Tafsir As-Saadi - Urdu — البقرة 2:72 – البقرة 2:175
Contents
- البقرة 2:72
- البقرة 2:73
- البقرة 2:74
- البقرة 2:75
- البقرة 2:76
- البقرة 2:77
- البقرة 2:78
- البقرة 2:79
- البقرة 2:80
- البقرة 2:81
- البقرة 2:82
- البقرة 2:83
- البقرة 2:84
- البقرة 2:85
- البقرة 2:86
- البقرة 2:87
- البقرة 2:88
- البقرة 2:89
- البقرة 2:90
- البقرة 2:91
- البقرة 2:92
- البقرة 2:93
- البقرة 2:94
- البقرة 2:95
- البقرة 2:96
- البقرة 2:97
- البقرة 2:98
- البقرة 2:99
- البقرة 2:100
- البقرة 2:101
- البقرة 2:102
- البقرة 2:103
- البقرة 2:104
- البقرة 2:105
- البقرة 2:106
- البقرة 2:107
- البقرة 2:108
- البقرة 2:109
- البقرة 2:110
- البقرة 2:111
- البقرة 2:112
- البقرة 2:113
- البقرة 2:114
- البقرة 2:115
- البقرة 2:116
- البقرة 2:117
- البقرة 2:118
- البقرة 2:119
- البقرة 2:120
- البقرة 2:121
- البقرة 2:122
- البقرة 2:123
- البقرة 2:124
- البقرة 2:125
- البقرة 2:126
- البقرة 2:127
- البقرة 2:128
- البقرة 2:129
- البقرة 2:130
- البقرة 2:131
- البقرة 2:132
- البقرة 2:133
- البقرة 2:134
- البقرة 2:135
- البقرة 2:136
- البقرة 2:137
- البقرة 2:138
- البقرة 2:139
- البقرة 2:140
- البقرة 2:141
- البقرة 2:142
- البقرة 2:143
- البقرة 2:144
- البقرة 2:145
- البقرة 2:146
- البقرة 2:147
- البقرة 2:148
- البقرة 2:149
- البقرة 2:150
- البقرة 2:151
- البقرة 2:152
- البقرة 2:153
- البقرة 2:154
- البقرة 2:155
- البقرة 2:156
- البقرة 2:157
- البقرة 2:158
- البقرة 2:159
- البقرة 2:160
- البقرة 2:161
- البقرة 2:162
- البقرة 2:163
- البقرة 2:164
- البقرة 2:165
- البقرة 2:166
- البقرة 2:167
- البقرة 2:168
- البقرة 2:169
- البقرة 2:170
- البقرة 2:171
- البقرة 2:172
- البقرة 2:173
- البقرة 2:174
- البقرة 2:175
البقرة 2:72
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، بے شک اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ذبح کرو تم ایک گائے، انھوں نے کہا، کیا بناتا ہے تو ہمیں ہنسی مذاق؟ موسیٰ نے کہا، پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی، اس بات سے کہ ہو جاؤں میں جاہلوں سے(67) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، وہ بیان کرے ہمارے لیے کیسی ہے وہ گائے؟ کہا موسیٰ نے، بلاشبہ اللہ کہتا ہے کہ بے شک وہ ایک گائے ہے، نہ بوڑھی اور نہ بچی، اوسط عمر کی ہے درمیان اس کے، پس کرو وہ جو تم حکم دیے جاتے ہو(68) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے کیسا ہے رنگ اس کا؟ کہا موسیٰ نے، اللہ فرماتا ہے بلاشبہ وہ ایک گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا خوش کرتی ہے دیکھنے والوں کو انھوں نے کہا، دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے، کس قسم کی ہے وہ گائے؟ بے شک وہ گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر(69)اور یقیناً ہم، اگر چاہا اللہ نے، تو ضرور راہ پا لیں گے(70)(موسیٰ نے) کہا، بے شک اللہ فرماتا ہے کہ بلاشبہ وہ ایک گائے ہے، نہیں ہے محنت کرنے والی کہ (بذریعہ ہل) پھاڑتی ہو زمین کو اور نہیں سیراب کرتی کھیتی کو، بے عیب ہے، نہیں ہے کوئی داغ دھبہ اس میں، انھوں نے کہا، اب لایا ہے تو حق، پس ذبح کیا انھوں نے اس کو اور نہ قریب تھے وہ کہ (ذبح) کرتے(71) اور جب قتل کیا تم نے ایک نفس کو، پھر جھگڑا کیا تم نے اس کی بابت اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے اس کو جسے تھے تم چھپاتے(72)پس کہا ہم نے، مارو تم اس مردے کو ایک ٹکڑا اس (گائے) کا، اس طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کواور وہ دکھاتا ہے تمھیں نشانیاں اپنی (قدرت کی) تاکہ تم سمجھو(73) پھر سخت ہو گئے دل تمھارے بعد اس کے، پس ہیں وہ مانند پتھروں کے یا (ان سے بھی) زیادہ سخت ،اور تحقیق کچھ پتھر البتہ وہ ہیں کہ پھوٹتی ہیں ان سے نہریں اور بلاشبہ کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ پھٹ پڑتے ہیں، پس نکلتا ہے ان سے پانی ،اورتحقیق کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سےاور نہیں اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(74)
[67] ان واقعات کو یاد کرو جو تمھارے اور موسیٰuکے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہو جاتے۔ حضرت موسیٰuنے قاتل کو تلاش کرنے کے لیے تمھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے ﴿اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ ’’کیا تو ہمارے ساتھ مذاق کرتا ہے۔‘‘ اللہ کے نبی نے فرمایا: ﴿ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہل بنوں۔‘‘ کیونکہ جاہل ہی ایسی بات کیا کرتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہی لوگوں کا تمسخر اڑایا کرتا ہے۔ عقلمند شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنے جیسے کسی آدمی کا مذاق اڑانا عقل و دین کا سب سے بڑا عیب ہے۔ اگرچہ اسے اس آدمی پر فضیلت ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ یہ فضیلت تو تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ جب حضرت موسیٰuنے ان سے یہ کہا تو انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ سچ ہے۔
[68] کہنے لگے ﴿ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ﴾ ’’اپنے رب سے دعا کر کہ وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے؟‘‘ یعنی اس گائے کی عمر وغیرہ کیا ہے ﴿ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ﴾ ’’موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہے جو بوڑھی نہ ہو‘‘ ﴿فَارِضٌ﴾ یعنی بڑی ﴿ وَّلَا بِكۡرٌ﴾ یعنی نہ ہی زیادہ چھوٹی ﴿ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُـؤۡمَرُوۡنَ﴾ ان مذکورہ دو عمروں کے درمیان متوسط عمر کی ہو۔ پس وہ کام کرو جس کا تمھیں حکم دیا جاتا ہے اور تشدد اور تکلف کو چھوڑ دو۔
[69]﴿ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفۡرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُهَا﴾ ’’انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر کہ وہ اس کا رنگ بیان کرے۔ موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے، وہ گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا‘‘ یعنی خالص زرد رنگ۔ ﴿ تَسُرُّ النّٰظِرِيۡنَ﴾ یعنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
[70]﴿ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ١ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيۡنَا﴾ ’’انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے کیونکہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔‘‘ یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کونسی گائے چاہتے ہیں ﴿ وَاِنَّـاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔‘‘
[71]﴿قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوۡلٌ ﴾ ’’آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی نہ ہو۔‘‘ یعنی وہ (کھیتی باڑی کے کاموں میں جت کر) کمزور اور مطیع نہ ہو ﴿ تُثِيۡرُ الۡاَرۡضَ﴾ ’’جو تتی ہو وہ زمین کو‘‘ یعنی اس سے زمین میں ہل نہ چلایا جاتا ہو ﴿ وَ لَا تَسۡقِي الۡحَرۡثَ﴾ ’’نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو‘‘ یعنی نہ وہ رہٹ میں جتنے والی ہو۔ ﴿ مُسَلَّمَةٌ﴾ ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اور اس سے کسی قسم کا کام نہ لیا جاتا ہو ﴿ لَّا شِيَةَ فِيۡهَا﴾ ’’اس میں کوئی داغ نہ ہو‘‘ یعنی جس رنگ کا گزشتہ سطور میں ذکر ہو چکا ہے اس کے علاوہ اس میں کسی دوسرے رنگ کا کوئی نشان نہ ہو۔ ﴿ قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’انھوں نے کہا، اب لایا تو ٹھیک بات‘‘ یعنی اب تو نے گائے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ یہ ان کی جہالت تھی ورنہ حضرت موسیٰuنے ان کے سامنے پہلی ہی مرتبہ حق بیان کر دیا تھا۔ اگر وہ کوئی بھی گائے پیش کر دیتے تو مقصد حاصل ہو جاتا مگر انھوں نے کثرت سوال کے ذریعے سے تشدد اور تکلف کی راہ اپنائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ نیز اگر انھوں نے ’’اِنْ شَاءَ اللہ‘‘ نہ کہا ہوتا تب بھی وہ مطلوبہ گائے تک نہ پہنچ سکتے۔ ﴿ فَذَبَحُوۡهَا﴾ یعنی انھوں نے اس گائے کو ذبح کر ہی ڈالا جس کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ ﴿ وَمَا كَادُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ان کے تشدد اور تکلف کی وجہ سے جس کا وہ اظہار کر رہے تھے، نظر نہیں آتا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں گے۔
[73-72] جب انھوں نے گائے ذبح کر ڈالی تو ہم نے ان سے کہا کہ گائے کا ایک عضو اس مقتول کو لگاؤ۔ اس سے مراد کوئی معین عضو ہے یا کوئی سا بھی عضو؟ اس کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں۔ بس انھوں نے گائے کے کسی حصے کو مقتول کے ساتھ لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو ظاہر کر دیا جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں باخبر کر دیا کہ قاتل کون ہے۔ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اس مقتول کو دوبارہ زندہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے مردوں کو زندہ کرے گا۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ شاید کہ تم عقل سے کام لو اور ان کاموں سے رک جاؤ جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں۔
[74]﴿ ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ یعنی پھر تمھارے دل بہت سخت ہو گئے، ان پر کسی قسم کی نصیحت کارگر نہیں ہوتی تھی ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ﴾ یعنی اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں عظیم نعمتوں سے نوازا اور تمھیں بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا۔ حالانکہ اس کے بعد تمھارے دلوں کا سخت ہو جانا مناسب نہ تھا کیونکہ تم نے جن امور کا مشاہدہ کیا تھا وہ رقت قلب اور اس کے مطیع ہونے کے موجب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دلوں کی سختی کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَالۡحِجَارَةِ﴾ یعنی وہ سختی میں (پتھر کی مانند ہیں) جو لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، کیونکہ فولاد ہو یا سیسہ جب اسے آگ میں پگھلایا جائے تو پگھل جاتا ہے بخلاف پتھر کے جو آگ میں بھی نہیں پگھلتا ﴿ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً﴾ ’’یا اس سے بھی زیادہ سخت‘‘ یعنی ان کے دلوں کی سختی پتھروں کی سختی سے کم نہیں۔ یہاں (او)(بل) کے معنی میں نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پتھروں کو ان کے دلوں پر فضیلت دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ مِنَ الۡؔحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ١ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ١ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ﴾ کیونکہ ’’بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں‘‘ یعنی ان تمام مذکورہ امور کی وجہ سے پتھر تمھارے دلوں سے بہتر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت وعید سناتے ہوئے کہا: ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی وہ تمھارے اعمال سے غافل نہیں بلکہ وہ تمھارے اعمال کو پوری طرح جانتا ہے وہ تمھارے ہر چھوٹے بڑے عمل کو یاد رکھنے والا ہے اور وہ عنقریب تمھیں تمھارے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے مفسرین (s) نے اپنی تفاسیر کو بنی اسرائیل کے قصوں سے لبریز کر رکھا ہے۔ وہ آیات قرآنی کو اسرائیلیات پر پیش کرتے ہیں اور ان کے مطابق کتاب اللہ کی تفسیر کرتے ہیں اور وہ اپنے اس موقف پر رسول اللہﷺکے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں ’حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی اِسْرَائِیْلَ وَلاَ حَرَجَ‘ (سنن أبی داود، العلم، باب الحديث عن بنی اسرائیل، حديث:3662)’’بنی اسرائیل سے روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اگرچہ ایک پہلو سے بنی اسرائیل کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان روایات کو الگ اور غیر مقرون (قرآن کی تفسیر کے ساتھ ملائے بغیر) بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان کو کتاب اللہ پر پیش کر کے کتاب اللہ کی تفسیر بنانا قطعاً جائز نہیں جبکہ وہ رسول اللہﷺسے صحیح سند سے ثابت نہ ہو۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہﷺکے ارشاد کے مطابق ان روایات کا مرتبہ صرف یہ ہے: ’لَا تُصَدِّقُوْا اَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُم‘ (صحیح بخاری، التفسیر، باب قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا، حديث:4485) ’’تم اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب۔‘‘ جب ان روایات کا مرتبہ یہ ہے کہ ان کی صحت مشکوک ہے اور ضروریات دین کے طور پر یہ چیز بھی ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید پر ایمان لانا اور اس کے الفاظ و معانی پر قطعی یقین رکھنا فرض ہے۔ لہٰذا ان مجہول روایات کے ذریعے سے منقول قصے کہانیوں کو جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ جھوٹی ہیں یا ان میں سے اکثر جھوٹی ہیں۔ یقین کے ساتھ قرآن کے معانی قرار دینا ہرگز جائز نہیں۔ اس بارے میں کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہیے۔ اس اصول سے غفلت کے سبب سے بہت سا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ واللہ الموفق۔
البقرة 2:73
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، بے شک اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ذبح کرو تم ایک گائے، انھوں نے کہا، کیا بناتا ہے تو ہمیں ہنسی مذاق؟ موسیٰ نے کہا، پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی، اس بات سے کہ ہو جاؤں میں جاہلوں سے(67) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، وہ بیان کرے ہمارے لیے کیسی ہے وہ گائے؟ کہا موسیٰ نے، بلاشبہ اللہ کہتا ہے کہ بے شک وہ ایک گائے ہے، نہ بوڑھی اور نہ بچی، اوسط عمر کی ہے درمیان اس کے، پس کرو وہ جو تم حکم دیے جاتے ہو(68) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے کیسا ہے رنگ اس کا؟ کہا موسیٰ نے، اللہ فرماتا ہے بلاشبہ وہ ایک گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا خوش کرتی ہے دیکھنے والوں کو انھوں نے کہا، دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے، کس قسم کی ہے وہ گائے؟ بے شک وہ گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر(69)اور یقیناً ہم، اگر چاہا اللہ نے، تو ضرور راہ پا لیں گے(70)(موسیٰ نے) کہا، بے شک اللہ فرماتا ہے کہ بلاشبہ وہ ایک گائے ہے، نہیں ہے محنت کرنے والی کہ (بذریعہ ہل) پھاڑتی ہو زمین کو اور نہیں سیراب کرتی کھیتی کو، بے عیب ہے، نہیں ہے کوئی داغ دھبہ اس میں، انھوں نے کہا، اب لایا ہے تو حق، پس ذبح کیا انھوں نے اس کو اور نہ قریب تھے وہ کہ (ذبح) کرتے(71) اور جب قتل کیا تم نے ایک نفس کو، پھر جھگڑا کیا تم نے اس کی بابت اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے اس کو جسے تھے تم چھپاتے(72)پس کہا ہم نے، مارو تم اس مردے کو ایک ٹکڑا اس (گائے) کا، اس طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کواور وہ دکھاتا ہے تمھیں نشانیاں اپنی (قدرت کی) تاکہ تم سمجھو(73) پھر سخت ہو گئے دل تمھارے بعد اس کے، پس ہیں وہ مانند پتھروں کے یا (ان سے بھی) زیادہ سخت ،اور تحقیق کچھ پتھر البتہ وہ ہیں کہ پھوٹتی ہیں ان سے نہریں اور بلاشبہ کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ پھٹ پڑتے ہیں، پس نکلتا ہے ان سے پانی ،اورتحقیق کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سےاور نہیں اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(74)
[67] ان واقعات کو یاد کرو جو تمھارے اور موسیٰuکے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہو جاتے۔ حضرت موسیٰuنے قاتل کو تلاش کرنے کے لیے تمھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے ﴿اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ ’’کیا تو ہمارے ساتھ مذاق کرتا ہے۔‘‘ اللہ کے نبی نے فرمایا: ﴿ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہل بنوں۔‘‘ کیونکہ جاہل ہی ایسی بات کیا کرتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہی لوگوں کا تمسخر اڑایا کرتا ہے۔ عقلمند شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنے جیسے کسی آدمی کا مذاق اڑانا عقل و دین کا سب سے بڑا عیب ہے۔ اگرچہ اسے اس آدمی پر فضیلت ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ یہ فضیلت تو تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ جب حضرت موسیٰuنے ان سے یہ کہا تو انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ سچ ہے۔
[68] کہنے لگے ﴿ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ﴾ ’’اپنے رب سے دعا کر کہ وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے؟‘‘ یعنی اس گائے کی عمر وغیرہ کیا ہے ﴿ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ﴾ ’’موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہے جو بوڑھی نہ ہو‘‘ ﴿فَارِضٌ﴾ یعنی بڑی ﴿ وَّلَا بِكۡرٌ﴾ یعنی نہ ہی زیادہ چھوٹی ﴿ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُـؤۡمَرُوۡنَ﴾ ان مذکورہ دو عمروں کے درمیان متوسط عمر کی ہو۔ پس وہ کام کرو جس کا تمھیں حکم دیا جاتا ہے اور تشدد اور تکلف کو چھوڑ دو۔
[69]﴿ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفۡرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُهَا﴾ ’’انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر کہ وہ اس کا رنگ بیان کرے۔ موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے، وہ گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا‘‘ یعنی خالص زرد رنگ۔ ﴿ تَسُرُّ النّٰظِرِيۡنَ﴾ یعنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
[70]﴿ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ١ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيۡنَا﴾ ’’انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے کیونکہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔‘‘ یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کونسی گائے چاہتے ہیں ﴿ وَاِنَّـاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔‘‘
[71]﴿قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوۡلٌ ﴾ ’’آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی نہ ہو۔‘‘ یعنی وہ (کھیتی باڑی کے کاموں میں جت کر) کمزور اور مطیع نہ ہو ﴿ تُثِيۡرُ الۡاَرۡضَ﴾ ’’جو تتی ہو وہ زمین کو‘‘ یعنی اس سے زمین میں ہل نہ چلایا جاتا ہو ﴿ وَ لَا تَسۡقِي الۡحَرۡثَ﴾ ’’نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو‘‘ یعنی نہ وہ رہٹ میں جتنے والی ہو۔ ﴿ مُسَلَّمَةٌ﴾ ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اور اس سے کسی قسم کا کام نہ لیا جاتا ہو ﴿ لَّا شِيَةَ فِيۡهَا﴾ ’’اس میں کوئی داغ نہ ہو‘‘ یعنی جس رنگ کا گزشتہ سطور میں ذکر ہو چکا ہے اس کے علاوہ اس میں کسی دوسرے رنگ کا کوئی نشان نہ ہو۔ ﴿ قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’انھوں نے کہا، اب لایا تو ٹھیک بات‘‘ یعنی اب تو نے گائے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ یہ ان کی جہالت تھی ورنہ حضرت موسیٰuنے ان کے سامنے پہلی ہی مرتبہ حق بیان کر دیا تھا۔ اگر وہ کوئی بھی گائے پیش کر دیتے تو مقصد حاصل ہو جاتا مگر انھوں نے کثرت سوال کے ذریعے سے تشدد اور تکلف کی راہ اپنائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ نیز اگر انھوں نے ’’اِنْ شَاءَ اللہ‘‘ نہ کہا ہوتا تب بھی وہ مطلوبہ گائے تک نہ پہنچ سکتے۔ ﴿ فَذَبَحُوۡهَا﴾ یعنی انھوں نے اس گائے کو ذبح کر ہی ڈالا جس کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ ﴿ وَمَا كَادُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ان کے تشدد اور تکلف کی وجہ سے جس کا وہ اظہار کر رہے تھے، نظر نہیں آتا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں گے۔
[73-72] جب انھوں نے گائے ذبح کر ڈالی تو ہم نے ان سے کہا کہ گائے کا ایک عضو اس مقتول کو لگاؤ۔ اس سے مراد کوئی معین عضو ہے یا کوئی سا بھی عضو؟ اس کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں۔ بس انھوں نے گائے کے کسی حصے کو مقتول کے ساتھ لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو ظاہر کر دیا جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں باخبر کر دیا کہ قاتل کون ہے۔ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اس مقتول کو دوبارہ زندہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے مردوں کو زندہ کرے گا۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ شاید کہ تم عقل سے کام لو اور ان کاموں سے رک جاؤ جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں۔
[74]﴿ ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ یعنی پھر تمھارے دل بہت سخت ہو گئے، ان پر کسی قسم کی نصیحت کارگر نہیں ہوتی تھی ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ﴾ یعنی اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں عظیم نعمتوں سے نوازا اور تمھیں بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا۔ حالانکہ اس کے بعد تمھارے دلوں کا سخت ہو جانا مناسب نہ تھا کیونکہ تم نے جن امور کا مشاہدہ کیا تھا وہ رقت قلب اور اس کے مطیع ہونے کے موجب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دلوں کی سختی کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَالۡحِجَارَةِ﴾ یعنی وہ سختی میں (پتھر کی مانند ہیں) جو لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، کیونکہ فولاد ہو یا سیسہ جب اسے آگ میں پگھلایا جائے تو پگھل جاتا ہے بخلاف پتھر کے جو آگ میں بھی نہیں پگھلتا ﴿ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً﴾ ’’یا اس سے بھی زیادہ سخت‘‘ یعنی ان کے دلوں کی سختی پتھروں کی سختی سے کم نہیں۔ یہاں (او)(بل) کے معنی میں نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پتھروں کو ان کے دلوں پر فضیلت دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ مِنَ الۡؔحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ١ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ١ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ﴾ کیونکہ ’’بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں‘‘ یعنی ان تمام مذکورہ امور کی وجہ سے پتھر تمھارے دلوں سے بہتر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت وعید سناتے ہوئے کہا: ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی وہ تمھارے اعمال سے غافل نہیں بلکہ وہ تمھارے اعمال کو پوری طرح جانتا ہے وہ تمھارے ہر چھوٹے بڑے عمل کو یاد رکھنے والا ہے اور وہ عنقریب تمھیں تمھارے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے مفسرین (s) نے اپنی تفاسیر کو بنی اسرائیل کے قصوں سے لبریز کر رکھا ہے۔ وہ آیات قرآنی کو اسرائیلیات پر پیش کرتے ہیں اور ان کے مطابق کتاب اللہ کی تفسیر کرتے ہیں اور وہ اپنے اس موقف پر رسول اللہﷺکے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں ’حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی اِسْرَائِیْلَ وَلاَ حَرَجَ‘ (سنن أبی داود، العلم، باب الحديث عن بنی اسرائیل، حديث:3662)’’بنی اسرائیل سے روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اگرچہ ایک پہلو سے بنی اسرائیل کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان روایات کو الگ اور غیر مقرون (قرآن کی تفسیر کے ساتھ ملائے بغیر) بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان کو کتاب اللہ پر پیش کر کے کتاب اللہ کی تفسیر بنانا قطعاً جائز نہیں جبکہ وہ رسول اللہﷺسے صحیح سند سے ثابت نہ ہو۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہﷺکے ارشاد کے مطابق ان روایات کا مرتبہ صرف یہ ہے: ’لَا تُصَدِّقُوْا اَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُم‘ (صحیح بخاری، التفسیر، باب قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا، حديث:4485) ’’تم اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب۔‘‘ جب ان روایات کا مرتبہ یہ ہے کہ ان کی صحت مشکوک ہے اور ضروریات دین کے طور پر یہ چیز بھی ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید پر ایمان لانا اور اس کے الفاظ و معانی پر قطعی یقین رکھنا فرض ہے۔ لہٰذا ان مجہول روایات کے ذریعے سے منقول قصے کہانیوں کو جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ جھوٹی ہیں یا ان میں سے اکثر جھوٹی ہیں۔ یقین کے ساتھ قرآن کے معانی قرار دینا ہرگز جائز نہیں۔ اس بارے میں کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہیے۔ اس اصول سے غفلت کے سبب سے بہت سا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ واللہ الموفق۔
البقرة 2:74
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، بے شک اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ذبح کرو تم ایک گائے، انھوں نے کہا، کیا بناتا ہے تو ہمیں ہنسی مذاق؟ موسیٰ نے کہا، پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی، اس بات سے کہ ہو جاؤں میں جاہلوں سے(67) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، وہ بیان کرے ہمارے لیے کیسی ہے وہ گائے؟ کہا موسیٰ نے، بلاشبہ اللہ کہتا ہے کہ بے شک وہ ایک گائے ہے، نہ بوڑھی اور نہ بچی، اوسط عمر کی ہے درمیان اس کے، پس کرو وہ جو تم حکم دیے جاتے ہو(68) انھوں نے کہا، دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے کیسا ہے رنگ اس کا؟ کہا موسیٰ نے، اللہ فرماتا ہے بلاشبہ وہ ایک گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا خوش کرتی ہے دیکھنے والوں کو انھوں نے کہا، دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے، بیان کرے وہ ہمارے لیے، کس قسم کی ہے وہ گائے؟ بے شک وہ گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر(69)اور یقیناً ہم، اگر چاہا اللہ نے، تو ضرور راہ پا لیں گے(70)(موسیٰ نے) کہا، بے شک اللہ فرماتا ہے کہ بلاشبہ وہ ایک گائے ہے، نہیں ہے محنت کرنے والی کہ (بذریعہ ہل) پھاڑتی ہو زمین کو اور نہیں سیراب کرتی کھیتی کو، بے عیب ہے، نہیں ہے کوئی داغ دھبہ اس میں، انھوں نے کہا، اب لایا ہے تو حق، پس ذبح کیا انھوں نے اس کو اور نہ قریب تھے وہ کہ (ذبح) کرتے(71) اور جب قتل کیا تم نے ایک نفس کو، پھر جھگڑا کیا تم نے اس کی بابت اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے اس کو جسے تھے تم چھپاتے(72)پس کہا ہم نے، مارو تم اس مردے کو ایک ٹکڑا اس (گائے) کا، اس طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کواور وہ دکھاتا ہے تمھیں نشانیاں اپنی (قدرت کی) تاکہ تم سمجھو(73) پھر سخت ہو گئے دل تمھارے بعد اس کے، پس ہیں وہ مانند پتھروں کے یا (ان سے بھی) زیادہ سخت ،اور تحقیق کچھ پتھر البتہ وہ ہیں کہ پھوٹتی ہیں ان سے نہریں اور بلاشبہ کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ پھٹ پڑتے ہیں، پس نکلتا ہے ان سے پانی ،اورتحقیق کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں کہ گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سےاور نہیں اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(74)
[67] ان واقعات کو یاد کرو جو تمھارے اور موسیٰuکے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہو جاتے۔ حضرت موسیٰuنے قاتل کو تلاش کرنے کے لیے تمھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے ﴿اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ ’’کیا تو ہمارے ساتھ مذاق کرتا ہے۔‘‘ اللہ کے نبی نے فرمایا: ﴿ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہل بنوں۔‘‘ کیونکہ جاہل ہی ایسی بات کیا کرتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہی لوگوں کا تمسخر اڑایا کرتا ہے۔ عقلمند شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنے جیسے کسی آدمی کا مذاق اڑانا عقل و دین کا سب سے بڑا عیب ہے۔ اگرچہ اسے اس آدمی پر فضیلت ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ یہ فضیلت تو تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرے اور اس کے بندوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ جب حضرت موسیٰuنے ان سے یہ کہا تو انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ سچ ہے۔
[68] کہنے لگے ﴿ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ﴾ ’’اپنے رب سے دعا کر کہ وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے؟‘‘ یعنی اس گائے کی عمر وغیرہ کیا ہے ﴿ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ﴾ ’’موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہے جو بوڑھی نہ ہو‘‘ ﴿فَارِضٌ﴾ یعنی بڑی ﴿ وَّلَا بِكۡرٌ﴾ یعنی نہ ہی زیادہ چھوٹی ﴿ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُـؤۡمَرُوۡنَ﴾ ان مذکورہ دو عمروں کے درمیان متوسط عمر کی ہو۔ پس وہ کام کرو جس کا تمھیں حکم دیا جاتا ہے اور تشدد اور تکلف کو چھوڑ دو۔
[69]﴿ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفۡرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُهَا﴾ ’’انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر کہ وہ اس کا رنگ بیان کرے۔ موسیٰ نے کہا، اللہ کہتا ہے، وہ گائے ہے زرد رنگ کی، خوب گہرا ہے رنگ اس کا‘‘ یعنی خالص زرد رنگ۔ ﴿ تَسُرُّ النّٰظِرِيۡنَ﴾ یعنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
[70]﴿ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِيَ١ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيۡنَا﴾ ’’انھوں نے کہا، اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر وہ بیان کرے کہ وہ کیا ہے کیونکہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔‘‘ یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کونسی گائے چاہتے ہیں ﴿ وَاِنَّـاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔‘‘
[71]﴿قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوۡلٌ ﴾ ’’آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی نہ ہو۔‘‘ یعنی وہ (کھیتی باڑی کے کاموں میں جت کر) کمزور اور مطیع نہ ہو ﴿ تُثِيۡرُ الۡاَرۡضَ﴾ ’’جو تتی ہو وہ زمین کو‘‘ یعنی اس سے زمین میں ہل نہ چلایا جاتا ہو ﴿ وَ لَا تَسۡقِي الۡحَرۡثَ﴾ ’’نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو‘‘ یعنی نہ وہ رہٹ میں جتنے والی ہو۔ ﴿ مُسَلَّمَةٌ﴾ ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اور اس سے کسی قسم کا کام نہ لیا جاتا ہو ﴿ لَّا شِيَةَ فِيۡهَا﴾ ’’اس میں کوئی داغ نہ ہو‘‘ یعنی جس رنگ کا گزشتہ سطور میں ذکر ہو چکا ہے اس کے علاوہ اس میں کسی دوسرے رنگ کا کوئی نشان نہ ہو۔ ﴿ قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’انھوں نے کہا، اب لایا تو ٹھیک بات‘‘ یعنی اب تو نے گائے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ یہ ان کی جہالت تھی ورنہ حضرت موسیٰuنے ان کے سامنے پہلی ہی مرتبہ حق بیان کر دیا تھا۔ اگر وہ کوئی بھی گائے پیش کر دیتے تو مقصد حاصل ہو جاتا مگر انھوں نے کثرت سوال کے ذریعے سے تشدد اور تکلف کی راہ اپنائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ نیز اگر انھوں نے ’’اِنْ شَاءَ اللہ‘‘ نہ کہا ہوتا تب بھی وہ مطلوبہ گائے تک نہ پہنچ سکتے۔ ﴿ فَذَبَحُوۡهَا﴾ یعنی انھوں نے اس گائے کو ذبح کر ہی ڈالا جس کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ ﴿ وَمَا كَادُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ان کے تشدد اور تکلف کی وجہ سے جس کا وہ اظہار کر رہے تھے، نظر نہیں آتا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں گے۔
[73-72] جب انھوں نے گائے ذبح کر ڈالی تو ہم نے ان سے کہا کہ گائے کا ایک عضو اس مقتول کو لگاؤ۔ اس سے مراد کوئی معین عضو ہے یا کوئی سا بھی عضو؟ اس کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں۔ بس انھوں نے گائے کے کسی حصے کو مقتول کے ساتھ لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو ظاہر کر دیا جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں باخبر کر دیا کہ قاتل کون ہے۔ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اس مقتول کو دوبارہ زندہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے مردوں کو زندہ کرے گا۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ شاید کہ تم عقل سے کام لو اور ان کاموں سے رک جاؤ جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں۔
[74]﴿ ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ یعنی پھر تمھارے دل بہت سخت ہو گئے، ان پر کسی قسم کی نصیحت کارگر نہیں ہوتی تھی ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ﴾ یعنی اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں عظیم نعمتوں سے نوازا اور تمھیں بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا۔ حالانکہ اس کے بعد تمھارے دلوں کا سخت ہو جانا مناسب نہ تھا کیونکہ تم نے جن امور کا مشاہدہ کیا تھا وہ رقت قلب اور اس کے مطیع ہونے کے موجب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دلوں کی سختی کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَالۡحِجَارَةِ﴾ یعنی وہ سختی میں (پتھر کی مانند ہیں) جو لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، کیونکہ فولاد ہو یا سیسہ جب اسے آگ میں پگھلایا جائے تو پگھل جاتا ہے بخلاف پتھر کے جو آگ میں بھی نہیں پگھلتا ﴿ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً﴾ ’’یا اس سے بھی زیادہ سخت‘‘ یعنی ان کے دلوں کی سختی پتھروں کی سختی سے کم نہیں۔ یہاں (او)(بل) کے معنی میں نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پتھروں کو ان کے دلوں پر فضیلت دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ مِنَ الۡؔحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ١ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ١ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ﴾ کیونکہ ’’بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں‘‘ یعنی ان تمام مذکورہ امور کی وجہ سے پتھر تمھارے دلوں سے بہتر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت وعید سناتے ہوئے کہا: ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی وہ تمھارے اعمال سے غافل نہیں بلکہ وہ تمھارے اعمال کو پوری طرح جانتا ہے وہ تمھارے ہر چھوٹے بڑے عمل کو یاد رکھنے والا ہے اور وہ عنقریب تمھیں تمھارے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے مفسرین (s) نے اپنی تفاسیر کو بنی اسرائیل کے قصوں سے لبریز کر رکھا ہے۔ وہ آیات قرآنی کو اسرائیلیات پر پیش کرتے ہیں اور ان کے مطابق کتاب اللہ کی تفسیر کرتے ہیں اور وہ اپنے اس موقف پر رسول اللہﷺکے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں ’حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی اِسْرَائِیْلَ وَلاَ حَرَجَ‘ (سنن أبی داود، العلم، باب الحديث عن بنی اسرائیل، حديث:3662)’’بنی اسرائیل سے روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اگرچہ ایک پہلو سے بنی اسرائیل کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان روایات کو الگ اور غیر مقرون (قرآن کی تفسیر کے ساتھ ملائے بغیر) بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان کو کتاب اللہ پر پیش کر کے کتاب اللہ کی تفسیر بنانا قطعاً جائز نہیں جبکہ وہ رسول اللہﷺسے صحیح سند سے ثابت نہ ہو۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہﷺکے ارشاد کے مطابق ان روایات کا مرتبہ صرف یہ ہے: ’لَا تُصَدِّقُوْا اَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُم‘ (صحیح بخاری، التفسیر، باب قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا، حديث:4485) ’’تم اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب۔‘‘ جب ان روایات کا مرتبہ یہ ہے کہ ان کی صحت مشکوک ہے اور ضروریات دین کے طور پر یہ چیز بھی ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید پر ایمان لانا اور اس کے الفاظ و معانی پر قطعی یقین رکھنا فرض ہے۔ لہٰذا ان مجہول روایات کے ذریعے سے منقول قصے کہانیوں کو جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ جھوٹی ہیں یا ان میں سے اکثر جھوٹی ہیں۔ یقین کے ساتھ قرآن کے معانی قرار دینا ہرگز جائز نہیں۔ اس بارے میں کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہیے۔ اس اصول سے غفلت کے سبب سے بہت سا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ واللہ الموفق۔
البقرة 2:75
کیا پس تم (اے مسلمانو!) طمع رکھتے ہو کہ وہ ایمان لے آئیں گے تمھارے لیے، حالانکہ تھا ایک فریق ان میں سے، وہ سنتے تھے کلام اللہ کا ، پھر وہ تحریف کر دیتے تھے اس میں بعد اس کے کہ وہ سمجھ لیتے تھے اس (کلام) کو اور وہ جانتے تھے(75) اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہیں ہم بھی اور جب علیحدہ ہوتا ہے بعض ان کا بعض کی طرف تو کہتے ہیں کیا تم بیان کرتے ہو ان سے، جو کھولا اللہ نے تم پر تاکہ وہ غالب آجائیں تم پر اس کے ساتھ نزدیک تمھارے رب کے؟ کیا نہیں تم سمجھتے؟(76) کیا وہ نہیں جانتے کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟(77) اور کچھ ان میں سے ان پڑھ ہیں نہیں جانتے وہ کتاب کو سوائے آرزوؤں کےاور نہیں ہیں وہ مگر صرف گمان کرتے(78)
[75] یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لیے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لیے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔
[76] پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا﴾ ’’جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُؔمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔‘‘ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پس تم سمجھتے نہیں؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔
[77]﴿ اَوَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَ مَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ ہر چند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لیے ان کے خلاف دلیل نہ بنے تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔
[78]﴿ وَمِنۡهُمۡ﴾ ’’اور کچھ ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّيُّوۡنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
البقرة 2:76
کیا پس تم (اے مسلمانو!) طمع رکھتے ہو کہ وہ ایمان لے آئیں گے تمھارے لیے، حالانکہ تھا ایک فریق ان میں سے، وہ سنتے تھے کلام اللہ کا ، پھر وہ تحریف کر دیتے تھے اس میں بعد اس کے کہ وہ سمجھ لیتے تھے اس (کلام) کو اور وہ جانتے تھے(75) اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہیں ہم بھی اور جب علیحدہ ہوتا ہے بعض ان کا بعض کی طرف تو کہتے ہیں کیا تم بیان کرتے ہو ان سے، جو کھولا اللہ نے تم پر تاکہ وہ غالب آجائیں تم پر اس کے ساتھ نزدیک تمھارے رب کے؟ کیا نہیں تم سمجھتے؟(76) کیا وہ نہیں جانتے کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟(77) اور کچھ ان میں سے ان پڑھ ہیں نہیں جانتے وہ کتاب کو سوائے آرزوؤں کےاور نہیں ہیں وہ مگر صرف گمان کرتے(78)
[75] یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لیے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لیے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔
[76] پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا﴾ ’’جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُؔمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔‘‘ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پس تم سمجھتے نہیں؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔
[77]﴿ اَوَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَ مَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ ہر چند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لیے ان کے خلاف دلیل نہ بنے تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔
[78]﴿ وَمِنۡهُمۡ﴾ ’’اور کچھ ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّيُّوۡنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
البقرة 2:77
کیا پس تم (اے مسلمانو!) طمع رکھتے ہو کہ وہ ایمان لے آئیں گے تمھارے لیے، حالانکہ تھا ایک فریق ان میں سے، وہ سنتے تھے کلام اللہ کا ، پھر وہ تحریف کر دیتے تھے اس میں بعد اس کے کہ وہ سمجھ لیتے تھے اس (کلام) کو اور وہ جانتے تھے(75) اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہیں ہم بھی اور جب علیحدہ ہوتا ہے بعض ان کا بعض کی طرف تو کہتے ہیں کیا تم بیان کرتے ہو ان سے، جو کھولا اللہ نے تم پر تاکہ وہ غالب آجائیں تم پر اس کے ساتھ نزدیک تمھارے رب کے؟ کیا نہیں تم سمجھتے؟(76) کیا وہ نہیں جانتے کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟(77) اور کچھ ان میں سے ان پڑھ ہیں نہیں جانتے وہ کتاب کو سوائے آرزوؤں کےاور نہیں ہیں وہ مگر صرف گمان کرتے(78)
[75] یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لیے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لیے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔
[76] پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا﴾ ’’جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُؔمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔‘‘ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پس تم سمجھتے نہیں؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔
[77]﴿ اَوَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَ مَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ ہر چند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لیے ان کے خلاف دلیل نہ بنے تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔
[78]﴿ وَمِنۡهُمۡ﴾ ’’اور کچھ ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّيُّوۡنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
البقرة 2:78
کیا پس تم (اے مسلمانو!) طمع رکھتے ہو کہ وہ ایمان لے آئیں گے تمھارے لیے، حالانکہ تھا ایک فریق ان میں سے، وہ سنتے تھے کلام اللہ کا ، پھر وہ تحریف کر دیتے تھے اس میں بعد اس کے کہ وہ سمجھ لیتے تھے اس (کلام) کو اور وہ جانتے تھے(75) اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہیں ہم بھی اور جب علیحدہ ہوتا ہے بعض ان کا بعض کی طرف تو کہتے ہیں کیا تم بیان کرتے ہو ان سے، جو کھولا اللہ نے تم پر تاکہ وہ غالب آجائیں تم پر اس کے ساتھ نزدیک تمھارے رب کے؟ کیا نہیں تم سمجھتے؟(76) کیا وہ نہیں جانتے کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟(77) اور کچھ ان میں سے ان پڑھ ہیں نہیں جانتے وہ کتاب کو سوائے آرزوؤں کےاور نہیں ہیں وہ مگر صرف گمان کرتے(78)
[75] یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لیے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لیے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔
[76] پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا﴾ ’’جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُؔمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔‘‘ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پس تم سمجھتے نہیں؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔
[77]﴿ اَوَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَ مَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ ہر چند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لیے ان کے خلاف دلیل نہ بنے تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔
[78]﴿ وَمِنۡهُمۡ﴾ ’’اور کچھ ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّيُّوۡنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
البقرة 2:79
پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھوں سے ، پھر کہتے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ لیں اس کے بدلے میں مول تھوڑا سا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے بوجہ اس کے جو لکھا ان کے ہاتھوں نے،اور ہلاکت ہے ان کے لیے بہ سبب اس کے جو وہ کماتے ہیں(79)
[79] اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے لکھ کر اور اپنی تحریف کے بارے میں کہتے ہیں: ﴿هٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ﴾ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اظہار باطل اور کتمان حق ہے۔ اور انھوں نے علم رکھنے کے باوجود یہ کیا ﴿ لِيَشۡتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑی قیمت حاصل کریں‘‘ اور تمام دنیا اول سے لے کر آخر تک کتاب اللہ کے مقابلے میں بہت کم قیمت ہے۔ پس انھوں نے اپنے باطل کو ایک جال بنا رکھا ہے جس میں لوگوں کو پھانس کر ان کا مال ہتھیاتے ہیں۔ پس وہ لوگوں پر دو پہلوؤں سے ظلم کرتے ہیں۔ (۱) ایک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگوں پر ان کے دین کو چھپاتے ہیں۔ (۲) اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق بلکہ باطل ترین طریقے سے ہڑپ کرتے ہیں اور اس کی برائی چوری اور غصب کرنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ پس ان دو امور کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سنائی ہے۔ ﴿ فَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا كَتَبَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ ’’پس ہلاکت ہے ان کے لیے اس سے، جو ان کے ہاتھوں نے لکھا۔‘‘ یعنی جو تحریف کی اور باطل تحریریں لکھیں۔ ﴿ وَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّؔا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ یعنی وہ مال جو وہ باطل طریقے سے کماتے ہیں۔ (ویل) عذاب کی شدت اور حسرت کو کہا جاتا ہے اسی کے ضمن میں سخت وعید بھی آ جاتی ہے۔ شیخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ﴿اَفَتَطۡمَعُوۡنَ﴾سے لے کر ﴿يَكۡسِبُوۡنَ﴾ تک آیات کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں تحریف کر کے ان کو اصل مفہوم سے ہٹا دیتے ہیں۔ اس وعید میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو کتاب و سنت کو اپنی بدعات باطلہ پر محمول کرتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی مذمت فرمائی ہے جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے اپنی خواہشات اور آرزوؤں کے۔ اس وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تدبر قرآن کے سر نہاں کو ترک کر دیتے ہیں اور اس کے حروف کی مجرد تلاوت کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہ وعید اس شخص کے لیے بھی ہے جو محض دنیا کمانے کے لیے کوئی ایسی کتاب لکھتا ہے جو قرآن و سنت کے خلاف ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ یہ شریعت اور دین ہے یہ کتاب و سنت کامعنی ہے یہ سلف امت اور ائمہ کرام کی تعبیرات ہیں اور یہ دین کے وہ بنیادی اصول ہیں جن پر اعتقاد رکھنا فرض عین یا فرض کفایہ ہے۔ اس وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کتاب و سنت کے علم کو محض اس وجہ سے چھپاتے ہیں کہ کہیں ان کے مخالفین اس کو اپنے حق میں ان کے خلاف دلیل نہ بنا لیں۔ اہل اھواء و بدعات میں بالجملہ یہ امور بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، مثلاً روافض وغیرہ اور تفصیلاً یہ امور بہت سے ان لوگوں میں بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ائمہ فقہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔‘‘
البقرة 2:80
اور کہا انھوں نے، ہر گز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے، کہہ دیجیے! کیا لیا ہے تم نے اللہ سے کوئی عہد؟ پھر تو ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے عہد کے یا کہتے ہو تم اللہ پر وہ بات جو تم نہیں جانتے؟ (80)کیوں نہیں! جس نے کمائی کوئی برائی اور گھیر لیا اس کو اس کی برائی نے، پس وہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(81) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(82)
[80] اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انھیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی۔ یعنی بہت ہی کم دنوں کے لیے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول ان سے کہہ دو! ﴿اَتَّؔخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا﴾ یعنی کیا تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و رسل پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت کر کے اللہ تعالیٰ سے عہد لے رکھا ہے۔ پس یہ وعدہ تو یقیناً صاحب وعدہ کی نجات کا موجب ہے جس میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ ﴿ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’یا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کا تمھیں علم ہی نہیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے دعوے کی صداقت ان دو امور میں سے ایک پر موقوف ہے۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ (۱)یا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے نجات کا کوئی عہد لیا ہو گا تب ان کا دعویٰ صحیح ہے۔ (۲)یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں۔ تب ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ بس یہ بہتان ان کی رسوائی اور عذاب کے لیے کافی ہے۔ ان کے حالات ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد عطا نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ انھوں نے بے شمار انبیاء کی تکذیب کی تھی حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انبیاء کا ایک گروہ ان کے ہاتھوں قتل ہوا، نیز انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدوں کو توڑا۔ پس اس سے اس بات کا تعین ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے اور اس کی بابت ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کو وہ خود نہیں جانتے اور علم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی بات لگانا، سب سے بڑا حرام اور سب سے بڑی برائی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے ایک عام حکم بیان کیا ہے جس میں بنی اسرائیل اور دیگر تمام لوگ داخل ہیں وہ ایک ایسا حکم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور حکم ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ ان کی آرزوئیں اور دعوے، جووہ ہلاک ہونے والوں اور نجات پانے والوں کی بابت کرتے ہیں۔
[81] پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلٰي ﴾ یعنی معاملہ یوں نہیں جس طرح تم نے بیان کیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ﴿ مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً﴾ ’’جس نے کوئی برائی کمائی‘‘ یہاں ﴿سَيِّئَۃً﴾ برائی شرط کے سیاق میں نکرہ استعمال ہوئی ہے لہٰذا اس کے عموم میں شرک اور اس سے کمتر تمام برائیاں داخل ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد شرک ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿ وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيۡٓـــَٔتُهٗ ﴾ ’’یعنی برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی برائی نے گھیر لیا‘‘ اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور یہ شرک کے علاوہ کوئی اور برائی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو ایمان سے بہرہ ور ہے برائی اسے گھیر نہیں سکتی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’پس وہ آگ کے مستحق ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ اس آیت کریمہ سے خوارج نے استدلال کیا ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے حالانکہ یہ تو ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ یہ تو ظاہری طور پر شرک کے بارے میں ہے۔ اس طرح ہر باطل پسند جو قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اپنے باطل نظریئے پر استدلال کرتا ہے تو استدلال خود اس کے خلاف ایک قوی دلیل ہوتا ہے۔
[82]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ اور اعمال صالحہ کیے اور اعمال مندرجہ ذیل دو شرائط کے بغیر اعمال صالحہ کے زمرے میں نہیں آتے۔ (۱) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ (۲) رسول اللہﷺکی سنت کے مطابق ہوں۔ ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ نجات اور فوز و فلاح کے مستحق صرف نیک کام کرنے والے اہل ایمان ہیں اور ہلاک ہونے والے جہنمی، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔
البقرة 2:81
اور کہا انھوں نے، ہر گز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے، کہہ دیجیے! کیا لیا ہے تم نے اللہ سے کوئی عہد؟ پھر تو ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے عہد کے یا کہتے ہو تم اللہ پر وہ بات جو تم نہیں جانتے؟ (80)کیوں نہیں! جس نے کمائی کوئی برائی اور گھیر لیا اس کو اس کی برائی نے، پس وہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(81) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(82)
[80] اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انھیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی۔ یعنی بہت ہی کم دنوں کے لیے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول ان سے کہہ دو! ﴿اَتَّؔخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا﴾ یعنی کیا تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و رسل پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت کر کے اللہ تعالیٰ سے عہد لے رکھا ہے۔ پس یہ وعدہ تو یقیناً صاحب وعدہ کی نجات کا موجب ہے جس میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ ﴿ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’یا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کا تمھیں علم ہی نہیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے دعوے کی صداقت ان دو امور میں سے ایک پر موقوف ہے۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ (۱)یا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے نجات کا کوئی عہد لیا ہو گا تب ان کا دعویٰ صحیح ہے۔ (۲)یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں۔ تب ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ بس یہ بہتان ان کی رسوائی اور عذاب کے لیے کافی ہے۔ ان کے حالات ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد عطا نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ انھوں نے بے شمار انبیاء کی تکذیب کی تھی حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انبیاء کا ایک گروہ ان کے ہاتھوں قتل ہوا، نیز انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدوں کو توڑا۔ پس اس سے اس بات کا تعین ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے اور اس کی بابت ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کو وہ خود نہیں جانتے اور علم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی بات لگانا، سب سے بڑا حرام اور سب سے بڑی برائی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے ایک عام حکم بیان کیا ہے جس میں بنی اسرائیل اور دیگر تمام لوگ داخل ہیں وہ ایک ایسا حکم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور حکم ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ ان کی آرزوئیں اور دعوے، جووہ ہلاک ہونے والوں اور نجات پانے والوں کی بابت کرتے ہیں۔
[81] پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلٰي ﴾ یعنی معاملہ یوں نہیں جس طرح تم نے بیان کیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ﴿ مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً﴾ ’’جس نے کوئی برائی کمائی‘‘ یہاں ﴿سَيِّئَۃً﴾ برائی شرط کے سیاق میں نکرہ استعمال ہوئی ہے لہٰذا اس کے عموم میں شرک اور اس سے کمتر تمام برائیاں داخل ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد شرک ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿ وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيۡٓـــَٔتُهٗ ﴾ ’’یعنی برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی برائی نے گھیر لیا‘‘ اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور یہ شرک کے علاوہ کوئی اور برائی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو ایمان سے بہرہ ور ہے برائی اسے گھیر نہیں سکتی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’پس وہ آگ کے مستحق ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ اس آیت کریمہ سے خوارج نے استدلال کیا ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے حالانکہ یہ تو ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ یہ تو ظاہری طور پر شرک کے بارے میں ہے۔ اس طرح ہر باطل پسند جو قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اپنے باطل نظریئے پر استدلال کرتا ہے تو استدلال خود اس کے خلاف ایک قوی دلیل ہوتا ہے۔
[82]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ اور اعمال صالحہ کیے اور اعمال مندرجہ ذیل دو شرائط کے بغیر اعمال صالحہ کے زمرے میں نہیں آتے۔ (۱) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ (۲) رسول اللہﷺکی سنت کے مطابق ہوں۔ ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ نجات اور فوز و فلاح کے مستحق صرف نیک کام کرنے والے اہل ایمان ہیں اور ہلاک ہونے والے جہنمی، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔
البقرة 2:82
اور کہا انھوں نے، ہر گز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے، کہہ دیجیے! کیا لیا ہے تم نے اللہ سے کوئی عہد؟ پھر تو ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے عہد کے یا کہتے ہو تم اللہ پر وہ بات جو تم نہیں جانتے؟ (80)کیوں نہیں! جس نے کمائی کوئی برائی اور گھیر لیا اس کو اس کی برائی نے، پس وہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(81) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(82)
[80] اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انھیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی۔ یعنی بہت ہی کم دنوں کے لیے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول ان سے کہہ دو! ﴿اَتَّؔخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا﴾ یعنی کیا تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و رسل پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت کر کے اللہ تعالیٰ سے عہد لے رکھا ہے۔ پس یہ وعدہ تو یقیناً صاحب وعدہ کی نجات کا موجب ہے جس میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ ﴿ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’یا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کا تمھیں علم ہی نہیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے دعوے کی صداقت ان دو امور میں سے ایک پر موقوف ہے۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ (۱)یا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے نجات کا کوئی عہد لیا ہو گا تب ان کا دعویٰ صحیح ہے۔ (۲)یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں۔ تب ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ بس یہ بہتان ان کی رسوائی اور عذاب کے لیے کافی ہے۔ ان کے حالات ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد عطا نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ انھوں نے بے شمار انبیاء کی تکذیب کی تھی حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انبیاء کا ایک گروہ ان کے ہاتھوں قتل ہوا، نیز انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدوں کو توڑا۔ پس اس سے اس بات کا تعین ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے اور اس کی بابت ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کو وہ خود نہیں جانتے اور علم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی بات لگانا، سب سے بڑا حرام اور سب سے بڑی برائی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے ایک عام حکم بیان کیا ہے جس میں بنی اسرائیل اور دیگر تمام لوگ داخل ہیں وہ ایک ایسا حکم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور حکم ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ ان کی آرزوئیں اور دعوے، جووہ ہلاک ہونے والوں اور نجات پانے والوں کی بابت کرتے ہیں۔
[81] پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلٰي ﴾ یعنی معاملہ یوں نہیں جس طرح تم نے بیان کیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ﴿ مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً﴾ ’’جس نے کوئی برائی کمائی‘‘ یہاں ﴿سَيِّئَۃً﴾ برائی شرط کے سیاق میں نکرہ استعمال ہوئی ہے لہٰذا اس کے عموم میں شرک اور اس سے کمتر تمام برائیاں داخل ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد شرک ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿ وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيۡٓـــَٔتُهٗ ﴾ ’’یعنی برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی برائی نے گھیر لیا‘‘ اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور یہ شرک کے علاوہ کوئی اور برائی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو ایمان سے بہرہ ور ہے برائی اسے گھیر نہیں سکتی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’پس وہ آگ کے مستحق ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ اس آیت کریمہ سے خوارج نے استدلال کیا ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے حالانکہ یہ تو ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ یہ تو ظاہری طور پر شرک کے بارے میں ہے۔ اس طرح ہر باطل پسند جو قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اپنے باطل نظریئے پر استدلال کرتا ہے تو استدلال خود اس کے خلاف ایک قوی دلیل ہوتا ہے۔
[82]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ اور اعمال صالحہ کیے اور اعمال مندرجہ ذیل دو شرائط کے بغیر اعمال صالحہ کے زمرے میں نہیں آتے۔ (۱) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ (۲) رسول اللہﷺکی سنت کے مطابق ہوں۔ ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ نجات اور فوز و فلاح کے مستحق صرف نیک کام کرنے والے اہل ایمان ہیں اور ہلاک ہونے والے جہنمی، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔
البقرة 2:83
اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ بنو اسرائیل سے کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ کی، اور ماں باپ سے نیک سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے،اور کہو تم لوگوں سے (بات) اچھی، اور قائم کرو تم نماز اور دو تم زکاۃ، پھر پھر گئے تم مگر تھوڑے تم میں سے،اور تم اعراض کرنے والے ہو(83)
[83] پس یہ احکام ان اصول دین میں سے ہیں، جن پر عمل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر شریعت میں دیا، کیونکہ یہ احکام ہر زمان و مکان میں مصالح عامہ پر مشتمل ہیں۔ دین میں ان کی حیثیت بنیاد کی سی ہے جو منسوخ نہیں ہو سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنے کا حکم اپنے اس فرمان میں دیا ہے:﴿وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـًٔـا ﴾(النساء : 4؍36) ’’اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اس وقت کو یاد کرو، جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔‘‘ یہ ان کی سنگدلی ہی تھی کہ جب بھی انھیں کسی بات کا حکم دیا جاتا تو وہ نافرمانی کرتے، اس لیے وہ پختہ قسموں اور مضبوط عہدوں کے بغیر کسی حکم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ﴾ یہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کی ممانعت ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے اگر یہ بنیاد نہ ہو تو کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے۔ پھر فرمایا: ﴿ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا﴾ یعنی اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ۔ اس میں ہر قسم کا حسن سلوک شامل ہے۔ اس زمرے میں قولی و فعلی اور ہر وہ رویہ شامل ہے جس پر حسن سلوک کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس میں والدین کے ساتھ برے سلوک یا عدم حسن سلوک کی ممانعت ہے۔ کیونکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے اور کسی چیز کی فرضیت کے حکم سے لازم آتا ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہو۔ اور دو چیزیں حسن سلوک کے مخالف ہیں۔ (۱)برا سلوک کرنا، یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ (۲) بغیر برائی کیے، حسن سلوک نہ کرنا۔ اگرچہ والدین کے ساتھ اس قسم کا رویہ بھی حرام ہے مگر اس رویئے کو اول الذکر رویئے سے ملحق کرنا ضروری نہیں۔ رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ سلوک میں بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے حسن سلوک (احسان) کی تفصیلات دائرہ شمار سے باہر ہیں البتہ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اس کی کچھ حدود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام لوگوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آیا جائے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا﴾ ’’یعنی لوگوں سے اچھی بات کہنا۔‘‘ مندرجہ ذیل چیزیں ’’قول حسن‘‘ (یعنی اچھی بات) کے زمرے میں آتی ہیں۔ (۱)لوگوں کو نیکی کا حکم دینا۔ (۲) ان کو بری باتوں سے روکنا۔ (۳) ان کو علم سکھانا۔ (۴) ان میں سلام پھیلانا۔ (۵) خندہ پیشانی اور بشاشت کا اظہار کرنا۔ (۶) ان کے علاوہ دیگر اچھی باتیں۔ چونکہ ہر انسان اپنے مال کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لیے اسے ایک ایسی چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ ہے ’’قول حسن‘‘ اسی کے ضمن میں لوگوں کے ساتھ بری گفتگو کرنے کی ممانعت آ جاتی ہے، حتی کہ کفار کے ساتھ بھی کلام قبیح کرنا ممنوع ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُجَادِلُوۡۤا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾(العنکبوت: 29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث نہ کرو مگر ایسے طریقے سے جو سب سے اچھا ہو۔‘‘ انسانی آداب میں سے، جن کی تعلیم اللہ نے اپنے بندوں کو دی ہے، یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اقوال اور افعال میں پاکیزہ رہے، فحش گوئی اور بے ہودہ باتوں سے اجتناب کرے، گالی گلوچ اور سب و شتم کرنے اور لڑائی جھگڑے سے باز رہے۔ بلکہ اس کے برعکس حسن خلق، بے پایاں حلم، ہر ایک کے ساتھ اچھے سلوک اور مخلوق کی ایذا رسانی پرصبر کا مظاہرہ کرے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور ثواب کی امید میں کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نماز معبود کے لیے اخلاص کو اور زکاۃ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو متضمن ہے۔ ﴿ ثُمَّ﴾ ’’پھر‘‘ اللہ تعالیٰ کا تمھیں ان اچھے کاموں کا حکم دینے کے بعد، جن کو ایک دانش مند دیکھتا ہے تو جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کا بندوں پر ایک احسان ہے کہ اس نے ان باتوں کا انھیں حکم دیا اور اس طرح انھیں اپنے فضل و کرم سے نوازا، اور ان سے عہدومیثاق لیا۔ ﴿ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی تم نے ان احکام سے روگردانی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لی، اس لیے کہ پیٹھ پھیر کر جانے والا کبھی کبھی واپس لوٹنے کی نیت سے بھی پیٹھ پھیر کر جاتا ہے، مگر یہ لوگ تو احکام الٰہی میں سرے سے کوئی رغبت ہی نہیں رکھتے اور نہ ان کی طرف لوٹنے کا کوئی ارادہ ہی رکھتے ہیں۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخَذْلَانِ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡكُمۡ﴾ ’’مگر تھوڑے لوگ تم میں سے‘‘ ایک استثناء ہے تاکہ اس وہم کا ازالہ ہو جائے کہ تمام لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ چند لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا اور ان کو استقامت اور ثابت قدمی عطا کی۔
البقرة 2:84
اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے کہ نہ بہاؤ تم خون اپنے (آپس میں) اور نہ نکالو تم اپنے آپ کو اپنے گھروں سے، پھر اقرار کیا تم نے اور تم شاہد ہو(84) پھر تم ہی وہ ہو کہ (اس کے بعد بھی) قتل کرتے ہو اپنے آپ (اپنوں) کو اور نکال دیتے ہو ایک فریق کو اپنے میں سے ان کے گھروں سے، مدد کرتے ہو تم ایک دوسرے کے خلاف ساتھ گناہ اور ظلم کے، اور اگر آئیں وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر تو تم فدیہ دے کر چھڑاتے ہو انھیں، حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر نکال دینا ان کا، کیا پس تم ایمان لاتے ہو ساتھ ایک حصۂ کتاب کے اور کفر کرتے ہو ساتھ دوسرے حصے کے؟ پس نہیں ہے سزا اس شخص کی جو کرے یہ کام تم میں سے، مگر رسوائی زندگانیٔ دنیا میں اور دن قیامت کے پھیرے جائیں گے وہ طرف سخت ترین عذاب کی اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(85) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خرید لی زندگی دنیا کی بدلے آخرت کے، پس نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(86)
[85-84] آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آکر وہاں رہنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کر لیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسااوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو جلاوطن کر دیتے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے پھر جب جنگ ختم ہو جاتی تو جنگ کے فریقین نے ایک دوسرے کے جو افراد جنگی قیدی بنائے ہوتے، وہ ان کو فدیہ دے کر آزاد کرواتے۔ یہ تینوں امور، جن کی یہ خلاف ورزی کر رہے تھے، ان پر فرض کیے گئے تھے۔ (۱) ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں۔ (۲) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالیں۔ (۳) جب وہ اپنے میں سے کسی کو قیدی پائیں تو اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑانا ان کے لیے ضروری ہے۔ پس ان لوگوں نے آخری بات پر تو عمل کیا اور پہلی دو باتوں کو نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ ان کے اس رویئے پر اللہ تعالیٰ نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتُؤۡمِنُوۡنَؔ۠ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ دینا ﴿ وَ تَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ﴾ ’’اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالنا۔ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کیا جائے اور اس کی نواہی سے اجتناب کیا جائے، نیز یہ کہ تمام مامورات ایمان میں شمار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ اِلَّا خِزۡيٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا، اس کو اس کی سزا دنیا میں رسوائی کے سوا کوئی اور نہیں ملے گی۔‘‘ اور اس رسوائی کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں رسوا کیا اور ان پر اپنے رسول کو غلبہ عطا کیا۔ ان میں سے کسی کو قتل کر دیا گیا اور کسی کو غلام بنا لیا گیا اور کسی کو جلاوطن کر دیا گیا ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الۡعَذَابِ﴾ ’’اورقیامت کے روز سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ یعنی قیامت کے روز کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گا ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا سبب تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ وہ کتاب اللہ کے کچھ حصے پر ایمان لائیں اور کچھ حصے کا انکار کر دیں۔
[86] چنانچہ فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا‘‘ یعنی انھیں وہم لاحق تھا کہ اگر انھوں نے اپنے حلیفوں کی مدد نہ کی تو یہ عار کی بات ہے پس انھوں نے عار کے بدلے میں آگ کو چن لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’پس ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا‘‘ یعنی عذاب کی شدت ہمیشہ رہے گی اور کسی وقت بھی انھیں راحت نصیب نہ ہو گی ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ ان کی مدد کی جائے گی‘‘ یعنی ان سے عذاب کو نہیں ہٹایا جائے گا۔
البقرة 2:85
اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے کہ نہ بہاؤ تم خون اپنے (آپس میں) اور نہ نکالو تم اپنے آپ کو اپنے گھروں سے، پھر اقرار کیا تم نے اور تم شاہد ہو(84) پھر تم ہی وہ ہو کہ (اس کے بعد بھی) قتل کرتے ہو اپنے آپ (اپنوں) کو اور نکال دیتے ہو ایک فریق کو اپنے میں سے ان کے گھروں سے، مدد کرتے ہو تم ایک دوسرے کے خلاف ساتھ گناہ اور ظلم کے، اور اگر آئیں وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر تو تم فدیہ دے کر چھڑاتے ہو انھیں، حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر نکال دینا ان کا، کیا پس تم ایمان لاتے ہو ساتھ ایک حصۂ کتاب کے اور کفر کرتے ہو ساتھ دوسرے حصے کے؟ پس نہیں ہے سزا اس شخص کی جو کرے یہ کام تم میں سے، مگر رسوائی زندگانیٔ دنیا میں اور دن قیامت کے پھیرے جائیں گے وہ طرف سخت ترین عذاب کی اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(85) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خرید لی زندگی دنیا کی بدلے آخرت کے، پس نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(86)
[85-84] آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آکر وہاں رہنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کر لیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسااوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو جلاوطن کر دیتے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے پھر جب جنگ ختم ہو جاتی تو جنگ کے فریقین نے ایک دوسرے کے جو افراد جنگی قیدی بنائے ہوتے، وہ ان کو فدیہ دے کر آزاد کرواتے۔ یہ تینوں امور، جن کی یہ خلاف ورزی کر رہے تھے، ان پر فرض کیے گئے تھے۔ (۱) ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں۔ (۲) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالیں۔ (۳) جب وہ اپنے میں سے کسی کو قیدی پائیں تو اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑانا ان کے لیے ضروری ہے۔ پس ان لوگوں نے آخری بات پر تو عمل کیا اور پہلی دو باتوں کو نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ ان کے اس رویئے پر اللہ تعالیٰ نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتُؤۡمِنُوۡنَؔ۠ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ دینا ﴿ وَ تَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ﴾ ’’اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالنا۔ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کیا جائے اور اس کی نواہی سے اجتناب کیا جائے، نیز یہ کہ تمام مامورات ایمان میں شمار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ اِلَّا خِزۡيٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا، اس کو اس کی سزا دنیا میں رسوائی کے سوا کوئی اور نہیں ملے گی۔‘‘ اور اس رسوائی کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں رسوا کیا اور ان پر اپنے رسول کو غلبہ عطا کیا۔ ان میں سے کسی کو قتل کر دیا گیا اور کسی کو غلام بنا لیا گیا اور کسی کو جلاوطن کر دیا گیا ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الۡعَذَابِ﴾ ’’اورقیامت کے روز سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ یعنی قیامت کے روز کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گا ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا سبب تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ وہ کتاب اللہ کے کچھ حصے پر ایمان لائیں اور کچھ حصے کا انکار کر دیں۔
[86] چنانچہ فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا‘‘ یعنی انھیں وہم لاحق تھا کہ اگر انھوں نے اپنے حلیفوں کی مدد نہ کی تو یہ عار کی بات ہے پس انھوں نے عار کے بدلے میں آگ کو چن لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’پس ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا‘‘ یعنی عذاب کی شدت ہمیشہ رہے گی اور کسی وقت بھی انھیں راحت نصیب نہ ہو گی ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ ان کی مدد کی جائے گی‘‘ یعنی ان سے عذاب کو نہیں ہٹایا جائے گا۔
البقرة 2:86
اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے کہ نہ بہاؤ تم خون اپنے (آپس میں) اور نہ نکالو تم اپنے آپ کو اپنے گھروں سے، پھر اقرار کیا تم نے اور تم شاہد ہو(84) پھر تم ہی وہ ہو کہ (اس کے بعد بھی) قتل کرتے ہو اپنے آپ (اپنوں) کو اور نکال دیتے ہو ایک فریق کو اپنے میں سے ان کے گھروں سے، مدد کرتے ہو تم ایک دوسرے کے خلاف ساتھ گناہ اور ظلم کے، اور اگر آئیں وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر تو تم فدیہ دے کر چھڑاتے ہو انھیں، حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر نکال دینا ان کا، کیا پس تم ایمان لاتے ہو ساتھ ایک حصۂ کتاب کے اور کفر کرتے ہو ساتھ دوسرے حصے کے؟ پس نہیں ہے سزا اس شخص کی جو کرے یہ کام تم میں سے، مگر رسوائی زندگانیٔ دنیا میں اور دن قیامت کے پھیرے جائیں گے وہ طرف سخت ترین عذاب کی اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(85) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خرید لی زندگی دنیا کی بدلے آخرت کے، پس نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(86)
[85-84] آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آکر وہاں رہنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کر لیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسااوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو جلاوطن کر دیتے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے پھر جب جنگ ختم ہو جاتی تو جنگ کے فریقین نے ایک دوسرے کے جو افراد جنگی قیدی بنائے ہوتے، وہ ان کو فدیہ دے کر آزاد کرواتے۔ یہ تینوں امور، جن کی یہ خلاف ورزی کر رہے تھے، ان پر فرض کیے گئے تھے۔ (۱) ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں۔ (۲) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالیں۔ (۳) جب وہ اپنے میں سے کسی کو قیدی پائیں تو اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑانا ان کے لیے ضروری ہے۔ پس ان لوگوں نے آخری بات پر تو عمل کیا اور پہلی دو باتوں کو نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ ان کے اس رویئے پر اللہ تعالیٰ نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتُؤۡمِنُوۡنَؔ۠ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ دینا ﴿ وَ تَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ﴾ ’’اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالنا۔ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کیا جائے اور اس کی نواہی سے اجتناب کیا جائے، نیز یہ کہ تمام مامورات ایمان میں شمار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ اِلَّا خِزۡيٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا، اس کو اس کی سزا دنیا میں رسوائی کے سوا کوئی اور نہیں ملے گی۔‘‘ اور اس رسوائی کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں رسوا کیا اور ان پر اپنے رسول کو غلبہ عطا کیا۔ ان میں سے کسی کو قتل کر دیا گیا اور کسی کو غلام بنا لیا گیا اور کسی کو جلاوطن کر دیا گیا ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الۡعَذَابِ﴾ ’’اورقیامت کے روز سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ یعنی قیامت کے روز کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گا ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا سبب تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ وہ کتاب اللہ کے کچھ حصے پر ایمان لائیں اور کچھ حصے کا انکار کر دیں۔
[86] چنانچہ فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا‘‘ یعنی انھیں وہم لاحق تھا کہ اگر انھوں نے اپنے حلیفوں کی مدد نہ کی تو یہ عار کی بات ہے پس انھوں نے عار کے بدلے میں آگ کو چن لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’پس ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا‘‘ یعنی عذاب کی شدت ہمیشہ رہے گی اور کسی وقت بھی انھیں راحت نصیب نہ ہو گی ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ ان کی مدد کی جائے گی‘‘ یعنی ان سے عذاب کو نہیں ہٹایا جائے گا۔
البقرة 2:87
اور تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے در پے بھیجے ہم نے بعد اس کے رسول اور دیے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح دلائل (معجزات) اور قوت دی ہم نے اس کو ساتھ روح القدس (جبریل) کے، کیا پس جب بھی آیا تمھارے پاس کوئی رسول ساتھ اس چیز کے جس کو نہ چاہتے تھے نفس تمھارے، تو تکبر کیا تم نے، پھر ایک فریق کو جھٹلایا تم نے اور ایک فریق کو قتل کرتے رہے تم(87)
[87]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے اپنے کلیم حضرت موسیٰuکو ان میں مبعوث فرمایا، ان کو تورات عطا کی۔ پھر حضرت موسیٰuکے بعد ان میں پے در پے انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے جو تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰuکو مبعوث فرمایا اور انھیں واضح نشانیاں عطا کیں جن پر انسان ایمان لے آتا ہے۔ ﴿ وَاَيَّؔدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ﴾ یعنی ’’حضرت عیسیٰu کو روح القدس کے ذریعے تقویت دی۔‘‘ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ روح القدس سے مراد حضرت جبرئیلuہیں۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ایمان ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو قوت اور استقامت عطا کرتا ہے۔ پھر ان نعمتوں کے باوجود، جن کی قدروعظمت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا، جب وہ تمھارے پاس وہ کچھ لائے ﴿ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡـبَرۡتُمۡ﴾ ’’جن کو تمھارا دل نہیں چاہتا تھا تو تم نے (ایمان لانے کی بجائے،) تکبر کیا۔‘‘ ﴿ فَفَرِيۡقًا ﴾ یعنی انبیاء میں سے ایک فریق کو ﴿ كَذَّبۡتُمۡ١ٞ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’تم نے جھٹلایا اور ایک فریق کو تم نے قتل کر دیا۔‘‘ پس تم نے خواہشات نفس کو ہدایت پر مقدم رکھا اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ اس آیت کریمہ میں جو زجر و توبیخ اور تشدید ہے، وہ ڈھکی چھپی نہیں۔
البقرة 2:88
اور کہا انھوں نے ہمارے دل غلافوں میں ہیں (نہیں)بلکہ لعنت کی ہے ان پر اللہ نے بوجہ ان کے کفر کے، پس کم لوگ ہی ایمان لاتے ہیں(88)
[88] اے رسول(ﷺ)جب آپ ان کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں تو یہ لوگ معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہوئے ہیں، یعنی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لیے ہم تمھاری بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ گویا یہ ان کے گمان کے مطابق عدم علم کا عذر ہے اور یہ ان کا جھوٹ ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ﴾ یعنی ’’وہ اپنے کفر کے سبب سے ملعون اور دھتکارے ہوئے ہیں‘‘ اس لیے ان میں سے بہت ہی قلیل لوگ ایمان لائیں گے۔ یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کا ایمان بہت ہی قلیل ہے اور ان کا کفر بہت زیادہ ہے۔
البقرة 2:89
اور جب آگئی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے، جو تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے اور تھے وہ پہلے اس سے فتح مانگتے خلاف ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب آگیا ان کے پاس وہ (حق) جس کو انھوں نے پہچان لیا تو کفر کیا انھوں نے ساتھ اس کے، سو لعنت ہے اللہ کی اوپر کافروں کے(89) بری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنے نفسوں کو، یہ کہ وہ کفر کرتے ہیں ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نے، حسد کرتے ہوئے اس سے کہ نازل کرے اللہ فضل اپنا اوپر جس کے چاہے اپنے بندوں میں سے، پس پھرے وہ ساتھ غضب کے اوپر غضب کےاور کافروں کے لیے ہے عذاب رسوا کن(90)
[90-89] مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺکے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آ گئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنھیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آ گیا جس کو انھوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کر دیا (اور انھیں حسد اس بات پر تھا) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل فرماتا ہے۔ (اللہ نے یہ شرف نبوت ان کی بجائے، کسی اور کو کیوں دے دیا؟) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان پر سخت غضب ناک ہوا، کیونکہ کفر میں وہ بہت بڑھ گئے تھے اور متواتر شک اور شرک میں مبتلا چلے آ رہے تھے۔ اور ان کافروں کے لیے آخرت میں ﴿ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ﴾ ’’رسوا کرنے والا عذاب ہو گا‘‘ اور وہ یہ کہ ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور دائمی نعمتوں سے وہ محروم ہوں گے۔ پس بہت برا ہے ان کا حال، بہت ہی برا ہے وہ معاوضہ جو انھوں نے اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کے مقابلے میں حاصل کیا اور وہ یہ کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ، اس کی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ حالانکہ وہ سب کچھ جانتے تھے اور انھیں رسولوں کی صداقت کا بھی یقین تھا اسی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہو گا۔
البقرة 2:90
اور جب آگئی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے، جو تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے اور تھے وہ پہلے اس سے فتح مانگتے خلاف ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب آگیا ان کے پاس وہ (حق) جس کو انھوں نے پہچان لیا تو کفر کیا انھوں نے ساتھ اس کے، سو لعنت ہے اللہ کی اوپر کافروں کے(89) بری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنے نفسوں کو، یہ کہ وہ کفر کرتے ہیں ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نے، حسد کرتے ہوئے اس سے کہ نازل کرے اللہ فضل اپنا اوپر جس کے چاہے اپنے بندوں میں سے، پس پھرے وہ ساتھ غضب کے اوپر غضب کےاور کافروں کے لیے ہے عذاب رسوا کن(90)
[90-89] مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺکے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آ گئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنھیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آ گیا جس کو انھوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کر دیا (اور انھیں حسد اس بات پر تھا) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل فرماتا ہے۔ (اللہ نے یہ شرف نبوت ان کی بجائے، کسی اور کو کیوں دے دیا؟) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان پر سخت غضب ناک ہوا، کیونکہ کفر میں وہ بہت بڑھ گئے تھے اور متواتر شک اور شرک میں مبتلا چلے آ رہے تھے۔ اور ان کافروں کے لیے آخرت میں ﴿ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ﴾ ’’رسوا کرنے والا عذاب ہو گا‘‘ اور وہ یہ کہ ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور دائمی نعمتوں سے وہ محروم ہوں گے۔ پس بہت برا ہے ان کا حال، بہت ہی برا ہے وہ معاوضہ جو انھوں نے اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کے مقابلے میں حاصل کیا اور وہ یہ کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ، اس کی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ حالانکہ وہ سب کچھ جانتے تھے اور انھیں رسولوں کی صداقت کا بھی یقین تھا اسی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہو گا۔
البقرة 2:91
اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور انکار کرتے ہیں وہ اس کے ماسوا کا، حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، کہہ دیجیے! ، پھر کیوں قتل کرتے رہے تم اللہ کے نبیوں کو پہلے اس سے، اگر تھے تم مومن(91)اور تحقیق آئے تمھارے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں (معجزات) کے، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے اور تم (ہی) ہو ظالم(92) اور (یاد کرو) جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے اور بلند کیا ہم نے، تم پر طور(پہاڑ اور کہا) پکڑو تم جو دیا ہم نے تمھیں ساتھ قوت کے اور سنو! کہا انھوں نے سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نےاور پلا دیے گئے وہ اپنے دلوں میں (محبت) بچھڑے کی بہ سبب ان کے کفر کے، کہہ دیجیے! بری ہے وہ چیز کہ حکم کرتا ہے تمھیں اس کا تمھارا ایمان اگر ہو تم مومن(93)
[91] جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے، یعنی قرآن کریم پر تو انھوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا:﴿نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ﴾ یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر۔ اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیائے کرام علیہ السلام پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے درمیان تفریق کرنا اور اپنے زعم کے مطابق کسی پر ایمان لانا اور کسی کا انکار کر دینا، تو یہ ایمان نہیں بلکہ عین کفر ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ١ۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًاۙ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾(النساء : 4؍150۔151) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے مابین (یعنی ایمان اور کفر کے مابین) ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں بلاشبہ وہی کافر ہیں۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو شافی جواب دیا ہے اور ان کو ایک ایسی الزامی دلیل دی ہے جس سے ان کو کوئی مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار قرآن کا دو پہلوؤں سے رد کیا ہے۔ (الف) اس لیے فرمایا: ﴿ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ (قرآن) حق ہے‘‘ پس جب یہ قرآن اوامر و نواہی اور اخبار میں سراسر حق پر مشتمل ہے اور یہ حق ان کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ لہٰذا یہ معلوم ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس حق کا انکار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ب) پھر فرمایا ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ﴾ ’’ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرتا ہے‘‘ یعنی یہ ہر اس چیز کے موافق اور اس کا محافظ ہے جس پر حق دلالت کرتا ہے۔ پس تم اس کتاب پر کیوں ایمان لاتے ہو جو تم پر نازل کی گئی جبکہ اس جیسی دوسری کتاب کا انکار کرتے ہو؟ اور کیا یہ تعصب نہیں؟ کیا یہ ہدایت کی پیروی کی بجائے خواہشات نفس کی پیروی نہیں؟ نیز قرآن کا ان کتابوں کی تصدیق کرنا جو ان پر نازل کی گئیں ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ قرآن ان کے لیے اس بات کی دلیل ہو کہ ان کے پاس جو کتابیں ہیں، وہ سچی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اپنی کتابوں کا اثبات بھی قرآن کے بغیر نہیں کر سکتے۔ جب وہ قرآن کا انکار کر دیتے ہیں تو ان کی حالت اس مدعی کی سی ہو جاتی ہے جس کے پاس اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل و حجت بھی ہے جو اثبات دعویٰ کی واحد دلیل ہے، اس دلیل کے بغیر اس کا دعویٰ ثابت ہی نہیں ہو سکتا، لیکن پھر وہ خود ہی اپنی دلیل میں جرح و قدح کرتا ہے اور اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ کیا یہ پاگل پن اور حماقت نہیں؟ پس واضح ہوا کہ ان کا قرآن کا انکار کرنا درحقیقت ان کتابوں کا انکار ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان سے (کہہ دو)﴿ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۢۡبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم ایماندار ہو تو پھر تم اس سے قبل اللہ کے انبیاء کو کیوں قتل کر دیتے رہے؟‘‘
[92]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ مُّوۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی تمھارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ ثُمَّؔ اتَّؔخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ یعنی ’’تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ‘‘ ﴿ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے‘‘ اور تمھارے پاس کوئی عذر نہیں۔
[93]﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَ١ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو‘‘ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو ﴿ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔‘‘ ﴿ وَاُشۡرِبُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔ ﴿ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’انھیں کہہ دیجیے کہ تمھارا ایمان تمھیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو‘‘ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو۔ اور تمھاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کوقتل کیا، جب حضرت موسیٰuکوہ طور پر گئے، تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (یعنی اوامر و نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمھیں دھمکی نہ دی گئی اور کوہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کر دیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کر لیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟ تمھارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمھیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تضاد عیاں ہو جاتا ہے۔
البقرة 2:92
اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور انکار کرتے ہیں وہ اس کے ماسوا کا، حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، کہہ دیجیے! ، پھر کیوں قتل کرتے رہے تم اللہ کے نبیوں کو پہلے اس سے، اگر تھے تم مومن(91)اور تحقیق آئے تمھارے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں (معجزات) کے، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے اور تم (ہی) ہو ظالم(92) اور (یاد کرو) جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے اور بلند کیا ہم نے، تم پر طور(پہاڑ اور کہا) پکڑو تم جو دیا ہم نے تمھیں ساتھ قوت کے اور سنو! کہا انھوں نے سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نےاور پلا دیے گئے وہ اپنے دلوں میں (محبت) بچھڑے کی بہ سبب ان کے کفر کے، کہہ دیجیے! بری ہے وہ چیز کہ حکم کرتا ہے تمھیں اس کا تمھارا ایمان اگر ہو تم مومن(93)
[91] جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے، یعنی قرآن کریم پر تو انھوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا:﴿نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ﴾ یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر۔ اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیائے کرام علیہ السلام پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے درمیان تفریق کرنا اور اپنے زعم کے مطابق کسی پر ایمان لانا اور کسی کا انکار کر دینا، تو یہ ایمان نہیں بلکہ عین کفر ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ١ۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًاۙ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾(النساء : 4؍150۔151) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے مابین (یعنی ایمان اور کفر کے مابین) ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں بلاشبہ وہی کافر ہیں۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو شافی جواب دیا ہے اور ان کو ایک ایسی الزامی دلیل دی ہے جس سے ان کو کوئی مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار قرآن کا دو پہلوؤں سے رد کیا ہے۔ (الف) اس لیے فرمایا: ﴿ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ (قرآن) حق ہے‘‘ پس جب یہ قرآن اوامر و نواہی اور اخبار میں سراسر حق پر مشتمل ہے اور یہ حق ان کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ لہٰذا یہ معلوم ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس حق کا انکار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ب) پھر فرمایا ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ﴾ ’’ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرتا ہے‘‘ یعنی یہ ہر اس چیز کے موافق اور اس کا محافظ ہے جس پر حق دلالت کرتا ہے۔ پس تم اس کتاب پر کیوں ایمان لاتے ہو جو تم پر نازل کی گئی جبکہ اس جیسی دوسری کتاب کا انکار کرتے ہو؟ اور کیا یہ تعصب نہیں؟ کیا یہ ہدایت کی پیروی کی بجائے خواہشات نفس کی پیروی نہیں؟ نیز قرآن کا ان کتابوں کی تصدیق کرنا جو ان پر نازل کی گئیں ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ قرآن ان کے لیے اس بات کی دلیل ہو کہ ان کے پاس جو کتابیں ہیں، وہ سچی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اپنی کتابوں کا اثبات بھی قرآن کے بغیر نہیں کر سکتے۔ جب وہ قرآن کا انکار کر دیتے ہیں تو ان کی حالت اس مدعی کی سی ہو جاتی ہے جس کے پاس اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل و حجت بھی ہے جو اثبات دعویٰ کی واحد دلیل ہے، اس دلیل کے بغیر اس کا دعویٰ ثابت ہی نہیں ہو سکتا، لیکن پھر وہ خود ہی اپنی دلیل میں جرح و قدح کرتا ہے اور اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ کیا یہ پاگل پن اور حماقت نہیں؟ پس واضح ہوا کہ ان کا قرآن کا انکار کرنا درحقیقت ان کتابوں کا انکار ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان سے (کہہ دو)﴿ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۢۡبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم ایماندار ہو تو پھر تم اس سے قبل اللہ کے انبیاء کو کیوں قتل کر دیتے رہے؟‘‘
[92]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ مُّوۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی تمھارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ ثُمَّؔ اتَّؔخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ یعنی ’’تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ‘‘ ﴿ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے‘‘ اور تمھارے پاس کوئی عذر نہیں۔
[93]﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَ١ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو‘‘ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو ﴿ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔‘‘ ﴿ وَاُشۡرِبُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔ ﴿ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’انھیں کہہ دیجیے کہ تمھارا ایمان تمھیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو‘‘ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو۔ اور تمھاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کوقتل کیا، جب حضرت موسیٰuکوہ طور پر گئے، تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (یعنی اوامر و نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمھیں دھمکی نہ دی گئی اور کوہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کر دیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کر لیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟ تمھارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمھیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تضاد عیاں ہو جاتا ہے۔
البقرة 2:93
اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور انکار کرتے ہیں وہ اس کے ماسوا کا، حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، کہہ دیجیے! ، پھر کیوں قتل کرتے رہے تم اللہ کے نبیوں کو پہلے اس سے، اگر تھے تم مومن(91)اور تحقیق آئے تمھارے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں (معجزات) کے، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے اور تم (ہی) ہو ظالم(92) اور (یاد کرو) جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے اور بلند کیا ہم نے، تم پر طور(پہاڑ اور کہا) پکڑو تم جو دیا ہم نے تمھیں ساتھ قوت کے اور سنو! کہا انھوں نے سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نےاور پلا دیے گئے وہ اپنے دلوں میں (محبت) بچھڑے کی بہ سبب ان کے کفر کے، کہہ دیجیے! بری ہے وہ چیز کہ حکم کرتا ہے تمھیں اس کا تمھارا ایمان اگر ہو تم مومن(93)
[91] جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے، یعنی قرآن کریم پر تو انھوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا:﴿نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ﴾ یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر۔ اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیائے کرام علیہ السلام پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے درمیان تفریق کرنا اور اپنے زعم کے مطابق کسی پر ایمان لانا اور کسی کا انکار کر دینا، تو یہ ایمان نہیں بلکہ عین کفر ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ١ۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًاۙ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾(النساء : 4؍150۔151) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے مابین (یعنی ایمان اور کفر کے مابین) ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں بلاشبہ وہی کافر ہیں۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو شافی جواب دیا ہے اور ان کو ایک ایسی الزامی دلیل دی ہے جس سے ان کو کوئی مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار قرآن کا دو پہلوؤں سے رد کیا ہے۔ (الف) اس لیے فرمایا: ﴿ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ (قرآن) حق ہے‘‘ پس جب یہ قرآن اوامر و نواہی اور اخبار میں سراسر حق پر مشتمل ہے اور یہ حق ان کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ لہٰذا یہ معلوم ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس حق کا انکار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ب) پھر فرمایا ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ﴾ ’’ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرتا ہے‘‘ یعنی یہ ہر اس چیز کے موافق اور اس کا محافظ ہے جس پر حق دلالت کرتا ہے۔ پس تم اس کتاب پر کیوں ایمان لاتے ہو جو تم پر نازل کی گئی جبکہ اس جیسی دوسری کتاب کا انکار کرتے ہو؟ اور کیا یہ تعصب نہیں؟ کیا یہ ہدایت کی پیروی کی بجائے خواہشات نفس کی پیروی نہیں؟ نیز قرآن کا ان کتابوں کی تصدیق کرنا جو ان پر نازل کی گئیں ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ قرآن ان کے لیے اس بات کی دلیل ہو کہ ان کے پاس جو کتابیں ہیں، وہ سچی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اپنی کتابوں کا اثبات بھی قرآن کے بغیر نہیں کر سکتے۔ جب وہ قرآن کا انکار کر دیتے ہیں تو ان کی حالت اس مدعی کی سی ہو جاتی ہے جس کے پاس اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل و حجت بھی ہے جو اثبات دعویٰ کی واحد دلیل ہے، اس دلیل کے بغیر اس کا دعویٰ ثابت ہی نہیں ہو سکتا، لیکن پھر وہ خود ہی اپنی دلیل میں جرح و قدح کرتا ہے اور اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ کیا یہ پاگل پن اور حماقت نہیں؟ پس واضح ہوا کہ ان کا قرآن کا انکار کرنا درحقیقت ان کتابوں کا انکار ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان سے (کہہ دو)﴿ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۢۡبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم ایماندار ہو تو پھر تم اس سے قبل اللہ کے انبیاء کو کیوں قتل کر دیتے رہے؟‘‘
[92]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ مُّوۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی تمھارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ ثُمَّؔ اتَّؔخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ یعنی ’’تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ‘‘ ﴿ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے‘‘ اور تمھارے پاس کوئی عذر نہیں۔
[93]﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَ١ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو‘‘ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو ﴿ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔‘‘ ﴿ وَاُشۡرِبُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔ ﴿ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’انھیں کہہ دیجیے کہ تمھارا ایمان تمھیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو‘‘ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو۔ اور تمھاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کوقتل کیا، جب حضرت موسیٰuکوہ طور پر گئے، تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (یعنی اوامر و نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمھیں دھمکی نہ دی گئی اور کوہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کر دیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کر لیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟ تمھارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمھیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تضاد عیاں ہو جاتا ہے۔
البقرة 2:94
کہہ دیجیے! اگر ہے تمھارے ہی لیے گھر آخرت کا اللہ کے ہاں، خاص طور پر، سوائے اور لوگوں کے، تو تمنا کرو تم موت کی، اگر ہو تم سچے(94) اور ہر گز نہیں تمنا کریں گے وہ اس (موت) کی کبھی بھی، بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نےاور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(95) اور البتہ آپ ضرور پائیں گے ان (یہودیوں) کو زیادہ حریص سب لوگوں سے زندگی پر اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا، چاہتا ہے (ہر) ایک ان کا، کاش کہ عمر دیا جائے وہ ہزار سال، حالانکہ نہیں ہے وہ (کوئی ایک) بچانے والا اس کو عذاب سے، یہ کہ (اس قدر لمبی) عمر دیا جائے وہ، اور اللہ دیکھنے والا ہے اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں(96)
[94]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے دعویٰ کی تصحیح کی خاطر کہہ دیجیے ﴿ اِنۡ كَانَتۡ لَكُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ﴾ ’’کہ اگر آخرت کا گھر (جنت) صرف تمھارے ہی لیے ہے‘‘ ﴿خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ ﴾ دوسرے لوگ اس میں نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ تمھارا گمان ہے کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی اور نصرانی ہیں، نیز تمھیں ہرگز آگ نہیں چھوئے گی سوائے چند روز کے، اس لیے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ﴿ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ﴾ ’’تو موت کی تمنا کر دیکھو۔‘‘ یہ ان کے اور رسول اللہﷺکے درمیان مباہلہ کی ایک قسم ہے۔ ان کے دلائل کا توڑ، انھیں لاجواب کر دینے اور ان کے عناد کے بعد ان کے لیے دو باتوں میں سے کسی ایک کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ (۱) یا تو وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں۔ (۲) یا وہ اپنے موقف کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی بات پر مباہلہ کر لیں اور وہ ہے موت کی تمنا ، جو انھیں اس جنت میں پہنچا دے گی جو خالص انھی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ مگر انھوں نے اس مباہلے کو قبول نہ کیا۔ پس ان سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور عناد میں انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کر رہے ہیں۔
[95] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَنۡ يَّتَمَنَّوۡهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ یعنی کفر اور معاصی کے اعمال کے باعث وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ ان کے گندے اعمال کی جزا کا راستہ ہے۔ پس موت ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے اور وہ دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر زندگی کے حریص ہیں حتیٰ کہ ان مشرکین سے بھی زیادہ جو رسولوں، کتابوں اور کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔
[96] پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ ان کی شدید محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَوَدُّ اَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَةٍ﴾ ’’ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے‘‘ زندگی کی حرص کے لیے یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے، انھوں نے ایک ایسی حالت کی آرزو کی ہے جو قطعاً محال ہے اور حال یہ ہے کہ اگر ان کو یہ مذکورہ عمر عطا کر بھی دی جائے تب بھی یہ عمر ان کے کسی کام نہیں آ سکتی اور نہ ان سے عذاب کو دور کر سکتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھ رہا ہے‘‘ یہ ان کے لیے تہدید ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔
البقرة 2:95
کہہ دیجیے! اگر ہے تمھارے ہی لیے گھر آخرت کا اللہ کے ہاں، خاص طور پر، سوائے اور لوگوں کے، تو تمنا کرو تم موت کی، اگر ہو تم سچے(94) اور ہر گز نہیں تمنا کریں گے وہ اس (موت) کی کبھی بھی، بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نےاور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(95) اور البتہ آپ ضرور پائیں گے ان (یہودیوں) کو زیادہ حریص سب لوگوں سے زندگی پر اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا، چاہتا ہے (ہر) ایک ان کا، کاش کہ عمر دیا جائے وہ ہزار سال، حالانکہ نہیں ہے وہ (کوئی ایک) بچانے والا اس کو عذاب سے، یہ کہ (اس قدر لمبی) عمر دیا جائے وہ، اور اللہ دیکھنے والا ہے اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں(96)
[94]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے دعویٰ کی تصحیح کی خاطر کہہ دیجیے ﴿ اِنۡ كَانَتۡ لَكُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ﴾ ’’کہ اگر آخرت کا گھر (جنت) صرف تمھارے ہی لیے ہے‘‘ ﴿خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ ﴾ دوسرے لوگ اس میں نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ تمھارا گمان ہے کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی اور نصرانی ہیں، نیز تمھیں ہرگز آگ نہیں چھوئے گی سوائے چند روز کے، اس لیے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ﴿ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ﴾ ’’تو موت کی تمنا کر دیکھو۔‘‘ یہ ان کے اور رسول اللہﷺکے درمیان مباہلہ کی ایک قسم ہے۔ ان کے دلائل کا توڑ، انھیں لاجواب کر دینے اور ان کے عناد کے بعد ان کے لیے دو باتوں میں سے کسی ایک کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ (۱) یا تو وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں۔ (۲) یا وہ اپنے موقف کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی بات پر مباہلہ کر لیں اور وہ ہے موت کی تمنا ، جو انھیں اس جنت میں پہنچا دے گی جو خالص انھی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ مگر انھوں نے اس مباہلے کو قبول نہ کیا۔ پس ان سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور عناد میں انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کر رہے ہیں۔
[95] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَنۡ يَّتَمَنَّوۡهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ یعنی کفر اور معاصی کے اعمال کے باعث وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ ان کے گندے اعمال کی جزا کا راستہ ہے۔ پس موت ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے اور وہ دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر زندگی کے حریص ہیں حتیٰ کہ ان مشرکین سے بھی زیادہ جو رسولوں، کتابوں اور کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔
[96] پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ ان کی شدید محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَوَدُّ اَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَةٍ﴾ ’’ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے‘‘ زندگی کی حرص کے لیے یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے، انھوں نے ایک ایسی حالت کی آرزو کی ہے جو قطعاً محال ہے اور حال یہ ہے کہ اگر ان کو یہ مذکورہ عمر عطا کر بھی دی جائے تب بھی یہ عمر ان کے کسی کام نہیں آ سکتی اور نہ ان سے عذاب کو دور کر سکتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھ رہا ہے‘‘ یہ ان کے لیے تہدید ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔
البقرة 2:96
کہہ دیجیے! اگر ہے تمھارے ہی لیے گھر آخرت کا اللہ کے ہاں، خاص طور پر، سوائے اور لوگوں کے، تو تمنا کرو تم موت کی، اگر ہو تم سچے(94) اور ہر گز نہیں تمنا کریں گے وہ اس (موت) کی کبھی بھی، بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نےاور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(95) اور البتہ آپ ضرور پائیں گے ان (یہودیوں) کو زیادہ حریص سب لوگوں سے زندگی پر اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا، چاہتا ہے (ہر) ایک ان کا، کاش کہ عمر دیا جائے وہ ہزار سال، حالانکہ نہیں ہے وہ (کوئی ایک) بچانے والا اس کو عذاب سے، یہ کہ (اس قدر لمبی) عمر دیا جائے وہ، اور اللہ دیکھنے والا ہے اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں(96)
[94]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے دعویٰ کی تصحیح کی خاطر کہہ دیجیے ﴿ اِنۡ كَانَتۡ لَكُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ﴾ ’’کہ اگر آخرت کا گھر (جنت) صرف تمھارے ہی لیے ہے‘‘ ﴿خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ ﴾ دوسرے لوگ اس میں نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ تمھارا گمان ہے کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی اور نصرانی ہیں، نیز تمھیں ہرگز آگ نہیں چھوئے گی سوائے چند روز کے، اس لیے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ﴿ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ﴾ ’’تو موت کی تمنا کر دیکھو۔‘‘ یہ ان کے اور رسول اللہﷺکے درمیان مباہلہ کی ایک قسم ہے۔ ان کے دلائل کا توڑ، انھیں لاجواب کر دینے اور ان کے عناد کے بعد ان کے لیے دو باتوں میں سے کسی ایک کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ (۱) یا تو وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں۔ (۲) یا وہ اپنے موقف کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی بات پر مباہلہ کر لیں اور وہ ہے موت کی تمنا ، جو انھیں اس جنت میں پہنچا دے گی جو خالص انھی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ مگر انھوں نے اس مباہلے کو قبول نہ کیا۔ پس ان سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور عناد میں انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کر رہے ہیں۔
[95] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَنۡ يَّتَمَنَّوۡهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ یعنی کفر اور معاصی کے اعمال کے باعث وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ ان کے گندے اعمال کی جزا کا راستہ ہے۔ پس موت ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے اور وہ دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر زندگی کے حریص ہیں حتیٰ کہ ان مشرکین سے بھی زیادہ جو رسولوں، کتابوں اور کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔
[96] پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ ان کی شدید محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَوَدُّ اَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَةٍ﴾ ’’ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے‘‘ زندگی کی حرص کے لیے یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے، انھوں نے ایک ایسی حالت کی آرزو کی ہے جو قطعاً محال ہے اور حال یہ ہے کہ اگر ان کو یہ مذکورہ عمر عطا کر بھی دی جائے تب بھی یہ عمر ان کے کسی کام نہیں آ سکتی اور نہ ان سے عذاب کو دور کر سکتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھ رہا ہے‘‘ یہ ان کے لیے تہدید ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔
البقرة 2:97
کہہ دیجیے! جو کوئی ہے دشمن جبریل کا، تو اسی نے نازل کیا اس (قرآن) کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے اور ہدایت اور بشارت ہے مومنوں کے لیے(97) جو کوئی ہے دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل و میکائیل کا، تو بلاشبہ اللہ دشمن ہے کافروں کا(98)
[98-97] یعنی ان یہود سے کہہ دیجیے جن کا گمان ہے کہ ان کو آپ پر ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا ہے کہ حضرت جبرئیلuآپ کے دوست اور مددگار ہیں، اگر جبریلuکے علاوہ کوئی اور فرشتہ ہوتا تو وہ آپ پر ایمان لے آتے اور آپ کی تصدیق کرتے۔ تمھارا یہ گمان درحقیقت تمھارا تناقض، تمھاری ضد اور اللہ تعالیٰ کے سامنے تمھارا تکبر ہے۔ کیونکہ جبریل ہی وہ فرشتہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے قلب پر قرآن اتارا اور جبریل ہی آپ سے پہلے دیگر انبیاء کرام پر نازل ہوتا رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے جبریل کو حکم دیا اور اسے وحی کے ساتھ بھیجا۔ وہ تو محض ایک پیامبر ہے۔ بایں ہمہ جبریلuاس کتاب کو لے کر نازل ہوئے جو کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ کتاب کتب سابقہ کی مخالف ہے نہ ان کی مناقض۔ اس میں مختلف قسم کی گمراہیوں سے مکمل ہدایت کا روشن راستہ ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کی بشارت ہے۔ پس ان صفات سے موصوف جبریلuسے عداوت رکھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کرنا اور اللہ تعالی، اس کے رسولوں اور اس کے فرشتوں کے ساتھ عداوت کا اظہار ہے کیونکہ جبریلuکے ساتھ ان کی عداوت جبریل کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ان کی عداوت محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر نازل ہوتا رہا ہے۔ پس ان کا کفر اور عداوت درحقیقت اس ہستی کے ساتھ ہے جس نے اسے بھیجا اور نازل کیا اور اس وحی کے ساتھ ہے جو اس کے ساتھ اتاری گئی ہے اور اس رسول کے ساتھ ہے جس کی طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے۔ ان کی عداوت کی بس یہی وجہ ہے۔
البقرة 2:98
کہہ دیجیے! جو کوئی ہے دشمن جبریل کا، تو اسی نے نازل کیا اس (قرآن) کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے اور ہدایت اور بشارت ہے مومنوں کے لیے(97) جو کوئی ہے دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل و میکائیل کا، تو بلاشبہ اللہ دشمن ہے کافروں کا(98)
[98-97] یعنی ان یہود سے کہہ دیجیے جن کا گمان ہے کہ ان کو آپ پر ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا ہے کہ حضرت جبرئیلuآپ کے دوست اور مددگار ہیں، اگر جبریلuکے علاوہ کوئی اور فرشتہ ہوتا تو وہ آپ پر ایمان لے آتے اور آپ کی تصدیق کرتے۔ تمھارا یہ گمان درحقیقت تمھارا تناقض، تمھاری ضد اور اللہ تعالیٰ کے سامنے تمھارا تکبر ہے۔ کیونکہ جبریل ہی وہ فرشتہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے قلب پر قرآن اتارا اور جبریل ہی آپ سے پہلے دیگر انبیاء کرام پر نازل ہوتا رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے جبریل کو حکم دیا اور اسے وحی کے ساتھ بھیجا۔ وہ تو محض ایک پیامبر ہے۔ بایں ہمہ جبریلuاس کتاب کو لے کر نازل ہوئے جو کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ کتاب کتب سابقہ کی مخالف ہے نہ ان کی مناقض۔ اس میں مختلف قسم کی گمراہیوں سے مکمل ہدایت کا روشن راستہ ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کی بشارت ہے۔ پس ان صفات سے موصوف جبریلuسے عداوت رکھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کرنا اور اللہ تعالی، اس کے رسولوں اور اس کے فرشتوں کے ساتھ عداوت کا اظہار ہے کیونکہ جبریلuکے ساتھ ان کی عداوت جبریل کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ان کی عداوت محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر نازل ہوتا رہا ہے۔ پس ان کا کفر اور عداوت درحقیقت اس ہستی کے ساتھ ہے جس نے اسے بھیجا اور نازل کیا اور اس وحی کے ساتھ ہے جو اس کے ساتھ اتاری گئی ہے اور اس رسول کے ساتھ ہے جس کی طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے۔ ان کی عداوت کی بس یہی وجہ ہے۔
البقرة 2:99
اور تحقیق نازل کیں ہم نے آپ کی طرف آیتیں واضح اور نہیں کفر کرتے ان کے ساتھ مگر نافرمانی کرنے والے ہی(99)
[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺسے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰؔتٍ﴾ ’’اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کیں‘‘ ان سے اس کو ہدایت حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کا طلب گار ہو۔ اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے جو عناد کا مظاہرہ کرے۔ یہ آیات حق پر اپنی دلالت اور وضاحت کے اعتبار سے ایک ایسے بلند مقام اور ایسی حالت پر پہنچی ہوئی ہیں کہ کوئی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا سوائے اس شخص کے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا اور اس نے انتہائی درجے کے تکبر سے کام لیا۔
البقرة 2:100
کیا (انھوں نے کفر کیا) اور جب بھی عہد کیا انھوں نے کوئی عہد تو پھینک دیا اس کو ایک فریق نے ان میں سےبلکہ اکثر ان میں سے نہیں ایمان لاتے(100)
[100] یہ ان کے کثرت معاہدات اور پھر ان معاہدات کے ایفاء پر ان کے عدم صبر پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا: ﴿ كُلَّمَا﴾ ’’جب بھی‘‘ (كُلَّمَا) تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جب کبھی وہ عہد کرتے ہیں تو وفا نہیں کرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان نہ لانا ہی وہ سبب ہے جو ان کے نقض عہد کا موجب ہے۔ اگر ان کے ایمان میں کوئی صداقت ہوتی تو ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہوتی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ﴾(الاحزاب: 33؍23) ’’اور اہل ایمان میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد انھوں نے اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔‘‘
البقرة 2:101
اور جب آیا ان کے پاس کوئی رسول اللہ کے پاس سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، تو پھینک دیا ایک فریق نے ان لوگوں میں سے جو دیے گئے تھے کتاب، اللہ کی کتاب کو، پیچھے اپنی پیٹھوں کے، گویا وہ نہیں جانتے(101) اور اتباع کیا انھوں نے اس کا جو پڑھتے تھے شیطان، سلیمان کی بادشاہی میں، اور نہیں کفر کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا، وہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور (پیروی کی) اس کی جو نازل کیا گیا اوپر دو فرشتوں کے، بابل میں، ھاروت اور ماروت (پر) اور نہیں سکھلاتے تھے وہ (فرشتے) کسی کو یہاں تک کہ کہتے وہ (پہلے) ہم تو صرف آزمائش ہیں، سو نہ کفر کر تو، پس سیکھتے تھے لوگ ان سے وہ (جادو) کہ جدائی ڈالتے تھے وہ اس کے ذریعے سے درمیان مرد اور اس کی بیوی کے، اور نہیں تھے وہ نقصان پہنچانے والے ساتھ اس (جادو) کے کسی کو بھی، مگر ساتھ حکم اللہ کے۔ اور سیکھتے تھے لوگ وہ (علم) جو نقصان پہنچاتا تھا ان کو اور نہیں نفع دیتا تھا انھیں۔ اور تحقیق جان لیا انھوں نے، البتہ جس نے خریدا اس (جادو) کو نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ اور البتہ بُری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنی جانوں کو، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(102) اور اگر بے شک وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ، البتہ ثواب (ملتا) اللہ کے ہاں سے بہت بہتر، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(103)
[101] یعنی جب ان کے پاس رسول کریم(ﷺ)اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھی اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انھوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو یہ رسول لے کر آئے۔ ﴿ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا‘‘ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’اپنی پیٹھوں کے پیچھے‘‘ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پرامید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرماں برداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
[103-102] اسی طرح ان یہودیوں نے جب اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تو اس جادو کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین نے حضرت سلیمانuکی حکومت کے زمانے میں ایجاد کیا۔ جہاں شیاطین نے لوگوں کو سکھانے کے لیے جادو گھڑا اور لوگ سمجھے کہ حضرت سلیمانuجادو کا استعمال کرتے ہیں اور جادو ہی کے زور پر انھیں اتنی بڑی سلطنت حاصل ہوئی ہے۔ اس بارے میں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت سلیمانuنے کبھی جادو نہیں کیا۔ بلکہ اللہ سچے نے اپنے اس فرمان میں حضرت سلیمان کو اس کام سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمٰنُ﴾ یعنی (حضرت سلیمان) نے (جادو سیکھ کر) کفر کا ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ہرگز جادو نہیں سیکھا ﴿ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی (جادو سیکھ کر )شیاطین نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿ يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ﴾ یعنی بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ان کو اغوا کرنے کی حرص کی وجہ سے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی جو سرزمین عراق کے شہر بابل میں دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے ان فرشتوں پر جادو نازل کیا گیا تھا اور یہ فرشتے آزمائش ہی کے لیے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ ﴿ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى﴾ ’’اور وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ‘‘ وہ ان کی خیر خواہی کرتے اور ﴿ يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡ﴾ ’’کہتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں، سو تم کفر مت کرو‘‘ یعنی جادو نہ سیکھو کیونکہ جادو کفر ہے۔ پس دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور انھیں جادو کی حیثیت سے آگاہ کر دیتے تھے۔ پس شیاطین کا جادو سکھانا تو محض تدلیس اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تھا، نیز اس جادو کو ترویج دینے اور اسے اس معصوم ہستی یعنی حضرت سلیمانuکی طرف منسوب کرنے کے لیے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بری قرار دیا ہے اور فرشتوں کا جادو سکھانا لوگوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ وہ خیر خواہی سے لوگوں کو آگاہ کر دیتے تھے تاکہ ان کے لیے حجت نہ بنے۔ پس یہ یہودی اس جادو کے پیچھے لگے، جسے شیاطین نے سیکھا تھا اور جو وہ دو فرشتے سکھایا کرتے تھے۔ تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کے علوم کو چھوڑ دیا اور شیاطین کے علم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہر شخص اسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے مفاسد بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖ﴾ ’’پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘ اس کے باوجود کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو کسی اور کی محبت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً﴾(الروم : 30؍21) ’’اور تمھارے درمیان مودت اور رحمدلی پیدا کر دی۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت ہے نیز یہ کہ جادو اللہ تعالیٰ کے ’’اذن‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے نقصان دیتا ہے۔ اذن کی دو اقسام ہیں۔ (الف) اذن قدری ۔ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) اذن شرعی ۔ جیسا کہ سابقہ آیت کریمہ ﴿فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾(البقرہ : 2؍97) میں مذکور ہے ’’اس نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتاری۔‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباب کی قوت تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں قضا و قدر کے تابع ہوتے ہیں، ان کی مستقل تاثیر نہیں ہوتی۔ افعال العباد کے بارے میں امت کے فرقوں میں کوئی بھی اس اصول کی مخالفت نہیں کرتا سوائے قدریہ کے۔ قدریہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہوتی ہے اور وہ مشیت الٰہی کے تابع نہیں ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج کر دیا اور اس طرح وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور صحابہ و تابعین کے اجماع کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جادو میں نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت نہیں ہوتی جس طرح بعض گناہوں میں دنیاوی منفعت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا:﴿قُلۡ فِيۡهِمَاۤ اِثۡمٌ كَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَاِثۡمُهُمَاۤ اَكۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا﴾(البقرہ : 2؍219) ’’کہہ دو شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ اس کا گناہ ان کے فائدے کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔‘‘ پس یہ جادو تو ضرر محض ہے اور اصل میں اس کا کوئی داعیہ نہیں۔ تمام منہیات یا تو ضرر محض کی حامل ہیں یا ان میں شر کا پہلو خیر کے پہلو سے زیادہ ہے۔ جیسے تمام مامورات صرف مصلحت پر مبنی ہیں یا ان میں خیر کا پہلو شر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا﴾ یعنی یہود نے جان لیا ہے ﴿ لَمَنِ اشۡتَرٰىهُ﴾ ’’جس نے اسے خریدا‘‘ یعنی انھوں نے جادو کے علم میں اس طرح رغبت کی جیسے تاجر مال تجارت کے خریدنے میں رغبت رکھتا ہے ﴿ مَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ﴾ یعنی ’’آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں‘‘ بلکہ یہ جادو آخرت میں عذاب کا موجب ہو گا۔ پس ان کا جادو پر عمل کرنا جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا ہے ﴿وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے‘‘ یعنی اپنے فعل کے بارے میں ایسا علم رکھنا جو عمل کا باعث ہو۔
البقرة 2:102
اور جب آیا ان کے پاس کوئی رسول اللہ کے پاس سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، تو پھینک دیا ایک فریق نے ان لوگوں میں سے جو دیے گئے تھے کتاب، اللہ کی کتاب کو، پیچھے اپنی پیٹھوں کے، گویا وہ نہیں جانتے(101) اور اتباع کیا انھوں نے اس کا جو پڑھتے تھے شیطان، سلیمان کی بادشاہی میں، اور نہیں کفر کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا، وہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور (پیروی کی) اس کی جو نازل کیا گیا اوپر دو فرشتوں کے، بابل میں، ھاروت اور ماروت (پر) اور نہیں سکھلاتے تھے وہ (فرشتے) کسی کو یہاں تک کہ کہتے وہ (پہلے) ہم تو صرف آزمائش ہیں، سو نہ کفر کر تو، پس سیکھتے تھے لوگ ان سے وہ (جادو) کہ جدائی ڈالتے تھے وہ اس کے ذریعے سے درمیان مرد اور اس کی بیوی کے، اور نہیں تھے وہ نقصان پہنچانے والے ساتھ اس (جادو) کے کسی کو بھی، مگر ساتھ حکم اللہ کے۔ اور سیکھتے تھے لوگ وہ (علم) جو نقصان پہنچاتا تھا ان کو اور نہیں نفع دیتا تھا انھیں۔ اور تحقیق جان لیا انھوں نے، البتہ جس نے خریدا اس (جادو) کو نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ اور البتہ بُری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنی جانوں کو، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(102) اور اگر بے شک وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ، البتہ ثواب (ملتا) اللہ کے ہاں سے بہت بہتر، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(103)
[101] یعنی جب ان کے پاس رسول کریم(ﷺ)اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھی اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انھوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو یہ رسول لے کر آئے۔ ﴿ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا‘‘ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’اپنی پیٹھوں کے پیچھے‘‘ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پرامید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرماں برداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
[103-102] اسی طرح ان یہودیوں نے جب اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تو اس جادو کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین نے حضرت سلیمانuکی حکومت کے زمانے میں ایجاد کیا۔ جہاں شیاطین نے لوگوں کو سکھانے کے لیے جادو گھڑا اور لوگ سمجھے کہ حضرت سلیمانuجادو کا استعمال کرتے ہیں اور جادو ہی کے زور پر انھیں اتنی بڑی سلطنت حاصل ہوئی ہے۔ اس بارے میں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت سلیمانuنے کبھی جادو نہیں کیا۔ بلکہ اللہ سچے نے اپنے اس فرمان میں حضرت سلیمان کو اس کام سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمٰنُ﴾ یعنی (حضرت سلیمان) نے (جادو سیکھ کر) کفر کا ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ہرگز جادو نہیں سیکھا ﴿ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی (جادو سیکھ کر )شیاطین نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿ يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ﴾ یعنی بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ان کو اغوا کرنے کی حرص کی وجہ سے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی جو سرزمین عراق کے شہر بابل میں دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے ان فرشتوں پر جادو نازل کیا گیا تھا اور یہ فرشتے آزمائش ہی کے لیے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ ﴿ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى﴾ ’’اور وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ‘‘ وہ ان کی خیر خواہی کرتے اور ﴿ يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡ﴾ ’’کہتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں، سو تم کفر مت کرو‘‘ یعنی جادو نہ سیکھو کیونکہ جادو کفر ہے۔ پس دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور انھیں جادو کی حیثیت سے آگاہ کر دیتے تھے۔ پس شیاطین کا جادو سکھانا تو محض تدلیس اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تھا، نیز اس جادو کو ترویج دینے اور اسے اس معصوم ہستی یعنی حضرت سلیمانuکی طرف منسوب کرنے کے لیے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بری قرار دیا ہے اور فرشتوں کا جادو سکھانا لوگوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ وہ خیر خواہی سے لوگوں کو آگاہ کر دیتے تھے تاکہ ان کے لیے حجت نہ بنے۔ پس یہ یہودی اس جادو کے پیچھے لگے، جسے شیاطین نے سیکھا تھا اور جو وہ دو فرشتے سکھایا کرتے تھے۔ تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کے علوم کو چھوڑ دیا اور شیاطین کے علم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہر شخص اسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے مفاسد بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖ﴾ ’’پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘ اس کے باوجود کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو کسی اور کی محبت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً﴾(الروم : 30؍21) ’’اور تمھارے درمیان مودت اور رحمدلی پیدا کر دی۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت ہے نیز یہ کہ جادو اللہ تعالیٰ کے ’’اذن‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے نقصان دیتا ہے۔ اذن کی دو اقسام ہیں۔ (الف) اذن قدری ۔ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) اذن شرعی ۔ جیسا کہ سابقہ آیت کریمہ ﴿فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾(البقرہ : 2؍97) میں مذکور ہے ’’اس نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتاری۔‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباب کی قوت تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں قضا و قدر کے تابع ہوتے ہیں، ان کی مستقل تاثیر نہیں ہوتی۔ افعال العباد کے بارے میں امت کے فرقوں میں کوئی بھی اس اصول کی مخالفت نہیں کرتا سوائے قدریہ کے۔ قدریہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہوتی ہے اور وہ مشیت الٰہی کے تابع نہیں ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج کر دیا اور اس طرح وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور صحابہ و تابعین کے اجماع کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جادو میں نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت نہیں ہوتی جس طرح بعض گناہوں میں دنیاوی منفعت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا:﴿قُلۡ فِيۡهِمَاۤ اِثۡمٌ كَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَاِثۡمُهُمَاۤ اَكۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا﴾(البقرہ : 2؍219) ’’کہہ دو شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ اس کا گناہ ان کے فائدے کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔‘‘ پس یہ جادو تو ضرر محض ہے اور اصل میں اس کا کوئی داعیہ نہیں۔ تمام منہیات یا تو ضرر محض کی حامل ہیں یا ان میں شر کا پہلو خیر کے پہلو سے زیادہ ہے۔ جیسے تمام مامورات صرف مصلحت پر مبنی ہیں یا ان میں خیر کا پہلو شر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا﴾ یعنی یہود نے جان لیا ہے ﴿ لَمَنِ اشۡتَرٰىهُ﴾ ’’جس نے اسے خریدا‘‘ یعنی انھوں نے جادو کے علم میں اس طرح رغبت کی جیسے تاجر مال تجارت کے خریدنے میں رغبت رکھتا ہے ﴿ مَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ﴾ یعنی ’’آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں‘‘ بلکہ یہ جادو آخرت میں عذاب کا موجب ہو گا۔ پس ان کا جادو پر عمل کرنا جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا ہے ﴿وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے‘‘ یعنی اپنے فعل کے بارے میں ایسا علم رکھنا جو عمل کا باعث ہو۔
البقرة 2:103
اور جب آیا ان کے پاس کوئی رسول اللہ کے پاس سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، تو پھینک دیا ایک فریق نے ان لوگوں میں سے جو دیے گئے تھے کتاب، اللہ کی کتاب کو، پیچھے اپنی پیٹھوں کے، گویا وہ نہیں جانتے(101) اور اتباع کیا انھوں نے اس کا جو پڑھتے تھے شیطان، سلیمان کی بادشاہی میں، اور نہیں کفر کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا، وہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور (پیروی کی) اس کی جو نازل کیا گیا اوپر دو فرشتوں کے، بابل میں، ھاروت اور ماروت (پر) اور نہیں سکھلاتے تھے وہ (فرشتے) کسی کو یہاں تک کہ کہتے وہ (پہلے) ہم تو صرف آزمائش ہیں، سو نہ کفر کر تو، پس سیکھتے تھے لوگ ان سے وہ (جادو) کہ جدائی ڈالتے تھے وہ اس کے ذریعے سے درمیان مرد اور اس کی بیوی کے، اور نہیں تھے وہ نقصان پہنچانے والے ساتھ اس (جادو) کے کسی کو بھی، مگر ساتھ حکم اللہ کے۔ اور سیکھتے تھے لوگ وہ (علم) جو نقصان پہنچاتا تھا ان کو اور نہیں نفع دیتا تھا انھیں۔ اور تحقیق جان لیا انھوں نے، البتہ جس نے خریدا اس (جادو) کو نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ اور البتہ بُری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنی جانوں کو، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(102) اور اگر بے شک وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ، البتہ ثواب (ملتا) اللہ کے ہاں سے بہت بہتر، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(103)
[101] یعنی جب ان کے پاس رسول کریم(ﷺ)اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھی اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انھوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو یہ رسول لے کر آئے۔ ﴿ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا‘‘ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’اپنی پیٹھوں کے پیچھے‘‘ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پرامید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرماں برداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
[103-102] اسی طرح ان یہودیوں نے جب اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تو اس جادو کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین نے حضرت سلیمانuکی حکومت کے زمانے میں ایجاد کیا۔ جہاں شیاطین نے لوگوں کو سکھانے کے لیے جادو گھڑا اور لوگ سمجھے کہ حضرت سلیمانuجادو کا استعمال کرتے ہیں اور جادو ہی کے زور پر انھیں اتنی بڑی سلطنت حاصل ہوئی ہے۔ اس بارے میں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت سلیمانuنے کبھی جادو نہیں کیا۔ بلکہ اللہ سچے نے اپنے اس فرمان میں حضرت سلیمان کو اس کام سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمٰنُ﴾ یعنی (حضرت سلیمان) نے (جادو سیکھ کر) کفر کا ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ہرگز جادو نہیں سیکھا ﴿ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی (جادو سیکھ کر )شیاطین نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿ يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ﴾ یعنی بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ان کو اغوا کرنے کی حرص کی وجہ سے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی جو سرزمین عراق کے شہر بابل میں دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے ان فرشتوں پر جادو نازل کیا گیا تھا اور یہ فرشتے آزمائش ہی کے لیے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ ﴿ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى﴾ ’’اور وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ‘‘ وہ ان کی خیر خواہی کرتے اور ﴿ يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡ﴾ ’’کہتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں، سو تم کفر مت کرو‘‘ یعنی جادو نہ سیکھو کیونکہ جادو کفر ہے۔ پس دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور انھیں جادو کی حیثیت سے آگاہ کر دیتے تھے۔ پس شیاطین کا جادو سکھانا تو محض تدلیس اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تھا، نیز اس جادو کو ترویج دینے اور اسے اس معصوم ہستی یعنی حضرت سلیمانuکی طرف منسوب کرنے کے لیے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بری قرار دیا ہے اور فرشتوں کا جادو سکھانا لوگوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ وہ خیر خواہی سے لوگوں کو آگاہ کر دیتے تھے تاکہ ان کے لیے حجت نہ بنے۔ پس یہ یہودی اس جادو کے پیچھے لگے، جسے شیاطین نے سیکھا تھا اور جو وہ دو فرشتے سکھایا کرتے تھے۔ تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کے علوم کو چھوڑ دیا اور شیاطین کے علم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہر شخص اسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے مفاسد بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖ﴾ ’’پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘ اس کے باوجود کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو کسی اور کی محبت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً﴾(الروم : 30؍21) ’’اور تمھارے درمیان مودت اور رحمدلی پیدا کر دی۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت ہے نیز یہ کہ جادو اللہ تعالیٰ کے ’’اذن‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے نقصان دیتا ہے۔ اذن کی دو اقسام ہیں۔ (الف) اذن قدری ۔ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) اذن شرعی ۔ جیسا کہ سابقہ آیت کریمہ ﴿فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾(البقرہ : 2؍97) میں مذکور ہے ’’اس نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتاری۔‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباب کی قوت تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں قضا و قدر کے تابع ہوتے ہیں، ان کی مستقل تاثیر نہیں ہوتی۔ افعال العباد کے بارے میں امت کے فرقوں میں کوئی بھی اس اصول کی مخالفت نہیں کرتا سوائے قدریہ کے۔ قدریہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہوتی ہے اور وہ مشیت الٰہی کے تابع نہیں ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج کر دیا اور اس طرح وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور صحابہ و تابعین کے اجماع کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جادو میں نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت نہیں ہوتی جس طرح بعض گناہوں میں دنیاوی منفعت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا:﴿قُلۡ فِيۡهِمَاۤ اِثۡمٌ كَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَاِثۡمُهُمَاۤ اَكۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا﴾(البقرہ : 2؍219) ’’کہہ دو شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ اس کا گناہ ان کے فائدے کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔‘‘ پس یہ جادو تو ضرر محض ہے اور اصل میں اس کا کوئی داعیہ نہیں۔ تمام منہیات یا تو ضرر محض کی حامل ہیں یا ان میں شر کا پہلو خیر کے پہلو سے زیادہ ہے۔ جیسے تمام مامورات صرف مصلحت پر مبنی ہیں یا ان میں خیر کا پہلو شر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا﴾ یعنی یہود نے جان لیا ہے ﴿ لَمَنِ اشۡتَرٰىهُ﴾ ’’جس نے اسے خریدا‘‘ یعنی انھوں نے جادو کے علم میں اس طرح رغبت کی جیسے تاجر مال تجارت کے خریدنے میں رغبت رکھتا ہے ﴿ مَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ﴾ یعنی ’’آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں‘‘ بلکہ یہ جادو آخرت میں عذاب کا موجب ہو گا۔ پس ان کا جادو پر عمل کرنا جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا ہے ﴿وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے‘‘ یعنی اپنے فعل کے بارے میں ایسا علم رکھنا جو عمل کا باعث ہو۔
البقرة 2:104
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ کہو تم ’’رَاعِنَا‘‘ اور کہو تم ’’اُنْظُرْنا‘‘ اور (غور سے) سنو تم، اور کافروں کے لیے ہے عذاب بہت دردناک(104) نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین، یہ کہ نازل کی جائے تم پر (اے مسلمانو!) کوئی خیر تمھارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرتا ہے ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتاہے اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(105)
[104] مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لیے رسول اللہﷺسے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے ﴿ رَاعِنَا﴾ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجیے، ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہﷺکو خطاب کرتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرمﷺکو خطاب کرنے سے روک دیا، تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہو جائے۔ اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لیے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان ہے جو اچھے ہوں، جن میں بے ہودگی نہ ہو۔ نیز قبیح الفاظ کے ترک کرنے کی تاکید ہے یا جن میں کسی قسم کی تشویش اور کسی نامناسب امر کا احتمال ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں صرف اچھے معنی کا احتمال ہو۔ فرمایا:﴿ وَقُوۡلُوا انۡظُرۡنَا ﴾ ’’اور اُنْظُرْنَا کہو‘‘ یہ لفظ کافی ہے اور بغیر کسی خدشے کے، اس سے اصل مقصد حاصل ہو جاتا ہے ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور سنو‘‘ یہاں مَسْمُوعٌ کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس کی عمومیت میں ہر وہ چیز شامل ہو جس کے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے مفہوم میں سماع قرآن اور سماع سنت شامل ہیں جو لفظی، معنوی اور قبولیت کے اعتبار سے سراسر حکمت ہے۔ اس میں ادب اور اطاعت کی تعلیم ہے۔
[105] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے اور یہود اور مشرکین کی مسلمانوں کے ساتھ عداوت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ﴿ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔‘‘ یعنی کم یا زیادہ ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ ان کی یہ خواہش تمھارے ساتھ بغض اور اس بات پر حسد کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنے فضل کے ساتھ مختص کیوں کیا ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’بے شک اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ یہ اس کا فضل ہی ہے کہ اس نے تمھارے رسول پر کتاب نازل کی تاکہ وہ تمھیں پاک کرے، تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور تمھیں وہ کچھ سکھائے جو تم نہیں جانتے۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ۔
البقرة 2:105
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ کہو تم ’’رَاعِنَا‘‘ اور کہو تم ’’اُنْظُرْنا‘‘ اور (غور سے) سنو تم، اور کافروں کے لیے ہے عذاب بہت دردناک(104) نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین، یہ کہ نازل کی جائے تم پر (اے مسلمانو!) کوئی خیر تمھارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرتا ہے ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتاہے اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(105)
[104] مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لیے رسول اللہﷺسے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے ﴿ رَاعِنَا﴾ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجیے، ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہﷺکو خطاب کرتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرمﷺکو خطاب کرنے سے روک دیا، تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہو جائے۔ اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لیے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان ہے جو اچھے ہوں، جن میں بے ہودگی نہ ہو۔ نیز قبیح الفاظ کے ترک کرنے کی تاکید ہے یا جن میں کسی قسم کی تشویش اور کسی نامناسب امر کا احتمال ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں صرف اچھے معنی کا احتمال ہو۔ فرمایا:﴿ وَقُوۡلُوا انۡظُرۡنَا ﴾ ’’اور اُنْظُرْنَا کہو‘‘ یہ لفظ کافی ہے اور بغیر کسی خدشے کے، اس سے اصل مقصد حاصل ہو جاتا ہے ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور سنو‘‘ یہاں مَسْمُوعٌ کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس کی عمومیت میں ہر وہ چیز شامل ہو جس کے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے مفہوم میں سماع قرآن اور سماع سنت شامل ہیں جو لفظی، معنوی اور قبولیت کے اعتبار سے سراسر حکمت ہے۔ اس میں ادب اور اطاعت کی تعلیم ہے۔
[105] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے اور یہود اور مشرکین کی مسلمانوں کے ساتھ عداوت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ﴿ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔‘‘ یعنی کم یا زیادہ ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ ان کی یہ خواہش تمھارے ساتھ بغض اور اس بات پر حسد کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنے فضل کے ساتھ مختص کیوں کیا ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’بے شک اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ یہ اس کا فضل ہی ہے کہ اس نے تمھارے رسول پر کتاب نازل کی تاکہ وہ تمھیں پاک کرے، تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور تمھیں وہ کچھ سکھائے جو تم نہیں جانتے۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ۔
البقرة 2:106
جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلوا دیتے ہیں اسے تو لے آتے ہیں ہم بہتر اس سے یا اس کی مثل ہی، کیا نہیں جانا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے؟ (106) کیا نہیں جانا آپ نے کہ بے شک اللہ، اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی؟ اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار(107)
[106](نَسْخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تورات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا:﴿ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا﴾ ’’جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں‘‘ یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کر دیتے ہیں ﴿نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَاۤ ﴾ ’’تو لاتے ہیں اس سے بہتر‘‘ یعنی ایسی آیت اس کی جگہ لے آتے ہیں جو تمھارے لیے زیادہ نفع مند ہوتی ہے ﴿ اَوۡ مِثۡلِهَا﴾ ’’یا اس جیسی کوئی اور آیت۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمھارے لیے نسخ (یعنی آیت ناسخہ) کی مصلحت پہلی آیت (یعنی آیت منسوخہ) کی مصلحت سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل، خاص طور پر اس امت پر بہت زیادہ ہے جس پر اس کے دین کو اللہ نے بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ جو کوئی نسخ میں جرح و قدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قدرت میں عیب نکالتا ہے۔
[107] فرمایا: ﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ۰۰اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے‘‘ جب اللہ تعالیٰ تمھارا مالک ہے وہ تمھارے اندر اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے نیکوکار، مہربان آقا اپنی اقدار میں، اپنے احکام میں اور اپنے نواہی میں تصرف کرتا ہے۔ پس جیسے اس پر اپنے بندوں کی بابت تقدیری فیصلے کرنے پر پابندی نہیں ہے اسی طرح اللہ پر ان احکام کے بارے میں بھی اعتراض صحیح نہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں۔ پس بندہ اپنے رب کے امر دینی اور امر تکوینی کا پابند ہے، اسے اعتراض کا کیا حق ہے؟۔ نیز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ولی (کارساز) اور ان کا مددگار ہے۔ پس وہ ان کے لیے منفعت کے حصول میں ان کا والی اور سرپرست ہے۔ اور ضرر کو ان سے دور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (کارسازی) کا حصہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ایسے احکام مشروع کیے، جن کا تقاضا اس کی حکمت اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کرتی ہے۔ جو کوئی اس نسخ میں غور کرتا ہے جو قرآن و سنت میں واقع ہوا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی حکمت ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے اور اپنے لطف و کرم سے انھیں ان کے مصالح تک ایسے طریقے سے پہنچانا ہے کہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتے۔
البقرة 2:107
جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلوا دیتے ہیں اسے تو لے آتے ہیں ہم بہتر اس سے یا اس کی مثل ہی، کیا نہیں جانا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے؟ (106) کیا نہیں جانا آپ نے کہ بے شک اللہ، اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی؟ اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار(107)
[106](نَسْخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تورات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا:﴿ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا﴾ ’’جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں‘‘ یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کر دیتے ہیں ﴿نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَاۤ ﴾ ’’تو لاتے ہیں اس سے بہتر‘‘ یعنی ایسی آیت اس کی جگہ لے آتے ہیں جو تمھارے لیے زیادہ نفع مند ہوتی ہے ﴿ اَوۡ مِثۡلِهَا﴾ ’’یا اس جیسی کوئی اور آیت۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمھارے لیے نسخ (یعنی آیت ناسخہ) کی مصلحت پہلی آیت (یعنی آیت منسوخہ) کی مصلحت سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل، خاص طور پر اس امت پر بہت زیادہ ہے جس پر اس کے دین کو اللہ نے بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ جو کوئی نسخ میں جرح و قدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قدرت میں عیب نکالتا ہے۔
[107] فرمایا: ﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ۰۰اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے‘‘ جب اللہ تعالیٰ تمھارا مالک ہے وہ تمھارے اندر اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے نیکوکار، مہربان آقا اپنی اقدار میں، اپنے احکام میں اور اپنے نواہی میں تصرف کرتا ہے۔ پس جیسے اس پر اپنے بندوں کی بابت تقدیری فیصلے کرنے پر پابندی نہیں ہے اسی طرح اللہ پر ان احکام کے بارے میں بھی اعتراض صحیح نہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں۔ پس بندہ اپنے رب کے امر دینی اور امر تکوینی کا پابند ہے، اسے اعتراض کا کیا حق ہے؟۔ نیز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ولی (کارساز) اور ان کا مددگار ہے۔ پس وہ ان کے لیے منفعت کے حصول میں ان کا والی اور سرپرست ہے۔ اور ضرر کو ان سے دور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (کارسازی) کا حصہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ایسے احکام مشروع کیے، جن کا تقاضا اس کی حکمت اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کرتی ہے۔ جو کوئی اس نسخ میں غور کرتا ہے جو قرآن و سنت میں واقع ہوا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی حکمت ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے اور اپنے لطف و کرم سے انھیں ان کے مصالح تک ایسے طریقے سے پہنچانا ہے کہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتے۔
البقرة 2:108
کیا چاہتے ہو تم (اے مسلمانو!) کہ سوال کرو تم اپنے رسول سے، جیسے سوال کیے گئے موسیٰ پہلے اس سے؟ اور جو کوئی تبادلہ کرتا ہے کفر کا ایمان کے عوض، تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(108) چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب میں سے، کاش کہ وہ پھیر دیں (بنا دیں) تمھیں بعد تمھارے ایمان کے، کافر حسد کرتے ہوئے اپنے دلوں سے، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے حق، پس معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ لے آئے اللہ حکم اپنا، بلاشبہ اللہ ہر چیزپر خوب قادر ہے(109) اور تم قائم کرو نماز اور دو زکاۃاور جو کچھ آگے بھیجو گے تم اپنے نفسوں کے لیے کوئی بھلائی تو پاؤ گے تم اس کو اللہ کے ہاں، بے شک اللہ جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(110)
[108] اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿ كَمَا سُىِٕلَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰuسے سوال کیا گیا۔‘‘ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡيَآءَؔ اِنۡ تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ﴾(المائدہ : 5؍101) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں گی۔‘‘ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل : 16؍43) ’’اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ﴾(البقرہ : 2؍219) ’’وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰى ﴾(البقرہ : 2؍220) ’’وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ﴾ ’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کر دیا۔‘‘
[109] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا﴾ ’’کہ کاش تمھیں تمھارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔‘‘ اس کے لیے انھوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انھی پر پڑ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(آل عمران 3؍72) ’’اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آ جائیں۔‘‘ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی۔ چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کےمستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[110] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فی الحال اقامت نماز، ادائے زکاۃ اور تقرب الٰہی کے کاموں میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ نیکی کا جو بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہو گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بہت زیادہ پائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔‘‘
البقرة 2:109
کیا چاہتے ہو تم (اے مسلمانو!) کہ سوال کرو تم اپنے رسول سے، جیسے سوال کیے گئے موسیٰ پہلے اس سے؟ اور جو کوئی تبادلہ کرتا ہے کفر کا ایمان کے عوض، تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(108) چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب میں سے، کاش کہ وہ پھیر دیں (بنا دیں) تمھیں بعد تمھارے ایمان کے، کافر حسد کرتے ہوئے اپنے دلوں سے، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے حق، پس معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ لے آئے اللہ حکم اپنا، بلاشبہ اللہ ہر چیزپر خوب قادر ہے(109) اور تم قائم کرو نماز اور دو زکاۃاور جو کچھ آگے بھیجو گے تم اپنے نفسوں کے لیے کوئی بھلائی تو پاؤ گے تم اس کو اللہ کے ہاں، بے شک اللہ جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(110)
[108] اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿ كَمَا سُىِٕلَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰuسے سوال کیا گیا۔‘‘ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡيَآءَؔ اِنۡ تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ﴾(المائدہ : 5؍101) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں گی۔‘‘ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل : 16؍43) ’’اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ﴾(البقرہ : 2؍219) ’’وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰى ﴾(البقرہ : 2؍220) ’’وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ﴾ ’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کر دیا۔‘‘
[109] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا﴾ ’’کہ کاش تمھیں تمھارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔‘‘ اس کے لیے انھوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انھی پر پڑ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(آل عمران 3؍72) ’’اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آ جائیں۔‘‘ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی۔ چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کےمستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[110] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فی الحال اقامت نماز، ادائے زکاۃ اور تقرب الٰہی کے کاموں میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ نیکی کا جو بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہو گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بہت زیادہ پائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔‘‘
البقرة 2:110
کیا چاہتے ہو تم (اے مسلمانو!) کہ سوال کرو تم اپنے رسول سے، جیسے سوال کیے گئے موسیٰ پہلے اس سے؟ اور جو کوئی تبادلہ کرتا ہے کفر کا ایمان کے عوض، تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(108) چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب میں سے، کاش کہ وہ پھیر دیں (بنا دیں) تمھیں بعد تمھارے ایمان کے، کافر حسد کرتے ہوئے اپنے دلوں سے، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے حق، پس معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ لے آئے اللہ حکم اپنا، بلاشبہ اللہ ہر چیزپر خوب قادر ہے(109) اور تم قائم کرو نماز اور دو زکاۃاور جو کچھ آگے بھیجو گے تم اپنے نفسوں کے لیے کوئی بھلائی تو پاؤ گے تم اس کو اللہ کے ہاں، بے شک اللہ جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(110)
[108] اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿ كَمَا سُىِٕلَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰuسے سوال کیا گیا۔‘‘ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡيَآءَؔ اِنۡ تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ﴾(المائدہ : 5؍101) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں گی۔‘‘ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل : 16؍43) ’’اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ﴾(البقرہ : 2؍219) ’’وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰى ﴾(البقرہ : 2؍220) ’’وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ﴾ ’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کر دیا۔‘‘
[109] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا﴾ ’’کہ کاش تمھیں تمھارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔‘‘ اس کے لیے انھوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انھی پر پڑ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(آل عمران 3؍72) ’’اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آ جائیں۔‘‘ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی۔ چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کےمستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[110] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فی الحال اقامت نماز، ادائے زکاۃ اور تقرب الٰہی کے کاموں میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ نیکی کا جو بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہو گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بہت زیادہ پائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔‘‘
البقرة 2:111
اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں داخل ہوں گے جنت میں مگر وہ جو ہوں گے یہودی یا عیسائی۔ یہ (باطل) خواہشیں ہیں ان کی، کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، اگر ہو تم سچے(111) کیوں نہیں، (ہاں) جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ واسطے اللہ کے اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لیے ہے اجر اس کا نزدیک اس کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے(112)
[111] یعنی یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا اور عیسائیوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو عیسائی ہوں گے۔ پس انھوں نے حکم لگا دیا کہ صرف وہی اکیلے جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جو دلیل و برہان کے بغیر قابل قبول نہیں۔ پس اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو دلیل مہیا کرو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی قسم کا دعویٰ کرتا ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کی صحت پر دلیل مہیا کرے وگرنہ اس کا دعویٰ اس کی طرف پلٹا دیا جائے اور اگر کوئی دعویٰ کرنے والا اس کے برعکس بغیر دلیل کے دعویٰ کر دے، تو وہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ ان دونوں دعوؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ پس دلیل ہی ایک ایسی چیز ہے جو دعوے کی تصدیق یا اس کی تکذیب کرتی ہے اور جب ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔
[112] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی روشن دلیل بیان فرمائی ہے جو ہر ایک کے لیے عام ہے فرمایا: ﴿ بَلٰى ﴾ یعنی تمھاری آرزوئیں اور تمھارے دعوے صحیح نہیں بلکہ ﴿ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ﴾ جس نے اپنے قلب کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے اعمال کو اس کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَهُوَ مُحۡسِنٌ﴾ اور وہ اپنے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی عبادت احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یعنی وہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کرتا ہے صرف یہی لوگ جنت میں جائیں گے۔ ﴿ فَلَهٗۤ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ﴾ ’’بے شک اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے‘‘ یہ اجر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر مشتمل جنت ہے ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ پس انھیں ان کی مرغوب چیز حاصل ہو گی اور خوف سے نجات مل جائے گی۔ ان آیات کریمہ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جو ان مذکورہ لوگوں کی مانند نہیں ہیں وہ ہلاک ہونے والے جہنمیوں میں شمار ہوں گے پس نجات صرف انھی لوگوں کا نصیب ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرتے اور رسول اللہﷺکی پیروی کرتے ہیں۔
البقرة 2:112
اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں داخل ہوں گے جنت میں مگر وہ جو ہوں گے یہودی یا عیسائی۔ یہ (باطل) خواہشیں ہیں ان کی، کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، اگر ہو تم سچے(111) کیوں نہیں، (ہاں) جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ واسطے اللہ کے اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لیے ہے اجر اس کا نزدیک اس کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے(112)
[111] یعنی یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا اور عیسائیوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو عیسائی ہوں گے۔ پس انھوں نے حکم لگا دیا کہ صرف وہی اکیلے جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جو دلیل و برہان کے بغیر قابل قبول نہیں۔ پس اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو دلیل مہیا کرو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی قسم کا دعویٰ کرتا ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کی صحت پر دلیل مہیا کرے وگرنہ اس کا دعویٰ اس کی طرف پلٹا دیا جائے اور اگر کوئی دعویٰ کرنے والا اس کے برعکس بغیر دلیل کے دعویٰ کر دے، تو وہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ ان دونوں دعوؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ پس دلیل ہی ایک ایسی چیز ہے جو دعوے کی تصدیق یا اس کی تکذیب کرتی ہے اور جب ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔
[112] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی روشن دلیل بیان فرمائی ہے جو ہر ایک کے لیے عام ہے فرمایا: ﴿ بَلٰى ﴾ یعنی تمھاری آرزوئیں اور تمھارے دعوے صحیح نہیں بلکہ ﴿ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ﴾ جس نے اپنے قلب کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے اعمال کو اس کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَهُوَ مُحۡسِنٌ﴾ اور وہ اپنے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی عبادت احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یعنی وہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کرتا ہے صرف یہی لوگ جنت میں جائیں گے۔ ﴿ فَلَهٗۤ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ﴾ ’’بے شک اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے‘‘ یہ اجر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر مشتمل جنت ہے ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ پس انھیں ان کی مرغوب چیز حاصل ہو گی اور خوف سے نجات مل جائے گی۔ ان آیات کریمہ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جو ان مذکورہ لوگوں کی مانند نہیں ہیں وہ ہلاک ہونے والے جہنمیوں میں شمار ہوں گے پس نجات صرف انھی لوگوں کا نصیب ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرتے اور رسول اللہﷺکی پیروی کرتے ہیں۔
البقرة 2:113
اور کہا یہودیوں نے، نہیں ہیں عیسائی اُوپر کسی چیز کے اور کہا عیسائیوں نے، نہیں ہیں یہودی اُوپر کسی چیز کے، حالانکہ وہ (دونوں) پڑھتے ہیں کتاب، اسی طرح کہا ان لوگوں نے(بھی) جو نہیں علم رکھتے، مثل ان کے قول کے، پس اللہ فیصلہ فرمائے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس (چیز) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(113)
[113] اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب خواہش نفس اور حسد میں اس حد کو پہنچ گئے کہ انھوں نے ایک دوسرے کو گمراہ اور کافر قرار دیا، جیسے مشرکین عرب میں امیوں کا وتیرہ تھا۔ پس ہر فرقہ دوسرے فرقے کو گمراہ قرار دیتا تھا۔ ان اختلاف کرنے والوں کے مابین قیامت کے روز اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس کے بارے میں اس نے بندوں کو باخبر کر دیا ہے کہ فوز و فلاح اور نجات صرف انھی لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے تمام انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی، اور اپنے رب کے احکام کی پیروی کی اور اس کی منہیات سے اجتناب کیا۔ ان کے علاوہ دیگر تمام لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گریں گے۔
البقرة 2:114
اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں سے، یہ کہ ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کااور کوشش کی اس نے ان کے اجاڑنے میں، یہ (روکنے والے) نہیں تھا لائق ان کے کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں عذاب عظیم ہے(114)
[114] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جس نے اللہ کی مساجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے، نماز پڑھنے اور نیکی اور اطاعت کے دیگر کاموں سے روکا ﴿ وَسَعٰى ﴾ یعنی جس نے پوری جدوجہد اور بھرپور کوشش کی ﴿ فِيۡ خَرَابِهَا﴾ ’’ان کے ویران کرنے میں۔‘‘ اس سے مراد، حسی اور معنوی دونوں اعتبار سے ویران کرنا ہے۔ حسی ویرانی کا مطلب ہے منہدم کرنا، اجاڑنا اور اس میں گندگی وغیرہ پھینکنا۔ معنوی ویرانی کا مطلب ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنا ہے۔ اور یہ عام ہے، اس زمرے میں وہ تمام لوگ آتے ہیں جو ان صفات سے متصف ہیں۔ اس میں اصحاب فیل بھی شامل ہیں۔ قریش بھی شامل ہیں، جب انھوں نے حدیبیہ کے سال رسول اللہﷺکو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ اور اس گروہ میں وہ نصرانی اور اہل ظلم بھی شامل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے پوری کوشش سے بیت المقدس کو ویران کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے کرتوتوں کی یہ سزا دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شرعاً اور تقدیری طور پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے منع کر دیا سوائے اس کے کہ وہ ڈرتے ہوئے ذلت و انکسار کے ساتھ داخل ہوں۔ پس جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو خوف زدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر خوف مسلط کر دیا۔مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺکو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺکو مکہ مکرمہ فتح کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی اور مشرکین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے قریب جانے سے منع کر دیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾(التوبہ : 9؍28) ’’اے ایمان والو! مشرکین تو ناپاک ہیں اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔‘‘ اصحاب فیل کا جو حشر ہوا اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) اس کا ذکر فرمایا ہے۔ نصرانیوں پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مسلط فرمایا اور انھوں نے ان کو جلاوطن کر دیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ان جیسی صفات رکھتا ہے وہ اس سزا سے اپنا حصہ ضرور وصول کرے گا۔ یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں جن کے واقع ہونے سے پہلے ہی باری تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا اور یہ اسی طرح واقع ہوئیں جس طرح اس نے خبر دی تھی۔ اس آیت کریمہ سے اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ کفار کو مساجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ فرمایا: ﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی ان کے لیے دنیا میں فضیحت ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ جب اللہ کی مساجد میں اللہ کے ذکر سے روکنا سب سے بڑا ظلم ہے تو اسی طرح مساجد کو حسی اور معنوی اعتبار سے آباد کرنے والے سے بڑا ایمان والا کوئی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾(التوبہ : 9؍18) ’’اللہ کی مساجد کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے گھروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعظیم و تکریم کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ﴾(النور:24؍36) ’’ان گھروں میں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور وہاں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔‘‘ مساجد سے متعلق بہت سے احکام ہیں جن کا خلاصہ ان آیات کریمہ کے اندر مضمر ہے۔
البقرة 2:115
اور اللہ کے لیے ہیں مشرق و مغرب، پس جس طرف بھی تم منہ کرو گے تو وہاں ہی ہے چہرہ اللہ کا، بلاشبہ اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(115)
[115]﴿ وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق و مغرب کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ روشنی کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی آیات عظیمہ کا محل و مقام ہیں اور جب وہ مشارق و مغارب کا مالک ہے، تو تمام جہات اسی کی ملکیت ہیں۔ ﴿ فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا﴾ پس ان جہات میں سے جس کسی جہت کی طرف بھی تم اپنا منہ پھیر لو گے، بشرطیکہ تمھارا اس کی طرف منہ پھیرنا اللہ کے حکم سے ہو۔ یا تو وہ تمھیں حکم دے کہ خانہ کعبہ کی طرف بھی تم منہ پھیر لو، جبکہ پہلے تم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے پابند تھے یا سفر میں تمھیں سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے، اس صورت میں اس کا قبلہ وہی ہو گا جس کی طرف وہ منہ کرے گا یا (انجان جگہ میں) قبلے کا رخ معلوم نہ ہو، پس اپنے اندازے سے نماز پڑھ لی، بعد میں معلوم ہوا کہ اندازہ غلط تھا یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے قبلہ رخ ہونا مشکل ہو۔ ان تمام صورتوں میں وہ یا تو مامور ہے (یعنی اللہ کے حکم پر قبلے کی طرف رخ کرنے والا ہے) یا معذور ہے۔ ہر حال میں بندہ جس جہت کی طرف بھی منہ کرتا ہے وہ جہت اللہ تعالیٰ کی ملکیت سے باہر نہیں۔ ﴿ فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جدھر بھی تم رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے بے شک اللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے چہرے کا اثبات ہوتا ہے مگر جیسے اس کی ذات اقدس کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے مگر مخلوق کے چہروں کے مشابہ نہیں۔ (اللہ تعالیٰ اس مشابہت سے بلند و برتر ہے) وہ وسیع فضل اور عظیم صفات کا مالک ہے اور تمھارے سینوں کے بھید اور نیتوں کو جاننے والا ہے۔ اس نے وسعت فضل و علم کی بنا پر تمھارے لیے احکام میں وسعت بخشی ہے اور تم سے مامورات کو قبول فرمایا۔ ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر صرف اسی کی ذات کے لیے ہے۔
البقرة 2:116
اور کہا انھوں نے، بنا لی ہے اللہ نے اولاد، پاک ہے وہ (اس سے)بلکہ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں(116) وہ انوکھا موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا، تو صرف یہی کہتا ہے اس کو ہو جا تو پس وہ ہو جاتاہے(117)
[116]﴿ وَقَالُوا﴾ یعنی یہود و نصاریٰ، مشرکین اور ان تمام لوگوں نے کہا جو کہتے ہیں ﴿ اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اللہ نے بیٹا بنا لیا۔‘‘ انھوں نے ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو اس کی جلالت شان کے لائق نہ تھی۔ انھوں نے بہت برا کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گستاخی پر صبر کرتا ہے، حلم سے کام لیتا ہے، انھیں معاف کر کے انھیں رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں نقص ثابت کرتے ہیں ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾یعنی وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جن سے یہ اہل شرک اور اہل ظلم اسے متصف کرتے ہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔۔۔۔۔ پس پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے وہ ذات جو ہر پہلو سے کمال مطلق کی مالک ہے جسے کسی بھی پہلو سے نقص لاحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے اپنے منزہ ہونے پر دلیل قائم کی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ بَلۡ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت اور اس کی غلام ہے۔ وہ ان میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح مالک اپنے مملوک میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اس کے اطاعت گزار اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں۔ جب تمام مخلوق اس کی غلام اور اس کی محتاج ہے اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے تو ان میں کوئی کیسے اس کا بیٹا ہو سکتاہے۔ بیٹا لازمی طور پر اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے جسم کا حصہ ہے۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ مالک اور غالب ہے۔ تم سب لوگ مملوک اور مغلوب ہو، اس کی ہستی بے نیاز اور تم محتاج محض، ایسا ہونے کے باوجود اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سب سے بڑا باطل اور سب سے زیادہ قبیح بات ہے۔ ’’قُنُوت‘‘ (اطاعت کرنا) کی دو اقسام ہیں۔ (۱) قنوت عام: یعنی تمام مخلوق خالق کے دست تدبیر کے تحت اس کی اطاعت گزار ہے۔ (۲) قنوت خاص: اس سے مراد اطاعت عبودیت ہے۔ پس قنوت کی پہلی قسم وہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اور قنوت کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ذکر ﴿وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ﴾(البقرہ : 2؍238) ’’اور اللہ کے سامنے ادب اور اطاعت گزاری کے ساتھ کھڑے رہیں۔‘‘ میں مذکور ہے۔
[117] پھر فرمایا: ﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نہایت مضبوط اور بہترین طریقے سے تخلیق کیا ہے۔ ﴿وَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا بس وہ ہو جاتا ہے‘‘ یعنی کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی اور کسی چیز کو اس کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں۔
البقرة 2:117
اور کہا انھوں نے، بنا لی ہے اللہ نے اولاد، پاک ہے وہ (اس سے)بلکہ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں(116) وہ انوکھا موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا، تو صرف یہی کہتا ہے اس کو ہو جا تو پس وہ ہو جاتاہے(117)
[116]﴿ وَقَالُوا﴾ یعنی یہود و نصاریٰ، مشرکین اور ان تمام لوگوں نے کہا جو کہتے ہیں ﴿ اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اللہ نے بیٹا بنا لیا۔‘‘ انھوں نے ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو اس کی جلالت شان کے لائق نہ تھی۔ انھوں نے بہت برا کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گستاخی پر صبر کرتا ہے، حلم سے کام لیتا ہے، انھیں معاف کر کے انھیں رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں نقص ثابت کرتے ہیں ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾یعنی وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جن سے یہ اہل شرک اور اہل ظلم اسے متصف کرتے ہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔۔۔۔۔ پس پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے وہ ذات جو ہر پہلو سے کمال مطلق کی مالک ہے جسے کسی بھی پہلو سے نقص لاحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے اپنے منزہ ہونے پر دلیل قائم کی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ بَلۡ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت اور اس کی غلام ہے۔ وہ ان میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح مالک اپنے مملوک میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اس کے اطاعت گزار اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں۔ جب تمام مخلوق اس کی غلام اور اس کی محتاج ہے اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے تو ان میں کوئی کیسے اس کا بیٹا ہو سکتاہے۔ بیٹا لازمی طور پر اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے جسم کا حصہ ہے۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ مالک اور غالب ہے۔ تم سب لوگ مملوک اور مغلوب ہو، اس کی ہستی بے نیاز اور تم محتاج محض، ایسا ہونے کے باوجود اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سب سے بڑا باطل اور سب سے زیادہ قبیح بات ہے۔ ’’قُنُوت‘‘ (اطاعت کرنا) کی دو اقسام ہیں۔ (۱) قنوت عام: یعنی تمام مخلوق خالق کے دست تدبیر کے تحت اس کی اطاعت گزار ہے۔ (۲) قنوت خاص: اس سے مراد اطاعت عبودیت ہے۔ پس قنوت کی پہلی قسم وہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اور قنوت کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ذکر ﴿وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ﴾(البقرہ : 2؍238) ’’اور اللہ کے سامنے ادب اور اطاعت گزاری کے ساتھ کھڑے رہیں۔‘‘ میں مذکور ہے۔
[117] پھر فرمایا: ﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نہایت مضبوط اور بہترین طریقے سے تخلیق کیا ہے۔ ﴿وَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا بس وہ ہو جاتا ہے‘‘ یعنی کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی اور کسی چیز کو اس کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں۔
البقرة 2:118
اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں علم رکھتے کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے اللہ یا (کیوں نہیں) آتی ہمارے پاس کوئی نشانی؟ اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، مثل ان کے قول کے، ایک جیسے ہو گئے دل ان کے، تحقیق بیان کر دیں ہم نے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(118) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو ساتھ حق کے، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور نہیں سوال کیے جائیں گے آپ دوزخیوں کی بابت (119)
[118] یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا۔ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ ﴿ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ﴾ ’’یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی‘‘ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انھوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انھوں نے کہا: ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(البقرہ : 2؍55) ’’ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔‘‘ ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے کہتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ پس یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیا کرتے تھے۔‘‘ ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾(الفرقان : 25؍7، 8) ’’اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو ڈرانے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ رہتا یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا۔ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا‘‘ یا جیسے فرمایا: ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍90) ’’اور انھوں نے کہا ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ پس اپنے رسولوں کے ساتھ یہ ان کی عادت رہی ہے کہ یہ طلب رشد و ہدایت کے لیے آیات کا مطالبہ نہیں کیا کرتے تھے اور نہ تبیین حق ان کا مقصد تھا بلکہ وہ تو محض بال کی کھال اتارنے کے لیے مطالبات کرتے تھے۔ کیونکہ رسول تو آیات (اور معجزات) کے ساتھ آتے رہے ہیں اور ان جیسی آیات و معجزات پر انسان ایمان لاتا رہا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَؔ﴾ ’’بے شک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں۔‘‘ پس ہر صاحب ایقان اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں اور واضح دلائل و براہین کو پہچان لیتا ہے۔ ان سے اسے یقین حاصل ہوتا ہے اور شک و ریب اس سے دور ہوجاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار و ایجاز سے بعض جامع آیات کا ذکر فرمایا ہے جو رسول اللہﷺکی صداقت، اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔
[119] فرمایا: ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘ یہ ان آیات پر مشتمل ہے جنھیں رسول اللہﷺلے کر مبعوث ہوئے اور یہ تین امور کی طرف راجع ہیں۔ (۱)رسول اللہﷺکی رسالت۔ (۲) آپ کی سیرت طیبہ، آپ کا طریقہ اور آپ کی راہ نمائی۔ (۳) قرآن و سنت کی معرفت۔ پہلا اور دوسرا نکتہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ ﴾ میں داخل ہے اور تیسرا نکتہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ میں داخل ہے۔ نکتہ اول۔۔۔ یعنی رسول اللہﷺکی بعثت اور رسالت کی توضیح یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل اہل زمین کی جو حالت تھی وہ معلوم ہے۔ اس زمین کے رہنے والے بتوں، آگ اور صلیب کی عبادت میں مبتلا تھے۔ ان کے لیے جو دین آیا انھوں نے اسے تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ کفر کی تاریکیوں میں ڈوب گئے اور کفر کی تاریکی ان پر چھا گئی تھی۔ البتہ اہل کتاب کی کچھ باقیات تھیں (جو دین اسلام پر قائم رہیں) اور وہ بھی رسول اللہﷺکی بعثت سے تھوڑا سا پہلے ناپید ہو گئیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا اور نہ اس کو بے حساب و کتاب آزاد چھوڑا ہے، کیونکہ وہ حکیم و دانا، باخبر، صاحب قدرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ پس اس کی حکمت اور اپنے بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ان کی طرف ایک نہایت عظمت والا رسول مبعوث کرے جو انھیں ایک اللہ کی عبادت کا حکم دے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک عقلمند شخص محض آپ کی رسالت ہی کی بنا پر آپ کی صداقت کو پہچان لیتا ہے اور یہ اس بات کی بہت بڑی علامت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رہا دوسرا نکتہ... تو جس نے رسول اللہﷺکو اچھی طرح پہچان لیا اور اسے آپ کی بعثت سے قبل آپ کی سیرت اور آپ کے طریق زندگی اور آپ کی کامل ترین خصلتوں پر آپ کی نشوونما کی معرفت حاصل ہو گئی۔ پھر بعثت کے بعد آپ کے مکارم ، عظیم اور روشن اخلاق بڑھتے چلے گئے۔ پس جنھیں ان اخلاق کی معرفت حاصل ہو گئی اور انھوں نے آپ کے احوال کو اچھی طرح جانچ لیا تو اسے معلوم ہو گیا کہ ایسے اخلاق صرف انبیائے کاملین ہی کے ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اوصاف کو اصحاب اوصاف اور ان کے صدق و کذب کی معرفت کے لیے سب سے بڑی دلیل قرار دیا ہے۔ رہا تیسرا نکتہ۔۔۔ تو یہ اس عظیم شریعت اور قرآن کریم کی معرفت ہے جسے رسول اللہﷺپر نازل کیا گیا جو سچی خبروں، اچھے احکام، ہر برائی سے ممانعت اور روشن معجزات پر مشتمل ہے۔ پس تمام نشانیاں ان تین باتوں میں آ جاتی ہیں۔ ﴿ بَشِيۡرًا ﴾ یعنی آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ اور اس شخص کو دنیاوی اور اخروی بدبختی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں جس نے آپ کی نافرمانی کی ﴿ وَّلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡجَحِيۡمِ ﴾ یعنی آپ سے اہل دوزخ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ آپ کا کام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
البقرة 2:119
اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں علم رکھتے کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے اللہ یا (کیوں نہیں) آتی ہمارے پاس کوئی نشانی؟ اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، مثل ان کے قول کے، ایک جیسے ہو گئے دل ان کے، تحقیق بیان کر دیں ہم نے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(118) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو ساتھ حق کے، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور نہیں سوال کیے جائیں گے آپ دوزخیوں کی بابت (119)
[118] یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا۔ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ ﴿ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ﴾ ’’یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی‘‘ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انھوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انھوں نے کہا: ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(البقرہ : 2؍55) ’’ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔‘‘ ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے کہتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ پس یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیا کرتے تھے۔‘‘ ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾(الفرقان : 25؍7، 8) ’’اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو ڈرانے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ رہتا یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا۔ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا‘‘ یا جیسے فرمایا: ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍90) ’’اور انھوں نے کہا ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ پس اپنے رسولوں کے ساتھ یہ ان کی عادت رہی ہے کہ یہ طلب رشد و ہدایت کے لیے آیات کا مطالبہ نہیں کیا کرتے تھے اور نہ تبیین حق ان کا مقصد تھا بلکہ وہ تو محض بال کی کھال اتارنے کے لیے مطالبات کرتے تھے۔ کیونکہ رسول تو آیات (اور معجزات) کے ساتھ آتے رہے ہیں اور ان جیسی آیات و معجزات پر انسان ایمان لاتا رہا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَؔ﴾ ’’بے شک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں۔‘‘ پس ہر صاحب ایقان اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں اور واضح دلائل و براہین کو پہچان لیتا ہے۔ ان سے اسے یقین حاصل ہوتا ہے اور شک و ریب اس سے دور ہوجاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار و ایجاز سے بعض جامع آیات کا ذکر فرمایا ہے جو رسول اللہﷺکی صداقت، اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔
[119] فرمایا: ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘ یہ ان آیات پر مشتمل ہے جنھیں رسول اللہﷺلے کر مبعوث ہوئے اور یہ تین امور کی طرف راجع ہیں۔ (۱)رسول اللہﷺکی رسالت۔ (۲) آپ کی سیرت طیبہ، آپ کا طریقہ اور آپ کی راہ نمائی۔ (۳) قرآن و سنت کی معرفت۔ پہلا اور دوسرا نکتہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ ﴾ میں داخل ہے اور تیسرا نکتہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ میں داخل ہے۔ نکتہ اول۔۔۔ یعنی رسول اللہﷺکی بعثت اور رسالت کی توضیح یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل اہل زمین کی جو حالت تھی وہ معلوم ہے۔ اس زمین کے رہنے والے بتوں، آگ اور صلیب کی عبادت میں مبتلا تھے۔ ان کے لیے جو دین آیا انھوں نے اسے تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ کفر کی تاریکیوں میں ڈوب گئے اور کفر کی تاریکی ان پر چھا گئی تھی۔ البتہ اہل کتاب کی کچھ باقیات تھیں (جو دین اسلام پر قائم رہیں) اور وہ بھی رسول اللہﷺکی بعثت سے تھوڑا سا پہلے ناپید ہو گئیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا اور نہ اس کو بے حساب و کتاب آزاد چھوڑا ہے، کیونکہ وہ حکیم و دانا، باخبر، صاحب قدرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ پس اس کی حکمت اور اپنے بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ان کی طرف ایک نہایت عظمت والا رسول مبعوث کرے جو انھیں ایک اللہ کی عبادت کا حکم دے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک عقلمند شخص محض آپ کی رسالت ہی کی بنا پر آپ کی صداقت کو پہچان لیتا ہے اور یہ اس بات کی بہت بڑی علامت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رہا دوسرا نکتہ... تو جس نے رسول اللہﷺکو اچھی طرح پہچان لیا اور اسے آپ کی بعثت سے قبل آپ کی سیرت اور آپ کے طریق زندگی اور آپ کی کامل ترین خصلتوں پر آپ کی نشوونما کی معرفت حاصل ہو گئی۔ پھر بعثت کے بعد آپ کے مکارم ، عظیم اور روشن اخلاق بڑھتے چلے گئے۔ پس جنھیں ان اخلاق کی معرفت حاصل ہو گئی اور انھوں نے آپ کے احوال کو اچھی طرح جانچ لیا تو اسے معلوم ہو گیا کہ ایسے اخلاق صرف انبیائے کاملین ہی کے ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اوصاف کو اصحاب اوصاف اور ان کے صدق و کذب کی معرفت کے لیے سب سے بڑی دلیل قرار دیا ہے۔ رہا تیسرا نکتہ۔۔۔ تو یہ اس عظیم شریعت اور قرآن کریم کی معرفت ہے جسے رسول اللہﷺپر نازل کیا گیا جو سچی خبروں، اچھے احکام، ہر برائی سے ممانعت اور روشن معجزات پر مشتمل ہے۔ پس تمام نشانیاں ان تین باتوں میں آ جاتی ہیں۔ ﴿ بَشِيۡرًا ﴾ یعنی آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ اور اس شخص کو دنیاوی اور اخروی بدبختی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں جس نے آپ کی نافرمانی کی ﴿ وَّلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡجَحِيۡمِ ﴾ یعنی آپ سے اہل دوزخ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ آپ کا کام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
البقرة 2:120
اور ہرگزنہیں راضی ہوں گے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی، حتی کہ پیروی کریں آپ ان کی ملت کی، کہہ دیجیے! بلاشبہ اللہ کی ہدایت وہی (حقیقی) ہدایت ہے اور اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشات کی، بعد اس کے جو آگیا آپ کے پاس علم تو نہیں ہوگا آپ کے لیے اللہ سے (بچانے والا) کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار(120)
[120] اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ ان کے دین کی اتباع نہ کریں کیونکہ وہ اپنے اس دین کے داعی ہیں جس پر وہ عمل پیرا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی ہدایت ہے۔ لہٰذا آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک اللہ کی ہدایت‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ هُوَ الۡهُدٰؔى ﴾وہی درحقیقت ہدایت ہے۔ اور وہ مذہب جس پر تم گامزن ہو محض خواہشات نفس کی پیروی ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِيۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍؔ ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کو پہنچا، تو آپ کو اللہ سے بچانے والا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہو گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی اتباع کرنے اور ان امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے جو ان کے دین سے مختص ہیں۔ یہاں خطاب اگرچہ رسول اللہﷺسے ہے مگر بالواسطہ آپ کی امت بھی اس میں داخل ہے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس سے خاص طور پر خطاب ہو، اس کی بجائے عموم معنی کا اعتبار کیا جائے۔ جیسے کسی حکم کے نازل ہونے کا کوئی خاص سبب ہوتا ہے، لیکن وہاں اس سبب کی بجائے عموم لفظ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
البقرة 2:121
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، پڑھتے ہیں وہ اسے جس طرح حق ہے اس کے پڑھنے کا، وہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے اور جو کوئی کفر کرتا ہے ساتھ اس کے تو وہی ہیں خسارہ پانے والے(121) اے بنواسرائیل! یاد کرو تم میری نعمت، وہ جو انعام کی میں نے تم پر اور یہ کہ فضیلت دی میں نے تمھیں اوپر تمام جہانوں کے(122) اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی نفس کسی نفس کے کچھ بھی اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے کوئی بدلہ اور نہ نفع دے گی اس کو کوئی سفارش اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(123)
[121] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ﴾ ’’وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں ﴿ نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ﴾(البقرۃ : 2؍91) ’’جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔‘‘
[123-122] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
البقرة 2:122
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، پڑھتے ہیں وہ اسے جس طرح حق ہے اس کے پڑھنے کا، وہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے اور جو کوئی کفر کرتا ہے ساتھ اس کے تو وہی ہیں خسارہ پانے والے(121) اے بنواسرائیل! یاد کرو تم میری نعمت، وہ جو انعام کی میں نے تم پر اور یہ کہ فضیلت دی میں نے تمھیں اوپر تمام جہانوں کے(122) اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی نفس کسی نفس کے کچھ بھی اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے کوئی بدلہ اور نہ نفع دے گی اس کو کوئی سفارش اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(123)
[121] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ﴾ ’’وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں ﴿ نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ﴾(البقرۃ : 2؍91) ’’جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔‘‘
[123-122] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
البقرة 2:123
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، پڑھتے ہیں وہ اسے جس طرح حق ہے اس کے پڑھنے کا، وہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے اور جو کوئی کفر کرتا ہے ساتھ اس کے تو وہی ہیں خسارہ پانے والے(121) اے بنواسرائیل! یاد کرو تم میری نعمت، وہ جو انعام کی میں نے تم پر اور یہ کہ فضیلت دی میں نے تمھیں اوپر تمام جہانوں کے(122) اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی نفس کسی نفس کے کچھ بھی اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے کوئی بدلہ اور نہ نفع دے گی اس کو کوئی سفارش اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(123)
[121] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ﴾ ’’وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں ﴿ نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ﴾(البقرۃ : 2؍91) ’’جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔‘‘
[123-122] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔
البقرة 2:124
اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے ساتھ چند کلمات کے، تو پورا کر دیا اس نے ان کو، اللہ نے کہا بے شک میں بناؤں گا تجھے لوگوں کا امام، (ابراہیم) نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی، اللہ نے کہا نہیں پہنچتا میرا عہد ظالموں کو(124) اور جب بنایا ہم نے بیت اللہ کو بار بار لوٹنے کی جگہ لوگوں کے لیے اور امن (کی جگہ)، اور بناؤ تم مقام ابراہیم کو جائے نماز اور حکم دیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ کہ پاک کرو تم دونوں میرا گھر واسطے طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے(125)
[124] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیمuکے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیمuکا امتحان لیا یعنی چند اوامر و نواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلا و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہو جائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں۔ اس کی قدر و قیمت زیادہ ہو، اس کے اعمال صاف ستھرے ہوں اور وہ اس آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے۔ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے حضرت ابراہیمuجلیل ترین مقام پر فائز ہیں۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا وہ بدرجہ اتم اس آزمائش میں پورے اترے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کی قدر کی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے (اپنے نیک بندوں کی مساعی کا) قدردان ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا﴾ ’’میں تجھ کو لوگوں کا امام بناؤں گا‘‘ یعنی وہ زندگی کے لائحہ عمل میں تیری پیروی کریں گے اور ابدی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تیرے پیچھے چلیں گے۔ تجھے ہمیشہ مدح و ثنا حاصل رہے گی۔ اور بے پایاں اجر عطا ہو گا اور ہر شخص تیری عظمت کا قائل ہو گا۔ اللہ کی قسم! یہ افضل ترین درجہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کرتے ہیں اور ایک ایسا بلند مقام ہے کہ اصحاب اعمال اس تک پہنچنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ اور وہ کامل ترین حالت ہے جو صرف اولوالعزم انبیاء و مرسلین، ان کے پیروکار صدیقین اور اللہ تعالیٰ اور اس کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ جب ابراہیمuاس مقام بلند کو پاکر خوش ہوئے تو انھوں نے اپنی اولاد کے لیے بھی اس مقام کی درخواست کی تاکہ ان کے اور ان کی اولاد کے درجات بلند ہوں اور یہ دعا بھی ان کی امامت، اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی اور چاہت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد میں اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والوں کی کثرت ہو۔ پس کیا خوب عظمت ہے ان اعلیٰ مقاصد اور مقامات بلند کی۔اللہ رحیم اور لطف و کرم کے مالک نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اس رکاوٹ سے ان کو باخبرکر دیا جو اس مقام کے حصول کے راستے میں حائل ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَنَالُ عَهۡدِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا‘‘ یعنی اہل ظلم دین میں امامت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس کو نقصان پہنچایا اور اس کی بے قدری کی، کیونکہ ظلم اس مقام کے منافی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ صبر و یقین ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس رتبے کا مالک ایمان اور اعمال صالحہ، اخلاق جمیلہ، خصائل حمیدہ، محبت تامہ اور خشیت و انابت میں عظمت کا حامل ہو۔ پس ظلم کا اس مقام سے کیا تعلق؟ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو ظالم نہیں وہ اس امامت کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچانے والے اسباب استعمال کر کے۔
[125] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے باقی رہنے والے نمونے کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیمuکی امامت پر دلالت کرتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا محترم گھر جس کی زیارت کو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک رکن اور گناہوں، کوتاہیوں کو ختم کر دینے والا قرار دیا، اور اس محترم گھر میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیمuاور ان کی اولاد کے آثار ہیں جن کے ذریعے سے ان کی امامت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حضرت خلیلuکی حالت یاد آتی ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محترم گھر کو لوگوں کا مرجع قرار دیا، لوگ اپنے دینی اور دنیاوی منافع کے حصول کی خاطر وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں بار بار جانے کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا ﴿ وَاَمۡنًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اس محترم مقام کو جائے امن قرار دیا جہاں پہنچ کر ہر شخص محفوظ و مامون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ جنگلی جانور اور نباتات و جمادات بھی مامون ہوتے ہیں۔ بنا بریں جاہلیت کے زمانے میں ، اہل عرب اپنے شرک کے باوجود بیت اللہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی اگر بیت اللہ میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تو تب بھی اس میں انتقامی جذبہ جوش نہ مارتا۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حرمت، عظمت اور اس کے شرف و تکریم میں اور اضافہ کر دیا۔ ﴿ وَاتَّؔخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰؔهٖمَ مُصَلًّى ﴾ ’’اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معروف مقام ہو جو اب بیت اللہ کے دروازے کے بالمقابل ہے۔۔۔ اور جائے نماز بنانے سے مراد طواف کی دو رکعت ہیں جو مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنا مستحب ہے۔ جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہاں مقام مفرد اور مضاف ہو، اس صورت میں یہ حج کے ان تمام مقامات کو شامل ہو گا، جہاں جہاں ابراہیمuکے قدم پہنچے اور یہ حج کے سارے مشاعر ہوں گے، جیسے طواف، سعی صفا و مروہ، وقوف عرفات و مزدلفہ، رمی جمار (کنکریاں مارنا) اور قربانی اور دیگر افعال حج۔ پس یہاں ﴿ مُصَلًّى ﴾ کا معنی ’’عبادت کی جگہ‘‘ قرار پائے گا۔ یعنی تمام شعائر حج میں حضرت ابراہیمuکی پیروی کرو۔ شاید یہی معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کے اندر پہلا معنی بھی آ جاتا ہے اور لفظ بھی اس معنی کا محتمل ہے۔ ﴿ وَعَهِدۡنَاۤ اِلٰۤى اِبۡرٰؔهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِيَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم اور اسماعیلiکی طرف وحی کر کے انھیں حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو شرک، کفر و معاصی، رجس و نجاست اور گندگی سے پاک کریں تاکہ اللہ کا یہ گھر ﴿ لِلطَّآىِٕفِيۡنَ ﴾ طواف کرنے والوں، ﴿ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں‘‘ یعنی نمازیوں کے لیے پاک ہو جائے۔ آیت کریمہ میں طواف کے ذکر کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ یہ مسجد حرام سے مختص ہے اس کے بعد اعتکاف کا ذکر آیا ہے کیونکہ صحت اعتکاف کے لیے مطلقاً مسجد کی شرط ہے یہی وجہ ہے کہ نماز کا ذکر طواف و اعتکاف کے بعد ہے باوجود اس بات کے کہ وہ افضل ہے۔ باری تعالیٰ نے کعبہ کو چند وجوہات کی بنا پر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ ۱ اللہ کا گھر ہونے کے حوالے سے یہ نہایت شدت سے اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiاس کی تطہیر کا خوب اہتمام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔ ۲ اللہ تعالیٰ کی طرف یہ نسبت عزت و شرف اور تکریم کی متقاضی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے۔ ۳ یہ اضافت اور نسبت ہی ہے جو دلوں کو بیت اللہ کی طرف کھینچنے کا باعث ہے۔
البقرة 2:125
اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے ساتھ چند کلمات کے، تو پورا کر دیا اس نے ان کو، اللہ نے کہا بے شک میں بناؤں گا تجھے لوگوں کا امام، (ابراہیم) نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی، اللہ نے کہا نہیں پہنچتا میرا عہد ظالموں کو(124) اور جب بنایا ہم نے بیت اللہ کو بار بار لوٹنے کی جگہ لوگوں کے لیے اور امن (کی جگہ)، اور بناؤ تم مقام ابراہیم کو جائے نماز اور حکم دیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ کہ پاک کرو تم دونوں میرا گھر واسطے طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے(125)
[124] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیمuکے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیمuکا امتحان لیا یعنی چند اوامر و نواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلا و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہو جائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں۔ اس کی قدر و قیمت زیادہ ہو، اس کے اعمال صاف ستھرے ہوں اور وہ اس آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے۔ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے حضرت ابراہیمuجلیل ترین مقام پر فائز ہیں۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا وہ بدرجہ اتم اس آزمائش میں پورے اترے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کی قدر کی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے (اپنے نیک بندوں کی مساعی کا) قدردان ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا﴾ ’’میں تجھ کو لوگوں کا امام بناؤں گا‘‘ یعنی وہ زندگی کے لائحہ عمل میں تیری پیروی کریں گے اور ابدی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تیرے پیچھے چلیں گے۔ تجھے ہمیشہ مدح و ثنا حاصل رہے گی۔ اور بے پایاں اجر عطا ہو گا اور ہر شخص تیری عظمت کا قائل ہو گا۔ اللہ کی قسم! یہ افضل ترین درجہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کرتے ہیں اور ایک ایسا بلند مقام ہے کہ اصحاب اعمال اس تک پہنچنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ اور وہ کامل ترین حالت ہے جو صرف اولوالعزم انبیاء و مرسلین، ان کے پیروکار صدیقین اور اللہ تعالیٰ اور اس کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ جب ابراہیمuاس مقام بلند کو پاکر خوش ہوئے تو انھوں نے اپنی اولاد کے لیے بھی اس مقام کی درخواست کی تاکہ ان کے اور ان کی اولاد کے درجات بلند ہوں اور یہ دعا بھی ان کی امامت، اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی اور چاہت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد میں اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والوں کی کثرت ہو۔ پس کیا خوب عظمت ہے ان اعلیٰ مقاصد اور مقامات بلند کی۔اللہ رحیم اور لطف و کرم کے مالک نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اس رکاوٹ سے ان کو باخبرکر دیا جو اس مقام کے حصول کے راستے میں حائل ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَنَالُ عَهۡدِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا‘‘ یعنی اہل ظلم دین میں امامت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس کو نقصان پہنچایا اور اس کی بے قدری کی، کیونکہ ظلم اس مقام کے منافی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ صبر و یقین ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس رتبے کا مالک ایمان اور اعمال صالحہ، اخلاق جمیلہ، خصائل حمیدہ، محبت تامہ اور خشیت و انابت میں عظمت کا حامل ہو۔ پس ظلم کا اس مقام سے کیا تعلق؟ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو ظالم نہیں وہ اس امامت کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچانے والے اسباب استعمال کر کے۔
[125] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے باقی رہنے والے نمونے کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیمuکی امامت پر دلالت کرتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا محترم گھر جس کی زیارت کو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک رکن اور گناہوں، کوتاہیوں کو ختم کر دینے والا قرار دیا، اور اس محترم گھر میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیمuاور ان کی اولاد کے آثار ہیں جن کے ذریعے سے ان کی امامت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حضرت خلیلuکی حالت یاد آتی ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محترم گھر کو لوگوں کا مرجع قرار دیا، لوگ اپنے دینی اور دنیاوی منافع کے حصول کی خاطر وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں بار بار جانے کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا ﴿ وَاَمۡنًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اس محترم مقام کو جائے امن قرار دیا جہاں پہنچ کر ہر شخص محفوظ و مامون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ جنگلی جانور اور نباتات و جمادات بھی مامون ہوتے ہیں۔ بنا بریں جاہلیت کے زمانے میں ، اہل عرب اپنے شرک کے باوجود بیت اللہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی اگر بیت اللہ میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تو تب بھی اس میں انتقامی جذبہ جوش نہ مارتا۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حرمت، عظمت اور اس کے شرف و تکریم میں اور اضافہ کر دیا۔ ﴿ وَاتَّؔخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰؔهٖمَ مُصَلًّى ﴾ ’’اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معروف مقام ہو جو اب بیت اللہ کے دروازے کے بالمقابل ہے۔۔۔ اور جائے نماز بنانے سے مراد طواف کی دو رکعت ہیں جو مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنا مستحب ہے۔ جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہاں مقام مفرد اور مضاف ہو، اس صورت میں یہ حج کے ان تمام مقامات کو شامل ہو گا، جہاں جہاں ابراہیمuکے قدم پہنچے اور یہ حج کے سارے مشاعر ہوں گے، جیسے طواف، سعی صفا و مروہ، وقوف عرفات و مزدلفہ، رمی جمار (کنکریاں مارنا) اور قربانی اور دیگر افعال حج۔ پس یہاں ﴿ مُصَلًّى ﴾ کا معنی ’’عبادت کی جگہ‘‘ قرار پائے گا۔ یعنی تمام شعائر حج میں حضرت ابراہیمuکی پیروی کرو۔ شاید یہی معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کے اندر پہلا معنی بھی آ جاتا ہے اور لفظ بھی اس معنی کا محتمل ہے۔ ﴿ وَعَهِدۡنَاۤ اِلٰۤى اِبۡرٰؔهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِيَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم اور اسماعیلiکی طرف وحی کر کے انھیں حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو شرک، کفر و معاصی، رجس و نجاست اور گندگی سے پاک کریں تاکہ اللہ کا یہ گھر ﴿ لِلطَّآىِٕفِيۡنَ ﴾ طواف کرنے والوں، ﴿ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں‘‘ یعنی نمازیوں کے لیے پاک ہو جائے۔ آیت کریمہ میں طواف کے ذکر کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ یہ مسجد حرام سے مختص ہے اس کے بعد اعتکاف کا ذکر آیا ہے کیونکہ صحت اعتکاف کے لیے مطلقاً مسجد کی شرط ہے یہی وجہ ہے کہ نماز کا ذکر طواف و اعتکاف کے بعد ہے باوجود اس بات کے کہ وہ افضل ہے۔ باری تعالیٰ نے کعبہ کو چند وجوہات کی بنا پر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ ۱ اللہ کا گھر ہونے کے حوالے سے یہ نہایت شدت سے اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiاس کی تطہیر کا خوب اہتمام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔ ۲ اللہ تعالیٰ کی طرف یہ نسبت عزت و شرف اور تکریم کی متقاضی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے۔ ۳ یہ اضافت اور نسبت ہی ہے جو دلوں کو بیت اللہ کی طرف کھینچنے کا باعث ہے۔
البقرة 2:126
اور جب کہا ابراہیم نے، اے میرے رب! بنا اس (جگہ) کو شہر امن والا اور رزق دے اس کے باشندوں کو پھلوں سے، جو کوئی ایمان لائے ان میں سے ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، اللہ نے کہا اور جس نے کفر کیا، پس فائدہ دوں گا میں اسے تھوڑا سا، پھر مجبور کر دوں گا اسے طرف عذابِ جہنم کی اور بری ہے وہ جگہ پھرنے کی(126)
[126] یعنی جب ابراہیمuنے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس گھر کو امن کی جگہ بنائے اور یہاں کے رہنے والوں کو مختلف قسم کے پھلوں سے رزق عطا کرے۔ پھر جناب ابراہیمuنے ادب الٰہی کی خاطر اس دعا کو ایمان کی قید لگا کر اہل ایمان کے لیے خاص کر دیا۔ چونکہ ان کی پہلی دعا مطلق تھی اس لیے اس کے جواب کو عدم ظالم کی قید سے مقید کیا گیا۔ پس جب حضرت ابراہیمuنے ان کے لیے رزق کی دعا کی اور اس کے لیے ایمان کی شرط عائد کی اور اللہ تعالیٰ کا رزق مومن اور کافر، نافرمان اور فرمانبردار سب کو ملتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ كَفَرَ﴾ ’’اور جس نے کفر کیا‘‘ یعنی میں کافر اور مسلمان تمام لوگوں کو رزق عطا کروں گا۔ رہا مسلمان تو وہ اس رزق سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں مدد لے گا پھر وہ یہاں سے جنت کی نعمتوں میں منتقل ہو جائے گا اور کافر تو وہ اس دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھائے گا ﴿ثُمَّؔ اَضۡطَرُّهٗۤ﴾ پھر میں اسے لاچار کردوں گا اور اس کی ناپسندیدگی کے باوجود اسے دنیا سے نکال کر ﴿ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ جہنم کے عذاب میں جھونک دوں گا جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
البقرة 2:127
اور جب بلند کر رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل (کہتے ہوئے) اے ہمارے رب! اور تو قبول کر لے ہم سے (یہ نیکی) یقیناً توہی سننے والا جاننے والا ہے(127) اے ہمارے رب! بنا ہم دونوں کو فرماں بردار اپنا اور (بنا) ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت فرماں بردار اپنی، اور سکھا ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر، یقیناً توہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(128) اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انھی میں سے، تلاوت کرے وہ اوپر ان کے تیری آیتیں اور تعلیم دے ان کو کتاب اور حکمت کی اور پاک کرے ان کو، بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(129)
[127] یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiکی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انھوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو۔
[128] اور انھوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہو جانا، اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔ ﴿وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا﴾ یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنیٰ پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (اَلنُّسُکُ) کا معنی عبادت کرنا ہے، پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آ گیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ، جیسا بھی ہو، اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿وَتُبۡ عَلَيۡنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘
[129]﴿رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا: ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ﴾ یعنی وہ لفظاً حفظاً اور حفظ کرانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یعنی معنیٰ کے اعتبار سے انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَيُزَكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہو سکتا ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول(ﷺ)کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم(ﷺ)کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہﷺفرمایا کرتے تھے: ’أَنَا دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاھِیْمَ‘ (البدايۃ والنہايۃ، 2؍275 والصحیحۃ، رقم:1546،1545) ’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمuکو اس قدر عظمت و بلندی سے نوازا اور ان کی صفات کاملہ بیان فرمائیں تو فرمایا:
البقرة 2:128
اور جب بلند کر رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل (کہتے ہوئے) اے ہمارے رب! اور تو قبول کر لے ہم سے (یہ نیکی) یقیناً توہی سننے والا جاننے والا ہے(127) اے ہمارے رب! بنا ہم دونوں کو فرماں بردار اپنا اور (بنا) ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت فرماں بردار اپنی، اور سکھا ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر، یقیناً توہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(128) اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انھی میں سے، تلاوت کرے وہ اوپر ان کے تیری آیتیں اور تعلیم دے ان کو کتاب اور حکمت کی اور پاک کرے ان کو، بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(129)
[127] یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiکی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انھوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو۔
[128] اور انھوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہو جانا، اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔ ﴿وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا﴾ یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنیٰ پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (اَلنُّسُکُ) کا معنی عبادت کرنا ہے، پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آ گیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ، جیسا بھی ہو، اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿وَتُبۡ عَلَيۡنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘
[129]﴿رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا: ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ﴾ یعنی وہ لفظاً حفظاً اور حفظ کرانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یعنی معنیٰ کے اعتبار سے انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَيُزَكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہو سکتا ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول(ﷺ)کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم(ﷺ)کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہﷺفرمایا کرتے تھے: ’أَنَا دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاھِیْمَ‘ (البدايۃ والنہايۃ، 2؍275 والصحیحۃ، رقم:1546،1545) ’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمuکو اس قدر عظمت و بلندی سے نوازا اور ان کی صفات کاملہ بیان فرمائیں تو فرمایا:
البقرة 2:129
اور جب بلند کر رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل (کہتے ہوئے) اے ہمارے رب! اور تو قبول کر لے ہم سے (یہ نیکی) یقیناً توہی سننے والا جاننے والا ہے(127) اے ہمارے رب! بنا ہم دونوں کو فرماں بردار اپنا اور (بنا) ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت فرماں بردار اپنی، اور سکھا ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر، یقیناً توہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(128) اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انھی میں سے، تلاوت کرے وہ اوپر ان کے تیری آیتیں اور تعلیم دے ان کو کتاب اور حکمت کی اور پاک کرے ان کو، بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(129)
[127] یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiکی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انھوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو۔
[128] اور انھوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہو جانا، اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔ ﴿وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا﴾ یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنیٰ پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (اَلنُّسُکُ) کا معنی عبادت کرنا ہے، پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آ گیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ، جیسا بھی ہو، اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿وَتُبۡ عَلَيۡنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘
[129]﴿رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا: ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ﴾ یعنی وہ لفظاً حفظاً اور حفظ کرانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یعنی معنیٰ کے اعتبار سے انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَيُزَكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہو سکتا ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول(ﷺ)کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم(ﷺ)کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہﷺفرمایا کرتے تھے: ’أَنَا دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاھِیْمَ‘ (البدايۃ والنہايۃ، 2؍275 والصحیحۃ، رقم:1546،1545) ’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمuکو اس قدر عظمت و بلندی سے نوازا اور ان کی صفات کاملہ بیان فرمائیں تو فرمایا:
البقرة 2:130
اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)
[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔
[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔
[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟
البقرة 2:131
اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)
[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔
[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔
[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟
البقرة 2:132
اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)
[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔
[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔
[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟
البقرة 2:133
اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)
[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔
[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔
[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟
البقرة 2:134
اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)
[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔
[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔
[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟
البقرة 2:135
اور کہا انھوں نے، ہو جاؤ تم یہودی یا عیسائی تو راہ پا جاؤ گے، کہہ دیجیے!بلکہ (پیروی کرتے ہیں ہم) ملت ابراہیم کی، جو حنیف تھا اور نہیں تھا وہ مشرکوں سے(135)
[135] یعنی یہود و نصاریٰ نے مسلمانوں کو اپنے اپنے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی، ان میں سے ہر ایک اس زعم باطل میں مبتلا تھا کہ وہ ہدایت یافتہ ہے اور دوسرے گمراہ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ مِلَّةَ اِبۡرٰؔهٖمَ حَنِيۡفًا﴾ بلکہ ہم تو ملت ابراہیم کی اتباع کرتے ہیں۔ یعنی حضرت ابراہیمuہر طرف سے منہ موڑ کر توحید کو قائم کرتے ہوئے اور شرک کو ترک کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے۔ یہی وہ ہستی ہے جس کی پیروی میں ہدایت اور جس کی ملت سے روگردانی کرنا کفر اور گمراہی ہے۔
البقرة 2:136
کہو تم ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہماری طرف اور جو نازل کیا گیا طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور (اس کی) اولاد کی اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور جو دیے گئے انبیاء اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(136)
[136] یہ آیت کریمہ ان تمام امور پر مشتمل ہے جن پر ایمان لانا واجب ہے۔ جان لیجیے کہ ایمان، جو ان اصولوں کے ساتھ دل کی پوری تصدیق کا نام ہے اور اس کا اقرار، قلوب اور اعضاء کے اعمال کو متضمن ہے اور اس اعتبار سے اس میں اسلام داخل ہے اور اس میں تمام اعمال صالحہ بھی داخل ہیں۔ پس تمام اعمال صالحہ ایمان کا حصہ اور اس کے آثار میں سے ہیں۔ جب ایمان کا علی الاطلاق ذکر ہو گا تو مذکورہ امور اس میں داخل ہوں گے۔ اسی طرح جب اسلام کا علی الاطلاق ذکر کیا جائے گا تو ایمان بھی اس کے اندر داخل ہو گا۔ جب ایمان اور اسلام کو مقرون اور ایک ساتھ ذکر کیا جائے گا تب ایمان، قلب کے اقرار و تصدیق کا نام اور اسلام، اعمال ظاہرہ کا نام ہو گا۔ اور اسی طرح جب ایمان اور اعمال صالحہ کو جمع کیا جائے گا (تو یہی اصول ہو گا۔) ارشاد فرمایا: ﴿قُوۡلُوۡۤا﴾ یعنی اپنی زبان سے کہو اور تمھارے دل تمھارے اس قول کی موافقت کرتے ہوں۔ یہی وہ کامل قول ہے جس پر ثواب اور جزا مرتب ہوتے ہیں، پس جیسے قلبی اعتقاد کے بغیر محض زبان سے ایمان کا اظہار نفاق اور کفر ہے۔ اسی طرح وہ قول، جو عمل سے عاری ہو، عمل قلب ہے جو تاثیر سے محروم اور بہت کم مفید ہے، تاہم اگر یہ قول کوئی بھلائی کی بات ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دل میں ایمان بھی موجود ہو تو بندۂ مومن کو اس پر اجر ملتا ہے۔ لیکن مجرد قول اور اس قول کے درمیان فرق ہے جو عمل قلب کے ساتھ مقرون ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قُوۡلُوۡۤا﴾ میں عقیدے کے اعلان و اظہار اور اس کی طرف دعوت دینے کا اشارہ ہے کیونکہ عقیدہ دین کی اصل اور اس کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اٰمَنَّا﴾ وغیرہ میں جس میں فعل کا صادر ہونا مذکور ہو اور تمام امت کی طرف منسوب ہو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تمام امت پر فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو اکٹھے ہو کر مضبوطی سے پکڑے رکھے ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت سے رہے، یہاں تک کہ ان کا داعی ایک اور ان کا عمل متحد ہو۔ اسی سے افتراق اور تشتت کی ممانعت بھی نکلتی ہے۔ نیز اس آیت کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام اہل ایمان جسد واحد کی مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے لیے اپنے نفس کی طرف ایمان کی اضافت کرنا جائز ہے مگر مقید طور پر بلکہ اس اضافت کے وجوب کی دلیل ہے۔ اس کے برعکس (اَنَا مُؤمِنٌ) ’’میں مومن ہوں‘‘ کہنے کا معاملہ ہے، تو اس طرح کہنا صرف ان شاء اللہ کے ساتھ جائز ہے۔ کیونکہ یہ اپنے آپ کو پاک کہنے اور اپنے آپ پر ایمان کی شہادت کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ یعنی ہم اس حقیقت پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے۔ وہ ایک ہے وہ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص اور عیب سے منزہ ہے۔ تمام عبادات کا اکیلا وہی مستحق ہے۔ ان عبادات میں کسی بھی پہلو سے کوئی بھی ہستی اس کی شریک نہیں۔ ﴿وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا﴾ اس میں قرآن اور سنت دونوں شامل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾(النساء: 4؍113) ’’اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔‘‘ اس میں ان تمام چیزوں پر ایمان لانا داخل ہے جو کتاب و سنت میں ذکر کی گئی ہیں، مثلاً باری تعالیٰ کی صفات، انبیاء و مرسلین کی صفات، روز قیامت، گزرے ہوئے اور آنے والے غیبی امور، نیز تمام شرعی احکام اور ثواب و عقاب کے احکام پر ایمان لانا۔ ﴿ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلٰۤى اِبۡرٰؔهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ......وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾اس آیت کریمہ میں ان تمام کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے جو تمام انبیاء و مرسلین پر نازل کی گئی ہیں۔ عمومی اور خصوصی طور پر انبیاء و مرسلین پر ایمان لانا، جو کہ اس آیت کریمہ میں منصوص ہیں ان کے شرف و تکریم کے باعث اور اس سبب سے ہے کہ وہ بڑی بڑی شریعتیں لے کر دنیا میں تشریف لائے۔ پس انبیائے کرام اور کتب سابقہ پر ایمان لانے میں جو چیز واجب ہے وہ یہ ہے کہ ان پر عمومی طورپر ایمان لایا جائے۔ پھر جس چیز کی تفصیل کی معرفت حاصل ہوجائے اس پر مفصل ایمان لایا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اُوۡتِيَ النَّبِيُّوۡنَؔ مِنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین کا عطیہ ہی دراصل حقیقی عطیہ ہے جو انسان کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم انبیائے کرام کی حکومتوں اور ان کو عطا کیے گئے مال و متاع وغیرہ پر ایمان لائیں۔ بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان کو عطا کی گئی کتابوں اور شریعتوں پر ایمان لائیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ بات بھی واضح ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے (دین) پہنچانے والے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے مابین دین پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ حقیقت میں وہ کسی اختیار کے مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کمال ربوبیت کی بنا پر ان پر کتابیں نازل کیں اور ان کی طرف رسول مبعوث کیے ہیں۔ پس اس کی ربوبیت یہ تقاضا نہیں کرتی کہ انسانوں کو بیکار اور بے مہار چھوڑ دیا جائے۔ جب صورت یہ ہے کہ جو کچھ انبیائے کرام علیہ السلام کو عطا کیا گیا وہ ان کے رب کی طرف سے ہے۔ تو اس سے انبیاء کرام علیہ السلام اور نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ نیز انبیاء کرام علیہ السلام اور مدعیان نبوت کے درمیان فرق ان کی دعوت کی معرفت حاصل کرنے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صرف بھلائی کی دعوت دیتے ہیں اور صرف برائی سے روکتے ہیں۔ ان میں ہر رسول دوسرے رسول کی تصدیق کرتا اور اس کے لیے حق کی گواہی دیتا ہے۔ ان کی دعوت میں تناقض اور ایک دوسرے کی مخالفت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کی دعوت ان کے رب کی طرف سے ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء : 4؍82) ’’اگر یہ (قرآن) غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلافات پاتے۔‘‘ ﴿لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہم تمام انبیاء پر (بلا تفریق) ایمان لاتے ہیں۔ یہ اہل اسلام کی ایک ایسی خاصیت ہے جس کی بنا پر وہ ان تمام لوگوں میں منفرد ہیں جو کسی (آسمانی) دین کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پس یہود و نصاریٰ اور صابی وغیرہ اگرچہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ انبیاء و رسل اور کتب منزلہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ دیگر کتب کا انکار کرتے ہیں۔ پس وہ انبیاء و مرسلین اور کتب منزلہ کے مابین تفریق کرتے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کی تکذیب خود ان کی تصدیق کو توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ وہ رسول جس کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لائے ہیں اس نے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہوتی ہے۔ خاص طور پر محمد مصطفیٰﷺکی۔ پس جب وہ محمد مصطفیٰﷺکی تکذیب کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اپنے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ ان کا ان کے رسول کے ساتھ کفر ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس قسم کے جھوٹے نبیوں کی دی ہوئی خبروں اور ان کے اوامر و نواہی میں ضرور تناقض ہوتا ہے جیسا کہ اس قسم کے تمام جھوٹے مدعیان نبوت کی سیرت اور ان کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت حاصل کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو بیان کر دیا جن پر عمومی اور خصوصی طور پر ایمان لانا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ قول، عمل سے کفایت نہیں کرتا، تو فرمایا:﴿وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ یعنی ہم اس کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ہم اپنے ظاہر و باطن سے اس کی عبودیت کے لیے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ہم اس کی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہیں اور اس مفہوم کے لیے دلیل یہ ہے کہ معمول کو عامل پر مقدم رکھا ہے ﴿لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ میں (لَہُ) معمول ہے اور (مُسْلِمُوْن) عامل ہے۔ (اس انداز بیان سے اختصاص کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔) یہ آیت کریمہ اپنے ایجاز و اختصار کے باوجود توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہے۔ وہ ہیں توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات۔ یہ آیت کریمہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے۔ یہ آیت کریمہ عموم کے بعد اس تخصیص پر مشتمل ہے جو فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دل ، زبان اور جوارح کی تصدیق اور اخلاص للہ پر مشتمل ہے۔ یہ آیت کریمہ سچے انبیاء و رسل اور جھوٹے مدعیان نبوت کے مابین فرق و امتیاز کو شامل ہے۔ یہ آیت باری تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے اس تعلیم پر مشتمل ہے کہ وہ (اپنے ایمان کا) کیسے اظہار کیا کریں ،نیز اس کی رحمت اور بندوں پر اس کے احسان کو شامل ہے جو اس نے ان کو دینی نعمتوں سے نواز کر کیا، یہ نعمتیں انھیں دنیاوی اور اخروی سعادت کی منزل پر پہنچاتی ہیں۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی کتاب کو ایسا جامع بنایا کہ اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
البقرة 2:137
پس اگر وہ ایمان لائیں ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے تم ساتھ اس کے، تو یقیناً وہ ہدایت یافتہ ہوگئے اور اگر وہ اعراض کریں تو وہی ہیں مخالفت میں، سو ضرور کفایت کرے گا آپ کو ان سے اللہ، اور وہی ہے خوب سننے والا خوب جاننے والا(137)
[137] یعنی اے اہل ایمان اگر اہل کتاب اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم تمام انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لائے ہو، جن میں سب سے پہلے اور سب سے اولیٰ ہستی جس پر ایمان لایا جائے، حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاءﷺہیں جو تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن ہے۔ اور انھوں نے اللہ وحدہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ ﴿فَقَدِ اهۡتَدَوۡا﴾ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی مل گئی جو نعمتوں والی جنت تک پہنچانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اس ایمان کے بغیر ہدایت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو وہ دعویٰ کرتے ہیں ﴿كُوۡنُوۡا هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى تَهۡتَدُوۡا﴾ یعنی یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو تم راہ راست پا لو گے پس وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہدایت تو صرف وہی ہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔ اور ’اَلْھُدٰی‘ ’’ہدایت‘‘ نام ہے حق کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کا اور اس کی ضد علم سے محرومی اور علم کے بعد عملی گمراہی ہے اور یہی وہ شقاق (دشمنی اور مخالفت) ہے جس پر وہ قائم تھے، کیونکہ وہ پیٹھ پھیر کر روگردانی کر رہے تھے۔ پس مبتلائے شقاق وہ شخص ہے جو ایک طرف ہوتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول دوسری طرف۔ اس شقاق (مخالفت) سے دشمنی اور انتہا درجے کی عداوت لازم آتی ہے جس کے لوازمات میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ عداوت میں مبتلا لوگ رسول کو اذیت دینے میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺسے وعدہ کیا کہ وہ دشمنوں کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اختلاف زبان اور ان کی متنوع حاجات و ضروریات کے باوجود سب کی آوازیں سنتا ہے۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو وہ سب جانتا ہے۔ غائب اور شاہد، ظاہر اور باطن سب اس کے دائرۂ علم میں ہیں۔ پس جب بات اس طرح ہے تو ان کے شر کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تیرے لیے کافی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺسے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا، آپ کو ان پر غلبہ اور تسلط عطا کیا یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگوں کو قتل کیا بعض کو قیدی اور غلام بنا لیا گیا اور بعض کو جلاوطن کر کے انھیں پوری طرح تتر بتر کر دیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں قرآن کے معجزات میں سے ایک معجزے کی طرف اشارہ ہے۔ اور وہ ہے کسی چیز کے واقع ہونے سے قبل اس کے وقوع کے بارے میں خبر دینا پھر اس کا عین دی ہوئی خبر کے مطابق واقع ہونا۔
البقرة 2:138
(اختیار کرو) رنگ اللہ کااور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے رنگ میں؟ اور ہم اسی کے عبادت گزار ہیں(138)
[138] یعنی اللہ کا رنگ اختیار کر لو، اللہ کے رنگ سے مراد اللہ کا دین ہے، اس کے تمام ظاہری، باطنی اعمال اور تمام اوقات میں اس کے تمام عقائد پر عمل کرو یہاں تک کہ یہ دین تمھارا رنگ اور تمھاری صفات میں سے ایک صفت بن جائے۔ پس جب یہ دین تمھاری صفت بن جائے گا تو یہ تمھارے لیے اس بات کو ضروری کر دے گا کہ تم خوشی، اختیار اور محبت سے اللہ کے حکموں کے آگے سرتسلیم خم کر دو اور دین تمھاری فطرت اور طبیعت بن جائے گا۔ جیسے کپڑے کو مکمل طورپر رنگ دیا جائے تو یہ رنگ اس کپڑے کی صفت بن جاتا ہے، تب تمھیں دنیاوی اور اخروی سعادت حاصل ہو جائے گی، کیونکہ دین مکارم اخلاق، محاسن اعمال اور بلند مرتبہ امور کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے برسبیل تعجب، پاک اور طاہر عقلوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:﴿وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبۡغَةً﴾ یعنی کوئی اور رنگ اللہ کے رنگ سے اچھا نہیں۔ جب تم کوئی ایسی مثال دیکھنا چاہو جو تمھارے سامنے اللہ کے رنگ اور کسی اور رنگ کے مابین فرق کو واضح کرے تو تم کسی چیز کا اس کی ضد کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھو۔ آپ اس بندۂ مومن کو کیسا دیکھتے ہیں جو اپنے رب پر صحیح ایمان رکھتا ہے اور اس ایمان کے ساتھ ساتھ اس کا قلب اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے اور جوارح اس کی اطاعت کرتے ہیں ، پس بندۂ مومن ہر اچھے وصف، خوبصورت فعل، کامل اخلاق اور بلند صفات کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے اور گندی صفات، رذیل عادات اور دیگر تمام عیوب سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ پس قول و فعل میں سچائی، صبر، بردباری، پاکبازی، شجاعت، قولی و فعلی احسان، محبت الٰہی، خشیت الٰہی، اللہ کاخوف اور اس سے امید رکھنا، اس کا وصف بن جاتا ہے۔ پس اس کا حال معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے حسن سلوک ہو جاتا ہے۔ اس کامقابلہ اس بندے کے ساتھ کیجیے جس نے اپنے رب کا انکار کیا اور اس سے منہ موڑ کر مخلوق کی طرف متوجہ ہوا اور کفر، شرک، جھوٹ، خیانت، مکرو فریب، دھوکہ، بدکرداری اور اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے مخلوق کے ساتھ برے سلوک جیسی صفات قبیحہ سے اپنے آپ کو متصف کیا۔ اس بندے میں اپنے معبود کے لیے اخلاص ہے اور نہ اس کے بندوں کے لیے حسن سلوک کا اہتمام۔ اس سے آپ کے سامنے وہ عظیم فرق ظاہر ہو جاتا ہے جو ان دو بندوں کے درمیان ہے اور آپ پر یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی دوسرا رنگ اللہ کے رنگ سے اچھا نہیں ،نیز ضمنی طور پر اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس نے اللہ کے دین کے سوا کوئی اور رنگ اختیار کیا اس سے بدتر کوئی اور رنگ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ عٰؔبِدُوۡنَ﴾ میں اس رنگ کی توضیح ہے۔ اللہ کا رنگ درحقیقت دو بنیادوں کو قائم کرنا ہے، یعنی اخلاص اور متابعت کیونکہ ’’عبادت‘‘ ان تمام اعمال اور ظاہری و باطنی اقوال کا جامع نام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور وہ ان پر راضی ہے۔ یہ اعمال و اقوال اس وقت تک درست قرار نہیں پاتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کی زبان پر مشروع قرار نہ دیا ہو۔ اخلاص یہ ہے کہ بندۂ مومن ان اعمال میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنائے۔ پس معمول کو مقدم رکھنا (یعنی ’’عَابِدُوْنَ لَہُ‘‘ کی بجائے ’’لَہُ عَابِدُوْنَ‘‘ کہنا) حصر کا فائدہ دیتا ہے۔ (وَّنَحْنُ لَهٗ عٰؔبِدُوْنَ) اللہ تعالیٰ نے ان کو اسم فاعل (عَابِدُوْن) سے موصوف کیا ہے جو ثبات و استقرار پر دلالت کرتا ہے تاکہ یہ لفظ ان کے اس صفت سے متصف ہونے پر دلالت کرے۔
البقرة 2:139
کہہ دیجیے! کیا جھگڑتے ہو تم ہم سے اللہ کے بارے میں، حالانکہ وہ رب ہے ہمارا اور تمھارا اور ہمارے لیے ہیں ہمارے عمل اور تمھارے لیے ہیں تمھارے عمل اور ہم تو اسی کے لیے خالص عمل کرنے والے ہیں(139)
[139](مَحَاجَۃ) دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان اس مباحثہ اور مجادلہ کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق اختلافی مسائل سے ہوتا ہے، ہر فریق اپنے مدمقابل کے خلاف اپنی بات میں کامیابی حاصل کرنا اور مدمقابل کے قول کا ابطال کرنا چاہتا ہے، اس لیے دونوں ہی دلیل قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں مطلوب یہ ہے کہ یہ مباحثہ نہایت احسن طریقے سے ہو۔ قریب ترین راستے کے ذریعے سے گمراہ کو حق کی طرف لوٹایا جائے۔ فریق مخالف کے سامنے دلیل بیان کر کے حق اورباطل کو واضح کر دیا جائے۔ اگر آپ ان مذکورہ امور سے باہر نکل جائیں تو مباحثہ نہیں بلکہ جھگڑا کہلائے گا۔ یہ ایک مخاصمت ہو گی جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس جھگڑے اور مخاصمت سے برائی جنم لیتی ہے۔ پس اہل کتاب اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ مسلمانوں کی نسبت، وہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ یہ ان کا محض دعویٰ تھا جو دلیل اور برہان کا محتاج تھا۔۔۔ جب تمام لوگوں کا رب ایک ہے تمھارا کوئی اور رب نہیں۔ ہم اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ تو اعمال بجا لانے میں ہم اور آپ برابر ہیں۔ پس یہ چیز اس بات کی ہرگز موجب نہیں کہ ہم میں سے کوئی، دوسرے سے زیادہ، اللہ تعالیٰ، کے قریب ہے۔ کیونکہ کسی مشترک چیز میں بغیر کسی موثر فرق کے تفریق کرنا محض باطل دعویٰ، ایک جیسی دو چیزوں کے مابین تفریق پیدا کرنا اور کھلا انکار حق ہے۔ فضیلت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اعمال کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے اور یہ حالت صرف اہل ایمان کا وصف ہے۔ اور اس سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان ہی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں، اس لیے کہ اخلاص ہی نجات کا راستہ ہے۔ یہی وہ حقیقی اوصاف ہیں جن سے اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان کے مابین فرق ہوتا ہے جنھیں تمام عقلمند لوگ تسلیم کرتے ہیں اور جاہل منکر حق کے سوا کوئی اس میں نزاع پیدا نہیں کرتا۔ اس آیت کریمہ میں نہایت لطیف طور پر طریق مباحثہ کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ تمام امور اس اصول پر مبنی ہیں کہ دو متماثل اشیاء اکٹھی ہوتی ہیں اور دو مختلف اشیاء میں فرق ہوتا ہے۔
البقرة 2:140
کیا کہتے ہو تم کہ بے شک ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور (اس کی) اولاد تھے وہ یہودی یا عیسائی؟ کہہ دیجیے! کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے چھپائی وہ گواہی جو اس کے پاس ہے اللہ کی طرف سے؟ اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(140)
[140] یہ ان کی طرف سے ایک اور دعویٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے بارے میں ایک اور مباحثہ ہے۔ انھوں نے گمان کیا کہ وہ مسلمانوں کی نسبت مذکورہ رسولوں کے زیادہ قریب ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ اَعۡلَمُ اَمِ اللّٰهُ﴾ ’’کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مَا كَانَ اِبۡرٰهِيۡمُ يَهُوۡدِيًّا وَّلَا نَصۡرَانِيًّا وَّلٰكِنۡ كَانَ حَنِيۡفًا مُّسۡلِمًا١ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍67) ’’ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے بھی نہ تھے۔‘‘ اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابراہیمuیہودی یا نصرانی تھے۔ اس بارے میں یا تو وہ سچے اور علم سے بہرہ ور ہیں یا اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا اور سچا ہے ان دو باتوں میں سے لامحالہ صرف ایک ہی بات صحیح ہے۔ جواب کی صورت مبہم ہے مگر جواب درحقیقت بہت واضح ہے حتیٰ کہ جواب میں یہ بھی کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی ’’بلکہ اللہ تعالیٰ زیادہ علم رکھنے والا اور زیادہ سچا ہے‘‘ کیونکہ یہ جواب ہر شخص پر واضح ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ رات زیادہ روشن ہے یا دن؟ آگ زیادہ گرم ہے یا پانی؟ اور شرک زیادہ اچھی چیز ہے یا توحید؟ اور اس قسم کا کوئی اور سوال۔ (اس کا جواب اتنا واضح ہے کہ جواب دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔) ایک ادنیٰ سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے حتیٰ کہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیمuاور دیگر انبیاء یہودی تھے نہ نصرانی، انھوں نے اس علم اور اس گواہی کو چھپانے کے گناہ کا ارتکاب کیا، لہٰذا ان کا ظلم سب سے بڑا ظلم ہے۔بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس شہادت کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ پس یہ شہادت جو ان کے پاس تھی، اللہ کی طرف سے ان کے سپرد کی گئی تھی نہ کہ مخلوق کی طرف سے، اس لیے اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری تھا، لیکن انھوں نے اسے چھپایا اور اس کے برعکس باتوں کو ظاہر کیا۔ چنانچہ انھوں نے حق کے چھپانے، اسے بیان نہ کرنے اور اظہار باطل اور اس کی طرف دعوت دینے کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم نہیں؟ کیوں نہیں اللہ کی قسم! یہ سب سے بڑا ظلم ہے اس پر انھیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’وہ تمھارے اعمال سے غافل نہیں‘‘ بلکہ اس نے تمھارے اعمال کو شمار کر کے محفوظ کر لیا ہے اور ان کی جزا بھی محفوظ کی ہوئی ہے۔ پس ان کی جزا بہت بری جزا ہے اور بری ہے جہنم کی آگ، جو ظالموں کا ٹھکانا ہے۔ قرآن کریم کاطریقہ یہ ہے کہ وہ ان آیات کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کا ذکر کرتا ہے جن میں ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہوتا ہے جن پر سزا و جزا مرتب ہوتی ہے پس ان آیات کریمہ کے عقب میں اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کا ذکر کرنا وعد ہ و وعیداور ترغیب و ترہیب کا فائدہ دیتا ہے۔ نیز احکام کے عقب میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر کرنا اس امر کا فائدہ دیتا ہے کہ امر دینی و جزائی اسمائے حسنیٰ کے آثار اور اس کے موجبات میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ اس امر دینی و جزائی کا تقاضا کرتے ہیں۔
البقرة 2:141
یہ ایک جماعت ہے، تحقیق گزر گئی وہ، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے۔
[141] اس کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکرر ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ مخلوق سے اپنا تعلق منقطع کر لیں۔ بھروسہ صرف اسی عمل اور اسی صفت پر کرنا چاہیے جس سے انسان خود متصف ہو، نہ کہ اپنے اسلاف اور اپنے آباء و اجداد کے اعمال پر، کیونکہ اپنے اعمال ہی حقیقی فائدہ دیتے ہیں نہ کہ بڑے انسانوں کی طرف انتساب محض۔
البقرة 2:142
عنقریب کہیں گے بیوقوف لوگوں میں سے، کس چیز نے پھیر دیا ان (مسلمانوں) کو ان کے اس قبلے سے کہ تھے وہ اوپر اس کے؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب، ہدایت دیتا ہے وہ جسے چاہتا ہے، طرف سیدھی راہ کی(142) اور (جیسے تمھیں ہدایت دی) اسی طرح بنایا ہم نے تمھیں امت عدل، تاکہ ہو تم گواہ لوگوں پراور ہو رسول اوپر تمھارے گواہ
[142] پہلی آیت ایک معجزے، تسلی اور اہل ایمان کے دلوں کو مطمئن کرنے، ایک اعتراض اور تین وجوہ سے اس کے جواب، اعتراض کرنے والے کی صفت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے کی صفت پر مشتمل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب بیوقوف لوگ اعتراض کریں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے نفس کے مصالح کو نہیں پہچانتے بلکہ انھیں ضائع کر دیتے ہیں اور انھیں نہایت کم قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں یہ یہود و نصاریٰ اور وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی شریعت پر اعتراض کرنے میں ان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کے اعتراض کی بنیاد یہ بنی کہ مسلمان جب تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے ان کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم تھا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد بھی تقریباً ڈیڑھ سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں تھیں جن میں سے بعض کی طرف اللہ تعالیٰ کے اشارے کا تذکرہ عنقریب ہوگا اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم بھی اس کی حکمت کا تقاضا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ بیوقوف لوگ ضرور یہ کہیں گے ﴿مَا وَلّٰىهُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِهِمُ الَّتِيۡ كَانُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’ان کو کس چیز نے اس قبلے سے پھیر دیا جس پر وہ تھے‘‘ مراد بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا تھا یعنی کس چیز نے ان کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے سے پھیر دیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی شریعت اور اس کے فضل و احسان پر اعتراض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے وقوع کے بارے میں خبر دے کر اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ یہ اعتراض صرف وہی لوگ کریں گے جو بیوقوف یعنی قلیل العقل اور بردباری و دیانت سے محروم ہوں، اس لیے ان کی باتوں کی پروا نہ کرو کیونکہ ان کا سرچشمۂ کلام معلوم ہے۔ عقل مند شخص بیوقوف کے اعتراض کی پروا نہیں کرتا اور نہ اس کی طرف دھیان دیتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر صرف وہی شخص اعتراض کرتا ہے جو بیوقوف، جاہل اور عناد رکھتا ہو اور رہا عقل مند اور ہدایت یافتہ مومن تو وہ اپنے رب کے احکام اطاعت اور تسلیم و رضا کے جذبے سے قبول کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ﴾(الاحزاب : 33؍36) ’’کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کر دیں تو اس معاملے میں وہ اپنا بھی کوئی اختیار سمجھیں۔‘‘ ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ﴾(النساء : 4؍65) ’’ہرگز نہیں۔ تیرے رب کی قسم! لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں تجھے حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنائیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾(النور : 24؍51) ’’اہل ایمان کی تو یہ بات ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اللہ کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ان کے لیے ﴿السُّفَهَآءُ﴾ ’’بے وقوف‘‘ کا لفظ استعمال کرنا اس بات کے سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ان کا اعتراض غیر معقول ہے جس کے جواب کی ضرورت ہے نہ اس کی پروا کرنے کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود اس شبہے کو یوں ہی نہیں چھوڑا، بلکہ اس کا ازالہ فرمایا اور بعض دلوں میں جو اعتراض پیدا ہو سکتا تھا اسے یہ کہہ کر دور فرما دیا۔ ﴿قُلۡ﴾ ان کو جواب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿لِّلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ١ؕ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے، سیدھے راستے کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔‘‘ یعنی جب مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور تمام جہات میں سے کوئی جہت بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت سے باہر نہیں اور اس کے باوجود وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور اس قبلہ کی طرف راہ نمائی بھی اسی کی طرف سے ہے، جو ملت ابراہیم کا حصہ ہے۔ پس معترض، تمھارے اس قبلہ کی طرف منہ کر لینے کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہے، کس وجہ سے یہ اعتراض کرتا ہے کہ تم نے ایسی جہت کی طرف رخ کیوں کیا جو اس کی ملک نہیں؟ یہ ایک وجہ ہی اس کے حکم کے تسلیم کرنے کو واجب کر دینے والی ہے۔ تو اس وقت اسے کیوں کر تسلیم نہیں کیا جائے گا، جب کہ تم پر یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے تمھیں اس کی ہدایت نصیب فرمائی۔ پس تم پر اعتراض کرنے والا دراصل اللہ کے فضل پر اعتراض کر رہا ہے، محض تم پر حسد اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ مطلق ہے اور مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے، اس لیے کہ ہدایت اور گمراہی کے کچھ اسباب ہیں جن کا موجب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کا عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات پر ہدایت کے اسباب بیان کیے ہیں، بندہ جب ان اسباب کو اختیار کرتا ہے تو اسے ہدایت حاصل ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾(المائدۃ5؍16) ’’اس کے ذریعے سے اللہ اپنی رضا کی پیروی کرنے والوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس امت کے لیے ہدایت کی تمام انواع کی طرف راہنمائی کا موجب ہے۔اس امت پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اسے امت وسط بنایا۔ فرمایا:
البقرة 2:143
اور نہیں بنایا ہم نے اس قبلے کو کہ تھے آپ اوپر اس کے مگرتاکہ جان لیں ہم اس شخص کو جو اتباع کرے گا رسول کا، اس سے جو ، پھر جائے گا اوپر اپنی دو ایڑیوں کےاور بلاشبہ یہ (بات) بڑی بھاری ہے مگر اوپر ان کے جن کو ہدایت دی اللہ نےاور نہیں ہے اللہ کہ ضائع کر دے ایمان تمھارا، بے شک اللہ ہے لوگوں پر بہت شفیق بڑا مہربان(143)
[143]﴿وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا۔‘‘ یعنی معتدل اور بہترین امت، ’’وسط‘‘ کے علاوہ اور اطراف خطرے کی زد میں ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کے ہر معاملے میں اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ انبیاء کرام کے ساتھ عقیدت کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کو ان امتوں کے مابین معتدل امت بنایا ہے جو انبیاء علیہ السلام کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں جیسے عیسائی ہیں اور انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ظلم و جفا کرنے والوں کے مابین بھی اسے معتدل امت بنایا کہ وہ سب پر اس طرح ایمان لائے جو ان کی شان کے لائق ہے۔ جب کہ یہودیوں نے انبیاء علیہ السلام کی توہین و تنقیص کی۔ امت مسلمہ شریعت کے اعتبار سے بھی امت وسط ہے اس میں نہ تو یہودیوں کی شریعت کی سی سختی اور بوجھ ہے اور نہ عیسائیوں کی سی نرمی اور لاپروائی۔ طہارت اور مطعومات کے باب میں بھی۔ نہ یہودیوں کی طرح (سختی ہے) جن کے ہاں ان کی عبادت گاہ اور کنیسہ کے سوا کہیں نماز نہیں ہوتی۔ پانی ان کو نجاستوں سے پاک نہیں کر سکتا۔ سزا کے طور پر ان پر طیبات حرام ٹھہرا دی گئیں اور نہ نصاریٰ کی مانند (نرمی ہے) کہ وہ کسی چیز کو نجس ہی نہیں مانتے اور نہ ان کے ہاں کوئی چیز حرام ہے بلکہ انھوں نے ہر چیز کو حلال ٹھہرا لیا ہے۔ بلکہ اہل ایمان کی طہارت کامل ترین طہارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی طیب و طاہر مطعومات، مشروبات، ملبوسات اور پاک عورتیں مباح ٹھہرا دی ہیں اور تمام خبائث ان کے لیے حرام قرار دے دیے۔ بنا بریں اس امت کا دین سب سے کامل، اس کے اخلاق سب سے اچھے اور اس کے اعمال سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو علم و حلم اور عدل و احسان سے جس طرح نوازا ہے، اس طرح ان کے علاوہ کسی اور امت کو یہ چیزیں عطا نہیں کیں، اس لیے وہ ﴿اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ یعنی کامل اور معتدل امت کہلانے کی مستحق ہے۔ ﴿شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ تاکہ وہ اپنی عدالت اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کے سبب سے لوگوں پر گواہ ہوں اور وہ تمام اہل ادیان کے لوگوں سے متعلق فیصلے کریں اور ان کی بابت دوسرے فیصلے نہ کریں۔ پس جس چیز کی بابت یہ امت قبولیت کی شہادت دے، وہی مقبول اور جسے رد کرنے کی گواہی دے، وہ مردود ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسروں کے بارے میں ان کا فیصلہ کیسے قابل قبول ہے حالانکہ تنازع میں دونوں ایک دوسرے کے مخالف فریق ہیں اور فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف قابل قبول نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی تنازع میں فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف وجود تہمت کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہوتا مگر جب تہمت کا شائبہ ختم ہو جائے اور عدالت کامل حاصل ہو جائے، جیسا کہ یہ امت عدالت کامل کی حامل ہے۔ مقصد تو حق اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے اور اس کی شرط علم و عدل ہے اور یہ دونوں چیزیں اس امت میں موجود ہیں، اس لیے اس امت کا قول قابل قبول ہے۔ اگر کوئی شک کرنے والا اس امت کی فضیلت میں شک کرے اور اس کے لیے تزکیہ کرنے والے کا مطالبہ کرے، تو اس کا تزکیہ کرنے والے اس امت کے نبی(ﷺ)تمام مخلوقات میں ایک کامل ترین ہستی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور رسول تم پر گواہ ہو گا‘‘ اس امت کی دوسری قوموں پر گواہی اس طرح ہو گی کہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ انبیاء و مرسلین سے ان کی تبلیغ کے بارے میں سوال کرے گا اور ان کی امتیں اس تبلیغ کی تکذیب کریں گی اور کہیں گی کہ انبیاء و مرسلین نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک نہیں پہنچایا، تو انبیائے کرام علیہ السلام اس امت سے گواہی لیں گے اور ان کا نبی ان کا تزکیہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امت مسلمہ کا اجماع قطعی حجت اور دلیل ہے، کیونکہ یہ امت (مجموعی طور پر)﴿وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ کے اطلاق کی بنا پر خطا سے معصوم ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ امت مسلمہ خطا پر متفق ہو سکتی ہے تو یہ ’’امت وسط‘‘ نہ رہے گی۔ سوائے چند امور کے۔ ﴿ لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تقاضا کرتا ہے کہ جب وہ کسی فیصلہ کے متعلق گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے یا اس کو حرام قرار دیا ہے یا اسے واجب کیا ہے۔ تو یہ درست ہے اس لیے کہ یہ امت اس بارے میں معصوم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے، گواہی دینے اور فتوی وغیرہ دینے کے لیے عدالت شرط ہے۔
[143] یعنی اسلام کے ابتدائی دنوں میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم سے مقصود یہ تھا ﴿اِلَّا لِنَعۡلَمَ﴾ ’’مگر تاکہ ہم جان لیں‘‘ یعنی ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ تمام امور کو ان کے وجود میں آنے سے قبل جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کی بنا پر اس علم کے ساتھ ثواب اور عقاب کا تعلق نہیں۔ بلکہ جب ان کے اعمال وجود میں آتے ہیں تب ان پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے۔ (مصنف a کا قول: ’’ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے‘‘ ایک مبہم عبارت ہے جو وضاحت کی محتاج ہے ہم ائمہ تفسیر امام نسفی، امام ابوالسعود، امام ابن کثیر اور امام ابوحیان Sنے جو کچھ اپنی تفاسیر میں بیان کیا ہے یہاں ذکر کرتے ہیں پس ہم کہتے ہیں کہ (لِنَعْلَمَ)کا مطلب ہے، تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر سکیں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے سامنے ان کا حال منکشف ہو جائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾(ال عمران:۳؍۱۷۹) ’’حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ’’علم‘‘ کو ’’تمییز‘‘ کی جگہ میں استعمال کیا ہے، کیونکہ علم ہی سے تمیز ہوتی ہے اور وہی تمییز کا سبب ہے۔ لہٰذا سبب یعنی علم کا اطلاق کر کے مسبب یعنی تمییز مراد لی گئی ہے۔ ہمارے اس موقف کی تائید ایک قراء ت سے بھی ہوتی ہے (لِیُعْلَمَ ) یعنی ’’نون‘‘ کی بجائے ’’یا‘‘ اور صیغہ مجہول کے ساتھ۔ (تاکہ جان لیا جائے) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے علم کو اپنی طرف اسناد کیا ہے، کیونکہ وہ اس کے خاص بندے ہیں، یا یہ ملاطفت خطاب ہے، مثلاً آپ اس شخص سے جوسونے کے پگھلنے کا منکر ہے، کہتے ہیں ’’ہم سونے کو آگ میں ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ آیا سونا پگھلتا ہے یا نہیں‘‘۔البحر المحیط میں علامہ ابوحیانaرقم طراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لِنَعْلَمَ ) میں اس علم سے مراد ابتدائے علم ہے (یعنی پہلے سے ہی ہمیں معلوم تھا) اس کا ظاہر معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کا حادث ہونا محال ہے۔ (یعنی یہ ناممکن ہے کہ پہلے اللہ کے علم میں نہ ہو اور بعد میں اسے معلوم ہو) چنانچہ تاویل کرتے ہوئے مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ تب آیت کا مفہوم یہ ہو گا: ’’تاکہ ہمارا رسول اور اہل ایمان جان لیں‘‘ ان کے علم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے، کیونکہ نبیﷺاور اہل ایمان اس کے مقرب بندے ہیں تب اس کا شمار مجاز حذف میں ہو گا یا علم کا اطلاق تمییز پر کیا گیا ہے کیونکہ علم ہی کی بنا پر تمیز ہوتی ہے۔ یعنی ’’تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر لیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾(ال عمران:۳؍۱۷۹) ’’حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے‘‘ اور اس طرح اس کا شمار اطلاقِ سبب کے مجاز میں سے ہو گا اور مراد اس سے مسبب ہو گا۔ یہ تاویل حضرت عبداللہ بن عباسwسے مروی ہے۔۔۔ یا اس سے ان کی اطاعت یا معصیت کے وقت اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر مراد ہے، کیونکہ اس وقت کے ساتھ ہی اس علم کا تعلق ثواب و عقاب سے ہو گا، یا یہاں مستقبل سے ماضی مراد لیا ہے۔ تب مفہوم یہ ہو گا ’’جب ہم نے جان لیا کہ رسول کی اتباع کون کرتا ہے اور اس کی مخالفت کون کرتا ہے‘‘۔ (ملخصاً) حافظ ابن کثیر aنے اپنی تفسیر میں یہ معنی بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور یہ معنی بنایا ہے: ’’تاکہ اہل ایمان جان لیں اور کمزور ایمان والے لوگوں کا حال منکشف ہو جائے‘‘ ابن کثیر a فرماتے ہیں: ’’اے محمدﷺ!ہم نے تیرے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا پھر ہم نے تجھے کعبہ کی طرف پھیر دیا، تاکہ ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو تیری اتباع کرتے ہیں، تیری اطاعت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ مل کر قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو الٹے پاؤں پھر جاتے ہیں۔ (حاشیہ : از محمد زہری النجار، من علمائے ازہر) مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ صرف اس لیے مشروع کیا ہے تاکہ ہم جان لیں اور آزما لیں ﴿مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ﴾ ’’کون رسول کی اتباع کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون اس رسول پر ایمان لا کر ہر حال میں اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ وہ بندہ مامور اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ نیز کتب سابقہ نے خبر دی ہے کہ نبی آخر الزمانﷺکعبہ کو قبلہ بنائیں گے پس صاحب انصاف جس کا مقصود و مطلوب محض حق ہے۔ اس سے اس کے ایمان اور اطاعت رسول میں اضافہ ہوتا ہے۔ رہا وہ شخص جو الٹے پاؤں پھر گیا اور اس نے حق سے روگردانی کی اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تو اس کا کفر بڑھتا جاتا ہے اور اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وہ شبہات پر مبنی باطل دلیل پیش کرتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ﴿وَاِنۡ كَانَتۡ﴾ ’’اور بلاشبہ یہ بات ہے۔‘‘ یعنی (عام لوگوں کے لیے) آپ کا بیت المقدس سے منہ پھیرنا ﴿لَؔكَبِيۡرَةً﴾ ’’بہت شاق ہے‘‘ ﴿اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ﴾ ’’سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ نے ہدایت دی‘‘ اور انھوں نے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اقرار کیا کہ اس نے ان کا رخ اس عظیم گھر کی طرف پھیر دیا جسے اس نے روئے زمین کے تمام خطوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کا قصد کرنے کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور گناہوں کو مٹانے والا بنایا ہے، اسی لیے اہل ایمان پر اس کا ماننا آسان ہو گیا اور ان کے سوا دیگر لوگوں پر رخ کی تبدیلی بہت شاق گزری۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيۡعَ اِيۡمَانَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ تمھارے ایمان کو یونہی ضائع کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب ہے نہ یہ اس کی ذات اقدس کے لائق ہے (کہ وہ تمھارے ایمان کو ضائع کرے) بلکہ ایسا کرنا تو اس پر ممتنع (ناممکن) ہے، پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمھارے ایمان کو ضائع کرنا اس کی ذات اقدس پر ممتنع اور محال ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور ایمان سے نواز کر ان پر احسان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی حفاظت کرے گا اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اللہ کا ایمان کی حفاظت کرنا دو طرح سے ہے:(۱)ان کو ہر فساد، ایمان میں نقص پیدا کرنے والی تکلیف دہ آزمائشوں اور ایمان سے روکنے والی خواہش نفس سے بچا کر ان کے ایمان کو ضائع اور باطل ہونے سے محفوظ رکھنا۔ (۲)ایمان کی نشوونما کے لیے ان کو ایسے اعمال کی توفیق عطا کرنا جن سے ان کے ایمان میں اضافہ اور یقین کامل حاصل ہوتا ہے۔ پس ابتدائی طور پر جس طرح اس نے ایمان کی طرف تمھاری راہ نمائی کی، اسی طرح وہ تمھارے ایمان کی حفاظت کرے گا۔ اس کو اور اس کے اجر و ثواب کو نشوونما دے کر اپنی نعمت کا اتمام کرے گا اور ایمان کو مکدر کرنے والے ہر عمل سے اس کی حفاظت کرے گا بلکہ جب ایسی آزمائشیں آئیں جن سے مقصود سچے مومن کو جھوٹے دعوے دار سے الگ کرنا ہو، تو یہ آزمائشیں مومنوں کو کھرا ثابت کرتی اور ان کی سچائی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ گویا اس آیت میں اس بات سے احتراز (بچاؤ) ہے جو کہی جا سکتی تھی کہ اللہ کا قول ﴿وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِيۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ﴾ کبھی کبھی بعض مومنوں کے لیے ترک ایمان کا سبب بنتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيۡعَ اِيۡمَانَكُمۡ﴾ اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ اس امتحان یا دیگر کسی آزمائش کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں وہ تمام اہل ایمان بھی شامل ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے وفات پا چکے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے اپنے وقت میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت یہی ہے کہ ہر وقت اس کے حکم کی پیروی کی جائے۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت و الجماعت کے اس مذہب کی دلیل ہے کہ ایمان میں اعمال جوارح داخل ہیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان اور صاحب رحمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت و رأفت کرنے والا ہے۔ یہ اس کی عظیم رحمت و رأفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو نعمت ایمان عطا کر کے اس نعمت کو مکمل کیا۔ اور ان کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دیا جو ایمان کا صرف زبانی دعویٰ کرتے تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا جس کے ذریعے سے ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کے درجات بلند کیے اور سب سے زیادہ عزت و شرف کے حامل گھر کی طرف ان کا رخ موڑ دیا۔
البقرة 2:144
تحقیق ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف، سو ہم ، البتہ ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلے کی طرف کہ پسند کرتے ہیں آپ اس کو، پس پھیر لیں آپ اپنا چہرہ طرف مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم، تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی طرف اور بلاشبہ وہ لوگ جو دیے گئے کتاب، وہ یقیناً جانتے ہیں کہ بے شک وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سےاور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(144)
[144] اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺسے فرماتا ہے ﴿قَدۡ نَرٰؔى تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’ہم تمھارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں نزول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَجۡهَكَ﴾ ارشاد فرمایا ہے ﴿بَصۡرُكَ﴾ نہیں، کیونکہ اس سے نبیﷺکے فکروغم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔ ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ﴾ ’’سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔‘‘ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لیے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے ﴿قِبۡلَةً تَرۡضٰىهَا﴾ ’’اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم آپ کا منہ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور وہ ہے کعبہ شریف۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺکے شرف و فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسندیدہ امر کے مطابق حکم نازل کرنے میں جلدی فرمائی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو استقبال کعبہ کا صراحتاً حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیں‘‘ ’’وَجْہٌ‘‘ سے مراد انسان کے بدن کے سامنے کا حصہ ہے۔ فرمایا: ﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو‘‘ یعنی بحر و بر، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جہاں کہیں بھی ہو ﴿فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’پس اپنے چہروں کو اس جہت کی طرف پھیر لو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ تمام نمازوں میں، خواہ فرض ہو یا نفل اگر عین کعبہ کی طرف منہ کرنا ممکن ہو تو اس کی طرف منہ کرنا فرض ہے ورنہ اس کی طرف اور جہت میں منہ کر لینا کافی ہے۔ اور یہ کہ نماز کے اندر بدن کے ساتھ ادھر ادھر التفات کرنا نماز کو باطل کرنے والا عمل ہے کیونکہ کسی چیز کی بابت حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب وغیرہ میں سے اعتراض کرنے والوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب اور ان کے اہل علم جانتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں واضح حق پر ہیں کیونکہ انھیں اپنی کتابوں میں اس نبی کی نشانیاں ملتی ہیں، اس لیے وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مبتلائے غم ہیں تو تم ان کے اعتراضات کی پروا نہ کرو، اس لیے کہ انسان کو صرف اس اعتراض کرنے والے کا اعتراض غم میں ڈالتا ہے، جب معاملہ مشتبہ ہو اور اس کا امکان ہو کہ صواب (صحیح بات) اس کے ساتھ ہو۔ لیکن جب یہ یقین ہو جائے کہ حق و صواب اس شخص کے ساتھ ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے والا محض عناد سے کام لے رہا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ معترض کا اعتراض باطل ہے تو اسے پروا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے انتظار کرنا چاہیے کہ معترض کو دنیاوی اور اخروی عقوبت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں‘‘ بلکہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اعتراض کرنے والوں کے لیے وعید اور اہل ایمان کے لیے تسلی ہے۔
البقرة 2:145
اور البتہ اگر لے آئیں آپ ان لوگوں کے پاس جو دیے گئے کتاب، ہر قسم کی نشانی، تب بھی وہ نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلے کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ بعض ان کا پیروی کرنے والا ہے بعض کے قبلے کی، اور البتہ اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشات کی، بعد اس کے جو آگیا آپ کے پاس علم تو یقینا ًآپ اس وقت ہو جائیں گے ظالموں میں سے(145)
[145] نبی اکرمﷺمخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انھیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کر دیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انھی میں سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنھوں نے محمدﷺکا جہالت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا ﴿وَلَىِٕنۡ اَتَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ﴾ ’’اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔‘‘ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کر دیں ﴿مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ﴾ ’’تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔‘‘ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لیے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انھوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہو گیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کر دیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد(ﷺ) یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِتَابِـعٍ قِبۡلَتَهُمۡ﴾(وَلَا تَتَّبِـعْ) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہﷺان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (وَلَوْ اَتَوْا بِکُلِّ آیَۃٍ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہو جاتا ہے تو اس پر وارد شبہات کا جواب دینا لازم نہیں۔ کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منافی ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خوشی سے شبہات کا ازالہ کرنا)﴿وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ﴿ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’ان کی خواہشات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دِینَھُمْ) ’’ان کا دین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے۔ اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾(الجاثیہ : 45؍23) ’’بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟‘‘ ﴿مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ﴾ ’’اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔‘‘ یعنی یہ جان لینے کے بعد کہ آپ حق پر اور وہ باطل پر ہیں ﴿اِنَّكَ اِذًا﴾ ’’تب آپ‘‘ یعنی اگر آپ نے ان کی اتباع کی۔ یہ احتراز ہے تاکہ یہ جملہ اپنے ماقبل جملے سے علیحدہ نہ رہے۔ خواہ وہ افہام ہی میں کیوں نہ ہو۔ ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہے جس نے حق اور باطل کو پہچان کر باطل کو حق پر ترجیح دی۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہﷺسے ہے تاہم آپ کی امت اس میں داخل ہے، نیز اگر رسول اللہﷺنے بھی یہ کام کیا ہوتا، حاشا وکلّا، آپ سے یہ ممکن نہیں تھا، تو آپ بھی اپنے بلند مرتبہ اور نیکیوں کی کثرت کے باوجود ظالموں میں شمار ہوتے تب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا تو بطریق اولیٰ بڑا ظالم ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا
البقرة 2:146
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ پہچانتے ہیں اس (رسول) کو جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کواور بے شک ایک فریق ان میں سے ، البتہ وہ چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ جانتا ہے(146)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس ہرگز نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(147)
[146] اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیﷺکی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا :﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾(البقرہ:140) ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا ، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔
[147]﴿اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ من جملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔
البقرة 2:147
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ پہچانتے ہیں اس (رسول) کو جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کواور بے شک ایک فریق ان میں سے ، البتہ وہ چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ جانتا ہے(146)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس ہرگز نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(147)
[146] اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیﷺکی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا :﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾(البقرہ:140) ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا ، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔
[147]﴿اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ من جملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔
البقرة 2:148
اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے وہ (منہ) پھیرنے والا ہے اس کی طرف، پس تم سبقت کرو نیکیوں میں، جہاں کہیں تم ہو گے، لے آئے گا تم کو اللہ سب کو، تحقیق اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(148)
[148] یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لیے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لیے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے، یہی سعادت کا عنوان اور ولایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کر لیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا اور اسی کا اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم دیا۔ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کا حکم، نیکی کرنے کے حکم پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ نیکیوں کی طرف سبقت، نیکیوں کے کرنے، ان کی تکمیل، کامل ترین احوال میں ان کو واقع کرنے اور نہایت سرعت سے ان کی طرف بڑھنے کو متضمن ہے۔ جو کوئی اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے وہ آخرت میں جنت کی طرف سبقت لے جائے گا، پس سابقون (سبقت کرنے والے) تمام مخلوق میں بلند ترین درجے پر فائز ہوں گے۔ اور نیکیوں کا لفظ تمام فرائض، نماز، نوافل، روزے، زکٰوۃ ، حج و عمرہ، جہاد اور لوگوں کو نفع پہنچانے وغیرہ کو شامل ہے۔ جب بات یہ ہے کہ سب سے طاقتور داعیہ جو نفوس کو نیکیوں میں مسابقت و مسارعت پر آمادہ کرتا ہے اور انھیں نشاط عطا کرتا ہے، وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں پر عطا کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يَاۡتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو لے آئے گا ،بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ وہ قیامت کے روز اپنی قدرت سے تمھیں اکٹھا کرے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى ﴾(النجم : 53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ہیں ان کو نیک بدلہ دے۔‘‘ اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر اس فضیلت کو اختیار کرنا چاہیے جس سے کوئی عمل متصف ہو سکتا ہے، مثلاً اول وقت پر نماز ادا کرنا، روزے، حج، عمرہ اور زکٰوۃ کی ادائیگی سے فوری طور پر بری الذمہ ہونا۔ تمام عبادات کی سنن و آداب کو پوری طرح ادا کرنا۔ پس کتنی جامع اور کتنی نفع مند آیت ہے۔
البقرة 2:149
اور جہاں سے نکلیں آپ تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور بلاشبہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(149) اور جہاں سے آپ نکلیں تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی جانب تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے تمھارے خلاف کوئی حجت، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سےاور تاکہ پوری کروں میں اپنی نعمت اوپر تمھارے اور شاید کہ تم ہدایت پاؤ(150)
[149]﴿وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ﴾ ’’جہاں سے بھی آپ نکلیں‘‘ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
[150]﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔‘‘ فرمایا:﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے (اِنَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کر دیا ہے تاکہ اس میں کسی کے لیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے‘‘ بلکہ وہ تمھیں تمھارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہو گی۔ ﴿لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ﴾ ’’اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے۔ کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمانﷺکا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہو گا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کامرکز ہے اور جب رسول اللہﷺکعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ محمد(ﷺ) ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیمuکی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہو گئی اور آپ پر وہ جو حجت قائم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہو گئی۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ﴾ ’’مگر ان میں سے جو ظالم ہیں۔‘‘ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ﴾ ’’تم ان سے مت ڈرو‘‘ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی سے نہیں بچ سکتا اور نہ اس کی اطاعت کر سکتا ہے۔ مسلمانوں نے بیت اللہ کو قبلہ بنایا تو اس سے انھیں بہت بڑے فتنے کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی اہل کتاب، منافقین اور مشرکین نے خوب خوب اشاعت کی اور اس بارے میں انھوں نے اعتراضات اور شبہات کی بھرمار کر دی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت بسط و شرح اور کامل طریقے سے اس مسئلہ کوبیان کیا ہے اور مختلف قسم کی تاکیدات سے اس کو موکد کیا جو ان آیات کریمہ میں بیان ہوئی ہیں، مثلاً:(۱) استقبال کعبہ کا تین مرتبہ حکم دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک ہی مرتبہ کافی تھا۔ (۲) اس میں خصوصی بات یہ ہے کہ حکم یا تو رسول اللہﷺکے لیے ہے اور امت اس میں داخل ہے یا یہ حکم امت کے لیے عام ہے۔ اس آیت کریمہ میں خصوصی طور پر صرف رسول اللہﷺکو استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ﴾ اور امت کو اس آیت میں استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ﴾(۳) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام باطل دلائل کا رد کیا ہے جو کہ معاندین نے پیش کیے تھے اور ایک ایک شبہہ کا ابطال کیا۔ جیسا کہ اس کی توضیح گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔ (۴) اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت امیدوں کو ختم کر دیا کہ رسول اللہﷺاہل کتاب کے قبلے کی پیروی کریں گے۔ (۵) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ایک عظیم سچے شخص کا خبر دینا ہی کافی ہوتا ہے مگر بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔‘‘ (۶) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا، اور وہ عالم الغیب ہے، کہ اہل کتاب کے ہاں استقبال کعبہ کے معاملہ کی صحت متحقق ہے مگر یہ لوگ علم رکھنے کے باوجود اس گواہی کو چھپاتے ہیں۔ جب بیت اللہ شریف کی طرف تحویل قبلہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس امت پر اللہ تعالیٰ کا بے پایاں لطف و کرم ہے جو بڑھتا ہی رہتا ہے۔ علاوہ ازیں جب بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لیے کوئی کام مشروع کرتا ہے تو یہ ایک عظیم نعمت ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَلِاُتِمَّؔ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ یہ تحویل کا حکم اس لیے دیا گیا ہے ’’تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں۔‘‘ اصل نعمت تو دین کی ہدایت ہے جو وہ اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب نازل کر کے عطا کرتا ہے اس کے بعد دیگر تمام نعمتیں اس نعمت کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ نعمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا حصر و شمار ممکن نہیں۔ رسول اللہﷺکی بعثت سے لے کر اس دنیائے فانی سے آپ کی رحلت تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں سے نوازتا رہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو احوال اور نعمتیں عطا کیں اور اس نے آپ کی امت کو وہ کچھ دیا جس سے آپ پر اور آپ کی امت پر اتمام نعمت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ آپ پر نازل فرمائی ﴿اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَؔكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِيۡ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا﴾(المائدہ : 5؍3) ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہی اپنے اس فضل و کرم پر حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ اس فضل و کرم پر اس کا شکر ادا کرنا تو کجا ہم تو اس کو شمار تک نہیں کر سکتے۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور تاکہ تم راہ راست پر چلو۔‘‘ یعنی شاید کہ تم حق کو جانو اور پھر اس پر عمل کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ہدایت کے اسباب بے حد آسان فرما دیے اور ہدایت کے راستوں پر چلنے کے بارے میں آگاہ فرما دیا اور ان کے لیے اس ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل عناد کو حق کی مخالفت پر مقرر کر دیتا ہے، چنانچہ وہ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں، جس سے حق واضح، حق کی نشانیاں اور علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں اور باطل کا بطلان ثابت ہو جاتا ہے اور یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ باطل کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر باطل حق کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو تو بسا اوقات اکثر مخلوق پر باطل کا حال واضح نہ ہو۔ اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر رات نہ ہوتی تو دن کی فضیلت کا اعتراف نہ ہوتا۔ اگر قبیح اور بدصورت نہ ہو تو خوبصورت کی فضیلت معلوم نہیں ہو سکتی، اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کے فوائد کو نہیں پہچانا جا سکتا، اگر باطل نہ ہو تو حق واضح طور پر ظاہر نہیں ہو سکتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔
البقرة 2:150
اور جہاں سے نکلیں آپ تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور بلاشبہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(149) اور جہاں سے آپ نکلیں تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی جانب تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے تمھارے خلاف کوئی حجت، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سےاور تاکہ پوری کروں میں اپنی نعمت اوپر تمھارے اور شاید کہ تم ہدایت پاؤ(150)
[149]﴿وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ﴾ ’’جہاں سے بھی آپ نکلیں‘‘ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
[150]﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔‘‘ فرمایا:﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے (اِنَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کر دیا ہے تاکہ اس میں کسی کے لیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے‘‘ بلکہ وہ تمھیں تمھارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہو گی۔ ﴿لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ﴾ ’’اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے۔ کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمانﷺکا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہو گا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کامرکز ہے اور جب رسول اللہﷺکعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ محمد(ﷺ) ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیمuکی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہو گئی اور آپ پر وہ جو حجت قائم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہو گئی۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ﴾ ’’مگر ان میں سے جو ظالم ہیں۔‘‘ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ﴾ ’’تم ان سے مت ڈرو‘‘ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی سے نہیں بچ سکتا اور نہ اس کی اطاعت کر سکتا ہے۔ مسلمانوں نے بیت اللہ کو قبلہ بنایا تو اس سے انھیں بہت بڑے فتنے کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی اہل کتاب، منافقین اور مشرکین نے خوب خوب اشاعت کی اور اس بارے میں انھوں نے اعتراضات اور شبہات کی بھرمار کر دی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت بسط و شرح اور کامل طریقے سے اس مسئلہ کوبیان کیا ہے اور مختلف قسم کی تاکیدات سے اس کو موکد کیا جو ان آیات کریمہ میں بیان ہوئی ہیں، مثلاً:(۱) استقبال کعبہ کا تین مرتبہ حکم دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک ہی مرتبہ کافی تھا۔ (۲) اس میں خصوصی بات یہ ہے کہ حکم یا تو رسول اللہﷺکے لیے ہے اور امت اس میں داخل ہے یا یہ حکم امت کے لیے عام ہے۔ اس آیت کریمہ میں خصوصی طور پر صرف رسول اللہﷺکو استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ﴾ اور امت کو اس آیت میں استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ﴾(۳) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام باطل دلائل کا رد کیا ہے جو کہ معاندین نے پیش کیے تھے اور ایک ایک شبہہ کا ابطال کیا۔ جیسا کہ اس کی توضیح گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔ (۴) اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت امیدوں کو ختم کر دیا کہ رسول اللہﷺاہل کتاب کے قبلے کی پیروی کریں گے۔ (۵) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ایک عظیم سچے شخص کا خبر دینا ہی کافی ہوتا ہے مگر بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔‘‘ (۶) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا، اور وہ عالم الغیب ہے، کہ اہل کتاب کے ہاں استقبال کعبہ کے معاملہ کی صحت متحقق ہے مگر یہ لوگ علم رکھنے کے باوجود اس گواہی کو چھپاتے ہیں۔ جب بیت اللہ شریف کی طرف تحویل قبلہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس امت پر اللہ تعالیٰ کا بے پایاں لطف و کرم ہے جو بڑھتا ہی رہتا ہے۔ علاوہ ازیں جب بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لیے کوئی کام مشروع کرتا ہے تو یہ ایک عظیم نعمت ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَلِاُتِمَّؔ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ یہ تحویل کا حکم اس لیے دیا گیا ہے ’’تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں۔‘‘ اصل نعمت تو دین کی ہدایت ہے جو وہ اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب نازل کر کے عطا کرتا ہے اس کے بعد دیگر تمام نعمتیں اس نعمت کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ نعمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا حصر و شمار ممکن نہیں۔ رسول اللہﷺکی بعثت سے لے کر اس دنیائے فانی سے آپ کی رحلت تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں سے نوازتا رہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو احوال اور نعمتیں عطا کیں اور اس نے آپ کی امت کو وہ کچھ دیا جس سے آپ پر اور آپ کی امت پر اتمام نعمت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ آپ پر نازل فرمائی ﴿اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَؔكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِيۡ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا﴾(المائدہ : 5؍3) ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہی اپنے اس فضل و کرم پر حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ اس فضل و کرم پر اس کا شکر ادا کرنا تو کجا ہم تو اس کو شمار تک نہیں کر سکتے۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور تاکہ تم راہ راست پر چلو۔‘‘ یعنی شاید کہ تم حق کو جانو اور پھر اس پر عمل کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ہدایت کے اسباب بے حد آسان فرما دیے اور ہدایت کے راستوں پر چلنے کے بارے میں آگاہ فرما دیا اور ان کے لیے اس ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل عناد کو حق کی مخالفت پر مقرر کر دیتا ہے، چنانچہ وہ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں، جس سے حق واضح، حق کی نشانیاں اور علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں اور باطل کا بطلان ثابت ہو جاتا ہے اور یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ باطل کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر باطل حق کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو تو بسا اوقات اکثر مخلوق پر باطل کا حال واضح نہ ہو۔ اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر رات نہ ہوتی تو دن کی فضیلت کا اعتراف نہ ہوتا۔ اگر قبیح اور بدصورت نہ ہو تو خوبصورت کی فضیلت معلوم نہیں ہو سکتی، اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کے فوائد کو نہیں پہچانا جا سکتا، اگر باطل نہ ہو تو حق واضح طور پر ظاہر نہیں ہو سکتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔
البقرة 2:151
جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمھیں اور تعلیم دیتا ہے تمھیں کتاب اور حکمت کی اور سکھاتا ہے تمھیں وہ (باتیں) جو نہیں تھے تم جانتے(151) پس یاد کرو تم مجھے، میں یاد کروں گا تمھیں اور تم شکر کرو میرے لیے اور نہ ناشکری کرو میری(152)
[151] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمھیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لیے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں بلکہ ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمھاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیرخواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے‘‘ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم پر آیات کی تلاوت کرتا ہے جو باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ،پھر اس کے رسولﷺکی صداقت، اس پر ایمان کے وجوب اور ان تمام غیبی اور مابعد الموت امور پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے، تاکہ تمھیں ہدایت کامل اور علم یقینی حاصل ہو جائے۔ ﴿وَيُزَؔكِّيۡكُمۡ﴾ ’’اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی تربیت کے ذریعے سے اخلاق جمیلہ کو اجاگر اور اخلاق رذیلہ کو زائل کر کے تمھارے نفوس اور تمھارے اخلاق کو پاک کرتا ہے، مثلاً شرک سے توحید کی طرف، ریا سے اخلاص کی طرف، جھوٹ سے صدق کی طرف، خیانت سے امانت کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، بدخلقی سے حسن اخلاق کی طرف، باہم بغض، قطع تعلقی اور قطع رحمی سے ایک دوسرے سے محبت، مودت اور صلہ رحمی کی طرف تمھارا تزکیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ تزکیہ کی دیگر انواع کے ذریعے سے تمھیں پاک کرتا ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور تمھیں کتاب (قرآن) سکھاتا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کے الفاظ ومعانی کی تعلیم دیتا ہے ﴿وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور حکمت‘‘ ایک قول کے مطابق حکمت سے مراد سنت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت کی معرفت اور اس کی سمجھ ہے، نیز تمام امور کو ان کے مقام پر رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے سنت کی تعلیم کتاب اللہ کی تعلیم میں داخل ہے، کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر و توضیح اور اس کی تعبیر کرتی ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ کیونکہ بعثت محمدی سے قبل اہل عرب کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کے پاس علم تھا نہ عمل۔ پس ہر علم اور عمل جو اس امت کو حاصل ہوا ہے وہ رسول اللہﷺکے توسط اور آپ ہی کے سبب سے حاصل ہوا ہے۔ یہ نعمتیں علی الاطلاق حقیقی نعمتیں ہیں۔ یہ نعمتیں سب سے بڑی نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ لہٰذا ان کا وظیفہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی ہونا چاہیے۔
[152] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاذۡكُرُوۡنِيۡۤ۠ اَذۡكُرۡؔكُمۡ﴾ ’’پس تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان مبارک سے فرمایا ’’جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ:﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ.....﴾، حديث:7405)سب سے بہتر ذکر وہ ہے جس میں دل اور زبان کی موافقت ہو اور اسی ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔ اور ذکر الٰہی ہی شکر کی بنیاد ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا حکم دیا ہے۔ پھر اس کے بعد شکر کا عمومی حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاشۡكُرُوۡا لِيۡ﴾ ’’اور میرا شکر کرو۔‘‘ یعنی میں نے جو یہ نعمتیں تمھیں عطا کیں اور مختلف قسم کی تکالیف اور مصائب کو تم سے دور کیا اس پر میرا شکر کرو۔ شکر، دل سے ہوتا ہے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کر کے۔ زبان سے ہوتا ہے، اس کا ذکر اور حمدوثنا کر کے۔ اعضاء سے ہوتا ہے اس کے حکموں کی اطاعت و فرماں برداری اور اس کی منہیات سے اجتناب کر کے۔ پس شکر، موجود نعمت کے باقی رہنے اور مفقود نعمت (مزید نئی نعمتوں) کے حصول کے جذبے کا مظہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو تمھیں اور زیادہ دوں گا۔‘‘ علم، تزکیہ اخلاق اور توفیق عمل جیسی دینی نعمتوں پر شکر کا حکم دینے میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ یہ سب سے بڑی نعمتیں ہیں بلکہ یہی حقیقی نعمتیں ہیں جن کو دوام حاصل ہے، جبکہ دیگر نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ ان تمام حضرات کے لیے، جن کو علم و عمل کی توفیق سے نوازا گیا ہے، یہی مناسب ہے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا اضافہ ہو اور ان سے عجب اور خود پسندی دور رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر میں مشغول رہیں۔چونکہ شکر کی ضد کفران نعمت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ضد سے منع کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَ لَا تَكۡفُرُوۡنِ﴾ ’’اور میرا کفر نہ کرو‘‘ یہاں ’’کفر‘‘ سے مراد وہ رویہ ہے جو شکر کے بالمقابل ہوتا ہے۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری اور ان کا انکار اور ان نعمتوں کا حق ادا کرنے سے گریز و فرار۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی عام ہو تب اس لحاظ سے کفر کی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سب سے بڑی قسم اللہ تعالیٰ سے کفر ہے پھر اختلاف اجناس و انواع کے اعتبار سے مختلف معاصی، مثلاً شرک اور اس سے کم تر گناہ۔
البقرة 2:152
جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمھیں اور تعلیم دیتا ہے تمھیں کتاب اور حکمت کی اور سکھاتا ہے تمھیں وہ (باتیں) جو نہیں تھے تم جانتے(151) پس یاد کرو تم مجھے، میں یاد کروں گا تمھیں اور تم شکر کرو میرے لیے اور نہ ناشکری کرو میری(152)
[151] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمھیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لیے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں بلکہ ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمھاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیرخواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے‘‘ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم پر آیات کی تلاوت کرتا ہے جو باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ،پھر اس کے رسولﷺکی صداقت، اس پر ایمان کے وجوب اور ان تمام غیبی اور مابعد الموت امور پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے، تاکہ تمھیں ہدایت کامل اور علم یقینی حاصل ہو جائے۔ ﴿وَيُزَؔكِّيۡكُمۡ﴾ ’’اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی تربیت کے ذریعے سے اخلاق جمیلہ کو اجاگر اور اخلاق رذیلہ کو زائل کر کے تمھارے نفوس اور تمھارے اخلاق کو پاک کرتا ہے، مثلاً شرک سے توحید کی طرف، ریا سے اخلاص کی طرف، جھوٹ سے صدق کی طرف، خیانت سے امانت کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، بدخلقی سے حسن اخلاق کی طرف، باہم بغض، قطع تعلقی اور قطع رحمی سے ایک دوسرے سے محبت، مودت اور صلہ رحمی کی طرف تمھارا تزکیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ تزکیہ کی دیگر انواع کے ذریعے سے تمھیں پاک کرتا ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور تمھیں کتاب (قرآن) سکھاتا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کے الفاظ ومعانی کی تعلیم دیتا ہے ﴿وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور حکمت‘‘ ایک قول کے مطابق حکمت سے مراد سنت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت کی معرفت اور اس کی سمجھ ہے، نیز تمام امور کو ان کے مقام پر رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے سنت کی تعلیم کتاب اللہ کی تعلیم میں داخل ہے، کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر و توضیح اور اس کی تعبیر کرتی ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ کیونکہ بعثت محمدی سے قبل اہل عرب کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کے پاس علم تھا نہ عمل۔ پس ہر علم اور عمل جو اس امت کو حاصل ہوا ہے وہ رسول اللہﷺکے توسط اور آپ ہی کے سبب سے حاصل ہوا ہے۔ یہ نعمتیں علی الاطلاق حقیقی نعمتیں ہیں۔ یہ نعمتیں سب سے بڑی نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ لہٰذا ان کا وظیفہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی ہونا چاہیے۔
[152] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاذۡكُرُوۡنِيۡۤ۠ اَذۡكُرۡؔكُمۡ﴾ ’’پس تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان مبارک سے فرمایا ’’جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ:﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ.....﴾، حديث:7405)سب سے بہتر ذکر وہ ہے جس میں دل اور زبان کی موافقت ہو اور اسی ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔ اور ذکر الٰہی ہی شکر کی بنیاد ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا حکم دیا ہے۔ پھر اس کے بعد شکر کا عمومی حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاشۡكُرُوۡا لِيۡ﴾ ’’اور میرا شکر کرو۔‘‘ یعنی میں نے جو یہ نعمتیں تمھیں عطا کیں اور مختلف قسم کی تکالیف اور مصائب کو تم سے دور کیا اس پر میرا شکر کرو۔ شکر، دل سے ہوتا ہے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کر کے۔ زبان سے ہوتا ہے، اس کا ذکر اور حمدوثنا کر کے۔ اعضاء سے ہوتا ہے اس کے حکموں کی اطاعت و فرماں برداری اور اس کی منہیات سے اجتناب کر کے۔ پس شکر، موجود نعمت کے باقی رہنے اور مفقود نعمت (مزید نئی نعمتوں) کے حصول کے جذبے کا مظہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو تمھیں اور زیادہ دوں گا۔‘‘ علم، تزکیہ اخلاق اور توفیق عمل جیسی دینی نعمتوں پر شکر کا حکم دینے میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ یہ سب سے بڑی نعمتیں ہیں بلکہ یہی حقیقی نعمتیں ہیں جن کو دوام حاصل ہے، جبکہ دیگر نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ ان تمام حضرات کے لیے، جن کو علم و عمل کی توفیق سے نوازا گیا ہے، یہی مناسب ہے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا اضافہ ہو اور ان سے عجب اور خود پسندی دور رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر میں مشغول رہیں۔چونکہ شکر کی ضد کفران نعمت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ضد سے منع کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَ لَا تَكۡفُرُوۡنِ﴾ ’’اور میرا کفر نہ کرو‘‘ یہاں ’’کفر‘‘ سے مراد وہ رویہ ہے جو شکر کے بالمقابل ہوتا ہے۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری اور ان کا انکار اور ان نعمتوں کا حق ادا کرنے سے گریز و فرار۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی عام ہو تب اس لحاظ سے کفر کی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سب سے بڑی قسم اللہ تعالیٰ سے کفر ہے پھر اختلاف اجناس و انواع کے اعتبار سے مختلف معاصی، مثلاً شرک اور اس سے کم تر گناہ۔
البقرة 2:153
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! مدد طلب کرو تم ساتھ صبر اور نماز کے، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(153)
[153] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ دنیاوی امور میں صبر اور نماز سے مدد لیں۔ پس صبر، نفس کو روکنے اور ان امور سے باز رکھنے کا نام ہے جن کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ صبر کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا حتیٰ کہ اسے بجا لائے۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکنے پر صبر کرنا۔ یہاں تک کہ وہ اس نافرمانی کو ترک کر دے۔ (۳) تکلیف پہنچانے والی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ صبر سے ہر کام میں زبردست معونت حاصل ہوتی ہے لہٰذا بے صبر آدمی کے لیے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے، خاص طور پر دائمی مشقت سے بھرپور نیکیاں۔ کیونکہ اس قسم کی نیکیاں انتہائی صبر و تحمل اور مشقت کی تلخی برداشت کرنے کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان نیکیوں کا مشتاق جب صبر کو لازم پکڑ لیتا ہے تو کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے اور اگر ناپسندیدہ کام اور مشقت اسے صبر پر قائم نہ رکھ سکے تو اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا، صرف محرومی اس کا نصیب ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ گناہ جس کی طرف نفس انسانی کا داعیہ کشش رکھتا ہے اور اس گناہ کا ارتکاب اس کی قدرت میں بھی ہوتا ہے تو اس گناہ کا ترک کرنا صرف صبر عظیم، اللہ تعالیٰ کی خاطر قلب کے دواعی کے ترک کرنے اور اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ گناہ بھی ایک بہت بڑا فتنہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سخت مصائب اور آزمائشوں میں، خاص طور پر جبکہ یہ مصائب دائمی ہوں تب ان پے در پے مصائب سے جسمانی اورنفسانی قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں، اگر یہ شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر، توکل، اللہ تعالیٰ کی پناہ کے ذریعے سے اور اپنے آپ کو اللہ کا دائمی محتاج سمجھتے ہوئے ان کا مقابلہ نہیں کرے گا تو ناراضی اور غصہ اس پر غلبہ پا لیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ صبر ایک ایسی چیز ہے جس کا بندہ محتاج بلکہ ہر حالت میں اس کی طرف مجبور ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اور آگاہ کیا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق سے صبر کو اپنی عادت، وصف اور ملکہ بنا لیا ہے۔ تب ان لوگوں پر بڑی بڑی مشقتیں اور مصائب آسان ہو جاتے ہیں، ان پر ہر بڑا کام آسان اور ان سے ہر مشکل دور ہو جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص معیت ہے جو اس کی محبت، اس کی مدد، اس کی نصرت اور اس کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ صبر کرنے والوں کی بہت بڑی مدح و منقبت ہے۔ اگر اہل صبر کی صرف یہی فضیلت ہوتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں کامیابی کی منزل پر پہنچ گئے تو شرف و فضیلت کے لیے یہی کافی ہے۔ رہی معیت عامہ تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کی معیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾(الحدید: 57؍4) ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمھارے ساتھ ہے‘‘ میں مذکور ہے اور یہ معیت تمام مخلوق کے لیے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز سے مدد لینے کا حکم دیا ہے کیونکہ نماز دین کا ستون اور اہل ایمان کا نور ہے۔ نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب بندۂ مومن کی نماز کامل ہو ، اس میں تمام لازمی امور اور سنن جمع ہوں، اس میں حضور قلب، جو نماز کا لب لباب ہے، حاصل ہو تو بندۂ مومن جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوا ہے اور اپنے رب کے سامنے اس طرح کھڑا ہے جس طرح ایک مؤدب خادم غلام اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کہے اور جو کچھ کرے اس کا معنی اور مفہوم اس کے شعور میں حاضر ہو، وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات اور اس سے دعا مانگنے میں مستغرق ہو، تو یقیناً یہ نماز تمام امور میں سب سے بڑی مددگار ہے کیونکہ نماز فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ یہ حضور قلب جو نماز کے اندر حاصل ہوتا ہے، بندے کے قلب میں ایسے وصف اور داعیے کا موجب بنتا ہے جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ یہی وہ نماز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر چیز کے مقابلے میں اس سے مدد لیں۔
البقرة 2:154
اور نہ کہو تم ان کو، جو قتل کر دیے جائیں اللہ کی راہ میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں لیکن نہیں شعور رکھتے تم(154)
[154] چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام احوال میں صبر سے مدد لینے کا حکم دیا ہے اس لیے اس نے ایک نمونہ ذکر فرمایا ہے جس میں صبر سے مدد لی جاتی ہے۔ اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے جو سب سے افضل بدنی عبادت ہے۔ اپنی مشقت کی وجہ سے یہ نفوس انسانی پر سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے نیز یہ عبادت نفوس انسانی پر اس لیے بھی گراں ہے کہ اس کا نتیجہ موت اور عدم حیات ہے اور زندگی ایک ایسی چیز ہے کہ لوگ اس دنیا میں زندگی اور اس کے لوازم کے حصول میں رغبت رکھتے ہیں۔ پس ہر وہ چیز جس میں لوگ تصرف کرتے ہیں اس کے حصول کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ضد کو دور کیا جاتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ عقل مند شخص اپنی محبوب چیز کو اس وقت ہی چھوڑتا ہے جب اسے اس سے بڑی اور اس سے بہتر کوئی اور محبوب چیز حاصل ہونے کی امید ہو۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس وجہ سے قتل ہو جاتا ہے کہ اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ بلند اور اس کا دین غالب ہو اور اس کے سوا اس کی کوئی اور غرض نہ ہو۔ تو وہ اپنی محبوب زندگی کو کھو نہیں دیتا بلکہ اسے اس زندگی سے زیادہ عظیم اور کامل زندگی حاصل ہو جاتی ہے جس کا تم گمان اور تصور کر سکتے ہو۔ پس شہداء وہ ہیں جن کا ذکر یوں آیا ہے ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ۰۰فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ١ۙ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ١ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَۘ۰۰ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(آل عمران : 3؍169۔171) ’’وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیا اس پر وہ خوش ہیں اور جو پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان کے ساتھ نہ مل سکے ان کے بارے میں خوش ہو رہے ہیں کہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمتوں، اس کے فضل اور اس بات پر خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ کیا اس سے بھی بڑی کوئی اور زندگی ہے جو قرب الٰہی، اس کے بدنی رزق، مثلاً لذیذ ماکولات و مشروبات سے تمتع اور روحانی رزق، مثلاً فرحت، خوشی اورعدم حزن و غم کو متضمن ہے؟ یہ برزخی زندگی ہے جو دنیاوی زندگی سے زیادہ کامل ہے۔ بلکہ رسول اللہﷺنے اس زندگی کے بارے میں ان الفاظ میں آگاہ فرمایا: ’’شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے جوف (پیٹ) میں جنت کی نہروں سے پانی پینے کے لیے وارد ہوتی ہیں جنت کے پھل کھاتی ہیں اور ان قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔‘‘(صحیح مسلم، الإمارہ ، باب بیان أن أرواح الشھداء في الجنۃ ….. الخ، حديث:1887 و مسند احمد:1؍166) اس آیت میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اس میں صبر کا دامن پکڑے رکھنے کی بڑی ترغیب ہے۔ پس اگر بندوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونے کا کتنا ثواب ہے تو کوئی شخص جہاد سے پیچھے نہ رہے مگر کامل علم یقینی کا فقدان، عزائم کو کمزور، نیند میں مدہوش شخص کی نیند میں اور اضافہ اور غنیمتیں اور بہت بڑا ثواب حاصل کرنے سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کا جان و مال خرید لیا ہے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَنَّةَ١ؕ يُقَاتِلُوۡنَؔ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَؔ وَيُقۡتَلُوۡنَؔ﴾(التوبہ : 9؍111) ’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (کافروں کو) قتل کرتے ہیں اور قتل ہو جاتے ہیں۔‘‘ اللہ کی قسم! اگر انسان کو ہزار جانیں عطا کی گئی ہوں اور وہ ایک ایک کر کے سب جانیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دے تب بھی اس اجر عظیم کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے شہداء جب اللہ تعالیٰ کے عنایت کردہ اس بہترین جزا اور ثواب کا مشاہدہ کر لیں گے تو دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے تاکہ وہ اللہ کے راستے میں بار بار قتل ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ برزخ میں انسان کو آرام اور عذاب ملتا ہے جیسا کہ بکثرت نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔
البقرة 2:155
اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)
[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی انھیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی حساب کے ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ پس اہل صبر وہ لوگ ہیں جن کو عظیم بشارت اور بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان صابرین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
[156]﴿الَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ﴾’’وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰهِ﴾ ’’تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں، پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لیے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں بلکہ بندۂ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے وہی چیز اختیار کی جو اس کے لیے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاضر ہونا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔
[157]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں۔‘‘ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں ﴿عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے ﴿ وَرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو پہچان لیا۔ اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انھیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا صبر کرنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انھیں وہ کچھ حاصل ہو گا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے۔ یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ۔ (اَعَاذَنَا اللہُ مِنْھَا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، اہل صبر کے لیے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں تاکہ جب مصائب نازل ہوں تو وہ آسانی سے برداشت ہو سکیں۔ ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لیے کیا اجر و ثواب ہے۔ ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلا و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔
البقرة 2:156
اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)
[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی انھیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی حساب کے ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ پس اہل صبر وہ لوگ ہیں جن کو عظیم بشارت اور بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان صابرین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
[156]﴿الَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ﴾’’وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰهِ﴾ ’’تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں، پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لیے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں بلکہ بندۂ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے وہی چیز اختیار کی جو اس کے لیے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاضر ہونا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔
[157]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں۔‘‘ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں ﴿عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے ﴿ وَرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو پہچان لیا۔ اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انھیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا صبر کرنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انھیں وہ کچھ حاصل ہو گا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے۔ یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ۔ (اَعَاذَنَا اللہُ مِنْھَا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، اہل صبر کے لیے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں تاکہ جب مصائب نازل ہوں تو وہ آسانی سے برداشت ہو سکیں۔ ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لیے کیا اجر و ثواب ہے۔ ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلا و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔
البقرة 2:157
اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)
[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی انھیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی حساب کے ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ پس اہل صبر وہ لوگ ہیں جن کو عظیم بشارت اور بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان صابرین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
[156]﴿الَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ﴾’’وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰهِ﴾ ’’تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں، پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لیے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں بلکہ بندۂ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے وہی چیز اختیار کی جو اس کے لیے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاضر ہونا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔
[157]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں۔‘‘ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں ﴿عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے ﴿ وَرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو پہچان لیا۔ اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انھیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا صبر کرنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انھیں وہ کچھ حاصل ہو گا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے۔ یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ۔ (اَعَاذَنَا اللہُ مِنْھَا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، اہل صبر کے لیے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں تاکہ جب مصائب نازل ہوں تو وہ آسانی سے برداشت ہو سکیں۔ ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لیے کیا اجر و ثواب ہے۔ ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلا و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔
البقرة 2:158
بے شک صفا اور مروہ، اللہ کی (عظمت کی) نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ کرے تو نہیں کوئی گناہ اس پر یہ کہ طو اف کرے وہ ان دونوں کااور جو شخص خوشی سے کوئی نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ قدردان، جاننے والا ہے(158)
[158] اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ ﴾ ’’بے شک صفا اور مروہ‘‘ یعنی صفا اورمروہ دو معروف پہاڑیاں ﴿ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے دین کی ظاہری علامتیں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبدیت کو جانچتا ہے، اور جب صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کے شعائر میں شمار ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے شعائر کی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ ﴾(الحج : 22؍32) ’’اور جو کوئی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ فعل دلوں کا تقویٰ ہے۔‘‘ دونوں نصوص مجموعی طور پر اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرنا دلوں کا تقویٰ ہے اور تقویٰ ہر مکلف پر فرض ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صفا و مروہ کی سعی (دونوں پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا) فرض اور حج و عمرہ کا لازمی رکن ہے۔ جیسا کہ جمہور فقہاء کا مسلک ہے اور رسول اللہﷺکی احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ آپ نے خود بھی یہ کام کیا اور فرمایا :’خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ‘ ’’اپنے مناسک حج مجھ سے اخذ کرو۔‘‘(صحیح مسلم، الحج، باب استحباب رمي جمرۃ العقبۃ ……الخ، حديث:1297، و سنن البيھقی الکبری:5؍125)﴿ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَيۡتَ اَوِاعۡتَمَرَ فَلَاجُنَاحَ عَلَيۡهِ اَنۡ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ﴾ ’’پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے‘‘ چونکہ جاہلیت کے زمانے میں صفا اور مروہ پر بت نصب تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اس لیے وہم دور کرنے اور مسلمانوں کے رفع حرج کے لیے فرمایا کہ ان کے طواف میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو رفع کرنے کے لیے گناہ کی نفی کی ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان کے مابین سعی لازم نہیں۔ نیز حج اور عمرہ میں ان کی سعی میں بطور خاص گناہ کی نفی، اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ حج یا عمرہ کے بغیر صرف ان کی سعی کرنا جائز نہیں۔ بخلاف طواف بیت اللہ کے۔ کیونکہ وہ حج اور عمرہ کے ساتھ بھی مشروع ہے اور طواف ایک مستقل عبادت بھی ہے (یعنی حج اور عمرے کے بغیر بھی طواف جائز ہے) لیکن صفا اور مروہ کے مابین سعی، عرفہ اور مزدلفہ میں وقوف اور رمی جمار یہ تمام افعال دیگر مناسک حج کے ساتھ کیے جاتے ہیں اگر یہ افعال دیگر مناسک حج کے ساتھ نہ کیے جائیں بلکہ اکیلے کیے جائیں تو یہ بدعت ہوں گے، اس لیے کہ بدعت کی دو اقسام ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی کسی ایسے طریقے سے عبادت کرنا جو اصل میں اس نے مشروع نہیں کی۔ (۲) بدعت کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عبادت ایک خاص طریقے پر مشروع کی ہے اور اس کو کسی مختلف طریقے سے کیا جائے۔ مذکورہ بدعات اسی دوسری قسم سے ہوں گی۔ ﴿ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا ﴾ ’’اور جو کوئی نیک کام کرے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ نیکی کا کام کرتا ہے، جیسے حج، عمرہ، طواف، نماز اور روزہ وغیرہ نیکی کے کام تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ بندۂ مومن جتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے کمال، اس کی بھلائیوں اور اس کے درجات میں، اس کے ایمان میں اضافے کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے۔ اور نیکیوں میں بھلائی کی قید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نیکی کے طور پر بدعات پر عمل کرتا ہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے مشروع نہیں کیا، اسے محض مشقت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ یہ اس کے لیے خیر نہیں۔ بلکہ اگر بدعات کا مرتکب ان کی عدم مشروعیت کا علم رکھتے ہوئے جان بوجھ کر اس پر عمل کرتا ہے تو بسا اوقات یہ اس کے لیے شر بن جاتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيۡمٌ ﴾(اَلشَّاکِرُ) اور (اَلشَّکُوْرُ) اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ اَلشَّاکِرُ اور اَلشَّکُوْرُ اس ہستی کو کہتے ہیں جو بندوں کے تھوڑے عمل کو بھی قبول کر لیتی ہے اور اس پر بہت بڑا اجر عطا کرتی ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لاتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے تو وہ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے اس کی مدح و ثنا کرتا ہے اور اسے یہ بدلہ دیتا ہے کہ وہ اس کے قلب کو نور اور ایمان سے لبریز کر دیتا ہے۔ اور اس کے بدن میں قوت و نشاط، اس کے احوال میں برکت اور نشوونما اور اس کے اعمال میں مزید توفیق عطا کرتا ہے۔ پھر یہ بندۂ مومن آخرت میں جب رب کے پاس حاضر ہو گا تو وہاں اسے وافر اور کامل ثواب ملے گا، مذکورہ دنیاوی جزائیں اس کے اخروی ثواب میں کمی نہیں کریں گی۔ اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے کے لیے قدر دانی یہ ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ایک بالشت قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، جو ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر اس کے قریب ہوتا ہے، جو چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے اللہ تعالیٰ بھاگ کر اس کی طرف بڑھتا ہے، جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کئی گنا منافع سے اسے نوازتا ہے۔ اور باوجود اس بات کے کہ وہ بندوں کے اعمال کا قدر دان ہے، وہ یہ بات بھی خوب جانتا ہے کہ کون اپنی نیت، ایمان اور تقویٰ کے مطابق کامل ثواب کا مستحق ہے اور کون اس ثواب کا حق دار نہیں۔ وہ بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے، پس وہ ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی نیتوں کے مطابق، جن کو اللہ علیم و حکیم جانتا ہے، ان عملوں کا ثواب پائیں گے۔
البقرة 2:159
بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)
[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔
[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ ﴾ ’’بڑا معاف کرنے والا۔‘‘ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفوودرگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کر لیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی، پس انھوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔
[161] رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘، اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہو گی تو حکم ہو گا، علت نہیں ہو گی تو حکم بھی نہیں ہو گا)
[162]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَايُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی‘‘ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی‘‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔
البقرة 2:160
بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)
[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔
[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ ﴾ ’’بڑا معاف کرنے والا۔‘‘ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفوودرگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کر لیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی، پس انھوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔
[161] رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘، اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہو گی تو حکم ہو گا، علت نہیں ہو گی تو حکم بھی نہیں ہو گا)
[162]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَايُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی‘‘ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی‘‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔
البقرة 2:161
بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)
[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔
[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ ﴾ ’’بڑا معاف کرنے والا۔‘‘ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفوودرگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کر لیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی، پس انھوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔
[161] رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘، اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہو گی تو حکم ہو گا، علت نہیں ہو گی تو حکم بھی نہیں ہو گا)
[162]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَايُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی‘‘ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی‘‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔
البقرة 2:162
بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)
[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔
[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ ﴾ ’’بڑا معاف کرنے والا۔‘‘ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفوودرگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کر لیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی، پس انھوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔
[161] رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘، اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہو گی تو حکم ہو گا، علت نہیں ہو گی تو حکم بھی نہیں ہو گا)
[162]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَايُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی‘‘ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی‘‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔
البقرة 2:163
اور معبود تمھارا، معبود ایک ہی ہے، نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، نہایت مہربان بڑا رحم کرنے والا(163)
[163] اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے، فرماتا ہے، وہ ﴿ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’ایک ہی اِلہٰ ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں اکیلا اور متفرد ہے۔ پس اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی ہم نام اور نہ ہمسر، نہ اس کی کوئی مثال اور نہ اس کی کوئی نظیر ہے۔ اس کے سوا کوئی کائنات کو پیدا کرنے والا ہے اور نہ اس کی تدبیر کرنے والا۔ جب حقیقت حال یہ ہے تو اس بات کا صرف وہی مستحق ہے کہ ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے ہو اور اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ﴿ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ﴾ کیونکہ وہ رحمان و رحیم ہے یعنی وہ بے پایاں رحمت سے متصف ہے کسی اور کی رحمت اس سے مماثلت نہیں رکھتی۔ اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی رحمت ہر زندہ چیز کے لیے عام ہے۔ اس کی رحمت ہی کے باعث تمام کائنات وجود میں آئی۔ اس کی رحمت ہی کی وجہ سے تمام مخلوقات کو تمام کمالات حاصل ہوئے۔ اس کی رحمت ہی کی بنا پر ان سے ہر قسم کی ناراضی دور ہوئی۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس کے بندوں نے اس کی صفات اور اس کی نعمتوں کے ساتھ اسے پہچان لیا اور اس نے اپنے رسول بھیج کر اور اپنی کتابیں نازل کر کے دین و دنیا کے تمام مصالح جن کے وہ محتاج تھے، ان پر واضح کر دیے۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، نیز یہ کہ مخلوق میں سے کوئی شخص دوسرے کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ہر قسم کی عبادت کا صرف وہی مستحق ہے اور صرف وہی ہے جو محبت، خوف و رجا، تعظیم و توکل اور دیگر ہر قسم کی اطاعت کا مستحق ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑھ کر برائی یہ ہے کہ اس کی عبادت سے منہ موڑ کر اس کے بندوں کی عبادت کی جائے۔ مٹی سے پیدا کی گئی مخلوق کو رب ارباب کا شریک ٹھہرایا جائے۔ یا تدبیر میں محتاج اور ہر لحاظ سے عاجز مخلوق کی اس خالق کائنات کے ساتھ عبادت کی جائے جو تدبیر کنندہ، قادر اور طاقت ور ہے، جو ہر چیز پر غالب ہے اور ہر چیز اس کی مطیع ہے۔اس آیت کریمہ میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کا اثبات ہے اور اس بات کا بھی کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی الوہیت کا مستحق نہیں اور اس توحید الوہیت پر اصل دلیل کا بیان ہے اور وہ اس کی رحمت کا اثبات ہے جس کے آثار میں سے تمام نعمتوں کا وجود اور تمام مصائب کا دور ہونا ہے۔ پس یہ اس کی وحدانیت کی ایک اجمالی دلیل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس کے تفصیلی دلائل ذکر فرماتا ہے۔ فرمایا:
البقرة 2:164
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور ان کشتیوں میں جو چلتی ہیں سمندر میں ساتھ ان چیزوں کے جو نفع دیتی ہیں لوگوں کواور (اس میں) جو نازل کیا ہے اللہ نے آسمان سے پانی، پس زندہ کیا اس نے ساتھ اس کے زمین کو، بعد اس کی موت کےاور (جو) پھیلائے اس نے اس میں ہر قسم کے جانوراور پھیرنے میں ہواؤں کے اور ان بادلوں میں جو پابند کر دیے گئے ہیں درمیان آسمان اور زمین کے، یقیناً (ان سب میں) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(164)
[164] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان عظیم مخلوقات میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت، اس کی عظیم قدرت، رحمت اور اس کی تمام صفات کے دلائل ہیں۔ لیکن یہ تمام دلائل صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان امور میں اپنی عقل استعمال کرتے ہیں جن کے لیے عقل پیدا کی گئی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو جتنی عقل سے نوازا ہے وہ اتنا ہی آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی عقل اور تفکر و تدبر سے ان آیات کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ پس ﴿ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰؔوٰؔتِ ﴾ ’’آسمانوں کے پیدا کرنے میں۔‘‘ یعنی آسمانوں کی بلندی، ان کی وسعت، ان کے محکم اور مضبوط ہونے میں، نیز ان آسمانوں میں سورج، چاند اور ستاروں کی تخلیق اور بندوں کے مصالح کے لیے ان کی منظم گردش میں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور زمین میں‘‘ یعنی مخلوق کے لیے فرش کے طور پر زمین کو پیدا کیا تاکہ وہ اس پر ٹھہر سکیں اور زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس سے استفادہ کریں، نیز اس سے عبرت حاصل کریں کہ تخلیق اور تدبیر کائنات میں اللہ تعالیٰ ایک اور متفرد ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا بیان ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو تخلیق کیا اور اس کی حکمت کا، جس کی بنا پر اس نے زمین کو محکم، حسین اور موزوں بنایا اور اس کی رحمت اور علم کا، جن کی بنا پر اس نے زمین کے اندر مخلوقات کے فائدے کی اشیاء اور ان کی حاجات و ضروریات ودیعت کیں اور اس میں اس کے کمال اور اس کے واحد لائق عبادت ہونے پر سب سے زیادہ مؤثر دلیل ہے، کیونکہ کائنات کی پیدائش اور اس کی تدبیر اور تمام بندوں کے معاملات کا انتظام کرنے میں وہ متفرد ہے (اس لیے عبادت کا تمام تر مستحق بھی صرف وہی ہے نہ کہ کوئی اور، جن کا کوئی حصہ پیدائش میں ہے نہ تدبیر میں اور نہ بندوں کے معاملات کے انتظام میں۔)﴿ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں۔‘‘ یعنی رات اور دن کا دائمی طور پر ایک دوسرے کے تعاقب میں رہنا۔ جب ان میں سے ایک گزر جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے پیچھے آتا ہے ۔ گرمی، سردی اور معتدل موسم میں، دنوں کا لمبا اور چھوٹا اور متوسط ہونا اور ان کی وجہ سے موسموں میں تغیر و تبدل کا ہونا۔ جن کے ذریعے سے تمام بنی آدم، حیوانات اور روئے زمین کی تمام نباتات کا انتظام ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے انتظام، تدبیر اور تسخیر کے تحت ہو رہا ہے جسے دیکھ کر عقلیں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں اور بڑے بڑے عقل مند لوگ اس کے ادراک سے عاجز ہیں۔ یہ چیز اس کائنات کی تدبیر کرنے والے کی قدرت، علم و حکمت رحمت واسعہ، لطف و کرم، اس کی اس تدبیر و تصرف، جس میں وہ اکیلا ہے، اس کی عظمت، اقتدار اور غلبہ پر دلالت کرتی ہے اور یہ اس بات کی موجب ہے کہ اس کو اِلٰہ مانا جائے اور اس کی عبادت کی جائے، صرف اسی سے محبت کی جائے، اسی کی تعظیم کی جائے، اسی سے ڈرا جائے، اسی سے امید رکھی جائے اور اس کے محبوب اور پسندیدہ اعمال میں جدوجہد کی جائے۔ ﴿ وَالۡفُلۡكِ الَّتِيۡ تَجۡرِيۡ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں چلتی ہیں‘‘ اس آیت کریمہ میں (فُلْک) سے مراد جہاز اور کشتیاں وغیرہ ہیں جن کی صنعت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں الہام کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے داخلی اور خارجی آلات تخلیق کیے اور ان کے استعمال پر انھیں قدرت عطا کی۔ پھر اس نے اس بحر بے کراں اور ہواؤں کو ان کے لیے مسخر کر دیا جو سمندروں میں اموال تجارت سمیت کشتیوں کو لیے پھرتی ہیں جن میں لوگوں کے لیے منفعت اور ان کی معاش کے انتظامات اور مصلحتیں ہیں۔ وہ کون ہے جس نے ان کشتیوں کی صنعت انھیں الہام کی اور ان کے استعمال پر انھیں قدرت عطا کی اور ان کے لیے وہ آلات پیدا کیے جن سے وہ کام لیتے ہیں؟ وہ کون ہے جس نے کشتیوں کے لیے بے پایاں سمندر کو مسخر کیا جس کے اندر یہ کشتیاں اللہ کے حکم اور اس کی تسخیر سے چلتی ہیں؟ اور وہ کون ہے جس نے ہواؤں کو مسخر کیا؟ وہ کون ہستی ہے جس نے بری اور بحری سفر کی سواریوں کے لیے آگ اور وہ معدنیات پیدا کیں جن کی مدد سے وہ سواریاں (فضاؤں اور سمندروں میں) چلتی اور ان کے مال و اسباب بھی اٹھائے پھرتی ہیں؟ کیا یہ تمام امور اتفاقاً حاصل ہو گئے یا یہ کمزور، عاجز مخلوق انھیں وجود میں لائی ہے۔ جو اپنی ماں کے پیٹ سے جب باہر آئی تو اسے علم تھا نہ قدرت؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے قدرت عطا کی ،پھر اسے ہر اس چیز کی تعلیم دی جس کی تعلیم دینا وہ چاہتا تھا۔ یا ان تمام چیزوں کو مسخر کرنے والا ایک اللہ ہی ہے جو حکمت اور علم والا ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام اشیاء اس کی ربوبیت کے سامنے سرنگوں، اس کی عظمت کے سامنے عاجز اور اس کے جبروت کے سامنے سرافگندہ ہیں۔ اور نحیف و نزار بندے کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان اسباب میں سے ایک سبب بنایا ہے جن کے ذریعے سے یہ بڑے بڑے کام سرانجام پاتے ہیں، پس یہ چیز اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور اس کی عنایت پر دلالت کرتی ہے۔ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ تمام تر محبت، خوف، امید، ہر قسم کی اطاعت، تذلل، انکساری اور تعظیم صرف اسی کی ذات کے لیے ہو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّؔآءٍ ﴾ ’’اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے پانی اتارا‘‘ اس سے مراد وہ بارش ہے جو بادل سے برستی ہے ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’پس اس کے ذریعے سے اس نے زمین کو مردہ ہو جانے کے بعد، زندہ کر دیا‘‘ پس زمین نے مختلف قسم کی خوراک اور نباتات ظاہر کیں۔ جو مخلوق کی ضروریات زندگی میں شمار ہوتی ہیں، جن کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ کیا یہ اس ذات کی قدرت و اختیار کی دلیل نہیں جس نے یہ پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے زمین سے مختلف چیزیں پیدا کیں؟ کیا یہ اپنے بندوں پر اس کی رحمت اور اس کا لطف و کرم اور اپنے بندوں کے مصالح کا انتظام نہیں؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ بندے ہر لحاظ سے اس کے سخت محتاج ہیں؟ کیا یہ چیز واجب نہیں کرتی کہ ان کا معبود اور ان کا الہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہو؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا؟ ﴿ وَبَثَّ فِيۡهَا ﴾ ’’اور پھیلائے اس میں‘‘ یعنی زمین کے اندر ﴿ مِنۡ كُلِّ دَآ بَّةٍ ﴾ ’’ہر قسم کے جانور‘‘ یعنی زمین کے چاروں طرف مختلف اقسام کے جانور پھیلائے، جو اس کی قدرت، عظمت، وحدانیت اور اس کے غلبے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو انسانوں کے لیے مسخر کر دیا جن سے وہ ہر پہلو سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پس وہ ان میں سے بعض جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں اور بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ بعض جانوروں پر سواری کرتے ہیں، بعض جانور ان کے دیگر مصالح اور چوکیداری کے کام آتے ہیں۔ بعض جانوروں سے عبرت پکڑی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے ہیں۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتا ہے اور وہی ان کی خوراک کا کفیل ہے۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا ﴾(ھود : 11؍6) ’’زمین کے اندر پھرنے والا کوئی جانور نہیں مگر یہ کہ اللہ کے ذمے اس کا رزق ہے وہ اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور جہاں اسے سونپا جاتا ہے۔‘‘ ﴿ وَّتَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ ﴾ ’’اور ہواؤں کے پھیرنے میں‘‘ یعنی ٹھنڈی، گرم، شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً اور ان کے درمیان ہواؤں کا چلنا، کبھی تو یہ ہوائیں بادل اٹھاتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو باردار کرتی ہیں، کبھی یہ بادل برساتی ہیں، کبھی یہ بادلوں کو پھاڑکر انھیں تتر بتر کرتی ہیں، کبھی اس کے ضرر کو زائل کرتی ہیں، کبھی یہ ہوائیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں اور کبھی ان ہواؤں کو عذاب کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ کون ہے وہ جو ان ہواؤں کو اس طرح پھیرتا ہے؟ کون ہے جس نے ان ہواؤں میں بندوں کے لیے مختلف منافع ودیعت کیے ہیں جن سے وہ بے نیاز نہیں ہو سکتے؟ اور ان ہواؤں کو مسخر کر دیا جن میں تمام جاندار اشیاء زندہ رہ سکیں اور بدنوں، درختوں، غلہ جات اور نباتات کی اصلاح ہو؟ یہ سب کچھ کرنے والا صرف وہ اللہ ہے جو غالب، حکیم اور نہایت مہربان ہے، اپنے بندوں پر لطف و کرم کرنے والا ہے، جو اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے سامنے تذلل اور عاجزی کا اظہار کیا جائے، اسی سے محبت، اسی کی عبادت اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔ آسمان اور زمین کے درمیان بادل اپنے ہلکے اور لطیف ہونے کے باوجود بہت زیادہ پانی کو اٹھائے پھرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے اس بادل کو لے جاتا ہے پھر وہ اس پانی کے ذریعے سے زمین اور بندوں کو زندگی عطا کرتا اور ٹیلوں اور ہموار زمین کو سیراب کرتا ہے اور مخلوق پر اسی وقت بارش برساتا ہے جس وقت اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ جب بارش کی کثرت انھیں نقصان پہنچانے لگتی ہے تو وہ اسے روک لیتا ہے۔ وہ بندوں پر لطف و کرم کے طور پر بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت اور شفقت سے بارش کو ان سے روک لیتا ہے۔ اس کا غلبہ کتنا بڑا، اس کی بھلائی کتنی عظیم اور اس کا احسان کتنا لطیف ہے!!۔ کیا یہ بندوں کے حق میں برائی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کے احسان کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہیں، پھر وہ ان تمام چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کی معصیت پر مدد لیتے ہیں؟ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے حلم و صبر، عفو و درگزر اور اس کے عظیم لطف و کرم کی دلیل نہیں؟ پس اول و آخر اور ظاہرو باطن اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عقل مند شخص جب بھی ان مخلوقات میں غور و فکر اور انوکھی چیزوں میں سوچ بچار کرے گا، اور اللہ کی کاریگری میں اور اس میں جو اس نے احسان اور حکمت کے لطائف رکھے ہیں، ان میں جتنا زیادہ غوروفکر کرے گا۔ تو اسے معلوم ہو گا کہ یہ کائنات اس نے حق کے لیے اور حق کے ساتھ تخلیق کی ہے، نیز یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ذات، وحدانیت اور یوم آخرت کے نشانات اور دلائل ہیں، جس کے بارے میں اس نے اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور یہ کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے مسخر ہے، وہ اپنے تدبیر اور تصرف کرنے والے کے سامنے کوئی تدبیر اور نافرمانی نہیں کر سکتی۔ پس تجھے بھی معلوم ہو جائے گا کہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی اسی کے محتاج اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور وہ بالذات تمام کائنات سے بے نیاز اور مستغنی ہے پس اس کے سوا کوئی الہ نہیں اور اس کے سوا کوئی رب نہیں۔
البقرة 2:165
اور بعض لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے سوا، (دوسروں کو) شریک، وہ محبت کرتے ہیں ان سے جیسے محبت (کرنی چاہیے) اللہ سےاور وہ لوگ جو ایمان لائے، زیادہ سخت ہیں محبت کرنے میں اللہ سےاور اگر (دنیا میں) دیکھ لیں ظالم لوگ (اس وقت کو) جب وہ دیکھیں گے عذاب، (تو جان لیں یہ کہ) بے شک قوت اللہ ہی کے لیے ہے سب، اور یہ کہ اللہ شدید عذاب والا ہے(165) جب بیزار ہو جائیں گے وہ لوگ، جن کی پیروی کی گئی، ان سے جنھوں نے پیروی کی تھی جبکہ دیکھیں گے وہ عذاب اور منقطع ہو جائیں گے ان کے تعلقات(166) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیاتھا، کاش کہ ہو واسطے ہمارے ایک بار واپسی (دنیا میں) تو بے زار ہو جائیں گے ہم بھی ان سے جس طرح وہ بیزار ہو گئے ہیں ہم سے، اسی طرح دکھلائے گا ان کو اللہ ان کے عمل حسرتیں بنا کر اوپر ان کے اور نہیں وہ نکلنے والے آگ سے(167)
[167-166-165] یہ آیت کریمہ (مضمون کے اعتبار سے) کتنے خوبصورت طریقے سے پچھلی آیت سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور اس کے قطعی دلائل و براہین بیان کیے جو علم یقینی عطا کرتے اور ہر قسم کے شک و شبہ کو زائل کر دیتے ہیں۔ تو یہاں اس نے ذکر فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک ٹھہرا لیتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور مثیل، جنھیں وہ عبادت، محبت، تعظیم اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اور حجت قائم کرنے اور توحید بیان کرنے کے بعد بھی جو شخص اس حالت پر رہنے پر مصر ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عناد رکھنے والا، اس کا مخالف ہے یا اس کی آیات و مخلوقات میں تدبر و تفکر سے روگردانی کرنے والا ہے اور اس بارے میں اس کے پاس ادنیٰ سا عذر بھی نہیں۔ بلکہ عذاب کا کلمہ اس پر ثابت ہو گیا ہے۔ اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے ہمسر بناتے ہیں وہ تخلیق، رزق اور تدبیر میں ان کو اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار نہیں دیتے بلکہ وہ صرف عبادت میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ پس وہ ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ يَّؔتَّؔخِذُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں۔ اہل شرک نے بعض مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کا جو ہمسر قرار دے رکھا ہے۔ وہ صرف نام ہی نام ہے، لفظ کے اعتبار سے ان کا کوئی معنی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ١ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ﴾(الرعد : 13؍33) ’’اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ان سے کہو ذرا ان معبودوں کے نام تو لو کیا تم اسے ان چیزوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہو جنھیں وہ زمین کے اندر نہیں جانتا (یعنی زمین میں ان کا وجود ہی نہیں) یا محض ظاہری بات کی تقلید کرتے ہو۔‘‘ فرمایا: ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(النجم : 53؍23) ’’یہ تو محض نام ہی ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباؤ اجداد نے گھڑ رکھا ہے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ پس مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہمسر نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق اور اس کے علاوہ سب اس کی مخلوق ہے، رب تعالیٰ رازق ہے اور اس کے علاوہ تمام مخلوق مرزوق ہے، اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے اور بندے ہر لحاظ اور ہر پہلو سے ناقص ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور مخلوق کو نفع و نقصان اور کسی چیز کا بھی اختیار نہیں۔ لہٰذا اس شخص کے قول کا بطلان یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور معبود ٹھہراتا ہے، یہ غیر اللہ خواہ فرشتہ ہو یا نبی ہو، خواہ کوئی صالح بزرگ یا کوئی بت ہو یا ان کے علاوہ کوئی اور، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی محبت کامل اور تذلل تام کی مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اور جو اہل ایمان ہیں وہ تو اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی اہل شرک اپنے معبودوں سے جتنی محبت کرتے ہیں اس سے بڑھ کر اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ ان کی محبت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اہل شرک اپنے معبودوں کی محبت میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اہل ایمان صرف اسی سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا حقیقی مستحق ہے، جس کی محبت میں بندے کی عین صلاح، سعادت اور فوز و فلاح ہے۔ جبکہ اہل شرک ان ہستیوں سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا کچھ استحقاق نہیں رکھتے، ان کی محبت میں بندے کی عین بدبختی، اس کا فساد اور اس کے معاملات کا بکھرناہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا ﴾ ’’اگر دیکھ لیں وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی جنھوں نے غیر اللہ کو ہمسر بنا کر اور بندوں کے رب کے سوا دوسروں کی اطاعت کر کے ظلم کیا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر اور انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے ظلم کیا۔ ﴿ اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ﴾ ’’جب وہ عذاب دیکھیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے عیاں طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں گے ﴿ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہر طرح کی قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس وقت انھیں یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا کہ تمام قوت و قدرت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انھوں نے جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں۔ تب اس روز ان کے سامنے ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی کمزوری اور بے بسی ظاہر ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہو گا جیسے اس دنیا میں ان کا معاملہ مشتبہ ہے اور اہل شرک یہ سمجھتے ہیں کہ ان معبودوں کے پاس بھی اختیار ہے اور یہ معبود انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور اس کے پاس پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ پس وہ اپنے ظن اور گمان میں خائب و خاسر ہوئے اور ان کی تمام بھاگ دوڑ باطل گئی اور ان کے لیے سخت عذاب واجب ہو گیا۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے یہ ہمسر ان سے عذاب کو روک نہیں سکیں گے اور نہ ذرہ بھر ان کے کوئی کام آ سکیں گے بلکہ ان معبودوں سے ان کو کسی فائدے کی بجائے نقصان پہنچے گا۔ اور راہ نما اپنے پیروکاروں سے براء ت کا اظہار کریں گے اور وہ تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں ان کے مابین تھے۔ کیونکہ یہ تعلقات غیر اللہ کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھے، ان کا تعلق باطل کے ساتھ تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی اس لیے ان کے تمام اعمال مضمحل اور ان کے تمام احوال نابود ہو جائیں گے اور ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور ان کے وہ اعمال جن کے نفع مند اور نتیجہ خیز ہونے کی انھیں امید تھی، ان کے لیے حسرت اور ندامت میں بدل جائیں گے۔ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔پس اس خسارے کے بعد بھی کوئی اور خسارہ ہے؟ یہ اس لیے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی، انھوں نے ان سے امیدیں رکھیں جن پر امید نہیں رکھی جانی چاہیے تھی اور ان سے تعلق قائم کیا جن سے تعلق قائم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ پس جب وہی باطل ثابت ہوا، جن سے انھوں نے تعلق جوڑا، تو ان کے اعمال بھی باطل ہو گئے اور جب ان کے اعمال باطل ہو گئے تو اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کی بنا پر حسرت میں پڑ گئے، پس ان کے اعمال نے انھیں سخت نقصان پہنچایا۔ اور یہ اس شخص کے حال کے برعکس ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے، جو بادشاہ حقیقی اور واضح کرنے والا ہے، ناطہ جوڑا۔ اسی کے لیے اپنے عمل کو خالص کیا اور اس عمل پر نفع کی امید رکھی۔ پس یہی وہ شخص ہے جس نے حق کو اس کے مقام پر رکھا، اس کے اعمال بھی حق ثابت ہوئے، کیونکہ اس نے حق کے ساتھ تعلق جوڑا تھا اور اپنے اعمال کے نتیجے میں کامیاب ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کابدلہ پائے گا، جو کبھی منقطع نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ۰۰ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَؔمَّؔدٍ وَّهُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ۙ كَفَّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ۰۰ ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ﴾(محمد : 47؍1-3) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمد(ﷺ) پر نازل کی گئی اور وہ (کتاب) ان کے رب کی طرف سے برحق ہے، اللہ ان کے گناہ مٹا دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے، انھوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی، اللہ اسی طرح لوگوں کے سامنے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘ اور اس وقت (غلط کاروں کی) پیروی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دنیا میں لوٹایا جائے تو وہ بھی اپنے لیڈروں اور راہنماؤں سے بایں طور براءت کا اظہار کر دیں کہ شرک چھوڑ دیں گے اور صرف اللہ کے لیے عمل کریں گے، یہ بہت دور اور ناممکن ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، اب یہ مہلت دینے کا وقت نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اگر انھیں دنیا میں بھیج بھی دیا گیا تو وہ وہی کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے۔ یہ تو محض ان کے منہ کی بات ہے اور یہ تو محض ان کی تمنائیں ہیں چونکہ ان کے راہنماؤں نے ان سے براءت کا اظہار کیا ہے اس لیے وہ ان پر شدید غصے کی بنا پر اس تمنا کا اظہار کر رہے ہیں، ورنہ گناہ تو خود انھی کا ہے۔ پس بدی کے میدان میں تمام راہنماؤں کا راہنما تو شیطان ہے، اس کے باوجود وہ اپنے پیروکاروں سے کہے گا:﴿ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍22) ’’جب یہ معاملہ پورا ہو چکے گا (تو شیطان کہے گا) اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تمھارے ساتھ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور مجھے تم پر کسی قسم کا اختیار نہ تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں (بدی کی طرف) دعوت دی اور تم نے قبول کر لی۔ پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔‘‘
البقرة 2:166
اور بعض لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے سوا، (دوسروں کو) شریک، وہ محبت کرتے ہیں ان سے جیسے محبت (کرنی چاہیے) اللہ سےاور وہ لوگ جو ایمان لائے، زیادہ سخت ہیں محبت کرنے میں اللہ سےاور اگر (دنیا میں) دیکھ لیں ظالم لوگ (اس وقت کو) جب وہ دیکھیں گے عذاب، (تو جان لیں یہ کہ) بے شک قوت اللہ ہی کے لیے ہے سب، اور یہ کہ اللہ شدید عذاب والا ہے(165) جب بیزار ہو جائیں گے وہ لوگ، جن کی پیروی کی گئی، ان سے جنھوں نے پیروی کی تھی جبکہ دیکھیں گے وہ عذاب اور منقطع ہو جائیں گے ان کے تعلقات(166) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیاتھا، کاش کہ ہو واسطے ہمارے ایک بار واپسی (دنیا میں) تو بے زار ہو جائیں گے ہم بھی ان سے جس طرح وہ بیزار ہو گئے ہیں ہم سے، اسی طرح دکھلائے گا ان کو اللہ ان کے عمل حسرتیں بنا کر اوپر ان کے اور نہیں وہ نکلنے والے آگ سے(167)
[167-166-165] یہ آیت کریمہ (مضمون کے اعتبار سے) کتنے خوبصورت طریقے سے پچھلی آیت سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور اس کے قطعی دلائل و براہین بیان کیے جو علم یقینی عطا کرتے اور ہر قسم کے شک و شبہ کو زائل کر دیتے ہیں۔ تو یہاں اس نے ذکر فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک ٹھہرا لیتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور مثیل، جنھیں وہ عبادت، محبت، تعظیم اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اور حجت قائم کرنے اور توحید بیان کرنے کے بعد بھی جو شخص اس حالت پر رہنے پر مصر ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عناد رکھنے والا، اس کا مخالف ہے یا اس کی آیات و مخلوقات میں تدبر و تفکر سے روگردانی کرنے والا ہے اور اس بارے میں اس کے پاس ادنیٰ سا عذر بھی نہیں۔ بلکہ عذاب کا کلمہ اس پر ثابت ہو گیا ہے۔ اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے ہمسر بناتے ہیں وہ تخلیق، رزق اور تدبیر میں ان کو اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار نہیں دیتے بلکہ وہ صرف عبادت میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ پس وہ ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ يَّؔتَّؔخِذُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں۔ اہل شرک نے بعض مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کا جو ہمسر قرار دے رکھا ہے۔ وہ صرف نام ہی نام ہے، لفظ کے اعتبار سے ان کا کوئی معنی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ١ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ﴾(الرعد : 13؍33) ’’اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ان سے کہو ذرا ان معبودوں کے نام تو لو کیا تم اسے ان چیزوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہو جنھیں وہ زمین کے اندر نہیں جانتا (یعنی زمین میں ان کا وجود ہی نہیں) یا محض ظاہری بات کی تقلید کرتے ہو۔‘‘ فرمایا: ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(النجم : 53؍23) ’’یہ تو محض نام ہی ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباؤ اجداد نے گھڑ رکھا ہے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ پس مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہمسر نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق اور اس کے علاوہ سب اس کی مخلوق ہے، رب تعالیٰ رازق ہے اور اس کے علاوہ تمام مخلوق مرزوق ہے، اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے اور بندے ہر لحاظ اور ہر پہلو سے ناقص ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور مخلوق کو نفع و نقصان اور کسی چیز کا بھی اختیار نہیں۔ لہٰذا اس شخص کے قول کا بطلان یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور معبود ٹھہراتا ہے، یہ غیر اللہ خواہ فرشتہ ہو یا نبی ہو، خواہ کوئی صالح بزرگ یا کوئی بت ہو یا ان کے علاوہ کوئی اور، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی محبت کامل اور تذلل تام کی مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اور جو اہل ایمان ہیں وہ تو اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی اہل شرک اپنے معبودوں سے جتنی محبت کرتے ہیں اس سے بڑھ کر اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ ان کی محبت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اہل شرک اپنے معبودوں کی محبت میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اہل ایمان صرف اسی سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا حقیقی مستحق ہے، جس کی محبت میں بندے کی عین صلاح، سعادت اور فوز و فلاح ہے۔ جبکہ اہل شرک ان ہستیوں سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا کچھ استحقاق نہیں رکھتے، ان کی محبت میں بندے کی عین بدبختی، اس کا فساد اور اس کے معاملات کا بکھرناہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا ﴾ ’’اگر دیکھ لیں وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی جنھوں نے غیر اللہ کو ہمسر بنا کر اور بندوں کے رب کے سوا دوسروں کی اطاعت کر کے ظلم کیا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر اور انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے ظلم کیا۔ ﴿ اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ﴾ ’’جب وہ عذاب دیکھیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے عیاں طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں گے ﴿ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہر طرح کی قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس وقت انھیں یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا کہ تمام قوت و قدرت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انھوں نے جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں۔ تب اس روز ان کے سامنے ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی کمزوری اور بے بسی ظاہر ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہو گا جیسے اس دنیا میں ان کا معاملہ مشتبہ ہے اور اہل شرک یہ سمجھتے ہیں کہ ان معبودوں کے پاس بھی اختیار ہے اور یہ معبود انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور اس کے پاس پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ پس وہ اپنے ظن اور گمان میں خائب و خاسر ہوئے اور ان کی تمام بھاگ دوڑ باطل گئی اور ان کے لیے سخت عذاب واجب ہو گیا۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے یہ ہمسر ان سے عذاب کو روک نہیں سکیں گے اور نہ ذرہ بھر ان کے کوئی کام آ سکیں گے بلکہ ان معبودوں سے ان کو کسی فائدے کی بجائے نقصان پہنچے گا۔ اور راہ نما اپنے پیروکاروں سے براء ت کا اظہار کریں گے اور وہ تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں ان کے مابین تھے۔ کیونکہ یہ تعلقات غیر اللہ کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھے، ان کا تعلق باطل کے ساتھ تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی اس لیے ان کے تمام اعمال مضمحل اور ان کے تمام احوال نابود ہو جائیں گے اور ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور ان کے وہ اعمال جن کے نفع مند اور نتیجہ خیز ہونے کی انھیں امید تھی، ان کے لیے حسرت اور ندامت میں بدل جائیں گے۔ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔پس اس خسارے کے بعد بھی کوئی اور خسارہ ہے؟ یہ اس لیے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی، انھوں نے ان سے امیدیں رکھیں جن پر امید نہیں رکھی جانی چاہیے تھی اور ان سے تعلق قائم کیا جن سے تعلق قائم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ پس جب وہی باطل ثابت ہوا، جن سے انھوں نے تعلق جوڑا، تو ان کے اعمال بھی باطل ہو گئے اور جب ان کے اعمال باطل ہو گئے تو اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کی بنا پر حسرت میں پڑ گئے، پس ان کے اعمال نے انھیں سخت نقصان پہنچایا۔ اور یہ اس شخص کے حال کے برعکس ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے، جو بادشاہ حقیقی اور واضح کرنے والا ہے، ناطہ جوڑا۔ اسی کے لیے اپنے عمل کو خالص کیا اور اس عمل پر نفع کی امید رکھی۔ پس یہی وہ شخص ہے جس نے حق کو اس کے مقام پر رکھا، اس کے اعمال بھی حق ثابت ہوئے، کیونکہ اس نے حق کے ساتھ تعلق جوڑا تھا اور اپنے اعمال کے نتیجے میں کامیاب ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کابدلہ پائے گا، جو کبھی منقطع نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ۰۰ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَؔمَّؔدٍ وَّهُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ۙ كَفَّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ۰۰ ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ﴾(محمد : 47؍1-3) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمد(ﷺ) پر نازل کی گئی اور وہ (کتاب) ان کے رب کی طرف سے برحق ہے، اللہ ان کے گناہ مٹا دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے، انھوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی، اللہ اسی طرح لوگوں کے سامنے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘ اور اس وقت (غلط کاروں کی) پیروی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دنیا میں لوٹایا جائے تو وہ بھی اپنے لیڈروں اور راہنماؤں سے بایں طور براءت کا اظہار کر دیں کہ شرک چھوڑ دیں گے اور صرف اللہ کے لیے عمل کریں گے، یہ بہت دور اور ناممکن ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، اب یہ مہلت دینے کا وقت نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اگر انھیں دنیا میں بھیج بھی دیا گیا تو وہ وہی کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے۔ یہ تو محض ان کے منہ کی بات ہے اور یہ تو محض ان کی تمنائیں ہیں چونکہ ان کے راہنماؤں نے ان سے براءت کا اظہار کیا ہے اس لیے وہ ان پر شدید غصے کی بنا پر اس تمنا کا اظہار کر رہے ہیں، ورنہ گناہ تو خود انھی کا ہے۔ پس بدی کے میدان میں تمام راہنماؤں کا راہنما تو شیطان ہے، اس کے باوجود وہ اپنے پیروکاروں سے کہے گا:﴿ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍22) ’’جب یہ معاملہ پورا ہو چکے گا (تو شیطان کہے گا) اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تمھارے ساتھ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور مجھے تم پر کسی قسم کا اختیار نہ تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں (بدی کی طرف) دعوت دی اور تم نے قبول کر لی۔ پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔‘‘
البقرة 2:167
اور بعض لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے سوا، (دوسروں کو) شریک، وہ محبت کرتے ہیں ان سے جیسے محبت (کرنی چاہیے) اللہ سےاور وہ لوگ جو ایمان لائے، زیادہ سخت ہیں محبت کرنے میں اللہ سےاور اگر (دنیا میں) دیکھ لیں ظالم لوگ (اس وقت کو) جب وہ دیکھیں گے عذاب، (تو جان لیں یہ کہ) بے شک قوت اللہ ہی کے لیے ہے سب، اور یہ کہ اللہ شدید عذاب والا ہے(165) جب بیزار ہو جائیں گے وہ لوگ، جن کی پیروی کی گئی، ان سے جنھوں نے پیروی کی تھی جبکہ دیکھیں گے وہ عذاب اور منقطع ہو جائیں گے ان کے تعلقات(166) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیاتھا، کاش کہ ہو واسطے ہمارے ایک بار واپسی (دنیا میں) تو بے زار ہو جائیں گے ہم بھی ان سے جس طرح وہ بیزار ہو گئے ہیں ہم سے، اسی طرح دکھلائے گا ان کو اللہ ان کے عمل حسرتیں بنا کر اوپر ان کے اور نہیں وہ نکلنے والے آگ سے(167)
[167-166-165] یہ آیت کریمہ (مضمون کے اعتبار سے) کتنے خوبصورت طریقے سے پچھلی آیت سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور اس کے قطعی دلائل و براہین بیان کیے جو علم یقینی عطا کرتے اور ہر قسم کے شک و شبہ کو زائل کر دیتے ہیں۔ تو یہاں اس نے ذکر فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک ٹھہرا لیتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور مثیل، جنھیں وہ عبادت، محبت، تعظیم اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اور حجت قائم کرنے اور توحید بیان کرنے کے بعد بھی جو شخص اس حالت پر رہنے پر مصر ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عناد رکھنے والا، اس کا مخالف ہے یا اس کی آیات و مخلوقات میں تدبر و تفکر سے روگردانی کرنے والا ہے اور اس بارے میں اس کے پاس ادنیٰ سا عذر بھی نہیں۔ بلکہ عذاب کا کلمہ اس پر ثابت ہو گیا ہے۔ اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے ہمسر بناتے ہیں وہ تخلیق، رزق اور تدبیر میں ان کو اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار نہیں دیتے بلکہ وہ صرف عبادت میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ پس وہ ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ يَّؔتَّؔخِذُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں۔ اہل شرک نے بعض مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کا جو ہمسر قرار دے رکھا ہے۔ وہ صرف نام ہی نام ہے، لفظ کے اعتبار سے ان کا کوئی معنی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ١ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ﴾(الرعد : 13؍33) ’’اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ان سے کہو ذرا ان معبودوں کے نام تو لو کیا تم اسے ان چیزوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہو جنھیں وہ زمین کے اندر نہیں جانتا (یعنی زمین میں ان کا وجود ہی نہیں) یا محض ظاہری بات کی تقلید کرتے ہو۔‘‘ فرمایا: ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(النجم : 53؍23) ’’یہ تو محض نام ہی ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباؤ اجداد نے گھڑ رکھا ہے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ پس مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہمسر نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق اور اس کے علاوہ سب اس کی مخلوق ہے، رب تعالیٰ رازق ہے اور اس کے علاوہ تمام مخلوق مرزوق ہے، اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے اور بندے ہر لحاظ اور ہر پہلو سے ناقص ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور مخلوق کو نفع و نقصان اور کسی چیز کا بھی اختیار نہیں۔ لہٰذا اس شخص کے قول کا بطلان یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور معبود ٹھہراتا ہے، یہ غیر اللہ خواہ فرشتہ ہو یا نبی ہو، خواہ کوئی صالح بزرگ یا کوئی بت ہو یا ان کے علاوہ کوئی اور، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی محبت کامل اور تذلل تام کی مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اور جو اہل ایمان ہیں وہ تو اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی اہل شرک اپنے معبودوں سے جتنی محبت کرتے ہیں اس سے بڑھ کر اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ ان کی محبت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اہل شرک اپنے معبودوں کی محبت میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اہل ایمان صرف اسی سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا حقیقی مستحق ہے، جس کی محبت میں بندے کی عین صلاح، سعادت اور فوز و فلاح ہے۔ جبکہ اہل شرک ان ہستیوں سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا کچھ استحقاق نہیں رکھتے، ان کی محبت میں بندے کی عین بدبختی، اس کا فساد اور اس کے معاملات کا بکھرناہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا ﴾ ’’اگر دیکھ لیں وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی جنھوں نے غیر اللہ کو ہمسر بنا کر اور بندوں کے رب کے سوا دوسروں کی اطاعت کر کے ظلم کیا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر اور انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے ظلم کیا۔ ﴿ اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ﴾ ’’جب وہ عذاب دیکھیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے عیاں طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں گے ﴿ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہر طرح کی قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس وقت انھیں یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا کہ تمام قوت و قدرت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انھوں نے جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں۔ تب اس روز ان کے سامنے ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی کمزوری اور بے بسی ظاہر ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہو گا جیسے اس دنیا میں ان کا معاملہ مشتبہ ہے اور اہل شرک یہ سمجھتے ہیں کہ ان معبودوں کے پاس بھی اختیار ہے اور یہ معبود انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور اس کے پاس پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ پس وہ اپنے ظن اور گمان میں خائب و خاسر ہوئے اور ان کی تمام بھاگ دوڑ باطل گئی اور ان کے لیے سخت عذاب واجب ہو گیا۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے یہ ہمسر ان سے عذاب کو روک نہیں سکیں گے اور نہ ذرہ بھر ان کے کوئی کام آ سکیں گے بلکہ ان معبودوں سے ان کو کسی فائدے کی بجائے نقصان پہنچے گا۔ اور راہ نما اپنے پیروکاروں سے براء ت کا اظہار کریں گے اور وہ تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں ان کے مابین تھے۔ کیونکہ یہ تعلقات غیر اللہ کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھے، ان کا تعلق باطل کے ساتھ تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی اس لیے ان کے تمام اعمال مضمحل اور ان کے تمام احوال نابود ہو جائیں گے اور ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور ان کے وہ اعمال جن کے نفع مند اور نتیجہ خیز ہونے کی انھیں امید تھی، ان کے لیے حسرت اور ندامت میں بدل جائیں گے۔ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔پس اس خسارے کے بعد بھی کوئی اور خسارہ ہے؟ یہ اس لیے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی، انھوں نے ان سے امیدیں رکھیں جن پر امید نہیں رکھی جانی چاہیے تھی اور ان سے تعلق قائم کیا جن سے تعلق قائم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ پس جب وہی باطل ثابت ہوا، جن سے انھوں نے تعلق جوڑا، تو ان کے اعمال بھی باطل ہو گئے اور جب ان کے اعمال باطل ہو گئے تو اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کی بنا پر حسرت میں پڑ گئے، پس ان کے اعمال نے انھیں سخت نقصان پہنچایا۔ اور یہ اس شخص کے حال کے برعکس ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے، جو بادشاہ حقیقی اور واضح کرنے والا ہے، ناطہ جوڑا۔ اسی کے لیے اپنے عمل کو خالص کیا اور اس عمل پر نفع کی امید رکھی۔ پس یہی وہ شخص ہے جس نے حق کو اس کے مقام پر رکھا، اس کے اعمال بھی حق ثابت ہوئے، کیونکہ اس نے حق کے ساتھ تعلق جوڑا تھا اور اپنے اعمال کے نتیجے میں کامیاب ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کابدلہ پائے گا، جو کبھی منقطع نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ۰۰ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَؔمَّؔدٍ وَّهُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ۙ كَفَّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ۰۰ ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ﴾(محمد : 47؍1-3) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمد(ﷺ) پر نازل کی گئی اور وہ (کتاب) ان کے رب کی طرف سے برحق ہے، اللہ ان کے گناہ مٹا دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے، انھوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی، اللہ اسی طرح لوگوں کے سامنے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘ اور اس وقت (غلط کاروں کی) پیروی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دنیا میں لوٹایا جائے تو وہ بھی اپنے لیڈروں اور راہنماؤں سے بایں طور براءت کا اظہار کر دیں کہ شرک چھوڑ دیں گے اور صرف اللہ کے لیے عمل کریں گے، یہ بہت دور اور ناممکن ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، اب یہ مہلت دینے کا وقت نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اگر انھیں دنیا میں بھیج بھی دیا گیا تو وہ وہی کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے۔ یہ تو محض ان کے منہ کی بات ہے اور یہ تو محض ان کی تمنائیں ہیں چونکہ ان کے راہنماؤں نے ان سے براءت کا اظہار کیا ہے اس لیے وہ ان پر شدید غصے کی بنا پر اس تمنا کا اظہار کر رہے ہیں، ورنہ گناہ تو خود انھی کا ہے۔ پس بدی کے میدان میں تمام راہنماؤں کا راہنما تو شیطان ہے، اس کے باوجود وہ اپنے پیروکاروں سے کہے گا:﴿ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍22) ’’جب یہ معاملہ پورا ہو چکے گا (تو شیطان کہے گا) اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تمھارے ساتھ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور مجھے تم پر کسی قسم کا اختیار نہ تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں (بدی کی طرف) دعوت دی اور تم نے قبول کر لی۔ پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔‘‘
البقرة 2:168
اے لوگو! کھاؤ تم ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں، حلال پاکیزہ اور نہ پیچھے چلو شیطان کے قدموں کے، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر(168) یقیناً وہ تو حکم دیتا ہے تمھیں برائی اور بے حیائی کا اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں جانتے تم(169) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، پیروی کرو تم اس کی جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں (نہیں)بلکہ پیروی کریں گے ہم تو اس چیز کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (اتباع کریں گے وہ ان کی) اگرچہ تھے باپ دادا ان کے نہ عقل رکھتے اور نہ پاتے وہ ہدایت(170)
[168] یہ خطاب مومن اور کافر تمام لوگوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر احسان فرمایا کہ انھیں اس بات کا حکم دیا کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے اناج، پھل ، میوہ جات اور حیوانات اس حال میں کھائیں ﴿ حَلٰلًا﴾ کہ ان کا کھانا تمھارے لیے حلال ہو، وہ غصب شدہ مال ہو نہ چوری کیا ہوا، نہ حرام معاملے کے ذریعے سے اور نہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور نہ کسی حرام امر پر اس سے مدد لی گئی ہو۔ ﴿ طَيِّبًا﴾ ’’پاکیزہ‘‘ یعنی وہ خبیث اور ناپاک نہ ہو، مثلاً مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور دیگر تمام ناپاک چیزیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، کھانے اور فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے۔ (یعنی ہر چیز اس وقت تک حلال ہے جب تک اس کی حرمت پر دلیل قائم نہ ہو۔) اور محرمات کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) مُحَرَّم لِذَاتِہٖ ۔ یعنی جو بذات خود حرام ہیں اور وہ ناپاک چیزیں ہیں جو پاکیزہ چیزوں کی ضد ہیں۔ (۲) حرام کرنے والے کسی سبب کے پیش آنے کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں، یہ حقوق اللہ یا حقوق العباد کے تعلق کے حوالے سے حرام ہوتی ہیں۔ یہ حلال کی ضد ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ انسان پر کم از کم اتنی خوراک کھانا فرض ہے جس سے اس کا ڈھانچہ کھڑا رہ سکے۔ اس آیت کے ظاہری حکم کے مطابق کھانا ترک کرنا گناہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امور کی اتباع کا حکم دیا جن کو بجا لانے کا اس نے حکم دیا ہے، کیونکہ ان میں ان کی بھلائی ہے، تو پھر ان کو شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے روکا ہے ﴿ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’شیطان کے قدم‘‘ یعنی شیطان کے راستے جن پر چلنے کا وہ حکم دیتا ہے۔ اس سے مراد کفر، فسق، ظلم اور دیگر تمام گناہ ہیں اور اس میں سائبہ اور حام وغیرہ کی تحریم بھی شامل ہے، نیز اس کے اندر تمام حرام ماکولات بھی شامل ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ یعنی شیطان کی عداوت ظاہر ہے۔ وہ تمھیں محض دھوکے سے حکم دیتا ہے تاکہ تم جہنمی بن جاؤ۔ ہمارے پروردگار نے ہمیں صرف شیطان کے نقش قدم پر چلنے ہی سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے یہ خبر بھی دی ہے۔۔۔ اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے۔۔۔ کہ شیطان ہم سے عداوت رکھتا ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تفصیل کے ساتھ آگاہ بھی فرمایا کہ شیطان کن امور کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ شیطان جن امور کا حکم دیتا ہے وہ سب سے زیادہ قباحت کے حامل اور مفاسد میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ چنانچہ فرمایا:
[169]﴿ اِنَّمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِالسُّؔوۡٓءِ ﴾ ’’وہ تمھیں شر کا حکم دیتا ہے‘‘ یعنی ایسے شر کا جو اپنے مرتکب کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ پس تمام معاصی اس میں آ جاتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالۡفَحۡشَآءِ ﴾ خاص کا عطف عام پر، کے باب میں سے ہو گا کیونکہ فواحش بھی معاصی میں شمار ہوتے ہیں جن کی قباحت انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً زنا، شراب نوشی، قتل ناحق، تہمت اور بخل وغیرہ یہ سب ان کاموں میں سے ہیں جن کو ہر عقل مند برا سمجھتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم اللہ پر ایسی باتیں کہو جن کا تمھیں علم نہیں‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر کے بارے میں کسی علم کے بغیر بات کہنا بھی شامل ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو کسی ایسی صفت سے موصوف کرتا ہے جسے خود اس نے یا اس کے رسولﷺنے بیان نہیں کیا یااللہ تعالیٰ کی کسی ایسی صفت کی نفی کرتا ہے جس کو خود اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا کسی ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتا ہے جس کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی کی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم کے بات کرتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر ہے یا بت ہیں جن کی عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور جو کوئی دلیل کے بغیر یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز حلال کی ہے یا فلاں چیز حرام کی ہے یا فلاں کام کا حکم دیا ہے یا فلاں کام سے روکا ہے، تو وہ بھی بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرتا ہے اور جو کوئی بغیر کسی دلیل اور برہان کے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی فلاں صنف فلاں علت کی وجہ سے تخلیق فرمائی ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی ہوئی باتوں میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاویل کرنے والا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسولﷺکے کلام کی ان معانی کے مطابق تاویل کرے جو کسی باطل فرقے کی اصطلاحات میں سے ہو اور پھر یہ کہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ پس بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے جس میں تمام گناہ شامل ہیں اور یہ شیطان کا سب سے بڑا راستہ ہے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہی شیطان اور اس کے لشکروں کے راستے ہیں، جہاں وہ اپنے مکرو فریب کے جال پھیلائے رکھتے ہیں اور جتنا بس چلتا ہے مخلوق کو پھانستے رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ تو عدل و احسان اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور فواحش، منکرات اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ پس بندہ اپنے بارے میں غور کرے کہ وہ ان دو داعیوں میں سے کس داعی اور دو گروہوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے؟ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی پیروی کر رہا ہے جو تیرے لیے بھلائی، دنیاوی اور اخروی سعادت چاہتا ہے، وہ جس کی اطاعت تمام تر فلاح، جس کی خدمت ہر لحاظ سے کامیابی ہے اور ہر قسم کا نفع اس منعم حقیقی کے ساتھ ظاہری اور باطنی نعمتوں پر معاملہ کرنے میں ہے جو صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے اور صرف اسی چیز سے روکتا ہے جو شر ہے۔ یا تو شیطان کے داعی کی پیروی کر رہا ہے جو انسان کا دشمن ہے جو تیرے لیے برائی چاہتا ہے اور جو تجھے دنیا و آخرت میں ہلاک کرنے کے لیے بھرپور کوشش اور جدوجہد میں مصروف ہے، وہ جو تمام تر شر، اس کی اطاعت میں اور ہر قسم کا خسارہ اس کی سرپرستی میں ہے، وہ صرف شر کا حکم دیتا ہے اور صرف اس چیز سے روکتا ہے جو خیر ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کو اس کتاب کی اتباع کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جو اس نے اپنے رسولﷺپر نازل فرمائی ہے جس کی صفت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے تو وہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
[170]﴿ بَلۡ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے آباؤ اجداد کی تقلید پر اکتفا کیا اور انبیاء علیہ السلام پر ایمان لانے سے بے رغبتی اختیار کی۔ باوجود اس بات کے کہ ان کے آباء و اجداد لوگوں میں سب سے زیادہ جاہل اور سب سے زیادہ گمراہ تھے۔ حق کو رد کرنے کا یہ ایک نہایت ہی کمزور شبہ ہے، یہ ان کی حق سے روگردانی اور اس سے اعراض اور ان کے عدم انصاف کی دلیل ہے، اگر رشد و ہدایت اور اچھے مقصد کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی ہوتی تو حق ان کا مقصد ہوتا اور جو کوئی حق کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور وہ حق اور غیر حق کے درمیان موازنہ کرتا ہے تو قطعی طور پر حق اس کے سامنے واضح ہو جاتا ہے اور اگر وہ انصاف پسند ہے تو وہ حق کی اتباع کرتا ہے۔
البقرة 2:169
اے لوگو! کھاؤ تم ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں، حلال پاکیزہ اور نہ پیچھے چلو شیطان کے قدموں کے، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر(168) یقیناً وہ تو حکم دیتا ہے تمھیں برائی اور بے حیائی کا اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں جانتے تم(169) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، پیروی کرو تم اس کی جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں (نہیں)بلکہ پیروی کریں گے ہم تو اس چیز کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (اتباع کریں گے وہ ان کی) اگرچہ تھے باپ دادا ان کے نہ عقل رکھتے اور نہ پاتے وہ ہدایت(170)
[168] یہ خطاب مومن اور کافر تمام لوگوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر احسان فرمایا کہ انھیں اس بات کا حکم دیا کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے اناج، پھل ، میوہ جات اور حیوانات اس حال میں کھائیں ﴿ حَلٰلًا﴾ کہ ان کا کھانا تمھارے لیے حلال ہو، وہ غصب شدہ مال ہو نہ چوری کیا ہوا، نہ حرام معاملے کے ذریعے سے اور نہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور نہ کسی حرام امر پر اس سے مدد لی گئی ہو۔ ﴿ طَيِّبًا﴾ ’’پاکیزہ‘‘ یعنی وہ خبیث اور ناپاک نہ ہو، مثلاً مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور دیگر تمام ناپاک چیزیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، کھانے اور فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے۔ (یعنی ہر چیز اس وقت تک حلال ہے جب تک اس کی حرمت پر دلیل قائم نہ ہو۔) اور محرمات کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) مُحَرَّم لِذَاتِہٖ ۔ یعنی جو بذات خود حرام ہیں اور وہ ناپاک چیزیں ہیں جو پاکیزہ چیزوں کی ضد ہیں۔ (۲) حرام کرنے والے کسی سبب کے پیش آنے کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں، یہ حقوق اللہ یا حقوق العباد کے تعلق کے حوالے سے حرام ہوتی ہیں۔ یہ حلال کی ضد ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ انسان پر کم از کم اتنی خوراک کھانا فرض ہے جس سے اس کا ڈھانچہ کھڑا رہ سکے۔ اس آیت کے ظاہری حکم کے مطابق کھانا ترک کرنا گناہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امور کی اتباع کا حکم دیا جن کو بجا لانے کا اس نے حکم دیا ہے، کیونکہ ان میں ان کی بھلائی ہے، تو پھر ان کو شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے روکا ہے ﴿ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’شیطان کے قدم‘‘ یعنی شیطان کے راستے جن پر چلنے کا وہ حکم دیتا ہے۔ اس سے مراد کفر، فسق، ظلم اور دیگر تمام گناہ ہیں اور اس میں سائبہ اور حام وغیرہ کی تحریم بھی شامل ہے، نیز اس کے اندر تمام حرام ماکولات بھی شامل ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ یعنی شیطان کی عداوت ظاہر ہے۔ وہ تمھیں محض دھوکے سے حکم دیتا ہے تاکہ تم جہنمی بن جاؤ۔ ہمارے پروردگار نے ہمیں صرف شیطان کے نقش قدم پر چلنے ہی سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے یہ خبر بھی دی ہے۔۔۔ اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے۔۔۔ کہ شیطان ہم سے عداوت رکھتا ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تفصیل کے ساتھ آگاہ بھی فرمایا کہ شیطان کن امور کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ شیطان جن امور کا حکم دیتا ہے وہ سب سے زیادہ قباحت کے حامل اور مفاسد میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ چنانچہ فرمایا:
[169]﴿ اِنَّمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِالسُّؔوۡٓءِ ﴾ ’’وہ تمھیں شر کا حکم دیتا ہے‘‘ یعنی ایسے شر کا جو اپنے مرتکب کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ پس تمام معاصی اس میں آ جاتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالۡفَحۡشَآءِ ﴾ خاص کا عطف عام پر، کے باب میں سے ہو گا کیونکہ فواحش بھی معاصی میں شمار ہوتے ہیں جن کی قباحت انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً زنا، شراب نوشی، قتل ناحق، تہمت اور بخل وغیرہ یہ سب ان کاموں میں سے ہیں جن کو ہر عقل مند برا سمجھتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم اللہ پر ایسی باتیں کہو جن کا تمھیں علم نہیں‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر کے بارے میں کسی علم کے بغیر بات کہنا بھی شامل ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو کسی ایسی صفت سے موصوف کرتا ہے جسے خود اس نے یا اس کے رسولﷺنے بیان نہیں کیا یااللہ تعالیٰ کی کسی ایسی صفت کی نفی کرتا ہے جس کو خود اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا کسی ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتا ہے جس کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی کی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم کے بات کرتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر ہے یا بت ہیں جن کی عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور جو کوئی دلیل کے بغیر یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز حلال کی ہے یا فلاں چیز حرام کی ہے یا فلاں کام کا حکم دیا ہے یا فلاں کام سے روکا ہے، تو وہ بھی بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرتا ہے اور جو کوئی بغیر کسی دلیل اور برہان کے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی فلاں صنف فلاں علت کی وجہ سے تخلیق فرمائی ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی ہوئی باتوں میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاویل کرنے والا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسولﷺکے کلام کی ان معانی کے مطابق تاویل کرے جو کسی باطل فرقے کی اصطلاحات میں سے ہو اور پھر یہ کہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ پس بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے جس میں تمام گناہ شامل ہیں اور یہ شیطان کا سب سے بڑا راستہ ہے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہی شیطان اور اس کے لشکروں کے راستے ہیں، جہاں وہ اپنے مکرو فریب کے جال پھیلائے رکھتے ہیں اور جتنا بس چلتا ہے مخلوق کو پھانستے رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ تو عدل و احسان اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور فواحش، منکرات اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ پس بندہ اپنے بارے میں غور کرے کہ وہ ان دو داعیوں میں سے کس داعی اور دو گروہوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے؟ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی پیروی کر رہا ہے جو تیرے لیے بھلائی، دنیاوی اور اخروی سعادت چاہتا ہے، وہ جس کی اطاعت تمام تر فلاح، جس کی خدمت ہر لحاظ سے کامیابی ہے اور ہر قسم کا نفع اس منعم حقیقی کے ساتھ ظاہری اور باطنی نعمتوں پر معاملہ کرنے میں ہے جو صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے اور صرف اسی چیز سے روکتا ہے جو شر ہے۔ یا تو شیطان کے داعی کی پیروی کر رہا ہے جو انسان کا دشمن ہے جو تیرے لیے برائی چاہتا ہے اور جو تجھے دنیا و آخرت میں ہلاک کرنے کے لیے بھرپور کوشش اور جدوجہد میں مصروف ہے، وہ جو تمام تر شر، اس کی اطاعت میں اور ہر قسم کا خسارہ اس کی سرپرستی میں ہے، وہ صرف شر کا حکم دیتا ہے اور صرف اس چیز سے روکتا ہے جو خیر ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کو اس کتاب کی اتباع کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جو اس نے اپنے رسولﷺپر نازل فرمائی ہے جس کی صفت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے تو وہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
[170]﴿ بَلۡ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے آباؤ اجداد کی تقلید پر اکتفا کیا اور انبیاء علیہ السلام پر ایمان لانے سے بے رغبتی اختیار کی۔ باوجود اس بات کے کہ ان کے آباء و اجداد لوگوں میں سب سے زیادہ جاہل اور سب سے زیادہ گمراہ تھے۔ حق کو رد کرنے کا یہ ایک نہایت ہی کمزور شبہ ہے، یہ ان کی حق سے روگردانی اور اس سے اعراض اور ان کے عدم انصاف کی دلیل ہے، اگر رشد و ہدایت اور اچھے مقصد کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی ہوتی تو حق ان کا مقصد ہوتا اور جو کوئی حق کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور وہ حق اور غیر حق کے درمیان موازنہ کرتا ہے تو قطعی طور پر حق اس کے سامنے واضح ہو جاتا ہے اور اگر وہ انصاف پسند ہے تو وہ حق کی اتباع کرتا ہے۔
البقرة 2:170
اے لوگو! کھاؤ تم ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں، حلال پاکیزہ اور نہ پیچھے چلو شیطان کے قدموں کے، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر(168) یقیناً وہ تو حکم دیتا ہے تمھیں برائی اور بے حیائی کا اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں جانتے تم(169) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، پیروی کرو تم اس کی جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں (نہیں)بلکہ پیروی کریں گے ہم تو اس چیز کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (اتباع کریں گے وہ ان کی) اگرچہ تھے باپ دادا ان کے نہ عقل رکھتے اور نہ پاتے وہ ہدایت(170)
[168] یہ خطاب مومن اور کافر تمام لوگوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر احسان فرمایا کہ انھیں اس بات کا حکم دیا کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے اناج، پھل ، میوہ جات اور حیوانات اس حال میں کھائیں ﴿ حَلٰلًا﴾ کہ ان کا کھانا تمھارے لیے حلال ہو، وہ غصب شدہ مال ہو نہ چوری کیا ہوا، نہ حرام معاملے کے ذریعے سے اور نہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور نہ کسی حرام امر پر اس سے مدد لی گئی ہو۔ ﴿ طَيِّبًا﴾ ’’پاکیزہ‘‘ یعنی وہ خبیث اور ناپاک نہ ہو، مثلاً مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور دیگر تمام ناپاک چیزیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، کھانے اور فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے۔ (یعنی ہر چیز اس وقت تک حلال ہے جب تک اس کی حرمت پر دلیل قائم نہ ہو۔) اور محرمات کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) مُحَرَّم لِذَاتِہٖ ۔ یعنی جو بذات خود حرام ہیں اور وہ ناپاک چیزیں ہیں جو پاکیزہ چیزوں کی ضد ہیں۔ (۲) حرام کرنے والے کسی سبب کے پیش آنے کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں، یہ حقوق اللہ یا حقوق العباد کے تعلق کے حوالے سے حرام ہوتی ہیں۔ یہ حلال کی ضد ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ انسان پر کم از کم اتنی خوراک کھانا فرض ہے جس سے اس کا ڈھانچہ کھڑا رہ سکے۔ اس آیت کے ظاہری حکم کے مطابق کھانا ترک کرنا گناہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امور کی اتباع کا حکم دیا جن کو بجا لانے کا اس نے حکم دیا ہے، کیونکہ ان میں ان کی بھلائی ہے، تو پھر ان کو شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے روکا ہے ﴿ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’شیطان کے قدم‘‘ یعنی شیطان کے راستے جن پر چلنے کا وہ حکم دیتا ہے۔ اس سے مراد کفر، فسق، ظلم اور دیگر تمام گناہ ہیں اور اس میں سائبہ اور حام وغیرہ کی تحریم بھی شامل ہے، نیز اس کے اندر تمام حرام ماکولات بھی شامل ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ یعنی شیطان کی عداوت ظاہر ہے۔ وہ تمھیں محض دھوکے سے حکم دیتا ہے تاکہ تم جہنمی بن جاؤ۔ ہمارے پروردگار نے ہمیں صرف شیطان کے نقش قدم پر چلنے ہی سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے یہ خبر بھی دی ہے۔۔۔ اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے۔۔۔ کہ شیطان ہم سے عداوت رکھتا ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تفصیل کے ساتھ آگاہ بھی فرمایا کہ شیطان کن امور کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ شیطان جن امور کا حکم دیتا ہے وہ سب سے زیادہ قباحت کے حامل اور مفاسد میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ چنانچہ فرمایا:
[169]﴿ اِنَّمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِالسُّؔوۡٓءِ ﴾ ’’وہ تمھیں شر کا حکم دیتا ہے‘‘ یعنی ایسے شر کا جو اپنے مرتکب کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ پس تمام معاصی اس میں آ جاتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالۡفَحۡشَآءِ ﴾ خاص کا عطف عام پر، کے باب میں سے ہو گا کیونکہ فواحش بھی معاصی میں شمار ہوتے ہیں جن کی قباحت انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً زنا، شراب نوشی، قتل ناحق، تہمت اور بخل وغیرہ یہ سب ان کاموں میں سے ہیں جن کو ہر عقل مند برا سمجھتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم اللہ پر ایسی باتیں کہو جن کا تمھیں علم نہیں‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی تقدیر کے بارے میں کسی علم کے بغیر بات کہنا بھی شامل ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو کسی ایسی صفت سے موصوف کرتا ہے جسے خود اس نے یا اس کے رسولﷺنے بیان نہیں کیا یااللہ تعالیٰ کی کسی ایسی صفت کی نفی کرتا ہے جس کو خود اس نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا کسی ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتا ہے جس کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی کی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم کے بات کرتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر ہے یا بت ہیں جن کی عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور جو کوئی دلیل کے بغیر یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز حلال کی ہے یا فلاں چیز حرام کی ہے یا فلاں کام کا حکم دیا ہے یا فلاں کام سے روکا ہے، تو وہ بھی بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرتا ہے اور جو کوئی بغیر کسی دلیل اور برہان کے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی فلاں صنف فلاں علت کی وجہ سے تخلیق فرمائی ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کرتا ہے اور بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی ہوئی باتوں میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاویل کرنے والا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسولﷺکے کلام کی ان معانی کے مطابق تاویل کرے جو کسی باطل فرقے کی اصطلاحات میں سے ہو اور پھر یہ کہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ پس بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے جس میں تمام گناہ شامل ہیں اور یہ شیطان کا سب سے بڑا راستہ ہے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہی شیطان اور اس کے لشکروں کے راستے ہیں، جہاں وہ اپنے مکرو فریب کے جال پھیلائے رکھتے ہیں اور جتنا بس چلتا ہے مخلوق کو پھانستے رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ تو عدل و احسان اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور فواحش، منکرات اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ پس بندہ اپنے بارے میں غور کرے کہ وہ ان دو داعیوں میں سے کس داعی اور دو گروہوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے؟ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی پیروی کر رہا ہے جو تیرے لیے بھلائی، دنیاوی اور اخروی سعادت چاہتا ہے، وہ جس کی اطاعت تمام تر فلاح، جس کی خدمت ہر لحاظ سے کامیابی ہے اور ہر قسم کا نفع اس منعم حقیقی کے ساتھ ظاہری اور باطنی نعمتوں پر معاملہ کرنے میں ہے جو صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے اور صرف اسی چیز سے روکتا ہے جو شر ہے۔ یا تو شیطان کے داعی کی پیروی کر رہا ہے جو انسان کا دشمن ہے جو تیرے لیے برائی چاہتا ہے اور جو تجھے دنیا و آخرت میں ہلاک کرنے کے لیے بھرپور کوشش اور جدوجہد میں مصروف ہے، وہ جو تمام تر شر، اس کی اطاعت میں اور ہر قسم کا خسارہ اس کی سرپرستی میں ہے، وہ صرف شر کا حکم دیتا ہے اور صرف اس چیز سے روکتا ہے جو خیر ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کو اس کتاب کی اتباع کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جو اس نے اپنے رسولﷺپر نازل فرمائی ہے جس کی صفت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے تو وہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
[170]﴿ بَلۡ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے آباؤ اجداد کی تقلید پر اکتفا کیا اور انبیاء علیہ السلام پر ایمان لانے سے بے رغبتی اختیار کی۔ باوجود اس بات کے کہ ان کے آباء و اجداد لوگوں میں سب سے زیادہ جاہل اور سب سے زیادہ گمراہ تھے۔ حق کو رد کرنے کا یہ ایک نہایت ہی کمزور شبہ ہے، یہ ان کی حق سے روگردانی اور اس سے اعراض اور ان کے عدم انصاف کی دلیل ہے، اگر رشد و ہدایت اور اچھے مقصد کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی ہوتی تو حق ان کا مقصد ہوتا اور جو کوئی حق کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور وہ حق اور غیر حق کے درمیان موازنہ کرتا ہے تو قطعی طور پر حق اس کے سامنے واضح ہو جاتا ہے اور اگر وہ انصاف پسند ہے تو وہ حق کی اتباع کرتا ہے۔
البقرة 2:171
اور مثال ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا مانند مثال اس شخص کی ہے جو پکارتا ہے اس کو جو نہیں سنتا سوائے پکار اور آواز کے، (وہ) بہرے، گونگے، اندھے ہیں، پس وہ نہیں عقل رکھتے(171)
[171] جب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر آئے، کفار نے ان کی اطاعت نہیں کی اور آباؤ اجداد کی تقلید کے باعث ان رسولوں کو رد کر دیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حق کو قبول کر کے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنے عناد سے ہرگز باز نہیں آئیں گے، تو اللہ تعالٰی نے آگاہ فرما دیا کہ ان کی مثال ایمان کے داعی کی پکار کے وقت ان مویشیوں کی سی ہے جنھیں ان کا چرواہا پکارتا ہے لیکن ان جانوروں کو یہ علم نہیں کہ ان کا چرواہا اور منادی کیا کہہ رہا ہے؟ وہ صرف آواز سنتے ہیں جس کے ذریعہ سے ان پر حجت قائم ہو گی مگر وہ اسے اس طرح سمجھتے نہیں کہ انھیں کوئی فائدہ پہنچے، پس وہ بہرے ہیں، حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے سننے سے قاصر ہیں۔ وہ اندھے ہیں عبرت کی نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور گونگے ہیں اس لیے حق کے اندر ان کے لیے جو خیر ہے اس کے بارے میں بولتے نہیں۔ اور وہ سبب جو اس تمام فساد کا موجب ہے یہ ہے کہ وہ عقل سلیم سے محروم ہیں بلکہ وہ سب سے بڑے احمق اور سب سے بڑے جاہل ہیں۔ کیا عقل مند شخص اس بارے میں کوئی شک کر سکتا ہے کہ جس شخص کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا جائے، فساد سے روکا جائے، عذاب میں گھسنے سے منع کیا جائے اور اسے اس چیز کا حکم دیا جائے جس میں اس کی بھلائی، فوز و فلاح اور نعمت ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کا حکم ماننے سے انکار کر دے، اپنے رب کے حکم سے پیٹھ پھیر لے، دیکھتے بوجھتے آگ میں جا گھسے اور حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کرے۔ یقیناً یہ شخص ایسا ہے کہ اس میں ذرہ بھر عقل نہیں۔ اگر وہ عیاری، دھوکہ اور فریب کو اپنی صفت بنا لے تو یہ شخص سب سے بڑا احمق ہے۔
البقرة 2:172
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور شکر کرو اللہ کا، اگر ہو تم اسی کی عبادت کرتے(172) بس صرف اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت سور کا اور وہ چیز کہ پکاری گئی وہ غیر اللہ کے لیے، پھر جو شخص ناچار کر دیا گیا (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکشی کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(173)
[172] عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لیے خاص حکم ہے۔ اور یہ اس لیے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامر و نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو انھیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا﴾(المومنون : 23؍51) ’’اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔‘‘ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ (حلال) استعمال نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ضرر رساں چیزوں کو چھوڑ کر خالص پاکیزہ رزق کو اہل ایمان کے لیے مباح کیا ہے، نیز ایمان مومن کو وہ چیز تناول کرنے سے روک دیتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو‘‘ تو اس کا شکر کرو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور وہ اس کا حکم بجا لایا۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پاکیزہ رزق کھانا اعمال صالحہ اور ان کی قبولیت کا سبب ہے۔ نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے کیونکہ شکر موجود نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر موجود نعمتوں کے حصول کا باعث بنتا ہے جیسے کفر غیر موجود نعمتوں کو مزید دور کرتا ہے اور موجود نعمتوں کو زائل کرتا ہے۔
[173] جب اللہ تعالیٰ نے طیبات کی اباحت کا ذکر فرمایا تو خبائث کی تحریم کا ذکر بھی فرما دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’اللہ نے تم پر صرف مردار حرام کیا‘‘ مردار سے مراد وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے اور اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مردار ناپاک اور خراب ہونے کی بنا پر ضرر رساں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر مردار کسی بیماری سے مرتا ہے۔ پس وہ مرض میں اضافے ہی کا باعث ہوتا ہے۔ مردار کی حرمت کی عمومیت سے ٹڈی اور مچھلی مستثنی ہیں۔ یہ دونوں مردہ ہونے کی صورت میں بھی حلال اور طیب ہیں۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ اور یہ قید ایک اور آیت سے ثابت ہے (ملاحظہ کیجیے سورۃ الانعام؍145:مترجم)﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔‘‘ مثلاً وہ جانور جو بتوں، استھانوں، پتھروں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ مذکورہ انواع محرمات کے لیے خاص نہیں، بلکہ ان کو ان خبائث کی اجناس کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے جن کی حرمت پر ’’طیبات‘‘ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے۔ پس محرمات کی عمومیت گزشتہ آیت میں لفظ حَلَالًا طَیِّبًا سے مستفید ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے گزرا۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور ان کے ضرر سے بچانے کے لیے یہ چیزیں ہم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی فرما دیا :﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ﴾ ’’جو کوئی ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جو کوئی بھوک، موت کے خوف یا جبر و اکراہ کے باعث ان مذکورہ محرمات کو کھانے پر مجبور ہو جائے ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو‘‘ یعنی سخت بھوکا نہ ہونے اور حلال کھانے پر قدرت رکھنے کے باوجود وہ حرام کھانے کا طلبگار نہ ہو۔ ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو‘‘ یعنی اضطراری حالت میں جتنی مقدار میں اس کے لیے یہ حرام کھانا جائز ہے اس مقدار سے تجاوز نہ کرے۔ ﴿ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ﴾ ’’تو اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی اضطراری حالت میں یہ محرمات تناول کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور جب گناہ اٹھ گیا تو معاملہ اسی (اباحت اصلی کی) حالت پر چلا گیا جو کہ تحریم سے پہلے تھی۔ انسان اس اضطراری حالت میں حرام کھانے پر مامور ہے، بلکہ اسے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے آپ کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے، تب اس پر حرام کھانا فرض ہے۔ اگر وہ اضطراری حالت میں حرام نہیں کھاتا اور مر جاتا ہے تو گناہ گار اور خودکشی کا مرتکب ہو گا۔ یہ اباحت اور وسعت اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کا اختتام اپنے ان دو اسمائے گرامی کے ساتھ کیا ہے جو غایت درجہ تک اس مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چونکہ ان کی حلت ان دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے اور اس حالت میں انسان بسا اوقات اچھی طرح تحقیق کرنے سے قاصر رہتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ بخشنے والا ہے پس اگر اس حالت میں اس سے خطا سرزد ہو جائے تو وہ بخش دے گا، خاص طور پر اس حالت میں جبکہ اس پر ضرورت غالب آجائے اور مشقت اس کے حواس کو مضمحل کر دے۔ اس آیت کریمہ میں مشہور فقہی قاعدہ (اَلضرورات تبیح المحظورات) ’’ضرورت حرام کو مباح کر دیتی ہے‘‘ کی دلیل ہے۔ پس ہر حرام چیز، جس کے استعمال کرنے پر انسان مجبور ہو جائے تو اس رحم کرنے والے مالک نے اس کے لیے اسے جائز ٹھہرا دیا ہے۔ پس اول و آخر اور ظاہری و باطنی طور پر ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کی مستحق صرف اسی کی ذات اقدس ہے۔
البقرة 2:173
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور شکر کرو اللہ کا، اگر ہو تم اسی کی عبادت کرتے(172) بس صرف اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت سور کا اور وہ چیز کہ پکاری گئی وہ غیر اللہ کے لیے، پھر جو شخص ناچار کر دیا گیا (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکشی کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(173)
[172] عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لیے خاص حکم ہے۔ اور یہ اس لیے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامر و نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو انھیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا﴾(المومنون : 23؍51) ’’اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔‘‘ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ (حلال) استعمال نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ضرر رساں چیزوں کو چھوڑ کر خالص پاکیزہ رزق کو اہل ایمان کے لیے مباح کیا ہے، نیز ایمان مومن کو وہ چیز تناول کرنے سے روک دیتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو‘‘ تو اس کا شکر کرو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور وہ اس کا حکم بجا لایا۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پاکیزہ رزق کھانا اعمال صالحہ اور ان کی قبولیت کا سبب ہے۔ نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے کیونکہ شکر موجود نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر موجود نعمتوں کے حصول کا باعث بنتا ہے جیسے کفر غیر موجود نعمتوں کو مزید دور کرتا ہے اور موجود نعمتوں کو زائل کرتا ہے۔
[173] جب اللہ تعالیٰ نے طیبات کی اباحت کا ذکر فرمایا تو خبائث کی تحریم کا ذکر بھی فرما دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’اللہ نے تم پر صرف مردار حرام کیا‘‘ مردار سے مراد وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے اور اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مردار ناپاک اور خراب ہونے کی بنا پر ضرر رساں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر مردار کسی بیماری سے مرتا ہے۔ پس وہ مرض میں اضافے ہی کا باعث ہوتا ہے۔ مردار کی حرمت کی عمومیت سے ٹڈی اور مچھلی مستثنی ہیں۔ یہ دونوں مردہ ہونے کی صورت میں بھی حلال اور طیب ہیں۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ اور یہ قید ایک اور آیت سے ثابت ہے (ملاحظہ کیجیے سورۃ الانعام؍145:مترجم)﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔‘‘ مثلاً وہ جانور جو بتوں، استھانوں، پتھروں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ مذکورہ انواع محرمات کے لیے خاص نہیں، بلکہ ان کو ان خبائث کی اجناس کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے جن کی حرمت پر ’’طیبات‘‘ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے۔ پس محرمات کی عمومیت گزشتہ آیت میں لفظ حَلَالًا طَیِّبًا سے مستفید ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے گزرا۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور ان کے ضرر سے بچانے کے لیے یہ چیزیں ہم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی فرما دیا :﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ﴾ ’’جو کوئی ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جو کوئی بھوک، موت کے خوف یا جبر و اکراہ کے باعث ان مذکورہ محرمات کو کھانے پر مجبور ہو جائے ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو‘‘ یعنی سخت بھوکا نہ ہونے اور حلال کھانے پر قدرت رکھنے کے باوجود وہ حرام کھانے کا طلبگار نہ ہو۔ ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو‘‘ یعنی اضطراری حالت میں جتنی مقدار میں اس کے لیے یہ حرام کھانا جائز ہے اس مقدار سے تجاوز نہ کرے۔ ﴿ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ﴾ ’’تو اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی اضطراری حالت میں یہ محرمات تناول کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور جب گناہ اٹھ گیا تو معاملہ اسی (اباحت اصلی کی) حالت پر چلا گیا جو کہ تحریم سے پہلے تھی۔ انسان اس اضطراری حالت میں حرام کھانے پر مامور ہے، بلکہ اسے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے آپ کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے، تب اس پر حرام کھانا فرض ہے۔ اگر وہ اضطراری حالت میں حرام نہیں کھاتا اور مر جاتا ہے تو گناہ گار اور خودکشی کا مرتکب ہو گا۔ یہ اباحت اور وسعت اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کا اختتام اپنے ان دو اسمائے گرامی کے ساتھ کیا ہے جو غایت درجہ تک اس مضمون کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چونکہ ان کی حلت ان دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے اور اس حالت میں انسان بسا اوقات اچھی طرح تحقیق کرنے سے قاصر رہتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ بخشنے والا ہے پس اگر اس حالت میں اس سے خطا سرزد ہو جائے تو وہ بخش دے گا، خاص طور پر اس حالت میں جبکہ اس پر ضرورت غالب آجائے اور مشقت اس کے حواس کو مضمحل کر دے۔ اس آیت کریمہ میں مشہور فقہی قاعدہ (اَلضرورات تبیح المحظورات) ’’ضرورت حرام کو مباح کر دیتی ہے‘‘ کی دلیل ہے۔ پس ہر حرام چیز، جس کے استعمال کرنے پر انسان مجبور ہو جائے تو اس رحم کرنے والے مالک نے اس کے لیے اسے جائز ٹھہرا دیا ہے۔ پس اول و آخر اور ظاہری و باطنی طور پر ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کی مستحق صرف اسی کی ذات اقدس ہے۔
البقرة 2:174
بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا اللہ نے کتاب سے اور لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا سا، یہی لوگ ہیں، نہیں بھر رہے وہ اپنے پیٹوں میں مگر آگ ہی، اور نہیں کلام کرے گا ان سے اللہ دن قیامت کے اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(174) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب کو بدلے مغفرت کے، پس کس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ اوپر آگ کے؟(175) یہ اس لیے کہ بے شک اللہ نے نازل فرمائی کتاب ساتھ حق کے،اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا کتاب میں، یقینا ًوہ بہت دور والی مخالفت میں ہیں(176)
[175-174] اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ ﴾ ’’یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں‘‘ کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ ان کو پاک کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟
[176]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انھیں محروم رکھنا، جنھوں نے انھیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے،اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا:﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِي الۡكِتٰبِ لَفِيۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍ﴾ ’’جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنھوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا (لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭ) یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں (بَعِیْدٍ) جو حق سے بہت دور ہے، اس لیے کہ انھوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق لے کر آئی ہے جو اتفاق اور عدم تناقض کا موجب ہے۔ پس ان کا معاملہ خراب ہو گیا، ان کی مخالفت اور دشمنی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں ان میں افتراق پیدا ہو گیا۔ اس کے برعکس وہ اہل کتاب جو کتاب اللہ پر ایمان لائے اور تمام معاملات میں اسے حکم تسلیم کیا، پس ان میں اتفاق ہو گیا اور یہ لوگ محبت اور کتاب اللہ پر اجتماع کی وجہ سے بلندیوں پر پہنچ گئے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لیے جو اس چیز کو چھپاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور کتاب اللہ پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، سخت ناراضی اور عذاب کی وعید کو متضمن ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق اور مغفرت کے ذریعے سے پاک نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو ان کے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دینے کا باعث بنا اور اس پر یہ امر مترتب ہوا کہ انھوں نے مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کر لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ وہ جہنم کی آگ برداشت کرنے پر کس قدر صابر ہیں؟ جس میں وہ ان اسباب کی بنا پر داخل ہوئے جن کے بارے میں انھیں خوب علم تھا کہ یہ جہنم میں لے جاتے ہیں۔ یہ آیت اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کتاب اللہ تمام تر حق پر مشتمل ہے جو اتفاق اور عدم افتراق کا موجب ہے، نیز ہر وہ شخص جو کتاب اللہ کی مخالفت کرتا ہے وہ حق سے بہت دور ہے اور وہ نزاع اور مخاصمت میں مبتلا ہے۔ واللہ اعلم۔
البقرة 2:175
بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا اللہ نے کتاب سے اور لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا سا، یہی لوگ ہیں، نہیں بھر رہے وہ اپنے پیٹوں میں مگر آگ ہی، اور نہیں کلام کرے گا ان سے اللہ دن قیامت کے اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(174) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب کو بدلے مغفرت کے، پس کس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ اوپر آگ کے؟(175) یہ اس لیے کہ بے شک اللہ نے نازل فرمائی کتاب ساتھ حق کے،اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا کتاب میں، یقینا ًوہ بہت دور والی مخالفت میں ہیں(176)
[175-174] اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ ﴾ ’’یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں‘‘ کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ ان کو پاک کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟
[176]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انھیں محروم رکھنا، جنھوں نے انھیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے،اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا:﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِي الۡكِتٰبِ لَفِيۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍ﴾ ’’جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنھوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا (لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭ) یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں (بَعِیْدٍ) جو حق سے بہت دور ہے، اس لیے کہ انھوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق لے کر آئی ہے جو اتفاق اور عدم تناقض کا موجب ہے۔ پس ان کا معاملہ خراب ہو گیا، ان کی مخالفت اور دشمنی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں ان میں افتراق پیدا ہو گیا۔ اس کے برعکس وہ اہل کتاب جو کتاب اللہ پر ایمان لائے اور تمام معاملات میں اسے حکم تسلیم کیا، پس ان میں اتفاق ہو گیا اور یہ لوگ محبت اور کتاب اللہ پر اجتماع کی وجہ سے بلندیوں پر پہنچ گئے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لیے جو اس چیز کو چھپاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور کتاب اللہ پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، سخت ناراضی اور عذاب کی وعید کو متضمن ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق اور مغفرت کے ذریعے سے پاک نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو ان کے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دینے کا باعث بنا اور اس پر یہ امر مترتب ہوا کہ انھوں نے مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کر لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ وہ جہنم کی آگ برداشت کرنے پر کس قدر صابر ہیں؟ جس میں وہ ان اسباب کی بنا پر داخل ہوئے جن کے بارے میں انھیں خوب علم تھا کہ یہ جہنم میں لے جاتے ہیں۔ یہ آیت اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کتاب اللہ تمام تر حق پر مشتمل ہے جو اتفاق اور عدم افتراق کا موجب ہے، نیز ہر وہ شخص جو کتاب اللہ کی مخالفت کرتا ہے وہ حق سے بہت دور ہے اور وہ نزاع اور مخاصمت میں مبتلا ہے۔ واللہ اعلم۔