Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) — الضحى 93:1 – الناس 114:6
Contents
- الضحى 93:1
- الضحى 93:2
- الضحى 93:3
- الضحى 93:4
- الضحى 93:5
- الضحى 93:6
- الضحى 93:7
- الضحى 93:8
- الضحى 93:9
- الضحى 93:10
- الضحى 93:11
- الشرح 94:1
- الشرح 94:2
- الشرح 94:3
- الشرح 94:4
- الشرح 94:5
- الشرح 94:6
- الشرح 94:7
- الشرح 94:8
- التين 95:1
- التين 95:2
- التين 95:3
- التين 95:4
- التين 95:5
- التين 95:6
- التين 95:7
- التين 95:8
- العلق 96:1
- العلق 96:2
- العلق 96:3
- العلق 96:4
- العلق 96:5
- العلق 96:6
- العلق 96:7
- العلق 96:8
- العلق 96:9
- العلق 96:10
- العلق 96:11
- العلق 96:12
- العلق 96:13
- العلق 96:14
- العلق 96:15
- العلق 96:16
- العلق 96:17
- العلق 96:18
- العلق 96:19
- القدر 97:1
- القدر 97:2
- القدر 97:3
- القدر 97:4
- القدر 97:5
- البينة 98:1
- البينة 98:2
- البينة 98:3
- البينة 98:4
- البينة 98:5
- البينة 98:6
- البينة 98:7
- البينة 98:8
- الزلزلة 99:1
- الزلزلة 99:2
- الزلزلة 99:3
- الزلزلة 99:4
- الزلزلة 99:5
- الزلزلة 99:6
- الزلزلة 99:7
- الزلزلة 99:8
- العاديات 100:1
- العاديات 100:2
- العاديات 100:3
- العاديات 100:4
- العاديات 100:5
- العاديات 100:6
- العاديات 100:7
- العاديات 100:8
- العاديات 100:9
- العاديات 100:10
- العاديات 100:11
- القارعة 101:1
- القارعة 101:2
- القارعة 101:3
- القارعة 101:4
- القارعة 101:5
- القارعة 101:6
- القارعة 101:7
- القارعة 101:8
- القارعة 101:9
- القارعة 101:10
- القارعة 101:11
- التكاثر 102:1
- التكاثر 102:2
- التكاثر 102:3
- التكاثر 102:4
- التكاثر 102:5
- التكاثر 102:6
- التكاثر 102:7
- التكاثر 102:8
- العصر 103:1
- العصر 103:2
- العصر 103:3
- الهمزة 104:1
- الهمزة 104:2
- الهمزة 104:3
- الهمزة 104:4
- الهمزة 104:5
- الهمزة 104:6
- الهمزة 104:7
- الهمزة 104:8
- الهمزة 104:9
- الفيل 105:1
- الفيل 105:2
- الفيل 105:3
- الفيل 105:4
- الفيل 105:5
- قريش 106:1
- قريش 106:2
- قريش 106:3
- قريش 106:4
- الماعون 107:1
- الماعون 107:2
- الماعون 107:3
- الماعون 107:4
- الماعون 107:5
- الماعون 107:6
- الماعون 107:7
- الكوثر 108:1
- الكوثر 108:2
- الكوثر 108:3
- الكافرون 109:1
- الكافرون 109:2
- الكافرون 109:3
- الكافرون 109:4
- الكافرون 109:5
- الكافرون 109:6
- النصر 110:1
- النصر 110:2
- النصر 110:3
- المسد 111:1
- المسد 111:2
- المسد 111:3
- المسد 111:4
- المسد 111:5
- الإخلاص 112:1
- الإخلاص 112:2
- الإخلاص 112:3
- الإخلاص 112:4
- الفلق 113:1
- الفلق 113:2
- الفلق 113:3
- الفلق 113:4
- الفلق 113:5
- الناس 114:1
- الناس 114:2
- الناس 114:3
- الناس 114:4
- الناس 114:5
- الناس 114:6
الضحى 93:1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:3
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:4
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:5
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:6
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:7
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:8
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:9
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:10
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الضحى 93:11
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:3
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:4
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:5
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:6
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:7
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
الشرح 94:8
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔
یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔
التين 95:1
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:2
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:3
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:4
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:5
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:6
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:7
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
التين 95:8
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
العلق 96:1
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:2
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:3
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:4
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:5
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:6
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:7
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:8
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:9
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:10
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:11
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:12
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:13
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:14
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:15
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:16
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:17
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:18
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
العلق 96:19
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
القدر 97:1
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
القدر 97:2
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
القدر 97:3
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
القدر 97:4
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
القدر 97:5
سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
البينة 98:1
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:2
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:3
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:4
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:5
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:6
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:7
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
البينة 98:8
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
الزلزلة 99:1
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:2
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:3
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:4
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:5
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:6
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:7
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
الزلزلة 99:8
قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔
العاديات 100:1
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:2
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:3
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:4
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:5
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:6
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:7
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:8
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:9
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:10
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العاديات 100:11
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:1
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:2
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:3
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:4
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:5
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:6
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:7
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:8
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:9
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:10
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
القارعة 101:11
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:1
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:2
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:3
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:4
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:5
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:6
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:7
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
التكاثر 102:8
آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
العصر 103:1
زمانه كيا هے۔ گزرتا هوا وقت۔ زمانے كے گزرتے هوئے دھارے ميں انسان بھي بهه رها هے۔ همارا حال هر آن ماضي ميں تبديل هورهاهے۔انسان ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔انسان كي كاميابي يه هے كه وه زندگي ختم هونے سے پهلے اپنا كام پورا كرلے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلتِ عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔
ایک بزرگ نے کہا کہ سورۃ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے، لوگو، اس شخص پر رحم کرو، جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی میں یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے۔ (تفسیر کبیر امام رازی، جلد 32 ، ص 278 )
اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیامیں تین باتوں کا ثبوت دے۔ ایک ایمان، یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح، یعنی وہی کرنا جو کر نا چاہيے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہيے۔ تیسرے حق و صبر کی تلقین ، یعنی حقیقت کا اتنا گہرا ادر اک کہ آدمی اس کاداعی اور مبلغ بن جائے۔
العصر 103:2
زمانه كيا هے۔ گزرتا هوا وقت۔ زمانے كے گزرتے هوئے دھارے ميں انسان بھي بهه رها هے۔ همارا حال هر آن ماضي ميں تبديل هورهاهے۔انسان ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔انسان كي كاميابي يه هے كه وه زندگي ختم هونے سے پهلے اپنا كام پورا كرلے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلتِ عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔
ایک بزرگ نے کہا کہ سورۃ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے، لوگو، اس شخص پر رحم کرو، جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی میں یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے۔ (تفسیر کبیر امام رازی، جلد 32 ، ص 278 )
اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیامیں تین باتوں کا ثبوت دے۔ ایک ایمان، یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح، یعنی وہی کرنا جو کر نا چاہيے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہيے۔ تیسرے حق و صبر کی تلقین ، یعنی حقیقت کا اتنا گہرا ادر اک کہ آدمی اس کاداعی اور مبلغ بن جائے۔
العصر 103:3
زمانه كيا هے۔ گزرتا هوا وقت۔ زمانے كے گزرتے هوئے دھارے ميں انسان بھي بهه رها هے۔ همارا حال هر آن ماضي ميں تبديل هورهاهے۔انسان ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔انسان كي كاميابي يه هے كه وه زندگي ختم هونے سے پهلے اپنا كام پورا كرلے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلتِ عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔
ایک بزرگ نے کہا کہ سورۃ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے، لوگو، اس شخص پر رحم کرو، جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی میں یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے۔ (تفسیر کبیر امام رازی، جلد 32 ، ص 278 )
اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیامیں تین باتوں کا ثبوت دے۔ ایک ایمان، یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح، یعنی وہی کرنا جو کر نا چاہيے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہيے۔ تیسرے حق و صبر کی تلقین ، یعنی حقیقت کا اتنا گہرا ادر اک کہ آدمی اس کاداعی اور مبلغ بن جائے۔
الهمزة 104:1
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:2
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:3
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:4
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:5
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:6
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:7
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:8
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الهمزة 104:9
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
الفيل 105:1
ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔
یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔
الفيل 105:2
ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔
یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔
الفيل 105:3
ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔
یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔
الفيل 105:4
ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔
یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔
الفيل 105:5
ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔
یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔
قريش 106:1
قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔
یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرني چاہيے۔
قريش 106:2
قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔
یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرني چاہيے۔
قريش 106:3
قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔
یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرني چاہيے۔
قريش 106:4
قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔
یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرني چاہيے۔
الماعون 107:1
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الماعون 107:2
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الماعون 107:3
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الماعون 107:4
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الماعون 107:5
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الماعون 107:6
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الماعون 107:7
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
الكوثر 108:1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہوگئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلی ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔
یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ ان کے لیے بھی ’’خیر کثیر‘‘ ہے بشرطیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
الكوثر 108:2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہوگئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلی ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔
یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ ان کے لیے بھی ’’خیر کثیر‘‘ ہے بشرطیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
الكوثر 108:3
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہوگئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلی ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔
یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ ان کے لیے بھی ’’خیر کثیر‘‘ ہے بشرطیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
الكافرون 109:1
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔
الكافرون 109:2
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔
الكافرون 109:3
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔
الكافرون 109:4
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔
الكافرون 109:5
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔
الكافرون 109:6
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔
النصر 110:1
اللہ کی وہ مدد جس کا نام فتح ہے، وہ ہمیشہ دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ لوگوں کو جوق در جوق دین خدا کے دائرے میں داخل کیا جانا، یہی اللہ کی سب سے بڑی مددہے۔ اور اسی راہ سے اہل دین فتح و غلبہ کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ ( 9-10 ھ) میں وہ حالات پیدا ہوئے جب كہ لوگ بہت بڑی تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوگئے۔ اور اس کے ذریعہ فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔
مومن کی فتح اس کے احساس عجز میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اپنے بظاہر صحیح کام پر بھی خدا سے معافی مانگتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے ملنے والی کامیابی کو بھی خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔
النصر 110:2
اللہ کی وہ مدد جس کا نام فتح ہے، وہ ہمیشہ دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ لوگوں کو جوق در جوق دین خدا کے دائرے میں داخل کیا جانا، یہی اللہ کی سب سے بڑی مددہے۔ اور اسی راہ سے اہل دین فتح و غلبہ کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ ( 9-10 ھ) میں وہ حالات پیدا ہوئے جب كہ لوگ بہت بڑی تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوگئے۔ اور اس کے ذریعہ فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔
مومن کی فتح اس کے احساس عجز میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اپنے بظاہر صحیح کام پر بھی خدا سے معافی مانگتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے ملنے والی کامیابی کو بھی خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔
النصر 110:3
اللہ کی وہ مدد جس کا نام فتح ہے، وہ ہمیشہ دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ لوگوں کو جوق در جوق دین خدا کے دائرے میں داخل کیا جانا، یہی اللہ کی سب سے بڑی مددہے۔ اور اسی راہ سے اہل دین فتح و غلبہ کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ ( 9-10 ھ) میں وہ حالات پیدا ہوئے جب كہ لوگ بہت بڑی تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوگئے۔ اور اس کے ذریعہ فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔
مومن کی فتح اس کے احساس عجز میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اپنے بظاہر صحیح کام پر بھی خدا سے معافی مانگتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے ملنے والی کامیابی کو بھی خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔
المسد 111:1
’’ابولہب‘‘ ایک اعتبار سے ایک شخص کا نام ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کردار ہے۔ ابولہب دعوتِ حق کے اس مخالف کی تاریخی علامت ہے جو کمینہ پن کی حد تک اس کا دشمن بن جائے۔ اس کردار سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ پیش آیا، اسی طرح آپ کی امت کے دوسرے داعیوں کو بھی اس سے سابقہ پیش آ سکتا ہے۔ تاہم اگر داعی حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے اٹھا ہے تو اللہ کی مدد اس کا ساتھ دے گی۔ ابولہب جیسے لوگوں کی معاندانہ کوششیں اللہ کی مدد سے بے اثر ہوجائیں گی۔ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کے باوجود وہ برباد ہو کر رہے گا۔ وہ اپنے عناد میں خود چلے گا، وہ خدا کے داعی کو جس برے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا وہیں وہ خود ابدی طور پر پہنچا دیا جائے گا۔
المسد 111:2
’’ابولہب‘‘ ایک اعتبار سے ایک شخص کا نام ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کردار ہے۔ ابولہب دعوتِ حق کے اس مخالف کی تاریخی علامت ہے جو کمینہ پن کی حد تک اس کا دشمن بن جائے۔ اس کردار سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ پیش آیا، اسی طرح آپ کی امت کے دوسرے داعیوں کو بھی اس سے سابقہ پیش آ سکتا ہے۔ تاہم اگر داعی حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے اٹھا ہے تو اللہ کی مدد اس کا ساتھ دے گی۔ ابولہب جیسے لوگوں کی معاندانہ کوششیں اللہ کی مدد سے بے اثر ہوجائیں گی۔ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کے باوجود وہ برباد ہو کر رہے گا۔ وہ اپنے عناد میں خود چلے گا، وہ خدا کے داعی کو جس برے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا وہیں وہ خود ابدی طور پر پہنچا دیا جائے گا۔
المسد 111:3
’’ابولہب‘‘ ایک اعتبار سے ایک شخص کا نام ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کردار ہے۔ ابولہب دعوتِ حق کے اس مخالف کی تاریخی علامت ہے جو کمینہ پن کی حد تک اس کا دشمن بن جائے۔ اس کردار سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ پیش آیا، اسی طرح آپ کی امت کے دوسرے داعیوں کو بھی اس سے سابقہ پیش آ سکتا ہے۔ تاہم اگر داعی حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے اٹھا ہے تو اللہ کی مدد اس کا ساتھ دے گی۔ ابولہب جیسے لوگوں کی معاندانہ کوششیں اللہ کی مدد سے بے اثر ہوجائیں گی۔ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کے باوجود وہ برباد ہو کر رہے گا۔ وہ اپنے عناد میں خود چلے گا، وہ خدا کے داعی کو جس برے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا وہیں وہ خود ابدی طور پر پہنچا دیا جائے گا۔
المسد 111:4
’’ابولہب‘‘ ایک اعتبار سے ایک شخص کا نام ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کردار ہے۔ ابولہب دعوتِ حق کے اس مخالف کی تاریخی علامت ہے جو کمینہ پن کی حد تک اس کا دشمن بن جائے۔ اس کردار سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ پیش آیا، اسی طرح آپ کی امت کے دوسرے داعیوں کو بھی اس سے سابقہ پیش آ سکتا ہے۔ تاہم اگر داعی حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے اٹھا ہے تو اللہ کی مدد اس کا ساتھ دے گی۔ ابولہب جیسے لوگوں کی معاندانہ کوششیں اللہ کی مدد سے بے اثر ہوجائیں گی۔ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کے باوجود وہ برباد ہو کر رہے گا۔ وہ اپنے عناد میں خود چلے گا، وہ خدا کے داعی کو جس برے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا وہیں وہ خود ابدی طور پر پہنچا دیا جائے گا۔
المسد 111:5
’’ابولہب‘‘ ایک اعتبار سے ایک شخص کا نام ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کردار ہے۔ ابولہب دعوتِ حق کے اس مخالف کی تاریخی علامت ہے جو کمینہ پن کی حد تک اس کا دشمن بن جائے۔ اس کردار سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ پیش آیا، اسی طرح آپ کی امت کے دوسرے داعیوں کو بھی اس سے سابقہ پیش آ سکتا ہے۔ تاہم اگر داعی حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے اٹھا ہے تو اللہ کی مدد اس کا ساتھ دے گی۔ ابولہب جیسے لوگوں کی معاندانہ کوششیں اللہ کی مدد سے بے اثر ہوجائیں گی۔ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کے باوجود وہ برباد ہو کر رہے گا۔ وہ اپنے عناد میں خود چلے گا، وہ خدا کے داعی کو جس برے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا وہیں وہ خود ابدی طور پر پہنچا دیا جائے گا۔
الإخلاص 112:1
یہ سورہ توحید کی سورہ ہے۔ اس میں خدا کے تصور کو ان تمام آمیزشوں سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے جس میں ہر زمانہ کا انسان مبتلا رہا ہے— خدا کئی نہیں، خدا صرف ایک ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، وہ بذات خود ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اس سے بلند ہے کہ انسانوں کی طرح وہ کسی کی اولاد ہو یا اس کی کوئی اولاد ہو۔ وہ ایسی یکتا ذات ہے جس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی مثل اور برابر نہیں۔
الإخلاص 112:2
یہ سورہ توحید کی سورہ ہے۔ اس میں خدا کے تصور کو ان تمام آمیزشوں سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے جس میں ہر زمانہ کا انسان مبتلا رہا ہے— خدا کئی نہیں، خدا صرف ایک ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، وہ بذات خود ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اس سے بلند ہے کہ انسانوں کی طرح وہ کسی کی اولاد ہو یا اس کی کوئی اولاد ہو۔ وہ ایسی یکتا ذات ہے جس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی مثل اور برابر نہیں۔
الإخلاص 112:3
یہ سورہ توحید کی سورہ ہے۔ اس میں خدا کے تصور کو ان تمام آمیزشوں سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے جس میں ہر زمانہ کا انسان مبتلا رہا ہے— خدا کئی نہیں، خدا صرف ایک ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، وہ بذات خود ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اس سے بلند ہے کہ انسانوں کی طرح وہ کسی کی اولاد ہو یا اس کی کوئی اولاد ہو۔ وہ ایسی یکتا ذات ہے جس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی مثل اور برابر نہیں۔
الإخلاص 112:4
یہ سورہ توحید کی سورہ ہے۔ اس میں خدا کے تصور کو ان تمام آمیزشوں سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے جس میں ہر زمانہ کا انسان مبتلا رہا ہے— خدا کئی نہیں، خدا صرف ایک ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، وہ بذات خود ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اس سے بلند ہے کہ انسانوں کی طرح وہ کسی کی اولاد ہو یا اس کی کوئی اولاد ہو۔ وہ ایسی یکتا ذات ہے جس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی مثل اور برابر نہیں۔
الفلق 113:1
اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔
الفلق 113:2
اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔
الفلق 113:3
اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔
الفلق 113:4
اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔
الفلق 113:5
اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔
الناس 114:1
انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔
سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546)
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔
فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)
الناس 114:2
انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔
سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546)
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔
فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)
الناس 114:3
انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔
سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546)
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔
فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)
الناس 114:4
انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔
سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546)
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔
فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)
الناس 114:5
انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔
سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546)
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔
فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)
الناس 114:6
انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔
سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546)
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔
فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)