Tafsir As-Saadi - Urdu — الأعراف 7:171 – الأنفال 8:53
Contents
- الأعراف 7:171
- الأعراف 7:172
- الأعراف 7:173
- الأعراف 7:174
- الأعراف 7:175
- الأعراف 7:176
- الأعراف 7:177
- الأعراف 7:178
- الأعراف 7:179
- الأعراف 7:180
- الأعراف 7:181
- الأعراف 7:182
- الأعراف 7:183
- الأعراف 7:184
- الأعراف 7:185
- الأعراف 7:186
- الأعراف 7:187
- الأعراف 7:188
- الأعراف 7:189
- الأعراف 7:190
- الأعراف 7:191
- الأعراف 7:192
- الأعراف 7:193
- الأعراف 7:194
- الأعراف 7:195
- الأعراف 7:196
- الأعراف 7:197
- الأعراف 7:198
- الأعراف 7:199
- الأعراف 7:200
- الأعراف 7:201
- الأعراف 7:202
- الأعراف 7:203
- الأعراف 7:204
- الأعراف 7:205
- الأعراف 7:206
- الأنفال 8:1
- الأنفال 8:2
- الأنفال 8:3
- الأنفال 8:4
- الأنفال 8:5
- الأنفال 8:6
- الأنفال 8:7
- الأنفال 8:8
- الأنفال 8:9
- الأنفال 8:10
- الأنفال 8:11
- الأنفال 8:12
- الأنفال 8:13
- الأنفال 8:14
- الأنفال 8:15
- الأنفال 8:16
- الأنفال 8:17
- الأنفال 8:18
- الأنفال 8:19
- الأنفال 8:20
- الأنفال 8:21
- الأنفال 8:22
- الأنفال 8:23
- الأنفال 8:24
- الأنفال 8:25
- الأنفال 8:26
- الأنفال 8:27
- الأنفال 8:28
- الأنفال 8:29
- الأنفال 8:30
- الأنفال 8:31
- الأنفال 8:32
- الأنفال 8:33
- الأنفال 8:34
- الأنفال 8:35
- الأنفال 8:36
- الأنفال 8:37
- الأنفال 8:38
- الأنفال 8:39
- الأنفال 8:40
- الأنفال 8:41
- الأنفال 8:42
- الأنفال 8:43
- الأنفال 8:44
- الأنفال 8:45
- الأنفال 8:46
- الأنفال 8:47
- الأنفال 8:48
- الأنفال 8:49
- الأنفال 8:50
- الأنفال 8:51
- الأنفال 8:52
- الأنفال 8:53
الأعراف 7:171
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
الأعراف 7:172
اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔
الأعراف 7:173
اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔
الأعراف 7:174
اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔
الأعراف 7:175
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
الأعراف 7:176
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
الأعراف 7:177
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
الأعراف 7:178
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
الأعراف 7:179
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جن اورانسان، ان کے دل ہیں (لیکن) نہیں سمجھتے وہ ساتھ ان کے (حق کو) اوران کی آنکھیں ہیں (لیکن) نہیں دیکھتے وہ ساتھ ان کےاوران کے کان ہیں(لیکن) نہیں سنتے وہ ساتھ ان کے(حق)، یہی لوگ ہیں مانند چوپایوں کےبلکہ وہ (ان سے) بھی زیادہ گمراہ ہیں، یہی لوگ ہیں غافل(179)
[179] اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ ذَرَاۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا ﴿ لِجَهَنَّمَ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’جہنم کے لیے بہت سے جن اور آدمی‘‘ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں ۔ ﴿ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ بِهَا﴾ ’’ان کے دل ہیں ، جن سے وہ سمجھتے نہیں ‘‘ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡيُنٌ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ بِهَا﴾ ’’ان کی آنکھیں ہیں ، جن سے وہ دیکھتے نہیں ‘‘ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لیے فائدہ مند ہو بلکہ انھوں نے اپنی بینائی کی منفعت اور فائدے کو کھو دیا۔ ﴿ وَلَهُمۡ اٰذَانٌ لَّا يَسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ ’’ان کے کان ہیں ، جن سے وہ سنتے نہیں ‘‘ وہ ان کانوں سے اس طرح نہیں سنتے کہ ان کے دلوں تک معانی و مفاہیم پہنچ جائیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان اوصاف قبیحہ کے حامل ہیں ﴿كَالۡاَنۡعَامِ﴾ ’’چوپاؤں کی مانند ہیں ‘‘ جو عقل سے محروم ہیں ۔ انھوں نے فانی چیزوں کو ان چیزوں پر ترجیح دی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں پس ان سے عقل کی خاصیت سلب کر لی گئی۔ ﴿بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ ﴾ ’’بلکہ وہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ اور بے سمجھ ہیں کیونکہ بہائم سے تو وہ کام لیے جاتے ہیں جن کاموں کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے، ان کے ذہن ہیں جن کے ذریعے سے وہ مضرت و منفعت کا ادراک کرتے ہیں ۔ بنابریں چوپایوں کا حال ان کے حال سے اچھا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں غافل‘‘ جو سب سے زیادہ نفع مند چیز سے غافل ہیں وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی اطاعت اور اس کے ذکر سے غافل ہیں حالانکہ ان کو دل، کان اور آنکھیں عطا کی گئیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں ان سے مدد لیں لیکن انھوں نے اس مقصد کے برعکس امور کے لیے ان کو استعمال کیا۔ پس یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جھونکنے کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ اہل جہنم کے اعمال سر انجام دے رہے ہیں ۔رہا وہ شخص جو ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے، جس کا قلب اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی محبت کے رنگ میں رنگ جاتا ہے اور وہ اللہ سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ پس ایسے ہی لوگ اہل جنت ہیں اور وہ اہل جنت کے اعمال سرانجام دیتے ہیں ۔
الأعراف 7:180
اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے، سو تم پکارو اسے ساتھ ان (ناموں) کےاور چھوڑ دو ان لوگوں کو کج روی اختیار کرتے ہیں اس کے ناموں میں عنقریب بدلہ دیے جائیں گے وہ اس کا جو تھے وہ عمل کرتے(180)
[180] یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے جلال کی عظمت اور اس کے اوصاف کی وسعت کو بیان کرتی ہے نیز یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اسمائے حسنیٰ ہیں ، یعنی اس کا ہر نام اچھا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام ایک عظیم صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے ان اسماء کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے۔ اگر یہ اسماء صفات پر دلالت نہ کرتے بلکہ محض علم ہوتے تو یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہ ہوتے اس طرح اگر یہ اسماء کسی ایسی صفت پر دلالت کرتے جو صفت کمال نہ ہو بلکہ اس کے برعکس صفت نقص یا صفت منقسم ہوتے یعنی بہ یک وقت مدح و قدح پر دلالت کرتے تب بھی یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہیں کہلا سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم پوری صفت پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ اسم مشتق ہے اور وہ اس صفت کے تمام معنی کو شامل ہے۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک (اَلْعَلِیم) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے علم کا مالک ہے جو عام ہے اور تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، پس زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں ۔ اس کا اسم مبارک (اَلرَّحِیم) دلالت کرتا ہے کہ وہ عظیم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (اَلْقَدِیر) دلالت کرتا ہے کہ وہ قدرت عامہ کا مالک ہے کوئی چیز بھی اس کی قدرت کو عاجز اور لاچار نہیں کر سکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کا کامل طور پر (حُسْنٰی) ہونا یہ ہے کہ اس کو ان اسماء حسنیٰ کے سوا کسی اور اسم سے نہ پکارا جائے بنابریں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾’’پس اس کو انھی ناموں سے پکارو‘‘ اور اس دعا میں دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں شامل ہیں ۔ پس ہر مطلوب میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اس اسم مبارک سے پکارا جائے جو اس مطلوب سے مناسبت رکھتا ہے۔پس دعا مانگنے والا یوں دعا مانگے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ’’اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر‘‘ ’’اے رزق دینے والے مجھے رزق عطا کر‘‘ اور ’’اے لطف و کرم کے مالک مجھے اپنے لطف سے نواز...‘‘ وغیرہ۔﴿ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِيۡۤ اَسۡمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ، عنقریب ان کو ان کے عملوں کا بدلہ دیا جائے گا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کی پاداش میں انھیں سخت سزا اور عذاب دیا جائے گا اور الحاد کی حقیقت یہ ہے کہ ان اسماء کو ان معانی سے ہٹا کر جن کے لیے ان کو وضع کیا گیا ہے، دوسری طرف موڑنا، (اور اس کی مختلف صورتیں ہیں )۔ (۱) ان ناموں سے ایسی ہستیوں کو موسوم کرنا جو ان ناموں کی مستحق نہیں ، مثلاً: مشرکین کا اپنے معبودوں کو ان ناموں سے موسوم کرنا۔ (۲) ان اسماء کے اصل معانی مراد کی نفی اور ان میں تحریف کر کے، ان کے کوئی اور معانی گھڑ لینا، جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں ۔ (۳) ان اسماء سے دوسروں کو تشبیہ دینا۔ پس واجب ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں الحاد سے بچا جائے اور اسماء میں الحاد کرنے والوں سے دور رہا جائے۔ صحیح حدیث میں نبئ اکرمﷺ سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کر لیتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الشروط، باب مایجوزمن الاشتراط والثنیا فی الإقرار… الخ، ح: 2736)
الأعراف 7:181
اوران میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے ایک جماعت جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کےاور ساتھ اسی کے وہ عدل کرتی ہے(181)
[181]﴿ وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان تمام لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو فضیلت کا مالک ہے، جو خود کامل ہے اور دوسروں کی حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے، یہ لوگ حق کا علم رکھتے ہیں ، اس پر عمل کرتے ہیں ، حق کی تعلیم دیتے، اس کی طرف بلاتے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ﴿ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ جب وہ لوگوں کے مال، خون، حقوق اور ان کے مقالات وغیرہ کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں تو حق کی بنیاد پر انصاف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ہدی اور تاریکیوں میں روشن قندیل ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح، حق کی وصیت اور صبر کی وصیت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ رسالت کے بعد ہے اور خود ان کے مراتب میں ان کے احوال اور قدر و منزلت کے مطابق تفاوت ہے۔پس پاک ہے وہ ذات جو اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتی ہے، مختص کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تکذیب کی، جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی کتاب اور ہدایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ، پس انھوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو قبول نہ کیا ﴿سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسی جگہ سے پکڑیں گے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی‘‘ یعنی اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کو وافر رزق بہم پہنچاتا ہے۔
الأعراف 7:182
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
الأعراف 7:183
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
الأعراف 7:184
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
الأعراف 7:185
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
الأعراف 7:186
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
الأعراف 7:187
سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے واقع ہونا اس کا؟ کہہ دیجیے! یقینا اس کا علم نزدیک میرے رب ہی کے ہے، نہیں ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی، بھاری (حادثہ) ہے وہ (قیامت) آسمانوں اورزمین میں، نہیں آئے گی وہ تمھارے پاس مگر اچانک ہی، وہ (لوگ) سوال کرتے ہیں آپ سے گویا کہ آپ پوری تحقیق کرچکے ہیں اس کی بابت، فرما دیجیے! اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(187) کہہ دیجیے! نہیں اختیار رکھتا میں اپنی جان کے لیے نفع کا اور نہ نقصان کا مگر جو چاہے اللہ اوراگر ہوتا میں جانتا غیب تو البتہ بہت حاصل کرلیتا میں بھلائیاں اور نہ پہنچتی مجھے تکلیف ، نہیں ہوں میں (کچھ بھی) مگر ڈرانے والا (کافروں کو) اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں(188)
[187] اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپﷺ سے پوچھتے ہیں ۔ ﴿ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا ﴾ ’’قیامت کے بارے میں ، کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔‘‘ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ ﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ ﴿ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾ ’’وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔‘‘ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا ﴿ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معاملہ ان کے لیے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے بہت خوف زدہ ہیں ۔ ﴿ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾ ’’اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔‘‘ یہ گھڑی اچانک انھیں اس طرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لیے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا ﴾’’یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔‘‘ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انھوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ۔ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اسی لیے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال نہیں کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انھوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔
[188]﴿قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِيۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے نفس کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا‘‘ اس لیے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں ، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ﴿وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَا سۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ١ۛۖۚ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوۡٓءُ﴾ ’’اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی‘‘ یعنی میں وہ اسباب مہیا کر لیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ ﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور اخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَّبَشِيۡرٌ ﴾ ’’اور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔‘‘ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبئ اکرمﷺ کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لیے حضورﷺ کو پکارتا ہے.... کیونکہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا نہ چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرر دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپﷺ کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدے پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لیے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لیے حد درجہ بیان اور توضیح ہے۔
الأعراف 7:188
سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے واقع ہونا اس کا؟ کہہ دیجیے! یقینا اس کا علم نزدیک میرے رب ہی کے ہے، نہیں ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی، بھاری (حادثہ) ہے وہ (قیامت) آسمانوں اورزمین میں، نہیں آئے گی وہ تمھارے پاس مگر اچانک ہی، وہ (لوگ) سوال کرتے ہیں آپ سے گویا کہ آپ پوری تحقیق کرچکے ہیں اس کی بابت، فرما دیجیے! اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(187) کہہ دیجیے! نہیں اختیار رکھتا میں اپنی جان کے لیے نفع کا اور نہ نقصان کا مگر جو چاہے اللہ اوراگر ہوتا میں جانتا غیب تو البتہ بہت حاصل کرلیتا میں بھلائیاں اور نہ پہنچتی مجھے تکلیف ، نہیں ہوں میں (کچھ بھی) مگر ڈرانے والا (کافروں کو) اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں(188)
[187] اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپﷺ سے پوچھتے ہیں ۔ ﴿ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا ﴾ ’’قیامت کے بارے میں ، کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔‘‘ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ ﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ ﴿ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾ ’’وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔‘‘ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا ﴿ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معاملہ ان کے لیے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے بہت خوف زدہ ہیں ۔ ﴿ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾ ’’اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔‘‘ یہ گھڑی اچانک انھیں اس طرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لیے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا ﴾’’یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔‘‘ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انھوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ۔ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اسی لیے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال نہیں کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انھوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔
[188]﴿قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِيۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے نفس کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا‘‘ اس لیے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں ، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ﴿وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَا سۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ١ۛۖۚ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوۡٓءُ﴾ ’’اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی‘‘ یعنی میں وہ اسباب مہیا کر لیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ ﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور اخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَّبَشِيۡرٌ ﴾ ’’اور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔‘‘ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبئ اکرمﷺ کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لیے حضورﷺ کو پکارتا ہے.... کیونکہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا نہ چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرر دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپﷺ کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدے پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لیے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لیے حد درجہ بیان اور توضیح ہے۔
الأعراف 7:189
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
الأعراف 7:190
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
الأعراف 7:191
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
الأعراف 7:192
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
الأعراف 7:193
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
الأعراف 7:194
بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘
الأعراف 7:195
بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘
الأعراف 7:196
بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘
الأعراف 7:197
اور وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، نہیں استطاعت رکھتے وہ تمھاری مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(197) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہ سنیں وہ اور دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھ رہے ہیں وہ طرف آپ کی حالانکہ وہ نہیں دیکھتے(198)
[198,197] یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کر سکتے ہیں ۔ ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں ۔ تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں ۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو ان کو غور سے دیکھے گا تو پہچان لے گا کہ یہ تو جامد پتھر ہیں جن میں کوئی حرکت ہے نہ زندگی۔ تب کس بنا پر مشرکین نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ الٰہ ٹھہرا لیا؟ کون سی مصلحت اور کون سے فائدے کی خاطر یہ لوگ ان کے پاس اعتکاف کرتے ہیں اور مختلف عبادات کے ذریعے سے ان کا تقرب حاصل کرتے ہیں ؟جب اس چیز کی معرفت حاصل ہوگئی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر مشرکین اور ان کے معبود، جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، اکٹھے ہو کر ان لوگوں کے خلاف چالیں چل لیں جن کو زمین اور آسمانوں کی تخلیق کرنے والے نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے اور اپنے نیک بندوں کے احوال کا والی ہے، وہ اپنی چال سے ذرہ بھر نقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پوری قوت اور کامل اقتدار کا مالک ہے اور وہ شخص بھی قوی ہے جو اس کے جلال کی پناہ لیتا اور اس پر بھروسہ کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَتَرٰىهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ میں ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی (تب اس کے معنی یہ ہوں گے) اے اللہ کے رسول! آپ سمجھتے ہیں کہ مشرکین آپ کو اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں تاکہ جھوٹے میں سے سچے کا امتیاز ہو سکے۔ مگر وہ آپﷺ کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور وہ جمال و کمال اور صدق کی ان علامتوں کو نہیں دیکھ سکتے جن کے ذریعے سے پہچاننے والے حقیقت کو پہچانتے ہیں ۔
الأعراف 7:198
اور وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، نہیں استطاعت رکھتے وہ تمھاری مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(197) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہ سنیں وہ اور دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھ رہے ہیں وہ طرف آپ کی حالانکہ وہ نہیں دیکھتے(198)
[198,197] یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کر سکتے ہیں ۔ ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں ۔ تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں ۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو ان کو غور سے دیکھے گا تو پہچان لے گا کہ یہ تو جامد پتھر ہیں جن میں کوئی حرکت ہے نہ زندگی۔ تب کس بنا پر مشرکین نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ الٰہ ٹھہرا لیا؟ کون سی مصلحت اور کون سے فائدے کی خاطر یہ لوگ ان کے پاس اعتکاف کرتے ہیں اور مختلف عبادات کے ذریعے سے ان کا تقرب حاصل کرتے ہیں ؟جب اس چیز کی معرفت حاصل ہوگئی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر مشرکین اور ان کے معبود، جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، اکٹھے ہو کر ان لوگوں کے خلاف چالیں چل لیں جن کو زمین اور آسمانوں کی تخلیق کرنے والے نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے اور اپنے نیک بندوں کے احوال کا والی ہے، وہ اپنی چال سے ذرہ بھر نقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پوری قوت اور کامل اقتدار کا مالک ہے اور وہ شخص بھی قوی ہے جو اس کے جلال کی پناہ لیتا اور اس پر بھروسہ کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَتَرٰىهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ میں ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی (تب اس کے معنی یہ ہوں گے) اے اللہ کے رسول! آپ سمجھتے ہیں کہ مشرکین آپ کو اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں تاکہ جھوٹے میں سے سچے کا امتیاز ہو سکے۔ مگر وہ آپﷺ کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور وہ جمال و کمال اور صدق کی ان علامتوں کو نہیں دیکھ سکتے جن کے ذریعے سے پہچاننے والے حقیقت کو پہچانتے ہیں ۔
الأعراف 7:199
اختیار کیجیے درگزر کو اور حکم کیجیے نیک کام کا اور اعراض کیجیے جاہلوں سے(199)
[199]یہ آیت کریمہ لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق اور ان کے ساتھ رويے کے بارے میں جامع آیت ہے۔ لوگوں کے ساتھ معاملے میں مناسب رویہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر، آسان اعمال و اخلاق اور نرمی سے پیش آیا جائے، ان کو کسی ایسی بات کا مکلف نہ کیا جائے جس کو ان کی طبائع قبول نہ کریں بلکہ ہر شخص کی بات اور اچھے یا برے فعل کو قبول کیا جائے، ان کی کوتاہی سے درگزر کیا جائے اور ان کے نقائص سے چشم پوشی کی جائے۔ کسی چھوٹے کے ساتھ اس کے چھوٹا ہونے، کسی ناقص العقل کے ساتھ اس کے نقص اور کسی محتاج کے ساتھ اس کی محتاجی کی بنا پر تکبر سے پیش نہ آیا جائے بلکہ تمام لوگوں کے ساتھ لطف و کرم کا اور احوال کے تقاضے کے مطابق معاملہ کیا جائے کہ جس سے ان کے سینے کھل جائیں ۔﴿ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ ﴾ ’’اور حکم کیجیے نیک کام کرنے کا‘‘ یعنی ہر قریب اور بعید شخص کو اچھی بات، اچھے فعل اور کامل اخلاق کا حکم دیجیے۔ آپ جو کچھ لوگوں کو عطا کریں وہ تعلیم علم ہو یا کسی بھلائی کی ترغیب دینا، جیسے صلہ رحمی یا والدین کے ساتھ حسن سلوک یا لوگوں کے درمیان صلح کروانا یا نفع بخش خیر خواہی یا صائب رائے یا نیکی اور تقویٰ پر معاونت یا برائی پر زجر و توبیخ یا کسی دینی یا دنیاوی بھلائی کی طرف راہ نمائی۔ چونکہ جاہل کی طرف سے تکلیف اور اذیت کا پہنچنا ایک لابدی امر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جاہل سے اعراض اور درگزر سے کام لیا جائے اور اس کی جہالت کا مقابلہ نہ کیا جائے، پس جو کوئی آپ کو اپنے قول و فعل سے اذیت دیتا ہے آپ اس کو اذیت نہ دیں ، جو آپ کو محروم کرتا ہے آپ اس کو محروم نہ کریں ، جو آپ سے قطع تعلق کرتا ہے آپ اس سے تعلق جوڑے رکھیں اور جو آپ پر ظلم کرتا ہے آپ اس کے ساتھ انصاف کریں ۔
رہی یہ بات کہ بندۂ مومن کو شیاطین جن کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہیے؟ تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
الأعراف 7:200
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔
الأعراف 7:201
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔
الأعراف 7:202
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔
الأعراف 7:203
اور جب نہیں لاتے آپ ان کے پاس کوئی نشانی تو کہتے ہیں، کیوں نہیں خود بنالایا تو؟ کہہ دیجیے! میں تو پیروی کرتا ہوں صرف اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میرے رب کی طرف سے، یہ روشن دلائل ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(203)
[203] یہ جھٹلانے والے آپ کے ساتھ عناد رکھتے ہی رہیں گے خواہ ان کے پاس رشد و ہدایت پر کتنے ہی دلائل کیوں نہ آجائیں ۔ پس جب آپ ان کو کوئی ایسی دلیل دیتے ہیں جو آپ کی صداقت پر دلالت کرتی ہے تو یہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ﴿ وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے۔‘‘ یعنی جب ان کے حسب خواہش آیات و معجزات نہیں لاتے ﴿ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔‘‘ یعنی کہتے ہیں کہ تم فلاں آیت اور فلاں معجزہ کیوں نہیں لاتے گویا کہ آیات اور معجزات آپ نازل کرتے ہیں اور تمام مخلوقات کی تدبیر آپ کرتے ہیں ۔ حالانکہ انھیں اس بات کا علم نہیں کہ آپ تو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے..... (یا وہ یوں کہتے ہیں کہ) تم نے ان آیات کو اپنے پاس سے کیوں نہیں گھڑ لیا۔ ﴿قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ مِنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میں تو اس حکم کی اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔‘‘ پس میں تو اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان بندہ اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو معجزات نازل کرتا ہے وہ اپنی حمد و ثنا اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق آیات اور معجزات بھیجتا ہے۔اگر تم ایسی نشانی اور معجزہ چاہتے ہو جو مرور اوقات کے ساتھ کمزور نہ ہو اور ایسی حجت چاہتے ہو جو کسی بھی لمحہ باطل نہ ہو تو ﴿ هٰؔذَا﴾ ’’یہ‘‘ یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے دانائی ہے‘‘ جن کے ذریعے سے الٰہی مطالب اور انسانی مقاصد کو پرکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن عظیم دلیل اور مدلول ہے۔ جو کوئی اس میں تدبر کرتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ، حکمت والے اور قابل تعریف کی طرف سے نازل کردہ ہے، باطل جس کے سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے اور یہ قرآن ہر اس شخص کے خلاف حجت ہے جس کے پاس یہ پہنچتا ہے۔ مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ورنہ جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت ہے‘‘ تو یہ قرآن گمراہی کے اندھىرے میں اس کے لیے ہدایت کا نور ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت ہے‘‘ اور بدبختیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ پس مومن قرآن سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے اور اس کی اتباع کرتا ہے، اپنی دنیا و آخرت میں سعادت مند ہے اور جو کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا وہ دنیا و آخرت میں گمراہ اور بدبخت ہے۔
الأعراف 7:204
اور جب پڑھا جائے قرآن تو غور سے (کان لگا کر) سنو تم اس کواور خاموش رہوتاکہ تم رحم کیے جاؤ(204)
[204] یہ ہر اس شخص کے لیے ایک عام حکم ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت سنتا ہے، وہ اسے غور سے سننے اور خاموش رہنے پر مامور ہے۔ استماع اور انصات کے درمیان فرق یہ ہے کہ (انْصَات) ’’چپ رہنا‘‘ ظاہر میں بات چیت اور ایسے امور میں مشغولیت کو ترک کرنے کا نام ہے جن کی وجہ سے وہ غور سے سن نہیں سکتا اور (اسْتِمَاع) ’’سننا‘‘ یہ ہے کہ سننے کے لیے پوری توجہ مبذول کی جائے، قلب حاضر ہو اور جو چیز سنے اس میں تدبر کرے۔کتاب اللہ کی تلاوت کے وقت جو کوئی ان دونوں امور کا التزام کرتا ہے وہ خیر کثیر، بے انتہا علم، دائمی تجدید شدہ ایمان، بہت زیادہ ہدایت اور دین میں بصیرت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے حصول رحمت کو ان دونوں امور پر مترتب قرار دیا ہے اور یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس کے سامنے کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے اور وہ اسے غور سے نہ سنے اور خاموش نہ رہے تو رحمت کے بہت بڑے حصے سے محروم ہو جاتا ہے، وہ خیر کثیر حاصل نہیں کر پاتا اور قرآن سننے والے کو سخت تاکید ہے کہ جہری نمازوں میں ، جبکہ امام قراء ت کرے، وہ توجہ سے سنے اور خاموش رہے کیونکہ اسے چپ رہنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ نماز کے اندر امام کی قراء ت کے وقت خاموش رہنا سورۂ فاتحہ وغیرہ پڑھنے سے اولیٰ ہے۔(یہ مؤلف کتاب کی اپنی رائے ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، مرحوم کی یہ رائے صحیح نہیں، کیونکہ یہ نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔ احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ امام ہر آیت پر وقف کر کے سورۂ فاتحہ پڑھے اور اس وقفے میں مقتدی بھی سورۂ فاتحہ پڑھتے جائیں۔ کیونکہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اس طرح وقفوں اور سکتات میں سورۂ فاتحہ پڑھنے سے استماع اور انصات کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور حدیث پر بھی عمل ہو جاتا ہے، ہاں البتہ سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ اور پڑھنا جائز نہیں۔ (ص ۔ ی)
الأعراف 7:205
اور یاد کیجیے اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئےاورایسی آواز سے کہ کم ہوپکار کر بات کرنے سے، صبح اور شام کواورنہ ہوں آپ غافلوں میں سے(205) بے شک وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے پاس ہیں، نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور تسبیح بیان کرتے ہیں وہ اس کی اوراسی کو وہ سجدہ کرتے ہیں(206)
[205] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریعے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفیﷺ کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں ۔ ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی اور تذلل سے‘‘ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ اپنی زبان سے ذکر کریں ﴿وَّخِيۡفَةً﴾ ’’اور ڈرتے ہوئے‘‘ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے دل میں ، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علامت یہ ہے کہ بندہ خیر خواہی کے ساتھ اپنے عمل کی اصلاح اور تکمیل میں پیہم کوشاں رہتا ہے۔ ﴿ وَّدُوۡنَ الۡجَهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو‘‘ یعنی متوسط رویہ اختیار کیجیے ﴿وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍110) ’’اپنی نماز بلند آواز سے پڑھیے نہ بہت آہستہ آواز سے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کیجیے۔‘‘﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور دن کے آخری حصے میں ۔‘‘ ان دونوں اوقات کو دیگر اوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ ﴿ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ پس وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم رہ گئے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبودیت میں ہر فلاح و سعادت سے روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر بدبختی اور ناکامی کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ آداب ذکر ہیں جن کی بندے کو رعایت رکھنی چاہیے جیسا کہ رعایت رکھنے کا حق ہے یعنی دن اور رات کے اوقات میں ، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں ، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پر سکون حالت میں ، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب و وقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
[206] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں ...اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے... تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے، نہ تمھاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری عبادت کے ذریعے سے تمھیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کر سکو۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ ﴾ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے‘‘ بلکہ اس کی عبادت کے لیے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں ۔ ﴿ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿وَلَهٗ ﴾ ’’اور اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ﴿ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’سجدے کرتے ہیں ۔‘‘ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔
الأعراف 7:206
اور یاد کیجیے اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئےاورایسی آواز سے کہ کم ہوپکار کر بات کرنے سے، صبح اور شام کواورنہ ہوں آپ غافلوں میں سے(205) بے شک وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے پاس ہیں، نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور تسبیح بیان کرتے ہیں وہ اس کی اوراسی کو وہ سجدہ کرتے ہیں(206)
[205] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریعے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفیﷺ کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں ۔ ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی اور تذلل سے‘‘ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ اپنی زبان سے ذکر کریں ﴿وَّخِيۡفَةً﴾ ’’اور ڈرتے ہوئے‘‘ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے دل میں ، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علامت یہ ہے کہ بندہ خیر خواہی کے ساتھ اپنے عمل کی اصلاح اور تکمیل میں پیہم کوشاں رہتا ہے۔ ﴿ وَّدُوۡنَ الۡجَهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو‘‘ یعنی متوسط رویہ اختیار کیجیے ﴿وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍110) ’’اپنی نماز بلند آواز سے پڑھیے نہ بہت آہستہ آواز سے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کیجیے۔‘‘﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور دن کے آخری حصے میں ۔‘‘ ان دونوں اوقات کو دیگر اوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ ﴿ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ پس وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم رہ گئے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبودیت میں ہر فلاح و سعادت سے روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر بدبختی اور ناکامی کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ آداب ذکر ہیں جن کی بندے کو رعایت رکھنی چاہیے جیسا کہ رعایت رکھنے کا حق ہے یعنی دن اور رات کے اوقات میں ، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں ، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پر سکون حالت میں ، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب و وقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
[206] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں ...اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے... تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے، نہ تمھاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری عبادت کے ذریعے سے تمھیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کر سکو۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ ﴾ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے‘‘ بلکہ اس کی عبادت کے لیے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں ۔ ﴿ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿وَلَهٗ ﴾ ’’اور اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ﴿ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’سجدے کرتے ہیں ۔‘‘ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔
الأنفال 8:1
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
الأنفال 8:2
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
الأنفال 8:3
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
الأنفال 8:4
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
الأنفال 8:5
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
الأنفال 8:6
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
الأنفال 8:7
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
الأنفال 8:8
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
الأنفال 8:9
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
الأنفال 8:10
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
الأنفال 8:11
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
الأنفال 8:12
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
الأنفال 8:13
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
الأنفال 8:14
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
الأنفال 8:15
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)
الأنفال 8:16
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)
الأنفال 8:17
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
الأنفال 8:18
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
الأنفال 8:19
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
الأنفال 8:20
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)
[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔
الأنفال 8:21
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)
[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔
الأنفال 8:22
بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)
[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔
الأنفال 8:23
بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)
[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔
الأنفال 8:24
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔
[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔
الأنفال 8:25
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔
[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔
الأنفال 8:26
اور یاد کرو جب تم (بہت) تھوڑے تھے، کمزور سمجھے جاتے تھے زمین میں، خوف کھاتے تھے تم اس بات سے کہ (کہیں) اچک (نہ) لے جائیں تمھیں لوگ، پس جگہ دی اللہ نے تمھیں اور تمھاری تائید کی ساتھ اپنی نصرت کےاور رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے تاکہ تم شکر گزار ہو(26)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں ‘‘ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے ﴿ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ ﴾ ’’تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں اچک نہ لیں ‘‘ ﴿ فَاٰوٰىكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی، اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں تمھارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔
الأنفال 8:27
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت خیانت کرو تم اللہ اوراس کے رسول سےاور (نہ)خیانت کرو تم اپنی آپس کی امانتوں میں جبکہ تم جانتے ہو(27) اور جان لو! یقینا تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ، اس کے ہاں اجر عظیم ہے(28)
[27] اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ ) اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔
[28] چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں ۔ ﴿ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہو جانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔
الأنفال 8:28
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت خیانت کرو تم اللہ اوراس کے رسول سےاور (نہ)خیانت کرو تم اپنی آپس کی امانتوں میں جبکہ تم جانتے ہو(27) اور جان لو! یقینا تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ، اس کے ہاں اجر عظیم ہے(28)
[27] اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ ) اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔
[28] چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں ۔ ﴿ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہو جانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔
الأنفال 8:29
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر ڈرو تم اللہ سے تو وہ بنادے گا تمھارے لیے کسوٹی (دلیل حق) اور مٹا دے گا تم سے تمھاری برائیاں اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(29)
[29] بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائی کا دارومدار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا و مافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’’فرقان‘‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (۲،۳)برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں ۔ (السئیات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ سے اور گناہوں (الذنوب) کو بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔ (۴) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، اس کے لیے بہت بڑا اجر اور بے پایاں ثواب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘
الأنفال 8:30
اور یاد کیجیے! جب تدبیر کررہے تھے آپ کی بابت وہ لوگ جنھوں نے کفر کیاتاکہ وہ قید کردیں آپ کو یا قتل کردیں آپ کو یا نکال دیں آپ کواور تدبیریں کر رہے تھے وہ اور تدبیر کر رہا تھا اللہ بھی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے(30)
[30] یعنی اے رسولﷺ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، ﴿ وَاِذۡ يَمۡؔكُرُ بِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں ‘‘ جب مشرکین مکہ نے ’’دارالندوہ‘‘ میں مشورہ کیا کہ رسولﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ (۱) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کر دیا جائے۔ (۲) آپ کو قتل کر دیا جائے تاکہ... بزعم خود... ہمیشہ کے لیے آپ سے نجات حاصل کر لیں ۔ (۳) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کر دیا جائے۔ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لَعَنَہُ اللہُ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں ۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں گے اور قصاص لینے کے لیے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھ گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیدار ہوں تو آپ پر حملہ کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کر دیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا ’’وائے تمھاری ناکامی! محمد (ﷺ ) تو نکل گیا اور تمھارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔‘‘انھوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کر لی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔
الأنفال 8:31
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
الأنفال 8:32
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
الأنفال 8:33
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
الأنفال 8:34
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
الأنفال 8:35
اور نہیں تھی نماز ان (مشرکین) کے بیت اللہ کے پاس مگر سیٹیاں اور تالیاں بجانا ہی، پس چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کفر کرتے(35)
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لیے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خالص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنھوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، ﴿ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصۡدِيَةً﴾ ’’سیٹیوں اور تالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ‘‘ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں ، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطۂ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا؟پس ان میں کون سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں ، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں ، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے اللہ نے بیان فرمائے ہیں ۔یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور اس پر ان کو قدرت عطا کی... اور پھر ان کو اس پر قدرت عطا کرنے کے بعد فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾(التوبۃ: 9؍28) ’’اے مومنو! مشرکین تو ناپاک ہیں ، اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں ۔‘‘اور یہاں فرمایا:﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔‘‘
الأنفال 8:36
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔
الأنفال 8:37
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔
الأنفال 8:38
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
الأنفال 8:39
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
الأنفال 8:40
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
الأنفال 8:41
اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)
[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ ﴾ ’’اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن‘‘ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ﴾ ’’جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں‘‘ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی... یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسولﷺ پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جو کچھ لائے ہیں ، وہ حق ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔
[42]﴿اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔‘‘ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى﴾ ’’اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكۡبُ ﴾ ’’اور قافلہ‘‘ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے نیچے کی طرف تھا‘‘ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔‘‘ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِي الۡمِيۡعٰدِ﴾ ’’تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ‘‘ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ ’’اور لیکن‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا ہے‘‘ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں ، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
الأنفال 8:42
اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)
[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ ﴾ ’’اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن‘‘ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ﴾ ’’جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں‘‘ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی... یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسولﷺ پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جو کچھ لائے ہیں ، وہ حق ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔
[42]﴿اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔‘‘ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى﴾ ’’اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكۡبُ ﴾ ’’اور قافلہ‘‘ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے نیچے کی طرف تھا‘‘ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔‘‘ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِي الۡمِيۡعٰدِ﴾ ’’تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ‘‘ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ ’’اور لیکن‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا ہے‘‘ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں ، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
الأنفال 8:43
جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔
الأنفال 8:44
جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔
الأنفال 8:45
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
الأنفال 8:46
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
الأنفال 8:47
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
الأنفال 8:48
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
الأنفال 8:49
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
الأنفال 8:50
اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔
[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘
الأنفال 8:51
اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔
[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘
الأنفال 8:52
اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔
[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘
الأنفال 8:53
یہ اس واسطے کہ بے شک اللہ نہیں ہے بدلنے والا کسی نعمت کا جو انعام کی ہو اس نے اوپر کسی قوم کے، یہاں تک کہ وہ خود ہی بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور بلاشبہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے(53) جیسے عادت تھی آلِ فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو تو ہلاک کردیا ہم نے ان کو بسبب ان کے گناہوں کےاور غرق کردیا ہم نے آل فرعون کواور سب تھے وہ ظالم(54)
[53]﴿ ذٰلِكَ ﴾ وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انھیں حاصل تھیں ، ان سے سلب کر لی گئی تھیں ، اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعۡمَةً اَنۡعَمَهَا عَلٰى قَوۡمٍ ﴾ ’’اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جو دی اس نے کسی قوم کو‘‘ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات‘‘ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار نہیں کرتے، پس جب وہ نعمتوں کی ناشکری کرتے اور ان کے بدلے کفر کرتے ہیں ... تب اللہ تعالیٰ ان سے ان نعمتوں کو چھین لیتا ہے اور ان نعمتوں کو اس طرح بدل ڈالتا ہے جس طرح انھوں نے اپنے رویے کو بدل ڈالا۔اس بارے میں اپنے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ حکمت اور عدل و احسان پر مبنی ہے۔ کیونکہ وہ ان کو عذاب نہیں دیتا مگر ان کے ظلم کے سبب سے اور بندے اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو عبرت ناک سزا دیتا ہے، جس سے وہ اپنے اولیا کے دل اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بولنے والے جو کچھ بولتے ہیں خواہ وہ آہستہ آواز سے بات کریں یا اونچی آواز میں ، اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو بندوں کے ضمیر میں مخفی اور ان کی نیتوں میں چھپا ہوا ہے، وہ اپنے بندوں کی تقدیر میں وہی کچھ جاری کرتا ہے جس کا اس کا علم اور اس کی مشیت تقاضا کرتے ہیں ۔
[54]﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’جیسی عادت آل فرعون کی۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی عادت ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کی جو ان سے پہلے لوگ تھے، انھوں نے رب کی آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جب ان کے پاس ان کے رب کی نشانیاں آئیں تو انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا۔‘‘ ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ ’’اور وہ سب‘‘ یعنی تمام ہلاک ہونے والے اور جن پر عذاب نازل کیا گیا۔ ﴿ كَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور نہ ان کو کسی ایسے جرم میں پکڑا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔ پس ان لوگوں کو، جو ان آیات کریمات کے مخاطب ہیں ، ظلم میں ان قوموں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرے گا جو ان فساق و فجار لوگوں پر نازل کیا تھا۔