوظ ہیں اور سفروں سے یہ صحیح سالم گھروں کو لوٹتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قریش چونکہ گرمیوں اور سردیوں کے عادی ہوگئے ہیں تو انہیں چاہئے کہ صرف اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے ان سفروں کے دوران ان کے امن وامان کا بندوبست کیا اور انہیں اس سفر کا عادی بنایا جس کی وجہ سے انہیں مالی مفادات ملتے ہیں۔ فلیعبدو ........................ من جوع (4:106) ” لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا “۔ ان کی زمین کی پیداوار کی جو حیثیت ہے ، اس کے مطابق ان کی حالت تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ وہ بھوک سے مرتے ، لیکن اللہ نے ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست فراوانی سے کیا اور وہ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔ وامنھم من خوف (4:106) ” اور خوف سے بچا کر امن دیا “۔ ان کی جو جنگی قوت تھی ، ان کے ارد گرد جو سوسائٹی تھی ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت خائف رہتے لیکن اللہ نے ان کا یہ خوف امن سے بدل دیا۔ یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جس کی وجہ سے انسان کے اندر حیا پیدا ہوتی ہے ، وہ شرمندہ ہوتا ہے اور اپنے رویے پر نظرثانی کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ اس گھر کی اہمیت کیا ہے اور اس گھر کے احترام کی وجہ سے ان کی زندگی پر جو اثرات تھے وہ ان سے بھی بیخبر نہ تھے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ تھی کہ انتہائی شدید اور کربناک حالات میں وہ صرف اس گھر کے رب ہی کو پکارتے تھے۔ مثلاً دیکھئے کہ عبدالمطلب ابرہہ کا مقابلہ فوج سے نہیں کرتے اور نہ اس کی قوت کے مقابلے میں مادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ اس گھر کے رب سے خطاف کرتے ہیں ، جو اس کا حقیقی متولی اور حامی تھا۔ اس موقعہ پر عبدالمطلب نے نہ کسی بت کی طرف توجہ کی اور نہ کسی معبود کی طرف اور نہ انہوں نے ابرہہ سے کہا کہ اس گھرکے بہت سے الٰہ ہیں وہ اس کی حمایت کریں گے ۔ بلکہ انہوں نے یہ کہا ” میں تو اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا ایک مالک ہے ، وہ خود اس کی حفاظت کرے گا “۔ لیکن جاہلیت پر کبھی منطق اور حقیقت کا اثر نہیں ہوا کرتا اور نہ جاہلیت حق کو تسلیم کرتی ہے اور نہ وہ معقول بات کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ سورت ، اپنے موضوع اور فضا کے اعتبار سے سورت فیل کا تسلسل ہے۔ اگرچہ یہ مستقل سورت ہے اور دونوں کے درمیان مصاحف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم درج ہے۔ قرآن کی ترتیب نزولی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة الفیل اور سورة القریش کے درمیان 9 سورتیں نازل ہوئیں ، لیکن مصحف میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے پیوست کیا گیا ہے کہ اس میں موضوع ومضمون کی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

قريش 106:4

رب اجعل .................................... الثمرت (126:2) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔ پھر جب اصحاب الفیل نے اس گھر کو منہدم کرنے کا ارادہ کرلیا جس کی تفصیلات سورت الفیل میں گزر گئی ہیں ، اللہ نے اس گھر کے امن کی حفاظت فرمائی اور اس کے احترام کو بحال رکھا جبکہ اس کے ماحول میں لوگوں کی حالت یہ تھی۔ اولم یروا ............................ من حولھم (67:29) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک ایسا حرم بنایا ہے جو امن کی جگہ ہے ، جبکہ لوگوں کو اس کے گردوپیش سے اچک لیا جاتا ہے “۔ جب فیل کا واقعہ ہوا تو عربوں کے دلوں میں بیت اللہ کا احترام بڑھ گیا۔ اور اس بات کا پورے جزیرة العرب میں غلغلہ ہوگیا۔ اسی طرح اس واقعہ کی وجہ سے اہل مکہ اور بیت اللہ کے مجاوروں کا احترام بڑھ گیا اور اس وجہ سے وہ نہایت امن وامان کے ساتھ پورے عرب میں چلتے پھرتے۔ اور یہ جہاں بھی ٹھہرتے لوگ ان کی رعایت اور احترام کرتے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے قافلوں کے لئے دو عموی راستے بنالیے۔ یہ راستے مکہ سے شمال کی طرف شام تک جاتے اور مکہ سے جنوب کی طرف یمن تک جاتے ، اہل مکہ نے دو تجارتی سفر بھی منظم کرلیے۔ سردیوں کے موسم میں وہ یمن کے سفر پر جاتے اور گرمیوں کے موسم میں یہ شام کی طرف نکل جاتے۔ باوجود اس امر کے جزیرة العرب کے اطراف واکناف میں امن وامان کی حالت کچھ اچھی نہ تھی ، ڈاکے اور لوٹ مار ہر طرف عام تھے ، لیکن بیت اللہ کے احترام کی وجہ سے قریش کے یہ تجارتی سفر پر امن رہتے اور یہ قریش کی ایک ممتاز خصوصیت ہوگئی تھی۔ اور اس وجہ سے ان کے سامنے رزق کے وسیع ذرائع کھل گئے تھے۔ اور وہ نہایت اطمینان سے اور امن وسلامتی سے یہ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ چناچہ قریش ان مفید اور نفع بخش سفروں کے عادی ہوگئے تھے۔ اور وہ ان کے بغیر چین سے نہ بیٹھتے تھے۔ جس طرح بعثت نبوی کے بعد واقعہ فیل کو بطور احسان ان کے سامنے پیش کیا گیا ، اس طرح اس سورت میں بتایا گیا کہ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ تم سردیوں اور گرمیوں کے سفر کے عادی ہوگئے ہو ، اور ان سفروں سے تمہیں بہت تجارتی نفع ہوتا ہے۔ ان کا علاقہ بنجر اور خشک ہے اور وہ اس کے اندر نہایت ہی خوشگوار اور خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم ہی کی وجہ سے وہ خوف سے مامون ہیں۔ چاہے وہ بیت اللہ کے جوار میں اپنے گھروں میں ہوں یا وہ اپنے سفر میں ہوں ، اس گھر کے احترام کی وجہ سے وہ ہر قسم کی زیادتی اور ظلم سے محفوظ ہیں۔ اللہ اپنا یہ احسان کو یاددلاتا ہے کہ وہ حیا کریں اور اس گھر میں اللہ کے سوا ، اس کے اور شریکوں اور بتوں کی بندگی نہ کریں کیونکہ یہ گھر اس کا ہے ، وہی رب ہے اور اسی نے اس گھر کو امن دیا ہے جس کے اندر وہ مزے سے رہتے ہیں ، اس گھر کے نام سے ان کے سفر محفوظ ہیں اور سفروں سے یہ صحیح سالم گھروں کو لوٹتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قریش چونکہ گرمیوں اور سردیوں کے عادی ہوگئے ہیں تو انہیں چاہئے کہ صرف اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے ان سفروں کے دوران ان کے امن وامان کا بندوبست کیا اور انہیں اس سفر کا عادی بنایا جس کی وجہ سے انہیں مالی مفادات ملتے ہیں۔ فلیعبدو ........................ من جوع (4:106) ” لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا “۔ ان کی زمین کی پیداوار کی جو حیثیت ہے ، اس کے مطابق ان کی حالت تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ وہ بھوک سے مرتے ، لیکن اللہ نے ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست فراوانی سے کیا اور وہ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔ وامنھم من خوف (4:106) ” اور خوف سے بچا کر امن دیا “۔ ان کی جو جنگی قوت تھی ، ان کے ارد گرد جو سوسائٹی تھی ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت خائف رہتے لیکن اللہ نے ان کا یہ خوف امن سے بدل دیا۔ یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جس کی وجہ سے انسان کے اندر حیا پیدا ہوتی ہے ، وہ شرمندہ ہوتا ہے اور اپنے رویے پر نظرثانی کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ اس گھر کی اہمیت کیا ہے اور اس گھر کے احترام کی وجہ سے ان کی زندگی پر جو اثرات تھے وہ ان سے بھی بیخبر نہ تھے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ تھی کہ انتہائی شدید اور کربناک حالات میں وہ صرف اس گھر کے رب ہی کو پکارتے تھے۔ مثلاً دیکھئے کہ عبدالمطلب ابرہہ کا مقابلہ فوج سے نہیں کرتے اور نہ اس کی قوت کے مقابلے میں مادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ اس گھر کے رب سے خطاف کرتے ہیں ، جو اس کا حقیقی متولی اور حامی تھا۔ اس موقعہ پر عبدالمطلب نے نہ کسی بت کی طرف توجہ کی اور نہ کسی معبود کی طرف اور نہ انہوں نے ابرہہ سے کہا کہ اس گھرکے بہت سے الٰہ ہیں وہ اس کی حمایت کریں گے ۔ بلکہ انہوں نے یہ کہا ” میں تو اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا ایک مالک ہے ، وہ خود اس کی حفاظت کرے گا “۔ لیکن جاہلیت پر کبھی منطق اور حقیقت کا اثر نہیں ہوا کرتا اور نہ جاہلیت حق کو تسلیم کرتی ہے اور نہ وہ معقول بات کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ سورت ، اپنے موضوع اور فضا کے اعتبار سے سورت فیل کا تسلسل ہے۔ اگرچہ یہ مستقل سورت ہے اور دونوں کے درمیان مصاحف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم درج ہے۔ قرآن کی ترتیب نزولی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة الفیل اور سورة القریش کے درمیان 9 سورتیں نازل ہوئیں ، لیکن مصحف میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے پیوست کیا گیا ہے کہ اس میں موضوع ومضمون کی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

الماعون 107:1

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الماعون 107:2

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الماعون 107:3

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الماعون 107:4

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الماعون 107:5

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الماعون 107:6

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الماعون 107:7

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔ پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔ انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ ارءیت الذی ................................ المسکین (1:107 تا 3) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔ فذلک الذی ................................ المسکین (2:107 تا 3) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور ولا یحض (3:107) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔ ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔ ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے : فویل ................................ الماعون (4:107 تا 7) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔ یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔ ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔ اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔

الكوثر 108:1

روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔ عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں پروپیگنڈے کی اس سازش کا کافی اثر تھا۔ آپ کے مخالف اور دشمن اس گھٹیا پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور آپ کے قلب مبارک پر اس کا بہرحال اثر ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ سورت نازل ہوئی کہ آپ کا غبار خاطر چھٹ جائے۔ آپ خوشی اور تازگی محسوس کریں اور آپ کو جو خیر کثیر دے کر بھیجا گیا تھا ، اس کی حقیقت اچھی طرح دلوں میں بیٹھ جائے ، اور یہ سمجھا دیاجائے کہ دراصل ” ابتر “ تو آپ کے دشمن ہیں اور وہ اس انجام تک پہنچنے والے ہیں کہ ان کی جڑ کٹ جائے اور ان کا نام ونشان مٹ جائے۔ انا اعطینک الکوثر (1:108) ” ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا ہے “۔ کوثر کثرت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحدوحساب اور یہ مفہوم اس کے بالکل برعکس ہے جس کو ہر احمق آپ کی طرف منسوب کرتا تھا یعنی ہم نے آپ کو جو کچھ دیا ہے وہ ایک عظیم لامحدود فیض ہے۔ یہ مسلسل جاری رہے گا اور اس کا سلسلہ کٹنے والا نہیں ہے ۔ جو شخص بھی غور کرے کہ وہ فیض کثیر کیا ہے ، جو اللہ نے اپنے نبی کو دیا تو وہ اسے پاسکتا ہے جس طرف بھی وہ نگاہ کرے اسے موجود پائے گا۔ سب سے پہلے آپ کو جو منصب رسالت دیا گیا وہ خیر کثیر ہے ، آپ کا عظیم سچائی سے رابطہ قائم ہوا۔ اس عظیم وجود سے آپ کارابطہ ہوگیا جس کے سوا کوئی موجود نہیں ہے یعنی ذات باری سے اور جس شخص کا تعلق ذات باری سے قائم ہوجائے وہ سب کچھ پالیتا ہے۔ پھر یہ خیر کثیر اس قرآن کی شکل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پورا قرآن نہیں ، اس کی ایک ایک سورت خیر کثیر ہے اور ہر سورت ایک ایسا سرچشمہ ہے جس کے فیوض ختم نہیں ہوتے۔ پھر پورا عالم بالا آپ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور ان لوگوں پر بھی درودو سلام بھیجتا ہے جو آپ پر درودوسلام بھیجتے ہیں۔ اس طرح آپ اسم مبارک اس پوری کائنات میں اللہ کے نام کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ پھر آپ کی سنت کی صورت میں بھی خیرکثیر موجود ہے اور یہ سنت اس جہاں کے اطراف واکناف میں زندہ جاوید ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کی سنت پر چل رہے ہیں ، لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کے پروانے ہیں اور قیامت تک کروڑوں انسان آپ پر درودوسلام بھیجتے رہیں گے۔ پھر یہ کوثر اس خیر کثیر کی شکل میں بھی موجود ہے جس سے یہ پوری دنیا فیض یاب ہوئی اور پوری انسانی تاریخ میں یہ فیوض جاری ہیں۔ چاہے ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو ، چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ لیکن اس سرچشمے کے اثرات ان پر پڑے اور کسی نہ کسی طرح وہ فیض یاب ہوئے۔ غرض یہ کوثر وہ خیر کثیر اور عظیم ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے۔ اور ہم اپنی کم مائیگی کے ساتھ اگر اس کا شمار کریں تو ہم اس کی قدروقیمت کو کم ہی کردیں گے۔ یہ درحقیقت ایک کوثر ہے اور اس کے فیوض کی انتہا نہیں ہے۔ اس کے علوم ومعارف کے لئے حدود وقیود نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے کوثر کہہ کر مجمل چھوڑ دیا اور ہر ” خیر “ اس کے دائرہ میں آجاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ کوثر ایک نہر ہے جو جنت میں ہے۔ اور یہ حضور ﷺ کو دی گئی ہے تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس بارے میں کہا کہ وہ نہر بھی منجملہ اس خیر کثیر میں سے ہے جو آپ کو دی گئی ہے۔ گویا یہ کوثر الکوثر کا ایک حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی مناسب تطبیق ہے جو اس بارے میں کی جاسکتی ہے۔ فصل لربک وانحر (2:108) ” پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو “۔ اس خیر کثیر کے موکد تذکرے کے بعد ، جو مکہ میں تحریک اسلامی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں اور دعوت اسلام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے عل یالرغم نبی کریم ﷺ کو عطا کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اس خیرکثیر کے عطا کیے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کا پہلا شکر یہ ہے کہ انسان بندگی میں اور تمام تقربات میں صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ ہو ، اور صرف اسی کو یاد کرے۔ نماز میں بھی اور قربانی میں بھی۔ نماز بھی خالص اللہ کے لئے ہو اور قربانی بھی خالص اللہ کے لئے ہو۔ فصل لربک وانحر (2:108) ” یعنی اللہ ہی کے لئے نماز پڑھو اور اللہ ہی کے نام کی قربانی کرو “۔ اور شرک کرنے والوں کے شر کی کی کوئی پرواہ نہ کرو ، اور اللہ کی بندگی کرو اور ان کے ساتھ شریک ہوکر کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اور اللہ کی قربانی میں اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لو۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام ذبیحوں پر صرف اللہ کا نام لو ، اور یہ کہ جن ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، وہ حرام ہیں اور ان کا کھانا حرام ہے اور جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، ان کا کھانا بھی حرام ہے۔ یہ اس لئے کہ قرآن کریم انسانی زندگی کو ہر قسم کے شرک کے آثار اور شائبوں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ صرف عقیدے سے شرک کو پاک کرنا مقصود اسلام نہیں ہے بلکہ قرآن انسان کی پوری زندگی سے شرک کی نفی کرتا ہے شرک کے تمام معانی اور تمام مفاہیم کے اعتبار سے اس کی نفی کرتا ہے ، اس لئے کہ یہ دین وحدت اور توحید کا دین ہے۔ اور اسکی توحید کا نظریہ ہر پہلو سے مکمل ہے۔ اس لئے یہ دین آخر دم تک شرک کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے تمام مظاہر سے اس کے نشان مٹاتا ہے۔ قرآن کریم اتنے دور تک شرک کا پیچھا کرتا ہے کہ اسے کسی کمین گاہ میں دم لینے نہیں دیتا۔ انسانی نفسیات ، انسانی ضمیر اور انسانی فکر سے اس کا صفایا کرتا ہے۔ اسلامی عبادات سے اسے مٹاتا ہے ۔ انسانی زندگی کے رسم و رواج سے اسے دور کرتا ہے اس لئے کہ زندگی ایک باہم پیوست کل (ایک نظام) ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے اور حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ اس لئے اسلام پوری انسانی زندگی کے شرک کے اثرات کو ختم کرتا ہے اور پوری زندگی کا رخ اللہ وحدہ کی طرف پھیردیتا ہے۔ اور اسے پوری طرح واضح ، صاف اور ستھرا بناتا ہے ، چاہے قربانیوں اور ذبیحوں کا مسئلہ ہو یا عبادات عقائد کا ہو یا رسول وتقالید کا۔ ان شانئک ................ الابتر (3:108) ” تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے “۔ پہلی آیت کا فیصلہ یہ تھا کہ آپ کی جڑ نہیں کٹی بلکہ آپ تو الکوثر کے مالک ہیں ، اور اس آیت میں شکاری اپنے جال میں پھنس جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ ابتر نہیں بلکہ آپ کے دشمنوں کی جڑ کٹ چکی ہے اور جو لوگ آپ کو ناپسند کرتے ہیں ان کا نامونشان مٹ جانے والا ہے۔ اور اللہ کی یہ دھمکی سچی ثابت ہوئی ، ان لوگوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ اس دنیا سے ان کا تذکرہ ہی ختم ہوگیا جبکہ حضرت محمد ﷺ کا نام بلند ہوا اور آپ کے مراتب پڑھتے ہی رہے۔ آج ڈیڑھ ہزار سال کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں کی گئی پیشن گوئی سچی ثابت ہوچکی ہے۔ اور اس آیت کا مصداق آج ایک واضح شکل میں ہمارے سامنے ہے جو ان لوگوں کے سامنے اس قدر واضح نہ تھا جنہوں نے ان آیات کو پہلی مرتبہ سنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ، سچائی اور بھلائی کی جڑ کبھی نہیں کٹ سکتی۔ ان چیزوں کی جڑیں تو زمین میں گہری ہوتی ہیں۔ اور شاخیں آسمانوں کی فضا میں دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں بلکہ کفر ، باطل اور شر کی جڑکٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر تروتازہ اور پھلا پھولا نظر آئے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کا معیار انسانوں کے معیار سے مختلف ہے۔ انسانوں کی حایت یہ ہے کہ وہ دھوکہ کھاجاتے ہیں ۔ فریب میں آجاتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے معیار دراصل حقائق کا تعین کرتے ہیں۔ اس سورت میں جو مثال دی گئی ہے ، یہ ہمارے لئے ایک دائمی اور لازوال مثال ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی ، وہ لوگ کہاں ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے عوام کو گمراہ کردیا ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہوگیا ہے۔ اس کا راستہ روک لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں ہیں۔ ان کا ذکر کہاں ہے ، ان کے آثار کہاں ہیں ، اس کے مقابلے میں حضرت محمد ﷺ جن کو وہ ابتر کہتے تھے ، ان کو تو ہر پہلو سے حظ وافر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ دعوت الی اللہ ، سچائی اور بھلائی کی تحریک ختم ہوجائے اور اس کی جڑ کاٹ دی جائے۔ اور نہ اس تحریک کے داعی ابتر ہوسکتے ہیں اس لئے کہ اس تحریک کا محرک زندہ جاوید ، باقی ، لازوال اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ بلکہ کفر ، باطل اور شر ختم ہونے والے ہیں اور ان کے حاملین کا نشان بھی مٹنے والا ہے۔ اگرچہ کسی مختصر دور کے لئے یہ چیزیں مستحکم اور لازوال نظر آتی ہوں اور ان کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہوں۔ یہ ہے سچی بات جو اللہ فرماتا ہے ، اور سازشی اور مکار جو کچھ کہتے تھے وہ جھوٹ تھا اور جھوٹ ہے اور ہمیشہ جھوٹ رہے گا۔ ٭٭٭٭٭

الكوثر 108:2

روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔ عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں پروپیگنڈے کی اس سازش کا کافی اثر تھا۔ آپ کے مخالف اور دشمن اس گھٹیا پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور آپ کے قلب مبارک پر اس کا بہرحال اثر ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ سورت نازل ہوئی کہ آپ کا غبار خاطر چھٹ جائے۔ آپ خوشی اور تازگی محسوس کریں اور آپ کو جو خیر کثیر دے کر بھیجا گیا تھا ، اس کی حقیقت اچھی طرح دلوں میں بیٹھ جائے ، اور یہ سمجھا دیاجائے کہ دراصل ” ابتر “ تو آپ کے دشمن ہیں اور وہ اس انجام تک پہنچنے والے ہیں کہ ان کی جڑ کٹ جائے اور ان کا نام ونشان مٹ جائے۔ انا اعطینک الکوثر (1:108) ” ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا ہے “۔ کوثر کثرت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحدوحساب اور یہ مفہوم اس کے بالکل برعکس ہے جس کو ہر احمق آپ کی طرف منسوب کرتا تھا یعنی ہم نے آپ کو جو کچھ دیا ہے وہ ایک عظیم لامحدود فیض ہے۔ یہ مسلسل جاری رہے گا اور اس کا سلسلہ کٹنے والا نہیں ہے ۔ جو شخص بھی غور کرے کہ وہ فیض کثیر کیا ہے ، جو اللہ نے اپنے نبی کو دیا تو وہ اسے پاسکتا ہے جس طرف بھی وہ نگاہ کرے اسے موجود پائے گا۔ سب سے پہلے آپ کو جو منصب رسالت دیا گیا وہ خیر کثیر ہے ، آپ کا عظیم سچائی سے رابطہ قائم ہوا۔ اس عظیم وجود سے آپ کارابطہ ہوگیا جس کے سوا کوئی موجود نہیں ہے یعنی ذات باری سے اور جس شخص کا تعلق ذات باری سے قائم ہوجائے وہ سب کچھ پالیتا ہے۔ پھر یہ خیر کثیر اس قرآن کی شکل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پورا قرآن نہیں ، اس کی ایک ایک سورت خیر کثیر ہے اور ہر سورت ایک ایسا سرچشمہ ہے جس کے فیوض ختم نہیں ہوتے۔ پھر پورا عالم بالا آپ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور ان لوگوں پر بھی درودو سلام بھیجتا ہے جو آپ پر درودوسلام بھیجتے ہیں۔ اس طرح آپ اسم مبارک اس پوری کائنات میں اللہ کے نام کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ پھر آپ کی سنت کی صورت میں بھی خیرکثیر موجود ہے اور یہ سنت اس جہاں کے اطراف واکناف میں زندہ جاوید ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کی سنت پر چل رہے ہیں ، لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کے پروانے ہیں اور قیامت تک کروڑوں انسان آپ پر درودوسلام بھیجتے رہیں گے۔ پھر یہ کوثر اس خیر کثیر کی شکل میں بھی موجود ہے جس سے یہ پوری دنیا فیض یاب ہوئی اور پوری انسانی تاریخ میں یہ فیوض جاری ہیں۔ چاہے ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو ، چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ لیکن اس سرچشمے کے اثرات ان پر پڑے اور کسی نہ کسی طرح وہ فیض یاب ہوئے۔ غرض یہ کوثر وہ خیر کثیر اور عظیم ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے۔ اور ہم اپنی کم مائیگی کے ساتھ اگر اس کا شمار کریں تو ہم اس کی قدروقیمت کو کم ہی کردیں گے۔ یہ درحقیقت ایک کوثر ہے اور اس کے فیوض کی انتہا نہیں ہے۔ اس کے علوم ومعارف کے لئے حدود وقیود نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے کوثر کہہ کر مجمل چھوڑ دیا اور ہر ” خیر “ اس کے دائرہ میں آجاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ کوثر ایک نہر ہے جو جنت میں ہے۔ اور یہ حضور ﷺ کو دی گئی ہے تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس بارے میں کہا کہ وہ نہر بھی منجملہ اس خیر کثیر میں سے ہے جو آپ کو دی گئی ہے۔ گویا یہ کوثر الکوثر کا ایک حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی مناسب تطبیق ہے جو اس بارے میں کی جاسکتی ہے۔ فصل لربک وانحر (2:108) ” پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو “۔ اس خیر کثیر کے موکد تذکرے کے بعد ، جو مکہ میں تحریک اسلامی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں اور دعوت اسلام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے عل یالرغم نبی کریم ﷺ کو عطا کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اس خیرکثیر کے عطا کیے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کا پہلا شکر یہ ہے کہ انسان بندگی میں اور تمام تقربات میں صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ ہو ، اور صرف اسی کو یاد کرے۔ نماز میں بھی اور قربانی میں بھی۔ نماز بھی خالص اللہ کے لئے ہو اور قربانی بھی خالص اللہ کے لئے ہو۔ فصل لربک وانحر (2:108) ” یعنی اللہ ہی کے لئے نماز پڑھو اور اللہ ہی کے نام کی قربانی کرو “۔ اور شرک کرنے والوں کے شر کی کی کوئی پرواہ نہ کرو ، اور اللہ کی بندگی کرو اور ان کے ساتھ شریک ہوکر کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اور اللہ کی قربانی میں اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لو۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام ذبیحوں پر صرف اللہ کا نام لو ، اور یہ کہ جن ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، وہ حرام ہیں اور ان کا کھانا حرام ہے اور جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، ان کا کھانا بھی حرام ہے۔ یہ اس لئے کہ قرآن کریم انسانی زندگی کو ہر قسم کے شرک کے آثار اور شائبوں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ صرف عقیدے سے شرک کو پاک کرنا مقصود اسلام نہیں ہے بلکہ قرآن انسان کی پوری زندگی سے شرک کی نفی کرتا ہے شرک کے تمام معانی اور تمام مفاہیم کے اعتبار سے اس کی نفی کرتا ہے ، اس لئے کہ یہ دین وحدت اور توحید کا دین ہے۔ اور اسکی توحید کا نظریہ ہر پہلو سے مکمل ہے۔ اس لئے یہ دین آخر دم تک شرک کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے تمام مظاہر سے اس کے نشان مٹاتا ہے۔ قرآن کریم اتنے دور تک شرک کا پیچھا کرتا ہے کہ اسے کسی کمین گاہ میں دم لینے نہیں دیتا۔ انسانی نفسیات ، انسانی ضمیر اور انسانی فکر سے اس کا صفایا کرتا ہے۔ اسلامی عبادات سے اسے مٹاتا ہے ۔ انسانی زندگی کے رسم و رواج سے اسے دور کرتا ہے اس لئے کہ زندگی ایک باہم پیوست کل (ایک نظام) ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے اور حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ اس لئے اسلام پوری انسانی زندگی کے شرک کے اثرات کو ختم کرتا ہے اور پوری زندگی کا رخ اللہ وحدہ کی طرف پھیردیتا ہے۔ اور اسے پوری طرح واضح ، صاف اور ستھرا بناتا ہے ، چاہے قربانیوں اور ذبیحوں کا مسئلہ ہو یا عبادات عقائد کا ہو یا رسول وتقالید کا۔ ان شانئک ................ الابتر (3:108) ” تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے “۔ پہلی آیت کا فیصلہ یہ تھا کہ آپ کی جڑ نہیں کٹی بلکہ آپ تو الکوثر کے مالک ہیں ، اور اس آیت میں شکاری اپنے جال میں پھنس جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ ابتر نہیں بلکہ آپ کے دشمنوں کی جڑ کٹ چکی ہے اور جو لوگ آپ کو ناپسند کرتے ہیں ان کا نامونشان مٹ جانے والا ہے۔ اور اللہ کی یہ دھمکی سچی ثابت ہوئی ، ان لوگوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ اس دنیا سے ان کا تذکرہ ہی ختم ہوگیا جبکہ حضرت محمد ﷺ کا نام بلند ہوا اور آپ کے مراتب پڑھتے ہی رہے۔ آج ڈیڑھ ہزار سال کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں کی گئی پیشن گوئی سچی ثابت ہوچکی ہے۔ اور اس آیت کا مصداق آج ایک واضح شکل میں ہمارے سامنے ہے جو ان لوگوں کے سامنے اس قدر واضح نہ تھا جنہوں نے ان آیات کو پہلی مرتبہ سنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ، سچائی اور بھلائی کی جڑ کبھی نہیں کٹ سکتی۔ ان چیزوں کی جڑیں تو زمین میں گہری ہوتی ہیں۔ اور شاخیں آسمانوں کی فضا میں دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں بلکہ کفر ، باطل اور شر کی جڑکٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر تروتازہ اور پھلا پھولا نظر آئے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کا معیار انسانوں کے معیار سے مختلف ہے۔ انسانوں کی حایت یہ ہے کہ وہ دھوکہ کھاجاتے ہیں ۔ فریب میں آجاتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے معیار دراصل حقائق کا تعین کرتے ہیں۔ اس سورت میں جو مثال دی گئی ہے ، یہ ہمارے لئے ایک دائمی اور لازوال مثال ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی ، وہ لوگ کہاں ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے عوام کو گمراہ کردیا ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہوگیا ہے۔ اس کا راستہ روک لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں ہیں۔ ان کا ذکر کہاں ہے ، ان کے آثار کہاں ہیں ، اس کے مقابلے میں حضرت محمد ﷺ جن کو وہ ابتر کہتے تھے ، ان کو تو ہر پہلو سے حظ وافر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ دعوت الی اللہ ، سچائی اور بھلائی کی تحریک ختم ہوجائے اور اس کی جڑ کاٹ دی جائے۔ اور نہ اس تحریک کے داعی ابتر ہوسکتے ہیں اس لئے کہ اس تحریک کا محرک زندہ جاوید ، باقی ، لازوال اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ بلکہ کفر ، باطل اور شر ختم ہونے والے ہیں اور ان کے حاملین کا نشان بھی مٹنے والا ہے۔ اگرچہ کسی مختصر دور کے لئے یہ چیزیں مستحکم اور لازوال نظر آتی ہوں اور ان کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہوں۔ یہ ہے سچی بات جو اللہ فرماتا ہے ، اور سازشی اور مکار جو کچھ کہتے تھے وہ جھوٹ تھا اور جھوٹ ہے اور ہمیشہ جھوٹ رہے گا۔ ٭٭٭٭٭

الكوثر 108:3

روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔ عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں پروپیگنڈے کی اس سازش کا کافی اثر تھا۔ آپ کے مخالف اور دشمن اس گھٹیا پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور آپ کے قلب مبارک پر اس کا بہرحال اثر ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ سورت نازل ہوئی کہ آپ کا غبار خاطر چھٹ جائے۔ آپ خوشی اور تازگی محسوس کریں اور آپ کو جو خیر کثیر دے کر بھیجا گیا تھا ، اس کی حقیقت اچھی طرح دلوں میں بیٹھ جائے ، اور یہ سمجھا دیاجائے کہ دراصل ” ابتر “ تو آپ کے دشمن ہیں اور وہ اس انجام تک پہنچنے والے ہیں کہ ان کی جڑ کٹ جائے اور ان کا نام ونشان مٹ جائے۔ انا اعطینک الکوثر (1:108) ” ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا ہے “۔ کوثر کثرت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحدوحساب اور یہ مفہوم اس کے بالکل برعکس ہے جس کو ہر احمق آپ کی طرف منسوب کرتا تھا یعنی ہم نے آپ کو جو کچھ دیا ہے وہ ایک عظیم لامحدود فیض ہے۔ یہ مسلسل جاری رہے گا اور اس کا سلسلہ کٹنے والا نہیں ہے ۔ جو شخص بھی غور کرے کہ وہ فیض کثیر کیا ہے ، جو اللہ نے اپنے نبی کو دیا تو وہ اسے پاسکتا ہے جس طرف بھی وہ نگاہ کرے اسے موجود پائے گا۔ سب سے پہلے آپ کو جو منصب رسالت دیا گیا وہ خیر کثیر ہے ، آپ کا عظیم سچائی سے رابطہ قائم ہوا۔ اس عظیم وجود سے آپ کارابطہ ہوگیا جس کے سوا کوئی موجود نہیں ہے یعنی ذات باری سے اور جس شخص کا تعلق ذات باری سے قائم ہوجائے وہ سب کچھ پالیتا ہے۔ پھر یہ خیر کثیر اس قرآن کی شکل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پورا قرآن نہیں ، اس کی ایک ایک سورت خیر کثیر ہے اور ہر سورت ایک ایسا سرچشمہ ہے جس کے فیوض ختم نہیں ہوتے۔ پھر پورا عالم بالا آپ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور ان لوگوں پر بھی درودو سلام بھیجتا ہے جو آپ پر درودوسلام بھیجتے ہیں۔ اس طرح آپ اسم مبارک اس پوری کائنات میں اللہ کے نام کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ پھر آپ کی سنت کی صورت میں بھی خیرکثیر موجود ہے اور یہ سنت اس جہاں کے اطراف واکناف میں زندہ جاوید ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کی سنت پر چل رہے ہیں ، لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کے پروانے ہیں اور قیامت تک کروڑوں انسان آپ پر درودوسلام بھیجتے رہیں گے۔ پھر یہ کوثر اس خیر کثیر کی شکل میں بھی موجود ہے جس سے یہ پوری دنیا فیض یاب ہوئی اور پوری انسانی تاریخ میں یہ فیوض جاری ہیں۔ چاہے ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو ، چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ لیکن اس سرچشمے کے اثرات ان پر پڑے اور کسی نہ کسی طرح وہ فیض یاب ہوئے۔ غرض یہ کوثر وہ خیر کثیر اور عظیم ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے۔ اور ہم اپنی کم مائیگی کے ساتھ اگر اس کا شمار کریں تو ہم اس کی قدروقیمت کو کم ہی کردیں گے۔ یہ درحقیقت ایک کوثر ہے اور اس کے فیوض کی انتہا نہیں ہے۔ اس کے علوم ومعارف کے لئے حدود وقیود نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے کوثر کہہ کر مجمل چھوڑ دیا اور ہر ” خیر “ اس کے دائرہ میں آجاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ کوثر ایک نہر ہے جو جنت میں ہے۔ اور یہ حضور ﷺ کو دی گئی ہے تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس بارے میں کہا کہ وہ نہر بھی منجملہ اس خیر کثیر میں سے ہے جو آپ کو دی گئی ہے۔ گویا یہ کوثر الکوثر کا ایک حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی مناسب تطبیق ہے جو اس بارے میں کی جاسکتی ہے۔ فصل لربک وانحر (2:108) ” پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو “۔ اس خیر کثیر کے موکد تذکرے کے بعد ، جو مکہ میں تحریک اسلامی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں اور دعوت اسلام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے عل یالرغم نبی کریم ﷺ کو عطا کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اس خیرکثیر کے عطا کیے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کا پہلا شکر یہ ہے کہ انسان بندگی میں اور تمام تقربات میں صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ ہو ، اور صرف اسی کو یاد کرے۔ نماز میں بھی اور قربانی میں بھی۔ نماز بھی خالص اللہ کے لئے ہو اور قربانی بھی خالص اللہ کے لئے ہو۔ فصل لربک وانحر (2:108) ” یعنی اللہ ہی کے لئے نماز پڑھو اور اللہ ہی کے نام کی قربانی کرو “۔ اور شرک کرنے والوں کے شر کی کی کوئی پرواہ نہ کرو ، اور اللہ کی بندگی کرو اور ان کے ساتھ شریک ہوکر کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اور اللہ کی قربانی میں اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لو۔ قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام ذبیحوں پر صرف اللہ کا نام لو ، اور یہ کہ جن ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، وہ حرام ہیں اور ان کا کھانا حرام ہے اور جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، ان کا کھانا بھی حرام ہے۔ یہ اس لئے کہ قرآن کریم انسانی زندگی کو ہر قسم کے شرک کے آثار اور شائبوں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ صرف عقیدے سے شرک کو پاک کرنا مقصود اسلام نہیں ہے بلکہ قرآن انسان کی پوری زندگی سے شرک کی نفی کرتا ہے شرک کے تمام معانی اور تمام مفاہیم کے اعتبار سے اس کی نفی کرتا ہے ، اس لئے کہ یہ دین وحدت اور توحید کا دین ہے۔ اور اسکی توحید کا نظریہ ہر پہلو سے مکمل ہے۔ اس لئے یہ دین آخر دم تک شرک کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے تمام مظاہر سے اس کے نشان مٹاتا ہے۔ قرآن کریم اتنے دور تک شرک کا پیچھا کرتا ہے کہ اسے کسی کمین گاہ میں دم لینے نہیں دیتا۔ انسانی نفسیات ، انسانی ضمیر اور انسانی فکر سے اس کا صفایا کرتا ہے۔ اسلامی عبادات سے اسے مٹاتا ہے ۔ انسانی زندگی کے رسم و رواج سے اسے دور کرتا ہے اس لئے کہ زندگی ایک باہم پیوست کل (ایک نظام) ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے اور حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ اس لئے اسلام پوری انسانی زندگی کے شرک کے اثرات کو ختم کرتا ہے اور پوری زندگی کا رخ اللہ وحدہ کی طرف پھیردیتا ہے۔ اور اسے پوری طرح واضح ، صاف اور ستھرا بناتا ہے ، چاہے قربانیوں اور ذبیحوں کا مسئلہ ہو یا عبادات عقائد کا ہو یا رسول وتقالید کا۔ ان شانئک ................ الابتر (3:108) ” تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے “۔ پہلی آیت کا فیصلہ یہ تھا کہ آپ کی جڑ نہیں کٹی بلکہ آپ تو الکوثر کے مالک ہیں ، اور اس آیت میں شکاری اپنے جال میں پھنس جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ ابتر نہیں بلکہ آپ کے دشمنوں کی جڑ کٹ چکی ہے اور جو لوگ آپ کو ناپسند کرتے ہیں ان کا نامونشان مٹ جانے والا ہے۔ اور اللہ کی یہ دھمکی سچی ثابت ہوئی ، ان لوگوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ اس دنیا سے ان کا تذکرہ ہی ختم ہوگیا جبکہ حضرت محمد ﷺ کا نام بلند ہوا اور آپ کے مراتب پڑھتے ہی رہے۔ آج ڈیڑھ ہزار سال کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں کی گئی پیشن گوئی سچی ثابت ہوچکی ہے۔ اور اس آیت کا مصداق آج ایک واضح شکل میں ہمارے سامنے ہے جو ان لوگوں کے سامنے اس قدر واضح نہ تھا جنہوں نے ان آیات کو پہلی مرتبہ سنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ، سچائی اور بھلائی کی جڑ کبھی نہیں کٹ سکتی۔ ان چیزوں کی جڑیں تو زمین میں گہری ہوتی ہیں۔ اور شاخیں آسمانوں کی فضا میں دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں بلکہ کفر ، باطل اور شر کی جڑکٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر تروتازہ اور پھلا پھولا نظر آئے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کا معیار انسانوں کے معیار سے مختلف ہے۔ انسانوں کی حایت یہ ہے کہ وہ دھوکہ کھاجاتے ہیں ۔ فریب میں آجاتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے معیار دراصل حقائق کا تعین کرتے ہیں۔ اس سورت میں جو مثال دی گئی ہے ، یہ ہمارے لئے ایک دائمی اور لازوال مثال ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی ، وہ لوگ کہاں ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے عوام کو گمراہ کردیا ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہوگیا ہے۔ اس کا راستہ روک لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں ہیں۔ ان کا ذکر کہاں ہے ، ان کے آثار کہاں ہیں ، اس کے مقابلے میں حضرت محمد ﷺ جن کو وہ ابتر کہتے تھے ، ان کو تو ہر پہلو سے حظ وافر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ دعوت الی اللہ ، سچائی اور بھلائی کی تحریک ختم ہوجائے اور اس کی جڑ کاٹ دی جائے۔ اور نہ اس تحریک کے داعی ابتر ہوسکتے ہیں اس لئے کہ اس تحریک کا محرک زندہ جاوید ، باقی ، لازوال اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ بلکہ کفر ، باطل اور شر ختم ہونے والے ہیں اور ان کے حاملین کا نشان بھی مٹنے والا ہے۔ اگرچہ کسی مختصر دور کے لئے یہ چیزیں مستحکم اور لازوال نظر آتی ہوں اور ان کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہوں۔ یہ ہے سچی بات جو اللہ فرماتا ہے ، اور سازشی اور مکار جو کچھ کہتے تھے وہ جھوٹ تھا اور جھوٹ ہے اور ہمیشہ جھوٹ رہے گا۔ ٭٭٭٭٭

الكافرون 109:1

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔ اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ لااعبدما تعبدون (2:109) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (3:109) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔ ولا انا .................... ماعبدتم (4:109) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (5:109) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔ یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔ آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔ اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

الكافرون 109:2

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔ اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ لااعبدما تعبدون (2:109) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (3:109) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔ ولا انا .................... ماعبدتم (4:109) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (5:109) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔ یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔ آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔ اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

الكافرون 109:3

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔ اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ لااعبدما تعبدون (2:109) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (3:109) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔ ولا انا .................... ماعبدتم (4:109) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (5:109) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔ یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔ آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔ اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

الكافرون 109:4

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔ اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ لااعبدما تعبدون (2:109) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (3:109) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔ ولا انا .................... ماعبدتم (4:109) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (5:109) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔ یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔ آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔ اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

الكافرون 109:5

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔ اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ لااعبدما تعبدون (2:109) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (3:109) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔ ولا انا .................... ماعبدتم (4:109) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (5:109) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔ یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔ آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔ اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

الكافرون 109:6

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔ اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ لااعبدما تعبدون (2:109) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (3:109) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔ ولا انا .................... ماعبدتم (4:109) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔ ولا انتم .................... اعبد (5:109) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔ یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔ آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔ اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔ لکم دینکم ولی دین (6:109) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

النصر 110:1

“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔ اذا جآء ........................ والفتح (1:110) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں کا اس کی آمد کے سلسلے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اور نہ ان کا نصرت الٰہیہ میں کچھ کردار ہے۔ نہ اس نصرت کے سلسلے میں ان کی ذاتی کمائی کا کوئی دخل ہے۔ نہ ان کی ذاتوں کا کوئی حصہ ہے۔ یہ نصرت ایک ایسا واقعہ ہے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی شخصیات سے نہیں ، باہر سے آتی ہے۔ ان کے لئے یہی اعزاز کافی ہے کہ اللہ یہ نصرت بظاہر ان کے ذریعہ لاتا ہے اور ان کو اس نصرت کا چوکیدار مقرر کرتا ہے اور اس نصرت اور فتح کے امین ہوتے ہیں۔ پس فتح ونصرت میں ان کا حصہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ جوق درجوق دین اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی۔ اس اشارے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکر کی روشنی میں ۔ اس اعزاز اور تکریم کے حوالے سے جو ان کے ہاتھوں نصرت اور فتح کے ظہور کے سلسلے میں ہوا۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کی حیثیت کا تعین ہوجاتا ہے۔ ان کی شان اور حیثیت اب یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوکر سراسر سپاس بن جائیں۔ اللہ کی حمدوثنا کریں اور اپنی کوتاہیوں پر مغفرت کی دعا کریں۔ یہ حمدوثنا اور شکر اس بات پر کہ اللہ نے ان کو اسلامی انقلاب کا امین اور نگراں بنایا اور اپنے دین کی نصرت فرما کر اور اسے غالب فرما کر پوری انسانیت پر احسان فرمایا۔ رسول اللہ فاتح ہوئے ، لوگ فوج درفوج اس خبرکثیر میں داخل ہوئے حالانکہ اس سے قبل وہ اندھے تھے ، گمراہ تھے اور سخت خسارے میں تھے۔ استغفار کس لئے ، یہ ان نفسیاتی عوامل کے لئے ہے جو نہایت لطیف انداز میں دلوں میں داخل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب کوئی قوت ایک طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد برسراقتدار آتی ہے تو فتح و کامرانی کے نشے میں اس کی نفسیات میں ایک قسم کا غرور چپکے سے داخل ہوجاتا ہے ، پھر مشکلات اور قربانیوں کے بعد انسان سے خوشیوں میں کچھ کو تاہیاں بھی ہوجاتی ہیں ، ان خفیہ نفسیاتی وائرس سے صرف توبہ و استغفار کے ذریعہ بچا جاسکتا ہے ، اس لئے یہاں استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ استغفار اس لئے بھی ہے کہ طویل جدوجہد کے زمانے میں انتھک حالات کے نتیجے میں شدید مشکلات اور نہایت گہرے کربناک حالات کی وجہ سے انسانی قلب میں گھٹن آجاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اللہ کی نصرت کے پہنچے میں دیر ہوگئی ہے ، اور داعی کو ہلامارا جاتا ہے۔ جیسا کہ بقرہ (114) میں کہا گیا ہے۔ ام حسبتم .................................... اللہ قریب (214:2) ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاﺅ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تم سے پہلے اہل ایمان کو سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ فقر وفاقہ اور شدائد وآلام سے دوچار ہوئے اور ہلا مارے گئے یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ، سنو اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ استغفار کرو۔ استغفار کا حکم اس لئے بھی دیا گیا کہ اللہ کی حمدوثنا میں انسان سے تقصیر ہوجاتی ہے۔ پس انسان کی جدوجہد جس قدر بھی زیادہ ہو ، وہ محدود ہوتی ہے اور انسان ضعیف ہے۔ اور اللہ کی نعمتیں ہمیشہ بیشمار ہیں اور اس کا فیض عام ہے۔ وان تعدو ........................ تحصوھا (34:14) ” اگر تم اللہ کے احسانات کو شمار کرو تو تم ان کا استعصا اور احاطہ نہیں کرسکتے “۔ لہٰذا اس تقصیر پر استغفار کا حکم دیا گیا۔ فتح و کامرانی کے موقعہ پر تسبیح و استغفار میں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ فخر ومباہات کے مقام پر نفس کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ انسان تو ہمیشہ عجز اور تقصیر کے مقام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ بڑوں کی سطح سے ذرا نیچے اتر آئے۔ اور اپنے رب سے اپنی تقصیرات کی معافی طلب کرے۔ اس طرح انسانی شعور اور انسانی نفسیات سے فخرومباہات کے میلانات کا صفایا ہوجاتا ہے۔ اگر ایک فاتح کے دل میں یہ شعور بیٹھ جائے کہ وہ عجز اور تقصیر کا پتلا ہے اور اسے اپنی تقصیرات پر اللہ سے دعائے مغفرت کرنا چاہئے تو ایسا فاتح کبھی بھی مفتوح لوگوں پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ ایسا شخص تو یوں سوچتا ہے کہ یہ تو اللہ کی ذات ہے جس کی نصرت کی وجہ سے وہ ان لوگوں پر مقتدر اعلیٰ بن گیا ہے۔ اگر اللہ کی نصرت نہ ہوتی تو وہ توبندہ ناچیز دیر تقصیر ہے اور اللہ نے جو اس کو اقتدار دیا ہے تو یہ اس لئے دیا ہے کہ اللہ مفتوح لوگوں کے بارے میں کوئی خیر اور بھلائی چاہتا ہے۔ درحقیقت فتح تو اللہ کی نصرت سے میسر ہوتی ہے۔ نصرت بھی اس کی ہے اور فتح بھی اس کی ہے اور یہ فاتح کی فتح نہیں بلکہ اللہ کے دین کی فتح ہے۔ اور تمام امور کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور تمام فیصلے اللہ کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ ہے وہ روش اور بلند مرتبہ افق ، جس کے اوپر نظریں مرکوز کرنے کے لئے قرآن پوری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ اس بلند افق تک بلند ہوتی چلی جائے۔ جو شرافت اور نیکی کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ اس تک پہنچ کر انسان بڑا بن جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی بڑائی سے دستکش ہوجاتا ہے۔ یہاں اس کی روح آزاد ہوکر مسرت حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی غلامی اختیار کرلیتی ہے۔ غرض یہ ایک آزادی ہے جس میں انسان اپنی ذاتی اور مادی بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی روحانی مخلوق میں سے ایک مخلوق بن جاتا ہے اور یہ ایک ایسے مقام تک جا پہنچتا ہے کہ اللہ کی رضا اس کی رضا بن جاتی ہے اور یہ مقام حاصل کرنے کے بعد پھر وہ مجاہد بن جاتا ہے اور اس کی جدوجہد کا رخ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کی صورت میں بھلائی کی نصرت کرے اور حق کو حقیقت بنادے اور پھر اسلامی نظام کے قیام کے بعد وہ اس زمین کو ایسی ترقی دے اور دنیا کو ایسی قیادت فراہم کرے کہ دنیا شروفساد سے پاک ہوجائے۔ یہ قیادت صالح ، پاک اور تعمیری ہو۔ اور اس کا مقصد ہر بھلائی کو پھیلانا اور ترقی دینا ہو۔ اور اس طرح تمام امور کا رخ اللہ کی طرف پھیر دے۔ انسان اگر اپنی ذات کے محدود کنویں کا مینڈک ہو اور اس میں قید ہو تو پھر اس کی آزادی کی مساعی عبث بن جاتی ہیں۔ وہ آزادی کے بعد اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے ۔ شہوات اور خواہشات میں گرفتار ہوتا ہے ۔ انسان اگر خواہشات نفسانیہ کے دائرہ نشیب سے آزاد نہ ہو تو دوسری آزادیاں عبث ہیں ۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسری آزادیوں کے ساتھ انسان نفسانی خواہشات سے بھی آزاد ہوجائے تاکہ وہ اللہ کو یاد کرے اور اس کا غلام ہو ۔ یہ ہیں آداب نبوت ، جو نبوت کے ساتھ لازم رہے ہیں اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ انسانیت ان آداب نبوت کے آفاق تک بلند ہوجائے ۔ اور اگر وہاں تک نہ بھی پہنچ سکے تو اس کی نظریں اس افق پر ہوں ۔ دیکھئے یوسف (علیہ السلام) اس مقام تک پہنچے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مصر کے تمام خزائن اقتدار ان کے ہاتھ میں آچکے ہیں ۔ ان کا خواب سچا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے جب والدین کو اپنے تخت پر اٹھایا تو بھائیوں نے ان کے سامنے سجدہ کیا ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے والدین سے کہا کہ باپ ! یہ ہے میری خواب کی تعبیر ، اللہ نے اسے حقیقت بنادیا ۔ اللہ کا احسان دیکھئے کہ اس نے مجھے قید سے نکالا ، آپ لوگوں کو دیہات سے مصر لایا حالانکہ شیطان نے میرے بھائیوں کے درمیان نزاع ڈال دیا تھا۔ بیشک میرا رب لطیف تدابیر اختیار کرتا ہے اور وہ حکم وخبیر ہے۔ غرض ایسے موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) بلندی ، سرفرازی اور خوشی اور انبساط کے ماحول سے نکل آتے ہیں اور ذکر وفکر مشغول ہوکر اپنے رب کی حمدوثنا کرتے ہیں۔ وہ اقتدار کے عروج پر ہیں ان کے تمام خواب حقیقت بن گئے ہیں لیکن ان کی دعوت یہ ہے : رب قداتیتنی .................................... بالصلحین (101:12) ” اے میرے رب ! تو نے مجھے اقتدار بھی دیا ، اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم بھی دیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا وآخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیکوکاروں کے زمرے میں مجھے شامل کر “۔ یہاں جاہ واقتدار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اہل و عیال اور بہن بھائیوں کا یہ اجتماع اور ایک عرصہ بعد رشتہ داروں اور والدین کی ملاقات کی خوشی کافور ہوجاتی ہے۔ اب اس آخری منظر میں ہمیں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو رب تعالیٰ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ میرا اسلام محفوظ ہو اور میری سوسائٹی صالحین کے ساتھ ہو۔ اور یہ مرتبہ اللہ کے فضل وکرم سے ہی مل سکتا ہے۔ اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے آداب زندگی ملاحظہ ہوں۔ وہ بھی ایسے حالات میں ہیں کہ طرفتہ العین میں ملکہ سبا کا تخت ان کے سامنے ہے۔ دیکھئے قرآن ایسے حالات میں قوت وجاہ کے حالات میں ان کی کیفیات کس طرح ریکارڈ کرتا ہے۔ فلما راہ ............................................ غنی کریم (40:27) ” جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا پایا۔ تو وہ پکار اٹھے یہ میرے رب کے فضل وکرم سے ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں۔ اور جو کوئی شکر کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا اور جو ناشکری کرے گا میرا رب غنی اور بزرگ ہے “۔ اور یہی تھی حضرت محمد ﷺ کی روش۔ آپ کو اپنی پوری زندگی میں یہی ادب اختیار کیا اور نصرت وفتح کے موقعہ پر جسے اللہ نے آپ کے لئے خاص علامت قرار دیا تھا۔ تو حضور اپنی سواری کے اوپر جھکے ہوئے جارہے تھے۔ آپ مکہ میں اسی طرح سرجھکائے ہوئے داخل ہوئے۔ آج آپ اس مکہ میں جس نے آپ کو اذیتیں دی تھیں ، جس نے آپ کو گھر سے نکالا تھا۔ جس نے آپ کے ساتھ پے درپے جنگیں لڑیں ، جو آپ کی دعوت کی راہ میں معاندانہ طور پر ڈٹ گیا تھا۔ جب آپ کو نصرت اور فتح نصیب ہوئی تو آپ نے فتح و کامرانی کے شادیانے نہ بجائے۔ آپ رب کا شکر ادا کرتے ہوئے جھکے جارہے تھے۔ حمدوثنا میں مشغول تھے اور جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو تلقین کی تھی۔ آپ تسبیح وتہلیل اور استغفار کررہے تھے۔ جیسا کہ آثار میں آتا ہے کہ آپ کے بعد آپ کے صحابہ ؓ کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ یوں بشریت ایمان کے ذریعہ سر بلند ہوئی۔ انسانیت کا چہرہ روشن ہوگیا۔ وہ صاف و شفاف ہوگئی۔ اب انسانیت عظمت ، قوت اور آزادی کے مقام بلندتک پہنچ گئی۔ ٭٭٭٭٭

النصر 110:2

“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔ اذا جآء ........................ والفتح (1:110) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں کا اس کی آمد کے سلسلے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اور نہ ان کا نصرت الٰہیہ میں کچھ کردار ہے۔ نہ اس نصرت کے سلسلے میں ان کی ذاتی کمائی کا کوئی دخل ہے۔ نہ ان کی ذاتوں کا کوئی حصہ ہے۔ یہ نصرت ایک ایسا واقعہ ہے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی شخصیات سے نہیں ، باہر سے آتی ہے۔ ان کے لئے یہی اعزاز کافی ہے کہ اللہ یہ نصرت بظاہر ان کے ذریعہ لاتا ہے اور ان کو اس نصرت کا چوکیدار مقرر کرتا ہے اور اس نصرت اور فتح کے امین ہوتے ہیں۔ پس فتح ونصرت میں ان کا حصہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ جوق درجوق دین اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی۔ اس اشارے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکر کی روشنی میں ۔ اس اعزاز اور تکریم کے حوالے سے جو ان کے ہاتھوں نصرت اور فتح کے ظہور کے سلسلے میں ہوا۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کی حیثیت کا تعین ہوجاتا ہے۔ ان کی شان اور حیثیت اب یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوکر سراسر سپاس بن جائیں۔ اللہ کی حمدوثنا کریں اور اپنی کوتاہیوں پر مغفرت کی دعا کریں۔ یہ حمدوثنا اور شکر اس بات پر کہ اللہ نے ان کو اسلامی انقلاب کا امین اور نگراں بنایا اور اپنے دین کی نصرت فرما کر اور اسے غالب فرما کر پوری انسانیت پر احسان فرمایا۔ رسول اللہ فاتح ہوئے ، لوگ فوج درفوج اس خبرکثیر میں داخل ہوئے حالانکہ اس سے قبل وہ اندھے تھے ، گمراہ تھے اور سخت خسارے میں تھے۔ استغفار کس لئے ، یہ ان نفسیاتی عوامل کے لئے ہے جو نہایت لطیف انداز میں دلوں میں داخل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب کوئی قوت ایک طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد برسراقتدار آتی ہے تو فتح و کامرانی کے نشے میں اس کی نفسیات میں ایک قسم کا غرور چپکے سے داخل ہوجاتا ہے ، پھر مشکلات اور قربانیوں کے بعد انسان سے خوشیوں میں کچھ کو تاہیاں بھی ہوجاتی ہیں ، ان خفیہ نفسیاتی وائرس سے صرف توبہ و استغفار کے ذریعہ بچا جاسکتا ہے ، اس لئے یہاں استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ استغفار اس لئے بھی ہے کہ طویل جدوجہد کے زمانے میں انتھک حالات کے نتیجے میں شدید مشکلات اور نہایت گہرے کربناک حالات کی وجہ سے انسانی قلب میں گھٹن آجاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اللہ کی نصرت کے پہنچے میں دیر ہوگئی ہے ، اور داعی کو ہلامارا جاتا ہے۔ جیسا کہ بقرہ (114) میں کہا گیا ہے۔ ام حسبتم .................................... اللہ قریب (214:2) ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاﺅ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تم سے پہلے اہل ایمان کو سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ فقر وفاقہ اور شدائد وآلام سے دوچار ہوئے اور ہلا مارے گئے یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ، سنو اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ استغفار کرو۔ استغفار کا حکم اس لئے بھی دیا گیا کہ اللہ کی حمدوثنا میں انسان سے تقصیر ہوجاتی ہے۔ پس انسان کی جدوجہد جس قدر بھی زیادہ ہو ، وہ محدود ہوتی ہے اور انسان ضعیف ہے۔ اور اللہ کی نعمتیں ہمیشہ بیشمار ہیں اور اس کا فیض عام ہے۔ وان تعدو ........................ تحصوھا (34:14) ” اگر تم اللہ کے احسانات کو شمار کرو تو تم ان کا استعصا اور احاطہ نہیں کرسکتے “۔ لہٰذا اس تقصیر پر استغفار کا حکم دیا گیا۔ فتح و کامرانی کے موقعہ پر تسبیح و استغفار میں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ فخر ومباہات کے مقام پر نفس کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ انسان تو ہمیشہ عجز اور تقصیر کے مقام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ بڑوں کی سطح سے ذرا نیچے اتر آئے۔ اور اپنے رب سے اپنی تقصیرات کی معافی طلب کرے۔ اس طرح انسانی شعور اور انسانی نفسیات سے فخرومباہات کے میلانات کا صفایا ہوجاتا ہے۔ اگر ایک فاتح کے دل میں یہ شعور بیٹھ جائے کہ وہ عجز اور تقصیر کا پتلا ہے اور اسے اپنی تقصیرات پر اللہ سے دعائے مغفرت کرنا چاہئے تو ایسا فاتح کبھی بھی مفتوح لوگوں پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ ایسا شخص تو یوں سوچتا ہے کہ یہ تو اللہ کی ذات ہے جس کی نصرت کی وجہ سے وہ ان لوگوں پر مقتدر اعلیٰ بن گیا ہے۔ اگر اللہ کی نصرت نہ ہوتی تو وہ توبندہ ناچیز دیر تقصیر ہے اور اللہ نے جو اس کو اقتدار دیا ہے تو یہ اس لئے دیا ہے کہ اللہ مفتوح لوگوں کے بارے میں کوئی خیر اور بھلائی چاہتا ہے۔ درحقیقت فتح تو اللہ کی نصرت سے میسر ہوتی ہے۔ نصرت بھی اس کی ہے اور فتح بھی اس کی ہے اور یہ فاتح کی فتح نہیں بلکہ اللہ کے دین کی فتح ہے۔ اور تمام امور کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور تمام فیصلے اللہ کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ ہے وہ روش اور بلند مرتبہ افق ، جس کے اوپر نظریں مرکوز کرنے کے لئے قرآن پوری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ اس بلند افق تک بلند ہوتی چلی جائے۔ جو شرافت اور نیکی کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ اس تک پہنچ کر انسان بڑا بن جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی بڑائی سے دستکش ہوجاتا ہے۔ یہاں اس کی روح آزاد ہوکر مسرت حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی غلامی اختیار کرلیتی ہے۔ غرض یہ ایک آزادی ہے جس میں انسان اپنی ذاتی اور مادی بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی روحانی مخلوق میں سے ایک مخلوق بن جاتا ہے اور یہ ایک ایسے مقام تک جا پہنچتا ہے کہ اللہ کی رضا اس کی رضا بن جاتی ہے اور یہ مقام حاصل کرنے کے بعد پھر وہ مجاہد بن جاتا ہے اور اس کی جدوجہد کا رخ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کی صورت میں بھلائی کی نصرت کرے اور حق کو حقیقت بنادے اور پھر اسلامی نظام کے قیام کے بعد وہ اس زمین کو ایسی ترقی دے اور دنیا کو ایسی قیادت فراہم کرے کہ دنیا شروفساد سے پاک ہوجائے۔ یہ قیادت صالح ، پاک اور تعمیری ہو۔ اور اس کا مقصد ہر بھلائی کو پھیلانا اور ترقی دینا ہو۔ اور اس طرح تمام امور کا رخ اللہ کی طرف پھیر دے۔ انسان اگر اپنی ذات کے محدود کنویں کا مینڈک ہو اور اس میں قید ہو تو پھر اس کی آزادی کی مساعی عبث بن جاتی ہیں۔ وہ آزادی کے بعد اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے ۔ شہوات اور خواہشات میں گرفتار ہوتا ہے ۔ انسان اگر خواہشات نفسانیہ کے دائرہ نشیب سے آزاد نہ ہو تو دوسری آزادیاں عبث ہیں ۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسری آزادیوں کے ساتھ انسان نفسانی خواہشات سے بھی آزاد ہوجائے تاکہ وہ اللہ کو یاد کرے اور اس کا غلام ہو ۔ یہ ہیں آداب نبوت ، جو نبوت کے ساتھ لازم رہے ہیں اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ انسانیت ان آداب نبوت کے آفاق تک بلند ہوجائے ۔ اور اگر وہاں تک نہ بھی پہنچ سکے تو اس کی نظریں اس افق پر ہوں ۔ دیکھئے یوسف (علیہ السلام) اس مقام تک پہنچے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مصر کے تمام خزائن اقتدار ان کے ہاتھ میں آچکے ہیں ۔ ان کا خواب سچا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے جب والدین کو اپنے تخت پر اٹھایا تو بھائیوں نے ان کے سامنے سجدہ کیا ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے والدین سے کہا کہ باپ ! یہ ہے میری خواب کی تعبیر ، اللہ نے اسے حقیقت بنادیا ۔ اللہ کا احسان دیکھئے کہ اس نے مجھے قید سے نکالا ، آپ لوگوں کو دیہات سے مصر لایا حالانکہ شیطان نے میرے بھائیوں کے درمیان نزاع ڈال دیا تھا۔ بیشک میرا رب لطیف تدابیر اختیار کرتا ہے اور وہ حکم وخبیر ہے۔ غرض ایسے موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) بلندی ، سرفرازی اور خوشی اور انبساط کے ماحول سے نکل آتے ہیں اور ذکر وفکر مشغول ہوکر اپنے رب کی حمدوثنا کرتے ہیں۔ وہ اقتدار کے عروج پر ہیں ان کے تمام خواب حقیقت بن گئے ہیں لیکن ان کی دعوت یہ ہے : رب قداتیتنی .................................... بالصلحین (101:12) ” اے میرے رب ! تو نے مجھے اقتدار بھی دیا ، اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم بھی دیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا وآخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیکوکاروں کے زمرے میں مجھے شامل کر “۔ یہاں جاہ واقتدار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اہل و عیال اور بہن بھائیوں کا یہ اجتماع اور ایک عرصہ بعد رشتہ داروں اور والدین کی ملاقات کی خوشی کافور ہوجاتی ہے۔ اب اس آخری منظر میں ہمیں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو رب تعالیٰ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ میرا اسلام محفوظ ہو اور میری سوسائٹی صالحین کے ساتھ ہو۔ اور یہ مرتبہ اللہ کے فضل وکرم سے ہی مل سکتا ہے۔ اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے آداب زندگی ملاحظہ ہوں۔ وہ بھی ایسے حالات میں ہیں کہ طرفتہ العین میں ملکہ سبا کا تخت ان کے سامنے ہے۔ دیکھئے قرآن ایسے حالات میں قوت وجاہ کے حالات میں ان کی کیفیات کس طرح ریکارڈ کرتا ہے۔ فلما راہ ............................................ غنی کریم (40:27) ” جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا پایا۔ تو وہ پکار اٹھے یہ میرے رب کے فضل وکرم سے ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں۔ اور جو کوئی شکر کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا اور جو ناشکری کرے گا میرا رب غنی اور بزرگ ہے “۔ اور یہی تھی حضرت محمد ﷺ کی روش۔ آپ کو اپنی پوری زندگی میں یہی ادب اختیار کیا اور نصرت وفتح کے موقعہ پر جسے اللہ نے آپ کے لئے خاص علامت قرار دیا تھا۔ تو حضور اپنی سواری کے اوپر جھکے ہوئے جارہے تھے۔ آپ مکہ میں اسی طرح سرجھکائے ہوئے داخل ہوئے۔ آج آپ اس مکہ میں جس نے آپ کو اذیتیں دی تھیں ، جس نے آپ کو گھر سے نکالا تھا۔ جس نے آپ کے ساتھ پے درپے جنگیں لڑیں ، جو آپ کی دعوت کی راہ میں معاندانہ طور پر ڈٹ گیا تھا۔ جب آپ کو نصرت اور فتح نصیب ہوئی تو آپ نے فتح و کامرانی کے شادیانے نہ بجائے۔ آپ رب کا شکر ادا کرتے ہوئے جھکے جارہے تھے۔ حمدوثنا میں مشغول تھے اور جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو تلقین کی تھی۔ آپ تسبیح وتہلیل اور استغفار کررہے تھے۔ جیسا کہ آثار میں آتا ہے کہ آپ کے بعد آپ کے صحابہ ؓ کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ یوں بشریت ایمان کے ذریعہ سر بلند ہوئی۔ انسانیت کا چہرہ روشن ہوگیا۔ وہ صاف و شفاف ہوگئی۔ اب انسانیت عظمت ، قوت اور آزادی کے مقام بلندتک پہنچ گئی۔ ٭٭٭٭٭

النصر 110:3

“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔ اذا جآء ........................ والفتح (1:110) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں کا اس کی آمد کے سلسلے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اور نہ ان کا نصرت الٰہیہ میں کچھ کردار ہے۔ نہ اس نصرت کے سلسلے میں ان کی ذاتی کمائی کا کوئی دخل ہے۔ نہ ان کی ذاتوں کا کوئی حصہ ہے۔ یہ نصرت ایک ایسا واقعہ ہے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی شخصیات سے نہیں ، باہر سے آتی ہے۔ ان کے لئے یہی اعزاز کافی ہے کہ اللہ یہ نصرت بظاہر ان کے ذریعہ لاتا ہے اور ان کو اس نصرت کا چوکیدار مقرر کرتا ہے اور اس نصرت اور فتح کے امین ہوتے ہیں۔ پس فتح ونصرت میں ان کا حصہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ جوق درجوق دین اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی۔ اس اشارے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکر کی روشنی میں ۔ اس اعزاز اور تکریم کے حوالے سے جو ان کے ہاتھوں نصرت اور فتح کے ظہور کے سلسلے میں ہوا۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کی حیثیت کا تعین ہوجاتا ہے۔ ان کی شان اور حیثیت اب یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوکر سراسر سپاس بن جائیں۔ اللہ کی حمدوثنا کریں اور اپنی کوتاہیوں پر مغفرت کی دعا کریں۔ یہ حمدوثنا اور شکر اس بات پر کہ اللہ نے ان کو اسلامی انقلاب کا امین اور نگراں بنایا اور اپنے دین کی نصرت فرما کر اور اسے غالب فرما کر پوری انسانیت پر احسان فرمایا۔ رسول اللہ فاتح ہوئے ، لوگ فوج درفوج اس خبرکثیر میں داخل ہوئے حالانکہ اس سے قبل وہ اندھے تھے ، گمراہ تھے اور سخت خسارے میں تھے۔ استغفار کس لئے ، یہ ان نفسیاتی عوامل کے لئے ہے جو نہایت لطیف انداز میں دلوں میں داخل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب کوئی قوت ایک طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد برسراقتدار آتی ہے تو فتح و کامرانی کے نشے میں اس کی نفسیات میں ایک قسم کا غرور چپکے سے داخل ہوجاتا ہے ، پھر مشکلات اور قربانیوں کے بعد انسان سے خوشیوں میں کچھ کو تاہیاں بھی ہوجاتی ہیں ، ان خفیہ نفسیاتی وائرس سے صرف توبہ و استغفار کے ذریعہ بچا جاسکتا ہے ، اس لئے یہاں استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ استغفار اس لئے بھی ہے کہ طویل جدوجہد کے زمانے میں انتھک حالات کے نتیجے میں شدید مشکلات اور نہایت گہرے کربناک حالات کی وجہ سے انسانی قلب میں گھٹن آجاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اللہ کی نصرت کے پہنچے میں دیر ہوگئی ہے ، اور داعی کو ہلامارا جاتا ہے۔ جیسا کہ بقرہ (114) میں کہا گیا ہے۔ ام حسبتم .................................... اللہ قریب (214:2) ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاﺅ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تم سے پہلے اہل ایمان کو سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ فقر وفاقہ اور شدائد وآلام سے دوچار ہوئے اور ہلا مارے گئے یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ، سنو اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ استغفار کرو۔ استغفار کا حکم اس لئے بھی دیا گیا کہ اللہ کی حمدوثنا میں انسان سے تقصیر ہوجاتی ہے۔ پس انسان کی جدوجہد جس قدر بھی زیادہ ہو ، وہ محدود ہوتی ہے اور انسان ضعیف ہے۔ اور اللہ کی نعمتیں ہمیشہ بیشمار ہیں اور اس کا فیض عام ہے۔ وان تعدو ........................ تحصوھا (34:14) ” اگر تم اللہ کے احسانات کو شمار کرو تو تم ان کا استعصا اور احاطہ نہیں کرسکتے “۔ لہٰذا اس تقصیر پر استغفار کا حکم دیا گیا۔ فتح و کامرانی کے موقعہ پر تسبیح و استغفار میں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ فخر ومباہات کے مقام پر نفس کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ انسان تو ہمیشہ عجز اور تقصیر کے مقام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ بڑوں کی سطح سے ذرا نیچے اتر آئے۔ اور اپنے رب سے اپنی تقصیرات کی معافی طلب کرے۔ اس طرح انسانی شعور اور انسانی نفسیات سے فخرومباہات کے میلانات کا صفایا ہوجاتا ہے۔ اگر ایک فاتح کے دل میں یہ شعور بیٹھ جائے کہ وہ عجز اور تقصیر کا پتلا ہے اور اسے اپنی تقصیرات پر اللہ سے دعائے مغفرت کرنا چاہئے تو ایسا فاتح کبھی بھی مفتوح لوگوں پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ ایسا شخص تو یوں سوچتا ہے کہ یہ تو اللہ کی ذات ہے جس کی نصرت کی وجہ سے وہ ان لوگوں پر مقتدر اعلیٰ بن گیا ہے۔ اگر اللہ کی نصرت نہ ہوتی تو وہ توبندہ ناچیز دیر تقصیر ہے اور اللہ نے جو اس کو اقتدار دیا ہے تو یہ اس لئے دیا ہے کہ اللہ مفتوح لوگوں کے بارے میں کوئی خیر اور بھلائی چاہتا ہے۔ درحقیقت فتح تو اللہ کی نصرت سے میسر ہوتی ہے۔ نصرت بھی اس کی ہے اور فتح بھی اس کی ہے اور یہ فاتح کی فتح نہیں بلکہ اللہ کے دین کی فتح ہے۔ اور تمام امور کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور تمام فیصلے اللہ کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ ہے وہ روش اور بلند مرتبہ افق ، جس کے اوپر نظریں مرکوز کرنے کے لئے قرآن پوری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ اس بلند افق تک بلند ہوتی چلی جائے۔ جو شرافت اور نیکی کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ اس تک پہنچ کر انسان بڑا بن جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی بڑائی سے دستکش ہوجاتا ہے۔ یہاں اس کی روح آزاد ہوکر مسرت حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی غلامی اختیار کرلیتی ہے۔ غرض یہ ایک آزادی ہے جس میں انسان اپنی ذاتی اور مادی بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی روحانی مخلوق میں سے ایک مخلوق بن جاتا ہے اور یہ ایک ایسے مقام تک جا پہنچتا ہے کہ اللہ کی رضا اس کی رضا بن جاتی ہے اور یہ مقام حاصل کرنے کے بعد پھر وہ مجاہد بن جاتا ہے اور اس کی جدوجہد کا رخ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کی صورت میں بھلائی کی نصرت کرے اور حق کو حقیقت بنادے اور پھر اسلامی نظام کے قیام کے بعد وہ اس زمین کو ایسی ترقی دے اور دنیا کو ایسی قیادت فراہم کرے کہ دنیا شروفساد سے پاک ہوجائے۔ یہ قیادت صالح ، پاک اور تعمیری ہو۔ اور اس کا مقصد ہر بھلائی کو پھیلانا اور ترقی دینا ہو۔ اور اس طرح تمام امور کا رخ اللہ کی طرف پھیر دے۔ انسان اگر اپنی ذات کے محدود کنویں کا مینڈک ہو اور اس میں قید ہو تو پھر اس کی آزادی کی مساعی عبث بن جاتی ہیں۔ وہ آزادی کے بعد اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے ۔ شہوات اور خواہشات میں گرفتار ہوتا ہے ۔ انسان اگر خواہشات نفسانیہ کے دائرہ نشیب سے آزاد نہ ہو تو دوسری آزادیاں عبث ہیں ۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسری آزادیوں کے ساتھ انسان نفسانی خواہشات سے بھی آزاد ہوجائے تاکہ وہ اللہ کو یاد کرے اور اس کا غلام ہو ۔ یہ ہیں آداب نبوت ، جو نبوت کے ساتھ لازم رہے ہیں اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ انسانیت ان آداب نبوت کے آفاق تک بلند ہوجائے ۔ اور اگر وہاں تک نہ بھی پہنچ سکے تو اس کی نظریں اس افق پر ہوں ۔ دیکھئے یوسف (علیہ السلام) اس مقام تک پہنچے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مصر کے تمام خزائن اقتدار ان کے ہاتھ میں آچکے ہیں ۔ ان کا خواب سچا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے جب والدین کو اپنے تخت پر اٹھایا تو بھائیوں نے ان کے سامنے سجدہ کیا ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے والدین سے کہا کہ باپ ! یہ ہے میری خواب کی تعبیر ، اللہ نے اسے حقیقت بنادیا ۔ اللہ کا احسان دیکھئے کہ اس نے مجھے قید سے نکالا ، آپ لوگوں کو دیہات سے مصر لایا حالانکہ شیطان نے میرے بھائیوں کے درمیان نزاع ڈال دیا تھا۔ بیشک میرا رب لطیف تدابیر اختیار کرتا ہے اور وہ حکم وخبیر ہے۔ غرض ایسے موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) بلندی ، سرفرازی اور خوشی اور انبساط کے ماحول سے نکل آتے ہیں اور ذکر وفکر مشغول ہوکر اپنے رب کی حمدوثنا کرتے ہیں۔ وہ اقتدار کے عروج پر ہیں ان کے تمام خواب حقیقت بن گئے ہیں لیکن ان کی دعوت یہ ہے : رب قداتیتنی .................................... بالصلحین (101:12) ” اے میرے رب ! تو نے مجھے اقتدار بھی دیا ، اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم بھی دیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا وآخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیکوکاروں کے زمرے میں مجھے شامل کر “۔ یہاں جاہ واقتدار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اہل و عیال اور بہن بھائیوں کا یہ اجتماع اور ایک عرصہ بعد رشتہ داروں اور والدین کی ملاقات کی خوشی کافور ہوجاتی ہے۔ اب اس آخری منظر میں ہمیں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو رب تعالیٰ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ میرا اسلام محفوظ ہو اور میری سوسائٹی صالحین کے ساتھ ہو۔ اور یہ مرتبہ اللہ کے فضل وکرم سے ہی مل سکتا ہے۔ اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے آداب زندگی ملاحظہ ہوں۔ وہ بھی ایسے حالات میں ہیں کہ طرفتہ العین میں ملکہ سبا کا تخت ان کے سامنے ہے۔ دیکھئے قرآن ایسے حالات میں قوت وجاہ کے حالات میں ان کی کیفیات کس طرح ریکارڈ کرتا ہے۔ فلما راہ ............................................ غنی کریم (40:27) ” جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا پایا۔ تو وہ پکار اٹھے یہ میرے رب کے فضل وکرم سے ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں۔ اور جو کوئی شکر کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا اور جو ناشکری کرے گا میرا رب غنی اور بزرگ ہے “۔ اور یہی تھی حضرت محمد ﷺ کی روش۔ آپ کو اپنی پوری زندگی میں یہی ادب اختیار کیا اور نصرت وفتح کے موقعہ پر جسے اللہ نے آپ کے لئے خاص علامت قرار دیا تھا۔ تو حضور اپنی سواری کے اوپر جھکے ہوئے جارہے تھے۔ آپ مکہ میں اسی طرح سرجھکائے ہوئے داخل ہوئے۔ آج آپ اس مکہ میں جس نے آپ کو اذیتیں دی تھیں ، جس نے آپ کو گھر سے نکالا تھا۔ جس نے آپ کے ساتھ پے درپے جنگیں لڑیں ، جو آپ کی دعوت کی راہ میں معاندانہ طور پر ڈٹ گیا تھا۔ جب آپ کو نصرت اور فتح نصیب ہوئی تو آپ نے فتح و کامرانی کے شادیانے نہ بجائے۔ آپ رب کا شکر ادا کرتے ہوئے جھکے جارہے تھے۔ حمدوثنا میں مشغول تھے اور جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو تلقین کی تھی۔ آپ تسبیح وتہلیل اور استغفار کررہے تھے۔ جیسا کہ آثار میں آتا ہے کہ آپ کے بعد آپ کے صحابہ ؓ کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔ اللہ ان سے راضی ہو۔ یوں بشریت ایمان کے ذریعہ سر بلند ہوئی۔ انسانیت کا چہرہ روشن ہوگیا۔ وہ صاف و شفاف ہوگئی۔ اب انسانیت عظمت ، قوت اور آزادی کے مقام بلندتک پہنچ گئی۔ ٭٭٭٭٭

المسد 111:1

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری آیت میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔ ما اغنی ................ کسب (2:111) ” اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا “۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ، وہ ہلاک وبرباد ہوگیا۔ اسکا مال اور اسلام کے خلاف جدوجہد اس کے کچھ کام نہ آئی اور اس کی دولت اور اس کی مکاریاں اسے ہلاکت نہ بچا سکیں۔ یہ تو تھا اس کا انجام دنیا میں۔ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا ؟ سیصلی ............................ لھب (3:111) ” ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا “۔ لہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بہت شدید اور شعلہ بار ہوگی اور سخت بھڑکی ہوئی ہوگی۔ وامراتہ .................... الحطب (4:111) ” اور اس کی جورو لکڑیاں اٹھانے والی “۔ بھی اس آگ میں ڈالی جائی گی ، اس حال میں کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوگی اور اس حال میں کہ۔ فی جیدھا .................... مسد (5:111) ” اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “۔ اور اس رسی کے ساتھ اسے آگ میں باندھ دیا جائے گا یا یہ رسی وہ ہوگی جس کے ساتھ لکڑیاں باندھی جاتی ہیں۔ اگر اس کا حقیقی معنی لیا جائے تو وہ وہاں بھی لکڑیوں اور کانٹوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے جہنم میں جائے گی اور اگر مجازی معنی لیا جائے تو معنی یہ ہوگا اور شرارت کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا نے کی سعی کرتی ہے۔ اس سورت کا طرز ادا اس کے موضوعات اور معانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ سورت کی فضا کے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ” قرآن میں مناظر قیامت “ سے چند سطریں یہاں نقل کرنا ضروری ہیں۔ ان کا یہاں نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس اس سورت کے نزول سے ام جمیل کے دل میں ایک ایسا تیر لگا جس کی وجہ سے وہ برافروختہ ہوگئی اور پاگل ہوکر رہ گئی۔ ” ابولہب (شعلوں کا باپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہوگی اس کی عورت جو حضور کی راہ میں خاردار جھاڑیاں لاکر ڈالتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہوگی “۔ ” الفاظ بھی باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ، تصاویر بھی باہم ، یک رنگ ، بس جہنم میں اس کو گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باب (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ کے راستے میں ڈالتی ہے اور آپ کو ایذائیں دیتی ہے ، خواہ حقیقی معنی لیا جائے یا استعارہ۔ لکڑیوں سے آگ کو بھی بھڑکایا جاتا ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں میں باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لئے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسی سے باندھا دیا جائے گا۔ اور اسے اس رسی سے باندھ دیا جائے گا جس سے وہ لکڑیاں لاتی تھی۔ تاکہ سزا ایسی ہو جیسا اس کا جرم تھا۔ اور یہ تصویر اپنے سادہ رنگوں کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے رنگ میں لکڑیاں ، رسی ، آگ اور شعلے ہوں۔ اور اس آگ میں میاں بیوی دونوں تپ رہے ہیں “۔ ایک دوسرے زاویہ سے بھی اس سورت میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کی صوتی جھنکار ، لکڑیوں کے گھٹے کے باندھنے کی آواز اور گردن کو رسی سے باندھنے کی آواز بھی باہم یکساں ہیں۔ ذرا پڑھئے۔ تبت یدا .................... وتب (1:111) ” ان الفاظ میں شد کی صوتی درشتگی ایسی ہی ہے جس طرح لکڑیوں کے گھٹے کو باندھنے میں سختی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ الفاظ شدید ہیں اسی طرح گردن میں رسی باندھنے کا عمل اور اسے کھینچنا شدید ہے۔ اور پوری سورت میں اسی طرح کی گٹھن کی فضا ہے “۔ اس طرح صوتی ترنم ، عملی کشاکش کی آواز ، اور سورت کی حرکات کی جزئیات کے درمیان گہری مناسبت اور ہم آہنگی ہے۔ پھر الفاظ بھی ہم جنس ، اور تعبیر میں یکسانی کا لحاظ ، سب کے سب سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پھر یہ تمام چیزیں سبب نزول اور سورت کے پس منظر کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ یہ سب فنی خوبیاں صرف پانچ مختصر فقروں میں ملحوظ خاطر رکھی گئی ہیں اور قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک میں اس فنی کمال کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ان فنی خوبیوں کی وجہ سے اور بےپناہ اثر کی وجہ سے ام جمیل کا تاثر یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہیں اس کی ہجو کی ہے۔ یہ سورت فوراً مکہ میں پھیل گئی تھی ، جس میں میاں بیوی کی مذمت کی گئی تھی ، ان کو دھمکی دی گئی تھی اور نہایت بھدی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ ایسی تصویر کشی تھی جس نے ایک خود پسند عورت کے دل کو چور چور کردیا۔ جسے اپنے نسب وحسب پر بہت ہی غرور تھا۔ جو اپنے آپ کو بہت ہی اونچے گھرانے کی عورت سمجھتی تھی۔ لیکن قرآن نے اس کی تصویر کشی یوں کی : حمالة ........................ من مسد (5:111) ” عورت ، جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے اور جس کے گلے میں چھال کی رسی بندھی ہوئی ہے “۔ یہ نہایت ہی عام صورت حالات ہے جو عربوں میں عام تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں مجھ تک یہ تذکرہ پہنچا ہے کہ ام جمیل حمالة الحطب نے جب اس سورت کے نزول کے بارے میں سنا کہ یہ اس کے بارے میں اور اس کے خاوند کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ گئی اور حضور اکرم ﷺ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مٹھی پتھروں سے بھری ہوئی تھی ، جب یہ ان دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی آنکھوں پر اس طرح پر دہڈال دیا کہ وہ صرف ابوبکر کو دیکھ سکتی تھی۔ تو اس نے کہا : ” ابوبکر کہاں ہے تمہارا ساتھی ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا۔ مذمما عصینا وامرہ ابینا وہ محمد نہیں بلکہ مذمت کیے ہوئے ہیں ، ہم نے ان کی نافرمانی کی ہے اور ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا یا ان کے دین کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے کہا : کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے مجھے نہیں دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا “۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ، جب سورة تبت یدا .................... وتب (1:111) نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی حرم میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا حضور اگر آپ ایک طرف ہوجائیں تو یہ آپ کو اذیت نہ دے سکے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا “ ۔ یہ آئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کھڑے ہوگئی اور کہا : ” ابوبکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے “۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” اس گھر کی قسم انہوں نے ایسا نہیں کیا ، وہ نہ شعر کہتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں “۔ تو اس نے کہا آپ تو سچے ہیں۔ جب واپس گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ” حضور کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ تو آپ نے فرمایا ’ جب تک وہ کھڑی رہی فرشتے مجھ پر ستر پھیلاتے رہے جب تک وہ چلی نہیں گئی “۔ غرض اس کا پارہ اس قدر چڑھ گیا تھا کیونکہ یہ سورت پھیلی گئی تھی ، اس نے اسے ہجو سمجھا۔ اس زمانے میں ہجو صرف اشعار میں ہوتی تھی۔ اس لئے حضرت ابوبکر ؓ نے جائز طور پر ہجو کی تردید کردی۔ اور وہ بہت سچے مانے جاتے تھے لیکن ان آیات میں اس کی جو حقارت آمیز تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس دائمی کتاب میں ریکارڈ کردی گئی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی لازوال ہے اور ان دونوں کی مذمت بھی لازوال ہوگئی ۔ ایور یہ ایسی تصویر ہے جو ایک بولتی تصویر ہے۔ یہ ہے سزا حضور اکرم ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف سازش کرنے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوت اسلامی اور داعیان حق کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی ناکامی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک اور برباد ہوں گے۔ اور آخرت میں بھی وہ ایک سخت سزا پائیں گے۔ یہ ان کی مناسب سز ہوگی۔ دنیا میں لکڑ ہاروں کی رسی جسے ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آخرت میں بھی یہ رسی اس کے گلے میں ہوگی اور یہ ذلت کی کافی نشانی ہوگی۔

المسد 111:2

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری آیت میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔ ما اغنی ................ کسب (2:111) ” اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا “۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ، وہ ہلاک وبرباد ہوگیا۔ اسکا مال اور اسلام کے خلاف جدوجہد اس کے کچھ کام نہ آئی اور اس کی دولت اور اس کی مکاریاں اسے ہلاکت نہ بچا سکیں۔ یہ تو تھا اس کا انجام دنیا میں۔ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا ؟ سیصلی ............................ لھب (3:111) ” ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا “۔ لہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بہت شدید اور شعلہ بار ہوگی اور سخت بھڑکی ہوئی ہوگی۔ وامراتہ .................... الحطب (4:111) ” اور اس کی جورو لکڑیاں اٹھانے والی “۔ بھی اس آگ میں ڈالی جائی گی ، اس حال میں کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوگی اور اس حال میں کہ۔ فی جیدھا .................... مسد (5:111) ” اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “۔ اور اس رسی کے ساتھ اسے آگ میں باندھ دیا جائے گا یا یہ رسی وہ ہوگی جس کے ساتھ لکڑیاں باندھی جاتی ہیں۔ اگر اس کا حقیقی معنی لیا جائے تو وہ وہاں بھی لکڑیوں اور کانٹوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے جہنم میں جائے گی اور اگر مجازی معنی لیا جائے تو معنی یہ ہوگا اور شرارت کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا نے کی سعی کرتی ہے۔ اس سورت کا طرز ادا اس کے موضوعات اور معانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ سورت کی فضا کے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ” قرآن میں مناظر قیامت “ سے چند سطریں یہاں نقل کرنا ضروری ہیں۔ ان کا یہاں نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس اس سورت کے نزول سے ام جمیل کے دل میں ایک ایسا تیر لگا جس کی وجہ سے وہ برافروختہ ہوگئی اور پاگل ہوکر رہ گئی۔ ” ابولہب (شعلوں کا باپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہوگی اس کی عورت جو حضور کی راہ میں خاردار جھاڑیاں لاکر ڈالتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہوگی “۔ ” الفاظ بھی باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ، تصاویر بھی باہم ، یک رنگ ، بس جہنم میں اس کو گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باب (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ کے راستے میں ڈالتی ہے اور آپ کو ایذائیں دیتی ہے ، خواہ حقیقی معنی لیا جائے یا استعارہ۔ لکڑیوں سے آگ کو بھی بھڑکایا جاتا ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں میں باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لئے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسی سے باندھا دیا جائے گا۔ اور اسے اس رسی سے باندھ دیا جائے گا جس سے وہ لکڑیاں لاتی تھی۔ تاکہ سزا ایسی ہو جیسا اس کا جرم تھا۔ اور یہ تصویر اپنے سادہ رنگوں کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے رنگ میں لکڑیاں ، رسی ، آگ اور شعلے ہوں۔ اور اس آگ میں میاں بیوی دونوں تپ رہے ہیں “۔ ایک دوسرے زاویہ سے بھی اس سورت میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کی صوتی جھنکار ، لکڑیوں کے گھٹے کے باندھنے کی آواز اور گردن کو رسی سے باندھنے کی آواز بھی باہم یکساں ہیں۔ ذرا پڑھئے۔ تبت یدا .................... وتب (1:111) ” ان الفاظ میں شد کی صوتی درشتگی ایسی ہی ہے جس طرح لکڑیوں کے گھٹے کو باندھنے میں سختی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ الفاظ شدید ہیں اسی طرح گردن میں رسی باندھنے کا عمل اور اسے کھینچنا شدید ہے۔ اور پوری سورت میں اسی طرح کی گٹھن کی فضا ہے “۔ اس طرح صوتی ترنم ، عملی کشاکش کی آواز ، اور سورت کی حرکات کی جزئیات کے درمیان گہری مناسبت اور ہم آہنگی ہے۔ پھر الفاظ بھی ہم جنس ، اور تعبیر میں یکسانی کا لحاظ ، سب کے سب سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پھر یہ تمام چیزیں سبب نزول اور سورت کے پس منظر کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ یہ سب فنی خوبیاں صرف پانچ مختصر فقروں میں ملحوظ خاطر رکھی گئی ہیں اور قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک میں اس فنی کمال کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ان فنی خوبیوں کی وجہ سے اور بےپناہ اثر کی وجہ سے ام جمیل کا تاثر یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہیں اس کی ہجو کی ہے۔ یہ سورت فوراً مکہ میں پھیل گئی تھی ، جس میں میاں بیوی کی مذمت کی گئی تھی ، ان کو دھمکی دی گئی تھی اور نہایت بھدی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ ایسی تصویر کشی تھی جس نے ایک خود پسند عورت کے دل کو چور چور کردیا۔ جسے اپنے نسب وحسب پر بہت ہی غرور تھا۔ جو اپنے آپ کو بہت ہی اونچے گھرانے کی عورت سمجھتی تھی۔ لیکن قرآن نے اس کی تصویر کشی یوں کی : حمالة ........................ من مسد (5:111) ” عورت ، جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے اور جس کے گلے میں چھال کی رسی بندھی ہوئی ہے “۔ یہ نہایت ہی عام صورت حالات ہے جو عربوں میں عام تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں مجھ تک یہ تذکرہ پہنچا ہے کہ ام جمیل حمالة الحطب نے جب اس سورت کے نزول کے بارے میں سنا کہ یہ اس کے بارے میں اور اس کے خاوند کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ گئی اور حضور اکرم ﷺ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مٹھی پتھروں سے بھری ہوئی تھی ، جب یہ ان دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی آنکھوں پر اس طرح پر دہڈال دیا کہ وہ صرف ابوبکر کو دیکھ سکتی تھی۔ تو اس نے کہا : ” ابوبکر کہاں ہے تمہارا ساتھی ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا۔ مذمما عصینا وامرہ ابینا وہ محمد نہیں بلکہ مذمت کیے ہوئے ہیں ، ہم نے ان کی نافرمانی کی ہے اور ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا یا ان کے دین کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے کہا : کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے مجھے نہیں دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا “۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ، جب سورة تبت یدا .................... وتب (1:111) نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی حرم میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا حضور اگر آپ ایک طرف ہوجائیں تو یہ آپ کو اذیت نہ دے سکے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا “ ۔ یہ آئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کھڑے ہوگئی اور کہا : ” ابوبکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے “۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” اس گھر کی قسم انہوں نے ایسا نہیں کیا ، وہ نہ شعر کہتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں “۔ تو اس نے کہا آپ تو سچے ہیں۔ جب واپس گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ” حضور کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ تو آپ نے فرمایا ’ جب تک وہ کھڑی رہی فرشتے مجھ پر ستر پھیلاتے رہے جب تک وہ چلی نہیں گئی “۔ غرض اس کا پارہ اس قدر چڑھ گیا تھا کیونکہ یہ سورت پھیلی گئی تھی ، اس نے اسے ہجو سمجھا۔ اس زمانے میں ہجو صرف اشعار میں ہوتی تھی۔ اس لئے حضرت ابوبکر ؓ نے جائز طور پر ہجو کی تردید کردی۔ اور وہ بہت سچے مانے جاتے تھے لیکن ان آیات میں اس کی جو حقارت آمیز تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس دائمی کتاب میں ریکارڈ کردی گئی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی لازوال ہے اور ان دونوں کی مذمت بھی لازوال ہوگئی ۔ ایور یہ ایسی تصویر ہے جو ایک بولتی تصویر ہے۔ یہ ہے سزا حضور اکرم ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف سازش کرنے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوت اسلامی اور داعیان حق کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی ناکامی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک اور برباد ہوں گے۔ اور آخرت میں بھی وہ ایک سخت سزا پائیں گے۔ یہ ان کی مناسب سز ہوگی۔ دنیا میں لکڑ ہاروں کی رسی جسے ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آخرت میں بھی یہ رسی اس کے گلے میں ہوگی اور یہ ذلت کی کافی نشانی ہوگی۔

المسد 111:3

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری آیت میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔ ما اغنی ................ کسب (2:111) ” اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا “۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ، وہ ہلاک وبرباد ہوگیا۔ اسکا مال اور اسلام کے خلاف جدوجہد اس کے کچھ کام نہ آئی اور اس کی دولت اور اس کی مکاریاں اسے ہلاکت نہ بچا سکیں۔ یہ تو تھا اس کا انجام دنیا میں۔ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا ؟ سیصلی ............................ لھب (3:111) ” ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا “۔ لہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بہت شدید اور شعلہ بار ہوگی اور سخت بھڑکی ہوئی ہوگی۔ وامراتہ .................... الحطب (4:111) ” اور اس کی جورو لکڑیاں اٹھانے والی “۔ بھی اس آگ میں ڈالی جائی گی ، اس حال میں کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوگی اور اس حال میں کہ۔ فی جیدھا .................... مسد (5:111) ” اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “۔ اور اس رسی کے ساتھ اسے آگ میں باندھ دیا جائے گا یا یہ رسی وہ ہوگی جس کے ساتھ لکڑیاں باندھی جاتی ہیں۔ اگر اس کا حقیقی معنی لیا جائے تو وہ وہاں بھی لکڑیوں اور کانٹوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے جہنم میں جائے گی اور اگر مجازی معنی لیا جائے تو معنی یہ ہوگا اور شرارت کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا نے کی سعی کرتی ہے۔ اس سورت کا طرز ادا اس کے موضوعات اور معانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ سورت کی فضا کے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ” قرآن میں مناظر قیامت “ سے چند سطریں یہاں نقل کرنا ضروری ہیں۔ ان کا یہاں نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس اس سورت کے نزول سے ام جمیل کے دل میں ایک ایسا تیر لگا جس کی وجہ سے وہ برافروختہ ہوگئی اور پاگل ہوکر رہ گئی۔ ” ابولہب (شعلوں کا باپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہوگی اس کی عورت جو حضور کی راہ میں خاردار جھاڑیاں لاکر ڈالتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہوگی “۔ ” الفاظ بھی باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ، تصاویر بھی باہم ، یک رنگ ، بس جہنم میں اس کو گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باب (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ کے راستے میں ڈالتی ہے اور آپ کو ایذائیں دیتی ہے ، خواہ حقیقی معنی لیا جائے یا استعارہ۔ لکڑیوں سے آگ کو بھی بھڑکایا جاتا ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں میں باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لئے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسی سے باندھا دیا جائے گا۔ اور اسے اس رسی سے باندھ دیا جائے گا جس سے وہ لکڑیاں لاتی تھی۔ تاکہ سزا ایسی ہو جیسا اس کا جرم تھا۔ اور یہ تصویر اپنے سادہ رنگوں کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے رنگ میں لکڑیاں ، رسی ، آگ اور شعلے ہوں۔ اور اس آگ میں میاں بیوی دونوں تپ رہے ہیں “۔ ایک دوسرے زاویہ سے بھی اس سورت میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کی صوتی جھنکار ، لکڑیوں کے گھٹے کے باندھنے کی آواز اور گردن کو رسی سے باندھنے کی آواز بھی باہم یکساں ہیں۔ ذرا پڑھئے۔ تبت یدا .................... وتب (1:111) ” ان الفاظ میں شد کی صوتی درشتگی ایسی ہی ہے جس طرح لکڑیوں کے گھٹے کو باندھنے میں سختی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ الفاظ شدید ہیں اسی طرح گردن میں رسی باندھنے کا عمل اور اسے کھینچنا شدید ہے۔ اور پوری سورت میں اسی طرح کی گٹھن کی فضا ہے “۔ اس طرح صوتی ترنم ، عملی کشاکش کی آواز ، اور سورت کی حرکات کی جزئیات کے درمیان گہری مناسبت اور ہم آہنگی ہے۔ پھر الفاظ بھی ہم جنس ، اور تعبیر میں یکسانی کا لحاظ ، سب کے سب سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پھر یہ تمام چیزیں سبب نزول اور سورت کے پس منظر کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ یہ سب فنی خوبیاں صرف پانچ مختصر فقروں میں ملحوظ خاطر رکھی گئی ہیں اور قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک میں اس فنی کمال کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ان فنی خوبیوں کی وجہ سے اور بےپناہ اثر کی وجہ سے ام جمیل کا تاثر یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہیں اس کی ہجو کی ہے۔ یہ سورت فوراً مکہ میں پھیل گئی تھی ، جس میں میاں بیوی کی مذمت کی گئی تھی ، ان کو دھمکی دی گئی تھی اور نہایت بھدی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ ایسی تصویر کشی تھی جس نے ایک خود پسند عورت کے دل کو چور چور کردیا۔ جسے اپنے نسب وحسب پر بہت ہی غرور تھا۔ جو اپنے آپ کو بہت ہی اونچے گھرانے کی عورت سمجھتی تھی۔ لیکن قرآن نے اس کی تصویر کشی یوں کی : حمالة ........................ من مسد (5:111) ” عورت ، جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے اور جس کے گلے میں چھال کی رسی بندھی ہوئی ہے “۔ یہ نہایت ہی عام صورت حالات ہے جو عربوں میں عام تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں مجھ تک یہ تذکرہ پہنچا ہے کہ ام جمیل حمالة الحطب نے جب اس سورت کے نزول کے بارے میں سنا کہ یہ اس کے بارے میں اور اس کے خاوند کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ گئی اور حضور اکرم ﷺ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مٹھی پتھروں سے بھری ہوئی تھی ، جب یہ ان دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی آنکھوں پر اس طرح پر دہڈال دیا کہ وہ صرف ابوبکر کو دیکھ سکتی تھی۔ تو اس نے کہا : ” ابوبکر کہاں ہے تمہارا ساتھی ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا۔ مذمما عصینا وامرہ ابینا وہ محمد نہیں بلکہ مذمت کیے ہوئے ہیں ، ہم نے ان کی نافرمانی کی ہے اور ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا یا ان کے دین کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے کہا : کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے مجھے نہیں دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا “۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ، جب سورة تبت یدا .................... وتب (1:111) نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی حرم میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا حضور اگر آپ ایک طرف ہوجائیں تو یہ آپ کو اذیت نہ دے سکے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا “ ۔ یہ آئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کھڑے ہوگئی اور کہا : ” ابوبکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے “۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” اس گھر کی قسم انہوں نے ایسا نہیں کیا ، وہ نہ شعر کہتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں “۔ تو اس نے کہا آپ تو سچے ہیں۔ جب واپس گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ” حضور کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ تو آپ نے فرمایا ’ جب تک وہ کھڑی رہی فرشتے مجھ پر ستر پھیلاتے رہے جب تک وہ چلی نہیں گئی “۔ غرض اس کا پارہ اس قدر چڑھ گیا تھا کیونکہ یہ سورت پھیلی گئی تھی ، اس نے اسے ہجو سمجھا۔ اس زمانے میں ہجو صرف اشعار میں ہوتی تھی۔ اس لئے حضرت ابوبکر ؓ نے جائز طور پر ہجو کی تردید کردی۔ اور وہ بہت سچے مانے جاتے تھے لیکن ان آیات میں اس کی جو حقارت آمیز تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس دائمی کتاب میں ریکارڈ کردی گئی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی لازوال ہے اور ان دونوں کی مذمت بھی لازوال ہوگئی ۔ ایور یہ ایسی تصویر ہے جو ایک بولتی تصویر ہے۔ یہ ہے سزا حضور اکرم ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف سازش کرنے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوت اسلامی اور داعیان حق کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی ناکامی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک اور برباد ہوں گے۔ اور آخرت میں بھی وہ ایک سخت سزا پائیں گے۔ یہ ان کی مناسب سز ہوگی۔ دنیا میں لکڑ ہاروں کی رسی جسے ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آخرت میں بھی یہ رسی اس کے گلے میں ہوگی اور یہ ذلت کی کافی نشانی ہوگی۔

المسد 111:4

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری آیت میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔ ما اغنی ................ کسب (2:111) ” اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا “۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ، وہ ہلاک وبرباد ہوگیا۔ اسکا مال اور اسلام کے خلاف جدوجہد اس کے کچھ کام نہ آئی اور اس کی دولت اور اس کی مکاریاں اسے ہلاکت نہ بچا سکیں۔ یہ تو تھا اس کا انجام دنیا میں۔ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا ؟ سیصلی ............................ لھب (3:111) ” ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا “۔ لہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بہت شدید اور شعلہ بار ہوگی اور سخت بھڑکی ہوئی ہوگی۔ وامراتہ .................... الحطب (4:111) ” اور اس کی جورو لکڑیاں اٹھانے والی “۔ بھی اس آگ میں ڈالی جائی گی ، اس حال میں کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوگی اور اس حال میں کہ۔ فی جیدھا .................... مسد (5:111) ” اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “۔ اور اس رسی کے ساتھ اسے آگ میں باندھ دیا جائے گا یا یہ رسی وہ ہوگی جس کے ساتھ لکڑیاں باندھی جاتی ہیں۔ اگر اس کا حقیقی معنی لیا جائے تو وہ وہاں بھی لکڑیوں اور کانٹوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے جہنم میں جائے گی اور اگر مجازی معنی لیا جائے تو معنی یہ ہوگا اور شرارت کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا نے کی سعی کرتی ہے۔ اس سورت کا طرز ادا اس کے موضوعات اور معانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ سورت کی فضا کے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ” قرآن میں مناظر قیامت “ سے چند سطریں یہاں نقل کرنا ضروری ہیں۔ ان کا یہاں نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس اس سورت کے نزول سے ام جمیل کے دل میں ایک ایسا تیر لگا جس کی وجہ سے وہ برافروختہ ہوگئی اور پاگل ہوکر رہ گئی۔ ” ابولہب (شعلوں کا باپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہوگی اس کی عورت جو حضور کی راہ میں خاردار جھاڑیاں لاکر ڈالتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہوگی “۔ ” الفاظ بھی باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ، تصاویر بھی باہم ، یک رنگ ، بس جہنم میں اس کو گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باب (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ کے راستے میں ڈالتی ہے اور آپ کو ایذائیں دیتی ہے ، خواہ حقیقی معنی لیا جائے یا استعارہ۔ لکڑیوں سے آگ کو بھی بھڑکایا جاتا ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں میں باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لئے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسی سے باندھا دیا جائے گا۔ اور اسے اس رسی سے باندھ دیا جائے گا جس سے وہ لکڑیاں لاتی تھی۔ تاکہ سزا ایسی ہو جیسا اس کا جرم تھا۔ اور یہ تصویر اپنے سادہ رنگوں کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے رنگ میں لکڑیاں ، رسی ، آگ اور شعلے ہوں۔ اور اس آگ میں میاں بیوی دونوں تپ رہے ہیں “۔ ایک دوسرے زاویہ سے بھی اس سورت میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کی صوتی جھنکار ، لکڑیوں کے گھٹے کے باندھنے کی آواز اور گردن کو رسی سے باندھنے کی آواز بھی باہم یکساں ہیں۔ ذرا پڑھئے۔ تبت یدا .................... وتب (1:111) ” ان الفاظ میں شد کی صوتی درشتگی ایسی ہی ہے جس طرح لکڑیوں کے گھٹے کو باندھنے میں سختی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ الفاظ شدید ہیں اسی طرح گردن میں رسی باندھنے کا عمل اور اسے کھینچنا شدید ہے۔ اور پوری سورت میں اسی طرح کی گٹھن کی فضا ہے “۔ اس طرح صوتی ترنم ، عملی کشاکش کی آواز ، اور سورت کی حرکات کی جزئیات کے درمیان گہری مناسبت اور ہم آہنگی ہے۔ پھر الفاظ بھی ہم جنس ، اور تعبیر میں یکسانی کا لحاظ ، سب کے سب سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پھر یہ تمام چیزیں سبب نزول اور سورت کے پس منظر کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ یہ سب فنی خوبیاں صرف پانچ مختصر فقروں میں ملحوظ خاطر رکھی گئی ہیں اور قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک میں اس فنی کمال کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ان فنی خوبیوں کی وجہ سے اور بےپناہ اثر کی وجہ سے ام جمیل کا تاثر یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہیں اس کی ہجو کی ہے۔ یہ سورت فوراً مکہ میں پھیل گئی تھی ، جس میں میاں بیوی کی مذمت کی گئی تھی ، ان کو دھمکی دی گئی تھی اور نہایت بھدی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ ایسی تصویر کشی تھی جس نے ایک خود پسند عورت کے دل کو چور چور کردیا۔ جسے اپنے نسب وحسب پر بہت ہی غرور تھا۔ جو اپنے آپ کو بہت ہی اونچے گھرانے کی عورت سمجھتی تھی۔ لیکن قرآن نے اس کی تصویر کشی یوں کی : حمالة ........................ من مسد (5:111) ” عورت ، جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے اور جس کے گلے میں چھال کی رسی بندھی ہوئی ہے “۔ یہ نہایت ہی عام صورت حالات ہے جو عربوں میں عام تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں مجھ تک یہ تذکرہ پہنچا ہے کہ ام جمیل حمالة الحطب نے جب اس سورت کے نزول کے بارے میں سنا کہ یہ اس کے بارے میں اور اس کے خاوند کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ گئی اور حضور اکرم ﷺ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مٹھی پتھروں سے بھری ہوئی تھی ، جب یہ ان دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی آنکھوں پر اس طرح پر دہڈال دیا کہ وہ صرف ابوبکر کو دیکھ سکتی تھی۔ تو اس نے کہا : ” ابوبکر کہاں ہے تمہارا ساتھی ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا۔ مذمما عصینا وامرہ ابینا وہ محمد نہیں بلکہ مذمت کیے ہوئے ہیں ، ہم نے ان کی نافرمانی کی ہے اور ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا یا ان کے دین کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے کہا : کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے مجھے نہیں دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا “۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ، جب سورة تبت یدا .................... وتب (1:111) نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی حرم میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا حضور اگر آپ ایک طرف ہوجائیں تو یہ آپ کو اذیت نہ دے سکے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا “ ۔ یہ آئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کھڑے ہوگئی اور کہا : ” ابوبکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے “۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” اس گھر کی قسم انہوں نے ایسا نہیں کیا ، وہ نہ شعر کہتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں “۔ تو اس نے کہا آپ تو سچے ہیں۔ جب واپس گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ” حضور کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ تو آپ نے فرمایا ’ جب تک وہ کھڑی رہی فرشتے مجھ پر ستر پھیلاتے رہے جب تک وہ چلی نہیں گئی “۔ غرض اس کا پارہ اس قدر چڑھ گیا تھا کیونکہ یہ سورت پھیلی گئی تھی ، اس نے اسے ہجو سمجھا۔ اس زمانے میں ہجو صرف اشعار میں ہوتی تھی۔ اس لئے حضرت ابوبکر ؓ نے جائز طور پر ہجو کی تردید کردی۔ اور وہ بہت سچے مانے جاتے تھے لیکن ان آیات میں اس کی جو حقارت آمیز تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس دائمی کتاب میں ریکارڈ کردی گئی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی لازوال ہے اور ان دونوں کی مذمت بھی لازوال ہوگئی ۔ ایور یہ ایسی تصویر ہے جو ایک بولتی تصویر ہے۔ یہ ہے سزا حضور اکرم ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف سازش کرنے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوت اسلامی اور داعیان حق کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی ناکامی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک اور برباد ہوں گے۔ اور آخرت میں بھی وہ ایک سخت سزا پائیں گے۔ یہ ان کی مناسب سز ہوگی۔ دنیا میں لکڑ ہاروں کی رسی جسے ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آخرت میں بھی یہ رسی اس کے گلے میں ہوگی اور یہ ذلت کی کافی نشانی ہوگی۔

المسد 111:5

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری آیت میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔ ما اغنی ................ کسب (2:111) ” اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا “۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ، وہ ہلاک وبرباد ہوگیا۔ اسکا مال اور اسلام کے خلاف جدوجہد اس کے کچھ کام نہ آئی اور اس کی دولت اور اس کی مکاریاں اسے ہلاکت نہ بچا سکیں۔ یہ تو تھا اس کا انجام دنیا میں۔ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا ؟ سیصلی ............................ لھب (3:111) ” ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا “۔ لہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بہت شدید اور شعلہ بار ہوگی اور سخت بھڑکی ہوئی ہوگی۔ وامراتہ .................... الحطب (4:111) ” اور اس کی جورو لکڑیاں اٹھانے والی “۔ بھی اس آگ میں ڈالی جائی گی ، اس حال میں کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوگی اور اس حال میں کہ۔ فی جیدھا .................... مسد (5:111) ” اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “۔ اور اس رسی کے ساتھ اسے آگ میں باندھ دیا جائے گا یا یہ رسی وہ ہوگی جس کے ساتھ لکڑیاں باندھی جاتی ہیں۔ اگر اس کا حقیقی معنی لیا جائے تو وہ وہاں بھی لکڑیوں اور کانٹوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے جہنم میں جائے گی اور اگر مجازی معنی لیا جائے تو معنی یہ ہوگا اور شرارت کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا نے کی سعی کرتی ہے۔ اس سورت کا طرز ادا اس کے موضوعات اور معانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ سورت کی فضا کے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ” قرآن میں مناظر قیامت “ سے چند سطریں یہاں نقل کرنا ضروری ہیں۔ ان کا یہاں نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس اس سورت کے نزول سے ام جمیل کے دل میں ایک ایسا تیر لگا جس کی وجہ سے وہ برافروختہ ہوگئی اور پاگل ہوکر رہ گئی۔ ” ابولہب (شعلوں کا باپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہوگی اس کی عورت جو حضور کی راہ میں خاردار جھاڑیاں لاکر ڈالتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہوگی “۔ ” الفاظ بھی باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ، تصاویر بھی باہم ، یک رنگ ، بس جہنم میں اس کو گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باب (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ کے راستے میں ڈالتی ہے اور آپ کو ایذائیں دیتی ہے ، خواہ حقیقی معنی لیا جائے یا استعارہ۔ لکڑیوں سے آگ کو بھی بھڑکایا جاتا ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں میں باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لئے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسی سے باندھا دیا جائے گا۔ اور اسے اس رسی سے باندھ دیا جائے گا جس سے وہ لکڑیاں لاتی تھی۔ تاکہ سزا ایسی ہو جیسا اس کا جرم تھا۔ اور یہ تصویر اپنے سادہ رنگوں کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے رنگ میں لکڑیاں ، رسی ، آگ اور شعلے ہوں۔ اور اس آگ میں میاں بیوی دونوں تپ رہے ہیں “۔ ایک دوسرے زاویہ سے بھی اس سورت میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کی صوتی جھنکار ، لکڑیوں کے گھٹے کے باندھنے کی آواز اور گردن کو رسی سے باندھنے کی آواز بھی باہم یکساں ہیں۔ ذرا پڑھئے۔ تبت یدا .................... وتب (1:111) ” ان الفاظ میں شد کی صوتی درشتگی ایسی ہی ہے جس طرح لکڑیوں کے گھٹے کو باندھنے میں سختی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ الفاظ شدید ہیں اسی طرح گردن میں رسی باندھنے کا عمل اور اسے کھینچنا شدید ہے۔ اور پوری سورت میں اسی طرح کی گٹھن کی فضا ہے “۔ اس طرح صوتی ترنم ، عملی کشاکش کی آواز ، اور سورت کی حرکات کی جزئیات کے درمیان گہری مناسبت اور ہم آہنگی ہے۔ پھر الفاظ بھی ہم جنس ، اور تعبیر میں یکسانی کا لحاظ ، سب کے سب سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پھر یہ تمام چیزیں سبب نزول اور سورت کے پس منظر کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ یہ سب فنی خوبیاں صرف پانچ مختصر فقروں میں ملحوظ خاطر رکھی گئی ہیں اور قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک میں اس فنی کمال کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ان فنی خوبیوں کی وجہ سے اور بےپناہ اثر کی وجہ سے ام جمیل کا تاثر یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہیں اس کی ہجو کی ہے۔ یہ سورت فوراً مکہ میں پھیل گئی تھی ، جس میں میاں بیوی کی مذمت کی گئی تھی ، ان کو دھمکی دی گئی تھی اور نہایت بھدی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ ایسی تصویر کشی تھی جس نے ایک خود پسند عورت کے دل کو چور چور کردیا۔ جسے اپنے نسب وحسب پر بہت ہی غرور تھا۔ جو اپنے آپ کو بہت ہی اونچے گھرانے کی عورت سمجھتی تھی۔ لیکن قرآن نے اس کی تصویر کشی یوں کی : حمالة ........................ من مسد (5:111) ” عورت ، جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے اور جس کے گلے میں چھال کی رسی بندھی ہوئی ہے “۔ یہ نہایت ہی عام صورت حالات ہے جو عربوں میں عام تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں مجھ تک یہ تذکرہ پہنچا ہے کہ ام جمیل حمالة الحطب نے جب اس سورت کے نزول کے بارے میں سنا کہ یہ اس کے بارے میں اور اس کے خاوند کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ گئی اور حضور اکرم ﷺ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مٹھی پتھروں سے بھری ہوئی تھی ، جب یہ ان دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی آنکھوں پر اس طرح پر دہڈال دیا کہ وہ صرف ابوبکر کو دیکھ سکتی تھی۔ تو اس نے کہا : ” ابوبکر کہاں ہے تمہارا ساتھی ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا۔ مذمما عصینا وامرہ ابینا وہ محمد نہیں بلکہ مذمت کیے ہوئے ہیں ، ہم نے ان کی نافرمانی کی ہے اور ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا یا ان کے دین کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے کہا : کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے مجھے نہیں دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا “۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ، جب سورة تبت یدا .................... وتب (1:111) نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی حرم میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا حضور اگر آپ ایک طرف ہوجائیں تو یہ آپ کو اذیت نہ دے سکے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا “ ۔ یہ آئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کھڑے ہوگئی اور کہا : ” ابوبکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے “۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” اس گھر کی قسم انہوں نے ایسا نہیں کیا ، وہ نہ شعر کہتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں “۔ تو اس نے کہا آپ تو سچے ہیں۔ جب واپس گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ” حضور کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ تو آپ نے فرمایا ’ جب تک وہ کھڑی رہی فرشتے مجھ پر ستر پھیلاتے رہے جب تک وہ چلی نہیں گئی “۔ غرض اس کا پارہ اس قدر چڑھ گیا تھا کیونکہ یہ سورت پھیلی گئی تھی ، اس نے اسے ہجو سمجھا۔ اس زمانے میں ہجو صرف اشعار میں ہوتی تھی۔ اس لئے حضرت ابوبکر ؓ نے جائز طور پر ہجو کی تردید کردی۔ اور وہ بہت سچے مانے جاتے تھے لیکن ان آیات میں اس کی جو حقارت آمیز تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس دائمی کتاب میں ریکارڈ کردی گئی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی لازوال ہے اور ان دونوں کی مذمت بھی لازوال ہوگئی ۔ ایور یہ ایسی تصویر ہے جو ایک بولتی تصویر ہے۔ یہ ہے سزا حضور اکرم ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف سازش کرنے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوت اسلامی اور داعیان حق کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی ناکامی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک اور برباد ہوں گے۔ اور آخرت میں بھی وہ ایک سخت سزا پائیں گے۔ یہ ان کی مناسب سز ہوگی۔ دنیا میں لکڑ ہاروں کی رسی جسے ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آخرت میں بھی یہ رسی اس کے گلے میں ہوگی اور یہ ذلت کی کافی نشانی ہوگی۔

الإخلاص 112:1

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ہے جو انسان کے ضمیر میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ دراصل اس کائنات کی تفسیر بھی ہے ۔ جب کسی دل میں یہ عقیدہ بیٹھ جاتا ہے اور عقل اس کا تصور کرلیتی ہے۔ اور اس پوری کائنات کی تفسیر اس کی روشنی میں ہوجاتی ہے تو انسانی دل پر کوئی اور تصور نہیں چھاتا اور انسانی قلب میں کسی اور سوچ کا شائبہ نہیں رہتا۔ اور انسانی قلب اس واحد ذات واجب الوجود کے سوا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ، کیونکہ دراصل موجود تو یہی ذات یکتا ہے اور فعال اور موثر یہی واحد ذات ہے۔ پھر اس کائنات میں جو چیزیں بھی پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ قلب انسانی کا رابطہ ختم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ انسانی دل سے ماسوی اللہ کے وجود کا شعور ہی ختم ہوجائے۔ اگر یہ شعور ختم نہ بھی ہو ، تعلق ختم ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ اللہ کے وجود کے سوا تمام دوسری اشیاء کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اس پوری کائنات میں اللہ کے ارادے کی فاعلیت اور تاثیر کے سوا کوئی اور چیزفعال اور موثر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدہ توحید کے قلب انسانی کسی ایسی چیز سے کیوں متعلق ہو جو نہ حقیقتاً موجود ہے اور نہ کسی چیز میں فعال وموثر ہے۔ اب جب دل الٰہ یکتا کے سوا تمام اشیاء کی حقیقت کے تصور ہی سے خالی ہوگیا اور اس میں ماسوی اللہ سے تعلق ہی نہ رہا۔ تو اب یہ دل صحیح میں آزاد ہوتا ہے ، وہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اس دل کی تمام خواہشات ختم ہوجاتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ خواہشات ہی دراصل پاﺅں کی زنجیریں ہوتی ہیں۔ پھر خوف بھی اس دل سے ختم ہوجاتا ہے اور یاد رہے کہ اس خوف کی وجہ سے بھی انسان پابند سلاسل ہوجاتا ہے۔ انسان کے دل سے مرغوبات کیوں ختم ہوجاتی ہیں اس لئے کہ جب وہ اللہ کو پالیتا ہے تو وہ سب کچھ پالیتا ہے اور وہ ڈرتا اس لئے نہیں کہ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی فعال نہیں۔ جب انسانی شعور میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے کہ انسان کو اس کائنات میں صرف اللہ کی حقیقت نظر آتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اس کائنات میں انسان کو جو وجود نظرآئے گا اس میں بھی اسے یہی حقیقت نظر آئے گی۔ اس طرح پھر انسانی قلب کو ہر چیز میں دست قدرت نظرآتا ہے اور اس کے بعد پھر انسان اس درجے پر فائز ہوتا ہے کہ اسے اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس عقیدے اور تصور کے نتیجے میں انسان سوچنے لگتا ہے کہ ظاہری اسباب بھی ہیچ ہیں۔ اصل اور حقیقی سبب مسبب الاسباب ہے یعنی ذات باری تعالیٰ ۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف قرآن نے بہت توجہ کی ہے اور اسے اسلام کی ایمانیات میں داخل کرکے ذہنوں میں بٹھانے کی سعی کی ہے۔ چناچہ ظاہری اسباب کو برطرف کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اصل سبب مشیت الٰہیہ ہے۔ وما رمیت ........................ رمی (17:8) ” جب تم نے پھینکا تو دراصل تم نے نہیں پھینکا مگر اللہ نے پھینکا “۔ اور آل عمران (126) میں یہ کہا گیا : وما النصر ................ اللہ (126:3) ” فتح ونصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے “۔ اور الدھر (30) میں ہے۔ وما تشآءون ........................ اللہ (30:76) ” اور تم نہیں چاہتے الا یہ کہ اللہ چاہے “۔ اسی طرح کی بیشمار آیات ہیں۔ جب انسان اسباب ظاہری کو برطرف کردیتا ہے تو پھر اسے نظر آتا ہے کہ تمام امور اللہ کی مشیت سے طے پاتے ہیں۔ پھر اس سے اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوجاتا ہے اب وہ تمام مرغوبات اللہ سے طلب کرتا ہے اور تمام مکروہات سے بچنے کے لئے اللہ کے ہاں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ظاہری عوامل ، ظاہری اسباب اور موثرات جو کچھ کرتے نظرآتے ہیں ، اس کائنات میں ان کی کوئی حقیقت اس کی نظروں میں نہیں ہوتی۔ یہ تھے وہ مقامات جن کو عبور کرنے کی سعی صوفیاء کرتے رہے۔ لیکن ان مقامات کی کشش ان کو کہیں دور ہی لے گئی۔ صوفیا اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ اسلام لوگوں کو بلا کر ان مقامات بلند تک ضرور لے جاتا ہے لیکن وہ ان کو اس دنیا کی عملی زندگی کے تمام نشیب و فراز کے اندر رکھتے ہوئے اور ہر طرح کی انسانی زندگی کے اندر رہتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی کے اندر ہوتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی میں بھر پور حصہ بھی لیتے ہیں اور اسے ہیچ بھی سمجھتے ہیں۔ وہ اس کائنات میں رتے ہیں لیکن وہ حقیقی موجود صرف اللہ کو سمجھتے ہیں۔ وہ تمام واقعات وحادثات میں فعال اور موثر اللہ کو سمجھتے ہیں۔ اور اس طریقے کے سوا اسلام کوئی دوسرا طریقہ نہیں اپناتا ، نہ چاہتا ہے ۔ پس اس کے نتیجے میں ایک مکمل نظام زندگی وجود میں آتا ہے۔ یہ نظام اس کائنات کی اس تشریح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شعور ، تصورات اور رجحانات کے نتیجے میں پیدا ہتوا ہے۔ اس نظام زندگی کے خدوخال کیا ہیں ؟ (1) اس نظام کا ایک اپنا نظام عبادت ہے جس میں صرف اللہ کی بندگی کی جاتی ہے۔ وہ اللہ جس کے وجود کے سوا کسی وجود کی کوئی حقیقت نہیں ، جس کی فاعلیت کے سوا کوئی اور فاعلیت نہیں۔ اور اس کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ موثر نہیں۔ (2) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک انسان ہر حالت میں ، امید میں اور خوف میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خوشی اور غم میں ، امیری اور فقیری میں ، غرض ہر حال میں اس کا رخ صرف اللہ وحدہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس نظام میں ہر شخص یہ جانتا ہے کہ جب اللہ کے سوا کسی اور چیز کا وجود ہی حقیقی نہیں۔ تو پھر اس کی طرف توجہ اور پکار کا فائدہ کیا ہوگا۔ جب اللہ کے سوا اور کوئی نہ فاعل ہے اور نہ موثر تو پھر اس کی طرف توجہ سے حاصل کیا ہوگا۔ (3) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ عقائد ونظریات ، اقدار اور پیمانے ، شریعت اور قانون ، ادارے اور انتظام ، رسوم و رواج ، آداب وتقالید سب کی سب اللہ سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کی ہدایت اور رہنمائی صرف اللہ وحدہ سے لی جاتی ہے۔ جو حقیقت واقعہ میں بھی اور ایک مسلم کے ضمیر میں بھی واحد موجود ہے۔ (4) یہ نظام ایک نظام تحریک اور عمل ہے۔ اور یہ تحریک وعمل صرف اللہ وحدہ کے لئے ہے۔ اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے۔ اس امید پر کہ اس تک پہنچے کی راہ میں تمام پردے اور رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اور گمراہی کے تمام شوائب سے انسان محفوظ ہوگا ، چاہے یہ پردہ اور رکاوٹیں نفس انسانی کے اندر ہوں ، یا انسانی ماحول کی چیزوں اور انسانوں کی طرف سے ہوں۔ جن میں خود انسان کی ذات ، انسان کا خوف اور اس کی خواہش اور اس دنیا میں اس کی مرغوب اشیاء سرفہرست ہیں۔ (5) یہ ایک ایسا نظام ہے کہ مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ وہ قلب بشری اور اس کائنات کی تمام موجودات کے درمیان ، محبت ، انس ، تعاون ، یگانگت کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ دنیا کے بندھنوں سے آزادی کے معنی یہ نہیں کہ انسان اس کو مکرو سمجھے ، اس سے نفرت کرے ، اس سے بھاگے اور اس کے برتنے سے اجتناب کرے۔ اس لئے کہ دنیا کی اشیاء سب کی سب اللہ کے دست قدرت کر کرشمے ہیں۔ ان کا وجود اللہ کے وجود سے ماخوذ ہے۔ اور سب اشیاء پر اسی حقیقت کی پرتو پڑتی ہے ، لہٰذا یہ سب چیزیں محبوب ہیں کیونکہ یہ اللہ کے تحفے ہیں جو حبیب ہے۔ (6) یہ نظام نہایت بلند اور آزاد نظام ہے ، اس کی نظروں میں زمین ایک چھوٹی سی گیند ہے ، دنیا کا سازو سامان بےقیمت ہے اور ان پردوں اور رکاوٹوں سے آزادی سب کی تمنا ہے لیکن دنیا کی غلامی سے آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان دنیاوی امور سے الگ تھلگ ہوجائے اور اس دنیا کو یونہی مہمل چھوڑ دے۔ یا اس سے نفرت کرے ، اور اس سے بھاگے ، بلکہ اسلامی نظام کا تقاضا یہ ہے کہ جہد مسلسل ہو ، دائمی جدوجہد برپا ہو ، انسانیت کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک ترقی دی جائے ، اور انسان کی زندگی پوری طرح آزاد اور فری ہو۔ پس دنیا کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ منصب خلافت الٰہیہ ہے جس کی اپنی ذمہ داریاں ہیں لیکن ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے انسان ان کا غلام بھی نہیں ہے ان سے آزاد بھی ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تشریح کی۔ دنیا سے چھٹکارے کا ایک تو وہ طریقہ ہے جو گرجوں نے تجویز کیا لیکن اسلام صومعاتی رہبانیت کا قائل نہیں ہے اس لئے کہ انسان نے خلافت ارضی کے فرائض بھی سرانجام دینے ہیں اور انسانوں کو ایک اچھی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں امور انسان کی نجات اور فلاح اور اس دنیا کی غلامی سے چھٹکارے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ راہ بہت دشوار ہے۔ یعنی انسان کی انسانیت کا تحقق صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ اس طرح انسان کی شخصیت میں روحانیت کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہے آزادی ، انسان کی روح دنیاوی آلائشوں سے آزاد ہوکر اپنے اصلی مصدر کی طرف آزاد ہوجاتی ہے اور انسان کو اللہ نے پیدا کرکے جس دنیا میں چھوڑا ہے اس میں کام کرتے ہوئے بھی وہ اپنی اعلیٰ روحانی مقام اور حقیقت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالت کے آغاز میں دعوت کو صرف عقیدہ توحید تک محدود رکھا گیا اور مندرجہ بالا معنوں میں عقیدہ توحید کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس معنی میں توحید انسانی قلب وضمیر میں بیٹھا ہوا ایک عقیدہ بھی ہے۔ اس کائنات کی تفسیر وتشریح اور تعبیر بھی ہے اور ایک مکمل نظام حیات بھی ہے۔ اس مفہوم میں عقیدہ توحید صرف الفاظ نہیں جن کا اقرار زبان سے کردیاجائے اور صرف انسانی ضمیر و شعور کا پختہ یقین بھی نہیں ہے جو صرف ضمیر و شعور کے اندر ہی پوشیدہ ہو ، یہ سب کچھ ہے ، پورا دین ہے بلکہ اس عقیدے کی تفصیلات ہیں۔ اس کے کچھ نتائج ہیں اور یہ تفصیلات اور یہ نتائج اس عقیدے کے طبعی اور لازمی نتائج ہیں۔ اور یہ نتائج قوانین طبیعیہ کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اگر دین میں یہ عقیدہ موجود ہو۔ اہل کتاب کے اندر جو انحراف پدیا ہو ، جس نے ان کے عقائد و تصورات ، ان کی عملی زندگی کو برباد کردیا ، اس کا آغاز بھی پہلے پہل حقیقی عقیدہ توحید کے مٹ جانے کی وجہ سے ہوا۔ عقیدہ توحید کے مٹنے کے بعد پھر دوسرے انحرافات پیدا ہوئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ توحید کی امتیازی شان ہے کہ یہ انسانی زندگی کے اندر نہایت گہرائی تک اترتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی اس عقیدے پر استوار ہو ، اور انسانوں کی زندگی کا عملی نظام پورے کا پورا عقیدہ توحید کی اساس پر قائم ہو۔ جس طرح کے اثرات تصورات و عقائد میں ہوں اسی طرح شریعت و قانون بھی ہوں۔ اور اس طرح کے آثار سے بڑا اثر اور اس کے نتائج میں سے بڑانتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی پر شریعت الٰہیہ کی حکمرانی ہو۔ اگر اقرار توحید کے بعد یہ آثار نمودار نہ ہوں تو یہ سمجھا جائے گا کہ عقیدہ توحید موجود نہیں۔ اس لئے کے اسلام کا عقیدہ توحید جب دل میں اترتا ہے تو وہ ارکان حیات اور نظام حیات اور اعمال کی شکل میں اگتا ہے۔ اس کا مفہوم کہ اللہ ” احد “ ہے ، یہ ہے کہ وہ ” صمد “ ہے ، یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اور یہ کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ لیکن ” احد “ کے بعد ان دوسرے مفاہیم کو محض وضاحت کے لئے الگ ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ الصمد (2:112) ” اللہ سب سے بےنیاز ہے “۔ صمد کا لغوی معنی ہیں وہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی امر طے نہ ہوتا ہو اور اللہ تو وہ سردار ہے جس کے سوا کوئی سید اور سردار نہیں ہے۔ وہ اپنی اولہیت میں یکتا ہے اور سب اس کے غلام ہیں۔ اور وہی وحدہ قاضی الحاجات ہے۔ وہی ہے جو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے ، اور ہر بات کا فیصلہ اس کے حکم سے ہوتا ہے اور اس فیصلے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ مفوم خود لفظ احد میں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ لم یلد ولم یولد (3:112) ” نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے “۔ اللہ کی ذات وہ حقیقت ہے جو ازلی اور ابدی ہے۔ اور اس کی ذات ایک حال سے دوسرے حال میں بدل نہیں سکتی۔ اس کی صفت یہ ہے کہ وہ کامل مطلق ہے اور تمام حالات میں ذات باری کامل ہوتی ہے۔ ولادت کا عمل سب کو معلوم ہے کہ پھٹنے اور بڑھنے سے عبارت ہے۔ عدم سے وجود میں آا یا نقص سے کمال کی طرف بڑھنا دراصل ولادت کی علامات ہیں اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر ولادت کے لئے زوجیت کی ضرورت ہے اور پھر زوجہ ہمیشہ زوج اور خاوند کی ہم جنس ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے محال ہے ، اور خدا کے احد ہونے کے مفوہم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نہ کسی کا بات ہے اور نہ بیٹا۔ ولم یکن ................ احد (4:112) ” اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “۔ نہ اسکا کوئی مماثل ہے اور نہ برابر ہے۔ نہ وجود کی حقیقت کے اعتبار سے ، نہ فاعلیت کے اعتبار سے ، اور نہ اس کی کسی ذات صفت میں۔ اور یہ بات بھی لفظ ” احد “ میں موجود ہے۔ وہ چونکہ احد ہے اس لئے اس کا کوئی کفو نہیں ہے۔ یہ سب فقرے ” احد “ کی تاکیدوتشریح ہیں۔ یہ عقیدہ اس زرتشتی عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ اللہ خیر کا الٰہ ہے اور شر کا الٰہ کوئی اور ہے۔ یہ ثنائی عقائد کے پیروکاروں کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایران میں مروج ہے۔ چناچہ ایرانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک خیر کا الٰہ ہے اور دوسرا شر کا الٰہ ہے۔ ایک نور کا الٰہ ہے اور دوسرا ظلمت کا الٰہ ہے اور جزیرة العرب کے جنوب میں بعض لوگ یہ عقائد رکھتے تھے جہاں ایرانیوں کی حکومت تھی۔ یہ سورت اسلام کے عقیدہ توحید کو پوری طرح ثابت کرتی ہیں۔ جس طرح سورة الکافرون کا موضوع یہ تھا کہ عقیدہ توحید اور شر کے درمیان کوئی مصالحت اور مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دونوں سورتوں کا موضوع مختلف زاویوں سے عقیدہ توحید ہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ روز مرہ کے معمولات کا آغاز صبح کی دو سنتوں سے کرتے تھے اور ان میں یہ دوسورتیں پڑھتے تھے۔ اور صبح کی سنتوں میں ان کا پڑھنا بامقصد تھا اور یہ بات واضح بھی ہے۔

الإخلاص 112:2

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ہے جو انسان کے ضمیر میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ دراصل اس کائنات کی تفسیر بھی ہے ۔ جب کسی دل میں یہ عقیدہ بیٹھ جاتا ہے اور عقل اس کا تصور کرلیتی ہے۔ اور اس پوری کائنات کی تفسیر اس کی روشنی میں ہوجاتی ہے تو انسانی دل پر کوئی اور تصور نہیں چھاتا اور انسانی قلب میں کسی اور سوچ کا شائبہ نہیں رہتا۔ اور انسانی قلب اس واحد ذات واجب الوجود کے سوا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ، کیونکہ دراصل موجود تو یہی ذات یکتا ہے اور فعال اور موثر یہی واحد ذات ہے۔ پھر اس کائنات میں جو چیزیں بھی پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ قلب انسانی کا رابطہ ختم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ انسانی دل سے ماسوی اللہ کے وجود کا شعور ہی ختم ہوجائے۔ اگر یہ شعور ختم نہ بھی ہو ، تعلق ختم ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ اللہ کے وجود کے سوا تمام دوسری اشیاء کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اس پوری کائنات میں اللہ کے ارادے کی فاعلیت اور تاثیر کے سوا کوئی اور چیزفعال اور موثر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدہ توحید کے قلب انسانی کسی ایسی چیز سے کیوں متعلق ہو جو نہ حقیقتاً موجود ہے اور نہ کسی چیز میں فعال وموثر ہے۔ اب جب دل الٰہ یکتا کے سوا تمام اشیاء کی حقیقت کے تصور ہی سے خالی ہوگیا اور اس میں ماسوی اللہ سے تعلق ہی نہ رہا۔ تو اب یہ دل صحیح میں آزاد ہوتا ہے ، وہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اس دل کی تمام خواہشات ختم ہوجاتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ خواہشات ہی دراصل پاﺅں کی زنجیریں ہوتی ہیں۔ پھر خوف بھی اس دل سے ختم ہوجاتا ہے اور یاد رہے کہ اس خوف کی وجہ سے بھی انسان پابند سلاسل ہوجاتا ہے۔ انسان کے دل سے مرغوبات کیوں ختم ہوجاتی ہیں اس لئے کہ جب وہ اللہ کو پالیتا ہے تو وہ سب کچھ پالیتا ہے اور وہ ڈرتا اس لئے نہیں کہ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی فعال نہیں۔ جب انسانی شعور میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے کہ انسان کو اس کائنات میں صرف اللہ کی حقیقت نظر آتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اس کائنات میں انسان کو جو وجود نظرآئے گا اس میں بھی اسے یہی حقیقت نظر آئے گی۔ اس طرح پھر انسانی قلب کو ہر چیز میں دست قدرت نظرآتا ہے اور اس کے بعد پھر انسان اس درجے پر فائز ہوتا ہے کہ اسے اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس عقیدے اور تصور کے نتیجے میں انسان سوچنے لگتا ہے کہ ظاہری اسباب بھی ہیچ ہیں۔ اصل اور حقیقی سبب مسبب الاسباب ہے یعنی ذات باری تعالیٰ ۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف قرآن نے بہت توجہ کی ہے اور اسے اسلام کی ایمانیات میں داخل کرکے ذہنوں میں بٹھانے کی سعی کی ہے۔ چناچہ ظاہری اسباب کو برطرف کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اصل سبب مشیت الٰہیہ ہے۔ وما رمیت ........................ رمی (17:8) ” جب تم نے پھینکا تو دراصل تم نے نہیں پھینکا مگر اللہ نے پھینکا “۔ اور آل عمران (126) میں یہ کہا گیا : وما النصر ................ اللہ (126:3) ” فتح ونصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے “۔ اور الدھر (30) میں ہے۔ وما تشآءون ........................ اللہ (30:76) ” اور تم نہیں چاہتے الا یہ کہ اللہ چاہے “۔ اسی طرح کی بیشمار آیات ہیں۔ جب انسان اسباب ظاہری کو برطرف کردیتا ہے تو پھر اسے نظر آتا ہے کہ تمام امور اللہ کی مشیت سے طے پاتے ہیں۔ پھر اس سے اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوجاتا ہے اب وہ تمام مرغوبات اللہ سے طلب کرتا ہے اور تمام مکروہات سے بچنے کے لئے اللہ کے ہاں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ظاہری عوامل ، ظاہری اسباب اور موثرات جو کچھ کرتے نظرآتے ہیں ، اس کائنات میں ان کی کوئی حقیقت اس کی نظروں میں نہیں ہوتی۔ یہ تھے وہ مقامات جن کو عبور کرنے کی سعی صوفیاء کرتے رہے۔ لیکن ان مقامات کی کشش ان کو کہیں دور ہی لے گئی۔ صوفیا اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ اسلام لوگوں کو بلا کر ان مقامات بلند تک ضرور لے جاتا ہے لیکن وہ ان کو اس دنیا کی عملی زندگی کے تمام نشیب و فراز کے اندر رکھتے ہوئے اور ہر طرح کی انسانی زندگی کے اندر رہتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی کے اندر ہوتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی میں بھر پور حصہ بھی لیتے ہیں اور اسے ہیچ بھی سمجھتے ہیں۔ وہ اس کائنات میں رتے ہیں لیکن وہ حقیقی موجود صرف اللہ کو سمجھتے ہیں۔ وہ تمام واقعات وحادثات میں فعال اور موثر اللہ کو سمجھتے ہیں۔ اور اس طریقے کے سوا اسلام کوئی دوسرا طریقہ نہیں اپناتا ، نہ چاہتا ہے ۔ پس اس کے نتیجے میں ایک مکمل نظام زندگی وجود میں آتا ہے۔ یہ نظام اس کائنات کی اس تشریح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شعور ، تصورات اور رجحانات کے نتیجے میں پیدا ہتوا ہے۔ اس نظام زندگی کے خدوخال کیا ہیں ؟ (1) اس نظام کا ایک اپنا نظام عبادت ہے جس میں صرف اللہ کی بندگی کی جاتی ہے۔ وہ اللہ جس کے وجود کے سوا کسی وجود کی کوئی حقیقت نہیں ، جس کی فاعلیت کے سوا کوئی اور فاعلیت نہیں۔ اور اس کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ موثر نہیں۔ (2) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک انسان ہر حالت میں ، امید میں اور خوف میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خوشی اور غم میں ، امیری اور فقیری میں ، غرض ہر حال میں اس کا رخ صرف اللہ وحدہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس نظام میں ہر شخص یہ جانتا ہے کہ جب اللہ کے سوا کسی اور چیز کا وجود ہی حقیقی نہیں۔ تو پھر اس کی طرف توجہ اور پکار کا فائدہ کیا ہوگا۔ جب اللہ کے سوا اور کوئی نہ فاعل ہے اور نہ موثر تو پھر اس کی طرف توجہ سے حاصل کیا ہوگا۔ (3) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ عقائد ونظریات ، اقدار اور پیمانے ، شریعت اور قانون ، ادارے اور انتظام ، رسوم و رواج ، آداب وتقالید سب کی سب اللہ سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کی ہدایت اور رہنمائی صرف اللہ وحدہ سے لی جاتی ہے۔ جو حقیقت واقعہ میں بھی اور ایک مسلم کے ضمیر میں بھی واحد موجود ہے۔ (4) یہ نظام ایک نظام تحریک اور عمل ہے۔ اور یہ تحریک وعمل صرف اللہ وحدہ کے لئے ہے۔ اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے۔ اس امید پر کہ اس تک پہنچے کی راہ میں تمام پردے اور رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اور گمراہی کے تمام شوائب سے انسان محفوظ ہوگا ، چاہے یہ پردہ اور رکاوٹیں نفس انسانی کے اندر ہوں ، یا انسانی ماحول کی چیزوں اور انسانوں کی طرف سے ہوں۔ جن میں خود انسان کی ذات ، انسان کا خوف اور اس کی خواہش اور اس دنیا میں اس کی مرغوب اشیاء سرفہرست ہیں۔ (5) یہ ایک ایسا نظام ہے کہ مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ وہ قلب بشری اور اس کائنات کی تمام موجودات کے درمیان ، محبت ، انس ، تعاون ، یگانگت کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ دنیا کے بندھنوں سے آزادی کے معنی یہ نہیں کہ انسان اس کو مکرو سمجھے ، اس سے نفرت کرے ، اس سے بھاگے اور اس کے برتنے سے اجتناب کرے۔ اس لئے کہ دنیا کی اشیاء سب کی سب اللہ کے دست قدرت کر کرشمے ہیں۔ ان کا وجود اللہ کے وجود سے ماخوذ ہے۔ اور سب اشیاء پر اسی حقیقت کی پرتو پڑتی ہے ، لہٰذا یہ سب چیزیں محبوب ہیں کیونکہ یہ اللہ کے تحفے ہیں جو حبیب ہے۔ (6) یہ نظام نہایت بلند اور آزاد نظام ہے ، اس کی نظروں میں زمین ایک چھوٹی سی گیند ہے ، دنیا کا سازو سامان بےقیمت ہے اور ان پردوں اور رکاوٹوں سے آزادی سب کی تمنا ہے لیکن دنیا کی غلامی سے آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان دنیاوی امور سے الگ تھلگ ہوجائے اور اس دنیا کو یونہی مہمل چھوڑ دے۔ یا اس سے نفرت کرے ، اور اس سے بھاگے ، بلکہ اسلامی نظام کا تقاضا یہ ہے کہ جہد مسلسل ہو ، دائمی جدوجہد برپا ہو ، انسانیت کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک ترقی دی جائے ، اور انسان کی زندگی پوری طرح آزاد اور فری ہو۔ پس دنیا کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ منصب خلافت الٰہیہ ہے جس کی اپنی ذمہ داریاں ہیں لیکن ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے انسان ان کا غلام بھی نہیں ہے ان سے آزاد بھی ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تشریح کی۔ دنیا سے چھٹکارے کا ایک تو وہ طریقہ ہے جو گرجوں نے تجویز کیا لیکن اسلام صومعاتی رہبانیت کا قائل نہیں ہے اس لئے کہ انسان نے خلافت ارضی کے فرائض بھی سرانجام دینے ہیں اور انسانوں کو ایک اچھی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں امور انسان کی نجات اور فلاح اور اس دنیا کی غلامی سے چھٹکارے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ راہ بہت دشوار ہے۔ یعنی انسان کی انسانیت کا تحقق صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ اس طرح انسان کی شخصیت میں روحانیت کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہے آزادی ، انسان کی روح دنیاوی آلائشوں سے آزاد ہوکر اپنے اصلی مصدر کی طرف آزاد ہوجاتی ہے اور انسان کو اللہ نے پیدا کرکے جس دنیا میں چھوڑا ہے اس میں کام کرتے ہوئے بھی وہ اپنی اعلیٰ روحانی مقام اور حقیقت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالت کے آغاز میں دعوت کو صرف عقیدہ توحید تک محدود رکھا گیا اور مندرجہ بالا معنوں میں عقیدہ توحید کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس معنی میں توحید انسانی قلب وضمیر میں بیٹھا ہوا ایک عقیدہ بھی ہے۔ اس کائنات کی تفسیر وتشریح اور تعبیر بھی ہے اور ایک مکمل نظام حیات بھی ہے۔ اس مفہوم میں عقیدہ توحید صرف الفاظ نہیں جن کا اقرار زبان سے کردیاجائے اور صرف انسانی ضمیر و شعور کا پختہ یقین بھی نہیں ہے جو صرف ضمیر و شعور کے اندر ہی پوشیدہ ہو ، یہ سب کچھ ہے ، پورا دین ہے بلکہ اس عقیدے کی تفصیلات ہیں۔ اس کے کچھ نتائج ہیں اور یہ تفصیلات اور یہ نتائج اس عقیدے کے طبعی اور لازمی نتائج ہیں۔ اور یہ نتائج قوانین طبیعیہ کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اگر دین میں یہ عقیدہ موجود ہو۔ اہل کتاب کے اندر جو انحراف پدیا ہو ، جس نے ان کے عقائد و تصورات ، ان کی عملی زندگی کو برباد کردیا ، اس کا آغاز بھی پہلے پہل حقیقی عقیدہ توحید کے مٹ جانے کی وجہ سے ہوا۔ عقیدہ توحید کے مٹنے کے بعد پھر دوسرے انحرافات پیدا ہوئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ توحید کی امتیازی شان ہے کہ یہ انسانی زندگی کے اندر نہایت گہرائی تک اترتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی اس عقیدے پر استوار ہو ، اور انسانوں کی زندگی کا عملی نظام پورے کا پورا عقیدہ توحید کی اساس پر قائم ہو۔ جس طرح کے اثرات تصورات و عقائد میں ہوں اسی طرح شریعت و قانون بھی ہوں۔ اور اس طرح کے آثار سے بڑا اثر اور اس کے نتائج میں سے بڑانتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی پر شریعت الٰہیہ کی حکمرانی ہو۔ اگر اقرار توحید کے بعد یہ آثار نمودار نہ ہوں تو یہ سمجھا جائے گا کہ عقیدہ توحید موجود نہیں۔ اس لئے کے اسلام کا عقیدہ توحید جب دل میں اترتا ہے تو وہ ارکان حیات اور نظام حیات اور اعمال کی شکل میں اگتا ہے۔ اس کا مفہوم کہ اللہ ” احد “ ہے ، یہ ہے کہ وہ ” صمد “ ہے ، یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اور یہ کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ لیکن ” احد “ کے بعد ان دوسرے مفاہیم کو محض وضاحت کے لئے الگ ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ الصمد (2:112) ” اللہ سب سے بےنیاز ہے “۔ صمد کا لغوی معنی ہیں وہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی امر طے نہ ہوتا ہو اور اللہ تو وہ سردار ہے جس کے سوا کوئی سید اور سردار نہیں ہے۔ وہ اپنی اولہیت میں یکتا ہے اور سب اس کے غلام ہیں۔ اور وہی وحدہ قاضی الحاجات ہے۔ وہی ہے جو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے ، اور ہر بات کا فیصلہ اس کے حکم سے ہوتا ہے اور اس فیصلے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ مفوم خود لفظ احد میں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ لم یلد ولم یولد (3:112) ” نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے “۔ اللہ کی ذات وہ حقیقت ہے جو ازلی اور ابدی ہے۔ اور اس کی ذات ایک حال سے دوسرے حال میں بدل نہیں سکتی۔ اس کی صفت یہ ہے کہ وہ کامل مطلق ہے اور تمام حالات میں ذات باری کامل ہوتی ہے۔ ولادت کا عمل سب کو معلوم ہے کہ پھٹنے اور بڑھنے سے عبارت ہے۔ عدم سے وجود میں آا یا نقص سے کمال کی طرف بڑھنا دراصل ولادت کی علامات ہیں اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر ولادت کے لئے زوجیت کی ضرورت ہے اور پھر زوجہ ہمیشہ زوج اور خاوند کی ہم جنس ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے محال ہے ، اور خدا کے احد ہونے کے مفوہم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نہ کسی کا بات ہے اور نہ بیٹا۔ ولم یکن ................ احد (4:112) ” اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “۔ نہ اسکا کوئی مماثل ہے اور نہ برابر ہے۔ نہ وجود کی حقیقت کے اعتبار سے ، نہ فاعلیت کے اعتبار سے ، اور نہ اس کی کسی ذات صفت میں۔ اور یہ بات بھی لفظ ” احد “ میں موجود ہے۔ وہ چونکہ احد ہے اس لئے اس کا کوئی کفو نہیں ہے۔ یہ سب فقرے ” احد “ کی تاکیدوتشریح ہیں۔ یہ عقیدہ اس زرتشتی عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ اللہ خیر کا الٰہ ہے اور شر کا الٰہ کوئی اور ہے۔ یہ ثنائی عقائد کے پیروکاروں کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایران میں مروج ہے۔ چناچہ ایرانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک خیر کا الٰہ ہے اور دوسرا شر کا الٰہ ہے۔ ایک نور کا الٰہ ہے اور دوسرا ظلمت کا الٰہ ہے اور جزیرة العرب کے جنوب میں بعض لوگ یہ عقائد رکھتے تھے جہاں ایرانیوں کی حکومت تھی۔ یہ سورت اسلام کے عقیدہ توحید کو پوری طرح ثابت کرتی ہیں۔ جس طرح سورة الکافرون کا موضوع یہ تھا کہ عقیدہ توحید اور شر کے درمیان کوئی مصالحت اور مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دونوں سورتوں کا موضوع مختلف زاویوں سے عقیدہ توحید ہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ روز مرہ کے معمولات کا آغاز صبح کی دو سنتوں سے کرتے تھے اور ان میں یہ دوسورتیں پڑھتے تھے۔ اور صبح کی سنتوں میں ان کا پڑھنا بامقصد تھا اور یہ بات واضح بھی ہے۔

الإخلاص 112:3

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ہے جو انسان کے ضمیر میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ دراصل اس کائنات کی تفسیر بھی ہے ۔ جب کسی دل میں یہ عقیدہ بیٹھ جاتا ہے اور عقل اس کا تصور کرلیتی ہے۔ اور اس پوری کائنات کی تفسیر اس کی روشنی میں ہوجاتی ہے تو انسانی دل پر کوئی اور تصور نہیں چھاتا اور انسانی قلب میں کسی اور سوچ کا شائبہ نہیں رہتا۔ اور انسانی قلب اس واحد ذات واجب الوجود کے سوا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ، کیونکہ دراصل موجود تو یہی ذات یکتا ہے اور فعال اور موثر یہی واحد ذات ہے۔ پھر اس کائنات میں جو چیزیں بھی پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ قلب انسانی کا رابطہ ختم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ انسانی دل سے ماسوی اللہ کے وجود کا شعور ہی ختم ہوجائے۔ اگر یہ شعور ختم نہ بھی ہو ، تعلق ختم ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ اللہ کے وجود کے سوا تمام دوسری اشیاء کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اس پوری کائنات میں اللہ کے ارادے کی فاعلیت اور تاثیر کے سوا کوئی اور چیزفعال اور موثر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدہ توحید کے قلب انسانی کسی ایسی چیز سے کیوں متعلق ہو جو نہ حقیقتاً موجود ہے اور نہ کسی چیز میں فعال وموثر ہے۔ اب جب دل الٰہ یکتا کے سوا تمام اشیاء کی حقیقت کے تصور ہی سے خالی ہوگیا اور اس میں ماسوی اللہ سے تعلق ہی نہ رہا۔ تو اب یہ دل صحیح میں آزاد ہوتا ہے ، وہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اس دل کی تمام خواہشات ختم ہوجاتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ خواہشات ہی دراصل پاﺅں کی زنجیریں ہوتی ہیں۔ پھر خوف بھی اس دل سے ختم ہوجاتا ہے اور یاد رہے کہ اس خوف کی وجہ سے بھی انسان پابند سلاسل ہوجاتا ہے۔ انسان کے دل سے مرغوبات کیوں ختم ہوجاتی ہیں اس لئے کہ جب وہ اللہ کو پالیتا ہے تو وہ سب کچھ پالیتا ہے اور وہ ڈرتا اس لئے نہیں کہ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی فعال نہیں۔ جب انسانی شعور میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے کہ انسان کو اس کائنات میں صرف اللہ کی حقیقت نظر آتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اس کائنات میں انسان کو جو وجود نظرآئے گا اس میں بھی اسے یہی حقیقت نظر آئے گی۔ اس طرح پھر انسانی قلب کو ہر چیز میں دست قدرت نظرآتا ہے اور اس کے بعد پھر انسان اس درجے پر فائز ہوتا ہے کہ اسے اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس عقیدے اور تصور کے نتیجے میں انسان سوچنے لگتا ہے کہ ظاہری اسباب بھی ہیچ ہیں۔ اصل اور حقیقی سبب مسبب الاسباب ہے یعنی ذات باری تعالیٰ ۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف قرآن نے بہت توجہ کی ہے اور اسے اسلام کی ایمانیات میں داخل کرکے ذہنوں میں بٹھانے کی سعی کی ہے۔ چناچہ ظاہری اسباب کو برطرف کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اصل سبب مشیت الٰہیہ ہے۔ وما رمیت ........................ رمی (17:8) ” جب تم نے پھینکا تو دراصل تم نے نہیں پھینکا مگر اللہ نے پھینکا “۔ اور آل عمران (126) میں یہ کہا گیا : وما النصر ................ اللہ (126:3) ” فتح ونصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے “۔ اور الدھر (30) میں ہے۔ وما تشآءون ........................ اللہ (30:76) ” اور تم نہیں چاہتے الا یہ کہ اللہ چاہے “۔ اسی طرح کی بیشمار آیات ہیں۔ جب انسان اسباب ظاہری کو برطرف کردیتا ہے تو پھر اسے نظر آتا ہے کہ تمام امور اللہ کی مشیت سے طے پاتے ہیں۔ پھر اس سے اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوجاتا ہے اب وہ تمام مرغوبات اللہ سے طلب کرتا ہے اور تمام مکروہات سے بچنے کے لئے اللہ کے ہاں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ظاہری عوامل ، ظاہری اسباب اور موثرات جو کچھ کرتے نظرآتے ہیں ، اس کائنات میں ان کی کوئی حقیقت اس کی نظروں میں نہیں ہوتی۔ یہ تھے وہ مقامات جن کو عبور کرنے کی سعی صوفیاء کرتے رہے۔ لیکن ان مقامات کی کشش ان کو کہیں دور ہی لے گئی۔ صوفیا اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ اسلام لوگوں کو بلا کر ان مقامات بلند تک ضرور لے جاتا ہے لیکن وہ ان کو اس دنیا کی عملی زندگی کے تمام نشیب و فراز کے اندر رکھتے ہوئے اور ہر طرح کی انسانی زندگی کے اندر رہتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی کے اندر ہوتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی میں بھر پور حصہ بھی لیتے ہیں اور اسے ہیچ بھی سمجھتے ہیں۔ وہ اس کائنات میں رتے ہیں لیکن وہ حقیقی موجود صرف اللہ کو سمجھتے ہیں۔ وہ تمام واقعات وحادثات میں فعال اور موثر اللہ کو سمجھتے ہیں۔ اور اس طریقے کے سوا اسلام کوئی دوسرا طریقہ نہیں اپناتا ، نہ چاہتا ہے ۔ پس اس کے نتیجے میں ایک مکمل نظام زندگی وجود میں آتا ہے۔ یہ نظام اس کائنات کی اس تشریح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شعور ، تصورات اور رجحانات کے نتیجے میں پیدا ہتوا ہے۔ اس نظام زندگی کے خدوخال کیا ہیں ؟ (1) اس نظام کا ایک اپنا نظام عبادت ہے جس میں صرف اللہ کی بندگی کی جاتی ہے۔ وہ اللہ جس کے وجود کے سوا کسی وجود کی کوئی حقیقت نہیں ، جس کی فاعلیت کے سوا کوئی اور فاعلیت نہیں۔ اور اس کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ موثر نہیں۔ (2) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک انسان ہر حالت میں ، امید میں اور خوف میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خوشی اور غم میں ، امیری اور فقیری میں ، غرض ہر حال میں اس کا رخ صرف اللہ وحدہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس نظام میں ہر شخص یہ جانتا ہے کہ جب اللہ کے سوا کسی اور چیز کا وجود ہی حقیقی نہیں۔ تو پھر اس کی طرف توجہ اور پکار کا فائدہ کیا ہوگا۔ جب اللہ کے سوا اور کوئی نہ فاعل ہے اور نہ موثر تو پھر اس کی طرف توجہ سے حاصل کیا ہوگا۔ (3) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ عقائد ونظریات ، اقدار اور پیمانے ، شریعت اور قانون ، ادارے اور انتظام ، رسوم و رواج ، آداب وتقالید سب کی سب اللہ سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کی ہدایت اور رہنمائی صرف اللہ وحدہ سے لی جاتی ہے۔ جو حقیقت واقعہ میں بھی اور ایک مسلم کے ضمیر میں بھی واحد موجود ہے۔ (4) یہ نظام ایک نظام تحریک اور عمل ہے۔ اور یہ تحریک وعمل صرف اللہ وحدہ کے لئے ہے۔ اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے۔ اس امید پر کہ اس تک پہنچے کی راہ میں تمام پردے اور رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اور گمراہی کے تمام شوائب سے انسان محفوظ ہوگا ، چاہے یہ پردہ اور رکاوٹیں نفس انسانی کے اندر ہوں ، یا انسانی ماحول کی چیزوں اور انسانوں کی طرف سے ہوں۔ جن میں خود انسان کی ذات ، انسان کا خوف اور اس کی خواہش اور اس دنیا میں اس کی مرغوب اشیاء سرفہرست ہیں۔ (5) یہ ایک ایسا نظام ہے کہ مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ وہ قلب بشری اور اس کائنات کی تمام موجودات کے درمیان ، محبت ، انس ، تعاون ، یگانگت کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ دنیا کے بندھنوں سے آزادی کے معنی یہ نہیں کہ انسان اس کو مکرو سمجھے ، اس سے نفرت کرے ، اس سے بھاگے اور اس کے برتنے سے اجتناب کرے۔ اس لئے کہ دنیا کی اشیاء سب کی سب اللہ کے دست قدرت کر کرشمے ہیں۔ ان کا وجود اللہ کے وجود سے ماخوذ ہے۔ اور سب اشیاء پر اسی حقیقت کی پرتو پڑتی ہے ، لہٰذا یہ سب چیزیں محبوب ہیں کیونکہ یہ اللہ کے تحفے ہیں جو حبیب ہے۔ (6) یہ نظام نہایت بلند اور آزاد نظام ہے ، اس کی نظروں میں زمین ایک چھوٹی سی گیند ہے ، دنیا کا سازو سامان بےقیمت ہے اور ان پردوں اور رکاوٹوں سے آزادی سب کی تمنا ہے لیکن دنیا کی غلامی سے آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان دنیاوی امور سے الگ تھلگ ہوجائے اور اس دنیا کو یونہی مہمل چھوڑ دے۔ یا اس سے نفرت کرے ، اور اس سے بھاگے ، بلکہ اسلامی نظام کا تقاضا یہ ہے کہ جہد مسلسل ہو ، دائمی جدوجہد برپا ہو ، انسانیت کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک ترقی دی جائے ، اور انسان کی زندگی پوری طرح آزاد اور فری ہو۔ پس دنیا کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ منصب خلافت الٰہیہ ہے جس کی اپنی ذمہ داریاں ہیں لیکن ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے انسان ان کا غلام بھی نہیں ہے ان سے آزاد بھی ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تشریح کی۔ دنیا سے چھٹکارے کا ایک تو وہ طریقہ ہے جو گرجوں نے تجویز کیا لیکن اسلام صومعاتی رہبانیت کا قائل نہیں ہے اس لئے کہ انسان نے خلافت ارضی کے فرائض بھی سرانجام دینے ہیں اور انسانوں کو ایک اچھی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں امور انسان کی نجات اور فلاح اور اس دنیا کی غلامی سے چھٹکارے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ راہ بہت دشوار ہے۔ یعنی انسان کی انسانیت کا تحقق صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ اس طرح انسان کی شخصیت میں روحانیت کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہے آزادی ، انسان کی روح دنیاوی آلائشوں سے آزاد ہوکر اپنے اصلی مصدر کی طرف آزاد ہوجاتی ہے اور انسان کو اللہ نے پیدا کرکے جس دنیا میں چھوڑا ہے اس میں کام کرتے ہوئے بھی وہ اپنی اعلیٰ روحانی مقام اور حقیقت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالت کے آغاز میں دعوت کو صرف عقیدہ توحید تک محدود رکھا گیا اور مندرجہ بالا معنوں میں عقیدہ توحید کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس معنی میں توحید انسانی قلب وضمیر میں بیٹھا ہوا ایک عقیدہ بھی ہے۔ اس کائنات کی تفسیر وتشریح اور تعبیر بھی ہے اور ایک مکمل نظام حیات بھی ہے۔ اس مفہوم میں عقیدہ توحید صرف الفاظ نہیں جن کا اقرار زبان سے کردیاجائے اور صرف انسانی ضمیر و شعور کا پختہ یقین بھی نہیں ہے جو صرف ضمیر و شعور کے اندر ہی پوشیدہ ہو ، یہ سب کچھ ہے ، پورا دین ہے بلکہ اس عقیدے کی تفصیلات ہیں۔ اس کے کچھ نتائج ہیں اور یہ تفصیلات اور یہ نتائج اس عقیدے کے طبعی اور لازمی نتائج ہیں۔ اور یہ نتائج قوانین طبیعیہ کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اگر دین میں یہ عقیدہ موجود ہو۔ اہل کتاب کے اندر جو انحراف پدیا ہو ، جس نے ان کے عقائد و تصورات ، ان کی عملی زندگی کو برباد کردیا ، اس کا آغاز بھی پہلے پہل حقیقی عقیدہ توحید کے مٹ جانے کی وجہ سے ہوا۔ عقیدہ توحید کے مٹنے کے بعد پھر دوسرے انحرافات پیدا ہوئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ توحید کی امتیازی شان ہے کہ یہ انسانی زندگی کے اندر نہایت گہرائی تک اترتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی اس عقیدے پر استوار ہو ، اور انسانوں کی زندگی کا عملی نظام پورے کا پورا عقیدہ توحید کی اساس پر قائم ہو۔ جس طرح کے اثرات تصورات و عقائد میں ہوں اسی طرح شریعت و قانون بھی ہوں۔ اور اس طرح کے آثار سے بڑا اثر اور اس کے نتائج میں سے بڑانتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی پر شریعت الٰہیہ کی حکمرانی ہو۔ اگر اقرار توحید کے بعد یہ آثار نمودار نہ ہوں تو یہ سمجھا جائے گا کہ عقیدہ توحید موجود نہیں۔ اس لئے کے اسلام کا عقیدہ توحید جب دل میں اترتا ہے تو وہ ارکان حیات اور نظام حیات اور اعمال کی شکل میں اگتا ہے۔ اس کا مفہوم کہ اللہ ” احد “ ہے ، یہ ہے کہ وہ ” صمد “ ہے ، یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اور یہ کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ لیکن ” احد “ کے بعد ان دوسرے مفاہیم کو محض وضاحت کے لئے الگ ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ الصمد (2:112) ” اللہ سب سے بےنیاز ہے “۔ صمد کا لغوی معنی ہیں وہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی امر طے نہ ہوتا ہو اور اللہ تو وہ سردار ہے جس کے سوا کوئی سید اور سردار نہیں ہے۔ وہ اپنی اولہیت میں یکتا ہے اور سب اس کے غلام ہیں۔ اور وہی وحدہ قاضی الحاجات ہے۔ وہی ہے جو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے ، اور ہر بات کا فیصلہ اس کے حکم سے ہوتا ہے اور اس فیصلے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ مفوم خود لفظ احد میں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ لم یلد ولم یولد (3:112) ” نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے “۔ اللہ کی ذات وہ حقیقت ہے جو ازلی اور ابدی ہے۔ اور اس کی ذات ایک حال سے دوسرے حال میں بدل نہیں سکتی۔ اس کی صفت یہ ہے کہ وہ کامل مطلق ہے اور تمام حالات میں ذات باری کامل ہوتی ہے۔ ولادت کا عمل سب کو معلوم ہے کہ پھٹنے اور بڑھنے سے عبارت ہے۔ عدم سے وجود میں آا یا نقص سے کمال کی طرف بڑھنا دراصل ولادت کی علامات ہیں اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر ولادت کے لئے زوجیت کی ضرورت ہے اور پھر زوجہ ہمیشہ زوج اور خاوند کی ہم جنس ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے محال ہے ، اور خدا کے احد ہونے کے مفوہم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نہ کسی کا بات ہے اور نہ بیٹا۔ ولم یکن ................ احد (4:112) ” اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “۔ نہ اسکا کوئی مماثل ہے اور نہ برابر ہے۔ نہ وجود کی حقیقت کے اعتبار سے ، نہ فاعلیت کے اعتبار سے ، اور نہ اس کی کسی ذات صفت میں۔ اور یہ بات بھی لفظ ” احد “ میں موجود ہے۔ وہ چونکہ احد ہے اس لئے اس کا کوئی کفو نہیں ہے۔ یہ سب فقرے ” احد “ کی تاکیدوتشریح ہیں۔ یہ عقیدہ اس زرتشتی عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ اللہ خیر کا الٰہ ہے اور شر کا الٰہ کوئی اور ہے۔ یہ ثنائی عقائد کے پیروکاروں کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایران میں مروج ہے۔ چناچہ ایرانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک خیر کا الٰہ ہے اور دوسرا شر کا الٰہ ہے۔ ایک نور کا الٰہ ہے اور دوسرا ظلمت کا الٰہ ہے اور جزیرة العرب کے جنوب میں بعض لوگ یہ عقائد رکھتے تھے جہاں ایرانیوں کی حکومت تھی۔ یہ سورت اسلام کے عقیدہ توحید کو پوری طرح ثابت کرتی ہیں۔ جس طرح سورة الکافرون کا موضوع یہ تھا کہ عقیدہ توحید اور شر کے درمیان کوئی مصالحت اور مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دونوں سورتوں کا موضوع مختلف زاویوں سے عقیدہ توحید ہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ روز مرہ کے معمولات کا آغاز صبح کی دو سنتوں سے کرتے تھے اور ان میں یہ دوسورتیں پڑھتے تھے۔ اور صبح کی سنتوں میں ان کا پڑھنا بامقصد تھا اور یہ بات واضح بھی ہے۔

الإخلاص 112:4

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ہے جو انسان کے ضمیر میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ دراصل اس کائنات کی تفسیر بھی ہے ۔ جب کسی دل میں یہ عقیدہ بیٹھ جاتا ہے اور عقل اس کا تصور کرلیتی ہے۔ اور اس پوری کائنات کی تفسیر اس کی روشنی میں ہوجاتی ہے تو انسانی دل پر کوئی اور تصور نہیں چھاتا اور انسانی قلب میں کسی اور سوچ کا شائبہ نہیں رہتا۔ اور انسانی قلب اس واحد ذات واجب الوجود کے سوا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ، کیونکہ دراصل موجود تو یہی ذات یکتا ہے اور فعال اور موثر یہی واحد ذات ہے۔ پھر اس کائنات میں جو چیزیں بھی پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ قلب انسانی کا رابطہ ختم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ انسانی دل سے ماسوی اللہ کے وجود کا شعور ہی ختم ہوجائے۔ اگر یہ شعور ختم نہ بھی ہو ، تعلق ختم ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ اللہ کے وجود کے سوا تمام دوسری اشیاء کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اس پوری کائنات میں اللہ کے ارادے کی فاعلیت اور تاثیر کے سوا کوئی اور چیزفعال اور موثر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدہ توحید کے قلب انسانی کسی ایسی چیز سے کیوں متعلق ہو جو نہ حقیقتاً موجود ہے اور نہ کسی چیز میں فعال وموثر ہے۔ اب جب دل الٰہ یکتا کے سوا تمام اشیاء کی حقیقت کے تصور ہی سے خالی ہوگیا اور اس میں ماسوی اللہ سے تعلق ہی نہ رہا۔ تو اب یہ دل صحیح میں آزاد ہوتا ہے ، وہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اس دل کی تمام خواہشات ختم ہوجاتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ خواہشات ہی دراصل پاﺅں کی زنجیریں ہوتی ہیں۔ پھر خوف بھی اس دل سے ختم ہوجاتا ہے اور یاد رہے کہ اس خوف کی وجہ سے بھی انسان پابند سلاسل ہوجاتا ہے۔ انسان کے دل سے مرغوبات کیوں ختم ہوجاتی ہیں اس لئے کہ جب وہ اللہ کو پالیتا ہے تو وہ سب کچھ پالیتا ہے اور وہ ڈرتا اس لئے نہیں کہ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی فعال نہیں۔ جب انسانی شعور میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے کہ انسان کو اس کائنات میں صرف اللہ کی حقیقت نظر آتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اس کائنات میں انسان کو جو وجود نظرآئے گا اس میں بھی اسے یہی حقیقت نظر آئے گی۔ اس طرح پھر انسانی قلب کو ہر چیز میں دست قدرت نظرآتا ہے اور اس کے بعد پھر انسان اس درجے پر فائز ہوتا ہے کہ اسے اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس عقیدے اور تصور کے نتیجے میں انسان سوچنے لگتا ہے کہ ظاہری اسباب بھی ہیچ ہیں۔ اصل اور حقیقی سبب مسبب الاسباب ہے یعنی ذات باری تعالیٰ ۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف قرآن نے بہت توجہ کی ہے اور اسے اسلام کی ایمانیات میں داخل کرکے ذہنوں میں بٹھانے کی سعی کی ہے۔ چناچہ ظاہری اسباب کو برطرف کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اصل سبب مشیت الٰہیہ ہے۔ وما رمیت ........................ رمی (17:8) ” جب تم نے پھینکا تو دراصل تم نے نہیں پھینکا مگر اللہ نے پھینکا “۔ اور آل عمران (126) میں یہ کہا گیا : وما النصر ................ اللہ (126:3) ” فتح ونصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے “۔ اور الدھر (30) میں ہے۔ وما تشآءون ........................ اللہ (30:76) ” اور تم نہیں چاہتے الا یہ کہ اللہ چاہے “۔ اسی طرح کی بیشمار آیات ہیں۔ جب انسان اسباب ظاہری کو برطرف کردیتا ہے تو پھر اسے نظر آتا ہے کہ تمام امور اللہ کی مشیت سے طے پاتے ہیں۔ پھر اس سے اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوجاتا ہے اب وہ تمام مرغوبات اللہ سے طلب کرتا ہے اور تمام مکروہات سے بچنے کے لئے اللہ کے ہاں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ظاہری عوامل ، ظاہری اسباب اور موثرات جو کچھ کرتے نظرآتے ہیں ، اس کائنات میں ان کی کوئی حقیقت اس کی نظروں میں نہیں ہوتی۔ یہ تھے وہ مقامات جن کو عبور کرنے کی سعی صوفیاء کرتے رہے۔ لیکن ان مقامات کی کشش ان کو کہیں دور ہی لے گئی۔ صوفیا اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ اسلام لوگوں کو بلا کر ان مقامات بلند تک ضرور لے جاتا ہے لیکن وہ ان کو اس دنیا کی عملی زندگی کے تمام نشیب و فراز کے اندر رکھتے ہوئے اور ہر طرح کی انسانی زندگی کے اندر رہتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی کے اندر ہوتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی میں بھر پور حصہ بھی لیتے ہیں اور اسے ہیچ بھی سمجھتے ہیں۔ وہ اس کائنات میں رتے ہیں لیکن وہ حقیقی موجود صرف اللہ کو سمجھتے ہیں۔ وہ تمام واقعات وحادثات میں فعال اور موثر اللہ کو سمجھتے ہیں۔ اور اس طریقے کے سوا اسلام کوئی دوسرا طریقہ نہیں اپناتا ، نہ چاہتا ہے ۔ پس اس کے نتیجے میں ایک مکمل نظام زندگی وجود میں آتا ہے۔ یہ نظام اس کائنات کی اس تشریح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شعور ، تصورات اور رجحانات کے نتیجے میں پیدا ہتوا ہے۔ اس نظام زندگی کے خدوخال کیا ہیں ؟ (1) اس نظام کا ایک اپنا نظام عبادت ہے جس میں صرف اللہ کی بندگی کی جاتی ہے۔ وہ اللہ جس کے وجود کے سوا کسی وجود کی کوئی حقیقت نہیں ، جس کی فاعلیت کے سوا کوئی اور فاعلیت نہیں۔ اور اس کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ موثر نہیں۔ (2) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک انسان ہر حالت میں ، امید میں اور خوف میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خوشی اور غم میں ، امیری اور فقیری میں ، غرض ہر حال میں اس کا رخ صرف اللہ وحدہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس نظام میں ہر شخص یہ جانتا ہے کہ جب اللہ کے سوا کسی اور چیز کا وجود ہی حقیقی نہیں۔ تو پھر اس کی طرف توجہ اور پکار کا فائدہ کیا ہوگا۔ جب اللہ کے سوا اور کوئی نہ فاعل ہے اور نہ موثر تو پھر اس کی طرف توجہ سے حاصل کیا ہوگا۔ (3) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ عقائد ونظریات ، اقدار اور پیمانے ، شریعت اور قانون ، ادارے اور انتظام ، رسوم و رواج ، آداب وتقالید سب کی سب اللہ سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کی ہدایت اور رہنمائی صرف اللہ وحدہ سے لی جاتی ہے۔ جو حقیقت واقعہ میں بھی اور ایک مسلم کے ضمیر میں بھی واحد موجود ہے۔ (4) یہ نظام ایک نظام تحریک اور عمل ہے۔ اور یہ تحریک وعمل صرف اللہ وحدہ کے لئے ہے۔ اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے۔ اس امید پر کہ اس تک پہنچے کی راہ میں تمام پردے اور رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اور گمراہی کے تمام شوائب سے انسان محفوظ ہوگا ، چاہے یہ پردہ اور رکاوٹیں نفس انسانی کے اندر ہوں ، یا انسانی ماحول کی چیزوں اور انسانوں کی طرف سے ہوں۔ جن میں خود انسان کی ذات ، انسان کا خوف اور اس کی خواہش اور اس دنیا میں اس کی مرغوب اشیاء سرفہرست ہیں۔ (5) یہ ایک ایسا نظام ہے کہ مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ وہ قلب بشری اور اس کائنات کی تمام موجودات کے درمیان ، محبت ، انس ، تعاون ، یگانگت کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ دنیا کے بندھنوں سے آزادی کے معنی یہ نہیں کہ انسان اس کو مکرو سمجھے ، اس سے نفرت کرے ، اس سے بھاگے اور اس کے برتنے سے اجتناب کرے۔ اس لئے کہ دنیا کی اشیاء سب کی سب اللہ کے دست قدرت کر کرشمے ہیں۔ ان کا وجود اللہ کے وجود سے ماخوذ ہے۔ اور سب اشیاء پر اسی حقیقت کی پرتو پڑتی ہے ، لہٰذا یہ سب چیزیں محبوب ہیں کیونکہ یہ اللہ کے تحفے ہیں جو حبیب ہے۔ (6) یہ نظام نہایت بلند اور آزاد نظام ہے ، اس کی نظروں میں زمین ایک چھوٹی سی گیند ہے ، دنیا کا سازو سامان بےقیمت ہے اور ان پردوں اور رکاوٹوں سے آزادی سب کی تمنا ہے لیکن دنیا کی غلامی سے آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان دنیاوی امور سے الگ تھلگ ہوجائے اور اس دنیا کو یونہی مہمل چھوڑ دے۔ یا اس سے نفرت کرے ، اور اس سے بھاگے ، بلکہ اسلامی نظام کا تقاضا یہ ہے کہ جہد مسلسل ہو ، دائمی جدوجہد برپا ہو ، انسانیت کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک ترقی دی جائے ، اور انسان کی زندگی پوری طرح آزاد اور فری ہو۔ پس دنیا کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ منصب خلافت الٰہیہ ہے جس کی اپنی ذمہ داریاں ہیں لیکن ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے انسان ان کا غلام بھی نہیں ہے ان سے آزاد بھی ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تشریح کی۔ دنیا سے چھٹکارے کا ایک تو وہ طریقہ ہے جو گرجوں نے تجویز کیا لیکن اسلام صومعاتی رہبانیت کا قائل نہیں ہے اس لئے کہ انسان نے خلافت ارضی کے فرائض بھی سرانجام دینے ہیں اور انسانوں کو ایک اچھی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں امور انسان کی نجات اور فلاح اور اس دنیا کی غلامی سے چھٹکارے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ راہ بہت دشوار ہے۔ یعنی انسان کی انسانیت کا تحقق صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ اس طرح انسان کی شخصیت میں روحانیت کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہے آزادی ، انسان کی روح دنیاوی آلائشوں سے آزاد ہوکر اپنے اصلی مصدر کی طرف آزاد ہوجاتی ہے اور انسان کو اللہ نے پیدا کرکے جس دنیا میں چھوڑا ہے اس میں کام کرتے ہوئے بھی وہ اپنی اعلیٰ روحانی مقام اور حقیقت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالت کے آغاز میں دعوت کو صرف عقیدہ توحید تک محدود رکھا گیا اور مندرجہ بالا معنوں میں عقیدہ توحید کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس معنی میں توحید انسانی قلب وضمیر میں بیٹھا ہوا ایک عقیدہ بھی ہے۔ اس کائنات کی تفسیر وتشریح اور تعبیر بھی ہے اور ایک مکمل نظام حیات بھی ہے۔ اس مفہوم میں عقیدہ توحید صرف الفاظ نہیں جن کا اقرار زبان سے کردیاجائے اور صرف انسانی ضمیر و شعور کا پختہ یقین بھی نہیں ہے جو صرف ضمیر و شعور کے اندر ہی پوشیدہ ہو ، یہ سب کچھ ہے ، پورا دین ہے بلکہ اس عقیدے کی تفصیلات ہیں۔ اس کے کچھ نتائج ہیں اور یہ تفصیلات اور یہ نتائج اس عقیدے کے طبعی اور لازمی نتائج ہیں۔ اور یہ نتائج قوانین طبیعیہ کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اگر دین میں یہ عقیدہ موجود ہو۔ اہل کتاب کے اندر جو انحراف پدیا ہو ، جس نے ان کے عقائد و تصورات ، ان کی عملی زندگی کو برباد کردیا ، اس کا آغاز بھی پہلے پہل حقیقی عقیدہ توحید کے مٹ جانے کی وجہ سے ہوا۔ عقیدہ توحید کے مٹنے کے بعد پھر دوسرے انحرافات پیدا ہوئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ توحید کی امتیازی شان ہے کہ یہ انسانی زندگی کے اندر نہایت گہرائی تک اترتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی اس عقیدے پر استوار ہو ، اور انسانوں کی زندگی کا عملی نظام پورے کا پورا عقیدہ توحید کی اساس پر قائم ہو۔ جس طرح کے اثرات تصورات و عقائد میں ہوں اسی طرح شریعت و قانون بھی ہوں۔ اور اس طرح کے آثار سے بڑا اثر اور اس کے نتائج میں سے بڑانتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی پر شریعت الٰہیہ کی حکمرانی ہو۔ اگر اقرار توحید کے بعد یہ آثار نمودار نہ ہوں تو یہ سمجھا جائے گا کہ عقیدہ توحید موجود نہیں۔ اس لئے کے اسلام کا عقیدہ توحید جب دل میں اترتا ہے تو وہ ارکان حیات اور نظام حیات اور اعمال کی شکل میں اگتا ہے۔ اس کا مفہوم کہ اللہ ” احد “ ہے ، یہ ہے کہ وہ ” صمد “ ہے ، یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اور یہ کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ لیکن ” احد “ کے بعد ان دوسرے مفاہیم کو محض وضاحت کے لئے الگ ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ الصمد (2:112) ” اللہ سب سے بےنیاز ہے “۔ صمد کا لغوی معنی ہیں وہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی امر طے نہ ہوتا ہو اور اللہ تو وہ سردار ہے جس کے سوا کوئی سید اور سردار نہیں ہے۔ وہ اپنی اولہیت میں یکتا ہے اور سب اس کے غلام ہیں۔ اور وہی وحدہ قاضی الحاجات ہے۔ وہی ہے جو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے ، اور ہر بات کا فیصلہ اس کے حکم سے ہوتا ہے اور اس فیصلے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ مفوم خود لفظ احد میں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ لم یلد ولم یولد (3:112) ” نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے “۔ اللہ کی ذات وہ حقیقت ہے جو ازلی اور ابدی ہے۔ اور اس کی ذات ایک حال سے دوسرے حال میں بدل نہیں سکتی۔ اس کی صفت یہ ہے کہ وہ کامل مطلق ہے اور تمام حالات میں ذات باری کامل ہوتی ہے۔ ولادت کا عمل سب کو معلوم ہے کہ پھٹنے اور بڑھنے سے عبارت ہے۔ عدم سے وجود میں آا یا نقص سے کمال کی طرف بڑھنا دراصل ولادت کی علامات ہیں اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر ولادت کے لئے زوجیت کی ضرورت ہے اور پھر زوجہ ہمیشہ زوج اور خاوند کی ہم جنس ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے محال ہے ، اور خدا کے احد ہونے کے مفوہم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نہ کسی کا بات ہے اور نہ بیٹا۔ ولم یکن ................ احد (4:112) ” اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “۔ نہ اسکا کوئی مماثل ہے اور نہ برابر ہے۔ نہ وجود کی حقیقت کے اعتبار سے ، نہ فاعلیت کے اعتبار سے ، اور نہ اس کی کسی ذات صفت میں۔ اور یہ بات بھی لفظ ” احد “ میں موجود ہے۔ وہ چونکہ احد ہے اس لئے اس کا کوئی کفو نہیں ہے۔ یہ سب فقرے ” احد “ کی تاکیدوتشریح ہیں۔ یہ عقیدہ اس زرتشتی عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ اللہ خیر کا الٰہ ہے اور شر کا الٰہ کوئی اور ہے۔ یہ ثنائی عقائد کے پیروکاروں کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایران میں مروج ہے۔ چناچہ ایرانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک خیر کا الٰہ ہے اور دوسرا شر کا الٰہ ہے۔ ایک نور کا الٰہ ہے اور دوسرا ظلمت کا الٰہ ہے اور جزیرة العرب کے جنوب میں بعض لوگ یہ عقائد رکھتے تھے جہاں ایرانیوں کی حکومت تھی۔ یہ سورت اسلام کے عقیدہ توحید کو پوری طرح ثابت کرتی ہیں۔ جس طرح سورة الکافرون کا موضوع یہ تھا کہ عقیدہ توحید اور شر کے درمیان کوئی مصالحت اور مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دونوں سورتوں کا موضوع مختلف زاویوں سے عقیدہ توحید ہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ روز مرہ کے معمولات کا آغاز صبح کی دو سنتوں سے کرتے تھے اور ان میں یہ دوسورتیں پڑھتے تھے۔ اور صبح کی سنتوں میں ان کا پڑھنا بامقصد تھا اور یہ بات واضح بھی ہے۔