Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — يوسف 12:1 – إبراهيم 14:52
Contents
- يوسف 12:1
- يوسف 12:2
- يوسف 12:3
- يوسف 12:4
- يوسف 12:5
- يوسف 12:6
- يوسف 12:7
- يوسف 12:8
- يوسف 12:9
- يوسف 12:10
- يوسف 12:11
- يوسف 12:12
- يوسف 12:13
- يوسف 12:14
- يوسف 12:15
- يوسف 12:16
- يوسف 12:17
- يوسف 12:18
- يوسف 12:19
- يوسف 12:20
- يوسف 12:21
- يوسف 12:22
- يوسف 12:23
- يوسف 12:24
- يوسف 12:25
- يوسف 12:26
- يوسف 12:27
- يوسف 12:28
- يوسف 12:29
- يوسف 12:30
- يوسف 12:31
- يوسف 12:32
- يوسف 12:33
- يوسف 12:34
- يوسف 12:35
- يوسف 12:36
- يوسف 12:37
- يوسف 12:38
- يوسف 12:39
- يوسف 12:40
- يوسف 12:41
- يوسف 12:42
- يوسف 12:43
- يوسف 12:44
- يوسف 12:45
- يوسف 12:46
- يوسف 12:47
- يوسف 12:48
- يوسف 12:49
- يوسف 12:50
- يوسف 12:51
- يوسف 12:52
- يوسف 12:53
- يوسف 12:54
- يوسف 12:55
- يوسف 12:56
- يوسف 12:57
- يوسف 12:58
- يوسف 12:59
- يوسف 12:60
- يوسف 12:61
- يوسف 12:62
- يوسف 12:63
- يوسف 12:64
- يوسف 12:65
- يوسف 12:66
- يوسف 12:67
- يوسف 12:68
- يوسف 12:69
- يوسف 12:70
- يوسف 12:71
- يوسف 12:72
- يوسف 12:73
- يوسف 12:74
- يوسف 12:75
- يوسف 12:76
- يوسف 12:77
- يوسف 12:78
- يوسف 12:79
- يوسف 12:80
- يوسف 12:81
- يوسف 12:82
- يوسف 12:83
- يوسف 12:84
- يوسف 12:85
- يوسف 12:86
- يوسف 12:87
- يوسف 12:88
- يوسف 12:89
- يوسف 12:90
- يوسف 12:91
- يوسف 12:92
- يوسف 12:93
- يوسف 12:94
- يوسف 12:95
- يوسف 12:96
- يوسف 12:97
- يوسف 12:98
- يوسف 12:99
- يوسف 12:100
- يوسف 12:101
- يوسف 12:102
- يوسف 12:103
- يوسف 12:104
- يوسف 12:105
- يوسف 12:106
- يوسف 12:107
- يوسف 12:108
- يوسف 12:109
- يوسف 12:110
- يوسف 12:111
- الرعد 13:1
- الرعد 13:2
- الرعد 13:3
- الرعد 13:4
- الرعد 13:5
- الرعد 13:6
- الرعد 13:7
- الرعد 13:8
- الرعد 13:9
- الرعد 13:10
- الرعد 13:11
- الرعد 13:12
- الرعد 13:13
- الرعد 13:14
- الرعد 13:15
- الرعد 13:16
- الرعد 13:17
- الرعد 13:18
- الرعد 13:19
- الرعد 13:20
- الرعد 13:21
- الرعد 13:22
- الرعد 13:23
- الرعد 13:24
- الرعد 13:25
- الرعد 13:26
- الرعد 13:27
- الرعد 13:28
- الرعد 13:29
- الرعد 13:30
- الرعد 13:31
- الرعد 13:32
- الرعد 13:33
- الرعد 13:34
- الرعد 13:35
- الرعد 13:36
- الرعد 13:37
- الرعد 13:38
- الرعد 13:39
- الرعد 13:40
- الرعد 13:41
- الرعد 13:42
- الرعد 13:43
- إبراهيم 14:1
- إبراهيم 14:2
- إبراهيم 14:3
- إبراهيم 14:4
- إبراهيم 14:5
- إبراهيم 14:6
- إبراهيم 14:7
- إبراهيم 14:8
- إبراهيم 14:9
- إبراهيم 14:10
- إبراهيم 14:11
- إبراهيم 14:12
- إبراهيم 14:13
- إبراهيم 14:14
- إبراهيم 14:15
- إبراهيم 14:16
- إبراهيم 14:17
- إبراهيم 14:18
- إبراهيم 14:19
- إبراهيم 14:20
- إبراهيم 14:21
- إبراهيم 14:22
- إبراهيم 14:23
- إبراهيم 14:24
- إبراهيم 14:25
- إبراهيم 14:26
- إبراهيم 14:27
- إبراهيم 14:28
- إبراهيم 14:29
- إبراهيم 14:30
- إبراهيم 14:31
- إبراهيم 14:32
- إبراهيم 14:33
- إبراهيم 14:34
- إبراهيم 14:35
- إبراهيم 14:36
- إبراهيم 14:37
- إبراهيم 14:38
- إبراهيم 14:39
- إبراهيم 14:40
- إبراهيم 14:41
- إبراهيم 14:42
- إبراهيم 14:43
- إبراهيم 14:44
- إبراهيم 14:45
- إبراهيم 14:46
- إبراهيم 14:47
- إبراهيم 14:48
- إبراهيم 14:49
- إبراهيم 14:50
- إبراهيم 14:51
- إبراهيم 14:52
يوسف 12:1
قرآن اگرچہ ساری دنیا کی ہدایت کے لیے آیاہے۔ تاہم اس کے مخاطبِ اوّل عرب تھے۔ اس لیے وہ عربی زبان میں اترا۔ اب اس پر ایمان لانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو ہر زبان میں منتقل کریں۔ اور ا س کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔
قرآن کی تعلیمات قرآن میں مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کی گئی ہیں۔ کہیں وہ کائناتی استدلال کی زبان میں ہیں، کہیں انذار اور تبشیر کی زبان میں اور کہیں تاریخ کی زبان میں۔ سورہ یوسف میں یہ پیغام حضرت یوسف کے قصہ کی شکل میں سامنے لاياگیا ہے۔ اس سورہ میں اہل ایمان کو ایک پیغمبر کی سرگزشت کی صورت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ حق کے لیے اٹھنے والوں کی مدد کرتاہے۔ اور مخالفین کی تمام سازشوں کے باوجود بالآخر ان کو کامیاب کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اہلِ ایمان کہ اندر تقویٰ اور صبر کی صفت موجود ہو۔ یعنی وہ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ہر حال میں حق کے راستے پر جمے رہیں۔
يوسف 12:2
قرآن اگرچہ ساری دنیا کی ہدایت کے لیے آیاہے۔ تاہم اس کے مخاطبِ اوّل عرب تھے۔ اس لیے وہ عربی زبان میں اترا۔ اب اس پر ایمان لانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو ہر زبان میں منتقل کریں۔ اور ا س کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔
قرآن کی تعلیمات قرآن میں مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کی گئی ہیں۔ کہیں وہ کائناتی استدلال کی زبان میں ہیں، کہیں انذار اور تبشیر کی زبان میں اور کہیں تاریخ کی زبان میں۔ سورہ یوسف میں یہ پیغام حضرت یوسف کے قصہ کی شکل میں سامنے لاياگیا ہے۔ اس سورہ میں اہل ایمان کو ایک پیغمبر کی سرگزشت کی صورت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ حق کے لیے اٹھنے والوں کی مدد کرتاہے۔ اور مخالفین کی تمام سازشوں کے باوجود بالآخر ان کو کامیاب کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اہلِ ایمان کہ اندر تقویٰ اور صبر کی صفت موجود ہو۔ یعنی وہ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ہر حال میں حق کے راستے پر جمے رہیں۔
يوسف 12:3
قرآن اگرچہ ساری دنیا کی ہدایت کے لیے آیاہے۔ تاہم اس کے مخاطبِ اوّل عرب تھے۔ اس لیے وہ عربی زبان میں اترا۔ اب اس پر ایمان لانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو ہر زبان میں منتقل کریں۔ اور ا س کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔
قرآن کی تعلیمات قرآن میں مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کی گئی ہیں۔ کہیں وہ کائناتی استدلال کی زبان میں ہیں، کہیں انذار اور تبشیر کی زبان میں اور کہیں تاریخ کی زبان میں۔ سورہ یوسف میں یہ پیغام حضرت یوسف کے قصہ کی شکل میں سامنے لاياگیا ہے۔ اس سورہ میں اہل ایمان کو ایک پیغمبر کی سرگزشت کی صورت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ حق کے لیے اٹھنے والوں کی مدد کرتاہے۔ اور مخالفین کی تمام سازشوں کے باوجود بالآخر ان کو کامیاب کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اہلِ ایمان کہ اندر تقویٰ اور صبر کی صفت موجود ہو۔ یعنی وہ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ہر حال میں حق کے راستے پر جمے رہیں۔
يوسف 12:4
حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔
حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔
حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔
کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔
یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔
يوسف 12:5
حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔
حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔
حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔
کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔
یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔
يوسف 12:6
حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔
حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔
حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔
کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔
یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔
يوسف 12:7
مکہ کے آخری دنوں میں جب کہ ابو طالب اور حضرت خدیجہ کا انتقال ہوچکا تھا مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت تیز تر کردی۔ اس زمانہ میں مکہ کے بعض لوگوں نے آپ سے حضرت یوسف کا حال پوچھا جن کا نام انھوں نے اسفار کے دوران بعض یہودیوں سے سنا تھا۔ یہ سوال اگرچہ انھوں نے تمسخر کی غرض سے کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو خود پوچھنے والوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس قصہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر انھیں بتایا گیا ہے کہ تم لوگ وہ ہو جن کے حصہ میں یوسف کے بھائیوں کا کردار آیاہے۔ جب کہ پیغمبر کا انجام خدا کی رحمت سے وہ ہونے والا ہے جو یوسف کا مصر میں ہوا۔
حضرت یعقوب دیکھ رہے تھے کہ ان کی اولاد میں سب سے زیادہ لائق اور صالح حضرت یوسف ہیں۔ ان کے اندر انھیں مستقبل کے نبی کی شخصیت دکھائی دیتی تھی۔ اس بنا پر ان کو حضرت یوسف سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ مگر آپ کے دس صاحب زادے معاملہ کودنیوی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ باپ کی نظر میں سب سے زیادہ اہم چیز ان کا جتھا ہونا چاہیے۔ کیوں کہ وہی اس قابل ہے کہ خاندان کی مدد اور حمایت کرسکے۔ ان کا یہ یک طرفہ نقطہ نظر یہاںتک پہنچا کہ انھوں نے سوچا کہ یوسف کو میدان سے ہٹا دیں تو باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہو جائے گی۔
وہ لوگ جب حضرت یوسف کے خلاف منصوبہ بنانے بیٹھے تو ان کے ایک بھائی (یہودا) نے یہ تجویز پیش کی کہ یوسف کو قتل کرنے کے بجائے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انتظام تھا۔ اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی گروہ جب ناحق کسی بندے کے درپے ہوجاتا ہے تو خود اس گروہ میں سے ایک ایسا شخص نکلتا ہے جو اپنے لوگوں کو کسی ایسی معتدل تدبیر پر راضی کرلے جس کے اندر سے اس بندۂ خداکے لیے نیا امکان کھل جائے۔
يوسف 12:8
مکہ کے آخری دنوں میں جب کہ ابو طالب اور حضرت خدیجہ کا انتقال ہوچکا تھا مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت تیز تر کردی۔ اس زمانہ میں مکہ کے بعض لوگوں نے آپ سے حضرت یوسف کا حال پوچھا جن کا نام انھوں نے اسفار کے دوران بعض یہودیوں سے سنا تھا۔ یہ سوال اگرچہ انھوں نے تمسخر کی غرض سے کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو خود پوچھنے والوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس قصہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر انھیں بتایا گیا ہے کہ تم لوگ وہ ہو جن کے حصہ میں یوسف کے بھائیوں کا کردار آیاہے۔ جب کہ پیغمبر کا انجام خدا کی رحمت سے وہ ہونے والا ہے جو یوسف کا مصر میں ہوا۔
حضرت یعقوب دیکھ رہے تھے کہ ان کی اولاد میں سب سے زیادہ لائق اور صالح حضرت یوسف ہیں۔ ان کے اندر انھیں مستقبل کے نبی کی شخصیت دکھائی دیتی تھی۔ اس بنا پر ان کو حضرت یوسف سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ مگر آپ کے دس صاحب زادے معاملہ کودنیوی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ باپ کی نظر میں سب سے زیادہ اہم چیز ان کا جتھا ہونا چاہیے۔ کیوں کہ وہی اس قابل ہے کہ خاندان کی مدد اور حمایت کرسکے۔ ان کا یہ یک طرفہ نقطہ نظر یہاںتک پہنچا کہ انھوں نے سوچا کہ یوسف کو میدان سے ہٹا دیں تو باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہو جائے گی۔
وہ لوگ جب حضرت یوسف کے خلاف منصوبہ بنانے بیٹھے تو ان کے ایک بھائی (یہودا) نے یہ تجویز پیش کی کہ یوسف کو قتل کرنے کے بجائے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انتظام تھا۔ اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی گروہ جب ناحق کسی بندے کے درپے ہوجاتا ہے تو خود اس گروہ میں سے ایک ایسا شخص نکلتا ہے جو اپنے لوگوں کو کسی ایسی معتدل تدبیر پر راضی کرلے جس کے اندر سے اس بندۂ خداکے لیے نیا امکان کھل جائے۔
يوسف 12:9
مکہ کے آخری دنوں میں جب کہ ابو طالب اور حضرت خدیجہ کا انتقال ہوچکا تھا مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت تیز تر کردی۔ اس زمانہ میں مکہ کے بعض لوگوں نے آپ سے حضرت یوسف کا حال پوچھا جن کا نام انھوں نے اسفار کے دوران بعض یہودیوں سے سنا تھا۔ یہ سوال اگرچہ انھوں نے تمسخر کی غرض سے کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو خود پوچھنے والوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس قصہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر انھیں بتایا گیا ہے کہ تم لوگ وہ ہو جن کے حصہ میں یوسف کے بھائیوں کا کردار آیاہے۔ جب کہ پیغمبر کا انجام خدا کی رحمت سے وہ ہونے والا ہے جو یوسف کا مصر میں ہوا۔
حضرت یعقوب دیکھ رہے تھے کہ ان کی اولاد میں سب سے زیادہ لائق اور صالح حضرت یوسف ہیں۔ ان کے اندر انھیں مستقبل کے نبی کی شخصیت دکھائی دیتی تھی۔ اس بنا پر ان کو حضرت یوسف سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ مگر آپ کے دس صاحب زادے معاملہ کودنیوی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ باپ کی نظر میں سب سے زیادہ اہم چیز ان کا جتھا ہونا چاہیے۔ کیوں کہ وہی اس قابل ہے کہ خاندان کی مدد اور حمایت کرسکے۔ ان کا یہ یک طرفہ نقطہ نظر یہاںتک پہنچا کہ انھوں نے سوچا کہ یوسف کو میدان سے ہٹا دیں تو باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہو جائے گی۔
وہ لوگ جب حضرت یوسف کے خلاف منصوبہ بنانے بیٹھے تو ان کے ایک بھائی (یہودا) نے یہ تجویز پیش کی کہ یوسف کو قتل کرنے کے بجائے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انتظام تھا۔ اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی گروہ جب ناحق کسی بندے کے درپے ہوجاتا ہے تو خود اس گروہ میں سے ایک ایسا شخص نکلتا ہے جو اپنے لوگوں کو کسی ایسی معتدل تدبیر پر راضی کرلے جس کے اندر سے اس بندۂ خداکے لیے نیا امکان کھل جائے۔
يوسف 12:10
مکہ کے آخری دنوں میں جب کہ ابو طالب اور حضرت خدیجہ کا انتقال ہوچکا تھا مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت تیز تر کردی۔ اس زمانہ میں مکہ کے بعض لوگوں نے آپ سے حضرت یوسف کا حال پوچھا جن کا نام انھوں نے اسفار کے دوران بعض یہودیوں سے سنا تھا۔ یہ سوال اگرچہ انھوں نے تمسخر کی غرض سے کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو خود پوچھنے والوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس قصہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر انھیں بتایا گیا ہے کہ تم لوگ وہ ہو جن کے حصہ میں یوسف کے بھائیوں کا کردار آیاہے۔ جب کہ پیغمبر کا انجام خدا کی رحمت سے وہ ہونے والا ہے جو یوسف کا مصر میں ہوا۔
حضرت یعقوب دیکھ رہے تھے کہ ان کی اولاد میں سب سے زیادہ لائق اور صالح حضرت یوسف ہیں۔ ان کے اندر انھیں مستقبل کے نبی کی شخصیت دکھائی دیتی تھی۔ اس بنا پر ان کو حضرت یوسف سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ مگر آپ کے دس صاحب زادے معاملہ کودنیوی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ باپ کی نظر میں سب سے زیادہ اہم چیز ان کا جتھا ہونا چاہیے۔ کیوں کہ وہی اس قابل ہے کہ خاندان کی مدد اور حمایت کرسکے۔ ان کا یہ یک طرفہ نقطہ نظر یہاںتک پہنچا کہ انھوں نے سوچا کہ یوسف کو میدان سے ہٹا دیں تو باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہو جائے گی۔
وہ لوگ جب حضرت یوسف کے خلاف منصوبہ بنانے بیٹھے تو ان کے ایک بھائی (یہودا) نے یہ تجویز پیش کی کہ یوسف کو قتل کرنے کے بجائے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انتظام تھا۔ اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی گروہ جب ناحق کسی بندے کے درپے ہوجاتا ہے تو خود اس گروہ میں سے ایک ایسا شخص نکلتا ہے جو اپنے لوگوں کو کسی ایسی معتدل تدبیر پر راضی کرلے جس کے اندر سے اس بندۂ خداکے لیے نیا امکان کھل جائے۔
يوسف 12:11
حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ حالات کے مطالعہ سے انھوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ صحرامیں کھیلنے کودنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یوسف کے خلاف ان کے بھائیوں کی سازش کا معاملہ ہے۔مگر اللہ سے ڈرنے والا انسان اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتاہے۔ حضرت یعقوب نے اگر چہ اپنی فراست سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم وہ خدا کی قدرت کو ہر دوسری چیز سے اوپر سمجھتے تھے۔ ان کو خدا کی بالا دستی پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ واضح خطرات کے باوجود انھوں نے یوسف کو خدا کے بھروسہ پر ان کے بھائیوں کے حوالے کردیا۔
یہ خدا سے ڈرنے والے انسان کی تصویر تھی۔ دوسری طرف حضرت یوسف کے بھائیوں میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں۔ یہ لوگ ایک بندۂ خدا کو ناحق برباد کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں خداکے سوا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ لفظوں کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کررہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک خیر خواہ وہ ہے جو عمل کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کرے۔
يوسف 12:12
حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ حالات کے مطالعہ سے انھوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ صحرامیں کھیلنے کودنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یوسف کے خلاف ان کے بھائیوں کی سازش کا معاملہ ہے۔مگر اللہ سے ڈرنے والا انسان اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتاہے۔ حضرت یعقوب نے اگر چہ اپنی فراست سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم وہ خدا کی قدرت کو ہر دوسری چیز سے اوپر سمجھتے تھے۔ ان کو خدا کی بالا دستی پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ واضح خطرات کے باوجود انھوں نے یوسف کو خدا کے بھروسہ پر ان کے بھائیوں کے حوالے کردیا۔
یہ خدا سے ڈرنے والے انسان کی تصویر تھی۔ دوسری طرف حضرت یوسف کے بھائیوں میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں۔ یہ لوگ ایک بندۂ خدا کو ناحق برباد کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں خداکے سوا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ لفظوں کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کررہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک خیر خواہ وہ ہے جو عمل کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کرے۔
يوسف 12:13
حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ حالات کے مطالعہ سے انھوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ صحرامیں کھیلنے کودنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یوسف کے خلاف ان کے بھائیوں کی سازش کا معاملہ ہے۔مگر اللہ سے ڈرنے والا انسان اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتاہے۔ حضرت یعقوب نے اگر چہ اپنی فراست سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم وہ خدا کی قدرت کو ہر دوسری چیز سے اوپر سمجھتے تھے۔ ان کو خدا کی بالا دستی پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ واضح خطرات کے باوجود انھوں نے یوسف کو خدا کے بھروسہ پر ان کے بھائیوں کے حوالے کردیا۔
یہ خدا سے ڈرنے والے انسان کی تصویر تھی۔ دوسری طرف حضرت یوسف کے بھائیوں میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں۔ یہ لوگ ایک بندۂ خدا کو ناحق برباد کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں خداکے سوا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ لفظوں کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کررہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک خیر خواہ وہ ہے جو عمل کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کرے۔
يوسف 12:14
حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو جواب دیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ حالات کے مطالعہ سے انھوں نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ صحرامیں کھیلنے کودنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یوسف کے خلاف ان کے بھائیوں کی سازش کا معاملہ ہے۔مگر اللہ سے ڈرنے والا انسان اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتاہے۔ حضرت یعقوب نے اگر چہ اپنی فراست سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم وہ خدا کی قدرت کو ہر دوسری چیز سے اوپر سمجھتے تھے۔ ان کو خدا کی بالا دستی پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ واضح خطرات کے باوجود انھوں نے یوسف کو خدا کے بھروسہ پر ان کے بھائیوں کے حوالے کردیا۔
یہ خدا سے ڈرنے والے انسان کی تصویر تھی۔ دوسری طرف حضرت یوسف کے بھائیوں میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں۔ یہ لوگ ایک بندۂ خدا کو ناحق برباد کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں خداکے سوا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ لفظوں کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کررہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک خیر خواہ وہ ہے جو عمل کے اعتبار سے اپنے کو خیر خواہ ثابت کرے۔
يوسف 12:15
حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔
روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔
حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوںنے اپنے بیٹوں سے کہا اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد 13 ، صفحہ 36 ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔
يوسف 12:16
حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔
روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔
حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوںنے اپنے بیٹوں سے کہا اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد 13 ، صفحہ 36 ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔
يوسف 12:17
حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔
روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔
حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوںنے اپنے بیٹوں سے کہا اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد 13 ، صفحہ 36 ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔
يوسف 12:18
حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔
روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔
حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوںنے اپنے بیٹوں سے کہا اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد 13 ، صفحہ 36 ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔
يوسف 12:19
حضرت یوسف کے بھائی جب آپ کو اندھے کنویں میں ڈال کر چلے گئے تو تین دن بعد ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا جو مدین سے مصر جارہا تھا۔ قافلہ کے ایک آدمی نے پانی کی خاطر کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (جو اس وقت تقریباً 16 سال کے تھے) ڈول پکڑ کر باہر آگئے۔
یہ بردہ فروشی کا زمانہ تھا۔ اس لیے قافلہ والے خوش ہوئے کہ وہ مصر لے جاکر لڑکے کو فروخت کرسکیں گے۔ چنانچہ جب وہ مصر پہنچے تو اپنے دیگر سامانوں کے ساتھ حضرت یوسف کو بھی بازار میں رکھا۔ وہاں ایک آدمی نے ہونہار لڑکا دیکھ کر آپ کو بیس درہم میں خرید لیا۔
حضرت یوسف کے بھائی آپ کو بے وطن کرکے کنویں میں ڈال چکے تھے۔ قافلہ والوں نے غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اس کے بعد مصر کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی بیوی (زلیخا) نے آپ کو قید خانہ میں قید کرادیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان تمام مراحل کو آپ کے لیے عزّت و سربلندی تک پہنچنے کا زینہ بنا دیا — کس قدر فرق ہے علم انسانی میںاور علم خداوندی میں۔
يوسف 12:20
حضرت یوسف کے بھائی جب آپ کو اندھے کنویں میں ڈال کر چلے گئے تو تین دن بعد ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا جو مدین سے مصر جارہا تھا۔ قافلہ کے ایک آدمی نے پانی کی خاطر کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (جو اس وقت تقریباً 16 سال کے تھے) ڈول پکڑ کر باہر آگئے۔
یہ بردہ فروشی کا زمانہ تھا۔ اس لیے قافلہ والے خوش ہوئے کہ وہ مصر لے جاکر لڑکے کو فروخت کرسکیں گے۔ چنانچہ جب وہ مصر پہنچے تو اپنے دیگر سامانوں کے ساتھ حضرت یوسف کو بھی بازار میں رکھا۔ وہاں ایک آدمی نے ہونہار لڑکا دیکھ کر آپ کو بیس درہم میں خرید لیا۔
حضرت یوسف کے بھائی آپ کو بے وطن کرکے کنویں میں ڈال چکے تھے۔ قافلہ والوں نے غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اس کے بعد مصر کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی بیوی (زلیخا) نے آپ کو قید خانہ میں قید کرادیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان تمام مراحل کو آپ کے لیے عزّت و سربلندی تک پہنچنے کا زینہ بنا دیا — کس قدر فرق ہے علم انسانی میںاور علم خداوندی میں۔
يوسف 12:21
کہا جاتا ہے کہ مصری حکومت کے ایک افسر (فوطیفار) نے حضرت یوسف کو خریدا۔ معمولی کپڑے میں چھپی ہوئی آپ کی شاندار شخصیت کو اس نے پہچان لیا۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی غلام نہیں ہے بلکہ شریف خاندان کا لڑکا ہے۔ کسی وجہ سے وہ قافلہ کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے اس کو یہاں لاکر بیچ دیا۔ چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو غلام کی طرح نہ رکھنا۔ یہ ایک لائق نوجوان معلوم ہوتاہے اور اس قابل ہے کہ ہمارے گھر اور جائداد کا انتظام سنبھال لے۔ مزیدیہ کہ فوطیفار بے اولاد تھا اور کسی کو اپنا متبنی بنانا چاہتا تھا۔ اس نے یہ اراده بھی کرلیا کہ اگر واقعی یہ نوجوان اس کی امیدوں کے مطابق نکلا تو وہ اس کو اپنا بیٹا بنالے گا۔
حضرت یوسف جب تقریباً چالیس سال کے ہوئے تو خدا نے ان کو ایک طرف نبوت عطا کی اور دوسری طرف اقتدار۔ ان کو یہ انعام ان کے حسن عمل کی وجہ سے ملا۔ خداکے انعام کا دروازہ ہمیشہ محسنین کے لیے کھلا ہوا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دور نبوت میں کسی کو اس کے حسنِ عمل کے نتیجہ میں نبی بھی بنایا جاسکتا تھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اس کو صرف وہ انعامات ملیں گے جو نبوت کے علاوہ ہیں۔
يوسف 12:22
کہا جاتا ہے کہ مصری حکومت کے ایک افسر (فوطیفار) نے حضرت یوسف کو خریدا۔ معمولی کپڑے میں چھپی ہوئی آپ کی شاندار شخصیت کو اس نے پہچان لیا۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی غلام نہیں ہے بلکہ شریف خاندان کا لڑکا ہے۔ کسی وجہ سے وہ قافلہ کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے اس کو یہاں لاکر بیچ دیا۔ چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو غلام کی طرح نہ رکھنا۔ یہ ایک لائق نوجوان معلوم ہوتاہے اور اس قابل ہے کہ ہمارے گھر اور جائداد کا انتظام سنبھال لے۔ مزیدیہ کہ فوطیفار بے اولاد تھا اور کسی کو اپنا متبنی بنانا چاہتا تھا۔ اس نے یہ اراده بھی کرلیا کہ اگر واقعی یہ نوجوان اس کی امیدوں کے مطابق نکلا تو وہ اس کو اپنا بیٹا بنالے گا۔
حضرت یوسف جب تقریباً چالیس سال کے ہوئے تو خدا نے ان کو ایک طرف نبوت عطا کی اور دوسری طرف اقتدار۔ ان کو یہ انعام ان کے حسن عمل کی وجہ سے ملا۔ خداکے انعام کا دروازہ ہمیشہ محسنین کے لیے کھلا ہوا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دور نبوت میں کسی کو اس کے حسنِ عمل کے نتیجہ میں نبی بھی بنایا جاسکتا تھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اس کو صرف وہ انعامات ملیں گے جو نبوت کے علاوہ ہیں۔
يوسف 12:23
عزیز مصر کی بیوی زلیخا حضرت یوسف پر فریفتہ ہوگئی۔ وہ بر ابر آپ کو پھسلاتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک روز موقع پاکر اس نے کمرہ کا دروازہ بند کرلیا۔
ایک غیر شادی شدہ نوجوان کے لیے یہ بڑا نازک موقع تھا۔ مگر حضرت یوسف نے اپنی فطرت ربّانی کو محفوظ رکھا تھا اور یہ فطرت اس وقت حضرت یوسف کے کام آگئی۔ حق اور ناحق بھلائی اور برائی کو پہچاننے کی یہ طاقت ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر موجود ہوتی ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو متنبہ کرتی ہے۔ جو شخص اس کو نظر انداز کردے اس نے گویا خدا کی آواز کو نظر انداز کردیا۔ ایسا آدمی خدا کی مدد سے محروم ہو کر دھیرے دھیرے اپنی فطرت کو کمزور کرلیتاہے۔ اس کے برعکس جو شخص خدائی پکار کے ظاہر ہوتے ہی اس کے آگے جھک جائے، خدا کی مدد اس کی استعداد بڑھاتی رہتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ آئندہ زیادہ قوت کے ساتھ برائی کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔
حضرت یوسف کو جس چیز نے برائی سے روکا وہ حقیقۃً اللہ کا ڈر تھا۔ مگر زلیخا کے لیے خدا کا حوالہ دینا اس وقت بے اثر رہتا۔ یہ موقع اعلان حق کا نہیں تھا بلکہ ایک نازک صورت حال سے اپنے آپ کو بچانے کا تھا اسی نزاکت کی بنا پر آپ نے زلیخا کو اس کے شوہر کا حوالہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرا آقا ہے۔ اس نے مجھے نہایت عزت کے ساتھ اپنے گھر میں رکھا ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے محسن کے ناموس پر حملہ کروں۔
يوسف 12:24
عزیز مصر کی بیوی زلیخا حضرت یوسف پر فریفتہ ہوگئی۔ وہ بر ابر آپ کو پھسلاتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک روز موقع پاکر اس نے کمرہ کا دروازہ بند کرلیا۔
ایک غیر شادی شدہ نوجوان کے لیے یہ بڑا نازک موقع تھا۔ مگر حضرت یوسف نے اپنی فطرت ربّانی کو محفوظ رکھا تھا اور یہ فطرت اس وقت حضرت یوسف کے کام آگئی۔ حق اور ناحق بھلائی اور برائی کو پہچاننے کی یہ طاقت ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر موجود ہوتی ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو متنبہ کرتی ہے۔ جو شخص اس کو نظر انداز کردے اس نے گویا خدا کی آواز کو نظر انداز کردیا۔ ایسا آدمی خدا کی مدد سے محروم ہو کر دھیرے دھیرے اپنی فطرت کو کمزور کرلیتاہے۔ اس کے برعکس جو شخص خدائی پکار کے ظاہر ہوتے ہی اس کے آگے جھک جائے، خدا کی مدد اس کی استعداد بڑھاتی رہتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ آئندہ زیادہ قوت کے ساتھ برائی کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔
حضرت یوسف کو جس چیز نے برائی سے روکا وہ حقیقۃً اللہ کا ڈر تھا۔ مگر زلیخا کے لیے خدا کا حوالہ دینا اس وقت بے اثر رہتا۔ یہ موقع اعلان حق کا نہیں تھا بلکہ ایک نازک صورت حال سے اپنے آپ کو بچانے کا تھا اسی نزاکت کی بنا پر آپ نے زلیخا کو اس کے شوہر کا حوالہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرا آقا ہے۔ اس نے مجھے نہایت عزت کے ساتھ اپنے گھر میں رکھا ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے محسن کے ناموس پر حملہ کروں۔
يوسف 12:25
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی اور پیچھے سے آپ کا کرتا پکڑ لیا۔ کھینچ تان میں پیچھے کا دامن پھٹ گیا۔ تاہم حضرت یوسف دروزاہ کھول کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دروازہ کے باہر اتفاق سے زلیخا کا شوہر موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہی زلیخا نے سارا الزام حضرت یوسف پر ڈال دیا۔ ایک لمحہ پہلے وہ جس شخص سے اظہار محبت کررہی تھی، ایک لمحہ بعد اس پر جھوٹا الزام لگانے لگی۔
حضرت یوسف نے بتایا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ غلطی کس کی ہے۔ کوئی تیسرا شخص موقع پر موجود نہیں تھا جو عینی گواہی دے۔ اس وقت گھر کے ایک مرد دانا نے لوگوں کو رہنمائی دی۔ اغلب ہے کہ یہ شخص پہلے حالات سے باخبر تھا۔ نیز اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ یوسف کا کرتا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے پھٹا ہوا ہے۔ مگر اس نے اپنی بات کو ایسے انداز میں کہا گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ جب عینی شہادت موجود نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت (circumstantial evidence)دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ اور قرینہ کی شہادت یہ تھی کہ حضرت یوسف کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ یہ واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ اس معاملہ میں اقدام زلیخا کی طرف سے ہوا ہے، نہ کہ یوسف کی طرف سے۔
يوسف 12:26
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی اور پیچھے سے آپ کا کرتا پکڑ لیا۔ کھینچ تان میں پیچھے کا دامن پھٹ گیا۔ تاہم حضرت یوسف دروزاہ کھول کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دروازہ کے باہر اتفاق سے زلیخا کا شوہر موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہی زلیخا نے سارا الزام حضرت یوسف پر ڈال دیا۔ ایک لمحہ پہلے وہ جس شخص سے اظہار محبت کررہی تھی، ایک لمحہ بعد اس پر جھوٹا الزام لگانے لگی۔
حضرت یوسف نے بتایا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ غلطی کس کی ہے۔ کوئی تیسرا شخص موقع پر موجود نہیں تھا جو عینی گواہی دے۔ اس وقت گھر کے ایک مرد دانا نے لوگوں کو رہنمائی دی۔ اغلب ہے کہ یہ شخص پہلے حالات سے باخبر تھا۔ نیز اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ یوسف کا کرتا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے پھٹا ہوا ہے۔ مگر اس نے اپنی بات کو ایسے انداز میں کہا گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ جب عینی شہادت موجود نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت (circumstantial evidence)دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ اور قرینہ کی شہادت یہ تھی کہ حضرت یوسف کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ یہ واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ اس معاملہ میں اقدام زلیخا کی طرف سے ہوا ہے، نہ کہ یوسف کی طرف سے۔
يوسف 12:27
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی اور پیچھے سے آپ کا کرتا پکڑ لیا۔ کھینچ تان میں پیچھے کا دامن پھٹ گیا۔ تاہم حضرت یوسف دروزاہ کھول کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دروازہ کے باہر اتفاق سے زلیخا کا شوہر موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہی زلیخا نے سارا الزام حضرت یوسف پر ڈال دیا۔ ایک لمحہ پہلے وہ جس شخص سے اظہار محبت کررہی تھی، ایک لمحہ بعد اس پر جھوٹا الزام لگانے لگی۔
حضرت یوسف نے بتایا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ غلطی کس کی ہے۔ کوئی تیسرا شخص موقع پر موجود نہیں تھا جو عینی گواہی دے۔ اس وقت گھر کے ایک مرد دانا نے لوگوں کو رہنمائی دی۔ اغلب ہے کہ یہ شخص پہلے حالات سے باخبر تھا۔ نیز اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ یوسف کا کرتا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے پھٹا ہوا ہے۔ مگر اس نے اپنی بات کو ایسے انداز میں کہا گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ جب عینی شہادت موجود نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت (circumstantial evidence)دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ اور قرینہ کی شہادت یہ تھی کہ حضرت یوسف کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ یہ واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ اس معاملہ میں اقدام زلیخا کی طرف سے ہوا ہے، نہ کہ یوسف کی طرف سے۔
يوسف 12:28
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی اور پیچھے سے آپ کا کرتا پکڑ لیا۔ کھینچ تان میں پیچھے کا دامن پھٹ گیا۔ تاہم حضرت یوسف دروزاہ کھول کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دروازہ کے باہر اتفاق سے زلیخا کا شوہر موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہی زلیخا نے سارا الزام حضرت یوسف پر ڈال دیا۔ ایک لمحہ پہلے وہ جس شخص سے اظہار محبت کررہی تھی، ایک لمحہ بعد اس پر جھوٹا الزام لگانے لگی۔
حضرت یوسف نے بتایا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ غلطی کس کی ہے۔ کوئی تیسرا شخص موقع پر موجود نہیں تھا جو عینی گواہی دے۔ اس وقت گھر کے ایک مرد دانا نے لوگوں کو رہنمائی دی۔ اغلب ہے کہ یہ شخص پہلے حالات سے باخبر تھا۔ نیز اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ یوسف کا کرتا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے پھٹا ہوا ہے۔ مگر اس نے اپنی بات کو ایسے انداز میں کہا گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ جب عینی شہادت موجود نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت (circumstantial evidence)دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ اور قرینہ کی شہادت یہ تھی کہ حضرت یوسف کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ یہ واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ اس معاملہ میں اقدام زلیخا کی طرف سے ہوا ہے، نہ کہ یوسف کی طرف سے۔
يوسف 12:29
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی اور پیچھے سے آپ کا کرتا پکڑ لیا۔ کھینچ تان میں پیچھے کا دامن پھٹ گیا۔ تاہم حضرت یوسف دروزاہ کھول کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دروازہ کے باہر اتفاق سے زلیخا کا شوہر موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہی زلیخا نے سارا الزام حضرت یوسف پر ڈال دیا۔ ایک لمحہ پہلے وہ جس شخص سے اظہار محبت کررہی تھی، ایک لمحہ بعد اس پر جھوٹا الزام لگانے لگی۔
حضرت یوسف نے بتایا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ غلطی کس کی ہے۔ کوئی تیسرا شخص موقع پر موجود نہیں تھا جو عینی گواہی دے۔ اس وقت گھر کے ایک مرد دانا نے لوگوں کو رہنمائی دی۔ اغلب ہے کہ یہ شخص پہلے حالات سے باخبر تھا۔ نیز اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ یوسف کا کرتا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے پھٹا ہوا ہے۔ مگر اس نے اپنی بات کو ایسے انداز میں کہا گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ جب عینی شہادت موجود نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت (circumstantial evidence)دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ اور قرینہ کی شہادت یہ تھی کہ حضرت یوسف کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ یہ واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ اس معاملہ میں اقدام زلیخا کی طرف سے ہوا ہے، نہ کہ یوسف کی طرف سے۔
يوسف 12:30
اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔
خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔
يوسف 12:31
اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔
خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔
يوسف 12:32
اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔
خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔
يوسف 12:33
اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔
خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔
يوسف 12:34
اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔
خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔
يوسف 12:35
مصر کے اعلیٰ طبقہ کی خواتین جب حضرت یوسف کو اپنی طرف راغب نہ کرسکیں تو اس کے بعد انھوں نے آپ کے لیے جو مقام پسند کیا وہ قید خانہ تھا۔ چوں کہ اس وقت آپ کی حیثیت ایک غلام کی تھی اس لیے قدیم رواج کے مطابق آپ کو قید خانہ بھیجنے کے لیے کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت نہ تھی۔ آپ کا آقا خود اپنے فیصلہ سے آپ کو قید میں ڈالنے کااختیار رکھتا تھا۔
مگر قید خانہ آپ کے لیے نیا عظیم تر زینہ بن گیا۔ اب تک ایسا تھا کہ مصر کے ایک یا چند افسروں کے گھرانے آپ سے متعارف ہوئے تھے۔ اب اس کا امکان پیداہوگیا کہ آپ کی شخصیت کا چرچا خود بادشاہ مصر تک پہنچے۔
اس کی صورت یہ ہوئی کہ آپ جس قید خانہ میں رکھے گئے اس میں دو اور نوجوان قید ہو کر آئے۔ یہ دونوں شاہی محل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان دونوں نے قید خانہ میں خواب دیکھے اور آپ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ آپ نے انھیں خواب کی تعبیر بتادی۔ یہ تعبیر بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک قید خانہ سے چھوٹ کر دوبارہ شاہی محل میں پہنچا تو اس نے ایک موقع پر بادشاہ سے بتایا کہ قید خانہ میں ایک ایسا نیک انسان ہے جو خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتاتا ہے — اس طرح آپ کا قید ہونا آپ کے لیے شاہی محل تک رسائی کا ابتدائی زینہ بن گیا۔
يوسف 12:36
مصر کے اعلیٰ طبقہ کی خواتین جب حضرت یوسف کو اپنی طرف راغب نہ کرسکیں تو اس کے بعد انھوں نے آپ کے لیے جو مقام پسند کیا وہ قید خانہ تھا۔ چوں کہ اس وقت آپ کی حیثیت ایک غلام کی تھی اس لیے قدیم رواج کے مطابق آپ کو قید خانہ بھیجنے کے لیے کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت نہ تھی۔ آپ کا آقا خود اپنے فیصلہ سے آپ کو قید میں ڈالنے کااختیار رکھتا تھا۔
مگر قید خانہ آپ کے لیے نیا عظیم تر زینہ بن گیا۔ اب تک ایسا تھا کہ مصر کے ایک یا چند افسروں کے گھرانے آپ سے متعارف ہوئے تھے۔ اب اس کا امکان پیداہوگیا کہ آپ کی شخصیت کا چرچا خود بادشاہ مصر تک پہنچے۔
اس کی صورت یہ ہوئی کہ آپ جس قید خانہ میں رکھے گئے اس میں دو اور نوجوان قید ہو کر آئے۔ یہ دونوں شاہی محل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان دونوں نے قید خانہ میں خواب دیکھے اور آپ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ آپ نے انھیں خواب کی تعبیر بتادی۔ یہ تعبیر بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک قید خانہ سے چھوٹ کر دوبارہ شاہی محل میں پہنچا تو اس نے ایک موقع پر بادشاہ سے بتایا کہ قید خانہ میں ایک ایسا نیک انسان ہے جو خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتاتا ہے — اس طرح آپ کا قید ہونا آپ کے لیے شاہی محل تک رسائی کا ابتدائی زینہ بن گیا۔
يوسف 12:37
نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔
حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔
درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔
يوسف 12:38
نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔
حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔
درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔
يوسف 12:39
نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔
حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔
درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔
يوسف 12:40
نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔
حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔
درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔
يوسف 12:41
دو نوجوان جو جیل میں لائے گئے وہ شاہ مصر (ریان بن الولید) کے ساقی اور خبّاز تھے۔ دونوں پر یہ الزام تھاکہ انھوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی کوشش کی۔ ان میں سے جو ساقی تھا وہ تحقیق کے بعد الزام سے بری ثابت ہوا اور رہائی پاکر دوبارہ بادشاہ کا ساقی مقرر ہوا۔ اس کے خواب کامطلب یہ تھا کہ اب وہ بادشاہ کو خواب میں شراب پلا رہا ہے کچھ دن بعدوہ بیداری میں اس کو شراب پلائے گا۔ خبّاز پر الزام ثابت ہوگیا۔ اس کو سولی دے کر چھوڑ دیاگیا کہ چڑیاں اس کا گوشت کھائیں اور وہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔
حضرت یوسف کی دونوں تعبیریں بالکل درست ثابت ہوئیں۔ مگر ساقی قید سے چھوٹ کر دوبارہ محل میں پہنچا تو وہ حسبِ وعدہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس کو اپنا کیا ہوا وعدہ صرف اس وقت یاد آیا جب کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا اور درباریوں سے کہا کہ اس کی تعبیر بتاؤ۔
يوسف 12:42
دو نوجوان جو جیل میں لائے گئے وہ شاہ مصر (ریان بن الولید) کے ساقی اور خبّاز تھے۔ دونوں پر یہ الزام تھاکہ انھوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی کوشش کی۔ ان میں سے جو ساقی تھا وہ تحقیق کے بعد الزام سے بری ثابت ہوا اور رہائی پاکر دوبارہ بادشاہ کا ساقی مقرر ہوا۔ اس کے خواب کامطلب یہ تھا کہ اب وہ بادشاہ کو خواب میں شراب پلا رہا ہے کچھ دن بعدوہ بیداری میں اس کو شراب پلائے گا۔ خبّاز پر الزام ثابت ہوگیا۔ اس کو سولی دے کر چھوڑ دیاگیا کہ چڑیاں اس کا گوشت کھائیں اور وہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔
حضرت یوسف کی دونوں تعبیریں بالکل درست ثابت ہوئیں۔ مگر ساقی قید سے چھوٹ کر دوبارہ محل میں پہنچا تو وہ حسبِ وعدہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس کو اپنا کیا ہوا وعدہ صرف اس وقت یاد آیا جب کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا اور درباریوں سے کہا کہ اس کی تعبیر بتاؤ۔
يوسف 12:43
مصر کا بادشاہ اگر چہ مشرک اور شرابی تھا، مگر خدا کی طرف سے اس کو مستقبل کے بارے میں ایک سچا خواب دکھایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا حق کے داعیوں کی مدد کن کن طریقوں سے کرتاہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کو کوئی ایسا خواب دکھایا جائے جس سے اس کے ذہن پر داعی کی عظمت اور اہمیت قائم ہو اور اس کا دل نرم ہو کر داعی کے لیے نئے راستے کھل جائیں۔
بادشاہ کے ساقی نے جب بادشاہ کا خواب سنا اس وقت اس کو قید خانہ کا ماجرا یاد آیا۔ اس نے بادشاہ اور درباریوں کے سامنے اپنا ذاتی تجربہ بتایا کہ کس طرح یوسف کی بتائی ہوئی خواب کی تعبیر دو قیدیوں کے حق میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ بادشاہ سے اجازت لے کر قید خانہ پہنچا تاکہ یوسف سے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دریافت کرے۔
حضرت یوسف کی اسی حیثیت کے تعارف سے ان کے لیے قید خانہ سے باہر آنے کا راستہ کھلا خدا ایسا کرسکتا تھا کہ رہائی کے بعد حضرت یوسف کو مزید قید خانہ میں نہ رہنے دے۔ وہ ساقی کو محل کے اندر پہنچتے ہی یاد دلا سکتا تھا کہ وہ وعدہ کے مطابق بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرے۔ مگر خدا کا ہر کام اپنے مقرر وقت پر ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے کوئی کام کرنا خدا کا طریقہ نہیں۔
يوسف 12:44
مصر کا بادشاہ اگر چہ مشرک اور شرابی تھا، مگر خدا کی طرف سے اس کو مستقبل کے بارے میں ایک سچا خواب دکھایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا حق کے داعیوں کی مدد کن کن طریقوں سے کرتاہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کو کوئی ایسا خواب دکھایا جائے جس سے اس کے ذہن پر داعی کی عظمت اور اہمیت قائم ہو اور اس کا دل نرم ہو کر داعی کے لیے نئے راستے کھل جائیں۔
بادشاہ کے ساقی نے جب بادشاہ کا خواب سنا اس وقت اس کو قید خانہ کا ماجرا یاد آیا۔ اس نے بادشاہ اور درباریوں کے سامنے اپنا ذاتی تجربہ بتایا کہ کس طرح یوسف کی بتائی ہوئی خواب کی تعبیر دو قیدیوں کے حق میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ بادشاہ سے اجازت لے کر قید خانہ پہنچا تاکہ یوسف سے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دریافت کرے۔
حضرت یوسف کی اسی حیثیت کے تعارف سے ان کے لیے قید خانہ سے باہر آنے کا راستہ کھلا خدا ایسا کرسکتا تھا کہ رہائی کے بعد حضرت یوسف کو مزید قید خانہ میں نہ رہنے دے۔ وہ ساقی کو محل کے اندر پہنچتے ہی یاد دلا سکتا تھا کہ وہ وعدہ کے مطابق بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرے۔ مگر خدا کا ہر کام اپنے مقرر وقت پر ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے کوئی کام کرنا خدا کا طریقہ نہیں۔
يوسف 12:45
مصر کا بادشاہ اگر چہ مشرک اور شرابی تھا، مگر خدا کی طرف سے اس کو مستقبل کے بارے میں ایک سچا خواب دکھایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا حق کے داعیوں کی مدد کن کن طریقوں سے کرتاہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کو کوئی ایسا خواب دکھایا جائے جس سے اس کے ذہن پر داعی کی عظمت اور اہمیت قائم ہو اور اس کا دل نرم ہو کر داعی کے لیے نئے راستے کھل جائیں۔
بادشاہ کے ساقی نے جب بادشاہ کا خواب سنا اس وقت اس کو قید خانہ کا ماجرا یاد آیا۔ اس نے بادشاہ اور درباریوں کے سامنے اپنا ذاتی تجربہ بتایا کہ کس طرح یوسف کی بتائی ہوئی خواب کی تعبیر دو قیدیوں کے حق میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ بادشاہ سے اجازت لے کر قید خانہ پہنچا تاکہ یوسف سے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دریافت کرے۔
حضرت یوسف کی اسی حیثیت کے تعارف سے ان کے لیے قید خانہ سے باہر آنے کا راستہ کھلا خدا ایسا کرسکتا تھا کہ رہائی کے بعد حضرت یوسف کو مزید قید خانہ میں نہ رہنے دے۔ وہ ساقی کو محل کے اندر پہنچتے ہی یاد دلا سکتا تھا کہ وہ وعدہ کے مطابق بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرے۔ مگر خدا کا ہر کام اپنے مقرر وقت پر ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے کوئی کام کرنا خدا کا طریقہ نہیں۔
يوسف 12:46
حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔
اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔
اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔
يوسف 12:47
حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔
اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔
اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔
يوسف 12:48
حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔
اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔
اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔
يوسف 12:49
حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔
اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔
اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔
يوسف 12:50
قید خانہ سے نکل کر حضرت یوسف کو ایک ملکی کردار ادا کرنا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی شخصیت ملکی سطح پر ایک معروف شخصیت بن جائے۔ اس کی صورت بادشاہ کے خواب کے ذریعہ پیدا ہوگئی۔ بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ اس کی تعبیر کے لیے اتنا بے چین ہوا کہ عام اعلان کرکے تمام ملک کے علماء، پیروںاور دانشوروں کو اپنے دربار میں جمع کیا۔ اور ان سے کہا کہ وہ اس خواب کی تعبیر بتائیں مگر سب کے سب عاجز رہے۔ اس طرح خواب کا واقعہ ایک عمومی شہرت کا واقعہ بن گیا۔ اب جب حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بیان کی اور بادشاہ نے اس کو پسند کیا تو اچانک وہ تمام ملک کی نظروں میں آگئے۔
بادشاہ نے ساری بات سننے کے بعد متعلقہ عورتوں سے اس کی تحقیق کی۔ سب نے بیک زبان حضرت یوسف کو بری الذمہ قرار دیا۔ عزیز مصر کی بیوی اعتراف حق میں سب سے آگے نکل گئی۔ اس نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ اب سچائی کھل چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا قصور میرا تھا۔ یوسف کا کچھ بھی قصور نہ تھا۔ عزیز مصر کی بیوی (زلیخا) کا یہ اقرار اتنا عظیم عمل ہے کہ عجب نہیں کہ اس کے بعد اس کو ایمان کی توفیق دے دی گئی ہو۔
يوسف 12:51
قید خانہ سے نکل کر حضرت یوسف کو ایک ملکی کردار ادا کرنا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی شخصیت ملکی سطح پر ایک معروف شخصیت بن جائے۔ اس کی صورت بادشاہ کے خواب کے ذریعہ پیدا ہوگئی۔ بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ اس کی تعبیر کے لیے اتنا بے چین ہوا کہ عام اعلان کرکے تمام ملک کے علماء، پیروںاور دانشوروں کو اپنے دربار میں جمع کیا۔ اور ان سے کہا کہ وہ اس خواب کی تعبیر بتائیں مگر سب کے سب عاجز رہے۔ اس طرح خواب کا واقعہ ایک عمومی شہرت کا واقعہ بن گیا۔ اب جب حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بیان کی اور بادشاہ نے اس کو پسند کیا تو اچانک وہ تمام ملک کی نظروں میں آگئے۔
بادشاہ نے ساری بات سننے کے بعد متعلقہ عورتوں سے اس کی تحقیق کی۔ سب نے بیک زبان حضرت یوسف کو بری الذمہ قرار دیا۔ عزیز مصر کی بیوی اعتراف حق میں سب سے آگے نکل گئی۔ اس نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ اب سچائی کھل چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا قصور میرا تھا۔ یوسف کا کچھ بھی قصور نہ تھا۔ عزیز مصر کی بیوی (زلیخا) کا یہ اقرار اتنا عظیم عمل ہے کہ عجب نہیں کہ اس کے بعد اس کو ایمان کی توفیق دے دی گئی ہو۔
يوسف 12:52
بادشاہ نے جب حضرت یوسف کو بلایا تو وہ فوراً قید خانہ سے باہر نہیں آگئے۔ بلکہ یہ کہا کہ پہلے اس واقعہ کی تحقیق ہونی چاہیے جس کو بہانہ بنا کر مجھ کو قید کیا گیا تھا۔ خدا کے نزدیک اگرچہ آپ پوری طرح بری الذمہ تھے مگر مسئلہ یہ تھاکہ آپ کو عوام کے درمیان پیغمبری کی خدمت انجام دینی تھی۔ یعنی خدا کی امانتِ ہدایت کو اس کے بندوں تک پہنچانا تھا۔ مذکورہ واقعہ میں آپ پر اپنے آقا کے ساتھ خیانت کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ ایک بہت نازک معاملہ تھا اور عوام کے سامنے آنے سے پہلے ضروری تھا کہ آپ کے اوپر سے یہ الزام ختم ہو کیوں کہ جس شخص کو لوگ بندوں کے معاملہ میں امانت دار نہ سمجھیں اس کو وہ خداکے معاملہ میں امانت دار نہیں سمجھ سکتے۔
مومن بیک وقت دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک انسان اور دوسرے خدا۔ کبھی ایسا ہوتاہے کہ اس کو انسانوں کی نسبت سے معاملہ کی وضاحت کے لیے کوئی ایسا کلمہ بولنا پڑتاہے جس میں بظاہر ادعا کا پہلو نظر آتاہو۔ مگر اس کا دل اس وقت بھی عجز کے احساس سے بھرا ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب وہ اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھتاہے تو وہ پاتا ہے کہ خدا کی نسبت سے وہ صرف عاجز ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا تصور ہر آن مومن کو متوازن کرتا رہتا ہے— حضرت یوسف کامذکورہ کلام مومن کی شخصیت کے اسی دوگونہ پہلو کی تصویر ہے۔
يوسف 12:53
بادشاہ نے جب حضرت یوسف کو بلایا تو وہ فوراً قید خانہ سے باہر نہیں آگئے۔ بلکہ یہ کہا کہ پہلے اس واقعہ کی تحقیق ہونی چاہیے جس کو بہانہ بنا کر مجھ کو قید کیا گیا تھا۔ خدا کے نزدیک اگرچہ آپ پوری طرح بری الذمہ تھے مگر مسئلہ یہ تھاکہ آپ کو عوام کے درمیان پیغمبری کی خدمت انجام دینی تھی۔ یعنی خدا کی امانتِ ہدایت کو اس کے بندوں تک پہنچانا تھا۔ مذکورہ واقعہ میں آپ پر اپنے آقا کے ساتھ خیانت کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ ایک بہت نازک معاملہ تھا اور عوام کے سامنے آنے سے پہلے ضروری تھا کہ آپ کے اوپر سے یہ الزام ختم ہو کیوں کہ جس شخص کو لوگ بندوں کے معاملہ میں امانت دار نہ سمجھیں اس کو وہ خداکے معاملہ میں امانت دار نہیں سمجھ سکتے۔
مومن بیک وقت دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک انسان اور دوسرے خدا۔ کبھی ایسا ہوتاہے کہ اس کو انسانوں کی نسبت سے معاملہ کی وضاحت کے لیے کوئی ایسا کلمہ بولنا پڑتاہے جس میں بظاہر ادعا کا پہلو نظر آتاہو۔ مگر اس کا دل اس وقت بھی عجز کے احساس سے بھرا ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب وہ اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھتاہے تو وہ پاتا ہے کہ خدا کی نسبت سے وہ صرف عاجز ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا تصور ہر آن مومن کو متوازن کرتا رہتا ہے— حضرت یوسف کامذکورہ کلام مومن کی شخصیت کے اسی دوگونہ پہلو کی تصویر ہے۔
يوسف 12:54
’’مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو‘‘۔ یہاں خزانوں سے مراد غلہ کے کھتے ہیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر شاہ مصر سے یہ اختیار مانگا کہ وہ حکومتی وسائل کے تحت سارے ملک میں غلّہ کے بڑے بڑے کھتے بنوائیں تاکہ ابتدائی سات سالوں میں کسانوں سے فاضل غلّہ لے کر وہاں محفوظ کیا جاسکے (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 397 ) بادشاہ راضی ہوگیا اور اپنے آئینی اور قانونی اقتدار کے تحت آپ کو ہر قسم کا اختیار دے دیا۔
مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ آیت نمبر 76 سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف کے تقرر کے تقریباً دس سال بعد تک بھی اسی بادشاہ کا قانون (دین الملک) مصر میں رائج تھا۔ یہ خدا کے ایک پیغمبر کا اسوہ ہے جو بتاتا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے تحت کوئی ذیلی عہدہ قبول کرنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اسی بنا پر اسلاف نے ظالم بادشاہ کے تحت قضا کے عہدے قبول كيے (تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 119 )
مصر میں اختیار سنبھالنے سے حضرت یوسف کا مقصد کیا تھا، قرآن کی تفصیل سے بظاہر اس کا مقصد یہ معلوم ہوتاہے کہ بندگان خدا کو طویل قحط کی مصیبت سے بچایا جائے، اور پھر اس کے نتیجہ میں بنی اسرا ئیل کے لیے مصر میں آباد ہونے کے مواقع فراہم كيے جائیں۔
ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے خدا نے ابدی جنت کا یقینی وعدہ کیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کو خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک حق کے اعلان کا معاملہ ہے، اس کی توفیق ہر ایک کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ مگر عملی یافت کے معاملہ میں سب کی نصرت یکساں انداز میں نہیں۔ عملی نصرت کسی کو ایک ڈھنگ پر ملتی ہے اور کسی کو دوسرے ڈھنگ پر۔
يوسف 12:55
’’مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو‘‘۔ یہاں خزانوں سے مراد غلہ کے کھتے ہیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر شاہ مصر سے یہ اختیار مانگا کہ وہ حکومتی وسائل کے تحت سارے ملک میں غلّہ کے بڑے بڑے کھتے بنوائیں تاکہ ابتدائی سات سالوں میں کسانوں سے فاضل غلّہ لے کر وہاں محفوظ کیا جاسکے (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 397 ) بادشاہ راضی ہوگیا اور اپنے آئینی اور قانونی اقتدار کے تحت آپ کو ہر قسم کا اختیار دے دیا۔
مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ آیت نمبر 76 سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف کے تقرر کے تقریباً دس سال بعد تک بھی اسی بادشاہ کا قانون (دین الملک) مصر میں رائج تھا۔ یہ خدا کے ایک پیغمبر کا اسوہ ہے جو بتاتا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے تحت کوئی ذیلی عہدہ قبول کرنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اسی بنا پر اسلاف نے ظالم بادشاہ کے تحت قضا کے عہدے قبول كيے (تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 119 )
مصر میں اختیار سنبھالنے سے حضرت یوسف کا مقصد کیا تھا، قرآن کی تفصیل سے بظاہر اس کا مقصد یہ معلوم ہوتاہے کہ بندگان خدا کو طویل قحط کی مصیبت سے بچایا جائے، اور پھر اس کے نتیجہ میں بنی اسرا ئیل کے لیے مصر میں آباد ہونے کے مواقع فراہم كيے جائیں۔
ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے خدا نے ابدی جنت کا یقینی وعدہ کیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کو خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک حق کے اعلان کا معاملہ ہے، اس کی توفیق ہر ایک کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ مگر عملی یافت کے معاملہ میں سب کی نصرت یکساں انداز میں نہیں۔ عملی نصرت کسی کو ایک ڈھنگ پر ملتی ہے اور کسی کو دوسرے ڈھنگ پر۔
يوسف 12:56
’’مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو‘‘۔ یہاں خزانوں سے مراد غلہ کے کھتے ہیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر شاہ مصر سے یہ اختیار مانگا کہ وہ حکومتی وسائل کے تحت سارے ملک میں غلّہ کے بڑے بڑے کھتے بنوائیں تاکہ ابتدائی سات سالوں میں کسانوں سے فاضل غلّہ لے کر وہاں محفوظ کیا جاسکے (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 397 ) بادشاہ راضی ہوگیا اور اپنے آئینی اور قانونی اقتدار کے تحت آپ کو ہر قسم کا اختیار دے دیا۔
مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ آیت نمبر 76 سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف کے تقرر کے تقریباً دس سال بعد تک بھی اسی بادشاہ کا قانون (دین الملک) مصر میں رائج تھا۔ یہ خدا کے ایک پیغمبر کا اسوہ ہے جو بتاتا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے تحت کوئی ذیلی عہدہ قبول کرنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اسی بنا پر اسلاف نے ظالم بادشاہ کے تحت قضا کے عہدے قبول كيے (تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 119 )
مصر میں اختیار سنبھالنے سے حضرت یوسف کا مقصد کیا تھا، قرآن کی تفصیل سے بظاہر اس کا مقصد یہ معلوم ہوتاہے کہ بندگان خدا کو طویل قحط کی مصیبت سے بچایا جائے، اور پھر اس کے نتیجہ میں بنی اسرا ئیل کے لیے مصر میں آباد ہونے کے مواقع فراہم كيے جائیں۔
ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے خدا نے ابدی جنت کا یقینی وعدہ کیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کو خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک حق کے اعلان کا معاملہ ہے، اس کی توفیق ہر ایک کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ مگر عملی یافت کے معاملہ میں سب کی نصرت یکساں انداز میں نہیں۔ عملی نصرت کسی کو ایک ڈھنگ پر ملتی ہے اور کسی کو دوسرے ڈھنگ پر۔
يوسف 12:57
’’مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو‘‘۔ یہاں خزانوں سے مراد غلہ کے کھتے ہیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر شاہ مصر سے یہ اختیار مانگا کہ وہ حکومتی وسائل کے تحت سارے ملک میں غلّہ کے بڑے بڑے کھتے بنوائیں تاکہ ابتدائی سات سالوں میں کسانوں سے فاضل غلّہ لے کر وہاں محفوظ کیا جاسکے (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 397 ) بادشاہ راضی ہوگیا اور اپنے آئینی اور قانونی اقتدار کے تحت آپ کو ہر قسم کا اختیار دے دیا۔
مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ آیت نمبر 76 سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف کے تقرر کے تقریباً دس سال بعد تک بھی اسی بادشاہ کا قانون (دین الملک) مصر میں رائج تھا۔ یہ خدا کے ایک پیغمبر کا اسوہ ہے جو بتاتا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے تحت کوئی ذیلی عہدہ قبول کرنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اسی بنا پر اسلاف نے ظالم بادشاہ کے تحت قضا کے عہدے قبول كيے (تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 119 )
مصر میں اختیار سنبھالنے سے حضرت یوسف کا مقصد کیا تھا، قرآن کی تفصیل سے بظاہر اس کا مقصد یہ معلوم ہوتاہے کہ بندگان خدا کو طویل قحط کی مصیبت سے بچایا جائے، اور پھر اس کے نتیجہ میں بنی اسرا ئیل کے لیے مصر میں آباد ہونے کے مواقع فراہم كيے جائیں۔
ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے خدا نے ابدی جنت کا یقینی وعدہ کیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کو خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک حق کے اعلان کا معاملہ ہے، اس کی توفیق ہر ایک کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ مگر عملی یافت کے معاملہ میں سب کی نصرت یکساں انداز میں نہیں۔ عملی نصرت کسی کو ایک ڈھنگ پر ملتی ہے اور کسی کو دوسرے ڈھنگ پر۔
يوسف 12:58
حضرت یوسف کے اقتدار کے ابتدائی سات سال تک خوب فصل پیدا ہوئی۔ آپ نے سارے ملک میں بڑے بڑے کھتّے بنوائے اور کسانوں سے ان کا فاضل غلَہ خرید کر ہر سال ان کھتوں میں محفوظ کرتے رہے اس کے بعد جب قحط کے سال شروع ہوئے تو آپ نے اس غلہ کو دار السلطنت میں منگوا کر مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیا۔
یہ قحط چونکہ مصر کے علاوہ اطراف کے علاقوں (شام، فلسطین، شرق اردن وغیرہ) تک پھیلا ہوا تھا، اس لیے جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ مصر میں غلّہ سستی قیمت پر فروخت ہورہا ہے تو برادران یوسف بھی غلّہ لینے کے لیے مصر آئے۔ یہاں حضرت یوسف کو اگرچہ انھوں نے بیس سال بعد دیکھا تھا، تاہم آپ کی شکل وصورت میں انھیں اپنے بھائی کی جھلک نظر آئی۔ مگر جلد ہی انھوں نے اس کو اپنے دل سے نکال دیا۔ کیوں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جس شخص کو وہ اندھے کنویں میں ڈال چکے ہیں وہ مصر کے تخت پر متمکن ہوسکتاہے۔
حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو ایک ایک اونٹ فی کس غلّہ دلوایا۔ اب ان کے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ بن یامین کے نام پر ایک اونٹ غلّہ اور حاصل کریں۔ انھوںنے درخواست کی کہ ہمارے ایک بھائی (بن یامین) کو بوڑھے باپ نے اپنے پاس روک لیا ہے۔ اگر ہم کو اس بھائی کے حصہ کا غلّہ بھی دیا جائے تو بڑی عنایت ہو۔ حضرت یوسف نے کہا کہ غائب کا حصہ دینا ہمارا طریقہ نہیں۔ تم دوبارہ آؤ تو اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لاؤ۔ اس وقت تم اس کا حصہ پاسکوگے۔ تم میری بخشش کا حال دیکھ چکے ہو۔ کیا اس کے بعد بھی تمھیں اپنے بھائی کو لانے میں تردد ہے۔ حضرت یوسف نے مزید کہا کہ جو بھائی تم بتارہے ہو اگر تم اگلی بار اس کو نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور محض دھوکہ دے کر ایک اونٹ غلّہ اور لینا چاہتے تھے۔ اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمھارے حصہ کا غلّہ بھی تم کو نہیںدیا جائے گا۔
يوسف 12:59
حضرت یوسف کے اقتدار کے ابتدائی سات سال تک خوب فصل پیدا ہوئی۔ آپ نے سارے ملک میں بڑے بڑے کھتّے بنوائے اور کسانوں سے ان کا فاضل غلَہ خرید کر ہر سال ان کھتوں میں محفوظ کرتے رہے اس کے بعد جب قحط کے سال شروع ہوئے تو آپ نے اس غلہ کو دار السلطنت میں منگوا کر مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیا۔
یہ قحط چونکہ مصر کے علاوہ اطراف کے علاقوں (شام، فلسطین، شرق اردن وغیرہ) تک پھیلا ہوا تھا، اس لیے جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ مصر میں غلّہ سستی قیمت پر فروخت ہورہا ہے تو برادران یوسف بھی غلّہ لینے کے لیے مصر آئے۔ یہاں حضرت یوسف کو اگرچہ انھوں نے بیس سال بعد دیکھا تھا، تاہم آپ کی شکل وصورت میں انھیں اپنے بھائی کی جھلک نظر آئی۔ مگر جلد ہی انھوں نے اس کو اپنے دل سے نکال دیا۔ کیوں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جس شخص کو وہ اندھے کنویں میں ڈال چکے ہیں وہ مصر کے تخت پر متمکن ہوسکتاہے۔
حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو ایک ایک اونٹ فی کس غلّہ دلوایا۔ اب ان کے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ بن یامین کے نام پر ایک اونٹ غلّہ اور حاصل کریں۔ انھوںنے درخواست کی کہ ہمارے ایک بھائی (بن یامین) کو بوڑھے باپ نے اپنے پاس روک لیا ہے۔ اگر ہم کو اس بھائی کے حصہ کا غلّہ بھی دیا جائے تو بڑی عنایت ہو۔ حضرت یوسف نے کہا کہ غائب کا حصہ دینا ہمارا طریقہ نہیں۔ تم دوبارہ آؤ تو اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لاؤ۔ اس وقت تم اس کا حصہ پاسکوگے۔ تم میری بخشش کا حال دیکھ چکے ہو۔ کیا اس کے بعد بھی تمھیں اپنے بھائی کو لانے میں تردد ہے۔ حضرت یوسف نے مزید کہا کہ جو بھائی تم بتارہے ہو اگر تم اگلی بار اس کو نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور محض دھوکہ دے کر ایک اونٹ غلّہ اور لینا چاہتے تھے۔ اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمھارے حصہ کا غلّہ بھی تم کو نہیںدیا جائے گا۔
يوسف 12:60
حضرت یوسف کے اقتدار کے ابتدائی سات سال تک خوب فصل پیدا ہوئی۔ آپ نے سارے ملک میں بڑے بڑے کھتّے بنوائے اور کسانوں سے ان کا فاضل غلَہ خرید کر ہر سال ان کھتوں میں محفوظ کرتے رہے اس کے بعد جب قحط کے سال شروع ہوئے تو آپ نے اس غلہ کو دار السلطنت میں منگوا کر مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیا۔
یہ قحط چونکہ مصر کے علاوہ اطراف کے علاقوں (شام، فلسطین، شرق اردن وغیرہ) تک پھیلا ہوا تھا، اس لیے جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ مصر میں غلّہ سستی قیمت پر فروخت ہورہا ہے تو برادران یوسف بھی غلّہ لینے کے لیے مصر آئے۔ یہاں حضرت یوسف کو اگرچہ انھوں نے بیس سال بعد دیکھا تھا، تاہم آپ کی شکل وصورت میں انھیں اپنے بھائی کی جھلک نظر آئی۔ مگر جلد ہی انھوں نے اس کو اپنے دل سے نکال دیا۔ کیوں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جس شخص کو وہ اندھے کنویں میں ڈال چکے ہیں وہ مصر کے تخت پر متمکن ہوسکتاہے۔
حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو ایک ایک اونٹ فی کس غلّہ دلوایا۔ اب ان کے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ بن یامین کے نام پر ایک اونٹ غلّہ اور حاصل کریں۔ انھوںنے درخواست کی کہ ہمارے ایک بھائی (بن یامین) کو بوڑھے باپ نے اپنے پاس روک لیا ہے۔ اگر ہم کو اس بھائی کے حصہ کا غلّہ بھی دیا جائے تو بڑی عنایت ہو۔ حضرت یوسف نے کہا کہ غائب کا حصہ دینا ہمارا طریقہ نہیں۔ تم دوبارہ آؤ تو اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لاؤ۔ اس وقت تم اس کا حصہ پاسکوگے۔ تم میری بخشش کا حال دیکھ چکے ہو۔ کیا اس کے بعد بھی تمھیں اپنے بھائی کو لانے میں تردد ہے۔ حضرت یوسف نے مزید کہا کہ جو بھائی تم بتارہے ہو اگر تم اگلی بار اس کو نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور محض دھوکہ دے کر ایک اونٹ غلّہ اور لینا چاہتے تھے۔ اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمھارے حصہ کا غلّہ بھی تم کو نہیںدیا جائے گا۔
يوسف 12:61
حضرت یوسف کے اقتدار کے ابتدائی سات سال تک خوب فصل پیدا ہوئی۔ آپ نے سارے ملک میں بڑے بڑے کھتّے بنوائے اور کسانوں سے ان کا فاضل غلَہ خرید کر ہر سال ان کھتوں میں محفوظ کرتے رہے اس کے بعد جب قحط کے سال شروع ہوئے تو آپ نے اس غلہ کو دار السلطنت میں منگوا کر مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیا۔
یہ قحط چونکہ مصر کے علاوہ اطراف کے علاقوں (شام، فلسطین، شرق اردن وغیرہ) تک پھیلا ہوا تھا، اس لیے جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ مصر میں غلّہ سستی قیمت پر فروخت ہورہا ہے تو برادران یوسف بھی غلّہ لینے کے لیے مصر آئے۔ یہاں حضرت یوسف کو اگرچہ انھوں نے بیس سال بعد دیکھا تھا، تاہم آپ کی شکل وصورت میں انھیں اپنے بھائی کی جھلک نظر آئی۔ مگر جلد ہی انھوں نے اس کو اپنے دل سے نکال دیا۔ کیوں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جس شخص کو وہ اندھے کنویں میں ڈال چکے ہیں وہ مصر کے تخت پر متمکن ہوسکتاہے۔
حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو ایک ایک اونٹ فی کس غلّہ دلوایا۔ اب ان کے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ بن یامین کے نام پر ایک اونٹ غلّہ اور حاصل کریں۔ انھوںنے درخواست کی کہ ہمارے ایک بھائی (بن یامین) کو بوڑھے باپ نے اپنے پاس روک لیا ہے۔ اگر ہم کو اس بھائی کے حصہ کا غلّہ بھی دیا جائے تو بڑی عنایت ہو۔ حضرت یوسف نے کہا کہ غائب کا حصہ دینا ہمارا طریقہ نہیں۔ تم دوبارہ آؤ تو اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لاؤ۔ اس وقت تم اس کا حصہ پاسکوگے۔ تم میری بخشش کا حال دیکھ چکے ہو۔ کیا اس کے بعد بھی تمھیں اپنے بھائی کو لانے میں تردد ہے۔ حضرت یوسف نے مزید کہا کہ جو بھائی تم بتارہے ہو اگر تم اگلی بار اس کو نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور محض دھوکہ دے کر ایک اونٹ غلّہ اور لینا چاہتے تھے۔ اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمھارے حصہ کا غلّہ بھی تم کو نہیںدیا جائے گا۔
يوسف 12:62
حضرت یوسف نے غالباً بھائیوں سے قیمت لینا مروّت کے خلاف سمجھا یا اس خیال سے کہ مال کی کمی ان کے دوبارہ یہاں آنے ميں رکاوٹ نہ بن جائے، اپنے آدمیوں کو ہدایت کی کہ جو رقم انھوں نے غلہ کی قیمت کے طورپر اداکی ہے، وہ خاموشی سے ان کے سامان میں ڈال دیا جائے تاکہ جب وہ گھر پر جاکر اپنا سامان کھولیں تو اس کو پالیں اور اپنے بھائی (بن یامین) کو لے کر دوبارہ یہاں آئیں۔
حضرت یعقوب نے ایک طرف بن یامین کے سلسلہ میں اپنے بیٹوں پر بے اعتمادی کا اظہار کیا دوسری طرف یہ بھی فرمایا کہ تم کو یا کسی اور کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ ہونا وہی ہے جو خدا چاہے۔مگر یہ ہونا انسان کے کے ہاتھوں کرایا جاتاہے تاکہ جو بُرا ہے وہ برا کرکے اپنی حقیقت کو ثابت کرے۔ اور جو اچھا ہے وہ اچھا کرکے اپنے آپ کو اس فہرست میں لکھوائے جس کا وہ مستحق ہے۔
يوسف 12:63
حضرت یوسف نے غالباً بھائیوں سے قیمت لینا مروّت کے خلاف سمجھا یا اس خیال سے کہ مال کی کمی ان کے دوبارہ یہاں آنے ميں رکاوٹ نہ بن جائے، اپنے آدمیوں کو ہدایت کی کہ جو رقم انھوں نے غلہ کی قیمت کے طورپر اداکی ہے، وہ خاموشی سے ان کے سامان میں ڈال دیا جائے تاکہ جب وہ گھر پر جاکر اپنا سامان کھولیں تو اس کو پالیں اور اپنے بھائی (بن یامین) کو لے کر دوبارہ یہاں آئیں۔
حضرت یعقوب نے ایک طرف بن یامین کے سلسلہ میں اپنے بیٹوں پر بے اعتمادی کا اظہار کیا دوسری طرف یہ بھی فرمایا کہ تم کو یا کسی اور کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ ہونا وہی ہے جو خدا چاہے۔مگر یہ ہونا انسان کے کے ہاتھوں کرایا جاتاہے تاکہ جو بُرا ہے وہ برا کرکے اپنی حقیقت کو ثابت کرے۔ اور جو اچھا ہے وہ اچھا کرکے اپنے آپ کو اس فہرست میں لکھوائے جس کا وہ مستحق ہے۔
يوسف 12:64
حضرت یوسف نے غالباً بھائیوں سے قیمت لینا مروّت کے خلاف سمجھا یا اس خیال سے کہ مال کی کمی ان کے دوبارہ یہاں آنے ميں رکاوٹ نہ بن جائے، اپنے آدمیوں کو ہدایت کی کہ جو رقم انھوں نے غلہ کی قیمت کے طورپر اداکی ہے، وہ خاموشی سے ان کے سامان میں ڈال دیا جائے تاکہ جب وہ گھر پر جاکر اپنا سامان کھولیں تو اس کو پالیں اور اپنے بھائی (بن یامین) کو لے کر دوبارہ یہاں آئیں۔
حضرت یعقوب نے ایک طرف بن یامین کے سلسلہ میں اپنے بیٹوں پر بے اعتمادی کا اظہار کیا دوسری طرف یہ بھی فرمایا کہ تم کو یا کسی اور کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ ہونا وہی ہے جو خدا چاہے۔مگر یہ ہونا انسان کے کے ہاتھوں کرایا جاتاہے تاکہ جو بُرا ہے وہ برا کرکے اپنی حقیقت کو ثابت کرے۔ اور جو اچھا ہے وہ اچھا کرکے اپنے آپ کو اس فہرست میں لکھوائے جس کا وہ مستحق ہے۔
يوسف 12:65
گھر لوٹ کر جب انھوںنے دیکھا کہ ان کی رقم ان کی غلّہ کی بوری میں موجود ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ ضرور ہمارے ساتھ بن یامین کو جانے دیں۔ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ اور اپنے حصہ کے علاوہ اس کے حصہ کا بھی مزید ایک اونٹ غلّہ لائیں گے۔ یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں یہ تو اخراجات کے لیے تھوڑا ہے۔
حضرت یوسف نے تقسیم کا جو نظام قائم کیا تھا، اس کے تحت غالباً ایسا تھا کہ باہر کے ایک آدمی کو ایک اونٹ غلہ دیا جاتاتھا۔
يوسف 12:66
گھر لوٹ کر جب انھوںنے دیکھا کہ ان کی رقم ان کی غلّہ کی بوری میں موجود ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ ضرور ہمارے ساتھ بن یامین کو جانے دیں۔ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ اور اپنے حصہ کے علاوہ اس کے حصہ کا بھی مزید ایک اونٹ غلّہ لائیں گے۔ یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں یہ تو اخراجات کے لیے تھوڑا ہے۔
حضرت یوسف نے تقسیم کا جو نظام قائم کیا تھا، اس کے تحت غالباً ایسا تھا کہ باہر کے ایک آدمی کو ایک اونٹ غلہ دیا جاتاتھا۔
يوسف 12:67
مصر کا قدیم دار السلطنت ایک ایسا شہر تھا جس کے چاروں طرف اونچی فصیل تھی اور مختلف سمتوں میں داخلہ کے لیے دروازے بنے ہوئے تھے۔ حضرت یعقوب کا اپنے بیٹوں سے یہ کہنا کہ تم لوگ اكٹھا ہو کر ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہو بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہو، اس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ ان کے دشمن انھیں ہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں )قيل إنه أحب أن لا يفطن بهم أعداؤهم فيحتالوا لإهلاكهم) تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 124 ۔
اس اندیشہ کا معاملہ اسی سورہ کی آیت نمبر 73 سے واضح ہے جس میں برادرانِ یوسف اپنی برأت ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ہم یہاں فساد کے لیے یا چوری کے لیے نہیں آئے ہیں۔ برادران ِیوسف مصر میں باہر سے آئے تھے۔ ان کے لباس مقامی لوگوں کے لباس سے مختلف تھے۔ وہ اپنے حلیہ سے یقیناًمصر والوں کو اجنبی دکھائی دیتے ہوں گے۔ ایسے گیارہ آدمیوں کا ایک ساتھ شہر میں داخل ہونا انھیں لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا سکتا تھا۔ اس لیے مقامی لوگوں سے کسی غیر ضروری ٹکراؤ سے بچنے کے لیے انھوں نے ان کو یہ ہدایت کی کہ شہر میں داخل ہو تو ایک ساتھ جـتھے کی صورت میں داخل نہ ہو۔
مومن کی نظر ایک طرف خدا کی قدرت کاملہ پر ہوتی ہے۔ وہ دیکھتاہے کہ اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کوکوئی اختیار حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں امتحان کی مصلحت سے خدا نے ہر معاملہ کو ظاہری اسباب کے ماتحت کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یعقوب نے ایک طرف اپنے بیٹوں کو دنیوی تدبیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ دوسری طرف یہ بھی فرمادیا کہ جو کچھ ہوگا خدا کے حکم سے ہوگا کیوں کہ یہاں خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔
يوسف 12:68
مصر کا قدیم دار السلطنت ایک ایسا شہر تھا جس کے چاروں طرف اونچی فصیل تھی اور مختلف سمتوں میں داخلہ کے لیے دروازے بنے ہوئے تھے۔ حضرت یعقوب کا اپنے بیٹوں سے یہ کہنا کہ تم لوگ اكٹھا ہو کر ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہو بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہو، اس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ ان کے دشمن انھیں ہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں )قيل إنه أحب أن لا يفطن بهم أعداؤهم فيحتالوا لإهلاكهم) تفسیر النسفی، جلد2، صفحہ 124 ۔
اس اندیشہ کا معاملہ اسی سورہ کی آیت نمبر 73 سے واضح ہے جس میں برادرانِ یوسف اپنی برأت ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ہم یہاں فساد کے لیے یا چوری کے لیے نہیں آئے ہیں۔ برادران ِیوسف مصر میں باہر سے آئے تھے۔ ان کے لباس مقامی لوگوں کے لباس سے مختلف تھے۔ وہ اپنے حلیہ سے یقیناًمصر والوں کو اجنبی دکھائی دیتے ہوں گے۔ ایسے گیارہ آدمیوں کا ایک ساتھ شہر میں داخل ہونا انھیں لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا سکتا تھا۔ اس لیے مقامی لوگوں سے کسی غیر ضروری ٹکراؤ سے بچنے کے لیے انھوں نے ان کو یہ ہدایت کی کہ شہر میں داخل ہو تو ایک ساتھ جـتھے کی صورت میں داخل نہ ہو۔
مومن کی نظر ایک طرف خدا کی قدرت کاملہ پر ہوتی ہے۔ وہ دیکھتاہے کہ اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کوکوئی اختیار حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں امتحان کی مصلحت سے خدا نے ہر معاملہ کو ظاہری اسباب کے ماتحت کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یعقوب نے ایک طرف اپنے بیٹوں کو دنیوی تدبیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ دوسری طرف یہ بھی فرمادیا کہ جو کچھ ہوگا خدا کے حکم سے ہوگا کیوں کہ یہاں خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔
يوسف 12:69
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:70
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:71
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:72
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:73
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:74
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:75
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:76
برادرانِ یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے از راہِ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلّہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں اِدھر اُدھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ بردرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انھوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق (چور)ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلّہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسب فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرارداد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیوں کہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا جس کی ضمیر ’’ھا ‘‘ہے۔ مگر شاہی کارندہ ’’صواع‘‘ تلاش کررہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ہا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ)۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا ،نہ کہ صواع۔
يوسف 12:77
مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف کی کسی نانی کے یہاں ایک بت تھا۔ حضرت یوسف اپنے بچپن میں اس کو چپکے سے ان کے یہاں سے اٹھا لائے اور اس کو توڑ ڈالا۔ اسی واقعہ کو بہا نہ بنا کر برادرانِ یوسف نے کہا کہ ’’اس کا بڑا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے‘‘۔ ایک واقعہ جوآپ کی غیرت توحید کو بتا رہا تھا اس کو محض ایک ظاہری مشابہت کی وجہ سے انھوں نے چوری کے خانہ میں ڈال دیا۔
برادرانِ یوسف کا حال یہ تھا کہ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے یوسف کو تو وہ عزیز (حضور، سرکار) کہہ رہے تھے اور اس کے سامنے خوب تواضع دکھا رہے تھے۔ مگر کنعان کا یوسف جو ان کی نظر میں صرف ایک دیہاتی لڑکا تھا، اس کو عین اسی وقت ناحق چوری کے الزام میں ملوّث کررہے تھے۔
حضرت یوسف کو علم تھا کہ ان کے رکھے ہوئے پیالہ کی وجہ سے بن یامین خواہ مخواہ چور بن رہا ہے۔ مگر وقتی مصلحت کی بناپر وہ خاموش رہے اور واقعہ کو اپنی رفتار سے چلنے دیا جو بھائیوں اور شاہی کارندے کے درمیان ہورہا تھا۔ ایک بار جب آپ کو بولنا پڑا تو یہ نہیں کہا کہ ’’جس نے ہماری چوری کی ہے‘‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ’’جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے‘‘۔
يوسف 12:78
مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف کی کسی نانی کے یہاں ایک بت تھا۔ حضرت یوسف اپنے بچپن میں اس کو چپکے سے ان کے یہاں سے اٹھا لائے اور اس کو توڑ ڈالا۔ اسی واقعہ کو بہا نہ بنا کر برادرانِ یوسف نے کہا کہ ’’اس کا بڑا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے‘‘۔ ایک واقعہ جوآپ کی غیرت توحید کو بتا رہا تھا اس کو محض ایک ظاہری مشابہت کی وجہ سے انھوں نے چوری کے خانہ میں ڈال دیا۔
برادرانِ یوسف کا حال یہ تھا کہ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے یوسف کو تو وہ عزیز (حضور، سرکار) کہہ رہے تھے اور اس کے سامنے خوب تواضع دکھا رہے تھے۔ مگر کنعان کا یوسف جو ان کی نظر میں صرف ایک دیہاتی لڑکا تھا، اس کو عین اسی وقت ناحق چوری کے الزام میں ملوّث کررہے تھے۔
حضرت یوسف کو علم تھا کہ ان کے رکھے ہوئے پیالہ کی وجہ سے بن یامین خواہ مخواہ چور بن رہا ہے۔ مگر وقتی مصلحت کی بناپر وہ خاموش رہے اور واقعہ کو اپنی رفتار سے چلنے دیا جو بھائیوں اور شاہی کارندے کے درمیان ہورہا تھا۔ ایک بار جب آپ کو بولنا پڑا تو یہ نہیں کہا کہ ’’جس نے ہماری چوری کی ہے‘‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ’’جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے‘‘۔
يوسف 12:79
مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف کی کسی نانی کے یہاں ایک بت تھا۔ حضرت یوسف اپنے بچپن میں اس کو چپکے سے ان کے یہاں سے اٹھا لائے اور اس کو توڑ ڈالا۔ اسی واقعہ کو بہا نہ بنا کر برادرانِ یوسف نے کہا کہ ’’اس کا بڑا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے‘‘۔ ایک واقعہ جوآپ کی غیرت توحید کو بتا رہا تھا اس کو محض ایک ظاہری مشابہت کی وجہ سے انھوں نے چوری کے خانہ میں ڈال دیا۔
برادرانِ یوسف کا حال یہ تھا کہ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے یوسف کو تو وہ عزیز (حضور، سرکار) کہہ رہے تھے اور اس کے سامنے خوب تواضع دکھا رہے تھے۔ مگر کنعان کا یوسف جو ان کی نظر میں صرف ایک دیہاتی لڑکا تھا، اس کو عین اسی وقت ناحق چوری کے الزام میں ملوّث کررہے تھے۔
حضرت یوسف کو علم تھا کہ ان کے رکھے ہوئے پیالہ کی وجہ سے بن یامین خواہ مخواہ چور بن رہا ہے۔ مگر وقتی مصلحت کی بناپر وہ خاموش رہے اور واقعہ کو اپنی رفتار سے چلنے دیا جو بھائیوں اور شاہی کارندے کے درمیان ہورہا تھا۔ ایک بار جب آپ کو بولنا پڑا تو یہ نہیں کہا کہ ’’جس نے ہماری چوری کی ہے‘‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ’’جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے‘‘۔
يوسف 12:80
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں میں غالباً ایک بھائی دوسروں سے مختلف تھا۔ اسی بھائی نے ابتدائی مرحلہ میں مشورہ دیا تھا کہ یوسف کوقتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا قافلہ اس کو نکال لے جائے۔ یہی حال اب اس بھائی کا مصر میںہوا۔ وہ دوسرے بھائیوں سے الگ ہوگیا۔ اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جس باپ کے نزدیک وہ ایک بھائی کو کھونے کا مجرم بن چکا ہے، اسی باپ کے سامنے اب وہ دوسرے بھائی کو کھونے کا مجرم بن کر حاضر ہو۔
يوسف 12:81
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں میں غالباً ایک بھائی دوسروں سے مختلف تھا۔ اسی بھائی نے ابتدائی مرحلہ میں مشورہ دیا تھا کہ یوسف کوقتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا قافلہ اس کو نکال لے جائے۔ یہی حال اب اس بھائی کا مصر میںہوا۔ وہ دوسرے بھائیوں سے الگ ہوگیا۔ اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جس باپ کے نزدیک وہ ایک بھائی کو کھونے کا مجرم بن چکا ہے، اسی باپ کے سامنے اب وہ دوسرے بھائی کو کھونے کا مجرم بن کر حاضر ہو۔
يوسف 12:82
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں میں غالباً ایک بھائی دوسروں سے مختلف تھا۔ اسی بھائی نے ابتدائی مرحلہ میں مشورہ دیا تھا کہ یوسف کوقتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا قافلہ اس کو نکال لے جائے۔ یہی حال اب اس بھائی کا مصر میںہوا۔ وہ دوسرے بھائیوں سے الگ ہوگیا۔ اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جس باپ کے نزدیک وہ ایک بھائی کو کھونے کا مجرم بن چکا ہے، اسی باپ کے سامنے اب وہ دوسرے بھائی کو کھونے کا مجرم بن کر حاضر ہو۔
يوسف 12:83
’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔
حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔
يوسف 12:84
’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔
حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔
يوسف 12:85
’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔
حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔
يوسف 12:86
’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔
حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔
يوسف 12:87
’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔
حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔
يوسف 12:88
’’تقویٰ اور صبر کرنے والوں کا اجر خدا ضائع نہیں کرتا‘‘— یہی بات پورے قصہ یوسف کا خلاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی ایک واضح مثال قائم کرنی تھی کہ معاملات دنیا میں جو شخص اللہ سے ڈرنے والا طریقہ اختیار کرے اور بے صبری والے طریقوں سے بچے، بالآخر وہ خدا کی مدد سے ضرور کامیاب ہوتا ہے۔ حضرت یوسف کے واقعہ کو اسی حقیقت کی ایک نظر آنے والی مثال بنا دیاگیا۔
مصر میں ابتداء ً سات اچھے سال اور اس کے بعد سات خراب سال دونوں خدا کے اذن کے تحت ہوئے۔ خدا چاہتا تو تمام سالوں کو اچھے سال بنا دیتا۔ اسی طرح حضرت یوسف کا کنویں میںڈالا جانا اور پھر اس سے نکل کر مصر پہنچنا دونوں خدا کی نگرانی میں ہوا۔ خدا چاہتا تو آپ کو کنویں کے مرحلہ سے گزارے بغیر مصر کے اقتدار تک پہنچا دیتا۔لیکن اگر یہ تمام غیر معمولی حالات پیش نہ آتے تو اسباب کی اس دنیا میں وہ اس بات کی مثال کیسے بنتے کہ خدا ان لوگوں کی مدد کرتاہے جو خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے تقویٰ اور صبرکی روش پر قائم رہیں۔
واقعات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کے اندر شہرت کا مادہ ہو۔ اور دوسرا وہ جس کے اندر شہرت کا مادہ نہ ہو۔ دو واقعات نوعیت کے اعتبار سے بالکل یکساں درجے کے ہوسکتے ہیں۔ مگر ایک واقعہ شہرت پکڑے گا اور دوسرا گمنام ہو کر رہ جائے گا۔ حضرت یوسف کے ساتھ نصرت خداوندی کا جو معاملہ ہوا وہ دوسرے صلحاء اور محسنین کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ مگر حضرت یوسف کے واقعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شہرت کا مادہ بھی پوری طرح موجود تھا۔ اس لیے وہ بخوبی طورپر لوگوں کی نظر میں آگیا۔
يوسف 12:89
’’تقویٰ اور صبر کرنے والوں کا اجر خدا ضائع نہیں کرتا‘‘— یہی بات پورے قصہ یوسف کا خلاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی ایک واضح مثال قائم کرنی تھی کہ معاملات دنیا میں جو شخص اللہ سے ڈرنے والا طریقہ اختیار کرے اور بے صبری والے طریقوں سے بچے، بالآخر وہ خدا کی مدد سے ضرور کامیاب ہوتا ہے۔ حضرت یوسف کے واقعہ کو اسی حقیقت کی ایک نظر آنے والی مثال بنا دیاگیا۔
مصر میں ابتداء ً سات اچھے سال اور اس کے بعد سات خراب سال دونوں خدا کے اذن کے تحت ہوئے۔ خدا چاہتا تو تمام سالوں کو اچھے سال بنا دیتا۔ اسی طرح حضرت یوسف کا کنویں میںڈالا جانا اور پھر اس سے نکل کر مصر پہنچنا دونوں خدا کی نگرانی میں ہوا۔ خدا چاہتا تو آپ کو کنویں کے مرحلہ سے گزارے بغیر مصر کے اقتدار تک پہنچا دیتا۔لیکن اگر یہ تمام غیر معمولی حالات پیش نہ آتے تو اسباب کی اس دنیا میں وہ اس بات کی مثال کیسے بنتے کہ خدا ان لوگوں کی مدد کرتاہے جو خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے تقویٰ اور صبرکی روش پر قائم رہیں۔
واقعات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کے اندر شہرت کا مادہ ہو۔ اور دوسرا وہ جس کے اندر شہرت کا مادہ نہ ہو۔ دو واقعات نوعیت کے اعتبار سے بالکل یکساں درجے کے ہوسکتے ہیں۔ مگر ایک واقعہ شہرت پکڑے گا اور دوسرا گمنام ہو کر رہ جائے گا۔ حضرت یوسف کے ساتھ نصرت خداوندی کا جو معاملہ ہوا وہ دوسرے صلحاء اور محسنین کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ مگر حضرت یوسف کے واقعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شہرت کا مادہ بھی پوری طرح موجود تھا۔ اس لیے وہ بخوبی طورپر لوگوں کی نظر میں آگیا۔
يوسف 12:90
’’تقویٰ اور صبر کرنے والوں کا اجر خدا ضائع نہیں کرتا‘‘— یہی بات پورے قصہ یوسف کا خلاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی ایک واضح مثال قائم کرنی تھی کہ معاملات دنیا میں جو شخص اللہ سے ڈرنے والا طریقہ اختیار کرے اور بے صبری والے طریقوں سے بچے، بالآخر وہ خدا کی مدد سے ضرور کامیاب ہوتا ہے۔ حضرت یوسف کے واقعہ کو اسی حقیقت کی ایک نظر آنے والی مثال بنا دیاگیا۔
مصر میں ابتداء ً سات اچھے سال اور اس کے بعد سات خراب سال دونوں خدا کے اذن کے تحت ہوئے۔ خدا چاہتا تو تمام سالوں کو اچھے سال بنا دیتا۔ اسی طرح حضرت یوسف کا کنویں میںڈالا جانا اور پھر اس سے نکل کر مصر پہنچنا دونوں خدا کی نگرانی میں ہوا۔ خدا چاہتا تو آپ کو کنویں کے مرحلہ سے گزارے بغیر مصر کے اقتدار تک پہنچا دیتا۔لیکن اگر یہ تمام غیر معمولی حالات پیش نہ آتے تو اسباب کی اس دنیا میں وہ اس بات کی مثال کیسے بنتے کہ خدا ان لوگوں کی مدد کرتاہے جو خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے تقویٰ اور صبرکی روش پر قائم رہیں۔
واقعات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کے اندر شہرت کا مادہ ہو۔ اور دوسرا وہ جس کے اندر شہرت کا مادہ نہ ہو۔ دو واقعات نوعیت کے اعتبار سے بالکل یکساں درجے کے ہوسکتے ہیں۔ مگر ایک واقعہ شہرت پکڑے گا اور دوسرا گمنام ہو کر رہ جائے گا۔ حضرت یوسف کے ساتھ نصرت خداوندی کا جو معاملہ ہوا وہ دوسرے صلحاء اور محسنین کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ مگر حضرت یوسف کے واقعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شہرت کا مادہ بھی پوری طرح موجود تھا۔ اس لیے وہ بخوبی طورپر لوگوں کی نظر میں آگیا۔
يوسف 12:91
جب حقیقت کھل گئی تو بھائیوں نے حضرت یوسف کی بڑائی کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے طور پر اپنی غلطی کا اقرار کرلیا۔دوسری طرف حضرت یوسف نے بھی اس عالی ظرفی کا ثبوت دیا جو ایک سچے خدا پرست کو ایسے موقع پر دینا چاهيے۔ انھوںنے اپنے بھائیوں کو کوئی ملامت نہیں کی۔ انھوںنے ماضی کے تلخ واقعات کو اچانک بھلا دیا اور بھائیوں سے دوبارہ برادرانہ تعلقات استوار کر لیے۔
اِس واقعہ میں انفرادی نصرت کے ساتھ اجتماعی نصرت کی مثال بھی موجود ہے۔ اسی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوئے کہ بنی اسرائیل فلسطین سے نکل کر مصر پہنچیں اور وہاں عزت اور خوش حالی کا مقام حاصل کریں۔ چنانچہ حضرت یوسف کے زمانہ میں حضرت یعقوب کا خاندان مصر منتقل ہوگیا اور تقریباً پانچ سو سال تک وہاںعزت کے ساتھ رہا۔ بائبل کے بیان کے مطابق سب افراد خاندان جو اس موقع پر مصر گئے ان کی تعداد 67 تھی۔
يوسف 12:92
جب حقیقت کھل گئی تو بھائیوں نے حضرت یوسف کی بڑائی کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے طور پر اپنی غلطی کا اقرار کرلیا۔دوسری طرف حضرت یوسف نے بھی اس عالی ظرفی کا ثبوت دیا جو ایک سچے خدا پرست کو ایسے موقع پر دینا چاهيے۔ انھوںنے اپنے بھائیوں کو کوئی ملامت نہیں کی۔ انھوںنے ماضی کے تلخ واقعات کو اچانک بھلا دیا اور بھائیوں سے دوبارہ برادرانہ تعلقات استوار کر لیے۔
اِس واقعہ میں انفرادی نصرت کے ساتھ اجتماعی نصرت کی مثال بھی موجود ہے۔ اسی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوئے کہ بنی اسرائیل فلسطین سے نکل کر مصر پہنچیں اور وہاں عزت اور خوش حالی کا مقام حاصل کریں۔ چنانچہ حضرت یوسف کے زمانہ میں حضرت یعقوب کا خاندان مصر منتقل ہوگیا اور تقریباً پانچ سو سال تک وہاںعزت کے ساتھ رہا۔ بائبل کے بیان کے مطابق سب افراد خاندان جو اس موقع پر مصر گئے ان کی تعداد 67 تھی۔
يوسف 12:93
جب حقیقت کھل گئی تو بھائیوں نے حضرت یوسف کی بڑائی کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے طور پر اپنی غلطی کا اقرار کرلیا۔دوسری طرف حضرت یوسف نے بھی اس عالی ظرفی کا ثبوت دیا جو ایک سچے خدا پرست کو ایسے موقع پر دینا چاهيے۔ انھوںنے اپنے بھائیوں کو کوئی ملامت نہیں کی۔ انھوںنے ماضی کے تلخ واقعات کو اچانک بھلا دیا اور بھائیوں سے دوبارہ برادرانہ تعلقات استوار کر لیے۔
اِس واقعہ میں انفرادی نصرت کے ساتھ اجتماعی نصرت کی مثال بھی موجود ہے۔ اسی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوئے کہ بنی اسرائیل فلسطین سے نکل کر مصر پہنچیں اور وہاں عزت اور خوش حالی کا مقام حاصل کریں۔ چنانچہ حضرت یوسف کے زمانہ میں حضرت یعقوب کا خاندان مصر منتقل ہوگیا اور تقریباً پانچ سو سال تک وہاںعزت کے ساتھ رہا۔ بائبل کے بیان کے مطابق سب افراد خاندان جو اس موقع پر مصر گئے ان کی تعداد 67 تھی۔
يوسف 12:94
حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔
حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔
يوسف 12:95
حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔
حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔
يوسف 12:96
حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔
حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔
يوسف 12:97
حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔
حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔
يوسف 12:98
حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔
حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔
يوسف 12:99
یہاں تخت سے مراد تخت شاہی نہیں ہے بلکہ وہ تخت ہے جس پر حضرت یوسف اپنے عہدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔ سجدہ سے مراد بھی معروف سجدہ نہيں بلکہ رکوع کے انداز پر جھکنا ہے۔ کسی بڑے کی تعظیم کے لیے اس انداز میں جھکنا قدیم زمانہ میں بہت معروف تھا۔
’’إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ‘‘ کامطلب یہ ہے کہ میرا رب جس کام کو کرنا چاہے اس کے لیے وہ نہایت مخفی راہیں نکال لیتاہے۔ خدا اپنے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایسی تدبیریں پیدا کرلیتا ہے جس کی طرف عام انسانوں کا گمان بھی نہیں جاسکتا۔
يوسف 12:100
یہاں تخت سے مراد تخت شاہی نہیں ہے بلکہ وہ تخت ہے جس پر حضرت یوسف اپنے عہدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔ سجدہ سے مراد بھی معروف سجدہ نہيں بلکہ رکوع کے انداز پر جھکنا ہے۔ کسی بڑے کی تعظیم کے لیے اس انداز میں جھکنا قدیم زمانہ میں بہت معروف تھا۔
’’إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ‘‘ کامطلب یہ ہے کہ میرا رب جس کام کو کرنا چاہے اس کے لیے وہ نہایت مخفی راہیں نکال لیتاہے۔ خدا اپنے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایسی تدبیریں پیدا کرلیتا ہے جس کی طرف عام انسانوں کا گمان بھی نہیں جاسکتا۔
يوسف 12:101
غیر مومن ہر چیز کو انسان کے اعتبارسے دیکھتا ہے اور مومن ہر چیز کو خدا کے اعتبار سے۔ حضرت یوسف کو اعلیٰ حکومتی عہدہ ملا تو اس کو بھی انھوںنے خدا کا عطیہ قرار دیا۔ ان کو تاویل اور تعبیر کا علم حاصل ہوا تو انھوںنے کہا کہ یہ مجھ کو خدا نے سکھایا ہے۔ ان کے اپنوں نے انھیں مصیبت میں ڈالا تو اس کو بھی انھوں نے اس نظر سے دیکھا کہ یہ خدا کی لطیف تدبیریں تھی جن کے ذریعہ وہ مجھ کو ارتقائی سفر کرارہا تھا۔
خدا کی عظمت کے احساس نے ان سے ذاتی عظمت کے تمام احساسات چھین ليے تھے۔ دنیوی بلندی کی چوٹی پر پہنچ کر بھی ان کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے — خدایا، تو ہی تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ تو ہی میرے سب کام بنانے والا ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں میری مدد فرما۔ مجھ کو ان لوگوں میں شامل فرما جو دنیا میں تیری پسند پر چلنے کی توفیق پاتے ہیں اور آخرت میں تیرا ابدی انعام حاصل کرتے ہیں۔
يوسف 12:102
حضرت یوسف کا قصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا وہ بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن وحی ربّانی ہے، نہ کہ کلام انسانی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ آپ نے اس واقعہ کونہ تو بطورخود دیکھا تھا اور نہ وہ کسی تاریخ میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اس کو پڑھیں یا کسی سے پڑھوا کر سنیں۔ وہ صرف تورات کے صفحات میںتھا۔ اور پریس کے دور سے قبل تورات ایک ایسی کتاب تھی جس کی واقفیت صرف یہودی مراکز کے چند یہودی علماء کو ہوتی تھی، اور کسی کو نہیں۔
مزید یہ کہ قرآن میں اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا گیا ہے، بنیادی طورپر تورات کے مطابق ہونے کے باوجود، تفصیلات میں وہ اس سے کافی مختلف ہے۔ یہ اختلاف بذات خود قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں دونوں میں اختلاف ہے وہاں قرآن کا بیان واضح طورپر عقل وفطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا بیان پڑھ کر واقعی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ سیرت کے مناسب ہے جب کہ تورات کے بیانات پیغمبرانہ سیرت کے مناسب حال نہیں ۔ اسی طرح واقعہ کے کئی بے حد قیمتی اجزاء (مثلاً قید خانہ میں حضرت یوسف کی تقریر، آیت 37-40 ) جو قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ بائبل یا تالمود میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حتی کہ بعض تاریخی غلطیاں جو بائبل میں موجود ہیں ان کا اعادہ قرآن میں نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طورپر بائبل حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کو فرعون کہتی ہے۔ حالاں کہ فرعون کا خاندان حضرت یوسف کے پانچ سو سال بعد مصر میں حکمراں بنا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ایک عرب خاندان حکومت کررہاتھا جس کو چرواہے بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے (تقابل کے ليے ملاحظہ ہو، بائبل، کتاب پیدائش)۔
حق کو نہ ماننے کا سبب اگر دلیل ہو تو دلیل سامنے آنے کے بعد آدمی فوراً اس کو مان لے گا۔ مگر اکثر حالات میں انکارِ حق کا سبب ہٹ دھرمی ہوتاہے۔ ایسے لوگ حق کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنے کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی ہوتاہے، اور اپنے کو چھوٹا کرنا آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر قسم کے دلائل اور قرائن سامنے آنے کے بعد بھی اپنی روش کو نہیں چھوڑتے۔ وہ اس کو گوارا کرلیتے ہیں کہ حق چھوٹا ہوجائے مگر وہ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو دنیا میں اپنے آپ کو چھوٹا کرلے وہ آخرت میں بڑا کیا جائے گا۔ اور جو شخص دنیا میں اپنے كو چھوٹا نہ کرے وہی وہ شخص ہے جو آئندہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہو کر رہ جائے گا۔
يوسف 12:103
حضرت یوسف کا قصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا وہ بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن وحی ربّانی ہے، نہ کہ کلام انسانی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ آپ نے اس واقعہ کونہ تو بطورخود دیکھا تھا اور نہ وہ کسی تاریخ میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اس کو پڑھیں یا کسی سے پڑھوا کر سنیں۔ وہ صرف تورات کے صفحات میںتھا۔ اور پریس کے دور سے قبل تورات ایک ایسی کتاب تھی جس کی واقفیت صرف یہودی مراکز کے چند یہودی علماء کو ہوتی تھی، اور کسی کو نہیں۔
مزید یہ کہ قرآن میں اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا گیا ہے، بنیادی طورپر تورات کے مطابق ہونے کے باوجود، تفصیلات میں وہ اس سے کافی مختلف ہے۔ یہ اختلاف بذات خود قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں دونوں میں اختلاف ہے وہاں قرآن کا بیان واضح طورپر عقل وفطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا بیان پڑھ کر واقعی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ سیرت کے مناسب ہے جب کہ تورات کے بیانات پیغمبرانہ سیرت کے مناسب حال نہیں ۔ اسی طرح واقعہ کے کئی بے حد قیمتی اجزاء (مثلاً قید خانہ میں حضرت یوسف کی تقریر، آیت 37-40 ) جو قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ بائبل یا تالمود میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حتی کہ بعض تاریخی غلطیاں جو بائبل میں موجود ہیں ان کا اعادہ قرآن میں نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طورپر بائبل حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کو فرعون کہتی ہے۔ حالاں کہ فرعون کا خاندان حضرت یوسف کے پانچ سو سال بعد مصر میں حکمراں بنا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ایک عرب خاندان حکومت کررہاتھا جس کو چرواہے بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے (تقابل کے ليے ملاحظہ ہو، بائبل، کتاب پیدائش)۔
حق کو نہ ماننے کا سبب اگر دلیل ہو تو دلیل سامنے آنے کے بعد آدمی فوراً اس کو مان لے گا۔ مگر اکثر حالات میں انکارِ حق کا سبب ہٹ دھرمی ہوتاہے۔ ایسے لوگ حق کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنے کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی ہوتاہے، اور اپنے کو چھوٹا کرنا آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر قسم کے دلائل اور قرائن سامنے آنے کے بعد بھی اپنی روش کو نہیں چھوڑتے۔ وہ اس کو گوارا کرلیتے ہیں کہ حق چھوٹا ہوجائے مگر وہ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو دنیا میں اپنے آپ کو چھوٹا کرلے وہ آخرت میں بڑا کیا جائے گا۔ اور جو شخص دنیا میں اپنے كو چھوٹا نہ کرے وہی وہ شخص ہے جو آئندہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہو کر رہ جائے گا۔
يوسف 12:104
حضرت یوسف کا قصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا وہ بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن وحی ربّانی ہے، نہ کہ کلام انسانی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ آپ نے اس واقعہ کونہ تو بطورخود دیکھا تھا اور نہ وہ کسی تاریخ میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اس کو پڑھیں یا کسی سے پڑھوا کر سنیں۔ وہ صرف تورات کے صفحات میںتھا۔ اور پریس کے دور سے قبل تورات ایک ایسی کتاب تھی جس کی واقفیت صرف یہودی مراکز کے چند یہودی علماء کو ہوتی تھی، اور کسی کو نہیں۔
مزید یہ کہ قرآن میں اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا گیا ہے، بنیادی طورپر تورات کے مطابق ہونے کے باوجود، تفصیلات میں وہ اس سے کافی مختلف ہے۔ یہ اختلاف بذات خود قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں دونوں میں اختلاف ہے وہاں قرآن کا بیان واضح طورپر عقل وفطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا بیان پڑھ کر واقعی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ سیرت کے مناسب ہے جب کہ تورات کے بیانات پیغمبرانہ سیرت کے مناسب حال نہیں ۔ اسی طرح واقعہ کے کئی بے حد قیمتی اجزاء (مثلاً قید خانہ میں حضرت یوسف کی تقریر، آیت 37-40 ) جو قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ بائبل یا تالمود میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حتی کہ بعض تاریخی غلطیاں جو بائبل میں موجود ہیں ان کا اعادہ قرآن میں نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طورپر بائبل حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کو فرعون کہتی ہے۔ حالاں کہ فرعون کا خاندان حضرت یوسف کے پانچ سو سال بعد مصر میں حکمراں بنا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ایک عرب خاندان حکومت کررہاتھا جس کو چرواہے بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے (تقابل کے ليے ملاحظہ ہو، بائبل، کتاب پیدائش)۔
حق کو نہ ماننے کا سبب اگر دلیل ہو تو دلیل سامنے آنے کے بعد آدمی فوراً اس کو مان لے گا۔ مگر اکثر حالات میں انکارِ حق کا سبب ہٹ دھرمی ہوتاہے۔ ایسے لوگ حق کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنے کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی ہوتاہے، اور اپنے کو چھوٹا کرنا آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر قسم کے دلائل اور قرائن سامنے آنے کے بعد بھی اپنی روش کو نہیں چھوڑتے۔ وہ اس کو گوارا کرلیتے ہیں کہ حق چھوٹا ہوجائے مگر وہ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو دنیا میں اپنے آپ کو چھوٹا کرلے وہ آخرت میں بڑا کیا جائے گا۔ اور جو شخص دنیا میں اپنے كو چھوٹا نہ کرے وہی وہ شخص ہے جو آئندہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہو کر رہ جائے گا۔
يوسف 12:105
حق کے ظہور کے بعد جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ اپنے انکار کو ہمیشہ اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ جو دلیل مطلوب تھی وہ دلیل حق کی طرف سے ان کے سامنے نہیںآئی۔ اگر ایسی دلیل ہوتی تو وہ اس کو ضرور مان لیتے۔ گویا ان کے اعراض یا انکار کا سبب ان کے باہر ہے، نہ کہ ان کے اندر۔
مگر حقیقت حال ا سکے برعکس ہے۔ حق اتنا واضح ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو زمین وآسمان کی تمام نشانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ ساری کائنات میں سب سے زیادہ ثابت شدہ چیز ہوتا ہے ۔ مگر حق کو پانے کے لیے اصل ضرورت دیکھنے والی آنکھ اور عبرت پکڑنے والے دماغ کی ہے۔ اور یہی چیز منکرین کے یہاں موجود نہیں ہوتی۔
حق کے مقابلہ میں آدمی جب سرکش دکھائی دیتا ہے تو اکثر حالات میں اس کی وجہ ’’شرک‘‘ ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہوئے انھوںنے کچھ اورزندہ یا مُردہ ہستیاں فرض کر رکھی ہیں جن پر وہ اپنا اعتماد قائم كيے ہوئے ہیں، جن کو وہ بڑائی کا مقام دیتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک نے خدا کے سوا کچھ ’’بڑے‘‘ بنا رکھے ہیں۔ وہ انھیں بڑوں کے بھروسہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ خدا کے یہاں سب چھوٹے ہیں۔ وہاں کسی کو جو چیز بچائے گی وہ اس کا ذاتی عمل ہے، نہ کہ مفروضہ بڑوں کی بڑائی۔
پیغمبر کا کام ایک اللہ کی طرف بلانا ہے۔ یہی اس کا مشن ہے ۔ اس مشن کو اس نے بصیرت کے طورپر اختیار کیا ہے، نہ کہ تقلید کے طورپر۔ گویا پیغمبرانہ دعوت وہ دعوت ہے جو انسان کو ایک خدا سے جوڑنے کی دعوت ہو اور جس کی صداقت داعی کے اوپر اتنی کھل چکی ہو کہ وہ اس کے لیے بصیرت اور معرفت بن جائے۔ اسی طرح پیغمبر کے پیرو وہ لوگ ہیں جو حق کو بصیرت کی سطح پر پائیں اور توحید کی سطح پر اس کا اعلان کریں۔
آدمی اپنے وقتی اطمینان کو مستقل اطمینان سمجھ لیتاہے۔ حالانکہ کسی کے پاس اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی مہلتِ عمر کب تک ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب موت آکر اس کے تمام مزعومات کو باطل کردے گی۔ کب قیامت کا زلزلہ اس کی بنی بنائی دنیا کو الٹ پلٹ دے گا۔ آدمی اپنے آپ کو یقینی انجام کی دنیا میں سمجھتا ہے حالانکہ وہ ہر لمحہ ایک غیر یقینی انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔
يوسف 12:106
حق کے ظہور کے بعد جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ اپنے انکار کو ہمیشہ اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ جو دلیل مطلوب تھی وہ دلیل حق کی طرف سے ان کے سامنے نہیںآئی۔ اگر ایسی دلیل ہوتی تو وہ اس کو ضرور مان لیتے۔ گویا ان کے اعراض یا انکار کا سبب ان کے باہر ہے، نہ کہ ان کے اندر۔
مگر حقیقت حال ا سکے برعکس ہے۔ حق اتنا واضح ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو زمین وآسمان کی تمام نشانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ ساری کائنات میں سب سے زیادہ ثابت شدہ چیز ہوتا ہے ۔ مگر حق کو پانے کے لیے اصل ضرورت دیکھنے والی آنکھ اور عبرت پکڑنے والے دماغ کی ہے۔ اور یہی چیز منکرین کے یہاں موجود نہیں ہوتی۔
حق کے مقابلہ میں آدمی جب سرکش دکھائی دیتا ہے تو اکثر حالات میں اس کی وجہ ’’شرک‘‘ ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہوئے انھوںنے کچھ اورزندہ یا مُردہ ہستیاں فرض کر رکھی ہیں جن پر وہ اپنا اعتماد قائم كيے ہوئے ہیں، جن کو وہ بڑائی کا مقام دیتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک نے خدا کے سوا کچھ ’’بڑے‘‘ بنا رکھے ہیں۔ وہ انھیں بڑوں کے بھروسہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ خدا کے یہاں سب چھوٹے ہیں۔ وہاں کسی کو جو چیز بچائے گی وہ اس کا ذاتی عمل ہے، نہ کہ مفروضہ بڑوں کی بڑائی۔
پیغمبر کا کام ایک اللہ کی طرف بلانا ہے۔ یہی اس کا مشن ہے ۔ اس مشن کو اس نے بصیرت کے طورپر اختیار کیا ہے، نہ کہ تقلید کے طورپر۔ گویا پیغمبرانہ دعوت وہ دعوت ہے جو انسان کو ایک خدا سے جوڑنے کی دعوت ہو اور جس کی صداقت داعی کے اوپر اتنی کھل چکی ہو کہ وہ اس کے لیے بصیرت اور معرفت بن جائے۔ اسی طرح پیغمبر کے پیرو وہ لوگ ہیں جو حق کو بصیرت کی سطح پر پائیں اور توحید کی سطح پر اس کا اعلان کریں۔
آدمی اپنے وقتی اطمینان کو مستقل اطمینان سمجھ لیتاہے۔ حالانکہ کسی کے پاس اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی مہلتِ عمر کب تک ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب موت آکر اس کے تمام مزعومات کو باطل کردے گی۔ کب قیامت کا زلزلہ اس کی بنی بنائی دنیا کو الٹ پلٹ دے گا۔ آدمی اپنے آپ کو یقینی انجام کی دنیا میں سمجھتا ہے حالانکہ وہ ہر لمحہ ایک غیر یقینی انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔
يوسف 12:107
حق کے ظہور کے بعد جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ اپنے انکار کو ہمیشہ اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ جو دلیل مطلوب تھی وہ دلیل حق کی طرف سے ان کے سامنے نہیںآئی۔ اگر ایسی دلیل ہوتی تو وہ اس کو ضرور مان لیتے۔ گویا ان کے اعراض یا انکار کا سبب ان کے باہر ہے، نہ کہ ان کے اندر۔
مگر حقیقت حال ا سکے برعکس ہے۔ حق اتنا واضح ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو زمین وآسمان کی تمام نشانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ ساری کائنات میں سب سے زیادہ ثابت شدہ چیز ہوتا ہے ۔ مگر حق کو پانے کے لیے اصل ضرورت دیکھنے والی آنکھ اور عبرت پکڑنے والے دماغ کی ہے۔ اور یہی چیز منکرین کے یہاں موجود نہیں ہوتی۔
حق کے مقابلہ میں آدمی جب سرکش دکھائی دیتا ہے تو اکثر حالات میں اس کی وجہ ’’شرک‘‘ ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہوئے انھوںنے کچھ اورزندہ یا مُردہ ہستیاں فرض کر رکھی ہیں جن پر وہ اپنا اعتماد قائم كيے ہوئے ہیں، جن کو وہ بڑائی کا مقام دیتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک نے خدا کے سوا کچھ ’’بڑے‘‘ بنا رکھے ہیں۔ وہ انھیں بڑوں کے بھروسہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ خدا کے یہاں سب چھوٹے ہیں۔ وہاں کسی کو جو چیز بچائے گی وہ اس کا ذاتی عمل ہے، نہ کہ مفروضہ بڑوں کی بڑائی۔
پیغمبر کا کام ایک اللہ کی طرف بلانا ہے۔ یہی اس کا مشن ہے ۔ اس مشن کو اس نے بصیرت کے طورپر اختیار کیا ہے، نہ کہ تقلید کے طورپر۔ گویا پیغمبرانہ دعوت وہ دعوت ہے جو انسان کو ایک خدا سے جوڑنے کی دعوت ہو اور جس کی صداقت داعی کے اوپر اتنی کھل چکی ہو کہ وہ اس کے لیے بصیرت اور معرفت بن جائے۔ اسی طرح پیغمبر کے پیرو وہ لوگ ہیں جو حق کو بصیرت کی سطح پر پائیں اور توحید کی سطح پر اس کا اعلان کریں۔
آدمی اپنے وقتی اطمینان کو مستقل اطمینان سمجھ لیتاہے۔ حالانکہ کسی کے پاس اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی مہلتِ عمر کب تک ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب موت آکر اس کے تمام مزعومات کو باطل کردے گی۔ کب قیامت کا زلزلہ اس کی بنی بنائی دنیا کو الٹ پلٹ دے گا۔ آدمی اپنے آپ کو یقینی انجام کی دنیا میں سمجھتا ہے حالانکہ وہ ہر لمحہ ایک غیر یقینی انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔
يوسف 12:108
حق کے ظہور کے بعد جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ اپنے انکار کو ہمیشہ اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ جو دلیل مطلوب تھی وہ دلیل حق کی طرف سے ان کے سامنے نہیںآئی۔ اگر ایسی دلیل ہوتی تو وہ اس کو ضرور مان لیتے۔ گویا ان کے اعراض یا انکار کا سبب ان کے باہر ہے، نہ کہ ان کے اندر۔
مگر حقیقت حال ا سکے برعکس ہے۔ حق اتنا واضح ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو زمین وآسمان کی تمام نشانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ ساری کائنات میں سب سے زیادہ ثابت شدہ چیز ہوتا ہے ۔ مگر حق کو پانے کے لیے اصل ضرورت دیکھنے والی آنکھ اور عبرت پکڑنے والے دماغ کی ہے۔ اور یہی چیز منکرین کے یہاں موجود نہیں ہوتی۔
حق کے مقابلہ میں آدمی جب سرکش دکھائی دیتا ہے تو اکثر حالات میں اس کی وجہ ’’شرک‘‘ ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہوئے انھوںنے کچھ اورزندہ یا مُردہ ہستیاں فرض کر رکھی ہیں جن پر وہ اپنا اعتماد قائم كيے ہوئے ہیں، جن کو وہ بڑائی کا مقام دیتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک نے خدا کے سوا کچھ ’’بڑے‘‘ بنا رکھے ہیں۔ وہ انھیں بڑوں کے بھروسہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ خدا کے یہاں سب چھوٹے ہیں۔ وہاں کسی کو جو چیز بچائے گی وہ اس کا ذاتی عمل ہے، نہ کہ مفروضہ بڑوں کی بڑائی۔
پیغمبر کا کام ایک اللہ کی طرف بلانا ہے۔ یہی اس کا مشن ہے ۔ اس مشن کو اس نے بصیرت کے طورپر اختیار کیا ہے، نہ کہ تقلید کے طورپر۔ گویا پیغمبرانہ دعوت وہ دعوت ہے جو انسان کو ایک خدا سے جوڑنے کی دعوت ہو اور جس کی صداقت داعی کے اوپر اتنی کھل چکی ہو کہ وہ اس کے لیے بصیرت اور معرفت بن جائے۔ اسی طرح پیغمبر کے پیرو وہ لوگ ہیں جو حق کو بصیرت کی سطح پر پائیں اور توحید کی سطح پر اس کا اعلان کریں۔
آدمی اپنے وقتی اطمینان کو مستقل اطمینان سمجھ لیتاہے۔ حالانکہ کسی کے پاس اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی مہلتِ عمر کب تک ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب موت آکر اس کے تمام مزعومات کو باطل کردے گی۔ کب قیامت کا زلزلہ اس کی بنی بنائی دنیا کو الٹ پلٹ دے گا۔ آدمی اپنے آپ کو یقینی انجام کی دنیا میں سمجھتا ہے حالانکہ وہ ہر لمحہ ایک غیر یقینی انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔
يوسف 12:109
تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ رسالت اور پیغمبری کو مانتے تھے وہ بھی اس وقت اس کے منکر ہوگئے، جب کہ خود اپنی قوم کے اندر سے ایک شخص پیغمبر ہوکر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماضی کا پیغمبر تاریخی طورپر ثابت شدہ پیغمبر بن چکا ہوتاہے، جب کہ حال کا پیغمبر ایک نزاعی شخصیت ہوتاہے۔ تاریخی پیغمبر کوماننا ہمیشہ انسان کے لیے آسان ترین کام رہا ہے اور نزاعی پیغمبر کو ماننا ہمیشہ اس کے لیے مشکل ترین کام۔
عاد اور ثمود اور مدین اور قوم لوط وغیرہ کی تباہ شدہ بستیاں قریش کے آس پاس کے علاقوں میں موجود تھیں۔ وہ اپنے سفروں کے دوران ان کو دیکھتے تھے۔ یہ آثار زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ پیغمبر کو نزاعی دور میں نہ پہچاننے ہی کی وجہ سے ان قوموں پر خدا کا عذاب آیااور وہ ہلاک کردی گئیں۔ اس کے باوجود قریش نے ان سے سبق نہیں لیا۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ایک غلط کام کرتاہے مگر کچھ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اپنے آپ کو غلط کاروں کی فہرست سے الگ کرلیتاہے۔
سورہ یوسف کی آیت 110 کی تشریح سورہ بقرہ کی آیت 214 سے ہورہی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے— ’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل کرديے جاؤ گے۔ حالانکہ تم پر ابھی وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے والوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی۔ جان لو، خدا کی مدد قریب ہے‘‘۔
خدا ہمیشہ داعی کی مدد کرتاہے۔ مگر مدد مدعو کے خلاف داعی کے حق میں خدا کا فیصلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ دعوتی جدوجہد اپنی تکمیل کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہو، خواہ اس تاخیر کی وجہ سے دعوت دینے والوں پر مایوسی کے احساسات طاری ہونے لگیں۔
’’اور آخرت کا گھر متقیوں کے لیے زیادہ بہتر ہے‘‘— اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ آخرت میں ان کے ساتھ كيے جانے والے سلوک کی علامت ہوتاہے۔
دنیا میں خدا حق کے داعیوں کی اس طرح مدد کرتاہے کہ ان کی بات تمام دوسری باتوں پر بلند وبالا ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کی تمام سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود اپنا مشن پورا کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ یہی عزت اور سر بلندی ان کو آخرت میں زیادہ کامل اور معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
يوسف 12:110
تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ رسالت اور پیغمبری کو مانتے تھے وہ بھی اس وقت اس کے منکر ہوگئے، جب کہ خود اپنی قوم کے اندر سے ایک شخص پیغمبر ہوکر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماضی کا پیغمبر تاریخی طورپر ثابت شدہ پیغمبر بن چکا ہوتاہے، جب کہ حال کا پیغمبر ایک نزاعی شخصیت ہوتاہے۔ تاریخی پیغمبر کوماننا ہمیشہ انسان کے لیے آسان ترین کام رہا ہے اور نزاعی پیغمبر کو ماننا ہمیشہ اس کے لیے مشکل ترین کام۔
عاد اور ثمود اور مدین اور قوم لوط وغیرہ کی تباہ شدہ بستیاں قریش کے آس پاس کے علاقوں میں موجود تھیں۔ وہ اپنے سفروں کے دوران ان کو دیکھتے تھے۔ یہ آثار زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ پیغمبر کو نزاعی دور میں نہ پہچاننے ہی کی وجہ سے ان قوموں پر خدا کا عذاب آیااور وہ ہلاک کردی گئیں۔ اس کے باوجود قریش نے ان سے سبق نہیں لیا۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ایک غلط کام کرتاہے مگر کچھ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اپنے آپ کو غلط کاروں کی فہرست سے الگ کرلیتاہے۔
سورہ یوسف کی آیت 110 کی تشریح سورہ بقرہ کی آیت 214 سے ہورہی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے— ’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل کرديے جاؤ گے۔ حالانکہ تم پر ابھی وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے والوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی۔ جان لو، خدا کی مدد قریب ہے‘‘۔
خدا ہمیشہ داعی کی مدد کرتاہے۔ مگر مدد مدعو کے خلاف داعی کے حق میں خدا کا فیصلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ دعوتی جدوجہد اپنی تکمیل کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہو، خواہ اس تاخیر کی وجہ سے دعوت دینے والوں پر مایوسی کے احساسات طاری ہونے لگیں۔
’’اور آخرت کا گھر متقیوں کے لیے زیادہ بہتر ہے‘‘— اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ آخرت میں ان کے ساتھ كيے جانے والے سلوک کی علامت ہوتاہے۔
دنیا میں خدا حق کے داعیوں کی اس طرح مدد کرتاہے کہ ان کی بات تمام دوسری باتوں پر بلند وبالا ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کی تمام سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود اپنا مشن پورا کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ یہی عزت اور سر بلندی ان کو آخرت میں زیادہ کامل اور معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
يوسف 12:111
پچھلے پیغمبروں اور ان کی قوموں کی کہانی عبرت کے اعتبار سے تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اگر آدمی عقل سے کام لے تو وہ ماضی کے واقعہ میں حال کی نصیحت پالے گا۔ دوسروں کے انجام کو دیکھ کر وہ اپنے احوال کو درست کرلے گا۔
قرآن کسی انسان کی گھڑی ہوئی کتاب نہیں، وہ خدا کی طرف سے اتری ہوئی کتاب ہے۔ وہ عین اس پیشین گوئی کے مطابق آئی ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں کی گئی تھی۔ اس میں ہدایت سے متعلق ہر ضروری چیز کا بیان موجود ہے۔ وہ اپنے آغاز کے اعتبار سے انسانوں کے لیے رہنمائی ہے اور اپنے انجام کے اعتبار سے ان کے لیے رحمت۔
الرعد 13:1
قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔
یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔
کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔
الرعد 13:2
قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔
یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔
کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔
الرعد 13:3
آسمان کی نشانیوں کے بعد جب زمین کے حالات پر غور کیا جائے تو وہ انسان کی رہائش کے لیے انتہائی بامعنی طورپر موزوں نظر آتی ہے۔
زمین ایک قدرتی فرش کی مانند آدمی کے قدموں کے نیچے پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ایک طرف انسان کی ضرورت کے لیے سمندر کی گہرائیاں ہیں تو دوسری طرف پہاڑوں کی بلندیاں بھی ہیں تاکہ دونوں مل کر زمین کا توازن برقرار رکھیں۔ درخت ایک دوسرے سے الگ الگ بھی ہوسکتے تھے مگران میں جوڑے ہیں جن کے درمیان تزویج کے عمل سے دانے اور پھل پیداہوتے ہیں۔ زمین کا یہ حال ہے کہ سورج کے چاروں طرف اپنی سالانہ دوری گردش کے ساتھ اپنے محور پر بھی مسلسل گردش کرتی ہے جس کا دور 24 گھنٹہ میں پورا ہوتا ہے اور جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔
اس قسم کی نشانیوں پر جو شخص بھی سنجیدگی سے غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ یہ دنیا ایک بااختیار مالک کے تحت ہے اور اس نے اپنے ارادہ کے تحت اس کی ایک با مقصد منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ با شعور منصوبہ بندی کے بغیر زمین پر یہ معنویت ہر گز ممکن نہ تھی۔
الرعد 13:4
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے فرمایا کہ کوئی اچھی زمین ہے اور کوئی بنجر زمین۔ ایک اگتی ہے اور اسی کے پاس دوسری نہیں اگتی (أَرْضٌ طَيِّبَةٌ وَأَرْضٌ سَبِخَةٌ، نَبَتَتْ هَذِهِ، وَهَذِهِ إِلَى جَنْبِهَا لَا تَنْبُتُ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد6، صفحہ 348 ۔مجاہد نے کہا کہ یہی معاملہ بنی آدم کا ہے۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی، حالانکہ سب کی اصل ایک ہے (كَمَثَلِ بَنِيَ آدَمَ صَالِحِهِمْ وَخَبِيثِهِمْ وَأَبُوهُمْ وَاحِدٌ) حسن بصری نے کہاکہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ نے بنی آدم کے دلوں کے لیے دی ہے (هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِقُلُوبِ بَنِي آدَم) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ7۔
زمین میں ایک عجیب نشانی یہ ہے کہ ایک ہی مٹی ہے۔ ایک ہی پانی سے اس کو سیراب کیا جاتا ہے مگر ایک جگہ سے ایک درخت نکلتا ہے اور اسی کے پاس دوسری جگہ سے دوسرا درخت۔ ایک میں میٹھا پھل ہے اور دوسرے میں کھٹا پھل۔ کوئی زیادہ پیداوار دیتاہے اور کوئی کم پیدوار۔
یہ انسانی واقعہ کی زمینی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر چہ تمام انسان بظاہر یکساں ہیں اور ان سب کے پاس ایک ہی ہدایت آتی ہے۔ مگر ہدایت سے استفادہ کے معاملہ میں ایک انسان اور دوسرے انسان میں بہت زیادہ فرق ہوجاتا ہے۔ کوئی اس سے رہنمائی حاصل کرتاہے اور کوئی اس کا منکر بن جاتاہے۔ کوئی تھوڑی ہدایت لیتاہے اورکسی کی زندگی ہدایت سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ گویا جیسی زمین ویسی پیداوار کااصول یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔
الرعد 13:5
دوسری زندگی کے منکرین کا کیس نہایت عجیب ہے۔ وہ جس واقعہ کے ظہور کو ایک بار مان رہے ہیں اسی واقعہ کے دوبارہ ظہور کا انکار کردیتے ہیں۔
جو لوگ دوسری زندگی کے وقوع کو نہیں مانتے وہ دوسری زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتاہے کہ دوسری زندگی کو ماننا ایک غیر علمی بات کو ماننا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیوںکہ کوئی منکر جس چیز کا انکار کرسکتاہے، وہ صرف دوسری زندگی ہے۔ جہاں تک پہلی زندگی کا تعلق ہے اس کاانکار کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ تو ایک زندہ واقعہ کے طورپر ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ پھر جب پہلی زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے تو دوسری زندگی کا وجود میںآنا ناممکن کیوں ہو۔
ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں جو خدا کے منکرہوں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک خالق کو مانتے ہیں مگر وہ آخرت کو نہیں مانتے۔ مگر آخرت کے انکار کے بعد خالق کے اقرار کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ خدا اس کائنات کا خالق ہی نہیں وہ بذاتِ خود حق بھی ہے۔ خدا کا سراپا حق اور عدل ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتاہے کہ وہ جو کچھ کرے حق اور عدل کے مطابق کرے۔ آخرت دراصل خدا کی صفت عدل کا ظہور ہے۔ خداکا ماننا وہی ماننا ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو بھی مانا جائے۔ آخرت کو مانے بغیر خدا کا عقیدہ مکمل نہیںہوتا۔
جو لوگ حق کے سیدھے اور سچے پیغام کو نہیں مانتے اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ جمود اور تعصب اور اَنانیت کے شکار ہوتے ہیں۔ان سے بات کیجيے تو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ خود اپنے خیالات کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے نکل کر وہ آزادانہ طورپر کسی خارجی حقیقت پر غور نہیں کرسکتے۔ اسی حالت کو ’’گردن میں طوق پڑنا‘‘ فرمایا۔ کیوں کہ گردن میں طوق ہونا غلامی کی علامت ہے۔ گویا کہ یہ لوگ خود اپنے خیالات کے غلام ہیں۔ جو لوگ اس طرح اپنے آپ کو دنیا میں قیدی بنالیں، آخرت میں بھی ان کے حصے میں قید ہی آئے گی۔
الرعد 13:6
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لوگوں سے کہتے تھے کہ خدا کی ہدایت کو مانو ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔ اس کے جواب میں انھوںنے کہا ’’خدایا، محمدجو کچھ پیش کررہے ہیں اگر وہ حق ہے تو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا‘‘۔ یہ دعا بظاہر خدا سے تھی مگر حقیقۃً اس کا رخ رسول کی طرف تھا۔ آپ اس وقت مکہ کے لوگوں کو بالکل بے وزن معلوم ہوتے تھے۔ ان کو یقین نہیںآتا تھا کہ ایسے معمولی آدمی کے انکار پر خدا ہمیں سزا دے گا۔ ’’محمد‘‘ کے انکار پر عذاب آنا ان کو اتنا بعید از وقوع نظر آتا تھاکہ وہ بطور استہزا کہتے تھے کہ تم جس خدائی عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپر آجائے۔
فرمایا کہ تمھارے انکارِ حق کے سبب سے تمھارے اوپر خدا کا عذاب تو آنے ہی والا ہے۔ یہ صرف تمھاری بدبختی ہے کہ تم اس کو جلد بلانا چاہتے ہو۔ حالاں کہ تم کو چاہیے تھا کہ اس وقفہ کو دعوتِ قرآن پر غور وفکر اوراس کی قبولیت میںاستعمال کرو نہ کہ عذاب کو قبل از وقت بلانے میں۔
لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر اس کو مانیں۔ مگر یہ صرف اندھے پن کا مطالبہ ہے۔ اگر ان کے پاس آنکھیں ہوں تو جو کچھ دوسروں کے ساتھ پیش آیا وہی ان کے سبق کے لیے کافی ہے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گذر چکی ہیں جنھوںنے انھیں کی طرح اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور بالآخر انھیں اس کی سزا بھگتنی پڑی۔
خداکا قانون یہ ہے کہ وہ انسان کو عمل کی مہلت دیتاہے۔ یہی قانون مہلت ہے جس نے لوگوں کو سرکش بنا رکھا ہے۔ مگر مہلت کی ایک حد ہے۔ اس حد کے بعد جو چیز ان کا انتظار کررہی ہے وہ صرف دردناک عذاب ہے جس سے وہ اپنے آپ کو بچا نہ سکیں گے۔
الرعد 13:7
آج ساری دنیا میں ایک ارب سے بھی زیادہ انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول مانتے ہیں۔ مگر آپ کی زندگی میں مکہ والوں کی سمجھ میں نہ آسکا کہ آپ کو خدا نے اپنا رسول بنایاہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی تاریخ کے ابتدائی دو رمیں آپ کی نبوت ایک نزاعي(controversial)نبوت تھي۔ مگر اب اپني تاريخ كے انتهائي دور ميں آپ كي نبوت ايك ثابت شدہ (established) نبوت بن چکی ہے۔ نزاعی دور میں پیغمبر کو پہچاننا جتنا مشکل ہے، اثباتی دور میں اس کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہوجاتاہے۔
مکہ کے لوگوں کے پاس جو پیمانہ تھا وہ دولت، اقتدار، اور مقبولیتِ عوام کا پیمانہ تھا۔ اس اعتبار سے آپ ان کو غیر معمولی نظر نہ آتے تھے۔ اس لیے انھوںنے چاہا کہ آپ کے ساتھ کوئی غیر معمولی نشانی ہو جو ان کے لیے آپ کے پیغمبر ہونے کا قطعی ثبوت بن جائے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسی چیز مانگ رہے ہیں جو خدائی منصوبہ کے مطابق نہیں، اس لیے وہ کسی کو ملنے والی بھی نہیں۔
موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں ہدایت ایسی صریح نشانیوں کے ساتھ نہیں آسکتی کہ اس کے بعد آدمی کے لیے شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں امتحان کی مصلحت فوت ہوجاتی ہے۔ یہاں بہر حال یہی ہوگا کہ آدمی کو ’’خبر‘‘ کی سطح پر جانچ کر اس کا یقین کرنا پڑے گا۔ جو شخص اس امتحان میں پورا نہ اترے، اس کے حصہ میں ہدایت بھی کبھی نہیں آسکتی۔
خدا ہر قوم میں اس کے اپنے اندر کے ایک آدمی کو کھڑا کرتاہے تاکہ وہ اس کی مانوس زبان میں اس کو خدا کا پیغام دے۔ یہ انتظام قوموں کی آسانی کے لیے تھا۔ مگر اکثر ایسا ہوا کہ قوموں نے اس سے الٹا اثر لے کر خداکے پیغمبروں کا انکار کردیا۔ ان کی نگاہیں پیغام رساں کے معمولی پن پر اٹک کر رہ گئیں، وہ پیغام کے غیر معمولی پن کو نہ دیکھ سکیں۔
الرعد 13:8
ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔
مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔
یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔
ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔
الرعد 13:9
ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔
مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔
یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔
ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔
الرعد 13:10
ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔
مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔
یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔
ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔
الرعد 13:11
دنیا میں قوموں کا عروج وزوال اَلل ٹپ طورپر نہیں ہوتا بلکہ خدا کی نگرانی اور فیصلہ کے تحت ہوتاہے۔ خدا جب کسی قوم کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ اس نعمت کو اس وقت تک اس کے لیے باقی رکھتا ہے جب تک وہ اپنے اندر اس کی استعداد باقی رکھے۔ استعداد کھو دینے کے بعد وہ قوم لازمی طورپر خدائی نعمت کو بھی کھو دیتی ہے، مثلاًاپنے درمیان اتحاد کھونے کے بعدخارجی دنیا میں رعب سے محروم ہو جانا، وغیرہ۔
دنیا میں کوئی قوم جو کچھ پاتی ہے، خدا کے قانون کے تحت پاتی ہے اور کوئی قوم جوکچھ کھوتی ہے خدا کے قانون کے تحت کھوتی ہے۔ خدا کے سوا یہاں نہ کوئی دینے والا ہے اور نہ کوئی چھیننے والا۔
الرعد 13:12
بجلی چمکتی ہے تو کبھی وہ نئے خوش گوار موسم کی آمد کاپیغام ہوتی ہے اور کبھی وہ صاعقہ بن کر زمین پر گرتی ہے اور چیزوں کو جلا ڈالتی ہے۔ اسی طرح بادل اٹھتے ہیں تو کبھی وہ مفید بارش کی صورت میں زمین پر برستے ہیں اور کبھی طوفان اور سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک ہی چیز میں ڈر کا پہلو بھی ہے اور امید کا پہلو بھی۔ دنیا کا انتظام کرنے والا جس چیز کے ذریعہ دنیا والوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اسی کو وہ تباہ کن عذاب بھی بنا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ آدمی کبھی اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے مامون نہ سمجھے۔
غافل انسان ہمیشہ کسی انوکھی اور طلسماتی نشانی کے ظہور کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کا شعور بیدار ہے، وہ اپنے آس پاس روز مرہ کے واقعات میں ہر قسم کی اعلیٰ نشانی پالیتے ہیں۔ بجلی کی کڑک چمک ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کردیتی ہیں۔ اور بارش کے قطرے دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ خدا کی طاقتوں کو براہِ راست دیکھ کر فرشتوں کا جو حال ہوتا ہے وہی حال سچے انسانوں کا اس وقت ہوجاتا ہے جب کہ انھوںنے خدا کی طاقتوں کو ابھی براہِ راست نہیں دیکھا ہے۔
الرعد 13:13
بجلی چمکتی ہے تو کبھی وہ نئے خوش گوار موسم کی آمد کاپیغام ہوتی ہے اور کبھی وہ صاعقہ بن کر زمین پر گرتی ہے اور چیزوں کو جلا ڈالتی ہے۔ اسی طرح بادل اٹھتے ہیں تو کبھی وہ مفید بارش کی صورت میں زمین پر برستے ہیں اور کبھی طوفان اور سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک ہی چیز میں ڈر کا پہلو بھی ہے اور امید کا پہلو بھی۔ دنیا کا انتظام کرنے والا جس چیز کے ذریعہ دنیا والوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اسی کو وہ تباہ کن عذاب بھی بنا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ آدمی کبھی اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے مامون نہ سمجھے۔
غافل انسان ہمیشہ کسی انوکھی اور طلسماتی نشانی کے ظہور کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کا شعور بیدار ہے، وہ اپنے آس پاس روز مرہ کے واقعات میں ہر قسم کی اعلیٰ نشانی پالیتے ہیں۔ بجلی کی کڑک چمک ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کردیتی ہیں۔ اور بارش کے قطرے دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ خدا کی طاقتوں کو براہِ راست دیکھ کر فرشتوں کا جو حال ہوتا ہے وہی حال سچے انسانوں کا اس وقت ہوجاتا ہے جب کہ انھوںنے خدا کی طاقتوں کو ابھی براہِ راست نہیں دیکھا ہے۔
الرعد 13:14
اگر آپ ہاتھ پھیلا کر سمندر کے پانی کو پکاریں تو ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سمندر آپ کی پکار کو سنے اور اس کا پانی سمندر کی گہرائیوں سے نکل کر آپ کی طرف آئے اور آپ کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرے۔ مگر اسی سمندر کے ساتھ ایسا ہوتاہے کہ قدرت کے قانون کے تحت اس کا پانی نمک کے جز کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتاہے۔ پھر گرمی اور کشش اور ہواکے عمل سے متحرک ہو کر وہ آپ کی بستی کے اوپر آتاہے اور میٹھے پانی کی صورت میں برس کر آپ کی زمین کو سیراب کردیتاہے۔ اس سے معلو م ہوا کہ سمندر بظاہر عظیم ہونے کے باوجود سراسر عاجز ہے اس کو کسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔
یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان صرف وہ ہے جو خالق کو پوجے، نہ کہ مخلوق کو، جو چیزوں کے رب کو اپنا مرکز توجہ بنائے، نہ کہ خود چیزوں کو۔
الرعد 13:15
خدا کا مطالبہ انسان سے یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے۔ یہی ’’جھکنا‘‘ تمام کائنات کا دین ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز خداکے حکم کے آگے کامل طورپر جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی ایک علامت ہے چیزوں کے سایہ کا صبح وشام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا۔ چیزوں کا یہ سایہ گویا اس سجدہ کو مادی طورپر ممثل کررہا ہے جو انسان سے شعوری طور پر مطلوب ہے۔ اوّل الذکر سجدے کا علامتی روپ ہے اور ثانی الذکر اس کا حقیقی روپ۔
وسیع کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات ایک ہی آفاقی قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور مالک ایک ہے۔ انسان کا علمی اور عقلی مطالعہ کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ طاقتوں کی کار فرمائی ہو۔ ایسی حالت میں ایک خدا کے سوا مزید خدا ماننا سراسر بے بنیاد مفروضہ ہے۔
’’آنکھ‘‘ کا مشاہدہ تو صرف ایک خدا کا پتہ دیتاہے۔ اس لیے جو لوگ ایک خدا سے زیادہ خدا مانیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ انھوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے کئی خدا فرض کر ليے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر۔
الرعد 13:16
خدا کا مطالبہ انسان سے یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے۔ یہی ’’جھکنا‘‘ تمام کائنات کا دین ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز خداکے حکم کے آگے کامل طورپر جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی ایک علامت ہے چیزوں کے سایہ کا صبح وشام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا۔ چیزوں کا یہ سایہ گویا اس سجدہ کو مادی طورپر ممثل کررہا ہے جو انسان سے شعوری طور پر مطلوب ہے۔ اوّل الذکر سجدے کا علامتی روپ ہے اور ثانی الذکر اس کا حقیقی روپ۔
وسیع کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات ایک ہی آفاقی قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور مالک ایک ہے۔ انسان کا علمی اور عقلی مطالعہ کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ طاقتوں کی کار فرمائی ہو۔ ایسی حالت میں ایک خدا کے سوا مزید خدا ماننا سراسر بے بنیاد مفروضہ ہے۔
’’آنکھ‘‘ کا مشاہدہ تو صرف ایک خدا کا پتہ دیتاہے۔ اس لیے جو لوگ ایک خدا سے زیادہ خدا مانیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ انھوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے کئی خدا فرض کر ليے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر۔
الرعد 13:17
خدا نے اپنی دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہاں مادی واقعات اخلاقی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو انسان سے شعور کی سطح پر مطلوب ہے، انھیں کو بقیہ دنیا میں مادی سطح پر دکھایا جارہا ہے ۔
یہاں قرآن میں فطرت کے دو واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے آگ پر تپاتے ہیں تو اس کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آجاتاہے۔ مگر جلد ہی بعد یہ ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیںفضا میں اڑ جاتاہے۔ اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر محفوظ رہ جاتے ہیںجو انسان کے لیے مفید ہے۔
یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعے خدا تمثیل کے روپ میں دکھارہا ہے کہ اس نے زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے لیے کیااصول مقرر فرمایاہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس شخص یا قوم کو جگہ ملتی ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے اس کے لیے خدا کی بنائی ہوئی دنیامیں کوئی جگہ نہیں۔
الرعد 13:18
دنیا میں خدا کا یہ قانون ہے کہ خواہ وقتی طور پر میل اور جھاگ ابھر کر اوپر آجائے مگر بالآخر جس چیز کو یہاں مقام ملتاہے وہ وہی ہے جو حقیقی ہے اور جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہے، آخرت کے اعتبار سے بھی انسانوں کا معاملہ یہی ہے۔ دنیا میں کچھ لوگ اپنی اضافی حیثیت کی بنا پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ مگر آخرت میں وہی لوگ اونچی جگہ پائیں گے جو حقیقی اوصاف کے مالک ہیں۔
دنیا میں جو لوگ حق کی پکار پر لبیک نہیں کہتے، اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ بے آمیز حق کی طرف بڑھنے میں اُنھیں دنیا کے فائدے ہاتھ سے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حق کو نظر انداز کرنے کی قیمت ہمیشہ یہ ملتی ہے کہ وہ دنیا میں عزت اور مقبولیت اور خوش حالی کے مالک بن جاتے ہیں۔ وہ حق کا انکار کرکے اونچی گدیوں پر سرفراز نظر آتے ہیں۔
مگر ان چیزوں کی حیثیت میل اور جھاگ سے زیادہ نہیں۔ آخرت میں یہ سارے لوگ وقتی جھاگ کی طرح دور پھینکے جاچکے ہوں گے۔ اور وہی لوگ نمایاں نظر آئیں گے جنھوں نے تمام وقتی فائدوں کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو حق کے حوالے کیا تھا۔
جو لوگ دنیا کی حیثیت اور دنیا کے فائدوں کواتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس کی خاطر حق کو نظر انداز کردیتے ہیں، آخرت میں یہ چیزیں ان کواتنی حقیر دکھائی دیں گی کہ وہ چاہیں گے کہ یہ ساری دنیا اور اس کے برابرایک اور دنیا مل جائے تو وہ ان سب کو صرف عذاب سے بچنے کی خاطر فدیہ میں دے دیں۔
الرعد 13:19
انسانوں میں ہمیشہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جس نے خدا کی دی ہوئی عقل سے سوچا اورحقائق کی روشنی میں ایک یقینی فیصلہ تک پہنچا۔ اس طرح بے لاگ جائزہ کے نتیجہ میں اس کا دل جس چیز پر مطمئن ہوا اس کو اس نے ارادہ اور شعور کے ساتھ اختیار کرلیا۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو قومی روایات اور تقلیدی خیالات کے دائرہ میں سوچتے ہوں۔ جو چیزوں کو دلائل کی نظرسے دیکھنے کے بجائے رواج کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ اور پھر جو چیز انھیں عوام میں چلتی ہوئی دکھائی دے اسی کو حق سمجھ کر اختیار کرلیں۔
قرآن کے نزدیک پہلا شخص وہ ہے جو علم کی روشنی میں ایمان لایا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا آدمی قرآن کی نظر میں اندھا ہے۔ پہلا آدمی خود اپنی بصیرت سے حق اور باطل کو جانتا ہے۔ جب کہ دوسرے آدمی کا سرمایہ صرف سنی سنائی باتیں ہیں۔ لوگ جس کو باطل سمجھ لیں اس کو اس نے باطل سمجھ لیا، لوگ جس کو حق سمجھیں، اس کے متعلق اس نے بھی یقین کرلیا کہ وہ حق ہوگی۔
حق کی دعوت ایسے لوگوں کی تلاش کے لیے اٹھتی ہے جو اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرسکتے ہوں۔ باقی جو لوگ آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بنے ہوئے ہوں ان کو حق کی دعوت کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی۔
الرعد 13:20
انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔
دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔
یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔
الرعد 13:21
انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔
دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔
یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔
الرعد 13:22
انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔
دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔
یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔
الرعد 13:23
انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔
دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔
یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔
الرعد 13:24
انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔
دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔
یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔
الرعد 13:25
انسان اپنے خدا سے عہد فطرت میں بندھا ہواہے اور دوسرے انسانوں سے عہد آدمیت میں۔ ان دونوں عہدوں کو توڑنا خدا کی زمین میں فساد کرنا ہے۔ خدا کی زمین میںاصلاح یافتہ بن کر رہنا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ دونوں عہدوں کا پابند بن کر زندگی گزارے۔ اس کے برعکس ،خدا کی زمین میں فسادی بننا یہ ہے کہ آدمی ان عہدوں سے آزاد ہو جائے۔ اس کو نہ خدا کے حقوق کی پروا ہو اور نہ انسانوں کے حقوق کی۔
ایسے لوگ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار نہیں بنائے جائیں گے۔ انھوںنے خداکی زمین کو گندا کیا، اس لیے وہ اسی قابل ہیں کہ آئندہ ان کو صرف گندے گھر میں جگہ ملے۔
دنیامیں کسی کو کم ملتاہے اور کسی کو زیادہ۔ اب جس کو زیادہ ملا وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجاتاہے اور جس کو کم ملا وہ احساس کمتری میں۔ مگر خدا کی نظرمیں یہ دونوں غلط ہیں۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ زیادہ ملے تو آدمی خدا کا شکر گزار بنے، کم ملے تو وہ صبر اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے۔
دنیا پرست لوگ ہمیشہ حق کے داعی کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی صرف ظاہری عظمتوں کو پہچاننا جانتاہے۔ چوں کہ داعی کے پاس صرف معنوی عظمت ہوتی ہے اس لیے وہ اس کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ اس کوحقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ مگر جب حقیقت کا پردہ پھٹے گا اس وقت انسان جانے گا کہ جس نظر آنے والی رونق کو وہ سب کچھ سمجھے ہوئے تھا وہ بالکل بے قیمت تھی۔ قدر وقیمت کی چیز دراصل وہ تھی جو دکھائی نہ دینے کی وجہ سے اس کی توجہ كا مرکز نہ بن سکی۔
الرعد 13:26
انسان اپنے خدا سے عہد فطرت میں بندھا ہواہے اور دوسرے انسانوں سے عہد آدمیت میں۔ ان دونوں عہدوں کو توڑنا خدا کی زمین میں فساد کرنا ہے۔ خدا کی زمین میںاصلاح یافتہ بن کر رہنا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ دونوں عہدوں کا پابند بن کر زندگی گزارے۔ اس کے برعکس ،خدا کی زمین میں فسادی بننا یہ ہے کہ آدمی ان عہدوں سے آزاد ہو جائے۔ اس کو نہ خدا کے حقوق کی پروا ہو اور نہ انسانوں کے حقوق کی۔
ایسے لوگ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار نہیں بنائے جائیں گے۔ انھوںنے خداکی زمین کو گندا کیا، اس لیے وہ اسی قابل ہیں کہ آئندہ ان کو صرف گندے گھر میں جگہ ملے۔
دنیامیں کسی کو کم ملتاہے اور کسی کو زیادہ۔ اب جس کو زیادہ ملا وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجاتاہے اور جس کو کم ملا وہ احساس کمتری میں۔ مگر خدا کی نظرمیں یہ دونوں غلط ہیں۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ زیادہ ملے تو آدمی خدا کا شکر گزار بنے، کم ملے تو وہ صبر اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے۔
دنیا پرست لوگ ہمیشہ حق کے داعی کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی صرف ظاہری عظمتوں کو پہچاننا جانتاہے۔ چوں کہ داعی کے پاس صرف معنوی عظمت ہوتی ہے اس لیے وہ اس کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ اس کوحقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ مگر جب حقیقت کا پردہ پھٹے گا اس وقت انسان جانے گا کہ جس نظر آنے والی رونق کو وہ سب کچھ سمجھے ہوئے تھا وہ بالکل بے قیمت تھی۔ قدر وقیمت کی چیز دراصل وہ تھی جو دکھائی نہ دینے کی وجہ سے اس کی توجہ كا مرکز نہ بن سکی۔
الرعد 13:27
حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔
اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔
الرعد 13:28
حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔
اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔
الرعد 13:29
حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔
اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔
الرعد 13:30
جب یہ دنیا دار الامتحان ہے تو اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ حسّی نشانیاں دکھانے کے بعد لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے۔ اب اگر لوگوں کے مطالبہ پر خدا فوراً کوئی حسّی نشانی ظاہر کردے اور اس کے بعد بھی لوگ نہ مانیں تو فوراً وہ ہلاکت کے مستحق ہوجائیں گے۔ مگر یہ خدائے رحمان ورحیم کی خاص عنایت ہے کہ وہ لوگوں کے مطالبہ کے باوجود حسی نشانیاں ظاہر نہیں کرتا۔ بلکہ نصیحت اور دلیل کی زبان میں حق کا پیغام پہنچاتا رہتاہے۔ اس طرح لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت ملتی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرکے خدا کی رحمتوں کے مستحق بن سکیں۔
ایسی حالت میں داعی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے نادان مطالبہ کی وجہ سے گھبرا نہ جائے۔ وہ خدا کے منصوبہ پر راضی رہتے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف بلاتا رہے۔
الرعد 13:31
حق کو نہ ماننے کا اصل سبب دلیل کی کمی نہیں بلکہ انسان کی یہ آزادی ہے کہ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔ جب تک انسان کو انکار کی آزادی حاصل ہے وہ کسی بھی چیز کا انکار کرنے کے لیے عذر تلاش کرسکتاہے۔
اس کے سامنے الفاظ میں ایک دلیل لائی جائے تو وہ کچھ دوسرے الفاظ بول کر اسے رد کردے گا۔ کائنات کی نشانیوں کا حوالہ دیا جائے تو وہ اس کی تردید کے لیے خود ساختہ توجیہہ تلاش کرلے گا۔ حتی کہ اگر پہاڑ چلائے جائیں اور زمین پھاڑ دی جائے اور مُردوں کو زندہ کردیا جائے تب بھی کوئی چیز آدمی کو یہ کہنے سے روک نہیں سکتی کہ یہ تو جادو ہے۔
بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انکار کرنے والا بظاہر دلیل مانگتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ استہزاء کررہا ہوتاہے۔ وہ یہ ظاہرکرنا چاہتاہے کہ یہ شخص جو چیز پیش کررہا ہے وہ حق نہیں۔ اگر وہ فی الواقع حق ہوتا تو ضرور اس کے پاس ایسی دلیل ہوتی کہ سارے لوگ اس کو ماننے پر مجبور ہوجاتے۔
خدا نے لوگوں کو مہلت دی ہے اس کی وجہ سے لوگ بے خوف ہوگئے ہیں۔ مگر جب مہلت ختم ہوگی اور خدا لوگوں کو پکڑے گا تو آدمی دیکھے گا کہ وہ کس قدر بے اختیار تھا، اگر چہ وہ فرضی طورپر اپنے کو خود مختار سمجھتا رہا۔
الرعد 13:32
حق کو نہ ماننے کا اصل سبب دلیل کی کمی نہیں بلکہ انسان کی یہ آزادی ہے کہ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔ جب تک انسان کو انکار کی آزادی حاصل ہے وہ کسی بھی چیز کا انکار کرنے کے لیے عذر تلاش کرسکتاہے۔
اس کے سامنے الفاظ میں ایک دلیل لائی جائے تو وہ کچھ دوسرے الفاظ بول کر اسے رد کردے گا۔ کائنات کی نشانیوں کا حوالہ دیا جائے تو وہ اس کی تردید کے لیے خود ساختہ توجیہہ تلاش کرلے گا۔ حتی کہ اگر پہاڑ چلائے جائیں اور زمین پھاڑ دی جائے اور مُردوں کو زندہ کردیا جائے تب بھی کوئی چیز آدمی کو یہ کہنے سے روک نہیں سکتی کہ یہ تو جادو ہے۔
بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انکار کرنے والا بظاہر دلیل مانگتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ استہزاء کررہا ہوتاہے۔ وہ یہ ظاہرکرنا چاہتاہے کہ یہ شخص جو چیز پیش کررہا ہے وہ حق نہیں۔ اگر وہ فی الواقع حق ہوتا تو ضرور اس کے پاس ایسی دلیل ہوتی کہ سارے لوگ اس کو ماننے پر مجبور ہوجاتے۔
خدا نے لوگوں کو مہلت دی ہے اس کی وجہ سے لوگ بے خوف ہوگئے ہیں۔ مگر جب مہلت ختم ہوگی اور خدا لوگوں کو پکڑے گا تو آدمی دیکھے گا کہ وہ کس قدر بے اختیار تھا، اگر چہ وہ فرضی طورپر اپنے کو خود مختار سمجھتا رہا۔
الرعد 13:33
مطالعہ بتاتاہے کہ کائنات میں ریکارڈنگ کا نظام ہے۔ آدمی جو کچھ بولتاہے یا جو کچھ کرتا ہے، وہ کائناتی انتظام کے تحت فوراً ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کائنات کا خدا کسی ایسی ہستی ہی کو مانا جاسکتا ہے جس کے اندر ’’سننے‘‘ اور ’’دیکھنے ‘‘ کی طاقت ہو۔ مگر انسانوں نے اب تک جتنے شرکا ء فرض كيے ہیں، سب کے سب وہ ہیں جن کے اندر نہ سننے کی طاقت ہے اور نہ دیکھنے کی۔ ایسی حالت میں کیوں کر وہ موجودہ کائنات جیسی دنیا کے خالق ومالک ہوسکتے ہیں۔ جو خود نہ سنے وہ اپنی مخلوقات میں سننے کا مادہ کس طرح پیداکرے گا جو خود نہ دیکھے وہ دوسری چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیسے بنائے گا۔
اسی طرح کائنات میں اتنی زیادہ وحدت ہے کہ وہ کسی طرح شرک کو قبول نہیں کرتی۔ جس شریک کا بھی نام لیاجائے، کائنات پورے وجود کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی۔
منکرین کے لیے ان کا مکر خوش نما بنا دیاگیا ہے ،یہاں مکر سے مراد ان کا ’’قول‘‘ ہے جس کا ذکر اسی آیت میں اوپر موجود ہے۔ جب بھی آدمی حق کا انکار کرتاہے تو اس کا ذہن اپنے انکار کو جائزثابت کرنے کے لیے کوئی قول گھڑ لیتا ہے۔ یہ قول اگر چہ بے حقیقت الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ حق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہ ہوںوہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوںنے اپنے انکار واعراض کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ خواہ ان کے بولے ہوئے الفاظ ان کے اپنے ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔
اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔
الرعد 13:34
مطالعہ بتاتاہے کہ کائنات میں ریکارڈنگ کا نظام ہے۔ آدمی جو کچھ بولتاہے یا جو کچھ کرتا ہے، وہ کائناتی انتظام کے تحت فوراً ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کائنات کا خدا کسی ایسی ہستی ہی کو مانا جاسکتا ہے جس کے اندر ’’سننے‘‘ اور ’’دیکھنے ‘‘ کی طاقت ہو۔ مگر انسانوں نے اب تک جتنے شرکا ء فرض كيے ہیں، سب کے سب وہ ہیں جن کے اندر نہ سننے کی طاقت ہے اور نہ دیکھنے کی۔ ایسی حالت میں کیوں کر وہ موجودہ کائنات جیسی دنیا کے خالق ومالک ہوسکتے ہیں۔ جو خود نہ سنے وہ اپنی مخلوقات میں سننے کا مادہ کس طرح پیداکرے گا جو خود نہ دیکھے وہ دوسری چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیسے بنائے گا۔
اسی طرح کائنات میں اتنی زیادہ وحدت ہے کہ وہ کسی طرح شرک کو قبول نہیں کرتی۔ جس شریک کا بھی نام لیاجائے، کائنات پورے وجود کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی۔
منکرین کے لیے ان کا مکر خوش نما بنا دیاگیا ہے ،یہاں مکر سے مراد ان کا ’’قول‘‘ ہے جس کا ذکر اسی آیت میں اوپر موجود ہے۔ جب بھی آدمی حق کا انکار کرتاہے تو اس کا ذہن اپنے انکار کو جائزثابت کرنے کے لیے کوئی قول گھڑ لیتا ہے۔ یہ قول اگر چہ بے حقیقت الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ حق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہ ہوںوہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوںنے اپنے انکار واعراض کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ خواہ ان کے بولے ہوئے الفاظ ان کے اپنے ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔
اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔
الرعد 13:35
جنت کی قیمت تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ کی عظمت کا اتنا شدید احساس جو ڈربن کر آدمی کے دل میں سما جائے۔ جو لوگ دنیا میں خدا سے ڈریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے اُن گھروں میں بسائے جائیں گے جہاں آدمی کے لیے کسی قسم کا ڈر نہ ہوگا۔ جس کے چاروں طرف سرسبز باغات ان کی عظمت وشان کو دو چند کررہے ہوں گے۔
اس کے برعکس، حال ان لوگوں کا ہے جو دنیا میں بے خوف بن کر رہے۔ وہ آخرت میں اپنے آپ کو آگ کی دنیا میں پائیں گے۔
الرعد 13:36
قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔
جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔
آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔
الرعد 13:37
قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔
جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔
آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔
الرعد 13:38
خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب عام انسان کی طرح ایک انسان تھے اور دنیوی تعلقات رکھتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قوموں نے اس کے باوجود پچھلے پیغمبروں کو مانا اور اپنے معاصر پیغمبر کا اسی سبب سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ مزید ایک چیز شامل تھی جو معاصر پیغمبر کو حاصل نہ تھی۔ یہ مزید چیز تاریخ کی عظمت ہے۔ قوموں نے تاریخی عظمت کی بنا پر پچھلے پیغمبروں کو مانا اور تاریخی عظمت سے خالی ہونے کی بنا پر معاصر پیغمبر کاانکار کردیا۔
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ حقیقت کو اس کے مجرد روپ میں دیکھ نہیں پاتا۔ زندہ پیغمبرکے ساتھ حقیقت مجرد روپ میں تھی۔ اس لیے انسان ان کو پہچان نہ سکا۔ تاریخ کے پیغمبر کے ساتھ اضافی اہمیتیں بھی شامل ہوچکی تھیں اس لیے اس نے ان کو پہچان لیا اور ان کا معتقد بن گیا۔
’’امُّ الکتاب‘‘ سے مراد خدا کا وہ اصل نوشتہ ہے جو خدا کے پاس ہے اور جس میں ہدایت کی وہ تمام اصولی باتیں لکھی ہوئی ہیں جو خدا کو انسان سے مطلوب ہیں۔ مختلف پیغمبروں پر جو کتابیں اتریں وہ سب اسی ام الکتاب سے ماخوذ تھیں۔ خدا نے اپنی یہ کتاب کبھی ایک زبان میں اتاری اور کبھی دوسری زبان میں۔ کبھی اس کے لیے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا اورکبھی اس کو براہِ راست پیرایہ میں بیان کیا گیا۔ کبھی نازل ہونے کے بعد اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی اور کبھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی۔
الرعد 13:39
خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب عام انسان کی طرح ایک انسان تھے اور دنیوی تعلقات رکھتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قوموں نے اس کے باوجود پچھلے پیغمبروں کو مانا اور اپنے معاصر پیغمبر کا اسی سبب سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ مزید ایک چیز شامل تھی جو معاصر پیغمبر کو حاصل نہ تھی۔ یہ مزید چیز تاریخ کی عظمت ہے۔ قوموں نے تاریخی عظمت کی بنا پر پچھلے پیغمبروں کو مانا اور تاریخی عظمت سے خالی ہونے کی بنا پر معاصر پیغمبر کاانکار کردیا۔
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ حقیقت کو اس کے مجرد روپ میں دیکھ نہیں پاتا۔ زندہ پیغمبرکے ساتھ حقیقت مجرد روپ میں تھی۔ اس لیے انسان ان کو پہچان نہ سکا۔ تاریخ کے پیغمبر کے ساتھ اضافی اہمیتیں بھی شامل ہوچکی تھیں اس لیے اس نے ان کو پہچان لیا اور ان کا معتقد بن گیا۔
’’امُّ الکتاب‘‘ سے مراد خدا کا وہ اصل نوشتہ ہے جو خدا کے پاس ہے اور جس میں ہدایت کی وہ تمام اصولی باتیں لکھی ہوئی ہیں جو خدا کو انسان سے مطلوب ہیں۔ مختلف پیغمبروں پر جو کتابیں اتریں وہ سب اسی ام الکتاب سے ماخوذ تھیں۔ خدا نے اپنی یہ کتاب کبھی ایک زبان میں اتاری اور کبھی دوسری زبان میں۔ کبھی اس کے لیے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا اورکبھی اس کو براہِ راست پیرایہ میں بیان کیا گیا۔ کبھی نازل ہونے کے بعد اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی اور کبھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی۔
الرعد 13:40
خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔
تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔
مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔
قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔
حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔
الرعد 13:41
خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔
تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔
مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔
قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔
حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔
الرعد 13:42
خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔
تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔
مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔
قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔
حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔
الرعد 13:43
ظاہر پرست لوگ جس وقت حق کے داعی میں نشانیاں نہ پاکر اس کی صداقت کے بارہ میں شبہ کررہے ہوتے ہیںعین اسی وقت معنوی نشانیاں پوری طرح اس کی تصدیق کے لیے موجود ہوتی ہیں۔ سچائی اپنی دلیل آپ ہے۔ مگر اس کو محسوس کرنا صرف اس شخص کے لیے ممکن ہے جو ظواہر سے گزر کر حقائق کو دیکھنے کی نگاہ اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔ ورنہ جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں وہ حق کو بے دلیل سمجھ کر اس کا انکار کردیں گے۔ حالاں کہ عین اسی وقت دلائل کا انبار اس کی تصدیق کے لیے ان کے قریب موجود ہوگا۔
إبراهيم 14:1
ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کو ایک ایسی ہستی کی حیثیت سے پالے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے اور ساری خوبیوں والا بھی هے۔ ایساواقعہ کسی آدمی کے لیے محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہ کسی آدمی کا بے علمی کی تاریکی سے نکل کر علم کی روشنی میں آناہے۔ یہ غیب کے پردے سے گزر کر شہود کے جلوے کو دیکھ لینا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا ادراک کرلینا ہے۔ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک شعوری یافت ہے، نہ کہ کسی مجموعۂ الفاظ کی بے روح تکرار— خداکی کتاب اس لیے آتی ہے کہ آدمی کو اس شعوری درجہ پر پہنچائے۔
اللہ کے اذن سے ہدایت ملنا، بظاہر ہدایت کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ہے۔ مگر اس ارشاد کا رخ حقیقۃً خودانسان کی طرف ہے۔ ’’اذن‘‘ سے مراد خدا کا وہ مقررہ قانون ہے جو اس نے انسان کی ہدایت وضلالت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے مطابق آدمی کی اپنی سنجیدہ طلب واحد شرط ہے جو اس کو ہدایت تک پہنچاتی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص کو ہدایت ملتی ہے وہ محض کسی داعی کی داعیانہ کوششوں سے نہیں ملتی بلکہ خدا کے قانون کے تحت ملتی ہے۔ اور خدا کا قانون یہ ہے کہ ہدایت کی نعمت کو صرف وہ شخص پائے گا جو خود ہدایت کا طالب ہو۔ ذاتی طلب کے بغیر کسی کو ہدایت نہیں مل سکتی۔
ہدایت کے راستہ کو خدانے انتہائی حد تک صاف اور روشن بنایا ہے۔ زمین وآسمان میںاس کی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ خدا کی کتاب اس کے حق میں ناقابلِ انکار دلائل فراہم کرتی ہے۔ انسانی فطرت اس کی صداقت کی گواہی دے رہی ہے۔ گویا تمام بہترین قرائن اس کے حق میں جمع ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ ہدایت کے راستہ کو اختیارنه کریں وہ یقینی طور پر دنیوی مفادکی بنا پر ایسا کررہے ہیں، نہ کہ کسی واقعی سبب کی بنا پر۔ اگر چہ ایسے لوگ اپنی روش کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ ’’دلائل‘‘ بھی پیش کرتے ہیں مگر یہ دلائل صرف سیدھی بات میں ٹیڑھ نکالنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں اپنے نہ ماننے کا جواز فراہم کریں۔
ایسی حالت میں ہدایت سے محروم صرف وہی شخص رہ سکتا ہے جس کی مفاد پرستی اور دنیوی رغبت نے اس کو بالکل اندھا بہرا بنادیاهو۔
إبراهيم 14:2
ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کو ایک ایسی ہستی کی حیثیت سے پالے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے اور ساری خوبیوں والا بھی هے۔ ایساواقعہ کسی آدمی کے لیے محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہ کسی آدمی کا بے علمی کی تاریکی سے نکل کر علم کی روشنی میں آناہے۔ یہ غیب کے پردے سے گزر کر شہود کے جلوے کو دیکھ لینا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا ادراک کرلینا ہے۔ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک شعوری یافت ہے، نہ کہ کسی مجموعۂ الفاظ کی بے روح تکرار— خداکی کتاب اس لیے آتی ہے کہ آدمی کو اس شعوری درجہ پر پہنچائے۔
اللہ کے اذن سے ہدایت ملنا، بظاہر ہدایت کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ہے۔ مگر اس ارشاد کا رخ حقیقۃً خودانسان کی طرف ہے۔ ’’اذن‘‘ سے مراد خدا کا وہ مقررہ قانون ہے جو اس نے انسان کی ہدایت وضلالت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے مطابق آدمی کی اپنی سنجیدہ طلب واحد شرط ہے جو اس کو ہدایت تک پہنچاتی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص کو ہدایت ملتی ہے وہ محض کسی داعی کی داعیانہ کوششوں سے نہیں ملتی بلکہ خدا کے قانون کے تحت ملتی ہے۔ اور خدا کا قانون یہ ہے کہ ہدایت کی نعمت کو صرف وہ شخص پائے گا جو خود ہدایت کا طالب ہو۔ ذاتی طلب کے بغیر کسی کو ہدایت نہیں مل سکتی۔
ہدایت کے راستہ کو خدانے انتہائی حد تک صاف اور روشن بنایا ہے۔ زمین وآسمان میںاس کی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ خدا کی کتاب اس کے حق میں ناقابلِ انکار دلائل فراہم کرتی ہے۔ انسانی فطرت اس کی صداقت کی گواہی دے رہی ہے۔ گویا تمام بہترین قرائن اس کے حق میں جمع ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ ہدایت کے راستہ کو اختیارنه کریں وہ یقینی طور پر دنیوی مفادکی بنا پر ایسا کررہے ہیں، نہ کہ کسی واقعی سبب کی بنا پر۔ اگر چہ ایسے لوگ اپنی روش کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ ’’دلائل‘‘ بھی پیش کرتے ہیں مگر یہ دلائل صرف سیدھی بات میں ٹیڑھ نکالنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں اپنے نہ ماننے کا جواز فراہم کریں۔
ایسی حالت میں ہدایت سے محروم صرف وہی شخص رہ سکتا ہے جس کی مفاد پرستی اور دنیوی رغبت نے اس کو بالکل اندھا بہرا بنادیاهو۔
إبراهيم 14:3
ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کو ایک ایسی ہستی کی حیثیت سے پالے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے اور ساری خوبیوں والا بھی هے۔ ایساواقعہ کسی آدمی کے لیے محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہ کسی آدمی کا بے علمی کی تاریکی سے نکل کر علم کی روشنی میں آناہے۔ یہ غیب کے پردے سے گزر کر شہود کے جلوے کو دیکھ لینا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا ادراک کرلینا ہے۔ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک شعوری یافت ہے، نہ کہ کسی مجموعۂ الفاظ کی بے روح تکرار— خداکی کتاب اس لیے آتی ہے کہ آدمی کو اس شعوری درجہ پر پہنچائے۔
اللہ کے اذن سے ہدایت ملنا، بظاہر ہدایت کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ہے۔ مگر اس ارشاد کا رخ حقیقۃً خودانسان کی طرف ہے۔ ’’اذن‘‘ سے مراد خدا کا وہ مقررہ قانون ہے جو اس نے انسان کی ہدایت وضلالت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے مطابق آدمی کی اپنی سنجیدہ طلب واحد شرط ہے جو اس کو ہدایت تک پہنچاتی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص کو ہدایت ملتی ہے وہ محض کسی داعی کی داعیانہ کوششوں سے نہیں ملتی بلکہ خدا کے قانون کے تحت ملتی ہے۔ اور خدا کا قانون یہ ہے کہ ہدایت کی نعمت کو صرف وہ شخص پائے گا جو خود ہدایت کا طالب ہو۔ ذاتی طلب کے بغیر کسی کو ہدایت نہیں مل سکتی۔
ہدایت کے راستہ کو خدانے انتہائی حد تک صاف اور روشن بنایا ہے۔ زمین وآسمان میںاس کی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ خدا کی کتاب اس کے حق میں ناقابلِ انکار دلائل فراہم کرتی ہے۔ انسانی فطرت اس کی صداقت کی گواہی دے رہی ہے۔ گویا تمام بہترین قرائن اس کے حق میں جمع ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ ہدایت کے راستہ کو اختیارنه کریں وہ یقینی طور پر دنیوی مفادکی بنا پر ایسا کررہے ہیں، نہ کہ کسی واقعی سبب کی بنا پر۔ اگر چہ ایسے لوگ اپنی روش کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ ’’دلائل‘‘ بھی پیش کرتے ہیں مگر یہ دلائل صرف سیدھی بات میں ٹیڑھ نکالنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں اپنے نہ ماننے کا جواز فراہم کریں۔
ایسی حالت میں ہدایت سے محروم صرف وہی شخص رہ سکتا ہے جس کی مفاد پرستی اور دنیوی رغبت نے اس کو بالکل اندھا بہرا بنادیاهو۔
إبراهيم 14:4
خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پیغمبروں کو خود مدعو قوم کے اندر سے اٹھاتاہے تاکہ وہ لوگوں کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے، ان کی اپنی قابل فہم زبان میں انھیں حق کی طرف بلائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جو چیز انسان کی بہتری کے لیے کی گئی تھی اس سے اس نے الٹا نتیجہ نکال لیا۔ اس نے جب دیکھا کہ پیغمبر انھیں کی طرح کا ایک آدمی ہے اور ان کی اپنی مانوس زبان میں کلام کررہا ہے تو انھوں نے پیغمبر کو معمولی سمجھ کر اس کا انکار کردیا جو چیز ان کی ہدایت کو آسان بنانے کے لیے کی گئی تھی اس کو انھوںنے اپنی گمراہی کا ذریعہ بنا دیا۔
خداایسا نہیں کرتا کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے شعبدے دکھائے۔ وہ کسی قوم کے پاس ایسا پیغمبر بھیجے جو انوکھی زبان یا طلسماتی اسلوب میں کلام کرکے لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دے۔ خدا لوگوں کی عجائب پسندی کی خاطر کرشمے دکھانے کے انداز اختیار نہیں کرتا۔ خدا کا طریقہ سادگی اور حقیقت پسندی کا طریقہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا کو حقائق کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ اور انسان کی ہدایت کی اسکیم کو بھی وہ حقائق کی بنیاد پر چلاتاہے، نہ کہ طلسمات کی بنیاد پر۔
إبراهيم 14:5
’’آیات اللہ‘‘ سے مرادکائنات کی وہ نشانیاں ہیں جو خدا کی بات کو برحق ثابت کرتی ہیں۔ ’’ایام اللہ‘‘ سے مراد تاریخ کے وہ یادگار واقعات ہیں جب کہ خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا اور خدا کی خصوصی مدد سے حق نے باطل کے اوپر فتح پائی۔ ایک اگر کائناتی دلیل ہے تو دوسری تاریخی دلیل۔
مگرعجیب بات ہے کہ یہی دونوں چیزیں ہماری دنیا میں سب سے زیادہ غیر موجود نظر آتی ہیں۔ ٓآیات اللہ کو غلط تشریح و تعبیر کے پردہ میں چھپا دیاگیا ہے اور ایام اللہ کایہ حال ہے کہ تاریخ نگاری کا کام جن لوگوں کے ہاتھ میں تھا انھوںنے ایام الانسان تو خوب قلم بند كيے مگر ایام اللہ ان کی کتابوں میں غیر مذکور رہ گئے۔
ایسی حالت میں کسی بندہ خدا کے لیے باطل کے اندھیرے سے نکلنے کی صورت یہ ہے کہ وہ صبر اور شکر کا ثبوت دے۔
حق کے اعتراف کی واحد قیمت اپنی بے اعترافی ہے۔ حق کو پانے کے لیے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے۔ اور یہ چیز صبر کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ پھر حق کا ادراک آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات میں جو تقسیم ہے وہ منعم اور منعم علیہ کی ہے۔ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔ اس حقیقتِ واقعہ کی دریافت کے بعد آدمی کے اندر جو صحیح جذبہ پیدا ہونا چاہیے اسی کا نام شکر ہے۔ گویا حقیقت تک پہنچنے کے لیے آدمی کو صبر کا ثبوت دینا پڑتا ہے اور حقیقت کو اپنے اندر اتارنے کے لیے شکر کا۔
إبراهيم 14:6
ان آیات میں حضرت موسیٰ کی جس تقریر کا حوالہ ہے وہ غالباً آپ کی وہ تقریر ہے جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دنوں پہلے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے سامنے فرمائی تھی۔ یہ تقریر موجودہ بائبل (کتاب استثنا) میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
حضرت موسیٰ کی اس مفصل تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں خدا والے بن کر رہو اور خدا کی باتوں کا چرچا کرو تو دنیا کی تمام چیزیں تمھارا ساتھ دیں گی۔ سب قوموں کے درمیان تمھارا رعب قائم ہوگا۔ خدا تمھارے دشمنوں کو زیر کرے گا۔ حتی کہ اگر کبھی دریا تمھارے راستے میں حائل ہو تو خدا حکم دے گااور دریا پھٹ کر تمھیں راستہ دے دے گا، جب کہ اسی دریا میں تمھارے دشمن غرق ہوجائیں گے۔
اس کے برعکس، اگرتم ایسا نہ کرو تو تم خدا کی نظر میں لعنتی ٹھہرو گے، یعنی تم خدا کی رحمتوں سے دور ہوجاؤگے۔ تمھاری محنت کی پیداوار دوسرے لوگ کھائیں گے، تمھارے ہر کام بگڑتے چلے جائیں گے، تم فکری اور عملی اعتبار سے دوسری قوموں کے زیرِ دست ہوجاؤگے۔
خدا کا یہ قانون معروف معنوں میں ’’یہود‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ حاملِ کتاب قوم کے لیے ہے۔ جو قوم بھی حاملِ کتاب ہو، اس کے ساتھ خدا کا یہی معاملہ ہے، خواہ وہ ماضی کے حاملینِ کتاب ہوں یا حال کے حاملین کتاب۔
إبراهيم 14:7
ان آیات میں حضرت موسیٰ کی جس تقریر کا حوالہ ہے وہ غالباً آپ کی وہ تقریر ہے جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دنوں پہلے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے سامنے فرمائی تھی۔ یہ تقریر موجودہ بائبل (کتاب استثنا) میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
حضرت موسیٰ کی اس مفصل تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں خدا والے بن کر رہو اور خدا کی باتوں کا چرچا کرو تو دنیا کی تمام چیزیں تمھارا ساتھ دیں گی۔ سب قوموں کے درمیان تمھارا رعب قائم ہوگا۔ خدا تمھارے دشمنوں کو زیر کرے گا۔ حتی کہ اگر کبھی دریا تمھارے راستے میں حائل ہو تو خدا حکم دے گااور دریا پھٹ کر تمھیں راستہ دے دے گا، جب کہ اسی دریا میں تمھارے دشمن غرق ہوجائیں گے۔
اس کے برعکس، اگرتم ایسا نہ کرو تو تم خدا کی نظر میں لعنتی ٹھہرو گے، یعنی تم خدا کی رحمتوں سے دور ہوجاؤگے۔ تمھاری محنت کی پیداوار دوسرے لوگ کھائیں گے، تمھارے ہر کام بگڑتے چلے جائیں گے، تم فکری اور عملی اعتبار سے دوسری قوموں کے زیرِ دست ہوجاؤگے۔
خدا کا یہ قانون معروف معنوں میں ’’یہود‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ حاملِ کتاب قوم کے لیے ہے۔ جو قوم بھی حاملِ کتاب ہو، اس کے ساتھ خدا کا یہی معاملہ ہے، خواہ وہ ماضی کے حاملینِ کتاب ہوں یا حال کے حاملین کتاب۔
إبراهيم 14:8
ان آیات میں حضرت موسیٰ کی جس تقریر کا حوالہ ہے وہ غالباً آپ کی وہ تقریر ہے جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دنوں پہلے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے سامنے فرمائی تھی۔ یہ تقریر موجودہ بائبل (کتاب استثنا) میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
حضرت موسیٰ کی اس مفصل تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں خدا والے بن کر رہو اور خدا کی باتوں کا چرچا کرو تو دنیا کی تمام چیزیں تمھارا ساتھ دیں گی۔ سب قوموں کے درمیان تمھارا رعب قائم ہوگا۔ خدا تمھارے دشمنوں کو زیر کرے گا۔ حتی کہ اگر کبھی دریا تمھارے راستے میں حائل ہو تو خدا حکم دے گااور دریا پھٹ کر تمھیں راستہ دے دے گا، جب کہ اسی دریا میں تمھارے دشمن غرق ہوجائیں گے۔
اس کے برعکس، اگرتم ایسا نہ کرو تو تم خدا کی نظر میں لعنتی ٹھہرو گے، یعنی تم خدا کی رحمتوں سے دور ہوجاؤگے۔ تمھاری محنت کی پیداوار دوسرے لوگ کھائیں گے، تمھارے ہر کام بگڑتے چلے جائیں گے، تم فکری اور عملی اعتبار سے دوسری قوموں کے زیرِ دست ہوجاؤگے۔
خدا کا یہ قانون معروف معنوں میں ’’یہود‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ حاملِ کتاب قوم کے لیے ہے۔ جو قوم بھی حاملِ کتاب ہو، اس کے ساتھ خدا کا یہی معاملہ ہے، خواہ وہ ماضی کے حاملینِ کتاب ہوں یا حال کے حاملین کتاب۔
إبراهيم 14:9
خدا کے جتنے رسول مختلف قوموں میںآئے سب کے ساتھ ایک ہی قصہ پیش آیا۔ ہر قوم نے اپنے پیغمبروں کی مخالفت کی۔ ہر جگہ ان کا منھ بند کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ ان کا ’’شک‘‘ تھا۔ یہ شک اس لیے تھاکہ ان کے سامنے ایک طرف ان کا آبائی دین تھا جس کی پشت پر اکابر اور اعاظم کے نام تھے۔ دوسری طرف پیغمبر کا دین تھا ،جو بظاہر ایک معمولی انسان کے ذریعہ پیش کیا جارہا تھا۔ دلائل کا زور پیغمبر کے دین کے ساتھ نظر آتا تھا مگر تاریخی عظمت اورعوامی بھیڑ آبائی دین کے ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ پیغمبر کے مخاطبین کا یہ حال ہوا کہ وہ دلائل کو رد کرنے کی قوت اپنے اندر نہ پاتے تھے۔ اور یہ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اعاظم اوراکابر کو کس طرح غلط سمجھ لیں۔ اس دو طرفہ صورت حال نے انھیں شک میں مبتلا کردیا۔ عملاً اگر چہ وہ آبائی دین کے ساتھ وابستہ رہے مگر اپنے قلب ودماغ کو شک سے آزاد بھی نہ کرسکے۔
إبراهيم 14:10
اس آیت کا تعلق اصلاً قدیم قوموں سے ہے۔ مگر قرآن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خدا کی ابدی تعلیمات کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیاگیا ہے۔ اس لیے قرآن میںایسے الفاظ استعمال كيے جاتے ہیں جن میں مخاطبِ اول کی رعایت کے ساتھ بعد کے انسانوں کی رعایت بھی پوری طرح شامل ہو۔
اس آیت میں ’’فاطر‘‘ کا لفظ اسی کی ایک مثال ہے۔ فاطرکے لفظی معنی ہیں ’’پھاڑنے والا‘‘۔ عمومی مفہوم کے لحاظ سے فاطر کا لفظ یہاں خالق کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مگراس کا خالص لفظی ترجمہ کیا جائے تو وہ ہوگا— ’’کیا تم کو خدا کے بارہ میں شک ہے جو زمین و آسمان کا پھاڑنے والا ہے‘‘۔
لفظی ترجمہ کے اعتبار سے یہ آیت موجودہ زمانہ میں منکرین خدا کے لیے خدا کے وجود کو ثابت کررہی ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین وآسمان کا مادہ ابتداء ً ایک سالم گولے کی صورت میں تھا۔ جس کو سپر ایٹم کہاجاتاہے۔ معلوم قوانینِ فطرت کے مطابق اس کے تمام اجزاء انتہائی شدت کے ساتھ اندر کی طرف جڑے ہوئے تھے۔ موجودہ وسیع کائنات اسی سپر ایٹم میں انفجار سے وجود میںآئی۔ اس آیت میں فاطر (پھاڑنے والا) کا لفظ اسی کائناتی واقعہ کی طرف اشارہ کررہا ہے جو ایک خالق کے وجود کا قطعی ثبوت ہے۔ کیوں کہ سپر ايٹم کے اجزاء جو مکمل طورپر اندر کی طرف کھنچے ہوئے تھے، ان کو بیرونی سمت میں متحرک کرنا اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ لازم ہے کہ اس کے لیے کسی خارجی مداخلت کو مانا جائے۔ اسی مداخلت کرنے والی طاقت کا دوسرا نام خدا ہے۔
إبراهيم 14:11
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے مطابق ان کو پچھلے پیغمبر اور ہم عصر پیغمبر میں نظر آتا تھا۔
گزرا ہوا پیغمبر بھی اگر چہ اپنے وقت میں ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم عصرپیغمبر۔ مگر بعد کے دور میں گزرے ہوئے پیغمبروں کے متبعین نے ان کے گرد طلسماتی قصوں کا ہالہ بنا دیا۔ بعد کے دور میں پیغمبروں کی شخصیتوں کو ایسا افسانوی رنگ دے دیاگیا جو ابتداء ً ان کے یہاں موجود نہ تھا۔ اب قوموں کے سامنے ایک طرف فرضی شعبدوں والا پیغمبر تھا، دوسری طرف حقیقی واقعات والا پیغمبر۔ اس تقابل میں پچھلا پیغمبر پیغمبری کے لیے معیاری نمونہ بن گیا۔ اور جب قوموں نے اس معیار کے اعتبار سے دیکھا تو وقت کا حقیقی پیغمبر ان کو ماضی کے افسانوی پیغمبر سے کم نظر آیا۔ چنانچہ انھوںنے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ تمھاری ان باتوں کے جواب میں ہمارے پاس صبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔
إبراهيم 14:12
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے مطابق ان کو پچھلے پیغمبر اور ہم عصر پیغمبر میں نظر آتا تھا۔
گزرا ہوا پیغمبر بھی اگر چہ اپنے وقت میں ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم عصرپیغمبر۔ مگر بعد کے دور میں گزرے ہوئے پیغمبروں کے متبعین نے ان کے گرد طلسماتی قصوں کا ہالہ بنا دیا۔ بعد کے دور میں پیغمبروں کی شخصیتوں کو ایسا افسانوی رنگ دے دیاگیا جو ابتداء ً ان کے یہاں موجود نہ تھا۔ اب قوموں کے سامنے ایک طرف فرضی شعبدوں والا پیغمبر تھا، دوسری طرف حقیقی واقعات والا پیغمبر۔ اس تقابل میں پچھلا پیغمبر پیغمبری کے لیے معیاری نمونہ بن گیا۔ اور جب قوموں نے اس معیار کے اعتبار سے دیکھا تو وقت کا حقیقی پیغمبر ان کو ماضی کے افسانوی پیغمبر سے کم نظر آیا۔ چنانچہ انھوںنے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ تمھاری ان باتوں کے جواب میں ہمارے پاس صبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔
إبراهيم 14:13
پیغمبروں کی دعوت سے ان کی قوموں کے دین پر زد پڑتی تھی۔ وہ لوگ اپنے جن افراد کو قوم کے اکابر کادرجہ ديے ہوئے تھے، پیغمبروں کے تجزیہ میں وہ اصاغر قرار پارہے تھے۔ اس بنا پر وہ پیغمبروں سے بگڑ گئے۔ وہ دلائل سے تو ان کو رد نہیں کرسکتے تھے۔ البتہ وقت کے نظام میں ان کو ہر قسم کا اختیار حاصل تھا۔ چنانچہ ان کی متکبرانہ نفسیات نے انھیں سمجھایا کہ پیغمبر کو بے گھر اور بے زمین کردیا جائے۔ جس چیز کا توڑان کے پاس دلیل کی زبان میں نہ تھا، ا س کا توڑ انھوں نے طاقت کے ذریعہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جو زمین آدمی کے پاس ہے، وہ اس کے پاس بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور حق۔ اگر آدمی یہ سمجھے کہ یہ خدا کی چیز ہے جس کو اس نے امتحان کی غرض سے اس کی تحویل میں دیا ہے تو اس سے آدمی کے اندر تواضع کی نفسیا ت پیداہوگی۔ وہ ڈرے گا کہ جس خدا نے دیاہے وہ اس کو دوبارہ اس سے چھین نہ لے۔ مگر غافل لوگ اس کو اپنا ذاتی حق سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا یہی احساس ان کو ظالم اور متکبر بنا دیتاہے۔
پیغمبر کی دعوت جب تکمیل کے مرحلہ پر پہنچتی ہے تو یہ مخاطب قوم کے لیے مہلت امتحان ختم ہونے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ دنیاکو اپنے لیے بالکل بدلا ہوا پاتے ہیں۔ جن چیزوں کو وہ اپنی چیز سمجھ کر متکبرانہ منصوبے بنا رہے تھے وہ چیزیں اچانک ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ زمین ان سے چھین کر دوسرے لوگوں کو دے دی جائے جو ان کے مقابلہ میں اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہوں۔
إبراهيم 14:14
پیغمبروں کی دعوت سے ان کی قوموں کے دین پر زد پڑتی تھی۔ وہ لوگ اپنے جن افراد کو قوم کے اکابر کادرجہ ديے ہوئے تھے، پیغمبروں کے تجزیہ میں وہ اصاغر قرار پارہے تھے۔ اس بنا پر وہ پیغمبروں سے بگڑ گئے۔ وہ دلائل سے تو ان کو رد نہیں کرسکتے تھے۔ البتہ وقت کے نظام میں ان کو ہر قسم کا اختیار حاصل تھا۔ چنانچہ ان کی متکبرانہ نفسیات نے انھیں سمجھایا کہ پیغمبر کو بے گھر اور بے زمین کردیا جائے۔ جس چیز کا توڑان کے پاس دلیل کی زبان میں نہ تھا، ا س کا توڑ انھوں نے طاقت کے ذریعہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جو زمین آدمی کے پاس ہے، وہ اس کے پاس بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور حق۔ اگر آدمی یہ سمجھے کہ یہ خدا کی چیز ہے جس کو اس نے امتحان کی غرض سے اس کی تحویل میں دیا ہے تو اس سے آدمی کے اندر تواضع کی نفسیا ت پیداہوگی۔ وہ ڈرے گا کہ جس خدا نے دیاہے وہ اس کو دوبارہ اس سے چھین نہ لے۔ مگر غافل لوگ اس کو اپنا ذاتی حق سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا یہی احساس ان کو ظالم اور متکبر بنا دیتاہے۔
پیغمبر کی دعوت جب تکمیل کے مرحلہ پر پہنچتی ہے تو یہ مخاطب قوم کے لیے مہلت امتحان ختم ہونے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ دنیاکو اپنے لیے بالکل بدلا ہوا پاتے ہیں۔ جن چیزوں کو وہ اپنی چیز سمجھ کر متکبرانہ منصوبے بنا رہے تھے وہ چیزیں اچانک ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ زمین ان سے چھین کر دوسرے لوگوں کو دے دی جائے جو ان کے مقابلہ میں اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہوں۔
إبراهيم 14:15
خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ جبّار اور عنید بن کر اس کا جواب دے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں ایسا شدیدعذاب کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو موت اور ہلاکت کے کنارے پائیں گے۔
جب آدمی کسی کے خلاف ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو وہ کسی برتے پر ایسا کرتاہے۔ یہ مخالفین اپنے آپ کو ’’اکابر‘‘ کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اور اس کے ساتھی ان کو ’’اصاغر‘‘ دکھائی دیتے تھے۔ ان کی یہی نفسیات تھی جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ پیغمبر اور اس کے ساتھوں کے اوپر ہر قسم کے ظلم کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ اپنے كو ’’اکابر‘‘ سے منسوب کرنے ہی کي وجہ سے وہ ’’اصاغر‘‘ کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں کے لیے دلیر ہوگئے۔
إبراهيم 14:16
خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ جبّار اور عنید بن کر اس کا جواب دے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں ایسا شدیدعذاب کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو موت اور ہلاکت کے کنارے پائیں گے۔
جب آدمی کسی کے خلاف ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو وہ کسی برتے پر ایسا کرتاہے۔ یہ مخالفین اپنے آپ کو ’’اکابر‘‘ کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اور اس کے ساتھی ان کو ’’اصاغر‘‘ دکھائی دیتے تھے۔ ان کی یہی نفسیات تھی جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ پیغمبر اور اس کے ساتھوں کے اوپر ہر قسم کے ظلم کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ اپنے كو ’’اکابر‘‘ سے منسوب کرنے ہی کي وجہ سے وہ ’’اصاغر‘‘ کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں کے لیے دلیر ہوگئے۔
إبراهيم 14:17
خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ جبّار اور عنید بن کر اس کا جواب دے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں ایسا شدیدعذاب کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو موت اور ہلاکت کے کنارے پائیں گے۔
جب آدمی کسی کے خلاف ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو وہ کسی برتے پر ایسا کرتاہے۔ یہ مخالفین اپنے آپ کو ’’اکابر‘‘ کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اور اس کے ساتھی ان کو ’’اصاغر‘‘ دکھائی دیتے تھے۔ ان کی یہی نفسیات تھی جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ پیغمبر اور اس کے ساتھوں کے اوپر ہر قسم کے ظلم کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ اپنے كو ’’اکابر‘‘ سے منسوب کرنے ہی کي وجہ سے وہ ’’اصاغر‘‘ کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں کے لیے دلیر ہوگئے۔
إبراهيم 14:18
عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ سب خداا ور مذہب کو ماننے والے لوگ تھے۔ پھر کیوں وہ آپ کے منکر بن گئے۔ ا س کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی سطح پر حق اپنی مجرد صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ جب کہ وہ لوگ صرف اس چیز کو حق سمجھتے تھے جو ان کے قومی بزرگوں کے ذریعہ انھیں ملا ہو۔ انھوںنے اپنے مسلّم قومی بزرگوں کے دین کو پہچانا، مگر وہ ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ کے دین کو پہچاننے میں ناکام رہے۔
جو لوگ قومی روایات کے زیرِ اثر دین کو پائیں ان کے یہاں بھی دینی مظاہر موجود ہوتے ہیں۔ بلکہ اکثر ان کے یہاں دین کی دھوم پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ سب کچھ محض ظاہری دینداری ہوتی ہے، دین کی اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ حقیقی دینداری ہے، نہ کہ ظاہری ہنگامے۔
خدا کووہ انسان مطلوب ہے جس نے ذاتی شعور کی سطح پر حق کو پایا ہو۔ جس نے عالم غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے حق کو اس کی مجرد صورت میں پہچانا ہو اور اس کا ساتھ دیا ہو۔ جس کی روح خدا کے سمندر میں نہائی ہو۔ جو خدا کی محبت میں تڑپا ہو اور خدا کے خوف سے جس کی آنکھوں نے آنسو بہائے ہوں۔
پہلی قسم کے لوگوں کی دینداری اوپری دین داری ہے۔ قیامت کی آندھی اس کو اسی طرح اڑا لے جائے گی جس طرح سطحِ زمین کی خس وخاشاک تیز ہوا میں اڑجاتی ہے۔ اس کے برعکس، دوسری قسم کے لوگوں کا دین حقیقی دین ہے۔ وہ انسانی وجود کی آخری گہرا ئی تک پیوست ہوتاہے۔ ایسے وجود کے لیے آندھی صرف اس ليے آتی ہے کہ وہ اس کی مضبوطی کو ثابت کرے، نہ کہ اس کو اکھاڑ لے جائے۔
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق حقائق پر ہوئی ہے۔ ایسی کائنات میں صرف حقیقی عمل کی قیمت ہوسکتی ہے، نہ کہ مفروضوں اور خوش گمانیوں کی۔
إبراهيم 14:19
عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ سب خداا ور مذہب کو ماننے والے لوگ تھے۔ پھر کیوں وہ آپ کے منکر بن گئے۔ ا س کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی سطح پر حق اپنی مجرد صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ جب کہ وہ لوگ صرف اس چیز کو حق سمجھتے تھے جو ان کے قومی بزرگوں کے ذریعہ انھیں ملا ہو۔ انھوںنے اپنے مسلّم قومی بزرگوں کے دین کو پہچانا، مگر وہ ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ کے دین کو پہچاننے میں ناکام رہے۔
جو لوگ قومی روایات کے زیرِ اثر دین کو پائیں ان کے یہاں بھی دینی مظاہر موجود ہوتے ہیں۔ بلکہ اکثر ان کے یہاں دین کی دھوم پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ سب کچھ محض ظاہری دینداری ہوتی ہے، دین کی اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ حقیقی دینداری ہے، نہ کہ ظاہری ہنگامے۔
خدا کووہ انسان مطلوب ہے جس نے ذاتی شعور کی سطح پر حق کو پایا ہو۔ جس نے عالم غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے حق کو اس کی مجرد صورت میں پہچانا ہو اور اس کا ساتھ دیا ہو۔ جس کی روح خدا کے سمندر میں نہائی ہو۔ جو خدا کی محبت میں تڑپا ہو اور خدا کے خوف سے جس کی آنکھوں نے آنسو بہائے ہوں۔
پہلی قسم کے لوگوں کی دینداری اوپری دین داری ہے۔ قیامت کی آندھی اس کو اسی طرح اڑا لے جائے گی جس طرح سطحِ زمین کی خس وخاشاک تیز ہوا میں اڑجاتی ہے۔ اس کے برعکس، دوسری قسم کے لوگوں کا دین حقیقی دین ہے۔ وہ انسانی وجود کی آخری گہرا ئی تک پیوست ہوتاہے۔ ایسے وجود کے لیے آندھی صرف اس ليے آتی ہے کہ وہ اس کی مضبوطی کو ثابت کرے، نہ کہ اس کو اکھاڑ لے جائے۔
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق حقائق پر ہوئی ہے۔ ایسی کائنات میں صرف حقیقی عمل کی قیمت ہوسکتی ہے، نہ کہ مفروضوں اور خوش گمانیوں کی۔
إبراهيم 14:20
عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ سب خداا ور مذہب کو ماننے والے لوگ تھے۔ پھر کیوں وہ آپ کے منکر بن گئے۔ ا س کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی سطح پر حق اپنی مجرد صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ جب کہ وہ لوگ صرف اس چیز کو حق سمجھتے تھے جو ان کے قومی بزرگوں کے ذریعہ انھیں ملا ہو۔ انھوںنے اپنے مسلّم قومی بزرگوں کے دین کو پہچانا، مگر وہ ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ کے دین کو پہچاننے میں ناکام رہے۔
جو لوگ قومی روایات کے زیرِ اثر دین کو پائیں ان کے یہاں بھی دینی مظاہر موجود ہوتے ہیں۔ بلکہ اکثر ان کے یہاں دین کی دھوم پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ سب کچھ محض ظاہری دینداری ہوتی ہے، دین کی اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ حقیقی دینداری ہے، نہ کہ ظاہری ہنگامے۔
خدا کووہ انسان مطلوب ہے جس نے ذاتی شعور کی سطح پر حق کو پایا ہو۔ جس نے عالم غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے حق کو اس کی مجرد صورت میں پہچانا ہو اور اس کا ساتھ دیا ہو۔ جس کی روح خدا کے سمندر میں نہائی ہو۔ جو خدا کی محبت میں تڑپا ہو اور خدا کے خوف سے جس کی آنکھوں نے آنسو بہائے ہوں۔
پہلی قسم کے لوگوں کی دینداری اوپری دین داری ہے۔ قیامت کی آندھی اس کو اسی طرح اڑا لے جائے گی جس طرح سطحِ زمین کی خس وخاشاک تیز ہوا میں اڑجاتی ہے۔ اس کے برعکس، دوسری قسم کے لوگوں کا دین حقیقی دین ہے۔ وہ انسانی وجود کی آخری گہرا ئی تک پیوست ہوتاہے۔ ایسے وجود کے لیے آندھی صرف اس ليے آتی ہے کہ وہ اس کی مضبوطی کو ثابت کرے، نہ کہ اس کو اکھاڑ لے جائے۔
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق حقائق پر ہوئی ہے۔ ایسی کائنات میں صرف حقیقی عمل کی قیمت ہوسکتی ہے، نہ کہ مفروضوں اور خوش گمانیوں کی۔
إبراهيم 14:21
انسان، بطور واقعہ اگر چہ ہر وقت ’’خدا کے سامنے‘‘ ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو بظاہر خدا کے سامنے نہیں پاتا۔ آخرت میں یہ پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ وہ اس طرح کامل طورپر خدا کے سامنے تھا کہ اس کی کوئی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔
دنیا میں جو لوگ حق کو نظر انداز کرتے ہیں ان کا سب سے بڑا سہارا ان کے مفروضہ اکابر ہوتے ہیں۔ خواہ وہ مُردہ اکابر ہوں یا زندہ اکابر۔ چھوٹے جو کچھ کرتے ہیں اپنے بڑوں کے بَل پر کرتے ہیں۔ آخرت میں جب یہ لوگ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کی حالت میں پائیں گے تو وہ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمھاری رہنمائی پر اعتماد كيے ہوئے تھے، اب یہاں بھی تم ہماری کچھ رہنمائی کرو۔
اس کے جواب میں ان کے بڑے اپنے چھوٹوں سے کہیں گے کہ آج کا دن تو اسی لیے آیا ہے کہ وہ ہمارے بے رہنما ہونے کو بے نقاب کرے۔ پھر اب ہم تم کو کیا رہنمائی دے سکتے ہیں۔ ہماری رہنمائی تو محض وقتی فریب تھی جو پچھلی دنیامیں ختم ہوگئی۔ اب تو یہی ہے کہ تم بھی اپنے بھٹکنے کا نتیجہ بھگتو اور ہم بھی اپنی گمراہی کا نتیجہ بھگتیں۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، بہر حال اب ہمارا اس کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔
إبراهيم 14:22
خدا کی دنیا واقعات کی دنیا ہے، نہ کہ تخیلات کی دنیا ۔ یہاں شیطان کے وعدے پر اٹھنا یہ ہے کہ آدمی غیر حقیقی بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہے۔
آدمی حق کے داعی کو نظر انداز کردے اور دوسرے دوسرے کارنامے دکھا کر حق کا علم بردار ہونے کا کریڈٹ لے۔ وہ آخرت کے لیے عمل نہ کرے اور خود ساختہ مفروضوں کے تحت یہ امید قائم کرلے کہ اس کی نجات ہوجائے گی۔ وہ خدا کے احکام کے مطابق زندگی نہ گزارے اور یہ یقین کرلے کہ اس کا نام اپنے آپ خدا کے محبوب بندوں میں لکھ لیا جائے گا — یہ سب شیطان کے وعدوں پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور آخرت میں آدمی جان لے گا کہ صرف خدا کا وعدہ سچا وعدہ تھا۔ اور باقی تمام وعدے جھوٹے بھروسے تھے جو کبھی پورے ہونے والے نہیں۔
خدا کی دنیامیں غیرِ خدا سے امید قائم کرنا شرک ہے۔ اس لیے جو لوگ خدائی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور غیر خدائی توقعات پر اپنی زندگی کا محل کھڑا کرنا چاہتے ہیں، وہ گویا خدا کے ساتھ دوسری چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرارہے ہیں۔ یہ دوسری چیزیں فیصلہ کے دن ان کا کچھ بھی سہارا نہ بن سکیں گی۔
إبراهيم 14:23
ملاقات کے وقت السلام علیکم کہنا محض ایک معاشرتی رسم نہیں۔ یہ قلبی تعلق کی ایک ظاہری علامت ہے۔ دنیا کا السلام علیکم بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے اور آخرت کا السلام علیکم بھی مزید اضافہ کے ساتھ یہی۔
جو لوگ دنیامیں اس طرح رہے کہ ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی کے جذبات بھرے ہوئے تھے۔ جو شکایتوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے سے محبت کرنا جانتے تھے۔ جو دوسرے کے لیے ہمیشہ وہ الفاظ بولتے تھے جس میں اس کا اعتراف اور احترام شامل ہو۔ جو دوسرے کے لیے وہی چیز پسند کرتے تھے جو اپنےلیے پسند کرتے تھے۔ جن کے سینے میں دوسروں کے لیے سلامتی کے چشمے ابلتے تھے اور جن کی آنکھیں دوسرے کی بھلائی کو دیکھ كر ٹھنڈی ہوتی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی نفیس دنیا میں بسائے جانے کے اہل ٹھہریں گے۔ دنیا میں بھی ان کا یہ حال تھا کہ جب وہ اپنے بھائیوں سے ملتے تو ان کے لیے ان کی محبت اور خیر خواہی ’’السلام علیکم‘‘ کی صور ت میں ٹپکتی تھی۔ آخرت میں یہی چیز اور زیادہ لطیف اور خالص بن کر اپنے جنتی پڑوسیوں کے بارے میں ان کی زبانوں سے نکلے گی۔
إبراهيم 14:24
موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مختلف حقیقتوں کی ظاہری تمثیلات قائم کی ہیں۔ شجرۂ طیبہ (اچھا درخت) ایک اعتبار سے مومن کی تمثیل ہے۔
درخت کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنا غذائی دستر خوان بناتا ہے اور اس طرح بیج سے ترقی کرکے ایک عظیم درخت کی صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہوجاتا ہے۔درخت زمین سے پانی اور معدنیات اور نمکیات لے کر بڑھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہوا اور سورج سے اپنے لیے غذا حاصل کرتاہے۔ وہ نیچے سے بھی خوراک لیتا ہے اور اوپر سے بھی۔
یہی مومن کا معاملہ بھی ہے۔ عام درخت اگر مادی درخت ہے تو مومن شعوری درخت۔ مومن ایک طرف دنیا میں خدا کی تخلیقات اور اس کے نظام کو دیکھ کر عبرت اور نصیحت حاصل کرتا ہے۔ د وسری طرف ’’اوپر‘‘ سے اس کو مسلسل خدا کا فیضان پہنچتا رہتا ہے۔وہ مخلوقات سے بھی اپنے لیے اضافۂ ایمان کی خوراک حاصل کرتاہے اور خالق سے بھی اس کی قربت اور ملاقات برابر جاری رہتی ہے۔
درخت ہر موسم میں اپنے پھل دیتاہے۔ اسی طرح مومن ہر موقع پر وہ صحیح رویہ ظاہر کرتاہے جو اسے ظاہر کرنا چاہیے۔ معاشی تنگی ہو یا معاشی فراخی، خوشی کا لمحہ ہو یا غم کا۔ شکایت کی بات ہو یا تعریف کی۔ زور آوری کی حالت ہو یا بے زوری کی، ہر موقع پر اس کی زبان اور اس کا کردار وہی رد عمل ظاہر کرتاہے جو خدا کے سچے بندے کی حیثیت سے اسے ظاہر کرنا چاہیے۔
دوسری مثال شجرۂ خبیثہ (جھاڑ جھنکاڑ) کی ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کائنات سے اس کو بالکل برعکس قسم کی خوراک مہیا کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اس کے اوپر کانٹے اگتے ہیں۔ اس کی شاخوں میں کڑوے اور بدمزہ پھل لگتے ہیں۔اس کے پاس کوئی شخص جائے تووہ بدبو سے اس کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے درخت کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ وہ جہاں اگے وہاں سے اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
یہی معاملہ غیر مومن کا ہے۔ وہ زمین میں ایک غیر مطلوب وجود کی حیثیت سے اُگتا ہے۔ کائنات اپنی تمام بہترین نشانیوں کے باوجود اس کے لیے ایسی ہوجاتی ہے جیسے یہاں اس کے لیے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی نصیحت۔ خدا کا فیضان اگر چہ ہر وقت برستا ہے مگر اس کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اس کے کردار اور معاملات میں اس کا اظہار نہیں ہوتا۔
إبراهيم 14:25
موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مختلف حقیقتوں کی ظاہری تمثیلات قائم کی ہیں۔ شجرۂ طیبہ (اچھا درخت) ایک اعتبار سے مومن کی تمثیل ہے۔
درخت کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنا غذائی دستر خوان بناتا ہے اور اس طرح بیج سے ترقی کرکے ایک عظیم درخت کی صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہوجاتا ہے۔درخت زمین سے پانی اور معدنیات اور نمکیات لے کر بڑھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہوا اور سورج سے اپنے لیے غذا حاصل کرتاہے۔ وہ نیچے سے بھی خوراک لیتا ہے اور اوپر سے بھی۔
یہی مومن کا معاملہ بھی ہے۔ عام درخت اگر مادی درخت ہے تو مومن شعوری درخت۔ مومن ایک طرف دنیا میں خدا کی تخلیقات اور اس کے نظام کو دیکھ کر عبرت اور نصیحت حاصل کرتا ہے۔ د وسری طرف ’’اوپر‘‘ سے اس کو مسلسل خدا کا فیضان پہنچتا رہتا ہے۔وہ مخلوقات سے بھی اپنے لیے اضافۂ ایمان کی خوراک حاصل کرتاہے اور خالق سے بھی اس کی قربت اور ملاقات برابر جاری رہتی ہے۔
درخت ہر موسم میں اپنے پھل دیتاہے۔ اسی طرح مومن ہر موقع پر وہ صحیح رویہ ظاہر کرتاہے جو اسے ظاہر کرنا چاہیے۔ معاشی تنگی ہو یا معاشی فراخی، خوشی کا لمحہ ہو یا غم کا۔ شکایت کی بات ہو یا تعریف کی۔ زور آوری کی حالت ہو یا بے زوری کی، ہر موقع پر اس کی زبان اور اس کا کردار وہی رد عمل ظاہر کرتاہے جو خدا کے سچے بندے کی حیثیت سے اسے ظاہر کرنا چاہیے۔
دوسری مثال شجرۂ خبیثہ (جھاڑ جھنکاڑ) کی ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کائنات سے اس کو بالکل برعکس قسم کی خوراک مہیا کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اس کے اوپر کانٹے اگتے ہیں۔ اس کی شاخوں میں کڑوے اور بدمزہ پھل لگتے ہیں۔اس کے پاس کوئی شخص جائے تووہ بدبو سے اس کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے درخت کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ وہ جہاں اگے وہاں سے اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
یہی معاملہ غیر مومن کا ہے۔ وہ زمین میں ایک غیر مطلوب وجود کی حیثیت سے اُگتا ہے۔ کائنات اپنی تمام بہترین نشانیوں کے باوجود اس کے لیے ایسی ہوجاتی ہے جیسے یہاں اس کے لیے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی نصیحت۔ خدا کا فیضان اگر چہ ہر وقت برستا ہے مگر اس کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اس کے کردار اور معاملات میں اس کا اظہار نہیں ہوتا۔
إبراهيم 14:26
موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مختلف حقیقتوں کی ظاہری تمثیلات قائم کی ہیں۔ شجرۂ طیبہ (اچھا درخت) ایک اعتبار سے مومن کی تمثیل ہے۔
درخت کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنا غذائی دستر خوان بناتا ہے اور اس طرح بیج سے ترقی کرکے ایک عظیم درخت کی صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہوجاتا ہے۔درخت زمین سے پانی اور معدنیات اور نمکیات لے کر بڑھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہوا اور سورج سے اپنے لیے غذا حاصل کرتاہے۔ وہ نیچے سے بھی خوراک لیتا ہے اور اوپر سے بھی۔
یہی مومن کا معاملہ بھی ہے۔ عام درخت اگر مادی درخت ہے تو مومن شعوری درخت۔ مومن ایک طرف دنیا میں خدا کی تخلیقات اور اس کے نظام کو دیکھ کر عبرت اور نصیحت حاصل کرتا ہے۔ د وسری طرف ’’اوپر‘‘ سے اس کو مسلسل خدا کا فیضان پہنچتا رہتا ہے۔وہ مخلوقات سے بھی اپنے لیے اضافۂ ایمان کی خوراک حاصل کرتاہے اور خالق سے بھی اس کی قربت اور ملاقات برابر جاری رہتی ہے۔
درخت ہر موسم میں اپنے پھل دیتاہے۔ اسی طرح مومن ہر موقع پر وہ صحیح رویہ ظاہر کرتاہے جو اسے ظاہر کرنا چاہیے۔ معاشی تنگی ہو یا معاشی فراخی، خوشی کا لمحہ ہو یا غم کا۔ شکایت کی بات ہو یا تعریف کی۔ زور آوری کی حالت ہو یا بے زوری کی، ہر موقع پر اس کی زبان اور اس کا کردار وہی رد عمل ظاہر کرتاہے جو خدا کے سچے بندے کی حیثیت سے اسے ظاہر کرنا چاہیے۔
دوسری مثال شجرۂ خبیثہ (جھاڑ جھنکاڑ) کی ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کائنات سے اس کو بالکل برعکس قسم کی خوراک مہیا کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اس کے اوپر کانٹے اگتے ہیں۔ اس کی شاخوں میں کڑوے اور بدمزہ پھل لگتے ہیں۔اس کے پاس کوئی شخص جائے تووہ بدبو سے اس کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے درخت کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ وہ جہاں اگے وہاں سے اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
یہی معاملہ غیر مومن کا ہے۔ وہ زمین میں ایک غیر مطلوب وجود کی حیثیت سے اُگتا ہے۔ کائنات اپنی تمام بہترین نشانیوں کے باوجود اس کے لیے ایسی ہوجاتی ہے جیسے یہاں اس کے لیے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی نصیحت۔ خدا کا فیضان اگر چہ ہر وقت برستا ہے مگر اس کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اس کے کردار اور معاملات میں اس کا اظہار نہیں ہوتا۔
إبراهيم 14:27
’’خدا اہل ایمان کو کلمۂ توحید کے ذریعہ دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی‘‘— دنیا میں ثابت قدم رہنے سے مراد اپنی زندگی کے ہر موڑ پر خیر اور عمل صالح کی روش پر قائم رہنا ہے۔ آخرت میں ثابت قدم رہنے سے مراد یہ ہے کہ قبر کے سوال وجواب کے وقت وہ کامیاب رہیں گے۔
انسان ہر لمحہ حالت امتحان میں ہے۔ اس پر طرح طرح کے پسندیدہ اور ناپسندیدہ احوال آتے ہیں۔ ان مواقع پر صحیح خدائی روش پر صرف وہ لوگ قائم رہتے ہیں جو اپنے اندر ’’درختِ ایمان‘‘ اگا چکے ہوں۔ وہ پیش آمدہ صورتِ حال میں اس صحیح ترین رد عمل کا ثبوت دیتے ہیںجو خدا کی مرضی کے مطابق انھیں دینا چاہيے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کی شخصیت جھاڑ جھنکاڑ کی مانند اُگی ہو وہ ہر تجربہ میں کڑواہٹ کا ثبوت دیتاہے۔ وہ ہر موقع پر کانٹا اور بدبو ثابت ہوتا ہے۔
دونوں قسم کے انسان جب قبر کے مرحلہ میں آخری طورپر جانچے جائیں گے تو جو شجرۂ طیبہ تھا وہ شجرۂ طیبہ ثابت ہو کر جنت کے باغ میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جو شجرۂ خبیثہ تھا اس کے ساتھ ایسا معاملہ ہوگا گویا وہ دنیا سے صرف اس لیے اکھاڑا گیا تھا کہ جہنم کا ایندھن بننے کے لیے جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے۔
إبراهيم 14:28
ان آیات کا ابتدائی خطاب قریش کے سرداروں سے ہے۔ مگر اس عمومی انطباق میں وہ تمام لیڈر شامل ہیں جو انکارِ حق کی مہم کی سرداری کرتے ہیں۔
کسی قوم کے بڑے وہی لوگ بنتے ہیں جن کو خصوصی نعمتیں اورمواقع حاصل ہوں۔ ان نعمتوں اور مواقع کا صحیح ترین استعمال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے حق کی دعوت اٹھے تو وہ اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس کی جانب کھڑے ہوں اور اس کی پوری مدد کریں۔ جو چیزیں خدا کی دی ہوئی ہیں ان پر سب سے زیادہ حق خدا کا ہے، نہ کہ کسی اورکا۔
مگر اکثر حالات میں معاملہ اس کے برعکس ہوتاہے۔ ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ حق کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی قیادت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے سے باہر اٹھنے والے حق کو قبول کرنا گویا اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنا ہے۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس پر راضی ہو جائیں جن کو کسی وجہ سے ماحول میں بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔
انسان کو ایک خدا چاہیے۔ ایک ایسی ہستی جسے وہ اپنی زندگی میں سب سے بڑا مقام دے سکے۔ چنانچہ جب بھی کوئی شخص لوگوں کی توجہ خدائے واحد سے ہٹاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگوں کی توجہ کسی غیر خدا کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیر خدا کو اپنا خدا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خدا سے لوگوں کو ہٹانے والے کسی غیر خدا میں فرضی طورپر وہ اعلیٰ صفات ثابت کرتے ہیں جو صرف خدا میں پائی جاتی ہیں۔ کیوں کہ جب تک غیر خدا میں وہ اعلیٰ صفات ثابت نہ کی جائیں لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب ایک خدا کی پرستش چھوڑتا ہے تو وہ اس کے بعد لازمی طورپر توہم پرستی میں پڑ جاتا ہے۔ خدا کو چھوڑنے کا واحد بدل اس دنیا میں توہم پرستی ہے۔
إبراهيم 14:29
ان آیات کا ابتدائی خطاب قریش کے سرداروں سے ہے۔ مگر اس عمومی انطباق میں وہ تمام لیڈر شامل ہیں جو انکارِ حق کی مہم کی سرداری کرتے ہیں۔
کسی قوم کے بڑے وہی لوگ بنتے ہیں جن کو خصوصی نعمتیں اورمواقع حاصل ہوں۔ ان نعمتوں اور مواقع کا صحیح ترین استعمال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے حق کی دعوت اٹھے تو وہ اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس کی جانب کھڑے ہوں اور اس کی پوری مدد کریں۔ جو چیزیں خدا کی دی ہوئی ہیں ان پر سب سے زیادہ حق خدا کا ہے، نہ کہ کسی اورکا۔
مگر اکثر حالات میں معاملہ اس کے برعکس ہوتاہے۔ ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ حق کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی قیادت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے سے باہر اٹھنے والے حق کو قبول کرنا گویا اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنا ہے۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس پر راضی ہو جائیں جن کو کسی وجہ سے ماحول میں بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔
انسان کو ایک خدا چاہیے۔ ایک ایسی ہستی جسے وہ اپنی زندگی میں سب سے بڑا مقام دے سکے۔ چنانچہ جب بھی کوئی شخص لوگوں کی توجہ خدائے واحد سے ہٹاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگوں کی توجہ کسی غیر خدا کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیر خدا کو اپنا خدا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خدا سے لوگوں کو ہٹانے والے کسی غیر خدا میں فرضی طورپر وہ اعلیٰ صفات ثابت کرتے ہیں جو صرف خدا میں پائی جاتی ہیں۔ کیوں کہ جب تک غیر خدا میں وہ اعلیٰ صفات ثابت نہ کی جائیں لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب ایک خدا کی پرستش چھوڑتا ہے تو وہ اس کے بعد لازمی طورپر توہم پرستی میں پڑ جاتا ہے۔ خدا کو چھوڑنے کا واحد بدل اس دنیا میں توہم پرستی ہے۔
إبراهيم 14:30
ان آیات کا ابتدائی خطاب قریش کے سرداروں سے ہے۔ مگر اس عمومی انطباق میں وہ تمام لیڈر شامل ہیں جو انکارِ حق کی مہم کی سرداری کرتے ہیں۔
کسی قوم کے بڑے وہی لوگ بنتے ہیں جن کو خصوصی نعمتیں اورمواقع حاصل ہوں۔ ان نعمتوں اور مواقع کا صحیح ترین استعمال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے حق کی دعوت اٹھے تو وہ اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس کی جانب کھڑے ہوں اور اس کی پوری مدد کریں۔ جو چیزیں خدا کی دی ہوئی ہیں ان پر سب سے زیادہ حق خدا کا ہے، نہ کہ کسی اورکا۔
مگر اکثر حالات میں معاملہ اس کے برعکس ہوتاہے۔ ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ حق کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی قیادت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے سے باہر اٹھنے والے حق کو قبول کرنا گویا اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنا ہے۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس پر راضی ہو جائیں جن کو کسی وجہ سے ماحول میں بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔
انسان کو ایک خدا چاہیے۔ ایک ایسی ہستی جسے وہ اپنی زندگی میں سب سے بڑا مقام دے سکے۔ چنانچہ جب بھی کوئی شخص لوگوں کی توجہ خدائے واحد سے ہٹاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگوں کی توجہ کسی غیر خدا کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیر خدا کو اپنا خدا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خدا سے لوگوں کو ہٹانے والے کسی غیر خدا میں فرضی طورپر وہ اعلیٰ صفات ثابت کرتے ہیں جو صرف خدا میں پائی جاتی ہیں۔ کیوں کہ جب تک غیر خدا میں وہ اعلیٰ صفات ثابت نہ کی جائیں لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب ایک خدا کی پرستش چھوڑتا ہے تو وہ اس کے بعد لازمی طورپر توہم پرستی میں پڑ جاتا ہے۔ خدا کو چھوڑنے کا واحد بدل اس دنیا میں توہم پرستی ہے۔
إبراهيم 14:31
آدمی کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ اگر اس کے کچھ ساتھی ہیں تو وہ ساتھیوں کا زور استعمال کرتاہے۔ اور اگر دولت ہے تو دولت کو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اپنے کو بچانے کی تڑپ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں کی طرف دوڑے۔
نماز اور انفاق حقیقۃً مسئلہ آخرت کے بارے میں آدمی کے اسی احساس کا دنیوی اظہار ہیں۔ نماز گویا آخرت کی ہولناکی کو یاد کرکے خدا کی پناہ کی طرف بھاگنا ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو بچائے۔ اسی طرح دنیا میں کھلے اور چھپے خرچ کرناگویا اپنی کمائی کو آخرت کی مد میں دینا ہے تاکہ وہ آخرت کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔
آخرت میں وہی آدمی سہارا پائے گا جس نے دنیا میں خدا کا سہارا پکڑا ہو۔ آخرت میں وہی آدمی چھٹکارا حاصل کرے گا جس نے دنیا میں اس کی خاطر اپنے دائیں بائیں خرچ کیا ہو۔ جولوگ دنیا میں ایسا نہ کرسکیں وہ آخرت میں سہارا کے لیے دوڑیں گے مگر وہاں وہ کوئی سہارا نہ پائیں گے۔ وہ آخرت میں خرچ کرنا چاہیں گے مگر ان کے پاس کچھ نہ ہوگا جس کو فدیہ دے کر وہ وہاں کی مصیبتوں سے نجات حاصل کریں۔
إبراهيم 14:32
موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی و تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ ان میں وہ اپنی سواریاں دوڑائے، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعے زمین کا انسان کے موافق ہو جانا سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یاناقابل قیاس ضرورت پیشگی طورپر یہاں بافراط موجود ہے۔
یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کردیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے، دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔
مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔
إبراهيم 14:33
موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی و تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ ان میں وہ اپنی سواریاں دوڑائے، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعے زمین کا انسان کے موافق ہو جانا سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یاناقابل قیاس ضرورت پیشگی طورپر یہاں بافراط موجود ہے۔
یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کردیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے، دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔
مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔
إبراهيم 14:34
موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی و تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ ان میں وہ اپنی سواریاں دوڑائے، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعے زمین کا انسان کے موافق ہو جانا سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یاناقابل قیاس ضرورت پیشگی طورپر یہاں بافراط موجود ہے۔
یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کردیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے، دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔
مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔
إبراهيم 14:35
حضرت ابراہیم کے زمانہ تک ملکوںاور قوموں کا یہ حال ہوچکا تھا کہ ہر طرف شرک کا دور دورہ تھا۔ سورج چاند اور دوسرے مظاہر فطرت انسان کی پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ قدیم زمانہ میں زندگی کی تمام سرگرمیوں پر شرک کا اس طرح غلبہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ بظاہر یہ ناممکن نظر آنے لگا کہ لوگوں کو شرک کی فضا سے نکال کر توحید کے دائرے میں لایا جاسکے۔ اس وقت خدا کے حکم خاص کے تحت حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر عرب کے صحرا میںآئے جو تمدن سے دور بالکل غیر آباد علاقہ تھا۔ آپ نے الگ تھلگ ماحول میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچہ اسماعیل کو بسایا۔ تاکہ یہاں وقت کے مشرکانہ تسلسل سے کٹ کر ایک نئی نسل تیار ہو۔ جو آزادانہ فضا میں پرورش پاکر اپنی فطرت صحیحہ پر قائم ہوسکے— حضرت ابراہیم کا کلام دعا کے انداز میں اسی خاص حقیقت کو ظاہر کررہا ہے۔
بنواسماعیل کو خشک اور غیر آباد بیابان میں بسانے سے خدا کا منصوبہ یہی تھا۔ اب یہاں کے جن لوگوں نے توحید کو اپنے دل کی آواز بنایا وہ گویا باغ ابراہیم کی صحیح پیداوار تھے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے دوبارہ شرک کا طریقہ اختیار کرلیاوہ اس باغ کی ناقص پیداوار قرار پائیں گے۔
إبراهيم 14:36
حضرت ابراہیم کے زمانہ تک ملکوںاور قوموں کا یہ حال ہوچکا تھا کہ ہر طرف شرک کا دور دورہ تھا۔ سورج چاند اور دوسرے مظاہر فطرت انسان کی پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ قدیم زمانہ میں زندگی کی تمام سرگرمیوں پر شرک کا اس طرح غلبہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ بظاہر یہ ناممکن نظر آنے لگا کہ لوگوں کو شرک کی فضا سے نکال کر توحید کے دائرے میں لایا جاسکے۔ اس وقت خدا کے حکم خاص کے تحت حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر عرب کے صحرا میںآئے جو تمدن سے دور بالکل غیر آباد علاقہ تھا۔ آپ نے الگ تھلگ ماحول میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچہ اسماعیل کو بسایا۔ تاکہ یہاں وقت کے مشرکانہ تسلسل سے کٹ کر ایک نئی نسل تیار ہو۔ جو آزادانہ فضا میں پرورش پاکر اپنی فطرت صحیحہ پر قائم ہوسکے— حضرت ابراہیم کا کلام دعا کے انداز میں اسی خاص حقیقت کو ظاہر کررہا ہے۔
بنواسماعیل کو خشک اور غیر آباد بیابان میں بسانے سے خدا کا منصوبہ یہی تھا۔ اب یہاں کے جن لوگوں نے توحید کو اپنے دل کی آواز بنایا وہ گویا باغ ابراہیم کی صحیح پیداوار تھے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے دوبارہ شرک کا طریقہ اختیار کرلیاوہ اس باغ کی ناقص پیداوار قرار پائیں گے۔
إبراهيم 14:37
قدیم مکہ جہاں بنو اسماعیل بسائے گئے وہاں کی پہاڑی اور صحرائی دنیا گویا خدا کی معرفت کی قدرتی تربیت گاہ تھی۔ دوسری طرف وہاں انسانی تعمیرات کے اعتبار سے واحد قابل لحاظ نشان کعبۃ اللہ تھا۔ ایک طرف فطرت کاماحول انسان کے اندر خدا کی یاد ابھارنے والا تھا۔ اس کے بعد اپنے قریب اس کو جو نمایاں چیز نظر آتی تھی وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بنائی ہوئی پتھروں کی مسجد تھی جس میں داخل ہو کر وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔
پھر اس ماحول میں بنو اسماعیل کو معجزاتی طورپر زمزم کے ذریعہ پانی مہیا کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ان کے لیے یہ انتظام کیا گیا کہ ایسی پیدوار سے ان کو رزق ملے جو ان کے قدموں کے نیچے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ گویا ان کو شاکر بنانے کا خصوصی اہتمام تھا۔ غیر معمولی نعمت سے آدمی کے اندر شکر کا غیر معمولی جذبہ ابھرتاہے۔ اور یہی وہ حکمت ہے جو حضرت ابراہیم کی اس دعامیں چھپی ہوئی تھی کہ صحرا میں انھیں پھلوں کی روزی دے ۔
إبراهيم 14:38
حضرت ابراہیم کی اس دعا میں وہ تمام جذبات جھلک رہے ہیں جو ایک سچے بندے کے اندر خدا کو پکارتے ہوئے امنڈتے ہیں۔ اس کی عبدیت زور کرتی ہے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اقرار کرے۔ جو کچھ مانگے احتیاج کی بنیاد پر مانگے، نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر۔ایک طرف وہ ملی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرے اور دوسری طرف ادب کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی درخواست پیش کرے۔ وہ اقرار کرے کہ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔
وہ اپنے رب سے یہ توفیق مانگے کہ وہ دنیا میں اس کا پرستار بن کررہے۔ اسی کی درخواست وہ اپنے لیے بھی کرے اور اپنے اہل خاندان کے لیے بھی اور اسی کی درخواست تمام مومنین کے لیے بھی۔ دعا کے وقت اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہو وہ دنیا کا نہ ہو بلکہ آخرت کا ہو جہاںابدی طورپر آدمی کو رہنا ہے۔
ان آداب کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ پیغمبرانہ دعا ہے اور ایسی دعا اگرسچے دل سے نکلے تو وہ ضرور خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔
إبراهيم 14:39
حضرت ابراہیم کی اس دعا میں وہ تمام جذبات جھلک رہے ہیں جو ایک سچے بندے کے اندر خدا کو پکارتے ہوئے امنڈتے ہیں۔ اس کی عبدیت زور کرتی ہے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اقرار کرے۔ جو کچھ مانگے احتیاج کی بنیاد پر مانگے، نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر۔ایک طرف وہ ملی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرے اور دوسری طرف ادب کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی درخواست پیش کرے۔ وہ اقرار کرے کہ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔
وہ اپنے رب سے یہ توفیق مانگے کہ وہ دنیا میں اس کا پرستار بن کررہے۔ اسی کی درخواست وہ اپنے لیے بھی کرے اور اپنے اہل خاندان کے لیے بھی اور اسی کی درخواست تمام مومنین کے لیے بھی۔ دعا کے وقت اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہو وہ دنیا کا نہ ہو بلکہ آخرت کا ہو جہاںابدی طورپر آدمی کو رہنا ہے۔
ان آداب کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ پیغمبرانہ دعا ہے اور ایسی دعا اگرسچے دل سے نکلے تو وہ ضرور خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔
إبراهيم 14:40
حضرت ابراہیم کی اس دعا میں وہ تمام جذبات جھلک رہے ہیں جو ایک سچے بندے کے اندر خدا کو پکارتے ہوئے امنڈتے ہیں۔ اس کی عبدیت زور کرتی ہے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اقرار کرے۔ جو کچھ مانگے احتیاج کی بنیاد پر مانگے، نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر۔ایک طرف وہ ملی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرے اور دوسری طرف ادب کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی درخواست پیش کرے۔ وہ اقرار کرے کہ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔
وہ اپنے رب سے یہ توفیق مانگے کہ وہ دنیا میں اس کا پرستار بن کررہے۔ اسی کی درخواست وہ اپنے لیے بھی کرے اور اپنے اہل خاندان کے لیے بھی اور اسی کی درخواست تمام مومنین کے لیے بھی۔ دعا کے وقت اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہو وہ دنیا کا نہ ہو بلکہ آخرت کا ہو جہاںابدی طورپر آدمی کو رہنا ہے۔
ان آداب کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ پیغمبرانہ دعا ہے اور ایسی دعا اگرسچے دل سے نکلے تو وہ ضرور خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔
إبراهيم 14:41
حضرت ابراہیم کی اس دعا میں وہ تمام جذبات جھلک رہے ہیں جو ایک سچے بندے کے اندر خدا کو پکارتے ہوئے امنڈتے ہیں۔ اس کی عبدیت زور کرتی ہے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اقرار کرے۔ جو کچھ مانگے احتیاج کی بنیاد پر مانگے، نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر۔ایک طرف وہ ملی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرے اور دوسری طرف ادب کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی درخواست پیش کرے۔ وہ اقرار کرے کہ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔
وہ اپنے رب سے یہ توفیق مانگے کہ وہ دنیا میں اس کا پرستار بن کررہے۔ اسی کی درخواست وہ اپنے لیے بھی کرے اور اپنے اہل خاندان کے لیے بھی اور اسی کی درخواست تمام مومنین کے لیے بھی۔ دعا کے وقت اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہو وہ دنیا کا نہ ہو بلکہ آخرت کا ہو جہاںابدی طورپر آدمی کو رہنا ہے۔
ان آداب کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ پیغمبرانہ دعا ہے اور ایسی دعا اگرسچے دل سے نکلے تو وہ ضرور خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔
إبراهيم 14:42
آدمی کے سامنے حق آتاہے تو وہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں ایسی بے خوفی کا مظاہره کرتاہے جیسے کہ اس سے زیادہ بہادر دنیا میں اور کوئی نہیں۔
مگر یہی حق جو موجودہ دنیا میں ’’داعی‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے وہ آخرت میں ’’خدا‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوگا۔ اس دن ایسے لوگوں کی ساری بہادری جاتی رہے گی۔ آخرت کا ہولناک منظر دیکھ کر ان کا یہ حال ہوگا کہ جب ان کی نگاہیں اٹھیں گی تو وہ اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی، پلک جھپکنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ وہ سر اٹھائے ہوئے تیزی سے میدان حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے۔ اور ان کے دل دہشت کی وجہ سے اڑ رہے ہوں گے۔
إبراهيم 14:43
آدمی کے سامنے حق آتاہے تو وہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں ایسی بے خوفی کا مظاہره کرتاہے جیسے کہ اس سے زیادہ بہادر دنیا میں اور کوئی نہیں۔
مگر یہی حق جو موجودہ دنیا میں ’’داعی‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے وہ آخرت میں ’’خدا‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوگا۔ اس دن ایسے لوگوں کی ساری بہادری جاتی رہے گی۔ آخرت کا ہولناک منظر دیکھ کر ان کا یہ حال ہوگا کہ جب ان کی نگاہیں اٹھیں گی تو وہ اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی، پلک جھپکنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ وہ سر اٹھائے ہوئے تیزی سے میدان حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے۔ اور ان کے دل دہشت کی وجہ سے اڑ رہے ہوں گے۔
إبراهيم 14:44
آدمی کا حال یہ ہے کہ ایک دن پہلے تک بھی وہ اپنے انجام کا احساس نہیں کرتا۔ اس کو اگر کوئی قوت یا حیثیت حاصل ہو تو وہ اس طرح اکڑتاہے گویا کہ اس کی حیثیت کبھی اس سے چھننے والی نہیں۔ وہ خدا کی دعوت کو ٹھکراتا ہے اور بھول جاتاہے کہ وہ جن چیزوں کے بل پر اس کو ٹھکرا رہا ہے وہ سب خدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان پر دھیان نہیں دیتا۔ ماضی کے سرکشوں کا انجام اس کے سامنے ہوتاہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ خود اس کے اپنے لیے کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔
موجودہ دنیا میں جن لوگوں کو مواقع حاصل ہیں وہ حق کو نظر انداز کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر موت کے بعد جب وہ اپنی سرکشی کا انجام دیکھیں گے تو ان کو اپنے ماضی پر اس قدر شرم آئے گی کہ وہ چاہیں گے کہ اگر انھیںدوبارہ مہلت ملے تو وہ موجودہ دنیا میںآکر خوداپنی تردید کریں اور اس چیز کو مان لیں جس کا اس سے پہلے انھوں نے فخریہ طورپر انکار کردیا تھا۔
حق کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔ جس حق کے ساتھ خدا ہو اس کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، خواہ وہ اس کے خلاف اتنی بڑی تیاریوں کے ساتھ آئے ہوں جو پہاڑ کو ہلانے کے لیے بھی کافی ثابت ہو۔
إبراهيم 14:45
آدمی کا حال یہ ہے کہ ایک دن پہلے تک بھی وہ اپنے انجام کا احساس نہیں کرتا۔ اس کو اگر کوئی قوت یا حیثیت حاصل ہو تو وہ اس طرح اکڑتاہے گویا کہ اس کی حیثیت کبھی اس سے چھننے والی نہیں۔ وہ خدا کی دعوت کو ٹھکراتا ہے اور بھول جاتاہے کہ وہ جن چیزوں کے بل پر اس کو ٹھکرا رہا ہے وہ سب خدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان پر دھیان نہیں دیتا۔ ماضی کے سرکشوں کا انجام اس کے سامنے ہوتاہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ خود اس کے اپنے لیے کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔
موجودہ دنیا میں جن لوگوں کو مواقع حاصل ہیں وہ حق کو نظر انداز کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر موت کے بعد جب وہ اپنی سرکشی کا انجام دیکھیں گے تو ان کو اپنے ماضی پر اس قدر شرم آئے گی کہ وہ چاہیں گے کہ اگر انھیںدوبارہ مہلت ملے تو وہ موجودہ دنیا میںآکر خوداپنی تردید کریں اور اس چیز کو مان لیں جس کا اس سے پہلے انھوں نے فخریہ طورپر انکار کردیا تھا۔
حق کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔ جس حق کے ساتھ خدا ہو اس کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، خواہ وہ اس کے خلاف اتنی بڑی تیاریوں کے ساتھ آئے ہوں جو پہاڑ کو ہلانے کے لیے بھی کافی ثابت ہو۔
إبراهيم 14:46
آدمی کا حال یہ ہے کہ ایک دن پہلے تک بھی وہ اپنے انجام کا احساس نہیں کرتا۔ اس کو اگر کوئی قوت یا حیثیت حاصل ہو تو وہ اس طرح اکڑتاہے گویا کہ اس کی حیثیت کبھی اس سے چھننے والی نہیں۔ وہ خدا کی دعوت کو ٹھکراتا ہے اور بھول جاتاہے کہ وہ جن چیزوں کے بل پر اس کو ٹھکرا رہا ہے وہ سب خدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان پر دھیان نہیں دیتا۔ ماضی کے سرکشوں کا انجام اس کے سامنے ہوتاہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ خود اس کے اپنے لیے کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔
موجودہ دنیا میں جن لوگوں کو مواقع حاصل ہیں وہ حق کو نظر انداز کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر موت کے بعد جب وہ اپنی سرکشی کا انجام دیکھیں گے تو ان کو اپنے ماضی پر اس قدر شرم آئے گی کہ وہ چاہیں گے کہ اگر انھیںدوبارہ مہلت ملے تو وہ موجودہ دنیا میںآکر خوداپنی تردید کریں اور اس چیز کو مان لیں جس کا اس سے پہلے انھوں نے فخریہ طورپر انکار کردیا تھا۔
حق کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔ جس حق کے ساتھ خدا ہو اس کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، خواہ وہ اس کے خلاف اتنی بڑی تیاریوں کے ساتھ آئے ہوں جو پہاڑ کو ہلانے کے لیے بھی کافی ثابت ہو۔
إبراهيم 14:47
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔
إبراهيم 14:48
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔
إبراهيم 14:49
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔
إبراهيم 14:50
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔
إبراهيم 14:51
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔
إبراهيم 14:52
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔