Tafsir As-Saadi - Urdu — البقرة 2:264 – آل عمران 3:37
Contents
- البقرة 2:264
- البقرة 2:265
- البقرة 2:266
- البقرة 2:267
- البقرة 2:268
- البقرة 2:269
- البقرة 2:270
- البقرة 2:271
- البقرة 2:272
- البقرة 2:273
- البقرة 2:274
- البقرة 2:275
- البقرة 2:276
- البقرة 2:277
- البقرة 2:278
- البقرة 2:279
- البقرة 2:280
- البقرة 2:281
- البقرة 2:282
- البقرة 2:283
- البقرة 2:284
- البقرة 2:285
- البقرة 2:286
- آل عمران 3:1
- آل عمران 3:2
- آل عمران 3:3
- آل عمران 3:4
- آل عمران 3:5
- آل عمران 3:6
- آل عمران 3:7
- آل عمران 3:8
- آل عمران 3:9
- آل عمران 3:10
- آل عمران 3:11
- آل عمران 3:12
- آل عمران 3:13
- آل عمران 3:14
- آل عمران 3:15
- آل عمران 3:16
- آل عمران 3:17
- آل عمران 3:18
- آل عمران 3:19
- آل عمران 3:20
- آل عمران 3:21
- آل عمران 3:22
- آل عمران 3:23
- آل عمران 3:24
- آل عمران 3:25
- آل عمران 3:26
- آل عمران 3:27
- آل عمران 3:28
- آل عمران 3:29
- آل عمران 3:30
- آل عمران 3:31
- آل عمران 3:32
- آل عمران 3:33
- آل عمران 3:34
- آل عمران 3:35
- آل عمران 3:36
- آل عمران 3:37
البقرة 2:264
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)
[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول سکے۔ اس کی ریا کاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی، اس لیے فرمایا:﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انھوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا، اور اپنے جیسی مخلوق کے لیے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہو سکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا مندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ﴿ وَتَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ۔‘‘ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں۔ یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں، یہ ریا کی بیماری ہے۔ یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ ﴾ ’’جیسے ایک باغ‘‘ جس میں درخت بے شمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جَنَّةٍ) کا لفظ (اِجْتِنَان) سے ماخوذ ہے یعنی چھپا لینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپا لیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔ اور یہ باغ ﴿ بِرَبۡوَةٍ ﴾ ’’اونچی زمین پر‘‘ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر ﴿ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ ﴾ ’’زور دار بارش برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لائے۔‘‘ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجودگی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔ ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ﴾ ’’اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔‘‘ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بے شمار آفات و مصائب ہیں۔ اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لیے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بے رغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کماحقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سرایت کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لیے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے اور ثواب کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔‘‘ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی باخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کاکام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طورپر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طورپر (لطف اندوزی کے لیے) بھی۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوش ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا، اس لیے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لیے بوجھ ہے۔ اس کااپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (إِعْصَار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مرجاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بے انتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا۔ اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گردوغبار کی طرح بے حقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورت حال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنون سے بھی سرزد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو، اس لیے اللہ نے غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔‘‘
البقرة 2:265
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)
[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول سکے۔ اس کی ریا کاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی، اس لیے فرمایا:﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انھوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا، اور اپنے جیسی مخلوق کے لیے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہو سکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا مندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ﴿ وَتَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ۔‘‘ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں۔ یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں، یہ ریا کی بیماری ہے۔ یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ ﴾ ’’جیسے ایک باغ‘‘ جس میں درخت بے شمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جَنَّةٍ) کا لفظ (اِجْتِنَان) سے ماخوذ ہے یعنی چھپا لینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپا لیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔ اور یہ باغ ﴿ بِرَبۡوَةٍ ﴾ ’’اونچی زمین پر‘‘ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر ﴿ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ ﴾ ’’زور دار بارش برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لائے۔‘‘ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجودگی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔ ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ﴾ ’’اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔‘‘ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بے شمار آفات و مصائب ہیں۔ اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لیے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بے رغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کماحقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سرایت کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لیے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے اور ثواب کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔‘‘ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی باخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کاکام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طورپر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طورپر (لطف اندوزی کے لیے) بھی۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوش ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا، اس لیے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لیے بوجھ ہے۔ اس کااپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (إِعْصَار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مرجاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بے انتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا۔ اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گردوغبار کی طرح بے حقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورت حال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنون سے بھی سرزد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو، اس لیے اللہ نے غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔‘‘
البقرة 2:266
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)
[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول سکے۔ اس کی ریا کاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی، اس لیے فرمایا:﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انھوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا، اور اپنے جیسی مخلوق کے لیے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہو سکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا مندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ﴿ وَتَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ۔‘‘ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں۔ یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں، یہ ریا کی بیماری ہے۔ یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ ﴾ ’’جیسے ایک باغ‘‘ جس میں درخت بے شمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جَنَّةٍ) کا لفظ (اِجْتِنَان) سے ماخوذ ہے یعنی چھپا لینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپا لیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔ اور یہ باغ ﴿ بِرَبۡوَةٍ ﴾ ’’اونچی زمین پر‘‘ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر ﴿ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ ﴾ ’’زور دار بارش برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لائے۔‘‘ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجودگی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔ ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ﴾ ’’اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔‘‘ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بے شمار آفات و مصائب ہیں۔ اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لیے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بے رغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کماحقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سرایت کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لیے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے اور ثواب کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔‘‘ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی باخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کاکام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طورپر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طورپر (لطف اندوزی کے لیے) بھی۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوش ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا، اس لیے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لیے بوجھ ہے۔ اس کااپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (إِعْصَار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مرجاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بے انتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا۔ اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گردوغبار کی طرح بے حقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورت حال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنون سے بھی سرزد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو، اس لیے اللہ نے غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔‘‘
البقرة 2:267
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)
[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکاۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جوبڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لیے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا ہے۔ (۷) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکاۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔
البقرة 2:268
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)
[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکاۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جوبڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لیے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا ہے۔ (۷) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکاۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔
البقرة 2:269
اللہ دیتا ہے حکمت جسے چاہتا ہے اور جو شخص دیا جائے حکمت پس تحقیق دیا گیا وہ بھلائی بہت، اور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل مند ہی(269)
[269] چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں۔ اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح، اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرمادی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائی کون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ ہے۔ پس بندے کو کمال صرف حکمت سے حاصل ہوسکتاہے۔ کیونکہ کمال نام ہے علمی اور عملی قوت کے کامل ہونے کا۔ علمی قوت تو حق کی معرفت سے اور اس کے مقصود کی معرفت سے کامل ہوتی ہے۔ اور عملی قوت نیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندہ صحیح قول اور صحیح عمل کا حامل ہوسکتا ہے۔ اور اپنی ذات کے بارے میں، نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، بھلائی سے محبت رکھیں ، حق کے طالب ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے کہ لوگوں کو ان کی عقل و فطرت میں جڑیں رکھنے والی ان اشیاء کی یاد دہانی کرائیں اور جو تفصیلات لوگوں کو معلوم نہیں، وہ بیان فرمائیں۔ پھر لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا، تو انھیں اپنے فائدے کی باتیں یاد ہوگئیں، انھوں نے اس پر عمل کیا۔ اور انھیں اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوگئیں، لہٰذا وہ ان سے بچ گئے۔ یہ لوگ کامل عقل و فہم کے حامل ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت قبول نہیں کی، بلکہ ان کی فطرت میں جو خرابی پیدا ہوگئی تھی اسی کے مطابق عمل کیا، رب کا حکم نہیں مانا۔ یہ لوگ عقل والے نہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يَذَّكَّـرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘
البقرة 2:270
اگر ظاہر کرو تم خیرات، تو اچھی بات ہے یہ، اور اگر چھپاؤ تم اس کو اور دو وہ فقیروں کو تو وہ بہت ہی بہتر ہے تمھارے لیے،اور دور کر دے گا (اللہ) تم سے تمھارے گناہ اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(271) اور جو خرچ کرو تم کسی قسم کا خرچ یا نذر مانو تم کوئی بھی نذر، تو بے شک اللہ جانتا ہے اسے،اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(270)
[271,270] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیادہ، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طورپرعظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لیے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ﴾ ’’اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔‘‘یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ﴿ فَنِعِمَّا هِيَ ﴾ ’’تو وہ بھی اچھا ہے۔‘‘ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طورپر صدقہ دینا، ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جارہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طورپر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دارومدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو، اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کرکے دینا افضل ہوگا۔ ﴿ وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اسے مسکینوں کو دے دو۔‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے۔ اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لیے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور ﴿ وَيُكَـفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ ﴾ میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی، اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔
البقرة 2:271
اگر ظاہر کرو تم خیرات، تو اچھی بات ہے یہ، اور اگر چھپاؤ تم اس کو اور دو وہ فقیروں کو تو وہ بہت ہی بہتر ہے تمھارے لیے،اور دور کر دے گا (اللہ) تم سے تمھارے گناہ اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(271) اور جو خرچ کرو تم کسی قسم کا خرچ یا نذر مانو تم کوئی بھی نذر، تو بے شک اللہ جانتا ہے اسے،اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(270)
[271,270] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیادہ، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طورپرعظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لیے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ﴾ ’’اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔‘‘یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ﴿ فَنِعِمَّا هِيَ ﴾ ’’تو وہ بھی اچھا ہے۔‘‘ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طورپر صدقہ دینا، ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جارہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طورپر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دارومدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو، اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کرکے دینا افضل ہوگا۔ ﴿ وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اسے مسکینوں کو دے دو۔‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے۔ اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لیے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور ﴿ وَيُكَـفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ ﴾ میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی، اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔
البقرة 2:272
نہیں ہے اوپر آپ کے ہدایت دینا ان کو لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے،اور جو خرچ کرو تم مال سے تو وہ تمھارے نفسوں ہی کے (فائدے کے) لیے ہے،اور نہیں خرچ کرتے ہو تم مگر واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور جو خرچ کرو گے تم مال سے، وہ پورا پورا دیا جائے گا تمھیں اور تم نہیں ظلم کیے جاؤ گے(272)
[272] اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺسے فرماتا ہے کہ مخلوق کو ہدایت پر چلا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ حق کو واضح طورپر ان تک پہنچا دیں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح مسلمان پر واجب ہے کہ صدقہ و خیرات اور دوسرے اخراجات کرے، اسی طرح کافر پر بھی یہ واجب ہے، اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو گے۔‘‘ کم ہو یا زیادہ اور خرچ کرنے والا مسلمان ہو یا کافر: ﴿ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ۠ ﴾ ’’اس کا فائدہ خود پاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَؔ وَجۡهِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور تم صرف اللہ کی رضامندی کی طلب کے لیے خرچ کرتے ہو۔‘‘ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انھیں فضول مقاصد کے لیے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمھیں دیا جائے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے دن تم پورا اجر وثواب حاصل کرو گے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ تمھارے نیک عملوںمیں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی، اور تمھارے گناہوں میں بلاوجہ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
البقرة 2:273
(یہ صدقہ) واسطے ان ضرورت مندوں کے ہے جو روک دیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں، نہیں استطاعت رکھتے وہ چلنے پھرنے کی زمین میں، گمان کرتا ہے ان کو ناواقف، مال دار، ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے، آپ پہچان لیں گے ان کو ان کے چہرے کی علامات سے، نہیں سوال کرتے وہ لوگوں سے چمٹ کراور جو خرچ کرو تم مال سے، تو بلاشبہ اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے(273)وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات اور دن میں، پوشیدہ اور ظاہر، تو واسطے ان کے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(274)
[273] اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے کہ کون لوگ زیادہ مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں۔ (۱) فقر اور تنگ دستی۔ (۲)﴿ اُحۡصِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں، جہاد وغیرہ کے لیے وقف ہوچکے ہیں، وہ اس کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ (۳) رزق کی تلاش کے لیے سفر کے قابل نہ ہوں۔ جیسے فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ ضَرۡبًا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی روزی کمانے کے لیے زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ (۴)﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ مِنَ التَّعَفُّفِ ﴾ ’’نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انھیں مال دار خیال کرتے ہیں۔‘‘ اس سے ان کا مخلصانہ صبر اور سوال سے بچنے کی صفت کا بیان ہے۔ (۵) اللہ نے فرمایا: ﴿ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی اس علامت کے ذریعے سے پہچان لیں گے جو اللہ نے ان کے وصف کے طورپر ذکر کی ہے۔ اور یہ ارشاد ﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ ﴾ نادانوں کے انھیں مال دار خیال کرنے کے منافی نہیں۔ کیونکہ جو ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اس میں اتنی سمجھ نہیں کہ دیکھ کر ان کے حالات سمجھ لے۔ سمجھ دار آدمی تو انھیں دیکھتے ہی ان کی علامت کی وجہ سے پہچان لیتا ہے۔ (۶)﴿لَا يَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ﴾ یعنی لوگوں سے اصرار کے ساتھ نہیں مانگتے۔ بلکہ اگر حالات انھیں سوال کرنے پر مجبور کردیں تب بھی ان کے سوال میں اصرار اور چمٹ جانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنی ان صفات کی وجہ سے صدقات دیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسروں پر خرچ کرنا فی نفسہ ایک نیکی اور احسان ہے۔ خواہ کسی شخص پر خرچ کیا جائے۔ آدمی کو اس کا اجر و ثواب ملے گا، اس لیے فرمایا:﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو، اللہ اس کا جاننے والا ہے۔‘‘ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہر حال میں ہر وقت صدقہ کرتے ہیں۔
[274] چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لیے خرچ نہیں کرتے ﴿ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔‘‘ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’انھیں نہ خوف ہوگا‘‘ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ ﴾ ’’اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے۔ تو یہ اپنااصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کرکے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ ارشاد ہے۔
البقرة 2:274
(یہ صدقہ) واسطے ان ضرورت مندوں کے ہے جو روک دیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں، نہیں استطاعت رکھتے وہ چلنے پھرنے کی زمین میں، گمان کرتا ہے ان کو ناواقف، مال دار، ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے، آپ پہچان لیں گے ان کو ان کے چہرے کی علامات سے، نہیں سوال کرتے وہ لوگوں سے چمٹ کراور جو خرچ کرو تم مال سے، تو بلاشبہ اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے(273)وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات اور دن میں، پوشیدہ اور ظاہر، تو واسطے ان کے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(274)
[273] اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے کہ کون لوگ زیادہ مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں۔ (۱) فقر اور تنگ دستی۔ (۲)﴿ اُحۡصِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں، جہاد وغیرہ کے لیے وقف ہوچکے ہیں، وہ اس کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ (۳) رزق کی تلاش کے لیے سفر کے قابل نہ ہوں۔ جیسے فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ ضَرۡبًا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی روزی کمانے کے لیے زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ (۴)﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ مِنَ التَّعَفُّفِ ﴾ ’’نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انھیں مال دار خیال کرتے ہیں۔‘‘ اس سے ان کا مخلصانہ صبر اور سوال سے بچنے کی صفت کا بیان ہے۔ (۵) اللہ نے فرمایا: ﴿ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی اس علامت کے ذریعے سے پہچان لیں گے جو اللہ نے ان کے وصف کے طورپر ذکر کی ہے۔ اور یہ ارشاد ﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ ﴾ نادانوں کے انھیں مال دار خیال کرنے کے منافی نہیں۔ کیونکہ جو ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اس میں اتنی سمجھ نہیں کہ دیکھ کر ان کے حالات سمجھ لے۔ سمجھ دار آدمی تو انھیں دیکھتے ہی ان کی علامت کی وجہ سے پہچان لیتا ہے۔ (۶)﴿لَا يَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ﴾ یعنی لوگوں سے اصرار کے ساتھ نہیں مانگتے۔ بلکہ اگر حالات انھیں سوال کرنے پر مجبور کردیں تب بھی ان کے سوال میں اصرار اور چمٹ جانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنی ان صفات کی وجہ سے صدقات دیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسروں پر خرچ کرنا فی نفسہ ایک نیکی اور احسان ہے۔ خواہ کسی شخص پر خرچ کیا جائے۔ آدمی کو اس کا اجر و ثواب ملے گا، اس لیے فرمایا:﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو، اللہ اس کا جاننے والا ہے۔‘‘ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہر حال میں ہر وقت صدقہ کرتے ہیں۔
[274] چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لیے خرچ نہیں کرتے ﴿ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔‘‘ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’انھیں نہ خوف ہوگا‘‘ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ ﴾ ’’اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے۔ تو یہ اپنااصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کرکے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ ارشاد ہے۔
البقرة 2:275
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:276
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:277
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:278
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:279
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:280
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:281
وہ لوگ جو کھاتے ہیں سود، نہیں کھڑے ہوں گے وہ مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ شخص کہ حواس باختہ بنا دیا ہو اس کو شیطان نے چھو کر، یہ (سزا) بہ سبب اس کے کہ انھوں نے کہا، بلاشبہ بیع بھی مثل سود ہی کے ہے، حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو، پس وہ شخص کہ آگئی اس کے پاس نصیحت، اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا، تو اس کے لیے ہے جو کچھ پہلے ہو چکااور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اور جو شخص دوبارہ (سودی معاملہ) کرے تو یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(275) مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کواور اللہ نہیں پسند کرتا ہر کفر کرنے والے گناہ گار کو(276) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، اور قائم کیا نماز کو اور ادا کرتے رہے زکاۃ، ان کے واسطے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(277) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سےاور چھوڑ دو جو باقی ہے سود سے، اگر ہو تم مومن (278) پس اگر نہ کیا تم نے (یہ) تو خبردار ہو جاؤ واسطے جنگ کے اللہ اور اس کے رسول سے،اور اگر توبہ کر لو تم، تو تمھارے لیے ہیں اصل مال تمھارے، نہ تم (کسی پر) ظلم کرواور نہ تم ظلم کیے جاؤ گے(279) اور اگر ہو وہ (مقروض) تنگ دست تو مہلت دینا ہے (اسے) آسانی تک، اور تمھارا معاف کر دینا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم جانتے(280) اور ڈرو اس دن سے کہ لوٹائے جاؤ گے تم اس میں اللہ کی طرف، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو(اس کا) جو کچھ اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(281)
[275] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بد بیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے ﴿ كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِيۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ﴾ تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انھیں شیطان نے پاگل بنا دیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انھیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰؔوا ﴾ انھوں نے کہا تھا: ’’تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کابدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔ آیت مبارکہ کے اس حصے کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ چونکہ سود کی کمائی کے حصول میں ان کی عقلیں سلب ہوگئیں، اس لیے وہ احمق بن گئے اور ان کی حرکات پاگلوں کے مشابہ ہو گئیں۔ جو بے سروپا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے اور عظیم حکمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ ﴾ ’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے، سب کو اس کی ضرورت ہے اور اسے حرام قرار دینے میں نقصان ہے۔ اور حصول رزق سے تعلق رکھنے والے کاموں میں یہ ایک عظیم اصل ہے۔ اس سے صرف وہی تصرفات مستثنیٰ ہوں گے جن سے صاف طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ﴿ وَحَرَّمَ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اور سود کو حرام کیا۔‘‘ کیونکہ یہ ظلم پرمبنی ہے اور اس کاانجام برا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں: (۱) ربا نسیۂ مثلاً سودی چیز کا اس کی علت میں شریک چیز کے عوض ادھار تبادلہ۔ اور اس کی صورت یہ بھی ہے کہ واجب الادا رقم کو رأس المال کا نام دے کر بیع سلم کر لی جائے۔ (۲) ربا الفضل: کسی ایسی چیز کو جس میں سود ہوسکتا ہے، اس کی ہم جنس چیز کے عوض اضافے کے ساتھ بیچنا، دونوں کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ اور ربانسیۂ کی حرمت پر اجماع بھی ہے۔ جس نے ربا الفضل کو جائز قرار دیا ہے اس کا قول شاذ ہے جو بکثرت نصوص کے خلاف ہے بلکہ سود تباہ کن کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت آئی۔‘‘ یعنی اللہ نے کسی کو توفیق دی کہ اسے نصیحت کرے، جو اس کے لیے رحمت کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے اس پر حجت قائم ہوگئی۔ ﴿ فَانۡتَهٰى ﴾ پس اس کے ڈرانے سے وہ سود لینے سے باز آگیا۔ اس گناہ سے رک گیا تو ﴿ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جو گزرا۔‘‘ یعنی یہ نصیحت کی بات پہنچنے سے پہلے اس نے جو غلط لین دین کیا وہ معاف ہوجائے گا۔ یہ نصیحت قبول کرنے کی جزا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو باز نہیں آئے گا، اسے پہلے اور پچھلے دونوں گناہوں کی سزا ملے گی۔ ﴿ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے۔‘‘ یعنی اسے سزا دینا اور مستقبل میں اس کے عمل دیکھنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور جس نے پھر بھی کیا‘‘ دوبارہ سود لیا، نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سود خوری پر اصرار کیا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ جہنمی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘ شرک کے علاوہ جن گناہوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی سزا مذکور ہے۔ ان کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ بہتر قول یہ ہے کہ جن اعمال کا نتیجہ اللہ نے دائمی جہنم مقرر کیاہے یہ اس کا سبب ہیں۔ لیکن سبب کے ساتھ اگر کوئی مانع نہ ہو تو نتیجہ ضرور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ توحید اور ایمان جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہیں۔ یعنی یہ عمل ایسا ہے کہ اگر بندہ توحید کا حامل نہ ہوتا تو یہی عمل اسے جہنم میں ہمیشہ رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔
[276] اس کے بعد فرمایا: ﴿ يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰؔوا ﴾ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے۔‘‘ یعنی اسے بھی اور اس کی برکت کو بھی ذاتی اور صفاتی طورپر ختم کرتا ہے۔ یہ آفات کا باعث بنتا ہے اور برکت چھن جانے کا سبب ہوتاہے۔ اگر اس (حرام کمائی) سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔ ﴿ وَيُرۡبِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی جس مال سے صدقہ دیا جائے اس میں برکت نازل فرماتا ہے اور ثواب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کے مال غیر شرعی طریقے سے لیتا ہے اس لیے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کامال تباہ ہوجائے اور جو شخص لوگوں پر کسی بھی انداز سے احسان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ سخی ہے۔ جس طرح اس شخص نے اس کے بندوں پر احسان کیا ہے، اللہ بھی اس پر احسان کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ﴾ ’’اور اللہ نہیں دوست رکھتا کسی ناشکرے کو۔‘‘ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے واجب کیے ہوئے صدقے اور زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ ’’اور گناہ گار کو‘‘ یعنی اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو اسے سزا ملنے کا باعث ہے۔
[279-277] اللہ تعالیٰ نے جب سود خوروں کا ذکر فرمایا۔ اور واضح ہے کہ اگر انھیں ایمان نافع حاصل ہوتا تو ان سے یہ جرم سرزد نہ ہوتا۔ تو اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا: ان کو ملنے والا ثواب بیان فرمایا: اور انھیں ایمان والے کہہ کر مخاطب فرمایا اور انھیں حکم دیا کہ سود لینا چھوڑ دیں اگر وہ مومن ہیں۔ ایسے لوگ ہی اللہ کی نصیحتیں قبول کرتے اور اس کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں تقویٰ کا حکم دیا ہے اور تقویٰ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ موجودہ لین دین کے سلسلے میں جو سود کسی کے ذمہ ہے اسے چھوڑ دیں، وصول نہ کریں۔ باقی رہا وہ سود جو پہلے لیا جاچکا ہے تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص نصیحت قبول کرکے آئندہ سود لینے سے اجتناب کرے گا، اس کا سابقہ گناہ معاف ہوجائے گا۔ اور جس نے اللہ کی نصیحت قبول نہ کی اور باز نہ آیا وہ اللہ کا مخالف اور اللہ سے جنگ کرنے والا ہے۔ بھلا ایک عاجز ضعیف بندہ اس رب کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ وہ ظالم کو مہلت تو دیتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں۔ ﴿ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ ﴾ ’’ہاں اگر تم (سود سے) توبہ کرلو‘‘ ﴿ فَلَكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ ’’تو تمھارے لیے تمھارا اصل مال ہے۔‘‘ یعنی وہ وصول کرلو ﴿ لَا تَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’نہ تم ظلم کرو۔‘‘ کہ اصل قرض سے زیادہ وصول کرو، جو سود ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ کہ تمھاری اصل رقم میں کمی کی جائے۔
[281,280]﴿ وَاِنۡ كَانَ ﴾ ’’اور اگر کوئی‘‘ مقروض ﴿ ذُوۡ عُسۡرَةٍ ﴾ ’’تنگی والا ہو‘‘ جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ﴾ ’’تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔‘‘ ﴿ وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
البقرة 2:282
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں معاملہ کرو ساتھ ادھار کے ایک وقت مقرر تک، تو لکھ لو اسے،اور چاہیے کہ لکھے تمھارے درمیان ایک کاتب ساتھ انصاف کے،اور نہ انکار کرے کاتب اس سے کہ لکھے وہ جس طرح سکھایا اسے اللہ نے، پس چاہیے کہ لکھے وہ، اور چاہیے کہ لکھوائے وہ شخص کہ اوپر اس کے حق(قرض) ہے،اور چاہیے کہ ڈرے وہ، اللہ اپنے رب سے،اور نہ کم کرے اس میں سے کوئی چیز، پھر اگر ہو وہ شخص کہ اوپر اس کے حق (قرض) ہے، بے وقوف یا ضعیف یا نہیں استطاعت رکھتا وہ اس بات کی کہ لکھوائے وہ خود، تو چاہیے کہ لکھوائے مختار اس (مقروض) کا ساتھ انصاف کے،اور گواہ بنا لو تم دو گواہ اپنے (مسلمان) مردوں میں سے، پس اگر نہ ہوں دو مرد تو (گواہی دیں) ایک مرد اور دو عورتیں، ان میں سے جنھیں تم پسند کرتے ہو گواہوں سے، (یہ اس سبب سے) کہ بھول جائے ایک عورت ان دو میں سے تو یاد کرا دے ایک ان میں سے دوسری کو،اور نہ انکار کریں گواہ جب وہ بلائے جائیں، اور نہ اکتاہٹ ہو تمھیں اس سے کہ لکھو تم اس کو، چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا، اس کے مقرر وقت تک، یہ (لکھنا) زیادہ قرین انصاف ہے نزدیک اللہ کے،اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو،اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ نہ شک میں پڑو تم، مگر یہ کہ ہو سودا ہاتھوں ہاتھ کہ لیتے دیتے ہو تم اسے آپس میں، تو نہیں تم پر کوئی گناہ یہ کہ نہ لکھو تم اس کو،اور گواہ بنا لو جب تم آپس میں سودا کرو،اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو،اور اگر تم ایسا کرو گے تو بے شک یہ نافرمانی ہے (جس کا گناہ ہوگا) تمھیں اور ڈرو اللہ سے،اور تمھیں سکھلاتا ہے اللہ، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(282)اور اگر ہو تم سفر میں اور نہ پاؤ تم کوئی کاتب، تو رہن (کے طور پر) قبضے میں دے دی جائے (کوئی چیز)، پس اگر امین سمجھے بعض تمھارا بعض کو تو چاہیے کہ ادا کر دے وہ شخص کہ جس کو امین سمجھا گیا ہے، امانت اس کی، اور چاہیے کہ ڈرے وہ اللہ سے اپنے رب سےاور نہ چھپاؤ تم گواہی کو،اور جو شخص چھپائے گا اس (گواہی) کو، تو بلاشبہ وہ شخص، گناہ گار ہے دل اس کا اور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے(283)
[282] یہ آیت ’’آیتِ دَیْن‘‘ (قرض کے مسائل والی آیت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بے شمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔ (۱) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کیے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ (۲۔۳) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہیے اس لیے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جبکہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (۴) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (۵) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (۶) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہیے، تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جاسکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (۷) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (۸) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لیے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے ﴿ وَلۡيَكۡتُبۡ بَّيۡنَؔكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمھارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے‘‘ (۹) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ کی ہو، تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ اگرچہ لکھنے والا اور گواہ فوت ہوچکے ہوں۔ (۱۰)اللہ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَاۡبَ كَاتِبٌ اَنۡ يَّؔكۡتُبَ ﴾ ’’اور کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے‘‘ یعنی جس پر اللہ نے یہ احسان کیا ہے کہ اسے لکھنے کا علم عطافرمایا ہے، اسے بھی اللہ کے ان بندوں پر احسان کرنا چاہیے جو اس سے لکھوانے کے محتاج ہیں۔ لہٰذا ان کو لکھ کر دینے سے انکار نہ کرے۔ (۱۱) کاتب کو حکم ہے کہ صرف وہی چیز لکھے، جس کو وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق ہے۔ (۱۲) فریقین میں سے لکھوانے کی ذمہ داری اس کی ہے جس کے ذمہ قرض ہے۔ (۱۳) اسے حکم ہے کہ پورا حق بیان کرے، اس میں کچھ نہ چھپائے۔ (۱۴) انسان کا اپنے بارے میں اقرار شرعاً معتبر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقروض کو حکم دیا ہے کہ وہ کاتب کو لکھوائے، جب وہ اس کے اقرار کے مطابق لکھے گا تو اس کا مضمون اور اس کے نتائج بھی معتبر ہوں گے۔ اگرچہ بعدمیں غلطی لگ جانے کا یا بھول جانے کا دعویٰ کرے۔ (۱۵) قول اس کا معتبر ہوگا جس کے ذمے کوئی حق ہے کہ بیع شدہ چیز کی مقدار، صفت، قلت، کثرت اور مقررہ مدت کیا ہے۔ جس کا حق ہے (قرض خواہ) اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا ہے کہ جتنا حق ہے، اس سے کم نہ لکھوائے، اس کی وجہ یہی ہے کہ مقدار اور وصف میں اس کا قول معتبر ہے۔ (۱۶) جس کے ذمہ حق ہے اس پر حرام ہے کہ مقدار میں، عمدگی اور ظاہری اچھائی میں یا مدت وغیرہ میں کمی کرے۔ (۱۷) جو شخص کسی عذر مثلاً کم سنی، کم عقلی، گونگا پن وغیرہ۔ کی وجہ سے خود نہ لکھوا سکے تو لکھوائے، اور اقرار کاکام اس کا سرپرست اس کا نائب ہونے کی حیثیت سے کرے گا۔ (۱۸) جو عدل اس پر واجب ہے جس کے ذمے حق ہے، وہی عدل اس کے سرپرست پر واجب ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’عدل کے ساتھ‘‘ (۱۹) سرپرست کا عادل ہونا شرط ہے۔ کیونکہ عدل کے ساتھ لکھوانا فاسق سے نہیں ہوسکتا۔ (۲۰) مالی معاملات میں سرپرستی کاثبوت۔ (۲۱) حق بچے، کم عقل، مجنون اور کمزور کے ذمے واجب ہوتا ہے اس کے سرپرست کے ذمے نہیں ہوتا۔ (۲۲) بچے، کم عقل، مجنون وغیرہ کا اقرار اور تصرف صحیح نہیں کیونکہ اللہ نے لکھوانے کی ذمہ داری ولی (سرپرست) پر ڈالی ہے۔ ان معذور افراد کے ذمہ نہیں۔ اس میں ان پر لطف و رحمت ہے، اور ان کے مال کا ضائع ہونے سے بچاؤ ہے۔ (۲۳) مذکورہ افراد کے مال میں ولی (سرپرست) کا تصرف (قانوناً) درست ہے۔ (۲۴) انسان کے لیے ایسے معاملات کا جاننا مشروع ہے جس سے قرض کا لین دین کرنے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد رہتا ہے۔ لہٰذا اصل مقصود معاملے کا قابل اعتبار رکھنا اور انصاف ہے۔ اور جس عمل کے بغیر مشروع کام پر عمل نہ کیا جاسکے، وہ عمل بھی مشروع ہوتا ہے۔ (۲۵)کتابت سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض وغیرہ کے معاملات لکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کام کتابت سیکھے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (۲۶) لین دین کے معاہدوں پر گواہ بنانا مشروع ہے۔ اور یہ مشروعیت مندوب کے درجے میں ہے۔ کیونکہ اس حکم کا مقصد حقوق کی حفاظت کا طریقہ بتانا ہے۔ اور اس میں آخر کار مکلف افراد ہی کا فائدہ ہے۔ ہاں اگر تصرف کرنے والا یتیم کا سرپرست ہو یا کسی وقف کا نگران ہو یا اسی قسم کا کوئی معاملہ ہو جس کی حفاظت واجب ہو۔ تب حق کو محفوظ رکھنے والی یہ گواہی واجب ہوجائے گی۔ (۲۷) مالی معاملات میں گواہوں کی کم از کم مطلوب تعداد یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی کی ایک قسم سے بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ (۲۸) بچوں کی گواہی معتبر نہیں۔ کیونکہ (رجل) ’’مرد‘‘ کے لفظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ (۲۹) مال وغیرہ کے معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مرد کے ساتھ ہی گواہ کے طورپر قبول کیا ہے۔ البتہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام اس حکمت کی وجہ سے قرار دیا ہے جو آیت میں مذکور ہے۔ اور یہ حکمت مرد کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ (۳۰) بالغ غلام کی گواہی بھی بالغ آزاد لوگوں کی طرح مقبول ہے، کیونکہ اللہ کے اس فرمان میں عموم ہے:﴿ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے مردوں میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔‘‘اور بالغ غلام ’’ہمارے مردوں‘‘ میں شامل ہے۔ (۳۱) غیر مسلم مرد ہوں یا عورتیں، ان کی گواہی قبول نہیں، کیونکہ وہ ہم میں شامل نہیں۔ علاوہ ازیں گواہی کا دارومدار ’’عدل‘‘ (نیک قابل اعتماد) ہونے پر ہے اور غیر مسلم ’’عدل‘‘ نہیں۔ (۳۲) اس سے مرد کا عورت سے افضل ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابلے میں رکھا گیا ہے کیونکہ مرد کا حافظہ مضبوط ہوتا ہے، عورت کا کمزور ۔ (۳۳) جو شخص گواہی بھول جائے اور اسے یاد دلانے پر یاد آجائے، تو اس کی گواہی قبول ہے کیونکہ ارشاد ہے:﴿ فَتُذَكِّرَ اِحۡدٰؔىهُمَا الۡاُخۡرٰى ﴾ ’’ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلادے‘‘ (۳۴) اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جب گواہ کو واجب حقوق سے تعلق رکھنے والی گواہی بھول جانے کا خطرہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ اسے لکھ لے۔ کیونکہ جس عمل کے بغیر واجب ادا نہ ہوسکے، وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ (۳۵) جب گواہ کو گواہی دینے کے لیے بلایا جائے تو اگر اسے کوئی عذر لاحق نہ ہو تو اسے گواہی دینا واجب ہے۔ اس سے انکار کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَا يَاۡبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ﴾ ’’اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔‘‘ (۳۶) جس شخص میں ایسی صفات موجود نہ ہوں جن کی بنیاد پر گواہی قبول کی جاتی ہے، تو اسے گواہی کے لیے حاضر ہونا واجب نہیں، کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور وہ گواہوں میں شامل بھی نہیں۔ (۳۷) قرض چھوٹے ہوں یا بڑے سب لکھنے چاہئیں۔ مدت اور شروط و قیود لکھنا بھی ضروری ہیں۔ اس سے اکتاہٹ کا اظہار کرنا ممنوع ہے۔ (۳۸) آیت معاملات میں تحریر اور گواہی کی حکمت بیان کرتی ہے۔ ارشاد ہے: ﴿ ذٰلِكُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدۡنٰۤى اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا ﴾ ’’اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف والی ہے اور گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے زیادہ بچانے والی ہے‘‘ یعنی اس میں انصاف پایا جاتا ہے جس سے بندوں کے اور سب کے معاملات درست رہتے ہیں اور تحریری شہادت زیادہ پختہ، زیادہ کامل، شک و شبہ سے زیادہ دور رکھنے والی۔ جھگڑے سے بچانے والی ہے۔ (۳۹) اس سے یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جسے گواہی میں شک ہوجائے، اسے گواہی دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے لیے یقین ضروری ہے۔ (۴۰) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيۡرُوۡنَهَا بَيۡنَؔكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَكۡتُبُوۡهَا ﴾ اگر تجارت دست بدست اور نقد ہو تو نہ لکھنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ اس میں تحریر کی ضرورت اتنی شدید نہیں۔ (۴۱)نقد لین دین میں تحریر نہ کرنا تو جائز ہے۔ تاہم اس میں گواہ بنانا مشروع ہے کیونکہ فرمایا: ﴿ وَاَشۡهِدُوۡۤا اِذَا تَبَايَعۡتُمۡ ﴾ ’’خریدوفروخت کے وقت گواہ مقرر کرلیا کرو۔‘‘ (۴۲) کاتب کو تنگ کرنا منع ہے۔ مثلاً اسے اس وقت طلب کیا جائے جب وہ کسی اور کا م میں مشغول ہو یا جس وقت اسے حاضر ہونے میں مشقت ہو۔ (۴۳)گواہ کو بھی تنگ کرنا منع ہے مثلاً اسے اس وقت گواہ بننے کے لیے یا گواہی دینے کے لیے بلایا جائے جب وہ بیمار ہو یا ایسے کام میں مشغول ہو، جسے چھوڑ کر آنے میں پریشانی اور مشقت ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب ﴿ وَلَا يُضَآرَّؔ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيۡدٌ ﴾ ’’نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو‘‘ میں لفظ (یُضَآرُّ) کو مجہول قرار دیا جائے۔ اور اگر اسے فعل معروف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ گواہ اور کاتب کے لیے صاحب حق کو تنگ کرنے کے لیے گواہی یا کتابت سے انکار کرنا یا بہت زیادہ اجرت طلب کرنا منع ہے، اس صورت میں انھیں فائدہ نمبر۴۴ اور نمبر۴۵ شمار کیا جاسکتا ہے۔ (۴۶) ان حرام کاموں کا ارتکاب فسق ہے کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌۢ بِكُمۡ ﴾ ’’اگر تم یہ کرو تو یہ تمھاری کھلی نافرمانی ہے۔‘‘ (۴۷) فسق، ایمان، نفاق، عداوت، محبت وغیرہ جیسے اوصاف کسی بھی انسان میں کم یا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک آدمی میں فسق وغیرہ کا مادہ موجود ہو اور اسی طرح ایمان یا کفر کا مادہ موجود ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌۢ بِكُمۡ ﴾ ’’یہ تمھارے اندر نافرمانی ہے‘‘ یہ نہیں فرمایا: (فَأَنْتُمْ فَاسِقُونَ) ’’تم فاسق ہو‘‘ (۴۸) یہ نکتہ پہلے بیان ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہاں اس کی مناسب جگہ تھی۔ وہ یہ ہے کہ گواہ عادل (نیک اور قابل اعتماد) ہونا چاہیے کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ ﴾ ’’جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرو۔‘‘ (۴۹) عدالت (قابل اعتماد ہونا)، اس میں ہر زمانے اور ہر مقام کا عرف معتبر ہے۔ جو شخص لوگوں کے نزدیک قابل اعتبار ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (۵۰) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا عادل یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو۔ اس کی گواہی بھی قبول نہیں، حتیٰ کہ اس کے نیک ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ موجود حالات میں ناقص سمجھ کے مطابق یہ مسائل اخذ کیے گئے ہیں۔ اللہ کے کلام میں اور بہت سی حکمتیں اور اسرار ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ان کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
[283] آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو، ﴿ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا ﴾ ’’اور تمھیں کاتب نہ ملے‘‘ جو تمھارے لیے تحریر لکھ دے، جس سے بات پکی اور قابل اعتماد ہوجائے ﴿ فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ﴾ ’’تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو۔‘‘ صاحب حق (قرض خواہ) اسے قبضہ میں رکھے، اور یہ اس کے اطمینان کا باعث (اور ضمانت کے طورپر) رہے حتیٰ کہ اس کا حق (قرض) اسے واپس مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) پر قرض خواہ کا قبضہ نہ ہو تو اس سے ضمانت نہیں بنتی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر راہن (رہن والی چیز کا مالک) اور مرتہن (رہن رکھ کر قرض دینے والا) رہن شدہ چیز کی مقدار میں اختلاف کریں تو مرتہن کا قول قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے اعتبار کے لے رہن کو تحریر کا قائم مقام بنا دیا ہے۔ اگر رہن شدہ چیز کی قیمت کے بارے میں مرتہن کی بات نہ مانی جائے تو رہن کا مقصود (اعتماد اور اطمینان) حاصل نہیں ہوگا۔ کیونکہ رہن کا مقصد اعتماد و اعتبار ہے، اس لیے یہ سفر اور حضر (دونوں صورتوں) میں جائز ہے۔ آیت میں سفر کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت سفر میں زیادہ پیش آسکتی ہے کیونکہ سفر میں ہوسکتا ہے کاتب میسر نہ ہو۔ یہ حکم تب ہے کہ جب صاحب حق (قرض خواہ) اپنے حق (قرض) کے بارے میں تسلی کرنا چاہتا ہے۔ اگر صاحب حق کو مقروض سے کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ بغیر رہن کے معاملہ کرنا چاہے تو مقروض کو چاہیے کہ قرض پورا پورا ادا کرے۔ نہ ظلم کرے نہ اس کی حق تلفی کرے ﴿وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔‘‘ حق ادا کرے۔ اور جس نے اس کے بارے میں حسن ظن رکھا۔ اس کی نیکی کا اچھا بدلہ دے۔ ﴿ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ﴾ ’’اور گواہی کو مت چھپاؤ۔‘‘ کیونکہ حق کا دارومدار گواہی پر ہے۔ اس کے بغیر حق ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسے چھپانا عظیم ترین گناہ ہے۔ کیونکہ اس نے سچی بات بتانے کا فریضہ ترک کرکے جھوٹ بولا۔ جس کے نتیجے میں حق والے کا حق مارا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَؔ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور جو کوئی اسے چھپالے، وہ گناہ گار دل والا ہے۔ اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ اللہ نے ا پنے بندوں کو یہ جو عمدہ مسائل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل کریں تو ان کا دین درست ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور جائے۔ کیونکہ ان میں انصاف، فائدہ، حقوق کی حفاظت اور لڑائی جھگڑے کا خاتمہ، اور معاشی معاملات کی درستی پائی جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے جیسے اس کے چہرہ اقدس کے جلال اور عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ ہم اس کی کماحقہ تعریف کرنے سے قاصر ہیں۔
البقرة 2:283
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں معاملہ کرو ساتھ ادھار کے ایک وقت مقرر تک، تو لکھ لو اسے،اور چاہیے کہ لکھے تمھارے درمیان ایک کاتب ساتھ انصاف کے،اور نہ انکار کرے کاتب اس سے کہ لکھے وہ جس طرح سکھایا اسے اللہ نے، پس چاہیے کہ لکھے وہ، اور چاہیے کہ لکھوائے وہ شخص کہ اوپر اس کے حق(قرض) ہے،اور چاہیے کہ ڈرے وہ، اللہ اپنے رب سے،اور نہ کم کرے اس میں سے کوئی چیز، پھر اگر ہو وہ شخص کہ اوپر اس کے حق (قرض) ہے، بے وقوف یا ضعیف یا نہیں استطاعت رکھتا وہ اس بات کی کہ لکھوائے وہ خود، تو چاہیے کہ لکھوائے مختار اس (مقروض) کا ساتھ انصاف کے،اور گواہ بنا لو تم دو گواہ اپنے (مسلمان) مردوں میں سے، پس اگر نہ ہوں دو مرد تو (گواہی دیں) ایک مرد اور دو عورتیں، ان میں سے جنھیں تم پسند کرتے ہو گواہوں سے، (یہ اس سبب سے) کہ بھول جائے ایک عورت ان دو میں سے تو یاد کرا دے ایک ان میں سے دوسری کو،اور نہ انکار کریں گواہ جب وہ بلائے جائیں، اور نہ اکتاہٹ ہو تمھیں اس سے کہ لکھو تم اس کو، چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا، اس کے مقرر وقت تک، یہ (لکھنا) زیادہ قرین انصاف ہے نزدیک اللہ کے،اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو،اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ نہ شک میں پڑو تم، مگر یہ کہ ہو سودا ہاتھوں ہاتھ کہ لیتے دیتے ہو تم اسے آپس میں، تو نہیں تم پر کوئی گناہ یہ کہ نہ لکھو تم اس کو،اور گواہ بنا لو جب تم آپس میں سودا کرو،اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو،اور اگر تم ایسا کرو گے تو بے شک یہ نافرمانی ہے (جس کا گناہ ہوگا) تمھیں اور ڈرو اللہ سے،اور تمھیں سکھلاتا ہے اللہ، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(282)اور اگر ہو تم سفر میں اور نہ پاؤ تم کوئی کاتب، تو رہن (کے طور پر) قبضے میں دے دی جائے (کوئی چیز)، پس اگر امین سمجھے بعض تمھارا بعض کو تو چاہیے کہ ادا کر دے وہ شخص کہ جس کو امین سمجھا گیا ہے، امانت اس کی، اور چاہیے کہ ڈرے وہ اللہ سے اپنے رب سےاور نہ چھپاؤ تم گواہی کو،اور جو شخص چھپائے گا اس (گواہی) کو، تو بلاشبہ وہ شخص، گناہ گار ہے دل اس کا اور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے(283)
[282] یہ آیت ’’آیتِ دَیْن‘‘ (قرض کے مسائل والی آیت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بے شمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔ (۱) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کیے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ (۲۔۳) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہیے اس لیے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جبکہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (۴) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (۵) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (۶) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہیے، تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جاسکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (۷) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (۸) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لیے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے ﴿ وَلۡيَكۡتُبۡ بَّيۡنَؔكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمھارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے‘‘ (۹) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ کی ہو، تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ اگرچہ لکھنے والا اور گواہ فوت ہوچکے ہوں۔ (۱۰)اللہ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَاۡبَ كَاتِبٌ اَنۡ يَّؔكۡتُبَ ﴾ ’’اور کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے‘‘ یعنی جس پر اللہ نے یہ احسان کیا ہے کہ اسے لکھنے کا علم عطافرمایا ہے، اسے بھی اللہ کے ان بندوں پر احسان کرنا چاہیے جو اس سے لکھوانے کے محتاج ہیں۔ لہٰذا ان کو لکھ کر دینے سے انکار نہ کرے۔ (۱۱) کاتب کو حکم ہے کہ صرف وہی چیز لکھے، جس کو وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق ہے۔ (۱۲) فریقین میں سے لکھوانے کی ذمہ داری اس کی ہے جس کے ذمہ قرض ہے۔ (۱۳) اسے حکم ہے کہ پورا حق بیان کرے، اس میں کچھ نہ چھپائے۔ (۱۴) انسان کا اپنے بارے میں اقرار شرعاً معتبر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقروض کو حکم دیا ہے کہ وہ کاتب کو لکھوائے، جب وہ اس کے اقرار کے مطابق لکھے گا تو اس کا مضمون اور اس کے نتائج بھی معتبر ہوں گے۔ اگرچہ بعدمیں غلطی لگ جانے کا یا بھول جانے کا دعویٰ کرے۔ (۱۵) قول اس کا معتبر ہوگا جس کے ذمے کوئی حق ہے کہ بیع شدہ چیز کی مقدار، صفت، قلت، کثرت اور مقررہ مدت کیا ہے۔ جس کا حق ہے (قرض خواہ) اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا ہے کہ جتنا حق ہے، اس سے کم نہ لکھوائے، اس کی وجہ یہی ہے کہ مقدار اور وصف میں اس کا قول معتبر ہے۔ (۱۶) جس کے ذمہ حق ہے اس پر حرام ہے کہ مقدار میں، عمدگی اور ظاہری اچھائی میں یا مدت وغیرہ میں کمی کرے۔ (۱۷) جو شخص کسی عذر مثلاً کم سنی، کم عقلی، گونگا پن وغیرہ۔ کی وجہ سے خود نہ لکھوا سکے تو لکھوائے، اور اقرار کاکام اس کا سرپرست اس کا نائب ہونے کی حیثیت سے کرے گا۔ (۱۸) جو عدل اس پر واجب ہے جس کے ذمے حق ہے، وہی عدل اس کے سرپرست پر واجب ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’عدل کے ساتھ‘‘ (۱۹) سرپرست کا عادل ہونا شرط ہے۔ کیونکہ عدل کے ساتھ لکھوانا فاسق سے نہیں ہوسکتا۔ (۲۰) مالی معاملات میں سرپرستی کاثبوت۔ (۲۱) حق بچے، کم عقل، مجنون اور کمزور کے ذمے واجب ہوتا ہے اس کے سرپرست کے ذمے نہیں ہوتا۔ (۲۲) بچے، کم عقل، مجنون وغیرہ کا اقرار اور تصرف صحیح نہیں کیونکہ اللہ نے لکھوانے کی ذمہ داری ولی (سرپرست) پر ڈالی ہے۔ ان معذور افراد کے ذمہ نہیں۔ اس میں ان پر لطف و رحمت ہے، اور ان کے مال کا ضائع ہونے سے بچاؤ ہے۔ (۲۳) مذکورہ افراد کے مال میں ولی (سرپرست) کا تصرف (قانوناً) درست ہے۔ (۲۴) انسان کے لیے ایسے معاملات کا جاننا مشروع ہے جس سے قرض کا لین دین کرنے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد رہتا ہے۔ لہٰذا اصل مقصود معاملے کا قابل اعتبار رکھنا اور انصاف ہے۔ اور جس عمل کے بغیر مشروع کام پر عمل نہ کیا جاسکے، وہ عمل بھی مشروع ہوتا ہے۔ (۲۵)کتابت سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض وغیرہ کے معاملات لکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کام کتابت سیکھے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (۲۶) لین دین کے معاہدوں پر گواہ بنانا مشروع ہے۔ اور یہ مشروعیت مندوب کے درجے میں ہے۔ کیونکہ اس حکم کا مقصد حقوق کی حفاظت کا طریقہ بتانا ہے۔ اور اس میں آخر کار مکلف افراد ہی کا فائدہ ہے۔ ہاں اگر تصرف کرنے والا یتیم کا سرپرست ہو یا کسی وقف کا نگران ہو یا اسی قسم کا کوئی معاملہ ہو جس کی حفاظت واجب ہو۔ تب حق کو محفوظ رکھنے والی یہ گواہی واجب ہوجائے گی۔ (۲۷) مالی معاملات میں گواہوں کی کم از کم مطلوب تعداد یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی کی ایک قسم سے بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ (۲۸) بچوں کی گواہی معتبر نہیں۔ کیونکہ (رجل) ’’مرد‘‘ کے لفظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ (۲۹) مال وغیرہ کے معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مرد کے ساتھ ہی گواہ کے طورپر قبول کیا ہے۔ البتہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام اس حکمت کی وجہ سے قرار دیا ہے جو آیت میں مذکور ہے۔ اور یہ حکمت مرد کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ (۳۰) بالغ غلام کی گواہی بھی بالغ آزاد لوگوں کی طرح مقبول ہے، کیونکہ اللہ کے اس فرمان میں عموم ہے:﴿ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے مردوں میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔‘‘اور بالغ غلام ’’ہمارے مردوں‘‘ میں شامل ہے۔ (۳۱) غیر مسلم مرد ہوں یا عورتیں، ان کی گواہی قبول نہیں، کیونکہ وہ ہم میں شامل نہیں۔ علاوہ ازیں گواہی کا دارومدار ’’عدل‘‘ (نیک قابل اعتماد) ہونے پر ہے اور غیر مسلم ’’عدل‘‘ نہیں۔ (۳۲) اس سے مرد کا عورت سے افضل ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابلے میں رکھا گیا ہے کیونکہ مرد کا حافظہ مضبوط ہوتا ہے، عورت کا کمزور ۔ (۳۳) جو شخص گواہی بھول جائے اور اسے یاد دلانے پر یاد آجائے، تو اس کی گواہی قبول ہے کیونکہ ارشاد ہے:﴿ فَتُذَكِّرَ اِحۡدٰؔىهُمَا الۡاُخۡرٰى ﴾ ’’ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلادے‘‘ (۳۴) اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جب گواہ کو واجب حقوق سے تعلق رکھنے والی گواہی بھول جانے کا خطرہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ اسے لکھ لے۔ کیونکہ جس عمل کے بغیر واجب ادا نہ ہوسکے، وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ (۳۵) جب گواہ کو گواہی دینے کے لیے بلایا جائے تو اگر اسے کوئی عذر لاحق نہ ہو تو اسے گواہی دینا واجب ہے۔ اس سے انکار کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَا يَاۡبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ﴾ ’’اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔‘‘ (۳۶) جس شخص میں ایسی صفات موجود نہ ہوں جن کی بنیاد پر گواہی قبول کی جاتی ہے، تو اسے گواہی کے لیے حاضر ہونا واجب نہیں، کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور وہ گواہوں میں شامل بھی نہیں۔ (۳۷) قرض چھوٹے ہوں یا بڑے سب لکھنے چاہئیں۔ مدت اور شروط و قیود لکھنا بھی ضروری ہیں۔ اس سے اکتاہٹ کا اظہار کرنا ممنوع ہے۔ (۳۸) آیت معاملات میں تحریر اور گواہی کی حکمت بیان کرتی ہے۔ ارشاد ہے: ﴿ ذٰلِكُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدۡنٰۤى اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا ﴾ ’’اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف والی ہے اور گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے زیادہ بچانے والی ہے‘‘ یعنی اس میں انصاف پایا جاتا ہے جس سے بندوں کے اور سب کے معاملات درست رہتے ہیں اور تحریری شہادت زیادہ پختہ، زیادہ کامل، شک و شبہ سے زیادہ دور رکھنے والی۔ جھگڑے سے بچانے والی ہے۔ (۳۹) اس سے یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جسے گواہی میں شک ہوجائے، اسے گواہی دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے لیے یقین ضروری ہے۔ (۴۰) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيۡرُوۡنَهَا بَيۡنَؔكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَكۡتُبُوۡهَا ﴾ اگر تجارت دست بدست اور نقد ہو تو نہ لکھنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ اس میں تحریر کی ضرورت اتنی شدید نہیں۔ (۴۱)نقد لین دین میں تحریر نہ کرنا تو جائز ہے۔ تاہم اس میں گواہ بنانا مشروع ہے کیونکہ فرمایا: ﴿ وَاَشۡهِدُوۡۤا اِذَا تَبَايَعۡتُمۡ ﴾ ’’خریدوفروخت کے وقت گواہ مقرر کرلیا کرو۔‘‘ (۴۲) کاتب کو تنگ کرنا منع ہے۔ مثلاً اسے اس وقت طلب کیا جائے جب وہ کسی اور کا م میں مشغول ہو یا جس وقت اسے حاضر ہونے میں مشقت ہو۔ (۴۳)گواہ کو بھی تنگ کرنا منع ہے مثلاً اسے اس وقت گواہ بننے کے لیے یا گواہی دینے کے لیے بلایا جائے جب وہ بیمار ہو یا ایسے کام میں مشغول ہو، جسے چھوڑ کر آنے میں پریشانی اور مشقت ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب ﴿ وَلَا يُضَآرَّؔ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيۡدٌ ﴾ ’’نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو‘‘ میں لفظ (یُضَآرُّ) کو مجہول قرار دیا جائے۔ اور اگر اسے فعل معروف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ گواہ اور کاتب کے لیے صاحب حق کو تنگ کرنے کے لیے گواہی یا کتابت سے انکار کرنا یا بہت زیادہ اجرت طلب کرنا منع ہے، اس صورت میں انھیں فائدہ نمبر۴۴ اور نمبر۴۵ شمار کیا جاسکتا ہے۔ (۴۶) ان حرام کاموں کا ارتکاب فسق ہے کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌۢ بِكُمۡ ﴾ ’’اگر تم یہ کرو تو یہ تمھاری کھلی نافرمانی ہے۔‘‘ (۴۷) فسق، ایمان، نفاق، عداوت، محبت وغیرہ جیسے اوصاف کسی بھی انسان میں کم یا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک آدمی میں فسق وغیرہ کا مادہ موجود ہو اور اسی طرح ایمان یا کفر کا مادہ موجود ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌۢ بِكُمۡ ﴾ ’’یہ تمھارے اندر نافرمانی ہے‘‘ یہ نہیں فرمایا: (فَأَنْتُمْ فَاسِقُونَ) ’’تم فاسق ہو‘‘ (۴۸) یہ نکتہ پہلے بیان ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہاں اس کی مناسب جگہ تھی۔ وہ یہ ہے کہ گواہ عادل (نیک اور قابل اعتماد) ہونا چاہیے کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ ﴾ ’’جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرو۔‘‘ (۴۹) عدالت (قابل اعتماد ہونا)، اس میں ہر زمانے اور ہر مقام کا عرف معتبر ہے۔ جو شخص لوگوں کے نزدیک قابل اعتبار ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (۵۰) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا عادل یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو۔ اس کی گواہی بھی قبول نہیں، حتیٰ کہ اس کے نیک ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ موجود حالات میں ناقص سمجھ کے مطابق یہ مسائل اخذ کیے گئے ہیں۔ اللہ کے کلام میں اور بہت سی حکمتیں اور اسرار ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ان کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
[283] آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو، ﴿ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا ﴾ ’’اور تمھیں کاتب نہ ملے‘‘ جو تمھارے لیے تحریر لکھ دے، جس سے بات پکی اور قابل اعتماد ہوجائے ﴿ فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ﴾ ’’تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو۔‘‘ صاحب حق (قرض خواہ) اسے قبضہ میں رکھے، اور یہ اس کے اطمینان کا باعث (اور ضمانت کے طورپر) رہے حتیٰ کہ اس کا حق (قرض) اسے واپس مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) پر قرض خواہ کا قبضہ نہ ہو تو اس سے ضمانت نہیں بنتی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر راہن (رہن والی چیز کا مالک) اور مرتہن (رہن رکھ کر قرض دینے والا) رہن شدہ چیز کی مقدار میں اختلاف کریں تو مرتہن کا قول قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے اعتبار کے لے رہن کو تحریر کا قائم مقام بنا دیا ہے۔ اگر رہن شدہ چیز کی قیمت کے بارے میں مرتہن کی بات نہ مانی جائے تو رہن کا مقصود (اعتماد اور اطمینان) حاصل نہیں ہوگا۔ کیونکہ رہن کا مقصد اعتماد و اعتبار ہے، اس لیے یہ سفر اور حضر (دونوں صورتوں) میں جائز ہے۔ آیت میں سفر کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت سفر میں زیادہ پیش آسکتی ہے کیونکہ سفر میں ہوسکتا ہے کاتب میسر نہ ہو۔ یہ حکم تب ہے کہ جب صاحب حق (قرض خواہ) اپنے حق (قرض) کے بارے میں تسلی کرنا چاہتا ہے۔ اگر صاحب حق کو مقروض سے کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ بغیر رہن کے معاملہ کرنا چاہے تو مقروض کو چاہیے کہ قرض پورا پورا ادا کرے۔ نہ ظلم کرے نہ اس کی حق تلفی کرے ﴿وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔‘‘ حق ادا کرے۔ اور جس نے اس کے بارے میں حسن ظن رکھا۔ اس کی نیکی کا اچھا بدلہ دے۔ ﴿ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ﴾ ’’اور گواہی کو مت چھپاؤ۔‘‘ کیونکہ حق کا دارومدار گواہی پر ہے۔ اس کے بغیر حق ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسے چھپانا عظیم ترین گناہ ہے۔ کیونکہ اس نے سچی بات بتانے کا فریضہ ترک کرکے جھوٹ بولا۔ جس کے نتیجے میں حق والے کا حق مارا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَؔ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور جو کوئی اسے چھپالے، وہ گناہ گار دل والا ہے۔ اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ اللہ نے ا پنے بندوں کو یہ جو عمدہ مسائل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل کریں تو ان کا دین درست ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور جائے۔ کیونکہ ان میں انصاف، فائدہ، حقوق کی حفاظت اور لڑائی جھگڑے کا خاتمہ، اور معاشی معاملات کی درستی پائی جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے جیسے اس کے چہرہ اقدس کے جلال اور عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ ہم اس کی کماحقہ تعریف کرنے سے قاصر ہیں۔
البقرة 2:284
اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،اور اگر ظاہر کرو تم اس کو جو تمھارے دلوں میں ہے یا چھپاؤ تم اس کو، حساب لے گا تم سے اس کا اللہ، پھر بخش دے گا وہ جس کو چاہے گا اور عذاب دے گا جس کو چاہے گااور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(284)
[284] اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کو اسی نے پیدا کیا، رزق دیا، ان کے دینی اور دنیوی فوائد کا بندوبست فرمایا۔ چنانچہ وہ سب اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لیے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا، نہ موت کا نہ حیات کا، نہ مر کر جینے کا۔ وہ ان کا رب ہے، ان کا مالک ہے، جو اپنی حکمت، عدل اور احسان کے مطابق ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس نے انھیں کچھ کاموں کاحکم دیاہے، کچھ کاموں سے منع فرمایا۔ لہٰذا وہ ان سے اس کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا۔ ﴿ فَيَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’پھر جسے چاہے گا بخشے گا۔‘‘ یعنی جس کے پاس مغفرت کے اسباب موجود ہوں گے۔ ﴿ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔‘‘ اسے ان گناہوں کی سزا ملے گی، جن کی معافی کے اسباب حاصل نہیں ہوئے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز اس کے بس سے باہر نہیں۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کے غلبہ، مشیت، تقدیر اور جزا و سزا کے قوانین کے ماتحت ہیں۔
البقرة 2:285
ایمان لائے رسول(ﷺ) ساتھ اس (کتاب) کے جو نازل کی گئی ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اور سارے مومن بھی، سب ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور اس کے فرشتوں کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے، (کہتے ہیں) ہم نہیں تفریق کرتے درمیان کسی کے، اس کے رسولوں میں سےاور کہا انھوں نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے، (ہم طلب کرتے ہیں) تیری مغفرت، اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف ہے لوٹنا(285)نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق ہی، واسطے اسی کے ہے جو کمائی اس نے (بھلائی)،اور اسی پر ہے وبال جو کمائی اس نے (برائی)، اے ہمارے رب! نہ مؤاخذہ کرنا ہمارا اگر ہم بھول جائیں یا ہم چوک جائیں، اے ہمارے رب! نہ ڈالیو ہم پر ایسا بھاری بوجھ جیسا کہ ڈالا تھا تونے وہ اوپر ان لوگوں کے جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور نہ اٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ نہیں طاقت ہمیں اس (کے اٹھانے) کی اور درگزر فرما ہم سےاور بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر تو ہی کارساز ہے ہمارا، پس تو مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(286)
[286,285] اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیاہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، رسولوں کی بتائی ہوئی اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں موجود تمام خبروں اور احکامات پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔ مومن رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں (جن کے ذریعے ہمیں اللہ کے اوامر و نواہی کاعلم ہوتا ہے) لہٰذا کسی نبی کا انکار کرنا تمام نبیوں کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا ﴾ ’’انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا۔‘‘ یعنی اے اللہ تونے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا ہے، اور جن سے منع کیا ہے، ہم نے انھیں توجہ سے سن لیا ہے ﴿ وَاَطَعۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے اطاعت کی‘‘ یہ تمام احکام تسلیم کرلیے۔ ان لوگوں میں شامل نہیں ہوئے جنھوں نے کہا تھا: ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾(البقرۃ:2؍93)’’ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔‘‘ کیونکہ بندے سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ اس کی مغفرت کی ضرورت رہتی ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں ﴿غُفۡرَانَكَ ﴾ ’’تیری بخشش‘‘ یعنی ہم سے جو کوتاہی اور گناہ ہوئے ہیں، ہم تجھ سے ان کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ہم جن عیوب میں ملوث ہوئے ہیں، ان گناہوں کو مٹا دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات واپس تیرے پاس ہی پہنچیں گی، پھر تو ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ۔ اللہ اس کاحساب تم سے لے گا‘‘ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انھوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں یا عارضی خیالات، دل میں جاگزین ہوں یا آکر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہو۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ﴾(الحج:22؍78)’’اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی‘‘ اوامر و نواہی بنیادی طورپر ایسے نہیں جو انسانوں کے لیے انتہائی دشوار ہوں۔ بلکہ یہ تو روح کی غذا، بدن کی دوا اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ اللہ نے بندوں کو جن کاموں کا حکم دیا ہے، وہ رحمت اور احسان کی بنا پر دیا ہے۔ اس کے باوجود جب کوئی عذر پیش آجائے جس سے مشقت کا اندیشہ ہو تو اللہ تعالیٰ تخفیف اور آسانی فرما دیتا ہے۔ کبھی تو اس عمل کو مکلف کے ذمہ سے مکمل طورپر ساقط فرما دیتا ہے۔ کبھی اس کا کچھ حصہ معاف کردیتا ہے۔ جیسے بیمار اور مسافر کے لیے بعض احکام میں تخفیف کردی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہر کسی کو وہی نیکی ملے گی جو اس نے کمائی، اور اس کے ذمے وہی گناہ لکھا جائے گا جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور کسی کی وجہ سے دوسرے کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ نیکی میں (کَسَبَتْ) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو نیکی معمولی سی کوشش سے بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات صرف نیت کی وجہ سے ہی ثواب مل جاتا ہے۔ جبکہ گناہ کے لیے (اکْتَسَبَتْ) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ انسان کے ذمے گناہ اس وقت تک نہیں لکھا جاتا، جب تک وہ اس کا ارتکاب نہ کرلے اور اس کی کوشش نہ کی جائے۔ جب اللہ نے رسول اور مومنوں کے ایمان کا ذکر فرمایا، اور بتایا کہ انسان سے کوتاہی، غلطی اور بھول چوک کا صدور ممکن ہے اور یہ بتایا کہ اس نے ہمیں صرف ایسے اعمال کا حکم دیا ہے جس کو انجام دینے کی طاقت ہم میں موجود ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ مومن بھی یہ دعا کرتے ہیں۔ نبیﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کرکے فرمایا: ’’میں نے یہ کردیا۔‘‘ ارشاد ہے: ﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّؔسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطاکی ہو، تو ہمیں نہ پکڑنا‘‘ بھول اور غلطی میں فرق یہ ہے کہ نسیان (بھول) کا مطلب ہوتا ہے، مامور کام کا دل سے فراموش ہو جانا، اور بھول جانے کی وجہ سے اس عمل کا چھوٹ جانا۔ خطا (غلطی) یہ ہوتی ہے کہ انسان ایک جائز کام کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کام اس انداز سے واقع ہوجائے جو جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحمت اور احسان فرماتے ہوئے اس سے واقع ہونے والے یہ دونوں طرح کے کام معاف فرما دیے۔ اس اصول کی روشنی میں کہا جاتا ہے کہ جو شخص چھینے ہوئے یا ناپاک کپڑے پہن کر نماز پڑھے۔ بدن پر سے نجاست دور کرنا بھول گیا ہو یا نماز کے دوران بھول کر کسی سے بات کرلے۔ یا روزے کے دوران بھول کر کچھ کھالے یا احرام کے دوران بھول کر کوئی ممنوع کام کرلے، بشرطیکہ اس میں کسی جان دار کی ہلاکت شامل نہ ہو، تو اس کی یہ غلطیاں معاف ہیں۔ اسی طرح اگر ایک کام نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہو، پھر بھول کر وہ کام کرلے۔ اس طرح اگر غلطی سے کسی کی جان یا مال کا نقصان کر بیٹھے تو اس کو گناہ نہیں ہوگا۔ نقصان پورا کرنے کے لیے ادائیگی کرنے کا تعلق نقصان کرنے سے ہے (ارادہ یا بھول وغیرہ سے نہیں) اس طرح جن موقعوں پر بسم اللہ پڑھنا واجب ہے۔ اگر وہاں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کام درست سمجھا جائے گا۔ ﴿ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘‘ اس سے مشکل احکام مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول فرمالی۔ اور اس امت پر طہارت اور عبادت کے مسائل میں ایسی نرمی فرمادی، جو کسی اور امت پر نہیں فرمائی تھی۔ ﴿ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو‘‘ اللہ نے یہ درخواست بھی قبول فرمالی۔ ولہ الحمد ﴿ وَاعۡفُ عَنَّا١ٙ وَاغۡفِرۡ لَنَا١ٙ وَارۡحَمۡنَا١ٙ ﴾ ’’اور ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر‘‘ معافی اور بخشش کے نتیجے میں مصائب اور شر دور ہوتے ہیں۔ اور رحمت کے نتیجے میں معاملات درست ہوتے ہیں۔ ﴿ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا ﴾ ’’تو ہمارا مولیٰ ہے‘‘ یعنی ہمارا رب، ہمارا بادشاہ اور ہمارا معبود ہے۔ جب سے تونے ہمیں پیدا فرمایا تیری مدد اور توفیق ہمیں حاصل رہی ہے۔ تیری نعمتیں ہر وقت مسلسل ہمیں مل رہی ہیں۔ پھر تونے ہم پر ایک عظیم احسان کیا کہ اسلام کی نعمت عطا فرمادی۔ باقی سب نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اے ہمارے مالک اور ہمارے مولیٰ ہم تجھ سے اس نعمت کی تکمیل کا سوال کرتے ہیں کہ ان کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما جنھوں نے تیرے ساتھ کفر کیا، تیرے نبیوں کا انکار کیا، تیرا دین ماننے والوں سے مقابلہ کیا،تیرے احکامات کو پس پشت ڈالا۔ لہٰذا دلیل و برہان اور شمشیر و سنان کے ساتھ ہماری مدد فرما۔ ہمیں زمین میں شوکت عطا فرما۔ ان کو ذلیل کردے۔ ہمیں ایسا ایمان اور ایسے اعمال نصیب فرما، جن کی برکت سے فتح حاصل ہوتی ہے۔ آمِّینَ وَالْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔
البقرة 2:286
ایمان لائے رسول(ﷺ) ساتھ اس (کتاب) کے جو نازل کی گئی ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اور سارے مومن بھی، سب ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور اس کے فرشتوں کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے، (کہتے ہیں) ہم نہیں تفریق کرتے درمیان کسی کے، اس کے رسولوں میں سےاور کہا انھوں نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے، (ہم طلب کرتے ہیں) تیری مغفرت، اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف ہے لوٹنا(285)نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق ہی، واسطے اسی کے ہے جو کمائی اس نے (بھلائی)،اور اسی پر ہے وبال جو کمائی اس نے (برائی)، اے ہمارے رب! نہ مؤاخذہ کرنا ہمارا اگر ہم بھول جائیں یا ہم چوک جائیں، اے ہمارے رب! نہ ڈالیو ہم پر ایسا بھاری بوجھ جیسا کہ ڈالا تھا تونے وہ اوپر ان لوگوں کے جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور نہ اٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ نہیں طاقت ہمیں اس (کے اٹھانے) کی اور درگزر فرما ہم سےاور بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر تو ہی کارساز ہے ہمارا، پس تو مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(286)
[286,285] اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیاہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، رسولوں کی بتائی ہوئی اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں موجود تمام خبروں اور احکامات پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔ مومن رسولوں میں تفریق نہیں کرتے، بلکہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہیں (جن کے ذریعے ہمیں اللہ کے اوامر و نواہی کاعلم ہوتا ہے) لہٰذا کسی نبی کا انکار کرنا تمام نبیوں کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا ﴾ ’’انھوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا۔‘‘ یعنی اے اللہ تونے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا ہے، اور جن سے منع کیا ہے، ہم نے انھیں توجہ سے سن لیا ہے ﴿ وَاَطَعۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے اطاعت کی‘‘ یہ تمام احکام تسلیم کرلیے۔ ان لوگوں میں شامل نہیں ہوئے جنھوں نے کہا تھا: ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾(البقرۃ:2؍93)’’ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔‘‘ کیونکہ بندے سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا اسے ہمیشہ اس کی مغفرت کی ضرورت رہتی ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں ﴿غُفۡرَانَكَ ﴾ ’’تیری بخشش‘‘ یعنی ہم سے جو کوتاہی اور گناہ ہوئے ہیں، ہم تجھ سے ان کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ہم جن عیوب میں ملوث ہوئے ہیں، ان گناہوں کو مٹا دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات واپس تیرے پاس ہی پہنچیں گی، پھر تو ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ۔ اللہ اس کاحساب تم سے لے گا‘‘ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انھوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں یا عارضی خیالات، دل میں جاگزین ہوں یا آکر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہو۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ﴾(الحج:22؍78)’’اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی‘‘ اوامر و نواہی بنیادی طورپر ایسے نہیں جو انسانوں کے لیے انتہائی دشوار ہوں۔ بلکہ یہ تو روح کی غذا، بدن کی دوا اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ اللہ نے بندوں کو جن کاموں کا حکم دیا ہے، وہ رحمت اور احسان کی بنا پر دیا ہے۔ اس کے باوجود جب کوئی عذر پیش آجائے جس سے مشقت کا اندیشہ ہو تو اللہ تعالیٰ تخفیف اور آسانی فرما دیتا ہے۔ کبھی تو اس عمل کو مکلف کے ذمہ سے مکمل طورپر ساقط فرما دیتا ہے۔ کبھی اس کا کچھ حصہ معاف کردیتا ہے۔ جیسے بیمار اور مسافر کے لیے بعض احکام میں تخفیف کردی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہر کسی کو وہی نیکی ملے گی جو اس نے کمائی، اور اس کے ذمے وہی گناہ لکھا جائے گا جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور کسی کی وجہ سے دوسرے کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ نیکی میں (کَسَبَتْ) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو نیکی معمولی سی کوشش سے بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات صرف نیت کی وجہ سے ہی ثواب مل جاتا ہے۔ جبکہ گناہ کے لیے (اکْتَسَبَتْ) کا لفظ فرمایا گیا ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ انسان کے ذمے گناہ اس وقت تک نہیں لکھا جاتا، جب تک وہ اس کا ارتکاب نہ کرلے اور اس کی کوشش نہ کی جائے۔ جب اللہ نے رسول اور مومنوں کے ایمان کا ذکر فرمایا، اور بتایا کہ انسان سے کوتاہی، غلطی اور بھول چوک کا صدور ممکن ہے اور یہ بتایا کہ اس نے ہمیں صرف ایسے اعمال کا حکم دیا ہے جس کو انجام دینے کی طاقت ہم میں موجود ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ مومن بھی یہ دعا کرتے ہیں۔ نبیﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کرکے فرمایا: ’’میں نے یہ کردیا۔‘‘ ارشاد ہے: ﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّؔسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطاکی ہو، تو ہمیں نہ پکڑنا‘‘ بھول اور غلطی میں فرق یہ ہے کہ نسیان (بھول) کا مطلب ہوتا ہے، مامور کام کا دل سے فراموش ہو جانا، اور بھول جانے کی وجہ سے اس عمل کا چھوٹ جانا۔ خطا (غلطی) یہ ہوتی ہے کہ انسان ایک جائز کام کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کام اس انداز سے واقع ہوجائے جو جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحمت اور احسان فرماتے ہوئے اس سے واقع ہونے والے یہ دونوں طرح کے کام معاف فرما دیے۔ اس اصول کی روشنی میں کہا جاتا ہے کہ جو شخص چھینے ہوئے یا ناپاک کپڑے پہن کر نماز پڑھے۔ بدن پر سے نجاست دور کرنا بھول گیا ہو یا نماز کے دوران بھول کر کسی سے بات کرلے۔ یا روزے کے دوران بھول کر کچھ کھالے یا احرام کے دوران بھول کر کوئی ممنوع کام کرلے، بشرطیکہ اس میں کسی جان دار کی ہلاکت شامل نہ ہو، تو اس کی یہ غلطیاں معاف ہیں۔ اسی طرح اگر ایک کام نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہو، پھر بھول کر وہ کام کرلے۔ اس طرح اگر غلطی سے کسی کی جان یا مال کا نقصان کر بیٹھے تو اس کو گناہ نہیں ہوگا۔ نقصان پورا کرنے کے لیے ادائیگی کرنے کا تعلق نقصان کرنے سے ہے (ارادہ یا بھول وغیرہ سے نہیں) اس طرح جن موقعوں پر بسم اللہ پڑھنا واجب ہے۔ اگر وہاں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کام درست سمجھا جائے گا۔ ﴿ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا‘‘ اس سے مشکل احکام مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول فرمالی۔ اور اس امت پر طہارت اور عبادت کے مسائل میں ایسی نرمی فرمادی، جو کسی اور امت پر نہیں فرمائی تھی۔ ﴿ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو‘‘ اللہ نے یہ درخواست بھی قبول فرمالی۔ ولہ الحمد ﴿ وَاعۡفُ عَنَّا١ٙ وَاغۡفِرۡ لَنَا١ٙ وَارۡحَمۡنَا١ٙ ﴾ ’’اور ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر‘‘ معافی اور بخشش کے نتیجے میں مصائب اور شر دور ہوتے ہیں۔ اور رحمت کے نتیجے میں معاملات درست ہوتے ہیں۔ ﴿ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا ﴾ ’’تو ہمارا مولیٰ ہے‘‘ یعنی ہمارا رب، ہمارا بادشاہ اور ہمارا معبود ہے۔ جب سے تونے ہمیں پیدا فرمایا تیری مدد اور توفیق ہمیں حاصل رہی ہے۔ تیری نعمتیں ہر وقت مسلسل ہمیں مل رہی ہیں۔ پھر تونے ہم پر ایک عظیم احسان کیا کہ اسلام کی نعمت عطا فرمادی۔ باقی سب نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اے ہمارے مالک اور ہمارے مولیٰ ہم تجھ سے اس نعمت کی تکمیل کا سوال کرتے ہیں کہ ان کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما جنھوں نے تیرے ساتھ کفر کیا، تیرے نبیوں کا انکار کیا، تیرا دین ماننے والوں سے مقابلہ کیا،تیرے احکامات کو پس پشت ڈالا۔ لہٰذا دلیل و برہان اور شمشیر و سنان کے ساتھ ہماری مدد فرما۔ ہمیں زمین میں شوکت عطا فرما۔ ان کو ذلیل کردے۔ ہمیں ایسا ایمان اور ایسے اعمال نصیب فرما، جن کی برکت سے فتح حاصل ہوتی ہے۔ آمِّینَ وَالْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔
آل عمران 3:1
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
آل عمران 3:2
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
آل عمران 3:3
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
آل عمران 3:4
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
آل عمران 3:5
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
آل عمران 3:6
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
آل عمران 3:7
وہی ہے جس نے نازل کی آپ پر کتاب، اس کی بعض آیتیں محکم (واضح) ہیں وہی ہیں اصل کتاب اور (کچھ) دوسری متشابہ (غیر واضح) ہیں، پس لیکن وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں کجی ہے، تو وہ پیچھے لگتے ہیں انھی آیتوں کے جو متشابہ ہیں ان میں سے، واسطے تلاش کرنے فتنہ کے اور واسطے تلاش کرنے اس کی تاویل کے، حالانکہ نہیں جانتا ان کی تاویل (کوئی بھی) سوائے اللہ کے،اور وہ لوگ جو پختہ ہیں علم میں وہ کہتے ہیں، ہم ایمان لائے ساتھ اس کے، (یہ) سب ہمارے رب کی طرف سے ہےاور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل مند ہی(7) اے ہمارے رب! نہ ٹیڑھا کر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ ہدایت دی تونے ہمیں اور عطا کرواسطے ہمارے اپنے پاس سے رحمت، بے شک توہی ہے بڑا عطا کرنے والا(8)
[7] قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿ كِتٰبٌ اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ خَبِيۡرٍ﴾(ہود:11؍1) ’’یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے‘‘ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ: 5؍50) ’’یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے‘‘ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور متشابہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تو اللہ کے فرمان کے مطابق ﴿ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ ﴾ یعنی واضح مفہوم کی حامل آیات ہیں۔ جن میں نہ کوئی شبہ ہے نہ اشکال۔ ﴿ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ ﴾ یعنی وہ کتاب کی اصل اور بنیادی تعلیمات ہیں۔ ہر متشابہ کو انھی کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ قرآن کا اکثر حصہ ایسی ہی محکم آیات پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾ ’’اور دوسری کچھ متشابہ آیتیں ہیں‘‘ یعنی بعض افراد کے ذہنوں میں ان کا مفہوم ملتبس ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کی دلالت مجمل ہے یابعض لوگ سرسری نظر میں وہ مفہوم سمجھ بیٹھتے ہیں جو اصل میں مراد نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات واضح ہیں جو آسانی سے ہر شخص کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ یہ بہت زیادہ ہیں۔ ان ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ کچھ آیتیں ہیں جو بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس صورت میں متشابہ کو محکم کی روشنی میں اور خفی کو جلی کی مدد سے سمجھنا ضروری ہے۔ اس طریقے سے آیات ایک دوسری کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف اور تعارض معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ دو قسموں میں منقسم ہیں: ﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ ﴾ ’’پس جن کے دلوں میں کجی ہے‘‘ یعنی وہ سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ان کے ارادے خراب ہیں۔ گمراہی ان کا مقصود بن گئی ہے۔ ان کے دل ہدایت کی راہ سے برگشتہ ہوچکے ہیں۔ ﴿ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ﴾ ’’وہ اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں‘‘ یعنی محکم اور واضح ارشادات کو چھوڑ کر متشابہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اور معاملہ کو الٹ طریقے سے لے کر محکم کو متشابہ پر محمول کرتے ہیں۔ ﴿ ابۡتِغَآءَؔ الۡفِتۡنَةِ ﴾ ’’فتنے کی طلب میں‘‘ یعنی ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جن کو یہ اپنے قول کی طرف بلاتے ہیں۔ متشابہ میں چونکہ اشتباہ موجود ہوتا ہے، اس لیے اس کے ذریعے سے فتنہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ورنہ محکم اور صریح میں فتنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو شخص حق کی پیروی کرنا چاہے اسے محکم میں واضح حق مل جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَابۡتِغَآءَؔ تَاۡوِيۡلِهٖ١ؐ ۚ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کی مراد کی جستجو کے لیے۔ حالانکہ اس کی حقیقی مراد کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے‘‘ اس آیت میں علماء کے دو قول ہیں۔ اکثر علمائے کرام لفظ اللہ پر وقف کرتے ہیں۔ (موجودہ ترجمہ اسی قول کے مطابق ہے) اور بعض لوگ ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ ﴾ کا عطف بھی اس پر مانتے ہیں۔ (اس صورت میں یہ ترجمہ ہوگا ’’حالانکہ اس کی تفسیر کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور پختہ علم والوں کے۔‘‘ یعنی پختہ علم والے بھی جانتے ہیں۔) یہ دونوں تشریحات درست ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ اگر تاویل سے مراد کسی شے کی حقیقت اور کنہ جاننا ہو تو ﴿اِلَّا اللّٰهُ﴾ پر وقف کرنا ہی درست ہوگا۔ کیونکہ جن اشیاء کی حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ مثلاً اللہ کی صفات کی حقیقت و کیفیت، آخرت میں پیش آنے والے اوصاف کی حقیقت وغیرہ۔ ان کو تو اللہ کے سوا واقعی کوئی نہیں جانتا۔ اس کو معلوم کرنے کی کوشش کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ یہ ایسی چیز کی کوشش ہے جسے جاننا ممکن ہی نہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس آیت کا کیا مطلب ہے: ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰى ﴾(طہ:20؍5) ’’رحمان عرش پر مستوی ہے‘‘ سائل نے کہا: ’’کس طرح مستوی ہے؟‘‘ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:(اَلْإِسْتِوَاءُ مَعْلُومٌ، وَالْکَیْفُ مَجْہُولٌ، وَالْإِیمَانُ بِہِ وَاجِبٌ، وَالسَّوَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ) ’’إِسْتَوَاءٌ (قائم ہونا) معلوم ہے (یعنی واضح لفظ ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں) اس کی کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بارے میں یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کہ اگر کوئی شخص ان کی کیفیت دریافت کرے تو امام مالک رحمہ اللہ کی طرح کہہ دیا جائے کہ یہ صفت تو معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت نامعلوم ہے۔ تاہم اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا (کہ یہ صفت کس طرح ہے) بدعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ صفات بتائی ہیں۔ ان کی کیفیت بیان نہیں فرمائی۔ لہٰذا ہمیں اپنی حد تک آکر رک جانا چاہیے۔ حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ گمراہ لوگ ان متشابہ امور کے بارے میں بے فائدہ بحث کرتے ہیں، اور اس چیز کے حصول کی ناکام کوشش کرتے ہیں جنھیں معلوم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں، کیونکہ انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پختہ کار اہل علم ان پر ایمان لاتے ہیں، اور ان کی حقیقت اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح (فرمان الٰہی کو) تسلیم کرکے (تکلفات اور غلطیوں سے) محفوظ ہوجاتے ہیں۔اگر تاویل کا مطلب تفسیر اور وضاحت لیا جائے تو ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ ﴾ کا عطف لفظ اللہ پر ہوگا۔ (اس صورت میں لفظ اللہ پر وقف نہیں ہوگا، بلکہ العلم پر وقف ہوگا) اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھ کر اس کی تفسیر کرنا اور اس کے شبہات دور کرنا یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور پختہ علم والے بھی جانتے ہیں چنانچہ وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ا ور اسے محکم کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ﴿ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ﴾ ’’یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے‘‘ یعنی محکم اور متشابہ سب اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔ اور اس کی طرف سے آنے والی چیز میں تعارض اور تناقض نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کی تائید اور تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے ایک بڑے اصول کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ تو جب انھیں کسی مجمل طورپر ذکر کیے متشابہ میں اشکال پیدا ہوتا ہے۔ تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم بہرحال محکم کے مطابق ہی ہوگا، اگرچہ ہم سمجھ نہ سکے ہوں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام پر ایمان لانے اور تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے اور متشابہ کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا يَذَّكَّـرُ ﴾ یعنی اللہ کی نصیحت سے فیض یاب ہونے والے، اس کی نصیحت اور اس کی طرف سے آنے والے علم کو قبول کرنے والے ﴿ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ صرف وہ لوگ ہیں جو کامل عقلوں والے ہیں۔ وہی جوان کا مغز اور بنی آدم کا خلاصہ (اور بہترین حصہ) ہیں۔ نصیحت ان کی عقلوں تک پہنچتی ہے تو انہیں اپنے فائدے کی باتیں معلوم ہوتی ہیں تو وہ اس پر عمل کرلیتے ہیں۔ اور انھیں (اس نصیحت کے ذریعے سے) اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں تب وہ ان سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی سمجھ مغز کے بجائے چھلکے سے مشابہت رکھتی ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ نہ ان سے کوئی نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو نہ تنبیہ اور زجر و توبیخ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، نہ سمجھانے سے کیونکہ ان کے پاس وہ عقل ہی نہیں، جس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل ہوسکے۔
[8] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ ﴾ ’’پختہ کار علما‘‘ کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے‘‘ یعنی ایسا نہ ہو کہ جہالت یا عناد کی وجہ سے ہم حق سے روگردانی کریں۔ بلکہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے والے، ہدایت دینے والے اور ہدایت پانے والے بنا۔ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ، اور ہمیں ان (بداعمالیوں) سے محفوظ رکھ، جن میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ ﴿ وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما‘‘ یعنی ہمیں ایسی عظیم رحمت عطا فرما، جس کے ساتھ ہمیں نیکیوں کی توفیق اور گناہوں سے حفاظت فرمائے۔ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے‘‘ یعنی تیرے انعامات و عطیات بے حد وسیع اور تیرے احسانات بے شمار ہیں۔ تیری سخاوت سے ہر مخلوق بہرہ ور ہوتی ہے۔
آل عمران 3:8
وہی ہے جس نے نازل کی آپ پر کتاب، اس کی بعض آیتیں محکم (واضح) ہیں وہی ہیں اصل کتاب اور (کچھ) دوسری متشابہ (غیر واضح) ہیں، پس لیکن وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں کجی ہے، تو وہ پیچھے لگتے ہیں انھی آیتوں کے جو متشابہ ہیں ان میں سے، واسطے تلاش کرنے فتنہ کے اور واسطے تلاش کرنے اس کی تاویل کے، حالانکہ نہیں جانتا ان کی تاویل (کوئی بھی) سوائے اللہ کے،اور وہ لوگ جو پختہ ہیں علم میں وہ کہتے ہیں، ہم ایمان لائے ساتھ اس کے، (یہ) سب ہمارے رب کی طرف سے ہےاور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل مند ہی(7) اے ہمارے رب! نہ ٹیڑھا کر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ ہدایت دی تونے ہمیں اور عطا کرواسطے ہمارے اپنے پاس سے رحمت، بے شک توہی ہے بڑا عطا کرنے والا(8)
[7] قرآن مجید سب کا سب محکم (پختہ، مضبوط) ہے جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿ كِتٰبٌ اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ خَبِيۡرٍ﴾(ہود:11؍1) ’’یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں۔ پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے‘‘ لہٰذا یہ انتہائی مضبوطی، عدل اور احسان پر مشتمل ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ: 5؍50) ’’یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے‘‘ ایک لحاظ سے قرآن سب کا سب متشابہ ہے۔ یعنی یہ حسن و بلاغت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کی بنا پر اور ایک دوسرے سے لفظی اور معنوی مطابقت رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ اس آیت میں جس محکم اور متشابہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تو اللہ کے فرمان کے مطابق ﴿ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ ﴾ یعنی واضح مفہوم کی حامل آیات ہیں۔ جن میں نہ کوئی شبہ ہے نہ اشکال۔ ﴿ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ ﴾ یعنی وہ کتاب کی اصل اور بنیادی تعلیمات ہیں۔ ہر متشابہ کو انھی کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ قرآن کا اکثر حصہ ایسی ہی محکم آیات پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾ ’’اور دوسری کچھ متشابہ آیتیں ہیں‘‘ یعنی بعض افراد کے ذہنوں میں ان کا مفہوم ملتبس ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کی دلالت مجمل ہے یابعض لوگ سرسری نظر میں وہ مفہوم سمجھ بیٹھتے ہیں جو اصل میں مراد نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات واضح ہیں جو آسانی سے ہر شخص کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ یہ بہت زیادہ ہیں۔ ان ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ کچھ آیتیں ہیں جو بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس صورت میں متشابہ کو محکم کی روشنی میں اور خفی کو جلی کی مدد سے سمجھنا ضروری ہے۔ اس طریقے سے آیات ایک دوسری کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف اور تعارض معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ دو قسموں میں منقسم ہیں: ﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ ﴾ ’’پس جن کے دلوں میں کجی ہے‘‘ یعنی وہ سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ان کے ارادے خراب ہیں۔ گمراہی ان کا مقصود بن گئی ہے۔ ان کے دل ہدایت کی راہ سے برگشتہ ہوچکے ہیں۔ ﴿ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ﴾ ’’وہ اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں‘‘ یعنی محکم اور واضح ارشادات کو چھوڑ کر متشابہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اور معاملہ کو الٹ طریقے سے لے کر محکم کو متشابہ پر محمول کرتے ہیں۔ ﴿ ابۡتِغَآءَؔ الۡفِتۡنَةِ ﴾ ’’فتنے کی طلب میں‘‘ یعنی ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جن کو یہ اپنے قول کی طرف بلاتے ہیں۔ متشابہ میں چونکہ اشتباہ موجود ہوتا ہے، اس لیے اس کے ذریعے سے فتنہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ورنہ محکم اور صریح میں فتنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو شخص حق کی پیروی کرنا چاہے اسے محکم میں واضح حق مل جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَابۡتِغَآءَؔ تَاۡوِيۡلِهٖ١ؐ ۚ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کی مراد کی جستجو کے لیے۔ حالانکہ اس کی حقیقی مراد کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے‘‘ اس آیت میں علماء کے دو قول ہیں۔ اکثر علمائے کرام لفظ اللہ پر وقف کرتے ہیں۔ (موجودہ ترجمہ اسی قول کے مطابق ہے) اور بعض لوگ ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ ﴾ کا عطف بھی اس پر مانتے ہیں۔ (اس صورت میں یہ ترجمہ ہوگا ’’حالانکہ اس کی تفسیر کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور پختہ علم والوں کے۔‘‘ یعنی پختہ علم والے بھی جانتے ہیں۔) یہ دونوں تشریحات درست ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ اگر تاویل سے مراد کسی شے کی حقیقت اور کنہ جاننا ہو تو ﴿اِلَّا اللّٰهُ﴾ پر وقف کرنا ہی درست ہوگا۔ کیونکہ جن اشیاء کی حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ مثلاً اللہ کی صفات کی حقیقت و کیفیت، آخرت میں پیش آنے والے اوصاف کی حقیقت وغیرہ۔ ان کو تو اللہ کے سوا واقعی کوئی نہیں جانتا۔ اس کو معلوم کرنے کی کوشش کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ یہ ایسی چیز کی کوشش ہے جسے جاننا ممکن ہی نہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس آیت کا کیا مطلب ہے: ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰى ﴾(طہ:20؍5) ’’رحمان عرش پر مستوی ہے‘‘ سائل نے کہا: ’’کس طرح مستوی ہے؟‘‘ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:(اَلْإِسْتِوَاءُ مَعْلُومٌ، وَالْکَیْفُ مَجْہُولٌ، وَالْإِیمَانُ بِہِ وَاجِبٌ، وَالسَّوَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ) ’’إِسْتَوَاءٌ (قائم ہونا) معلوم ہے (یعنی واضح لفظ ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں) اس کی کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بارے میں یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کہ اگر کوئی شخص ان کی کیفیت دریافت کرے تو امام مالک رحمہ اللہ کی طرح کہہ دیا جائے کہ یہ صفت تو معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت نامعلوم ہے۔ تاہم اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا (کہ یہ صفت کس طرح ہے) بدعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ صفات بتائی ہیں۔ ان کی کیفیت بیان نہیں فرمائی۔ لہٰذا ہمیں اپنی حد تک آکر رک جانا چاہیے۔ حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ گمراہ لوگ ان متشابہ امور کے بارے میں بے فائدہ بحث کرتے ہیں، اور اس چیز کے حصول کی ناکام کوشش کرتے ہیں جنھیں معلوم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں، کیونکہ انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پختہ کار اہل علم ان پر ایمان لاتے ہیں، اور ان کی حقیقت اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح (فرمان الٰہی کو) تسلیم کرکے (تکلفات اور غلطیوں سے) محفوظ ہوجاتے ہیں۔اگر تاویل کا مطلب تفسیر اور وضاحت لیا جائے تو ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ ﴾ کا عطف لفظ اللہ پر ہوگا۔ (اس صورت میں لفظ اللہ پر وقف نہیں ہوگا، بلکہ العلم پر وقف ہوگا) اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھ کر اس کی تفسیر کرنا اور اس کے شبہات دور کرنا یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور پختہ علم والے بھی جانتے ہیں چنانچہ وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ا ور اسے محکم کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ﴿ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ﴾ ’’یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے‘‘ یعنی محکم اور متشابہ سب اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔ اور اس کی طرف سے آنے والی چیز میں تعارض اور تناقض نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کی تائید اور تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے ایک بڑے اصول کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ تو جب انھیں کسی مجمل طورپر ذکر کیے متشابہ میں اشکال پیدا ہوتا ہے۔ تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم بہرحال محکم کے مطابق ہی ہوگا، اگرچہ ہم سمجھ نہ سکے ہوں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام پر ایمان لانے اور تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے اور متشابہ کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا يَذَّكَّـرُ ﴾ یعنی اللہ کی نصیحت سے فیض یاب ہونے والے، اس کی نصیحت اور اس کی طرف سے آنے والے علم کو قبول کرنے والے ﴿ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ صرف وہ لوگ ہیں جو کامل عقلوں والے ہیں۔ وہی جوان کا مغز اور بنی آدم کا خلاصہ (اور بہترین حصہ) ہیں۔ نصیحت ان کی عقلوں تک پہنچتی ہے تو انہیں اپنے فائدے کی باتیں معلوم ہوتی ہیں تو وہ اس پر عمل کرلیتے ہیں۔ اور انھیں (اس نصیحت کے ذریعے سے) اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں تب وہ ان سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی سمجھ مغز کے بجائے چھلکے سے مشابہت رکھتی ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ نہ ان سے کوئی نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو نہ تنبیہ اور زجر و توبیخ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، نہ سمجھانے سے کیونکہ ان کے پاس وہ عقل ہی نہیں، جس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل ہوسکے۔
[8] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ ﴾ ’’پختہ کار علما‘‘ کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے‘‘ یعنی ایسا نہ ہو کہ جہالت یا عناد کی وجہ سے ہم حق سے روگردانی کریں۔ بلکہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے والے، ہدایت دینے والے اور ہدایت پانے والے بنا۔ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ، اور ہمیں ان (بداعمالیوں) سے محفوظ رکھ، جن میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ ﴿ وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما‘‘ یعنی ہمیں ایسی عظیم رحمت عطا فرما، جس کے ساتھ ہمیں نیکیوں کی توفیق اور گناہوں سے حفاظت فرمائے۔ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے‘‘ یعنی تیرے انعامات و عطیات بے حد وسیع اور تیرے احسانات بے شمار ہیں۔ تیری سخاوت سے ہر مخلوق بہرہ ور ہوتی ہے۔
آل عمران 3:9
اے ہمارے رب! یقیناً تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن کہ نہیں ہے شک اس میں، بلاشبہ اللہ نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(9)
[9]﴿رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ﴾ ’’اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ یقیناً اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘ لہٰذا وہ ان کی نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ ضرور دے گا۔اللہ تعالیٰ نے (رَاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ)کی سات صفات بیان کی ہیں۔ یہ بندے کی خوش بختی کی علامت ہیں۔(۱) علم: یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اس کے احکامات اور قوانین کو واضح کرتا ہے۔ (۲)رسوخ فی العلم ’’علم میں پختہ ہونا‘‘ یہ صفت محض علم سے بڑھ کرہے، اس لیے کہ راسخ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آدمی محقق و مدقق عالم ہو۔ جس کو اللہ نے ظاہری علم بھی عطا فرمایا ہو اور باطنی علم بھی۔ شریعت کے اسرار میں اس کا علم بھی پختہ ہوتا ہے، عمل بھی درست ہوتا ہے اور حال بھی کامل ہوتا ہے۔ (۳)وہ پوری کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿يَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم تو اس پر ایمان لاچکے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے‘‘ (۴) وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اور جن غلطیوں میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ ان سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (۵) وہ اللہ کا احسان مانتے ہیں کہ اس نے انھیں ہدایت دی۔ کیونکہ کہتے ہیں۔ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے‘‘ (۶) اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی رحمت کا سوال کرتے ہیں۔ جس میں ہر بھلائی کا حصول اور ہر برائی سے بچاؤ شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے اللہ کے اسم مبارک اَلْوَھَّاب کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ (۷) اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ قیامت کے آنے پر ایمان اور پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور اس سے ڈرتے ہیں۔ یہی ایمان عمل کرنے پر آمادہ کرتا اور لغزش سے بچا کر رکھتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:10
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کام آئیں گے ان کے مال ان کے اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہی لوگ ایندھن ہیں آگ کا(10) مانند عادت آل فرعون کے اور ان لوگوں کے جو ان سے پہلے تھے، جھٹلایا انھوں نے ہماری آیتوں کو، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے بہ سبب ان کے گناہوں کے،اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(11)
[11,10] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انھیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعے سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے ﴿ نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا١ۙ وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾(النساء:34؍35) ’’ہمارے مال اور ہماری اولادیں زیادہ ہیں۔ ہمیں عذاب نہیں ہوگا‘‘ قیامت کے دن انھیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انھیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾(الزمر:39؍48) ’’ان کے کمائے ہوئے اعمال کا برا انجام ان کے سامنے آجائے گا اور انہیں وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے‘‘ اللہ کے ہاں مال اور اولاد کی قدر نہیں، بلکہ بندے کو اللہ پر ایمان لانے کا اور نیک اعمال کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا١ٞ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍37) ’’تمھارے مال اور تمھاری اولاد وہ چیز نہیں جو تمھیں ہمارا قرب بخشتی ہیں بلکہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے انھی لوگوں کو اپنے اعمال کا دگنا بدلہ ملے گا، اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے‘‘ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ کافر جہنم کا ایندھن ہیں، یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ قانون کہ کافروں کو ان کے مالوں یا اولادوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکے گا، گزشتہ امتوں میں بھی اللہ کا یہی قانون جاری رہاہے۔ فرعون، اس سے پہلے اور اس کے بعد آنے والے سب جابر، سرکش، مالوں اور لشکروں والے، ان سب کے ساتھ یہی ہوا کہ جب انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور ان سے دشمنی کی، اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑ لیا، یہ اس کا عدل تھا، ظلم نہیں۔ جو کوئی ایسا کام کرے جو سزا کا مستوجب ہے تو اللہ اسے سخت سزا دے دیتا ہے۔ عذاب کا یہ سبب کفر بھی ہوسکتا ہے، اور دوسرے گناہ بھی جن کی مختلف قسمیں اور بہت سے مراتب ہیں۔
آل عمران 3:11
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کام آئیں گے ان کے مال ان کے اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہی لوگ ایندھن ہیں آگ کا(10) مانند عادت آل فرعون کے اور ان لوگوں کے جو ان سے پہلے تھے، جھٹلایا انھوں نے ہماری آیتوں کو، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے بہ سبب ان کے گناہوں کے،اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(11)
[11,10] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے والے، اس کے دین اور اس کی کتاب کا انکار کرنے والے، اپنے کفر اور گناہوں کی وجہ سے سزا اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ وہاں انھیں اپنے مالوں اور اولادوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا میں وہ آنے والی مصیبتوں کا ان کے ذریعے سے مقابلہ کرلیا کرتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے ﴿ نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا١ۙ وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾(النساء:34؍35) ’’ہمارے مال اور ہماری اولادیں زیادہ ہیں۔ ہمیں عذاب نہیں ہوگا‘‘ قیامت کے دن انھیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی انھیں بالکل توقع نہ ہوگی۔ ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾(الزمر:39؍48) ’’ان کے کمائے ہوئے اعمال کا برا انجام ان کے سامنے آجائے گا اور انہیں وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے‘‘ اللہ کے ہاں مال اور اولاد کی قدر نہیں، بلکہ بندے کو اللہ پر ایمان لانے کا اور نیک اعمال کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا١ٞ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍37) ’’تمھارے مال اور تمھاری اولاد وہ چیز نہیں جو تمھیں ہمارا قرب بخشتی ہیں بلکہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے انھی لوگوں کو اپنے اعمال کا دگنا بدلہ ملے گا، اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے‘‘ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ کافر جہنم کا ایندھن ہیں، یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ قانون کہ کافروں کو ان کے مالوں یا اولادوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکے گا، گزشتہ امتوں میں بھی اللہ کا یہی قانون جاری رہاہے۔ فرعون، اس سے پہلے اور اس کے بعد آنے والے سب جابر، سرکش، مالوں اور لشکروں والے، ان سب کے ساتھ یہی ہوا کہ جب انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور ان سے دشمنی کی، اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑ لیا، یہ اس کا عدل تھا، ظلم نہیں۔ جو کوئی ایسا کام کرے جو سزا کا مستوجب ہے تو اللہ اسے سخت سزا دے دیتا ہے۔ عذاب کا یہ سبب کفر بھی ہوسکتا ہے، اور دوسرے گناہ بھی جن کی مختلف قسمیں اور بہت سے مراتب ہیں۔
آل عمران 3:12
کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے تم اور اکٹھے کیے جاؤ گے جہنم کی طرف، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے(12) تحقیق ہے تمھارے لیے (عظیم) نشانی ان دو گروہوں میں جو باہم (لڑائی کے لیے) ملے، ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا، وہ (مسلمان) دیکھتے تھے ان کو اپنے سے دگنا، دیکھنا (ظاہری) آنکھ سےاور اللہ قوت دیتا ہے ساتھ اپنی نصرت کے جس کو چاہتا ہے، بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے واسطے اہل بصیرت کے(13)
[13,12] اس کے بعد فرمایا: ﴿قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَتُحۡشَرُوۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ﴾’’(اے محمدﷺ)کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔ اور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کی مدد اور فتح کا اشارہ ہے اور کافروں کو تنبیہ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں یعنی مشرکین، یہود اور نصاریٰ جیسے کافروں کے خلاف مومنوں کی مدد فرمائی۔ قیامت تک وہ اپنے مومن بندوں اور لشکروں کی مدد فرماتا رہے گا۔ اس میں ایک عبرت ہے اور قرآن کی ایسی نشانی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہ نے بتایا کہ کافر دنیا میں مغلوب ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن جمع کرکے جہنم کی طرف ہانک دیے جائیں گے جو برا ٹھکانا ہے۔ اور ان کے بد اعمال کا برا بدلہ ہے۔ ﴿قَدۡ كَانَ لَكُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے نشانی تھی‘‘ یعنی عظیم عبرت تھی۔ ﴿فِيۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا﴾ ’’ان دو جماعتوںمیں جو گتھ گئی تھیں۔ یہ غزوۂ بدر کے موقع پر ہوا۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی۔‘‘ یہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام تھے۔ ﴿وَاُخۡرٰؔى كَافِرَةٌ﴾ ’’اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔‘‘ یعنی کفار قریش جو فخر و تکبر کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ سے روکنے کے لیے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو بدر کے میدان میں اکٹھا کردیا۔ مشرکوں کی تعداد مومنوں سے کئی گنا تھی، اس لیے فرمایا:﴿يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡيَ الۡعَيۡنِ﴾ ’’وہ انھیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔‘‘ یعنی مومن دیکھ رہے تھے کہ کافر تعداد میں ان سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دگنے سے زیادہ تھا۔ (یعنی کفار کی تعداد تین گنا سے زائد تھی) اللہ نے مومنوں کی مدد کی تو انھوں نے کفار کو شکست دی، ان کے سرداروں کو تہ تیغ کیا اور بہت سے افراد کو قید کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو کوئی اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جو کفر کرتا ہے اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے۔ یعنی جن کی بصیرت اور عقل کامل ہے، جس کی وجہ سے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس جماعت کی مدد کی گئی ہے وہی اہل حق ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں۔ ورنہ محض ظاہری اسباب، سامان اور تعداد پر نظر رکھنے والا یہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر فتح پانا بالکل محال اور ناممکن ہے۔ لیکن بصارت سے نظر آنے والے ان اسباب کے پیچھے ایک عظیم تر سبب بھی ہے۔ جسے بصیرت، ایمان اور توکل علی اللہ کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے۔ اور وہ سبب ہے اللہ کا اپنے مومن بندوں کو تقویت بخشنا اور اپنے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنا۔
آل عمران 3:13
کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے تم اور اکٹھے کیے جاؤ گے جہنم کی طرف، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے(12) تحقیق ہے تمھارے لیے (عظیم) نشانی ان دو گروہوں میں جو باہم (لڑائی کے لیے) ملے، ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا، وہ (مسلمان) دیکھتے تھے ان کو اپنے سے دگنا، دیکھنا (ظاہری) آنکھ سےاور اللہ قوت دیتا ہے ساتھ اپنی نصرت کے جس کو چاہتا ہے، بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے واسطے اہل بصیرت کے(13)
[13,12] اس کے بعد فرمایا: ﴿قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَتُحۡشَرُوۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ﴾’’(اے محمدﷺ)کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔ اور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کی مدد اور فتح کا اشارہ ہے اور کافروں کو تنبیہ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں یعنی مشرکین، یہود اور نصاریٰ جیسے کافروں کے خلاف مومنوں کی مدد فرمائی۔ قیامت تک وہ اپنے مومن بندوں اور لشکروں کی مدد فرماتا رہے گا۔ اس میں ایک عبرت ہے اور قرآن کی ایسی نشانی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہ نے بتایا کہ کافر دنیا میں مغلوب ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن جمع کرکے جہنم کی طرف ہانک دیے جائیں گے جو برا ٹھکانا ہے۔ اور ان کے بد اعمال کا برا بدلہ ہے۔ ﴿قَدۡ كَانَ لَكُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے نشانی تھی‘‘ یعنی عظیم عبرت تھی۔ ﴿فِيۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا﴾ ’’ان دو جماعتوںمیں جو گتھ گئی تھیں۔ یہ غزوۂ بدر کے موقع پر ہوا۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی۔‘‘ یہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام تھے۔ ﴿وَاُخۡرٰؔى كَافِرَةٌ﴾ ’’اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔‘‘ یعنی کفار قریش جو فخر و تکبر کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ سے روکنے کے لیے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو بدر کے میدان میں اکٹھا کردیا۔ مشرکوں کی تعداد مومنوں سے کئی گنا تھی، اس لیے فرمایا:﴿يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡيَ الۡعَيۡنِ﴾ ’’وہ انھیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔‘‘ یعنی مومن دیکھ رہے تھے کہ کافر تعداد میں ان سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دگنے سے زیادہ تھا۔ (یعنی کفار کی تعداد تین گنا سے زائد تھی) اللہ نے مومنوں کی مدد کی تو انھوں نے کفار کو شکست دی، ان کے سرداروں کو تہ تیغ کیا اور بہت سے افراد کو قید کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو کوئی اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جو کفر کرتا ہے اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے۔ یعنی جن کی بصیرت اور عقل کامل ہے، جس کی وجہ سے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس جماعت کی مدد کی گئی ہے وہی اہل حق ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں۔ ورنہ محض ظاہری اسباب، سامان اور تعداد پر نظر رکھنے والا یہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر فتح پانا بالکل محال اور ناممکن ہے۔ لیکن بصارت سے نظر آنے والے ان اسباب کے پیچھے ایک عظیم تر سبب بھی ہے۔ جسے بصیرت، ایمان اور توکل علی اللہ کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے۔ اور وہ سبب ہے اللہ کا اپنے مومن بندوں کو تقویت بخشنا اور اپنے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنا۔
آل عمران 3:14
مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے محبت (نفسانی) خواہشوں کی، عورتوں سے اور بیٹوں سے اور خزانے جمع کیے ہوئے سے، سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان زدہ سے اور چوپائے اور کھیتی سے، یہ (سب) سامان ہے حیات دنیا کااور اللہ، اس کے پاس ہی ہے اچھا ٹھکانا(14) کہہ دیجیے، کیا خبر دوں میں تمھیں، ساتھ بہت بہتر کے ان (سب) سے؟ واسطے ان لوگوں کے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، نزدیک ان کے رب کے باغات ہیں، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور بیویاں ہیں پاکیزہ اور رضامندی اللہ کی طرف سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو(15)
[14] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طورپر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا﴾(الکہف:18؍7)’’ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے‘‘ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں۔ اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے، اس لیے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے۔ اور عملی طورپر لوگوں کی دوقسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے انھی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنالیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے ظاہری اور باطنی اعمال اسی کے لیے خاص ہوکر رہ گئے۔ اسی دنیوی مال و متاع میں مشغول ہوکر وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول گئے۔ دنیا سے ان کا وہ تعلق رہا جو چرنے والے مویشیوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پروا نہیں کرتے کہ انھوں نے یہ کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ دنیا ان کے لیے مشقت و عذاب کے مقام (جہنم) کی طرف لے جانے والے سفر کا سامان بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے اس کا اصل مقصود سمجھ لیا کہ اسے تو اللہ نے بندوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ کی اطاعت اور رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنالیا۔ وہ اس سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن اس طرح کہ وہ اسے اللہ کی رضا کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے بدن تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن دل اس سے دور ہوتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی:﴿ذٰلِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’یہ تو دنیا کی زندگی کا مال و متاع ہے‘‘ انھوں نے اسے آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا۔ اسے ایک بازار جانا جس میں انھیں اخروی عظیم نفع کی امید ہے۔ ان کے لیے دنیا آخرت کے سفر کے لیے زاہ راہ بن گئی۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ان ناداروں کو تسلی دی گئی ہے، جو اپنی ایسی خواہشات پوری نہیں کرسکتے جو دولت مند پوری کرسکتے ہیں اور اس کے دھوکے میں گرفتار ہوجانے والوں کو تنبیہ ہے اور روشن عقل والوں کو اس کی محبت سے روکا گیا ہے۔
[15] یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارالقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ اُخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالاخانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لیے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھایئے۔ ﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔‘‘ وہ ان کے تمام اچھے اور برے اوصاف سے باخبر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ان کے حالات کے مطابق کون سا نتیجہ ان کے لائق ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے توفیق دے دیتا ہے۔ وہ جنت جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے اور اس کی کامل صفات بیان فرمائی ہیں وہ بھی انھیں ملے گی جو اس کے مستحق ہیں، یعنی جنھوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے حکموں کی تعمیل کی اور ممنوع کاموں سے پرہیز کیا۔
آل عمران 3:15
مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے محبت (نفسانی) خواہشوں کی، عورتوں سے اور بیٹوں سے اور خزانے جمع کیے ہوئے سے، سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان زدہ سے اور چوپائے اور کھیتی سے، یہ (سب) سامان ہے حیات دنیا کااور اللہ، اس کے پاس ہی ہے اچھا ٹھکانا(14) کہہ دیجیے، کیا خبر دوں میں تمھیں، ساتھ بہت بہتر کے ان (سب) سے؟ واسطے ان لوگوں کے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، نزدیک ان کے رب کے باغات ہیں، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور بیویاں ہیں پاکیزہ اور رضامندی اللہ کی طرف سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو(15)
[14] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طورپر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا﴾(الکہف:18؍7)’’ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے‘‘ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں۔ اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے، اس لیے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے۔ اور عملی طورپر لوگوں کی دوقسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے انھی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنالیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے ظاہری اور باطنی اعمال اسی کے لیے خاص ہوکر رہ گئے۔ اسی دنیوی مال و متاع میں مشغول ہوکر وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول گئے۔ دنیا سے ان کا وہ تعلق رہا جو چرنے والے مویشیوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پروا نہیں کرتے کہ انھوں نے یہ کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ دنیا ان کے لیے مشقت و عذاب کے مقام (جہنم) کی طرف لے جانے والے سفر کا سامان بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں جنھوں نے اس کا اصل مقصود سمجھ لیا کہ اسے تو اللہ نے بندوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ کی اطاعت اور رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنالیا۔ وہ اس سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن اس طرح کہ وہ اسے اللہ کی رضا کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے بدن تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن دل اس سے دور ہوتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی:﴿ذٰلِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’یہ تو دنیا کی زندگی کا مال و متاع ہے‘‘ انھوں نے اسے آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا۔ اسے ایک بازار جانا جس میں انھیں اخروی عظیم نفع کی امید ہے۔ ان کے لیے دنیا آخرت کے سفر کے لیے زاہ راہ بن گئی۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ان ناداروں کو تسلی دی گئی ہے، جو اپنی ایسی خواہشات پوری نہیں کرسکتے جو دولت مند پوری کرسکتے ہیں اور اس کے دھوکے میں گرفتار ہوجانے والوں کو تنبیہ ہے اور روشن عقل والوں کو اس کی محبت سے روکا گیا ہے۔
[15] یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارالقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ اُخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالاخانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لیے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھایئے۔ ﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔‘‘ وہ ان کے تمام اچھے اور برے اوصاف سے باخبر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ان کے حالات کے مطابق کون سا نتیجہ ان کے لائق ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے توفیق دے دیتا ہے۔ وہ جنت جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے اور اس کی کامل صفات بیان فرمائی ہیں وہ بھی انھیں ملے گی جو اس کے مستحق ہیں، یعنی جنھوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے حکموں کی تعمیل کی اور ممنوع کاموں سے پرہیز کیا۔
آل عمران 3:16
وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس بخش دے واسطے ہمارے گناہ ہمارے،اور بچا ہم کو آگ کے عذاب سے(16) وہ جو صبر کرنے والےاور سچ بولنے والے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے ہیں سحری کے اوقات میں(17)
[16] اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
[17] اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کیے۔ اور فرمایا: ﴿اَلصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’صبر کرنے والے‘‘ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچ بولنے والے‘‘ جوا پنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ﴾ ’’اور خرچ کرنے والے‘‘ جو کچھ اللہ نے انھیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی، ﴿وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾ ’’اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے، بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں، اس لیے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا اور آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقوی پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟
آل عمران 3:17
وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس بخش دے واسطے ہمارے گناہ ہمارے،اور بچا ہم کو آگ کے عذاب سے(16) وہ جو صبر کرنے والےاور سچ بولنے والے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے ہیں سحری کے اوقات میں(17)
[16] اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
[17] اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کیے۔ اور فرمایا: ﴿اَلصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’صبر کرنے والے‘‘ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچ بولنے والے‘‘ جوا پنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ﴾ ’’اور خرچ کرنے والے‘‘ جو کچھ اللہ نے انھیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی، ﴿وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾ ’’اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے، بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں، اس لیے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا اور آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقوی پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟
آل عمران 3:18
گواہی دی ہے اللہ نے کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، اور فرشتوں نے اور اہل علم نے (بھی) اس حال میں کہ وہ قائم ہے ساتھ انصاف کے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے خوب حکمت والا(18)
[18] اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزوجل کی اپنی گواہی۔ اور اس کے مخلوق میں سے معزز ترین افراد، یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل و براہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق و انفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا ہے۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، نہ کسی اور کے نفع نقصان پر اختیار رکھتے ہیں۔ یہ زبردست دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا واجب ہے۔ اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا باطل ہے۔ فرشتوں کی گواہی کا علم ہمیں اللہ کے بتانے سے اور اس کے رسولوں کے بتانے سے ہوا ہے۔ اہل علم کی گواہی اس لیے معتبر ہے کہ تمام دینی امور میں انھی سے رجوع کیا جاتا ہے۔ خصوصاً سب سے عظیم، سب سے زیادہ جلالت و شرف والے مسئلہ یعنی توحید کے مسئلہ میں۔ علماء کا اول سے آخر تک اس پر اتفاق ہے، انھوں نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے اور توحید تک پہنچنے کے راستے بتائے ہیں۔ لہٰذا مخلوق پر واجب ہے کہ اتنی عظیم گواہیوں والے حکم کو تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ سب سے زیادہ شرف والا کام توحید کو جاننا ہے۔ لہٰذا اس کی گواہی اللہ نے خود دی ہے۔ اور اپنی مخلوق میں سے عظیم ترین افراد کو اس کا گواہ بنایا ہے۔ شہادت (گواہی) علم و یقین کی بنیاد پر ہی دی جاسکتی ہے، جو آنکھ سے مشاہدہ کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص توحید کے معاملہ میں اس مقام تک نہیں پہنچتا وہ اہل علم میں شامل نہیں۔ اس آیت میں علم کے شرف و منزلت کے بہت سے دلائل ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں میں سے انبیاء کو منتخب کرکے اس عظیم ترین مسئلہ پر شہادت دینے کے لیے مقرر کیا۔ (۲) اللہ نے ان کی گواہی کو اپنی گواہی اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا۔ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (۳) اللہ نے انھیں ’’علم والے‘‘ فرمایا۔ ان کی اضافت علم کی طرف کی۔ کیونکہ وہی اسے لے کر اٹھنے والے اور اس صفت سے متصف ہیں۔ (۴) اللہ تعالیٰ نے انھیں لوگوں پر شاہد اور حجت قرار دیا اور جس چیز کی انھوں نے گواہی دی تھی، لوگوں کو اس پر عمل کرنے کاحکم دیا۔ اس طرح وہ اس کا سبب بنے اور اس کے مطابق ہونے والے ہر عمل کا ثواب انھیں پہنچے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو گواہ بنایا ہے اس سے ان کا سچا اور قابل اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے، اور یہ کہ اللہ نے انھیں جس چیز کا محافظ بنایا ہے، وہ اس معاملے میں دیانت دار ہیں۔ اپنی توحیدکے اثبات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا عدل ثابت فرمایا ہے۔ ارشاد ہے ﴿قَآىِٕمًۢا بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’عدل کے ساتھ قائم‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں، اور بندوں کے معاملات کے فیصلے کرنے میں ازل سے انصاف کے ساتھ متصف ہے۔ امرونہی میں بھی اس کا راستہ ’’صراط مستقیم‘‘ ہے خلق و تقدیر میں بھی۔ اس کے بعد پھر توحید کی تاکید فرمائی اور فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’ ’اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘بنیادی مسئلہ کہ اللہ کی توحید کو تسلیم کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس کے اتنے زیادہ نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں کہ صاحب بصیرت حضرات کے ہاں یہ سورج سے بھی زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ نقلی دلائل میں قرآن و حدیث کی وہ تمام نصوص شامل ہیں جن میں اس کا حکم دیا گیا ہے، اس کی تائید کی گئی ہے، اہل توحید سے محبت، اور منکرین توحید سے نفرت اور ان کی عقوبت مذکور ہے، اور شرک و اہل شرک کی مذمت ہے۔ یہ سب توحید کے نقلی دلائل ہیں۔ قرآن تقریباً تمام ہی توحید کے دلائل پر مشتمل ہے۔ عقلی دلائل جنھیں غوروفکر کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے، قرآن نے ان کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے اور بہت سے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے بڑی عقلی دلیل اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ ہی خالق، رازق، تمام معاملات میں مختار کل ہے۔ وہ لازماً اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ معبود بھی اللہ ہی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں۔ چونکہ یہ واضح ترین اور عظیم ترین دلیل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کثرت کے ساتھ اس سے استدلال کیا ہے۔ صرف اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی ایک اور عقلی دلیل یہ ہے کہ نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں دور کرنے والا صرف وہی ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہے کہ ظاہری، باطنی، چھوٹی، بڑی، قلیل اور کثیر تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور ہر مصیبت، سختی، تکلیف اور پریشانی کو صرف وہی دور کرسکتا ہے اور مخلوق میں سے کوئی فرد کسی کے لیے تو درکنار، اپنے لیے بھی حصول نعمت اور دفع مضرت کا مالک نہیں، اسے ضرور یہ یقین ہوگا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرنا سب سے بڑا باطل ہے۔ اور عبودیت اسی کا حق ہے جو اکیلا ہی نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں ٹالنے والا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پر اس دلیل کو بہت ہی زیادہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک عقلی دلیل یہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ کسی اور کی۔ اور فرمایا ہے کہ وہ سماعت و بصارت سے محروم ہیں۔ اور اگر فرض کرلیا جائے کہ سنتے ہیں تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ان کی دوسری صفات بھی انھیں انتہائی ناقص ثابت کرتی ہیں۔ ان کی یہ حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات اور افعال جمیلہ کا ذکر فرمایا ہے اور قدرت و غلبہ وغیرہ صفات ذکر کی ہیں جو سمعی اور عقلی دلائل سے معلوم ہوتی ہیں جو اس چیز کو کماحقہ سمجھ لے گا (کہ غیر اللہ مجبور ہیں اور اللہ تعالیٰ عظیم صفات، قوت غلبہ وغیرہ کا حامل ہے) اسے معلوم ہوجائے گا کہ عبادت کے لائق صرف رب عظیم ہے، جسے ہر لحاظ سے کمال، ہر قسم کی عظمت، تمام تعریف، ہر ایک قدرت، اور تمام تر کبریائی حاصل ہے۔ وہ عبادت کے لائق نہیں جو پیدا کیے گئے ہیں، جن کے فیصلے کوئی اور کرتا ہے، جو ناقص ہیں، بہرے اور گونگے ہیں، عقل و فہم سے محروم ہیں۔ ایک اور عقلی دلیل، جو اللہ کے بندے زمانہ قدیم میں بھی اور زمانہ جدید میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ اہل توحید کی عزت افزائی اور اہل شرک کی رسوائی اور عقوبت ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے توحید کو دین و دنیا کی ہر بھلائی کے حصول، اور ہر سحر سے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور شرک و کفر کو تمام دینی و دنیاوی سزاؤں کا سبب قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب رسولوں کے واقعات بیان فرمائے جو انھیں اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ پیش آئے، نافرمانوں کی سزائیں ذکر کیں، رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات کا ذکر فرمایا، تو ہر واقعہ کے بعد فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’بے شک اس میں نشانی ہے‘‘ یعنی عبرت ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ توحید ہی نجات کا باعث ہے، اور اسے چھوڑنا تباہی کا باعث ہے۔ یہ بڑے بڑے عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے یہ عظیم اصول ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے بار بار مختلف انداز سے بیان کیا ہے تاکہ حق واضح ہوجائے۔ پھر جو چاہے اسے قبول کرکے نجات پالے اور جو چاہے انکار کرکے تباہی کا نشانہ بن جائے۔ وللہ الحمد۔
آل عمران 3:19
بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہےاور نہیں اختلاف کیا ان لوگوں نے جو دیے گئے کتاب مگر بعد اس کے کہ آگیا ان کے پاس (صحیح) علم، سرکشی کرتے ہوئے آپس میں، اور جو کوئی کفر کرے ساتھ اللہ کی آیات کے، تو بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(19) پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)
[19] جب یہ ثابت ہوگیا کہ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے، تب یہ بتایا کہ کس طرح عبادت کرنا، اور کس دین کو قبول کرنا ضروری ہے۔ وہ دین اسلام ہے ’’اسلام‘‘ کا مطلب ’’سرتسلیم خم کرنا‘‘ ہے، یعنی اللہ کی توحید اور اطاعت جس کی دعوت اس کے رسولوں نے دی، جس کی ترغیب اس کی کتابوں نے دی۔ اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ محبت، خوف، امید، انابت اور دعا خالصتاً اس کے لیے ہو اور اس مقصد کے لیے اس کے رسول کی پیروی کی جائے۔ یہی تمام رسولوں کا دین ہے ۔ جو ان کی پیروی کرے گا، وہ ان کے راستے پر ہوگا۔
آل عمران 3:20
پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)
[20] اہل کتاب کو ان کی کتابیں متحد ہوکر اللہ کے دین پر عمل کرنے کا حکم دیتی تھیں۔ انھوں نے ان کتابوں کے آنے کے بعد ظلم و زیادتی کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کیا۔ ورنہ ان کے پاس اختلاف سے بچ کر حق کی راہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا سبب موجود تھا۔ اسے پس پشت ڈال دینا ان کا کفر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًۢا بَيۡنَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے۔ اللہ اس کا جلد حساب لینے والا ہے‘‘ پھر وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ بالخصوص جس نے حق کو پہچان کر ترک کیا، یہ سخت وعید اور عذاب الیم کا مستحق ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ عیسائی اور دیگر جو لوگ اسلام پر دوسرے مذاہب کو فوقیت دیتے ہیں ان سے بحث کرتے ہوئے انھیں فرما دیں کہ ﴿اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ﴾ ’’میں نے اور میرے تابع داروں نے اللہ کی اطاعت میں اپنا چہرہ مطیع کردیا‘‘ یعنی میں نے اور میرے پیروکاروں نے اقرار کیا ہے، گواہی دی ہے اور اپنے مالک کے سامنے سرجھکا دیے ہیں۔ ہم نے اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کو چھوڑ دیا ہے، ہمیں ان کے باطل ہونے پر یقین حاصل ہے۔ یہ کہہ کر آپ ان لوگوں کو مایوس کردیں جن کو تمھارے بارے میں کوئی امید ہے (کہ شاید اسلام چھوڑ کر ہمارا دین اختیار کرلیں) اور شبہات پیش آنے پر اس طرح تمھارے دین کی تجدید ہوجائے گی، اور جو شبہات کا شکار ہے اس کے خلاف حجت قائم ہوجائے گی۔ کیونکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اہل علم بندوں کو توحید کی دلیل اور گواہ کے طورپر پیش کیا ہے۔ تاکہ وہ دوسروں کے خلاف حجت بن جائیں، اہل علم کے سردار، سب سے افضل اور سب سے بڑے عالم ہمارے نبی محمدﷺہیں۔ اس کے بعد آپ کے متبعین درجہ بدرجہ عالم ہیں۔ انھیں وہ صحیح علم او رکامل عقل حاصل ہے کہ کسی اور کو ان کے برابر تو کیا، قریب تر بھی حاصل نہیں۔ جب اللہ کی توحید اور اس کے دین کی حقانیت واضح دلیلوں سے ثابت ہوچکی ہے، مخلوقات میں سے کامل ترین او رعالم ترین شخصیت نے انھیں مانا اور پیش کیا، تو اس سے یقین حاصل ہوگیا اور ہر شک و شبہ دور ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا ہر مذہب باطل ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡاُمِّيّٖنَ﴾ ’’اہل کتاب سے (یعنی نصاریٰ اور یہود سے۔) اور ان پڑھ لوگوں سے (یعنی عرب و عجم کے مشرکین سے) کہہ دیجیے‘‘ ﴿ءَاَسۡلَمۡتُمۡ١ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا﴾ ’’کیا تم بھی اطاعت اختیار کرتے ہو پھر اگر یہ بھی تابع دار بن جائیں۔‘‘ اور تمھاری طرح ایمان لے آئیں ﴿ فَقَدِ اهۡتَدَوۡا﴾ ’’تو وہ یقیناً ہدایت پانے والے ہیں۔ جس طرح تم ہدایت یافتہ ہو۔ اس صورت میں وہ تمھارے بھائی بن جائیں گے۔ ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو تمھیں حاصل ہیں۔ اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو تمھارے ہیں ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اور اگر یہ روگردانی کریں‘‘ اور اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کے مخالف مذاہب پر قائم رہیں۔ ﴿فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ﴾ ’’تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے‘‘ آپ کو آپ کا رب ضرور اجر و ثواب دے گا۔ مخالف پر حجت قائم ہوچکی۔ اس کے بعد صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ وہ انھیں ان کے جرم کی سزا دے، اس لیے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
آل عمران 3:21
بے شک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ کی آیتوں کے اور قتل کرتے ہیں نبیوں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم دیتے ہیں ساتھ انصاف کے لوگوں میں سے، پس خوشخبری سنا دیجیے ان کو عذاب دردناک کی (21) یہی وہ لوگ ہیں کہ برباد ہو گئے عمل ان کے دنیا اور آخرت میں اور نہیں واسطے ان کے کوئی مددگار (22)
[22-21] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر و عناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انھوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان لوگوں کی، جنھیں اچھی بات بتائی جاتی ہے یا بری بات سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن انھوں نے اس احسان اور خیر خواہی کا انتہائی برا جواب دیا کہ اپنے محسنوں کو شہید کردیا۔ ان شنیع جرائم کی وجہ سے وہ انتہائی سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ یعنی ایسا شدید اور دردناک عذاب جس کو پوری طرح بیان کرنا، اور اس کی شدت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ جس کی تکلیف بدنوں، دلوں اور روحوں کے لیے ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ انھیں کوئی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، بلکہ اللہ کی دی ہوئی سزا میں کوئی ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ انھیں ہر شر اور مصیبت حاصل ہوگی۔ یہ حالت یہود کی، اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی ہے۔ اللہ ان کا برا کرے۔ یہ اللہ پر، نبیوں پر اور نیک لوگوں پر کتنے جری ہیں؟
آل عمران 3:22
بے شک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ کی آیتوں کے اور قتل کرتے ہیں نبیوں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم دیتے ہیں ساتھ انصاف کے لوگوں میں سے، پس خوشخبری سنا دیجیے ان کو عذاب دردناک کی (21) یہی وہ لوگ ہیں کہ برباد ہو گئے عمل ان کے دنیا اور آخرت میں اور نہیں واسطے ان کے کوئی مددگار (22)
[22-21] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر و عناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انھوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان لوگوں کی، جنھیں اچھی بات بتائی جاتی ہے یا بری بات سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن انھوں نے اس احسان اور خیر خواہی کا انتہائی برا جواب دیا کہ اپنے محسنوں کو شہید کردیا۔ ان شنیع جرائم کی وجہ سے وہ انتہائی سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ یعنی ایسا شدید اور دردناک عذاب جس کو پوری طرح بیان کرنا، اور اس کی شدت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ جس کی تکلیف بدنوں، دلوں اور روحوں کے لیے ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ انھیں کوئی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، بلکہ اللہ کی دی ہوئی سزا میں کوئی ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ انھیں ہر شر اور مصیبت حاصل ہوگی۔ یہ حالت یہود کی، اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی ہے۔ اللہ ان کا برا کرے۔ یہ اللہ پر، نبیوں پر اور نیک لوگوں پر کتنے جری ہیں؟
آل عمران 3:23
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے، وہ بلائے جاتے ہیں کتاب اللہ کی طرف تاکہ فیصلہ کرے وہ (کتاب) ان کے درمیان ، پھر منہ پھیر لیتا ہے ایک فریق ان میں سے،اور وہ اعراض کرنے والے ہیں (23) یہ بسبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، ہرگز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے،اور دھوکے میں ڈال دیا ان کو ان کے دین (کے بارے) میں، ان چیزوں نے جو تھے وہ گھڑتے (24) پس کیا حال ہوگا جب ہم جمع کریں گے ان کو ایسے دن میں کہ نہیں شک اس (کے وقوع) میں، اور پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو اس کا جو اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (25)
[25-23] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انھیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے، اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتا رہا ہے کہ انھیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے۔ اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جائے اس کا فرض ہے کہ سنے، اطاعت کرے اور دل سے تسلیم کرے، جیسے اللہ نے فرمایا:﴿اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾(النور:24؍51) ’’مومنوں کو جب اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے، تو وہ صرف یہی کہتے ہیں: ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا‘‘ اہل کتاب کو جو دھوکا لگا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی کی جراء ت کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:﴿لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ١۪ وَّغَرَّهُمۡ فِيۡ دِيۡنِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍24) ’’ہمیں تو آگ گنے چنے چند دن کے لیے ہی جلائے گی، اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ انھوں نے اپنے پاس سے ایک بات بنا کر اس کو حقیقت سمجھ لیا اور اس پر عمل کرنے لگے اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے دلوں نے ان کو یہ دھوکا دے رکھا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ ان کی یہ بات سراسر جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ ان کا انجام تو بہت برا اور انتہائی اندوہناک ہونے والا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰهُمۡ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾ ’’پس کیا حال ہوگا، جب ہم انھیں اس دن جمع کریں گے۔ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘ ان کا حال اتنا برا ہوگا کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ دن کمائی کا پورا پورا بدلہ ملنے کا دن ہے اور یہ بدلہ انصاف کے ساتھ ملے گا، جس میں ظلم بالکل شامل نہیں ہوگا۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ یہ نتیجہ اعمال کے مطابق ہوگا اور ان کے اعمال ایسے ہیں جو انہیں شدید ترین عذاب کا مستحق ثابت کرتے ہیں۔
آل عمران 3:24
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے، وہ بلائے جاتے ہیں کتاب اللہ کی طرف تاکہ فیصلہ کرے وہ (کتاب) ان کے درمیان ، پھر منہ پھیر لیتا ہے ایک فریق ان میں سے،اور وہ اعراض کرنے والے ہیں (23) یہ بسبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، ہرگز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے،اور دھوکے میں ڈال دیا ان کو ان کے دین (کے بارے) میں، ان چیزوں نے جو تھے وہ گھڑتے (24) پس کیا حال ہوگا جب ہم جمع کریں گے ان کو ایسے دن میں کہ نہیں شک اس (کے وقوع) میں، اور پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو اس کا جو اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (25)
[25-23] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انھیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے، اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتا رہا ہے کہ انھیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے۔ اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جائے اس کا فرض ہے کہ سنے، اطاعت کرے اور دل سے تسلیم کرے، جیسے اللہ نے فرمایا:﴿اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾(النور:24؍51) ’’مومنوں کو جب اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے، تو وہ صرف یہی کہتے ہیں: ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا‘‘ اہل کتاب کو جو دھوکا لگا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی کی جراء ت کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:﴿لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ١۪ وَّغَرَّهُمۡ فِيۡ دِيۡنِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍24) ’’ہمیں تو آگ گنے چنے چند دن کے لیے ہی جلائے گی، اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ انھوں نے اپنے پاس سے ایک بات بنا کر اس کو حقیقت سمجھ لیا اور اس پر عمل کرنے لگے اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے دلوں نے ان کو یہ دھوکا دے رکھا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ ان کی یہ بات سراسر جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ ان کا انجام تو بہت برا اور انتہائی اندوہناک ہونے والا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰهُمۡ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾ ’’پس کیا حال ہوگا، جب ہم انھیں اس دن جمع کریں گے۔ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘ ان کا حال اتنا برا ہوگا کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ دن کمائی کا پورا پورا بدلہ ملنے کا دن ہے اور یہ بدلہ انصاف کے ساتھ ملے گا، جس میں ظلم بالکل شامل نہیں ہوگا۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ یہ نتیجہ اعمال کے مطابق ہوگا اور ان کے اعمال ایسے ہیں جو انہیں شدید ترین عذاب کا مستحق ثابت کرتے ہیں۔
آل عمران 3:25
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے، وہ بلائے جاتے ہیں کتاب اللہ کی طرف تاکہ فیصلہ کرے وہ (کتاب) ان کے درمیان ، پھر منہ پھیر لیتا ہے ایک فریق ان میں سے،اور وہ اعراض کرنے والے ہیں (23) یہ بسبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، ہرگز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے،اور دھوکے میں ڈال دیا ان کو ان کے دین (کے بارے) میں، ان چیزوں نے جو تھے وہ گھڑتے (24) پس کیا حال ہوگا جب ہم جمع کریں گے ان کو ایسے دن میں کہ نہیں شک اس (کے وقوع) میں، اور پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو اس کا جو اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (25)
[25-23] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انھیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے، اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتا رہا ہے کہ انھیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے۔ اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جائے اس کا فرض ہے کہ سنے، اطاعت کرے اور دل سے تسلیم کرے، جیسے اللہ نے فرمایا:﴿اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾(النور:24؍51) ’’مومنوں کو جب اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے، تو وہ صرف یہی کہتے ہیں: ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا‘‘ اہل کتاب کو جو دھوکا لگا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی کی جراء ت کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:﴿لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ١۪ وَّغَرَّهُمۡ فِيۡ دِيۡنِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍24) ’’ہمیں تو آگ گنے چنے چند دن کے لیے ہی جلائے گی، اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ انھوں نے اپنے پاس سے ایک بات بنا کر اس کو حقیقت سمجھ لیا اور اس پر عمل کرنے لگے اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے دلوں نے ان کو یہ دھوکا دے رکھا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ ان کی یہ بات سراسر جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ ان کا انجام تو بہت برا اور انتہائی اندوہناک ہونے والا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰهُمۡ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾ ’’پس کیا حال ہوگا، جب ہم انھیں اس دن جمع کریں گے۔ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘ ان کا حال اتنا برا ہوگا کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ دن کمائی کا پورا پورا بدلہ ملنے کا دن ہے اور یہ بدلہ انصاف کے ساتھ ملے گا، جس میں ظلم بالکل شامل نہیں ہوگا۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ یہ نتیجہ اعمال کے مطابق ہوگا اور ان کے اعمال ایسے ہیں جو انہیں شدید ترین عذاب کا مستحق ثابت کرتے ہیں۔
آل عمران 3:26
آپ کہہ دیجیے، اے اللہ! اے مالک بادشاہی کے! توہی دیتا ہے بادشاہی جس کو چاہے،اور چھین لیتا ہے بادشاہی اس سے جس سے چاہے،اور توہی عزت دیتا ہے جس کو چاہے،اور تو ہی ذلت دیتا ہے جس کو چاہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہے سب بھلائی، یقیناً تو اوپر ہر چیز کے قادر ہے (26) تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور نکالتا ہے تو زندہ کو مُردہ سے اور نکالتا ہے مُردہ کو زندہ سے،اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حساب (27)
[27-26] اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے ﴿اللّٰهُمَّ مٰؔلِكَ الۡمُلۡكِ﴾ ’’اے اللہ! بادشاہی کے مالک‘‘ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لیے ہے۔ اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکرکی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا: ﴿تُؤۡتِي الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے باشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے، اور ان کے پیروکاروں سے حکومت چھین کر محمدﷺکو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ وللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی،ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں ۔کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کیے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں: مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے، کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا‘‘ اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے۔ اور فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ۰۰۶۲ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾(الانفال:8؍62۔63) ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی‘‘ اور فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ وَاصۡبِرُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الانفال:8؍45۔46) ’’اے مومنو! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا:﴿وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے‘‘ ﴿ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے‘‘ ﴿ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے ﴿ تُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَتُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ ﴾ ’’توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔‘‘ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن ۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔‘‘ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’توہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔‘‘ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا:
آل عمران 3:27
آپ کہہ دیجیے، اے اللہ! اے مالک بادشاہی کے! توہی دیتا ہے بادشاہی جس کو چاہے،اور چھین لیتا ہے بادشاہی اس سے جس سے چاہے،اور توہی عزت دیتا ہے جس کو چاہے،اور تو ہی ذلت دیتا ہے جس کو چاہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہے سب بھلائی، یقیناً تو اوپر ہر چیز کے قادر ہے (26) تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور نکالتا ہے تو زندہ کو مُردہ سے اور نکالتا ہے مُردہ کو زندہ سے،اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حساب (27)
[27-26] اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے ﴿اللّٰهُمَّ مٰؔلِكَ الۡمُلۡكِ﴾ ’’اے اللہ! بادشاہی کے مالک‘‘ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لیے ہے۔ اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکرکی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا: ﴿تُؤۡتِي الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے باشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے، اور ان کے پیروکاروں سے حکومت چھین کر محمدﷺکو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ وللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی،ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں ۔کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کیے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں: مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے، کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا‘‘ اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے۔ اور فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ۰۰۶۲ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾(الانفال:8؍62۔63) ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی‘‘ اور فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ وَاصۡبِرُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الانفال:8؍45۔46) ’’اے مومنو! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا:﴿وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے‘‘ ﴿ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے‘‘ ﴿ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے ﴿ تُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَتُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ ﴾ ’’توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔‘‘ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن ۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔‘‘ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’توہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔‘‘ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا:
آل عمران 3:28
نہ بنائیں مومن کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے،اور جو کوئی کرے گا یہ تو نہیں ہے اسے اللہ سے کوئی تعلق، مگر اس لیے کہ چاہو تم ان (کے شر) سے بچنا،اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ اپنی ذات سے،اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (28)
[28] اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرماتا ہے کہ ان سے محبت نہ رکھیں ، ان کی مدد نہ کریں، مسلمانوں کے کسی کام میں ان سے مدد نہ لیں اور جو کوئی ایسی حرکت کرے اسے تنبیہ فرماتا ہے کہ ﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ اللّٰهِ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ یعنی وہ اللہ سے کٹ گیا ہے، اس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ کافروں سے دوستی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان تو اللہ سے محبت اور اس کے دوستوں یعنی مومنوں سے تعاون کرکے اللہ کے دین کو قائم کرنے اور اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے کاحکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ ﴾(التوبۃ:9؍71)’’ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی (مددگار، محبت رکھنے والے) ہیں۔‘‘ جو شخص مومنوں کو چھوڑ کر ان کافروں سے دوستی لگاتا ہے جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے اولیاء کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں، ایسا شخص مومنوں کی جماعت سے نکل جاتا ہے اور کافروں کی جماعت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍51)’’تم میں سے جو کوئی ان سے محبت رکھے گا، وہ انھی میں سے ہوگا‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں سے ان کے ساتھ میل جول رکھنے سے، ان سے دوستی لگانے سے ان کی طرف میلان رکھنے سے بچنا ضروری ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی کافر کو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی عہدہ نہیں دیا جاسکتا۔ عام مسلمانوں کے فائدے کے کسی کام میں ان سے مدد نہیں لی جاسکتی۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰىةً ﴾ ’’مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح کا بچاؤ مقصود ہو۔‘‘ یعنی اگر تمھیں ان سے جان کا خطرہ ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے زبان سے تقیہ کرسکتے ہو، اور ظاہری طورپر ایسا کام کرسکتے ہو جس سے تقیہ ہوجاتا ہے۔( تحقیق شدہ نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہے۔ امام ابن تیمیہ aنے ’’المنہاج‘‘ میں فرمایا ہے: اللہ کا یہ فرمان: ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰىةً﴾ اس کے بارے میں حضرت مجاہد aنے فرمایا ہے: (لامصانعۃ) ’’ان کا ساتھ نہ دو۔‘‘ تقیہ یہ نہیں ہوتا کہ میں جھوٹ بولوں اور زبان سے وہ بات کہوں جو میرے دل میں نہیں، یہ تو منافقت ہے۔ بلکہ مجھے چاہیے کہ نبیﷺ کے ارشاد کے مطابق جو کچھ کرسکوں کروں۔ ارشاد نبویﷺ ہے: ’’تم میں سے جو کچھ کوئی برائی دیکھے،تو اسے ہاتھ سے تبدیل (اور ختم) کردے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو زبان سے (منع کرے)۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (نفرت رکھے)۔‘‘ لہٰذا مومن جب کافروں اور بدکاروں میں گھر جائے تو کمزور ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ سے جہاد کرنا فرض نہیں۔ اگر زبان سے منع کرسکے تو ضرور کرے ورنہ دل سے نفرت رکھے۔ ان تمام درجات میں وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ زبان سے وہ بات نہیں کہے گا، جو اس کے دل میں نہیں۔ وہ یا تو اپنا دین ظاہر کرے گا، یا چھپائے گا۔ لیکن کسی بھی حال میں ان کے مذہب کی تائید نہیں کرے گا۔ زیادہ سے زیادہ وہ مومن آل فرعون کا، یازوجہ فرعون کا سا طرز عمل اختیار کرسکتا ہے۔ وہ مومن ان کے دین کی تائید نہیں کرتا تھا، نہ جھوٹ بولتا تھا، نہ زبان سے وہ بات کہتا تھا جو اس کے دل میں نہیں، بلکہ اپنے دین کو چھپائے ہوئے تھا۔ دین کو چھپانا اور چیز ہے اور باطل دین کا اظہار بالکل دوسری چیز ہے۔ اللہ نے اس چیز کی بالکل اجازت نہیں دی۔ صرف اسے اجازت دی ہے جسے کلمۂ کفر کہنے پر زبردستی مجبور کردیا جائے…‘‘۔ الخ) ﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھیں خود اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کی نافرمانی کرکے اس کی ناراضی مول نہ لو۔ ورنہ وہ تمھیں اس کی سزا دے گا۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
آل عمران 3:29
کہہ دیجیے، اگر چھپاؤ تم وہ بات جو تمھارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اسے، جانتا ہے اس کو اللہ، اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،اور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے (29) جس دن پائے گا ہر نفس جو عمل کیا اس نے اچھائی سے، (اپنے سامنے) حاضر کیا ہوا،اور جو عمل کیا اس نے برائی سے (وہ بھی) ،تو وہ آرزو کرے گا، کاش کہ ہو درمیان اس کے اور درمیان اس (کی برائی) کے فاصلہ دور کا،اور ڈراتا ہےتمھیں اللہ اپنی ذات سے،اور اللہ بہت شفقت کرنے والا ہے اپنے بندوں پر (30)
[30,29] یعنی قیامت کے دن سب بندے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ پھر وہ تمھارے اعمال کو شمار کرے گا، ان پر محاسبہ کرے گا اور سزا و جزا دے گا۔ لہٰذا ایسے برے کام کرنے سے بچو جن کی وجہ سے تم عقوبت کے مستحق ہوجاؤ۔ بلکہ ایسے عمل کرو جن سے تمھیں اجر و ثواب ملے۔ پھر اللہ نے اپنے علم کی وسعت کے بارے میں فرمایا، وہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، بالخصوص جو کچھ دلوں میں ہے اسے بھی جانتا ہے۔ اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ دلوں کو پاک رکھنا چاہیے اور ہر وقت اللہ کے علم کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں بندے کو اس بات سے شرم آئے گی کہ اس کا مالک اس کے دل کو گندے خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا دیکھے۔ بلکہ وہ اپنی سوچ کو ایسے امور میں مشغول کرے گا جن سے اللہ کا قرب حاصل ہو۔ مثلاً قرآن مجید کی کسی آیت یارسول اللہﷺکی کسی حدیث پر غوروفکر یا ایسے علم کو سمجھنے کی کوشش جس سے اسے فائدہ ہو یا اللہ کی کسی مخلوق اور نعمت کے بارے میں سوچنا یا اللہ کے بندوں کی بھلائی کے کسی کام کے بارے میں سوچ بچار۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے علم اور قدرت کا ذکر فرماتا ہے، تو اس میں ضمناً اعمال کی جزا و سزا بھی شامل ہوتی ہے۔ جو قیامت کے دن واقع ہوگی۔ اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری جزا و سزا ملے گی، اس لیے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا ﴾ ’’جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو موجود پائے گا‘‘ یعنی اس کی نیکیاں مکمل طورپر محفوظ ہوں گی۔ ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئی ہوگی۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ﴾(الزلزال:99؍7)’’پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا‘‘ (خیر) ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کے قریب کرنے والا ہر نیک عمل شامل ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ جس طرح ’’سوء‘‘ ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کو ناراض کرنے والا ہر چھوٹا بڑا برا عمل شامل ہے۔ ﴿ وَّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور جو اس نے برائیاں کی ہوں گی، آرزو کرے گا، کاش اس کے اور ان (برائیوں) کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی‘‘ وہ بے انتہا افسوس اور شدید ترین غم کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا۔ بندے کو ان گناہوں سے بچنا اور ڈرنا چاہیے جن کے نتیجے میں اسے شدید ترین غم برداشت کرنا پڑے گا۔ اب ان گناہوں کو چھوڑنا ممکن ہے، اس لیے فوراً ترک کردینا چاہیے ورنہ اس وقت وہ کہے گا ﴿يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾(الزمر:39؍56) ’’ہائے افسوس! میں نے اللہ کی جناب میں کوتاہی کی!‘‘ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾(النساء:4؍42) ’’جنھوں نے کفر کیا، اور رسول کی نافرمانی کی اس دن تمنا کریں گے کاش! زمین ان کو نگل کر برابر ہوجائے‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27۔28) ’’اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا، کاش! میں نے رسول(ﷺ) کی راہ اختیار کی ہوتی! ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾(الزخرف:43؍38) ’’یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی، تو تو بڑا برا ساتھی ہے۔‘‘ قسم ہے اللہ کی! ہر خواہش نفس کواور لذت کو ترک کردینا، اگرچہ اس جہان میں اسے ترک کرنا نفس کو کتنا دشوار محسوس ہوتا ہو، ان عذابوں کو جھیلنے سے اور ان رسوائیوں کو برداشت کرنے سے بہت زیادہ آسان ہے۔ لیکن بندہ ظالم اور نادان ہونے کی وجہ سے صرف حاضر و موجود پرنظر رکھتا ہے۔ اگر اس کے پاس کامل عقل ہو تو ان اعمال کے انجام کو دیکھے، پھر وہ عمل کرے جس کا دونوں جہاں میں فائدہ ہو۔ اور اس کام سے اجتناب کرے جو دونوں جہان میں نقصان کا باعث ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ہم پر شفقت و رحمت کرتے ہوئے دوبارہ اپنی ذات سے ڈرایا ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سخت نہ ہوجائیں۔ تاکہ ترغیب بھی ہو، جس کے نتیجے میں امید اور عمل صالح حاصل ہو۔ اور ترہیب بھی ہو جس کے نتیجے میں خوف حاصل ہو اور گناہ چھوٹ جائیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ١ؕ وَاللّٰهُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’اللہ تمھیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑاہی مہربان ہے‘‘ ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر احسان فرما کر ہمیشہ اپنے خوف سے نوازے رکھے، تاکہ ہم وہ کام نہ کریں جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
آل عمران 3:30
کہہ دیجیے، اگر چھپاؤ تم وہ بات جو تمھارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اسے، جانتا ہے اس کو اللہ، اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،اور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے (29) جس دن پائے گا ہر نفس جو عمل کیا اس نے اچھائی سے، (اپنے سامنے) حاضر کیا ہوا،اور جو عمل کیا اس نے برائی سے (وہ بھی) ،تو وہ آرزو کرے گا، کاش کہ ہو درمیان اس کے اور درمیان اس (کی برائی) کے فاصلہ دور کا،اور ڈراتا ہےتمھیں اللہ اپنی ذات سے،اور اللہ بہت شفقت کرنے والا ہے اپنے بندوں پر (30)
[30,29] یعنی قیامت کے دن سب بندے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ پھر وہ تمھارے اعمال کو شمار کرے گا، ان پر محاسبہ کرے گا اور سزا و جزا دے گا۔ لہٰذا ایسے برے کام کرنے سے بچو جن کی وجہ سے تم عقوبت کے مستحق ہوجاؤ۔ بلکہ ایسے عمل کرو جن سے تمھیں اجر و ثواب ملے۔ پھر اللہ نے اپنے علم کی وسعت کے بارے میں فرمایا، وہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، بالخصوص جو کچھ دلوں میں ہے اسے بھی جانتا ہے۔ اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ دلوں کو پاک رکھنا چاہیے اور ہر وقت اللہ کے علم کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں بندے کو اس بات سے شرم آئے گی کہ اس کا مالک اس کے دل کو گندے خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا دیکھے۔ بلکہ وہ اپنی سوچ کو ایسے امور میں مشغول کرے گا جن سے اللہ کا قرب حاصل ہو۔ مثلاً قرآن مجید کی کسی آیت یارسول اللہﷺکی کسی حدیث پر غوروفکر یا ایسے علم کو سمجھنے کی کوشش جس سے اسے فائدہ ہو یا اللہ کی کسی مخلوق اور نعمت کے بارے میں سوچنا یا اللہ کے بندوں کی بھلائی کے کسی کام کے بارے میں سوچ بچار۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے علم اور قدرت کا ذکر فرماتا ہے، تو اس میں ضمناً اعمال کی جزا و سزا بھی شامل ہوتی ہے۔ جو قیامت کے دن واقع ہوگی۔ اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری جزا و سزا ملے گی، اس لیے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا ﴾ ’’جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو موجود پائے گا‘‘ یعنی اس کی نیکیاں مکمل طورپر محفوظ ہوں گی۔ ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئی ہوگی۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ﴾(الزلزال:99؍7)’’پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا‘‘ (خیر) ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کے قریب کرنے والا ہر نیک عمل شامل ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ جس طرح ’’سوء‘‘ ایک جامع لفظ ہے جس میں اللہ کو ناراض کرنے والا ہر چھوٹا بڑا برا عمل شامل ہے۔ ﴿ وَّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور جو اس نے برائیاں کی ہوں گی، آرزو کرے گا، کاش اس کے اور ان (برائیوں) کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی‘‘ وہ بے انتہا افسوس اور شدید ترین غم کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا۔ بندے کو ان گناہوں سے بچنا اور ڈرنا چاہیے جن کے نتیجے میں اسے شدید ترین غم برداشت کرنا پڑے گا۔ اب ان گناہوں کو چھوڑنا ممکن ہے، اس لیے فوراً ترک کردینا چاہیے ورنہ اس وقت وہ کہے گا ﴿يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾(الزمر:39؍56) ’’ہائے افسوس! میں نے اللہ کی جناب میں کوتاہی کی!‘‘ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾(النساء:4؍42) ’’جنھوں نے کفر کیا، اور رسول کی نافرمانی کی اس دن تمنا کریں گے کاش! زمین ان کو نگل کر برابر ہوجائے‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27۔28) ’’اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا، کاش! میں نے رسول(ﷺ) کی راہ اختیار کی ہوتی! ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾(الزخرف:43؍38) ’’یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی، تو تو بڑا برا ساتھی ہے۔‘‘ قسم ہے اللہ کی! ہر خواہش نفس کواور لذت کو ترک کردینا، اگرچہ اس جہان میں اسے ترک کرنا نفس کو کتنا دشوار محسوس ہوتا ہو، ان عذابوں کو جھیلنے سے اور ان رسوائیوں کو برداشت کرنے سے بہت زیادہ آسان ہے۔ لیکن بندہ ظالم اور نادان ہونے کی وجہ سے صرف حاضر و موجود پرنظر رکھتا ہے۔ اگر اس کے پاس کامل عقل ہو تو ان اعمال کے انجام کو دیکھے، پھر وہ عمل کرے جس کا دونوں جہاں میں فائدہ ہو۔ اور اس کام سے اجتناب کرے جو دونوں جہان میں نقصان کا باعث ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ہم پر شفقت و رحمت کرتے ہوئے دوبارہ اپنی ذات سے ڈرایا ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سخت نہ ہوجائیں۔ تاکہ ترغیب بھی ہو، جس کے نتیجے میں امید اور عمل صالح حاصل ہو۔ اور ترہیب بھی ہو جس کے نتیجے میں خوف حاصل ہو اور گناہ چھوٹ جائیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ١ؕ وَاللّٰهُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’اللہ تمھیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑاہی مہربان ہے‘‘ ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر احسان فرما کر ہمیشہ اپنے خوف سے نوازے رکھے، تاکہ ہم وہ کام نہ کریں جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
آل عمران 3:31
کہہ دیجیے، اگر ہو تم محبت کرتے اللہ سے تو اتباع کرو میرا، محبت کرے گا تم سے اللہ، اور بخش دے گا واسطے تمھارے گناہ تمھارے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (31) کہہ دیجیے، اطاعت کرو تم اللہ کی اور اس کے رسول کی، پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (32)
[32,31] اس آیت میں اللہ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات،اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو‘‘ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں، تو اس کے لیے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہیے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی اطاعت ہر حال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقائد میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔ پس جو رسول اللہﷺکی اتباع کرتا ہے، اللہ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔ جس نے رسول کی اتباع نہ کی وہ اللہ سے محبت رکھنے والا نہیں، کیونکہ اللہ کی محبت کا تقاضا رسولﷺکی اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس صورت میں اگر وہ رسول سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع)کے بغیر ایسی محبت بے کار ہے۔ سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہیے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ کی محبت میں نقص ہوگا۔[32] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سب سے جامع حکم صادر فرمایا ہے۔ وہ ہے اس کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت۔ اس میں ایمان اور توحید بھی شامل ہے اور اس کی شاخیں یعنی ظاہری اور باطنی اقوال و افعال بھی۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ گناہ سے پرہیز اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، یعنی اس کی اطاعت میں شامل ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرنے والے ہی کامیاب ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر یہ منہ پھیر لیں‘‘ یعنی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری سے اعراض کریں، تو دوسرا راستہ صرف کفر کا اور شیطان کی فرماں برداری کا ہے۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾(الحج:22؍4)’’اس کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا، وہ اسے گمراہ ہی کرے گا اور جہنم کے عذاب میں لے جائے گا۔‘‘ اس لیے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر یہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا‘‘بلکہ ان سے ناراض ہے، اور سخت ترین سزا دے گا۔ اس آیت مبارکہ میں اتباع رسول کی وضاحت ہے کہ اس کا طریقہ اللہ کے احکامات اور رسول کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ یہی حقیقی اتباع اور پیروی ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:32
کہہ دیجیے، اگر ہو تم محبت کرتے اللہ سے تو اتباع کرو میرا، محبت کرے گا تم سے اللہ، اور بخش دے گا واسطے تمھارے گناہ تمھارے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (31) کہہ دیجیے، اطاعت کرو تم اللہ کی اور اس کے رسول کی، پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (32)
[32,31] اس آیت میں اللہ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات،اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو‘‘ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں، تو اس کے لیے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہیے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی اطاعت ہر حال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقائد میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔ پس جو رسول اللہﷺکی اتباع کرتا ہے، اللہ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔ جس نے رسول کی اتباع نہ کی وہ اللہ سے محبت رکھنے والا نہیں، کیونکہ اللہ کی محبت کا تقاضا رسولﷺکی اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس صورت میں اگر وہ رسول سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع)کے بغیر ایسی محبت بے کار ہے۔ سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہیے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ کی محبت میں نقص ہوگا۔[32] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سب سے جامع حکم صادر فرمایا ہے۔ وہ ہے اس کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت۔ اس میں ایمان اور توحید بھی شامل ہے اور اس کی شاخیں یعنی ظاہری اور باطنی اقوال و افعال بھی۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ گناہ سے پرہیز اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، یعنی اس کی اطاعت میں شامل ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرنے والے ہی کامیاب ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر یہ منہ پھیر لیں‘‘ یعنی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری سے اعراض کریں، تو دوسرا راستہ صرف کفر کا اور شیطان کی فرماں برداری کا ہے۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾(الحج:22؍4)’’اس کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا، وہ اسے گمراہ ہی کرے گا اور جہنم کے عذاب میں لے جائے گا۔‘‘ اس لیے فرمایا:﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر یہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا‘‘بلکہ ان سے ناراض ہے، اور سخت ترین سزا دے گا۔ اس آیت مبارکہ میں اتباع رسول کی وضاحت ہے کہ اس کا طریقہ اللہ کے احکامات اور رسول کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ یہی حقیقی اتباع اور پیروی ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
آل عمران 3:33
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:34
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:35
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:36
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔
آل عمران 3:37
بے شک اللہ نے چن لیا آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو اوپر جہانوں کے (33) اولاد ہیں بعض ان کے بعض کی اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (34) جب کہا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے لیے اس (بچے) کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا، پس تو قبول کر مجھ سے (یہ)، یقیناً تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے (35) پھر جب اس نے جنا اس کو، تو کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے تو جنی ہے وہ لڑکی، اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا تھااور نہیں تھا (وہ) لڑکا مانند (اس) لڑکی کےاور بے شک میں نے اس کا نام رکھا ہے مریم اور بے شک میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری اور اس کی اولاد کو (بھی) شیطان مردود سے (36) پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے قبول کرنا اچھا اور پرورش کی اس کی پرورش اچھی، اور کفیل بنایا اس کا زکریا کو، جب بھی داخل ہوتے اس پر زکریا حجرے میں ،تو پاتے اس کے پاس کچھ کھانے کی چیزیں، انھوں نے کہا، اے مریم! کہاں سے آئیں تیرے لیے یہ؟ مریم نے کہا، یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہیں، بے شک اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہے، بے حساب (37) وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا، اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنے پاس سے (بغیر اسباب ظاہری کے) اولاد پاکیزہ، بے شک تو خوب سننے والا ہے دعا کا (38) پس آواز دی اس کو فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہاتھا حجرے میں، بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھے یحییٰ کی درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہوگا ایک کلمے (عیسیٰ) کی جو اللہ کی طرف سے ہے،اور سردار ہوگا اور بہت ضبط کرنے والا (نفس کا) اور نبی ہوگا صالحین میں سے (39) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیوں کر ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپااور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (40) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بنا دے میرے لیے کوئی نشانی، اللہ نے فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہیں کلام کر سکے گا تو لوگوں سے تین دن مگر اشارے سےاور یاد کر اپنے رب کو کثرت سے اور تسبیح کر شام اور صبح(41) اور (یاد کرو) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ نے چن لیا تجھے اور پاک کیا تجھے اور برگزیدہ کیا تجھے اوپر دنیا جہان کی عورتوں کے(42) اے مریم! تو فرماں برداری کر اپنے رب کی، اور سجدہ کر اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43) یہ خبروں میں سے ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی، آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب کہ وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم کہ کون ان میں سے کفالت کرے مریم کی؟ اور نہیں تھے آپ ان کے پاس، جب کہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے(44) جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے تجھ کو ایک کلمے کی اپنی طرف سے، اس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم، بڑے مرتبے والا دنیا میں اور آخرت میں، اور (اللہ کے) مقربین میں سے(45) اور وہ کلام کرے گا لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں اور ہوگا صالحین میں سے(46) مریم نے کہا، اے میرے رب! کس طرح ہوگا میرے لیے لڑکا، حالانکہ نہیں چھو ا مجھے کسی بشر نے؟ فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا تو صرف یہ کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے(47) اور وہ تعلیم دے گا اسے کتاب کی اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی(48) اور (بنائے گا اسے) رسول طرف بنی اسرائیل کی، (وہ کہے گا) بے شک میں آیا ہوں تمھارے پاس نشانیاں لے کر تمھارے رب سے (وہ یہ کہ) بے شک میں بناتا ہوں تمھارے لیے گارے سے مانند شکل پرندے کی، پھر پھونک مارتا ہوں اس میں تو ہو جاتا ہے وہ (واقعی) پرندہ ساتھ اللہ کے حکم کے،اور میں اچھا کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو ساتھ حکم اللہ کے،اور خبردیتا ہوں تمھیں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن (49) اور تصدیق کرنے والا ہوں واسطے اس کے جو مجھ سے پہلے (نازل شدہ) ہے تورات، اور تاکہ حلال کر دوں میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر،اور آیا ہوں تمھارے پاس نشانی لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری(50) بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمھارا، پس تم عبادت کرو اسی کی، یہی ہے راستہ سیدھا(51) پھر جب محسو س کیا عیسیٰ نے ان میں کفر، تو کہا، کون ہے مددگار میرا اللہ کے لیے ؟ کہا حواریوں نے، ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے،اور تو گواہ رہ اس بات کا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں(52) اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے جو تونے نازل کی، اور اتباع کیا ہم نے رسول کا، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ گواہوں کے(53) اور انھوں نے تدبیر کی اور اللہ نے(بھی) تدبیر کی، اور اللہ بہتر ہے سب تدبیر کرنے والوں سے(54)(یاد کرو) جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ! بلاشبہ میں پورا پورا لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھے اپنی طرف، اورپاک کرنے والا ہوں تجھے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا،اور کرنے والا ہوں ان کو جنھوں نے اتباع کیا تیرا، اوپر ان کے جنھوں نے کفر کیا، روز قیامت تک، پھر میری ہی طرف ہے لوٹ کر آنا تمھارا، پس فیصلہ کروں گا میں تمھارے درمیان ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے(55)
[55-33] اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدمuکا انتخاب فرمایا۔ انھیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کریں، انھیں جنت میں ٹھہرایا۔ انھیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے، اس لیے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾(بنیٓ اسرائیل:17؍70)’’یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں، اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔‘‘اللہ نے نوحuکو منتخب فرمایا اور انھیں اس وقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیمuبھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طورپر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنھوں نے اپنی ذات کو آگ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ اس کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لیے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد کے سردار، ہمارے نبی جناب محمدﷺبھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرمادیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طورپر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنھیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریمiکے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰuکے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں‘‘ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ١ۚ وَاجۡتَبَيۡنٰهُمۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾(الأنعام:6؍87)’’اور ان کے کچھ آباء و اجدادکو، اور کچھ اولاد کو، اور کچھ بھائیوں کو۔ اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سنتا جانتا ہے‘‘ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انھیں اس لیے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انھیں انتخاب کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سنانے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں ، ان کی اقتدا کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے۔ اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جودوکرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لیے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ان معزز گھرانوں کا ذکرکرکے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰuکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشوونما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے:﴿ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ ﴾ ’’جب عمران کی بیوی نے کہا‘‘ یعنی مریم علیہا السلام کی والدہ نے حمل قرار پاجانے پر فرمایا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِيۡ بَطۡنِيۡ مُحَرَّرًا﴾ ’’اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی‘‘ یعنی تیری رضا کے حصول کے لیے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لیے آزاد کردیا۔ ﴿ فَتَقَبَّلۡ مِنِّيۡ ﴾ ’’پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما‘‘ ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے‘‘ تو میری دعا سن رہا ہے، اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انھوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ﴿ فَلَمَّؔا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّيۡ وَضَعۡتُهَاۤ اُنۡثٰى ﴾ ’’جب بچی کو جنا تو کہنے لگی: پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی‘‘ جبکہ انھیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ﴾ ’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی‘‘ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ ﴿ وَلَيۡسَ الذَّكَرُ كَالۡاُنۡثٰى١ۚ وَاِنِّيۡ سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں، میں نے اس کا نام مریم رکھا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے۔ اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے۔ اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ ﴿ وَاِنِّيۡۤ اُعِيۡذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ﴾ ’’اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘ انھوں نے مریم کے لیے او رمریم کی اولاد کے لیے دعا کی کہ انھیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ ﴾ ’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا‘‘ یعنی انھیں نذر کے طورپر قبول فرمایا۔ اور انھیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ ﴿ وَّاَنۢۡـبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ﴾یعنی ان کی جسمانی اور اخلاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے زکریاuکو متعین فرمایا۔﴿ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ﴾ ’’اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا‘‘ کہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لیے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ ﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ﴾ ’’جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے‘‘ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انھیں اللہ نے کرامت کے طورپر عطا فرمایا۔ زکریاuنے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَكِ هٰؔذَا ﴾ ’’یہ روزی تمھارے پاس کہاں سے آئی‘‘ ﴿ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے‘‘ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے‘‘ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرمادے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مَخۡرَجًاۙ۰۰وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ ﴾(الطلاق:65؍2، 3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے خلاصی کی صورت بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ علاوہ ازیں اس آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں، اس لیے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔جب زکریاuنے مریم [ پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا، اور انھیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زکریاuنے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انھیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے، یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی ﴿ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰu)کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ﴿ وَسَيِّدًا ﴾ ’’اور سردار‘‘ یعنی آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے۔ اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ ﴿ وَّحَصُوۡرًا ﴾ ’’اور ضابط نفس‘‘یعنی عورتوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ رب کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کے دل میں عورتوں کی خواہش پیدانھیں ہوگی۔ ﴿ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾’’اور نبی نیک لوگوں میں سے‘‘ کتنی عظیم بشارت ہے۔ اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی ہے۔ اس میں بیٹا ملنے کی خوش خبری بھی ہے، اور اس کی کامل صفات والا ہونے کی بھی، اور اس کے نبی ہونے کی بھی! زکریاuانتہائی خوشی کی حالت میں پکار اٹھے۔﴿ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِيَ الۡكِبَرُ وَ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرٌ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔‘‘ ان میں سے ایک سبب بھی ہوتا تو اولاد نہ ہوتی۔ اب تو دونوں جمع ہیں۔ اللہ نے بتایا کہ یہ پیدائش معجزانہ شان کی حامل ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اولاد کی موجودگی کو اسباب مثلاً توالد و تناسل کے ساتھ متعلق کردیا ہے اسی طرح اگر وہ بغیر اسباب کے اولاد دینا چاہے تو دے سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ زکریاuنے اس بشارت کے جلدی پورا ہونے کی امید میں اور مکمل اطمینان حاصل ہونے کی غرض سے فرمایا: ﴿ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً ﴾ ’’پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘ جو اس بچے کے وجود میں آجانے کی علامت ہو۔ ﴿قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾ ’’فرمایا: نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا، مگر اشارے سے‘‘ یعنی آپ کی زبان بغیر کسی مرض یا آفت کے کلام سے رک جائے گی، آپ صرف اشارے سے بات کرسکیں گے۔ کلام نہ کرسکنا ایک عظیم علامت ہے۔ اس میں ایک عجیب مناسبت ہے یعنی جس طرح اسباب موجود ہوتے ہوئے اللہ ان کو کام کرنے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح اسباب کے بغیر پیدا کرسکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام اسباب اللہ کی قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنا شکر کرنے اور صبح شام کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ جب آپ حجرے سے باہر تشریف لائے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾(مريم:19؍11)’’تو لوگوں کو اشارے سے فرمایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہنا۔‘‘اللہ عزوجل حضرت مریم [ کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انھیں براہ راست مخاطب کرکے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ ﴾ ’’اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا‘‘ ﴿ وَطَهَّرَكِ ﴾ ’’اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا‘‘ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ ﴿ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ا ور سارے جہاں کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا‘‘ پہلے (اِصْطَفَاء) ’’انتخاب اور برگزیدہ کرنے‘‘ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے۔ اور دوسرے (اِصْطَفَاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں سے افضل قرار دینا مقصود ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے چند خواتین یعنی جناب خدیجہ، جناب عائشہ اور جناب فاطمہ رضی اللہ عنہن کا اس شرف میں شریک ہونا مریم کے اصطفاء کے منافی نہیں۔ جب فرشتوں نے آپ کو اللہ کی منتخب بندی ہونے اور پاک کرنے کی خوشخبری دی تو یہ ایک عظیم نعمت اور اللہ کا عظیم احسان تھا، جس کا شکر کرنا ضروری تھا، اس لیے فرشتوں نے کہا:﴿ يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ ﴾ ’’اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر‘‘ قنوت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت پر مسلسل قائم رہنا ہے۔ ﴿ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾ ’’اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ عبادت میں رکوع اور سجدہ کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام دوسری عبادتوں سے افضل ہے۔ اور ان سے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ مریم نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اطاعت کے جذبہ سے اس حکم کی تعمیل کی۔ جب اللہ نے اپنے نبی کو مریم کے بارے میں یہ باتیں بتائیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق کن حالات سے گزریں، تو یہ غیبی معاملات تھے جن کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ غیب کی خبروںمیں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس نہ تھے، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا۔‘‘ جب مریم کی والدہ انھیں بیت المقدس کے ذمہ دار افراد کے پاس لے گئیں تو ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوئی کہ وہ مریم کی دیکھ بھال کا شرف حاصل کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی، وہ اس طرح کہ اپنے قلم دریا میں ڈال دیے کہ جس کا قلم پانی کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی مریم کا سرپرست قرار پائے گا۔ یہ شرف حضرت زکریاuکو حاصل ہوا جو ان کے نبی اور معزز ترین فرد تھے۔ اے محمد(ﷺ)آپ ان لوگوں کو یہ واقعات بتاتے ہیں جن کے بارے میں نہ انھیں معلوم تھا، نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ آپ کی اطاعت قبول کریں او ر آپ کے احکام کی تعمیل کریں۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾(قصص:28؍44) ’’اور طور کے مغربی جانب، جبکہ ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو آپ موجود تھے، اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰuہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لیے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبریلuکو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ انھوں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم علیہا السلام کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ ﴿ وَجِيۡهًا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ ’’جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے‘‘ یعنی انھیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انھیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام جہاں والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا، اس لیے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ ﴿ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا﴾ ’’اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی‘‘ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی او رکامیابی ہے۔ اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا، اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لیے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ ﴿ وَّمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا‘‘ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم [کے لیے کئی بشارتیں ہیں اور مسیحuکے بلند مقام کا اظہار بھی ہے۔ ﴿ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ ﴾ ’’کہنے لگیں: الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کیے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم [نے تعجب کے طورپر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ ﴿ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’فرشتے نے کہا: اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰuکی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰuکا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuپر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا ﴿ وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا‘‘ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طورپر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف وافضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طورپر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انھیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَۚ۰۰ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۰۰ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۰۰الَّذِيۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰﴾(العلق:96؍1۔4) ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ‘‘ اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم، اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰuپر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انھیں لکھنا سکھایا اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا: جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَرَسُوۡلًا اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا‘‘ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انھیں اللہ کی طرف بلایا۔ اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ اَنِّيۡ قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ١ۙ اَنِّيۡۤ اَخۡلُقُ لَكُمۡ مِّنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمھارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔‘‘ ﴿ فَاَنۡفُخُ فِيۡهِ فَيَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ ﴿ وَاُبۡرِئُ الۡاَؔكۡمَهَ وَالۡاَبۡرَصَ ﴾ ’’اور میں (اللہ کے حکم سے )مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں‘‘ ﴿ وَاُحۡيِ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِ اللّٰهِ١ۚ وَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا تَاۡكُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ١ۙ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمھیں بتا دیتا ہوں‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو‘‘ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا۔ ﴿ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے‘‘ یعنی میں ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰuلائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علامت یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے ۔اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اس کا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دارومدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنھیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔اس کے بعد عیسیٰuنے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تورات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کیے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انھیں برقرار رکھا ہے۔ ﴿ وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی نشانی لایا ہوں‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’تم اللہ سے ڈرو‘‘ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’یقین مانو، میرا اور تمھارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔‘‘ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خالق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰuنے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں ، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں ، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں، اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لیے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے جو عیسیٰuکو معبود مانتے ہیں۔ یااللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انھوں نے فرمایا تھا:﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾(مریم:19؍30) ’’میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116۔117) ’’اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تونے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تونے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے۔‘‘ ﴿ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾’’یہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔﴿ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيۡسٰؔى مِنۡهُمُ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’جب عیسیٰuنے ان کا کفر محسوس کرلیا‘‘ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انھیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کررہے ہیں ﴿ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو کہنے لگے: اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟‘‘ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کے لیے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ ﴿ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾ ’’حواریوں (یعنی آپ کے مددگاروں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں‘‘ یعنی انھوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انھوں نے کہا: ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’ہم اللہ پر ایمان لائے‘‘ ﴿فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‘‘ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لیے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے عیسیٰuکے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔ اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوںمیں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی۔ اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کامیاب ہوگئے، اس لیے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَكَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں (کافروں )نے تدبیر کی‘‘ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لیے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ﴿ وَمَكَرَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی‘‘ اور انھیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ خائب و خاسر ہوکر رہ گئے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّيۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰuکو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالیا، اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰuکو شہید کرنے کی تھی۔ اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ ﴾(النساء:4؍157) ’’نہ تو انھوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی‘‘ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اہل سنت نے تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰuکو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنالینے، اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہنا ہے، جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾(المائدہ:5؍110) ’’اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑ گئے جیسے ارشاد ہے ﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ١ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا﴾(النساء:4؍157) ’’یقین جانو، عیسیٰuکے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور تیرے تابع داروں کو کافروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک‘‘ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰuسے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰuکی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمدﷺکو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰuکے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبیﷺکی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘ ﴿فَاَحۡكُمُ بَيۡنَؔكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس میں ہی تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا‘‘ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنھیں دلیل کی ضرورت ہے۔