Tafsir As-Saadi - Urdu — هود 11:56 – هود 11:89
Contents
- هود 11:56
- هود 11:57
- هود 11:58
- هود 11:59
- هود 11:60
- هود 11:61
- هود 11:62
- هود 11:63
- هود 11:64
- هود 11:65
- هود 11:66
- هود 11:67
- هود 11:68
- هود 11:69
- هود 11:70
- هود 11:71
- هود 11:72
- هود 11:73
- هود 11:74
- هود 11:75
- هود 11:76
- هود 11:77
- هود 11:78
- هود 11:79
- هود 11:80
- هود 11:81
- هود 11:82
- هود 11:83
- هود 11:84
- هود 11:85
- هود 11:86
- هود 11:87
- هود 11:88
- هود 11:89
هود 11:56
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
هود 11:57
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
هود 11:58
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
هود 11:59
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
هود 11:60
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
هود 11:61
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:62
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:63
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:64
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:65
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:66
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:67
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:68
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
هود 11:69
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:70
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:71
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:72
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:73
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:74
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:75
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:76
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:77
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:78
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:79
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:80
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:81
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:82
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:83
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
هود 11:84
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
هود 11:85
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
هود 11:86
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
هود 11:87
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
هود 11:88
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
هود 11:89
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔