Tafsir Ibn Kathir — القدر 97:1 – العاديات 100:11
Contents
- القدر 97:1
- القدر 97:2
- القدر 97:3
- القدر 97:4
- القدر 97:5
- البينة 98:1
- البينة 98:2
- البينة 98:3
- البينة 98:4
- البينة 98:5
- البينة 98:6
- البينة 98:7
- البينة 98:8
- الزلزلة 99:1
- الزلزلة 99:2
- الزلزلة 99:3
- الزلزلة 99:4
- الزلزلة 99:5
- الزلزلة 99:6
- الزلزلة 99:7
- الزلزلة 99:8
- العاديات 100:1
- العاديات 100:2
- العاديات 100:3
- العاديات 100:4
- العاديات 100:5
- العاديات 100:6
- العاديات 100:7
- العاديات 100:8
- العاديات 100:9
- العاديات 100:10
- العاديات 100:11
القدر 97:1
غیر متعلقہ روایات اور بحث :مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ تمہیں کیا خبر لیلۃ القدر کیا ہے ؟ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد نے حضرت حسن بن علی ؓ سے جبکہ آپ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرلی کہا کہ تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے یا یوں کہا کہ اے مومنو ! کے منہ سیاہ کرنے والے تو آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے مجھ پر خفا نہ ہو نبی ﷺ کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں آپ ﷺ کو یہ برا معلوم ہوا تو انااعطیناک الکوثر نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوش خبری ملی اور اناانزلناہ اتری پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم امام ترمذی اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی ایک سند سے یہ مروی ہے مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں، یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں، اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے واللہ اعلم بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے ہمارے شیخ حافظ حجت ابو الحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے) کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیے تھا میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ حضرت معاویہ ؓ کی مستقل سلطنت سنہ0400ہجری میں قائم ہوئی جبکہ حضرت امام حسن نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی حضرت معاویہ کی بیعت پر جمع ہوگئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی سلطنت ہوگئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃ ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ01302ھ میں بنو العباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کرلی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریبا ٹھیک ہوجاتا ہے کہ حضرت ابن زبیر کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے واللہ اعلم۔ اس وایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور الیلۃ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانہ کی مذمت کی دلیل نہیں لیلۃ القدر تو ہر طرح بندگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مد و ستائش بیان کر رہی ہے پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کونسی فضیلت ثابت وہ جائیگی یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائیگی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے کسی بہترین فضیلت والیش خص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہیگی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جاسکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے، واللہ اعلم۔ ماہ رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت :ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ ایک لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن عجوز، حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، اصحاب رسول ﷺ کو سخت تعجب ہوا آپ کے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا پس آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ الدقر نہ ہو یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوال کی ایک ہزار راتوں سے افضل ہے (مسند احمد) اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آگیا یہ بابرکت مہینہ آگیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بدقسمت ہے نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں روح سے مراد یہاں حضرت حضرت جبرائیل ؑ ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر بعض کہتے ہیں روح کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورة عم یتسآء لون کی تفسیر میں تفصیل سے گذر چکا، واللہ اعلم پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کی سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے حضرت قتادہ وغیر فرماتے ہیں اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے جیسے اور جگہ ہے فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں امام بیہقی نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں حضرت علی کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گذرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت کعب احبار ؓ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہی سے حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے، ابو داؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن بن ابو یعلی فرماتے ہیں اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید کا قول ہے کہ یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرماد یتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات آپ فرماتے ہیں یہ رات بالکل صاف اور ایسی رونی ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اسکی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے، حضرت ابو عاصم نبیل اپنی اسناد سے حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایکمرتبہ فرمایا میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے۔ فصل ٭٭ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ کو خیال گذرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہورعلماء کا یہی قول نقل کیا ہے واللہ اعلم۔ اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چناچہ حضرت مرثد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سوال کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں حضور ﷺ سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں ؟ آپ نے فرمایا رمضان میں۔ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ انبیاء کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی، میں نے کہا اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔ پھر میں خاموش ہوگیا، آپ بھی اور باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر موقع پاکر سوال کیا کہ حضور ﷺ ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا میں پھر چپکا ہوگیا لیکن پھر موقعہ پاکر میں نے سوال کیا کہ حضور ﷺ آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئے کہ وہ کونسی رات ہے ؟ آپ سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوئے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھا۔ یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی ﷺ کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔ بعض شیعہ کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔ مطلب حضور ﷺ کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی ساتھ گیا نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں، حضرت ابن مسعود اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہوجانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ حضور ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے، اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے غزالی نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔ فصل ٭٭ ابو زرین تو فرماتے ہیں کہ رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے امام محمد بن ادریس شافعی کا رفان ہے کہ یہ سترھویں شب ہے ابو داؤد میں اس مضمون کی ایک حیدث مرفوع مروی ہے اور حضرت ابن مسعود حضرت زید بن ارقم اور حضرت عثمان بن العاص سے موقوف بھی مروی ہے حضرت حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے حضرت علی اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے حضرت ابو سعید خذری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے پھر آپ نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر حضرت جبرائیل آئے اور یہی فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہیں یعنی لیلۃ القدر۔ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا ساٹکڑا بھی نہ تھا پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی ﷺ کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ کی پیشانی پر ترمٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے یہ حدیث صحیح بخاری صحیح بخاری صحیح مسلم دونوں میں ہے امام شافعی فرماتے ہیں تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے ابو داؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں بخاری میں حضرت بلال سے جو رسول اللہ ﷺ کے موذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود ابن عباس جابر حسن قتادہ عبداللہ بن وہب بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے سورة بقرہ کی تفسیر میں حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا، بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نوباقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب۔ اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت ابو سعید نے اسے جفت پر محمول کیا ہے واللہ اعلم۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہ ستائیسویں رات ہے مسند احمد میں ہے حضرت زر نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر حضرت ابی نے قسم کھائی میں نے پوچھا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابی ؓ نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے آپ نے اس پر انشاء اللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھالی پھر فرمایا مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رات ستائیسویں رات ہے، سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل ؒ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ " ھی " اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں " یہ " فاللہ اعلم، طبرانی میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اصحاب رسول ﷺ کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے ابن عباس نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے حضرت عمر نے فرمایا پھر کہو وہ کونسی رات ہے ؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر حضرت عمر نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں مہینہ بھی ہفتوں پر ہے انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے کھانا بھی سات ہے سجدہ بھی سات پر ہے طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوادیں۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہوسکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا 27ۙ) 80۔ عبس :27) ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات۔ مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہویں اس کی اسناد بھی اچھی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے۔ فصل ٭٭ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا حضرت ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے امام مالک امام ثوری امام احمد بن خنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابو ثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے امام شافعی سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔ اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول ﷺ خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے حضرت عائشہ ؓ سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رضول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو امام شافعی ؒ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں حضرت عبادہ صامت ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہوجاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی ہاں یہ ایک جواب اس کا ہوسکتا ہے کہ آپ صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیرو برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کردیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھالی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔ آپ کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہیگا بخلاف اس کے کہ معلوم ہوجائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کریگا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پالینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں اسی لیے خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے حضرت ابن عباس ؓ ما کی روایت میں ہے کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول ﷺ ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے (بخاری و مسلم) مسلم شریف میں ہے کہ حضور ﷺ ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ تہمد مضبوط باندھ لیا کرتے یعنی کمر کس لیا کرتے یعنی عبادت میں پوری کوشش کترے گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کردیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے چناچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ تہمد مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے (شرح رافعی) یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستجب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بہ کثرت پڑھے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگذر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگذر فرما۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ لاقدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں ؟ آپ نے یہی دعا بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے امام ابو محمد بن ابو حاتم ؒ نے اپنی تفسیر میں اس سورت کی تفسیر میں حضرت کعب سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہی جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بیشمار فرشتے ہیں ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو اس درخت کے بیچوں بیچ حضرت جبرائیل ؑ کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے حضرت جبرائیل کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں ہاں گرجا گھر میں مندر میں آتش کدے میں بت خانے میں غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گذارتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہوجائیں دل نرم پڑجائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت میرا ہاتھ حضرت جبرائیل علیہ اللام کے ہاتھ میں ہے حضرت کعب فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہوجاتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابو اسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے ؟ فرمایا یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافرو منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آپڑا۔ غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے حضرت جبرائیل چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑجاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل ؑ کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کردیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے حضرت جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بیشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گذار دیتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گذشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کردیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کردیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گذار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہی ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مردو عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہی کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چناچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا جبرائیل ؑ سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرص کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا حضرت جبرائیل ؑ اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر حضرت جبرائیل ؑ خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گذشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑگیا اور تیرے احکام سے روگردانی کرلی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کرلے گا تو میں اسے بخش دوں گا اس وقت حضرت جبرائیل بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزا وار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آجاتے ہویں اور کہہ اٹھتے ہیں الحمد اللّٰہ الرحیم۔ الحمد اللّٰہ الرحیم، حضرت کعب ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہو سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال جواب کے اور بغیر حسات کتاب کے جنت میں داخل ہوگا، سورة لیلۃ القدر کی تفسیر الحمد اللہ ختم ہوئی۔
القدر 97:2
غیر متعلقہ روایات اور بحث :مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ تمہیں کیا خبر لیلۃ القدر کیا ہے ؟ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد نے حضرت حسن بن علی ؓ سے جبکہ آپ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرلی کہا کہ تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے یا یوں کہا کہ اے مومنو ! کے منہ سیاہ کرنے والے تو آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے مجھ پر خفا نہ ہو نبی ﷺ کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں آپ ﷺ کو یہ برا معلوم ہوا تو انااعطیناک الکوثر نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوش خبری ملی اور اناانزلناہ اتری پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم امام ترمذی اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی ایک سند سے یہ مروی ہے مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں، یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں، اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے واللہ اعلم بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے ہمارے شیخ حافظ حجت ابو الحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے) کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیے تھا میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ حضرت معاویہ ؓ کی مستقل سلطنت سنہ0400ہجری میں قائم ہوئی جبکہ حضرت امام حسن نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی حضرت معاویہ کی بیعت پر جمع ہوگئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی سلطنت ہوگئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃ ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ01302ھ میں بنو العباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کرلی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریبا ٹھیک ہوجاتا ہے کہ حضرت ابن زبیر کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے واللہ اعلم۔ اس وایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور الیلۃ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانہ کی مذمت کی دلیل نہیں لیلۃ القدر تو ہر طرح بندگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مد و ستائش بیان کر رہی ہے پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کونسی فضیلت ثابت وہ جائیگی یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائیگی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے کسی بہترین فضیلت والیش خص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہیگی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جاسکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے، واللہ اعلم۔ ماہ رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت :ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ ایک لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن عجوز، حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، اصحاب رسول ﷺ کو سخت تعجب ہوا آپ کے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا پس آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ الدقر نہ ہو یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوال کی ایک ہزار راتوں سے افضل ہے (مسند احمد) اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آگیا یہ بابرکت مہینہ آگیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بدقسمت ہے نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں روح سے مراد یہاں حضرت حضرت جبرائیل ؑ ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر بعض کہتے ہیں روح کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورة عم یتسآء لون کی تفسیر میں تفصیل سے گذر چکا، واللہ اعلم پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کی سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے حضرت قتادہ وغیر فرماتے ہیں اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے جیسے اور جگہ ہے فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں امام بیہقی نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں حضرت علی کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گذرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت کعب احبار ؓ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہی سے حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے، ابو داؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن بن ابو یعلی فرماتے ہیں اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید کا قول ہے کہ یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرماد یتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات آپ فرماتے ہیں یہ رات بالکل صاف اور ایسی رونی ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اسکی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے، حضرت ابو عاصم نبیل اپنی اسناد سے حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایکمرتبہ فرمایا میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے۔ فصل ٭٭ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ کو خیال گذرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہورعلماء کا یہی قول نقل کیا ہے واللہ اعلم۔ اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چناچہ حضرت مرثد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سوال کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں حضور ﷺ سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں ؟ آپ نے فرمایا رمضان میں۔ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ انبیاء کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی، میں نے کہا اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔ پھر میں خاموش ہوگیا، آپ بھی اور باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر موقع پاکر سوال کیا کہ حضور ﷺ ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا میں پھر چپکا ہوگیا لیکن پھر موقعہ پاکر میں نے سوال کیا کہ حضور ﷺ آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئے کہ وہ کونسی رات ہے ؟ آپ سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوئے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھا۔ یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی ﷺ کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔ بعض شیعہ کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔ مطلب حضور ﷺ کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی ساتھ گیا نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں، حضرت ابن مسعود اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہوجانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ حضور ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے، اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے غزالی نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔ فصل ٭٭ ابو زرین تو فرماتے ہیں کہ رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے امام محمد بن ادریس شافعی کا رفان ہے کہ یہ سترھویں شب ہے ابو داؤد میں اس مضمون کی ایک حیدث مرفوع مروی ہے اور حضرت ابن مسعود حضرت زید بن ارقم اور حضرت عثمان بن العاص سے موقوف بھی مروی ہے حضرت حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے حضرت علی اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے حضرت ابو سعید خذری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے پھر آپ نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر حضرت جبرائیل آئے اور یہی فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہیں یعنی لیلۃ القدر۔ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا ساٹکڑا بھی نہ تھا پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی ﷺ کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ کی پیشانی پر ترمٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے یہ حدیث صحیح بخاری صحیح بخاری صحیح مسلم دونوں میں ہے امام شافعی فرماتے ہیں تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے ابو داؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں بخاری میں حضرت بلال سے جو رسول اللہ ﷺ کے موذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود ابن عباس جابر حسن قتادہ عبداللہ بن وہب بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے سورة بقرہ کی تفسیر میں حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا، بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نوباقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب۔ اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت ابو سعید نے اسے جفت پر محمول کیا ہے واللہ اعلم۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہ ستائیسویں رات ہے مسند احمد میں ہے حضرت زر نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر حضرت ابی نے قسم کھائی میں نے پوچھا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابی ؓ نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے آپ نے اس پر انشاء اللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھالی پھر فرمایا مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رات ستائیسویں رات ہے، سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل ؒ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ " ھی " اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں " یہ " فاللہ اعلم، طبرانی میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اصحاب رسول ﷺ کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے ابن عباس نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے حضرت عمر نے فرمایا پھر کہو وہ کونسی رات ہے ؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر حضرت عمر نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں مہینہ بھی ہفتوں پر ہے انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے کھانا بھی سات ہے سجدہ بھی سات پر ہے طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوادیں۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہوسکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا 27ۙ) 80۔ عبس :27) ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات۔ مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہویں اس کی اسناد بھی اچھی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے۔ فصل ٭٭ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا حضرت ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے امام مالک امام ثوری امام احمد بن خنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابو ثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے امام شافعی سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔ اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول ﷺ خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے حضرت عائشہ ؓ سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رضول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو امام شافعی ؒ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں حضرت عبادہ صامت ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہوجاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی ہاں یہ ایک جواب اس کا ہوسکتا ہے کہ آپ صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیرو برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کردیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھالی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔ آپ کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہیگا بخلاف اس کے کہ معلوم ہوجائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کریگا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پالینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں اسی لیے خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے حضرت ابن عباس ؓ ما کی روایت میں ہے کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول ﷺ ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے (بخاری و مسلم) مسلم شریف میں ہے کہ حضور ﷺ ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ تہمد مضبوط باندھ لیا کرتے یعنی کمر کس لیا کرتے یعنی عبادت میں پوری کوشش کترے گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کردیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے چناچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ تہمد مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے (شرح رافعی) یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستجب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بہ کثرت پڑھے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگذر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگذر فرما۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ لاقدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں ؟ آپ نے یہی دعا بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے امام ابو محمد بن ابو حاتم ؒ نے اپنی تفسیر میں اس سورت کی تفسیر میں حضرت کعب سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہی جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بیشمار فرشتے ہیں ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو اس درخت کے بیچوں بیچ حضرت جبرائیل ؑ کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے حضرت جبرائیل کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں ہاں گرجا گھر میں مندر میں آتش کدے میں بت خانے میں غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گذارتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہوجائیں دل نرم پڑجائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت میرا ہاتھ حضرت جبرائیل علیہ اللام کے ہاتھ میں ہے حضرت کعب فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہوجاتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابو اسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے ؟ فرمایا یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافرو منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آپڑا۔ غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے حضرت جبرائیل چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑجاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل ؑ کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کردیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے حضرت جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بیشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گذار دیتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گذشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کردیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کردیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گذار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہی ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مردو عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہی کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چناچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا جبرائیل ؑ سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرص کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا حضرت جبرائیل ؑ اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر حضرت جبرائیل ؑ خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گذشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑگیا اور تیرے احکام سے روگردانی کرلی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کرلے گا تو میں اسے بخش دوں گا اس وقت حضرت جبرائیل بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزا وار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آجاتے ہویں اور کہہ اٹھتے ہیں الحمد اللّٰہ الرحیم۔ الحمد اللّٰہ الرحیم، حضرت کعب ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہو سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال جواب کے اور بغیر حسات کتاب کے جنت میں داخل ہوگا، سورة لیلۃ القدر کی تفسیر الحمد اللہ ختم ہوئی۔
القدر 97:3
غیر متعلقہ روایات اور بحث :مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ تمہیں کیا خبر لیلۃ القدر کیا ہے ؟ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد نے حضرت حسن بن علی ؓ سے جبکہ آپ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرلی کہا کہ تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے یا یوں کہا کہ اے مومنو ! کے منہ سیاہ کرنے والے تو آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے مجھ پر خفا نہ ہو نبی ﷺ کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں آپ ﷺ کو یہ برا معلوم ہوا تو انااعطیناک الکوثر نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوش خبری ملی اور اناانزلناہ اتری پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم امام ترمذی اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی ایک سند سے یہ مروی ہے مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں، یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں، اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے واللہ اعلم بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے ہمارے شیخ حافظ حجت ابو الحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے) کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیے تھا میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ حضرت معاویہ ؓ کی مستقل سلطنت سنہ0400ہجری میں قائم ہوئی جبکہ حضرت امام حسن نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی حضرت معاویہ کی بیعت پر جمع ہوگئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی سلطنت ہوگئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃ ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ01302ھ میں بنو العباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کرلی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریبا ٹھیک ہوجاتا ہے کہ حضرت ابن زبیر کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے واللہ اعلم۔ اس وایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور الیلۃ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانہ کی مذمت کی دلیل نہیں لیلۃ القدر تو ہر طرح بندگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مد و ستائش بیان کر رہی ہے پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کونسی فضیلت ثابت وہ جائیگی یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائیگی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے کسی بہترین فضیلت والیش خص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہیگی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جاسکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے، واللہ اعلم۔ ماہ رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت :ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ ایک لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن عجوز، حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، اصحاب رسول ﷺ کو سخت تعجب ہوا آپ کے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا پس آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ الدقر نہ ہو یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوال کی ایک ہزار راتوں سے افضل ہے (مسند احمد) اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آگیا یہ بابرکت مہینہ آگیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بدقسمت ہے نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں روح سے مراد یہاں حضرت حضرت جبرائیل ؑ ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر بعض کہتے ہیں روح کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورة عم یتسآء لون کی تفسیر میں تفصیل سے گذر چکا، واللہ اعلم پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کی سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے حضرت قتادہ وغیر فرماتے ہیں اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے جیسے اور جگہ ہے فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں امام بیہقی نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں حضرت علی کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گذرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت کعب احبار ؓ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہی سے حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے، ابو داؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن بن ابو یعلی فرماتے ہیں اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید کا قول ہے کہ یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرماد یتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات آپ فرماتے ہیں یہ رات بالکل صاف اور ایسی رونی ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اسکی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے، حضرت ابو عاصم نبیل اپنی اسناد سے حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایکمرتبہ فرمایا میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے۔ فصل ٭٭ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ کو خیال گذرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہورعلماء کا یہی قول نقل کیا ہے واللہ اعلم۔ اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چناچہ حضرت مرثد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سوال کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں حضور ﷺ سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں ؟ آپ نے فرمایا رمضان میں۔ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ انبیاء کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی، میں نے کہا اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔ پھر میں خاموش ہوگیا، آپ بھی اور باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر موقع پاکر سوال کیا کہ حضور ﷺ ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا میں پھر چپکا ہوگیا لیکن پھر موقعہ پاکر میں نے سوال کیا کہ حضور ﷺ آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئے کہ وہ کونسی رات ہے ؟ آپ سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوئے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھا۔ یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی ﷺ کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔ بعض شیعہ کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔ مطلب حضور ﷺ کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی ساتھ گیا نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں، حضرت ابن مسعود اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہوجانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ حضور ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے، اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے غزالی نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔ فصل ٭٭ ابو زرین تو فرماتے ہیں کہ رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے امام محمد بن ادریس شافعی کا رفان ہے کہ یہ سترھویں شب ہے ابو داؤد میں اس مضمون کی ایک حیدث مرفوع مروی ہے اور حضرت ابن مسعود حضرت زید بن ارقم اور حضرت عثمان بن العاص سے موقوف بھی مروی ہے حضرت حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے حضرت علی اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے حضرت ابو سعید خذری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے پھر آپ نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر حضرت جبرائیل آئے اور یہی فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہیں یعنی لیلۃ القدر۔ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا ساٹکڑا بھی نہ تھا پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی ﷺ کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ کی پیشانی پر ترمٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے یہ حدیث صحیح بخاری صحیح بخاری صحیح مسلم دونوں میں ہے امام شافعی فرماتے ہیں تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے ابو داؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں بخاری میں حضرت بلال سے جو رسول اللہ ﷺ کے موذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود ابن عباس جابر حسن قتادہ عبداللہ بن وہب بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے سورة بقرہ کی تفسیر میں حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا، بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نوباقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب۔ اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت ابو سعید نے اسے جفت پر محمول کیا ہے واللہ اعلم۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہ ستائیسویں رات ہے مسند احمد میں ہے حضرت زر نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر حضرت ابی نے قسم کھائی میں نے پوچھا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابی ؓ نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے آپ نے اس پر انشاء اللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھالی پھر فرمایا مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رات ستائیسویں رات ہے، سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل ؒ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ " ھی " اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں " یہ " فاللہ اعلم، طبرانی میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اصحاب رسول ﷺ کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے ابن عباس نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے حضرت عمر نے فرمایا پھر کہو وہ کونسی رات ہے ؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر حضرت عمر نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں مہینہ بھی ہفتوں پر ہے انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے کھانا بھی سات ہے سجدہ بھی سات پر ہے طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوادیں۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہوسکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا 27ۙ) 80۔ عبس :27) ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات۔ مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہویں اس کی اسناد بھی اچھی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے۔ فصل ٭٭ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا حضرت ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے امام مالک امام ثوری امام احمد بن خنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابو ثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے امام شافعی سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔ اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول ﷺ خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے حضرت عائشہ ؓ سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رضول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو امام شافعی ؒ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں حضرت عبادہ صامت ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہوجاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی ہاں یہ ایک جواب اس کا ہوسکتا ہے کہ آپ صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیرو برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کردیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھالی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔ آپ کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہیگا بخلاف اس کے کہ معلوم ہوجائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کریگا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پالینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں اسی لیے خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے حضرت ابن عباس ؓ ما کی روایت میں ہے کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول ﷺ ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے (بخاری و مسلم) مسلم شریف میں ہے کہ حضور ﷺ ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ تہمد مضبوط باندھ لیا کرتے یعنی کمر کس لیا کرتے یعنی عبادت میں پوری کوشش کترے گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کردیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے چناچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ تہمد مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے (شرح رافعی) یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستجب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بہ کثرت پڑھے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگذر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگذر فرما۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ لاقدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں ؟ آپ نے یہی دعا بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے امام ابو محمد بن ابو حاتم ؒ نے اپنی تفسیر میں اس سورت کی تفسیر میں حضرت کعب سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہی جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بیشمار فرشتے ہیں ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو اس درخت کے بیچوں بیچ حضرت جبرائیل ؑ کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے حضرت جبرائیل کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں ہاں گرجا گھر میں مندر میں آتش کدے میں بت خانے میں غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گذارتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہوجائیں دل نرم پڑجائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت میرا ہاتھ حضرت جبرائیل علیہ اللام کے ہاتھ میں ہے حضرت کعب فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہوجاتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابو اسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے ؟ فرمایا یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافرو منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آپڑا۔ غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے حضرت جبرائیل چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑجاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل ؑ کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کردیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے حضرت جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بیشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گذار دیتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گذشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کردیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کردیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گذار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہی ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مردو عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہی کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چناچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا جبرائیل ؑ سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرص کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا حضرت جبرائیل ؑ اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر حضرت جبرائیل ؑ خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گذشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑگیا اور تیرے احکام سے روگردانی کرلی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کرلے گا تو میں اسے بخش دوں گا اس وقت حضرت جبرائیل بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزا وار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آجاتے ہویں اور کہہ اٹھتے ہیں الحمد اللّٰہ الرحیم۔ الحمد اللّٰہ الرحیم، حضرت کعب ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہو سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال جواب کے اور بغیر حسات کتاب کے جنت میں داخل ہوگا، سورة لیلۃ القدر کی تفسیر الحمد اللہ ختم ہوئی۔
القدر 97:4
غیر متعلقہ روایات اور بحث :مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ تمہیں کیا خبر لیلۃ القدر کیا ہے ؟ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد نے حضرت حسن بن علی ؓ سے جبکہ آپ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرلی کہا کہ تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے یا یوں کہا کہ اے مومنو ! کے منہ سیاہ کرنے والے تو آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے مجھ پر خفا نہ ہو نبی ﷺ کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں آپ ﷺ کو یہ برا معلوم ہوا تو انااعطیناک الکوثر نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوش خبری ملی اور اناانزلناہ اتری پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم امام ترمذی اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی ایک سند سے یہ مروی ہے مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں، یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں، اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے واللہ اعلم بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے ہمارے شیخ حافظ حجت ابو الحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے) کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیے تھا میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ حضرت معاویہ ؓ کی مستقل سلطنت سنہ0400ہجری میں قائم ہوئی جبکہ حضرت امام حسن نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی حضرت معاویہ کی بیعت پر جمع ہوگئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی سلطنت ہوگئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃ ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ01302ھ میں بنو العباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کرلی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریبا ٹھیک ہوجاتا ہے کہ حضرت ابن زبیر کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے واللہ اعلم۔ اس وایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور الیلۃ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانہ کی مذمت کی دلیل نہیں لیلۃ القدر تو ہر طرح بندگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مد و ستائش بیان کر رہی ہے پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کونسی فضیلت ثابت وہ جائیگی یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائیگی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے کسی بہترین فضیلت والیش خص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہیگی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جاسکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے، واللہ اعلم۔ ماہ رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت :ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ ایک لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن عجوز، حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، اصحاب رسول ﷺ کو سخت تعجب ہوا آپ کے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا پس آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ الدقر نہ ہو یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوال کی ایک ہزار راتوں سے افضل ہے (مسند احمد) اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آگیا یہ بابرکت مہینہ آگیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بدقسمت ہے نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں روح سے مراد یہاں حضرت حضرت جبرائیل ؑ ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر بعض کہتے ہیں روح کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورة عم یتسآء لون کی تفسیر میں تفصیل سے گذر چکا، واللہ اعلم پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کی سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے حضرت قتادہ وغیر فرماتے ہیں اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے جیسے اور جگہ ہے فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں امام بیہقی نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں حضرت علی کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گذرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت کعب احبار ؓ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہی سے حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے، ابو داؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن بن ابو یعلی فرماتے ہیں اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید کا قول ہے کہ یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرماد یتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات آپ فرماتے ہیں یہ رات بالکل صاف اور ایسی رونی ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اسکی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے، حضرت ابو عاصم نبیل اپنی اسناد سے حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایکمرتبہ فرمایا میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے۔ فصل ٭٭ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ کو خیال گذرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہورعلماء کا یہی قول نقل کیا ہے واللہ اعلم۔ اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چناچہ حضرت مرثد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سوال کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں حضور ﷺ سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں ؟ آپ نے فرمایا رمضان میں۔ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ انبیاء کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی، میں نے کہا اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔ پھر میں خاموش ہوگیا، آپ بھی اور باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر موقع پاکر سوال کیا کہ حضور ﷺ ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا میں پھر چپکا ہوگیا لیکن پھر موقعہ پاکر میں نے سوال کیا کہ حضور ﷺ آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئے کہ وہ کونسی رات ہے ؟ آپ سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوئے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھا۔ یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی ﷺ کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔ بعض شیعہ کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔ مطلب حضور ﷺ کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی ساتھ گیا نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں، حضرت ابن مسعود اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہوجانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ حضور ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے، اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے غزالی نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔ فصل ٭٭ ابو زرین تو فرماتے ہیں کہ رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے امام محمد بن ادریس شافعی کا رفان ہے کہ یہ سترھویں شب ہے ابو داؤد میں اس مضمون کی ایک حیدث مرفوع مروی ہے اور حضرت ابن مسعود حضرت زید بن ارقم اور حضرت عثمان بن العاص سے موقوف بھی مروی ہے حضرت حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے حضرت علی اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے حضرت ابو سعید خذری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے پھر آپ نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر حضرت جبرائیل آئے اور یہی فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہیں یعنی لیلۃ القدر۔ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا ساٹکڑا بھی نہ تھا پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی ﷺ کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ کی پیشانی پر ترمٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے یہ حدیث صحیح بخاری صحیح بخاری صحیح مسلم دونوں میں ہے امام شافعی فرماتے ہیں تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے ابو داؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں بخاری میں حضرت بلال سے جو رسول اللہ ﷺ کے موذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود ابن عباس جابر حسن قتادہ عبداللہ بن وہب بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے سورة بقرہ کی تفسیر میں حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا، بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نوباقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب۔ اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت ابو سعید نے اسے جفت پر محمول کیا ہے واللہ اعلم۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہ ستائیسویں رات ہے مسند احمد میں ہے حضرت زر نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر حضرت ابی نے قسم کھائی میں نے پوچھا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابی ؓ نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے آپ نے اس پر انشاء اللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھالی پھر فرمایا مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رات ستائیسویں رات ہے، سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل ؒ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ " ھی " اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں " یہ " فاللہ اعلم، طبرانی میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اصحاب رسول ﷺ کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے ابن عباس نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے حضرت عمر نے فرمایا پھر کہو وہ کونسی رات ہے ؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر حضرت عمر نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں مہینہ بھی ہفتوں پر ہے انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے کھانا بھی سات ہے سجدہ بھی سات پر ہے طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوادیں۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہوسکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا 27ۙ) 80۔ عبس :27) ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات۔ مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہویں اس کی اسناد بھی اچھی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے۔ فصل ٭٭ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا حضرت ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے امام مالک امام ثوری امام احمد بن خنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابو ثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے امام شافعی سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔ اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول ﷺ خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے حضرت عائشہ ؓ سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رضول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو امام شافعی ؒ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں حضرت عبادہ صامت ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہوجاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی ہاں یہ ایک جواب اس کا ہوسکتا ہے کہ آپ صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیرو برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کردیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھالی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔ آپ کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہیگا بخلاف اس کے کہ معلوم ہوجائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کریگا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پالینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں اسی لیے خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے حضرت ابن عباس ؓ ما کی روایت میں ہے کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول ﷺ ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے (بخاری و مسلم) مسلم شریف میں ہے کہ حضور ﷺ ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ تہمد مضبوط باندھ لیا کرتے یعنی کمر کس لیا کرتے یعنی عبادت میں پوری کوشش کترے گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کردیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے چناچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ تہمد مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے (شرح رافعی) یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستجب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بہ کثرت پڑھے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگذر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگذر فرما۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ لاقدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں ؟ آپ نے یہی دعا بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے امام ابو محمد بن ابو حاتم ؒ نے اپنی تفسیر میں اس سورت کی تفسیر میں حضرت کعب سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہی جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بیشمار فرشتے ہیں ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو اس درخت کے بیچوں بیچ حضرت جبرائیل ؑ کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے حضرت جبرائیل کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں ہاں گرجا گھر میں مندر میں آتش کدے میں بت خانے میں غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گذارتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہوجائیں دل نرم پڑجائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت میرا ہاتھ حضرت جبرائیل علیہ اللام کے ہاتھ میں ہے حضرت کعب فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہوجاتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابو اسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے ؟ فرمایا یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافرو منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آپڑا۔ غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے حضرت جبرائیل چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑجاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل ؑ کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کردیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے حضرت جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بیشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گذار دیتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گذشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کردیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کردیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گذار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہی ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مردو عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہی کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چناچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا جبرائیل ؑ سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرص کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا حضرت جبرائیل ؑ اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر حضرت جبرائیل ؑ خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گذشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑگیا اور تیرے احکام سے روگردانی کرلی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کرلے گا تو میں اسے بخش دوں گا اس وقت حضرت جبرائیل بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزا وار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آجاتے ہویں اور کہہ اٹھتے ہیں الحمد اللّٰہ الرحیم۔ الحمد اللّٰہ الرحیم، حضرت کعب ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہو سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال جواب کے اور بغیر حسات کتاب کے جنت میں داخل ہوگا، سورة لیلۃ القدر کی تفسیر الحمد اللہ ختم ہوئی۔
القدر 97:5
غیر متعلقہ روایات اور بحث :مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات اتری، تو فرماتا ہے کہ تمہیں کیا خبر لیلۃ القدر کیا ہے ؟ پھر خود ہی بتاتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے افضل ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ ترمذی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت لائے ہیں کہ یوسف بن سعد نے حضرت حسن بن علی ؓ سے جبکہ آپ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرلی کہا کہ تم نے ایمان والوں کے منہ کالے کر دئیے یا یوں کہا کہ اے مومنو ! کے منہ سیاہ کرنے والے تو آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے مجھ پر خفا نہ ہو نبی ﷺ کو دکھلایا گیا کہ گویا آپ کے منبر پر بنو امیہ ہیں آپ ﷺ کو یہ برا معلوم ہوا تو انااعطیناک الکوثر نازل ہوئی یعنی جنت کی نہر کوثر آپ کو عطا کیے جانے کی خوش خبری ملی اور اناانزلناہ اتری پس ہزار مہینے سے وہ مراد ہیں جن میں آپ کے بعد بنو امیہ کی مملکت رہے گی، قاسم کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو وہ پورے ایک ہزار دن ہوئے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم امام ترمذی اس روایت کو غریب بتلاتے ہیں اور اس کی سند میں یوسف بن سعد ہیں جو مجہول ہیں اور صرف اسی ایک سند سے یہ مروی ہے مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے امام ترمذی کا یہ فرمانا کہ یہ یوسف مجہول ہیں اس میں ذرا تذبذب ہے اس کے بہت سے شاگرد ہیں، یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ مشہور ہیں اور ثقہ ہیں، اور اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے جیسا بھی ہے واللہ اعلم بہر صورت یہ بہت ہی منکر روایت ہے ہمارے شیخ حافظ حجت ابو الحجاج مزی بھی اس روایت کو منکر بتلاتے ہیں (یہ یاد رہے کہ قاسم کا قول جو ترمذی کے حوالے سے بیان ہوا ہے) کہ وہ کہتے ہیں ہم نے حساب لگایا تو بنو امیہ کی سلطنت ٹھیک ایک ہزار دن تک رہی یہ نسخے کی غلطی ہے ایک ہزار مہینے لکھنا چاہیے تھا میں نے ترمذی شریف میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہزار مہینے ہیں اور آگے بھی یہی آتا ہے۔ مترجم قاسم بن فضل حدانی کا یہ قول کہ بنو امیہ کی سلطنت کی ٹھیک مدت ایک ہزار مہینے تھی یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ حضرت معاویہ ؓ کی مستقل سلطنت سنہ0400ہجری میں قائم ہوئی جبکہ حضرت امام حسن نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور امر خلافت آپ کو سونپ دیا اور سب لوگ بھی حضرت معاویہ کی بیعت پر جمع ہوگئے اور اس سال کا نام ہی عام الجماعہ مشہور ہوا پھر شام وغیرہ میں برابر بنو امیہ کی سلطنت قائم رہی ہاں تقریباً نو سال تک حرمین شریفین اور اہواز اور بعض شہروں پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی سلطنت ہوگئی تھی لیکن تاہم اس مدت میں بھی کلیۃ ان کے ہاتھ سے حکومت نہیں گئی البتہ بعض شہروں پر سے حکومت ہٹ گئی تھی، ہاں سنہ01302ھ میں بنو العباس نے ان سے خلافت اپنے قبضہ میں کرلی پس ان کی سلطنت کی مدت بانوے برس ہوئی اور یہ ایک ہزار ماہ سے بہت زیادہ ہے ایک ہزار مہینے کے تراسی سال چار ماہ ہوتے ہیں ہاں قاسم بن فضل کا یہ حساب اس طرح تو تقریبا ٹھیک ہوجاتا ہے کہ حضرت ابن زبیر کی مدت خلافت اس گنتی میں سے نکال دی جائے واللہ اعلم۔ اس وایت کے ضعیف ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ کی تو برائی اور مذمت بیان کرنی مقصود ہے اور الیلۃ القدر کی اس زمانہ پر فضیلت کا ثابت ہونا کچھ ان کے زمانہ کی مذمت کی دلیل نہیں لیلۃ القدر تو ہر طرح بندگی والی ہے ہی اور یہ پوری سورت اس مبارک رات کی مد و ستائش بیان کر رہی ہے پس بنو امیہ کے زمانہ کے دنوں کی مذمت سے لیلۃ القدر کی کونسی فضیلت ثابت وہ جائیگی یہ تو بالکل وہی مثل اصل ہو جائیگی کہ کوئی شخص تلوار کی تعریف کرتے ہوئے کہے کہ لکڑی سے بہت تیز ہے کسی بہترین فضیلت والیش خص کو کسی کم درجہ کے ذلیل شخص پر فضیلت دینا تو اس شریف بزرگ کی توہین کرنا ہے اور وجہ سنئے اس روایت کی بنا پر یہ ایک ہزار مہینے وہ ہوئے جن میں بنو امیہ کی سلطنت رہیگی اور یہ سورت اتری ہے مکہ شریف میں تو اس میں ان مہینوں کا حوالہ کیسے دیا جاسکتا ہے جو بنو امیہ کے زمانہ کے ہیں اس پر نہ تو کوئی لفظ دلالت کرتا ہے نہ معنی کے طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے منبر تو مدینہ میں قائم ہوتا ہے اور ہجرت کی ایک مدت بعد منبر بنایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے پس ان تمام وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف اور منکر ہے، واللہ اعلم۔ ماہ رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت :ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب معلوم ہوا تو اللہ عزوجل نے یہ سورت اتاری کہ ایک لیلۃ القدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے ابن جریر میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں دشمنان دین سے جہاد کرتا تھا شام تک ایک ہزار مہینے تک یہی کرتا رہا پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمایا کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزار مہینے کی اس عبادت سے افضل ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے نافرمانی نہیں کی تھی حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن عجوز، حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، اصحاب رسول ﷺ کو سخت تعجب ہوا آپ کے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ افضل ہے اس سے جن پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا پس آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزار مہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ الدقر نہ ہو یہی ٹھیک ہے اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک رات کی جہاد کی تیاری اس کے سوال کی ایک ہزار راتوں سے افضل ہے (مسند احمد) اسی طرح اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اچھی نیت اور اچھی حالت سے جمعہ کی نماز کے لیے جائے اس کے لیے ایک سال کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے سال بھر کے روزوں کا اور سال بھر کی نمازوں کا اسی طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں پس مطلب یہ ہے کہ مراد ایک ہزار مہینے سے وہ مہینے ہیں جن میں لیلۃ القدر نہ آئے جیسے ایک ہزار راتوں سے مراد وہ راتیں ہیں جن میں کوئی رات اس عبادت کی نہ ہو اور جیسے جمعہ کی طرف جانے والے کو ایک سال کی نیکیاں یعنی وہ سال جس میں جمعہ نہ ہو مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر رمضان کا مہینہ آگیا یہ بابرکت مہینہ آگیا اس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس کی بھلائی سے محروم رہنے والا حقیقی بدقسمت ہے نسائی شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے اس لیے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمانداری اور نیک نیتی سے کرے اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اس رات کی برکت کی زیادتی کی وجہ سے بکثرت فرشتے اس میں نازل ہوتے ہیں فرشتے تو ہر برکت اور رحمت کے ساتھ نازل ہوتے رہتے ہیں جیسے تلاوت قرآن کے وقت اترتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور علم دین کے سیکھنے والوں کے لیے راضی خوشی اپنے پر بچھا دیا کرتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں روح سے مراد یہاں حضرت حضرت جبرائیل ؑ ہیں، یہ خاص کا عطف ہے عام پر بعض کہتے ہیں روح کے نام کے ایک خاص قسم کے فرشتے ہیں جیسے کہ سورة عم یتسآء لون کی تفسیر میں تفصیل سے گذر چکا، واللہ اعلم پھر فرمایا وہ سراسر سلامتی والی رات ہے جس میں شیطان نہ تو برائی کی سکتا ہے نہ ایذاء پہنچا سکتا ہے حضرت قتادہ وغیر فرماتے ہیں اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے جیسے اور جگہ ہے فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس رات میں فرشتے مسجد والوں پر صح تک سلام بھیجتے رہتے ہیں امام بیہقی نے اپنی کتاب فضائل اوقات میں حضرت علی کا ایک غریب اثر فرشتوں کے نازل ہونے میں اور نمازیوں پر ان کے گذرنے میں اور انہیں برکت حاصل ہونے میں وارد کیا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت کعب احبار ؓ سے ایک عجیب و غریب بہت طول طویل اثر وارد کیا ہے جس میں فرشتوں کا سدرۃ المنتہی سے حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ زمین پر آنا اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں کرنا وارد ہے، ابو داؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر ستائیسویں ہے یا انتیسویں اس رات میں فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن بن ابو یعلی فرماتے ہیں اس رات میں ہر امر سے سلامتی ہے یعنی کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوتی حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید کا قول ہے کہ یہ رات سراسر سلامتی والی ہے کوئی برائی صبح ہونے تک نہیں ہوتی مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان میں طلب ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرماد یتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی اکیسویں یا تیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری رات آپ فرماتے ہیں یہ رات بالکل صاف اور ایسی رونی ہوتی ہے کہ گویا چاند چڑھا ہوا ہے اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے نہ سردی زیادہ ہوتی ہے نہ گرمی صبح تک ستارے نہیں جھڑتے ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس صبح کو سورج تیز شعاؤں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودہویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے۔ اس دن اس کے ساتھ شیطان بھی نہیں نکلتا یہ اسناد تو صحیح ہے لیکن متن میں غرابت ہے اور بعض الفاظ میں نکارت بھی ہے اور ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر صاف پر سکون سردی گرمی سے خالی رات ہے اسکی صبح مدھم روشنی والا سرخ رنگ نکلتا ہے، حضرت ابو عاصم نبیل اپنی اسناد سے حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایکمرتبہ فرمایا میں لیلۃ القدر دکھلایا گیا پھر بھلا دیا گیا یہ آخری دس راتوں میں ہے یہ صاف شفاف سکون و وقار والی رات ہے نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی اس قدر روشنی رات ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا چاند چڑھا ہوا ہے سورج کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا یہاں تک کہ دھوپ چڑھ جائے۔ فصل ٭٭ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اگلی امتوں میں بھی تھی یا صرف اسی امت کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے پس ایک حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب نظریں ڈالیں اور یہ معلوم کیا کہ سابقہ لوگوں کی عمریں بہت زیادہ ہوتی تھیں تو آپ کو خیال گذرا کہ میری امت کی عمریں ان کے مقابلہ میں کم ہیں تو نیکیاں بھی کم رہیں گیں اور پھر درجات اور ثواب میں بھی کمی رہیں گی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ رات عنایت فرمائی اور اس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اسی امت کو یہ رات دی گئی ہے بلکہ صاحب عدۃ نے جو شافعیہ میں سے ایک امام ہیں جمہورعلماء کا یہی قول نقل کیا ہے واللہ اعلم۔ اور خطابی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا کہ یہ رات جس طرح اس امت میں ہے، اگلی امتوں میں بھی تھی، چناچہ حضرت مرثد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سوال کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں حضور ﷺ سے اکثر باتیں دریافت کرتا رہتا تھا ایک مرتبہ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو فرمائیے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہے یا اور مہینوں میں ؟ آپ نے فرمایا رمضان میں۔ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ انبیاء کے ساتھ ہی ہے کہ جب تک وہ ہیں یہ بھی ہے جب انبیاء قبض کئے جاتے ہیں تو یہ اٹھ جاتی ہیں یا یہ قیامت تک باقی رہیں گی ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں وہ قیامت تک باقی رہے گی، میں نے کہا اچھا رمضان کے کس حصہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے رمضان کے پہلے اور آخری عشرہ میں ڈھونڈ۔ پھر میں خاموش ہوگیا، آپ بھی اور باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر موقع پاکر سوال کیا کہ حضور ﷺ ان دونوں عشروں میں سے کس عشرے میں اس رات کو تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا آخری عشرے میں، بس کچھ نہ پوچھنا میں پھر چپکا ہوگیا لیکن پھر موقعہ پاکر میں نے سوال کیا کہ حضور ﷺ آپ کی قسم ہے میرا بھی کچھ حق آپ پر ہے فرما دیجئے کہ وہ کونسی رات ہے ؟ آپ سخت غصے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کو اپنے اوپر اتنا غصہ ہوئے ہوئے دیکھا ہی نہیں اور فرمایا آخری ہفتہ میں تلاش کرو، اب کچھ نہ پوچھا۔ یہ روایت نسائی میں بھی مروی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات اگلی امتوں میں بھی تھی، اور اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رات نبی ﷺ کے بعد بھی قیامت تک ہر سال آتی رہے گی۔ بعض شیعہ کا قول ہے کہ یہ رات بالکل اٹھ گئی، یہ قول غلط ہے ان کو غلط فہمی اس حدیث سے ہوئی ہے جس میں ہے کہ وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے اسی میں بہتری ہو یہ حدیث پوری بھی آئے گی۔ مطلب حضور ﷺ کے اس فرمان سے یہ ہے کہ اس رات کی تعین اور اس کا تقرر بھی ساتھ گیا نہ یہ کہ سرے سے لیلۃ القدر ہی اٹھ گئی مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ رات رمضان شریف میں آتی ہے کسی اور مہینہ میں نہیں، حضرت ابن مسعود اور علماء کوفہ کا قول ہے کہ سارے سال میں ایک رات ہے اور ہر مہینہ میں اس کا ہوجانا ممکن ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف ہے سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے لیلۃ القدر سارے رمضان میں ہے۔ پھر حدیث لائے کہ حضور ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سارے رمضان میں ہے، اس کی سند کے کل راوی ثقہ ہیں یہ موقوف بھی مروی ہیں امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں اس رات کا ہونا ممکن ہے غزالی نے اسی کو نقل کیا ہے لیکن رافعی اسے بالکل غریب بتلاتے ہیں۔ فصل ٭٭ ابو زرین تو فرماتے ہیں کہ رمضان کی پہلی رات ہی لیلۃ القدر ہے امام محمد بن ادریس شافعی کا رفان ہے کہ یہ سترھویں شب ہے ابو داؤد میں اس مضمون کی ایک حیدث مرفوع مروی ہے اور حضرت ابن مسعود حضرت زید بن ارقم اور حضرت عثمان بن العاص سے موقوف بھی مروی ہے حضرت حسن بصری کا مذہب بھی یہی نقل کیا گیا ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رمضان المبارک کی یہی سترھویں رات شب جمعہ تھی اور یہی رات بدر کی رات تھی اور سترھویں تاریخ کو جنگ بدر واقع ہوئی تھی جس دن کو قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے حضرت علی اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انیسویں رات لیلۃ القدر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکیسویں رات ہے حضرت ابو سعید خذری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان شریف کے دس پہلے دن کا اعتکاف کیا ہم بھی آپ کے ساتھ ہی اعتکاف بیٹھے پھر آپ کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو آپ کے آگے ہے پھر آپ نے دس سے بیس تک کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی۔ پھر حضرت جبرائیل آئے اور یہی فرمایا کہ جسے آپ ڈھونڈتے ہیں وہ تو ابھی بھی آگے ہیں یعنی لیلۃ القدر۔ پس رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور فرمایا کہ میرے ساتھ اعتکاف کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پھر اعتکاف میں بیٹھ جائیں میں نے لیلۃ القدر دیکھ لی لیکن میں بھول گیا لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں راوی حدیث فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کی چھت صرف کھجور کے پتوں کی تھی آسمان پر اس وقت ابر کا ایک چھوٹا ساٹکڑا بھی نہ تھا پھر ابر اٹھا اور بارش ہوئی اور نبی ﷺ کا خواب سچا ہوا اور میں نے خود دیکھا کہ نماز کے بعد آپ کی پیشانی پر ترمٹی لگی ہوئی تھی اسی روایت کے ایک طریق میں ہے کہ یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے یہ حدیث صحیح بخاری صحیح بخاری صحیح مسلم دونوں میں ہے امام شافعی فرماتے ہیں تمام روایتوں میں سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کی تئیسویں رات ہے اور اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن انیس کی صحیح مسلم والی ایسی ہی ایک روایت ہے واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چوبیسویں رات ہے ابو داؤد طیالسی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لیلۃ القدر چوبیسویں شب ہے اس کی سند بھی صحیح ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف ہیں بخاری میں حضرت بلال سے جو رسول اللہ ﷺ کے موذن ہیں مروی ہے کہ یہ پہلی ساتویں ہے آخری دس میں سے یہ موقوف روایت ہی صحیح ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود ابن عباس جابر حسن قتادہ عبداللہ بن وہب بھی فرماتے ہیں کہ چوبیسویں رات لیلۃ القدر ہے سورة بقرہ کی تفسیر میں حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت کی ہوئی مرفوع حدیث بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم رمضان شریف کی چوبیسویں رات کو اترا، بعض کہتے ہیں پچیسویں رات لیلۃ القدر ہے ان کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈو۔ نوباقی رہیں تب، سات باقی رہیں تب، پانچ باقی رہیں تب۔ اکثر محدثین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے مراد طاق راتیں ہیں یہی زیادہ ظاہر ہے اور زیادہ مشہور ہے گو بعض اوروں نے اسے جفت راتوں پر بھی محمول کیا ہے جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت ابو سعید نے اسے جفت پر محمول کیا ہے واللہ اعلم۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ستائیسویں رات ہے اس کی دلیل صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہ ستائیسویں رات ہے مسند احمد میں ہے حضرت زر نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں جو شخص سال بھر راتوں کو قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ جانتے ہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے یہ ستائیسویں رات رمضان کی ہے پھر اس بات پر حضرت ابی نے قسم کھائی میں نے پوچھا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیا کہ ان نشانیوں کو دیکھنے سے جو ہم بتائے گئے ہیں کہ اس دن سورج شعاعوں بغیر نکلتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابی ؓ نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ رات رمضان میں ہی ہے آپ نے اس پر انشاء اللہ بھی نہیں فرمایا اور پختہ قسم کھالی پھر فرمایا مجھے خوب معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے جس میں قیام کرنے کا رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے یہ ستائیسویں رات ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج سفید رنگ نکلتا ہے اور تیزی زیادہ نہیں ہوتی حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رات ستائیسویں رات ہے، سلف کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے اور امام احمد بن حنبل ؒ کا مختار مسلک بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ سے ایک روایت اسی قول کی منقول ہے بعض سلف نے قرآن کریم کے الفاظ سے بھی اس کے ثبوت کا حوالہ دیا ہے اس طرح کہ " ھی " اس سورت میں ستائیسواں کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں " یہ " فاللہ اعلم، طبرانی میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اصحاب رسول ﷺ کو جمع کیا اور ان سے لیلۃ القدر کی بابت سوال کیا تو سب کا اجماع اس امر پر ہوا کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے ابن عباس نے اس وقت فرمایا کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے حضرت عمر نے فرمایا پھر کہو وہ کونسی رات ہے ؟ فرمایا اس آخری عشرے میں سات گزرنے پر یا سات باقی رہنے پر حضرت عمر نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا تو جواب دیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آسمان بھی سات پیدا کیے اور زمین بھی سات بنائیں مہینہ بھی ہفتوں پر ہے انسان کی پیدائش بھی سات پر ہے کھانا بھی سات ہے سجدہ بھی سات پر ہے طواف بیت اللہ کی تعداد بھی سات کی ہے رمی جمار کی کنکریاں بھی سات ہیں اور اسی طرح کی سات کی گنتی کی بہت سی چیزیں اور گنوادیں۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا تمہاری سمجھ وہاں پہنچی جہاں تک ہمارے خیالات کو رسائی نہ ہوسکی یہ جو فرمایا سات ہی کھانا ہے اس سے قرآن کریم کی آیتیں (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا 27ۙ) 80۔ عبس :27) ، مراد ہیں جن میں سات چیزوں کا ذکر ہے جو کھائی جاتی ہیں اس کی اسناد بھی جید اور قوی ہے کہ انتیسویں رات ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے سوال کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈو طاق راتوں میں، اکیس، تیئس، پچیس ستائیس اور انتیس یا آخری رات۔ مسند میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے، یا انتیسویں۔ اس رات فرشتے زمین پر سنگریزوں کی گنتی سے بھی زیادہ ہوتے ہویں اس کی اسناد بھی اچھی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ آخری رات لیلۃ القدر ہے کیونکہ ابھی جو حدیث گزری اس میں ہے اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے کہ جب نو باقی رہ جائیں یا سات یا پانچ یا تین یا آخری رات یعنی ان راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مسند میں ہے یہ آخری رات ہے۔ فصل ٭٭ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان مختلف احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ یہ سوالوں کا جواب ہے کسی نے کہا حضرت ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں تو آپ نے فرما دیا ہاں حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر مقرر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی امام ترمذی نے امام شافعی کا اسی معنی کا قول نقل کیا ہے ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ آخری عشرے کی راتوں میں یہ پھیر بدل ہوا کرتی ہے امام مالک امام ثوری امام احمد بن خنبل، امام اسحاق بن راہویہ، ابو ثور مزنی، ابوبکر بن خزیمہ وغیرہ نے بھی یہی فرمایا ہے امام شافعی سے بھی قاضی نے یہی نقل کیا ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔ اس قول کی تھوڑی بہت تائید بخاری و مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ چند اصحاب رسول ﷺ خواب میں لیلۃ القدر رمضان کی سات پچھلی راتوں میں دکھائے گئے آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب اس بارے میں موافق ہیں ہر طلب کرنے والے کو چاہیے کہ لیلۃ القدر کو ان سات آخری راتوں میں تلاش کرے حضرت عائشہ ؓ سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ رضول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو کرو امام شافعی ؒ کے اس فرمان پر کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ایک معین رات ہے اور اس کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہ حدیث دلیل بن سکتی ہے جو صحیح بخاری میں حضرت عبادہ صامت ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے (کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے) نکلے۔ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے آیا تھا لیکن فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے وہ اٹھالی گئی اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہاری بہتری ہو اب اسے نویں ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو وجہ دلالت یہ ہے کہ اگر اس کا تعین ہمیشہ کے لیے نہ ہوتا تو ہر سال کی لیلۃ القدر کا علم حاصل نہ ہوتا اگر لیلۃ القدر کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا تو صرف اس سال کے لیے تو معلوم ہوجاتا کہ فلاں رات ہے لیکن اور برسوں کے لیے تعین نہ ہوتی ہاں یہ ایک جواب اس کا ہوسکتا ہے کہ آپ صرف اسی سال کی اس مبارک رات کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑا خیرو برکت اور نفع دینے والے علم کو غارت کردیتا ہے ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ اپنے گناہ کے باعث اللہ کی روزی سے محروم رکھ دیا جاتا ہے یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو آپ نے فرمایا کہ وہ اٹھالی گئی اس سے مراد اس کے تعین کے علم کا اٹھا لیا جانا ہے نہ یہ کہ بالکل لیلۃ القدر ہی دنیا سے اٹھالی گئی جیسے کہ جاہل شیعہ کا قول ہے اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ اس لفظ کے بعد ہی یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں ڈھونڈو۔ آپ کا یہ فرمان کہ ممکن ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو یعنی اس کی مقررہ تعین کا علم نہ ہونے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مبہم ہے تو اس کا ڈھونڈنے والا جن جن راتوں میں اس کا ہونا ممکن دیکھے گا ان تمام راتوں میں کوشش و خلوص کے ساتھ عبادت میں لگا رہیگا بخلاف اس کے کہ معلوم ہوجائے کہ فلاں رات ہی ہے تو وہ صرف اسی ایک رات کی عبادت کریگا کیونکہ ہمتیں پست ہیں اس لیے حکمت حکیم کا تقاضا یہی ہوا کہ اس رات کے تعین کی خبر نہ دی جائے تاکہ اس رات کے پالینے کے شوق میں اس مبارک مہینہ میں جی لگا کر اور دل کھول کر بندے اپنے معبود برحق کی بندگی کریں اور آخری عشرے میں تو پوری کوشش اور خلوص کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہیں اسی لیے خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے انتقال تک رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے حضرت ابن عباس ؓ ما کی روایت میں ہے کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آخری دس راتیں رمضان شریف کی رہ جاتیں تو اللہ کے رسول ﷺ ساری رات جاگتے اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور کمر کس لیتے (بخاری و مسلم) مسلم شریف میں ہے کہ حضور ﷺ ان دنوں میں جس محنت کے ساتھ عبادت کرتے اتنی محنت سے عبادت آپ کی اور دنوں میں نہیں ہوتی تھی یہی معنی ہیں اوپر والی حدیث کے اس جملہ کے کہ آپ تہمد مضبوط باندھ لیا کرتے یعنی کمر کس لیا کرتے یعنی عبادت میں پوری کوشش کترے گو اس کے یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ آپ بیویوں سے نہ ملتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں مراد ہوں یعنی بیویوں سے ملنا بھی ترک کردیتے تھے اور عبادت کی مشغولی میں بھی کمر باندھ لیا کرتے تھے چناچہ مسند احمد کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو آپ تہمد مضبوط باندھ لیتے اور عورتوں سے الگ رہتے امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر کی یکساں جستجو کرے کسی ایک رات کو دوسری رات پر ترجیح نہ دے (شرح رافعی) یہ بھی یاد رہے کہ یوں تو ہر وقت دعا کی کثرت مستجب ہے لیکن رمضان میں اور زیادتی کرے اور خصوصاً آخری عشرے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں اس دعا کو بہ کثرت پڑھے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی، اللہ تو درگزر کرنے والا اور درگذر کو پسند فرمانے والا ہے مجھ سے بھی درگذر فرما۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ لاقدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں ؟ آپ نے یہی دعا بتائی یہ حدیث ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں مستدرک حاکم میں بھی یہ مروی ہے اور امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتاتے ہیں ایک عجیب و غریب اثر جس کا تعلق لیلۃ القدر سے ہے امام ابو محمد بن ابو حاتم ؒ نے اپنی تفسیر میں اس سورت کی تفسیر میں حضرت کعب سے اس روایت کے ساتھ وارد کیا ہے کہ سدرۃ المنتہی جو ساتویں آسمان کی حد پر جنت سے متصل ہے جو دنیا اور آخرت کے فاصلہ پر ہے اس کی بلندی جنت میں ہے اس کی شاخیں اور ڈالیں کرسی تلے ہیں اس میں اس قدر فرشتے ہیں جن کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس کی ہر ایک شاخ پر بیشمار فرشتے ہیں ایک بال برابر بھی جگہ ایسی نہیں جو فرشتوں سے خالی ہو اس درخت کے بیچوں بیچ حضرت جبرائیل ؑ کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرائیل کو آواز دی جاتی ہے کہ اے جبرائیل لیلۃ القدر میں اس درخت کے تمام فرشتوں کو لے کر زمین پر جاؤ یہ کل کے کل فرشتے رافت و رحمت والے ہیں جن کے دلوں میں ہر ہر مومن کے لیے رحم کے جذبات موجزن ہیں سورج غروب ہوتے ہی یہ کل کے کل فرشتے حضرت جبرائیل کے ساتھ لیلۃ القدر میں اترتے ہیں تمام روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں ہر ہر جگہ پر سجدے میں قیام میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں ہاں گرجا گھر میں مندر میں آتش کدے میں بت خانے میں غرض اللہ کے سوا اوروں کی جہاں پرستش ہوتی ہے وہاں تو یہ فرشتے نہیں جاتے اور ان جگہوں میں بھی جن میں تم گندی چیزیں ڈالتے ہو اور اس گھر میں بھی جہاں نشے والا شخص ہو یا نشہ والی چیز ہو یا جس گھر میں کوئی بت گڑا ہوا ہو یا جس گھر میں باجے گاجے گھنٹیاں ہوں یا مجسمہ ہو یا کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ ہو وہاں تو یہ رحمت کے فرشتے جاتے نہیں باقی چپے چپے پر گھوم جاتے ہیں اور ساری رات مومن مردوں عورتوں کے لیے دعائیں مانگنے میں گذارتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ روئیں جسم پر کھڑے ہوجائیں دل نرم پڑجائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت میرا ہاتھ حضرت جبرائیل علیہ اللام کے ہاتھ میں ہے حضرت کعب فرماتے ہیں جو شخص اس رات میں تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کی پہلی مرتبہ کے پڑھنے پر گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے دوسری مرتبہ کے کہنے پر آگ سے نجات مل جاتی ہے تیسری مرتبہ کے کہنے پر جنت میں داخل ہوجاتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابو اسحاق جو اس کلمہ کو سچائی سے کہے اس کے ؟ فرمایا یہ تو نکلے گا ہی اس کے منہ سے جو سچائی سے اس کا کہنے والا ہو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ لیلۃ القدر کافرو منافق پر تو اتنی بھاری پڑتی ہے کہ گویا اس کی پیٹھ پر پہاڑ آپڑا۔ غرض فجر ہونے تک فرشتے اسی طرح رہتے ہیں پھر سب سے پہلے حضرت جبرائیل چڑھتے ہیں اور بہت اونچے چڑھ کر اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں بالخصوص ان دو سبز پروں کو جنہیں اس رات کے سوا وہ کبھی نہیں پھیلاتے یہی وجہ ہے کہ سورج کی تیزی ماند پڑجاتی ہے اور شعائیں جاتی رہتی ہیں پھر ایک ایک فرشتے کو پکارتے ہیں اور سب کے سب اوپر چڑھتے ہیں پس فرشتوں کا نور اور جبرائیل ؑ کے پروں کا نور مل کر سورج کو ماند کردیتا ہے اس دن سورج متحیر رہ جاتا ہے حضرت جبرائیل اور یہ سارے کے سارے بیشمار فرشتے اس دن آسمان و زمین کے درمیان مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنے میں گذار دیتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے لیے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کا یہ خیال رہا کہ اگلے سال بھی اگر اللہ نے زندگی رکھی تو رمضان کے روزے عمدگی کے ساتھ پورے کریں گے یہی دعائیں مانگتے رہتے ہیں شام کو دنیا کے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں وہاں کے تمام فرشتے حلقے باندھ باندھ کر ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں اور ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص کو امسال تم نے کس حالت میں پایا تو یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال تو ہم نے اسے عبادتوں میں پایا تھا لیکن اس سال تو وہ بدعتوں میں مبتلا تھا اور فلاں شخص گذشتہ سال بدعتوں میں مبتلا تھا لیکن اس سال ہم نے اسے سنت کے مطابق عبادتوں میں پایا پس یہ فرشتے اس سے پہلے شخص کے لیے بخشش کی دعائیں مانگنی موقوف کردیتے ہیں اور اس دوسرے شخص کے لیے شروع کردیتے ہیں اور یہ فرشتے انہیں سناتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ہم نے ذکر اللہ میں پایا اور فلاں کو رکوع میں اور فلاں کو سجدے میں اور فلاں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں غرض ایک رات دن یہاں گذار کر دوسرے آسمان پر جاتے ہیں یہاں بھی یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں اس وقت سدرۃ المنتہی ان سے پوچھتا ہے کہ مجھ میں بسنے والو میرا بھی تم پر حق ہے میں بھی ان سے محبت رکھتا ہوں جو اللہ سے محبت رکھیں ذرا مجھے بھی تو لوگوں کی حالت کی خبر دو اور ان کے نام بتاؤ حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اب فرشتے اس کے سامنے گنتی کر کے اور ایک ایک مردو عورت کا مع ولدیت کے نام بتاتے ہیں پھر جنت سدرۃ المنتہی کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتی ہے کہ تجھ میں رہنے والے فرشتوں نے جو خبریں تجھے دی ہیں مجھ سے بھی تو بیان کر چناچہ سدرہ اس سے ذکر کرتا ہے یہ سن کر وہ کہتی ہے اللہ کی رحمت ہو فلاں مرد اور فلاں عورت پر اللہ انہیں جلدی مجھ سے ملا جبرائیل ؑ سب سے پہلے اپنی جگہ پہنچ جاتے ہیں انہیں الہام ہوتا ہے اور یہ عرص کرتے ہیں پروردگار میں نے تیرے فلاں فلاں بندوں کو سجدے میں پایا تو انہیں بخش اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخشا حضرت جبرائیل ؑ اسے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو سناتے ہیں پھر سب کہتے ہیں فلاں فلاں مرد و عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور مغفرت ہوئی پھر حضرت جبرائیل ؑ خبر دیتے ہیں کہ باری تعالیٰ فلاں شخص کو گذشتہ سال تو عامل سنت اور عابد چھوڑا تھا لیکن امسال تو بدعتوں میں پڑگیا اور تیرے احکام سے روگردانی کرلی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اگر یہ مرنے سے تین ساعت پہلے بھی توبہ کرلے گا تو میں اسے بخش دوں گا اس وقت حضرت جبرائیل بےساختہ کہہ اٹھتے ہیں اللہ تیرے ہی لیے سب تعریفیں سزا وار ہیں الٰہی تو اپنی مخلوق پر سب سے زیادہ مہربان ہے بندوں پر تیری مہربانی خود ان کی مہربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے اس وقت عرش اور اس کے آس پاس کی چیزیں پردے اور تمام آسمان جنبش میں آجاتے ہویں اور کہہ اٹھتے ہیں الحمد اللّٰہ الرحیم۔ الحمد اللّٰہ الرحیم، حضرت کعب ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان شریف کے روزے پورے کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میں گناہو سے بچتا رہوں گا وہ بغیر سوال جواب کے اور بغیر حسات کتاب کے جنت میں داخل ہوگا، سورة لیلۃ القدر کی تفسیر الحمد اللہ ختم ہوئی۔
البينة 98:1
پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم :اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں ابن زید فرماتے ہیں ان صحیفوں میں کتابیں ہیں استقامت اور عدل و انصاف والی پھر فرمایا کہ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختالف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوگئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے سو ایک کے سب جہنم میں جائیں گے لوگوں نے پوچھا وہ ایک کون ہے فرمایا وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں پھر فرمایا کہ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں جیسے اور جگہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25) 21۔ الأنبیاء :25) ، یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو اسی لیے ہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر جیسے اور جگہ ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ، یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو حنیف کی پوری تفسیر سورة انعام میں گذر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا نمازوں کو قائم کریں جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلی عبادت ہے اور زکوٰۃ دیتے رہیں یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں یہی دین مضبوط سیدھا درست عدل والا اور عمدگی والا ہوے بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی، وغیرہ نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
البينة 98:2
پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم :اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں ابن زید فرماتے ہیں ان صحیفوں میں کتابیں ہیں استقامت اور عدل و انصاف والی پھر فرمایا کہ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختالف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوگئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے سو ایک کے سب جہنم میں جائیں گے لوگوں نے پوچھا وہ ایک کون ہے فرمایا وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں پھر فرمایا کہ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں جیسے اور جگہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25) 21۔ الأنبیاء :25) ، یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو اسی لیے ہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر جیسے اور جگہ ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ، یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو حنیف کی پوری تفسیر سورة انعام میں گذر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا نمازوں کو قائم کریں جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلی عبادت ہے اور زکوٰۃ دیتے رہیں یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں یہی دین مضبوط سیدھا درست عدل والا اور عمدگی والا ہوے بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی، وغیرہ نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
البينة 98:3
پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم :اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں ابن زید فرماتے ہیں ان صحیفوں میں کتابیں ہیں استقامت اور عدل و انصاف والی پھر فرمایا کہ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختالف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوگئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے سو ایک کے سب جہنم میں جائیں گے لوگوں نے پوچھا وہ ایک کون ہے فرمایا وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں پھر فرمایا کہ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں جیسے اور جگہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25) 21۔ الأنبیاء :25) ، یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو اسی لیے ہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر جیسے اور جگہ ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ، یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو حنیف کی پوری تفسیر سورة انعام میں گذر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا نمازوں کو قائم کریں جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلی عبادت ہے اور زکوٰۃ دیتے رہیں یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں یہی دین مضبوط سیدھا درست عدل والا اور عمدگی والا ہوے بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی، وغیرہ نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
البينة 98:4
پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم :اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں ابن زید فرماتے ہیں ان صحیفوں میں کتابیں ہیں استقامت اور عدل و انصاف والی پھر فرمایا کہ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختالف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوگئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے سو ایک کے سب جہنم میں جائیں گے لوگوں نے پوچھا وہ ایک کون ہے فرمایا وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں پھر فرمایا کہ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں جیسے اور جگہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25) 21۔ الأنبیاء :25) ، یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو اسی لیے ہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر جیسے اور جگہ ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ، یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو حنیف کی پوری تفسیر سورة انعام میں گذر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا نمازوں کو قائم کریں جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلی عبادت ہے اور زکوٰۃ دیتے رہیں یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں یہی دین مضبوط سیدھا درست عدل والا اور عمدگی والا ہوے بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی، وغیرہ نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
البينة 98:5
پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم :اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں ابن زید فرماتے ہیں ان صحیفوں میں کتابیں ہیں استقامت اور عدل و انصاف والی پھر فرمایا کہ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختالف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوگئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے سو ایک کے سب جہنم میں جائیں گے لوگوں نے پوچھا وہ ایک کون ہے فرمایا وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں پھر فرمایا کہ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں جیسے اور جگہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25) 21۔ الأنبیاء :25) ، یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو اسی لیے ہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر جیسے اور جگہ ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ، یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو حنیف کی پوری تفسیر سورة انعام میں گذر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا نمازوں کو قائم کریں جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلی عبادت ہے اور زکوٰۃ دیتے رہیں یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں یہی دین مضبوط سیدھا درست عدل والا اور عمدگی والا ہوے بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی، وغیرہ نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
البينة 98:6
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے نہ وہاں سے نکلیں گے نہ رہا ہوں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں اس آیت سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں نہ کم ہوں نہ اور کوئی کھٹکا ہے نہ غم پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہوگئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں جناب باری نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہوگئے ہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو جس کی عبادت میں اخلاص ہو جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا خود وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق مالک سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور فرمایا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگا تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہوجاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے نہ نماز کو چھوڑتا ہے نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے سورة لم یکن کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے۔
البينة 98:7
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے نہ وہاں سے نکلیں گے نہ رہا ہوں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں اس آیت سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں نہ کم ہوں نہ اور کوئی کھٹکا ہے نہ غم پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہوگئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں جناب باری نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہوگئے ہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو جس کی عبادت میں اخلاص ہو جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا خود وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق مالک سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور فرمایا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگا تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہوجاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے نہ نماز کو چھوڑتا ہے نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے سورة لم یکن کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے۔
البينة 98:8
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے نہ وہاں سے نکلیں گے نہ رہا ہوں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں اس آیت سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں نہ کم ہوں نہ اور کوئی کھٹکا ہے نہ غم پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہوگئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں جناب باری نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہوگئے ہیں پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو جس کی عبادت میں اخلاص ہو جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا خود وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق مالک سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور فرمایا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگا تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہوجاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے نہ نماز کو چھوڑتا ہے نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے سورة لم یکن کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے۔
الزلزلة 99:1
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:2
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:3
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:4
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:5
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:6
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:7
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
الزلزلة 99:8
مرحلہ وار قیامت :زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا انسان اس وقت ہلکا بکا رہ جائیگا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہیر ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہوگیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب یدکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہوجائیگا کہ آخر اسے کیا ہوگیا ہے ؟ پس زمین بالکل بدل دی جائیگی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے تو آپ نے فرمایا جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی یہاں وحی سے مراد حکم دینا ہے اوحی اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف لام بھی آتا ہے الی بھی مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہوگا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہوگا کوئی جہنمی یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہوگا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پالیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں ایک اجر پانے والا ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہوگئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر وثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ رہے اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو خود اس بار میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بر ہے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا (مسلم) حضرت صعصعہ بن مالک ؓ نے تو حضور ﷺ کی زبانی یہ آیت سن کر کہہدیا تھا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں (مسند احمد و نسائی) صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عدی بن حاتم ؓ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کرلے دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو مسند احمد کی حدیث میں ہے اے عائشہ گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عتالی عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہیت ہے کہ یہ آیت اتری تو حضرت صدیق نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جائیگا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آگئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائیگا ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر ؓ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے حضور ﷺ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا حضرت ابو سعید خدری ؓ تعال یعنہ نے حضور ﷺ سے یہ آیت سن کر پوچھا کہ حضور ﷺ کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا ہاں پوچھا بڑے بڑے فرمایا ہاں پوچھا اور چھوٹے چھوٹے بھی فرمایا ہاں میں نے کہا ہائے افسوس ! آپ نے فرمایا ابو سعید خوش ہوجاؤ نیکی تو دس گنے سے لے کر سات سوگنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا سنو کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے میں نے کہا حضور ﷺ کیا آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں جب آیت ویطعمون الطعام علی حبہ الخ نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دینگے تو کوئی وثاب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو اس خیال کی ایک جماعت تھی دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہوگی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں کبھی غیبت کرلی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت فمن یعمل نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے ذرہ کے معنی چھوٹ یچیونٹی کے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں ایک ایک کے بدل دس دس بدیاں معاف ہوجاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہوگیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان برائیوں کی مثال باین کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائیگا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) سورة اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:1
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:2
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:3
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:4
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:5
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:6
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:7
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:8
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:9
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:10
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔
العاديات 100:11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ والعادیات سے مراد اونٹ ہیں حضرت علی بھی یہی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں جب حضرت علی کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ایک مرتبہ خطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں وہ یہ پوچھ کر حضرت علی کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے ؟ کہا ہاں حضرت ابن عباس سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں حضرت علی نے فرمایا جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا جب وہ آگئے تو حضرت علی نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ حضرت ابن عباس اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ ضبح یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے ابن عباس فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز اح اح کی نکلتی ہے یہی ضبح ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکرو دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں خواہ حج میں غبار اڑانا پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں جمعا حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گذر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کردیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آگیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ کنود وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے اس کی اسناد ضعیف ہے پھر فرمایا اللہ اس پر شاہد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے شاہدین علی انفسھم بالکفر یعنی مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہوسکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں پھر فرمایا یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے یعنی اسے مال کی بیحد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بےرغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائی گی سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورة عادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی، فالحمد اللہ۔