Lafzullah

Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — القصص 28:1 – السجدة 32:30

Author / source: Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan)

Contents
  1. القصص 28:1
  2. القصص 28:2
  3. القصص 28:3
  4. القصص 28:4
  5. القصص 28:5
  6. القصص 28:6
  7. القصص 28:7
  8. القصص 28:8
  9. القصص 28:9
  10. القصص 28:10
  11. القصص 28:11
  12. القصص 28:12
  13. القصص 28:13
  14. القصص 28:14
  15. القصص 28:15
  16. القصص 28:16
  17. القصص 28:17
  18. القصص 28:18
  19. القصص 28:19
  20. القصص 28:20
  21. القصص 28:21
  22. القصص 28:22
  23. القصص 28:23
  24. القصص 28:24
  25. القصص 28:25
  26. القصص 28:26
  27. القصص 28:27
  28. القصص 28:28
  29. القصص 28:29
  30. القصص 28:30
  31. القصص 28:31
  32. القصص 28:32
  33. القصص 28:33
  34. القصص 28:34
  35. القصص 28:35
  36. القصص 28:36
  37. القصص 28:37
  38. القصص 28:38
  39. القصص 28:39
  40. القصص 28:40
  41. القصص 28:41
  42. القصص 28:42
  43. القصص 28:43
  44. القصص 28:44
  45. القصص 28:45
  46. القصص 28:46
  47. القصص 28:47
  48. القصص 28:48
  49. القصص 28:49
  50. القصص 28:50
  51. القصص 28:51
  52. القصص 28:52
  53. القصص 28:53
  54. القصص 28:54
  55. القصص 28:55
  56. القصص 28:56
  57. القصص 28:57
  58. القصص 28:58
  59. القصص 28:59
  60. القصص 28:60
  61. القصص 28:61
  62. القصص 28:62
  63. القصص 28:63
  64. القصص 28:64
  65. القصص 28:65
  66. القصص 28:66
  67. القصص 28:67
  68. القصص 28:68
  69. القصص 28:69
  70. القصص 28:70
  71. القصص 28:71
  72. القصص 28:72
  73. القصص 28:73
  74. القصص 28:74
  75. القصص 28:75
  76. القصص 28:76
  77. القصص 28:77
  78. القصص 28:78
  79. القصص 28:79
  80. القصص 28:80
  81. القصص 28:81
  82. القصص 28:82
  83. القصص 28:83
  84. القصص 28:84
  85. القصص 28:85
  86. القصص 28:86
  87. القصص 28:87
  88. القصص 28:88
  89. العنكبوت 29:1
  90. العنكبوت 29:2
  91. العنكبوت 29:3
  92. العنكبوت 29:4
  93. العنكبوت 29:5
  94. العنكبوت 29:6
  95. العنكبوت 29:7
  96. العنكبوت 29:8
  97. العنكبوت 29:9
  98. العنكبوت 29:10
  99. العنكبوت 29:11
  100. العنكبوت 29:12
  101. العنكبوت 29:13
  102. العنكبوت 29:14
  103. العنكبوت 29:15
  104. العنكبوت 29:16
  105. العنكبوت 29:17
  106. العنكبوت 29:18
  107. العنكبوت 29:19
  108. العنكبوت 29:20
  109. العنكبوت 29:21
  110. العنكبوت 29:22
  111. العنكبوت 29:23
  112. العنكبوت 29:24
  113. العنكبوت 29:25
  114. العنكبوت 29:26
  115. العنكبوت 29:27
  116. العنكبوت 29:28
  117. العنكبوت 29:29
  118. العنكبوت 29:30
  119. العنكبوت 29:31
  120. العنكبوت 29:32
  121. العنكبوت 29:33
  122. العنكبوت 29:34
  123. العنكبوت 29:35
  124. العنكبوت 29:36
  125. العنكبوت 29:37
  126. العنكبوت 29:38
  127. العنكبوت 29:39
  128. العنكبوت 29:40
  129. العنكبوت 29:41
  130. العنكبوت 29:42
  131. العنكبوت 29:43
  132. العنكبوت 29:44
  133. العنكبوت 29:45
  134. العنكبوت 29:46
  135. العنكبوت 29:47
  136. العنكبوت 29:48
  137. العنكبوت 29:49
  138. العنكبوت 29:50
  139. العنكبوت 29:51
  140. العنكبوت 29:52
  141. العنكبوت 29:53
  142. العنكبوت 29:54
  143. العنكبوت 29:55
  144. العنكبوت 29:56
  145. العنكبوت 29:57
  146. العنكبوت 29:58
  147. العنكبوت 29:59
  148. العنكبوت 29:60
  149. العنكبوت 29:61
  150. العنكبوت 29:62
  151. العنكبوت 29:63
  152. العنكبوت 29:64
  153. العنكبوت 29:65
  154. العنكبوت 29:66
  155. العنكبوت 29:67
  156. العنكبوت 29:68
  157. العنكبوت 29:69
  158. الروم 30:1
  159. الروم 30:2
  160. الروم 30:3
  161. الروم 30:4
  162. الروم 30:5
  163. الروم 30:6
  164. الروم 30:7
  165. الروم 30:8
  166. الروم 30:9
  167. الروم 30:10
  168. الروم 30:11
  169. الروم 30:12
  170. الروم 30:13
  171. الروم 30:14
  172. الروم 30:15
  173. الروم 30:16
  174. الروم 30:17
  175. الروم 30:18
  176. الروم 30:19
  177. الروم 30:20
  178. الروم 30:21
  179. الروم 30:22
  180. الروم 30:23
  181. الروم 30:24
  182. الروم 30:25
  183. الروم 30:26
  184. الروم 30:27
  185. الروم 30:28
  186. الروم 30:29
  187. الروم 30:30
  188. الروم 30:31
  189. الروم 30:32
  190. الروم 30:33
  191. الروم 30:34
  192. الروم 30:35
  193. الروم 30:36
  194. الروم 30:37
  195. الروم 30:38
  196. الروم 30:39
  197. الروم 30:40
  198. الروم 30:41
  199. الروم 30:42
  200. الروم 30:43
  201. الروم 30:44
  202. الروم 30:45
  203. الروم 30:46
  204. الروم 30:47
  205. الروم 30:48
  206. الروم 30:49
  207. الروم 30:50
  208. الروم 30:51
  209. الروم 30:52
  210. الروم 30:53
  211. الروم 30:54
  212. الروم 30:55
  213. الروم 30:56
  214. الروم 30:57
  215. الروم 30:58
  216. الروم 30:59
  217. الروم 30:60
  218. لقمان 31:1
  219. لقمان 31:2
  220. لقمان 31:3
  221. لقمان 31:4
  222. لقمان 31:5
  223. لقمان 31:6
  224. لقمان 31:7
  225. لقمان 31:8
  226. لقمان 31:9
  227. لقمان 31:10
  228. لقمان 31:11
  229. لقمان 31:12
  230. لقمان 31:13
  231. لقمان 31:14
  232. لقمان 31:15
  233. لقمان 31:16
  234. لقمان 31:17
  235. لقمان 31:18
  236. لقمان 31:19
  237. لقمان 31:20
  238. لقمان 31:21
  239. لقمان 31:22
  240. لقمان 31:23
  241. لقمان 31:24
  242. لقمان 31:25
  243. لقمان 31:26
  244. لقمان 31:27
  245. لقمان 31:28
  246. لقمان 31:29
  247. لقمان 31:30
  248. لقمان 31:31
  249. لقمان 31:32
  250. لقمان 31:33
  251. لقمان 31:34
  252. السجدة 32:1
  253. السجدة 32:2
  254. السجدة 32:3
  255. السجدة 32:4
  256. السجدة 32:5
  257. السجدة 32:6
  258. السجدة 32:7
  259. السجدة 32:8
  260. السجدة 32:9
  261. السجدة 32:10
  262. السجدة 32:11
  263. السجدة 32:12
  264. السجدة 32:13
  265. السجدة 32:14
  266. السجدة 32:15
  267. السجدة 32:16
  268. السجدة 32:17
  269. السجدة 32:18
  270. السجدة 32:19
  271. السجدة 32:20
  272. السجدة 32:21
  273. السجدة 32:22
  274. السجدة 32:23
  275. السجدة 32:24
  276. السجدة 32:25
  277. السجدة 32:26
  278. السجدة 32:27
  279. السجدة 32:28
  280. السجدة 32:29
  281. السجدة 32:30

القصص 28:1

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔

القصص 28:2

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔

القصص 28:3

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔

القصص 28:4

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔

القصص 28:5

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔

القصص 28:6

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔

القصص 28:7

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال دیں۔ انھوں نے تین ماہ بعد ایسا ہی کیا۔ یہ چھوٹی کشتی بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے پہنچی۔ فرعون کی بیوی (آسیہ) ایک نیک بخت خاتون تھیں۔ان کو حضرت موسیٰ کے معصوم اور پرکشش حلیہ کو دیکھ کر رحم آگیا۔ چنانچہ ان کے مشورہ پر حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں رکھ ليے گئے۔ روایات میںآتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے جواب دیا کہ تمھارے ليے ہے، نہ کہ میرے ليے (لَکِ لا لِی)۔ یہ بات غالباً فرعون نے مرد اور عورت کے فرق پر کہی ہوگی مگر بعد کو وہ عین واقعہ بن گئی۔

القصص 28:8

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال دیں۔ انھوں نے تین ماہ بعد ایسا ہی کیا۔ یہ چھوٹی کشتی بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے پہنچی۔ فرعون کی بیوی (آسیہ) ایک نیک بخت خاتون تھیں۔ان کو حضرت موسیٰ کے معصوم اور پرکشش حلیہ کو دیکھ کر رحم آگیا۔ چنانچہ ان کے مشورہ پر حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں رکھ ليے گئے۔ روایات میںآتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے جواب دیا کہ تمھارے ليے ہے، نہ کہ میرے ليے (لَکِ لا لِی)۔ یہ بات غالباً فرعون نے مرد اور عورت کے فرق پر کہی ہوگی مگر بعد کو وہ عین واقعہ بن گئی۔

القصص 28:9

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال دیں۔ انھوں نے تین ماہ بعد ایسا ہی کیا۔ یہ چھوٹی کشتی بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے پہنچی۔ فرعون کی بیوی (آسیہ) ایک نیک بخت خاتون تھیں۔ان کو حضرت موسیٰ کے معصوم اور پرکشش حلیہ کو دیکھ کر رحم آگیا۔ چنانچہ ان کے مشورہ پر حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں رکھ ليے گئے۔ روایات میںآتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے جواب دیا کہ تمھارے ليے ہے، نہ کہ میرے ليے (لَکِ لا لِی)۔ یہ بات غالباً فرعون نے مرد اور عورت کے فرق پر کہی ہوگی مگر بعد کو وہ عین واقعہ بن گئی۔

القصص 28:10

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔ حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔

القصص 28:11

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔ حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔

القصص 28:12

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔ حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔

القصص 28:13

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔ حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔

القصص 28:14

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔ حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔

القصص 28:15

پیغمبری ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے، حضرت موسیٰ مصر کے دار السلطنت میں تھے۔ ایک روز انھوںنے دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو اپنا ہم قوم سمجھ کر پکارا کہ ظالم قبطی کے مقابلہ میں میری مدد کیجيے۔ حضرت موسیٰ نے دونوں کو الگ کرنا چاہا تو قبطی آپ سے الجھ گیا۔ آپ نے دفاع کے طورپر اس کو ایک گھونسا مارا۔ وہ اتفاقاً ایسی جگہ لگا کہ قبطی مر گیا۔ قبطی قوم اس وقت بنی اسرائیل پر سخت زیادتیاں کررہی تھیں۔ ایسی حالت میں حضرت موسیٰ اگر اس واقعہ کو قومی نقطۂ نظر سے دیکھتے تو وہ اس کو مجاہدانہ کارنامہ قرار دے کر فخر کرتے۔ مگر انھیں قبطی کی موت پر شدید افسوس ہوا۔ وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ ’’اب میں کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا‘‘— اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا۔ ایک شخص کا بظاہر مظلوم فرقہ سے تعلق رکھنا یا کسی کو ظالم بتا کر اس کے خلاف مدد مانگنا یہ ثابت کرنے کے ليے کافی نہیں کہ فی الواقع بھی دوسرا شخص ظالم ہے، اور فریاد کرنے والا مظلوم۔ اس ليے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور صرف اس وقت کسی کی حمایت کی جائے جب کہ غیر جانب دارانہ تحقیق میں اس کا مظلوم ہونا ثابت ہوجائے۔

القصص 28:16

پیغمبری ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے، حضرت موسیٰ مصر کے دار السلطنت میں تھے۔ ایک روز انھوںنے دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو اپنا ہم قوم سمجھ کر پکارا کہ ظالم قبطی کے مقابلہ میں میری مدد کیجيے۔ حضرت موسیٰ نے دونوں کو الگ کرنا چاہا تو قبطی آپ سے الجھ گیا۔ آپ نے دفاع کے طورپر اس کو ایک گھونسا مارا۔ وہ اتفاقاً ایسی جگہ لگا کہ قبطی مر گیا۔ قبطی قوم اس وقت بنی اسرائیل پر سخت زیادتیاں کررہی تھیں۔ ایسی حالت میں حضرت موسیٰ اگر اس واقعہ کو قومی نقطۂ نظر سے دیکھتے تو وہ اس کو مجاہدانہ کارنامہ قرار دے کر فخر کرتے۔ مگر انھیں قبطی کی موت پر شدید افسوس ہوا۔ وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ ’’اب میں کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا‘‘— اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا۔ ایک شخص کا بظاہر مظلوم فرقہ سے تعلق رکھنا یا کسی کو ظالم بتا کر اس کے خلاف مدد مانگنا یہ ثابت کرنے کے ليے کافی نہیں کہ فی الواقع بھی دوسرا شخص ظالم ہے، اور فریاد کرنے والا مظلوم۔ اس ليے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور صرف اس وقت کسی کی حمایت کی جائے جب کہ غیر جانب دارانہ تحقیق میں اس کا مظلوم ہونا ثابت ہوجائے۔

القصص 28:17

پیغمبری ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے، حضرت موسیٰ مصر کے دار السلطنت میں تھے۔ ایک روز انھوںنے دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو اپنا ہم قوم سمجھ کر پکارا کہ ظالم قبطی کے مقابلہ میں میری مدد کیجيے۔ حضرت موسیٰ نے دونوں کو الگ کرنا چاہا تو قبطی آپ سے الجھ گیا۔ آپ نے دفاع کے طورپر اس کو ایک گھونسا مارا۔ وہ اتفاقاً ایسی جگہ لگا کہ قبطی مر گیا۔ قبطی قوم اس وقت بنی اسرائیل پر سخت زیادتیاں کررہی تھیں۔ ایسی حالت میں حضرت موسیٰ اگر اس واقعہ کو قومی نقطۂ نظر سے دیکھتے تو وہ اس کو مجاہدانہ کارنامہ قرار دے کر فخر کرتے۔ مگر انھیں قبطی کی موت پر شدید افسوس ہوا۔ وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ ’’اب میں کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا‘‘— اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا۔ ایک شخص کا بظاہر مظلوم فرقہ سے تعلق رکھنا یا کسی کو ظالم بتا کر اس کے خلاف مدد مانگنا یہ ثابت کرنے کے ليے کافی نہیں کہ فی الواقع بھی دوسرا شخص ظالم ہے، اور فریاد کرنے والا مظلوم۔ اس ليے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور صرف اس وقت کسی کی حمایت کی جائے جب کہ غیر جانب دارانہ تحقیق میں اس کا مظلوم ہونا ثابت ہوجائے۔

القصص 28:18

اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي کا مجرم ہونا اس واقعہ سے مزید ثابت ہوگیا کہ اس اسرائیلی نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آج اس کی مدد نہیں کررہے ہیں اور اس کی امید کے خلاف خود اسی کو برا کہہ رہے ہیں تو وہ کمینہ پن پر اتر آیا۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ طور پر کل کے قتل کا راز کھول دیا جو ابھی تک کسی کے علم میں نہ آیا تھا۔ اسرائیلی کی زبان سے قاتل کا نام نکلا تو بہت سے لوگوں نے سن لیا۔ چند دن میںاس کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں میں موسیٰ کے قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک نیک بخت آدمی کو اس کا پتہ چل گیا۔ وہ خفیہ طورپر حضرت موسیٰ سے ملااورکہا کہ اس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں چنانچہ آپ مصر سے نکل کر مَدْیَن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدین خلیج عَقبہ کے مغربی ساحل پر تھا اور فرعون کی سلطنت کے حدود سے باہر تھا۔

القصص 28:19

اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي کا مجرم ہونا اس واقعہ سے مزید ثابت ہوگیا کہ اس اسرائیلی نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آج اس کی مدد نہیں کررہے ہیں اور اس کی امید کے خلاف خود اسی کو برا کہہ رہے ہیں تو وہ کمینہ پن پر اتر آیا۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ طور پر کل کے قتل کا راز کھول دیا جو ابھی تک کسی کے علم میں نہ آیا تھا۔ اسرائیلی کی زبان سے قاتل کا نام نکلا تو بہت سے لوگوں نے سن لیا۔ چند دن میںاس کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں میں موسیٰ کے قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک نیک بخت آدمی کو اس کا پتہ چل گیا۔ وہ خفیہ طورپر حضرت موسیٰ سے ملااورکہا کہ اس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں چنانچہ آپ مصر سے نکل کر مَدْیَن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدین خلیج عَقبہ کے مغربی ساحل پر تھا اور فرعون کی سلطنت کے حدود سے باہر تھا۔

القصص 28:20

اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي کا مجرم ہونا اس واقعہ سے مزید ثابت ہوگیا کہ اس اسرائیلی نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آج اس کی مدد نہیں کررہے ہیں اور اس کی امید کے خلاف خود اسی کو برا کہہ رہے ہیں تو وہ کمینہ پن پر اتر آیا۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ طور پر کل کے قتل کا راز کھول دیا جو ابھی تک کسی کے علم میں نہ آیا تھا۔ اسرائیلی کی زبان سے قاتل کا نام نکلا تو بہت سے لوگوں نے سن لیا۔ چند دن میںاس کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں میں موسیٰ کے قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک نیک بخت آدمی کو اس کا پتہ چل گیا۔ وہ خفیہ طورپر حضرت موسیٰ سے ملااورکہا کہ اس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں چنانچہ آپ مصر سے نکل کر مَدْیَن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدین خلیج عَقبہ کے مغربی ساحل پر تھا اور فرعون کی سلطنت کے حدود سے باہر تھا۔

القصص 28:21

اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي کا مجرم ہونا اس واقعہ سے مزید ثابت ہوگیا کہ اس اسرائیلی نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آج اس کی مدد نہیں کررہے ہیں اور اس کی امید کے خلاف خود اسی کو برا کہہ رہے ہیں تو وہ کمینہ پن پر اتر آیا۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ طور پر کل کے قتل کا راز کھول دیا جو ابھی تک کسی کے علم میں نہ آیا تھا۔ اسرائیلی کی زبان سے قاتل کا نام نکلا تو بہت سے لوگوں نے سن لیا۔ چند دن میںاس کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں میں موسیٰ کے قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک نیک بخت آدمی کو اس کا پتہ چل گیا۔ وہ خفیہ طورپر حضرت موسیٰ سے ملااورکہا کہ اس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں چنانچہ آپ مصر سے نکل کر مَدْیَن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدین خلیج عَقبہ کے مغربی ساحل پر تھا اور فرعون کی سلطنت کے حدود سے باہر تھا۔

القصص 28:22

حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے کہ آپ بھوکے بھی ہوں گے۔ حضرت موسیٰ نے کمزوروں کی حمایت کے جذبہ کے تحت مدین کی دونوں لڑکیوں کی مدد کی۔ یہ واقعہ ان کے ليے لڑکیوں کے والد تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ یہ بزرگ مدیان بن ابراہیم کی اولاد سے تھے اور حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے۔ اس اعتبار سے دونوں میں نسلی قربت بھی تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ دعا نکلی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔

القصص 28:23

حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے کہ آپ بھوکے بھی ہوں گے۔ حضرت موسیٰ نے کمزوروں کی حمایت کے جذبہ کے تحت مدین کی دونوں لڑکیوں کی مدد کی۔ یہ واقعہ ان کے ليے لڑکیوں کے والد تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ یہ بزرگ مدیان بن ابراہیم کی اولاد سے تھے اور حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے۔ اس اعتبار سے دونوں میں نسلی قربت بھی تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ دعا نکلی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔

القصص 28:24

حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے کہ آپ بھوکے بھی ہوں گے۔ حضرت موسیٰ نے کمزوروں کی حمایت کے جذبہ کے تحت مدین کی دونوں لڑکیوں کی مدد کی۔ یہ واقعہ ان کے ليے لڑکیوں کے والد تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ یہ بزرگ مدیان بن ابراہیم کی اولاد سے تھے اور حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے۔ اس اعتبار سے دونوں میں نسلی قربت بھی تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ دعا نکلی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔

القصص 28:25

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔ چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے ليے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے ليے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے ليے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔

القصص 28:26

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔ چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے ليے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے ليے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے ليے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔

القصص 28:27

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔ چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے ليے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے ليے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے ليے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔

القصص 28:28

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔ چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے ليے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے ليے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے ليے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔

القصص 28:29

حضرت موسیٰ غالباً دس سال مدین میں رہے۔ اس مدت میں سابقہ فرعون مرگیا اور خاندانِ فرعون کا دوسرا شخص مصر کے تخت پر بیٹھا۔ اب آپ اپنی بیوی (اور تورات کے مطابق دو بچوں) کے ساتھ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ پر طور کا تجربہ گزرا۔ جس خدا نے سینا کے پہاڑ پر ایک انسان سے براہِ اراست کلام کیا، وہ خدا تمام انسانوں کو بھی براہِ راست آواز دے کر اپنی مرضی سے باخبر کرسکتا ہے۔ مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ براہِ راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔

القصص 28:30

حضرت موسیٰ غالباً دس سال مدین میں رہے۔ اس مدت میں سابقہ فرعون مرگیا اور خاندانِ فرعون کا دوسرا شخص مصر کے تخت پر بیٹھا۔ اب آپ اپنی بیوی (اور تورات کے مطابق دو بچوں) کے ساتھ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ پر طور کا تجربہ گزرا۔ جس خدا نے سینا کے پہاڑ پر ایک انسان سے براہِ اراست کلام کیا، وہ خدا تمام انسانوں کو بھی براہِ راست آواز دے کر اپنی مرضی سے باخبر کرسکتا ہے۔ مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ براہِ راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔

القصص 28:31

حضرت موسیٰ غالباً دس سال مدین میں رہے۔ اس مدت میں سابقہ فرعون مرگیا اور خاندانِ فرعون کا دوسرا شخص مصر کے تخت پر بیٹھا۔ اب آپ اپنی بیوی (اور تورات کے مطابق دو بچوں) کے ساتھ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ پر طور کا تجربہ گزرا۔ جس خدا نے سینا کے پہاڑ پر ایک انسان سے براہِ اراست کلام کیا، وہ خدا تمام انسانوں کو بھی براہِ راست آواز دے کر اپنی مرضی سے باخبر کرسکتا ہے۔ مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ براہِ راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔

القصص 28:32

حضرت موسیٰ غالباً دس سال مدین میں رہے۔ اس مدت میں سابقہ فرعون مرگیا اور خاندانِ فرعون کا دوسرا شخص مصر کے تخت پر بیٹھا۔ اب آپ اپنی بیوی (اور تورات کے مطابق دو بچوں) کے ساتھ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ پر طور کا تجربہ گزرا۔ جس خدا نے سینا کے پہاڑ پر ایک انسان سے براہِ اراست کلام کیا، وہ خدا تمام انسانوں کو بھی براہِ راست آواز دے کر اپنی مرضی سے باخبر کرسکتا ہے۔ مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ براہِ راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔

القصص 28:33

خدا جب کسی کو اپنی دعوت کے کام پر مامور کرتا ہے تو لازمی طورپر اس کو وہ تمام اسباب بھی دیتاہے جو کارِ دعوت کی مؤثر ادائیگی کے ليے ضروری ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ان کے حالات کے لحاظ سے متعدد چیزیں دی گئیں۔ آپ کو ماموریت کی سند کے طورپر خارقِ عادت معجزے عطا کيے گئے۔ آپ کو مدد گار دیا گیا جو اعلان حق کے کام میں آپ کا معاون ہو۔ آپ کو شخصی ہیبت دی گئی تاکہ فرعون کی قوم آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے۔ خداکی طرف سے یہ مقدر کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں (بنی اسرائیل) ہی کو آخری غلبہ حاصل ہو۔

القصص 28:34

خدا جب کسی کو اپنی دعوت کے کام پر مامور کرتا ہے تو لازمی طورپر اس کو وہ تمام اسباب بھی دیتاہے جو کارِ دعوت کی مؤثر ادائیگی کے ليے ضروری ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ان کے حالات کے لحاظ سے متعدد چیزیں دی گئیں۔ آپ کو ماموریت کی سند کے طورپر خارقِ عادت معجزے عطا کيے گئے۔ آپ کو مدد گار دیا گیا جو اعلان حق کے کام میں آپ کا معاون ہو۔ آپ کو شخصی ہیبت دی گئی تاکہ فرعون کی قوم آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے۔ خداکی طرف سے یہ مقدر کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں (بنی اسرائیل) ہی کو آخری غلبہ حاصل ہو۔

القصص 28:35

خدا جب کسی کو اپنی دعوت کے کام پر مامور کرتا ہے تو لازمی طورپر اس کو وہ تمام اسباب بھی دیتاہے جو کارِ دعوت کی مؤثر ادائیگی کے ليے ضروری ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ان کے حالات کے لحاظ سے متعدد چیزیں دی گئیں۔ آپ کو ماموریت کی سند کے طورپر خارقِ عادت معجزے عطا کيے گئے۔ آپ کو مدد گار دیا گیا جو اعلان حق کے کام میں آپ کا معاون ہو۔ آپ کو شخصی ہیبت دی گئی تاکہ فرعون کی قوم آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے۔ خداکی طرف سے یہ مقدر کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں (بنی اسرائیل) ہی کو آخری غلبہ حاصل ہو۔

القصص 28:36

ایک شخص اپنے کو بڑا سمجھتاہو، اس کے سامنے ایک بظاہر معمولی آدمی آئے اور اس پر براہِ راست تنقید کرے تو وہ فوراً بپھر اٹھتا ہے۔ وہ اس کا استہزا کرتاہے اور اس کا مذاق اڑانے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ یہی اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں کیا۔ ’’میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا‘‘— کوئی سنجیدہ جملہ نہیںہے۔ ان الفاظ سے فرعون کا مقصود بیانِ حقیقت نہیں بلکہ تحقیر موسیٰ ہے۔ اسی طرح فرعون نے جب اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ پختہ اینٹ تیار کرکے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں آسمان میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں، تو یہ کوئی سنجیدہ حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعۃً وہ اپنے وزیر کے نام ایک تعمیری فرمان جاری کررہا ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ کا استہزا تھا، نہ کی فی الواقع تعمیر مکان کا کوئی حکم۔

القصص 28:37

ایک شخص اپنے کو بڑا سمجھتاہو، اس کے سامنے ایک بظاہر معمولی آدمی آئے اور اس پر براہِ راست تنقید کرے تو وہ فوراً بپھر اٹھتا ہے۔ وہ اس کا استہزا کرتاہے اور اس کا مذاق اڑانے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ یہی اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں کیا۔ ’’میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا‘‘— کوئی سنجیدہ جملہ نہیںہے۔ ان الفاظ سے فرعون کا مقصود بیانِ حقیقت نہیں بلکہ تحقیر موسیٰ ہے۔ اسی طرح فرعون نے جب اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ پختہ اینٹ تیار کرکے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں آسمان میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں، تو یہ کوئی سنجیدہ حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعۃً وہ اپنے وزیر کے نام ایک تعمیری فرمان جاری کررہا ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ کا استہزا تھا، نہ کی فی الواقع تعمیر مکان کا کوئی حکم۔

القصص 28:38

ایک شخص اپنے کو بڑا سمجھتاہو، اس کے سامنے ایک بظاہر معمولی آدمی آئے اور اس پر براہِ راست تنقید کرے تو وہ فوراً بپھر اٹھتا ہے۔ وہ اس کا استہزا کرتاہے اور اس کا مذاق اڑانے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ یہی اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں کیا۔ ’’میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا‘‘— کوئی سنجیدہ جملہ نہیںہے۔ ان الفاظ سے فرعون کا مقصود بیانِ حقیقت نہیں بلکہ تحقیر موسیٰ ہے۔ اسی طرح فرعون نے جب اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ پختہ اینٹ تیار کرکے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں آسمان میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں، تو یہ کوئی سنجیدہ حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعۃً وہ اپنے وزیر کے نام ایک تعمیری فرمان جاری کررہا ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ کا استہزا تھا، نہ کی فی الواقع تعمیر مکان کا کوئی حکم۔

القصص 28:39

حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔

القصص 28:40

حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔

القصص 28:41

حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔

القصص 28:42

حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔

القصص 28:43

حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔

القصص 28:44

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر تفصیل کے ساتھ بیان کررہے تھے جیسے کہ آپ وہیں موقع پر کھڑے ہوں اور سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوں۔ حالاں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ حضرت موسیٰ کے دو ہزار سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل تھی کہ قرآن کا کلام خدا کا کلام ہے، کیوں کہ کوئی انسان اس طرح کے بیان پر قادر نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آج کل کی طرح کتابیں نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ کے واقعات کا ذکر یہود کی غیر عربی کتابوں میں تھا جن کے صرف چند نسخے یہودی عبادت خانوں میں محفوظ تھے اور یقینی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دسترس سے باہر تھے۔ مزید یہ کہ قرآن کے بیانات اور یہودی کتابوں کے بیانات میں بہت سے نہایت بامعنی فرق ہیں اور قرینہ بتاتاہے کہ قرآن کا بیان ہی زیادہ صحیح ہے۔ مثال کے طورپر حضرت موسیٰ کے ہاتھ قبطی کی موت قرآن کے بیان کے مطابق بلا قصد ہوئی۔ جب کہ بائبل موسیٰ کے بارے میں کہتی ہے ’’پھر اس نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھاکہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا ۔‘‘(خروج، 2:12 ) کھلی ہوئی بات ہے کہ حضرت موسیٰ جیسی مقدس شخصیت سے قرآن کا بیان مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ تورات کا بیان۔ پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس پر قادر ہوئے کہ کسی ظاہری وسیلہ کے بغیر حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر صحت کے ساتھ قرآن میں پیش کرسکیں۔ اس کا کوئی بھی جواب اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ خدائے عالم الغیب نے یہ باتیں آپ کے اوپر بذریعہ وحی نازل فرمائیں۔

القصص 28:45

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر تفصیل کے ساتھ بیان کررہے تھے جیسے کہ آپ وہیں موقع پر کھڑے ہوں اور سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوں۔ حالاں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ حضرت موسیٰ کے دو ہزار سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل تھی کہ قرآن کا کلام خدا کا کلام ہے، کیوں کہ کوئی انسان اس طرح کے بیان پر قادر نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آج کل کی طرح کتابیں نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ کے واقعات کا ذکر یہود کی غیر عربی کتابوں میں تھا جن کے صرف چند نسخے یہودی عبادت خانوں میں محفوظ تھے اور یقینی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دسترس سے باہر تھے۔ مزید یہ کہ قرآن کے بیانات اور یہودی کتابوں کے بیانات میں بہت سے نہایت بامعنی فرق ہیں اور قرینہ بتاتاہے کہ قرآن کا بیان ہی زیادہ صحیح ہے۔ مثال کے طورپر حضرت موسیٰ کے ہاتھ قبطی کی موت قرآن کے بیان کے مطابق بلا قصد ہوئی۔ جب کہ بائبل موسیٰ کے بارے میں کہتی ہے ’’پھر اس نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھاکہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا ۔‘‘(خروج، 2:12 ) کھلی ہوئی بات ہے کہ حضرت موسیٰ جیسی مقدس شخصیت سے قرآن کا بیان مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ تورات کا بیان۔ پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس پر قادر ہوئے کہ کسی ظاہری وسیلہ کے بغیر حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر صحت کے ساتھ قرآن میں پیش کرسکیں۔ اس کا کوئی بھی جواب اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ خدائے عالم الغیب نے یہ باتیں آپ کے اوپر بذریعہ وحی نازل فرمائیں۔

القصص 28:46

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر تفصیل کے ساتھ بیان کررہے تھے جیسے کہ آپ وہیں موقع پر کھڑے ہوں اور سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوں۔ حالاں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ حضرت موسیٰ کے دو ہزار سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل تھی کہ قرآن کا کلام خدا کا کلام ہے، کیوں کہ کوئی انسان اس طرح کے بیان پر قادر نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آج کل کی طرح کتابیں نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ کے واقعات کا ذکر یہود کی غیر عربی کتابوں میں تھا جن کے صرف چند نسخے یہودی عبادت خانوں میں محفوظ تھے اور یقینی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دسترس سے باہر تھے۔ مزید یہ کہ قرآن کے بیانات اور یہودی کتابوں کے بیانات میں بہت سے نہایت بامعنی فرق ہیں اور قرینہ بتاتاہے کہ قرآن کا بیان ہی زیادہ صحیح ہے۔ مثال کے طورپر حضرت موسیٰ کے ہاتھ قبطی کی موت قرآن کے بیان کے مطابق بلا قصد ہوئی۔ جب کہ بائبل موسیٰ کے بارے میں کہتی ہے ’’پھر اس نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھاکہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا ۔‘‘(خروج، 2:12 ) کھلی ہوئی بات ہے کہ حضرت موسیٰ جیسی مقدس شخصیت سے قرآن کا بیان مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ تورات کا بیان۔ پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس پر قادر ہوئے کہ کسی ظاہری وسیلہ کے بغیر حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر صحت کے ساتھ قرآن میں پیش کرسکیں۔ اس کا کوئی بھی جواب اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ خدائے عالم الغیب نے یہ باتیں آپ کے اوپر بذریعہ وحی نازل فرمائیں۔

القصص 28:47

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قدیم مصریوں کے سامنے اپنا پیغام رسالت پیش کیا تو اسی کے ساتھ آپ نے معجزے بھی دکھائے۔ مگر ان لوگوں نے نہیں مانا اور کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں دلائل کی بنیاد پر حق کی دعوت پیش کی تو انھوںنے کہا کہ اگر یہ پیغمبر ہیں تو موسیٰ جیسے معجزے کیوں نہیں دکھاتے۔ یہ سب غیر سنجیدہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں ہیں۔ موجودہ دنیا میں حق کو ماننے کے ليے سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ ہو۔ جو شخص حق ا ور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو اس کو کوئی بھی چیز حق کے اعتراف پر مجبور نہیں کرسکتی۔ وہ ہر بار نئے عذر تلاش کرلے گا۔ وہ ہر بات کے جوا ب میں نئے الفاظ پالے گا۔

القصص 28:48

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قدیم مصریوں کے سامنے اپنا پیغام رسالت پیش کیا تو اسی کے ساتھ آپ نے معجزے بھی دکھائے۔ مگر ان لوگوں نے نہیں مانا اور کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں دلائل کی بنیاد پر حق کی دعوت پیش کی تو انھوںنے کہا کہ اگر یہ پیغمبر ہیں تو موسیٰ جیسے معجزے کیوں نہیں دکھاتے۔ یہ سب غیر سنجیدہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں ہیں۔ موجودہ دنیا میں حق کو ماننے کے ليے سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ ہو۔ جو شخص حق ا ور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو اس کو کوئی بھی چیز حق کے اعتراف پر مجبور نہیں کرسکتی۔ وہ ہر بار نئے عذر تلاش کرلے گا۔ وہ ہر بات کے جوا ب میں نئے الفاظ پالے گا۔

القصص 28:49

حق کے پیغام کو ماننے یا نہ ماننے کا جو اصل معیار ہے وہ یہ ہے کہ پیغام کو خود اس کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اگر وہ اپنی ذات میں برتر صداقت ہونا ثابت کررہا ہو تو یہی کافی ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ اس کے بعد ا س کو ماننے کے ليے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ صداقت کا جواب صداقت ہے۔ اگرآدمی صداقت کا انکار کرے اور اس کے جواب میں دوسری اعلیٰ تر صداقت نہ پیش کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہش پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کررہا ہے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ صداقت کو معقولیت کے ذریعہ رد نہ کرسکیں اور پھر بھی خواہش اور تعصب کے زیر اثر اس کو نہ مانیں وہ بدترین گمراہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں ظالموں میں شمار ہوں گے۔

القصص 28:50

حق کے پیغام کو ماننے یا نہ ماننے کا جو اصل معیار ہے وہ یہ ہے کہ پیغام کو خود اس کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اگر وہ اپنی ذات میں برتر صداقت ہونا ثابت کررہا ہو تو یہی کافی ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ اس کے بعد ا س کو ماننے کے ليے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ صداقت کا جواب صداقت ہے۔ اگرآدمی صداقت کا انکار کرے اور اس کے جواب میں دوسری اعلیٰ تر صداقت نہ پیش کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہش پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کررہا ہے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ صداقت کو معقولیت کے ذریعہ رد نہ کرسکیں اور پھر بھی خواہش اور تعصب کے زیر اثر اس کو نہ مانیں وہ بدترین گمراہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں ظالموں میں شمار ہوں گے۔

القصص 28:51

حق کے پیغام کو ماننے یا نہ ماننے کا جو اصل معیار ہے وہ یہ ہے کہ پیغام کو خود اس کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اگر وہ اپنی ذات میں برتر صداقت ہونا ثابت کررہا ہو تو یہی کافی ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ اس کے بعد ا س کو ماننے کے ليے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ صداقت کا جواب صداقت ہے۔ اگرآدمی صداقت کا انکار کرے اور اس کے جواب میں دوسری اعلیٰ تر صداقت نہ پیش کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہش پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کررہا ہے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ صداقت کو معقولیت کے ذریعہ رد نہ کرسکیں اور پھر بھی خواہش اور تعصب کے زیر اثر اس کو نہ مانیں وہ بدترین گمراہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں ظالموں میں شمار ہوں گے۔

القصص 28:52

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔ جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔

القصص 28:53

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔ جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔

القصص 28:54

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔ جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔

القصص 28:55

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔ جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔

القصص 28:56

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔ جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔

القصص 28:57

جس نظام سے آدمی کے فائدے وابستہ ہوجائیں وہ سمجھنے لگتاہے کہ مجھ کو جو کچھ مل رہا ہے وہ اسی نظام کی بدولت مل رہا ہے۔ آدمی صرف حال کے فائدوں کو جانتا ہے، وہ مستقبل کے فائدوں کو نہیں جانتا۔ یہی معاملہ قدیم مکہ کے مشرکوں کا تھا۔ انھوں نے کعبہ میں تمام عرب قبیلوں کے بت رکھ دئے تھے۔ اس طرح انھیں پورے ملک کی مذہبی سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ اسی طرح ان بتوں کے نام پر جو نذرانے آتے تھے وہ بھی ان کی معاش کا خاص ذریعہ تھے۔ مگر یہ صرف ان کی تنگ نظری تھی۔ خدا کا رسول انھیں ایک ایسے دین کی طر ف بلا رہا تھا جو انھیں عالم کی امامت دینے والا تھا، اور وہ ایک ایسے دین کی خاطر اس کو چھوڑ رہے تھے جس کے پاس ملک کے قبیلوں کی معمولی سرداری کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

القصص 28:58

دنیا میں کسی کو مادی استحکام حاصل ہو تو وہ بڑائی کے احساس میںمبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ تاریخ مسلسل یہ سبق دے رہی ہے کہ کسی بھی شخص یا قوم کا مادی استحکام مستقل نہیں۔ جب بھی کسی قوم نے حق کو نظر انداز کیا، ساری عظمت کے باوجود وہ ہلاک کردی گئی۔ عرب کے جغرافیہ میںاسلام سے پہلے مختلف قومیں ابھریں۔ مثلاً عاد، ثمود، سبا، مدین، قوم لوط وغیرہ۔ ہر ایک کبر میں مبتلا ہوگئی۔ مگر ہر ایک کا کبر زمانہ نے باطل کر دیا۔ اور بالآخر ان کی حیثیت گزری ہوئی کہانی کے سوا اور کچھ نہ رہی۔ ان قوموں کے کھنڈر چاروں طرح پھیلے ہوئے انسانی عظمت کی نفی کررہے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں جن لوگوں کو بڑائی حاصل تھی انھوںنے پیغمبر کو اس طرح جھٹلادیا جیسے کہ ماضی کے واقعات میں ان کے حال کے ليے کوئی نصیحت نہیں۔

القصص 28:59

دنیا میں کسی کو مادی استحکام حاصل ہو تو وہ بڑائی کے احساس میںمبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ تاریخ مسلسل یہ سبق دے رہی ہے کہ کسی بھی شخص یا قوم کا مادی استحکام مستقل نہیں۔ جب بھی کسی قوم نے حق کو نظر انداز کیا، ساری عظمت کے باوجود وہ ہلاک کردی گئی۔ عرب کے جغرافیہ میںاسلام سے پہلے مختلف قومیں ابھریں۔ مثلاً عاد، ثمود، سبا، مدین، قوم لوط وغیرہ۔ ہر ایک کبر میں مبتلا ہوگئی۔ مگر ہر ایک کا کبر زمانہ نے باطل کر دیا۔ اور بالآخر ان کی حیثیت گزری ہوئی کہانی کے سوا اور کچھ نہ رہی۔ ان قوموں کے کھنڈر چاروں طرح پھیلے ہوئے انسانی عظمت کی نفی کررہے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں جن لوگوں کو بڑائی حاصل تھی انھوںنے پیغمبر کو اس طرح جھٹلادیا جیسے کہ ماضی کے واقعات میں ان کے حال کے ليے کوئی نصیحت نہیں۔

القصص 28:60

دنیا میں آدمی کے پاس کتنا ہی زیادہ سازوسامان ہو، بہر حال موت کے وقت وہ آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتاہے۔ موت کے بعد جو چیز آدمی کے ساتھ جاتی ہے وہ اس کے نیک اعمال ہیں، نہ کہ دنیوی عزت اور مادی سازوسامان۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی چند دن کی کامیابی کے مقابلہ میں ابدی کامیابی کو ترجیح دے۔ وہ دنیا کی تعمیر کے بجائے آخرت کی تعمیر کی فکر کرے۔

القصص 28:61

دنیا میں آدمی کے پاس کتنا ہی زیادہ سازوسامان ہو، بہر حال موت کے وقت وہ آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتاہے۔ موت کے بعد جو چیز آدمی کے ساتھ جاتی ہے وہ اس کے نیک اعمال ہیں، نہ کہ دنیوی عزت اور مادی سازوسامان۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی چند دن کی کامیابی کے مقابلہ میں ابدی کامیابی کو ترجیح دے۔ وہ دنیا کی تعمیر کے بجائے آخرت کی تعمیر کی فکر کرے۔

القصص 28:62

یہاں ’’شریک‘‘ سے مراد گمراہ لیڈر ہیں۔ یعنی وہ بڑے لوگ جن کی بات لوگوں نے اس طرح مانی جس طرح خدا کی بات ماننی چاہيے۔ قیامت میں جب ان بڑوں کا ساتھ دینے والے لوگ اپنا برا انجام دیکھیں گے تو ان کاعجیب حال ہوگا۔ وہ پائیں گے کہ جن بڑوں سے وابستہ ہونے پر وہ فخر کرتے تھے، ان بڑوں نے انھیں صرف جہنم تک پہنچایا ہے۔ اس وقت وہ بے زار ہو کر ان سے کہیں گے کہ ہماری بربادی کے ذمہ دار تم ہو۔ ان کے بڑے جواب دیں گے کہ تمھاری اپنی ذات کے سوا کوئی تمھاری بربادی کا ذمہ دار نہیں۔ اگر چہ بظاہر تم ہمارے کہنے پر چلے مگر ہمارا ساتھ تم نے ا س ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری خواہشات کے مطابق تھی، تم در حقیقت اپنی خواہشات کے پیرو تھے، نہ کہ ہمارے پیرو۔ ہم بھی اپنی خواہشات پر چلے اور تم بھی اپنی خواہشات پر چلے۔ اب دونوں کو ایک ہی انجام بھگتنا ہے۔ ایک دوسرے کو برا کہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

القصص 28:63

یہاں ’’شریک‘‘ سے مراد گمراہ لیڈر ہیں۔ یعنی وہ بڑے لوگ جن کی بات لوگوں نے اس طرح مانی جس طرح خدا کی بات ماننی چاہيے۔ قیامت میں جب ان بڑوں کا ساتھ دینے والے لوگ اپنا برا انجام دیکھیں گے تو ان کاعجیب حال ہوگا۔ وہ پائیں گے کہ جن بڑوں سے وابستہ ہونے پر وہ فخر کرتے تھے، ان بڑوں نے انھیں صرف جہنم تک پہنچایا ہے۔ اس وقت وہ بے زار ہو کر ان سے کہیں گے کہ ہماری بربادی کے ذمہ دار تم ہو۔ ان کے بڑے جواب دیں گے کہ تمھاری اپنی ذات کے سوا کوئی تمھاری بربادی کا ذمہ دار نہیں۔ اگر چہ بظاہر تم ہمارے کہنے پر چلے مگر ہمارا ساتھ تم نے ا س ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری خواہشات کے مطابق تھی، تم در حقیقت اپنی خواہشات کے پیرو تھے، نہ کہ ہمارے پیرو۔ ہم بھی اپنی خواہشات پر چلے اور تم بھی اپنی خواہشات پر چلے۔ اب دونوں کو ایک ہی انجام بھگتنا ہے۔ ایک دوسرے کو برا کہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

القصص 28:64

دنیا میںآدمی جب حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی بھروسہ پر حق کا انکار کرتا رہے۔ آخرت میں اس سے کہا جائے گا کہ جن کے بھروسہ پر تم نے حق کو نہیں مانا تھا آج ان کو بلاؤ تاکہ وہ تم کو انکار حق کے برے انجام سے بچائیں۔ مگر یہ خداکے ظہور کا دن ہوگا۔ اور کون ہے جو خدا کے مقابلے میں کسی کی مدد کرسکے۔ دنیا میں آدمی کسی حال میں چپ نہیں ہوتا۔ ہر دلیل کو رد کرنے کے ليے اس کو یہاں الفاظ مل جاتے ہیں۔ مگر یہ سارے الفاظ قیامت میں جھوٹے الفاظ ثابت ہوں گے۔ وہاں آدمی افسوس کرے گا کہ کتنی چھوٹی چیز کی خاطر اس نے کتنی بڑی چیز کو کھودیا۔

القصص 28:65

دنیا میںآدمی جب حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی بھروسہ پر حق کا انکار کرتا رہے۔ آخرت میں اس سے کہا جائے گا کہ جن کے بھروسہ پر تم نے حق کو نہیں مانا تھا آج ان کو بلاؤ تاکہ وہ تم کو انکار حق کے برے انجام سے بچائیں۔ مگر یہ خداکے ظہور کا دن ہوگا۔ اور کون ہے جو خدا کے مقابلے میں کسی کی مدد کرسکے۔ دنیا میں آدمی کسی حال میں چپ نہیں ہوتا۔ ہر دلیل کو رد کرنے کے ليے اس کو یہاں الفاظ مل جاتے ہیں۔ مگر یہ سارے الفاظ قیامت میں جھوٹے الفاظ ثابت ہوں گے۔ وہاں آدمی افسوس کرے گا کہ کتنی چھوٹی چیز کی خاطر اس نے کتنی بڑی چیز کو کھودیا۔

القصص 28:66

دنیا میںآدمی جب حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی بھروسہ پر حق کا انکار کرتا رہے۔ آخرت میں اس سے کہا جائے گا کہ جن کے بھروسہ پر تم نے حق کو نہیں مانا تھا آج ان کو بلاؤ تاکہ وہ تم کو انکار حق کے برے انجام سے بچائیں۔ مگر یہ خداکے ظہور کا دن ہوگا۔ اور کون ہے جو خدا کے مقابلے میں کسی کی مدد کرسکے۔ دنیا میں آدمی کسی حال میں چپ نہیں ہوتا۔ ہر دلیل کو رد کرنے کے ليے اس کو یہاں الفاظ مل جاتے ہیں۔ مگر یہ سارے الفاظ قیامت میں جھوٹے الفاظ ثابت ہوں گے۔ وہاں آدمی افسوس کرے گا کہ کتنی چھوٹی چیز کی خاطر اس نے کتنی بڑی چیز کو کھودیا۔

القصص 28:67

دنیا میںآدمی جب حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی بھروسہ پر حق کا انکار کرتا رہے۔ آخرت میں اس سے کہا جائے گا کہ جن کے بھروسہ پر تم نے حق کو نہیں مانا تھا آج ان کو بلاؤ تاکہ وہ تم کو انکار حق کے برے انجام سے بچائیں۔ مگر یہ خداکے ظہور کا دن ہوگا۔ اور کون ہے جو خدا کے مقابلے میں کسی کی مدد کرسکے۔ دنیا میں آدمی کسی حال میں چپ نہیں ہوتا۔ ہر دلیل کو رد کرنے کے ليے اس کو یہاں الفاظ مل جاتے ہیں۔ مگر یہ سارے الفاظ قیامت میں جھوٹے الفاظ ثابت ہوں گے۔ وہاں آدمی افسوس کرے گا کہ کتنی چھوٹی چیز کی خاطر اس نے کتنی بڑی چیز کو کھودیا۔

القصص 28:68

اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتاہے۔ پھر انسانوں میں سے کسی شخص کو وہ کسی خاص کام کےلیے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب اس کے ذاتی تقدس کی بناپر نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کے اپنے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس ليے ایسی شخصیتوں کو مقدس مان کر ان کو خدا کا درجہ دینا سراسر بے بنیاد ہے۔ خدا کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے زبان سے کچھ الفاظ بول دیتاہے۔ مگر اس کے دل میں کچھ اور بات ہوتی ہے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی بنا پر حق کو نہیں مانتا اور الفاظ کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔

القصص 28:69

اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتاہے۔ پھر انسانوں میں سے کسی شخص کو وہ کسی خاص کام کےلیے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب اس کے ذاتی تقدس کی بناپر نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کے اپنے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس ليے ایسی شخصیتوں کو مقدس مان کر ان کو خدا کا درجہ دینا سراسر بے بنیاد ہے۔ خدا کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے زبان سے کچھ الفاظ بول دیتاہے۔ مگر اس کے دل میں کچھ اور بات ہوتی ہے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی بنا پر حق کو نہیں مانتا اور الفاظ کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔

القصص 28:70

اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتاہے۔ پھر انسانوں میں سے کسی شخص کو وہ کسی خاص کام کےلیے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب اس کے ذاتی تقدس کی بناپر نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کے اپنے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس ليے ایسی شخصیتوں کو مقدس مان کر ان کو خدا کا درجہ دینا سراسر بے بنیاد ہے۔ خدا کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے زبان سے کچھ الفاظ بول دیتاہے۔ مگر اس کے دل میں کچھ اور بات ہوتی ہے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی بنا پر حق کو نہیں مانتا اور الفاظ کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔

القصص 28:71

جس زمین پر انسان آباد ہے اس کے بے شمار حیرت ناک پہلوؤں میں سے ایک حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلسل سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج کے گرد اس کی محوری گردش اس طرح ہوتی ہے کہ ہر چوبیس گھنٹے میں اس کا ایک چکر پورا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اوپر بار بار رات اور دن آتے رہتے ہیں۔ اگر زمین کی یہ محوری گردش نہ ہوتو کرۂ زمین کے ایک حصہ میں مستقل رات ہوگی اور دوسرے حصہ میں مستقل دن۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موجودہ پُرراحت زمین انسان کے لیے ایک ناقابلِ بیان عذاب خانہ بن جائے گی۔ خلا میں زمین کا اس طرح حددرجہ صحت کے ساتھ مسلسل گردش کرنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے تمام جن وانس کی طاقتیں بھی ناکافی ہیں۔ قادر مطلق خدا کے سوا کوئی نہیں جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لاسکے۔ ایسی حالت میں یہ کتنی بڑی گمراہی ہے کہ انسان اپنے خوف ومحبت کے جذبات کو ایک خدا کے سوا کسی اور کے ساتھ وابستہ کرے۔

القصص 28:72

جس زمین پر انسان آباد ہے اس کے بے شمار حیرت ناک پہلوؤں میں سے ایک حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلسل سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج کے گرد اس کی محوری گردش اس طرح ہوتی ہے کہ ہر چوبیس گھنٹے میں اس کا ایک چکر پورا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اوپر بار بار رات اور دن آتے رہتے ہیں۔ اگر زمین کی یہ محوری گردش نہ ہوتو کرۂ زمین کے ایک حصہ میں مستقل رات ہوگی اور دوسرے حصہ میں مستقل دن۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موجودہ پُرراحت زمین انسان کے لیے ایک ناقابلِ بیان عذاب خانہ بن جائے گی۔ خلا میں زمین کا اس طرح حددرجہ صحت کے ساتھ مسلسل گردش کرنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے تمام جن وانس کی طاقتیں بھی ناکافی ہیں۔ قادر مطلق خدا کے سوا کوئی نہیں جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لاسکے۔ ایسی حالت میں یہ کتنی بڑی گمراہی ہے کہ انسان اپنے خوف ومحبت کے جذبات کو ایک خدا کے سوا کسی اور کے ساتھ وابستہ کرے۔

القصص 28:73

جس زمین پر انسان آباد ہے اس کے بے شمار حیرت ناک پہلوؤں میں سے ایک حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلسل سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج کے گرد اس کی محوری گردش اس طرح ہوتی ہے کہ ہر چوبیس گھنٹے میں اس کا ایک چکر پورا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اوپر بار بار رات اور دن آتے رہتے ہیں۔ اگر زمین کی یہ محوری گردش نہ ہوتو کرۂ زمین کے ایک حصہ میں مستقل رات ہوگی اور دوسرے حصہ میں مستقل دن۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موجودہ پُرراحت زمین انسان کے لیے ایک ناقابلِ بیان عذاب خانہ بن جائے گی۔ خلا میں زمین کا اس طرح حددرجہ صحت کے ساتھ مسلسل گردش کرنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے تمام جن وانس کی طاقتیں بھی ناکافی ہیں۔ قادر مطلق خدا کے سوا کوئی نہیں جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لاسکے۔ ایسی حالت میں یہ کتنی بڑی گمراہی ہے کہ انسان اپنے خوف ومحبت کے جذبات کو ایک خدا کے سوا کسی اور کے ساتھ وابستہ کرے۔

القصص 28:74

پیغمبر اور پیغمبر کی سچی پیروی کرنے والے داعی قیامت میں خدا کے گواہ بنا کر کھڑے کيے جائیں گے۔ جن قوموں پر انھوں نے خدا کا پیغام پہنچانے کا فرض انجام دیا تھا ان کے بارے میں وہ وہاں بتائیں گے کہ پیغام کو سن کر انھوں نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ اس دن ان لوگوں کے تمام بھروسے ختم ہوجائیں گے جنھوں نے غیر اللہ کے اعتماد پر دعوت حق کو نظر انداز کیا تھا۔ اس دن ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنی صفائی کرنا چاہیں گے مگر وہ اپنی صفائی کے لیے الفاظ نہ پائیں گے۔

القصص 28:75

پیغمبر اور پیغمبر کی سچی پیروی کرنے والے داعی قیامت میں خدا کے گواہ بنا کر کھڑے کيے جائیں گے۔ جن قوموں پر انھوں نے خدا کا پیغام پہنچانے کا فرض انجام دیا تھا ان کے بارے میں وہ وہاں بتائیں گے کہ پیغام کو سن کر انھوں نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ اس دن ان لوگوں کے تمام بھروسے ختم ہوجائیں گے جنھوں نے غیر اللہ کے اعتماد پر دعوت حق کو نظر انداز کیا تھا۔ اس دن ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنی صفائی کرنا چاہیں گے مگر وہ اپنی صفائی کے لیے الفاظ نہ پائیں گے۔

القصص 28:76

قارون کا نام یہودی کتابوں میں قورح (Korah) آیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا۔ مگر وہ اپنی قوم سے کٹ کر فرعون کا وفادار بن گیا۔ اس کی اسے یہ قیمت ملی کہ وہ فرعون کا مقرب بن گیا۔ اس نے اپنی دنیا دارانہ صلاحیت کے ذریعے اتنا کمایا کہ وہ مصر کا سب سے زیادہ دولت مند شخص بن گیا۔ دولت پاکر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہيے تھا۔ مگر دولت نے اس کے اندر فخر کا جذبہ پیدا کیا۔ اپنے معاشی وسائل سے اس کو جو نیکی کمانی چاہيے تھی وہ نیکی اس نے نہیں کمائی۔ زمین میں فساد کرنا کیا ہے۔ اس آیت 77 کے مطابق، زمین میں فساد برپا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک شخص کو زیادہ دولت ملے تو وہ اس کو صرف اپنی ذات کے لیے خرچ کرے۔ سمندر میں زمین کا پانی آکر جمع ہوتاہے تو سمندر پانی کو بھاپ کی شکل میں اڑا کردوبارہ اس کو پوری زمین پر پھیلا دیتاہے۔ یہ خدا کی دنیا میں اصلاح کا ایک نمونہ ہے۔ یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ اگر کسی وجہ سے ایک شخص کے پاس زیادہ دولت اكٹھاہوجائے تو اس کو چاہيے کہ وہ اس کو مختلف طریقوں سے ان لوگوں کی طرف لوٹائے جنھیں معاشی تقسیم میں کم حصہ ملا ہے۔ گویا جمع شدہ دولت کو گردش میں لانا اصلاح ہے اور جمع شدہ دولت کو جمع رکھنا فساد۔

القصص 28:77

قارون کا نام یہودی کتابوں میں قورح (Korah) آیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا۔ مگر وہ اپنی قوم سے کٹ کر فرعون کا وفادار بن گیا۔ اس کی اسے یہ قیمت ملی کہ وہ فرعون کا مقرب بن گیا۔ اس نے اپنی دنیا دارانہ صلاحیت کے ذریعے اتنا کمایا کہ وہ مصر کا سب سے زیادہ دولت مند شخص بن گیا۔ دولت پاکر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہيے تھا۔ مگر دولت نے اس کے اندر فخر کا جذبہ پیدا کیا۔ اپنے معاشی وسائل سے اس کو جو نیکی کمانی چاہيے تھی وہ نیکی اس نے نہیں کمائی۔ زمین میں فساد کرنا کیا ہے۔ اس آیت 77 کے مطابق، زمین میں فساد برپا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک شخص کو زیادہ دولت ملے تو وہ اس کو صرف اپنی ذات کے لیے خرچ کرے۔ سمندر میں زمین کا پانی آکر جمع ہوتاہے تو سمندر پانی کو بھاپ کی شکل میں اڑا کردوبارہ اس کو پوری زمین پر پھیلا دیتاہے۔ یہ خدا کی دنیا میں اصلاح کا ایک نمونہ ہے۔ یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ اگر کسی وجہ سے ایک شخص کے پاس زیادہ دولت اكٹھاہوجائے تو اس کو چاہيے کہ وہ اس کو مختلف طریقوں سے ان لوگوں کی طرف لوٹائے جنھیں معاشی تقسیم میں کم حصہ ملا ہے۔ گویا جمع شدہ دولت کو گردش میں لانا اصلاح ہے اور جمع شدہ دولت کو جمع رکھنا فساد۔

القصص 28:78

قارون کا جو کرداریہاں بیان ہوا ہے یہی ہمیشہ صاحبانِ دولت کاکردار رہا ہے۔ دولت مند آدمی سمجھتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا ہے وہ اس کے علم کی بدولت ملا ہے۔ مگر کسی دولت مند کا علم اس کو یہ نہیں بتاتا کہ تم سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کو دولت ملی مگر ان کی دولت انھیں موت یا ہلاکت سے نہ بچا سکی۔ پھر تم کو وہ کس طرح بچانے والی ثابت ہوگی۔

القصص 28:79

جس آدمی کے پاس دولت ہو اس کے گرد لازمی طورپر دنیا کی رونق جمع ہوجاتی ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت سے نادان لوگ اس کے اوپر رشک کرنے لگتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کو حقیقت کا علم حاصل ہوجائے ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ محض چند دن کی رونق ہے اور جو چیز چند روزہ ہو اس کی کوئی قیمت نہیں۔ علمِ حقیقت اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مگر علمِ حقیقت کا مالک بننے کےلیے صبر کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ یعنی خارجی حالات کادباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اپنا ذہن بنانا۔ظاہری چیزوں سے غیر متاثر رہ کر سوچنا۔ وقتی کشش کی چیز کو نظر انداز کرکے رائے قائم کرنا۔ یہ بلاشبہ صبر کی مشکل ترین قسم ہے، مگر اسی مشکل ترین امتحان میں پورا اترنے کے بعد آدمی کو وہ چیز ملتی ہے جس کو علم اور حکمت کہا جاتا ہے۔

القصص 28:80

جس آدمی کے پاس دولت ہو اس کے گرد لازمی طورپر دنیا کی رونق جمع ہوجاتی ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت سے نادان لوگ اس کے اوپر رشک کرنے لگتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کو حقیقت کا علم حاصل ہوجائے ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ محض چند دن کی رونق ہے اور جو چیز چند روزہ ہو اس کی کوئی قیمت نہیں۔ علمِ حقیقت اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مگر علمِ حقیقت کا مالک بننے کےلیے صبر کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ یعنی خارجی حالات کادباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اپنا ذہن بنانا۔ظاہری چیزوں سے غیر متاثر رہ کر سوچنا۔ وقتی کشش کی چیز کو نظر انداز کرکے رائے قائم کرنا۔ یہ بلاشبہ صبر کی مشکل ترین قسم ہے، مگر اسی مشکل ترین امتحان میں پورا اترنے کے بعد آدمی کو وہ چیز ملتی ہے جس کو علم اور حکمت کہا جاتا ہے۔

القصص 28:81

بائبل کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ نے قارون کے برے اعمال کی وجہ سے اس کے لیے بد دعا فرمائی اور وہ اپنے ساتھیوں اور خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیاگیا۔ یہ اللہ کی طرف سے مشاہداتی سطح پر دکھایا گیا کہ خدا پرستی کو چھوڑ کر دولت پرستی اختیار کرنے کا آخری انجام کیا ہوتا ہے۔ دنیا کا رزق دراصل امتحان کا سامان ہے۔یہ ہر آدمی کو خداکے فیصلہ کے تحت کم یازیادہ دیا جاتاہے۔ آدمی کو چاہيے کہ رزق کم ملے تو صبر کرے۔ اور اگر رزق زیادہ ملے تو شکر کرے۔ یہی کسی انسان کےلیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

القصص 28:82

بائبل کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ نے قارون کے برے اعمال کی وجہ سے اس کے لیے بد دعا فرمائی اور وہ اپنے ساتھیوں اور خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیاگیا۔ یہ اللہ کی طرف سے مشاہداتی سطح پر دکھایا گیا کہ خدا پرستی کو چھوڑ کر دولت پرستی اختیار کرنے کا آخری انجام کیا ہوتا ہے۔ دنیا کا رزق دراصل امتحان کا سامان ہے۔یہ ہر آدمی کو خداکے فیصلہ کے تحت کم یازیادہ دیا جاتاہے۔ آدمی کو چاہيے کہ رزق کم ملے تو صبر کرے۔ اور اگر رزق زیادہ ملے تو شکر کرے۔ یہی کسی انسان کےلیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

القصص 28:83

جنت کی آبادی میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کے سینے اپنی بڑائی کے احساس سے خالی ہوں جو خدا کی بڑائی کو اس طرح پائیں کہ اپنی طرف انھیں چھوٹائی کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔ فساد یہ ہے کہ آدمی خدا کی اسکیم سے موافقت نہ کرے۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف چلنے لگے۔ جو لوگ کبر سے خالی ہوجائیں وہ لازمی طور پر فساد سے بھی خالی ہوجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ اوصاف پیدا ہوجائیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی باغوں میں بسا ئے جائیں گے۔

القصص 28:84

جنت کی آبادی میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کے سینے اپنی بڑائی کے احساس سے خالی ہوں جو خدا کی بڑائی کو اس طرح پائیں کہ اپنی طرف انھیں چھوٹائی کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔ فساد یہ ہے کہ آدمی خدا کی اسکیم سے موافقت نہ کرے۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف چلنے لگے۔ جو لوگ کبر سے خالی ہوجائیں وہ لازمی طور پر فساد سے بھی خالی ہوجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ اوصاف پیدا ہوجائیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی باغوں میں بسا ئے جائیں گے۔

القصص 28:85

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

القصص 28:86

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

القصص 28:87

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

القصص 28:88

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

العنكبوت 29:1

آدمی کے مومن ومسلم ہونے کا فیصلہ معمول کے حالات میں کيے جانے والے عمل پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس عمل پر ہوتاہے جو آدمی غیر معمولی حالات میں کرتاہے۔ یہ غیر معمولی حالات وہ غیر معمولی مواقع ہیں جب کہ یہ کھل جاتاہے کہ آدمی حقیقت میں وہ ہے یا نہیں جس کا دعویٰ وہ اپنے ظاہری عمل سے کررہا ہے۔ جو لوگ غیرمعمولی حالات میں ایمان واسلام پر قائم رہنے کا ثبوت دیں وہی خدا کے نزدیک حقیقی معنوں میں مومن ومسلم قرار پاتے ہیں۔ جانچ میں پورا اترنا، بالفاظ دیگر، قربانی کی سطح پر ایمان واسلام والا بننا ہے۔ یعنی جب عام لوگ انکار کردیتے ہیں اس وقت تصدیق کرنا۔ جب لوگ شک کرتے ہیں اس وقت یقین کرلینا۔ جب اپنی اَنا کو کچلنے کی قیمت پر مومن بننا ہو اس وقت مومن بن جانا۔ جب نہ مان کر کچھ بگڑنے والا نہ ہو اس وقت مان لینا۔ جب ہاتھ روکنے کے تقاضے ہوں اس وقت خرچ کرنا۔ جب فرار کے حالات ہوں اس وقت جمنے کا ثبوت دینا۔ جب اپنے آپ کو بچانے کا وقت ہو اس وقت اپنے آپ کو حوالے کردینا۔ جب سرکشی کا موقع ہو اس وقت سرتسلیم خم کردینا۔ جب سب کچھ لٹا کر ساتھ دینا ہو اس وقت ساتھ دینا۔ ایسے غیر معمولی مواقع پر اندر والا انسان باہر آجاتاہے۔ اس کے بعد کسی کے ليے یہ موقع نہیں رہتا کہ وہ فرضی الفاظ بول کر اپنے کو وہ ظاہر کرے جو کہ حقیقت میں وہ نہیں ہے۔

العنكبوت 29:2

آدمی کے مومن ومسلم ہونے کا فیصلہ معمول کے حالات میں کيے جانے والے عمل پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس عمل پر ہوتاہے جو آدمی غیر معمولی حالات میں کرتاہے۔ یہ غیر معمولی حالات وہ غیر معمولی مواقع ہیں جب کہ یہ کھل جاتاہے کہ آدمی حقیقت میں وہ ہے یا نہیں جس کا دعویٰ وہ اپنے ظاہری عمل سے کررہا ہے۔ جو لوگ غیرمعمولی حالات میں ایمان واسلام پر قائم رہنے کا ثبوت دیں وہی خدا کے نزدیک حقیقی معنوں میں مومن ومسلم قرار پاتے ہیں۔ جانچ میں پورا اترنا، بالفاظ دیگر، قربانی کی سطح پر ایمان واسلام والا بننا ہے۔ یعنی جب عام لوگ انکار کردیتے ہیں اس وقت تصدیق کرنا۔ جب لوگ شک کرتے ہیں اس وقت یقین کرلینا۔ جب اپنی اَنا کو کچلنے کی قیمت پر مومن بننا ہو اس وقت مومن بن جانا۔ جب نہ مان کر کچھ بگڑنے والا نہ ہو اس وقت مان لینا۔ جب ہاتھ روکنے کے تقاضے ہوں اس وقت خرچ کرنا۔ جب فرار کے حالات ہوں اس وقت جمنے کا ثبوت دینا۔ جب اپنے آپ کو بچانے کا وقت ہو اس وقت اپنے آپ کو حوالے کردینا۔ جب سرکشی کا موقع ہو اس وقت سرتسلیم خم کردینا۔ جب سب کچھ لٹا کر ساتھ دینا ہو اس وقت ساتھ دینا۔ ایسے غیر معمولی مواقع پر اندر والا انسان باہر آجاتاہے۔ اس کے بعد کسی کے ليے یہ موقع نہیں رہتا کہ وہ فرضی الفاظ بول کر اپنے کو وہ ظاہر کرے جو کہ حقیقت میں وہ نہیں ہے۔

العنكبوت 29:3

آدمی کے مومن ومسلم ہونے کا فیصلہ معمول کے حالات میں کيے جانے والے عمل پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس عمل پر ہوتاہے جو آدمی غیر معمولی حالات میں کرتاہے۔ یہ غیر معمولی حالات وہ غیر معمولی مواقع ہیں جب کہ یہ کھل جاتاہے کہ آدمی حقیقت میں وہ ہے یا نہیں جس کا دعویٰ وہ اپنے ظاہری عمل سے کررہا ہے۔ جو لوگ غیرمعمولی حالات میں ایمان واسلام پر قائم رہنے کا ثبوت دیں وہی خدا کے نزدیک حقیقی معنوں میں مومن ومسلم قرار پاتے ہیں۔ جانچ میں پورا اترنا، بالفاظ دیگر، قربانی کی سطح پر ایمان واسلام والا بننا ہے۔ یعنی جب عام لوگ انکار کردیتے ہیں اس وقت تصدیق کرنا۔ جب لوگ شک کرتے ہیں اس وقت یقین کرلینا۔ جب اپنی اَنا کو کچلنے کی قیمت پر مومن بننا ہو اس وقت مومن بن جانا۔ جب نہ مان کر کچھ بگڑنے والا نہ ہو اس وقت مان لینا۔ جب ہاتھ روکنے کے تقاضے ہوں اس وقت خرچ کرنا۔ جب فرار کے حالات ہوں اس وقت جمنے کا ثبوت دینا۔ جب اپنے آپ کو بچانے کا وقت ہو اس وقت اپنے آپ کو حوالے کردینا۔ جب سرکشی کا موقع ہو اس وقت سرتسلیم خم کردینا۔ جب سب کچھ لٹا کر ساتھ دینا ہو اس وقت ساتھ دینا۔ ایسے غیر معمولی مواقع پر اندر والا انسان باہر آجاتاہے۔ اس کے بعد کسی کے ليے یہ موقع نہیں رہتا کہ وہ فرضی الفاظ بول کر اپنے کو وہ ظاہر کرے جو کہ حقیقت میں وہ نہیں ہے۔

العنكبوت 29:4

مومن بننا اکثر حالا ت میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے۔ خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے۔ دنیوی مفاد کےلیے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کےلیے جینے کا حوصلہ کرنا ہے۔ اس طرح کی زندگی کےلیے سخت مجاہدہ درکار ہے۔ اور اس سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے ہوں۔

العنكبوت 29:5

مومن بننا اکثر حالا ت میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے۔ خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے۔ دنیوی مفاد کےلیے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کےلیے جینے کا حوصلہ کرنا ہے۔ اس طرح کی زندگی کےلیے سخت مجاہدہ درکار ہے۔ اور اس سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے ہوں۔

العنكبوت 29:6

مومن بننا اکثر حالا ت میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے۔ خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے۔ دنیوی مفاد کےلیے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کےلیے جینے کا حوصلہ کرنا ہے۔ اس طرح کی زندگی کےلیے سخت مجاہدہ درکار ہے۔ اور اس سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے ہوں۔

العنكبوت 29:7

مومن بننا اکثر حالا ت میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے۔ خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے۔ دنیوی مفاد کےلیے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کےلیے جینے کا حوصلہ کرنا ہے۔ اس طرح کی زندگی کےلیے سخت مجاہدہ درکار ہے۔ اور اس سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے ہوں۔

العنكبوت 29:8

انسان پر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ جس کا حق ہے وہ اس کے ماں باپ ہیں مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح ماں باپ کے حقوق کی بھی ایک حد ہے۔ اور حدیث کے الفاظ میں وہ حد یہ ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں (لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 381 ۔ ماں باپ کے حقوق اسی وقت تک قابل لحاظ ہیں جب تک وہ خدا کے حقوق سے نہ ٹکرائیں۔ ماں باپ کا حکم جب خدا کے حکم سے ٹکرانے لگے تو اس وقت ماں باپ کا حکم نہ ماننا اتنا ہی ضروری ہوجائے گا جتنا عام حالات میں ماں باپ کا حکم ماننا ضروری ہوتاہے۔ اسلام میں ماں باپ کے حقوق سے مراد ماں باپ کی خدمت ہے، نہ کہ ماں باپ کی عبادت۔

العنكبوت 29:9

انسان پر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ جس کا حق ہے وہ اس کے ماں باپ ہیں مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح ماں باپ کے حقوق کی بھی ایک حد ہے۔ اور حدیث کے الفاظ میں وہ حد یہ ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں (لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 381 ۔ ماں باپ کے حقوق اسی وقت تک قابل لحاظ ہیں جب تک وہ خدا کے حقوق سے نہ ٹکرائیں۔ ماں باپ کا حکم جب خدا کے حکم سے ٹکرانے لگے تو اس وقت ماں باپ کا حکم نہ ماننا اتنا ہی ضروری ہوجائے گا جتنا عام حالات میں ماں باپ کا حکم ماننا ضروری ہوتاہے۔ اسلام میں ماں باپ کے حقوق سے مراد ماں باپ کی خدمت ہے، نہ کہ ماں باپ کی عبادت۔

العنكبوت 29:10

ایک شخص اپنے کو مومن کہے ۔ مگر اس کا حال یہ ہو کہ جب مومن بننے میں فائدہ ہو تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنے مومن ہونے کا اظہار کرے۔ مگر جب مومن بننے میں دنیوی نقصان نظر آئے تو وہ فوراً واپس جانے لگے۔ ایسا آدمی قرآن کی اصطلاح میں منافق ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر مومن تھے مگر وہ اپنے ایمان کی قیمت دینے کےلیے تیار نہیں ہوئے۔ وہ عین اسی مقام پر ناکام ہوگئے جہاں انھیں سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔

العنكبوت 29:11

ایک شخص اپنے کو مومن کہے ۔ مگر اس کا حال یہ ہو کہ جب مومن بننے میں فائدہ ہو تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنے مومن ہونے کا اظہار کرے۔ مگر جب مومن بننے میں دنیوی نقصان نظر آئے تو وہ فوراً واپس جانے لگے۔ ایسا آدمی قرآن کی اصطلاح میں منافق ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر مومن تھے مگر وہ اپنے ایمان کی قیمت دینے کےلیے تیار نہیں ہوئے۔ وہ عین اسی مقام پر ناکام ہوگئے جہاں انھیں سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔

العنكبوت 29:12

افترا (جھوٹ گھڑنا) یہ ہے کہ آدمی خود ایک بات کہے اور اس کو خدا کی طرف منسوب کردے۔ ہر قسم کی بدعات اور غلط تعبیرات اس میں داخل ہیں۔ اس افترا کی ایک صورت یہ ہے کہ انکار کرنے والے بڑے اپنے چھوٹوں سے یہ کہیں کہ تم ہمارے راستہ پر چلتے رہو، اگر خدا کے یہاں اس پر پوچھا گیا تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ خدا نے کسی کو اس قسم کا حق نہیں دیا ہے۔ اس ليے ایسی بات کہنا خداپر جھوٹ باندھنا ہے۔ آدمی بہت سی باتیں صرف کہنے کےلیے کہہ دیتاہے۔ اگروہ اس کے انجام کو دیکھ لے تو وہ کبھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہ نکالے۔ چنانچہ یہ لوگ جب قیامت کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگاجو آج کی دنیا میں ان کا نظر آرہا ہے۔

العنكبوت 29:13

افترا (جھوٹ گھڑنا) یہ ہے کہ آدمی خود ایک بات کہے اور اس کو خدا کی طرف منسوب کردے۔ ہر قسم کی بدعات اور غلط تعبیرات اس میں داخل ہیں۔ اس افترا کی ایک صورت یہ ہے کہ انکار کرنے والے بڑے اپنے چھوٹوں سے یہ کہیں کہ تم ہمارے راستہ پر چلتے رہو، اگر خدا کے یہاں اس پر پوچھا گیا تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ خدا نے کسی کو اس قسم کا حق نہیں دیا ہے۔ اس ليے ایسی بات کہنا خداپر جھوٹ باندھنا ہے۔ آدمی بہت سی باتیں صرف کہنے کےلیے کہہ دیتاہے۔ اگروہ اس کے انجام کو دیکھ لے تو وہ کبھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہ نکالے۔ چنانچہ یہ لوگ جب قیامت کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگاجو آج کی دنیا میں ان کا نظر آرہا ہے۔

العنكبوت 29:14

حضرت نوح کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ایک صالح انسان تھے اور شریعت آدم پر قائم تھے۔ نبوت ملنے کے بعد آپ باقاعدہ خدا کے داعی بن کر اپنی قوم کو ڈراتے رہے۔ مگر سیکڑوں سال کی محنت کے باوجود قوم نہ مانی۔ آخر کار چند اصلاح یافتہ افراد کو چھوڑ کر پوری قوم ایک عظیم طوفان میں غرق کردی گئی۔ ترکی اور روس کی سرحد پر مشرقی اَناطولیہ کے پہاڑی سلسلہ میں ایک اونچی چوٹی ہے جس کو ارارات(Ararat) کہاجاتاہے۔ اس کی بلندی پانچ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ اس پہاڑ کے اوپر سے اڑنے والے جہازوں کا بیان ہے کہ انھوں نے ارارات کی برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی پر ایک کشتی جیسی چیز دیکھی ہے۔ چنانچہ اس کشتی تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اہل علم کا خیال ہے یہ وہی چیزہے جس کو مذہبی روایات میں کشتی نوح کہا جاتاہے۔ اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آج بھی باقی رکھا ہے تاکہ وہ لوگوں کےلیے اس بات کی نشانی ہو کہ خدا کے طوفان سے بچنے کےلیے آدمی کو پیغمبر کی کشتی درکار ہے۔ کوئی دوسری چیز آدمی کو خداکے طوفان سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔

العنكبوت 29:15

حضرت نوح کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ایک صالح انسان تھے اور شریعت آدم پر قائم تھے۔ نبوت ملنے کے بعد آپ باقاعدہ خدا کے داعی بن کر اپنی قوم کو ڈراتے رہے۔ مگر سیکڑوں سال کی محنت کے باوجود قوم نہ مانی۔ آخر کار چند اصلاح یافتہ افراد کو چھوڑ کر پوری قوم ایک عظیم طوفان میں غرق کردی گئی۔ ترکی اور روس کی سرحد پر مشرقی اَناطولیہ کے پہاڑی سلسلہ میں ایک اونچی چوٹی ہے جس کو ارارات(Ararat) کہاجاتاہے۔ اس کی بلندی پانچ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ اس پہاڑ کے اوپر سے اڑنے والے جہازوں کا بیان ہے کہ انھوں نے ارارات کی برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی پر ایک کشتی جیسی چیز دیکھی ہے۔ چنانچہ اس کشتی تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اہل علم کا خیال ہے یہ وہی چیزہے جس کو مذہبی روایات میں کشتی نوح کہا جاتاہے۔ اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آج بھی باقی رکھا ہے تاکہ وہ لوگوں کےلیے اس بات کی نشانی ہو کہ خدا کے طوفان سے بچنے کےلیے آدمی کو پیغمبر کی کشتی درکار ہے۔ کوئی دوسری چیز آدمی کو خداکے طوفان سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔

العنكبوت 29:16

ایک خدا کے سوا جس کو بھی آدمی اپنے اعلیٰ جذبات کا مرکز بناتاہے وہ ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ وہ غیر خدا میں خدائی اوصاف کو فرض کرتا ہے۔ وہ برتر صفات جو صرف خدا کےلیے خاص ہیں ان کو آدمی غیر خدا میں فرض کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی غیر خدا کا پرستار بنے۔ قدیم مشرکانہ دور میں انسان اس قسم کی صفات بتوں میں فرض کرتا تھا، آج کا انسان بھی یہی کررہا ہے۔ البتہ آج کے انسان کے بتوں کے نام اس سے مختلف ہیں جو قدیم مشرکوں کے ہوا کرتے تھے۔ قدیم وجدید کا فرق صرف یہ ہے کہ قدیم انسان اگر کھیت کی پیداوار کو کسی مفروضہ دیوتا کی مہربانی سمجھتا تھا تو آج کا انسان اس کےلیے یہ الفاظ بولتاہے — ہمارا گرین ریولیوشن ہماری ایگریکلچرل سائنس کا کرشمہ ہے۔

العنكبوت 29:17

ایک خدا کے سوا جس کو بھی آدمی اپنے اعلیٰ جذبات کا مرکز بناتاہے وہ ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ وہ غیر خدا میں خدائی اوصاف کو فرض کرتا ہے۔ وہ برتر صفات جو صرف خدا کےلیے خاص ہیں ان کو آدمی غیر خدا میں فرض کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی غیر خدا کا پرستار بنے۔ قدیم مشرکانہ دور میں انسان اس قسم کی صفات بتوں میں فرض کرتا تھا، آج کا انسان بھی یہی کررہا ہے۔ البتہ آج کے انسان کے بتوں کے نام اس سے مختلف ہیں جو قدیم مشرکوں کے ہوا کرتے تھے۔ قدیم وجدید کا فرق صرف یہ ہے کہ قدیم انسان اگر کھیت کی پیداوار کو کسی مفروضہ دیوتا کی مہربانی سمجھتا تھا تو آج کا انسان اس کےلیے یہ الفاظ بولتاہے — ہمارا گرین ریولیوشن ہماری ایگریکلچرل سائنس کا کرشمہ ہے۔

العنكبوت 29:18

ایک خدا کے سوا جس کو بھی آدمی اپنے اعلیٰ جذبات کا مرکز بناتاہے وہ ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ وہ غیر خدا میں خدائی اوصاف کو فرض کرتا ہے۔ وہ برتر صفات جو صرف خدا کےلیے خاص ہیں ان کو آدمی غیر خدا میں فرض کرتاہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ کسی غیر خدا کا پرستار بنے۔ قدیم مشرکانہ دور میں انسان اس قسم کی صفات بتوں میں فرض کرتا تھا، آج کا انسان بھی یہی کررہا ہے۔ البتہ آج کے انسان کے بتوں کے نام اس سے مختلف ہیں جو قدیم مشرکوں کے ہوا کرتے تھے۔ قدیم وجدید کا فرق صرف یہ ہے کہ قدیم انسان اگر کھیت کی پیداوار کو کسی مفروضہ دیوتا کی مہربانی سمجھتا تھا تو آج کا انسان اس کےلیے یہ الفاظ بولتاہے — ہمارا گرین ریولیوشن ہماری ایگریکلچرل سائنس کا کرشمہ ہے۔

العنكبوت 29:19

انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔ ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔

العنكبوت 29:20

انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔ ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔

العنكبوت 29:21

انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔ ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔

العنكبوت 29:22

انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔ ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔

العنكبوت 29:23

انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔ ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔

العنكبوت 29:24

جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے — قدیم زمانہ میں شرک کی حیثیت اسی قسم کے قومی رواج کی ہو گئی تھی۔ حضرت ابراہیم نے عراق کے لوگوں کو بتایا کہ تم جس بت پرستی کو پکڑے ہوئے ہو وہ محض ایک قومی رواج ہے نہ کہ کوئی واقعی صداقت۔ تمھاری موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کی ساری اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مگر صرف ایک آپ کے بھتیجے لوط تھے جنھوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ قوم آپ کی اتنی دشمن ہوئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ تاہم اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ آپ کو نہ صرف آخرت کا اعلیٰ انعام ملا بلکہ آپ کو ایسی صالح اولاد دی گئی جس کے اندر چار ہزار سال سے نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کے بیٹے اسحاق پیغمبر تھے۔ پھر ان کے بیٹے یعقوب پیغمبر ہوئے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ تک مسلسل اسی خاندان میں پیغمبری کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ابراہیم کے ایک اور بیٹے مدیان کی نسل میں حضرت شعیب پیداہوئے۔ اسی طرح آپ کے بیٹے اسماعیل خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔

العنكبوت 29:25

جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے — قدیم زمانہ میں شرک کی حیثیت اسی قسم کے قومی رواج کی ہو گئی تھی۔ حضرت ابراہیم نے عراق کے لوگوں کو بتایا کہ تم جس بت پرستی کو پکڑے ہوئے ہو وہ محض ایک قومی رواج ہے نہ کہ کوئی واقعی صداقت۔ تمھاری موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کی ساری اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مگر صرف ایک آپ کے بھتیجے لوط تھے جنھوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ قوم آپ کی اتنی دشمن ہوئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ تاہم اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ آپ کو نہ صرف آخرت کا اعلیٰ انعام ملا بلکہ آپ کو ایسی صالح اولاد دی گئی جس کے اندر چار ہزار سال سے نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کے بیٹے اسحاق پیغمبر تھے۔ پھر ان کے بیٹے یعقوب پیغمبر ہوئے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ تک مسلسل اسی خاندان میں پیغمبری کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ابراہیم کے ایک اور بیٹے مدیان کی نسل میں حضرت شعیب پیداہوئے۔ اسی طرح آپ کے بیٹے اسماعیل خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔

العنكبوت 29:26

جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے — قدیم زمانہ میں شرک کی حیثیت اسی قسم کے قومی رواج کی ہو گئی تھی۔ حضرت ابراہیم نے عراق کے لوگوں کو بتایا کہ تم جس بت پرستی کو پکڑے ہوئے ہو وہ محض ایک قومی رواج ہے نہ کہ کوئی واقعی صداقت۔ تمھاری موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کی ساری اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مگر صرف ایک آپ کے بھتیجے لوط تھے جنھوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ قوم آپ کی اتنی دشمن ہوئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ تاہم اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ آپ کو نہ صرف آخرت کا اعلیٰ انعام ملا بلکہ آپ کو ایسی صالح اولاد دی گئی جس کے اندر چار ہزار سال سے نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کے بیٹے اسحاق پیغمبر تھے۔ پھر ان کے بیٹے یعقوب پیغمبر ہوئے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ تک مسلسل اسی خاندان میں پیغمبری کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ابراہیم کے ایک اور بیٹے مدیان کی نسل میں حضرت شعیب پیداہوئے۔ اسی طرح آپ کے بیٹے اسماعیل خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔

العنكبوت 29:27

جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے — قدیم زمانہ میں شرک کی حیثیت اسی قسم کے قومی رواج کی ہو گئی تھی۔ حضرت ابراہیم نے عراق کے لوگوں کو بتایا کہ تم جس بت پرستی کو پکڑے ہوئے ہو وہ محض ایک قومی رواج ہے نہ کہ کوئی واقعی صداقت۔ تمھاری موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کی ساری اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مگر صرف ایک آپ کے بھتیجے لوط تھے جنھوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ قوم آپ کی اتنی دشمن ہوئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ تاہم اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ آپ کو نہ صرف آخرت کا اعلیٰ انعام ملا بلکہ آپ کو ایسی صالح اولاد دی گئی جس کے اندر چار ہزار سال سے نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کے بیٹے اسحاق پیغمبر تھے۔ پھر ان کے بیٹے یعقوب پیغمبر ہوئے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ تک مسلسل اسی خاندان میں پیغمبری کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ابراہیم کے ایک اور بیٹے مدیان کی نسل میں حضرت شعیب پیداہوئے۔ اسی طرح آپ کے بیٹے اسماعیل خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔

العنكبوت 29:28

حضرت لوط بابل کو چھوڑ کر اردن کے علاقہ میں آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنایا اور ان کو قوم لوط کی اصلاح کے کام پر مقرر کیا۔ یہ قوم بحر مردار (Dead Sea) کے قریب سدوم کے علاقہ میں رہتی تھی اور امرد پرستی کی غیر فطری عادت میں مبتلا تھی۔اسی نسبت سے دوسری برائیاں بھی ان کے اندر عام ہوچکی تھیں۔ مگر انھوں نے اصلاح قبول نہ کی۔ ’’اللہ کا عذاب لاؤ‘‘ کا اصل رخ حضرت لوط کی طرف تھا، نہ کہ اللہ کی طرف۔ انھوںنے حضرت لوط کو اتنا حقیر سمجھا کہ ان کے نزدیک یہ ناممکن تھا کہ ان کی بات نہ ماننے سے وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے۔ چنانچہ بطور مذاق انھوں نے کہا کہ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمارے اوپر خدا کا عذاب لاؤ۔

العنكبوت 29:29

حضرت لوط بابل کو چھوڑ کر اردن کے علاقہ میں آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنایا اور ان کو قوم لوط کی اصلاح کے کام پر مقرر کیا۔ یہ قوم بحر مردار (Dead Sea) کے قریب سدوم کے علاقہ میں رہتی تھی اور امرد پرستی کی غیر فطری عادت میں مبتلا تھی۔اسی نسبت سے دوسری برائیاں بھی ان کے اندر عام ہوچکی تھیں۔ مگر انھوں نے اصلاح قبول نہ کی۔ ’’اللہ کا عذاب لاؤ‘‘ کا اصل رخ حضرت لوط کی طرف تھا، نہ کہ اللہ کی طرف۔ انھوںنے حضرت لوط کو اتنا حقیر سمجھا کہ ان کے نزدیک یہ ناممکن تھا کہ ان کی بات نہ ماننے سے وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے۔ چنانچہ بطور مذاق انھوں نے کہا کہ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمارے اوپر خدا کا عذاب لاؤ۔

العنكبوت 29:30

حضرت لوط بابل کو چھوڑ کر اردن کے علاقہ میں آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنایا اور ان کو قوم لوط کی اصلاح کے کام پر مقرر کیا۔ یہ قوم بحر مردار (Dead Sea) کے قریب سدوم کے علاقہ میں رہتی تھی اور امرد پرستی کی غیر فطری عادت میں مبتلا تھی۔اسی نسبت سے دوسری برائیاں بھی ان کے اندر عام ہوچکی تھیں۔ مگر انھوں نے اصلاح قبول نہ کی۔ ’’اللہ کا عذاب لاؤ‘‘ کا اصل رخ حضرت لوط کی طرف تھا، نہ کہ اللہ کی طرف۔ انھوںنے حضرت لوط کو اتنا حقیر سمجھا کہ ان کے نزدیک یہ ناممکن تھا کہ ان کی بات نہ ماننے سے وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے۔ چنانچہ بطور مذاق انھوں نے کہا کہ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمارے اوپر خدا کا عذاب لاؤ۔

العنكبوت 29:31

قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

العنكبوت 29:32

قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

العنكبوت 29:33

قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

العنكبوت 29:34

قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

العنكبوت 29:35

قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

العنكبوت 29:36

حضرت شعیب جس قوم میں آئے وہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی۔ وہ لوگ مال کی حرص میں اتنا بڑھے کہ دھوکا اور فریب کے ذریعہ مال کمانے لگے۔ یہی ان کا زمین میں فساد کرنا تھا۔ جائز تجارت حصول معاش کا اصلاحی طریقہ ہے اور دھوکہ اور لوٹ کھسوٹ حصول معاش کا مفسدانہ طریقہ۔ حضرت شعیب نے قوم سے کہا کہ تم دنیا کے پیچھے آخرت سے غافل نہ ہوجاؤ۔ تم لوگ اس طریقہ پر کام کرو جس سے تم آخرت میں اپنے ليے اچھے انجام کی امید کرسکو۔ مگر پیغمبر کی ساری کوششوں کے باوجودقوم نہ مانی۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے قانون کے مطابق ہلاک کردی گئی۔ جن گھروں کو انھوں نے اپنے ليے زندگی کا گھر سمجھا تھا وہ ان کےلیے موت کا گھر بن گیا۔

العنكبوت 29:37

حضرت شعیب جس قوم میں آئے وہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی۔ وہ لوگ مال کی حرص میں اتنا بڑھے کہ دھوکا اور فریب کے ذریعہ مال کمانے لگے۔ یہی ان کا زمین میں فساد کرنا تھا۔ جائز تجارت حصول معاش کا اصلاحی طریقہ ہے اور دھوکہ اور لوٹ کھسوٹ حصول معاش کا مفسدانہ طریقہ۔ حضرت شعیب نے قوم سے کہا کہ تم دنیا کے پیچھے آخرت سے غافل نہ ہوجاؤ۔ تم لوگ اس طریقہ پر کام کرو جس سے تم آخرت میں اپنے ليے اچھے انجام کی امید کرسکو۔ مگر پیغمبر کی ساری کوششوں کے باوجودقوم نہ مانی۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے قانون کے مطابق ہلاک کردی گئی۔ جن گھروں کو انھوں نے اپنے ليے زندگی کا گھر سمجھا تھا وہ ان کےلیے موت کا گھر بن گیا۔

العنكبوت 29:38

عاد اور ثمود کو بھی خداکے عذاب نے پکڑ لیا۔ وہ اپنے دنیا کے معاملات میں بہت ہوشیار تھے مگر وہ آخرت کے معاملہ میں بالکل نادان نکلے۔ انھوںنے پہاڑوں کے ذریعہ گھر بنانے کے راز کو جان لیا۔ مگر وہ پیغمبر کے ذریعہ زندگی بنانے کا راز نہ جان سکے۔ اس کی وجہ وہ چیز تھی جس کو تزئین اعمال کہاگیا ہے۔ شیطان نے انھیں اس دھوکہ میں رکھا کہ دنیا کی تعمیر ہی ساری تعمیر ہے۔ اگر دنیا کو بنالیا تو اس کے بعد کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔ مگر یہ فریب ان کے کام نہ آیا اور نہ اس قسم کا فریب آئندہ کسی کے کچھ کام آنے والا ہے۔ جنوبی عرب کا علاقہ جو اب یمن، احقاف، اور حضرموت کے نام سے جانا جاتا ہے، یہی قدیم زمانہ میں عاد کا علاقہ تھا۔ اسی طرح حجاز کے شمالی حصہ میں رابِغ سے عقبہ تک اور مدینہ اور خیبر سے تیما اور تبوک تک کا علاقہ وہ تھا جس میں ثمود کی آبادیاں پائی جاتی تھیں۔

العنكبوت 29:39

انبیاء کی مخاطب قوموں نے جب اپنے نبی کا انکار کیا تو ان کو زمینی اور آسمانی عذاب سے ہلاک کردیا گیا — قوم لوط پر عاصب (پتھر برسانے والی طوفانی ہوا) کا عذاب آیا۔عاد اور ثمود اور اصحاب مدین پر صیحہ (رعد وبرق) کا عذاب آیا۔ قارون کےلیے خسف (زمین میں دھنسا دینے) کا عذاب آیا۔ فرعون اور ہامان کےلیے غرق (سمندر کے پانی میں ڈبا دینے) کا عذاب آیا۔ ان تمام عذابوں کا مشترک سبب لوگوں کا گھمنڈ تھا۔ یعنی حق کی دعوت کو اس ليے نہ ماننا کہ اس کو ماننے سے اپنی بڑائی ختم ہوجائے گی۔

العنكبوت 29:40

انبیاء کی مخاطب قوموں نے جب اپنے نبی کا انکار کیا تو ان کو زمینی اور آسمانی عذاب سے ہلاک کردیا گیا — قوم لوط پر عاصب (پتھر برسانے والی طوفانی ہوا) کا عذاب آیا۔عاد اور ثمود اور اصحاب مدین پر صیحہ (رعد وبرق) کا عذاب آیا۔ قارون کےلیے خسف (زمین میں دھنسا دینے) کا عذاب آیا۔ فرعون اور ہامان کےلیے غرق (سمندر کے پانی میں ڈبا دینے) کا عذاب آیا۔ ان تمام عذابوں کا مشترک سبب لوگوں کا گھمنڈ تھا۔ یعنی حق کی دعوت کو اس ليے نہ ماننا کہ اس کو ماننے سے اپنی بڑائی ختم ہوجائے گی۔

العنكبوت 29:41

یہاں بتایا گیا ہے کہ ’’مکڑی‘‘ کے گھرکو دیکھ کر جو شخص حقیقت کا سبق پالے وہی دراصل عالم ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کے نزدیک سچے علم والے کون ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو کتابی بحثوں کے ماہر بنے ہوئے ہوں۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں پھیلی ہوئی قدرتی نشانیوں سے نصیحت کی غذا لے سکیں۔دنیا کے چھوٹے چھوٹے واقعات جن کے ذہن میں داخل ہو کر بڑے بڑے سبق میں تبدیل ہوجائیں — یہی علم جب آخری معرفت تک پہنچ جائے تو اسی کا دوسرا نام ایمان ہے۔

العنكبوت 29:42

یہاں بتایا گیا ہے کہ ’’مکڑی‘‘ کے گھرکو دیکھ کر جو شخص حقیقت کا سبق پالے وہی دراصل عالم ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کے نزدیک سچے علم والے کون ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو کتابی بحثوں کے ماہر بنے ہوئے ہوں۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں پھیلی ہوئی قدرتی نشانیوں سے نصیحت کی غذا لے سکیں۔دنیا کے چھوٹے چھوٹے واقعات جن کے ذہن میں داخل ہو کر بڑے بڑے سبق میں تبدیل ہوجائیں — یہی علم جب آخری معرفت تک پہنچ جائے تو اسی کا دوسرا نام ایمان ہے۔

العنكبوت 29:43

یہاں بتایا گیا ہے کہ ’’مکڑی‘‘ کے گھرکو دیکھ کر جو شخص حقیقت کا سبق پالے وہی دراصل عالم ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کے نزدیک سچے علم والے کون ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو کتابی بحثوں کے ماہر بنے ہوئے ہوں۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں پھیلی ہوئی قدرتی نشانیوں سے نصیحت کی غذا لے سکیں۔دنیا کے چھوٹے چھوٹے واقعات جن کے ذہن میں داخل ہو کر بڑے بڑے سبق میں تبدیل ہوجائیں — یہی علم جب آخری معرفت تک پہنچ جائے تو اسی کا دوسرا نام ایمان ہے۔

العنكبوت 29:44

یہاں بتایا گیا ہے کہ ’’مکڑی‘‘ کے گھرکو دیکھ کر جو شخص حقیقت کا سبق پالے وہی دراصل عالم ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کے نزدیک سچے علم والے کون ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو کتابی بحثوں کے ماہر بنے ہوئے ہوں۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں پھیلی ہوئی قدرتی نشانیوں سے نصیحت کی غذا لے سکیں۔دنیا کے چھوٹے چھوٹے واقعات جن کے ذہن میں داخل ہو کر بڑے بڑے سبق میں تبدیل ہوجائیں — یہی علم جب آخری معرفت تک پہنچ جائے تو اسی کا دوسرا نام ایمان ہے۔

العنكبوت 29:45

’’نماز برائی سے روکتی ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ کیفیت نماز برائی سے روکتی ہے۔اگر آدمی واقعۃً خدا کے آگے رکوع اور سجدہ کرنے والا ہو تو اس کے اندر ذمہ داری اور تواضع کااحساس پیدا ہوجاتا ہے۔ اور ذمہ داری اور تواضع کے احساس سے جو کردار ابھرتاہے وہ یہی ہوتا ہے کہ آدمی وہ کرتاہے جو اسے کرنا چاہيے اور وہ نہیں کرتا جو اسے نہیں کرنا چاہيے۔ ذکر سے مراد خدا کی یاد ہے۔ جب آدمی کو خدا کی کامل معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جب وہ پوری طرح خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر خدا کا تصور چھا جاتا ہے۔ اس کے اندر خدا کی یاد کا چشمہ بہہ پڑتا ہے۔ اس روحانی درجہ کو پہنچ کر آدمی کی زبان سے خدا کےلیے جو اعلیٰ کلمات نکلتے ہیں انھیں کا نام ذکر ہے۔ یہ ذکر بلا شبہ اعلیٰ ترین عبادت ہے۔ تلاوت وحی سے مراد یہاں تبلیغ وحی ہے۔ یعنی لوگوں کو قرآن سنانا اور اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی مرضی سے باخبر کرنا۔ دعوت وتبلیغ کا یہ کام بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس میں اپنے مخالفین کا خیر خواہ بننا پڑتا ہے۔ اس میں فریقِ ثانی کی زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اس میں اپنے مخاطبین کو مدعو کی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے خواہ وہ خود داعی کےلیے رقیب اور حریف بنے ہوئے ہوں۔ نماز جس طرح عام زندگی میں ایک مومن کو برائی سے روکتی ہے، اسی طرح وہ داعی کو غیر داعیانہ روش سے بچاتی ہے۔ خدا کا داعی وہی شخص بن سکتاہے جس کے سینہ میں خدا کی یاد سمائی ہوئی ہو، جو اپنے پورے وجود کے ساتھ خداکے آگے جھکنے والا بن گیا ہو۔

العنكبوت 29:46

داعی کےلیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ بحث کریں اور الجھیں ان سے وہ سلام کرکے جدا ہوجائے۔ اور جو لوگ سنجیدہ ہوں ان پر وہ امر حق کو واضح کرنے کی کوشش کرے۔ نیز یہ کہ دعوتی کلام کو حکیمانہ کلام ہونا چاہيے — اور حکیمانہ کلام کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ اس میں مدعو کی نفسیات کا پورا لحاظ کیاجاتاہے۔ داعی اپنی بات کو ایسے اسلوب سے کہتا ہے کہ مدعو اس کو اپنے دل کی بات سمجھے، نہ کہ غیر کی بات سمجھ کر اس سے متوحش ہوجائے۔ داعیانہ کلام ناصحانہ کلام ہوتا ہے، نہ کہ مناظرانہ کلام۔

العنكبوت 29:47

لوگوں میں دو قسم کے افراد ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کو پہلے سے سچائی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جو بظاہر سچائی کا علم نہیں رکھتے۔ تاہم یہ دوسری قسم کے لوگ بھی فطرت کی سطح پر سچائی سے آشنا ہوتے ہیں۔ اول الذکر اگر حامل کتاب ہیں تو ثانی الذکر حامل فطرت۔ اگر لوگ فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ فوراً حق کو پہچان لیں گے۔ ایک گروہ اگر اس کو کتابِ آسمانی کی سطح پر پہچان لے گا تو دوسرا گروہ کتابِ فطرت کی سطح پر۔ ہر ایک کو سچائی کی بات اپنے دل کی بات نظر آئے گی۔ مگر اکثر حالات میں لوگ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر انکار کا مزاج آجاتاہے۔ وہ سچائی کا انکار ہی کرتے رہتے ہیں، خواہ اس کی پشت پر کتنے ہی قرائن جمع ہوں اور اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔

العنكبوت 29:48

لوگوں میں دو قسم کے افراد ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کو پہلے سے سچائی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جو بظاہر سچائی کا علم نہیں رکھتے۔ تاہم یہ دوسری قسم کے لوگ بھی فطرت کی سطح پر سچائی سے آشنا ہوتے ہیں۔ اول الذکر اگر حامل کتاب ہیں تو ثانی الذکر حامل فطرت۔ اگر لوگ فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ فوراً حق کو پہچان لیں گے۔ ایک گروہ اگر اس کو کتابِ آسمانی کی سطح پر پہچان لے گا تو دوسرا گروہ کتابِ فطرت کی سطح پر۔ ہر ایک کو سچائی کی بات اپنے دل کی بات نظر آئے گی۔ مگر اکثر حالات میں لوگ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر انکار کا مزاج آجاتاہے۔ وہ سچائی کا انکار ہی کرتے رہتے ہیں، خواہ اس کی پشت پر کتنے ہی قرائن جمع ہوں اور اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔

العنكبوت 29:49

لوگوں میں دو قسم کے افراد ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کو پہلے سے سچائی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جو بظاہر سچائی کا علم نہیں رکھتے۔ تاہم یہ دوسری قسم کے لوگ بھی فطرت کی سطح پر سچائی سے آشنا ہوتے ہیں۔ اول الذکر اگر حامل کتاب ہیں تو ثانی الذکر حامل فطرت۔ اگر لوگ فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ فوراً حق کو پہچان لیں گے۔ ایک گروہ اگر اس کو کتابِ آسمانی کی سطح پر پہچان لے گا تو دوسرا گروہ کتابِ فطرت کی سطح پر۔ ہر ایک کو سچائی کی بات اپنے دل کی بات نظر آئے گی۔ مگر اکثر حالات میں لوگ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر انکار کا مزاج آجاتاہے۔ وہ سچائی کا انکار ہی کرتے رہتے ہیں، خواہ اس کی پشت پر کتنے ہی قرائن جمع ہوں اور اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔

العنكبوت 29:50

جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کو اس طرح کی نشانیاں کیوں نہیں دی گئیں جیسی نشانیاں مثال کے طورپر موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ فرمایا کہ نشانیاں اللہ کے پاس ہیں۔ یعنی نشانیوں (معجزے) کا تعلق خدا سے ہے، نہ کہ پیغمبر سے۔ پیغمبر کی دعوت کا اصل انحصار دلائل پر ہوتاہے۔ پیغمبر ہمیشہ دلائل کے زور پر اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔ البتہ دوسرے مصالح کے تحت خدا کبھی کسی پیغمبر کو نشانی (معجزہ) دے دیتاہے اور کبھی نہیں دیتا۔ ایمان ایک شعوری واقعہ ہے۔ وہی ایمان ایمان ہے جو دلیل سے مطمئن ہو کر کسی بندہ کے دل میں ابھرا ہو۔ جو شخص دلیل کی روشنی میں جانچ کر کسی چیز کو مانے وہ حق پرست ہے اور جو شخص دوسری غیرمتعلق بحثیں نکالے وہ باطل پرست۔

العنكبوت 29:51

جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کو اس طرح کی نشانیاں کیوں نہیں دی گئیں جیسی نشانیاں مثال کے طورپر موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ فرمایا کہ نشانیاں اللہ کے پاس ہیں۔ یعنی نشانیوں (معجزے) کا تعلق خدا سے ہے، نہ کہ پیغمبر سے۔ پیغمبر کی دعوت کا اصل انحصار دلائل پر ہوتاہے۔ پیغمبر ہمیشہ دلائل کے زور پر اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔ البتہ دوسرے مصالح کے تحت خدا کبھی کسی پیغمبر کو نشانی (معجزہ) دے دیتاہے اور کبھی نہیں دیتا۔ ایمان ایک شعوری واقعہ ہے۔ وہی ایمان ایمان ہے جو دلیل سے مطمئن ہو کر کسی بندہ کے دل میں ابھرا ہو۔ جو شخص دلیل کی روشنی میں جانچ کر کسی چیز کو مانے وہ حق پرست ہے اور جو شخص دوسری غیرمتعلق بحثیں نکالے وہ باطل پرست۔

العنكبوت 29:52

جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کو اس طرح کی نشانیاں کیوں نہیں دی گئیں جیسی نشانیاں مثال کے طورپر موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ فرمایا کہ نشانیاں اللہ کے پاس ہیں۔ یعنی نشانیوں (معجزے) کا تعلق خدا سے ہے، نہ کہ پیغمبر سے۔ پیغمبر کی دعوت کا اصل انحصار دلائل پر ہوتاہے۔ پیغمبر ہمیشہ دلائل کے زور پر اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔ البتہ دوسرے مصالح کے تحت خدا کبھی کسی پیغمبر کو نشانی (معجزہ) دے دیتاہے اور کبھی نہیں دیتا۔ ایمان ایک شعوری واقعہ ہے۔ وہی ایمان ایمان ہے جو دلیل سے مطمئن ہو کر کسی بندہ کے دل میں ابھرا ہو۔ جو شخص دلیل کی روشنی میں جانچ کر کسی چیز کو مانے وہ حق پرست ہے اور جو شخص دوسری غیرمتعلق بحثیں نکالے وہ باطل پرست۔

العنكبوت 29:53

انسان کے اعمال ہی اس کی جنت ہیں اور انسان کے اعمال ہی اس کی دوزخ۔ ایک شخص جوانکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کيے ہوئے ہو، اس کی زندگی کو اگر اس کے معنوی انجام کے اعتبار سے دیکھنا ممکن ہو تو نظر آئے گا کہ اس کے برے اعمال اس کو عذاب بن کر گھیرے ہوئے ہیں۔ اور صرف اتنی سی دیر ہے کہ موت آئے اور اس کو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ڈال دے۔ انسان کی بہت سی سرکشی صرف اپنی حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی یہ بے خبری ختم ہوجائے تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔

العنكبوت 29:54

انسان کے اعمال ہی اس کی جنت ہیں اور انسان کے اعمال ہی اس کی دوزخ۔ ایک شخص جوانکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کيے ہوئے ہو، اس کی زندگی کو اگر اس کے معنوی انجام کے اعتبار سے دیکھنا ممکن ہو تو نظر آئے گا کہ اس کے برے اعمال اس کو عذاب بن کر گھیرے ہوئے ہیں۔ اور صرف اتنی سی دیر ہے کہ موت آئے اور اس کو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ڈال دے۔ انسان کی بہت سی سرکشی صرف اپنی حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی یہ بے خبری ختم ہوجائے تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔

العنكبوت 29:55

انسان کے اعمال ہی اس کی جنت ہیں اور انسان کے اعمال ہی اس کی دوزخ۔ ایک شخص جوانکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کيے ہوئے ہو، اس کی زندگی کو اگر اس کے معنوی انجام کے اعتبار سے دیکھنا ممکن ہو تو نظر آئے گا کہ اس کے برے اعمال اس کو عذاب بن کر گھیرے ہوئے ہیں۔ اور صرف اتنی سی دیر ہے کہ موت آئے اور اس کو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ڈال دے۔ انسان کی بہت سی سرکشی صرف اپنی حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی یہ بے خبری ختم ہوجائے تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔

العنكبوت 29:56

ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔ ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔

العنكبوت 29:57

ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔ ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔

العنكبوت 29:58

ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔ ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔

العنكبوت 29:59

ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔ ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔

العنكبوت 29:60

ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔ ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔

العنكبوت 29:61

زمین و آسمان کو پیدا کرنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ایک قادر مطلق خدا ہی اس کو انجام دے سکتا ہے۔ سورج اور چاند کی گردش، بارش کا برسنا اور زمین سے نباتات کا ا گنا یہ سب اس سے زیادہ بڑے واقعات ہیں کہ کوئی غیر خدا ان کو وجود میں لاسکے۔ جو لوگ کسی نوعیت کے شرک میں مبتلا ہیں وہ بھی اپنی مفروضہ ہستیوں کے بارے میں یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ وہ ان عظیم واقعات کو ظہور میں لائے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ خدا کے سوا دوسروں کی اس امید میں پرستش کرتے ہیں کہ وہ ان کا رزق بڑھا دیں گے۔ حالاں کہ جب ہر قسم کے اعلیٰ اختیارات صرف خدا کو حاصل ہیں تو دوسرا کون ہے جو رزق کی تقسیم میں اثر انداز ہوسکے۔

العنكبوت 29:62

زمین و آسمان کو پیدا کرنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ایک قادر مطلق خدا ہی اس کو انجام دے سکتا ہے۔ سورج اور چاند کی گردش، بارش کا برسنا اور زمین سے نباتات کا ا گنا یہ سب اس سے زیادہ بڑے واقعات ہیں کہ کوئی غیر خدا ان کو وجود میں لاسکے۔ جو لوگ کسی نوعیت کے شرک میں مبتلا ہیں وہ بھی اپنی مفروضہ ہستیوں کے بارے میں یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ وہ ان عظیم واقعات کو ظہور میں لائے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ خدا کے سوا دوسروں کی اس امید میں پرستش کرتے ہیں کہ وہ ان کا رزق بڑھا دیں گے۔ حالاں کہ جب ہر قسم کے اعلیٰ اختیارات صرف خدا کو حاصل ہیں تو دوسرا کون ہے جو رزق کی تقسیم میں اثر انداز ہوسکے۔

العنكبوت 29:63

زمین و آسمان کو پیدا کرنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ایک قادر مطلق خدا ہی اس کو انجام دے سکتا ہے۔ سورج اور چاند کی گردش، بارش کا برسنا اور زمین سے نباتات کا ا گنا یہ سب اس سے زیادہ بڑے واقعات ہیں کہ کوئی غیر خدا ان کو وجود میں لاسکے۔ جو لوگ کسی نوعیت کے شرک میں مبتلا ہیں وہ بھی اپنی مفروضہ ہستیوں کے بارے میں یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ وہ ان عظیم واقعات کو ظہور میں لائے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ خدا کے سوا دوسروں کی اس امید میں پرستش کرتے ہیں کہ وہ ان کا رزق بڑھا دیں گے۔ حالاں کہ جب ہر قسم کے اعلیٰ اختیارات صرف خدا کو حاصل ہیں تو دوسرا کون ہے جو رزق کی تقسیم میں اثر انداز ہوسکے۔

العنكبوت 29:64

انسان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ دنیا کی رونقوں اور دنیا کے مسائل میں اتنا گم ہوتا ہے کہ اس سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا۔ حقیقت کو پانے کےلیے اپنے آپ کو ظاہر سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ بیشتر لوگ اپنے آپ کو ظاہر سے اٹھا نہیں پاتے اس ليے بیشتر لوگ حقیقت کو پانے والے بھی نہیں بنتے۔ دنیا میں آدمی کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو اس کو اس کا عجز یاد دلاتے ہیں۔ اس وقت اس کے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجاتے ہیں اور حقیقی فطرت والا انسان جاگ اٹھتا ہے۔ مگر جیسے ہی حالات معتدل ہوئے وہ دوبارہ پہلے کی طرف غافل اور سرکش بن جاتا ہے۔ انھیں نازک تجربات میں سے سفر کا وہ تجربہ ہے جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے۔ آدمی کو جاننا چاہيے کہ آزادی کا یہ موقع اس کو صرف چند دن کی زندگی تک حاصل ہے۔ موت کے بعد اس کے سامنے بالکل دوسری دنیا ہوگی اور بالکل دوسرے مسائل۔

العنكبوت 29:65

انسان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ دنیا کی رونقوں اور دنیا کے مسائل میں اتنا گم ہوتا ہے کہ اس سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا۔ حقیقت کو پانے کےلیے اپنے آپ کو ظاہر سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ بیشتر لوگ اپنے آپ کو ظاہر سے اٹھا نہیں پاتے اس ليے بیشتر لوگ حقیقت کو پانے والے بھی نہیں بنتے۔ دنیا میں آدمی کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو اس کو اس کا عجز یاد دلاتے ہیں۔ اس وقت اس کے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجاتے ہیں اور حقیقی فطرت والا انسان جاگ اٹھتا ہے۔ مگر جیسے ہی حالات معتدل ہوئے وہ دوبارہ پہلے کی طرف غافل اور سرکش بن جاتا ہے۔ انھیں نازک تجربات میں سے سفر کا وہ تجربہ ہے جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے۔ آدمی کو جاننا چاہيے کہ آزادی کا یہ موقع اس کو صرف چند دن کی زندگی تک حاصل ہے۔ موت کے بعد اس کے سامنے بالکل دوسری دنیا ہوگی اور بالکل دوسرے مسائل۔

العنكبوت 29:66

انسان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ دنیا کی رونقوں اور دنیا کے مسائل میں اتنا گم ہوتا ہے کہ اس سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا۔ حقیقت کو پانے کےلیے اپنے آپ کو ظاہر سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ بیشتر لوگ اپنے آپ کو ظاہر سے اٹھا نہیں پاتے اس ليے بیشتر لوگ حقیقت کو پانے والے بھی نہیں بنتے۔ دنیا میں آدمی کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو اس کو اس کا عجز یاد دلاتے ہیں۔ اس وقت اس کے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجاتے ہیں اور حقیقی فطرت والا انسان جاگ اٹھتا ہے۔ مگر جیسے ہی حالات معتدل ہوئے وہ دوبارہ پہلے کی طرف غافل اور سرکش بن جاتا ہے۔ انھیں نازک تجربات میں سے سفر کا وہ تجربہ ہے جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے۔ آدمی کو جاننا چاہيے کہ آزادی کا یہ موقع اس کو صرف چند دن کی زندگی تک حاصل ہے۔ موت کے بعد اس کے سامنے بالکل دوسری دنیا ہوگی اور بالکل دوسرے مسائل۔

العنكبوت 29:67

مکہ کا حرم اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ اللہ نے لوگوں کے اوپر اس کا ایسا رعب بٹھا رکھا ہے کہ وہاں پہنچ کر ظالم اور سرکش بھی اپنا ظلم اور سرکشی بھول جاتے ہیں۔ حرم کا یہ تقدس خدا کی قدرت کی ایک نشانی تھا۔ اس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دل خدا کےلیے جھک جائیں۔ مگر باطل پرستوں نے یہ کیا کہ غیر خدا میں خداکے اوصاف فرض کرکے لوگوں کے جذباتِ پرستش کو بالکل غلط طورپر ان کی طرف پھیر دیا۔ ان کا مزید ظلم یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے جب ان کو نصیحت کی کہ ان مفروضہ خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کے آگے جھک جاؤ تو وہ رسول کے دشمن بن گئے۔ ناحق پرستی کے ماحول میں حق پرست بننا ایک شدید مجاہدہ کا عمل ہے۔ اس میں ملی ہوئی چیز چھنتی ہے۔ حاصل شدہ سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مگر اسی محرومی میں ایک عظیم یافت کا راز چھپا ہوا ہے۔ اور وہ معرفت اور بصیرت ہے۔ ایسے لوگوں کےلیے انسانوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ مگر ان کےلیے خدا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ دنیا سے کھو کر خدا سے پانے لگتے ہیں۔ وہ مادی راحتوں سے د ور ہو کر ربانی کیفیات سے قریب ہوجاتے ہیں۔ ظاہری چیزیں ان سے اوجھل ہوتی ہیں مگر معنوی چیزیں ان پر منکشف ہوجاتی ہیں۔ ان پر وہ گہرے بھید کھلنے لگتے ہیں جن کی بڑے بڑے لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

العنكبوت 29:68

مکہ کا حرم اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ اللہ نے لوگوں کے اوپر اس کا ایسا رعب بٹھا رکھا ہے کہ وہاں پہنچ کر ظالم اور سرکش بھی اپنا ظلم اور سرکشی بھول جاتے ہیں۔ حرم کا یہ تقدس خدا کی قدرت کی ایک نشانی تھا۔ اس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دل خدا کےلیے جھک جائیں۔ مگر باطل پرستوں نے یہ کیا کہ غیر خدا میں خداکے اوصاف فرض کرکے لوگوں کے جذباتِ پرستش کو بالکل غلط طورپر ان کی طرف پھیر دیا۔ ان کا مزید ظلم یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے جب ان کو نصیحت کی کہ ان مفروضہ خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کے آگے جھک جاؤ تو وہ رسول کے دشمن بن گئے۔ ناحق پرستی کے ماحول میں حق پرست بننا ایک شدید مجاہدہ کا عمل ہے۔ اس میں ملی ہوئی چیز چھنتی ہے۔ حاصل شدہ سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مگر اسی محرومی میں ایک عظیم یافت کا راز چھپا ہوا ہے۔ اور وہ معرفت اور بصیرت ہے۔ ایسے لوگوں کےلیے انسانوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ مگر ان کےلیے خدا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ دنیا سے کھو کر خدا سے پانے لگتے ہیں۔ وہ مادی راحتوں سے د ور ہو کر ربانی کیفیات سے قریب ہوجاتے ہیں۔ ظاہری چیزیں ان سے اوجھل ہوتی ہیں مگر معنوی چیزیں ان پر منکشف ہوجاتی ہیں۔ ان پر وہ گہرے بھید کھلنے لگتے ہیں جن کی بڑے بڑے لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

العنكبوت 29:69

مکہ کا حرم اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ اللہ نے لوگوں کے اوپر اس کا ایسا رعب بٹھا رکھا ہے کہ وہاں پہنچ کر ظالم اور سرکش بھی اپنا ظلم اور سرکشی بھول جاتے ہیں۔ حرم کا یہ تقدس خدا کی قدرت کی ایک نشانی تھا۔ اس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دل خدا کےلیے جھک جائیں۔ مگر باطل پرستوں نے یہ کیا کہ غیر خدا میں خداکے اوصاف فرض کرکے لوگوں کے جذباتِ پرستش کو بالکل غلط طورپر ان کی طرف پھیر دیا۔ ان کا مزید ظلم یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے جب ان کو نصیحت کی کہ ان مفروضہ خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کے آگے جھک جاؤ تو وہ رسول کے دشمن بن گئے۔ ناحق پرستی کے ماحول میں حق پرست بننا ایک شدید مجاہدہ کا عمل ہے۔ اس میں ملی ہوئی چیز چھنتی ہے۔ حاصل شدہ سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مگر اسی محرومی میں ایک عظیم یافت کا راز چھپا ہوا ہے۔ اور وہ معرفت اور بصیرت ہے۔ ایسے لوگوں کےلیے انسانوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ مگر ان کےلیے خدا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ دنیا سے کھو کر خدا سے پانے لگتے ہیں۔ وہ مادی راحتوں سے د ور ہو کر ربانی کیفیات سے قریب ہوجاتے ہیں۔ ظاہری چیزیں ان سے اوجھل ہوتی ہیں مگر معنوی چیزیں ان پر منکشف ہوجاتی ہیں۔ ان پر وہ گہرے بھید کھلنے لگتے ہیں جن کی بڑے بڑے لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

الروم 30:1

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:2

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:3

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:4

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:5

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:6

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:7

ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔ اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624 ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627 ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔ مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔

الروم 30:8

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:9

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:10

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:11

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:12

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:13

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:14

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:15

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:16

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:17

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:18

ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔ ’’مجرمین‘‘ سے مراد وہ بڑے لوگ ہیں جنھوںنے انکار حق کی مہم کی قیادت کی۔ جنھوں نے انکار حق کےلیے دلائل فراہم کيے۔ قیامت کا دھماکہ جب نظام عالم کو بدلے گا تو اچانک یہ مجرمین دیکھیں گے کہ وہ تمام سہارے بالکل بے بنیاد تھے جن پر انھیں بڑا ناز تھا۔ وہ تمام الفاظ جھوٹے الفاظ ثابت ہوئے جن کو وہ اپنے موقف کے حق میں ناقابل تردید دلیل سمجھتے تھے۔ اپنی امیدوں اور خوش خیالیوں کے برعکس جب وہ اِس صورت حال کو دیکھیں گے تو وہ بالکل حیرت زدہ ہو کر رہ جائیںگے۔ قیامت میں انسانوں کی دو تقسیم کی جائے گی۔ ایک، خدا کی حمد وتسبیح کرنے والے لوگ۔ دوسرے، حمد وتسبیح سے خالی لوگ۔ خدا کی حمدوتسبیح کرنے والے لوگ وہ ہیں جو خدا کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی یادوں میں سما جائے۔ وہ ان کے دماغ کی سوچ اور ان کی زبان کا تذکرہ بن جائے۔ اسی حمد وتسبیح کی ایک متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔

الروم 30:19

موجودہ دنیا کا ایک عجیب وغریب کرشمہ ایک چیز کا دوسری چیز میں مبدل ہونا ہے۔ یہاں غیر اضافہ پذیر مادہ اضافہ پذیر مادہ میں تبدیل ہورہاہے۔ یہاں بے جان مٹی (بالفاظ دیگر ارضی اجزاء) تبدیل ہو کر چلنے اور بولنے والے انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ سب کچھ حد درجہ بامعنی طورپر ہورہاہے۔ مثال کے طورپر ’’مٹی‘‘ جب تبدیل ہو کر انسان بنتی ہے تو اس کا تقریباً نصف حصہ مرد کی صورت میں ڈھل جاتا ہے اور تقریباً نصف حصہ عورت کی صورت میں۔ اسی تقسیم کی بدولت انسانی تہذیب ہزاروں سال سے قائم ہے۔ یہ تبدیلی اور پھر منظم اور متناسب تبدیلی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک قادر مطلق خدا کی کارفرمائی مانی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر خدا کی تخلیق پر غور کرے تو اس کو ایسا لگے گا جیسے ہر چیز میں خدا کا جلوہ ہو۔ ہر چیز سے خدا جھانک رہا ہو۔

الروم 30:20

موجودہ دنیا کا ایک عجیب وغریب کرشمہ ایک چیز کا دوسری چیز میں مبدل ہونا ہے۔ یہاں غیر اضافہ پذیر مادہ اضافہ پذیر مادہ میں تبدیل ہورہاہے۔ یہاں بے جان مٹی (بالفاظ دیگر ارضی اجزاء) تبدیل ہو کر چلنے اور بولنے والے انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ سب کچھ حد درجہ بامعنی طورپر ہورہاہے۔ مثال کے طورپر ’’مٹی‘‘ جب تبدیل ہو کر انسان بنتی ہے تو اس کا تقریباً نصف حصہ مرد کی صورت میں ڈھل جاتا ہے اور تقریباً نصف حصہ عورت کی صورت میں۔ اسی تقسیم کی بدولت انسانی تہذیب ہزاروں سال سے قائم ہے۔ یہ تبدیلی اور پھر منظم اور متناسب تبدیلی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک قادر مطلق خدا کی کارفرمائی مانی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر خدا کی تخلیق پر غور کرے تو اس کو ایسا لگے گا جیسے ہر چیز میں خدا کا جلوہ ہو۔ ہر چیز سے خدا جھانک رہا ہو۔

الروم 30:21

موجودہ دنیا کا ایک عجیب وغریب کرشمہ ایک چیز کا دوسری چیز میں مبدل ہونا ہے۔ یہاں غیر اضافہ پذیر مادہ اضافہ پذیر مادہ میں تبدیل ہورہاہے۔ یہاں بے جان مٹی (بالفاظ دیگر ارضی اجزاء) تبدیل ہو کر چلنے اور بولنے والے انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ سب کچھ حد درجہ بامعنی طورپر ہورہاہے۔ مثال کے طورپر ’’مٹی‘‘ جب تبدیل ہو کر انسان بنتی ہے تو اس کا تقریباً نصف حصہ مرد کی صورت میں ڈھل جاتا ہے اور تقریباً نصف حصہ عورت کی صورت میں۔ اسی تقسیم کی بدولت انسانی تہذیب ہزاروں سال سے قائم ہے۔ یہ تبدیلی اور پھر منظم اور متناسب تبدیلی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک قادر مطلق خدا کی کارفرمائی مانی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر خدا کی تخلیق پر غور کرے تو اس کو ایسا لگے گا جیسے ہر چیز میں خدا کا جلوہ ہو۔ ہر چیز سے خدا جھانک رہا ہو۔

الروم 30:22

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی ہے — اس کا عدم سے وجود میںآنا خدا کی قوتِ تخلیق کو بتاتا ہے۔ اس کے اندر بے شمار تنوع خدا کی قدرت کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ تمام چیزوں میں حد درجہ معنویت خدا کی صفتِ رحمت کا آئینہ ہے۔ بجلی جیسی تباہ کن چیزوں کی موجودگی خدا کی صفت انتقام کا تعارف ہے۔ زمین کا خشک ہوجانے کے بعد دوبارہ ہرا بھرا ہوجانا تخلیق ثانی کے امکان کو بتارہاہے۔ یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں صرف ان لوگوں کےلیے ہیں جو کائنات کی خاموش پکار پر کان لگائیں۔ جو اپنی عقل اور اپنے علم کو صحیح رخ پر استعمال کریں۔

الروم 30:23

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی ہے — اس کا عدم سے وجود میںآنا خدا کی قوتِ تخلیق کو بتاتا ہے۔ اس کے اندر بے شمار تنوع خدا کی قدرت کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ تمام چیزوں میں حد درجہ معنویت خدا کی صفتِ رحمت کا آئینہ ہے۔ بجلی جیسی تباہ کن چیزوں کی موجودگی خدا کی صفت انتقام کا تعارف ہے۔ زمین کا خشک ہوجانے کے بعد دوبارہ ہرا بھرا ہوجانا تخلیق ثانی کے امکان کو بتارہاہے۔ یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں صرف ان لوگوں کےلیے ہیں جو کائنات کی خاموش پکار پر کان لگائیں۔ جو اپنی عقل اور اپنے علم کو صحیح رخ پر استعمال کریں۔

الروم 30:24

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی ہے — اس کا عدم سے وجود میںآنا خدا کی قوتِ تخلیق کو بتاتا ہے۔ اس کے اندر بے شمار تنوع خدا کی قدرت کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ تمام چیزوں میں حد درجہ معنویت خدا کی صفتِ رحمت کا آئینہ ہے۔ بجلی جیسی تباہ کن چیزوں کی موجودگی خدا کی صفت انتقام کا تعارف ہے۔ زمین کا خشک ہوجانے کے بعد دوبارہ ہرا بھرا ہوجانا تخلیق ثانی کے امکان کو بتارہاہے۔ یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں صرف ان لوگوں کےلیے ہیں جو کائنات کی خاموش پکار پر کان لگائیں۔ جو اپنی عقل اور اپنے علم کو صحیح رخ پر استعمال کریں۔

الروم 30:25

اتھاہ خلا میں زمین اور سورج اور سیاروں اور ستاروں کا نظام اس قدر حیرت ناک حد تک نادر واقعہ ہے کہ وہ خود بول رہا ہے کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہے۔ اور کسی چلانے والے کے زور پر چل رہا ہے۔ یہ غیر معمولی مدد اگر ایک لمحہ کےلیے بھی اس سے جدا ہو تو وہ بالکل درہم برہم ہوجائے۔ اس دنیامیں ایک معمولی ہوائی جہاز بھی پائلٹ کا کنٹرول کھونے کے بعد برباد ہوجاتاہے، پھر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کسی کنٹرولر کے کنٹرول کے بغیر کیسے چل سکتا ہے۔ کائنات کا خالق کائنات میں اپنی قدرت کا جو مظاہرہ کررہاہے اس کے لحاظ سے اس کےلیے یہ کام آسان تر ہے کہ وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے۔ تخلیق اول کا جو مظاہرہ کائنات میں ہر آن ہورہا ہے اس کے بعد تخلیق ثانی کو مانناایسا ہی ہے جیسے ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا۔ کائنات میں خدا کی قدرت اور اس کی حکمت کا اظہار اتنی اعلیٰ سطح پر ہور ہا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کارنامہ کو خدا کی طرف منسوب کرنا کوئی مستبعد چیز نہیں۔

الروم 30:26

اتھاہ خلا میں زمین اور سورج اور سیاروں اور ستاروں کا نظام اس قدر حیرت ناک حد تک نادر واقعہ ہے کہ وہ خود بول رہا ہے کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہے۔ اور کسی چلانے والے کے زور پر چل رہا ہے۔ یہ غیر معمولی مدد اگر ایک لمحہ کےلیے بھی اس سے جدا ہو تو وہ بالکل درہم برہم ہوجائے۔ اس دنیامیں ایک معمولی ہوائی جہاز بھی پائلٹ کا کنٹرول کھونے کے بعد برباد ہوجاتاہے، پھر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کسی کنٹرولر کے کنٹرول کے بغیر کیسے چل سکتا ہے۔ کائنات کا خالق کائنات میں اپنی قدرت کا جو مظاہرہ کررہاہے اس کے لحاظ سے اس کےلیے یہ کام آسان تر ہے کہ وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے۔ تخلیق اول کا جو مظاہرہ کائنات میں ہر آن ہورہا ہے اس کے بعد تخلیق ثانی کو مانناایسا ہی ہے جیسے ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا۔ کائنات میں خدا کی قدرت اور اس کی حکمت کا اظہار اتنی اعلیٰ سطح پر ہور ہا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کارنامہ کو خدا کی طرف منسوب کرنا کوئی مستبعد چیز نہیں۔

الروم 30:27

اتھاہ خلا میں زمین اور سورج اور سیاروں اور ستاروں کا نظام اس قدر حیرت ناک حد تک نادر واقعہ ہے کہ وہ خود بول رہا ہے کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہے۔ اور کسی چلانے والے کے زور پر چل رہا ہے۔ یہ غیر معمولی مدد اگر ایک لمحہ کےلیے بھی اس سے جدا ہو تو وہ بالکل درہم برہم ہوجائے۔ اس دنیامیں ایک معمولی ہوائی جہاز بھی پائلٹ کا کنٹرول کھونے کے بعد برباد ہوجاتاہے، پھر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کسی کنٹرولر کے کنٹرول کے بغیر کیسے چل سکتا ہے۔ کائنات کا خالق کائنات میں اپنی قدرت کا جو مظاہرہ کررہاہے اس کے لحاظ سے اس کےلیے یہ کام آسان تر ہے کہ وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے۔ تخلیق اول کا جو مظاہرہ کائنات میں ہر آن ہورہا ہے اس کے بعد تخلیق ثانی کو مانناایسا ہی ہے جیسے ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا۔ کائنات میں خدا کی قدرت اور اس کی حکمت کا اظہار اتنی اعلیٰ سطح پر ہور ہا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کارنامہ کو خدا کی طرف منسوب کرنا کوئی مستبعد چیز نہیں۔

الروم 30:28

ایک مشترک مال یا جائداد ہو تو اس میں اس کے تمام شرکاء کا حق ہوتاہے اور ہر شریک کو دوسرے شریک کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ مگرخدا کا معاملہ اس قسم کا معاملہ نہیں۔ خدا تنہا تمام کائنات کا مالک ہے۔ خداکےلیے صحیح مثال آقا اور غلام کی ہے، نہ کہ شرکاء جائداد کی۔ خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی نسبت ہے جو ایک آقا اور ایک غلام کے درمیان پائی جاتی ہے۔ کوئی شخص اپنے غلام یا نوکر کو اپنے برابر کا درجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح کائنات میں کوئی بھی نہیں ہے جس کو خدا کے ساتھ برابری کی حیثیت حاصل ہو۔ خدا کی طرف صرف آقائی ہے اور بقیہ مخلوقات کی طرف صرف محکومی اور غلامی۔ مخلوقات کا اپنے اپنے تخلیقی نظام کا پابند ہونا بتاتا ہے کہ خدا اور مخلوقات کے درمیان صحیح نسبت آقا اور غلام کی ہے۔ اس کے سوا جو نسبت بھی قائم کی جائے گی اس کی بنیاد محض انسانی مفروضے پر ہوگی، نہ کہ کسی واقعی دلیل پر۔

الروم 30:29

ایک مشترک مال یا جائداد ہو تو اس میں اس کے تمام شرکاء کا حق ہوتاہے اور ہر شریک کو دوسرے شریک کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ مگرخدا کا معاملہ اس قسم کا معاملہ نہیں۔ خدا تنہا تمام کائنات کا مالک ہے۔ خداکےلیے صحیح مثال آقا اور غلام کی ہے، نہ کہ شرکاء جائداد کی۔ خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی نسبت ہے جو ایک آقا اور ایک غلام کے درمیان پائی جاتی ہے۔ کوئی شخص اپنے غلام یا نوکر کو اپنے برابر کا درجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح کائنات میں کوئی بھی نہیں ہے جس کو خدا کے ساتھ برابری کی حیثیت حاصل ہو۔ خدا کی طرف صرف آقائی ہے اور بقیہ مخلوقات کی طرف صرف محکومی اور غلامی۔ مخلوقات کا اپنے اپنے تخلیقی نظام کا پابند ہونا بتاتا ہے کہ خدا اور مخلوقات کے درمیان صحیح نسبت آقا اور غلام کی ہے۔ اس کے سوا جو نسبت بھی قائم کی جائے گی اس کی بنیاد محض انسانی مفروضے پر ہوگی، نہ کہ کسی واقعی دلیل پر۔

الروم 30:30

اصل دین ایک ہے۔ اور وہ ہر پیغمبر پر اپنی کامل شکل میں اترا ہے۔ وہ ہے ایک اللہ کی طرف رجوع، ایک اللہ کا ڈر، ایک اللہ کی پرستاری، ہمہ تن ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی دین فطرت ہے۔ یہ دین ابدی طورپر ہر انسان کی نفسیات میں سمویا ہوا ہے۔ تمام پیغمبروں نے اسی ایک دین کی تعلیم دی۔ مگر ان کے پیروؤں کی بعد کی نسلوں نے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ کئی دین ہمیشہ ان اضافی بحثوں سے بنتا ہے جو بعد کے لوگ پیغمبروں کی ابتدائی تعلیمات میں پیدا کرتے ہیں۔ عقائد میں نو ایجاد موشگافیاں، عبادات میں خود ساختہ مسائل، زمانہ کے تاثرات کے تحت دین کی نئی نئی تعبیریں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بعد کے دور میں ایک دین کو کئی دین بنا دیتی ہیں۔ جب یہ اضافے وجود میں آتے ہیں تو لوگ اصل دین کے بجائے اپنے انھیں اضافوں پرسب سے زیادہ زور دینے لگتے ہیں جن کی بدولت وہ دوسرے گروہ سے جدا ہو کر الگ گروہ بنے ہیں۔ ایک گروہ ایک قسم کے اضافہ پر زور دیتاہے، اور دوسرا گروہ دوسرے قسم کے اضافہ پر۔ اس طرح بالآخر یہ نوبت آتی ہے کہ ایک دین کو ماننے والے عملاً کئی دینی گروہ میں بٹ کر رہ جاتے ہیں۔

الروم 30:31

اصل دین ایک ہے۔ اور وہ ہر پیغمبر پر اپنی کامل شکل میں اترا ہے۔ وہ ہے ایک اللہ کی طرف رجوع، ایک اللہ کا ڈر، ایک اللہ کی پرستاری، ہمہ تن ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی دین فطرت ہے۔ یہ دین ابدی طورپر ہر انسان کی نفسیات میں سمویا ہوا ہے۔ تمام پیغمبروں نے اسی ایک دین کی تعلیم دی۔ مگر ان کے پیروؤں کی بعد کی نسلوں نے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ کئی دین ہمیشہ ان اضافی بحثوں سے بنتا ہے جو بعد کے لوگ پیغمبروں کی ابتدائی تعلیمات میں پیدا کرتے ہیں۔ عقائد میں نو ایجاد موشگافیاں، عبادات میں خود ساختہ مسائل، زمانہ کے تاثرات کے تحت دین کی نئی نئی تعبیریں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بعد کے دور میں ایک دین کو کئی دین بنا دیتی ہیں۔ جب یہ اضافے وجود میں آتے ہیں تو لوگ اصل دین کے بجائے اپنے انھیں اضافوں پرسب سے زیادہ زور دینے لگتے ہیں جن کی بدولت وہ دوسرے گروہ سے جدا ہو کر الگ گروہ بنے ہیں۔ ایک گروہ ایک قسم کے اضافہ پر زور دیتاہے، اور دوسرا گروہ دوسرے قسم کے اضافہ پر۔ اس طرح بالآخر یہ نوبت آتی ہے کہ ایک دین کو ماننے والے عملاً کئی دینی گروہ میں بٹ کر رہ جاتے ہیں۔

الروم 30:32

اصل دین ایک ہے۔ اور وہ ہر پیغمبر پر اپنی کامل شکل میں اترا ہے۔ وہ ہے ایک اللہ کی طرف رجوع، ایک اللہ کا ڈر، ایک اللہ کی پرستاری، ہمہ تن ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی دین فطرت ہے۔ یہ دین ابدی طورپر ہر انسان کی نفسیات میں سمویا ہوا ہے۔ تمام پیغمبروں نے اسی ایک دین کی تعلیم دی۔ مگر ان کے پیروؤں کی بعد کی نسلوں نے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ کئی دین ہمیشہ ان اضافی بحثوں سے بنتا ہے جو بعد کے لوگ پیغمبروں کی ابتدائی تعلیمات میں پیدا کرتے ہیں۔ عقائد میں نو ایجاد موشگافیاں، عبادات میں خود ساختہ مسائل، زمانہ کے تاثرات کے تحت دین کی نئی نئی تعبیریں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بعد کے دور میں ایک دین کو کئی دین بنا دیتی ہیں۔ جب یہ اضافے وجود میں آتے ہیں تو لوگ اصل دین کے بجائے اپنے انھیں اضافوں پرسب سے زیادہ زور دینے لگتے ہیں جن کی بدولت وہ دوسرے گروہ سے جدا ہو کر الگ گروہ بنے ہیں۔ ایک گروہ ایک قسم کے اضافہ پر زور دیتاہے، اور دوسرا گروہ دوسرے قسم کے اضافہ پر۔ اس طرح بالآخر یہ نوبت آتی ہے کہ ایک دین کو ماننے والے عملاً کئی دینی گروہ میں بٹ کر رہ جاتے ہیں۔

الروم 30:33

عام حالات میں آدمی اپنے کو بااختیار پاتاہے۔ اس ليے عام حالات میں وہ مصنوعی طورپر سرکش بنا رہتاہے۔ مگر جب نازک حالات اس کو اس کی بے بسی کا تجربہ کراتے ہیں، اس وقت اس کے ذہن کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وہ اصلی انسان (man cut to size) بن جاتا ہے جو کہ وہ حقیقۃً ہے۔ اس وقت وہ اپنی عاجزانہ حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کی سطح پر توحید الٰہ کا ثبوت ہے۔ اس طرح انسان کو اس کے ذاتی تجربہ میں حقیقت کا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ مگر آدمی اتنا نادان ہے کہ جیسے ہی حالات بدلے وہ دوبارہ پہلے کی طرح غفلت اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتاہے۔

الروم 30:34

عام حالات میں آدمی اپنے کو بااختیار پاتاہے۔ اس ليے عام حالات میں وہ مصنوعی طورپر سرکش بنا رہتاہے۔ مگر جب نازک حالات اس کو اس کی بے بسی کا تجربہ کراتے ہیں، اس وقت اس کے ذہن کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وہ اصلی انسان (man cut to size) بن جاتا ہے جو کہ وہ حقیقۃً ہے۔ اس وقت وہ اپنی عاجزانہ حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کی سطح پر توحید الٰہ کا ثبوت ہے۔ اس طرح انسان کو اس کے ذاتی تجربہ میں حقیقت کا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ مگر آدمی اتنا نادان ہے کہ جیسے ہی حالات بدلے وہ دوبارہ پہلے کی طرح غفلت اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتاہے۔

الروم 30:35

عام حالات میں آدمی اپنے کو بااختیار پاتاہے۔ اس ليے عام حالات میں وہ مصنوعی طورپر سرکش بنا رہتاہے۔ مگر جب نازک حالات اس کو اس کی بے بسی کا تجربہ کراتے ہیں، اس وقت اس کے ذہن کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وہ اصلی انسان (man cut to size) بن جاتا ہے جو کہ وہ حقیقۃً ہے۔ اس وقت وہ اپنی عاجزانہ حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کی سطح پر توحید الٰہ کا ثبوت ہے۔ اس طرح انسان کو اس کے ذاتی تجربہ میں حقیقت کا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ مگر آدمی اتنا نادان ہے کہ جیسے ہی حالات بدلے وہ دوبارہ پہلے کی طرح غفلت اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتاہے۔

الروم 30:36

مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا ہے اور جب اس کی قوتیں جواب دے جائیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتاہے۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ یہ گویا فطرت کی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ پہلا ذہن حقیقی ذہن ہے اور دوسرا ذہن غیر حقیقی ذہن۔ مومن کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو رضائے الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔

الروم 30:37

مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا ہے اور جب اس کی قوتیں جواب دے جائیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتاہے۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ یہ گویا فطرت کی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ پہلا ذہن حقیقی ذہن ہے اور دوسرا ذہن غیر حقیقی ذہن۔ مومن کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو رضائے الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔

الروم 30:38

مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا ہے اور جب اس کی قوتیں جواب دے جائیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتاہے۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ یہ گویا فطرت کی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ پہلا ذہن حقیقی ذہن ہے اور دوسرا ذہن غیر حقیقی ذہن۔ مومن کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو رضائے الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔

الروم 30:39

مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا ہے اور جب اس کی قوتیں جواب دے جائیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتاہے۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ یہ گویا فطرت کی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ پہلا ذہن حقیقی ذہن ہے اور دوسرا ذہن غیر حقیقی ذہن۔ مومن کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو رضائے الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔

الروم 30:40

ایک انسان کا پیدا ہونا، اس کو صبح وشام کا رزق ملنا، اس پر موت واقع ہونا، یہ واقعات اتنے عظیم ہیں کہ ان کے ظہور کےلیے کائناتی قوت درکار ہے۔ اور خالق کائنات کے سوا کوئی بھی مفروضہ ہستی ایسی نہیں جو اس قسم کی کائناتی قوت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اپنی دلیل آپ ہے اور شرک اپنی تردید آپ۔ اگر انسان ایک خدا کو اپنا معبود بنائے تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتاہے۔ اس سے انسانوں کے درمیان اتحادکی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب دوسرے دوسرے معبود بنائے جانے لگیں تو بے شمار چیزیں مرکز توجہ بن جاتی ہیں۔ اس سے افراد اور قوموں میں عناد اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جاتے ہیں۔ انسان کی بے راہ روی کا مستقل انجام موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ مگر انسان کی بے راہ روی کا وقتی انجام اسی دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہو۔

الروم 30:41

ایک انسان کا پیدا ہونا، اس کو صبح وشام کا رزق ملنا، اس پر موت واقع ہونا، یہ واقعات اتنے عظیم ہیں کہ ان کے ظہور کےلیے کائناتی قوت درکار ہے۔ اور خالق کائنات کے سوا کوئی بھی مفروضہ ہستی ایسی نہیں جو اس قسم کی کائناتی قوت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اپنی دلیل آپ ہے اور شرک اپنی تردید آپ۔ اگر انسان ایک خدا کو اپنا معبود بنائے تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتاہے۔ اس سے انسانوں کے درمیان اتحادکی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب دوسرے دوسرے معبود بنائے جانے لگیں تو بے شمار چیزیں مرکز توجہ بن جاتی ہیں۔ اس سے افراد اور قوموں میں عناد اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جاتے ہیں۔ انسان کی بے راہ روی کا مستقل انجام موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ مگر انسان کی بے راہ روی کا وقتی انجام اسی دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہو۔

الروم 30:42

ایک انسان کا پیدا ہونا، اس کو صبح وشام کا رزق ملنا، اس پر موت واقع ہونا، یہ واقعات اتنے عظیم ہیں کہ ان کے ظہور کےلیے کائناتی قوت درکار ہے۔ اور خالق کائنات کے سوا کوئی بھی مفروضہ ہستی ایسی نہیں جو اس قسم کی کائناتی قوت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اپنی دلیل آپ ہے اور شرک اپنی تردید آپ۔ اگر انسان ایک خدا کو اپنا معبود بنائے تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتاہے۔ اس سے انسانوں کے درمیان اتحادکی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب دوسرے دوسرے معبود بنائے جانے لگیں تو بے شمار چیزیں مرکز توجہ بن جاتی ہیں۔ اس سے افراد اور قوموں میں عناد اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جاتے ہیں۔ انسان کی بے راہ روی کا مستقل انجام موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ مگر انسان کی بے راہ روی کا وقتی انجام اسی دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہو۔

الروم 30:43

موجودہ دنیا میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دونوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ کردے۔ اس دن خدا کا انعام ان لوگوں کےلیے ہوگا جو موجودہ دنیا میں صرف خداوالے بن کر رہے۔ اور جن لوگوں کی دلچسپیاں غیر خدا کے ساتھ وابستہ رہیں وہ وہاں ابدی طور پر خدا کی رحمتوں سے محروم کر دئے جائیں گے۔

الروم 30:44

موجودہ دنیا میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دونوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ کردے۔ اس دن خدا کا انعام ان لوگوں کےلیے ہوگا جو موجودہ دنیا میں صرف خداوالے بن کر رہے۔ اور جن لوگوں کی دلچسپیاں غیر خدا کے ساتھ وابستہ رہیں وہ وہاں ابدی طور پر خدا کی رحمتوں سے محروم کر دئے جائیں گے۔

الروم 30:45

موجودہ دنیا میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دونوں قسم کے لوگوں کو الگ الگ کردے۔ اس دن خدا کا انعام ان لوگوں کےلیے ہوگا جو موجودہ دنیا میں صرف خداوالے بن کر رہے۔ اور جن لوگوں کی دلچسپیاں غیر خدا کے ساتھ وابستہ رہیں وہ وہاں ابدی طور پر خدا کی رحمتوں سے محروم کر دئے جائیں گے۔

الروم 30:46

بارش سے پہلے ٹھنڈی ہواؤں کا آنا اس بات کا اعلان هے کہ اس دنیا کا خدا رحمتوں والا خدا ہے۔ سمندری جہاز رانی تمدن کےلیے انتہائی اہم ہے۔ مگر سمندری جہازرانی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ ہوا ایک خاص حد کے اندر رہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہوائی سفر کا بھی بہت گہرا تعلق اس انتظام سے ہے کہ خدانے زمین کی سطح کے اوپر ہوا کا دبیز غلاف قائم کر رکھا ہے۔ یہ سارا اہتمام اس ليے کیاگیا ہے تا کہ انسان خدا کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔ خدا کے پیغمبر انھیں حقیقتوں کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کےلیے آئے۔ پھر کچھ لوگوں نے ان کو مانا، اور کچھ لوگوں نے ان کا انکار کردیا۔ اس وقت خدا نے ماننے والوں کی مدد کی اور انکار کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ دونوں قسم کے انسانوں کے ساتھ آخرت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آئے گا۔

الروم 30:47

بارش سے پہلے ٹھنڈی ہواؤں کا آنا اس بات کا اعلان هے کہ اس دنیا کا خدا رحمتوں والا خدا ہے۔ سمندری جہاز رانی تمدن کےلیے انتہائی اہم ہے۔ مگر سمندری جہازرانی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ ہوا ایک خاص حد کے اندر رہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہوائی سفر کا بھی بہت گہرا تعلق اس انتظام سے ہے کہ خدانے زمین کی سطح کے اوپر ہوا کا دبیز غلاف قائم کر رکھا ہے۔ یہ سارا اہتمام اس ليے کیاگیا ہے تا کہ انسان خدا کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔ خدا کے پیغمبر انھیں حقیقتوں کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کےلیے آئے۔ پھر کچھ لوگوں نے ان کو مانا، اور کچھ لوگوں نے ان کا انکار کردیا۔ اس وقت خدا نے ماننے والوں کی مدد کی اور انکار کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ دونوں قسم کے انسانوں کے ساتھ آخرت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آئے گا۔

الروم 30:48

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

الروم 30:49

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

الروم 30:50

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

الروم 30:51

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

الروم 30:52

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

الروم 30:53

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔ خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔

الروم 30:54

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔ دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔

الروم 30:55

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔ دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔

الروم 30:56

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔ دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔

الروم 30:57

انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔ دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔

الروم 30:58

مکہ میں لوگ کہتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو کوئی خارق عادت کرشمہ دکھاؤ۔ مگر ان کے اس مطالبہ کو پورا نہیں کیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خارق عادت کرشمہ اصل مقصد کے اعتبار سے بے فائدہ تھا۔ اسلام کا مقصد تو یہ تھا کہ لوگوں کے عمل میں تبدیلی ہو اور عمل میں تبدیلی فکر کی تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ خارق عادت کرشمہ دکھا کر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دینے سے۔ چنانچہ قرآن کا سارا زور استدلال پر ہے۔ وہ دلیل کے ذریعہ انسان کے ذہن کو بدلنا چاہتا ہے۔وہ آدمی کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ واقعات کو صحیح رخ سے دیکھے اور معاملات پر صحیح رائے قائم کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ صحت فکر ہے۔ اگر آدمی کے اندر صحیح فکر نہ جاگا ہو تو کرشموں اور معجزوں کو دیکھ کر دوبارہ وہ کوئی ناسمجھی کا لفظ بول دے گا جس طرح وہ اس سے پہلے ناسمجھی کے الفاظ بولتا رہا ہے۔ لاعلمی کی بنا پر مہر لگنا صحت فکر نہ ہونے کی وجہ سے باتوں کو نہ سمجھنا ہے۔ آدمی کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ چیزوں کو ان کے صحیح رخ سے نہیں دیکھ پاتا۔ اس بنا پر وہ چیزوں سے اپنے ليے صحیح رہنمائی بھی حاصل نہیں کرپاتا۔جو اللہ کا بندہ بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے اس کو ہمیشہ لوگوں کی طرف سے حوصلہ شکن رد عمل کا سامنا پیش آتا ہے۔ داعی تمام تر آخرت کی بات کرتا ہے جب کہ لوگوں کا ذہن دنیا کے مسائل میں الجھا ہوا ہوتاہے۔ اس بنا پر لوگ داعی کی تحقیر کرتے ہیں۔ وہ اس کو ہر لحاظ سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ماحول میں داعی کی بات بے وزن معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہ صورت حال مدعو کے ساتھ داعی کو بھی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے وقت میں داعی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ اگر حالات کے دباؤ کے تحت اس نے اپنے یقین کو کھو دیا تو وہ ایسی بات بولنے لگے گا جو عام لوگوں کو شاید اہم معلوم ہو، مگر اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ غیر اہم بات اور کوئی نہ ہوگی۔

الروم 30:59

مکہ میں لوگ کہتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو کوئی خارق عادت کرشمہ دکھاؤ۔ مگر ان کے اس مطالبہ کو پورا نہیں کیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خارق عادت کرشمہ اصل مقصد کے اعتبار سے بے فائدہ تھا۔ اسلام کا مقصد تو یہ تھا کہ لوگوں کے عمل میں تبدیلی ہو اور عمل میں تبدیلی فکر کی تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ خارق عادت کرشمہ دکھا کر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دینے سے۔ چنانچہ قرآن کا سارا زور استدلال پر ہے۔ وہ دلیل کے ذریعہ انسان کے ذہن کو بدلنا چاہتا ہے۔وہ آدمی کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ واقعات کو صحیح رخ سے دیکھے اور معاملات پر صحیح رائے قائم کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ صحت فکر ہے۔ اگر آدمی کے اندر صحیح فکر نہ جاگا ہو تو کرشموں اور معجزوں کو دیکھ کر دوبارہ وہ کوئی ناسمجھی کا لفظ بول دے گا جس طرح وہ اس سے پہلے ناسمجھی کے الفاظ بولتا رہا ہے۔ لاعلمی کی بنا پر مہر لگنا صحت فکر نہ ہونے کی وجہ سے باتوں کو نہ سمجھنا ہے۔ آدمی کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ چیزوں کو ان کے صحیح رخ سے نہیں دیکھ پاتا۔ اس بنا پر وہ چیزوں سے اپنے ليے صحیح رہنمائی بھی حاصل نہیں کرپاتا۔جو اللہ کا بندہ بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے اس کو ہمیشہ لوگوں کی طرف سے حوصلہ شکن رد عمل کا سامنا پیش آتا ہے۔ داعی تمام تر آخرت کی بات کرتا ہے جب کہ لوگوں کا ذہن دنیا کے مسائل میں الجھا ہوا ہوتاہے۔ اس بنا پر لوگ داعی کی تحقیر کرتے ہیں۔ وہ اس کو ہر لحاظ سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ماحول میں داعی کی بات بے وزن معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہ صورت حال مدعو کے ساتھ داعی کو بھی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے وقت میں داعی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ اگر حالات کے دباؤ کے تحت اس نے اپنے یقین کو کھو دیا تو وہ ایسی بات بولنے لگے گا جو عام لوگوں کو شاید اہم معلوم ہو، مگر اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ غیر اہم بات اور کوئی نہ ہوگی۔

الروم 30:60

مکہ میں لوگ کہتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو کوئی خارق عادت کرشمہ دکھاؤ۔ مگر ان کے اس مطالبہ کو پورا نہیں کیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خارق عادت کرشمہ اصل مقصد کے اعتبار سے بے فائدہ تھا۔ اسلام کا مقصد تو یہ تھا کہ لوگوں کے عمل میں تبدیلی ہو اور عمل میں تبدیلی فکر کی تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ خارق عادت کرشمہ دکھا کر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دینے سے۔ چنانچہ قرآن کا سارا زور استدلال پر ہے۔ وہ دلیل کے ذریعہ انسان کے ذہن کو بدلنا چاہتا ہے۔وہ آدمی کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ واقعات کو صحیح رخ سے دیکھے اور معاملات پر صحیح رائے قائم کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ صحت فکر ہے۔ اگر آدمی کے اندر صحیح فکر نہ جاگا ہو تو کرشموں اور معجزوں کو دیکھ کر دوبارہ وہ کوئی ناسمجھی کا لفظ بول دے گا جس طرح وہ اس سے پہلے ناسمجھی کے الفاظ بولتا رہا ہے۔ لاعلمی کی بنا پر مہر لگنا صحت فکر نہ ہونے کی وجہ سے باتوں کو نہ سمجھنا ہے۔ آدمی کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ چیزوں کو ان کے صحیح رخ سے نہیں دیکھ پاتا۔ اس بنا پر وہ چیزوں سے اپنے ليے صحیح رہنمائی بھی حاصل نہیں کرپاتا۔جو اللہ کا بندہ بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے اس کو ہمیشہ لوگوں کی طرف سے حوصلہ شکن رد عمل کا سامنا پیش آتا ہے۔ داعی تمام تر آخرت کی بات کرتا ہے جب کہ لوگوں کا ذہن دنیا کے مسائل میں الجھا ہوا ہوتاہے۔ اس بنا پر لوگ داعی کی تحقیر کرتے ہیں۔ وہ اس کو ہر لحاظ سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ماحول میں داعی کی بات بے وزن معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہ صورت حال مدعو کے ساتھ داعی کو بھی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے وقت میں داعی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ اگر حالات کے دباؤ کے تحت اس نے اپنے یقین کو کھو دیا تو وہ ایسی بات بولنے لگے گا جو عام لوگوں کو شاید اہم معلوم ہو، مگر اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ غیر اہم بات اور کوئی نہ ہوگی۔

لقمان 31:1

احسان کا اصل مفہوم ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ محسن کے معنی ہیں اچھی طرح کرنے والا۔ اس دنیا میں کسی کام کے اچھے ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ حقیقت ِ واقعہ کے مطابق ہو۔ اس اعتبار سے محسن وہ شخص ہے جو حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے، جس کاعمل وہی ہو جو ہونا چاہيے اور وہ نہ ہو جو نہیں ہونا چاہيے۔ جو لوگ اپنے آپ کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ڈھالنے کا مزاج رکھیں وہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے صداقت آتی ہے تو وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔ وہ فوراً ہی اس کے عملی تقاضے پورے کرنے لگتے ہیں— وہ نمازی بن جاتے ہیں جو خدا کا حق ادا کرنے کی ایک علامت ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو گویا مال کے دائرے میں بندوں کاحق ادا کرنا ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامیابی کا فیصلہ آخر کار جہاں ہونا چاہيے وہ آخرت ہی ہے۔

لقمان 31:2

احسان کا اصل مفہوم ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ محسن کے معنی ہیں اچھی طرح کرنے والا۔ اس دنیا میں کسی کام کے اچھے ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ حقیقت ِ واقعہ کے مطابق ہو۔ اس اعتبار سے محسن وہ شخص ہے جو حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے، جس کاعمل وہی ہو جو ہونا چاہيے اور وہ نہ ہو جو نہیں ہونا چاہيے۔ جو لوگ اپنے آپ کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ڈھالنے کا مزاج رکھیں وہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے صداقت آتی ہے تو وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔ وہ فوراً ہی اس کے عملی تقاضے پورے کرنے لگتے ہیں— وہ نمازی بن جاتے ہیں جو خدا کا حق ادا کرنے کی ایک علامت ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو گویا مال کے دائرے میں بندوں کاحق ادا کرنا ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامیابی کا فیصلہ آخر کار جہاں ہونا چاہيے وہ آخرت ہی ہے۔

لقمان 31:3

احسان کا اصل مفہوم ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ محسن کے معنی ہیں اچھی طرح کرنے والا۔ اس دنیا میں کسی کام کے اچھے ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ حقیقت ِ واقعہ کے مطابق ہو۔ اس اعتبار سے محسن وہ شخص ہے جو حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے، جس کاعمل وہی ہو جو ہونا چاہيے اور وہ نہ ہو جو نہیں ہونا چاہيے۔ جو لوگ اپنے آپ کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ڈھالنے کا مزاج رکھیں وہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے صداقت آتی ہے تو وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔ وہ فوراً ہی اس کے عملی تقاضے پورے کرنے لگتے ہیں— وہ نمازی بن جاتے ہیں جو خدا کا حق ادا کرنے کی ایک علامت ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو گویا مال کے دائرے میں بندوں کاحق ادا کرنا ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامیابی کا فیصلہ آخر کار جہاں ہونا چاہيے وہ آخرت ہی ہے۔

لقمان 31:4

احسان کا اصل مفہوم ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ محسن کے معنی ہیں اچھی طرح کرنے والا۔ اس دنیا میں کسی کام کے اچھے ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ حقیقت ِ واقعہ کے مطابق ہو۔ اس اعتبار سے محسن وہ شخص ہے جو حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے، جس کاعمل وہی ہو جو ہونا چاہيے اور وہ نہ ہو جو نہیں ہونا چاہيے۔ جو لوگ اپنے آپ کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ڈھالنے کا مزاج رکھیں وہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے صداقت آتی ہے تو وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔ وہ فوراً ہی اس کے عملی تقاضے پورے کرنے لگتے ہیں— وہ نمازی بن جاتے ہیں جو خدا کا حق ادا کرنے کی ایک علامت ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو گویا مال کے دائرے میں بندوں کاحق ادا کرنا ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامیابی کا فیصلہ آخر کار جہاں ہونا چاہيے وہ آخرت ہی ہے۔

لقمان 31:5

احسان کا اصل مفہوم ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ محسن کے معنی ہیں اچھی طرح کرنے والا۔ اس دنیا میں کسی کام کے اچھے ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ حقیقت ِ واقعہ کے مطابق ہو۔ اس اعتبار سے محسن وہ شخص ہے جو حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے، جس کاعمل وہی ہو جو ہونا چاہيے اور وہ نہ ہو جو نہیں ہونا چاہيے۔ جو لوگ اپنے آپ کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ڈھالنے کا مزاج رکھیں وہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے صداقت آتی ہے تو وہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔ وہ فوراً ہی اس کے عملی تقاضے پورے کرنے لگتے ہیں— وہ نمازی بن جاتے ہیں جو خدا کا حق ادا کرنے کی ایک علامت ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو گویا مال کے دائرے میں بندوں کاحق ادا کرنا ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامیابی کا فیصلہ آخر کار جہاں ہونا چاہيے وہ آخرت ہی ہے۔

لقمان 31:6

باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔ سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔

لقمان 31:7

باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔ سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔

لقمان 31:8

باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔ سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔

لقمان 31:9

باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔ سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔

لقمان 31:10

کائنات لامتناہی خلا ہے۔ اس کے اندر بے شمار نہایت بڑے بڑے اجرام مسلسل گردش کررہے ہیں۔ ان اجرام کا اس طرح خلا میں گردش کرتے ہوئے قائم رہنا دہشت ناک حد تک عظیم واقعہ ہے۔ پھر ہماری زمین موجودہ کائنات میں ایک انتہائی استثنائی کرہ ہے جس میں اَن گنت انتظامات نے اس کے اوپر انسانی زندگی کو ممکن بنا دیا ہے۔ انھیں انتظامات میں سے چند یہ ہیں — زمین کی سطح پر پہاڑوں کے ابھار سے توازن قائم ہونا۔ پھر پانی اور زندگی اور نباتات جیسی عجیب چیزوں کی زمین پر افراط کے ساتھ موجودگی۔ ایک خدائے برتر کے سوا کوئی نہیں جو اس عظیم نظام کو قائم رکھ سکے۔ پھر انسان کےلیے کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز پرستش بنائے۔

لقمان 31:11

کائنات لامتناہی خلا ہے۔ اس کے اندر بے شمار نہایت بڑے بڑے اجرام مسلسل گردش کررہے ہیں۔ ان اجرام کا اس طرح خلا میں گردش کرتے ہوئے قائم رہنا دہشت ناک حد تک عظیم واقعہ ہے۔ پھر ہماری زمین موجودہ کائنات میں ایک انتہائی استثنائی کرہ ہے جس میں اَن گنت انتظامات نے اس کے اوپر انسانی زندگی کو ممکن بنا دیا ہے۔ انھیں انتظامات میں سے چند یہ ہیں — زمین کی سطح پر پہاڑوں کے ابھار سے توازن قائم ہونا۔ پھر پانی اور زندگی اور نباتات جیسی عجیب چیزوں کی زمین پر افراط کے ساتھ موجودگی۔ ایک خدائے برتر کے سوا کوئی نہیں جو اس عظیم نظام کو قائم رکھ سکے۔ پھر انسان کےلیے کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز پرستش بنائے۔

لقمان 31:12

لقمان حکیم کی تاریخی حیثیت کے بارے میں ابھی تک قطعی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔ تاہم وہ ایک دانش مند اور خدا پرست آدمی تھے۔ قرآن بتاتا ہے کہ لقمان حکیم خدا کے ایک شکر گزار بندے تھے۔ اور اپنے بیٹے کو انھوں نے شرک سے بچنے کی تلقین کی۔ یہ دونوںباتیں ایک ہیں۔ توحید اللہ کو اپنا محسن سمجھنے کے احساس سے ابھرتی ہے۔ اور شرک یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا محسن سمجھ لے اور اس کےلیے اپنے احسان مندی کے جذبات نچھاور کرنے لگے۔ جب دینے والا صرف ایک ہے تو شکر گزاری بھی صرف ایک ہی کی ہونی چاہيے۔

لقمان 31:13

لقمان حکیم کی تاریخی حیثیت کے بارے میں ابھی تک قطعی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔ تاہم وہ ایک دانش مند اور خدا پرست آدمی تھے۔ قرآن بتاتا ہے کہ لقمان حکیم خدا کے ایک شکر گزار بندے تھے۔ اور اپنے بیٹے کو انھوں نے شرک سے بچنے کی تلقین کی۔ یہ دونوںباتیں ایک ہیں۔ توحید اللہ کو اپنا محسن سمجھنے کے احساس سے ابھرتی ہے۔ اور شرک یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا محسن سمجھ لے اور اس کےلیے اپنے احسان مندی کے جذبات نچھاور کرنے لگے۔ جب دینے والا صرف ایک ہے تو شکر گزاری بھی صرف ایک ہی کی ہونی چاہيے۔

لقمان 31:14

خدا کے بعدانسان کے اوپر سب سے زیادہ حق ماں باپ کا ہے۔ البتہ اگر ماں باپ کا حکم خدا کے حکم سے ٹکرائے تو اس وقت خدا کا حکم لینا ہے اور ماں باپ کا حکم چھوڑ دینا ہے۔ تاہم اس وقت بھی یہ ضروری ہے کہ ماں باپ کی خدمت کو بدستور جاری رکھا جائے۔ دو مختلف تقاضوں میں یہ توازن حکمت اسلام کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ اور اسی اعلیٰ حکمت میں تمام اعلیٰ کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔

لقمان 31:15

خدا کے بعدانسان کے اوپر سب سے زیادہ حق ماں باپ کا ہے۔ البتہ اگر ماں باپ کا حکم خدا کے حکم سے ٹکرائے تو اس وقت خدا کا حکم لینا ہے اور ماں باپ کا حکم چھوڑ دینا ہے۔ تاہم اس وقت بھی یہ ضروری ہے کہ ماں باپ کی خدمت کو بدستور جاری رکھا جائے۔ دو مختلف تقاضوں میں یہ توازن حکمت اسلام کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ اور اسی اعلیٰ حکمت میں تمام اعلیٰ کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔

لقمان 31:16

موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی نے ثابت کیا ہے کہ آڑ اور فاصلہ اضافی الفاظ ہیں۔ ايکسرے شعائیں جسم کے اندر تک دیکھ لیتی ہیں۔ دور بین اور خورد بین کے ذریعہ وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ امکان جس کا تجربہ ہم کو محدود سطح پر ہورہا ہے یہی خدا کے یہاں لامحدود طور پر موجود ہے۔ دین پر خود عمل کرنا یا دوسروں کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کےلیے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مند کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔

لقمان 31:17

موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی نے ثابت کیا ہے کہ آڑ اور فاصلہ اضافی الفاظ ہیں۔ ايکسرے شعائیں جسم کے اندر تک دیکھ لیتی ہیں۔ دور بین اور خورد بین کے ذریعہ وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ امکان جس کا تجربہ ہم کو محدود سطح پر ہورہا ہے یہی خدا کے یہاں لامحدود طور پر موجود ہے۔ دین پر خود عمل کرنا یا دوسروں کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کےلیے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مند کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔

لقمان 31:18

موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی نے ثابت کیا ہے کہ آڑ اور فاصلہ اضافی الفاظ ہیں۔ ايکسرے شعائیں جسم کے اندر تک دیکھ لیتی ہیں۔ دور بین اور خورد بین کے ذریعہ وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ امکان جس کا تجربہ ہم کو محدود سطح پر ہورہا ہے یہی خدا کے یہاں لامحدود طور پر موجود ہے۔ دین پر خود عمل کرنا یا دوسروں کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کےلیے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مند کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔

لقمان 31:19

موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی نے ثابت کیا ہے کہ آڑ اور فاصلہ اضافی الفاظ ہیں۔ ايکسرے شعائیں جسم کے اندر تک دیکھ لیتی ہیں۔ دور بین اور خورد بین کے ذریعہ وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ امکان جس کا تجربہ ہم کو محدود سطح پر ہورہا ہے یہی خدا کے یہاں لامحدود طور پر موجود ہے۔ دین پر خود عمل کرنا یا دوسروں کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کےلیے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مند کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔

لقمان 31:20

موجودہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ وہ انسان کےلیے کامل طورپر سازگار ہے۔ نیز یہ کہ موجودہ دنیا میں ہر وہ چیز افراط کے ساتھ موجود ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس کے باوجود انسان کا یہ حال ہے کہ وہ خالق کائنات کا شکر نہیں کرتا۔ وہ بے معنی بحثیں پیدا کرکے چاہتا ہے کہ لوگوں کی توجہ خدا کی طرف سے پھیر دے۔ انسان کے بے راہ ہونے کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتا۔ وہ رواج عام سے ہٹ کر نہیں سوچتا۔ آدمی اگر رواج سے اوپر اٹھ جائے تو خدا کی دی ہوئی عقل خود اس کو صحیح سمت میں رہنمائی کےلیے کافی ہوجائے۔

لقمان 31:21

موجودہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ وہ انسان کےلیے کامل طورپر سازگار ہے۔ نیز یہ کہ موجودہ دنیا میں ہر وہ چیز افراط کے ساتھ موجود ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس کے باوجود انسان کا یہ حال ہے کہ وہ خالق کائنات کا شکر نہیں کرتا۔ وہ بے معنی بحثیں پیدا کرکے چاہتا ہے کہ لوگوں کی توجہ خدا کی طرف سے پھیر دے۔ انسان کے بے راہ ہونے کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتا۔ وہ رواج عام سے ہٹ کر نہیں سوچتا۔ آدمی اگر رواج سے اوپر اٹھ جائے تو خدا کی دی ہوئی عقل خود اس کو صحیح سمت میں رہنمائی کےلیے کافی ہوجائے۔

لقمان 31:22

ہر آدمی کا ایک رخ ہوتا ہے جدھر وہ اپنے پورے فکری اور عملی وجود کے ساتھ متوجہ رہتا ہے۔ مومن وہ ہے جس کا رخ پوری طرح خدا کی طرف ہو جائے۔ مومنانہ زندگی دوسرے لفظوں میں خدا رخی (God-oriented) زندگی کا نام ہے۔ اور غیر مومنانہ زندگی غیر خدا رخی زندگی کا۔ جس شخص نے خدا کی طرف رخ کیا اس نے صحیح منزل کی طرف رخ کیا۔ وہ یقیناً اچھے انجام کو پہنچے گا، اس کے برعکس، جو شخص خدا سے غافل ہو کر کسی اور طرف متوجہ ہوجائے وہ بے رخ اور بے منزل ہوگیا۔ اس کوآج کی وقتی زندگی میںکچھ فائدے ہوسکتے ہیں۔ مگر آخرت کی مستقل زندگی میںاس کےلیے عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔

لقمان 31:23

ہر آدمی کا ایک رخ ہوتا ہے جدھر وہ اپنے پورے فکری اور عملی وجود کے ساتھ متوجہ رہتا ہے۔ مومن وہ ہے جس کا رخ پوری طرح خدا کی طرف ہو جائے۔ مومنانہ زندگی دوسرے لفظوں میں خدا رخی (God-oriented) زندگی کا نام ہے۔ اور غیر مومنانہ زندگی غیر خدا رخی زندگی کا۔ جس شخص نے خدا کی طرف رخ کیا اس نے صحیح منزل کی طرف رخ کیا۔ وہ یقیناً اچھے انجام کو پہنچے گا، اس کے برعکس، جو شخص خدا سے غافل ہو کر کسی اور طرف متوجہ ہوجائے وہ بے رخ اور بے منزل ہوگیا۔ اس کوآج کی وقتی زندگی میںکچھ فائدے ہوسکتے ہیں۔ مگر آخرت کی مستقل زندگی میںاس کےلیے عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔

لقمان 31:24

ہر آدمی کا ایک رخ ہوتا ہے جدھر وہ اپنے پورے فکری اور عملی وجود کے ساتھ متوجہ رہتا ہے۔ مومن وہ ہے جس کا رخ پوری طرح خدا کی طرف ہو جائے۔ مومنانہ زندگی دوسرے لفظوں میں خدا رخی (God-oriented) زندگی کا نام ہے۔ اور غیر مومنانہ زندگی غیر خدا رخی زندگی کا۔ جس شخص نے خدا کی طرف رخ کیا اس نے صحیح منزل کی طرف رخ کیا۔ وہ یقیناً اچھے انجام کو پہنچے گا، اس کے برعکس، جو شخص خدا سے غافل ہو کر کسی اور طرف متوجہ ہوجائے وہ بے رخ اور بے منزل ہوگیا۔ اس کوآج کی وقتی زندگی میںکچھ فائدے ہوسکتے ہیں۔ مگر آخرت کی مستقل زندگی میںاس کےلیے عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔

لقمان 31:25

کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایاہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتاہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جاسکے۔ علوم طبیعی کی تاریخ ہزاروں برس کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ مگر بے شمار تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی ایک چیز کے بارے میں بھی پوری معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ انسان کو آج بھی یہ نہیں معلوم کہ خلا میں کتنے ستارے ہیں۔ زمین میں نباتات اور حیوانات کی کتنی قسمیں ہیں۔ درخت کی ایک پتی اور ریت کے ایک ذرّے کی ماہیت کیا ہے۔ سمندر کے اندر کتنے عجائبات چھپے ہوئے ہیں۔ غرض اس دنیا کی کوئی بھی چھوٹی یابڑی چیز ایسی نہیں جس کے بارے میں انسان کو پوری معلومات حاصل ہوچکی ہوں، یہی واقعہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ درختوں کے قلم اور سمندروں کی سیاہی بھی خدا کے اَن گنت کرشموںکو تحریرکرنے کےلیے کافی نہیں۔

لقمان 31:26

کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایاہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتاہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جاسکے۔ علوم طبیعی کی تاریخ ہزاروں برس کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ مگر بے شمار تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی ایک چیز کے بارے میں بھی پوری معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ انسان کو آج بھی یہ نہیں معلوم کہ خلا میں کتنے ستارے ہیں۔ زمین میں نباتات اور حیوانات کی کتنی قسمیں ہیں۔ درخت کی ایک پتی اور ریت کے ایک ذرّے کی ماہیت کیا ہے۔ سمندر کے اندر کتنے عجائبات چھپے ہوئے ہیں۔ غرض اس دنیا کی کوئی بھی چھوٹی یابڑی چیز ایسی نہیں جس کے بارے میں انسان کو پوری معلومات حاصل ہوچکی ہوں، یہی واقعہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ درختوں کے قلم اور سمندروں کی سیاہی بھی خدا کے اَن گنت کرشموںکو تحریرکرنے کےلیے کافی نہیں۔

لقمان 31:27

کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایاہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتاہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جاسکے۔ علوم طبیعی کی تاریخ ہزاروں برس کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ مگر بے شمار تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی ایک چیز کے بارے میں بھی پوری معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ انسان کو آج بھی یہ نہیں معلوم کہ خلا میں کتنے ستارے ہیں۔ زمین میں نباتات اور حیوانات کی کتنی قسمیں ہیں۔ درخت کی ایک پتی اور ریت کے ایک ذرّے کی ماہیت کیا ہے۔ سمندر کے اندر کتنے عجائبات چھپے ہوئے ہیں۔ غرض اس دنیا کی کوئی بھی چھوٹی یابڑی چیز ایسی نہیں جس کے بارے میں انسان کو پوری معلومات حاصل ہوچکی ہوں، یہی واقعہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ درختوں کے قلم اور سمندروں کی سیاہی بھی خدا کے اَن گنت کرشموںکو تحریرکرنے کےلیے کافی نہیں۔

لقمان 31:28

انسان اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے۔ اور جب ایک زندگی کا وجود ممکن ہو تو اسی قسم کی دوسری زندگیوں کا وجود میںآنا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہوجاتاہے۔ اسی طرح ہر آدمی اس واقعہ کا تجربہ کررہا ہے کہ وہ ایک آواز کو سن سکتا ہے۔ وہ ایک منظر کو دیکھ سکتا ہے پھر جب ایک آواز کا سننا اور ایک منظر کا دیکھنا ممکن ہو تو بہت سی آوازوں کو سننا اور بہت سے مناظر کو دیکھنا ناممکن کیوں ہوگا۔ رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں داخل کرنا کنایہ کی زبان میںاس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتا ہے۔ اپنے محور پر کامل صحت کے ساتھ زمین کی مسلسل گردش اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ ایسی حالت میں اس کے سواکون ہے جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو اپنی زندگی میں بڑائی کا مقام دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک خدا کو چھوڑ کر جس کو بھی عظمت کا مقام دیا جاتا ہے وہ صرف ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی عظمت حاصل نہیں۔

لقمان 31:29

انسان اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے۔ اور جب ایک زندگی کا وجود ممکن ہو تو اسی قسم کی دوسری زندگیوں کا وجود میںآنا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہوجاتاہے۔ اسی طرح ہر آدمی اس واقعہ کا تجربہ کررہا ہے کہ وہ ایک آواز کو سن سکتا ہے۔ وہ ایک منظر کو دیکھ سکتا ہے پھر جب ایک آواز کا سننا اور ایک منظر کا دیکھنا ممکن ہو تو بہت سی آوازوں کو سننا اور بہت سے مناظر کو دیکھنا ناممکن کیوں ہوگا۔ رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں داخل کرنا کنایہ کی زبان میںاس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتا ہے۔ اپنے محور پر کامل صحت کے ساتھ زمین کی مسلسل گردش اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ ایسی حالت میں اس کے سواکون ہے جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو اپنی زندگی میں بڑائی کا مقام دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک خدا کو چھوڑ کر جس کو بھی عظمت کا مقام دیا جاتا ہے وہ صرف ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی عظمت حاصل نہیں۔

لقمان 31:30

انسان اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے۔ اور جب ایک زندگی کا وجود ممکن ہو تو اسی قسم کی دوسری زندگیوں کا وجود میںآنا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہوجاتاہے۔ اسی طرح ہر آدمی اس واقعہ کا تجربہ کررہا ہے کہ وہ ایک آواز کو سن سکتا ہے۔ وہ ایک منظر کو دیکھ سکتا ہے پھر جب ایک آواز کا سننا اور ایک منظر کا دیکھنا ممکن ہو تو بہت سی آوازوں کو سننا اور بہت سے مناظر کو دیکھنا ناممکن کیوں ہوگا۔ رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں داخل کرنا کنایہ کی زبان میںاس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتا ہے۔ اپنے محور پر کامل صحت کے ساتھ زمین کی مسلسل گردش اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ ایسی حالت میں اس کے سواکون ہے جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو اپنی زندگی میں بڑائی کا مقام دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک خدا کو چھوڑ کر جس کو بھی عظمت کا مقام دیا جاتا ہے وہ صرف ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی عظمت حاصل نہیں۔

لقمان 31:31

سمندر میں کوئی چیز ڈالی جائے تو وہ فوراً ڈوب جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پانی کو ایک خاص قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس وجہ سے کشتی اور جہاز اتھاہ سمندروں میں نہیں ڈوبتے، وہ انسان کو اور اس کے سامان کو بحفاظت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم نشانی ہے۔ مگر اس نشانی سے صرف صابر اور شاکر انسان سبق لیتے ہیں۔ صابر وہ ہے جو اپنے آپ کو غلط احساسات کے زیر اثر جانے سے روکے۔ اور شاکر وہ ہے جو اپنے باہر پائی جانے والی حقیقت کا اعتراف کرسکے۔ تاہم جب سمندر میں طوفان آتاہے تو آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس قدر بے بس ہے۔ اس وقت وہ ہر ایک کی بڑائی کو بھول کر صرف خدا کو پکارنے لگتاہے۔ یہ تجربہ جو کشتی کے مسافروں کو پیش آتاہے اس سے لوگوں کو سبق لینا چاہیے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان واقعات سے سبق لیں اور حق اور عدل کی راہ پر قائم رہیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت میں پڑے تو خداکو یاد کرلیا اور مصیبت ہٹی تو دوبارہ سرکش اور احسان فراموش بن گئے۔

لقمان 31:32

سمندر میں کوئی چیز ڈالی جائے تو وہ فوراً ڈوب جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پانی کو ایک خاص قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس وجہ سے کشتی اور جہاز اتھاہ سمندروں میں نہیں ڈوبتے، وہ انسان کو اور اس کے سامان کو بحفاظت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم نشانی ہے۔ مگر اس نشانی سے صرف صابر اور شاکر انسان سبق لیتے ہیں۔ صابر وہ ہے جو اپنے آپ کو غلط احساسات کے زیر اثر جانے سے روکے۔ اور شاکر وہ ہے جو اپنے باہر پائی جانے والی حقیقت کا اعتراف کرسکے۔ تاہم جب سمندر میں طوفان آتاہے تو آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس قدر بے بس ہے۔ اس وقت وہ ہر ایک کی بڑائی کو بھول کر صرف خدا کو پکارنے لگتاہے۔ یہ تجربہ جو کشتی کے مسافروں کو پیش آتاہے اس سے لوگوں کو سبق لینا چاہیے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان واقعات سے سبق لیں اور حق اور عدل کی راہ پر قائم رہیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت میں پڑے تو خداکو یاد کرلیا اور مصیبت ہٹی تو دوبارہ سرکش اور احسان فراموش بن گئے۔

لقمان 31:33

موجودہ دنیا میںامتحان کی مصلحت سے لوگوں کو آزادی دی گئی ہے۔ اس امتحانی آزادی کو آدمی حقیقی آزادی سمجھ لیتاہے۔ یہی سب سے بڑا دھوکا ہے۔ تمام انسانی برائیاں اسی دھوکہ کی وجہ سے پیداہوتی ہیں۔ یہاں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو چاہے کرے کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں۔ حالاں کہ آخر کار آدمی کے اوپر اتنا کٹھن وقت آنے والا ہے کہ باپ بیٹا بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے نہ بن سکیں گے۔ ’’قیامت آنے والی ہے تو وہ کب آئے گی‘‘ ایسا سوال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرناہے۔ انسان اپنی قریبی اور معلوم دنیا کے بارے میں بھی کل کی خبر نہیں رکھتا۔ مثلاً بارش، پیٹ کا بچہ، معاشی مستقبل، موت، ان چیزوں کے بارے میں کوئی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس علمی محدودیت کے باوجود انسان ان حقیقتوں کے واقعہ ہونے کو مانتا ہے۔ اسی طرح قیامت کی گھڑی کے بارے میں بھی اس کو مجمل خبر کی بنیاد پر یقین کرنا چاہيے۔

لقمان 31:34

موجودہ دنیا میںامتحان کی مصلحت سے لوگوں کو آزادی دی گئی ہے۔ اس امتحانی آزادی کو آدمی حقیقی آزادی سمجھ لیتاہے۔ یہی سب سے بڑا دھوکا ہے۔ تمام انسانی برائیاں اسی دھوکہ کی وجہ سے پیداہوتی ہیں۔ یہاں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو چاہے کرے کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں۔ حالاں کہ آخر کار آدمی کے اوپر اتنا کٹھن وقت آنے والا ہے کہ باپ بیٹا بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے نہ بن سکیں گے۔ ’’قیامت آنے والی ہے تو وہ کب آئے گی‘‘ ایسا سوال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرناہے۔ انسان اپنی قریبی اور معلوم دنیا کے بارے میں بھی کل کی خبر نہیں رکھتا۔ مثلاً بارش، پیٹ کا بچہ، معاشی مستقبل، موت، ان چیزوں کے بارے میں کوئی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس علمی محدودیت کے باوجود انسان ان حقیقتوں کے واقعہ ہونے کو مانتا ہے۔ اسی طرح قیامت کی گھڑی کے بارے میں بھی اس کو مجمل خبر کی بنیاد پر یقین کرنا چاہيے۔

السجدة 32:1

’’یہ خدا کی کتاب ہے‘‘— بظاہر چند الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر یہ اتنا مشکل جملہ ہے کہ تاریخ میں یہ جملہ کہنے کی ہمت حقیقی طورپر ان خاص افرادکے سوا کسی کونہ ہوسکی جن پر واقعۃً خدا کی کتاب اتری تھی۔ اگر کبھی کسی اور شخص نے یہ جملہ بولنے کی جرأت کی ہے تو وہ یا تو مسخرہ تھا یا پاگل۔ اور اس کا مسخرہ یا پاگل ہونا بعد کو پوری طرح ثابت ہوگیا۔ قرآن اپنا ثبوت آپ ہے۔ اس کا معجزاتی اسلوب، اس کی کسی بات کا سیکڑوں سال میں غلط ثابت نہ ہونا، اس کا اپنے مخالفین پر پوری طرح غالب آنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعا ت اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب ہے۔ اور جب وہ خدا کی کتاب ہے تو لازم ہے کہ ہر شخص اس کی چیتاونی پر دھیان دے، وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرے۔

السجدة 32:2

’’یہ خدا کی کتاب ہے‘‘— بظاہر چند الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر یہ اتنا مشکل جملہ ہے کہ تاریخ میں یہ جملہ کہنے کی ہمت حقیقی طورپر ان خاص افرادکے سوا کسی کونہ ہوسکی جن پر واقعۃً خدا کی کتاب اتری تھی۔ اگر کبھی کسی اور شخص نے یہ جملہ بولنے کی جرأت کی ہے تو وہ یا تو مسخرہ تھا یا پاگل۔ اور اس کا مسخرہ یا پاگل ہونا بعد کو پوری طرح ثابت ہوگیا۔ قرآن اپنا ثبوت آپ ہے۔ اس کا معجزاتی اسلوب، اس کی کسی بات کا سیکڑوں سال میں غلط ثابت نہ ہونا، اس کا اپنے مخالفین پر پوری طرح غالب آنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعا ت اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب ہے۔ اور جب وہ خدا کی کتاب ہے تو لازم ہے کہ ہر شخص اس کی چیتاونی پر دھیان دے، وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرے۔

السجدة 32:3

’’یہ خدا کی کتاب ہے‘‘— بظاہر چند الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر یہ اتنا مشکل جملہ ہے کہ تاریخ میں یہ جملہ کہنے کی ہمت حقیقی طورپر ان خاص افرادکے سوا کسی کونہ ہوسکی جن پر واقعۃً خدا کی کتاب اتری تھی۔ اگر کبھی کسی اور شخص نے یہ جملہ بولنے کی جرأت کی ہے تو وہ یا تو مسخرہ تھا یا پاگل۔ اور اس کا مسخرہ یا پاگل ہونا بعد کو پوری طرح ثابت ہوگیا۔ قرآن اپنا ثبوت آپ ہے۔ اس کا معجزاتی اسلوب، اس کی کسی بات کا سیکڑوں سال میں غلط ثابت نہ ہونا، اس کا اپنے مخالفین پر پوری طرح غالب آنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعا ت اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب ہے۔ اور جب وہ خدا کی کتاب ہے تو لازم ہے کہ ہر شخص اس کی چیتاونی پر دھیان دے، وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرے۔

السجدة 32:4

چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔

السجدة 32:5

چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔

السجدة 32:6

چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔

السجدة 32:7

چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔

السجدة 32:8

چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔

السجدة 32:9

چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔

السجدة 32:10

انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔ مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔ خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔

السجدة 32:11

انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔ مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔ خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔

السجدة 32:12

انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔ مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔ خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔

السجدة 32:13

انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔ مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔ خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔

السجدة 32:14

انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔ مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔ خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔

السجدة 32:15

ہدایت کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز مادۂ اعتراف ہے۔ہدایت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جن کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب سچائی ان کے سامنے آئے تو وہ فوراً اس کو مان لیں۔ خواہ سچائی بظاہر ایک چھوٹے آدمی کے ذریعہ سامنے آئی ہو، خواہ اس کو ماننا اپنے آپ کو غلط قرار دینے کے ہم معنی ہو، خواہ اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ درہم برہم ہوتا ہوا نظر آئے، جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ ہو وہی سچائی کوپالیتے ہیں۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ وہ سچائی کو اس طرح مانیں کہ ان کی بڑائی بدستور قائم رہے ایسے لوگوں کو سچائی کبھی نہیں ملتی۔ جو آدمی حق کی خاطر اپنی بڑائی کو کھودے وہ سب سے بڑی چیز کو پالیتا ہے اور وہ خدا کی بڑائی ہے اس کی زندگی میں خدا اس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی یادوں کے ساتھ سوئے اور وہ اس کی یادوں کے ساتھ جاگے۔ اس کے خوف اور امید کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ وہ اپنا اثاثہ اس طرح خدا کے حوالے کردیتا ہے کہ اس میں سے کچھ بچا کر نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں جنت کے ابدی باغوں میں ٹھنڈی ہوں گی۔

السجدة 32:16

ہدایت کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز مادۂ اعتراف ہے۔ہدایت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جن کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب سچائی ان کے سامنے آئے تو وہ فوراً اس کو مان لیں۔ خواہ سچائی بظاہر ایک چھوٹے آدمی کے ذریعہ سامنے آئی ہو، خواہ اس کو ماننا اپنے آپ کو غلط قرار دینے کے ہم معنی ہو، خواہ اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ درہم برہم ہوتا ہوا نظر آئے، جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ ہو وہی سچائی کوپالیتے ہیں۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ وہ سچائی کو اس طرح مانیں کہ ان کی بڑائی بدستور قائم رہے ایسے لوگوں کو سچائی کبھی نہیں ملتی۔ جو آدمی حق کی خاطر اپنی بڑائی کو کھودے وہ سب سے بڑی چیز کو پالیتا ہے اور وہ خدا کی بڑائی ہے اس کی زندگی میں خدا اس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی یادوں کے ساتھ سوئے اور وہ اس کی یادوں کے ساتھ جاگے۔ اس کے خوف اور امید کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ وہ اپنا اثاثہ اس طرح خدا کے حوالے کردیتا ہے کہ اس میں سے کچھ بچا کر نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں جنت کے ابدی باغوں میں ٹھنڈی ہوں گی۔

السجدة 32:17

ہدایت کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز مادۂ اعتراف ہے۔ہدایت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جن کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب سچائی ان کے سامنے آئے تو وہ فوراً اس کو مان لیں۔ خواہ سچائی بظاہر ایک چھوٹے آدمی کے ذریعہ سامنے آئی ہو، خواہ اس کو ماننا اپنے آپ کو غلط قرار دینے کے ہم معنی ہو، خواہ اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ درہم برہم ہوتا ہوا نظر آئے، جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ ہو وہی سچائی کوپالیتے ہیں۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ وہ سچائی کو اس طرح مانیں کہ ان کی بڑائی بدستور قائم رہے ایسے لوگوں کو سچائی کبھی نہیں ملتی۔ جو آدمی حق کی خاطر اپنی بڑائی کو کھودے وہ سب سے بڑی چیز کو پالیتا ہے اور وہ خدا کی بڑائی ہے اس کی زندگی میں خدا اس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی یادوں کے ساتھ سوئے اور وہ اس کی یادوں کے ساتھ جاگے۔ اس کے خوف اور امید کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ وہ اپنا اثاثہ اس طرح خدا کے حوالے کردیتا ہے کہ اس میں سے کچھ بچا کر نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں جنت کے ابدی باغوں میں ٹھنڈی ہوں گی۔

السجدة 32:18

مومن وہ ہے جو خدائی سچائی کا اعتراف کرے۔ اور فاسق وہ ہے جس کے سامنے سچائی آئے تو وہ اپنی ذات کے تحفظ کی خاطر اس کا انکار کردے۔یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف کردار ہیں اورد و مختلف کردار کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا میں جو شخص سچائی کا اعتراف کرتاہے وہ اس بات کا ثبوت دیتاہے کہ وہ سچائی کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں بڑا بنایا جائے گا۔ اس کے برعکس ،جو شخص سچائی کو نظر انداز کرے اس نے اپنی ذات کو بڑا سمجھا، ایسا شخص آخرت کی حقیقی دنیا میں چھوٹا کردیا جائے گا۔

السجدة 32:19

مومن وہ ہے جو خدائی سچائی کا اعتراف کرے۔ اور فاسق وہ ہے جس کے سامنے سچائی آئے تو وہ اپنی ذات کے تحفظ کی خاطر اس کا انکار کردے۔یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف کردار ہیں اورد و مختلف کردار کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا میں جو شخص سچائی کا اعتراف کرتاہے وہ اس بات کا ثبوت دیتاہے کہ وہ سچائی کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں بڑا بنایا جائے گا۔ اس کے برعکس ،جو شخص سچائی کو نظر انداز کرے اس نے اپنی ذات کو بڑا سمجھا، ایسا شخص آخرت کی حقیقی دنیا میں چھوٹا کردیا جائے گا۔

السجدة 32:20

مومن وہ ہے جو خدائی سچائی کا اعتراف کرے۔ اور فاسق وہ ہے جس کے سامنے سچائی آئے تو وہ اپنی ذات کے تحفظ کی خاطر اس کا انکار کردے۔یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف کردار ہیں اورد و مختلف کردار کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا میں جو شخص سچائی کا اعتراف کرتاہے وہ اس بات کا ثبوت دیتاہے کہ وہ سچائی کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں بڑا بنایا جائے گا۔ اس کے برعکس ،جو شخص سچائی کو نظر انداز کرے اس نے اپنی ذات کو بڑا سمجھا، ایسا شخص آخرت کی حقیقی دنیا میں چھوٹا کردیا جائے گا۔

السجدة 32:21

مومن وہ ہے جو خدائی سچائی کا اعتراف کرے۔ اور فاسق وہ ہے جس کے سامنے سچائی آئے تو وہ اپنی ذات کے تحفظ کی خاطر اس کا انکار کردے۔یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف کردار ہیں اورد و مختلف کردار کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا میں جو شخص سچائی کا اعتراف کرتاہے وہ اس بات کا ثبوت دیتاہے کہ وہ سچائی کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں بڑا بنایا جائے گا۔ اس کے برعکس ،جو شخص سچائی کو نظر انداز کرے اس نے اپنی ذات کو بڑا سمجھا، ایسا شخص آخرت کی حقیقی دنیا میں چھوٹا کردیا جائے گا۔

السجدة 32:22

مومن وہ ہے جو خدائی سچائی کا اعتراف کرے۔ اور فاسق وہ ہے جس کے سامنے سچائی آئے تو وہ اپنی ذات کے تحفظ کی خاطر اس کا انکار کردے۔یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف کردار ہیں اورد و مختلف کردار کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا میں جو شخص سچائی کا اعتراف کرتاہے وہ اس بات کا ثبوت دیتاہے کہ وہ سچائی کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں بڑا بنایا جائے گا۔ اس کے برعکس ،جو شخص سچائی کو نظر انداز کرے اس نے اپنی ذات کو بڑا سمجھا، ایسا شخص آخرت کی حقیقی دنیا میں چھوٹا کردیا جائے گا۔

السجدة 32:23

خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463 ) یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔ دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے ليے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے — آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔

السجدة 32:24

خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463 ) یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔ دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے ليے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے — آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔

السجدة 32:25

خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463 ) یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔ دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے ليے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے — آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔

السجدة 32:26

خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463 ) یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔ دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے ليے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے — آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔

السجدة 32:27

قدیم مکہ میں مشرکین ہر اعتبار سے غالب اور سر بلند تھے اور اسلام ہر اعتبار سے پست اور مغلوب ہورہا تھا۔ چنانچہ مشرکین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ دیا۔فرمایا، کیا تم خدا کی اس قدرت کو نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے۔ بظاہریہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کبھی سرسبزوشاداب ہوسکے گی۔ مگراس کے بعد خدا بادلوں کو لاکر اس کے اوپر بارش برساتا ہے تو چند دن میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ لہلہانے لگتاہے۔ خدا کی یہی قدرت یہ بھی کرسکتی ہے کہ اسلام کو اس طرح فروغ دے کہ وہی وقت کا غالب فکر بن جائے۔

السجدة 32:28

قدیم مکہ میں مشرکین ہر اعتبار سے غالب اور سر بلند تھے اور اسلام ہر اعتبار سے پست اور مغلوب ہورہا تھا۔ چنانچہ مشرکین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ دیا۔فرمایا، کیا تم خدا کی اس قدرت کو نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے۔ بظاہریہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کبھی سرسبزوشاداب ہوسکے گی۔ مگراس کے بعد خدا بادلوں کو لاکر اس کے اوپر بارش برساتا ہے تو چند دن میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ لہلہانے لگتاہے۔ خدا کی یہی قدرت یہ بھی کرسکتی ہے کہ اسلام کو اس طرح فروغ دے کہ وہی وقت کا غالب فکر بن جائے۔

السجدة 32:29

قدیم مکہ میں مشرکین ہر اعتبار سے غالب اور سر بلند تھے اور اسلام ہر اعتبار سے پست اور مغلوب ہورہا تھا۔ چنانچہ مشرکین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ دیا۔فرمایا، کیا تم خدا کی اس قدرت کو نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے۔ بظاہریہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کبھی سرسبزوشاداب ہوسکے گی۔ مگراس کے بعد خدا بادلوں کو لاکر اس کے اوپر بارش برساتا ہے تو چند دن میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ لہلہانے لگتاہے۔ خدا کی یہی قدرت یہ بھی کرسکتی ہے کہ اسلام کو اس طرح فروغ دے کہ وہی وقت کا غالب فکر بن جائے۔

السجدة 32:30

قدیم مکہ میں مشرکین ہر اعتبار سے غالب اور سر بلند تھے اور اسلام ہر اعتبار سے پست اور مغلوب ہورہا تھا۔ چنانچہ مشرکین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ دیا۔فرمایا، کیا تم خدا کی اس قدرت کو نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے۔ بظاہریہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کبھی سرسبزوشاداب ہوسکے گی۔ مگراس کے بعد خدا بادلوں کو لاکر اس کے اوپر بارش برساتا ہے تو چند دن میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ لہلہانے لگتاہے۔ خدا کی یہی قدرت یہ بھی کرسکتی ہے کہ اسلام کو اس طرح فروغ دے کہ وہی وقت کا غالب فکر بن جائے۔