Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الأنعام 6:91 – الأنعام 6:162

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الأنعام 6:91
  2. الأنعام 6:92
  3. الأنعام 6:93
  4. الأنعام 6:94
  5. الأنعام 6:95
  6. الأنعام 6:96
  7. الأنعام 6:97
  8. الأنعام 6:98
  9. الأنعام 6:99
  10. الأنعام 6:100
  11. الأنعام 6:101
  12. الأنعام 6:102
  13. الأنعام 6:103
  14. الأنعام 6:104
  15. الأنعام 6:105
  16. الأنعام 6:106
  17. الأنعام 6:107
  18. الأنعام 6:108
  19. الأنعام 6:109
  20. الأنعام 6:110
  21. الأنعام 6:111
  22. الأنعام 6:112
  23. الأنعام 6:113
  24. الأنعام 6:114
  25. الأنعام 6:115
  26. الأنعام 6:116
  27. الأنعام 6:117
  28. الأنعام 6:118
  29. الأنعام 6:119
  30. الأنعام 6:120
  31. الأنعام 6:121
  32. الأنعام 6:122
  33. الأنعام 6:123
  34. الأنعام 6:124
  35. الأنعام 6:125
  36. الأنعام 6:126
  37. الأنعام 6:127
  38. الأنعام 6:128
  39. الأنعام 6:129
  40. الأنعام 6:130
  41. الأنعام 6:131
  42. الأنعام 6:132
  43. الأنعام 6:133
  44. الأنعام 6:134
  45. الأنعام 6:135
  46. الأنعام 6:136
  47. الأنعام 6:137
  48. الأنعام 6:138
  49. الأنعام 6:139
  50. الأنعام 6:140
  51. الأنعام 6:141
  52. الأنعام 6:142
  53. الأنعام 6:143
  54. الأنعام 6:144
  55. الأنعام 6:145
  56. الأنعام 6:146
  57. الأنعام 6:147
  58. الأنعام 6:148
  59. الأنعام 6:149
  60. الأنعام 6:150
  61. الأنعام 6:151
  62. الأنعام 6:152
  63. الأنعام 6:153
  64. الأنعام 6:154
  65. الأنعام 6:155
  66. الأنعام 6:156
  67. الأنعام 6:157
  68. الأنعام 6:158
  69. الأنعام 6:159
  70. الأنعام 6:160
  71. الأنعام 6:161
  72. الأنعام 6:162

الأنعام 6:91

اور نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جس طرح حق ہے اس کی قدر کرنے کا، جس وقت کہا انھوں نے ، نہیں نازل کی اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز، کہہ دیجیے! کس نے نازل کی کتاب، وہ جو لائے اسے موسیٰ؟ وہ نور اور ہدایت (تھی ) لوگوں کے لیے(نقل)کرتے ہو تم اس (کتاب) کو اوراق میں ظاہر کرتے ہو اس سے (کچھ) اور چھپاتے ہو بہت اور تم سکھلائے گئے ہو وہ کچھ کہ نہیں جانتے تھے تم اور نہ باپ دادا تمھارے، کہہ دیجیے! (نازل کی) اللہ نے پھر چھوڑیے انھیں ، وہ اپنی مشغولیت میں کھیلتے رہیں (91) [91] اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کے نفی رسالت کے قول کو سخت قبیح قرار دیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ جو اس بات کا قائل ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب جوئی ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مہمل چھوڑ دے گا ان کو کوئی حکم دے گا نہ ان کو کسی چیز سے روکے گا اور اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کی نفی کی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ اور وہ یہ رسالت ہے۔ اس رسالت کے سوا بندوں کے لیے سعادت، کرامت اور فلاح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ، تب اس نفئ رسالت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور کون سی طعن و تشنیع ہے؟ ﴿ قُلۡ ﴾ ان کے فساد قول کو متحقق کرتے ہوئے اور جس چیز کا وہ خود اقرار کرتے ہیں اس کو منواتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿مَنۡ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ الَّذِيۡ جَآءَؔ بِهٖ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کون ہے جس نے وہ کتاب اتاری جسے موسیٰ لے کر آئے‘‘ اور وہ ہے تورات عظیم ﴿ نُوۡرًؔا﴾ جو جہالت کی تاریکیوں میں روشنی ہے ﴿وَّهُدًى﴾ اور گمراہی میں ہدایت ہے اور علم و عمل میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے، یہ وہ کتاب ہے جو شائع ہو کر پھیل چکی ہے اور جس کے تذکروں نے کانوں اور دلوں کو لبریز کر دیا ہے حتیٰ کہ انھوں نے اسے کتابوں میں لکھنا شروع کیا اور پھر جیسے جی چاہا اس میں تصرف کیا۔ جو ان کی خواہشات کے موافق تھا اسے ظاہر کیا اور جو ان کے خلاف تھا اسے چھپا کر کتمان حق کے مرتکب ہوئے اور ایسا حصہ بہت زیادہ ہے۔ ﴿ وَعُلِّمۡتُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وہ علوم سکھائے گئے‘‘ جو اس کتاب جلیل کے سبب سے تھے ﴿ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمھارے باپ دادا‘‘ جب آپ نے اس ہستی کے بارے میں ان سے پوچھ لیا جس نے یہ کتاب نازل کی جو ان صفات سے موصوف ہے تو انھیں اس کا جواب دیجیے ﴿ قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ۔‘‘ یعنی انھیں بتلا دیں کہ کتاب نازل کرنے والا اللہ ہے۔ ﴿ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِيۡ خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُوۡنَ ﴾ ’’پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بے ہودہ باتوں میں کھیلتے رہیں ۔‘‘ یعنی پھر ان کو ان کے اپنے حال پر باطل میں مشغول چھوڑ دیجیے تاکہ یہ ان چیزوں کے ساتھ کھیلتے رہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔

الأنعام 6:92

اور یہ کتاب، ہم نے اتارااسے، مبارک ہے، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب)کی جو اس سے پہلے ہے اور تا کہ آپ ڈرائیں مکہ اور اس کے پاس والوں کو‘ اور وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں آخرت پر وہ ایمان لاتے ہیں اس (قرآن) پراور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (92) [92]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن مجید ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہے، اس کو اتارا ہم نے آپ کی طرف، برکت والا‘‘ یعنی برکت اس کا وصف ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ بھلائیوں اور نیکیوں پر مشتمل ہے ﴿ مُّصَدِّقُ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب، گزشتہ کتابوں کی موافقت کرتی ہے اور ان کی صداقت پر گواہ ہے۔ ﴿ وَلِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ نیز ہم نے یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ بستیوں کی ماں ، یعنی مکہ مکرمہ کے لوگوں اور اس کے ارد گرد دیار عرب بلکہ تمام شہروں کے لوگوں کو ڈرائیں تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچیں اور ان امور سے بچیں جو اس کے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ ﴾ ’’اور جن کو یقین ہے آخرت کا، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ‘‘ کیونکہ جب خوف دل میں جاگزیں ہوتا ہے تو اس کے تمام ارکان آباد ہو جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے لگ جاتا ہے ﴿ وَهُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نمازوں پر دوام کرتے ہیں ، اس کے ارکان و حدود، اس کے آداب و شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر تمام امور کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔

الأنعام 6:93

اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو باندھے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یا کہے وحی کی گئی ہے میری طرف جبکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کوئی چیز اور جس نے کہا، ابھی اتاروں گا میں بھی مثل اس کے جو اتارا اللہ نےاور کاش کہ آپ دیکھیں جبکہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے پھیلاتے ہیں اپنے ہاتھ(یہ کہتے ہوئے کہ) نکالو اپنی جانیں ، آج بدلہ دیے جاؤگے تم عذاب ذلت کا بوجہ اس کے کہ تھے تم کہتے اللہ پر ناحق (باتیں ) اور تھے تم اس کی آیات سے تکبر کرتے(93) اور یقیناً تم آئے ہو ہماے پاس اکیلے، جس طرح کہ پیدا کیا تھا ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ دیا تھا ہم نے تمھیں ، اپنی پیٹھوں کے پیچھےاور نہیں دیکھتے ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی جن کی بابت دعویٰ کرتے تھے تم کہ بے شک وہ تمھارے(معاملات) میں شریک ہیں ۔ تحقیق ٹوٹ گیا(تعلق) تمھارے درمیان اور گم ہوگئے تم سے وہ (معبود) کہ تھے تم (جن کو) گمان کرتے (94) [93] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے، اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے، نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے کے ساتھ، اس بات کو بھی واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس (جھوٹے نبی) کی پیروی کریں اور اس بات پر لوگوں سے لڑائی کریں اور اپنے مخالفین کے جان و مال کو وہ حلال قرار دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، مختار ثقفی اور دیگر مدعیان نبوت جو اس وصف سے متصف ہیں ۔ ﴿ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اتارا اللہ نے‘‘ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر اللہ تعالیٰ قادر ہے، وہ احکام میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کر سکتا ہے، وہ بھی اسی طرح شریعت بنا سکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ اس وعید میں وہ شخص بھی شامل ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کر سکتا ہے اور قرآن جیسی کتاب وہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک بالذات محتاج اور عاجز بندہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہے، یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک طاقتور اور بے نیاز ہستی کے ساتھ خدائی میں شریک ہے جو ہر پہلو سے اپنی ذات، اسما اور صفات میں کمال مطلق کی مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ظالموں کی مذمت کی تو ساتھ ہی اس عذاب کا بھی ذکر فرما دیا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے اور حالت نزع میں ان کو دیا جائے گا۔ ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں ‘‘ یعنی جب یہ ظالم موت کی شدت، اس کے ہول اور اس کے کرب میں مبتلا ہوں تو آپ ایک نہایت ہولناک حالت اور معاملہ دیکھیں گے کہ کوئی اس کا وصف بیان نہیں کر سکتا ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں ‘‘ جب نزع کی حالت میں فرشتے ان ظالموں کو ماریں گے اور عذاب کے ساتھ ان کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ان کی روحوں کو قبض کرتے اور حرکت دیتے وقت، جبکہ روحیں جسموں سے نکلنے سے انکار کریں گی، کہیں گے ﴿ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ ﴾ ’’کہ نکالو تم اپنی جانیں ، آج تمھیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا‘‘ یعنی ایسا سخت عذاب جو تمھیں ذلیل و رسوا کر دے گا اور جزا ہمیشہ عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے۔‘‘ تم جھوٹ بولتے تھے اور حق کو ٹھکراتے تھے جو انبیاء لے کر تمھارے پاس آئے تھے ﴿وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔‘‘ اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کی اطاعت اور ان کے احکام کو ماننے سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے تھے۔ یہ آیت کریمہ برزخ کے عذاب اور برزخ کی نعمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس خطاب اور عذاب کا رخ ان کی طرف عین نزع کے وقت اور موت سے تھوڑا سا پہلے اور پھر موت کے بعد ہے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ روح جسم رکھتی ہے جو داخل ہوتی ہے اور خارج ہوتی ہے جس کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ وہ جسد کے ساتھ مل کر رہتی ہے اور اس سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔ [94] یہ ان کا برزخی حال ہے۔قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہو گا نہ اولاد ہو گی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نہ اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسی طرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لیے مقرر ہیں ۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعمال کے اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہو گی ۔آخرت کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گے یا نقصان دیں گے جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے۔ اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہو جانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ ﴾ ’’البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیے تھے تمھیں ‘‘ یعنی جو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمھیں نوازا تھا ﴿ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’اپنے پیچھے‘‘ انھیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمھارے کسی کام نہ آئیں گی ﴿وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾ ’’اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے‘‘ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیا اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لیے ایک حصہ ٹھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے۔ لہذا ان کے شرک فی العبادۃ، بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق و مالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی ﴿لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔‘‘ یعنی آج تمھارے اور تمھارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہو گئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡكُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے‘‘ وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہو گئے جن کو شیطان تمھارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمھارے دلوں میں انھیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمھاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا۔ اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعووں کا بطلان واضح ہو گیا اور ظاہر ہو گیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔

الأنعام 6:94

اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو باندھے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یا کہے وحی کی گئی ہے میری طرف جبکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کوئی چیز اور جس نے کہا، ابھی اتاروں گا میں بھی مثل اس کے جو اتارا اللہ نےاور کاش کہ آپ دیکھیں جبکہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے پھیلاتے ہیں اپنے ہاتھ(یہ کہتے ہوئے کہ) نکالو اپنی جانیں ، آج بدلہ دیے جاؤگے تم عذاب ذلت کا بوجہ اس کے کہ تھے تم کہتے اللہ پر ناحق (باتیں ) اور تھے تم اس کی آیات سے تکبر کرتے(93) اور یقیناً تم آئے ہو ہماے پاس اکیلے، جس طرح کہ پیدا کیا تھا ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ دیا تھا ہم نے تمھیں ، اپنی پیٹھوں کے پیچھےاور نہیں دیکھتے ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی جن کی بابت دعویٰ کرتے تھے تم کہ بے شک وہ تمھارے(معاملات) میں شریک ہیں ۔ تحقیق ٹوٹ گیا(تعلق) تمھارے درمیان اور گم ہوگئے تم سے وہ (معبود) کہ تھے تم (جن کو) گمان کرتے (94) [93] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے، اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے، نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے کے ساتھ، اس بات کو بھی واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس (جھوٹے نبی) کی پیروی کریں اور اس بات پر لوگوں سے لڑائی کریں اور اپنے مخالفین کے جان و مال کو وہ حلال قرار دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، مختار ثقفی اور دیگر مدعیان نبوت جو اس وصف سے متصف ہیں ۔ ﴿ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اتارا اللہ نے‘‘ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر اللہ تعالیٰ قادر ہے، وہ احکام میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کر سکتا ہے، وہ بھی اسی طرح شریعت بنا سکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ اس وعید میں وہ شخص بھی شامل ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کر سکتا ہے اور قرآن جیسی کتاب وہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک بالذات محتاج اور عاجز بندہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہے، یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک طاقتور اور بے نیاز ہستی کے ساتھ خدائی میں شریک ہے جو ہر پہلو سے اپنی ذات، اسما اور صفات میں کمال مطلق کی مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ظالموں کی مذمت کی تو ساتھ ہی اس عذاب کا بھی ذکر فرما دیا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے اور حالت نزع میں ان کو دیا جائے گا۔ ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں ‘‘ یعنی جب یہ ظالم موت کی شدت، اس کے ہول اور اس کے کرب میں مبتلا ہوں تو آپ ایک نہایت ہولناک حالت اور معاملہ دیکھیں گے کہ کوئی اس کا وصف بیان نہیں کر سکتا ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں ‘‘ جب نزع کی حالت میں فرشتے ان ظالموں کو ماریں گے اور عذاب کے ساتھ ان کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ان کی روحوں کو قبض کرتے اور حرکت دیتے وقت، جبکہ روحیں جسموں سے نکلنے سے انکار کریں گی، کہیں گے ﴿ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ ﴾ ’’کہ نکالو تم اپنی جانیں ، آج تمھیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا‘‘ یعنی ایسا سخت عذاب جو تمھیں ذلیل و رسوا کر دے گا اور جزا ہمیشہ عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے۔‘‘ تم جھوٹ بولتے تھے اور حق کو ٹھکراتے تھے جو انبیاء لے کر تمھارے پاس آئے تھے ﴿وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔‘‘ اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کی اطاعت اور ان کے احکام کو ماننے سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے تھے۔ یہ آیت کریمہ برزخ کے عذاب اور برزخ کی نعمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس خطاب اور عذاب کا رخ ان کی طرف عین نزع کے وقت اور موت سے تھوڑا سا پہلے اور پھر موت کے بعد ہے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ روح جسم رکھتی ہے جو داخل ہوتی ہے اور خارج ہوتی ہے جس کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ وہ جسد کے ساتھ مل کر رہتی ہے اور اس سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔ [94] یہ ان کا برزخی حال ہے۔قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہو گا نہ اولاد ہو گی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نہ اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسی طرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لیے مقرر ہیں ۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعمال کے اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہو گی ۔آخرت کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گے یا نقصان دیں گے جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے۔ اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہو جانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ ﴾ ’’البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیے تھے تمھیں ‘‘ یعنی جو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمھیں نوازا تھا ﴿ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’اپنے پیچھے‘‘ انھیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمھارے کسی کام نہ آئیں گی ﴿وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾ ’’اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے‘‘ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیا اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لیے ایک حصہ ٹھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے۔ لہذا ان کے شرک فی العبادۃ، بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق و مالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی ﴿لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔‘‘ یعنی آج تمھارے اور تمھارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہو گئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡكُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے‘‘ وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہو گئے جن کو شیطان تمھارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمھارے دلوں میں انھیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمھاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا۔ اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعووں کا بطلان واضح ہو گیا اور ظاہر ہو گیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔

الأنعام 6:95

بلا شبہ اللہ پھاڑنے والا ہے دانے اور گٹھلی کو، وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ، پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟(95) نمودرا کرنے والا ہے سپیدۂ صبح کااور بنایا اس نے رات کو سکون کا باعث اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ، یہ (سب) اندازہ ہے بہت زبردست، جاننے والے کا(96)اور وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے تارےتاکہ راہ پاؤ تم ان کے ذریعے اندھیروں میں خشکی اور تری کے، تحقیق کھول کر بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (97)اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے، پس (تمھارے لیے) ایک قرار گاہ ہے اور ایک جائے امانت، تحقیق مفصل بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں (98) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بے پایاں فضل و کرم اور اپنی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ فَالِـقُ الۡحَبِّ وَالنَّوٰى ﴾ ’’بے شک اللہ پھاڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی‘‘ یہاں دانہ ہر قسم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا ، مثلاً: وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتیوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور دیگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں ۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کا کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿ يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے‘‘مثلاً: وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹھلی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے ﴿ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور مردہ کو نکالتا ہے‘‘ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشوونما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو ﴿ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’زندہ سے‘‘مثلاً: درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی، جو یہ تمام افعال سرانجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ ﴿ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ﴾ ’’اللہ ہے، رب تمھارا‘‘ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ۔ [96] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں ، مثلاً: روشنی اور تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالِـقُ الۡاِصۡبَاحِ﴾ ’’پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اسی طرح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں ، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کیے چلا جاتا ہے حتیٰ کہ تمام تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہو جاتی ہے۔ چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ﴿وَجَعَلَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے بنایا ﴿الَّيۡلَ سَكَنًا ﴾ ’’رات کو آرام کے لیے‘‘ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں ، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ ﴿ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ﴾ ’’اور سورج اور چاند حساب کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں ، معاملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کر سکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہو جاتے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ اندازہ ﴿ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’اندازہ ہے غالب جاننے والے کا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو حدود مقرر کر دی ہیں وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی، آگے ہو سکتی ہے نہ پیچھے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمِ ﴾ وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ [97]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِيۡ ظُلُمٰتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے ستارے تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ‘‘ جب راستے تم پر مشتبہ ہو جاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لیے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں ۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں ۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں ، بنابریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کر سکتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں ۔ ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کر دیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کر دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہو گئیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جاہل اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہو سکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکال دور نہیں ہوتا۔ [98]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’اور وہی ذات ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور وہ آدم ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب آدم سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا (مُسْتَقَر) یعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں ۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لیے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لیے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی صلبوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ ہے ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تحقیق ہم نے کھول کر بیان کر دیں نشانیاں ، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل و براہین کا فہم حاصل کریں ۔

الأنعام 6:96

بلا شبہ اللہ پھاڑنے والا ہے دانے اور گٹھلی کو، وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ، پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟(95) نمودرا کرنے والا ہے سپیدۂ صبح کااور بنایا اس نے رات کو سکون کا باعث اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ، یہ (سب) اندازہ ہے بہت زبردست، جاننے والے کا(96)اور وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے تارےتاکہ راہ پاؤ تم ان کے ذریعے اندھیروں میں خشکی اور تری کے، تحقیق کھول کر بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (97)اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے، پس (تمھارے لیے) ایک قرار گاہ ہے اور ایک جائے امانت، تحقیق مفصل بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں (98) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بے پایاں فضل و کرم اور اپنی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ فَالِـقُ الۡحَبِّ وَالنَّوٰى ﴾ ’’بے شک اللہ پھاڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی‘‘ یہاں دانہ ہر قسم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا ، مثلاً: وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتیوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور دیگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں ۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کا کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿ يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے‘‘مثلاً: وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹھلی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے ﴿ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور مردہ کو نکالتا ہے‘‘ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشوونما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو ﴿ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’زندہ سے‘‘مثلاً: درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی، جو یہ تمام افعال سرانجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ ﴿ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ﴾ ’’اللہ ہے، رب تمھارا‘‘ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ۔ [96] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں ، مثلاً: روشنی اور تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالِـقُ الۡاِصۡبَاحِ﴾ ’’پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اسی طرح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں ، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کیے چلا جاتا ہے حتیٰ کہ تمام تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہو جاتی ہے۔ چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ﴿وَجَعَلَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے بنایا ﴿الَّيۡلَ سَكَنًا ﴾ ’’رات کو آرام کے لیے‘‘ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں ، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ ﴿ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ﴾ ’’اور سورج اور چاند حساب کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں ، معاملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کر سکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہو جاتے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ اندازہ ﴿ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’اندازہ ہے غالب جاننے والے کا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو حدود مقرر کر دی ہیں وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی، آگے ہو سکتی ہے نہ پیچھے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمِ ﴾ وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ [97]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِيۡ ظُلُمٰتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے ستارے تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ‘‘ جب راستے تم پر مشتبہ ہو جاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لیے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں ۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں ۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں ، بنابریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کر سکتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں ۔ ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کر دیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کر دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہو گئیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جاہل اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہو سکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکال دور نہیں ہوتا۔ [98]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’اور وہی ذات ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور وہ آدم ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب آدم سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا (مُسْتَقَر) یعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں ۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لیے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لیے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی صلبوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ ہے ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تحقیق ہم نے کھول کر بیان کر دیں نشانیاں ، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل و براہین کا فہم حاصل کریں ۔

الأنعام 6:97

بلا شبہ اللہ پھاڑنے والا ہے دانے اور گٹھلی کو، وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ، پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟(95) نمودرا کرنے والا ہے سپیدۂ صبح کااور بنایا اس نے رات کو سکون کا باعث اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ، یہ (سب) اندازہ ہے بہت زبردست، جاننے والے کا(96)اور وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے تارےتاکہ راہ پاؤ تم ان کے ذریعے اندھیروں میں خشکی اور تری کے، تحقیق کھول کر بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (97)اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے، پس (تمھارے لیے) ایک قرار گاہ ہے اور ایک جائے امانت، تحقیق مفصل بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں (98) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بے پایاں فضل و کرم اور اپنی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ فَالِـقُ الۡحَبِّ وَالنَّوٰى ﴾ ’’بے شک اللہ پھاڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی‘‘ یہاں دانہ ہر قسم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا ، مثلاً: وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتیوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور دیگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں ۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کا کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿ يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے‘‘مثلاً: وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹھلی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے ﴿ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور مردہ کو نکالتا ہے‘‘ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشوونما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو ﴿ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’زندہ سے‘‘مثلاً: درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی، جو یہ تمام افعال سرانجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ ﴿ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ﴾ ’’اللہ ہے، رب تمھارا‘‘ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ۔ [96] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں ، مثلاً: روشنی اور تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالِـقُ الۡاِصۡبَاحِ﴾ ’’پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اسی طرح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں ، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کیے چلا جاتا ہے حتیٰ کہ تمام تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہو جاتی ہے۔ چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ﴿وَجَعَلَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے بنایا ﴿الَّيۡلَ سَكَنًا ﴾ ’’رات کو آرام کے لیے‘‘ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں ، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ ﴿ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ﴾ ’’اور سورج اور چاند حساب کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں ، معاملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کر سکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہو جاتے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ اندازہ ﴿ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’اندازہ ہے غالب جاننے والے کا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو حدود مقرر کر دی ہیں وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی، آگے ہو سکتی ہے نہ پیچھے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمِ ﴾ وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ [97]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِيۡ ظُلُمٰتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے ستارے تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ‘‘ جب راستے تم پر مشتبہ ہو جاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لیے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں ۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں ۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں ، بنابریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کر سکتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں ۔ ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کر دیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کر دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہو گئیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جاہل اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہو سکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکال دور نہیں ہوتا۔ [98]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’اور وہی ذات ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور وہ آدم ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب آدم سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا (مُسْتَقَر) یعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں ۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لیے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لیے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی صلبوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ ہے ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تحقیق ہم نے کھول کر بیان کر دیں نشانیاں ، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل و براہین کا فہم حاصل کریں ۔

الأنعام 6:98

بلا شبہ اللہ پھاڑنے والا ہے دانے اور گٹھلی کو، وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ، پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟(95) نمودرا کرنے والا ہے سپیدۂ صبح کااور بنایا اس نے رات کو سکون کا باعث اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ، یہ (سب) اندازہ ہے بہت زبردست، جاننے والے کا(96)اور وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے تارےتاکہ راہ پاؤ تم ان کے ذریعے اندھیروں میں خشکی اور تری کے، تحقیق کھول کر بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (97)اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے، پس (تمھارے لیے) ایک قرار گاہ ہے اور ایک جائے امانت، تحقیق مفصل بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں (98) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بے پایاں فضل و کرم اور اپنی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ فَالِـقُ الۡحَبِّ وَالنَّوٰى ﴾ ’’بے شک اللہ پھاڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی‘‘ یہاں دانہ ہر قسم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا ، مثلاً: وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتیوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور دیگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں ۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کا کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿ يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے‘‘مثلاً: وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹھلی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے ﴿ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور مردہ کو نکالتا ہے‘‘ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشوونما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو ﴿ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’زندہ سے‘‘مثلاً: درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی، جو یہ تمام افعال سرانجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ ﴿ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ﴾ ’’اللہ ہے، رب تمھارا‘‘ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ۔ [96] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں ، مثلاً: روشنی اور تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالِـقُ الۡاِصۡبَاحِ﴾ ’’پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اسی طرح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں ، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کیے چلا جاتا ہے حتیٰ کہ تمام تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہو جاتی ہے۔ چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ﴿وَجَعَلَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے بنایا ﴿الَّيۡلَ سَكَنًا ﴾ ’’رات کو آرام کے لیے‘‘ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں ، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ ﴿ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ﴾ ’’اور سورج اور چاند حساب کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں ، معاملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کر سکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہو جاتے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ اندازہ ﴿ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’اندازہ ہے غالب جاننے والے کا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو حدود مقرر کر دی ہیں وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی، آگے ہو سکتی ہے نہ پیچھے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمِ ﴾ وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ [97]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِيۡ ظُلُمٰتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے ستارے تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ‘‘ جب راستے تم پر مشتبہ ہو جاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لیے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں ۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں ۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں ، بنابریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کر سکتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں ۔ ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کر دیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کر دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہو گئیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جاہل اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہو سکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکال دور نہیں ہوتا۔ [98]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’اور وہی ذات ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور وہ آدم ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب آدم سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا (مُسْتَقَر) یعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں ۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لیے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لیے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی صلبوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ ہے ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تحقیق ہم نے کھول کر بیان کر دیں نشانیاں ، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل و براہین کا فہم حاصل کریں ۔

الأنعام 6:99

اور وہی ہے جس نے اتارا آسمان سے پانی، پس نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے نباتات ہر چیز کی ، پھر نکالا ہم نے اس سے سبزہ نکالتے ہیں ہم اس سے دانے باہم جڑے ہوئے اور کجھوروں کے شگوفے سے گچھے جھکے ہوئے اور(نکالے) باغات انگوروں اور زیتون اور انار کے، ملتے جلتے ہیں ( پتے ان کے) اور مختلف ہیں (پھل ان کے)، دیکھو اس کے پھل کو جبکہ وہ پھل لائے اور اس کا پکنا، بلا شبہ اس میں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (99) [99] اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہو جاتی ہے۔ پس دل خوش ہو جاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں ، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بے پایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں ، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں ۔ یہ چیز ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انھیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کی عبادت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت میں اپنی کوشش صرف کریں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے اگنے والے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کیا تو اب (خصوصی طور پر) کھیتیوں اور کھجوروں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ ان کی منفعت بہت زیادہ ہے اور اکثر لوگوں کی خوراک بھی انھی سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ ﴾ ’’پھر نکالی ہم نے اس سے سبز کھیتی، ہم نکالتے ہیں اس سے‘‘ یعنی اس سرسبز نباتات میں سے ﴿ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا ﴾ ’’دانے، ایک پر ایک چڑھا ہوا‘‘ یعنی گندم، جو، مکئی اور چاول جیسی زرعی اجناس میں دانے اپنی بالیوں میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے وصف میں ’’ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے‘‘ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ ایک بالی میں متعدد دانے ہوتے ہیں ، سب ایک ہی مادے سے خوراک حاصل کرتے ہیں ، وہ ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، تمام دانے متفرق ہوتے ہیں ، ان کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے، نیز یہ دانوں کی کثرت، ان کے بڑھنے اور غلے کے عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے تاکہ اصل بیج باقی رہے اور دوسرا غلہ کھایا اور ذخیرہ کیا جا سکے۔ ﴿ وَمِنَ النَّخۡلِ ﴾ ’’اور کھجور سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے نکالا ﴿مِنۡ طَلۡعِهَا ﴾ ’’اس کے گابھے سے‘‘ اور وہ کھجور کا خوشہ نکلنے سے قبل اس پر چڑھا ہوا غلاف ہے۔ پس اس غلاف میں سے کھجور کا خوشہ نکلتا ہے ﴿ قِنۡوَانٌ دَانِيَةٌ ﴾ ’’پھل کے گچھے، جھکے ہوئے‘‘ یعنی قریب قریب لگے ہوئے خوشے جن کا حصول بہت آسان ہوتا ہے جو کوئی خوشوں کو توڑنا چاہے وہ ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ انھیں کھجور سے حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ کھجور کا درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو کیونکہ کھجور کے تنے سے کٹی ہوئی شاخوں کی جگہ سیڑھیاں سی بن جاتی ہیں ان کی مدد سے کھجور پر چڑھنا آسان ہو جاتا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ ﴾ ’’اور (اس پانی سے) انگور، زیتون اور انار کے باغات اگائے۔‘‘چونکہ یہ درخت کثیر الفوائد اور عظیم وقعت کے حامل ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ﴿ مُشۡتَبِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ﴾ ’’آپس میں ملتے جلتے بھی اور جدا جدا بھی‘‘ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے مراد انار اور زیتون ہو کیونکہ ان کے درخت اور پتے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے پھل غیر مشابہ (جدا جدا) ہوتے ہیں اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام درخت اور میوے وغیرہ ہوں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور بعض اوصاف میں ایک دوسرے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے (بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں )۔ ان تمام درختوں سے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان سے پھل اور غذا حاصل کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ﴿ اُنۡظُرُوۡۤا ﴾ ’’دیکھو‘‘ یعنی غور و فکر اور عبرت کی نظر سے دیکھو ﴿ اِلٰى ثَمَرِهٖۤ ﴾ تمام درختوں کے پھل کی طرف عام طور پر اور کھجور کے پھل کی طرف خاص طور پر ﴿ اِذَاۤ اَثۡمَرَ ﴾ ’’جب وہ پھل لائے‘‘ ﴿ وَيَنۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے پکنے پر‘‘ یعنی اس کے شگوفے نکلنے، پھل پکنے اور اس کے پک کر سرخ ہونے کی طرف دیکھو کیونکہ اس میں عبرت اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے جود و احسان کی وسعت، اس کے کامل اقتدار اور بندوں پر اس کی بے پایاں عنایات پر استدلال کیا جاتا ہے۔ مگر ہر ایک تفکر و تدبر کے ذریعے سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی غور و فکر کرے وہ معنی مقصود کو پا لے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے کو مومنین کے ساتھ خاص کیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكُمۡ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ کیونکہ مومنین کا ایمان ان کو اپنے ایمان کے تقاضوں اور لوازم پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور ان لوازم میں آیات الٰہی میں غور و فکر، ان سے نتائج کا استخراج، ان کا معنی مراد اور یہ آیات عقلاً، شرعاً اور فطرتاً جس چیز پر دلالت کرتی ہیں ، سب شامل ہیں ۔

الأنعام 6:100

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اس نے تو انھیں پیدا کیا ہے اور گھڑ لیے انھوں نے اس(اللہ) کے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے ، پاک ہے وہ اور بلند ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں (100) وہی موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ، کس طرح ہوسکتی ہے اس کی اولاد جبکہ نہیں ہے کوئی اس کی بیوی؟ اور اسی نے پیدا کیا ہر چیز کواور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (101)یہ اللہ رب ہے تمھارا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ،خالق ہے ہر چیز کا،پس تم اسی کی عبادت کرواور وہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے(102) نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پالیتا ہے آنکھوں کواور وہ باریک بین ہے خبردار(103) تحقیق آچکیں تمھارے پاس دلیلیں تمھارے رب کی طر ف سے پس جس نے بصیرت سے کام لیا تو اپنے ہی لیے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے (وبال)اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(104) [100] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں ۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔ [101]﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں ، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں ۔ ﴿اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ﴾ ’’کیوں کر ہو سکتی ہے اس کی اولاد جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طورپر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لیے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لیے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾(الملک: 67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور فرمایا:﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ﴾(یس: 36؍81) ’’وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ [102]﴿ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’یہی اللہ تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمھارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو اپنی تمام عبادات کو اسی کے لیے خالص کرو۔ اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ ﴿وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّكِيۡلٌ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے‘‘ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالیٰ کی ذات ہے تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لیے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں ۔ [103]﴿ لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں ‘‘ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ، یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرۂ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے رؤیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لَا تَرَاہُ الْاَبْصَارُ) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ۔ بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے‘‘ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ نہایت باریک بین، خبردار ہے‘‘ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں ، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کر لیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لیے ایسے امور مقدر کر دیتا ہے جنھیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لیے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انھی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔ [104] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کر دیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کر دیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لیے ہے۔ پس فرمایا: ﴿ قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تحقیق آچکیں تمھارے پاس نشانیاں تمھارے رب کی طرف سے‘‘ یعنی تمھارے پاس ایسی آیات آ گئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں وہ قلب کے لیے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کر دیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج۔ کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿ فَمَنۡ اَبۡصَرَ ﴾ ’’پس جس نے دیکھ لیا‘‘ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تو یہ خود اس کی ذات کے لیے ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے ﴿ وَمَنۡ عَمِيَ ﴾ ’’اور جو اندھا رہا‘‘ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا۔ اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لیے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا ﴾ یعنی اے رسولﷺ کہہ دیجیے ’’اور نہیں ہوں میں ‘‘ ﴿عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’تم پر نگہبان‘‘ کہ میں تمھارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں ۔( مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر۱۰۴ کے بعد آیت نمبر ۱۰۵ تا ۱۰۷ کی تفسیر نہیں کی۔از محقق)

الأنعام 6:101

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اس نے تو انھیں پیدا کیا ہے اور گھڑ لیے انھوں نے اس(اللہ) کے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے ، پاک ہے وہ اور بلند ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں (100) وہی موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ، کس طرح ہوسکتی ہے اس کی اولاد جبکہ نہیں ہے کوئی اس کی بیوی؟ اور اسی نے پیدا کیا ہر چیز کواور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (101)یہ اللہ رب ہے تمھارا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ،خالق ہے ہر چیز کا،پس تم اسی کی عبادت کرواور وہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے(102) نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پالیتا ہے آنکھوں کواور وہ باریک بین ہے خبردار(103) تحقیق آچکیں تمھارے پاس دلیلیں تمھارے رب کی طر ف سے پس جس نے بصیرت سے کام لیا تو اپنے ہی لیے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے (وبال)اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(104) [100] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں ۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔ [101]﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں ، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں ۔ ﴿اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ﴾ ’’کیوں کر ہو سکتی ہے اس کی اولاد جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طورپر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لیے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لیے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾(الملک: 67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور فرمایا:﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ﴾(یس: 36؍81) ’’وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ [102]﴿ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’یہی اللہ تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمھارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو اپنی تمام عبادات کو اسی کے لیے خالص کرو۔ اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ ﴿وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّكِيۡلٌ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے‘‘ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالیٰ کی ذات ہے تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لیے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں ۔ [103]﴿ لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں ‘‘ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ، یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرۂ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے رؤیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لَا تَرَاہُ الْاَبْصَارُ) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ۔ بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے‘‘ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ نہایت باریک بین، خبردار ہے‘‘ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں ، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کر لیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لیے ایسے امور مقدر کر دیتا ہے جنھیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لیے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انھی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔ [104] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کر دیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کر دیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لیے ہے۔ پس فرمایا: ﴿ قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تحقیق آچکیں تمھارے پاس نشانیاں تمھارے رب کی طرف سے‘‘ یعنی تمھارے پاس ایسی آیات آ گئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں وہ قلب کے لیے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کر دیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج۔ کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿ فَمَنۡ اَبۡصَرَ ﴾ ’’پس جس نے دیکھ لیا‘‘ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تو یہ خود اس کی ذات کے لیے ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے ﴿ وَمَنۡ عَمِيَ ﴾ ’’اور جو اندھا رہا‘‘ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا۔ اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لیے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا ﴾ یعنی اے رسولﷺ کہہ دیجیے ’’اور نہیں ہوں میں ‘‘ ﴿عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’تم پر نگہبان‘‘ کہ میں تمھارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں ۔( مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر۱۰۴ کے بعد آیت نمبر ۱۰۵ تا ۱۰۷ کی تفسیر نہیں کی۔از محقق)

الأنعام 6:102

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اس نے تو انھیں پیدا کیا ہے اور گھڑ لیے انھوں نے اس(اللہ) کے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے ، پاک ہے وہ اور بلند ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں (100) وہی موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ، کس طرح ہوسکتی ہے اس کی اولاد جبکہ نہیں ہے کوئی اس کی بیوی؟ اور اسی نے پیدا کیا ہر چیز کواور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (101)یہ اللہ رب ہے تمھارا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ،خالق ہے ہر چیز کا،پس تم اسی کی عبادت کرواور وہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے(102) نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پالیتا ہے آنکھوں کواور وہ باریک بین ہے خبردار(103) تحقیق آچکیں تمھارے پاس دلیلیں تمھارے رب کی طر ف سے پس جس نے بصیرت سے کام لیا تو اپنے ہی لیے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے (وبال)اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(104) [100] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں ۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔ [101]﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں ، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں ۔ ﴿اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ﴾ ’’کیوں کر ہو سکتی ہے اس کی اولاد جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طورپر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لیے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لیے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾(الملک: 67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور فرمایا:﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ﴾(یس: 36؍81) ’’وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ [102]﴿ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’یہی اللہ تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمھارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو اپنی تمام عبادات کو اسی کے لیے خالص کرو۔ اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ ﴿وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّكِيۡلٌ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے‘‘ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالیٰ کی ذات ہے تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لیے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں ۔ [103]﴿ لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں ‘‘ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ، یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرۂ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے رؤیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لَا تَرَاہُ الْاَبْصَارُ) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ۔ بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے‘‘ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ نہایت باریک بین، خبردار ہے‘‘ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں ، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کر لیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لیے ایسے امور مقدر کر دیتا ہے جنھیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لیے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انھی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔ [104] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کر دیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کر دیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لیے ہے۔ پس فرمایا: ﴿ قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تحقیق آچکیں تمھارے پاس نشانیاں تمھارے رب کی طرف سے‘‘ یعنی تمھارے پاس ایسی آیات آ گئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں وہ قلب کے لیے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کر دیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج۔ کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿ فَمَنۡ اَبۡصَرَ ﴾ ’’پس جس نے دیکھ لیا‘‘ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تو یہ خود اس کی ذات کے لیے ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے ﴿ وَمَنۡ عَمِيَ ﴾ ’’اور جو اندھا رہا‘‘ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا۔ اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لیے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا ﴾ یعنی اے رسولﷺ کہہ دیجیے ’’اور نہیں ہوں میں ‘‘ ﴿عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’تم پر نگہبان‘‘ کہ میں تمھارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں ۔( مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر۱۰۴ کے بعد آیت نمبر ۱۰۵ تا ۱۰۷ کی تفسیر نہیں کی۔از محقق)

الأنعام 6:103

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اس نے تو انھیں پیدا کیا ہے اور گھڑ لیے انھوں نے اس(اللہ) کے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے ، پاک ہے وہ اور بلند ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں (100) وہی موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ، کس طرح ہوسکتی ہے اس کی اولاد جبکہ نہیں ہے کوئی اس کی بیوی؟ اور اسی نے پیدا کیا ہر چیز کواور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (101)یہ اللہ رب ہے تمھارا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ،خالق ہے ہر چیز کا،پس تم اسی کی عبادت کرواور وہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے(102) نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پالیتا ہے آنکھوں کواور وہ باریک بین ہے خبردار(103) تحقیق آچکیں تمھارے پاس دلیلیں تمھارے رب کی طر ف سے پس جس نے بصیرت سے کام لیا تو اپنے ہی لیے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے (وبال)اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(104) [100] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں ۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔ [101]﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں ، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں ۔ ﴿اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ﴾ ’’کیوں کر ہو سکتی ہے اس کی اولاد جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طورپر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لیے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لیے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾(الملک: 67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور فرمایا:﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ﴾(یس: 36؍81) ’’وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ [102]﴿ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’یہی اللہ تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمھارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو اپنی تمام عبادات کو اسی کے لیے خالص کرو۔ اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ ﴿وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّكِيۡلٌ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے‘‘ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالیٰ کی ذات ہے تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لیے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں ۔ [103]﴿ لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں ‘‘ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ، یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرۂ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے رؤیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لَا تَرَاہُ الْاَبْصَارُ) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ۔ بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے‘‘ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ نہایت باریک بین، خبردار ہے‘‘ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں ، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کر لیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لیے ایسے امور مقدر کر دیتا ہے جنھیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لیے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انھی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔ [104] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کر دیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کر دیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لیے ہے۔ پس فرمایا: ﴿ قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تحقیق آچکیں تمھارے پاس نشانیاں تمھارے رب کی طرف سے‘‘ یعنی تمھارے پاس ایسی آیات آ گئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں وہ قلب کے لیے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کر دیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج۔ کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿ فَمَنۡ اَبۡصَرَ ﴾ ’’پس جس نے دیکھ لیا‘‘ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تو یہ خود اس کی ذات کے لیے ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے ﴿ وَمَنۡ عَمِيَ ﴾ ’’اور جو اندھا رہا‘‘ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا۔ اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لیے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا ﴾ یعنی اے رسولﷺ کہہ دیجیے ’’اور نہیں ہوں میں ‘‘ ﴿عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’تم پر نگہبان‘‘ کہ میں تمھارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں ۔( مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر۱۰۴ کے بعد آیت نمبر ۱۰۵ تا ۱۰۷ کی تفسیر نہیں کی۔از محقق)

الأنعام 6:104

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اس نے تو انھیں پیدا کیا ہے اور گھڑ لیے انھوں نے اس(اللہ) کے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے ، پاک ہے وہ اور بلند ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں (100) وہی موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ، کس طرح ہوسکتی ہے اس کی اولاد جبکہ نہیں ہے کوئی اس کی بیوی؟ اور اسی نے پیدا کیا ہر چیز کواور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (101)یہ اللہ رب ہے تمھارا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ،خالق ہے ہر چیز کا،پس تم اسی کی عبادت کرواور وہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے(102) نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پالیتا ہے آنکھوں کواور وہ باریک بین ہے خبردار(103) تحقیق آچکیں تمھارے پاس دلیلیں تمھارے رب کی طر ف سے پس جس نے بصیرت سے کام لیا تو اپنے ہی لیے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے (وبال)اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(104) [100] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں ۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔ [101]﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں ، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں ۔ ﴿اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ﴾ ’’کیوں کر ہو سکتی ہے اس کی اولاد جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طورپر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لیے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لیے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾(الملک: 67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور فرمایا:﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ﴾(یس: 36؍81) ’’وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ [102]﴿ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’یہی اللہ تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمھارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو اپنی تمام عبادات کو اسی کے لیے خالص کرو۔ اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ ﴿وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّكِيۡلٌ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے‘‘ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالیٰ کی ذات ہے تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لیے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں ۔ [103]﴿ لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں ‘‘ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ، یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرۂ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے رؤیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لَا تَرَاہُ الْاَبْصَارُ) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ۔ بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے‘‘ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ نہایت باریک بین، خبردار ہے‘‘ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں ، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کر لیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لیے ایسے امور مقدر کر دیتا ہے جنھیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لیے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انھی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔ [104] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کر دیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کر دیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لیے ہے۔ پس فرمایا: ﴿ قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تحقیق آچکیں تمھارے پاس نشانیاں تمھارے رب کی طرف سے‘‘ یعنی تمھارے پاس ایسی آیات آ گئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں وہ قلب کے لیے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کر دیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج۔ کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿ فَمَنۡ اَبۡصَرَ ﴾ ’’پس جس نے دیکھ لیا‘‘ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تو یہ خود اس کی ذات کے لیے ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے ﴿ وَمَنۡ عَمِيَ ﴾ ’’اور جو اندھا رہا‘‘ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا۔ اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لیے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا ﴾ یعنی اے رسولﷺ کہہ دیجیے ’’اور نہیں ہوں میں ‘‘ ﴿عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’تم پر نگہبان‘‘ کہ میں تمھارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں ۔( مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر۱۰۴ کے بعد آیت نمبر ۱۰۵ تا ۱۰۷ کی تفسیر نہیں کی۔از محقق)

الأنعام 6:105

اور اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات اور تا کہ کہیں وہ پڑھاہے تو نے (کسی سے) اور تا کہ ہم بیان کریں وہ، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (105) پیروی کریں اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، نہیں کوئی معبود مگر وہی اور اعراض کیجیے مشرکین سے (106) اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر محافظ اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمے دار(107) اور مت گالی دو ان کو جنھیں پکارتے ہیں وہ اللہ کے سوا، پس گالی دیں گے وہ( بھی) اللہ کو حد سے گزرتے ہوئے، بغیر علم کے، اسی طرح مزین کر دیا ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل، پھر طرف اپنے رب کی ان کی واپسی ہے، پس وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (108) [108] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں ، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں ۔

الأنعام 6:106

اور اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات اور تا کہ کہیں وہ پڑھاہے تو نے (کسی سے) اور تا کہ ہم بیان کریں وہ، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (105) پیروی کریں اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، نہیں کوئی معبود مگر وہی اور اعراض کیجیے مشرکین سے (106) اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر محافظ اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمے دار(107) اور مت گالی دو ان کو جنھیں پکارتے ہیں وہ اللہ کے سوا، پس گالی دیں گے وہ( بھی) اللہ کو حد سے گزرتے ہوئے، بغیر علم کے، اسی طرح مزین کر دیا ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل، پھر طرف اپنے رب کی ان کی واپسی ہے، پس وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (108) [108] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں ، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں ۔

الأنعام 6:107

اور اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات اور تا کہ کہیں وہ پڑھاہے تو نے (کسی سے) اور تا کہ ہم بیان کریں وہ، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (105) پیروی کریں اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، نہیں کوئی معبود مگر وہی اور اعراض کیجیے مشرکین سے (106) اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر محافظ اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمے دار(107) اور مت گالی دو ان کو جنھیں پکارتے ہیں وہ اللہ کے سوا، پس گالی دیں گے وہ( بھی) اللہ کو حد سے گزرتے ہوئے، بغیر علم کے، اسی طرح مزین کر دیا ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل، پھر طرف اپنے رب کی ان کی واپسی ہے، پس وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (108) [108] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں ، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں ۔

الأنعام 6:108

اور اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات اور تا کہ کہیں وہ پڑھاہے تو نے (کسی سے) اور تا کہ ہم بیان کریں وہ، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (105) پیروی کریں اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، نہیں کوئی معبود مگر وہی اور اعراض کیجیے مشرکین سے (106) اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر محافظ اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمے دار(107) اور مت گالی دو ان کو جنھیں پکارتے ہیں وہ اللہ کے سوا، پس گالی دیں گے وہ( بھی) اللہ کو حد سے گزرتے ہوئے، بغیر علم کے، اسی طرح مزین کر دیا ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل، پھر طرف اپنے رب کی ان کی واپسی ہے، پس وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (108) [108] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں ، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں ۔

الأنعام 6:109

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کہ اگر آجائے ان کے پاس(مخصوص) نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے وہ اس پر، کہہ دیجیے! یقینا نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمھیں کون سمجھائے یہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی ، وہ ایمان نہیں لائیں گے(109) اور پھیر دیں گے ہم ان کے دل اوران کی آنکھیں ، جیسے نہیں ایمان لائے تھے وہ اس پر پہلی مرتبہ اور چھوڑ دیں گے ہم ان کو ان کی سر کشی میں ، سرگرداں، پھرتے ہوئے(110) اور اگر بلاشبہ ہم نازل کرتے ان کی طرف فرشتے اور کلام کرتے ان سے مُردےاور اکٹھا کر دیتے ہم ان پر ہر چیز کو سامنے، تب بھی نہ تھے وہ کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ لیکن اکثر ان کے جہالت سے کام لیتے ہیں(111) [109] یعنی محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں ﴿ بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ یعنی زور دار اور موکد قسمیں ﴿ لَىِٕنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ گئی‘‘ جو محمد مصطفیﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو ﴿ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا ﴾ ’’تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے‘‘ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیا و رسل لے کر آئے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا کہ جو کچھ آپﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس کے بعد ان آیات و معجزات کا مطالبہ کرنا محض تعنت ہے جس کا جواب دینا لازم نہیں بلکہ کبھی کبھی ان کو جواب نہ دینا ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کی سنت یہ ہے کہ اس کے انبیا و رسل سے معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب معجزات آ جاتے ہیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتاہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو جب چاہتا ہے معجزات نازل کرتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، لہٰذا مجھ سے تمھارا مطالبہ کرنا ظلم اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں ، تاہم تمھارا مقصود اس سے صرف اس چیز کی توضیح و تصدیق ہے جو میں لایا ہوں جبکہ وہ ثابت شدہ امر ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس یہ نشانیاں آ جائیں گی تو یہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔ بلکہ جن کے احوال یہ ہیں کہ وہ غالب طور پر صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم ہونے کی و جہ سے ایمان نہیں لاتے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا يُشۡعِرُؔكُمۡ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں کیا معلوم کہ جب ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں ، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [110]﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کرکے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انھوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کر دیا لیکن وہ اس پر گامزن نہ ہوئے۔ اگر اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیا گیا تو یہ ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔ [111] اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آ جائیں ، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں ، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے ﴿ وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور زندہ کر دیں ہر چیز کو ان کے سامنے‘‘ حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں ﴿قُبُلًا﴾ ’’سامنے‘‘ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان میں سے اکثر جاہل ہیں اسی لیے انھوں نے اپنے ایمان کو مجرد آیات و معجزات کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ عقل اور علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ بندے کا مطلوب و مقصود اتباع حق ہو اور وہ اسے ان طریقوں سے تلاش کرے جنھیں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے، حق پر عمل کرے اور اس کی اتباع میں اپنے رب کی مدد طلب کرے۔ اپنے نفس اور اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہ کرے اور ان آیات و معجزات کا مطالبہ نہ کرے جن کا کوئی فائدہ نہیں ۔

الأنعام 6:110

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کہ اگر آجائے ان کے پاس(مخصوص) نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے وہ اس پر، کہہ دیجیے! یقینا نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمھیں کون سمجھائے یہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی ، وہ ایمان نہیں لائیں گے(109) اور پھیر دیں گے ہم ان کے دل اوران کی آنکھیں ، جیسے نہیں ایمان لائے تھے وہ اس پر پہلی مرتبہ اور چھوڑ دیں گے ہم ان کو ان کی سر کشی میں ، سرگرداں، پھرتے ہوئے(110) اور اگر بلاشبہ ہم نازل کرتے ان کی طرف فرشتے اور کلام کرتے ان سے مُردےاور اکٹھا کر دیتے ہم ان پر ہر چیز کو سامنے، تب بھی نہ تھے وہ کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ لیکن اکثر ان کے جہالت سے کام لیتے ہیں(111) [109] یعنی محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں ﴿ بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ یعنی زور دار اور موکد قسمیں ﴿ لَىِٕنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ گئی‘‘ جو محمد مصطفیﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو ﴿ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا ﴾ ’’تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے‘‘ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیا و رسل لے کر آئے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا کہ جو کچھ آپﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس کے بعد ان آیات و معجزات کا مطالبہ کرنا محض تعنت ہے جس کا جواب دینا لازم نہیں بلکہ کبھی کبھی ان کو جواب نہ دینا ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کی سنت یہ ہے کہ اس کے انبیا و رسل سے معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب معجزات آ جاتے ہیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتاہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو جب چاہتا ہے معجزات نازل کرتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، لہٰذا مجھ سے تمھارا مطالبہ کرنا ظلم اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں ، تاہم تمھارا مقصود اس سے صرف اس چیز کی توضیح و تصدیق ہے جو میں لایا ہوں جبکہ وہ ثابت شدہ امر ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس یہ نشانیاں آ جائیں گی تو یہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔ بلکہ جن کے احوال یہ ہیں کہ وہ غالب طور پر صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم ہونے کی و جہ سے ایمان نہیں لاتے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا يُشۡعِرُؔكُمۡ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں کیا معلوم کہ جب ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں ، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [110]﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کرکے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انھوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کر دیا لیکن وہ اس پر گامزن نہ ہوئے۔ اگر اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیا گیا تو یہ ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔ [111] اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آ جائیں ، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں ، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے ﴿ وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور زندہ کر دیں ہر چیز کو ان کے سامنے‘‘ حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں ﴿قُبُلًا﴾ ’’سامنے‘‘ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان میں سے اکثر جاہل ہیں اسی لیے انھوں نے اپنے ایمان کو مجرد آیات و معجزات کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ عقل اور علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ بندے کا مطلوب و مقصود اتباع حق ہو اور وہ اسے ان طریقوں سے تلاش کرے جنھیں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے، حق پر عمل کرے اور اس کی اتباع میں اپنے رب کی مدد طلب کرے۔ اپنے نفس اور اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہ کرے اور ان آیات و معجزات کا مطالبہ نہ کرے جن کا کوئی فائدہ نہیں ۔

الأنعام 6:111

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کہ اگر آجائے ان کے پاس(مخصوص) نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے وہ اس پر، کہہ دیجیے! یقینا نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمھیں کون سمجھائے یہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی ، وہ ایمان نہیں لائیں گے(109) اور پھیر دیں گے ہم ان کے دل اوران کی آنکھیں ، جیسے نہیں ایمان لائے تھے وہ اس پر پہلی مرتبہ اور چھوڑ دیں گے ہم ان کو ان کی سر کشی میں ، سرگرداں، پھرتے ہوئے(110) اور اگر بلاشبہ ہم نازل کرتے ان کی طرف فرشتے اور کلام کرتے ان سے مُردےاور اکٹھا کر دیتے ہم ان پر ہر چیز کو سامنے، تب بھی نہ تھے وہ کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ لیکن اکثر ان کے جہالت سے کام لیتے ہیں(111) [109] یعنی محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں ﴿ بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ یعنی زور دار اور موکد قسمیں ﴿ لَىِٕنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ گئی‘‘ جو محمد مصطفیﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو ﴿ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا ﴾ ’’تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے‘‘ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیا و رسل لے کر آئے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا کہ جو کچھ آپﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس کے بعد ان آیات و معجزات کا مطالبہ کرنا محض تعنت ہے جس کا جواب دینا لازم نہیں بلکہ کبھی کبھی ان کو جواب نہ دینا ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کی سنت یہ ہے کہ اس کے انبیا و رسل سے معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب معجزات آ جاتے ہیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتاہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو جب چاہتا ہے معجزات نازل کرتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، لہٰذا مجھ سے تمھارا مطالبہ کرنا ظلم اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں ، تاہم تمھارا مقصود اس سے صرف اس چیز کی توضیح و تصدیق ہے جو میں لایا ہوں جبکہ وہ ثابت شدہ امر ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس یہ نشانیاں آ جائیں گی تو یہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔ بلکہ جن کے احوال یہ ہیں کہ وہ غالب طور پر صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم ہونے کی و جہ سے ایمان نہیں لاتے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا يُشۡعِرُؔكُمۡ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں کیا معلوم کہ جب ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں ، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [110]﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کرکے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انھوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کر دیا لیکن وہ اس پر گامزن نہ ہوئے۔ اگر اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیا گیا تو یہ ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔ [111] اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آ جائیں ، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں ، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے ﴿ وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور زندہ کر دیں ہر چیز کو ان کے سامنے‘‘ حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں ﴿قُبُلًا﴾ ’’سامنے‘‘ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان میں سے اکثر جاہل ہیں اسی لیے انھوں نے اپنے ایمان کو مجرد آیات و معجزات کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ عقل اور علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ بندے کا مطلوب و مقصود اتباع حق ہو اور وہ اسے ان طریقوں سے تلاش کرے جنھیں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے، حق پر عمل کرے اور اس کی اتباع میں اپنے رب کی مدد طلب کرے۔ اپنے نفس اور اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہ کرے اور ان آیات و معجزات کا مطالبہ نہ کرے جن کا کوئی فائدہ نہیں ۔

الأنعام 6:112

اور اسی طرح بنائے ہم نے ہر نبی کے دشمن، شیطان انسانوں اور جنوں (دونوں) میں سے، ڈالتا ہے ایک ان کا دوسرے کی طرف ملمع کی ہوئی بات، دھوکہ دینے کے لیے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو نہ کرتے وہ یہ (کام)، پس چھوڑیے آپ ان کو اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(112)اور تاکہ مائل ہو جائیں اس (جھوٹ) کی طرف دل ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پراور تا کہ راضی ہوںوہ اس (جھوٹ) سےاور تاکہ کرتے رہیں (برے کام) جو وہ کر رہے ہیں(113) [112] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں ، جن اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کر دیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ ﴿ يُوۡحِيۡ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ﴾ ’’سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں ، فریب دینے کے لیے‘‘ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سراطاعت خم کر دیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معانی کو سمجھتے ہیں بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملمع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں ۔ [113] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلِتَصۡغٰۤى اِلَيۡهِ ﴾ ’’تاکہ اس کی طرف مائل ہوں ۔‘‘ یعنی اس مزین کلام کو سننے کی طرف مائل ہوں ﴿ اَفۡــِٕدَةُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان لوگوں کے دل جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے‘‘ کیونکہ یوم آخرت پر ان کا ایمان نہ رکھنا اور عقل نافع سے ان کا محروم ہونا، ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے ﴿ وَلِيَرۡضَوۡهُ ﴾ ’’اور تاکہ وہ اس کو پسند بھی کر لیں ‘‘ یعنی اس کی طرف مائل ہونے کے بعد۔ پس ان کے دل پہلے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر ان خوبصورت اور مزین عبارت کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو پسند کرنے لگتے ہیں یہ عبارات ان کے دل میں سج جاتی ہیں اور ایک راسخ عقیدہ اور لازم وصف بن جاتی ہیں ، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے اس قسم کے اعمال سرزد ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان عقائد قبیحہ کا لازمہ ہیں پس یہ حال ان شیاطین جن و انس کا ہے جو ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے عقل مند اور سنجیدہ لوگ تو وہ ان عبارات سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ ان ملمع سازیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ بلکہ ان کی ہمت اور ان کے ارادے حقائق کی معرفت حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ان معانی پر نظر رکھتے ہیں جن کی طرف دعوت دینے والے دعوت دیتے ہیں ۔ اگر یہ معانی حق ہیں تو انھیں قبول کر لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں خواہ ان کو کم تر عبارات اور غیر وافی الفاظ میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو اور اگر یہ معانی باطل ہیں تو انھیں ان کے قائل کی طرف لوٹا دیتے ہیں خواہ ان کا قائل کوئی بھی ہو اور خواہ ان الفاظ کو ریشم سے بھی زیادہ خوشنما لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ اس نے انبیا کرام علیہ السلام کے دشمن بنا دیے اور باطل کے انصار و اعوان مقرر کر دیے جو باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اس کے بندوں کی آزمائش اور امتحان ہو سکے اور سچے، جھوٹے، عقل مند اور جاہل، صاحب بصیرت اور اندھے کے درمیان امتیاز ہو سکے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے اندر حق کی تبیین اور توضیح ہے کیونکہ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق روشن ہو کر اور نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ تب اس وقت حق کے وہ دلائل اور شواہد واضح ہو جاتے ہیں جو حق کی صداقت اور حقیقت اور باطل کے فساد اور اس کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں جو سب سے بڑا مقصد ہے جس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

الأنعام 6:113

اور اسی طرح بنائے ہم نے ہر نبی کے دشمن، شیطان انسانوں اور جنوں (دونوں) میں سے، ڈالتا ہے ایک ان کا دوسرے کی طرف ملمع کی ہوئی بات، دھوکہ دینے کے لیے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو نہ کرتے وہ یہ (کام)، پس چھوڑیے آپ ان کو اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(112)اور تاکہ مائل ہو جائیں اس (جھوٹ) کی طرف دل ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پراور تا کہ راضی ہوںوہ اس (جھوٹ) سےاور تاکہ کرتے رہیں (برے کام) جو وہ کر رہے ہیں(113) [112] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں ، جن اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کر دیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ ﴿ يُوۡحِيۡ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ﴾ ’’سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں ، فریب دینے کے لیے‘‘ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سراطاعت خم کر دیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معانی کو سمجھتے ہیں بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملمع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں ۔ [113] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلِتَصۡغٰۤى اِلَيۡهِ ﴾ ’’تاکہ اس کی طرف مائل ہوں ۔‘‘ یعنی اس مزین کلام کو سننے کی طرف مائل ہوں ﴿ اَفۡــِٕدَةُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان لوگوں کے دل جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے‘‘ کیونکہ یوم آخرت پر ان کا ایمان نہ رکھنا اور عقل نافع سے ان کا محروم ہونا، ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے ﴿ وَلِيَرۡضَوۡهُ ﴾ ’’اور تاکہ وہ اس کو پسند بھی کر لیں ‘‘ یعنی اس کی طرف مائل ہونے کے بعد۔ پس ان کے دل پہلے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر ان خوبصورت اور مزین عبارت کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو پسند کرنے لگتے ہیں یہ عبارات ان کے دل میں سج جاتی ہیں اور ایک راسخ عقیدہ اور لازم وصف بن جاتی ہیں ، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے اس قسم کے اعمال سرزد ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان عقائد قبیحہ کا لازمہ ہیں پس یہ حال ان شیاطین جن و انس کا ہے جو ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے عقل مند اور سنجیدہ لوگ تو وہ ان عبارات سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ ان ملمع سازیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ بلکہ ان کی ہمت اور ان کے ارادے حقائق کی معرفت حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ان معانی پر نظر رکھتے ہیں جن کی طرف دعوت دینے والے دعوت دیتے ہیں ۔ اگر یہ معانی حق ہیں تو انھیں قبول کر لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں خواہ ان کو کم تر عبارات اور غیر وافی الفاظ میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو اور اگر یہ معانی باطل ہیں تو انھیں ان کے قائل کی طرف لوٹا دیتے ہیں خواہ ان کا قائل کوئی بھی ہو اور خواہ ان الفاظ کو ریشم سے بھی زیادہ خوشنما لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ اس نے انبیا کرام علیہ السلام کے دشمن بنا دیے اور باطل کے انصار و اعوان مقرر کر دیے جو باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اس کے بندوں کی آزمائش اور امتحان ہو سکے اور سچے، جھوٹے، عقل مند اور جاہل، صاحب بصیرت اور اندھے کے درمیان امتیاز ہو سکے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے اندر حق کی تبیین اور توضیح ہے کیونکہ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق روشن ہو کر اور نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ تب اس وقت حق کے وہ دلائل اور شواہد واضح ہو جاتے ہیں جو حق کی صداقت اور حقیقت اور باطل کے فساد اور اس کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں جو سب سے بڑا مقصد ہے جس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

الأنعام 6:114

کیا پس اللہ کے سوا تلاش کروں میں کوئی حاکم؟ حالانکہ وہی ہے جس نے نازل کی ہے تمھاری طر ف یہ کتاب مفصل،اور وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب، جانتے ہیں وہ اس بات کو کہ بلاشبہ وہ نازل شدہ ہے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں سے(114) اور مکمل ہے بات آپ کے رب کی صدق اور عدل میں، نہیں ہے کوئی تبدیل کرنے والا اس کی باتوں کو اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (115) [114] یعنی اے رسولﷺ! ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡتَغِيۡ حَكَمًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں ‘‘ اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کروں ؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لیے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔ ﴿ وَّهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ اِلَيۡكُمُ الۡكِتٰبَ مُفَصَّلًا﴾ ’’حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح‘‘ یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروع واضح کیے گئے ہیں ، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں ، اس کی دلیل سے روشن کوئی دلیل نہیں ، اس کے فیصلے سے اچھا کوئی فیصلہ نہیں اور اس کی بات سے زیادہ درست کسی کی بات نہیں کیونکہ اس کے احکام حکمت و رحمت پر مشتمل ہیں ۔ کتب سابقہ کے حاملین یہود و نصاریٰ اس حقیقت کو پہچانتے ہیں ﴿ يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’اور جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے ٹھیک نازل ہوئی ہے‘‘ اسی لیے اخبار سابقہ اس کی موافقت کرتی ہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ پس آپ اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں ۔ [115] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا﴾ ’’اور آپ کے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی‘‘ یعنی خبر میں صداقت اور اوامر و نواہی میں عدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز میں جو خبریں بیان کی ہیں ان سے سچی کوئی خبر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے بڑھ کر کسی حکم میں عدل و انصاف نہیں ۔ ﴿ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ﴾ ’’اس کی بات کو کوئی بدلنے والا نہیں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ہے اور صدق کی مختلف انواع اور حق کے ذریعے سے ان کو محکم کیا ہے، اس لیے ان میں تغیر و تبدل کرنا ممکن نہیں اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت کلام وجود میں لایا جا سکتا ہے ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ سنتا ہے‘‘ وہ مختلف زبانوں اور متفرق حاجتوں پر مبنی تمام آوازوں کو سن سکتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’جانتا ہے۔‘‘ جس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

الأنعام 6:115

کیا پس اللہ کے سوا تلاش کروں میں کوئی حاکم؟ حالانکہ وہی ہے جس نے نازل کی ہے تمھاری طر ف یہ کتاب مفصل،اور وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب، جانتے ہیں وہ اس بات کو کہ بلاشبہ وہ نازل شدہ ہے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں سے(114) اور مکمل ہے بات آپ کے رب کی صدق اور عدل میں، نہیں ہے کوئی تبدیل کرنے والا اس کی باتوں کو اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (115) [114] یعنی اے رسولﷺ! ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡتَغِيۡ حَكَمًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں ‘‘ اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کروں ؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لیے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔ ﴿ وَّهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ اِلَيۡكُمُ الۡكِتٰبَ مُفَصَّلًا﴾ ’’حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح‘‘ یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروع واضح کیے گئے ہیں ، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں ، اس کی دلیل سے روشن کوئی دلیل نہیں ، اس کے فیصلے سے اچھا کوئی فیصلہ نہیں اور اس کی بات سے زیادہ درست کسی کی بات نہیں کیونکہ اس کے احکام حکمت و رحمت پر مشتمل ہیں ۔ کتب سابقہ کے حاملین یہود و نصاریٰ اس حقیقت کو پہچانتے ہیں ﴿ يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’اور جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے ٹھیک نازل ہوئی ہے‘‘ اسی لیے اخبار سابقہ اس کی موافقت کرتی ہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ پس آپ اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں ۔ [115] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا﴾ ’’اور آپ کے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی‘‘ یعنی خبر میں صداقت اور اوامر و نواہی میں عدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز میں جو خبریں بیان کی ہیں ان سے سچی کوئی خبر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے بڑھ کر کسی حکم میں عدل و انصاف نہیں ۔ ﴿ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ﴾ ’’اس کی بات کو کوئی بدلنے والا نہیں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ہے اور صدق کی مختلف انواع اور حق کے ذریعے سے ان کو محکم کیا ہے، اس لیے ان میں تغیر و تبدل کرنا ممکن نہیں اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت کلام وجود میں لایا جا سکتا ہے ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ سنتا ہے‘‘ وہ مختلف زبانوں اور متفرق حاجتوں پر مبنی تمام آوازوں کو سن سکتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’جانتا ہے۔‘‘ جس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

الأنعام 6:116

اور اگر اطاعت کریں آپ اکثر کی ان میں سے جو زمین میں ہیں تو وہ بہکادیں گے آپ کو اللہ کے راستے سے، نہیں پیروی کرتے وہ مگر اپنے گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو کرتے (116)یقینا آپ کا رب، وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو(117) [116] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو بہکا دیں گے‘‘ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انھیں علم نہیں ۔ [117] جس کے یہ احوال ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ڈرانا اور ان کے احوال کو بیان کرنا مناسب ہے کیونکہ اس آیت کریمہ کا خطاب اگرچہ نبی اکرمﷺ کی طرف ہے تاہم آپ کی امت ان تمام احکام میں آپ کی تابع ہے جو خصوصی طور پر صرف آپ کے لیے نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ يَّضِلُّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’وہ خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہکے‘‘ اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو راہ راست پر چلے اور جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرے۔ پس اے مومنو! تم پر فرض ہے کہ تم اس کی نصیحتوں پر عمل کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ تمھارے مصالح کا علم رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی گروہ کی کثرت سے اس کے حق ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اگر کسی معاملے میں ، اس کو اختیار کرنے والے تھوڑے ہوں تو یہ قلت ان کے ناحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس فی الواقع حقیقت یہ ہے کہ اہل حق تعداد میں بہت کم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر اور اجر میں بہت عظیم ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے لیے ان ذرائع کو اختیار کیا جائے جو اس کے لیے معروف ہیں ۔

الأنعام 6:117

اور اگر اطاعت کریں آپ اکثر کی ان میں سے جو زمین میں ہیں تو وہ بہکادیں گے آپ کو اللہ کے راستے سے، نہیں پیروی کرتے وہ مگر اپنے گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو کرتے (116)یقینا آپ کا رب، وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو(117) [116] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو بہکا دیں گے‘‘ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انھیں علم نہیں ۔ [117] جس کے یہ احوال ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ڈرانا اور ان کے احوال کو بیان کرنا مناسب ہے کیونکہ اس آیت کریمہ کا خطاب اگرچہ نبی اکرمﷺ کی طرف ہے تاہم آپ کی امت ان تمام احکام میں آپ کی تابع ہے جو خصوصی طور پر صرف آپ کے لیے نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ يَّضِلُّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’وہ خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہکے‘‘ اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو راہ راست پر چلے اور جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرے۔ پس اے مومنو! تم پر فرض ہے کہ تم اس کی نصیحتوں پر عمل کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ تمھارے مصالح کا علم رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی گروہ کی کثرت سے اس کے حق ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اگر کسی معاملے میں ، اس کو اختیار کرنے والے تھوڑے ہوں تو یہ قلت ان کے ناحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس فی الواقع حقیقت یہ ہے کہ اہل حق تعداد میں بہت کم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر اور اجر میں بہت عظیم ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے لیے ان ذرائع کو اختیار کیا جائے جو اس کے لیے معروف ہیں ۔

الأنعام 6:118

پس کھاؤ تم! اس (جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر، اگر ہو تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے(118) اور کیا ہے تمھیں کہ نہ کھاؤ تم اس(جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر؟ جبکہ واضح کر دیا ہے اس نے تمھارے لیے جو حرام کیا ہے اس نے تم پر مگر وہ کہ مجبور کردیے جاؤ تم اس(کے کھانے) پراور بلاشبہ اکثر لوگ بہکاتے ہیں(لوگوں کو) اپنی خواہشات سے،بغیر علم کے، بے شک آپ کا رب وہ خوب جانتا ہے حد سے گزرنے والوں کو(119) [119,118] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیتا ہے نیز وہ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ان حلال مویشیوں کا گوشت کھائیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور ان جانوروں کی حلت کا اعتقاد بھی رکھیں اور اس طرح نہ کریں جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے شیاطین کے گمراہ کرنے کے باعث اپنی طرف سے گھڑ کے بہت سی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اس مذموم عادت میں ، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت میں تغیر و تبدل کو متضمن ہے، اہل جاہلیت کی مخالفت کریں نیز یہ کہ کون سی چیز ہے جو انھیں اس جانور کو کھانے سے روکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مفصل طور پر بیان کر کے واضح کر دیا ہے کہ کون سی چیز ان پر حرام ٹھہرائی گئی ہے؟ تب کوئی اشکال اور کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ حرام میں پڑنے کے خوف کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی کھانی چھوڑ دی جائیں ۔ اور آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے۔ اگر شریعت کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتی تو وہ اپنی اباحت پر باقی ہے۔ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے وہ حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل بیان کر دی ہے اور جس کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی وہ حرام نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ حرام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سخت بھوک اور اضطراری حالت میں مباح کر دیا ہے ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾ ’’تم پر مرا ہوا جانور، بہتا خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا ﴿فَمَنِ اضۡطُرَّ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’اگر کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا لَّيُضِلُّوۡنَ بِاَهۡوَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اور بہت لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے‘‘ یعنی مجرد خواہشات نفس کے ذریعے سے ﴿ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔۔۔ پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہیے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے۔

الأنعام 6:119

پس کھاؤ تم! اس (جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر، اگر ہو تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے(118) اور کیا ہے تمھیں کہ نہ کھاؤ تم اس(جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر؟ جبکہ واضح کر دیا ہے اس نے تمھارے لیے جو حرام کیا ہے اس نے تم پر مگر وہ کہ مجبور کردیے جاؤ تم اس(کے کھانے) پراور بلاشبہ اکثر لوگ بہکاتے ہیں(لوگوں کو) اپنی خواہشات سے،بغیر علم کے، بے شک آپ کا رب وہ خوب جانتا ہے حد سے گزرنے والوں کو(119) [119,118] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیتا ہے نیز وہ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ان حلال مویشیوں کا گوشت کھائیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور ان جانوروں کی حلت کا اعتقاد بھی رکھیں اور اس طرح نہ کریں جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے شیاطین کے گمراہ کرنے کے باعث اپنی طرف سے گھڑ کے بہت سی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اس مذموم عادت میں ، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت میں تغیر و تبدل کو متضمن ہے، اہل جاہلیت کی مخالفت کریں نیز یہ کہ کون سی چیز ہے جو انھیں اس جانور کو کھانے سے روکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مفصل طور پر بیان کر کے واضح کر دیا ہے کہ کون سی چیز ان پر حرام ٹھہرائی گئی ہے؟ تب کوئی اشکال اور کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ حرام میں پڑنے کے خوف کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی کھانی چھوڑ دی جائیں ۔ اور آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے۔ اگر شریعت کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتی تو وہ اپنی اباحت پر باقی ہے۔ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے وہ حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل بیان کر دی ہے اور جس کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی وہ حرام نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ حرام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سخت بھوک اور اضطراری حالت میں مباح کر دیا ہے ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾ ’’تم پر مرا ہوا جانور، بہتا خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا ﴿فَمَنِ اضۡطُرَّ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’اگر کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا لَّيُضِلُّوۡنَ بِاَهۡوَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اور بہت لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے‘‘ یعنی مجرد خواہشات نفس کے ذریعے سے ﴿ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔۔۔ پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہیے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے۔

الأنعام 6:120

اور چھوڑ دوظاہر گناہ اور پوشیدہ گناہ، بلاشبہ جو لوگ کرتے ہیں گناہ، عنقریب جزاء دیے جائیں گے وہ ساتھ اس کے جو تھے وہ کرتے (120) [120] یہاں ﴿ الۡاِثۡمِ ﴾ سے مراد تمام معاصی ہیں جو بندے کو گناہ گار کرتے ہیں یعنی اسے ان امور کے بارے میں گناہ اور حرج میں مبتلا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق سے متعلق ہوتے ہیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی گناہوں کے ارتکاب سے منع کیا ہے یعنی چھپ کر یا اعلانیہ ان تمام گناہوں سے روکا ہے جو بدن، جوارح اور قلب سے متعلق ہیں ۔ بندہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو اس وقت تک کامل طور پر ترک نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ بحث و تحقیق کے بعد ان کی معرفت حاصل نہیں کر لیتا۔ بنابریں گناہوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنا، قلب و جوارح کے گناہوں کی معرفت اور ان کے بارے میں علم حاصل کرنا مکلف پر حتمی طور پر فرض ہے اور بہت سے لوگوں پر ان کے گناہ مخفی رہتے ہیں خاص طور پر قلب کے گناہ چھپے رہتے ہیں ، مثلاً: تکبر، خود پسندی اور ریا وغیرہ۔ یہاں تک کہ بندہ ان میں سے بہت سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے مگر اسے اس کا احساس اور شعور تک نہیں ہوتا اور یہ علم سے اعراض اور عدم بصیرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ ظاہری اور باطنی گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے اکتساب کے مطابق اور ان کے گناہوں کی قلت و کثرت کے اعتبار سے ان کو سزا دی جائے گی اور یہ سزا آخرت میں ملے گی۔ کبھی کبھی بندے کو دنیا میں سزا دے دی جاتی ہے اس طرح اس کی برائیوں اور گناہوں میں تخفیف ہو جاتی ہے۔

الأنعام 6:121

اور مت کھاؤ تم اس (جانور) میں سے کہ نہیں ذکر کیاگیا نام اللہ کا اس پراور یقیناً یہ (کھانا) البتہ فسق ہےاور بلاشبہ شیطان البتہ (شبہات) ڈالتے ہیں طرف اپنے دوستوں کی تاکہ جھگڑا کریں وہ تم سےاور اگر اطاعت کی تم نے ان کی تو یقینا تم بھی البتہ مشرک ہوگے(121) [121] اس ممانعت میں وہ اشیا بھی داخل ہیں جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، مثلاً: بتوں اور مشرکین کے معبودوں کے لیے ذبح کرنا۔ اور یہ ممانعت ﴿ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے۔‘‘ کی نص کے ذریعے سے خصوصی طور پر حرام ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہیں جو اللہ کے لیے ذبح کیے گئے ہوں مگر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو ، مثلاً: قربانی اور ہدی کے جانور کا ذبیحہ یا گوشت کھانے کے لیے جانور ذبح کرنا۔ بہت سے علماء کے نزدیک یہ جانور اس وقت حرام ہو گا جب جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اور اس عموم سے دوسری نصوص کی بنا پر دفع حرج کی خاطر بھول کر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام چھوڑنے والا مستثنی ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہے جو بغیر ذبح کیے مر جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا گیا ہوتا۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ نص بیان فرمائی ہے ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’تم پر مردہ جانور حرام کر دیا گیا ہے‘‘ اور شاید اس فرمان کے نازل ہونے کی وجہ بھی یہی ہے ﴿ وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾ ’’اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ بغیر کسی علم کے جھگڑا کریں گے کیونکہ مشرکین نے جب یہ سنا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے مردار کو حرام قرار دے دیا ہے اور جس کو ذبح کیا گیا ہو اس کو حلال قرار دیا ہے اور ان کا مسلک یہ تھا کہ وہ مردار کے کھانے کو حلال سمجھتے تھے، چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عناد کی بنا پر بغیر کسی دلیل اور برہان کے کہا ’’تم اس جانور کو تو کھا لیتے ہو جسے تم نے خود قتل کیا اور وہ جانور نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے‘‘ اور اس سے مراد وہ مردار لیتے۔ یہ انتہائی فاسد رائے ہے جو کسی دلیل اور حجت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی فاسد آراء کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ اگر حق ان کی آراء کا تابع ہوتا تو زمین و آسمان اور ان کے رہنے والے سب فساد کا شکار ہو جاتے، اس لیے ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے احکام پر، جو کہ مصالح عامہ اور منافع خاصہ کے موافق ہیں ، اس عقل کو مقدم رکھتا ہے۔ اور یہ ان سے کچھ بعید بھی نہیں کیونکہ یہ آراء ان سے اس بنا پر صادر ہوئی ہیں کہ ان کے سرپرست شیاطین ان کو باطل آراء الہام کرتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ مخلوق بھٹک کر اپنے دین سے دور ہو جائے اور وہ ان کو دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ وہ جہنمی بن جائیں ﴿ وَاِنۡ اَطَعۡتُمُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے ان کے شرک، ان کے حرام کو حلال ٹھہرانے اور حلال کو حرام قرار دینے میں ان کی بات مانی ﴿ اِنَّـكُمۡ لَمُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے‘‘ کیونکہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر ان کو اپنا سرپرست اور والی بنا لیا ہے اور وہ جس بنیاد پر مسلمانوں سے علیحدہ ہوئے تم نے بھی اس کی موافقت کی اس لیے تمھارا راستہ اور ان کا راستہ ایک ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ کشف و الہامات جو دل میں القاء ہوتے ہیں.... اور یہ کشف و الہام خاص طور پر صوفیہ کے ہاں بہت کثرت سے واقع ہوتے ہیں ۔۔۔ اپنے مجرد الہام ہونے کی بنا پر اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حق ہیں ۔ اور ان کی اس وقت تک تصدیق نہیں کی جا سکتی جب تک کہ ان کو قرآن و سنت پر پیش نہ کیا جائے۔ اگر قرآن و سنت ان کو قبول کرنے کی شہادت دیں تو ان کو قبول کر لیا جائے۔ اگر یہ کشف و الہام قرآن و سنت کے منافی ہوں تو ان کو رد کر دیا جائے۔ اگر ان کا حق یا باطل ہونا واضح نہ ہو تو اس میں توقف کیا جائے، اس کی تصدیق کی جائے نہ تکذیب۔ کیونکہ وحی اور الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے اس لیے الہام رحمانی اور الہام شیطانی کے مابین فرق اور امتیاز کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ دونوں قسم کے الہامات کے درمیان عدم تفریق سے بندہ جن غلطیوں اور گمراہیوں کا شکار ہوتا ہے ان کو اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔

الأنعام 6:122

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124) [122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔ [123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں مگر ان کی سازش اور فریب کاری انجام کار انھی کے خلاف جاتی ہے۔ وہ بھی چالیں چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی چال چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کبار ائمہ ہدی اور بڑے بڑے فاضل لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو ان مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کے نظریات و اقاویل کا جواب دیتے ہیں ، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح وہ ان راستوں پر گامزن ہوتے ہیں جو انھیں ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مدد سے نوازتا ہے، ان کی رائے کو درست کرتا ہے، ان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کامیابی ان کے اور ان کے دشمنوں کے مابین ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انجام کار فتح و نصرت اور غلبہ اہل ایمان کے حصہ میں آتا ہے۔ [124] بڑے بڑے مجرم صرف حسد اور بغاوت کی بنا پر باطل پر قائم اور حق کو ٹھکرا رہے تھے اور کہتے تھے ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰى نُؤۡتٰى مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو‘‘ یعنی نبوت اور رسالت۔ یہ ان کی طرف سے محض اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتراض، ان کی خود پسندی اور اس حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا و رسل پر نازل فرمایا تھا، نیز اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر قدغن لگانی تھی۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے فاسد اعتراض کو رد کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نیز یہ کہ ان لوگوں کا انبیا و مرسلین بننا تو کجا ان میں تو کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو ان کو اللہ کے نیک بندوں میں شمار کرنے کی موجب ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ ﴾ ’’اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں رکھے وہ اپنی پیغمبری‘‘ یعنی اللہ کے علم میں جو رسول بننے کا اہل ہے، جو رسالت کے بوجھ کو اٹھا سکتا ہے، جو ہر قسم کے خلق جمیل سے متصف اور ہر قسم کے گندے اخلاق سے مبرا ہو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اسے رسالت کا منصب عطا کرتا ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بہترین مواہب سے ہرگز نہیں نوازتا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک گردانا جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ ہر چند کہ اللہ تعالیٰ نہایت رحیم، وسیع جود و کرم اور بہت فضل و احسان کا مالک ہے تاہم وہ حکیم بھی ہے اس لیے وہ اپنی بخشش سے صرف اس کو نوازتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرموں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’عنقریب پہنچے گی گناہ گاروں کو ذلت، اللہ کے ہاں ‘‘ یعنی اہانت اور ذلت۔ جیسے وہ حق کے ساتھ تکبر سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ ﴿ وَعَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَمۡؔكُرُوۡنَ﴾ ’’اور سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ ان کی چالبازیوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

الأنعام 6:123

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124) [122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔ [123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں مگر ان کی سازش اور فریب کاری انجام کار انھی کے خلاف جاتی ہے۔ وہ بھی چالیں چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی چال چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کبار ائمہ ہدی اور بڑے بڑے فاضل لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو ان مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کے نظریات و اقاویل کا جواب دیتے ہیں ، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح وہ ان راستوں پر گامزن ہوتے ہیں جو انھیں ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مدد سے نوازتا ہے، ان کی رائے کو درست کرتا ہے، ان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کامیابی ان کے اور ان کے دشمنوں کے مابین ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انجام کار فتح و نصرت اور غلبہ اہل ایمان کے حصہ میں آتا ہے۔ [124] بڑے بڑے مجرم صرف حسد اور بغاوت کی بنا پر باطل پر قائم اور حق کو ٹھکرا رہے تھے اور کہتے تھے ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰى نُؤۡتٰى مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو‘‘ یعنی نبوت اور رسالت۔ یہ ان کی طرف سے محض اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتراض، ان کی خود پسندی اور اس حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا و رسل پر نازل فرمایا تھا، نیز اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر قدغن لگانی تھی۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے فاسد اعتراض کو رد کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نیز یہ کہ ان لوگوں کا انبیا و مرسلین بننا تو کجا ان میں تو کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو ان کو اللہ کے نیک بندوں میں شمار کرنے کی موجب ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ ﴾ ’’اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں رکھے وہ اپنی پیغمبری‘‘ یعنی اللہ کے علم میں جو رسول بننے کا اہل ہے، جو رسالت کے بوجھ کو اٹھا سکتا ہے، جو ہر قسم کے خلق جمیل سے متصف اور ہر قسم کے گندے اخلاق سے مبرا ہو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اسے رسالت کا منصب عطا کرتا ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بہترین مواہب سے ہرگز نہیں نوازتا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک گردانا جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ ہر چند کہ اللہ تعالیٰ نہایت رحیم، وسیع جود و کرم اور بہت فضل و احسان کا مالک ہے تاہم وہ حکیم بھی ہے اس لیے وہ اپنی بخشش سے صرف اس کو نوازتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرموں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’عنقریب پہنچے گی گناہ گاروں کو ذلت، اللہ کے ہاں ‘‘ یعنی اہانت اور ذلت۔ جیسے وہ حق کے ساتھ تکبر سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ ﴿ وَعَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَمۡؔكُرُوۡنَ﴾ ’’اور سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ ان کی چالبازیوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

الأنعام 6:124

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124) [122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔ [123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں مگر ان کی سازش اور فریب کاری انجام کار انھی کے خلاف جاتی ہے۔ وہ بھی چالیں چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی چال چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کبار ائمہ ہدی اور بڑے بڑے فاضل لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو ان مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کے نظریات و اقاویل کا جواب دیتے ہیں ، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح وہ ان راستوں پر گامزن ہوتے ہیں جو انھیں ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مدد سے نوازتا ہے، ان کی رائے کو درست کرتا ہے، ان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کامیابی ان کے اور ان کے دشمنوں کے مابین ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انجام کار فتح و نصرت اور غلبہ اہل ایمان کے حصہ میں آتا ہے۔ [124] بڑے بڑے مجرم صرف حسد اور بغاوت کی بنا پر باطل پر قائم اور حق کو ٹھکرا رہے تھے اور کہتے تھے ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰى نُؤۡتٰى مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو‘‘ یعنی نبوت اور رسالت۔ یہ ان کی طرف سے محض اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتراض، ان کی خود پسندی اور اس حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا و رسل پر نازل فرمایا تھا، نیز اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر قدغن لگانی تھی۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے فاسد اعتراض کو رد کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نیز یہ کہ ان لوگوں کا انبیا و مرسلین بننا تو کجا ان میں تو کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو ان کو اللہ کے نیک بندوں میں شمار کرنے کی موجب ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ ﴾ ’’اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں رکھے وہ اپنی پیغمبری‘‘ یعنی اللہ کے علم میں جو رسول بننے کا اہل ہے، جو رسالت کے بوجھ کو اٹھا سکتا ہے، جو ہر قسم کے خلق جمیل سے متصف اور ہر قسم کے گندے اخلاق سے مبرا ہو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اسے رسالت کا منصب عطا کرتا ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بہترین مواہب سے ہرگز نہیں نوازتا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک گردانا جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ ہر چند کہ اللہ تعالیٰ نہایت رحیم، وسیع جود و کرم اور بہت فضل و احسان کا مالک ہے تاہم وہ حکیم بھی ہے اس لیے وہ اپنی بخشش سے صرف اس کو نوازتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرموں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’عنقریب پہنچے گی گناہ گاروں کو ذلت، اللہ کے ہاں ‘‘ یعنی اہانت اور ذلت۔ جیسے وہ حق کے ساتھ تکبر سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ ﴿ وَعَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَمۡؔكُرُوۡنَ﴾ ’’اور سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ ان کی چالبازیوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

الأنعام 6:125

پس جسے چاہتا ہے اللہ کہ ہدایت دے اسے تو کھول دیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیےاور جسے وہ چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اسے تو کر دیتا ہے اس کا سینہ تنگ، انتہائی تنگ، گویا کہ وہ چڑھ رہا ہے آسمان میں، اسی طرح کرتا ہے اللہ پلیدی اوپر ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے(125) [125] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے بندے کی سعادت و ہدایت اور اس کی شقاوت و ضلالت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس کو اسلام کے لیے انشراح صدر ہو جاتا ہے یعنی اس کا سینہ وسیع ہو جاتا ہے۔ تو دل نور ایمان سے منور اور یقین کے پرتو سے زندہ ہو جاتا ہے اور نفس ایمان پر مطمئن ہو جاتا ہے، نفس نیکی سے محبت کرنے لگتا ہے اور وہ نیکی میں لذت محسوس کرتے ہوئے نیکی کرتا ہے نیکی کو بوجھ نہیں سمجھتا۔ پس یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت عطا کر دی ہے اور اسے توفیق سے نواز کر سب سے درست راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے یعنی اس کا سینہ ایمان، علم اور یقین کے لیے بہت تنگ ہو جاتا ہے، اس کا دل شبہات و شہوات کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے، بھلائی اس تک راہ نہیں پا سکتی، نہ بھلائی اور نیکی کے لیے اس کو انشراح صدر حاصل ہوتا ہے۔ گویا وہ سخت تنگی اور شدت میں ہے، گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے، یعنی اسے آسمان پر چڑھنے کا مکلف کیا جارہا ہے جہاں چڑھنے کا اس کے اندر کوئی حیلہ نہیں ۔ یہ ہے ان کے عدم ایمان کا سبب اور یہی وہ چیز ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجے کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور احسان کے دروازے بند کر لیے۔ یہ ایسی میزان ہے جو کبھی خیانت نہیں کرتی اور ایسا راستہ ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ بے شک جو کوئی اللہ کے راستے میں مال عطا کرتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، نیکی کی تصدیق کرتا ہے تو ہم اس کو آسان راستے ( بھلائی) کی توفیق عطا کر دیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے اور بے پروا بنا رہتا ہے اور نیکی کو جھٹلاتا ہے تو ہم اس کو مشکل راستے ( گناہ) پر گامزن کردیتے ہیں ۔

الأنعام 6:126

اور یہ ہے راستہ آپ کے رب کا سیدھا، تحقیق مفصل بیان کردیں ہم نے آیات ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں(126)ان کے لیے ہے گھر سلامتی کا، نزدیک ان کے رب کےاور وہی دوست ہے ان کا بہ سبب اس کے جو تھے وہ عمل کرتے(127) [126] یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے جس کے احکام واضح کر دیے گئے ہیں جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کر دی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کر دیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں ، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے لیے بہت بڑی جزا اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔ [127] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے ہاں ‘‘ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لیے اس کو ’’دار السلام‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہوں گی، کہ کوئی ان کا وصف بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ جنت کے اندر قلب و روح اور بدن کے لیے نعمتوں کے جو سامان ہیں تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی نعمت کی تمنا نہیں کر سکتے۔ اس جنت میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی اور وہ اس جنت میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ ﴿ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ﴾ ’’وہی ان کا ولی و مددگار ہے‘‘ جو ان کی تدبیر اور تربیت کا مالک ہے، وہ ان کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آتا ہے جو اپنی اطاعت پر ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے ہر وہ راستہ آسان کرتا ہے جو انھیں اس کی محبت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اور وہ ان کی سرپرستی اپنے ذمے صرف اس لیے لیتا ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لاتے اور ایسے کام آگے بھیجتے ہیں جن سے ان کا مقصد اپنے آقا کی رضامندی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص ہے جس نے اپنے آقا سے روگردانی کی اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کا سرپرست بن کر اس کے دین و دنیا کو تباہ کر دیتا ہے۔

الأنعام 6:127

اور یہ ہے راستہ آپ کے رب کا سیدھا، تحقیق مفصل بیان کردیں ہم نے آیات ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں(126)ان کے لیے ہے گھر سلامتی کا، نزدیک ان کے رب کےاور وہی دوست ہے ان کا بہ سبب اس کے جو تھے وہ عمل کرتے(127) [126] یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے جس کے احکام واضح کر دیے گئے ہیں جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کر دی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کر دیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں ، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے لیے بہت بڑی جزا اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔ [127] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے ہاں ‘‘ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لیے اس کو ’’دار السلام‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہوں گی، کہ کوئی ان کا وصف بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ جنت کے اندر قلب و روح اور بدن کے لیے نعمتوں کے جو سامان ہیں تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی نعمت کی تمنا نہیں کر سکتے۔ اس جنت میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی اور وہ اس جنت میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ ﴿ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ﴾ ’’وہی ان کا ولی و مددگار ہے‘‘ جو ان کی تدبیر اور تربیت کا مالک ہے، وہ ان کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آتا ہے جو اپنی اطاعت پر ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے ہر وہ راستہ آسان کرتا ہے جو انھیں اس کی محبت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اور وہ ان کی سرپرستی اپنے ذمے صرف اس لیے لیتا ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لاتے اور ایسے کام آگے بھیجتے ہیں جن سے ان کا مقصد اپنے آقا کی رضامندی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص ہے جس نے اپنے آقا سے روگردانی کی اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کا سرپرست بن کر اس کے دین و دنیا کو تباہ کر دیتا ہے۔

الأنعام 6:128

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:129

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:130

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:131

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:132

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:133

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:134

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:135

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135) [128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔ [129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔ [130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟ [132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔ [133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔ [134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔ [135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘

الأنعام 6:136

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140) [136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ [137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ [138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔ [139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔ [140] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَهُمۡ سَفَهًۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا‘‘ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لیے رحمت بنایا اور اسے ان کے لیے رزق قرار دیا تھا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لیے سب سے زیادہ حلال تھی۔ اور یہ سب کچھ ﴿ افۡتِرَآءًؔ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جھوٹ باندھ کر اللہ پر‘‘ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں ۔

الأنعام 6:137

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140) [136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ [137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ [138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔ [139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔ [140] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَهُمۡ سَفَهًۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا‘‘ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لیے رحمت بنایا اور اسے ان کے لیے رزق قرار دیا تھا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لیے سب سے زیادہ حلال تھی۔ اور یہ سب کچھ ﴿ افۡتِرَآءًؔ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جھوٹ باندھ کر اللہ پر‘‘ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں ۔

الأنعام 6:138

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140) [136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ [137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ [138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔ [139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔ [140] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَهُمۡ سَفَهًۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا‘‘ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لیے رحمت بنایا اور اسے ان کے لیے رزق قرار دیا تھا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لیے سب سے زیادہ حلال تھی۔ اور یہ سب کچھ ﴿ افۡتِرَآءًؔ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جھوٹ باندھ کر اللہ پر‘‘ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں ۔

الأنعام 6:139

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140) [136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ [137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ [138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔ [139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔ [140] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَهُمۡ سَفَهًۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا‘‘ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لیے رحمت بنایا اور اسے ان کے لیے رزق قرار دیا تھا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لیے سب سے زیادہ حلال تھی۔ اور یہ سب کچھ ﴿ افۡتِرَآءًؔ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جھوٹ باندھ کر اللہ پر‘‘ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں ۔

الأنعام 6:140

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140) [136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ [137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ [138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔ [139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔ [140] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَهُمۡ سَفَهًۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا‘‘ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لیے رحمت بنایا اور اسے ان کے لیے رزق قرار دیا تھا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لیے سب سے زیادہ حلال تھی۔ اور یہ سب کچھ ﴿ افۡتِرَآءًؔ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جھوٹ باندھ کر اللہ پر‘‘ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں ۔

الأنعام 6:141

اور وہی(اللہ) ہے جس نے پیدا فرمائے باغات چھتریوں پر چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئےاور(پیدا فرمائی) کھجور اور کھیتی مختلف ہیں(مزے میں) ان کے پھل اور زیتون اور انار، ملتے جلتے بھی اور نہ ملتے جلتے بھی، تم کھاؤ اس کا پھل جب وہ پھل لائےاور دو اس کا حق دن اس کی کٹائی کے اور نہ اسراف کرو تم، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا، فضول خرچوں کو(141) [141] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کھیتیوں اور مویشیوں میں مشرکین کے تصرف کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال ٹھہرایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور کھیتیوں اور مویشیوں کے بارے میں ان کے لازمی وظیفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ ﴾ ’’وہی ہے جس نے باغ پیدا کیے‘‘ جس میں مختلف انواع کے درخت اور نباتات ہیں ۔ ﴿ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّغَيۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ ﴾ ’’جو ٹٹیوں (چھتریوں ) پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے‘‘ یعنی ان میں سے بعض باغات کے لیے چھتریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو ان چھتریوں پر چڑھایا جاتا ہے اور یہ چھتریاں انھیں اوپر اٹھنے میں مدد دیتی ہیں ۔ اور بعض درختوں کے لیے چھتریاں نہیں بنائی جاتیں بلکہ وہ اپنے تنے پر کھڑے ہوتے ہیں یا زمین پر بچھ جاتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں ان کے کثرت منفعت اور ان کے فوائد کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سکھایا کہ پودوں کو کیسے چھتریوں پر چڑھانا اور کیسے ان کی پرورش کرنا ہے۔ ﴿ وَّالنَّخۡلَ وَالزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُكُلُهٗ ﴾ ’’(اور پیدا کیے) کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں ان کے پھل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پر کھجور اور کھیتیاں پیدا کیں جو ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہیں مگر کھانے اور ذائقے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر کھجور اور کھیتیوں کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ مختلف انواع و اقسام کی بنا پر بہت سے فوائد کی حامل ہیں نیز یہ اکثر مخلوق کے لیے خوراک کا کام دیتی ہیں ۔ ﴿وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا﴾ ’’اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زیتون اور انار کو پیدا کیا جس کے درخت ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ﴿ وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ﴾ ’’اور جدا جدا بھی‘‘ جو اپنے پھل اور ذائقے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ گویا کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغات کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا اور کس پر یہ نوازش کی؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی منفعت کے لیے یہ باغات پیدا کیے، اس لیے فرمایا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖۤ ﴾ ’’ان کے پھل کھاؤ۔‘‘ یعنی کھجور اور کھیتیوں کا پھل کھاؤ ﴿ اِذَاۤ اَثۡمَرَ﴾ ’’جب وہ پھل لائیں ‘‘ ﴿ وَاٰتُوۡا حَقَّهٗ يَوۡمَ حَصَادِهٖ ﴾ ’’اور جس دن (پھل توڑو) اور کھیتی کاٹو تو اللہ کا حق اس میں سے ادا کرو۔‘‘ یعنی فصل کی برداشت کے روز کھیتی کا حق ادا کرو۔ اس سے کھیتی کی زکاۃ (یعنی عشر) مراد ہے جس کا نصاب شریعت میں مقرر ہے۔ ان کو حکم دیا کہ زکاۃ فصل کی برداشت کے وقت ادا کریں کیونکہ برداشت کا دن، ایک سال گزرنے کے قائم مقام ہے۔ نیز یہ وہ وقت ہے جب فقراء کے دلوں میں زکاۃ کے حصول کی امید بندھ جاتی ہے۔ اور اس وقت کاشت کاروں کے لیے اپنی زرعی جنس میں سے زکاۃ نکالنا آسان ہوتا ہے۔ اور جو زکاۃ نکالتا ہے اس کے لیے یہ معاملہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ اور زکاۃ نکالنے والے اور زکاۃ نہ نکالنے والے کے درمیان امتیاز واقع ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تُسۡرِفُوۡا ﴾ ’’اور بے جا خرچ نہ کرو‘‘ یہ ممانعت کھانے میں اسراف کے لیے عام ہے یعنی عادت اور حدود سے تجاوز کر کے کھانا۔ یہ اسراف اس بات کو بھی شامل ہے کہ کھیتی کا مالک اس طرح کھائے جس سے زکاۃ کو نقصان پہنچے اور کھیتی کا حق نکالنے میں اسراف یہ ہے کہ واجب سے بڑھ کر زکاۃ نکالے یا اپنے آپ کو یا اپنے خاندان یا اپنے قرض خواہوں کو نقصان پہنچائے۔ یہ تمام چیزیں اسراف کے زمرے میں آتی ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ سخت ناپسند ہے اور وہ اسراف پر سخت ناراض ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ پھلوں میں بھی زکاۃ فرض ہے اور ان میں زکاۃ کی ادائیگی ایک سال گزرنے کی شرط سے مشروط نہیں ہے۔ غلے کی زکاۃ فصل کٹنے اور کھجوروں کی زکاۃ پھل چنے جانے پر واجب ہو جاتی ہے، پھر زرعی اجناس زکاۃ کی ادائیگی کے بعد کئی سال تک بھی بندے کے پاس پڑی رہیں تو ان میں زکاۃ فرض نہیں بشرطیکہ وہ تجارت کی غرض سے نہ رکھی گئی ہوں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف فصل کی برداشت کے وقت زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیز اگر فصل برداشت کرنے سے قبل، صاحب زراعت کی کوتاہی کے بغیر، باغ یا کھیتی پر کوئی آفت آ جائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہو گا اور زکاۃ نکالنے سے پہلے اگر کھیتی یا کھجور کے پھل میں سے کچھ کھا لیا جائے تو اسے زکاۃ کے حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا بلکہ جو باقی بچے گا اسی کے حساب سے زکاۃ نکالی جائے گی۔ رسول اللہﷺ پھل کا اندازہ لگانے کا ماہر روانہ فرمایا کرتے تھے جو زکاۃ ادا کرنے والے لوگوں کی کھیتیوں اور کھجوروں کے پھل کا اندازہ لگاتے تھے آپﷺ انھیں حکم دیتے کہ اندازہ لگانے کے بعد وہ ان کے اور دیگر لوگوں کے کھانے کے لیے ایک تہائی یا ایک چوتھائی چھوڑ دیا کریں ۔

الأنعام 6:142

اور (پیدا کیے) چوپایوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے، کھاؤ اس میں سے جو دیا تمھیں اللہ نے اور مت پیچھے لگوقدموں کے شیطان کے، یقینا وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر (142)(پیدا فرمائیں) آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر اللہ نے حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ تم خبر دو مجھے ساتھ علم کے، اگر ہو تم سچے (143)اور (پیدا فرمائے) اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر حرام کیے اللہ نے یا دونوں مادہ یا وہ(بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ کیا تھے تم حاضر جب وصیت کی تھی تمھیں اللہ نے اس کی؟ پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے گھڑا اوپر اللہ کے جھوٹ تاکہ گمراہ کرے وہ لوگوں کو بغیر علم کے، یقینا اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(144) [142]﴿وَمِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا ﴾ ’’اور پیدا کیے مویشی میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے باربرداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور باربرداری کے قابل نہیں ہوتے ، مثلاً: ان چوپائیوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں ۔ پس یہ مویشی سواری اور باربرداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں ۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا۔ تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر‘‘ یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پس وہ تمھیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمھارا نقصان اور تمھاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔ [143] یہ چوپائے جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان سب کو حلال اور طیب قرار دیا ان کی تفصیل یوں بیان کی ہے ﴿ ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’پیدا کیے آٹھ نر اور مادہ، بھیڑ میں سے دو‘‘ یعنی نر اور مادہ ﴿ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور دو (۲) بکریوں میں سے۔‘‘ یعنی اسی طرح بکریوں میں سے دو، نر اور مادہ۔ یہ چار اصناف ان مویشیوں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔ ان تکلف کرنے والوں سے کہہ دیجیے جو ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں یا ان میں سے کچھ اصناف کو عورتوں پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔ جس کو انھوں نے مباح اور جس کو انھوں نے حرام ٹھہرایا، ان دونوں کے درمیان فرق کے عدم وجود کو ان پر لازم کرتے ہوئے ان سے کہیے ﴿ ءٰٓالذَّكَرَيۡنِ۠ ﴾ ’’کیا دونوں (کے) نروں کو۔‘‘ یعنی بھیڑ اور بکری میں سے ان کے نر کو ﴿ حَرَّمَ ﴾ ’’(اللہ تعالیٰ نے) حرام ٹھہرایا؟‘‘ پس تم اس بات کے قائل نہیں ہو ﴿ اَمِ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا دونوں (کے) مادہ کو۔‘‘ یعنی مادہ بھیڑ اور بکری کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟ تم اس بات کے بھی قائل نہیں ہو۔ تم دونوں اصناف میں سے خالص نر کی تحریم کے قائل ہو نہ خالص مادہ کی۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر مادہ کا رحم نر اور مادہ بچے پر مشتمل ہو یا نر اور مادہ کے بارے میں علم نہ ہو۔ پس فرمایا ﴿ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا جو بچہ دونوں ماداؤں کے پیٹوں میں ہو۔‘‘ یعنی کیا تم نر اور مادہ کے فرق کے بغیر اسے حرام ٹھہراتے ہو جو بھیڑ یا بکری کے رحم میں ہے؟ تم اس قول کے بھی قائل نہیں ہو۔ جب تم ان تین اقوال میں کسی ایک قول کے بھی قائل نہیں جو ممکنہ تمام صورتوں پر محیط ہیں ۔ تو پھر تم کون سے مذہب پر عامل ہو ﴿ نَبِّـُٔوۡنِيۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ‘‘اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے قول اور دعوے میں سچے ہو تو مجھے علمی دلیل سے آگاہ کرو اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ وہ کوئی ایسا قول نہیں لا سکتے جسے عقل تسلیم کر لے، سوائے اس کے کہ مذکورہ تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بات کہیں اور وہ ان میں سے کوئی بات نہیں کہتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ بعض مویشی جن کے بارے میں انھوں نے اپنی طرف سے کچھ اصطلاحات گھڑ رکھی ہیں مردوں کی بجائے عورتوں پر حرام ہیں ۔ یا وہ بعض اوقات و احوال میں حرام ہیں یا اس قسم کے دیگر اقوال، جن کے بارے میں بلاشک و شبہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا مصدر جہل مرکب، راہ راست سے منحرف عقل اور فاسد آراء و نظریات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس کوئی اور حجت و برہان ہے۔ [144] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ وَصّٰؔىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا﴾ ’’کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا‘‘ یعنی تمھارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں ، جس کی صداقت اور صحت کو پرکھنے کے لیے تمھارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔ اور وہ ہے تمھارا یہ کہنا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح اس نے اپنے انبیا و مرسلین کی طرف وحی کی۔ بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیا و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں ‘‘ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں ۔

الأنعام 6:143

اور (پیدا کیے) چوپایوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے، کھاؤ اس میں سے جو دیا تمھیں اللہ نے اور مت پیچھے لگوقدموں کے شیطان کے، یقینا وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر (142)(پیدا فرمائیں) آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر اللہ نے حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ تم خبر دو مجھے ساتھ علم کے، اگر ہو تم سچے (143)اور (پیدا فرمائے) اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر حرام کیے اللہ نے یا دونوں مادہ یا وہ(بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ کیا تھے تم حاضر جب وصیت کی تھی تمھیں اللہ نے اس کی؟ پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے گھڑا اوپر اللہ کے جھوٹ تاکہ گمراہ کرے وہ لوگوں کو بغیر علم کے، یقینا اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(144) [142]﴿وَمِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا ﴾ ’’اور پیدا کیے مویشی میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے باربرداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور باربرداری کے قابل نہیں ہوتے ، مثلاً: ان چوپائیوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں ۔ پس یہ مویشی سواری اور باربرداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں ۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا۔ تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر‘‘ یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پس وہ تمھیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمھارا نقصان اور تمھاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔ [143] یہ چوپائے جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان سب کو حلال اور طیب قرار دیا ان کی تفصیل یوں بیان کی ہے ﴿ ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’پیدا کیے آٹھ نر اور مادہ، بھیڑ میں سے دو‘‘ یعنی نر اور مادہ ﴿ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور دو (۲) بکریوں میں سے۔‘‘ یعنی اسی طرح بکریوں میں سے دو، نر اور مادہ۔ یہ چار اصناف ان مویشیوں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔ ان تکلف کرنے والوں سے کہہ دیجیے جو ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں یا ان میں سے کچھ اصناف کو عورتوں پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔ جس کو انھوں نے مباح اور جس کو انھوں نے حرام ٹھہرایا، ان دونوں کے درمیان فرق کے عدم وجود کو ان پر لازم کرتے ہوئے ان سے کہیے ﴿ ءٰٓالذَّكَرَيۡنِ۠ ﴾ ’’کیا دونوں (کے) نروں کو۔‘‘ یعنی بھیڑ اور بکری میں سے ان کے نر کو ﴿ حَرَّمَ ﴾ ’’(اللہ تعالیٰ نے) حرام ٹھہرایا؟‘‘ پس تم اس بات کے قائل نہیں ہو ﴿ اَمِ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا دونوں (کے) مادہ کو۔‘‘ یعنی مادہ بھیڑ اور بکری کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟ تم اس بات کے بھی قائل نہیں ہو۔ تم دونوں اصناف میں سے خالص نر کی تحریم کے قائل ہو نہ خالص مادہ کی۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر مادہ کا رحم نر اور مادہ بچے پر مشتمل ہو یا نر اور مادہ کے بارے میں علم نہ ہو۔ پس فرمایا ﴿ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا جو بچہ دونوں ماداؤں کے پیٹوں میں ہو۔‘‘ یعنی کیا تم نر اور مادہ کے فرق کے بغیر اسے حرام ٹھہراتے ہو جو بھیڑ یا بکری کے رحم میں ہے؟ تم اس قول کے بھی قائل نہیں ہو۔ جب تم ان تین اقوال میں کسی ایک قول کے بھی قائل نہیں جو ممکنہ تمام صورتوں پر محیط ہیں ۔ تو پھر تم کون سے مذہب پر عامل ہو ﴿ نَبِّـُٔوۡنِيۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ‘‘اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے قول اور دعوے میں سچے ہو تو مجھے علمی دلیل سے آگاہ کرو اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ وہ کوئی ایسا قول نہیں لا سکتے جسے عقل تسلیم کر لے، سوائے اس کے کہ مذکورہ تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بات کہیں اور وہ ان میں سے کوئی بات نہیں کہتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ بعض مویشی جن کے بارے میں انھوں نے اپنی طرف سے کچھ اصطلاحات گھڑ رکھی ہیں مردوں کی بجائے عورتوں پر حرام ہیں ۔ یا وہ بعض اوقات و احوال میں حرام ہیں یا اس قسم کے دیگر اقوال، جن کے بارے میں بلاشک و شبہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا مصدر جہل مرکب، راہ راست سے منحرف عقل اور فاسد آراء و نظریات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس کوئی اور حجت و برہان ہے۔ [144] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ وَصّٰؔىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا﴾ ’’کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا‘‘ یعنی تمھارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں ، جس کی صداقت اور صحت کو پرکھنے کے لیے تمھارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔ اور وہ ہے تمھارا یہ کہنا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح اس نے اپنے انبیا و مرسلین کی طرف وحی کی۔ بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیا و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں ‘‘ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں ۔

الأنعام 6:144

اور (پیدا کیے) چوپایوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے، کھاؤ اس میں سے جو دیا تمھیں اللہ نے اور مت پیچھے لگوقدموں کے شیطان کے، یقینا وہ تمھارا دشمن ہے ظاہر (142)(پیدا فرمائیں) آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر اللہ نے حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ تم خبر دو مجھے ساتھ علم کے، اگر ہو تم سچے (143)اور (پیدا فرمائے) اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو، کہہ دیجیے! کیا دونوں نر حرام کیے اللہ نے یا دونوں مادہ یا وہ(بچہ) کہ مشتمل ہیں اس پر رحم دونوں ماداؤں کے؟ کیا تھے تم حاضر جب وصیت کی تھی تمھیں اللہ نے اس کی؟ پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے گھڑا اوپر اللہ کے جھوٹ تاکہ گمراہ کرے وہ لوگوں کو بغیر علم کے، یقینا اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(144) [142]﴿وَمِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا ﴾ ’’اور پیدا کیے مویشی میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے باربرداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور باربرداری کے قابل نہیں ہوتے ، مثلاً: ان چوپائیوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں ۔ پس یہ مویشی سواری اور باربرداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں ۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا۔ تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر‘‘ یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پس وہ تمھیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمھارا نقصان اور تمھاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔ [143] یہ چوپائے جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان سب کو حلال اور طیب قرار دیا ان کی تفصیل یوں بیان کی ہے ﴿ ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’پیدا کیے آٹھ نر اور مادہ، بھیڑ میں سے دو‘‘ یعنی نر اور مادہ ﴿ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور دو (۲) بکریوں میں سے۔‘‘ یعنی اسی طرح بکریوں میں سے دو، نر اور مادہ۔ یہ چار اصناف ان مویشیوں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔ ان تکلف کرنے والوں سے کہہ دیجیے جو ان میں سے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں یا ان میں سے کچھ اصناف کو عورتوں پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔ جس کو انھوں نے مباح اور جس کو انھوں نے حرام ٹھہرایا، ان دونوں کے درمیان فرق کے عدم وجود کو ان پر لازم کرتے ہوئے ان سے کہیے ﴿ ءٰٓالذَّكَرَيۡنِ۠ ﴾ ’’کیا دونوں (کے) نروں کو۔‘‘ یعنی بھیڑ اور بکری میں سے ان کے نر کو ﴿ حَرَّمَ ﴾ ’’(اللہ تعالیٰ نے) حرام ٹھہرایا؟‘‘ پس تم اس بات کے قائل نہیں ہو ﴿ اَمِ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا دونوں (کے) مادہ کو۔‘‘ یعنی مادہ بھیڑ اور بکری کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟ تم اس بات کے بھی قائل نہیں ہو۔ تم دونوں اصناف میں سے خالص نر کی تحریم کے قائل ہو نہ خالص مادہ کی۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر مادہ کا رحم نر اور مادہ بچے پر مشتمل ہو یا نر اور مادہ کے بارے میں علم نہ ہو۔ پس فرمایا ﴿ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’یا جو بچہ دونوں ماداؤں کے پیٹوں میں ہو۔‘‘ یعنی کیا تم نر اور مادہ کے فرق کے بغیر اسے حرام ٹھہراتے ہو جو بھیڑ یا بکری کے رحم میں ہے؟ تم اس قول کے بھی قائل نہیں ہو۔ جب تم ان تین اقوال میں کسی ایک قول کے بھی قائل نہیں جو ممکنہ تمام صورتوں پر محیط ہیں ۔ تو پھر تم کون سے مذہب پر عامل ہو ﴿ نَبِّـُٔوۡنِيۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ‘‘اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے قول اور دعوے میں سچے ہو تو مجھے علمی دلیل سے آگاہ کرو اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ وہ کوئی ایسا قول نہیں لا سکتے جسے عقل تسلیم کر لے، سوائے اس کے کہ مذکورہ تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بات کہیں اور وہ ان میں سے کوئی بات نہیں کہتے۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ بعض مویشی جن کے بارے میں انھوں نے اپنی طرف سے کچھ اصطلاحات گھڑ رکھی ہیں مردوں کی بجائے عورتوں پر حرام ہیں ۔ یا وہ بعض اوقات و احوال میں حرام ہیں یا اس قسم کے دیگر اقوال، جن کے بارے میں بلاشک و شبہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا مصدر جہل مرکب، راہ راست سے منحرف عقل اور فاسد آراء و نظریات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس کوئی اور حجت و برہان ہے۔ [144] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ وَصّٰؔىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا﴾ ’’کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا‘‘ یعنی تمھارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں ، جس کی صداقت اور صحت کو پرکھنے کے لیے تمھارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔ اور وہ ہے تمھارا یہ کہنا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح اس نے اپنے انبیا و مرسلین کی طرف وحی کی۔ بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیا و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں ‘‘ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں ۔

الأنعام 6:145

کہہ دیجیے! نہیں پاتا میں اس میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام کسی کھانے والے پر جو کھائے اسے مگر یہ کہ ہو وہ مردار یا خون بہایا ہوا یا گوشت سورکا پس یقینا وہ ناپاک ہے یا وہ فسق ہے کہ نام پکارا گیا اللہ کے سوا کسی اورکا اس پر، پھر جو شخص لاچار ہو جائے (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے گزرنے والا تو آپ کا رب ہے بہت بخشنے والا رحم کرنے والا(145) اور اوپر ان کے جو یہودی ہوئے حرام کیا تھا ہم نے ہر ناخن والا(جانور) اور گائے اور بکری میں سے حرام کیں ہم نے ان پر چربیاں ان دونوں کی مگر جس کو اٹھایا ہوا ہو ان کی پیٹھوں یاآنتوں نے یا جو ملی ہو ساتھ ہڈی کے، یہ سزا دی ہم نے انھیں بوجہ ان کی سرکشی کےاور یقینا ہم البتہ سچے ہیں(146) [145] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انھوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جو کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے۔ کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِيۡ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھائے‘‘ یعنی اس کو کھانے کے علاوہ اس سے دیگر فوائد حاصل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا حرام ہو۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو‘‘ مردار وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر گیا ہو۔ یہ مرا ہوا جانور حلال نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔‘‘ ﴿ اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا ﴾ ’’یا بہتا ہوا خون‘‘ یہ وہ خون ہے جو ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت اس میں سے خارج ہوتا ہے کیونکہ اس خون کا ذبیحہ کے بدن میں رہنا ضرر رساں ہے۔ جب یہ خون بدن سے نکل جاتا ہے تو گوشت کا ضرر زائل ہو جاتا ہے۔ لفظ کے مفہوم مخالف سے مستفاد ہوتا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں بچ جاتا ہے وہ حلال اور پاک ہے۔ ﴿ اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ ﴾ ’’یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے‘‘ یعنی مذکورہ تینوں اشیا گندی ہیں یعنی ناپاک اور مضر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم پر لطف و کرم کرتے ہوئے اور تمھیں خبائث کے قریب جانے سے بچانے کے لیے ان گندی اشیا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ ﴿ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ یا ذبیحہ کو اللہ کے سوابتوں اور ان معبودوں کے لیے ذبح کیا گیا ہو جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں ۔ یہ فسق ہے اور فسق سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر اس کی معصیت میں داخل ہو جانا۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس اگر کوئی مجبور ہوجائے۔‘‘ یعنی بایں ہمہ اگر کوئی ان حرام اشیا کو استعمال کرنے پر مجبور ہے حاجت اور ضرورت نے اسے ان اشیا کو کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں اور بھوک کے باعث اس کو اپنی جان کا خوف ہے ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ ﴾ ’’نافرمانی کرنے والا نہ ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی اضطراری حالت کے اس کو کھانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’اور نہ زیادتی کرنے والا ہو‘‘ (عاد) سے مراد ہے، ’’ضرورت سے زائد کھا کر حد سے تجاوز کرنے والا‘‘ ﴿ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو بلاشبہ تمھارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو شخص اس حالت کو پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔ اہل علم نے اس آیت کریمہ میں مذکورہ محرمات پر حصر کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ بھی محرمات موجود ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا ، مثلاً:(کچلیوں والے) درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے تمام پرندے، وغیرہ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان زائد چیزوں کی تحریم سے قبل نازل ہوئی ہے، اس لیے یہ حصر مذکور ان اشیا میں تحریم متاخر کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اس وقت اس زمرے میں نہیں آتی تھیں جس وقت مذکورہ حرمت کی وحی آپ کی طرف بھیجی گئی تھی۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ تمام محرمات کی تحریم پر مشتمل ہے، البتہ بعض کی تحریم کی تصریح کر دی گئی ہے اور بعض کی تحریم اس کے معنی اور حرمت کی عمومی حرمت سے اخذ کی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت کریمہ کے اواخر میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی تحریم کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ ﴾ ’’وہ ناپاک ہے‘‘ اور یہ ایسا وصف ہے جو تمام محرمات کو شامل ہے۔ کیونکہ تمام محرمات (رِجْس) یعنی گندگی اور ناپاک ہیں۔ اور یہ محرمات سب سے زیادہ ناپاک ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گندگی اور ناپاکی سے بچانے کے لیے ان کو حرام قرار دیا ہے۔ ناپاک اور محرمات کی تفاصیل سنت نبوی سے اخذ کی جاتی ہیں کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر کر کے اس کے مقاصد کو بیان کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کھانے والے کے لیے صرف اسی چیز کو حرام قرار دیا جس کا اس نے ذکر فرمایا۔ اور تحریم کا مصدر صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے رزق کو حرام قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور اس کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نہیں کہی۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خنزیر کی حرمت کا ذکر نہ کیا ہوتا تو اس کا قوی احتمال تھا کہ آیت کریمہ کا سیاق مشرکین کے مذکورہ بالا ان اقوال کی تردید میں ہے جس میں انھوں نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا اور اپنے نفس کی فریب دہی کے مطابق اس میں مشغول ہو گئے۔ اور یہ خاص طور پر چوپایوں کے بارے میں ہے۔ اور ان چوپایوں میں کچھ بھی حرام نہیں سوائے ان اشیا کے جن کا ذکر آیت کریمہ میں کر دیا گیا ہے۔ مردار اور غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز اور ان کے سوا دیگر تمام اشیا حلال ہیں ۔ اس احتمال کی بنا پر، خنزیر کا یہاں ذکر شاید اس مناسبت سے کیا گیا ہو کہ بعض جہال خنزیر کو (بَھِیْمَہُ اَلْاَنْعَام) میں داخل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خنزیر بھیڑ بکری کی نوع میں سے ہے۔ اس قسم کا توہم نصاریٰ میں سے جہلاء اور ان جیسے بعض دیگر لوگوں کو لاحق ہوا ہے۔ وہ خنزیر کو اسی طرح پالتے ہیں جیسے مویشیوں کو پالا جاتا ہے اور اس کو حلال سمجھتے ہیں ۔ اور وہ اس کے اور دیگر مویشیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ [146] پس یہ تمام محرمات جو اس امت پر حرام قرار دی گئی ہیں یہ حفاظت اور تنزیہہ کی خاطر ہے۔اور وہ چیزیں جو اہل کتاب پر حرام قرار دی گئیں ان میں سے بعض پاک اور طیب تھیں مگر سزا کے طور پر ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیا گیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ ﴾ ’’اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا تھا‘‘مثلاً: اونٹ اور اس قسم کے دیگر جانور ﴿ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور گائے اور بکری میں سے حرام کیے تھے‘‘ ان کے بعض اجزاء ﴿ شُحُوۡمَهُمَاۤ ﴾ اور وہ تھی ان کی چربی۔ اور ہر قسم کی چربی ان پرحرام نہ تھی بلکہ صرف دنبے کی چکتی اور اوجھڑی اور آنتوں کی باریک چربی حرام تھی، اس لیے اس میں سے حلال چربی کو مستثنی قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ﴾ ’’مگر وہ چربی جو پشت پر اور انتڑیوں کے ساتھ لگی ہوتی ہے‘‘ ﴿ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ ﴾ ’’یا وہ چربی جو ہڈی کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یہودیوں پر نافذ کی گئی یہ تحریم ﴿ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ ﴾ ’’ایک سزا تھی جو ہم نے ان کو دی تھی ان کی شرارت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں ان کے ظلم و تعدی کی جزا تھی، پس اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے لیے یہ چیزیں حرام کر دی تھیں ﴿وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم سچ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں جو کرتے ہیں اور جو فیصلہ کرتے ہیں ، سب صدق پر مبنی ہوتا ہے اور اہل ایقان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا اور سب سے اچھے فیصلے کرنے والا کون ہے؟

الأنعام 6:146

کہہ دیجیے! نہیں پاتا میں اس میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام کسی کھانے والے پر جو کھائے اسے مگر یہ کہ ہو وہ مردار یا خون بہایا ہوا یا گوشت سورکا پس یقینا وہ ناپاک ہے یا وہ فسق ہے کہ نام پکارا گیا اللہ کے سوا کسی اورکا اس پر، پھر جو شخص لاچار ہو جائے (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے گزرنے والا تو آپ کا رب ہے بہت بخشنے والا رحم کرنے والا(145) اور اوپر ان کے جو یہودی ہوئے حرام کیا تھا ہم نے ہر ناخن والا(جانور) اور گائے اور بکری میں سے حرام کیں ہم نے ان پر چربیاں ان دونوں کی مگر جس کو اٹھایا ہوا ہو ان کی پیٹھوں یاآنتوں نے یا جو ملی ہو ساتھ ہڈی کے، یہ سزا دی ہم نے انھیں بوجہ ان کی سرکشی کےاور یقینا ہم البتہ سچے ہیں(146) [145] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انھوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جو کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے۔ کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِيۡ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھائے‘‘ یعنی اس کو کھانے کے علاوہ اس سے دیگر فوائد حاصل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا حرام ہو۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو‘‘ مردار وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر گیا ہو۔ یہ مرا ہوا جانور حلال نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔‘‘ ﴿ اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا ﴾ ’’یا بہتا ہوا خون‘‘ یہ وہ خون ہے جو ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت اس میں سے خارج ہوتا ہے کیونکہ اس خون کا ذبیحہ کے بدن میں رہنا ضرر رساں ہے۔ جب یہ خون بدن سے نکل جاتا ہے تو گوشت کا ضرر زائل ہو جاتا ہے۔ لفظ کے مفہوم مخالف سے مستفاد ہوتا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں بچ جاتا ہے وہ حلال اور پاک ہے۔ ﴿ اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ ﴾ ’’یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے‘‘ یعنی مذکورہ تینوں اشیا گندی ہیں یعنی ناپاک اور مضر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم پر لطف و کرم کرتے ہوئے اور تمھیں خبائث کے قریب جانے سے بچانے کے لیے ان گندی اشیا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ ﴿ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ یا ذبیحہ کو اللہ کے سوابتوں اور ان معبودوں کے لیے ذبح کیا گیا ہو جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں ۔ یہ فسق ہے اور فسق سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر اس کی معصیت میں داخل ہو جانا۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس اگر کوئی مجبور ہوجائے۔‘‘ یعنی بایں ہمہ اگر کوئی ان حرام اشیا کو استعمال کرنے پر مجبور ہے حاجت اور ضرورت نے اسے ان اشیا کو کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں اور بھوک کے باعث اس کو اپنی جان کا خوف ہے ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ ﴾ ’’نافرمانی کرنے والا نہ ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی اضطراری حالت کے اس کو کھانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’اور نہ زیادتی کرنے والا ہو‘‘ (عاد) سے مراد ہے، ’’ضرورت سے زائد کھا کر حد سے تجاوز کرنے والا‘‘ ﴿ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو بلاشبہ تمھارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو شخص اس حالت کو پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔ اہل علم نے اس آیت کریمہ میں مذکورہ محرمات پر حصر کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ بھی محرمات موجود ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا ، مثلاً:(کچلیوں والے) درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے تمام پرندے، وغیرہ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان زائد چیزوں کی تحریم سے قبل نازل ہوئی ہے، اس لیے یہ حصر مذکور ان اشیا میں تحریم متاخر کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اس وقت اس زمرے میں نہیں آتی تھیں جس وقت مذکورہ حرمت کی وحی آپ کی طرف بھیجی گئی تھی۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ تمام محرمات کی تحریم پر مشتمل ہے، البتہ بعض کی تحریم کی تصریح کر دی گئی ہے اور بعض کی تحریم اس کے معنی اور حرمت کی عمومی حرمت سے اخذ کی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت کریمہ کے اواخر میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی تحریم کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ ﴾ ’’وہ ناپاک ہے‘‘ اور یہ ایسا وصف ہے جو تمام محرمات کو شامل ہے۔ کیونکہ تمام محرمات (رِجْس) یعنی گندگی اور ناپاک ہیں۔ اور یہ محرمات سب سے زیادہ ناپاک ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گندگی اور ناپاکی سے بچانے کے لیے ان کو حرام قرار دیا ہے۔ ناپاک اور محرمات کی تفاصیل سنت نبوی سے اخذ کی جاتی ہیں کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر کر کے اس کے مقاصد کو بیان کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کھانے والے کے لیے صرف اسی چیز کو حرام قرار دیا جس کا اس نے ذکر فرمایا۔ اور تحریم کا مصدر صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے رزق کو حرام قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور اس کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نہیں کہی۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خنزیر کی حرمت کا ذکر نہ کیا ہوتا تو اس کا قوی احتمال تھا کہ آیت کریمہ کا سیاق مشرکین کے مذکورہ بالا ان اقوال کی تردید میں ہے جس میں انھوں نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا اور اپنے نفس کی فریب دہی کے مطابق اس میں مشغول ہو گئے۔ اور یہ خاص طور پر چوپایوں کے بارے میں ہے۔ اور ان چوپایوں میں کچھ بھی حرام نہیں سوائے ان اشیا کے جن کا ذکر آیت کریمہ میں کر دیا گیا ہے۔ مردار اور غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز اور ان کے سوا دیگر تمام اشیا حلال ہیں ۔ اس احتمال کی بنا پر، خنزیر کا یہاں ذکر شاید اس مناسبت سے کیا گیا ہو کہ بعض جہال خنزیر کو (بَھِیْمَہُ اَلْاَنْعَام) میں داخل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خنزیر بھیڑ بکری کی نوع میں سے ہے۔ اس قسم کا توہم نصاریٰ میں سے جہلاء اور ان جیسے بعض دیگر لوگوں کو لاحق ہوا ہے۔ وہ خنزیر کو اسی طرح پالتے ہیں جیسے مویشیوں کو پالا جاتا ہے اور اس کو حلال سمجھتے ہیں ۔ اور وہ اس کے اور دیگر مویشیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ [146] پس یہ تمام محرمات جو اس امت پر حرام قرار دی گئی ہیں یہ حفاظت اور تنزیہہ کی خاطر ہے۔اور وہ چیزیں جو اہل کتاب پر حرام قرار دی گئیں ان میں سے بعض پاک اور طیب تھیں مگر سزا کے طور پر ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیا گیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ ﴾ ’’اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا تھا‘‘مثلاً: اونٹ اور اس قسم کے دیگر جانور ﴿ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور گائے اور بکری میں سے حرام کیے تھے‘‘ ان کے بعض اجزاء ﴿ شُحُوۡمَهُمَاۤ ﴾ اور وہ تھی ان کی چربی۔ اور ہر قسم کی چربی ان پرحرام نہ تھی بلکہ صرف دنبے کی چکتی اور اوجھڑی اور آنتوں کی باریک چربی حرام تھی، اس لیے اس میں سے حلال چربی کو مستثنی قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ﴾ ’’مگر وہ چربی جو پشت پر اور انتڑیوں کے ساتھ لگی ہوتی ہے‘‘ ﴿ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ ﴾ ’’یا وہ چربی جو ہڈی کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یہودیوں پر نافذ کی گئی یہ تحریم ﴿ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ ﴾ ’’ایک سزا تھی جو ہم نے ان کو دی تھی ان کی شرارت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں ان کے ظلم و تعدی کی جزا تھی، پس اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے لیے یہ چیزیں حرام کر دی تھیں ﴿وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم سچ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں جو کرتے ہیں اور جو فیصلہ کرتے ہیں ، سب صدق پر مبنی ہوتا ہے اور اہل ایقان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا اور سب سے اچھے فیصلے کرنے والا کون ہے؟

الأنعام 6:147

اور اگر جھٹلائیں وہ آپ کو تو کہہ دیجیے تمھارا رب وسیع رحمت والا ہےاور نہیں پھیراجاتا اس کا عذاب مجرم قوم سے(147) [147] یعنی اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے ان کو دعوت دیتے رہیے اور ان کو آگاہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ﴿ ذُوۡ رَحۡمَةٍ وَّاسِعَةٍ ﴾ ’’بے پایاں رحمت کا مالک ہے‘‘ جو تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ لہذا اس کی رحمت کی طرف اس کے اسباب کے ذریعے سے سبقت کرو۔ جس کی اساس اور بنیاد محمد مصطفیﷺ اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق ہے۔ ﴿ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُهٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اس کا عذاب گناہ گاروں سے نہیں ٹالا جاتا‘‘ یعنی جن کے جرائم اور گناہ بہت بڑھ گئے ہوں ، اس لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والے جرائم سے بچو، ان میں سب سے بڑا جرم محمد مصطفی صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی تکذیب ہے۔

الأنعام 6:148

عنقریب کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے ہم او ر نہ باپ دادا ہمارےاور نہ حرام کرتے ہم کوئی چیز، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ چکھا انھوں نے ہمارا عذاب، کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے پاس کچھ علم؟ تو نکالو تم اس کو ہمارے لیے نہیں پیروی کرتے تم مگر گمان کی اور نہیں ہو تم مگر اٹکل پچو کرتے (148) کہہ دیجیے! پس اللہ ہی کے لیے ہے دلیل محکم پھر اگر وہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم سب کو(149) [148] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ مشرکین اپنے شرک اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دلیل پکڑتے ہیں اور اپنے آپ سے مذمت کو دور کرنے کے لیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جو خیر و شر ہر چیز کو شامل ہے، دلیل بناتے ہیں ، چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کہا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَيۡءٍ﴾(النحل: 16؍35) ’’وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔‘‘پس یہ وہ دلیل ہے جو انبیا و رسل کو جھٹلانے والی قومیں انبیاء کی دعوت کو رد کرنے کے لیے پیش کرتی رہی ہیں مگر یہ ان کے کسی کام آئی نہ اس نے انھیں کوئی فائدہ ہی دیا اور یہی ان کی عادت رہی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر کے عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو ان سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا نہ کرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف اسی پر نازل ہوتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ان کی فاسد دلیل اور انتہائی گھٹیا شبہ ہے اور اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ان کی دلیل صحیح ہوتی تو ان پر عذاب نازل نہ ہوتا۔ (۲) دلیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد علم اور برہان ہو۔ اگر دلیل محض گمان اور اندازے پر مبنی ہو، جو حق کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی تو یہ باطل ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ هَلۡ عِنۡدَؔكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَنَا﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تمھارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو‘‘ پس اگر ان کے پاس علم ہوتا حالانکہ وہ سخت جھگڑالو لوگ ہیں تو وہ اسے ضرور پیش کرتے اگر انھوں نے کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی تو معلوم ہوا کہ وہ علم سے بے بہرہ ہیں ۔ ﴿اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ﴾ ’’تم تو نرے گمان پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو‘‘ اور جو کوئی اپنے دلائل کی بنیاد گمان اور اندازوں پر رکھتا ہے وہ باطل پرست اور خسارے میں پڑنے والا ہے اور جب اس کی بنیاد سرکشی، دشمنی اور شروفساد پر ہو تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟ [149](۳) حجت بالغہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو کسی کے لیے کوئی عذر نہیں رہنے دیتی، جس پر تمام انبیا و مرسلین، تمام کتب الہیہ، تمام آثار نبویہ، عقل صحیح، فطرت سلیم اور اخلاق مستقیم متفق ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ جو کوئی اس آیت قاطعہ کی مخالفت کرتا ہے وہ باطل ہے کیونکہ حق کی مخالفت کرنے والا باطل کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ (۴) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر انسان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ ان تمام افعال کے ارتکاب پر قادر ہے جن کا اسے مکلف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی ایسی چیز واجب نہیں کی جس کے فعل پر وہ قدرت نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی چیز کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے جس کو ترک کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ پس اس کے بعد قضاء و قدر کو دلیل بنانا محض ظلم اور مجرد عناد ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے افعال میں جبر نہیں کیا بلکہ ان کے افعال کو ان کے اختیار کے تابع بنایا ہے۔ پس اگر وہ چاہیں تو کسی فعل کا ارتکاب کریں اور اگر چاہیں تو اس فعل کے ارتکاب سے باز رہ سکتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا انکار صرف وہی کر سکتا ہے جو حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے اور محسوسات کا انکار کرتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص حرکت اختیاری اور حرکت جبری میں امتیاز کر سکتا ہے اگرچہ تمام حرکات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے تحت آتی ہیں ۔ (۶) اپنے گناہوں پر قضاء و قدر کو دلیل بنانے والے تناقض (تضاد) کا شکار ہیں ۔ کیونکہ ان کے لیے اس کو درست ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ بلکہ اگر کوئی مارپیٹ یا مال وغیرہ چھین کر ان کے ساتھ برا سلوک کر کے تقدیر کا بہانہ پیش کرتا ہے تو وہ اس شخص کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اس شخص پر سخت ناراض ہوں گے۔ نہایت عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی ناراضی کے کاموں پر تو قضا و قدر کا عذر پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کے ساتھ برا سلوک کر کے ان کو یہی دلیل پیش کرتا ہے تو اسے قبول نہیں کرتے۔ (۷) قضا و قدر سے استدلال کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قضا و قدر کا عذر دلیل نہیں ۔ ان کا مقصد تو صرف حق کو ٹھکرانا اور اس کو روکنا ہے کیونکہ وہ حق کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کوئی حملہ آور ہو، چنانچہ وہ ہر صحیح یا غلط خیال کے ذریعے سے، جو ان کے دل میں آتا ہے، حق کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

الأنعام 6:149

عنقریب کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے ہم او ر نہ باپ دادا ہمارےاور نہ حرام کرتے ہم کوئی چیز، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ چکھا انھوں نے ہمارا عذاب، کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے پاس کچھ علم؟ تو نکالو تم اس کو ہمارے لیے نہیں پیروی کرتے تم مگر گمان کی اور نہیں ہو تم مگر اٹکل پچو کرتے (148) کہہ دیجیے! پس اللہ ہی کے لیے ہے دلیل محکم پھر اگر وہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم سب کو(149) [148] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ مشرکین اپنے شرک اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دلیل پکڑتے ہیں اور اپنے آپ سے مذمت کو دور کرنے کے لیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جو خیر و شر ہر چیز کو شامل ہے، دلیل بناتے ہیں ، چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کہا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَيۡءٍ﴾(النحل: 16؍35) ’’وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔‘‘پس یہ وہ دلیل ہے جو انبیا و رسل کو جھٹلانے والی قومیں انبیاء کی دعوت کو رد کرنے کے لیے پیش کرتی رہی ہیں مگر یہ ان کے کسی کام آئی نہ اس نے انھیں کوئی فائدہ ہی دیا اور یہی ان کی عادت رہی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر کے عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو ان سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا نہ کرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف اسی پر نازل ہوتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ان کی فاسد دلیل اور انتہائی گھٹیا شبہ ہے اور اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ان کی دلیل صحیح ہوتی تو ان پر عذاب نازل نہ ہوتا۔ (۲) دلیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد علم اور برہان ہو۔ اگر دلیل محض گمان اور اندازے پر مبنی ہو، جو حق کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی تو یہ باطل ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ هَلۡ عِنۡدَؔكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَنَا﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تمھارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو‘‘ پس اگر ان کے پاس علم ہوتا حالانکہ وہ سخت جھگڑالو لوگ ہیں تو وہ اسے ضرور پیش کرتے اگر انھوں نے کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی تو معلوم ہوا کہ وہ علم سے بے بہرہ ہیں ۔ ﴿اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ﴾ ’’تم تو نرے گمان پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو‘‘ اور جو کوئی اپنے دلائل کی بنیاد گمان اور اندازوں پر رکھتا ہے وہ باطل پرست اور خسارے میں پڑنے والا ہے اور جب اس کی بنیاد سرکشی، دشمنی اور شروفساد پر ہو تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟ [149](۳) حجت بالغہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو کسی کے لیے کوئی عذر نہیں رہنے دیتی، جس پر تمام انبیا و مرسلین، تمام کتب الہیہ، تمام آثار نبویہ، عقل صحیح، فطرت سلیم اور اخلاق مستقیم متفق ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ جو کوئی اس آیت قاطعہ کی مخالفت کرتا ہے وہ باطل ہے کیونکہ حق کی مخالفت کرنے والا باطل کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ (۴) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر انسان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ ان تمام افعال کے ارتکاب پر قادر ہے جن کا اسے مکلف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی ایسی چیز واجب نہیں کی جس کے فعل پر وہ قدرت نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی چیز کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے جس کو ترک کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ پس اس کے بعد قضاء و قدر کو دلیل بنانا محض ظلم اور مجرد عناد ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے افعال میں جبر نہیں کیا بلکہ ان کے افعال کو ان کے اختیار کے تابع بنایا ہے۔ پس اگر وہ چاہیں تو کسی فعل کا ارتکاب کریں اور اگر چاہیں تو اس فعل کے ارتکاب سے باز رہ سکتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا انکار صرف وہی کر سکتا ہے جو حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے اور محسوسات کا انکار کرتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص حرکت اختیاری اور حرکت جبری میں امتیاز کر سکتا ہے اگرچہ تمام حرکات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے تحت آتی ہیں ۔ (۶) اپنے گناہوں پر قضاء و قدر کو دلیل بنانے والے تناقض (تضاد) کا شکار ہیں ۔ کیونکہ ان کے لیے اس کو درست ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ بلکہ اگر کوئی مارپیٹ یا مال وغیرہ چھین کر ان کے ساتھ برا سلوک کر کے تقدیر کا بہانہ پیش کرتا ہے تو وہ اس شخص کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اس شخص پر سخت ناراض ہوں گے۔ نہایت عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی ناراضی کے کاموں پر تو قضا و قدر کا عذر پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کے ساتھ برا سلوک کر کے ان کو یہی دلیل پیش کرتا ہے تو اسے قبول نہیں کرتے۔ (۷) قضا و قدر سے استدلال کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قضا و قدر کا عذر دلیل نہیں ۔ ان کا مقصد تو صرف حق کو ٹھکرانا اور اس کو روکنا ہے کیونکہ وہ حق کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کوئی حملہ آور ہو، چنانچہ وہ ہر صحیح یا غلط خیال کے ذریعے سے، جو ان کے دل میں آتا ہے، حق کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

الأنعام 6:150

کہہ دیجیے! لے آؤ تم اپنے گواہ، وہ جو گواہی دیں اس بات کی کہ بلاشبہ اللہ نے حرام کیا ہے ان کو پھر وہ گواہی دیں تونہ گواہی دیں آپ ان کے ساتھ او ر نہ پیچھے چلیں آپ ان کی خواہشات کے جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کواور (نہ) ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں(150) [150] یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا، کہ وہ اپنے ان گواہوں کو لے آئیں جو یہ گواہی دیں کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جب ان سے یہ بات کہی جائے گی تو مندرجہ ذیل دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو گی :(۱) یا تو وہ اس پر کسی کو گواہ کے طورپر پیش ہی نہیں کر سکیں گے، تب اس صورت میں ان کا دعویٰ باطل اور دلیل اور گواہوں سے محروم ہو گا۔ (۲) یا وہ کسی ایسے گواہ کو پیش کر دیں گے جو ان کے لیے گواہی دے مگر کسی جھوٹے اور بہتان طراز کے سوا کوئی شخص اس پر گواہی نہیں دے سکتا اور ایسے جھوٹے اور بہتان طراز شخص کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ معاملہ ایسے امور میں شمار نہیں ہوتا جس پر کسی عادل گواہ کا گواہی دینا جائز ہو، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور آپ کے متبعین کو اس گواہی سے روکتے ہوئے فرمایا:﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡ١ۚ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ وَهُمۡ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر وہ گواہی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں ‘‘ یعنی وہ بتوں اور اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ چونکہ وہ یوم آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں اس لیے ان کی خواہشات ان کے اس عقیدے کے مطابق ہیں جو شرک اور تکذیب پر مبنی ہے۔ جن کا یہ معاملہ ہو تو مناسب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو ان کی اتباع کرنے اور ان کے ساتھ گواہی دینے سے روک دے۔ تب معلوم ہوا کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیداوار ہے۔

الأنعام 6:151

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153) [151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔‘‘ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کے متعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کافر جان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر حق کے ساتھ‘‘مثلاً: شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ‘‘ مذکورہ بالاتمام امور ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔ [152]﴿ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ ﴾ ’’اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے‘‘ یعنی مال کھانے کے لیے یا اپنے لیے معاوضہ بنانے یا بغیر کسی سبب کے مال لینے کے لیے۔ ﴿ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔‘‘ یعنی البتہ ایسے طریقے سے ان کے مال کے قریب جاؤ جس سے ان کے مال کی اصلاح ہو اور وہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے یتیموں کے مال کے قریب جانا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں جس سے یتیموں کو نقصان پہنچتا ہو۔ اور اس طریقے سے بھی ان کے مال کے قریب جانا جائز نہیں جس میں کوئی نقصان تو نہ ہو البتہ اس میں کوئی مصلحت بھی نہ ہو۔ ﴿ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ﴾ ’’حتیٰ کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ یتیم بالغ اور سمجھ دار ہو جائے اور اسے مال میں تصرف کرنے کی معرفت حاصل ہو جائے اور جب وہ سمجھ دار اور بالغ ہو جائے تو اس وقت مال اس کے حوالے کیا جائے اور وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق اس مال میں تصرف کرے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یتیم بالغ ہونے سے قبل اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کے سرپرست کو مال میں احسن طریقے سے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مال کے تصرف پر یہ پابندی یتیم کے بالغ ہونے پر ختم ہو جائے گی۔ ﴿ وَاَوۡفُوا الۡكَـيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’نہایت عدل و انصاف سے ناپ تول کو پورا کرو‘‘ یعنی جب تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں جدوجہد کرو گے تو ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾ ’’ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ یعنی ہم اس کی مقدرت کے مطابق اسے مکلف بناتے ہیں اور ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اس کے بس سے باہر ہو، پس جو کوئی ناپ تول کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں برتتا تو لاعلمی میں کوئی تقصیر باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے اصول یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ پس اسے جو حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ممکن حد تک اس کی تعمیل کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿وَاِذَا قُلۡتُمۡ﴾ ’’جب کوئی بات کہو۔‘‘ یعنی جب تم کوئی بات کہو جو لوگوں کے درمیان کسی فیصلے، کسی خطاب کی تفصیل پر مبنی ہو یا تم احوال و مقالات پر کلام کر رہے ہو ﴿ فَاعۡدِلُوۡ﴾ ’’تو انصاف سے کہو۔‘‘ یعنی صدق، انصاف اور عدم کتمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے درمیان جن کو تم پسند کرتے ہو یا ناپسند کرتے ہو، عدل سے بات کرو کیونکہ جسے آپ ناپسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یا اس کے مقالات کے بارے میں اس کے خلاف حد سے بڑھ کر بات کرنا ظلم ہے جو کہ حرام ہے۔ بلکہ اگر صاحب علم اہل بدعت کے مقالات و نظریات پر کلام کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرے اور ان مقالات میں جو کچھ حق اور باطل موجود ہے اس کو پوری طرح بیان کرے کہ ان مقالات میں کون سی چیز حق کے قریب اور کون سی چیز حق سے دور ہے۔ فقہاء نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ قاضی پر فرض ہے کہ وہ فریقین کے درمیان اپنے لہجے اور اپنی نظر میں بھی انصاف کرے۔ ﴿ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا﴾ ’’اور اللہ کا عہد پورا کرو‘‘ یہ آیت کریمہ اس عہد کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنے حقوق پورے کروانے کے بارے میں لیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو مخلوق کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ پس ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا فرض اور ان کو توڑنا یا ان میں خلل اندازی کرنا حرام ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ مذکورہ تمام احکام میں ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم کو حکم کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی وہ تمام احکام جو اس نے تمھارے لیے بیان کیے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کی اس وصیت کو پوری طرح قائم کرو جو اس نے تمھیں کی ہے اور تم ان تمام حکمتوں اور احکام کی معرفت حاصل کر لو جو ان کے اندر ہیں ۔ [153] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بڑے بڑے احکام اور اہم شرائع کو واضح کر دیا تو اب ان کی طرف سے زیادہ عمومیت کی حامل بات کی طرف اشارہ فرمایا: ﴿وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے۔‘‘ یعنی یہ اور اس قسم کے دیگر احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے جو معتدل، آسان اور نہایت مختصر ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کی منزل تک پہنچاتا ہے ﴿فَاتَّبِعُوۡهُ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ تاکہ تم فوز و فلاح، تمناؤں اور فرحتوں کو حاصل کر سکو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾ ’’اور راستوں پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی ان راستوں پر نہ چلو جو اللہ تعالیٰ کے راستے کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’پس وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے جدا کردیں گے۔‘‘ یعنی یہ راستے تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے اور تمھیں دائیں بائیں دوسرے راستوں پر ڈال دیں گے اور جب تم صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے تو تمھارے سامنے صرف وہ راستے رہ جائیں گے جو جہنم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ﴿ذٰلِكُمۡ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’یہ حکم کر دیا ہے تم کو تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ کیونکہ جب تم علم و عمل کے اعتبار سے ان احکام کی تعمیل کرو گے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے متقی اور فلاح یاب بندے بن جاؤ گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراط مستقیم کو واحد ذکر کر کے اپنی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ صرف یہی ایک راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس راستے پر گامزن لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

الأنعام 6:152

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153) [151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔‘‘ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کے متعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کافر جان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر حق کے ساتھ‘‘مثلاً: شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ‘‘ مذکورہ بالاتمام امور ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔ [152]﴿ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ ﴾ ’’اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے‘‘ یعنی مال کھانے کے لیے یا اپنے لیے معاوضہ بنانے یا بغیر کسی سبب کے مال لینے کے لیے۔ ﴿ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔‘‘ یعنی البتہ ایسے طریقے سے ان کے مال کے قریب جاؤ جس سے ان کے مال کی اصلاح ہو اور وہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے یتیموں کے مال کے قریب جانا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں جس سے یتیموں کو نقصان پہنچتا ہو۔ اور اس طریقے سے بھی ان کے مال کے قریب جانا جائز نہیں جس میں کوئی نقصان تو نہ ہو البتہ اس میں کوئی مصلحت بھی نہ ہو۔ ﴿ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ﴾ ’’حتیٰ کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ یتیم بالغ اور سمجھ دار ہو جائے اور اسے مال میں تصرف کرنے کی معرفت حاصل ہو جائے اور جب وہ سمجھ دار اور بالغ ہو جائے تو اس وقت مال اس کے حوالے کیا جائے اور وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق اس مال میں تصرف کرے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یتیم بالغ ہونے سے قبل اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کے سرپرست کو مال میں احسن طریقے سے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مال کے تصرف پر یہ پابندی یتیم کے بالغ ہونے پر ختم ہو جائے گی۔ ﴿ وَاَوۡفُوا الۡكَـيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’نہایت عدل و انصاف سے ناپ تول کو پورا کرو‘‘ یعنی جب تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں جدوجہد کرو گے تو ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾ ’’ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ یعنی ہم اس کی مقدرت کے مطابق اسے مکلف بناتے ہیں اور ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اس کے بس سے باہر ہو، پس جو کوئی ناپ تول کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں برتتا تو لاعلمی میں کوئی تقصیر باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے اصول یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ پس اسے جو حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ممکن حد تک اس کی تعمیل کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿وَاِذَا قُلۡتُمۡ﴾ ’’جب کوئی بات کہو۔‘‘ یعنی جب تم کوئی بات کہو جو لوگوں کے درمیان کسی فیصلے، کسی خطاب کی تفصیل پر مبنی ہو یا تم احوال و مقالات پر کلام کر رہے ہو ﴿ فَاعۡدِلُوۡ﴾ ’’تو انصاف سے کہو۔‘‘ یعنی صدق، انصاف اور عدم کتمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے درمیان جن کو تم پسند کرتے ہو یا ناپسند کرتے ہو، عدل سے بات کرو کیونکہ جسے آپ ناپسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یا اس کے مقالات کے بارے میں اس کے خلاف حد سے بڑھ کر بات کرنا ظلم ہے جو کہ حرام ہے۔ بلکہ اگر صاحب علم اہل بدعت کے مقالات و نظریات پر کلام کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرے اور ان مقالات میں جو کچھ حق اور باطل موجود ہے اس کو پوری طرح بیان کرے کہ ان مقالات میں کون سی چیز حق کے قریب اور کون سی چیز حق سے دور ہے۔ فقہاء نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ قاضی پر فرض ہے کہ وہ فریقین کے درمیان اپنے لہجے اور اپنی نظر میں بھی انصاف کرے۔ ﴿ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا﴾ ’’اور اللہ کا عہد پورا کرو‘‘ یہ آیت کریمہ اس عہد کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنے حقوق پورے کروانے کے بارے میں لیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو مخلوق کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ پس ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا فرض اور ان کو توڑنا یا ان میں خلل اندازی کرنا حرام ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ مذکورہ تمام احکام میں ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم کو حکم کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی وہ تمام احکام جو اس نے تمھارے لیے بیان کیے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کی اس وصیت کو پوری طرح قائم کرو جو اس نے تمھیں کی ہے اور تم ان تمام حکمتوں اور احکام کی معرفت حاصل کر لو جو ان کے اندر ہیں ۔ [153] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بڑے بڑے احکام اور اہم شرائع کو واضح کر دیا تو اب ان کی طرف سے زیادہ عمومیت کی حامل بات کی طرف اشارہ فرمایا: ﴿وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے۔‘‘ یعنی یہ اور اس قسم کے دیگر احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے جو معتدل، آسان اور نہایت مختصر ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کی منزل تک پہنچاتا ہے ﴿فَاتَّبِعُوۡهُ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ تاکہ تم فوز و فلاح، تمناؤں اور فرحتوں کو حاصل کر سکو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾ ’’اور راستوں پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی ان راستوں پر نہ چلو جو اللہ تعالیٰ کے راستے کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’پس وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے جدا کردیں گے۔‘‘ یعنی یہ راستے تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے اور تمھیں دائیں بائیں دوسرے راستوں پر ڈال دیں گے اور جب تم صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے تو تمھارے سامنے صرف وہ راستے رہ جائیں گے جو جہنم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ﴿ذٰلِكُمۡ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’یہ حکم کر دیا ہے تم کو تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ کیونکہ جب تم علم و عمل کے اعتبار سے ان احکام کی تعمیل کرو گے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے متقی اور فلاح یاب بندے بن جاؤ گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراط مستقیم کو واحد ذکر کر کے اپنی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ صرف یہی ایک راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس راستے پر گامزن لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

الأنعام 6:153

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153) [151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔‘‘ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کے متعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کافر جان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر حق کے ساتھ‘‘مثلاً: شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ‘‘ مذکورہ بالاتمام امور ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔ [152]﴿ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ ﴾ ’’اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے‘‘ یعنی مال کھانے کے لیے یا اپنے لیے معاوضہ بنانے یا بغیر کسی سبب کے مال لینے کے لیے۔ ﴿ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔‘‘ یعنی البتہ ایسے طریقے سے ان کے مال کے قریب جاؤ جس سے ان کے مال کی اصلاح ہو اور وہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے یتیموں کے مال کے قریب جانا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں جس سے یتیموں کو نقصان پہنچتا ہو۔ اور اس طریقے سے بھی ان کے مال کے قریب جانا جائز نہیں جس میں کوئی نقصان تو نہ ہو البتہ اس میں کوئی مصلحت بھی نہ ہو۔ ﴿ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ﴾ ’’حتیٰ کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ یتیم بالغ اور سمجھ دار ہو جائے اور اسے مال میں تصرف کرنے کی معرفت حاصل ہو جائے اور جب وہ سمجھ دار اور بالغ ہو جائے تو اس وقت مال اس کے حوالے کیا جائے اور وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق اس مال میں تصرف کرے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یتیم بالغ ہونے سے قبل اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کے سرپرست کو مال میں احسن طریقے سے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مال کے تصرف پر یہ پابندی یتیم کے بالغ ہونے پر ختم ہو جائے گی۔ ﴿ وَاَوۡفُوا الۡكَـيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’نہایت عدل و انصاف سے ناپ تول کو پورا کرو‘‘ یعنی جب تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں جدوجہد کرو گے تو ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾ ’’ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ یعنی ہم اس کی مقدرت کے مطابق اسے مکلف بناتے ہیں اور ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اس کے بس سے باہر ہو، پس جو کوئی ناپ تول کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں برتتا تو لاعلمی میں کوئی تقصیر باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے اصول یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ پس اسے جو حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ممکن حد تک اس کی تعمیل کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿وَاِذَا قُلۡتُمۡ﴾ ’’جب کوئی بات کہو۔‘‘ یعنی جب تم کوئی بات کہو جو لوگوں کے درمیان کسی فیصلے، کسی خطاب کی تفصیل پر مبنی ہو یا تم احوال و مقالات پر کلام کر رہے ہو ﴿ فَاعۡدِلُوۡ﴾ ’’تو انصاف سے کہو۔‘‘ یعنی صدق، انصاف اور عدم کتمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے درمیان جن کو تم پسند کرتے ہو یا ناپسند کرتے ہو، عدل سے بات کرو کیونکہ جسے آپ ناپسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یا اس کے مقالات کے بارے میں اس کے خلاف حد سے بڑھ کر بات کرنا ظلم ہے جو کہ حرام ہے۔ بلکہ اگر صاحب علم اہل بدعت کے مقالات و نظریات پر کلام کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرے اور ان مقالات میں جو کچھ حق اور باطل موجود ہے اس کو پوری طرح بیان کرے کہ ان مقالات میں کون سی چیز حق کے قریب اور کون سی چیز حق سے دور ہے۔ فقہاء نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ قاضی پر فرض ہے کہ وہ فریقین کے درمیان اپنے لہجے اور اپنی نظر میں بھی انصاف کرے۔ ﴿ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا﴾ ’’اور اللہ کا عہد پورا کرو‘‘ یہ آیت کریمہ اس عہد کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنے حقوق پورے کروانے کے بارے میں لیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو مخلوق کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ پس ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا فرض اور ان کو توڑنا یا ان میں خلل اندازی کرنا حرام ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ مذکورہ تمام احکام میں ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم کو حکم کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی وہ تمام احکام جو اس نے تمھارے لیے بیان کیے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کی اس وصیت کو پوری طرح قائم کرو جو اس نے تمھیں کی ہے اور تم ان تمام حکمتوں اور احکام کی معرفت حاصل کر لو جو ان کے اندر ہیں ۔ [153] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بڑے بڑے احکام اور اہم شرائع کو واضح کر دیا تو اب ان کی طرف سے زیادہ عمومیت کی حامل بات کی طرف اشارہ فرمایا: ﴿وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے۔‘‘ یعنی یہ اور اس قسم کے دیگر احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے جو معتدل، آسان اور نہایت مختصر ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کی منزل تک پہنچاتا ہے ﴿فَاتَّبِعُوۡهُ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ تاکہ تم فوز و فلاح، تمناؤں اور فرحتوں کو حاصل کر سکو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾ ’’اور راستوں پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی ان راستوں پر نہ چلو جو اللہ تعالیٰ کے راستے کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’پس وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے جدا کردیں گے۔‘‘ یعنی یہ راستے تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے اور تمھیں دائیں بائیں دوسرے راستوں پر ڈال دیں گے اور جب تم صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے تو تمھارے سامنے صرف وہ راستے رہ جائیں گے جو جہنم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ﴿ذٰلِكُمۡ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’یہ حکم کر دیا ہے تم کو تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ کیونکہ جب تم علم و عمل کے اعتبار سے ان احکام کی تعمیل کرو گے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے متقی اور فلاح یاب بندے بن جاؤ گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراط مستقیم کو واحد ذکر کر کے اپنی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ صرف یہی ایک راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس راستے پر گامزن لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

الأنعام 6:154

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157) [154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔ [155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔ [156]﴿اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا﴾ ’’اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے‘‘ یعنی قطع حجت کے لیے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کر دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ پر ﴿ وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ﴾ ’’اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی‘‘یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی۔ یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت، اس لیے ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔ [157]﴿اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّـاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمۡ ﴾ ’’یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے‘‘ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمھارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمھارا عذر یہ ہو گا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمھیں اپنی کتاب، اصل اور کامل ہدایت حاصل ہو گئی۔ بنا بریں فرمایا:﴿فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’پس تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔‘‘ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت‘‘ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی دین و دنیا میں تمھارے لیے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ۔ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا ﴾ ’’اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے‘‘ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿ سَنَجۡزِي الَّذِيۡنَ يَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰيٰتِنَا سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں ، برے عذاب کی‘‘ یعنی وہ ایسا عذاب ہو گا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’اس کترانے کے بدلے میں ‘‘ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بد کا بدلہ ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدہ: 41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں ۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔

الأنعام 6:155

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157) [154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔ [155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔ [156]﴿اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا﴾ ’’اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے‘‘ یعنی قطع حجت کے لیے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کر دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ پر ﴿ وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ﴾ ’’اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی‘‘یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی۔ یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت، اس لیے ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔ [157]﴿اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّـاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمۡ ﴾ ’’یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے‘‘ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمھارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمھارا عذر یہ ہو گا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمھیں اپنی کتاب، اصل اور کامل ہدایت حاصل ہو گئی۔ بنا بریں فرمایا:﴿فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’پس تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔‘‘ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت‘‘ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی دین و دنیا میں تمھارے لیے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ۔ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا ﴾ ’’اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے‘‘ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿ سَنَجۡزِي الَّذِيۡنَ يَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰيٰتِنَا سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں ، برے عذاب کی‘‘ یعنی وہ ایسا عذاب ہو گا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’اس کترانے کے بدلے میں ‘‘ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بد کا بدلہ ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدہ: 41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں ۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔

الأنعام 6:156

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157) [154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔ [155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔ [156]﴿اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا﴾ ’’اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے‘‘ یعنی قطع حجت کے لیے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کر دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ پر ﴿ وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ﴾ ’’اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی‘‘یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی۔ یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت، اس لیے ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔ [157]﴿اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّـاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمۡ ﴾ ’’یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے‘‘ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمھارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمھارا عذر یہ ہو گا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمھیں اپنی کتاب، اصل اور کامل ہدایت حاصل ہو گئی۔ بنا بریں فرمایا:﴿فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’پس تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔‘‘ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت‘‘ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی دین و دنیا میں تمھارے لیے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ۔ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا ﴾ ’’اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے‘‘ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿ سَنَجۡزِي الَّذِيۡنَ يَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰيٰتِنَا سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں ، برے عذاب کی‘‘ یعنی وہ ایسا عذاب ہو گا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’اس کترانے کے بدلے میں ‘‘ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بد کا بدلہ ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدہ: 41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں ۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔

الأنعام 6:157

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157) [154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔ [155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔ [156]﴿اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا﴾ ’’اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے‘‘ یعنی قطع حجت کے لیے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کر دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ پر ﴿ وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ﴾ ’’اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی‘‘یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی۔ یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت، اس لیے ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔ [157]﴿اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّـاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمۡ ﴾ ’’یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے‘‘ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمھارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمھارا عذر یہ ہو گا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمھیں اپنی کتاب، اصل اور کامل ہدایت حاصل ہو گئی۔ بنا بریں فرمایا:﴿فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’پس تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔‘‘ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت‘‘ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی دین و دنیا میں تمھارے لیے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ۔ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا ﴾ ’’اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے‘‘ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿ سَنَجۡزِي الَّذِيۡنَ يَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰيٰتِنَا سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں ، برے عذاب کی‘‘ یعنی وہ ایسا عذاب ہو گا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’اس کترانے کے بدلے میں ‘‘ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بد کا بدلہ ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدہ: 41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں ۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔

الأنعام 6:158

نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس بات کا کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا آئے آپ کا رب،یاآئیں بعض نشانیاں آپ کے رب کی جس دن آجائیں گی بعض نشانیاں آپ کے رب کی تو نہ نفع دے گا کسی نفس کو ایمان(لانا) اس کا،کہ جو نہیں تھا لایا اس سے پہلے یا (نہیں) کمائی اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی،کہہ دیجیے!انتظار کرو تم!یقینا ہم بھی منتظر ہیں(158) [158] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو اپنے ظلم و عناد پر جمے ہوئے ہیں ، اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ۔‘‘ یعنی آخرت اور عذاب کے مقدمات کی صورت میں ان کے سامنے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آ حاضر ہوں ۔ کیونکہ جب وہ اس حالت کو پہنچ جائیں گے تو اس وقت ایمان اور اعمال صالحہ ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے۔ ﴿اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ ﴾ ’’یا خود تمھارا رب آئے۔‘‘ یعنی تمھارا رب بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے، نیکوکاروں اور بدکاروں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لیے آجائے ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ﴾ ’’یا تمھارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں ‘‘ جو قرب قیامت پر دلالت کرتی ہوں ﴿ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ﴾ ’’جس دن تمھارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں گی‘‘ یعنی خارق عادت معجزات جن سے یہ معلوم ہو کہ قیامت کی گھڑی قریب آن لگی ہے اور بہت قریب پہنچ گئی ہے ﴿ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا لَمۡ تَكُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ كَسَبَتۡ فِيۡۤ اِيۡمَانِهَا خَيۡرًا ﴾ ’’تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کیے ہوں گے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیاں آموجود ہوں گی تو اس کے بعد کافر کا ایمان اسے کوئی فائدہ دے گا نہ کوتاہی کے شکار مومن کے اعمال میں اضافہ اس کے کسی کام آئے گا بلکہ صرف وہی ایمان کی پونجی اس کے کام آئے گی جو تھوڑی بہت اس کے دامن میں ہوگی اورصرف وہی نیک اعمال اس کو فائدہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں آجانے سے قبل اس نے کیے ہوں گے۔ اس میں ظاہری حکمت یہ ہے کہ ایمان صرف وہی فائدہ دیتا ہے جو بالغیب ہو اور بندہ اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان لایا ہو۔ لیکن جب اللہ کی نشانیاں آجائیں اور معاملہ غیب سے شہادت میں منتقل ہو جائے تو ایمان لانے میں کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ کیونکہ یہ جبری ایمان کے مشابہ ہے ، مثلاً: ڈوبتے ہوئے یا جلتے ہوئے شخص وغیرہ کا ایمان لانا، یعنی وہ شخص جب موت کا چہرہ دیکھ لیتا ہے تو اپنی بداعمالیوں کو ختم کر دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ ﴾(المومن: 40؍84،85) ’’پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جن کو ہم اللہ کا شریک بنایا کرتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘ بہت سی صحیح احادیث میں رسول اللہﷺ سے مروی ہے کہ یہاں ’’اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیوں ‘‘ سے مراد ہے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، لوگ جب سورج کو مغرب سے طلوع ہوتا دیکھیں گے تو جھٹ ایمان لے آئیں گے مگر ان کا ایمان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا اور اس وقت توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، حدیث: 6506) چونکہ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺ کے جھٹلانے والوں کے لیے وعید ہے۔ آپﷺ ان نشانیوں کے ظہور کے منتظر ہیں اور کفار بھی منتظر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ انۡتَظِرُوۡۤا اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں ‘‘ پس عنقریب تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون امن کا مستحق ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات ہے ، مثلاً: استواء علی العرش، آسمان دنیا پر نازل ہونا اور اس کا آنا، مخلوق کی صفات کے ساتھ کسی تشبیہ کے بغیر۔ اور اس اعتبار سے یہ اہل سنت والجماعت کے مذہب کی دلیل ہے اور اس موضوع پر کتاب و سنت میں بہت سا مواد موجود ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کی جملہ نشانیوں میں سے ایک نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حکمت والا ہے کائنات میں اس کی یہ سنت و عادت جاری و ساری ہے کہ ایمان صرف اسی وقت فائدہ دیتا ہے جبکہ وہ اختیاری ہو اضطراری نہ ہو۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ نیز یہ کہ انسان کا اکتساب خیر ایمان ہی کے ساتھ فائدہ مند ہے نیکی، تقویٰ وغیرہ اسی وقت فائدہ دیتے ہیں اور نشوونما پاتے ہیں جب بندے کے دامن میں سرمایہ ایمان بھی ہو۔ جب قلب ایمان سے خالی ہو تو بندے کو کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی۔

الأنعام 6:159

بے شک وہ لوگ جنھوں نے تفرقہ بازی کی اپنے دین میں اور ہو گئے وہ گروہ گروہ،نہیں ہیں آپ ان سے کسی چیزمیں،یقینا ان کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس چیز کی جو تھے وہ کرتے(159) جوشخص لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس گنا(ثواب) ہے اس کا،اور جو شخص لائے گا ایک برائی تو نہیں سزادیا جائے گا وہ مگر مثل اسی کے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(160) [159] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لیے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ۔ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسی یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنھوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان سے آپ کو کچھ کام نہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔ ‘‘ [160] پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾ ’’تو اس کے لیے اس کا دس گنا ہے‘‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کامل عدل و احسان ہے۔ اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

الأنعام 6:160

بے شک وہ لوگ جنھوں نے تفرقہ بازی کی اپنے دین میں اور ہو گئے وہ گروہ گروہ،نہیں ہیں آپ ان سے کسی چیزمیں،یقینا ان کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس چیز کی جو تھے وہ کرتے(159) جوشخص لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس گنا(ثواب) ہے اس کا،اور جو شخص لائے گا ایک برائی تو نہیں سزادیا جائے گا وہ مگر مثل اسی کے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(160) [159] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لیے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ۔ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسی یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنھوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان سے آپ کو کچھ کام نہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔ ‘‘ [160] پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾ ’’تو اس کے لیے اس کا دس گنا ہے‘‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کامل عدل و احسان ہے۔ اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

الأنعام 6:161

کہہ دیجیے!بلاشبہ میں،ہدایت دی مجھے میرے رب نے طرف صراط مستقیم کی(، یعنی ) دین صحیح کی،جو طریقہ ہے ابراہیم کا اس حال میں کہ وہ رب کا پرستارتھا،اورنہیں تھا وہ مشرکوں میں سے(161) کہہ دیجیے!یقینا میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت(سب) اللہ رب العالمین کے لیے ہے(162) نہیں کوئی شریک اس کا،اور اسی کا حکم دیا گیا ہوں میں،اور میں سب سے پہلامسلمان ہوں (163) کہہ دیجیے!کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں رب؟جبکہ وہی ہے رب ہر چیز کا،اور نہیں کماتی کوئی جان(گناہ) مگر اسی پر ہے(وبال) اور نہیں اٹھائے گی کوئی (جان) بوجھ اٹھانے والی بوجھ دوسری(جان)کا، پھر طرف تمھارے رب کی واپسی ہے تمھاری پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(164) اور وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں اور بلند کیا تمھارے ایک کو دوسرے پر درجات میں تاکہ آزمائے وہ تمھیں ان(نعمتوں) میں جو اس نے تمھیں دیں،بے شک آپ کا رب جلد سزادینے والا ہے اور بلاشبہ بہت بخشنے والا،مہربان ہے(165) [161] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کر دیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیا و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں مبعوث ہونے والے تمام انبیا و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف، مثلاً: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔یہ عمومی ذکر ہے ۔ [162] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ صَلَاتِيۡ وَنُسُكِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی۔‘‘ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لیے خالص کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لیے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ۔ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِيۡ ﴾ ’’اور میرا جینا اور میرا مرنا۔‘‘ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لیے جو کچھ مقدر کرے گا۔﴿ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ [163]﴿ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ ﴾ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ ﴾ ’’اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں ۔‘‘ یعنی اس امت میں ، پہلا مسلمان ہوں ۔ [164]﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، کیا اب میں اللہ کے سوا‘‘ یعنی مخلوق میں سے ﴿اَبۡغِيۡ رَبًّا﴾ ’’تلاش کروں کوئی رب؟‘‘ کیا یہ میرے لیے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کریں اور اس پر راضی رہیں ۔ محتاج، عاجز اور مربوب مخلوق میں سے کسی کو رب نہ بنائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ جزا و سزا کی ترغیب و ترہیب کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ ﴾ ’’اور جو کوئی جو کماتا ہے‘‘ یعنی ہر شخص خیر و شر کا جو ارتکاب کرتا ہے ﴿ اِلَّا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اس کی جزا و سزا صرف اسی کے لیے ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے اس کی جزا اسی کے لیے ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ بلکہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور اس کے گناہ کا سبب بنا تو اسے سبب بننے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہو گا اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھارے رب کے پاس ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔‘‘ یعنی خیروشر میں جو تم اختلاف کرتے ہو، اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا اور تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔ [165]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَكُمۡ خَلٰٓىِٕفَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور وہی توہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا۔‘‘ یعنی تم ایک دوسرے کے جانشین بنتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور زمین کی تمام موجودات کو تمھارے لیے مسخر کر کے تمھیں آزمایا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ﴿ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰؔتٍ ﴾ ’’اور بلند کیا اس نے تمھیں درجوں میں ایک کو ایک پر‘‘ یعنی قوت، عافیت، رزق، خلقت اور خلق میں ایک دوسرے پر فوقیت عطا کی ﴿ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھیں آزمائے وہ ان چیزوں میں جو اس نے تمھیں دیں ۔‘‘ پس تمھارے اعمال ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ﴿اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’تمھارا رب ان لوگوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔‘‘ ان کو جو اس کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، نیک عمل کرتے ہیں اور مہلک گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔

الأنعام 6:162

کہہ دیجیے!بلاشبہ میں،ہدایت دی مجھے میرے رب نے طرف صراط مستقیم کی(، یعنی ) دین صحیح کی،جو طریقہ ہے ابراہیم کا اس حال میں کہ وہ رب کا پرستارتھا،اورنہیں تھا وہ مشرکوں میں سے(161) کہہ دیجیے!یقینا میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت(سب) اللہ رب العالمین کے لیے ہے(162) نہیں کوئی شریک اس کا،اور اسی کا حکم دیا گیا ہوں میں،اور میں سب سے پہلامسلمان ہوں (163) کہہ دیجیے!کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں رب؟جبکہ وہی ہے رب ہر چیز کا،اور نہیں کماتی کوئی جان(گناہ) مگر اسی پر ہے(وبال) اور نہیں اٹھائے گی کوئی (جان) بوجھ اٹھانے والی بوجھ دوسری(جان)کا، پھر طرف تمھارے رب کی واپسی ہے تمھاری پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(164) اور وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں اور بلند کیا تمھارے ایک کو دوسرے پر درجات میں تاکہ آزمائے وہ تمھیں ان(نعمتوں) میں جو اس نے تمھیں دیں،بے شک آپ کا رب جلد سزادینے والا ہے اور بلاشبہ بہت بخشنے والا،مہربان ہے(165) [161] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کر دیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیا و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں مبعوث ہونے والے تمام انبیا و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف، مثلاً: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔یہ عمومی ذکر ہے ۔ [162] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ صَلَاتِيۡ وَنُسُكِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی۔‘‘ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لیے خالص کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لیے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ۔ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِيۡ ﴾ ’’اور میرا جینا اور میرا مرنا۔‘‘ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لیے جو کچھ مقدر کرے گا۔﴿ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ [163]﴿ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ ﴾ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ ﴾ ’’اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں ۔‘‘ یعنی اس امت میں ، پہلا مسلمان ہوں ۔ [164]﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، کیا اب میں اللہ کے سوا‘‘ یعنی مخلوق میں سے ﴿اَبۡغِيۡ رَبًّا﴾ ’’تلاش کروں کوئی رب؟‘‘ کیا یہ میرے لیے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کریں اور اس پر راضی رہیں ۔ محتاج، عاجز اور مربوب مخلوق میں سے کسی کو رب نہ بنائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ جزا و سزا کی ترغیب و ترہیب کے لیے فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ ﴾ ’’اور جو کوئی جو کماتا ہے‘‘ یعنی ہر شخص خیر و شر کا جو ارتکاب کرتا ہے ﴿ اِلَّا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اس کی جزا و سزا صرف اسی کے لیے ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے اس کی جزا اسی کے لیے ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ بلکہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور اس کے گناہ کا سبب بنا تو اسے سبب بننے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہو گا اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ ﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھارے رب کے پاس ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔‘‘ یعنی خیروشر میں جو تم اختلاف کرتے ہو، اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا اور تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔ [165]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَكُمۡ خَلٰٓىِٕفَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور وہی توہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا۔‘‘ یعنی تم ایک دوسرے کے جانشین بنتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور زمین کی تمام موجودات کو تمھارے لیے مسخر کر کے تمھیں آزمایا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ﴿ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰؔتٍ ﴾ ’’اور بلند کیا اس نے تمھیں درجوں میں ایک کو ایک پر‘‘ یعنی قوت، عافیت، رزق، خلقت اور خلق میں ایک دوسرے پر فوقیت عطا کی ﴿ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھیں آزمائے وہ ان چیزوں میں جو اس نے تمھیں دیں ۔‘‘ پس تمھارے اعمال ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ﴿اِنَّ رَبَّكَ سَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’تمھارا رب ان لوگوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔‘‘ ان کو جو اس کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، نیک عمل کرتے ہیں اور مہلک گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔