Lafzullah

Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — المائدة 5:1 – الأنعام 6:112

Author / source: Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan)

Contents
  1. المائدة 5:1
  2. المائدة 5:2
  3. المائدة 5:3
  4. المائدة 5:4
  5. المائدة 5:5
  6. المائدة 5:6
  7. المائدة 5:7
  8. المائدة 5:8
  9. المائدة 5:9
  10. المائدة 5:10
  11. المائدة 5:11
  12. المائدة 5:12
  13. المائدة 5:13
  14. المائدة 5:14
  15. المائدة 5:15
  16. المائدة 5:16
  17. المائدة 5:17
  18. المائدة 5:18
  19. المائدة 5:19
  20. المائدة 5:20
  21. المائدة 5:21
  22. المائدة 5:22
  23. المائدة 5:23
  24. المائدة 5:24
  25. المائدة 5:25
  26. المائدة 5:26
  27. المائدة 5:27
  28. المائدة 5:28
  29. المائدة 5:29
  30. المائدة 5:30
  31. المائدة 5:31
  32. المائدة 5:32
  33. المائدة 5:33
  34. المائدة 5:34
  35. المائدة 5:35
  36. المائدة 5:36
  37. المائدة 5:37
  38. المائدة 5:38
  39. المائدة 5:39
  40. المائدة 5:40
  41. المائدة 5:41
  42. المائدة 5:42
  43. المائدة 5:43
  44. المائدة 5:44
  45. المائدة 5:45
  46. المائدة 5:46
  47. المائدة 5:47
  48. المائدة 5:48
  49. المائدة 5:49
  50. المائدة 5:50
  51. المائدة 5:51
  52. المائدة 5:52
  53. المائدة 5:53
  54. المائدة 5:54
  55. المائدة 5:55
  56. المائدة 5:56
  57. المائدة 5:57
  58. المائدة 5:58
  59. المائدة 5:59
  60. المائدة 5:60
  61. المائدة 5:61
  62. المائدة 5:62
  63. المائدة 5:63
  64. المائدة 5:64
  65. المائدة 5:65
  66. المائدة 5:66
  67. المائدة 5:67
  68. المائدة 5:68
  69. المائدة 5:69
  70. المائدة 5:70
  71. المائدة 5:71
  72. المائدة 5:72
  73. المائدة 5:73
  74. المائدة 5:74
  75. المائدة 5:75
  76. المائدة 5:76
  77. المائدة 5:77
  78. المائدة 5:78
  79. المائدة 5:79
  80. المائدة 5:80
  81. المائدة 5:81
  82. المائدة 5:82
  83. المائدة 5:83
  84. المائدة 5:84
  85. المائدة 5:85
  86. المائدة 5:86
  87. المائدة 5:87
  88. المائدة 5:88
  89. المائدة 5:89
  90. المائدة 5:90
  91. المائدة 5:91
  92. المائدة 5:92
  93. المائدة 5:93
  94. المائدة 5:94
  95. المائدة 5:95
  96. المائدة 5:96
  97. المائدة 5:97
  98. المائدة 5:98
  99. المائدة 5:99
  100. المائدة 5:100
  101. المائدة 5:101
  102. المائدة 5:102
  103. المائدة 5:103
  104. المائدة 5:104
  105. المائدة 5:105
  106. المائدة 5:106
  107. المائدة 5:107
  108. المائدة 5:108
  109. المائدة 5:109
  110. المائدة 5:110
  111. المائدة 5:111
  112. المائدة 5:112
  113. المائدة 5:113
  114. المائدة 5:114
  115. المائدة 5:115
  116. المائدة 5:116
  117. المائدة 5:117
  118. المائدة 5:118
  119. المائدة 5:119
  120. المائدة 5:120
  121. الأنعام 6:1
  122. الأنعام 6:2
  123. الأنعام 6:3
  124. الأنعام 6:4
  125. الأنعام 6:5
  126. الأنعام 6:6
  127. الأنعام 6:7
  128. الأنعام 6:8
  129. الأنعام 6:9
  130. الأنعام 6:10
  131. الأنعام 6:11
  132. الأنعام 6:12
  133. الأنعام 6:13
  134. الأنعام 6:14
  135. الأنعام 6:15
  136. الأنعام 6:16
  137. الأنعام 6:17
  138. الأنعام 6:18
  139. الأنعام 6:19
  140. الأنعام 6:20
  141. الأنعام 6:21
  142. الأنعام 6:22
  143. الأنعام 6:23
  144. الأنعام 6:24
  145. الأنعام 6:25
  146. الأنعام 6:26
  147. الأنعام 6:27
  148. الأنعام 6:28
  149. الأنعام 6:29
  150. الأنعام 6:30
  151. الأنعام 6:31
  152. الأنعام 6:32
  153. الأنعام 6:33
  154. الأنعام 6:34
  155. الأنعام 6:35
  156. الأنعام 6:36
  157. الأنعام 6:37
  158. الأنعام 6:38
  159. الأنعام 6:39
  160. الأنعام 6:40
  161. الأنعام 6:41
  162. الأنعام 6:42
  163. الأنعام 6:43
  164. الأنعام 6:44
  165. الأنعام 6:45
  166. الأنعام 6:46
  167. الأنعام 6:47
  168. الأنعام 6:48
  169. الأنعام 6:49
  170. الأنعام 6:50
  171. الأنعام 6:51
  172. الأنعام 6:52
  173. الأنعام 6:53
  174. الأنعام 6:54
  175. الأنعام 6:55
  176. الأنعام 6:56
  177. الأنعام 6:57
  178. الأنعام 6:58
  179. الأنعام 6:59
  180. الأنعام 6:60
  181. الأنعام 6:61
  182. الأنعام 6:62
  183. الأنعام 6:63
  184. الأنعام 6:64
  185. الأنعام 6:65
  186. الأنعام 6:66
  187. الأنعام 6:67
  188. الأنعام 6:68
  189. الأنعام 6:69
  190. الأنعام 6:70
  191. الأنعام 6:71
  192. الأنعام 6:72
  193. الأنعام 6:73
  194. الأنعام 6:74
  195. الأنعام 6:75
  196. الأنعام 6:76
  197. الأنعام 6:77
  198. الأنعام 6:78
  199. الأنعام 6:79
  200. الأنعام 6:80
  201. الأنعام 6:81
  202. الأنعام 6:82
  203. الأنعام 6:83
  204. الأنعام 6:84
  205. الأنعام 6:85
  206. الأنعام 6:86
  207. الأنعام 6:87
  208. الأنعام 6:88
  209. الأنعام 6:89
  210. الأنعام 6:90
  211. الأنعام 6:91
  212. الأنعام 6:92
  213. الأنعام 6:93
  214. الأنعام 6:94
  215. الأنعام 6:95
  216. الأنعام 6:96
  217. الأنعام 6:97
  218. الأنعام 6:98
  219. الأنعام 6:99
  220. الأنعام 6:100
  221. الأنعام 6:101
  222. الأنعام 6:102
  223. الأنعام 6:103
  224. الأنعام 6:104
  225. الأنعام 6:105
  226. الأنعام 6:106
  227. الأنعام 6:107
  228. الأنعام 6:108
  229. الأنعام 6:109
  230. الأنعام 6:110
  231. الأنعام 6:111
  232. الأنعام 6:112

المائدة 5:1

مومن کی زندگی ایک پابند زندگی ہے۔ وہ دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اس کے باوجود وہ اللہ کی آقائی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو از خود عہد کی رسّی میں باندھ لیتا ہے۔ اللہ کا معاملہ ہو یا بندوں کا معاملہ، دونوں قسم کے معاملات میں اس نے اپنے کو پابند کرلیا ہے کہ وہ آزادانہ عمل نہ کرے بلکہ خدا کے حکم کے مطابق عمل کرے۔ وہ انھیں چیزوں کو اپنی خوراک بنائے جو خدا نے اس کے لیے حلال کی ہیں اور جو چیزیں خدا نے حرام کی ہیں ان کو کھانا چھوڑ دے۔ کسی موقع پر اگر کسی جائز چیز سے بھی روک دیا جائے جیسا کہ احرام کی حالت میں یا حرام مہینوں کے بارے میں حکم سے واضح ہوتا ہے تو اس کو بھی بے چون وچرا مان لے۔ کوئی چیز کسی دینی حقیقت کی علامت بن جائے تو اس کا احترام کرے۔ کیوں کہ ایسی چیز کا احترام خود دین کا احترام ہے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے کرے، نہ کہ کسی اور جذبے سے۔ آدمی عام حالات میں اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہوتی ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا یکایک اللہ سے بے خوف انسان بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ موقع وہ ہے جب کہ کسی کی کوئی مخالفانہ حرکت اس کو مشتعل کردیتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی انصاف کی حدوں کو بھول جاتا ہے اور یہ چاہنے لگتا ہے کہ جس طرح بھی ہو اپنے حریف کو ذلیل اور ناکام کرے۔ مگر اس قسم کی معاندانہ کارروائی خدا کے نزدیک جائز نہیں، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ مسجد حرام کی زیارت جیسے پاک کام سے کسی نے دوسرے کو روکا ہو۔کوئی شخص اس قسم کی ظالمانہ کارروائی کرنے کے لیے اٹھے اور کچھ لوگ اس کا ساتھ دینے لگیں تو یہ گناہ کی راہ میں کسی کی مدد کرنا ہوگا۔ جب کہ اللہ سے ڈرنے والوں کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف نیکی کے کاموں میں دوسرے کی مدد کریں۔ جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دینا اور جو ناحق پر ہو اس کا ساتھ نہ دینا، موجودہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ مگر اسی مشکل کا م پر آدمی کے اُخروی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

المائدة 5:2

مومن کی زندگی ایک پابند زندگی ہے۔ وہ دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اس کے باوجود وہ اللہ کی آقائی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو از خود عہد کی رسّی میں باندھ لیتا ہے۔ اللہ کا معاملہ ہو یا بندوں کا معاملہ، دونوں قسم کے معاملات میں اس نے اپنے کو پابند کرلیا ہے کہ وہ آزادانہ عمل نہ کرے بلکہ خدا کے حکم کے مطابق عمل کرے۔ وہ انھیں چیزوں کو اپنی خوراک بنائے جو خدا نے اس کے لیے حلال کی ہیں اور جو چیزیں خدا نے حرام کی ہیں ان کو کھانا چھوڑ دے۔ کسی موقع پر اگر کسی جائز چیز سے بھی روک دیا جائے جیسا کہ احرام کی حالت میں یا حرام مہینوں کے بارے میں حکم سے واضح ہوتا ہے تو اس کو بھی بے چون وچرا مان لے۔ کوئی چیز کسی دینی حقیقت کی علامت بن جائے تو اس کا احترام کرے۔ کیوں کہ ایسی چیز کا احترام خود دین کا احترام ہے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے کرے، نہ کہ کسی اور جذبے سے۔ آدمی عام حالات میں اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہوتی ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا یکایک اللہ سے بے خوف انسان بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ موقع وہ ہے جب کہ کسی کی کوئی مخالفانہ حرکت اس کو مشتعل کردیتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی انصاف کی حدوں کو بھول جاتا ہے اور یہ چاہنے لگتا ہے کہ جس طرح بھی ہو اپنے حریف کو ذلیل اور ناکام کرے۔ مگر اس قسم کی معاندانہ کارروائی خدا کے نزدیک جائز نہیں، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ مسجد حرام کی زیارت جیسے پاک کام سے کسی نے دوسرے کو روکا ہو۔کوئی شخص اس قسم کی ظالمانہ کارروائی کرنے کے لیے اٹھے اور کچھ لوگ اس کا ساتھ دینے لگیں تو یہ گناہ کی راہ میں کسی کی مدد کرنا ہوگا۔ جب کہ اللہ سے ڈرنے والوں کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف نیکی کے کاموں میں دوسرے کی مدد کریں۔ جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دینا اور جو ناحق پر ہو اس کا ساتھ نہ دینا، موجودہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ مگر اسی مشکل کا م پر آدمی کے اُخروی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

المائدة 5:3

بعض جانور اپنے طبی اور اخلاقی نقصانات کی وجہ اس قابل نہیں کہ انسان ان کو اپنی خوراک بنائے۔ خنزیر کو اللہ تعالیٰ نے اسی سبب سے حرام قرار دیا ۔ اسی طرح جانور کے جسم میں گوشت کے علاوہ کئی دوسری چیزیں ہوتی ہیں جو انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں۔ انھیں میں سے خون بھی ہے۔ چنانچہ اسلام میں جانور کو ذبح كرنے كي ايك خاص صورت مقرر كي گئي هے تاكه جانور كے جسم كا خون پوري طرح بهه كر نكل جائے۔ ذبح كے سوا جانور كو مارنے کے جو طریقے ہیں ان میں خون جانور کے گوشت میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے، وہ پوری طرح اس سے الگ نہیں ہوتا۔ اسی سبب سے شریعت میں مردار کی تمام قسموں کو بھی حرام کردیاگیا۔ کیوں کہ مردار جانور کا خون فوراً ہی اس کے گوشت میں جذب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایسا گوشت بھی حرام کردیا گیا جس میں کسی طرح مشرکانہ عقیدہ کی آمیزش ہوجائے۔ مثلاً غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا یا غیر اللہ کے تقرب کی خاطر جانور کو قربان کرنا۔ تاہم اللہ نے اپنی رحمت خاص سے یہ گنجائش دے دی کہ کسی کو بھوک کی ایسی مجبوری پیش آجائے کہ اس کو موت یا حرام خوراک میں سے ایک کو لینا ہو تو وہ موت کے مقابلہ میں حرام خوراک کو اختیار کرے۔ ’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے کامل کردیا‘‘، یعنی تم کو جو احکام ديے جانے تھے وہ سب دے ديے گئے۔ تمھارے لیے جو کچھ بھیجنا مقدر کیا گیا وہ سب بھیجا جاچکا۔ یہاں علی الاطلاق دین کے کامل كيے جانے کاذکر نهيں ہے بلکہ امت محمد ی پر جو قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا اس کے پورے ہونے کا اعلان ہے۔ یہ نزول کی تکمیل کا ذکر ہے، نہ کہ دین کی تکميل کا۔ اسی لیے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ’’آج میں نے دین کو کامل کردیا‘‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے کامل کردیا‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہر زمانہ میں اپنی کامل صورت میں انسان کو دیاگیا ہے۔ خدا نے کبھی ناقص دین انسان کے پاس نہیں بھیجا۔ قرآن کو ماننے والی امت کو خدا نے اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم کردیا ہے کہ وہ اپنی امکانی قوت کے اعتبار سے ہر بیرونی خطرہ کی زد سے باہر جاچکی ہے۔ اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے، نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔

المائدة 5:4

وہ تمام چیزیں جن کو فطرت کی نگاہ پاک اور ستھرا محسوس کرتی ہے۔ اور وہ تمام جانور جو اپنی سرشت کے لحاظ سے انسان کی سرشت سے مناسبت رکھتے ہیں انسان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ یہ شرط ہے کہ خارجی سبب سے ان کے اندر کوئی شرعی یا طبی خرابي نہ پیدا ہوگئي ہو۔ تاہم اس اصول کو انسان محض اپنی عقل سے پوری طرح متعین نہیں کرسکتا۔ اس لیے ا س کو تعین کے ساتھ بھی بیان کردیا گیا۔ سدھائے ہوئے جانور کا شکار بھی اسی لیے حلال ہے کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھتا ہے۔ گویا اس نے آدمی کی خو سیکھ لی۔ ایسا جانور گویا شکار کے معاملے میں خود آدمی کا قائم مقام بن گیا۔ حلال وحرام کا قانون خواہ کتنی هي تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے بالآخر آدمی کا اپنا ارادہ ہی ہے جو اس کو کسی چیز سے روکتا ہے اور کسی چیز کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کے اوپر اصل نگراں قانون کی دفعات نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اگر آدمی خود نہ چاہے تو قانون کو مانتے ہوئے وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرلے گا۔ یہ صرف اللہ کا خوف ہے جو آدمی کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ملحوظ رکھے۔ اسی لیے حرام وحلال کا قانون بتاتے ہوئے کہاگیا اللہ سے ڈرو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ مسلمان عورت کے لیے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم مرد سے نکاح کرلے۔ مگر مسلمان مردوں کو مخصوص شرائط کے تحت اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس گنجائش کی حکمت یہ ہے کہ عورت فطرۃً تاثر پذیر مزاج رکھتی ہے۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنے مسلم شوہر اور مسلم معاشرہ کا اثر قبول کرلے اور اس طرح نکاح اس کے لیے اسلام میں داخلہ کا ذریعہ بن جائے۔ ’’جو شخص ایمان سے انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہوگیا‘‘، یعنی ایمان کے بغیر عمل کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی ہے جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے۔ جو عمل اللہ کے لیے نہ ہو وہ خود اپنے لیے ہوتا ہے۔ پھر اپنی خاطر كيے ہوئے عمل کی قیمت اللہ کیوں دے گا۔

المائدة 5:5

وہ تمام چیزیں جن کو فطرت کی نگاہ پاک اور ستھرا محسوس کرتی ہے۔ اور وہ تمام جانور جو اپنی سرشت کے لحاظ سے انسان کی سرشت سے مناسبت رکھتے ہیں انسان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ یہ شرط ہے کہ خارجی سبب سے ان کے اندر کوئی شرعی یا طبی خرابي نہ پیدا ہوگئي ہو۔ تاہم اس اصول کو انسان محض اپنی عقل سے پوری طرح متعین نہیں کرسکتا۔ اس لیے ا س کو تعین کے ساتھ بھی بیان کردیا گیا۔ سدھائے ہوئے جانور کا شکار بھی اسی لیے حلال ہے کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھتا ہے۔ گویا اس نے آدمی کی خو سیکھ لی۔ ایسا جانور گویا شکار کے معاملے میں خود آدمی کا قائم مقام بن گیا۔ حلال وحرام کا قانون خواہ کتنی هي تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے بالآخر آدمی کا اپنا ارادہ ہی ہے جو اس کو کسی چیز سے روکتا ہے اور کسی چیز کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کے اوپر اصل نگراں قانون کی دفعات نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اگر آدمی خود نہ چاہے تو قانون کو مانتے ہوئے وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرلے گا۔ یہ صرف اللہ کا خوف ہے جو آدمی کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ملحوظ رکھے۔ اسی لیے حرام وحلال کا قانون بتاتے ہوئے کہاگیا اللہ سے ڈرو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ مسلمان عورت کے لیے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم مرد سے نکاح کرلے۔ مگر مسلمان مردوں کو مخصوص شرائط کے تحت اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس گنجائش کی حکمت یہ ہے کہ عورت فطرۃً تاثر پذیر مزاج رکھتی ہے۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنے مسلم شوہر اور مسلم معاشرہ کا اثر قبول کرلے اور اس طرح نکاح اس کے لیے اسلام میں داخلہ کا ذریعہ بن جائے۔ ’’جو شخص ایمان سے انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہوگیا‘‘، یعنی ایمان کے بغیر عمل کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی ہے جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے۔ جو عمل اللہ کے لیے نہ ہو وہ خود اپنے لیے ہوتا ہے۔ پھر اپنی خاطر كيے ہوئے عمل کی قیمت اللہ کیوں دے گا۔

المائدة 5:6

نماز کا مقصدآدمی کو برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ وضو اسی کی ایک خارجی تیاری ہے۔ آدمی جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے وہ پانی کے پاس جاتا ہے۔ پانی بہت بڑی نعمت ہے جو آدمی کے لیے ہر قسم کی گندگی کو دھونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی طرح نماز بھی ایک ربانی چشمہ ہے جس میں نہا کر آدمی اپنے آپ کو برے جذبات اور گندے خیالات سے پاک کرتا ہے۔ آدمی وضو کو شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتا ہے تو گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرے ان ہاتھوں کو برائی سے بچا اور ان کے ذریعہ جو برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں ان کو دھو کر صاف کردے۔ پھر وہ اپنے منھ میں پانی ڈالتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی روح زبان حال سے کہہ اٹھتی ہے کہ خدایا میں نے اپنے منھ میں جو غلط خوراک ڈالی ہو، میںنے اپنی زبان سے جو برا کلمہ نکالا ہو، میری آنکھوں نے جو بری چیز دیکھی ہو ان سب کو تو مجھ سے دور کردے۔ پھر وہ پانی لے کر اپنے ہاتھوں کو سر کے اوپر پھیرتا ہے تو اس کا وجو د سراپا اس دعا میں ڈھل جاتا ہے کہ خدایا میرے ذہن نے جو بری باتیں سوچی ہوں اور جو غلط منصوبے بنائے ہوں ان کے اثرات کو مجھ سے دھو دے اور میرے ذہن کو پاک صاف ذہن بنادے۔ پھر جب وہ اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اس کا عمل اس کے لیے اپنے رب کے سامنے یہ درخواست بن جاتا ہے کہ وہ اس کے پیروں سے برائی کی گرد کو دھودے اور اس کو ایسا بنا دے کہ سچائی اور انصاف کے راستے کے سوا کسی اور راستہ پر وہ کبھی نہ چلے۔ اس طرح پورا وضو آدمی کے لیے گویا اس دعا کی عملی صورت بن جاتا ہے— خدایا مجھے غلطی سے پلٹنے والا بنا اور مجھ کو برائیوں سے پاک رہنے والا بنا۔ عام حالات میں پاکی کا احساس پیدا کرنے کے لیے وضو کافی ہے۔ مگر جنابت کی حالت ایک غیرمعمولی حالت ہے۔ اس لیے اس میں پورے جسم کا دھونا (غسل) ضروری قرار دیاگیا۔ وضو اگر چھوٹا غسل ہے تو غسل بڑا وضو ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ وہ بندوں کو غیر ضروری مشقت میں ڈالے۔ اس لیے معذوری کی حالتوں میں پاکی کے احساس کو تازہ کرنے کے لیے تیمم کو کافی قرار دیا گیا۔ وضو اور غسل کے سادہ طریقے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس طرح طہارت شرعی کو طہارت طبعی کے ساتھ جوڑدیاگیا ہے۔ معذوری کی حالت میں تیمم کی اجازت مزید نعمت ہے کیوں کہ یہ غلو سے بچانے والی ہے جس میں اکثر مذاہب كے لوگ مبتلا ہوئے۔

المائدة 5:7

اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔

المائدة 5:8

اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔

المائدة 5:9

اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔

المائدة 5:10

اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔

المائدة 5:11

ایمان ایک عہد ہے جو بندے اور خدا کے درمیان قرار پاتا ہے۔ بندہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ سے ڈر کر رہے گا اور اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دنیا وآخرت میں بندہ کا کفیل ہوجائے گا۔ بندے کو اپنے عہد میں پورا اترنے کے لیے دو باتوں کا ثبوت دینا ہے۔ ایک یہ کہ وہ قوّامٌ للہ بن جائے، یعنی وہ خدا کی باتوں پر خوب قائم رہنے والا ہو۔ اس کا وجود ہر موقع پر صحیح ترین جواب پیش کرے، جو بندے کو اپنے رب کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ وہ جب کائنات کو دیکھے تو اس کا ذہن خدا کی قدرتوں اور عظمتوں کے تصور سے سرشار ہوجائے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھے تو اس کو اپنی زندگی سراپا فضل اور احسان نظر آئے۔ اس کے جذبات امنڈیں تو خدا کے امنڈیں۔ اس کی توجہات کسی چیز كو اپنا مركز بنائیں تو خدا کو بنائیں۔ اس کی محبت خدا کے لیے ہو۔ اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوں۔ اس کی یادوں میں خدا سمایا ہوا ہو۔ وہ خدا کی عبادت واطاعت کرے۔ وہ خدا کے راستہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے دین کے راستہ میں لگا کر خوش ہوتا هو۔ عہد پر قائم رہنے کی دوسری شرط بندوں کے ساتھ انصاف ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ کمی بیشی كيے بغیر وہ سلوک کرنا جس کا وہ باعتبار واقعہ مستحق ہے۔ معاملات میں حق کو اپنانا، نہ کہ اپنی خواہشات کو۔ اس معاملہ میں بندے کو اتنا زیادہ پابند بننا ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اپنے کو انصاف سے باندھے رہے جب کہ وہ دشمنوں اور باطل پرستوں سے معاملہ کررہا ہو، جب کہ شکایتیں اور تلخ یادیں اس کو انصاف کے راستہ سے پھیرنے لگیں۔ دنیا میں خدا نشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی ایسے دلائل کی صورت میں جس کی کاٹ آدمی کے پاس موجود نہ ہو۔ جب آدمی کے سامنے خدا کی دلیل آئے اور وہ اس کو ماننے کے بجائے لفظی تکرار کرنے لگے تو اس نے خدا کی نشانی کو جھٹلایا۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سخت سزا پائیں گے۔ اور جن لوگوں نے اس کو مان لیا وہ خدا کے انعام کے مستحق ہوں گے۔

المائدة 5:12

بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبرکی معرفت خدا پرستانہ زندگی گزرانے کا عہد لیاگیا اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سردار ان کی نگرانی کے لیے مقرر کیےگئے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیاگیا وہ یہ تھا کہ وہ نماز کے ذریعے اپنے کو اللہ والا بنائیں۔ وہ زکوٰۃ کی صورت میں بندوں کے حقوق ادا کریں۔ پیغمبروں کا ساتھ دے کر وہ اپنے کو اللہ کی پکار کی جانب کھڑا کریں اور اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا اثاثہ خرچ کریں۔ ان کاموں کی ادائیگی اور اپنے درمیان ان کی نگرانی کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ خدا کی نظر میں اس کے مستحق تھے کہ خدا ان کا ساتھی ہو۔ وہ ان کو پاک صاف کرکے اس قابل بنائے کہ وہ جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل ہوسکیں۔ جنت کسی کو عمل سے ملتی ہے، نہ کہ کسی قسم کے نسلی تعلق سے۔ اس عہد میں جن اعمال کا ذکر ہے یہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو خدا اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ کے دائیں بائیں مڑ جاتی ہیں۔ اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے۔ عبادت کے نام پر غیر متعلق بحثیں شروع ہوجاتی ہیں۔ نجات کے ایسے راستے تلاش کرليے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا كيے بغیر آدمی کو منزل تک پہنچا دیں۔ دعوتِ حق کے نام پر ان کے یہاں بے معنیٰ قسم کے دنیوی ہنگامے جاری ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیوی اخراجات کی بہت سی مدیں بناتے ہیں اور انھیں کو دین کے لیے خرچ کا نام دے دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے دنیوی مصالح کے مطابق ایک دین گھڑتے ہیں اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگتے ہیں۔ جب کوئی گروہ بگاڑ کی اس نوبت تک پہنچتا ہے تو خدا اپنی توجہ اس سے ہٹا لیتاہے۔ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر خدا کی عدالت میں پہنچا دے۔

المائدة 5:13

بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبرکی معرفت خدا پرستانہ زندگی گزرانے کا عہد لیاگیا اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سردار ان کی نگرانی کے لیے مقرر کیےگئے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیاگیا وہ یہ تھا کہ وہ نماز کے ذریعے اپنے کو اللہ والا بنائیں۔ وہ زکوٰۃ کی صورت میں بندوں کے حقوق ادا کریں۔ پیغمبروں کا ساتھ دے کر وہ اپنے کو اللہ کی پکار کی جانب کھڑا کریں اور اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا اثاثہ خرچ کریں۔ ان کاموں کی ادائیگی اور اپنے درمیان ان کی نگرانی کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ خدا کی نظر میں اس کے مستحق تھے کہ خدا ان کا ساتھی ہو۔ وہ ان کو پاک صاف کرکے اس قابل بنائے کہ وہ جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل ہوسکیں۔ جنت کسی کو عمل سے ملتی ہے، نہ کہ کسی قسم کے نسلی تعلق سے۔ اس عہد میں جن اعمال کا ذکر ہے یہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو خدا اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ کے دائیں بائیں مڑ جاتی ہیں۔ اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے۔ عبادت کے نام پر غیر متعلق بحثیں شروع ہوجاتی ہیں۔ نجات کے ایسے راستے تلاش کرليے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا كيے بغیر آدمی کو منزل تک پہنچا دیں۔ دعوتِ حق کے نام پر ان کے یہاں بے معنیٰ قسم کے دنیوی ہنگامے جاری ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیوی اخراجات کی بہت سی مدیں بناتے ہیں اور انھیں کو دین کے لیے خرچ کا نام دے دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے دنیوی مصالح کے مطابق ایک دین گھڑتے ہیں اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگتے ہیں۔ جب کوئی گروہ بگاڑ کی اس نوبت تک پہنچتا ہے تو خدا اپنی توجہ اس سے ہٹا لیتاہے۔ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر خدا کی عدالت میں پہنچا دے۔

المائدة 5:14

آسمانی کتاب کی حامل قوموں پر جب بگاڑ آتا ہے تو وہ دین کے محکم حصہ کو چھوڑ کر اس کے غیر محکم حصہ پر دوڑ پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میںرسوائی کی صورت میں۔ مسیح علیہ السلام باپ کے بغیر ایک پاکباز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے بعد انھوں نے اپنی زبان سے اپنا جو تعارف کرایا وہ یہ تھا ’’میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔ اب حضرت مسیح کے بارے میں رائے قائم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آنجناب نے اپنے بارے میں جو واضح الفاظ فرمائے ہیں انھیں کی پابندی کی جائے اور آپ کو وہی سمجھا جائے جو ان الفاظ سے براہِ راست طورپر معلوم ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنے قیاس کو دخل دیا جائے اور کہا جائے کہ ’’انسان وہ ہے جو کسی باپ کا بیٹا ہو۔ مسیح کسی باپ کے بیٹے نہ تھے۔ اس لیے وہ خدا کے بیٹے تھے‘‘۔ پہلی رائے کی بنیادخود مسیح کا محکم اور مستند قول ہے۔ اس لیے اگر اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں اختلاف پیدا نہ ہو گا۔ جب کہ دوسری رائے کی بنیاد محض انسانی قیاس پر ہے۔ اس لیے جب دوسری رائے کو اختیار کیا جائے گا تو رایوں کا اختلاف شروع ہوجائے گا، جیساکہ مسیح کو ماننے والوں کے ساتھ بعد کے زمانہ میں ہوا۔ آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کے اندر اسی قسم کی خرابیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ محکم دین کو چھوڑ کر قیاسی دین پر چل پڑتی ہے۔ یہیں سے اختلاف اور فرقہ بندیوں کا دروزاہ کھل جاتا ہے۔ فقہ اور کلام، روحانیت اور سیاست میں خدا و رسول نے جو کھلے ہوئے احکام ديے ہیں لوگ ان کے سادہ مفہوم پر قانع نہیں رہتے بلکہ بطور خود نئي نئي بحثيں نكالتے هيں۔ كبھي زمانے كے خيالات سے متاثر هو كر، كبھي اپني دنيوي خواهشوں كو ديني جواز عطا كرنے كے ليے، كبھي بزعم خود خدا کے ناقص دین کو کامل بنانے کے لیے، اپنی طرف سے ایسی باتیں دین میں داخل کردی جاتی ہیں جو حقیقۃً دین کا حصہ نہیں ہوتیں۔ اس طرح نئے نئے دینی ایڈیشن تیار ہوجاتے ہیں۔ کوئی روحانی ایڈیشن، کوئی سیاسی ایڈیشن، کوئی اور ایڈیشن۔ ہر ایک کے گرد اس کے موافق ذوق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخر ان کا ایک فرقہ بن جاتا ہے۔ ان کی بعد کی نسلیں اس کو اسلام کا ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت شروع کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ قیامت تک کبھی ختم نہ ہو۔ کیوں کہ انسان ماضی کو ہمیشہ مقدس سمجھ لیتا ہے اور جو چیز مقدس بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی — مذہب کے نام پر فرقہ بندی ایک طرف مقدس ہو کر ابدی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف خدا کا حکم بن کر دوسروں کے خلاف نفرت اور جارحیت کا اجازت نامہ بھی۔

المائدة 5:15

اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لیے بالکل کافی تھی۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی تھیں۔ مثال کے طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑلیا۔ قرآن ان کے لیے ایک نعمت بن کرآیا۔ اس نے ان کے لیے دین خداوندی کی ’’تجدید‘‘ کی۔ قرآن نے ان کو اندھیرے سے نکالا، يعني وہ ایسے راستے پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہا ہے، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیرضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کرلیا تھا اس سے انھیں آزاد کردیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ او رجن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے۔وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل انھیں لوگوں کے ذہن کا جزء بنتی ہے جو اس کے لیے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں۔ خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہوسکتی ہیں۔

المائدة 5:16

اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لیے بالکل کافی تھی۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی تھیں۔ مثال کے طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑلیا۔ قرآن ان کے لیے ایک نعمت بن کرآیا۔ اس نے ان کے لیے دین خداوندی کی ’’تجدید‘‘ کی۔ قرآن نے ان کو اندھیرے سے نکالا، يعني وہ ایسے راستے پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہا ہے، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیرضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کرلیا تھا اس سے انھیں آزاد کردیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ او رجن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے۔وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل انھیں لوگوں کے ذہن کا جزء بنتی ہے جو اس کے لیے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں۔ خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہوسکتی ہیں۔

المائدة 5:17

اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لیے بالکل کافی تھی۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی تھیں۔ مثال کے طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑلیا۔ قرآن ان کے لیے ایک نعمت بن کرآیا۔ اس نے ان کے لیے دین خداوندی کی ’’تجدید‘‘ کی۔ قرآن نے ان کو اندھیرے سے نکالا، يعني وہ ایسے راستے پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہا ہے، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیرضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کرلیا تھا اس سے انھیں آزاد کردیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ او رجن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے۔وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل انھیں لوگوں کے ذہن کا جزء بنتی ہے جو اس کے لیے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں۔ خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہوسکتی ہیں۔

المائدة 5:18

ستاروں کا غروب ایک علامتی لفظ ہے جس کے ذریعہ ستاروں کی گردش کے محکم نظام کی طرف اشارہ کیا گیا۔ مادی دنیا میں ستاروں کا نظام ایک بے خطا نظام ہے، یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ وحی و نبوت کی صورت میں خدا نے جو روحانی نظام قائم کیا ہے وہ بھی ایک بے خطا نظام ہو۔ فرشتہ اور وحی کی صورت میں رسول کا تجربہ حقیقی تجربہ ہے۔ ا س کے ثبوت کے لیے قرآن کا بیان کافی ہے۔ قرآن کا معجزانہ کلام قرآن کو خدا کی کتاب ثابت کرتا ہے۔ اور جس کتاب کا خدا کی کتاب ہونا ثابت ہوجائے اس کا ہر بیان خود قرآن کے زور پر مستند تسلیم کیا جائے گا۔

المائدة 5:19

جو قوم کتاب اور پیغمبر کی حامل بنائی جائے اور وہ اس کے ماننے کا ثبوت دے دے تو اس پر خدا کی بہت سی نعمتیں نازل ہوتی ہیں — مخالفین کے مقابلہ میں خصوصی نصرت، ترقي وبلندي، مغفرت اور جنت کا وعدہ، وغیرہ۔ قوم کے ابتدائی لوگوں کے لیے یہ ان کے عمل کا بدلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو خدا کے حوالے کیا اس لیے خدا نے ان پر اپنی نعمتیں برسائیں۔ مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب ان کے لیے سارا معاملہ قومی معاملہ بن جاتا ہے۔ اولین لوگوں کو جو چیز عمل کے سبب سے ملی تھی، بعد کے لوگ قومی اور نسلی تعلق کی بنا پر اپنے کو اس کا مستحق سمجھ لیتے ہیں۔ وہ یقین کرلیتے ہیں کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں اور وہ خواہ کچھ بھی کریں خدا کی نعمتیں ان کو مل کر رہیں گی۔ حاملِ کتاب قوموں کو اس غلط فہمی سے نکالنے کي خاطر خدا نے ان کے لیے یہ خصوصی قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ان کا خدا ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اگر وہ دنیا میں اپنے دشمنوں پر غالب آرہے ہوں تو وہ خدا کے مقبول گروہ ہیں اور اگر ان کے دشمن ان پر غلبہ پالیں تو وہ خدا کے نا مقبول گروہ ہیں۔ کوئی حامل کتاب گروہ کثرت تعداد کے باوجود اگر دنیا میں مغلوب اور ذلیل ہو رہا ہو تو اس کو ہرگز یہ امید نہ رکھنا چاہیے کہ آخرت میں وہ سر بلند اور باعزت رہے گا۔ کسی قوم کوبحیثیت قوم کے خدا کا محبوب سمجھنا سراسر باطل خیال ہے۔ خدا کے یہاں فرد فرد کا حساب ہونا ہے، نہ کہ قوم قوم کا۔ ہر آدمی جو کچھ کرے گا اسی کے مطابق وہ خدا کے یہاں بدلہ پائے گا۔ ہر آدمی اللہ کی نظر میں بس ایک انسان ہے، خواہ وہ اِس قوم سے تعلق رکھتا ہو یا اُس قوم سے۔ ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ اِس بنیاد پر کیا جائے گا کہ امتحان کی دنیا میں اس نے کس قسم کی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔ جنت کسی کا قومی وطن نہیں اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں۔ اللہ کے فیصلہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسے افراد اٹھاتا ہے جو لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کو جہنم سے ڈراتے ہیں اور جنت کی خوش خبری دیتے ہیں۔ خدا کے اسی بشیر ونذیر کا ساتھ دے کر آدمی خدا کو پاتا ہے، نہ کہ کسی اور طریقے سے۔

المائدة 5:20

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔ بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

المائدة 5:21

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔ بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

المائدة 5:22

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔ بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

المائدة 5:23

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔ بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

المائدة 5:24

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔ بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

المائدة 5:25

بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہوجاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالو گے۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا کہ وہ چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ اس دوران ان كي ايك نئی نسل نئے حالات میں پرورش پاکر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 40 سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام وفلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہوجاؤ۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ’’ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے‘‘۔ مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔بچوںمیں یہ طاقت اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پُر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پُر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔ موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مُردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طورپر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔

المائدة 5:26

بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہوجاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالو گے۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا کہ وہ چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ اس دوران ان كي ايك نئی نسل نئے حالات میں پرورش پاکر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 40 سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام وفلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہوجاؤ۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ’’ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے‘‘۔ مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔بچوںمیں یہ طاقت اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پُر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پُر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔ موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مُردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طورپر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔

المائدة 5:27

اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔ ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔ دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

المائدة 5:28

اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔ ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔ دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

المائدة 5:29

اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔ ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔ دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

المائدة 5:30

دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لیے کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلنا اور اس کے نقصان کے درپے ہونا گویا خدا کے منصوبہ کو باطل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا آدمی اگٰرچه موجودہ امتحان کی دنیا میں ایک حد تک عمل کرنے کا موقع پاتا ہے۔ مگر خدا کی نظر میں وہ بدترین مجرم ہے۔ ہابیل نے اپنے بڑے بھائی کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد اس کے دل میں جھجھک پیدا ہوئی۔ اس کو محسوس ہوا کہ وہ واقعی بلا سبب اپنے بھائی کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ مگر اس کا حسد کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہوسکا۔ اس نے اپنے ذہن میں ایسے عذرات گھڑ لیے جو اس کے لیے اپنے بھائی کے قتل کو جائز ثابت کرسکیں۔ اس کی اندرونی کش مکش نے بالآخر خود ساختہ توجیہات میں اپنے لیے تسکین تلاش کرلی اور اس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا — ضمیر کی آواز خدا کی آواز ہے۔ ضمیر کے اندر کسی عمل کے بارے میں سوال پیدا ہونا آدمی کا امتحان کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اگر آدمی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہے تو وہ کامیاب ہوا۔ اور اگر اس نے جھوٹے الفاظ کا سہارا لے کر ضمیر کی آواز کو دبا دیا تو وہ ناکام ہوگیا۔ حدیث میں ہے کہ زیادتی اور قطع رحم ایسے گناہ ہیں کہ ان کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے (مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ مَعَ مَا يُؤَخَّرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنْ بَغْيٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ )مسند احمد، حديث نمبر 20374۔ قابیل نے اپنے بھائی کے ساتھ جو ناحق ظلم کیا تھا اس کی سزا نہ صرف اس كو آخرت میں ملے گي بلکہ اسی دنیا سے اس کا انجام شروع ہوگیا۔ مجاہد اور جبیر تابعی سے منقول ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا یہ حال ہوا کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے چپک گئی۔ وہ بے یارو مددگار زمین پر پڑا رہتا، یہاں تک کہ اسی حال میں ذلّت اور تکلیف کے ساتھ مرگیا (ابن کثیر) قابیل کو کوّے کے ذریعہ یہ تعلیم دی گئی کہ وہ لاش کو زمین کے نیچے دفن کردے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسان فطرت کے راستے کو جاننے کے معاملہ میں جانور سے بھی زیادہ کم عقل ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں۔ نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے کہ جرم سے پہلے اگر آدمی جرم کے ارادہ کو اپنے سینے میں دفن کردے تو اس کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دل کے احساس کو دل کے اندر دبائے، اس کو دل سے باہر آکر واقعہ نہ بننے دے۔ برے احساس کو دل کے باہر نکالنے سے پہلے تو صرف احساس کو دفن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر اس نے ا س کو باہر نکالا تو پھر ایک زندہ انسان کی ’’لاش‘‘ کو دفن کرنے کا مسئلہ اس کے لیے پیدا ہوجائے گا جو دفن ہو کر بھی خدا کے یہاں دفن نہیں ہوتا۔

المائدة 5:31

دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لیے کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلنا اور اس کے نقصان کے درپے ہونا گویا خدا کے منصوبہ کو باطل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا آدمی اگٰرچه موجودہ امتحان کی دنیا میں ایک حد تک عمل کرنے کا موقع پاتا ہے۔ مگر خدا کی نظر میں وہ بدترین مجرم ہے۔ ہابیل نے اپنے بڑے بھائی کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد اس کے دل میں جھجھک پیدا ہوئی۔ اس کو محسوس ہوا کہ وہ واقعی بلا سبب اپنے بھائی کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ مگر اس کا حسد کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہوسکا۔ اس نے اپنے ذہن میں ایسے عذرات گھڑ لیے جو اس کے لیے اپنے بھائی کے قتل کو جائز ثابت کرسکیں۔ اس کی اندرونی کش مکش نے بالآخر خود ساختہ توجیہات میں اپنے لیے تسکین تلاش کرلی اور اس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا — ضمیر کی آواز خدا کی آواز ہے۔ ضمیر کے اندر کسی عمل کے بارے میں سوال پیدا ہونا آدمی کا امتحان کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اگر آدمی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہے تو وہ کامیاب ہوا۔ اور اگر اس نے جھوٹے الفاظ کا سہارا لے کر ضمیر کی آواز کو دبا دیا تو وہ ناکام ہوگیا۔ حدیث میں ہے کہ زیادتی اور قطع رحم ایسے گناہ ہیں کہ ان کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے (مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ مَعَ مَا يُؤَخَّرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنْ بَغْيٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ )مسند احمد، حديث نمبر 20374۔ قابیل نے اپنے بھائی کے ساتھ جو ناحق ظلم کیا تھا اس کی سزا نہ صرف اس كو آخرت میں ملے گي بلکہ اسی دنیا سے اس کا انجام شروع ہوگیا۔ مجاہد اور جبیر تابعی سے منقول ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا یہ حال ہوا کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے چپک گئی۔ وہ بے یارو مددگار زمین پر پڑا رہتا، یہاں تک کہ اسی حال میں ذلّت اور تکلیف کے ساتھ مرگیا (ابن کثیر) قابیل کو کوّے کے ذریعہ یہ تعلیم دی گئی کہ وہ لاش کو زمین کے نیچے دفن کردے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسان فطرت کے راستے کو جاننے کے معاملہ میں جانور سے بھی زیادہ کم عقل ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں۔ نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے کہ جرم سے پہلے اگر آدمی جرم کے ارادہ کو اپنے سینے میں دفن کردے تو اس کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دل کے احساس کو دل کے اندر دبائے، اس کو دل سے باہر آکر واقعہ نہ بننے دے۔ برے احساس کو دل کے باہر نکالنے سے پہلے تو صرف احساس کو دفن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر اس نے ا س کو باہر نکالا تو پھر ایک زندہ انسان کی ’’لاش‘‘ کو دفن کرنے کا مسئلہ اس کے لیے پیدا ہوجائے گا جو دفن ہو کر بھی خدا کے یہاں دفن نہیں ہوتا۔

المائدة 5:32

کوئی شخص جب کسی شخص کو قتل کرتاہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو ظالم کے ظلم سے نجات دیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کا نجات دہندہ نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ ہوتا ہے۔کیوں کہ اس نے اس اصول کی حفاظت کی کہ تمام انسانوں کی جان محترم ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی عزت یا اس کے مال یا اس کی جان پر حملہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہنگامی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وه ایسے کسی ایک واقعہ کو بھی اس نظر سے دیکھیں گویا سارے لوگوں کی جان اور مال اور آبرو خطرے میں ہے۔ کسی معاشرہ میں ایک دوسرے کے احترام کی روایات لمبی تاریخ کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔ اور اگر ایک بار یہ روایات ٹوٹ جائیں تو دوبارہ لمبی تاریخ کے بعد ہی ان کو معاشرہ کے اندر قائم کیاجاسکتا ہے۔ جو لوگ معاشرہ کے اندر فساد کی روایت قائم کریں وہ معاشرہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کا فرض انجام دے۔ کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں بے جا مداخلت نہ کرے۔ تمام جمادات اور حیوانات اسی فطرت پر عمل کررہے ہیں۔ انسان کو بھی پیغمبروں کے ذریعہ یہ ہدایات واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔ مگر انسان جو کہ دیگر مخلوقات کے برعکس وقتي طورپر آزاد رکھا گیا ہے، سرکشی کرتا ہے اور اس طرح فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ اور وہ لوگ اور بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں جو خدا و رسول سے جنگ کریں۔ یعنی خدا اپنے بندوں کے درمیان ایسی دعوت اٹھائے جو لوگوں کومفسدانہ طریقوں سے بچنے اور فطرت خداوندی پر زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ہو تو وہ اس کا راستہ روکیں اور اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کریں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں عبرت ناک سزا ہے اور آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ۔

المائدة 5:33

کوئی شخص جب کسی شخص کو قتل کرتاہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو ظالم کے ظلم سے نجات دیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کا نجات دہندہ نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ ہوتا ہے۔کیوں کہ اس نے اس اصول کی حفاظت کی کہ تمام انسانوں کی جان محترم ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی عزت یا اس کے مال یا اس کی جان پر حملہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہنگامی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وه ایسے کسی ایک واقعہ کو بھی اس نظر سے دیکھیں گویا سارے لوگوں کی جان اور مال اور آبرو خطرے میں ہے۔ کسی معاشرہ میں ایک دوسرے کے احترام کی روایات لمبی تاریخ کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔ اور اگر ایک بار یہ روایات ٹوٹ جائیں تو دوبارہ لمبی تاریخ کے بعد ہی ان کو معاشرہ کے اندر قائم کیاجاسکتا ہے۔ جو لوگ معاشرہ کے اندر فساد کی روایت قائم کریں وہ معاشرہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کا فرض انجام دے۔ کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں بے جا مداخلت نہ کرے۔ تمام جمادات اور حیوانات اسی فطرت پر عمل کررہے ہیں۔ انسان کو بھی پیغمبروں کے ذریعہ یہ ہدایات واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔ مگر انسان جو کہ دیگر مخلوقات کے برعکس وقتي طورپر آزاد رکھا گیا ہے، سرکشی کرتا ہے اور اس طرح فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ اور وہ لوگ اور بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں جو خدا و رسول سے جنگ کریں۔ یعنی خدا اپنے بندوں کے درمیان ایسی دعوت اٹھائے جو لوگوں کومفسدانہ طریقوں سے بچنے اور فطرت خداوندی پر زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ہو تو وہ اس کا راستہ روکیں اور اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کریں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں عبرت ناک سزا ہے اور آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ۔

المائدة 5:34

کوئی شخص جب کسی شخص کو قتل کرتاہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو ظالم کے ظلم سے نجات دیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کا نجات دہندہ نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ ہوتا ہے۔کیوں کہ اس نے اس اصول کی حفاظت کی کہ تمام انسانوں کی جان محترم ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی عزت یا اس کے مال یا اس کی جان پر حملہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہنگامی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وه ایسے کسی ایک واقعہ کو بھی اس نظر سے دیکھیں گویا سارے لوگوں کی جان اور مال اور آبرو خطرے میں ہے۔ کسی معاشرہ میں ایک دوسرے کے احترام کی روایات لمبی تاریخ کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔ اور اگر ایک بار یہ روایات ٹوٹ جائیں تو دوبارہ لمبی تاریخ کے بعد ہی ان کو معاشرہ کے اندر قائم کیاجاسکتا ہے۔ جو لوگ معاشرہ کے اندر فساد کی روایت قائم کریں وہ معاشرہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کا فرض انجام دے۔ کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں بے جا مداخلت نہ کرے۔ تمام جمادات اور حیوانات اسی فطرت پر عمل کررہے ہیں۔ انسان کو بھی پیغمبروں کے ذریعہ یہ ہدایات واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔ مگر انسان جو کہ دیگر مخلوقات کے برعکس وقتي طورپر آزاد رکھا گیا ہے، سرکشی کرتا ہے اور اس طرح فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ اور وہ لوگ اور بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں جو خدا و رسول سے جنگ کریں۔ یعنی خدا اپنے بندوں کے درمیان ایسی دعوت اٹھائے جو لوگوں کومفسدانہ طریقوں سے بچنے اور فطرت خداوندی پر زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ہو تو وہ اس کا راستہ روکیں اور اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کریں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں عبرت ناک سزا ہے اور آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ۔

المائدة 5:35

بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔ جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔

المائدة 5:36

بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔ جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔

المائدة 5:37

بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔ جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔

المائدة 5:38

بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔ جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔

المائدة 5:39

بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔ جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔

المائدة 5:40

بندے کے لیے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتاہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں اس کا تجربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے۔ اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقویٰ اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی اَنا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی اَنا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کرکے خداکو پکڑلے۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اِس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّيات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تقویٰ اور جہاد کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے، جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پاسکے گا۔ جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کر لے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زورپر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لیے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے جرم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ آخرت میں اللہ اسے معاف کردے گا۔

المائدة 5:41

مدینہ میں اندرونی طورپر دو قسم کے لوگ اسلامی دعوت کے مخالفت کررہے تھے۔ ایک منافقین، دوسرے یہود۔ منافقین وہ لوگ تھے جو ظاہری اور نمائشی اسلام کو لیے ہوئے تھے۔ سچے اسلام کی دعوت میں ان کو اپنے اغراض ومفادات پر زد پڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ یہود وہ لوگ تھے جو مذہب کی نمائندگی کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو محسوس ہوتا تھا کہ اسلامی دعوت ان کو ان کے برتری کے مقام سے نیچے اتار رہی ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ سچے اسلام کی دعوت کو اپنا مشترک دشمن سمجھتے تھے۔ اس لیے اسلام کے خلاف مہم چلانے میں دونوں ایک ہوگئے۔ ان کے ’’بڑے‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ خود نہ آتے۔ البتہ ان کے ’’چھوٹے‘‘ اس پر لگے ہوئے تھے کہ وہ آپ کی باتوں کوسنیں اور ا ن کو اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔ پھر یہ لوگ اس کو الٹے معنی پہناتے اور آپ کو اور آپ کی تحریک کو بدنام کرتے۔ ان کی سرکشی نے ان کو ایسا ڈھیٹ بنا دیا تھا کہ وہ اللہ کے کلام کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کر اس سے اپنا مفیدِ مطلب مفہوم نکالنے سے بھی نہ ڈرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کو خدا اور رسول کے تابع نہیں کرتے۔ بلکہ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ جو بات اپنے ذوق کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو بات ذوق کے مطابق نہ ہو اس کو چھوڑ دو۔ یہ مزاج کسی آدمی کے لیے سخت فتنہ ہے۔ جن لوگوںکا یہ حال ہو کہ وہ حق کے مقابلہ میں مفاد اور مصلحت کو ترجیح دیں، جو ہر حال میں اپنے کو بڑائی کے مقام پر دیکھنا چاہیں، جو حق کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تخریبی سازشیں کریں، حتی کہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے خدا کے کلام کو بدل ڈالیں، ایسے لوگوں کی نفسیات بالآخر یہ ہوجاتی ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ انھوںنے خدا کا ساتھ چھوڑا، اس لیے خدا نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر باطل مشغلوں میں لگے رہتے ہیں، یہاں تک کہ آگ کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ کا جو بندہ اللہ کے سچے دین کا پیغام لے کر اٹھا ہو اس کو مخالفتوں کی وجہ سے بے ہمت نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں کی سرگرمیاں حقیقۃً داعی کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہیں۔ اس لیے وہ کبھی کامیاب نہیںہوسکتیں۔ دعوتی عمل سے اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ صرف یہ کہ اصل بات سے بخوبی طورپر لوگوں کو آگاہ کردیا جائے۔ اور یہ کام اللہ کی مدد سے لازماً اپنی تکمیل تک پہنچ کر رہتا ہے۔

المائدة 5:42

حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہِ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہِ راست لین دین نہیں ہوتا مگر وہ تمام رشوتوں میں زیادہ بڑی اور زیادہ قبیح رشوت ہوتی ہے۔ یہ ہے دین کو عوامی پسند کے مطابق بنا کر پیش کرنا تاکہ عوام کے درمیان مقبولیت ہو، لوگوں کا اعزاز واکرام ملے، لوگوں کے چندے اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔ دین کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی عوام کے اندر نامقبول ہوجائے۔ اس کے برعکس دین کو اگر ایسی صورت میں پیش کیا جائے کہ زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہ کرنا پڑے اور آدمی کو دین بھی حاصل رہے تو ایسے دین کے گرد بہت جلد بھیڑ کی بھیڑ اكٹھا ہوجاتی ہے — وہ دین جس میں اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو بدلے بغیر کچھ سستے اعمال کے ذریعہ جنت مل رہی ہو۔ وہ دین جو قومی اور مادی ہنگامہ آرائیوں کو دینی جواز عطا کرتا ہو۔ وہ دین جس میں یہ موقع ہو کہ آدمی اپنی جاہ پسندی کے لیے سرگرم ہو، پھر بھی وہ جو کچھ کرے سب دین کے خانہ میں لکھا جاتا رہے۔ جو لوگ اس قسم کا دین پیش کریں وہ بہت جلد عوام کے اندر محبوبیت کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ یہود کے قائدین اسی قسم کا دین چلا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو ان کا پسندیدہ دین پیش کررہے تھے اور عوام اس کے معاوضہ میں ان کو مالی تعاون سے لے کر اعزاز واکرام تک ہر چیز نثار کررہے تھے۔ ایسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچے دین کی آواز بلند کرنا ان کو ناقابلِ برداشت معلوم ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے مفادات کے ڈھانچہ کو توڑنے کے ہم معنی تھا، آپ سے ان کو اتنی ضد ہوگئی کہ آپ کے متعلق کسی اچھی خبر سے ان کو کوئی دل چسپی نہ رہی۔ البتہ اگر وہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر سنتے تو اس میں خوب دل چسپی لیتے اور اس میں اضافہ کرکے اس کو پھیلاتے۔ جن لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ آجائے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ دینی فیصلہ لینے کی طرف رجوع بھی ہوتے ہیں تو اس امید میں کہ فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خدا ورسول کا فیصلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرنا محض ایک فیصلہ کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ خود ایمان واسلام کا انکار کرنا ہے۔

المائدة 5:43

حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہِ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہِ راست لین دین نہیں ہوتا مگر وہ تمام رشوتوں میں زیادہ بڑی اور زیادہ قبیح رشوت ہوتی ہے۔ یہ ہے دین کو عوامی پسند کے مطابق بنا کر پیش کرنا تاکہ عوام کے درمیان مقبولیت ہو، لوگوں کا اعزاز واکرام ملے، لوگوں کے چندے اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔ دین کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی عوام کے اندر نامقبول ہوجائے۔ اس کے برعکس دین کو اگر ایسی صورت میں پیش کیا جائے کہ زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہ کرنا پڑے اور آدمی کو دین بھی حاصل رہے تو ایسے دین کے گرد بہت جلد بھیڑ کی بھیڑ اكٹھا ہوجاتی ہے — وہ دین جس میں اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو بدلے بغیر کچھ سستے اعمال کے ذریعہ جنت مل رہی ہو۔ وہ دین جو قومی اور مادی ہنگامہ آرائیوں کو دینی جواز عطا کرتا ہو۔ وہ دین جس میں یہ موقع ہو کہ آدمی اپنی جاہ پسندی کے لیے سرگرم ہو، پھر بھی وہ جو کچھ کرے سب دین کے خانہ میں لکھا جاتا رہے۔ جو لوگ اس قسم کا دین پیش کریں وہ بہت جلد عوام کے اندر محبوبیت کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ یہود کے قائدین اسی قسم کا دین چلا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو ان کا پسندیدہ دین پیش کررہے تھے اور عوام اس کے معاوضہ میں ان کو مالی تعاون سے لے کر اعزاز واکرام تک ہر چیز نثار کررہے تھے۔ ایسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچے دین کی آواز بلند کرنا ان کو ناقابلِ برداشت معلوم ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے مفادات کے ڈھانچہ کو توڑنے کے ہم معنی تھا، آپ سے ان کو اتنی ضد ہوگئی کہ آپ کے متعلق کسی اچھی خبر سے ان کو کوئی دل چسپی نہ رہی۔ البتہ اگر وہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر سنتے تو اس میں خوب دل چسپی لیتے اور اس میں اضافہ کرکے اس کو پھیلاتے۔ جن لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ آجائے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ دینی فیصلہ لینے کی طرف رجوع بھی ہوتے ہیں تو اس امید میں کہ فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خدا ورسول کا فیصلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرنا محض ایک فیصلہ کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ خود ایمان واسلام کا انکار کرنا ہے۔

المائدة 5:44

خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔ قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔

المائدة 5:45

خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔ قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔

المائدة 5:46

خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔ قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔

المائدة 5:47

خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔ قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔

المائدة 5:48

یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد دین کی اصلی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور وہی ایک کتاب، زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ، تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچہ میں متشکل ہوتی ہے اس میں مختلف انبیاء کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ نہیں کہ دین کے اتارنے میںکوئی ارتقائی ترتیب ہے۔ یعنی پہلے کم ترقی یافتہ اور غیر کامل دین اتارا گیا اور اس کے بعد زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ کامل دین اترا۔ اس فرق کی وجہ خدا کی حکمت ابتلا ہے، نہ کہ حکمت ارتقاء۔ قرآن کے مطابق ایسا صرف اس لیے ہوا کہ لوگوں کو آزمایا جائے۔ زمانہ گزرنے کے بعد ایساہوتا ہے کہ دین کی اندرونی حقیقت گم ہوجاتی ہے، اور ظواہر ورسوم مقدس ہو کر اصل بن جاتے ہیں۔ لوگ عبادت اس کو سمجھ لیتے ہیں کہ ایک خاص ڈھانچہ کو ظاہری شرائط کے ساتھ دہرالیا جائے۔ اس لیے ظاہری ڈھانچہ میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں تاکہ ڈھانچہ کی مقصودیت کا ذہن ختم ہو اور خدا کے سوا کوئی اور چیز توجہ کا مرکز نہ بننے پائے۔ اس کی ایک مثال قبلہ کی تبدیلی ہے۔ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عبادت کریں۔ یہ حکم صرف رخ بندی کے لیے تھا۔ مگر دھیرے دھیرے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے ہی کا نام عبادت ہے۔ اس وقت سابقہ حکم کو بدل کر کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اب کچھ لوگ سابقہ روایت سے لپٹے رہے اور کچھ لوگوں نے خدا کی ہدایت کو پالیا۔ اس طرح تبدیلیٔ قبلہ سے یہ کھل گیا کہ کون درو دیوار کو پوجنے والا تھا اور کون خدا کو پوجنے والا (بقرہ ، 2:143 )۔ اب اس قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ کیوں کہ ڈھانچہ کو نبی بدلتا ہے اور نبی اب آنے والا نہیں۔ تاہم جہاں تک اصل مقصود کا تعلق ہے وہ بدستور باقی ہے۔ اب بھی خدا کے یہاں اس کا سچا پرستار وہی شمار ہوگا جو ظاہری ڈھانچہ کی پابندی کے باوجود ظاہری ڈھانچہ کو مقصودیت کا درجہ نہ دے، جو ظواہر سے ذہن کو آزاد کرکے خدا کی عبادت کرے۔ پہلے یہ مقصد ظاہری ڈھانچہ کو توڑ کر حاصل ہوتا تھا اب اس کو ذہنی شکست و ریخت (deconditioning)کے ذریعہ حاصل کرناہوگا۔ ظواہر کے نام پر دین میں جوجھگڑے ہیں وہ صرف اس لیے ہیں کہ لوگوں کی غفلت نے ان کو اصل حقیقت سے بے خبر کردیا ہے۔ اگر حقیقت کو وہ اس طرح پالیں جس طرح وہ آخرت میں دکھائی دے گی تو تمام جھگڑے ابھی ختم ہوجائیں۔

المائدة 5:49

قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفے الگ الگ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی کتابِ الٰہی کے مختلف ایڈیشن ہیں جس کو یہاں ’’الکتاب‘‘ کہاگیا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنی کتابیں آئیں، خواہ وہ جس دور میں اور جس زبان میں آئی ہوں، سب کا مشترک مضمون ایک ہی تھا۔ تاہم پچھلی کتابوں کے حاملین بعد کے زمانہ میں ان کو ان کی اصلی صورت میں محفوظ نه رکھ سکے۔ اس لیے خدا نے ایک کتاب مُہَیْمِنْ (قرآن) اتارا۔ یہ خدا کی طرف سے اس کی کتاب کا مستند ایڈیشن ہے اور اس بنا پر وہ ایک کسوٹی ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جائے کہ بقیہ کتابوں کا کون سا حصہ اصلی حالت میں ہے اور کون سا وہ ہے جو بدلا جاچکا ہے۔ یہود خدا کے سچے دین کے ساتھ اپنی باتوں کو ملا کر ایک خود ساختہ دین بنائے ہوئے تھے۔ اس خود ساختہ دین سے ان کی عقیدتیں بھی وابستہ تھیں اور ان کے مفادات بھی۔ اس لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھے کہ اس کو چھوڑ کر پیغمبر کے لائے ہوئے بے آمیز دین کو مان لیں۔ انھوںنے حق کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے لیے يه طریقہ پسند کیا کہ وہ حق کے علم بردار کو اتنا زیادہ پریشان کریں کہ وہ خود ان کے آگے جھک جائے، وہ خدا کے سچے دین کو چھوڑ کر ان کے اپنے بنائے ہوئے دین کو اختیار کرلے۔ خدا اگر چاہتا تو پہلے ہی مرحلہ میں ان ظالموں کا ہاتھ روک دیتا اور وہ حق کے داعی کو ستانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ مگر اللہ نے انھیں چھوٹ دی کہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں کو بروئے کار لاسکیں۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ یہ بات پوری طرح کھل جائے کہ دین داری کے یہ دعوے دار سب سے زیادہ بے دین لوگ ہیں۔ وہ خدا کے پرستار نہیں ہیں بلکہ خود اپنی ذات کے پرستار ہیں۔ اللہ کی یہ سنت اگر چہ حق کے داعیوں کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنت کا مستحق ہے اور کون جہنم کا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنا چاہتا ہے، اللہ کے حکم کا پابند بن کر رہنا اس کو گوارا نہیں ہوتا۔ حتی کہ دین خداوندی کی خود ساختہ تشریح کرکے وہ اس کو بھی اپنی خواہشوں کے سانچہ میں ڈھال لیتا ہے۔ ایسی حالت میں بے آمیز دین کو وہی لوگ قبول کریں گے جو چیزوں کو خواہش کی سطح پر نہ دیکھتے ہوں بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہوں۔ اللہ کی بات بلا شبہ صحیح ترین بات ہے۔ مگر موجودہ آزمائشی دنیا میں ہر سچائی پر ایک شبہہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس پردہ کو پھاڑ کر اس پر یقین کرے، وہ غیب کو شہود میں دیکھ لے۔ جو شخص ظاہری شبہات میں اٹک جائے وہ ناکام ہوگیا اور جو شخص ظاہری شبہات کے غبار کو پار کرکے سچائی کو پالے وہ کامیاب رہا۔

المائدة 5:50

قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفے الگ الگ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی کتابِ الٰہی کے مختلف ایڈیشن ہیں جس کو یہاں ’’الکتاب‘‘ کہاگیا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنی کتابیں آئیں، خواہ وہ جس دور میں اور جس زبان میں آئی ہوں، سب کا مشترک مضمون ایک ہی تھا۔ تاہم پچھلی کتابوں کے حاملین بعد کے زمانہ میں ان کو ان کی اصلی صورت میں محفوظ نه رکھ سکے۔ اس لیے خدا نے ایک کتاب مُہَیْمِنْ (قرآن) اتارا۔ یہ خدا کی طرف سے اس کی کتاب کا مستند ایڈیشن ہے اور اس بنا پر وہ ایک کسوٹی ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جائے کہ بقیہ کتابوں کا کون سا حصہ اصلی حالت میں ہے اور کون سا وہ ہے جو بدلا جاچکا ہے۔ یہود خدا کے سچے دین کے ساتھ اپنی باتوں کو ملا کر ایک خود ساختہ دین بنائے ہوئے تھے۔ اس خود ساختہ دین سے ان کی عقیدتیں بھی وابستہ تھیں اور ان کے مفادات بھی۔ اس لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھے کہ اس کو چھوڑ کر پیغمبر کے لائے ہوئے بے آمیز دین کو مان لیں۔ انھوںنے حق کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے لیے يه طریقہ پسند کیا کہ وہ حق کے علم بردار کو اتنا زیادہ پریشان کریں کہ وہ خود ان کے آگے جھک جائے، وہ خدا کے سچے دین کو چھوڑ کر ان کے اپنے بنائے ہوئے دین کو اختیار کرلے۔ خدا اگر چاہتا تو پہلے ہی مرحلہ میں ان ظالموں کا ہاتھ روک دیتا اور وہ حق کے داعی کو ستانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ مگر اللہ نے انھیں چھوٹ دی کہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں کو بروئے کار لاسکیں۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ یہ بات پوری طرح کھل جائے کہ دین داری کے یہ دعوے دار سب سے زیادہ بے دین لوگ ہیں۔ وہ خدا کے پرستار نہیں ہیں بلکہ خود اپنی ذات کے پرستار ہیں۔ اللہ کی یہ سنت اگر چہ حق کے داعیوں کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنت کا مستحق ہے اور کون جہنم کا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنا چاہتا ہے، اللہ کے حکم کا پابند بن کر رہنا اس کو گوارا نہیں ہوتا۔ حتی کہ دین خداوندی کی خود ساختہ تشریح کرکے وہ اس کو بھی اپنی خواہشوں کے سانچہ میں ڈھال لیتا ہے۔ ایسی حالت میں بے آمیز دین کو وہی لوگ قبول کریں گے جو چیزوں کو خواہش کی سطح پر نہ دیکھتے ہوں بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہوں۔ اللہ کی بات بلا شبہ صحیح ترین بات ہے۔ مگر موجودہ آزمائشی دنیا میں ہر سچائی پر ایک شبہہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس پردہ کو پھاڑ کر اس پر یقین کرے، وہ غیب کو شہود میں دیکھ لے۔ جو شخص ظاہری شبہات میں اٹک جائے وہ ناکام ہوگیا اور جو شخص ظاہری شبہات کے غبار کو پار کرکے سچائی کو پالے وہ کامیاب رہا۔

المائدة 5:51

عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عرب کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ وهاں کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوںپر بٹھا رکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہوتو یہود ونصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لیے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کررہے تھے، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہوتو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔ کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لیے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کا ثبوت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان ومال کا خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر استقامت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر استقامت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کرلیا۔ دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کرکے ارادہ کا ثبوت دے دے، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھا دے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا یک طرفہ طورپر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔

المائدة 5:52

عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عرب کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ وهاں کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوںپر بٹھا رکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہوتو یہود ونصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لیے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کررہے تھے، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہوتو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔ کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لیے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کا ثبوت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان ومال کا خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر استقامت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر استقامت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کرلیا۔ دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کرکے ارادہ کا ثبوت دے دے، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھا دے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا یک طرفہ طورپر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔

المائدة 5:53

عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عرب کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ وهاں کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوںپر بٹھا رکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہوتو یہود ونصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لیے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کررہے تھے، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہوتو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔ کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لیے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کا ثبوت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان ومال کا خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر استقامت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر استقامت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کرلیا۔ دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کرکے ارادہ کا ثبوت دے دے، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھا دے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا یک طرفہ طورپر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔

المائدة 5:54

ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھر گیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہوجائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لیے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لیے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملہ میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار واعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہوجائیں کہ حق كو قبول كرنےکے معاملے ميں وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر ناحق کے معامله ميں وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ تاكه کوئی بھي ان کو اپنے بے جا مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے۔ اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لیے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کامشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام ميںفطری طورپر آدمی كو طرح طرح کی مشكلات اور طرح طرح کي ملامت ومخالفت كاسامناهوتا هے۔ يهاں تك کہ دو الگ الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی پروا کیے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہوجائیں تو زمین کا غلبہ بھی انھیں کے لیے مقدر کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ سرکشی کرنے والے۔

المائدة 5:55

ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھر گیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہوجائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لیے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لیے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملہ میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار واعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہوجائیں کہ حق كو قبول كرنےکے معاملے ميں وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر ناحق کے معامله ميں وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ تاكه کوئی بھي ان کو اپنے بے جا مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے۔ اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لیے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کامشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام ميںفطری طورپر آدمی كو طرح طرح کی مشكلات اور طرح طرح کي ملامت ومخالفت كاسامناهوتا هے۔ يهاں تك کہ دو الگ الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی پروا کیے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہوجائیں تو زمین کا غلبہ بھی انھیں کے لیے مقدر کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ سرکشی کرنے والے۔

المائدة 5:56

ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھر گیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہوجائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لیے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لیے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملہ میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار واعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہوجائیں کہ حق كو قبول كرنےکے معاملے ميں وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر ناحق کے معامله ميں وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ تاكه کوئی بھي ان کو اپنے بے جا مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے۔ اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لیے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کامشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام ميںفطری طورپر آدمی كو طرح طرح کی مشكلات اور طرح طرح کي ملامت ومخالفت كاسامناهوتا هے۔ يهاں تك کہ دو الگ الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی پروا کیے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہوجائیں تو زمین کا غلبہ بھی انھیں کے لیے مقدر کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ سرکشی کرنے والے۔

المائدة 5:57

وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔ وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔

المائدة 5:58

وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔ وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔

المائدة 5:59

وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔ وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔

المائدة 5:60

وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھوبیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔یہی مدینہ کے یہود کاحال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔ جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہوسکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق وباطل کے معاملہ میں کند ہوجاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔ وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکی دار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حیاء، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخري درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک د ور ہوجاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہوجاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے، وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتی کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔

المائدة 5:61

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔ یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔ خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

المائدة 5:62

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔ یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔ خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

المائدة 5:63

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔ یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔ خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

المائدة 5:64

قرآن میں جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیاگیا اور کہاگیا کہ اللہ کو قرض حسن دو تو یہود نے اس کومذاق کا موضوع بنالیا۔ وہ کہتے کہ اللہ فقیر ہے اور اس کے بندے امیر ہیں۔ اللہ کے ہاتھ آج کل تنگ ہورہے ہیں۔ ان کی اس قسم کی باتوں کا رخ خدا کی طرف نہیں بلکہ رسول اور قرآن کی طرف ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدا اس سے برتر ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی ہو۔ اس طرح کی باتیں وہ دراصل یہ ظاہر کرنے کے لیے کہتے تھے کہ يه رسول سچا رسول نہیں۔ اور قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہوتا تو (نعوذ باللہ) ایسی مضحکہ خیز باتیں اس میں نہ ہوتیں۔ مگر جو لوگ اس قسم کی باتیں کریں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقی دینی جذبہ سے خالی ہیں، وہ بے حسی کی سطح پر جی رہے ہیں۔ موجودہ امتحانی دنیا میں انسان کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں ایک شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ’’قرآن خدا کی کتاب ہے‘‘۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ ’’قرآن ایک بناوٹی کتاب ہے‘‘ تو اس کو بھی اپنی بات کہنے کے لیے الفاظ مل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدمی ایک واقعہ سے ہدایت پکڑ سکتا ہے اور اسی واقعہ سے دوسرا آدمی سرکشی کی غذا بھي لے سکتا ہے۔ یہود نے جب قرآن کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا تو وہ سادہ معنوں میں محض انکار نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے ان کا یہ زعم شامل تھا کہ ہم تو نجات یافتہ لوگ ہیں، ہمیں کسی او ر ہدایت کو ماننے کی کیا ضرورت۔ جو لوگ اس قسم کی پُرفخر نفسیات میں مبتلا ہوں ان کے اندر شدید ترین قسم کی اَنانیت جنم لیتی ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں جب ان کا معاملہ دوسروں سے پڑتا ہے تو وہاں بھی وہ اپنی ’’میں‘‘ کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ آپس کے اختلاف اور عناد کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ انسان بھی اسی اطاعت خداوندی کے دین کو اپنا لے جس کو کائنات کی تمام چیزیں اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی زمین کی اصلاح ہے۔ اب جو لوگ پیغمبرانہ دعوت کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں وہ خدا کی زمین میں فساد پیدا کرنے کا کام کررہے ہیں۔ تاہم انسان کو بس اتنی ہی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اندر کے فساد کو باہر لائے، دوسروں کی قسمت کا مالک بننے کی آزادی کسی کو نہیں۔

المائدة 5:65

تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہوجانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کردے گی اور آدمی خدا کی بات کو فوراً پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کردے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھودیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ آدمی کی برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں، وہ چیزيں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ خدا کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پالیتاہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔ جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہوجاتے ہیں جو سابقه نظام كے تحت سرداري كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہوجائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہوگا بلکہ اس پر ہوگا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کررہا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط (بڑھا کر یا گھٹا کر)کرکے وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتے ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتاہے تو وہ اس کو اپنے لیے غیر مانوس پاکر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ (مثلاً نجاشی شاہ حبش، عبد اللہ بن سلام، وغیرہ) جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیںلگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے ہوں۔

المائدة 5:66

تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہوجانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کردے گی اور آدمی خدا کی بات کو فوراً پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کردے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھودیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ آدمی کی برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں، وہ چیزيں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ خدا کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پالیتاہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔ جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہوجاتے ہیں جو سابقه نظام كے تحت سرداري كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہوجائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہوگا بلکہ اس پر ہوگا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کررہا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط (بڑھا کر یا گھٹا کر)کرکے وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتے ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتاہے تو وہ اس کو اپنے لیے غیر مانوس پاکر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ (مثلاً نجاشی شاہ حبش، عبد اللہ بن سلام، وغیرہ) جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیںلگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے ہوں۔

المائدة 5:67

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں آئے تو ایسا نہ تھا کہ وہاں دین کا نام لینے والا کوئی نہ ہو۔ بلکہ ان کا سارا معاشرہ دین ہی کے نام پر قائم تھا۔ دین کے نام پر بہت سے لوگ پیشوائی اور قیادت کا مقام حاصل کیے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر لوگوں کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھیں۔ دینی مناصب کا حامل ہونا معاشرہ میں عزت اور فخر کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس کے باوجود آپ کو عرب کے لوگوں کی طرف سے سخت ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دین خداوندی کے نام پر ان کے یہاں ایک خود ساختہ دین رائج ہوگیا تھا۔ صدیوں کی روایات کے نتیجہ میں اس دین کے نام پر گدّیاں بن گئی تھیں اور مفادات کی بہت سی صورتیں قائم ہوگئی تھیں۔ ایسے ماحول میں جب پیغمبر اسلام نے بے آمیز دین کی دعوت پیش کی تو لوگوںکو نظر آیا کہ وہ ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کررہی ہے۔ ان کو اندیشہ ہوا کہ اگر یہ دین پھیلا تو ان کا وہ مذہبی ڈھانچہ ڈھ جائے گا جس میں ان کو بڑائی کا مقام ملا ہوا ہے۔ یہ صورت حال داعی کے لیے بہت سخت ہوتی ہے۔ اپنے دعوتی کام کو کھلے طورپر انجام دینا وقت کی مذہبی طاقتوں سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ اگر میں کسی مصالحت کے بغیر سچے دین کی تبلیغ کروں تو مجھ کو سخت ترین رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا مذاق اڑایا جائے گا۔ مجھ کو بے عزت کیا جائے گا۔ میری معاشیات تباہ کی جائیں گی۔ میرے خلاف جارحانہ کارروائیاں ہوں گی۔ میں اعوان وانصار سے محروم ہوجاؤں گا۔ اب اس کے سامنے دور راستے ہوتے ہیں۔ دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں دنیوی مصلحتوں کے سِرے ہاتھ سے چھوٹتے ہیں۔ اور اگر دنیوی مصلحتوں کا لحاظ کیا جائے تو دعوتی عمل کی پوری انجام دہی ناممکن نظر آتی ہے۔ یہاں خدا کا وعدہ داعی کو یکسو کرتاہے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ داعی اگر اپنے آپ کو خدا کے پیغام کی پیغام رسانی میں لگا دے تو لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مشکلات میں خدا اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔ داعی کو چاہیے کہ وہ صرف دعوت کے تقاضوں کی تکمیل میں لگ جائے اور مدعو قوم کی طرف سے ڈالے جانے والے مصائب میں وہ خدا پر بھروسہ کرے۔ مخاطبین کا رد عمل ایک فطری چیز ہے اور داعی کو بہر حال اس سے سابقہ پیش آتا ہے۔ مگر اس کا اثر اسی دائرہ تک محدود رہتا ہے جتنا خدا کے قانونِ آزمائش کا تقاضا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ مخالفین اس حد تک قابو یافتہ ہوجائیں کہ وہ دعوتی مہم کو روک دیں یا اس کو تکمیل تک پہنچنے نہ دیں۔ ایک سچی دعوت کا اپنے دعوتی نشانہ تک پہنچنا ایک خدائی منصوبہ ہوتا ہے اس لیے وہ لازماً پورا ہو کر رہتاہے۔ اس کے بعد مدعو گروہ کا ماننا اس کی اپنی ذمہ داری ہے جو اسی کے بقدر نتیجہ خیز ہوتی ہے جتنا مدعو خود چاہتاہو۔

المائدة 5:68

یہود کا یہ حال تھاکہ ان کے افراد عملاً خدا کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوںنے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو خدا کے تابع نہیں کیا تھا۔ البتہ خوش گمانیوں کے تحت انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خداکے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے مگر اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بات کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو خدا کے دین پر قائم کرے۔ جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے، نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی تو ایسی دعوت کے خلاف وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی دعوت میں ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ وہ ایسی دعوت کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں۔ نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی ان کی خود پرستی بے پرده ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چا ہیے تھا اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان کے ماننے والوں کی نسلیں دھیرے دھیرے مستقل قوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں اب پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا۔ البتہ اپنی عظمت وفضیلت کے قصیدے قصے کہانیوں کی صورت میں خوب پھیل جاتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں۔ ہماری نجات یقینی ہے۔ اللہ کے یہاں ہمارا درجہ سب سے بڑا ہوا ہے۔ مگر اس قسم کے گروہی مذاہب کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا اور اس کے مستقبل کی بابت جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ تمام تر اس کے اپنے عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ خدا کی کتاب کو قائم کرنا نام ہے — اللہ پر یقین کرنے کا، آخرت کی پکڑ کے اندیشہ کو اپنے اوپر طاری کرنے کا اور انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔ یہی اصل دین ہے اور فرد کو یہی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔

المائدة 5:69

یہود کا یہ حال تھاکہ ان کے افراد عملاً خدا کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوںنے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو خدا کے تابع نہیں کیا تھا۔ البتہ خوش گمانیوں کے تحت انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خداکے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے مگر اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بات کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو خدا کے دین پر قائم کرے۔ جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے، نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی تو ایسی دعوت کے خلاف وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی دعوت میں ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ وہ ایسی دعوت کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں۔ نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی ان کی خود پرستی بے پرده ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چا ہیے تھا اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان کے ماننے والوں کی نسلیں دھیرے دھیرے مستقل قوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں اب پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا۔ البتہ اپنی عظمت وفضیلت کے قصیدے قصے کہانیوں کی صورت میں خوب پھیل جاتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں۔ ہماری نجات یقینی ہے۔ اللہ کے یہاں ہمارا درجہ سب سے بڑا ہوا ہے۔ مگر اس قسم کے گروہی مذاہب کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا اور اس کے مستقبل کی بابت جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ تمام تر اس کے اپنے عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ خدا کی کتاب کو قائم کرنا نام ہے — اللہ پر یقین کرنے کا، آخرت کی پکڑ کے اندیشہ کو اپنے اوپر طاری کرنے کا اور انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔ یہی اصل دین ہے اور فرد کو یہی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔

المائدة 5:70

یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے 586 ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے 539 ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔ اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

المائدة 5:71

یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے 586 ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے 539 ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔ اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

المائدة 5:72

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔ معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

المائدة 5:73

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔ معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

المائدة 5:74

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔ معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

المائدة 5:75

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔ معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

المائدة 5:76

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔ معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

المائدة 5:77

حضرت مسیح کے ابتدائی شاگردوں کے نزدیک مسیح ’’ایک انسان تھا جو خدا کی طرف سے تھا‘‘۔وہ آپ کو انسان اور اللہ کا رسول سمجھتے تھے۔ مگر آپ کا دین جب شام کے علاقہ سے باہر نکلا تو اس کو مصر ویونان کے فلسفہ سے سابقہ پیش آیا۔ مسیحیت قبول کرکے ایسے لوگ مسیحیت میں داخل ہوئے جو وقت کے فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اس طرح اندرونی اسباب اور بیرونی محرکات کے تحت مسیحیت میں ایک نیا دور شروع ہوا جب کہ مسیحیت کو وقت کے غالب فلسفیانہ اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ اس زمانہ کی مہذب دنیا میں مصر ویونان کے فلسفیوں کا زور تھا۔ وقت کے ذہین لوگ عام طورپر انھیں کے افکار کی روشنی میں سوچتے تھے۔ یونانی فلاسفہ نے اپنے قیاسات کے ذریعہ عالم کی ایک خیالی تصویر بنا رکھی تھی۔ وہ حقیقت کی تعبیر تین اقنوموں (Hypostases) کی صورت میں کرتے تھے — وجود، حیات اور علم۔ مسیحی علماء جو خود بھی ان افکار سے مرعوب تھے، نیز وقت کے ذہين طبقہ کو مسیحیت کی طرف مائل کرنا چاہتے تھے، انھوں نے اپنے مذہب کو وقت کے غالب فکر پر ڈھالنے کی کوشش کی۔انھوں نے مسیحیت کی ایسی تعبیر کی جس میں خدا کا دین بھی اسی ’’تین‘‘ کے جامہ میں ڈھل جائے اور لوگ اس کو اپنے ذہن کے مطابق پاکر اس کو قبول کرلیں۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی حقیقت بھی ایک تثلیث کی صورت گری ہے۔ اقنومِ وجود باپ ہے۔ اقنومِ حیات بیٹا ہے اور اقنومِ علم روح القدس ہے۔ اس کلامی مذہب کو مکمل کرنے کے لیے اور بہت سے خیالات اس میں داخل کیے گئے۔ مثلاً یہ کہ حضرت مسیح ’’کلام‘‘ کا جسدی ظہور ہیں۔ ہبوط آدم کے بعد ہر انسان گنہ گار ہوچکا ہے۔ اور انسان کی نجات کے لیے خدا کے بیٹے کو مصلوب ہو کر اس کا کفارہ دینا پڑا، وغیرہ۔ اس طرح چوتھی صدی عیسوی میں مصری، یونانی اور رومی تخیلات میں ڈھل کر وہ چیز تیار ہوئی جس کو موجودہ مسیحیت کہاجاتاہے۔ خدا کی سواء السبیل سے بھٹکنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ لوگ گم راہ قوموں کے خیالات سے مرعوب ہو کر دین کو ان کے خیالات کے سانچہ میں ڈھالنے لگتے ہیں۔ خدا کے دین کو مانتے ہوئے اس کی تعبیر اس ڈھنگ سے کرتے ہیں کہ وہ غالب افکار کے مطابق نظر آنے لگے۔ وہ خدا کے دین کے نام پر غیر خدا کے دین کو اپنا لیتے ہیں۔ نصاریٰ نے اپنے دین کو اپنے زمانہ کی مشرک قوموں کے افکار میں ڈھال لیا اور اسی کو خدا کا مقبول دین کہنے لگے۔ یہی چیز کبھی اس طرح پیش آتی ہے کہ دین کو خود اپنے قومی عزائم کے سانچہ میں ڈھال لیا جاتاہے۔ اس دوسری تحریف کی مثال یہود ہیں۔ انھوں نے خدا کے دین کی ایسی تعبیر کی کہ وہ ان کی دنیوی زندگی کی تصدیق کرنے والا بن جائے۔ مسلمانوں کے لیے کتاب الٰہی کے متن میں اس قسم کی تعبیرات داخل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ تاہم متن کے باہر انھیں وہ سب کچھ کرنے کی آزادی ہے جو پچھلی قوموں نے کیا۔

المائدة 5:78

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔ یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

المائدة 5:79

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔ یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

المائدة 5:80

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔ یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

المائدة 5:81

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔ یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

المائدة 5:82

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔ حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

المائدة 5:83

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔ حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

المائدة 5:84

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔ حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

المائدة 5:85

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔ حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

المائدة 5:86

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔ حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

المائدة 5:87

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتاہے۔ یہ تمام تر ایک اندرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہاجاتاہے۔ یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوںنے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں۔ راتوں کونہ سوئیں۔ اپنے آپ کو خصی کرالیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلیں۔ حتی کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھالیں۔ اس پر انھیں منع کیاگیا اور کہاگیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدود میں رہ کر حاصل کرتاہے، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ اسلام کے مطابق اصل ’’رہبانیت‘‘ تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رُک جاتاہے۔ کسی کے اوپر غصہ آجاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کردے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتاہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنالے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے۔ صحت، دولت، عہدہ، سازوسامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتاہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیںہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتاہے۔ وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتاہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتاہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے۔ مگر وہ ذہنی وقلبی دوري ہے، نہ کہ جسمانی دوری۔

المائدة 5:88

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتاہے۔ یہ تمام تر ایک اندرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہاجاتاہے۔ یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوںنے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں۔ راتوں کونہ سوئیں۔ اپنے آپ کو خصی کرالیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلیں۔ حتی کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھالیں۔ اس پر انھیں منع کیاگیا اور کہاگیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدود میں رہ کر حاصل کرتاہے، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ اسلام کے مطابق اصل ’’رہبانیت‘‘ تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رُک جاتاہے۔ کسی کے اوپر غصہ آجاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کردے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتاہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنالے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے۔ صحت، دولت، عہدہ، سازوسامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتاہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیںہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتاہے۔ وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتاہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتاہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے۔ مگر وہ ذہنی وقلبی دوري ہے، نہ کہ جسمانی دوری۔

المائدة 5:89

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتاہے۔ یہ تمام تر ایک اندرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہاجاتاہے۔ یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوںنے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں۔ راتوں کونہ سوئیں۔ اپنے آپ کو خصی کرالیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلیں۔ حتی کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھالیں۔ اس پر انھیں منع کیاگیا اور کہاگیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدود میں رہ کر حاصل کرتاہے، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ اسلام کے مطابق اصل ’’رہبانیت‘‘ تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رُک جاتاہے۔ کسی کے اوپر غصہ آجاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کردے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتاہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنالے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے۔ صحت، دولت، عہدہ، سازوسامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتاہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیںہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتاہے۔ وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتاہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتاہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے۔ مگر وہ ذہنی وقلبی دوري ہے، نہ کہ جسمانی دوری۔

المائدة 5:90

شراب اور جوا اور وہ آستانے جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یا کسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لیے ہوں اور پانسہ یعنی فال گيري اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کردیتی ہے اور جوا بے غرضی کی نفسیات کے لیے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے۔ وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لیے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ مگر مذکورہ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں، وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کردینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہو کر جئے، جب کہ جوا آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کردیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کردیتے ہیں۔ شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے، ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسروں کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے، جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شرابی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔

المائدة 5:91

شراب اور جوا اور وہ آستانے جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یا کسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لیے ہوں اور پانسہ یعنی فال گيري اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کردیتی ہے اور جوا بے غرضی کی نفسیات کے لیے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے۔ وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لیے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ مگر مذکورہ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں، وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کردینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہو کر جئے، جب کہ جوا آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کردیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کردیتے ہیں۔ شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے، ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسروں کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے، جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شرابی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔

المائدة 5:92

شراب اور جوا اور وہ آستانے جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یا کسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لیے ہوں اور پانسہ یعنی فال گيري اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کردیتی ہے اور جوا بے غرضی کی نفسیات کے لیے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے۔ وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لیے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ مگر مذکورہ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں، وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کردینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہو کر جئے، جب کہ جوا آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کردیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کردیتے ہیں۔ شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے، ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسروں کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے، جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شرابی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔

المائدة 5:93

شراب اور جوا اور وہ آستانے جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یا کسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لیے ہوں اور پانسہ یعنی فال گيري اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کردیتی ہے اور جوا بے غرضی کی نفسیات کے لیے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے۔ وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لیے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ مگر مذکورہ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں، وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کردینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہو کر جئے، جب کہ جوا آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کردیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کردیتے ہیں۔ شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے، ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسروں کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے، جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شرابی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔

المائدة 5:94

حج یا عمرہ کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جاسکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شكار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں ناجائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ بآسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جاسکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ مگر حکم اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا — یہ حکم جو احرام کی حالت میںجانوروں کے بارے میں دیاگیا ہے وہی روز مرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔ اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ’’اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر بے خوف ہوجاتا ہے اور مَن مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لیے بالکل ممكن ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی نقصان پہنچائے۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کواس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتاہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے لیے خدا کے یہاں بے حساب انعامات ہیں اور دوسرے کے لیے دردناک عذاب۔

المائدة 5:95

حج یا عمرہ کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جاسکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شكار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں ناجائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ بآسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جاسکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ مگر حکم اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا — یہ حکم جو احرام کی حالت میںجانوروں کے بارے میں دیاگیا ہے وہی روز مرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔ اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ’’اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پاکر بے خوف ہوجاتا ہے اور مَن مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لیے بالکل ممكن ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی نقصان پہنچائے۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کواس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتاہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے لیے خدا کے یہاں بے حساب انعامات ہیں اور دوسرے کے لیے دردناک عذاب۔

المائدة 5:96

حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔

المائدة 5:97

حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔

المائدة 5:98

حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔

المائدة 5:99

حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔

المائدة 5:100

حالتِ احرام میں شکار حرام ہے مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کررہے ہوں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ پاني میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی، بلکہ محض ’’آزمائش‘‘ کے لیے تھی۔ انسان کو آزمانے کے لیے اللہ نے علامتی طورپر کچھ چیزیں مقرر کردیں۔ اس لیے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لیے تھی وہ بندوں کے لیے غیرضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کردی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زادِ راہ نہ رہے تو آدمی کے لیے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملّت اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شر ط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع گاہ بنا دیا۔ زیارتِ کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر كيے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتاہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتاہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتاہے ، وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری سازوسامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک ساری اہمیت صرف کیفیت کی ہے۔ مقداركي اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو لوگ ’’کثرت‘‘ کی طرف دوڑیں اور ’’قلت‘‘ کو نظر انداز کردیں، وہ اپنے خیال سے بڑی ہوشیاری کررہے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ انتہائی نادان ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو خدا کے ڈر کے تحت اپنا رویہ متعین کرے، نہ کہ مادی مصالح یا دنیوی اندیشوں کے تحت۔

المائدة 5:101

روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

المائدة 5:102

روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

المائدة 5:103

روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

المائدة 5:104

روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

المائدة 5:105

روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

المائدة 5:106

ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتاہے۔ اب اگر وہ اپنے قریب دو مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے۔یہ دو صاحبان مال لاکر اس کو وارثوں کے حوالے کریں۔ اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہوجائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوںنے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا صحیح کہا۔ اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کردیا جائے۔ وارثوں کو یہ حق دینا گویا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام ديے جائیں جوآدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں۔ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی معاملہ ہے۔ مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیاگیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں، بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے، نہ یہ کہ بات کس کے موافق جارہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ ہر بات کو خدا کی گواہی سمجھنا۔ کوئی بات جو آدمی کے پاس ہے، وہ خدا کی امانت ہے۔ کیوں کہ آدمی نے اس کو خدا کی دی ہوئی آنکھ سے دیکھا اور خدا کے ديے ہوئے حافظہ میں اس کو محفوظ رکھا۔ اور اب خدا کی دی ہوئی زبان سے وہ اس کے متعلق اعلان کررہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ امانت میں خیانت ہوگی کہ آدمی بات کو اس طرح نہ بیان کرے جیسا کہ اس نے دیکھا اور جس طرح اس کے حافظہ نے اس کو محفوظ رکھا۔

المائدة 5:107

ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتاہے۔ اب اگر وہ اپنے قریب دو مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے۔یہ دو صاحبان مال لاکر اس کو وارثوں کے حوالے کریں۔ اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہوجائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوںنے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا صحیح کہا۔ اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کردیا جائے۔ وارثوں کو یہ حق دینا گویا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام ديے جائیں جوآدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں۔ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی معاملہ ہے۔ مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیاگیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں، بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے، نہ یہ کہ بات کس کے موافق جارہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ ہر بات کو خدا کی گواہی سمجھنا۔ کوئی بات جو آدمی کے پاس ہے، وہ خدا کی امانت ہے۔ کیوں کہ آدمی نے اس کو خدا کی دی ہوئی آنکھ سے دیکھا اور خدا کے ديے ہوئے حافظہ میں اس کو محفوظ رکھا۔ اور اب خدا کی دی ہوئی زبان سے وہ اس کے متعلق اعلان کررہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ امانت میں خیانت ہوگی کہ آدمی بات کو اس طرح نہ بیان کرے جیسا کہ اس نے دیکھا اور جس طرح اس کے حافظہ نے اس کو محفوظ رکھا۔

المائدة 5:108

ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتاہے۔ اب اگر وہ اپنے قریب دو مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے۔یہ دو صاحبان مال لاکر اس کو وارثوں کے حوالے کریں۔ اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہوجائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوںنے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا صحیح کہا۔ اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کردیا جائے۔ وارثوں کو یہ حق دینا گویا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام ديے جائیں جوآدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں۔ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی معاملہ ہے۔ مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیاگیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں، بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے، نہ یہ کہ بات کس کے موافق جارہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ ہر بات کو خدا کی گواہی سمجھنا۔ کوئی بات جو آدمی کے پاس ہے، وہ خدا کی امانت ہے۔ کیوں کہ آدمی نے اس کو خدا کی دی ہوئی آنکھ سے دیکھا اور خدا کے ديے ہوئے حافظہ میں اس کو محفوظ رکھا۔ اور اب خدا کی دی ہوئی زبان سے وہ اس کے متعلق اعلان کررہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ امانت میں خیانت ہوگی کہ آدمی بات کو اس طرح نہ بیان کرے جیسا کہ اس نے دیکھا اور جس طرح اس کے حافظہ نے اس کو محفوظ رکھا۔

المائدة 5:109

پیغمبروں پر جو لوگ ایمان لائے، بعد کے زمانہ میں سب کے اندر بگاڑ پیدا ہوا۔ انھوں نے اپنے طور پر ایک دین بنایا اور اس کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کردیا۔ اس کے باوجود ہر گروہ اپنے آپ کو اپنے پیغمبر کی امت شمار کرتا رہا ۔ حالانکہ پیغمبر کی اصل تعلیمات سے ہٹنے کے بعد اس کا پیغمبر سے کوئی تعلق باقی نہ رہا تھا۔ یہودی اپنے کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عیسائی اپنے کو حضرت عیسیٰ کی طرف۔ حالاں کہ ان کے مروجہ دین کا خدا کے ان پیغمبروں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حقیقت موجودہ امتحان کی دنیا میں چھپی ہوئی ہے۔ مگر قیامت کے دن وہ کھول دی جائے گی۔ اس دن خدا تمام پیغمبروں کو اور اسی کے ساتھ ان کی امتوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت امتوں کے سامنے ان کے پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی امتوں کو کیا تعلیم دی اور امتوں نے تمھاری تعلیمات کو کس طرح اپنایا۔ اس طرح ہر امت پر اس کے پیغمبر کی موجودگی میں واضح کیاجائے گا کہ اس نے خدا کے دین کے معاملہ میں اپنے پیغمبروں کی کیا کیا خلاف ورزی کی ہے اور کس طرح خود ساختہ دین کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔ انھیں پیغمبروں میں سے ایک مثال حضرت عیسیٰ کی ہے جو خاتم النبیین محمد صلى الله عليه وسلم اور پہلے کے انبیاء کی درمیانی کڑی ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو انتہائی خصوصی معجزے ديے گئے۔آپ پر ایمان لانے والے بہت کم تھے اور آپ کے مخالفین ( یہود) کو ہر طرح کا دنیوی زور حاصل تھا۔ اس کے باوجود وہ حضرت عیسیٰ کا کچھ نقصان نہ کرسکے اور نہ آپ کے ساتھیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان معجزات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ لوگ آپ کے لائے ہوئے دین کو مان لیتے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ آپ کے مخالفین نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ وہ جو معجزے دکھارہے ہیں وہ سب جادو کا کرشمہ ہے۔ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے انھوںنے بعد کے زمانے میں آپ کو خدائی کا درجہ دے دیا۔ قیامت کے دن آپ کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت کھول دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ نے جو کمالات دکھائے وہ سب خدا کے حکم سے تھے۔ آپ کے دشمنوں نے آپ کو جن خطرات میں ڈالا ان سے بھی اللہ ہی نے آپ کو بچایا۔ جب صورت حال یہ تھی اور حضرت عیسیٰ خود سامنے کھڑے ہو کر اس کی تصدیق کررہے ہیں تو اب ان کے امتی بتائیں کہ انھوں نے آپ کی طرف جو دین منسوب کیا وہ کس نے انھیں دیا تھا۔

المائدة 5:110

پیغمبروں پر جو لوگ ایمان لائے، بعد کے زمانہ میں سب کے اندر بگاڑ پیدا ہوا۔ انھوں نے اپنے طور پر ایک دین بنایا اور اس کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کردیا۔ اس کے باوجود ہر گروہ اپنے آپ کو اپنے پیغمبر کی امت شمار کرتا رہا ۔ حالانکہ پیغمبر کی اصل تعلیمات سے ہٹنے کے بعد اس کا پیغمبر سے کوئی تعلق باقی نہ رہا تھا۔ یہودی اپنے کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عیسائی اپنے کو حضرت عیسیٰ کی طرف۔ حالاں کہ ان کے مروجہ دین کا خدا کے ان پیغمبروں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حقیقت موجودہ امتحان کی دنیا میں چھپی ہوئی ہے۔ مگر قیامت کے دن وہ کھول دی جائے گی۔ اس دن خدا تمام پیغمبروں کو اور اسی کے ساتھ ان کی امتوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت امتوں کے سامنے ان کے پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی امتوں کو کیا تعلیم دی اور امتوں نے تمھاری تعلیمات کو کس طرح اپنایا۔ اس طرح ہر امت پر اس کے پیغمبر کی موجودگی میں واضح کیاجائے گا کہ اس نے خدا کے دین کے معاملہ میں اپنے پیغمبروں کی کیا کیا خلاف ورزی کی ہے اور کس طرح خود ساختہ دین کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔ انھیں پیغمبروں میں سے ایک مثال حضرت عیسیٰ کی ہے جو خاتم النبیین محمد صلى الله عليه وسلم اور پہلے کے انبیاء کی درمیانی کڑی ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو انتہائی خصوصی معجزے ديے گئے۔آپ پر ایمان لانے والے بہت کم تھے اور آپ کے مخالفین ( یہود) کو ہر طرح کا دنیوی زور حاصل تھا۔ اس کے باوجود وہ حضرت عیسیٰ کا کچھ نقصان نہ کرسکے اور نہ آپ کے ساتھیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان معجزات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ لوگ آپ کے لائے ہوئے دین کو مان لیتے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ آپ کے مخالفین نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ وہ جو معجزے دکھارہے ہیں وہ سب جادو کا کرشمہ ہے۔ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے انھوںنے بعد کے زمانے میں آپ کو خدائی کا درجہ دے دیا۔ قیامت کے دن آپ کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت کھول دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ نے جو کمالات دکھائے وہ سب خدا کے حکم سے تھے۔ آپ کے دشمنوں نے آپ کو جن خطرات میں ڈالا ان سے بھی اللہ ہی نے آپ کو بچایا۔ جب صورت حال یہ تھی اور حضرت عیسیٰ خود سامنے کھڑے ہو کر اس کی تصدیق کررہے ہیں تو اب ان کے امتی بتائیں کہ انھوں نے آپ کی طرف جو دین منسوب کیا وہ کس نے انھیں دیا تھا۔

المائدة 5:111

لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔ خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔

المائدة 5:112

لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔ خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔

المائدة 5:113

لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔ خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔

المائدة 5:114

لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔ خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔

المائدة 5:115

لوگوں کو حق کی طرف پکارنے کا کام اگر چہ داعی انجام دیتاہے مگر پکار پر لبیک کہنا ہمیشہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے دعوت کی صداقت کو دلائل سے جان لینے کے بعد بھی بہت سی رکاوٹیں باقی رہتی ہیں جو آدمی کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتیں — داعی کا ایک عام انسان کی صورت میں دکھائی دینا، یہ اندیشہ کہ دعوت قبول کرنے کے بعد زندگی کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا، یہ سوال کہ اگر یہ سچائی ہے توفلاں فلاں بڑے لوگ کیا سچائی سے محروم تھے، وغیرہ۔ یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہوتا ہے جہاں آدمی فیصلہ کے کنارے پہنچ کر بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ جس شخص کے اندر وہ کچھ خیر دیکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شبہ کی سرحد پار کرادیتاہے اور اس کو یقین کے دائرہ میں داخل کردیتا ہے۔ خدا کی طرف سے ہر وقت انسان کو رزق فراہم کیا جارہا ہے۔ حتی کہ پوری زمین انسان کے لیے رزق کا دسترخوان بنی ہوئی ہے۔ مگر مومنینِ مسیح نے آسمان سے طعام اتارنے کا مطالبہ کیا تو ان کو سخت تنبيه کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں ہم کو جو رزق ملتا ہے وہ اسباب کے پردے میں مل رہا ہے۔ جب کہ مومنینِ مسیح کا مطالبہ یہ تھا کہ اسباب کا پردہ ہٹا کر ان کا رزق انھیں دیا جائے۔ یہ چیز سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر اسباب کا ظاہری پردہ ہٹا دیا جائے تو امتحان کس بات کا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیت سے لہلہاتی ہوئی فصل کا پیدا ہونا یا مٹی کے اندر سے ایک شاداب درخت کا نکل کر کھڑا ہوجانا بھی اسی طرح معجزہ ہے جس طرح بادلوں میں ہو کر کسی خوان کا ہماری طرف آنا۔ مگر ان واقعات کا معجزہ ہونا ہم کو اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ پردہ میں ہو کر ظاہر ہورہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے نکلنے والے رزق کو ’’آسمان‘‘ سے اترنے والے رزق کے روپ میں پالے۔ اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرے کہ میں دیکھ کر مانوں گا تو گویا وہ کہہ رہا ہے کہ امتحان سے گزرے بغیر میں خدا کی رحمت میں داخل ہوں گا۔ حالاں کہ خدا کی سنت کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔

المائدة 5:116

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

المائدة 5:117

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

المائدة 5:118

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

المائدة 5:119

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

المائدة 5:120

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

الأنعام 6:1

آسمان اور زمین کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود اتنا مربوط اور اتنا وحدانی ہے کہ وہ پکار رہا ہے کہ اس کا خالق اور منتظم ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ پھر زمین وآسمان کی یہ کائنات اپنے پھیلاؤ اور اپنی حکمت و معنویت کے اعتبار سے ناقابلِ قیاس حد تک عظیم ہے۔ سورج کے روشن کرہ کے گرد خلامیں زمین کی حد درجہ منظم گردش اور اس سے زمین کی سطح پر روشنی اور تاریکی اور دن اور رات کا پیدا ہونا انسان کے تمام قیاس وگمان سے کہیں زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اب جو خدا اتنے بڑے کائناتی کارخانہ کو اتنے باکمال طریقہ پر چلا رہا ہے اس کی ذات میں وہ کون سی کمی ہوسکتی ہے جس کی تلافی کے لیے وہ کسی کو اپنا شریک ٹھہرائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا اور اس کے اندر قائم شدہ حیرت ناک نظام خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا صرف ایک ہے اور یہی نظام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ خدا اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کو اپنی تخلیق اور انتظام میں کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔ موجودہ دنیا کی عمر محدود ہے۔ یہاں دکھ سے خالی زندگی ممکن نہیں۔ یہاں ہر خوش گواری کے ساتھ ناخوش گواری کا پہلو لگا ہوا ہے۔ یہاں شر کو خیر سے اور خیر کو شر سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخرت کی ابدی دنیا جو ہر قسم کے حزن (فاطر، 35:34 ) سے خالی ہوگی کیسے بن جائے گی۔ اگر کسی اور مادہ سے آخرت کی دنیا بننے والی ہو تو انسان اس سے واقف نہیں اور اگر اسی دنیا کے مادہ سے وہ دوسری دنیا بننے والی ہے تو اس دنیا کے اندر اس قسم کی ایک کامل دنیا کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں۔ مگر سوال کرنے والے کا خود اپنا وجود ہی اس سوال کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ انسان کا جسم پورا کا پورا مٹی (زمینی اجزاء) سے بنا ہے، مگر اس کے اندر ایسی منفرد صلاحیتیں ہیں، جن میں سے کوئی صلاحیت بھی مٹی کے اندر نہیں۔ آدمی سنتا ہے، وہ بولتا ہے، وہ سوچتا ہے، وہ طرح طرح کے حیرت ناک عمل انجام دیتاہے۔ حالاں کہ وہ جس مٹی سے بنا ہے وہ اس قسم کا کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتی۔ زمینی اجزاء سے حیرت انگیز طورپر ایک غیرزمینی مخلوق بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر روز آدمی کے سامنے آرہا ہے۔ ایسی حالت میں کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی آخرت کے واقع ہونے پر شک کرے۔ اگر مٹی سے جیتا جاگتا انسان نکل سکتا ہے۔ اگر مٹی سے خوشبودار پھول اور ذائقہ دار پھل بر آمد ہوسکتے ہیں تو ہماری موجودہ دنیا سے ایک اور زیادہ کامل اور زیادہ معیاری دنیا کیوں ظاہر نہیں ہوسکتی۔

الأنعام 6:2

آسمان اور زمین کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود اتنا مربوط اور اتنا وحدانی ہے کہ وہ پکار رہا ہے کہ اس کا خالق اور منتظم ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ پھر زمین وآسمان کی یہ کائنات اپنے پھیلاؤ اور اپنی حکمت و معنویت کے اعتبار سے ناقابلِ قیاس حد تک عظیم ہے۔ سورج کے روشن کرہ کے گرد خلامیں زمین کی حد درجہ منظم گردش اور اس سے زمین کی سطح پر روشنی اور تاریکی اور دن اور رات کا پیدا ہونا انسان کے تمام قیاس وگمان سے کہیں زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اب جو خدا اتنے بڑے کائناتی کارخانہ کو اتنے باکمال طریقہ پر چلا رہا ہے اس کی ذات میں وہ کون سی کمی ہوسکتی ہے جس کی تلافی کے لیے وہ کسی کو اپنا شریک ٹھہرائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا اور اس کے اندر قائم شدہ حیرت ناک نظام خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا صرف ایک ہے اور یہی نظام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ خدا اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کو اپنی تخلیق اور انتظام میں کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔ موجودہ دنیا کی عمر محدود ہے۔ یہاں دکھ سے خالی زندگی ممکن نہیں۔ یہاں ہر خوش گواری کے ساتھ ناخوش گواری کا پہلو لگا ہوا ہے۔ یہاں شر کو خیر سے اور خیر کو شر سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخرت کی ابدی دنیا جو ہر قسم کے حزن (فاطر، 35:34 ) سے خالی ہوگی کیسے بن جائے گی۔ اگر کسی اور مادہ سے آخرت کی دنیا بننے والی ہو تو انسان اس سے واقف نہیں اور اگر اسی دنیا کے مادہ سے وہ دوسری دنیا بننے والی ہے تو اس دنیا کے اندر اس قسم کی ایک کامل دنیا کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں۔ مگر سوال کرنے والے کا خود اپنا وجود ہی اس سوال کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ انسان کا جسم پورا کا پورا مٹی (زمینی اجزاء) سے بنا ہے، مگر اس کے اندر ایسی منفرد صلاحیتیں ہیں، جن میں سے کوئی صلاحیت بھی مٹی کے اندر نہیں۔ آدمی سنتا ہے، وہ بولتا ہے، وہ سوچتا ہے، وہ طرح طرح کے حیرت ناک عمل انجام دیتاہے۔ حالاں کہ وہ جس مٹی سے بنا ہے وہ اس قسم کا کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتی۔ زمینی اجزاء سے حیرت انگیز طورپر ایک غیرزمینی مخلوق بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر روز آدمی کے سامنے آرہا ہے۔ ایسی حالت میں کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی آخرت کے واقع ہونے پر شک کرے۔ اگر مٹی سے جیتا جاگتا انسان نکل سکتا ہے۔ اگر مٹی سے خوشبودار پھول اور ذائقہ دار پھل بر آمد ہوسکتے ہیں تو ہماری موجودہ دنیا سے ایک اور زیادہ کامل اور زیادہ معیاری دنیا کیوں ظاہر نہیں ہوسکتی۔

الأنعام 6:3

آسمان اور زمین کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود اتنا مربوط اور اتنا وحدانی ہے کہ وہ پکار رہا ہے کہ اس کا خالق اور منتظم ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ پھر زمین وآسمان کی یہ کائنات اپنے پھیلاؤ اور اپنی حکمت و معنویت کے اعتبار سے ناقابلِ قیاس حد تک عظیم ہے۔ سورج کے روشن کرہ کے گرد خلامیں زمین کی حد درجہ منظم گردش اور اس سے زمین کی سطح پر روشنی اور تاریکی اور دن اور رات کا پیدا ہونا انسان کے تمام قیاس وگمان سے کہیں زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اب جو خدا اتنے بڑے کائناتی کارخانہ کو اتنے باکمال طریقہ پر چلا رہا ہے اس کی ذات میں وہ کون سی کمی ہوسکتی ہے جس کی تلافی کے لیے وہ کسی کو اپنا شریک ٹھہرائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا اور اس کے اندر قائم شدہ حیرت ناک نظام خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا صرف ایک ہے اور یہی نظام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ خدا اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کو اپنی تخلیق اور انتظام میں کسی مددگار کی ضرورت نہیں۔ موجودہ دنیا کی عمر محدود ہے۔ یہاں دکھ سے خالی زندگی ممکن نہیں۔ یہاں ہر خوش گواری کے ساتھ ناخوش گواری کا پہلو لگا ہوا ہے۔ یہاں شر کو خیر سے اور خیر کو شر سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخرت کی ابدی دنیا جو ہر قسم کے حزن (فاطر، 35:34 ) سے خالی ہوگی کیسے بن جائے گی۔ اگر کسی اور مادہ سے آخرت کی دنیا بننے والی ہو تو انسان اس سے واقف نہیں اور اگر اسی دنیا کے مادہ سے وہ دوسری دنیا بننے والی ہے تو اس دنیا کے اندر اس قسم کی ایک کامل دنیا کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں۔ مگر سوال کرنے والے کا خود اپنا وجود ہی اس سوال کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ انسان کا جسم پورا کا پورا مٹی (زمینی اجزاء) سے بنا ہے، مگر اس کے اندر ایسی منفرد صلاحیتیں ہیں، جن میں سے کوئی صلاحیت بھی مٹی کے اندر نہیں۔ آدمی سنتا ہے، وہ بولتا ہے، وہ سوچتا ہے، وہ طرح طرح کے حیرت ناک عمل انجام دیتاہے۔ حالاں کہ وہ جس مٹی سے بنا ہے وہ اس قسم کا کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتی۔ زمینی اجزاء سے حیرت انگیز طورپر ایک غیرزمینی مخلوق بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر روز آدمی کے سامنے آرہا ہے۔ ایسی حالت میں کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی آخرت کے واقع ہونے پر شک کرے۔ اگر مٹی سے جیتا جاگتا انسان نکل سکتا ہے۔ اگر مٹی سے خوشبودار پھول اور ذائقہ دار پھل بر آمد ہوسکتے ہیں تو ہماری موجودہ دنیا سے ایک اور زیادہ کامل اور زیادہ معیاری دنیا کیوں ظاہر نہیں ہوسکتی۔

الأنعام 6:4

خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہےاور خدا كي طرف سے هے— اس كا اس فطرت كے انداز پر هونا جس پر خدا كي ابدي دنيا كا نظام قائم هے۔اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاق پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میںظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرآئن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظر انداز کردیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدااور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالاں کہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیوںکہ خدااور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔ جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لیے معاشی سازوسامان جمع کرلیا ہو، جن کو اپنے آس پاس عظمت ومقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچاسکیں گی۔ داعی حق کو ناچیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتاہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدانے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی — زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںمکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پچھلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہوگئے۔

الأنعام 6:5

خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہےاور خدا كي طرف سے هے— اس كا اس فطرت كے انداز پر هونا جس پر خدا كي ابدي دنيا كا نظام قائم هے۔اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاق پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میںظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرآئن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظر انداز کردیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدااور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالاں کہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیوںکہ خدااور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔ جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لیے معاشی سازوسامان جمع کرلیا ہو، جن کو اپنے آس پاس عظمت ومقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچاسکیں گی۔ داعی حق کو ناچیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتاہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدانے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی — زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںمکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پچھلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہوگئے۔

الأنعام 6:6

خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہےاور خدا كي طرف سے هے— اس كا اس فطرت كے انداز پر هونا جس پر خدا كي ابدي دنيا كا نظام قائم هے۔اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاق پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میںظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرآئن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظر انداز کردیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدااور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالاں کہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیوںکہ خدااور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔ جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لیے معاشی سازوسامان جمع کرلیا ہو، جن کو اپنے آس پاس عظمت ومقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچاسکیں گی۔ داعی حق کو ناچیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتاہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدانے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی — زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںمکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پچھلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہوگئے۔

الأنعام 6:7

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔ ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔

الأنعام 6:8

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔ ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔

الأنعام 6:9

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔ ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔

الأنعام 6:10

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔ ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔

الأنعام 6:11

دنیا میں آدمی کی گمراہی کا سبب یہ ہے کہ یہاں اس کو حق کے انکار کی پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے افکار کی خوب صورت توجیہہ کرسکے۔ امتحان کی اس دنیا میں اتنی وسعت ہے کہ یہاں الفاظ ہر اس مفہوم میں ڈھل جاتے ہیں جس میںانسان ان کو ڈھالنا چاہے۔ داعی اگر ایک عام انسان کے روپ میں ظاہر ہو تو آدمی اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کرسکتا ہے کہ یہ ایک شخص کا قیادتی حوصلہ ہے، نہ کہ کوئی حق و صداقت کا معاملہ۔ اسی طرح اگر آسمان سے کوئی لکھی لکھائی کتاب اتر آئے تو اس کو رد کرنے کے لیے بھی وہ یہ الفاظ پا لے گا کہ یہ تو ایک جادو ہے۔ مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ پیغمبراگر خدا کی طرف سے اس کی پیغام بری کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ خدا کے فرشتے کیوں نہیں جو اس کی تصدیق کریں۔ اس قسم کی باتیں آدمی اس لیے کہتا ہے کہ وہ دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ نہیںہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہو تو اس کو فوراً معلوم ہوجائے گا کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ امتحان اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ غیبی حقیقتوں پر پردہ پڑاہوا ہو۔ اگر غیبی حقیقتیں کھل جائیں اور خدا اور اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر پیغمبري اور دعوت رسانی کا کوئی سوال ہی نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کے بعد کسی کو یہ جرأت ہی نہ ہوگی کہ وہ حقائق کا انکار کرسکے — موجودہ دنیا میں لوگ اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے خدا کے داعی کو اس کی باتوںکی عظمت میں نہیں دیکھ پاتے، وہ اس کا اندازہ صرف اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے کرتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے غیر اہم پاکر اس کا انکار کردیتے ہیں۔ حتی کہ وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ خدا کے داعی كا معاملہ ان کو ایسا معلوم ہوتاہے جیسے ایک معمولی آدمی اچانک اٹھ کر بہت بڑی حیثیت کا دعویٰ کرنے لگے۔ اس دنیا میں دعوت رسانی کا سارا معاملہ خدا کے قانون التباس کے تحت ہوتا ہے۔ یہاں حق کے اوپر ایک شبہ کا پہلو رکھا گیا ہے تاکہ آدمی اقرار کے دلائل کے ساتھ کچھ انکار کے وجوہ بھی پاسکتا ہو۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس شبہ کے پردے کو پھاڑ کر اپنے کو یقین کے مقام پر پہنچائے۔ وہ شبہ کے پہلوؤں کو حذف کرکے یقین کے پہلوؤں کو لے لے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے۔ جب حقیقت کو دکھا دیا جائے تو پھر ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔

الأنعام 6:12

کچھ لوگ کھلے طور پر آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو زبان سے آخرت کا انکار نہیں کرتے مگر ان کے دل میں ساری اہمیت بس اسی دنیا کی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کی زندگی میں اور کھلے ہوئے منکرین کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہ دونوں گروہ باعتبار حقیقت ایک ہیں۔ اور دونوں ہی اللہ کے نزدیک آخرت کو جھٹلانے والے ہیں۔ ایک گروہ اگر زبانی طور پر اس کو جھٹلا رہا ہے تو دوسرا گروہ عملی طور پر۔ ایسے تمام لوگ خدا کے قانون کے مطابق ہلاکت میں پڑنے والے ہیں۔ پیغمبروں کے زمانہ میں یہ ہلاکت موجودہ دنیا میں سامنے آگئی اور بعد کے لوگوں کے لیے وہ آخرت میں سامنے آئے گی۔

الأنعام 6:13

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔ انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

الأنعام 6:14

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔ انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

الأنعام 6:15

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔ انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

الأنعام 6:16

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔ انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

الأنعام 6:17

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔ دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔

الأنعام 6:18

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔ دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔

الأنعام 6:19

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔ دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔

الأنعام 6:20

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:21

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:22

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:23

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:24

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:25

موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہ کرسکے۔اس لیے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں، نہ کہ نصیحت کے ذہن سے۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیںہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا اصل پہلو ان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لیے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے۔ دلائل ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی د ے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔ جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہوں ان کے لیے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیوں کہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردے گا— ’’یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرےمجرم ہیں۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود حق سے رکتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرسکیں۔ دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دنیا میں حق کا انکار کرکے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتاہے ۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کرکے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔

الأنعام 6:26

موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہ کرسکے۔اس لیے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں، نہ کہ نصیحت کے ذہن سے۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیںہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا اصل پہلو ان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لیے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے۔ دلائل ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی د ے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔ جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہوں ان کے لیے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیوں کہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردے گا— ’’یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرےمجرم ہیں۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود حق سے رکتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرسکیں۔ دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دنیا میں حق کا انکار کرکے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتاہے ۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کرکے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔

الأنعام 6:27

موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہ کرسکے۔اس لیے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں، نہ کہ نصیحت کے ذہن سے۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیںہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا اصل پہلو ان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لیے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے۔ دلائل ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی د ے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔ جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہوں ان کے لیے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیوں کہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردے گا— ’’یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرےمجرم ہیں۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود حق سے رکتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرسکیں۔ دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دنیا میں حق کا انکار کرکے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتاہے ۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کرکے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔

الأنعام 6:28

موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہ کرسکے۔اس لیے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں، نہ کہ نصیحت کے ذہن سے۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیںہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا اصل پہلو ان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لیے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے۔ دلائل ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی د ے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔ جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہوں ان کے لیے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیوں کہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردے گا— ’’یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرےمجرم ہیں۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود حق سے رکتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرسکیں۔ دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دنیا میں حق کا انکار کرکے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتاہے ۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کرکے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔

الأنعام 6:29

جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرتاہے یا نفس کی خواہشات پر چلتاہے تو ایسا اس بنا پر ہوتاہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے کھڑا کیاجائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں، جن پروہ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرلیتاہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور استحقاق۔ اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایساکر رہا ہے۔ آدمی جس روشنی میں چلتاہے اور جس ہوا میں سانس لیتاہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کاکوئی بھي جزء اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آدمی دوڑتاہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیداکی ہوئی نہیں ہیں تو جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا، اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کاموجودہ دنیا کو استعمال کرنا ہی لازم کردیتاہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے۔ جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو ولعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو لعب کی زندگی چندروز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لیے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔ موجودہ دنیا میں آدمی ان حقیقتوں کا انکار کرتاہے مگر امتحان کی آزادی ختم ہوتے ہی وہ اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا اگر چہ اس وقت کا اقرار اس کے کچھ كام نہ آئے گا۔

الأنعام 6:30

جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرتاہے یا نفس کی خواہشات پر چلتاہے تو ایسا اس بنا پر ہوتاہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے کھڑا کیاجائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں، جن پروہ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرلیتاہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور استحقاق۔ اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایساکر رہا ہے۔ آدمی جس روشنی میں چلتاہے اور جس ہوا میں سانس لیتاہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کاکوئی بھي جزء اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آدمی دوڑتاہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیداکی ہوئی نہیں ہیں تو جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا، اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کاموجودہ دنیا کو استعمال کرنا ہی لازم کردیتاہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے۔ جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو ولعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو لعب کی زندگی چندروز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لیے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔ موجودہ دنیا میں آدمی ان حقیقتوں کا انکار کرتاہے مگر امتحان کی آزادی ختم ہوتے ہی وہ اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا اگر چہ اس وقت کا اقرار اس کے کچھ كام نہ آئے گا۔

الأنعام 6:31

جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرتاہے یا نفس کی خواہشات پر چلتاہے تو ایسا اس بنا پر ہوتاہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے کھڑا کیاجائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں، جن پروہ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرلیتاہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور استحقاق۔ اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایساکر رہا ہے۔ آدمی جس روشنی میں چلتاہے اور جس ہوا میں سانس لیتاہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کاکوئی بھي جزء اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آدمی دوڑتاہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیداکی ہوئی نہیں ہیں تو جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا، اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کاموجودہ دنیا کو استعمال کرنا ہی لازم کردیتاہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے۔ جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو ولعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو لعب کی زندگی چندروز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لیے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔ موجودہ دنیا میں آدمی ان حقیقتوں کا انکار کرتاہے مگر امتحان کی آزادی ختم ہوتے ہی وہ اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا اگر چہ اس وقت کا اقرار اس کے کچھ كام نہ آئے گا۔

الأنعام 6:32

جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرتاہے یا نفس کی خواہشات پر چلتاہے تو ایسا اس بنا پر ہوتاہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے کھڑا کیاجائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں، جن پروہ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرلیتاہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور استحقاق۔ اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایساکر رہا ہے۔ آدمی جس روشنی میں چلتاہے اور جس ہوا میں سانس لیتاہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کاکوئی بھي جزء اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آدمی دوڑتاہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیداکی ہوئی نہیں ہیں تو جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا، اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کاموجودہ دنیا کو استعمال کرنا ہی لازم کردیتاہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے۔ جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو ولعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو لعب کی زندگی چندروز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لیے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔ موجودہ دنیا میں آدمی ان حقیقتوں کا انکار کرتاہے مگر امتحان کی آزادی ختم ہوتے ہی وہ اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا اگر چہ اس وقت کا اقرار اس کے کچھ كام نہ آئے گا۔

الأنعام 6:33

ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ ’’سچا‘‘ یا ’’ایمان دار‘‘ کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا كي طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ خدا مجبورکن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہوجائے گی اور امتحان کے لیے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ دعوت حق کی جدوجہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لیے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندۂ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں۔ وہ انسان کے منھ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کی عظمتوں کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔

الأنعام 6:34

ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ ’’سچا‘‘ یا ’’ایمان دار‘‘ کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا كي طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ خدا مجبورکن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہوجائے گی اور امتحان کے لیے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ دعوت حق کی جدوجہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لیے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندۂ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں۔ وہ انسان کے منھ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کی عظمتوں کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔

الأنعام 6:35

ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ ’’سچا‘‘ یا ’’ایمان دار‘‘ کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا كي طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ خدا مجبورکن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہوجائے گی اور امتحان کے لیے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ دعوت حق کی جدوجہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لیے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندۂ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں۔ وہ انسان کے منھ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کی عظمتوں کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔

الأنعام 6:36

ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ ’’سچا‘‘ یا ’’ایمان دار‘‘ کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا كي طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ خدا مجبورکن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہوجائے گی اور امتحان کے لیے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ دعوت حق کی جدوجہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لیے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندۂ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں۔ وہ انسان کے منھ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کی عظمتوں کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔

الأنعام 6:37

ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا — وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیرمعمولی نشانی کیوں نہیں، جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ لوگوں کی بے علمی کا ہے۔ نشانیاں تو بے شمار تعداد میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں جب لوگ اِن موجود نشانیوں سے سبق نہیں لے رہے ہیں تو کوئی نئی نشانی اتارنے سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ طرح طرح کے چلنے والے جانور اور مختلف قسم کے اڑنے والی چڑیاں جو زمین میں اور فضا میں موجودہیں وہ تمھارے لیے نشانیاں ہی تو ہیں۔ ان تمام زندہ مخلوقات سے بھی اللہ کو وہی کچھ مطلوب ہے جو تم سے مطلوب ہے۔ اور ہر ایک سے جو کچھ مطلوب ہے وہ خدا نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، انسان کو شرعی طورپر اور دوسری مخلوقات کو جبلّی طور پر۔ چڑیوں اور جانوروں جیسی مخلوقات خدا کے لکھے پر پورا پورا عمل کررہی ہے۔ مگر انسان خدا کے لکھے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے یہ معاملہ نشانی کا نہیں بلکہ اندھے پن کا ہے، بقیہ تمام مخلوقات جو دین اختیار کیے ہوئے ہیں، انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنے کا جواز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن کو عمل کرنا ہے وہ نشانی کا مطالبہ کیے بغیر عمل کررہے ہیں اور جن کو عمل کرنا نہیں ہے وہ نشانیوں کے ہجوم میں رہ کر نشانیاں مانگ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے کہ قیامت میں سب کو جمع کرکے دکھا دیا جائے کہ ہر قسم کے حیوانات کس طرح حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرکے خدا کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ صرف انسان تھاجو اس سے انحراف کرتا رہا۔ جانوروں کی دنیا مکمل طورپر مطابق فطرت دنیا ہے۔ ان کے یہاں رزق کی تلاش ہے مگر لوٹ اور ظلم نہیں ہے۔ ان کے یہاں ضرورت ہے مگر حرص اور خود غرضی نہیں۔ ان کے یہاں باہمی تعلقات ہیں مگر ایک دوسرے کی کاٹ نہیں۔ ان کے یہاں اونچ نیچ ہے مگر حسد اور غرور نہیں۔ ان کے یہاں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے مگر بغض وعداوت نہیں۔ ان کے یہاں کام ہو رہے هيں مگر انھیں کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔ مگر انسان سرکشی کرتا ہے۔ وہ خدائی نقشہ کا پابند بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ انسان سے جس چیز کا مطالبہ ہے وہ ٹھیک وہی ہے جس پر دوسرے حیوانات قائم ہیں۔ پھر اس کے ليے معجزہ مانگنے کی کیا ضرورت ۔ حیوانات کی صورت میں چلتی پھرتی نشانیاں کیا آدمی کے سبق کے ليے کافی نہیں ہیں جو خدائی طریق عمل کا زندہ نمونہ پیش کررہی ہیں اور اس طرح پیغمبر کی تعلیمات کے بر حق ہونے کی عملی تصدیق کرتی ہیں۔

الأنعام 6:38

ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا — وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیرمعمولی نشانی کیوں نہیں، جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ لوگوں کی بے علمی کا ہے۔ نشانیاں تو بے شمار تعداد میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں جب لوگ اِن موجود نشانیوں سے سبق نہیں لے رہے ہیں تو کوئی نئی نشانی اتارنے سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ طرح طرح کے چلنے والے جانور اور مختلف قسم کے اڑنے والی چڑیاں جو زمین میں اور فضا میں موجودہیں وہ تمھارے لیے نشانیاں ہی تو ہیں۔ ان تمام زندہ مخلوقات سے بھی اللہ کو وہی کچھ مطلوب ہے جو تم سے مطلوب ہے۔ اور ہر ایک سے جو کچھ مطلوب ہے وہ خدا نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، انسان کو شرعی طورپر اور دوسری مخلوقات کو جبلّی طور پر۔ چڑیوں اور جانوروں جیسی مخلوقات خدا کے لکھے پر پورا پورا عمل کررہی ہے۔ مگر انسان خدا کے لکھے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے یہ معاملہ نشانی کا نہیں بلکہ اندھے پن کا ہے، بقیہ تمام مخلوقات جو دین اختیار کیے ہوئے ہیں، انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنے کا جواز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن کو عمل کرنا ہے وہ نشانی کا مطالبہ کیے بغیر عمل کررہے ہیں اور جن کو عمل کرنا نہیں ہے وہ نشانیوں کے ہجوم میں رہ کر نشانیاں مانگ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے کہ قیامت میں سب کو جمع کرکے دکھا دیا جائے کہ ہر قسم کے حیوانات کس طرح حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرکے خدا کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ صرف انسان تھاجو اس سے انحراف کرتا رہا۔ جانوروں کی دنیا مکمل طورپر مطابق فطرت دنیا ہے۔ ان کے یہاں رزق کی تلاش ہے مگر لوٹ اور ظلم نہیں ہے۔ ان کے یہاں ضرورت ہے مگر حرص اور خود غرضی نہیں۔ ان کے یہاں باہمی تعلقات ہیں مگر ایک دوسرے کی کاٹ نہیں۔ ان کے یہاں اونچ نیچ ہے مگر حسد اور غرور نہیں۔ ان کے یہاں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے مگر بغض وعداوت نہیں۔ ان کے یہاں کام ہو رہے هيں مگر انھیں کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔ مگر انسان سرکشی کرتا ہے۔ وہ خدائی نقشہ کا پابند بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ انسان سے جس چیز کا مطالبہ ہے وہ ٹھیک وہی ہے جس پر دوسرے حیوانات قائم ہیں۔ پھر اس کے ليے معجزہ مانگنے کی کیا ضرورت ۔ حیوانات کی صورت میں چلتی پھرتی نشانیاں کیا آدمی کے سبق کے ليے کافی نہیں ہیں جو خدائی طریق عمل کا زندہ نمونہ پیش کررہی ہیں اور اس طرح پیغمبر کی تعلیمات کے بر حق ہونے کی عملی تصدیق کرتی ہیں۔

الأنعام 6:39

ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا — وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیرمعمولی نشانی کیوں نہیں، جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ لوگوں کی بے علمی کا ہے۔ نشانیاں تو بے شمار تعداد میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں جب لوگ اِن موجود نشانیوں سے سبق نہیں لے رہے ہیں تو کوئی نئی نشانی اتارنے سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ طرح طرح کے چلنے والے جانور اور مختلف قسم کے اڑنے والی چڑیاں جو زمین میں اور فضا میں موجودہیں وہ تمھارے لیے نشانیاں ہی تو ہیں۔ ان تمام زندہ مخلوقات سے بھی اللہ کو وہی کچھ مطلوب ہے جو تم سے مطلوب ہے۔ اور ہر ایک سے جو کچھ مطلوب ہے وہ خدا نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، انسان کو شرعی طورپر اور دوسری مخلوقات کو جبلّی طور پر۔ چڑیوں اور جانوروں جیسی مخلوقات خدا کے لکھے پر پورا پورا عمل کررہی ہے۔ مگر انسان خدا کے لکھے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے یہ معاملہ نشانی کا نہیں بلکہ اندھے پن کا ہے، بقیہ تمام مخلوقات جو دین اختیار کیے ہوئے ہیں، انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنے کا جواز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن کو عمل کرنا ہے وہ نشانی کا مطالبہ کیے بغیر عمل کررہے ہیں اور جن کو عمل کرنا نہیں ہے وہ نشانیوں کے ہجوم میں رہ کر نشانیاں مانگ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے کہ قیامت میں سب کو جمع کرکے دکھا دیا جائے کہ ہر قسم کے حیوانات کس طرح حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرکے خدا کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ صرف انسان تھاجو اس سے انحراف کرتا رہا۔ جانوروں کی دنیا مکمل طورپر مطابق فطرت دنیا ہے۔ ان کے یہاں رزق کی تلاش ہے مگر لوٹ اور ظلم نہیں ہے۔ ان کے یہاں ضرورت ہے مگر حرص اور خود غرضی نہیں۔ ان کے یہاں باہمی تعلقات ہیں مگر ایک دوسرے کی کاٹ نہیں۔ ان کے یہاں اونچ نیچ ہے مگر حسد اور غرور نہیں۔ ان کے یہاں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے مگر بغض وعداوت نہیں۔ ان کے یہاں کام ہو رہے هيں مگر انھیں کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔ مگر انسان سرکشی کرتا ہے۔ وہ خدائی نقشہ کا پابند بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ انسان سے جس چیز کا مطالبہ ہے وہ ٹھیک وہی ہے جس پر دوسرے حیوانات قائم ہیں۔ پھر اس کے ليے معجزہ مانگنے کی کیا ضرورت ۔ حیوانات کی صورت میں چلتی پھرتی نشانیاں کیا آدمی کے سبق کے ليے کافی نہیں ہیں جو خدائی طریق عمل کا زندہ نمونہ پیش کررہی ہیں اور اس طرح پیغمبر کی تعلیمات کے بر حق ہونے کی عملی تصدیق کرتی ہیں۔

الأنعام 6:40

ابو جہل کے لڑکے عکرمہ اسلام کے سخت دشمن تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام کے مخالف بنے رہے۔ فتح مکہ کے دن انھوں نے ایک مسلمان کو تیر مار کر ہلاک کردیا تھا۔ عکرمہ ان اشخاص میں تھے جن کے متعلق فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ وه جہاں ملیں قتل کرديے جائیں۔ مکہ جب فتح ہوگیا تو عکرمہ مکہ چھوڑ کر جدہ کی طرف بھاگے۔ انھوں نے چاہا کہ کشتی کے ذریعہ بحر قلزم پار کرکے حبش پہنچ جائیں۔ مگر وہ کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں پہنچے تھے کہ تند ہواؤں نے کشتی کو گھیر لیا۔ کشتی خطرہ میں پڑ گئی۔ کشتی کے مسافر سب مشرک لوگ تھے۔انھوں نے لات اور عزی وغیرہ اپنے بتوں کو مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ مگر طوفان کی شدت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی۔ اب کشتی والوں نے کہا کہ اس وقت لات وعزی کچھ کام نہ دیں گے۔ اب صرف ایک خدا کو پکارو، وہی تم کو بچا سکتا ہے۔ چنانچہ سب ایک خدا کو پکارنے لگے۔ اب طوفان تھم گیااور کشتی واپس اپنے ساحل پر آگئی۔ عکرمہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا۔ انھوںنے کہا خدا کی قسم، دريا ميں اگر كوئي چيز خدا كے سوا كام نهيں آسكتي تو يقيناً خشكي ميں بھي خدا كے سوا كوئي دوسري چيز كام نهيں آسكتي۔ خدایا میں تجھ سے وعدہ کرتاہوں کہ اگر تو نے مجھ کو اس سے نجات دے دی جس میںاس وقت میں پھنسا ہوا ہوں تو میں ضرور محمد کے یہاں جاؤں گااور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کو معاف کرنے والا درگزر کرنے والا اور مہربان پاؤں گا (اللَّهمّ إنّ لك عليّ عهدا إن عافيتني مما أنا فيه أن آتي محمدا حتى أضع يدي في يده، فلا أجدنّه إلا عفوّا كريما( الإصابۃ فی تمييز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، جلد4، صفحہ 444 ساری تاریخ کا یہ مشاہدہ ہے کہ انسان نازک لمحات میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ حتی کہ وہ شخص بھی جو عام زندگی میں خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کیے ہو یا سرے سے خدا کو مانتا نہ ہو۔ یہ خدا کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی فطری شہادت ہے۔ غیر معمولی حالات میں جب ظاہری پردے ہٹ جاتے ہیں اور آدمی تمام مصنوعی خیالات کو بھول چکا ہوتا ہے اس وقت آدمی کو خداکے سوا کوئی چیز یاد نہیں آتی۔ بالفاظ دیگر، مجبوری کے نقطہ پر پہنچ کر ہر آدمی خدا کا اقرار کرلیتاہے، قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ یہی اقرار اور اطاعت آدمی اس وقت کرنے لگے جب کہ بظاہر مجبور کرنے والی کوئی چیز اس کے سامنے موجود نہ ہو۔ بقیہ حیوانات اپنی جبلّت کے تحت حقیقت پسندانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر انسان کو جو چیز حقیقت پسندی اور اعتراف کی سطح پر لاتی ہے وہ خوف کی نفسیات ہے۔ حیوانات کی دنیا میں جو کام جبلت کرتی ہے، انسان کی دنیا میں وہی کام تقویٰ انجام دیتا ہے۔

الأنعام 6:41

ابو جہل کے لڑکے عکرمہ اسلام کے سخت دشمن تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام کے مخالف بنے رہے۔ فتح مکہ کے دن انھوں نے ایک مسلمان کو تیر مار کر ہلاک کردیا تھا۔ عکرمہ ان اشخاص میں تھے جن کے متعلق فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ وه جہاں ملیں قتل کرديے جائیں۔ مکہ جب فتح ہوگیا تو عکرمہ مکہ چھوڑ کر جدہ کی طرف بھاگے۔ انھوں نے چاہا کہ کشتی کے ذریعہ بحر قلزم پار کرکے حبش پہنچ جائیں۔ مگر وہ کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں پہنچے تھے کہ تند ہواؤں نے کشتی کو گھیر لیا۔ کشتی خطرہ میں پڑ گئی۔ کشتی کے مسافر سب مشرک لوگ تھے۔انھوں نے لات اور عزی وغیرہ اپنے بتوں کو مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ مگر طوفان کی شدت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی۔ اب کشتی والوں نے کہا کہ اس وقت لات وعزی کچھ کام نہ دیں گے۔ اب صرف ایک خدا کو پکارو، وہی تم کو بچا سکتا ہے۔ چنانچہ سب ایک خدا کو پکارنے لگے۔ اب طوفان تھم گیااور کشتی واپس اپنے ساحل پر آگئی۔ عکرمہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا۔ انھوںنے کہا خدا کی قسم، دريا ميں اگر كوئي چيز خدا كے سوا كام نهيں آسكتي تو يقيناً خشكي ميں بھي خدا كے سوا كوئي دوسري چيز كام نهيں آسكتي۔ خدایا میں تجھ سے وعدہ کرتاہوں کہ اگر تو نے مجھ کو اس سے نجات دے دی جس میںاس وقت میں پھنسا ہوا ہوں تو میں ضرور محمد کے یہاں جاؤں گااور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کو معاف کرنے والا درگزر کرنے والا اور مہربان پاؤں گا (اللَّهمّ إنّ لك عليّ عهدا إن عافيتني مما أنا فيه أن آتي محمدا حتى أضع يدي في يده، فلا أجدنّه إلا عفوّا كريما( الإصابۃ فی تمييز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، جلد4، صفحہ 444 ساری تاریخ کا یہ مشاہدہ ہے کہ انسان نازک لمحات میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ حتی کہ وہ شخص بھی جو عام زندگی میں خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کیے ہو یا سرے سے خدا کو مانتا نہ ہو۔ یہ خدا کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی فطری شہادت ہے۔ غیر معمولی حالات میں جب ظاہری پردے ہٹ جاتے ہیں اور آدمی تمام مصنوعی خیالات کو بھول چکا ہوتا ہے اس وقت آدمی کو خداکے سوا کوئی چیز یاد نہیں آتی۔ بالفاظ دیگر، مجبوری کے نقطہ پر پہنچ کر ہر آدمی خدا کا اقرار کرلیتاہے، قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ یہی اقرار اور اطاعت آدمی اس وقت کرنے لگے جب کہ بظاہر مجبور کرنے والی کوئی چیز اس کے سامنے موجود نہ ہو۔ بقیہ حیوانات اپنی جبلّت کے تحت حقیقت پسندانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر انسان کو جو چیز حقیقت پسندی اور اعتراف کی سطح پر لاتی ہے وہ خوف کی نفسیات ہے۔ حیوانات کی دنیا میں جو کام جبلت کرتی ہے، انسان کی دنیا میں وہی کام تقویٰ انجام دیتا ہے۔

الأنعام 6:42

آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیںہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے خدا كا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میںاضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خداکا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میںحاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔ یہ دنیا خداکی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔

الأنعام 6:43

آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیںہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے خدا كا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میںاضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خداکا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میںحاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔ یہ دنیا خداکی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔

الأنعام 6:44

آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیںہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے خدا كا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میںاضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خداکا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میںحاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔ یہ دنیا خداکی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔

الأنعام 6:45

آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیںہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے خدا كا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میںاضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خداکا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میںحاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔ یہ دنیا خداکی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔

الأنعام 6:46

آدمی کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر كرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات كو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہاہے کہ اس کو نا اہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بهرا اور بے عقل بنادیا جائے۔ کیوں کہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہوجائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لیے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہوجائے۔ چھیننے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔ آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھیٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لیے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لاکر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔ اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرلے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لیے طلسمات وعجائبات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔

الأنعام 6:47

آدمی کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر كرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات كو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہاہے کہ اس کو نا اہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بهرا اور بے عقل بنادیا جائے۔ کیوں کہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہوجائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لیے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہوجائے۔ چھیننے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔ آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھیٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لیے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لاکر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔ اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرلے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لیے طلسمات وعجائبات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔

الأنعام 6:48

آدمی کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر كرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات كو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہاہے کہ اس کو نا اہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بهرا اور بے عقل بنادیا جائے۔ کیوں کہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہوجائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لیے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہوجائے۔ چھیننے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔ آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھیٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لیے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لاکر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔ اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرلے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لیے طلسمات وعجائبات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔

الأنعام 6:49

آدمی کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر كرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات كو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہاہے کہ اس کو نا اہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بهرا اور بے عقل بنادیا جائے۔ کیوں کہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہوجائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لیے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہوجائے۔ چھیننے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔ آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھیٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لیے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لاکر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔ اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرلے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لیے طلسمات وعجائبات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔

الأنعام 6:50

آدمی کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر كرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات كو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہاہے کہ اس کو نا اہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بهرا اور بے عقل بنادیا جائے۔ کیوں کہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہوجائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لیے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہوجائے۔ چھیننے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔ آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھیٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لیے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لاکر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا، نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔ اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرلے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لیے طلسمات وعجائبات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔

الأنعام 6:51

نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کار گر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو خطرے سے آگاہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طورپر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، دنیا پرستی، دوسري اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یادنیا کی کوئی کامیابی پاکر اس پر مطمئن ہوگئے ہوں، حتی کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکر خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیزنہیں سمجھتے۔ اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میںاپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کامزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیںکہ جن بڑوں کے ساتھ انھوںنے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مدد گار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوںنے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ خدا کے محبوب ومقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنادیتی ہے، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کہ لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی هو۔ جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت ومقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیوں کہ حق کا ساتھ دينا ان کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان كے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرالیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

الأنعام 6:52

نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کار گر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو خطرے سے آگاہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طورپر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، دنیا پرستی، دوسري اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یادنیا کی کوئی کامیابی پاکر اس پر مطمئن ہوگئے ہوں، حتی کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکر خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیزنہیں سمجھتے۔ اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میںاپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کامزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیںکہ جن بڑوں کے ساتھ انھوںنے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مدد گار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوںنے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ خدا کے محبوب ومقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنادیتی ہے، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کہ لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی هو۔ جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت ومقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیوں کہ حق کا ساتھ دينا ان کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان كے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرالیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

الأنعام 6:53

نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کار گر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو خطرے سے آگاہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طورپر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، دنیا پرستی، دوسري اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یادنیا کی کوئی کامیابی پاکر اس پر مطمئن ہوگئے ہوں، حتی کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکر خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیزنہیں سمجھتے۔ اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میںاپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کامزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیںکہ جن بڑوں کے ساتھ انھوںنے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مدد گار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوںنے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ خدا کے محبوب ومقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنادیتی ہے، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کہ لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی هو۔ جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت ومقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیوں کہ حق کا ساتھ دينا ان کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان كے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرالیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

الأنعام 6:54

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو آپ کی صداقت پر معجزے طلب کرتے رہے۔ دوسرے لوگ وہ تھے جو قرآن كي آيات کو سن کر آپ کے مومن بن گئے۔ یہی امتحان ہر زمانہ میں انسان کے ساتھ جاری ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا خود سامنے نہیں آتا، وہ داعی کی زبان سے اپنے دلائل کا اعلان کراتا ہے، وہ اپنی صداقت کو لفظوں کے روپ میں ڈھال کر انسان کے سامنے لاتا ہے۔ اب جس کی فطرت زندہ ہے وہ انھیں دلائل میں خدا کا جلوہ دیکھ لیتاہے اور اس کا اقرار کرکے اس کے آگے جھک جاتاہے۔ اس کے برعکس، جنھوںنے اپنی فطرت پر مصنوعی پردے ڈال رکھے ہیں، وہ ’’الفاظ‘‘ کے روپ میں خدا کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ خدا کو اس کی استدلالي صورت میں دیکھ نہیں پاتے اس لیے چاہتے ہیں کہ خدا اپنی مشاہداتی صورت میں ان کے سامنے آئے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ یہاں وہی شخص خدا کو پائے گا جو خدا کو حالتِ غیب میں پالے، جو شخص خدا کو حالتِ شہود میں دیکھنے پر اصرار کرے، اس کا انجام خدا کی اس دنیا میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو لوگ اپنی کجی کی وجہ سے حق سے دور رہتے ہیں وہ حق کو قبول کرنے والوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں تاکہ ان کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر ثابت کرسکیں۔ ان کو اپنے جرائم نظر نہیں آتے۔ البتہ حق پرستوں سے اگر کبھی کوئی غلطی ہوگئی تو اس کو خوب بڑھا کر بیان کرتے ہیں، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ جو لوگ اس دعوت کے گرد جمع ہیں وہ قابل اعتبار لوگ نہیں ہیں۔ حالاں کہ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ جن لوگوں نے ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کیا ہے انھوں نے اپنے اس عمل سے ایمان واصلاح کے راستہ پر چلنے کا ثبوت دیا ہے۔ اس طرح وہ خدا کے قانون کے مطابق اس کے مستحق ہوگئے کہ انھیں اصلاح حال کی توفیق ملے اور وہ خدا کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیں۔ اس کے برعکس جو لوگ حق سے دور پڑے ہوئے ہیں وہ اپنے عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ ایمان واصلاح کا طریقہ اختیار کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی ڈھٹائی کبھی ختم نہیں ہوتی اور ڈھٹائی ہی خدا کی اس دنیا میں کسی کاسب سے بڑا جرم ہے۔ خدا ’’نشانیوں‘‘ کی زبان میں بولتا ہے۔ نشانیاں اس شخص کے لیے کار آمد ہوتی ہیں جو ان کو پڑھنا چاہے۔ اسی طرح ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کا طالب ہو ۔ جو شخص ہدایت کی طلب نہ رکھتا ہو اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔

الأنعام 6:55

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو آپ کی صداقت پر معجزے طلب کرتے رہے۔ دوسرے لوگ وہ تھے جو قرآن كي آيات کو سن کر آپ کے مومن بن گئے۔ یہی امتحان ہر زمانہ میں انسان کے ساتھ جاری ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا خود سامنے نہیں آتا، وہ داعی کی زبان سے اپنے دلائل کا اعلان کراتا ہے، وہ اپنی صداقت کو لفظوں کے روپ میں ڈھال کر انسان کے سامنے لاتا ہے۔ اب جس کی فطرت زندہ ہے وہ انھیں دلائل میں خدا کا جلوہ دیکھ لیتاہے اور اس کا اقرار کرکے اس کے آگے جھک جاتاہے۔ اس کے برعکس، جنھوںنے اپنی فطرت پر مصنوعی پردے ڈال رکھے ہیں، وہ ’’الفاظ‘‘ کے روپ میں خدا کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ خدا کو اس کی استدلالي صورت میں دیکھ نہیں پاتے اس لیے چاہتے ہیں کہ خدا اپنی مشاہداتی صورت میں ان کے سامنے آئے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ یہاں وہی شخص خدا کو پائے گا جو خدا کو حالتِ غیب میں پالے، جو شخص خدا کو حالتِ شہود میں دیکھنے پر اصرار کرے، اس کا انجام خدا کی اس دنیا میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو لوگ اپنی کجی کی وجہ سے حق سے دور رہتے ہیں وہ حق کو قبول کرنے والوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں تاکہ ان کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر ثابت کرسکیں۔ ان کو اپنے جرائم نظر نہیں آتے۔ البتہ حق پرستوں سے اگر کبھی کوئی غلطی ہوگئی تو اس کو خوب بڑھا کر بیان کرتے ہیں، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ جو لوگ اس دعوت کے گرد جمع ہیں وہ قابل اعتبار لوگ نہیں ہیں۔ حالاں کہ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ جن لوگوں نے ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کیا ہے انھوں نے اپنے اس عمل سے ایمان واصلاح کے راستہ پر چلنے کا ثبوت دیا ہے۔ اس طرح وہ خدا کے قانون کے مطابق اس کے مستحق ہوگئے کہ انھیں اصلاح حال کی توفیق ملے اور وہ خدا کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیں۔ اس کے برعکس جو لوگ حق سے دور پڑے ہوئے ہیں وہ اپنے عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ ایمان واصلاح کا طریقہ اختیار کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی ڈھٹائی کبھی ختم نہیں ہوتی اور ڈھٹائی ہی خدا کی اس دنیا میں کسی کاسب سے بڑا جرم ہے۔ خدا ’’نشانیوں‘‘ کی زبان میں بولتا ہے۔ نشانیاں اس شخص کے لیے کار آمد ہوتی ہیں جو ان کو پڑھنا چاہے۔ اسی طرح ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کا طالب ہو ۔ جو شخص ہدایت کی طلب نہ رکھتا ہو اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔

الأنعام 6:56

خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔

الأنعام 6:57

خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔

الأنعام 6:58

خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔

الأنعام 6:59

خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔

الأنعام 6:60

خدا نے یہ دنیا اس طرح بنائی ہے کہ وہ ان حقیقتوں کی عملی تصدیق بن گئی ہے جن کی طرف انسان کو دعوت دی جارہی ہے۔ اگر آدمی اپنی آنکھوں کو بند نہ کرے اور اپنی عقل پر مصنوعی پردے نہ ڈالے تو پوری کائنات اس کو قرآن کی فکری دعوت کا عملی مظاہرہ دکھائی دے گی۔ درخت کے تنہ میں شاخ نکلتی ہے اور شاخ میں پتے۔ مگر دونوں کے جوڑوں میں فرق ہوتا ہے۔ گویاکہ بنانے والے کو معلوم ہے کہ شاخ کو اپنے تنے سے جڑا رہنا ہے اور پتہ کو الگ ہو کر گر جانا ہے۔ اگر شاخ کی جَڑ کے مقابلہ میں پتہ کی جَڑ میںیہ انفرادی خصوصیت نہ ہو تو پتہ شاخ سے جدا نہ ہو اور درخت کو ہر سال نئی زندگی دینے کا نظام ابتر ہوجائے۔ اسی طرح جب ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو زمین میں پہلے سے اس کے لیے وہ تمام ضروري خوراک موجود ہوتی ہے جس سے رزق پاکر وہ بڑھتا ہے اور بالآخر پورا درخت بنتا ہے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ جو خدا پتہ اور دانہ تک کے احوال سے باخبر ہو وہ انسانوں کے احوال سے بے خبر ہوجائے۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہاں کا نظام استثنائی طورپر انسان جیسی ایک مخلوق کے حسب حال بنایاگیا ہے۔ زمین کے اندر کا ایک بڑا حصہ آگ ہے مگر وہ پھٹ نہیں پڑتا۔ سورج انتہائی صحیح حسابی فاصلہ پر ہے، وہ اس سے نہ دور جاتا ہے اور نہ قریب ہوتا ہے۔ آدمی کو ہر وقت ہوا اور پانی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہوا کو گیس کی شکل میں ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے اورپانی کو رقیق سیال کی صورت میں زمین کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔ اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کو زمین پر مسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ان میں معمولی فرق آجائے تو انسان کے لیے زمین پر زندگی گزارنا ناممکن ہوجائے۔ نیند بڑی عجیب چیز ہے۔ آدمی چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور بولتا ہے۔ مگر جب وہ سوتا ہے تو اس کے تمام حواس اس طرح معطل ہوجاتے ہیں جیسے زندگی اس سے نکل گئی ہو۔ اس کے بعد جب وہ نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ پھر ویسا ہی انسان ہوتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ یہ گویا زندگی اور موت کی تمثیل ہے۔ یہ معاملہ ہمارے لیے اس بات کو قابل فہم بنا دیتا ہے کہ آدمی کس طرح مرے گا اور کس طرح وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا کیا جائے گا۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سارے انسان خدا کے اختیار میں ہیں اور جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا اپنے اختیار کے مطابق ان کا فیصلہ کرے۔

الأنعام 6:61

خدا نے یہ دنیا اس طرح بنائی ہے کہ وہ ان حقیقتوں کی عملی تصدیق بن گئی ہے جن کی طرف انسان کو دعوت دی جارہی ہے۔ اگر آدمی اپنی آنکھوں کو بند نہ کرے اور اپنی عقل پر مصنوعی پردے نہ ڈالے تو پوری کائنات اس کو قرآن کی فکری دعوت کا عملی مظاہرہ دکھائی دے گی۔ درخت کے تنہ میں شاخ نکلتی ہے اور شاخ میں پتے۔ مگر دونوں کے جوڑوں میں فرق ہوتا ہے۔ گویاکہ بنانے والے کو معلوم ہے کہ شاخ کو اپنے تنے سے جڑا رہنا ہے اور پتہ کو الگ ہو کر گر جانا ہے۔ اگر شاخ کی جَڑ کے مقابلہ میں پتہ کی جَڑ میںیہ انفرادی خصوصیت نہ ہو تو پتہ شاخ سے جدا نہ ہو اور درخت کو ہر سال نئی زندگی دینے کا نظام ابتر ہوجائے۔ اسی طرح جب ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو زمین میں پہلے سے اس کے لیے وہ تمام ضروري خوراک موجود ہوتی ہے جس سے رزق پاکر وہ بڑھتا ہے اور بالآخر پورا درخت بنتا ہے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ جو خدا پتہ اور دانہ تک کے احوال سے باخبر ہو وہ انسانوں کے احوال سے بے خبر ہوجائے۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہاں کا نظام استثنائی طورپر انسان جیسی ایک مخلوق کے حسب حال بنایاگیا ہے۔ زمین کے اندر کا ایک بڑا حصہ آگ ہے مگر وہ پھٹ نہیں پڑتا۔ سورج انتہائی صحیح حسابی فاصلہ پر ہے، وہ اس سے نہ دور جاتا ہے اور نہ قریب ہوتا ہے۔ آدمی کو ہر وقت ہوا اور پانی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہوا کو گیس کی شکل میں ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے اورپانی کو رقیق سیال کی صورت میں زمین کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔ اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کو زمین پر مسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ان میں معمولی فرق آجائے تو انسان کے لیے زمین پر زندگی گزارنا ناممکن ہوجائے۔ نیند بڑی عجیب چیز ہے۔ آدمی چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور بولتا ہے۔ مگر جب وہ سوتا ہے تو اس کے تمام حواس اس طرح معطل ہوجاتے ہیں جیسے زندگی اس سے نکل گئی ہو۔ اس کے بعد جب وہ نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ پھر ویسا ہی انسان ہوتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ یہ گویا زندگی اور موت کی تمثیل ہے۔ یہ معاملہ ہمارے لیے اس بات کو قابل فہم بنا دیتا ہے کہ آدمی کس طرح مرے گا اور کس طرح وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا کیا جائے گا۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سارے انسان خدا کے اختیار میں ہیں اور جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا اپنے اختیار کے مطابق ان کا فیصلہ کرے۔

الأنعام 6:62

خدا نے یہ دنیا اس طرح بنائی ہے کہ وہ ان حقیقتوں کی عملی تصدیق بن گئی ہے جن کی طرف انسان کو دعوت دی جارہی ہے۔ اگر آدمی اپنی آنکھوں کو بند نہ کرے اور اپنی عقل پر مصنوعی پردے نہ ڈالے تو پوری کائنات اس کو قرآن کی فکری دعوت کا عملی مظاہرہ دکھائی دے گی۔ درخت کے تنہ میں شاخ نکلتی ہے اور شاخ میں پتے۔ مگر دونوں کے جوڑوں میں فرق ہوتا ہے۔ گویاکہ بنانے والے کو معلوم ہے کہ شاخ کو اپنے تنے سے جڑا رہنا ہے اور پتہ کو الگ ہو کر گر جانا ہے۔ اگر شاخ کی جَڑ کے مقابلہ میں پتہ کی جَڑ میںیہ انفرادی خصوصیت نہ ہو تو پتہ شاخ سے جدا نہ ہو اور درخت کو ہر سال نئی زندگی دینے کا نظام ابتر ہوجائے۔ اسی طرح جب ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو زمین میں پہلے سے اس کے لیے وہ تمام ضروري خوراک موجود ہوتی ہے جس سے رزق پاکر وہ بڑھتا ہے اور بالآخر پورا درخت بنتا ہے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ جو خدا پتہ اور دانہ تک کے احوال سے باخبر ہو وہ انسانوں کے احوال سے بے خبر ہوجائے۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہاں کا نظام استثنائی طورپر انسان جیسی ایک مخلوق کے حسب حال بنایاگیا ہے۔ زمین کے اندر کا ایک بڑا حصہ آگ ہے مگر وہ پھٹ نہیں پڑتا۔ سورج انتہائی صحیح حسابی فاصلہ پر ہے، وہ اس سے نہ دور جاتا ہے اور نہ قریب ہوتا ہے۔ آدمی کو ہر وقت ہوا اور پانی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہوا کو گیس کی شکل میں ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے اورپانی کو رقیق سیال کی صورت میں زمین کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔ اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کو زمین پر مسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ان میں معمولی فرق آجائے تو انسان کے لیے زمین پر زندگی گزارنا ناممکن ہوجائے۔ نیند بڑی عجیب چیز ہے۔ آدمی چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور بولتا ہے۔ مگر جب وہ سوتا ہے تو اس کے تمام حواس اس طرح معطل ہوجاتے ہیں جیسے زندگی اس سے نکل گئی ہو۔ اس کے بعد جب وہ نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ پھر ویسا ہی انسان ہوتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ یہ گویا زندگی اور موت کی تمثیل ہے۔ یہ معاملہ ہمارے لیے اس بات کو قابل فہم بنا دیتا ہے کہ آدمی کس طرح مرے گا اور کس طرح وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا کیا جائے گا۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سارے انسان خدا کے اختیار میں ہیں اور جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا اپنے اختیار کے مطابق ان کا فیصلہ کرے۔

الأنعام 6:63

انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتی۔ ایسا اس لیے ہوتاہے ،تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کیے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سكے۔ چنانچہ جب بھی آدمی پرکوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتاہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہوجائے۔ شرک کی ایک صورت وہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہر پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خوداپنے کو بت بنالے، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم وجان پر اعتماد کررہا ہے۔ آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کررہا ہے۔ آدمی جب ايك حق کو نظر انداز کرتاہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میںاس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں، اس کے حق میں اپنی مَن مانی کرنے سے مجھے کوئی ر وکنے والا نہیں۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔ آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے۔ وہ ایسی ہوائوں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کرکے اس کی زندگی کو تہس نہس کرسکتی ہیں۔ وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہتاہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لیے کافی ہے۔

الأنعام 6:64

انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتی۔ ایسا اس لیے ہوتاہے ،تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کیے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سكے۔ چنانچہ جب بھی آدمی پرکوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتاہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہوجائے۔ شرک کی ایک صورت وہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہر پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خوداپنے کو بت بنالے، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم وجان پر اعتماد کررہا ہے۔ آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کررہا ہے۔ آدمی جب ايك حق کو نظر انداز کرتاہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میںاس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں، اس کے حق میں اپنی مَن مانی کرنے سے مجھے کوئی ر وکنے والا نہیں۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔ آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے۔ وہ ایسی ہوائوں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کرکے اس کی زندگی کو تہس نہس کرسکتی ہیں۔ وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہتاہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لیے کافی ہے۔

الأنعام 6:65

انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتی۔ ایسا اس لیے ہوتاہے ،تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کیے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سكے۔ چنانچہ جب بھی آدمی پرکوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتاہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہوجائے۔ شرک کی ایک صورت وہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہر پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خوداپنے کو بت بنالے، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم وجان پر اعتماد کررہا ہے۔ آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کررہا ہے۔ آدمی جب ايك حق کو نظر انداز کرتاہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میںاس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں، اس کے حق میں اپنی مَن مانی کرنے سے مجھے کوئی ر وکنے والا نہیں۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔ آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے۔ وہ ایسی ہوائوں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کرکے اس کی زندگی کو تہس نہس کرسکتی ہیں۔ وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہتاہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لیے کافی ہے۔

الأنعام 6:66

انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتی۔ ایسا اس لیے ہوتاہے ،تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کیے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سكے۔ چنانچہ جب بھی آدمی پرکوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتاہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہوجائے۔ شرک کی ایک صورت وہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہر پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خوداپنے کو بت بنالے، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم وجان پر اعتماد کررہا ہے۔ آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کررہا ہے۔ آدمی جب ايك حق کو نظر انداز کرتاہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میںاس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں، اس کے حق میں اپنی مَن مانی کرنے سے مجھے کوئی ر وکنے والا نہیں۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔ آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے۔ وہ ایسی ہوائوں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کرکے اس کی زندگی کو تہس نہس کرسکتی ہیں۔ وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہتاہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لیے کافی ہے۔

الأنعام 6:67

انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتی۔ ایسا اس لیے ہوتاہے ،تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کیے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سكے۔ چنانچہ جب بھی آدمی پرکوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتاہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہوجائے۔ شرک کی ایک صورت وہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہر پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خوداپنے کو بت بنالے، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم وجان پر اعتماد کررہا ہے۔ آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کررہا ہے۔ آدمی جب ايك حق کو نظر انداز کرتاہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میںاس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں، اس کے حق میں اپنی مَن مانی کرنے سے مجھے کوئی ر وکنے والا نہیں۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔ آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے۔ وہ ایسی ہوائوں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کرکے اس کی زندگی کو تہس نہس کرسکتی ہیں۔ وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہتاہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لیے کافی ہے۔

الأنعام 6:68

عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے ہر امت کے لیے ایک عید کا دن مقرر کیا تاکہ اس دن وہ اللہ کی بڑائی کریںاور اس کی عبادت کریں اور اللہ کی یاد سے اس کو معمور کریں۔ مگر بعد کے لوگوں نے اپنی عید (مذہبی تیوہار) کو کھیل تماشا بنا لیا (تفسیر کبیر، جلد 13 ، صفحه 24 ) ہر دینی عمل کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ایک اس کا ظاہری پہلو ہوتا ہے۔ عید كا مقصد اللہ کی بڑائی اور اس کی یاد کا اجتماعی مظاہرہ ہے۔ مگر عید کی ادائیگی کے کچھ ظاہری پہلو بھی ہیں۔ مثلاً کپڑا پہننا یا اجتماع کا سامان کرنا وغیرہ۔ اب عید کو کھیل تماشا بنانا یہ ہے کہ اس کے اصل مقصد پر توجہ نہ دی جائے البتہ اس کے ظاہری اور مادی پہلوؤں کی خوب دھوم مچائی جائے۔ مثلاً کپڑوں اور سامانوں کی نمائش، خرید وفروخت کے ہنگامے، تفریحات کا اہتمام، اپنی حیثیت اور شان وشوکت کے مظاہرے، وغیرہ۔ امتوں کے بگاڑ کے زمانے میں یہی معاملہ تمام دینی اعمال کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لوگ دینی عمل کی اصل حقیقت کو الگ کرکے اس کے ظاہری پہلو کو لے لیتے ہیں۔ اب جو لوگ اس نوبت کو پہنچ جائیں کہ وہ دین کے مقصدی پہلو کو بھلا کر اس کو اپنے دنیوی تماشوں کا عنوان بنالیں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں ان کو اس معاملہ کی کوئی ایسی بات سمجھائی نہیں جاسکتی جو ان کے مزاج کے خلاف ہو۔ مزید یہ کہ مادی چیزوں کا مالک ہونا ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتاہے کہ سچائی کے مالک بھی وہی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کی ضرورتیں بفراغت پوری ہورہی ہیں۔ ہر جگہ وہ رونق محفل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس لیے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ آخرت میں بھی وہی کامیاب رہیں گے۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر آخرت کی باتوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ مگر وہ جان لیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ یوں ہی ختم ہوجانے والا نہیں۔ ان کا عمل ان کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ عنقریب وہ اپنی سرکشی میں پھنس کر رہ جائیں گے اور کسی حال میں اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے۔

الأنعام 6:69

عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے ہر امت کے لیے ایک عید کا دن مقرر کیا تاکہ اس دن وہ اللہ کی بڑائی کریںاور اس کی عبادت کریں اور اللہ کی یاد سے اس کو معمور کریں۔ مگر بعد کے لوگوں نے اپنی عید (مذہبی تیوہار) کو کھیل تماشا بنا لیا (تفسیر کبیر، جلد 13 ، صفحه 24 ) ہر دینی عمل کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ایک اس کا ظاہری پہلو ہوتا ہے۔ عید كا مقصد اللہ کی بڑائی اور اس کی یاد کا اجتماعی مظاہرہ ہے۔ مگر عید کی ادائیگی کے کچھ ظاہری پہلو بھی ہیں۔ مثلاً کپڑا پہننا یا اجتماع کا سامان کرنا وغیرہ۔ اب عید کو کھیل تماشا بنانا یہ ہے کہ اس کے اصل مقصد پر توجہ نہ دی جائے البتہ اس کے ظاہری اور مادی پہلوؤں کی خوب دھوم مچائی جائے۔ مثلاً کپڑوں اور سامانوں کی نمائش، خرید وفروخت کے ہنگامے، تفریحات کا اہتمام، اپنی حیثیت اور شان وشوکت کے مظاہرے، وغیرہ۔ امتوں کے بگاڑ کے زمانے میں یہی معاملہ تمام دینی اعمال کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لوگ دینی عمل کی اصل حقیقت کو الگ کرکے اس کے ظاہری پہلو کو لے لیتے ہیں۔ اب جو لوگ اس نوبت کو پہنچ جائیں کہ وہ دین کے مقصدی پہلو کو بھلا کر اس کو اپنے دنیوی تماشوں کا عنوان بنالیں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں ان کو اس معاملہ کی کوئی ایسی بات سمجھائی نہیں جاسکتی جو ان کے مزاج کے خلاف ہو۔ مزید یہ کہ مادی چیزوں کا مالک ہونا ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتاہے کہ سچائی کے مالک بھی وہی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کی ضرورتیں بفراغت پوری ہورہی ہیں۔ ہر جگہ وہ رونق محفل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس لیے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ آخرت میں بھی وہی کامیاب رہیں گے۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر آخرت کی باتوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ مگر وہ جان لیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ یوں ہی ختم ہوجانے والا نہیں۔ ان کا عمل ان کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ عنقریب وہ اپنی سرکشی میں پھنس کر رہ جائیں گے اور کسی حال میں اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے۔

الأنعام 6:70

عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے ہر امت کے لیے ایک عید کا دن مقرر کیا تاکہ اس دن وہ اللہ کی بڑائی کریںاور اس کی عبادت کریں اور اللہ کی یاد سے اس کو معمور کریں۔ مگر بعد کے لوگوں نے اپنی عید (مذہبی تیوہار) کو کھیل تماشا بنا لیا (تفسیر کبیر، جلد 13 ، صفحه 24 ) ہر دینی عمل کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ایک اس کا ظاہری پہلو ہوتا ہے۔ عید كا مقصد اللہ کی بڑائی اور اس کی یاد کا اجتماعی مظاہرہ ہے۔ مگر عید کی ادائیگی کے کچھ ظاہری پہلو بھی ہیں۔ مثلاً کپڑا پہننا یا اجتماع کا سامان کرنا وغیرہ۔ اب عید کو کھیل تماشا بنانا یہ ہے کہ اس کے اصل مقصد پر توجہ نہ دی جائے البتہ اس کے ظاہری اور مادی پہلوؤں کی خوب دھوم مچائی جائے۔ مثلاً کپڑوں اور سامانوں کی نمائش، خرید وفروخت کے ہنگامے، تفریحات کا اہتمام، اپنی حیثیت اور شان وشوکت کے مظاہرے، وغیرہ۔ امتوں کے بگاڑ کے زمانے میں یہی معاملہ تمام دینی اعمال کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لوگ دینی عمل کی اصل حقیقت کو الگ کرکے اس کے ظاہری پہلو کو لے لیتے ہیں۔ اب جو لوگ اس نوبت کو پہنچ جائیں کہ وہ دین کے مقصدی پہلو کو بھلا کر اس کو اپنے دنیوی تماشوں کا عنوان بنالیں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں ان کو اس معاملہ کی کوئی ایسی بات سمجھائی نہیں جاسکتی جو ان کے مزاج کے خلاف ہو۔ مزید یہ کہ مادی چیزوں کا مالک ہونا ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتاہے کہ سچائی کے مالک بھی وہی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کی ضرورتیں بفراغت پوری ہورہی ہیں۔ ہر جگہ وہ رونق محفل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس لیے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ آخرت میں بھی وہی کامیاب رہیں گے۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر آخرت کی باتوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ مگر وہ جان لیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ یوں ہی ختم ہوجانے والا نہیں۔ ان کا عمل ان کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ عنقریب وہ اپنی سرکشی میں پھنس کر رہ جائیں گے اور کسی حال میں اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے۔

الأنعام 6:71

جو لوگ خداکے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا ميں بھٹک رہاہو۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتاہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتاہے۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے، ادھر آجاؤ، مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے، صحیح راستہ کو دیکھنے میںاس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیںہوتی۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کي عقل شیطان کے زیر اثر آجاتی ہے۔ اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیںکرتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔ خداکے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ نقصان کی طاقت نہیں رکھتیں۔ زمین وآسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کررہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصود بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائي اورانصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے، وہ بھی سر اسر باطل ہے۔ کیوں کہ انسانی زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہوجائے تو یہ دنیا بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انانیت پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس باکمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے۔ دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہوجائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہوجائے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات پر قائم ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہوں گے جنھوںنے امتحان کے زمانہ میں اپنے کو خدا کے حوالے کیا تھا، جو کسی دباؤ کے بغیر اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے آگے ہمہ تن جھک جانے والے تھے۔

الأنعام 6:72

جو لوگ خداکے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا ميں بھٹک رہاہو۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتاہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتاہے۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے، ادھر آجاؤ، مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے، صحیح راستہ کو دیکھنے میںاس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیںہوتی۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کي عقل شیطان کے زیر اثر آجاتی ہے۔ اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیںکرتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔ خداکے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ نقصان کی طاقت نہیں رکھتیں۔ زمین وآسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کررہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصود بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائي اورانصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے، وہ بھی سر اسر باطل ہے۔ کیوں کہ انسانی زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہوجائے تو یہ دنیا بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انانیت پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس باکمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے۔ دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہوجائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہوجائے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات پر قائم ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہوں گے جنھوںنے امتحان کے زمانہ میں اپنے کو خدا کے حوالے کیا تھا، جو کسی دباؤ کے بغیر اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے آگے ہمہ تن جھک جانے والے تھے۔

الأنعام 6:73

جو لوگ خداکے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا ميں بھٹک رہاہو۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتاہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتاہے۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے، ادھر آجاؤ، مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے، صحیح راستہ کو دیکھنے میںاس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیںہوتی۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کي عقل شیطان کے زیر اثر آجاتی ہے۔ اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیںکرتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔ خداکے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ نقصان کی طاقت نہیں رکھتیں۔ زمین وآسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کررہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصود بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائي اورانصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے، وہ بھی سر اسر باطل ہے۔ کیوں کہ انسانی زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہوجائے تو یہ دنیا بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انانیت پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس باکمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے۔ دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہوجائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہوجائے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات پر قائم ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہوں گے جنھوںنے امتحان کے زمانہ میں اپنے کو خدا کے حوالے کیا تھا، جو کسی دباؤ کے بغیر اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے آگے ہمہ تن جھک جانے والے تھے۔

الأنعام 6:74

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔ رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔ کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

الأنعام 6:75

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔ رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔ کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

الأنعام 6:76

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔ رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔ کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

الأنعام 6:77

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔ رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔ کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

الأنعام 6:78

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔ رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔ کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

الأنعام 6:79

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔ رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔ کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

الأنعام 6:80

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔ اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔ ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔

الأنعام 6:81

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔ اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔ ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔

الأنعام 6:82

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔ اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔ ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔

الأنعام 6:83

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔ اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔ ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔

الأنعام 6:84

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:85

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:86

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:87

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:88

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:89

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:90

’’فضیلت‘‘ کسی کانسلی یا قومی لقب نہیں۔ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقّق صرف ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، شرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور ’’بلامعاوضہ نصیحت‘‘ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کرلیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتاہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتاہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لیے ہو یا عام انسانوں کے لیے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتاہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوتِ حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہوچکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچا رہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم نهيں چلا سکتے ہیں۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر کبھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت ’’قوم‘‘ مکہ والوں نے آپ کا انکارکردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کرديے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتی کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔

الأنعام 6:91

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مکہ کے لوگوں کے سامنے آئی تو ان کے کچھ لوگوں نے بعض یہود سے پوچھا کہ تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا محمد پر واقعی خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ یہود نے جواب دیا ’’خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے‘‘۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب ہے۔ کیوں کہ یہود تو خود نبیوں کو ماننے والے تھے، اور اس طرح گویا وہ اقرار کررہے تھے کہ بشر پر خدا کا کلام اترتا ہے۔ مگر جب آدمی مخالفت میں اندھا ہوجائے تو وہ مخالف کی تردید کے جوش میں کبھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کي تردید کرنے لگے۔ یہود کے اندر یہ ڈھٹائی اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو ورق ورق کردیا تھا۔ وہ خدا کی تعلیمات کے کچھ حصے کو سامنے لاتے اور بقیہ کو کتاب میں بند رکھتے۔ مثلاً وہ انعام والی آیتوں کو خوب سنتے سناتے اور ان آیتوں کو چھوڑ دیتے جن میں وہ اعمال بتائے گئے ہیں جن کے کرنے سے کسی کو مذکورہ انعام ملتاہے۔ وہ ایسی آیتوں کا خصوصی تذکرہ کرتے جن سے ان کی شور وغل کی سیاست کی تائید نکلتی ہو اور ان آیتوں کو نظر انداز کردیتے جن میں خاموش اصلاح کے احکام ديے گئے ہوں۔ وہ ایسی آیتوں کے درس میں بڑا اہتمام کرتے جن میں ان کے لیے لفظی موشگافیوں کا کمال دکھانے کا موقع ہو، مگر ان آیتوں سے سرسری گزر جاتے جن میں دین کے ابدی حقائق بیان كيے گئے ہیں۔وہ ایسی آیتوں کا خوب چرچا کرتے جن سے اپني فضیلت نکلتی ہو اور ان آیتوں سے بے توجہی برتتے ہیں جن سے ان کی ذمہ داریاں معلوم ہوتی ہیں۔ جو لوگ خدا کی کتاب کو اس طرح ’’ورق ورق‘‘ کریں ان کے اندر فطری طورپر ڈھٹائی آجاتی ہے۔ وہ غیر سنجیدہ بحثیں کرتے ہیں، متضاد بیانات دیتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تعاون کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ خدا کی کتاب کے ساتھ انصاف نہ کریں، وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کیسے انصاف کرسکتے ہیں۔ دین کی دعوت اصلاً لوگوں کو ہوشیار کرنے کی دعوت ہے۔ اس قسم کی دعوت خواہ کتنے ہی کامل انسان کی طرف سے پیش کی جائے وہ سننے والے کے دل میں اس وقت جگہ کرے گی جب کہ وہ اپنے سینہ میںایک اندیشہ ناک دل رکھتا ہو اورآخرت کے معاملہ کو ایک سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہو۔ سننے والے میں اگر یہ ابتدائی مادہ موجود نہ ہو تو سنانے والا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

الأنعام 6:92

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مکہ کے لوگوں کے سامنے آئی تو ان کے کچھ لوگوں نے بعض یہود سے پوچھا کہ تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا محمد پر واقعی خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ یہود نے جواب دیا ’’خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے‘‘۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب ہے۔ کیوں کہ یہود تو خود نبیوں کو ماننے والے تھے، اور اس طرح گویا وہ اقرار کررہے تھے کہ بشر پر خدا کا کلام اترتا ہے۔ مگر جب آدمی مخالفت میں اندھا ہوجائے تو وہ مخالف کی تردید کے جوش میں کبھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کي تردید کرنے لگے۔ یہود کے اندر یہ ڈھٹائی اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو ورق ورق کردیا تھا۔ وہ خدا کی تعلیمات کے کچھ حصے کو سامنے لاتے اور بقیہ کو کتاب میں بند رکھتے۔ مثلاً وہ انعام والی آیتوں کو خوب سنتے سناتے اور ان آیتوں کو چھوڑ دیتے جن میں وہ اعمال بتائے گئے ہیں جن کے کرنے سے کسی کو مذکورہ انعام ملتاہے۔ وہ ایسی آیتوں کا خصوصی تذکرہ کرتے جن سے ان کی شور وغل کی سیاست کی تائید نکلتی ہو اور ان آیتوں کو نظر انداز کردیتے جن میں خاموش اصلاح کے احکام ديے گئے ہوں۔ وہ ایسی آیتوں کے درس میں بڑا اہتمام کرتے جن میں ان کے لیے لفظی موشگافیوں کا کمال دکھانے کا موقع ہو، مگر ان آیتوں سے سرسری گزر جاتے جن میں دین کے ابدی حقائق بیان كيے گئے ہیں۔وہ ایسی آیتوں کا خوب چرچا کرتے جن سے اپني فضیلت نکلتی ہو اور ان آیتوں سے بے توجہی برتتے ہیں جن سے ان کی ذمہ داریاں معلوم ہوتی ہیں۔ جو لوگ خدا کی کتاب کو اس طرح ’’ورق ورق‘‘ کریں ان کے اندر فطری طورپر ڈھٹائی آجاتی ہے۔ وہ غیر سنجیدہ بحثیں کرتے ہیں، متضاد بیانات دیتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تعاون کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ خدا کی کتاب کے ساتھ انصاف نہ کریں، وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کیسے انصاف کرسکتے ہیں۔ دین کی دعوت اصلاً لوگوں کو ہوشیار کرنے کی دعوت ہے۔ اس قسم کی دعوت خواہ کتنے ہی کامل انسان کی طرف سے پیش کی جائے وہ سننے والے کے دل میں اس وقت جگہ کرے گی جب کہ وہ اپنے سینہ میںایک اندیشہ ناک دل رکھتا ہو اورآخرت کے معاملہ کو ایک سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہو۔ سننے والے میں اگر یہ ابتدائی مادہ موجود نہ ہو تو سنانے والا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

الأنعام 6:93

اللہ جب اپنے کسی بندے کو اپنی پکار بلند کرنے کے لیے کھڑا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اس کو خصوصی توفیق بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے کردار میں خوفِ آخرت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں خدائی استدلال کی طاقت نظر آتی ہے ۔ بے پناہ مخالفتوں کے باوجود وه اپنے پیغام رسانی کے عمل کو اعلیٰ ترین شکل میں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی زمین پر خدا کی نشانی ہوتا ہے۔ مگر جن کی نگاہیں دنیوی عظمت کی چیزوں میں گم ہوں وہ آخرت کے داعی کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ حتی کہ ان کے مادی پیمانہ میں ان کی اپنی ذات برتر اور اللہ کے داعی کی ذات کم تر دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کو تکبر میں مبتلا کردیتی ہے اور جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائیں ان سے کوئی بھی نامعقول رویہ مستبعد نہیں رہتا۔ حتی کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کلام تخلیق کرسکتے ہیں جیسا کلام خدا کی طرف سے کسی بندہ پر اترتا ہے — وہ خدا کو طلسماتی نشانیوں ميں دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ بشری نشانیوں میں ظاہر ہونے والے خدا کو پہچان نہیں پاتے۔ یہ تکبر جو کسی آدمی کے اندر پیداہوتا ہے وہ اس دنیوی حیثیت اور مادی سامان کی بنا پر ہوتا ہے جو اس کو دنیا میں ملا ہوا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے حاصل ہے وہ محض آزمائش کے لیے اور متعین مدت تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی اچانک یہ تمام چیزیں چھن جائیں گی۔ اس کے بعد ہر آدمی اپنی زندگی کے اس مرحلہ میں پہنچ جاتاہے، جہاں نہ اس کی دولت ہوگی اور نہ اس کی حیثیت، جہاں نہ اس کے ساتھي ہوں گے اور نہ اس کے سفارشی۔ وہ ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ دنیا میں اس کو جن چیزوں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی اس دن اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے موجود نہ ہوگی۔ دنیا میں ہر آدمی الفاظ کے طلسم میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حسبِ حال ایسے الفاظ تلاش کرلیتا ہے جس میں اس کا وجود بالکل برحق دکھائی دے، اس کا راستہ سیدھا منزل کی طرف جاتاہوا نظر آئے۔ مگر آخرت کا انقلاب جب حقیقتوں کے پردے پھاڑ دے گا تو لوگوں کے یہ الفاظ اس قدر بے معنی ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:94

اللہ جب اپنے کسی بندے کو اپنی پکار بلند کرنے کے لیے کھڑا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اس کو خصوصی توفیق بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے کردار میں خوفِ آخرت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں خدائی استدلال کی طاقت نظر آتی ہے ۔ بے پناہ مخالفتوں کے باوجود وه اپنے پیغام رسانی کے عمل کو اعلیٰ ترین شکل میں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی زمین پر خدا کی نشانی ہوتا ہے۔ مگر جن کی نگاہیں دنیوی عظمت کی چیزوں میں گم ہوں وہ آخرت کے داعی کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ حتی کہ ان کے مادی پیمانہ میں ان کی اپنی ذات برتر اور اللہ کے داعی کی ذات کم تر دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کو تکبر میں مبتلا کردیتی ہے اور جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائیں ان سے کوئی بھی نامعقول رویہ مستبعد نہیں رہتا۔ حتی کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کلام تخلیق کرسکتے ہیں جیسا کلام خدا کی طرف سے کسی بندہ پر اترتا ہے — وہ خدا کو طلسماتی نشانیوں ميں دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ بشری نشانیوں میں ظاہر ہونے والے خدا کو پہچان نہیں پاتے۔ یہ تکبر جو کسی آدمی کے اندر پیداہوتا ہے وہ اس دنیوی حیثیت اور مادی سامان کی بنا پر ہوتا ہے جو اس کو دنیا میں ملا ہوا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے حاصل ہے وہ محض آزمائش کے لیے اور متعین مدت تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی اچانک یہ تمام چیزیں چھن جائیں گی۔ اس کے بعد ہر آدمی اپنی زندگی کے اس مرحلہ میں پہنچ جاتاہے، جہاں نہ اس کی دولت ہوگی اور نہ اس کی حیثیت، جہاں نہ اس کے ساتھي ہوں گے اور نہ اس کے سفارشی۔ وہ ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ دنیا میں اس کو جن چیزوں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی اس دن اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے موجود نہ ہوگی۔ دنیا میں ہر آدمی الفاظ کے طلسم میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حسبِ حال ایسے الفاظ تلاش کرلیتا ہے جس میں اس کا وجود بالکل برحق دکھائی دے، اس کا راستہ سیدھا منزل کی طرف جاتاہوا نظر آئے۔ مگر آخرت کا انقلاب جب حقیقتوں کے پردے پھاڑ دے گا تو لوگوں کے یہ الفاظ اس قدر بے معنی ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

الأنعام 6:95

انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جزء کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتاہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتاہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ بیک وقت برآمد کردیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج يا ايك ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔ سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حركت ميں هيں۔ چاند زمين سے تقریباً ڈھائي لاكھ ميل دور ره كر زمين كے گرد چكر لگا رها هے۔ اور زمين سورج سے تقريباً ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقہ سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہےجو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیداہوتے هيں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لیے اپني زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتاہے۔ یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔ خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانہ پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کرسکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود ناممکن ہوجائے۔ خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے، نہ کہ کسی ہتھوڑے کا۔ اس لیے دلیل کو ماننا کسی کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طورپر اس کے لیے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا، خواہ وه اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف۔

الأنعام 6:96

انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جزء کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتاہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتاہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ بیک وقت برآمد کردیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج يا ايك ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔ سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حركت ميں هيں۔ چاند زمين سے تقریباً ڈھائي لاكھ ميل دور ره كر زمين كے گرد چكر لگا رها هے۔ اور زمين سورج سے تقريباً ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقہ سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہےجو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیداہوتے هيں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لیے اپني زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتاہے۔ یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔ خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانہ پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کرسکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود ناممکن ہوجائے۔ خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے، نہ کہ کسی ہتھوڑے کا۔ اس لیے دلیل کو ماننا کسی کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طورپر اس کے لیے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا، خواہ وه اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف۔

الأنعام 6:97

انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جزء کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتاہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتاہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ بیک وقت برآمد کردیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج يا ايك ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔ سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حركت ميں هيں۔ چاند زمين سے تقریباً ڈھائي لاكھ ميل دور ره كر زمين كے گرد چكر لگا رها هے۔ اور زمين سورج سے تقريباً ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقہ سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہےجو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیداہوتے هيں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لیے اپني زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتاہے۔ یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔ خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانہ پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کرسکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود ناممکن ہوجائے۔ خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے، نہ کہ کسی ہتھوڑے کا۔ اس لیے دلیل کو ماننا کسی کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طورپر اس کے لیے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا، خواہ وه اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف۔

الأنعام 6:98

انسانی کارخانے اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک ایسی مشین بنادیں کہ اس کے بطن سے اسی قسم کی بے شمار مشینیں خود بخود نکلتی چلی جائیں۔ ہمارے کارخانوں کو ہر مشین الگ الگ بنانی پڑتی ہے۔ مگر خدا کے کارخانہ میں یہ واقعہ ہر روز ہورہا ہے۔ درخت کا ایک بیج بودیا جاتاہے۔ پھر اس بیج سے بے شمار درخت نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ایک مرد اور ایک عورت سے شروع ہو کر کھرب ہا کھرب انسان پیدا ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ جس خدانے کائنات کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت بے حد وسیع ہے۔ وہ اس نادر تخلیق پر قادر ہے کہ ایک ابتدائی چیز وجود میں لائے اور پھر اس کے اندر سے بے حساب گنا زیادہ بڑی بڑی چیزیں مسلسل نکلتی چلی جائیں۔ اسی طرح خدا موجودہ دنیا سے ایک زیادہ شاندار اور زیادہ معیاری دنیا نکال سکتا ہے۔ آخرت کا عقیدہ کوئی دور کا عقیدہ نہیں بلکہ جس امکان کو ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں اسی امکان کو مستقبل کے ایک واقعہ کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے۔ مٹی بظاہر ایک مُردہ اور جامد چیز ہے۔ پھر اس کے اوپر بارش ہوتی ہے۔ پانی پاتے ہی مٹی کے اندر سے ایک نئی سر سبز دنیا نکل آتی ہے۔ اس کے اندر سے طرح طرح کی فصلیں اور قسم قسم کے پھل دار درخت وجود میںآجاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دنیا کی ایک تمثیل ہے۔ مٹی پر پانی پڑنے سے زمین کے اوپر رنگ اور خوشبو اور ذائقہ کا ایک سر سبز وشاداب چمن کھل اٹھنا اُس امکان کو بتاتا ہے جو دنیا کے خالق نے یہاں رکھ دیا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان جو نیک عمل کرتاہے وہ اسی قسم کا ایک امکان ہے۔ جب خداکی رحمتوں کی بارش ہوگی تو یہ امکان ہرا بھرا ہو کر آخرت کی لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں تبدیل ہوجائے گا۔ انسان اولاً ماں کے بطن کے سپرد ہوتاہے پھر موجودہ دنیا میں آتاہے۔ قبربھی گویا اسی قسم کا ایک ’’بطن‘‘ ہے۔ آدمی قبر کے سپرد کیاجاتاہے اور اس کے بعد وہ اگلی دنیامیں آنکھ کھولتا ہے تاکہ اپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کردیا جائے — انسان سے غیب کی جس دنیا کو ماننے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کی جھلکیاں اور اس کے دلائل موجودہ محسوس کائنات میں پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مانتا وہی ہے جو پہلے سے ماننے کے لیے تیار ہو۔ ’’ایمان‘‘ کی راہ میں آدمی جب آدھا سفر طے کرچکا ہوتا ہے اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایمان کی دعوت اس کے ذہن کا جزء بنے اور وہ اس کو قبول کرلے۔ جو شخص ایمان کے الٹے رخ پر سفر کررہا ہو اس کو ایمان کی دعوت کبھی نفع نہیں پہنچا سکتی۔

الأنعام 6:99

انسانی کارخانے اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک ایسی مشین بنادیں کہ اس کے بطن سے اسی قسم کی بے شمار مشینیں خود بخود نکلتی چلی جائیں۔ ہمارے کارخانوں کو ہر مشین الگ الگ بنانی پڑتی ہے۔ مگر خدا کے کارخانہ میں یہ واقعہ ہر روز ہورہا ہے۔ درخت کا ایک بیج بودیا جاتاہے۔ پھر اس بیج سے بے شمار درخت نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ایک مرد اور ایک عورت سے شروع ہو کر کھرب ہا کھرب انسان پیدا ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ جس خدانے کائنات کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت بے حد وسیع ہے۔ وہ اس نادر تخلیق پر قادر ہے کہ ایک ابتدائی چیز وجود میں لائے اور پھر اس کے اندر سے بے حساب گنا زیادہ بڑی بڑی چیزیں مسلسل نکلتی چلی جائیں۔ اسی طرح خدا موجودہ دنیا سے ایک زیادہ شاندار اور زیادہ معیاری دنیا نکال سکتا ہے۔ آخرت کا عقیدہ کوئی دور کا عقیدہ نہیں بلکہ جس امکان کو ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں اسی امکان کو مستقبل کے ایک واقعہ کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے۔ مٹی بظاہر ایک مُردہ اور جامد چیز ہے۔ پھر اس کے اوپر بارش ہوتی ہے۔ پانی پاتے ہی مٹی کے اندر سے ایک نئی سر سبز دنیا نکل آتی ہے۔ اس کے اندر سے طرح طرح کی فصلیں اور قسم قسم کے پھل دار درخت وجود میںآجاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دنیا کی ایک تمثیل ہے۔ مٹی پر پانی پڑنے سے زمین کے اوپر رنگ اور خوشبو اور ذائقہ کا ایک سر سبز وشاداب چمن کھل اٹھنا اُس امکان کو بتاتا ہے جو دنیا کے خالق نے یہاں رکھ دیا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان جو نیک عمل کرتاہے وہ اسی قسم کا ایک امکان ہے۔ جب خداکی رحمتوں کی بارش ہوگی تو یہ امکان ہرا بھرا ہو کر آخرت کی لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں تبدیل ہوجائے گا۔ انسان اولاً ماں کے بطن کے سپرد ہوتاہے پھر موجودہ دنیا میں آتاہے۔ قبربھی گویا اسی قسم کا ایک ’’بطن‘‘ ہے۔ آدمی قبر کے سپرد کیاجاتاہے اور اس کے بعد وہ اگلی دنیامیں آنکھ کھولتا ہے تاکہ اپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کردیا جائے — انسان سے غیب کی جس دنیا کو ماننے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کی جھلکیاں اور اس کے دلائل موجودہ محسوس کائنات میں پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مانتا وہی ہے جو پہلے سے ماننے کے لیے تیار ہو۔ ’’ایمان‘‘ کی راہ میں آدمی جب آدھا سفر طے کرچکا ہوتا ہے اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایمان کی دعوت اس کے ذہن کا جزء بنے اور وہ اس کو قبول کرلے۔ جو شخص ایمان کے الٹے رخ پر سفر کررہا ہو اس کو ایمان کی دعوت کبھی نفع نہیں پہنچا سکتی۔

الأنعام 6:100

قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔ ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔ انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔

الأنعام 6:101

قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔ ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔ انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔

الأنعام 6:102

قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔ ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔ انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔

الأنعام 6:103

قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔ ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔ انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔

الأنعام 6:104

قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔ ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔ انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔

الأنعام 6:105

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔ جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔ آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

الأنعام 6:106

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔ جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔ آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

الأنعام 6:107

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔ جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔ آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

الأنعام 6:108

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔ جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔ آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

الأنعام 6:109

حق ایک شخص کے سامنے دلائل کے ساتھ آتا ہے اور وہ اس کا انکار کردیتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ بات کو ا س کے صحیح رخ سے دیکھنے کے بجائے الٹے رخ سے دیکھنا۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی مدلّل ہو، آدمی اگر اس کو ماننا نه چاہے تو وہ اس کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ پالے گا۔ مثلاً داعی کے دلائل کو دلائل کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے وہ یہ بحث چھیڑ دے گا کہ تمھارے سوا جو دوسرے بزرگ ہیں کیا وہ سب حق سے محروم تھے، اور اسی طرح دوسری باتیں۔ جس آدمی کے اندراس قسم کا مزاج ہو اس کا راہ راست پر آنا انتہائی مشکل ہے۔ وہ ہر بات کو غلط رخ دے کر اس کے انکار کا ایک بہانہ تلاش کرسکتا ہے۔ نظري دلائل کو رد کرنے کے ليے اگر اس کو یہ الفاظ مل رہے تھے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف ہے تو حسی مشاہدہ کو رد کرنے کے ليے وہ الفاظ پالے گا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے۔ اس کی حقیقت ایک فرضی طلسم کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو مزاج نظری دلیل کو ماننے میں رکاوٹ بنا تھا وہی مزاج حسی دلیل کو ماننے میں بھی رکاوٹ بن جائے گا۔ آدمی اب بھی اسی طرح محروم رہے گا جیسے وہ پہلے محروم تھا۔ اس قسم کے لوگ اپنی نفسیات کے اعتبار سے سرکش واقع ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے کو اونچا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک داعی جب ان کے سامنے حق کا پیغام لے كر آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اجنبی ہوتا ہے، وہ وقت کی عظمتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا اپنی حیثیت کو نیچے گرانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس لیے برتری کی نفسیات رکھنے والے لوگ اس کو قبول نہیں کرپاتے۔ وہ طرح طرح کی توجیہات پیش کرکے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ دانائی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کو مانے اور اس کے مطابق اپنے ذہن کو چلانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے برعکس، نادانی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کے بجائے خود ساختہ معیار قائم کرے اور کہے کہ جو چیز مجھ کو اس معیار پر ملے گی میں اس کو مانوں گا اور جو چیز اس معیا رپر نہیں ملے گی ،اس کو نہیں مانوں گا۔ ایسے آدمی کے لیے اس دنیا میں صرف بھٹکناہے۔ خدا کی اس دنیا میں آدمی خدا کے مقرر كيے ہوئے طریقوں کی پیروی کرکے منزل تک پہنچ سکتا ہے، نہ کہ اس کے مقررہ طریقہ کو چھوڑ کر۔

الأنعام 6:110

حق ایک شخص کے سامنے دلائل کے ساتھ آتا ہے اور وہ اس کا انکار کردیتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ بات کو ا س کے صحیح رخ سے دیکھنے کے بجائے الٹے رخ سے دیکھنا۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی مدلّل ہو، آدمی اگر اس کو ماننا نه چاہے تو وہ اس کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ پالے گا۔ مثلاً داعی کے دلائل کو دلائل کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے وہ یہ بحث چھیڑ دے گا کہ تمھارے سوا جو دوسرے بزرگ ہیں کیا وہ سب حق سے محروم تھے، اور اسی طرح دوسری باتیں۔ جس آدمی کے اندراس قسم کا مزاج ہو اس کا راہ راست پر آنا انتہائی مشکل ہے۔ وہ ہر بات کو غلط رخ دے کر اس کے انکار کا ایک بہانہ تلاش کرسکتا ہے۔ نظري دلائل کو رد کرنے کے ليے اگر اس کو یہ الفاظ مل رہے تھے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف ہے تو حسی مشاہدہ کو رد کرنے کے ليے وہ الفاظ پالے گا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے۔ اس کی حقیقت ایک فرضی طلسم کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو مزاج نظری دلیل کو ماننے میں رکاوٹ بنا تھا وہی مزاج حسی دلیل کو ماننے میں بھی رکاوٹ بن جائے گا۔ آدمی اب بھی اسی طرح محروم رہے گا جیسے وہ پہلے محروم تھا۔ اس قسم کے لوگ اپنی نفسیات کے اعتبار سے سرکش واقع ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے کو اونچا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک داعی جب ان کے سامنے حق کا پیغام لے كر آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اجنبی ہوتا ہے، وہ وقت کی عظمتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا اپنی حیثیت کو نیچے گرانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس لیے برتری کی نفسیات رکھنے والے لوگ اس کو قبول نہیں کرپاتے۔ وہ طرح طرح کی توجیہات پیش کرکے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ دانائی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کو مانے اور اس کے مطابق اپنے ذہن کو چلانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے برعکس، نادانی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کے بجائے خود ساختہ معیار قائم کرے اور کہے کہ جو چیز مجھ کو اس معیار پر ملے گی میں اس کو مانوں گا اور جو چیز اس معیا رپر نہیں ملے گی ،اس کو نہیں مانوں گا۔ ایسے آدمی کے لیے اس دنیا میں صرف بھٹکناہے۔ خدا کی اس دنیا میں آدمی خدا کے مقرر كيے ہوئے طریقوں کی پیروی کرکے منزل تک پہنچ سکتا ہے، نہ کہ اس کے مقررہ طریقہ کو چھوڑ کر۔

الأنعام 6:111

حق ایک شخص کے سامنے دلائل کے ساتھ آتا ہے اور وہ اس کا انکار کردیتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ بات کو ا س کے صحیح رخ سے دیکھنے کے بجائے الٹے رخ سے دیکھنا۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی مدلّل ہو، آدمی اگر اس کو ماننا نه چاہے تو وہ اس کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ پالے گا۔ مثلاً داعی کے دلائل کو دلائل کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے وہ یہ بحث چھیڑ دے گا کہ تمھارے سوا جو دوسرے بزرگ ہیں کیا وہ سب حق سے محروم تھے، اور اسی طرح دوسری باتیں۔ جس آدمی کے اندراس قسم کا مزاج ہو اس کا راہ راست پر آنا انتہائی مشکل ہے۔ وہ ہر بات کو غلط رخ دے کر اس کے انکار کا ایک بہانہ تلاش کرسکتا ہے۔ نظري دلائل کو رد کرنے کے ليے اگر اس کو یہ الفاظ مل رہے تھے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف ہے تو حسی مشاہدہ کو رد کرنے کے ليے وہ الفاظ پالے گا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے۔ اس کی حقیقت ایک فرضی طلسم کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو مزاج نظری دلیل کو ماننے میں رکاوٹ بنا تھا وہی مزاج حسی دلیل کو ماننے میں بھی رکاوٹ بن جائے گا۔ آدمی اب بھی اسی طرح محروم رہے گا جیسے وہ پہلے محروم تھا۔ اس قسم کے لوگ اپنی نفسیات کے اعتبار سے سرکش واقع ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے کو اونچا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک داعی جب ان کے سامنے حق کا پیغام لے كر آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اجنبی ہوتا ہے، وہ وقت کی عظمتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا اپنی حیثیت کو نیچے گرانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس لیے برتری کی نفسیات رکھنے والے لوگ اس کو قبول نہیں کرپاتے۔ وہ طرح طرح کی توجیہات پیش کرکے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ دانائی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کو مانے اور اس کے مطابق اپنے ذہن کو چلانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے برعکس، نادانی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کے بجائے خود ساختہ معیار قائم کرے اور کہے کہ جو چیز مجھ کو اس معیار پر ملے گی میں اس کو مانوں گا اور جو چیز اس معیا رپر نہیں ملے گی ،اس کو نہیں مانوں گا۔ ایسے آدمی کے لیے اس دنیا میں صرف بھٹکناہے۔ خدا کی اس دنیا میں آدمی خدا کے مقرر كيے ہوئے طریقوں کی پیروی کرکے منزل تک پہنچ سکتا ہے، نہ کہ اس کے مقررہ طریقہ کو چھوڑ کر۔

الأنعام 6:112

ابن جریر نے حضرت ابو ذ ر سے نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہوا۔ یہ ایک لمبی مجلس تھی۔ آپ نے فرمایا اے ابو ذر، کیا تم نے نماز پڑھ لی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔ وہ نماز پڑھ کر دوبارہ مجلس میں آکر بیٹھے تو آپ نے فرمایااے ابو ذر کیا تم نے جن وانس کے شیطانوں کے مقابلہ میں اللہ سے پناہ مانگی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایاہاں، وہ شیاطینِ جن سے بھی زیادہ برے ہیں (نَعَمْ، هُمْ شَرٌّ مِنْ شَيَاطِينِ الْجِنِّ )تفسیر ابن جریر الطبری، جلد 9، صفحہ 500 یہاں شیاطین انس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کو بے اعتبار ثابت کرنے کے ليے قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر عزت ومقبولیت کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حق کی دعوت اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کو برہنہ کررہی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے سیدھا راستہ تو یہ تھا کہ وہ حق کی وضاحت کے بعد اس کو مان لیں مگر حق کے مقابلہ میں اپنا مقام ان کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت کو بچانے کے لیے وہ خود داعی اور اس کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ خوش نما الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ داعی اور اس کی دعوت میںایسے شوشے نکالتے ہیں جو اگرچہ بذاتِ خود بے حقیقت ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو کر اس کے بارے میں شبه ميں پڑجاتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو امتحانی حالات پیدا كيے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں صحیح بات کہنے والے کو بھی الفاظ مل جاتے ہیں اور غلط بات کہنے والے کو بھی۔ حق کا داعی اگر حق کو دلائل کی زبان میں بیان کرسکتا ہے تو اسی کے ساتھ باطل پرستوں کو بھی یہ موقع حاصل ہے کہ وہ حق کے خلاف کچھ ایسے خوش نما الفاظ بول سکیں جو لوگوں کو دلیل معلوم ہوں اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔ یہ صورت حال امتحان کی غرض سے ہے اس ليے وہ لازماً قیامت تک باقی رہے گی۔ اس دنیا میں بہر حال آدمی کو اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ سچے دلائل اور بے بنیاد باتوں کے درمیان فرق کرے اور بے بنیاد باتوں کو رد کرکے سچے دلائل کو قبول کرلے۔ شیاطینِ انس اپنی ذہانت سے حق کے خلاف جو پُرفریب شوشے نکالتے ہیں وہ انھیں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو آخرت کے فکر سے خالی ہوں۔ آخرت کا اندیشہ آدمی کو انتہائی سنجیدہ بنادیتا ہے اور جو شخص سنجیدہ ہو اس سے باتوں کی حقیقت کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو لوگ آخرت کے اندیشہ سے خالی ہوں وہ حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اسی لیے وہ شوشہ اور دلیل کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتے۔