Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — النحل 16:95 – الإسراء 17:91

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. النحل 16:95
  2. النحل 16:96
  3. النحل 16:97
  4. النحل 16:98
  5. النحل 16:99
  6. النحل 16:100
  7. النحل 16:101
  8. النحل 16:102
  9. النحل 16:103
  10. النحل 16:104
  11. النحل 16:105
  12. النحل 16:106
  13. النحل 16:107
  14. النحل 16:108
  15. النحل 16:109
  16. النحل 16:110
  17. النحل 16:111
  18. النحل 16:112
  19. النحل 16:113
  20. النحل 16:114
  21. النحل 16:115
  22. النحل 16:116
  23. النحل 16:117
  24. النحل 16:118
  25. النحل 16:119
  26. النحل 16:120
  27. النحل 16:121
  28. النحل 16:122
  29. النحل 16:123
  30. النحل 16:124
  31. النحل 16:125
  32. النحل 16:126
  33. النحل 16:127
  34. النحل 16:128
  35. الإسراء 17:1
  36. الإسراء 17:2
  37. الإسراء 17:3
  38. الإسراء 17:4
  39. الإسراء 17:5
  40. الإسراء 17:6
  41. الإسراء 17:7
  42. الإسراء 17:8
  43. الإسراء 17:9
  44. الإسراء 17:10
  45. الإسراء 17:11
  46. الإسراء 17:12
  47. الإسراء 17:13
  48. الإسراء 17:14
  49. الإسراء 17:15
  50. الإسراء 17:16
  51. الإسراء 17:17
  52. الإسراء 17:18
  53. الإسراء 17:19
  54. الإسراء 17:20
  55. الإسراء 17:21
  56. الإسراء 17:22
  57. الإسراء 17:23
  58. الإسراء 17:24
  59. الإسراء 17:25
  60. الإسراء 17:26
  61. الإسراء 17:27
  62. الإسراء 17:28
  63. الإسراء 17:29
  64. الإسراء 17:30
  65. الإسراء 17:31
  66. الإسراء 17:32
  67. الإسراء 17:33
  68. الإسراء 17:34
  69. الإسراء 17:35
  70. الإسراء 17:36
  71. الإسراء 17:37
  72. الإسراء 17:38
  73. الإسراء 17:39
  74. الإسراء 17:40
  75. الإسراء 17:41
  76. الإسراء 17:42
  77. الإسراء 17:43
  78. الإسراء 17:44
  79. الإسراء 17:45
  80. الإسراء 17:46
  81. الإسراء 17:47
  82. الإسراء 17:48
  83. الإسراء 17:49
  84. الإسراء 17:50
  85. الإسراء 17:51
  86. الإسراء 17:52
  87. الإسراء 17:53
  88. الإسراء 17:54
  89. الإسراء 17:55
  90. الإسراء 17:56
  91. الإسراء 17:57
  92. الإسراء 17:58
  93. الإسراء 17:59
  94. الإسراء 17:60
  95. الإسراء 17:61
  96. الإسراء 17:62
  97. الإسراء 17:63
  98. الإسراء 17:64
  99. الإسراء 17:65
  100. الإسراء 17:66
  101. الإسراء 17:67
  102. الإسراء 17:68
  103. الإسراء 17:69
  104. الإسراء 17:70
  105. الإسراء 17:71
  106. الإسراء 17:72
  107. الإسراء 17:73
  108. الإسراء 17:74
  109. الإسراء 17:75
  110. الإسراء 17:76
  111. الإسراء 17:77
  112. الإسراء 17:78
  113. الإسراء 17:79
  114. الإسراء 17:80
  115. الإسراء 17:81
  116. الإسراء 17:82
  117. الإسراء 17:83
  118. الإسراء 17:84
  119. الإسراء 17:85
  120. الإسراء 17:86
  121. الإسراء 17:87
  122. الإسراء 17:88
  123. الإسراء 17:89
  124. الإسراء 17:90
  125. الإسراء 17:91

النحل 16:95

اور نہ خریدو تم بدلے میں اللہ کے عہد کے قیمت تھوڑی (دنیوی فائدہ) یقینا جو (اجر) اللہ کے ہاں ہے وہ بہت ہی بہتر ہے واسطے تمھارے، اگر ہو تم جانتے (95) جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ فنا ہو جائے گا اور جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ (ہمیشہ) باقی رہنے والا ہےاور البتہ ضرور ہم بدلہ (میں ) دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، اجروثواب ان کا زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (96) جس نے عمل کیا نیک، مرد ہو یا عورت، جبکہ وہ مومن ہو تو زندگی بخشیں گے ہم اس کو (دنیا میں ) زندگی پاکیزہ اور البتہ ضرور بدلہ (میں ) دیں گے ان کو اجروثواب ان کا، زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (97) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول‘‘ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بدعہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ ﴿ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک جو اللہ کے ہاں ہے‘‘ دنیوی اور اخروی ثواب، اس شخص کے لیے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس سے لیا۔ ﴿ هُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ اور وہ زائل ہو جانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔ [96] پس انھوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہو جانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ ﴿مَا عِنۡدَكُمۡ﴾ ’’جو کچھ تمھارے پاس ہے‘‘ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ﴿يَنۡفَدُ﴾ ’’وہ ختم (ہو کر فنا) ہو جائے گا‘‘ ﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہے گا‘‘ کیونکہ وہ خود باقی رہنے والا ہے، اسے فنا اور زوال نہیں ۔ پس وہ شخص عقل مند نہیں جو فانی اور خسیس چیز کو ہمیشہ رہنے والی نفیس چیز پر ترجیح دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الاعلیٰ : 87؍ 16۔ 17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔‘‘ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ﴾(آل عمران : 3؍ 198) ’’اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دی گئی ہے، خاص طور پر زہد متعین اور اس سے مراد ان چیزوں میں بے رغبتی اور ان سے پہلو بچانا ہے جو بندے کے لیے ضرر رساں ہیں اور اس بات کی موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی واجب کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ کر ان دنیاوی چیزوں میں مشغول ہو جائے اور حقوق اللہ پر ان دنیاوی چیزوں کو ترجیح دینے لگے، اس لیے کہ یہ زہد فرض ہے۔ زہد کے اسباب میں سے ایک داعیہ (سبب) یہ ہے کہ بندہ دنیا کی ناپائیدار لذات و شہوات کا آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ تقابل کرے۔ وہ ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور تفاوت پائے گا اور یہ تفاوت اسے بلند تر چیز کو ترجیح دینے پر آمادہ کرے گا۔اور عبادات ، مثلاً:نماز، روزے اور ذکر اذکار وغیرہ پر توجہ مرکوز کر کے دنیا سے منقطع ہوجانا، زہد ممدوح نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں زاہد بننا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ بندہ مقدور بھر شریعت کے ظاہری اور باطنی احکام کی تعمیل نہ کرے اور قول و فعل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت نہ دے۔ پس حقیقی زہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز سے منہ موڑ لے جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں اور ہر اس چیز کے حصول کے لیے رغبت کے ساتھ کوشش کرے جو دین و دنیا میں فائدہ مند ہے۔﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اور اس نافرمانی سے باز رہ کر صبر کرتے ہیں اور دنیاوی شہوات سے منہ موڑ لیتے ہیں جو ان کے دین کے لیے مضر ہیں ۔ ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ۔‘‘ یعنی نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک۔ کیونکہ جو کوئی نیک کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ [97] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ﴾ ’’جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو‘‘ اس لیے کہ ایمان، اعمال صالحہ کی صحت اور ان کی قبولیت کے لیے شرط ہے بلکہ اعمال صالحہ کو ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان، اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ایمان تصدیق جازم کا نام ہے۔ واجبات و مستحبات پر مشتمل اعمال جوارح ایمان کا ثمرہ ہیں ۔پس جو کوئی ایمان اور عمل صالح کو جمع کر لیتا ہے ﴿ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً﴾ ’’تو ہم اس کو زندگی دیں گے اچھی زندگی‘‘ یہ زندگی اطمینان قلب، سکون نفس اور ان امور کی طرف عدم التفات پر مشمل ہے جو قلب کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح رزق حلال سے نوازتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے ان کو‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں مختلف قسم کی لذات سے نوازے گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی بھلائی سے نوازے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔

النحل 16:96

اور نہ خریدو تم بدلے میں اللہ کے عہد کے قیمت تھوڑی (دنیوی فائدہ) یقینا جو (اجر) اللہ کے ہاں ہے وہ بہت ہی بہتر ہے واسطے تمھارے، اگر ہو تم جانتے (95) جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ فنا ہو جائے گا اور جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ (ہمیشہ) باقی رہنے والا ہےاور البتہ ضرور ہم بدلہ (میں ) دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، اجروثواب ان کا زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (96) جس نے عمل کیا نیک، مرد ہو یا عورت، جبکہ وہ مومن ہو تو زندگی بخشیں گے ہم اس کو (دنیا میں ) زندگی پاکیزہ اور البتہ ضرور بدلہ (میں ) دیں گے ان کو اجروثواب ان کا، زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (97) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول‘‘ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بدعہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ ﴿ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک جو اللہ کے ہاں ہے‘‘ دنیوی اور اخروی ثواب، اس شخص کے لیے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس سے لیا۔ ﴿ هُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ اور وہ زائل ہو جانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔ [96] پس انھوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہو جانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ ﴿مَا عِنۡدَكُمۡ﴾ ’’جو کچھ تمھارے پاس ہے‘‘ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ﴿يَنۡفَدُ﴾ ’’وہ ختم (ہو کر فنا) ہو جائے گا‘‘ ﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہے گا‘‘ کیونکہ وہ خود باقی رہنے والا ہے، اسے فنا اور زوال نہیں ۔ پس وہ شخص عقل مند نہیں جو فانی اور خسیس چیز کو ہمیشہ رہنے والی نفیس چیز پر ترجیح دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الاعلیٰ : 87؍ 16۔ 17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔‘‘ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ﴾(آل عمران : 3؍ 198) ’’اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دی گئی ہے، خاص طور پر زہد متعین اور اس سے مراد ان چیزوں میں بے رغبتی اور ان سے پہلو بچانا ہے جو بندے کے لیے ضرر رساں ہیں اور اس بات کی موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی واجب کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ کر ان دنیاوی چیزوں میں مشغول ہو جائے اور حقوق اللہ پر ان دنیاوی چیزوں کو ترجیح دینے لگے، اس لیے کہ یہ زہد فرض ہے۔ زہد کے اسباب میں سے ایک داعیہ (سبب) یہ ہے کہ بندہ دنیا کی ناپائیدار لذات و شہوات کا آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ تقابل کرے۔ وہ ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور تفاوت پائے گا اور یہ تفاوت اسے بلند تر چیز کو ترجیح دینے پر آمادہ کرے گا۔اور عبادات ، مثلاً:نماز، روزے اور ذکر اذکار وغیرہ پر توجہ مرکوز کر کے دنیا سے منقطع ہوجانا، زہد ممدوح نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں زاہد بننا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ بندہ مقدور بھر شریعت کے ظاہری اور باطنی احکام کی تعمیل نہ کرے اور قول و فعل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت نہ دے۔ پس حقیقی زہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز سے منہ موڑ لے جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں اور ہر اس چیز کے حصول کے لیے رغبت کے ساتھ کوشش کرے جو دین و دنیا میں فائدہ مند ہے۔﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اور اس نافرمانی سے باز رہ کر صبر کرتے ہیں اور دنیاوی شہوات سے منہ موڑ لیتے ہیں جو ان کے دین کے لیے مضر ہیں ۔ ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ۔‘‘ یعنی نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک۔ کیونکہ جو کوئی نیک کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ [97] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ﴾ ’’جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو‘‘ اس لیے کہ ایمان، اعمال صالحہ کی صحت اور ان کی قبولیت کے لیے شرط ہے بلکہ اعمال صالحہ کو ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان، اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ایمان تصدیق جازم کا نام ہے۔ واجبات و مستحبات پر مشتمل اعمال جوارح ایمان کا ثمرہ ہیں ۔پس جو کوئی ایمان اور عمل صالح کو جمع کر لیتا ہے ﴿ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً﴾ ’’تو ہم اس کو زندگی دیں گے اچھی زندگی‘‘ یہ زندگی اطمینان قلب، سکون نفس اور ان امور کی طرف عدم التفات پر مشمل ہے جو قلب کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح رزق حلال سے نوازتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے ان کو‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں مختلف قسم کی لذات سے نوازے گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی بھلائی سے نوازے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔

النحل 16:97

اور نہ خریدو تم بدلے میں اللہ کے عہد کے قیمت تھوڑی (دنیوی فائدہ) یقینا جو (اجر) اللہ کے ہاں ہے وہ بہت ہی بہتر ہے واسطے تمھارے، اگر ہو تم جانتے (95) جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ فنا ہو جائے گا اور جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ (ہمیشہ) باقی رہنے والا ہےاور البتہ ضرور ہم بدلہ (میں ) دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، اجروثواب ان کا زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (96) جس نے عمل کیا نیک، مرد ہو یا عورت، جبکہ وہ مومن ہو تو زندگی بخشیں گے ہم اس کو (دنیا میں ) زندگی پاکیزہ اور البتہ ضرور بدلہ (میں ) دیں گے ان کو اجروثواب ان کا، زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (97) [95] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول‘‘ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بدعہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ ﴿ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک جو اللہ کے ہاں ہے‘‘ دنیوی اور اخروی ثواب، اس شخص کے لیے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس سے لیا۔ ﴿ هُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ اور وہ زائل ہو جانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔ [96] پس انھوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہو جانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ ﴿مَا عِنۡدَكُمۡ﴾ ’’جو کچھ تمھارے پاس ہے‘‘ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ﴿يَنۡفَدُ﴾ ’’وہ ختم (ہو کر فنا) ہو جائے گا‘‘ ﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہے گا‘‘ کیونکہ وہ خود باقی رہنے والا ہے، اسے فنا اور زوال نہیں ۔ پس وہ شخص عقل مند نہیں جو فانی اور خسیس چیز کو ہمیشہ رہنے والی نفیس چیز پر ترجیح دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الاعلیٰ : 87؍ 16۔ 17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔‘‘ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ﴾(آل عمران : 3؍ 198) ’’اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دی گئی ہے، خاص طور پر زہد متعین اور اس سے مراد ان چیزوں میں بے رغبتی اور ان سے پہلو بچانا ہے جو بندے کے لیے ضرر رساں ہیں اور اس بات کی موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی واجب کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ کر ان دنیاوی چیزوں میں مشغول ہو جائے اور حقوق اللہ پر ان دنیاوی چیزوں کو ترجیح دینے لگے، اس لیے کہ یہ زہد فرض ہے۔ زہد کے اسباب میں سے ایک داعیہ (سبب) یہ ہے کہ بندہ دنیا کی ناپائیدار لذات و شہوات کا آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ تقابل کرے۔ وہ ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور تفاوت پائے گا اور یہ تفاوت اسے بلند تر چیز کو ترجیح دینے پر آمادہ کرے گا۔اور عبادات ، مثلاً:نماز، روزے اور ذکر اذکار وغیرہ پر توجہ مرکوز کر کے دنیا سے منقطع ہوجانا، زہد ممدوح نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں زاہد بننا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ بندہ مقدور بھر شریعت کے ظاہری اور باطنی احکام کی تعمیل نہ کرے اور قول و فعل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت نہ دے۔ پس حقیقی زہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز سے منہ موڑ لے جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں اور ہر اس چیز کے حصول کے لیے رغبت کے ساتھ کوشش کرے جو دین و دنیا میں فائدہ مند ہے۔﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اور اس نافرمانی سے باز رہ کر صبر کرتے ہیں اور دنیاوی شہوات سے منہ موڑ لیتے ہیں جو ان کے دین کے لیے مضر ہیں ۔ ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ۔‘‘ یعنی نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک۔ کیونکہ جو کوئی نیک کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ [97] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ﴾ ’’جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو‘‘ اس لیے کہ ایمان، اعمال صالحہ کی صحت اور ان کی قبولیت کے لیے شرط ہے بلکہ اعمال صالحہ کو ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان، اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ایمان تصدیق جازم کا نام ہے۔ واجبات و مستحبات پر مشتمل اعمال جوارح ایمان کا ثمرہ ہیں ۔پس جو کوئی ایمان اور عمل صالح کو جمع کر لیتا ہے ﴿ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً﴾ ’’تو ہم اس کو زندگی دیں گے اچھی زندگی‘‘ یہ زندگی اطمینان قلب، سکون نفس اور ان امور کی طرف عدم التفات پر مشمل ہے جو قلب کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح رزق حلال سے نوازتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے ان کو‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں مختلف قسم کی لذات سے نوازے گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی بھلائی سے نوازے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔

النحل 16:98

پس جب آپ پڑھنے لگیں قرآن تو پناہ طلب کریں اللہ کی، شیطان مردود سے (98) بلاشبہ وہ (شیطان) نہیں ہے اس کے لیے کوئی غلبہ اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائےاور اوپر اپنے رب کے وہ بھروسہ کرتے ہیں (99) یقینا اس کا غلبہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو دوستی کرتے ہیں اس سےاور (ان پر) جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں (100) [100-98] یعنی جب آپ کتاب اللہ کی قرأت کا ارادہ کریں ، جو تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل اور جلیل ترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں دلوں کی اصلاح اور بہت سے علوم پنہاں ہیں ۔ بندہ جب فضیلت والے امور کی ابتداء کرتا ہے تو شیطان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بندے کو ان کے مقاصد اور معانی سے دور کر دے۔ شیطان کے شر سے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے لیے التجا کرے، چنانچہ کتاب اللہ کی قرأت کرنے والا تعوذ کے معانی میں تدبر کے ساتھ (أعوذ باللٰہ من الشیطان الرجیم) پڑھے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے کہ وہ شیطان کے شر کو اس سے دور رکھے گا۔ وہ شیطان کے وسوسوں اور ردی افکار کو دور جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور ان وسوسوں کو دفع کرنے کے لیے مضبوط ترین سبب استعمال کرے اور وہ ہے ایمان اور توکل کے زیور سے آراستہ ہونا اس لیے کہ شیطان ﴿ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’اسے کوئی تسلط حاصل نہیں ‘‘ ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر‘‘ جس کا کوئی شریک نہیں ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ ’’بھروسہ کرتے ہیں ۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ توکل کرنے والے اہل ایمان سے شیطان کے شر کو دور ہٹا دیتا ہے اور شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ ﴾ یعنی شیطان کا تسلط ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ ﴾ ’’صرف انھی لوگوں پر ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں ‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس کے گروہ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شیطان کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں ۔ شیطان ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ابھارتا رہتا ہے اور انھیں جہنم کے راستوں پر لے جاتا ہے۔

النحل 16:99

پس جب آپ پڑھنے لگیں قرآن تو پناہ طلب کریں اللہ کی، شیطان مردود سے (98) بلاشبہ وہ (شیطان) نہیں ہے اس کے لیے کوئی غلبہ اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائےاور اوپر اپنے رب کے وہ بھروسہ کرتے ہیں (99) یقینا اس کا غلبہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو دوستی کرتے ہیں اس سےاور (ان پر) جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں (100) [100-98] یعنی جب آپ کتاب اللہ کی قرأت کا ارادہ کریں ، جو تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل اور جلیل ترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں دلوں کی اصلاح اور بہت سے علوم پنہاں ہیں ۔ بندہ جب فضیلت والے امور کی ابتداء کرتا ہے تو شیطان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بندے کو ان کے مقاصد اور معانی سے دور کر دے۔ شیطان کے شر سے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے لیے التجا کرے، چنانچہ کتاب اللہ کی قرأت کرنے والا تعوذ کے معانی میں تدبر کے ساتھ (أعوذ باللٰہ من الشیطان الرجیم) پڑھے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے کہ وہ شیطان کے شر کو اس سے دور رکھے گا۔ وہ شیطان کے وسوسوں اور ردی افکار کو دور جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور ان وسوسوں کو دفع کرنے کے لیے مضبوط ترین سبب استعمال کرے اور وہ ہے ایمان اور توکل کے زیور سے آراستہ ہونا اس لیے کہ شیطان ﴿ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’اسے کوئی تسلط حاصل نہیں ‘‘ ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر‘‘ جس کا کوئی شریک نہیں ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ ’’بھروسہ کرتے ہیں ۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ توکل کرنے والے اہل ایمان سے شیطان کے شر کو دور ہٹا دیتا ہے اور شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ ﴾ یعنی شیطان کا تسلط ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ ﴾ ’’صرف انھی لوگوں پر ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں ‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس کے گروہ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شیطان کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں ۔ شیطان ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ابھارتا رہتا ہے اور انھیں جہنم کے راستوں پر لے جاتا ہے۔

النحل 16:100

پس جب آپ پڑھنے لگیں قرآن تو پناہ طلب کریں اللہ کی، شیطان مردود سے (98) بلاشبہ وہ (شیطان) نہیں ہے اس کے لیے کوئی غلبہ اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائےاور اوپر اپنے رب کے وہ بھروسہ کرتے ہیں (99) یقینا اس کا غلبہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو دوستی کرتے ہیں اس سےاور (ان پر) جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں (100) [100-98] یعنی جب آپ کتاب اللہ کی قرأت کا ارادہ کریں ، جو تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل اور جلیل ترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں دلوں کی اصلاح اور بہت سے علوم پنہاں ہیں ۔ بندہ جب فضیلت والے امور کی ابتداء کرتا ہے تو شیطان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بندے کو ان کے مقاصد اور معانی سے دور کر دے۔ شیطان کے شر سے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے لیے التجا کرے، چنانچہ کتاب اللہ کی قرأت کرنے والا تعوذ کے معانی میں تدبر کے ساتھ (أعوذ باللٰہ من الشیطان الرجیم) پڑھے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے کہ وہ شیطان کے شر کو اس سے دور رکھے گا۔ وہ شیطان کے وسوسوں اور ردی افکار کو دور جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور ان وسوسوں کو دفع کرنے کے لیے مضبوط ترین سبب استعمال کرے اور وہ ہے ایمان اور توکل کے زیور سے آراستہ ہونا اس لیے کہ شیطان ﴿ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’اسے کوئی تسلط حاصل نہیں ‘‘ ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر‘‘ جس کا کوئی شریک نہیں ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ ’’بھروسہ کرتے ہیں ۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ توکل کرنے والے اہل ایمان سے شیطان کے شر کو دور ہٹا دیتا ہے اور شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ ﴾ یعنی شیطان کا تسلط ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ ﴾ ’’صرف انھی لوگوں پر ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں ‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس کے گروہ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شیطان کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں ۔ شیطان ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ابھارتا رہتا ہے اور انھیں جہنم کے راستوں پر لے جاتا ہے۔

النحل 16:101

اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو بجائے (دوسری) آیت کے اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو وہ نازل کرتا ہے تو کہتے ہیں وہ (کافر) یقینا تو خود گھڑ لانے والا ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے (101) آپ کہہ دیجیے، نازل کیا ہے اس (قرآن) کو جبریل نے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کےتاکہ ثابت (قدم) رکھے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائےاورہدایت اور خوشخبری ہے واسطے مسلمانوں کے (102) اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں کہ بے شک وہ (کفار) کہتے ہیں کہ یقینا سکھاتا ہے اس کو (قرآن) ایک آدمی، (حالانکہ) زبان اس شخص کی کہ غلط نسبت کرتے ہیں وہ (قرآن کی) اس کی طرف، عجمی (غیر فصیح) ہےاور یہ (قرآن تو) زبان عربی ہے واضح (103) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لیے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے، جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہﷺ اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں ۔‘‘ پس وہ جاہل ہیں جنھیں اپنے رب کے بارے میں کچھ علم ہے نہ شریعت کے بارے میں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جاہل کی جرح و قدح کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ کسی چیز کے بارے میں جرح و قدح اس کے بارے میں علم کی ایک شاخ ہے جو مدح اور قدح کی موجب ہے۔ [102] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَزَّلَهٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کو روح القدس نے اتارا‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرشتے جناب جبریلu ہیں جو نہایت مقدس اور ہر عیب، خیانت اور آفت سے پاک ہیں ۔ ﴿مِنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾’’آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی خبریں اور اس کے اوامر و نواہی حق پر مشتمل ہیں ۔ پس کسی کے لیے گنجائش نہیں کہ اس میں بامعنی جرح و قدح کر سکے کیونکہ جب اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ حق ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جو چیز اس کے متناقض اور معارض ہے، وہ باطل ہے۔﴿ لِيُثَبِّتَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو‘‘ وقتاً فوقتاً اس کی آیات کے نزول اور ان پر توارد کے وقت۔ اور یوں رفتہ رفتہ حق ان کے دلوں میں جا گزیں ہو کر پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم مشروع کر کے اسے منسوخ کر دیتا ہے تو انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اسی جیسے یا اس سے بہتر کسی اور حکم سے بدل دیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا کسی حکم کو منسوخ کرنا حکمت ربانی اور عقلی مناسبت رکھتا ہے۔ ﴿ وَهُدًى وَّبُشۡرٰؔى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور ہدایت اور خوش خبری ہے واسطے مسلمانوں کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اشیاء کے حقائق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے، ان کے سامنے باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتا ہے اور وہ انھیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے، نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے احکام کو رفتہ رفتہ نازل کرنا اہل ایمان کے لیے زیادہ ہدایت اور بشارت کا باعث بنتا ہے۔ یک بارگی نازل کرنے سے فکر تفرق اور تشتت کا شکار ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ حکم اور بشارت کو زیادہ کثرت سے نازل کرتا ہے۔ جب اہل ایمان ایک حکم کو سمجھ کر اس کی فہم حاصل کر لیتے ہیں ، انھیں اس کی مراد کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ اس کے مفاہیم و معانی سے خوب سیراب ہو جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس جیسا ایک اور حکم نازل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامy کتاب اللہ پر عمل کر کے بہت بڑے مقام پر پہنچ گئے، ان کی عادات اور طبائع بدل گئیں اور انھوں نے ایسے اخلاق، عادتیں اور اعمال اختیار کر لیے جن کی بنا پر وہ تمام اولین و آخرین سے بڑھ گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کے علوم کے ذریعے سے اپنی تربیت کریں ، اس کے اخلاق کو اپنائیں ، گمراہی اور جہالتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں اور تمام حالات میں اس کو اپنا راہنما بنائیں پس اس طرح ہی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات درست رہیں گے۔

النحل 16:102

اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو بجائے (دوسری) آیت کے اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو وہ نازل کرتا ہے تو کہتے ہیں وہ (کافر) یقینا تو خود گھڑ لانے والا ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے (101) آپ کہہ دیجیے، نازل کیا ہے اس (قرآن) کو جبریل نے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کےتاکہ ثابت (قدم) رکھے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائےاورہدایت اور خوشخبری ہے واسطے مسلمانوں کے (102) اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں کہ بے شک وہ (کفار) کہتے ہیں کہ یقینا سکھاتا ہے اس کو (قرآن) ایک آدمی، (حالانکہ) زبان اس شخص کی کہ غلط نسبت کرتے ہیں وہ (قرآن کی) اس کی طرف، عجمی (غیر فصیح) ہےاور یہ (قرآن تو) زبان عربی ہے واضح (103) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لیے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے، جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہﷺ اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں ۔‘‘ پس وہ جاہل ہیں جنھیں اپنے رب کے بارے میں کچھ علم ہے نہ شریعت کے بارے میں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جاہل کی جرح و قدح کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ کسی چیز کے بارے میں جرح و قدح اس کے بارے میں علم کی ایک شاخ ہے جو مدح اور قدح کی موجب ہے۔ [102] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَزَّلَهٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کو روح القدس نے اتارا‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرشتے جناب جبریلu ہیں جو نہایت مقدس اور ہر عیب، خیانت اور آفت سے پاک ہیں ۔ ﴿مِنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾’’آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی خبریں اور اس کے اوامر و نواہی حق پر مشتمل ہیں ۔ پس کسی کے لیے گنجائش نہیں کہ اس میں بامعنی جرح و قدح کر سکے کیونکہ جب اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ حق ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جو چیز اس کے متناقض اور معارض ہے، وہ باطل ہے۔﴿ لِيُثَبِّتَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو‘‘ وقتاً فوقتاً اس کی آیات کے نزول اور ان پر توارد کے وقت۔ اور یوں رفتہ رفتہ حق ان کے دلوں میں جا گزیں ہو کر پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم مشروع کر کے اسے منسوخ کر دیتا ہے تو انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اسی جیسے یا اس سے بہتر کسی اور حکم سے بدل دیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا کسی حکم کو منسوخ کرنا حکمت ربانی اور عقلی مناسبت رکھتا ہے۔ ﴿ وَهُدًى وَّبُشۡرٰؔى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور ہدایت اور خوش خبری ہے واسطے مسلمانوں کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اشیاء کے حقائق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے، ان کے سامنے باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتا ہے اور وہ انھیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے، نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے احکام کو رفتہ رفتہ نازل کرنا اہل ایمان کے لیے زیادہ ہدایت اور بشارت کا باعث بنتا ہے۔ یک بارگی نازل کرنے سے فکر تفرق اور تشتت کا شکار ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ حکم اور بشارت کو زیادہ کثرت سے نازل کرتا ہے۔ جب اہل ایمان ایک حکم کو سمجھ کر اس کی فہم حاصل کر لیتے ہیں ، انھیں اس کی مراد کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ اس کے مفاہیم و معانی سے خوب سیراب ہو جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس جیسا ایک اور حکم نازل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامy کتاب اللہ پر عمل کر کے بہت بڑے مقام پر پہنچ گئے، ان کی عادات اور طبائع بدل گئیں اور انھوں نے ایسے اخلاق، عادتیں اور اعمال اختیار کر لیے جن کی بنا پر وہ تمام اولین و آخرین سے بڑھ گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کے علوم کے ذریعے سے اپنی تربیت کریں ، اس کے اخلاق کو اپنائیں ، گمراہی اور جہالتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں اور تمام حالات میں اس کو اپنا راہنما بنائیں پس اس طرح ہی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات درست رہیں گے۔

النحل 16:103

بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کے، نہیں ہدایت دیتا انھیں اللہ اور ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (104) یقینا باندھتے ہیں جھوٹ تو صرف وہی لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کےاور وہ لوگ، وہی ہیں جھوٹے (105) [103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ اَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے‘‘ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں ﴿بَشَرٌ﴾ ’’ایک آدمی‘‘ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے ﴿وَهٰؔذَا ﴾ اور یہ قرآن ﴿ لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’زبان عربی ہے صاف‘‘ کیا یہ بات ممکن ہے؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہو سکتا ہے؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فساد کی حامل ہو گی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہو گا۔ [104]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے‘‘ جو نہایت صراحت کے ساتھ حق مبین پر دلالت کرتی ہیں ۔ پس یہ لوگ ان آیات کریمہ کو ٹھکراتے ہیں اور انھیں قبول نہیں کرتے۔ ﴿ لَا يَهۡدِيۡهِمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا اس لیے ان کو یہ سزا دی گئی کہ ان کو ہدایت سے محروم کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ﴿ وَلَهُمۡ﴾ ’’اور ان کے واسطے‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’دردناک عذاب ہے۔‘‘ [105]﴿ اِنَّمَا يَفۡتَرِي الۡكَذِبَ ﴾ یعنی جھوٹ اور افترا پردازی ان لوگوں سے صادر ہوتی ہے ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ ، مثلاً: وہ لوگ جو واضح دلائل آ جانے کے بعد بھی رسول اللہﷺ سے عناد رکھتے ہیں ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہی لوگ جھوٹے ہیں ‘‘ یعنی جھوٹ ان میں منحصر ہے اور دوسروں کی بجائے وہی جھوٹ کے اطلاق کے زیادہ مستحق ہیں ۔ رہے محمد مصطفیﷺ تو وہ آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکتے ہیں اس لیے محال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی بات منسوب کریں جو اس نے نہیں کہی۔ پس آپ کے دشمنوں نے آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا، حالانکہ جھوٹ خود ان کا اپنا وصف تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو ظاہر اور ان کی فضیحت کو واضح کر دیا۔ پس ہر قسم کی ستائش اسی کے لیے ہے۔

النحل 16:104

بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کے، نہیں ہدایت دیتا انھیں اللہ اور ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (104) یقینا باندھتے ہیں جھوٹ تو صرف وہی لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کےاور وہ لوگ، وہی ہیں جھوٹے (105) [103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ اَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے‘‘ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں ﴿بَشَرٌ﴾ ’’ایک آدمی‘‘ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے ﴿وَهٰؔذَا ﴾ اور یہ قرآن ﴿ لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’زبان عربی ہے صاف‘‘ کیا یہ بات ممکن ہے؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہو سکتا ہے؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فساد کی حامل ہو گی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہو گا۔ [104]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے‘‘ جو نہایت صراحت کے ساتھ حق مبین پر دلالت کرتی ہیں ۔ پس یہ لوگ ان آیات کریمہ کو ٹھکراتے ہیں اور انھیں قبول نہیں کرتے۔ ﴿ لَا يَهۡدِيۡهِمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا اس لیے ان کو یہ سزا دی گئی کہ ان کو ہدایت سے محروم کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ﴿ وَلَهُمۡ﴾ ’’اور ان کے واسطے‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’دردناک عذاب ہے۔‘‘ [105]﴿ اِنَّمَا يَفۡتَرِي الۡكَذِبَ ﴾ یعنی جھوٹ اور افترا پردازی ان لوگوں سے صادر ہوتی ہے ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ ، مثلاً: وہ لوگ جو واضح دلائل آ جانے کے بعد بھی رسول اللہﷺ سے عناد رکھتے ہیں ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہی لوگ جھوٹے ہیں ‘‘ یعنی جھوٹ ان میں منحصر ہے اور دوسروں کی بجائے وہی جھوٹ کے اطلاق کے زیادہ مستحق ہیں ۔ رہے محمد مصطفیﷺ تو وہ آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکتے ہیں اس لیے محال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی بات منسوب کریں جو اس نے نہیں کہی۔ پس آپ کے دشمنوں نے آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا، حالانکہ جھوٹ خود ان کا اپنا وصف تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو ظاہر اور ان کی فضیحت کو واضح کر دیا۔ پس ہر قسم کی ستائش اسی کے لیے ہے۔

النحل 16:105

بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کے، نہیں ہدایت دیتا انھیں اللہ اور ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (104) یقینا باندھتے ہیں جھوٹ تو صرف وہی لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کےاور وہ لوگ، وہی ہیں جھوٹے (105) [103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ اَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے‘‘ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں ﴿بَشَرٌ﴾ ’’ایک آدمی‘‘ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے ﴿وَهٰؔذَا ﴾ اور یہ قرآن ﴿ لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’زبان عربی ہے صاف‘‘ کیا یہ بات ممکن ہے؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہو سکتا ہے؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فساد کی حامل ہو گی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہو گا۔ [104]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے‘‘ جو نہایت صراحت کے ساتھ حق مبین پر دلالت کرتی ہیں ۔ پس یہ لوگ ان آیات کریمہ کو ٹھکراتے ہیں اور انھیں قبول نہیں کرتے۔ ﴿ لَا يَهۡدِيۡهِمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا اس لیے ان کو یہ سزا دی گئی کہ ان کو ہدایت سے محروم کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ﴿ وَلَهُمۡ﴾ ’’اور ان کے واسطے‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’دردناک عذاب ہے۔‘‘ [105]﴿ اِنَّمَا يَفۡتَرِي الۡكَذِبَ ﴾ یعنی جھوٹ اور افترا پردازی ان لوگوں سے صادر ہوتی ہے ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ ، مثلاً: وہ لوگ جو واضح دلائل آ جانے کے بعد بھی رسول اللہﷺ سے عناد رکھتے ہیں ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہی لوگ جھوٹے ہیں ‘‘ یعنی جھوٹ ان میں منحصر ہے اور دوسروں کی بجائے وہی جھوٹ کے اطلاق کے زیادہ مستحق ہیں ۔ رہے محمد مصطفیﷺ تو وہ آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکتے ہیں اس لیے محال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی بات منسوب کریں جو اس نے نہیں کہی۔ پس آپ کے دشمنوں نے آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا، حالانکہ جھوٹ خود ان کا اپنا وصف تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو ظاہر اور ان کی فضیحت کو واضح کر دیا۔ پس ہر قسم کی ستائش اسی کے لیے ہے۔

النحل 16:106

جو شخص کفر کرے ساتھ اللہ کے بعد اپنے ایمان کے ، سوائے اس شخص کے جو مجبور کیاجائے اور دل اس کا مطمئن ہو ایمان پر لیکن وہ شخص جس نے کھول دیا ساتھ کفر کے سینہ (اپنا) تو ایسے لوگوں پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (106) یہ، اس لیے کہ انھوں نے پسند کیا زندگانئ دنیا کو اوپر آخرت کےاور بے شک اللہ، نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو (107) یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کےاور یہ لوگ، وہی ہیں غافل (108) یقینا بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (109) [108-106] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احوال بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ ﴾ ’’جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد‘‘ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا، راہ پا لینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے برضا و رغبت، شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کر لیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾’’اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر‘‘ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس جب انھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا اور ان کی راہنمائی نہ کی کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کر سکتی جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہو گئی، رسوائی نے ان کا احاطہ کر لیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے پاس آئی انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور وہ ان پر پیش کی گئی مگر انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔ [109]﴿ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔

النحل 16:107

جو شخص کفر کرے ساتھ اللہ کے بعد اپنے ایمان کے ، سوائے اس شخص کے جو مجبور کیاجائے اور دل اس کا مطمئن ہو ایمان پر لیکن وہ شخص جس نے کھول دیا ساتھ کفر کے سینہ (اپنا) تو ایسے لوگوں پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (106) یہ، اس لیے کہ انھوں نے پسند کیا زندگانئ دنیا کو اوپر آخرت کےاور بے شک اللہ، نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو (107) یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کےاور یہ لوگ، وہی ہیں غافل (108) یقینا بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (109) [108-106] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احوال بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ ﴾ ’’جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد‘‘ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا، راہ پا لینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے برضا و رغبت، شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کر لیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾’’اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر‘‘ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس جب انھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا اور ان کی راہنمائی نہ کی کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کر سکتی جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہو گئی، رسوائی نے ان کا احاطہ کر لیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے پاس آئی انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور وہ ان پر پیش کی گئی مگر انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔ [109]﴿ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔

النحل 16:108

جو شخص کفر کرے ساتھ اللہ کے بعد اپنے ایمان کے ، سوائے اس شخص کے جو مجبور کیاجائے اور دل اس کا مطمئن ہو ایمان پر لیکن وہ شخص جس نے کھول دیا ساتھ کفر کے سینہ (اپنا) تو ایسے لوگوں پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (106) یہ، اس لیے کہ انھوں نے پسند کیا زندگانئ دنیا کو اوپر آخرت کےاور بے شک اللہ، نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو (107) یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کےاور یہ لوگ، وہی ہیں غافل (108) یقینا بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (109) [108-106] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احوال بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ ﴾ ’’جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد‘‘ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا، راہ پا لینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے برضا و رغبت، شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کر لیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾’’اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر‘‘ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس جب انھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا اور ان کی راہنمائی نہ کی کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کر سکتی جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہو گئی، رسوائی نے ان کا احاطہ کر لیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے پاس آئی انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور وہ ان پر پیش کی گئی مگر انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔ [109]﴿ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔

النحل 16:109

جو شخص کفر کرے ساتھ اللہ کے بعد اپنے ایمان کے ، سوائے اس شخص کے جو مجبور کیاجائے اور دل اس کا مطمئن ہو ایمان پر لیکن وہ شخص جس نے کھول دیا ساتھ کفر کے سینہ (اپنا) تو ایسے لوگوں پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (106) یہ، اس لیے کہ انھوں نے پسند کیا زندگانئ دنیا کو اوپر آخرت کےاور بے شک اللہ، نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو (107) یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کےاور یہ لوگ، وہی ہیں غافل (108) یقینا بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (109) [108-106] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احوال بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ ﴾ ’’جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد‘‘ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا، راہ پا لینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے برضا و رغبت، شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کر لیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾’’اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر‘‘ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس جب انھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا اور ان کی راہنمائی نہ کی کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کر سکتی جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہو گئی، رسوائی نے ان کا احاطہ کر لیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے پاس آئی انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور وہ ان پر پیش کی گئی مگر انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔ [109]﴿ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔

النحل 16:110

پھر بلاشبہ آپ کا رب، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ آزمائے گئے، پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا، بے شک آپ کا رب بعد اس کے ، البتہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (110)(یاد کرو!) جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑتا ہوا اپنی بابت اور پورا پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہرنفس کو اس کا جو اس نے عمل کیااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (111) [110] یعنی پھر بلاشبہ آپ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی، اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے، دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے، پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکثر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں ۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کر دیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔ پس قیامت کے روز ان کے لیے رحمت ہے۔ [111]﴿ يَوۡمَ تَاۡتِيۡ كُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِهَا ﴾ ’’جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے‘‘ یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا، پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہو گا۔ ﴿ وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ ﴾ ’’اور پورا ملے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا‘‘ یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہو گا ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یٰسٓ:36؍54) ’’آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمھیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔‘‘

النحل 16:111

پھر بلاشبہ آپ کا رب، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ آزمائے گئے، پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا، بے شک آپ کا رب بعد اس کے ، البتہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (110)(یاد کرو!) جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑتا ہوا اپنی بابت اور پورا پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہرنفس کو اس کا جو اس نے عمل کیااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (111) [110] یعنی پھر بلاشبہ آپ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی، اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے، دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے، پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکثر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں ۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کر دیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔ پس قیامت کے روز ان کے لیے رحمت ہے۔ [111]﴿ يَوۡمَ تَاۡتِيۡ كُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِهَا ﴾ ’’جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے‘‘ یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا، پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہو گا۔ ﴿ وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ ﴾ ’’اور پورا ملے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا‘‘ یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہو گا ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یٰسٓ:36؍54) ’’آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمھیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔‘‘

النحل 16:112

اور بیان کی اللہ نے مثال ایک بستی کی کہ تھی وہ بستی امن والی، چین والی، آتا تھا اس کے پاس رزق اس کا بافراغت ہرجگہ سے، پس ناشکری کی اس (کے باشندوں ) نے اللہ کی نعمتوں کی تو چکھایا انھیں اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا بوجہ اس کے جو تھے وہ کرتے (112) اور البتہ تحقیق آیا ان کے پاس ایک رسول انھی میں سے، پس انھوں نے جھٹلایا اس کو تو آپکڑا ان کو عذاب نے اور وہ ظالم تھے (113) [113,112] اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی، اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلاء بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبۂ انتقام جوش نہیں مارتا تھا، حالانکہ ان میں عربی حمیت و تکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کو آسان کر دیا تھا، ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا، جس کی صداقت اور امانت کو وہ خوب جانتے تھے جو انھیں کامل ترین امور کی طرف دعوت دیتا تھا اور انھیں بری باتوں سے روکتا تھا۔ مگر انھوں نے اسے جھٹلایا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو امن و اطمینان کے برعکس بدامنی کا مزہ چکھایا، انھیں بھوک کا لباس پہنا دیا جو خوشحالی کی ضد ہے اور ان پر خوف طاری کر دیا جو امن کی ضد ہے۔ یہ سب ان کی بداعمالیوں ، ان کے کفر اور ان کی ناشکری کی پاداش میں تھا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ﴾(النحل : 16؍33) ’’اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔‘‘

النحل 16:113

اور بیان کی اللہ نے مثال ایک بستی کی کہ تھی وہ بستی امن والی، چین والی، آتا تھا اس کے پاس رزق اس کا بافراغت ہرجگہ سے، پس ناشکری کی اس (کے باشندوں ) نے اللہ کی نعمتوں کی تو چکھایا انھیں اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا بوجہ اس کے جو تھے وہ کرتے (112) اور البتہ تحقیق آیا ان کے پاس ایک رسول انھی میں سے، پس انھوں نے جھٹلایا اس کو تو آپکڑا ان کو عذاب نے اور وہ ظالم تھے (113) [113,112] اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی، اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلاء بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبۂ انتقام جوش نہیں مارتا تھا، حالانکہ ان میں عربی حمیت و تکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کو آسان کر دیا تھا، ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا، جس کی صداقت اور امانت کو وہ خوب جانتے تھے جو انھیں کامل ترین امور کی طرف دعوت دیتا تھا اور انھیں بری باتوں سے روکتا تھا۔ مگر انھوں نے اسے جھٹلایا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو امن و اطمینان کے برعکس بدامنی کا مزہ چکھایا، انھیں بھوک کا لباس پہنا دیا جو خوشحالی کی ضد ہے اور ان پر خوف طاری کر دیا جو امن کی ضد ہے۔ یہ سب ان کی بداعمالیوں ، ان کے کفر اور ان کی ناشکری کی پاداش میں تھا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ﴾(النحل : 16؍33) ’’اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔‘‘

النحل 16:114

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118) [114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔ [115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔ [116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔ [117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ [118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘

النحل 16:115

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118) [114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔ [115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔ [116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔ [117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ [118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘

النحل 16:116

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118) [114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔ [115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔ [116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔ [117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ [118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘

النحل 16:117

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118) [114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔ [115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔ [116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔ [117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ [118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘

النحل 16:118

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118) [114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔ [115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔ [116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔ [117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ [118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘

النحل 16:119

پھر بے شک آپ کا رب، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے عمل کیے برے بوجہ جہالت کے، پھر توبہ کی انھوں نے بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، بے شک آپ کا رب بعد اس(توبہ) کے یقینا بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (119) [119] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو توبہ کی ترغیب اور انابت کی طرف دعوت ہے۔ اس لیے آگاہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص گناہ کے انجام سے لاعلمی کی بنا پر گناہ کر بیٹھتا ہے، خواہ یہ گناہ عمداً ہی کیوں نہ کیا ہو تو گناہ کے ارتکاب کے وقت اس کے قلب میں لازمی طور پر علم کم ہو جاتا ہے۔ جب وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے، یعنی ترک گناہ کے بعد گناہ پر نادم ہوتا ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، اس پر رحم کرتا ہے، اس کی توبہ قبول کر کے اس کو اس کی پہلی حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے یا پہلے سے بھی بلند تر مقام عطا کرتا ہے۔

النحل 16:120

بلاشبہ ابراہیم تھا ایک امت، فرماں بردار اللہ کا، حق کا پرستاراور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (120) شکر کرنے والا اللہ کی نعمتوں کا، چن لیا تھا اسے اللہ نےاور اس نے ہدایت دی تھی اس کو صرف راہ راست کی (121) اور دی ہم نے اسے دنیا میں نیکی (اچھائی)اور بلاشبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں میں سے ہو گا (122) پھر وحی کی ہم نے آپ کی طرف یہ کہ پیروی کریں آپ ملت ابراہیم کی جو حق کا پرستار تھااور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (123) [120] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیمu کو فضیلت بخشی اور انھیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً ﴾ ’’بے شک ابراہیم ایک امت تھے‘‘ یعنی امام، بھلائی کے خصائل کے جامع، ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ ﴿ قَانِتًا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرماں بردار‘‘ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے۔ ﴿ حَنِيۡفًا﴾ ’’سب سے ایک طرف ہو کر‘‘ یعنی محبت، انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے:﴿ وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘ اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سو موحدین کے امام تھے۔ [121]﴿ شَاكِرًا لِّاَنۡعُمِهِ ﴾ ’’اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کو دنیا میں بھلائی عطا کی، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انھوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿ اِجۡتَبٰؔىهُ ﴾ ’’ان (ابراہیمu) کے رب نے ان کو چن لیا‘‘ انھیں اپنا خلیل بنایا اور انھیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ ﴿ وَهَدٰؔىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’اور انھیں (اپنے علم و عمل میں ) صراط مستقیم پر گامزن کیا‘‘ یعنی انھوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔ [122]﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا حَسَنَةً﴾ ’’اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی ہم نے انھیں دنیا میں کشادہ رزق، خوبصورت و نیک سیرت بیوی، نیک اولاد اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں عالی قدر منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔ [123] حضرت ابراہیمu کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدالوریٰ اور کامل ترین ہستی، نبی مصطفیﷺ کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت ابراہیمu کی ملت کی اتباع کریں ، آپ اور آپ کی امت ان کی پیروی کریں ۔

النحل 16:121

بلاشبہ ابراہیم تھا ایک امت، فرماں بردار اللہ کا، حق کا پرستاراور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (120) شکر کرنے والا اللہ کی نعمتوں کا، چن لیا تھا اسے اللہ نےاور اس نے ہدایت دی تھی اس کو صرف راہ راست کی (121) اور دی ہم نے اسے دنیا میں نیکی (اچھائی)اور بلاشبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں میں سے ہو گا (122) پھر وحی کی ہم نے آپ کی طرف یہ کہ پیروی کریں آپ ملت ابراہیم کی جو حق کا پرستار تھااور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (123) [120] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیمu کو فضیلت بخشی اور انھیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً ﴾ ’’بے شک ابراہیم ایک امت تھے‘‘ یعنی امام، بھلائی کے خصائل کے جامع، ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ ﴿ قَانِتًا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرماں بردار‘‘ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے۔ ﴿ حَنِيۡفًا﴾ ’’سب سے ایک طرف ہو کر‘‘ یعنی محبت، انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے:﴿ وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘ اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سو موحدین کے امام تھے۔ [121]﴿ شَاكِرًا لِّاَنۡعُمِهِ ﴾ ’’اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کو دنیا میں بھلائی عطا کی، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انھوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿ اِجۡتَبٰؔىهُ ﴾ ’’ان (ابراہیمu) کے رب نے ان کو چن لیا‘‘ انھیں اپنا خلیل بنایا اور انھیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ ﴿ وَهَدٰؔىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’اور انھیں (اپنے علم و عمل میں ) صراط مستقیم پر گامزن کیا‘‘ یعنی انھوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔ [122]﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا حَسَنَةً﴾ ’’اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی ہم نے انھیں دنیا میں کشادہ رزق، خوبصورت و نیک سیرت بیوی، نیک اولاد اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں عالی قدر منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔ [123] حضرت ابراہیمu کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدالوریٰ اور کامل ترین ہستی، نبی مصطفیﷺ کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت ابراہیمu کی ملت کی اتباع کریں ، آپ اور آپ کی امت ان کی پیروی کریں ۔

النحل 16:122

بلاشبہ ابراہیم تھا ایک امت، فرماں بردار اللہ کا، حق کا پرستاراور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (120) شکر کرنے والا اللہ کی نعمتوں کا، چن لیا تھا اسے اللہ نےاور اس نے ہدایت دی تھی اس کو صرف راہ راست کی (121) اور دی ہم نے اسے دنیا میں نیکی (اچھائی)اور بلاشبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں میں سے ہو گا (122) پھر وحی کی ہم نے آپ کی طرف یہ کہ پیروی کریں آپ ملت ابراہیم کی جو حق کا پرستار تھااور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (123) [120] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیمu کو فضیلت بخشی اور انھیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً ﴾ ’’بے شک ابراہیم ایک امت تھے‘‘ یعنی امام، بھلائی کے خصائل کے جامع، ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ ﴿ قَانِتًا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرماں بردار‘‘ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے۔ ﴿ حَنِيۡفًا﴾ ’’سب سے ایک طرف ہو کر‘‘ یعنی محبت، انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے:﴿ وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘ اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سو موحدین کے امام تھے۔ [121]﴿ شَاكِرًا لِّاَنۡعُمِهِ ﴾ ’’اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کو دنیا میں بھلائی عطا کی، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انھوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿ اِجۡتَبٰؔىهُ ﴾ ’’ان (ابراہیمu) کے رب نے ان کو چن لیا‘‘ انھیں اپنا خلیل بنایا اور انھیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ ﴿ وَهَدٰؔىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’اور انھیں (اپنے علم و عمل میں ) صراط مستقیم پر گامزن کیا‘‘ یعنی انھوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔ [122]﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا حَسَنَةً﴾ ’’اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی ہم نے انھیں دنیا میں کشادہ رزق، خوبصورت و نیک سیرت بیوی، نیک اولاد اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں عالی قدر منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔ [123] حضرت ابراہیمu کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدالوریٰ اور کامل ترین ہستی، نبی مصطفیﷺ کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت ابراہیمu کی ملت کی اتباع کریں ، آپ اور آپ کی امت ان کی پیروی کریں ۔

النحل 16:123

بلاشبہ ابراہیم تھا ایک امت، فرماں بردار اللہ کا، حق کا پرستاراور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (120) شکر کرنے والا اللہ کی نعمتوں کا، چن لیا تھا اسے اللہ نےاور اس نے ہدایت دی تھی اس کو صرف راہ راست کی (121) اور دی ہم نے اسے دنیا میں نیکی (اچھائی)اور بلاشبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں میں سے ہو گا (122) پھر وحی کی ہم نے آپ کی طرف یہ کہ پیروی کریں آپ ملت ابراہیم کی جو حق کا پرستار تھااور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (123) [120] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیمu کو فضیلت بخشی اور انھیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً ﴾ ’’بے شک ابراہیم ایک امت تھے‘‘ یعنی امام، بھلائی کے خصائل کے جامع، ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ ﴿ قَانِتًا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرماں بردار‘‘ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے۔ ﴿ حَنِيۡفًا﴾ ’’سب سے ایک طرف ہو کر‘‘ یعنی محبت، انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے:﴿ وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘ اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سو موحدین کے امام تھے۔ [121]﴿ شَاكِرًا لِّاَنۡعُمِهِ ﴾ ’’اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کو دنیا میں بھلائی عطا کی، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انھوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿ اِجۡتَبٰؔىهُ ﴾ ’’ان (ابراہیمu) کے رب نے ان کو چن لیا‘‘ انھیں اپنا خلیل بنایا اور انھیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ ﴿ وَهَدٰؔىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’اور انھیں (اپنے علم و عمل میں ) صراط مستقیم پر گامزن کیا‘‘ یعنی انھوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔ [122]﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا حَسَنَةً﴾ ’’اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی ہم نے انھیں دنیا میں کشادہ رزق، خوبصورت و نیک سیرت بیوی، نیک اولاد اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں عالی قدر منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔ [123] حضرت ابراہیمu کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدالوریٰ اور کامل ترین ہستی، نبی مصطفیﷺ کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت ابراہیمu کی ملت کی اتباع کریں ، آپ اور آپ کی امت ان کی پیروی کریں ۔

النحل 16:124

یقینا بنایا گیا تھا ہفتے کا دن (قابل تعظیم) صرف ان لوگوں پر جنھوں نے اختلاف کیا تھا اس میں اور بے شک آپ کا رب ، البتہ فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز کی بابت کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (124) [124]﴿ اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ ﴾ ہفتے کا دن فرض کیا گیا ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ﴾ ’’صرف انھی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جب وہ جمعہ کے دن کے بارے میں بھٹک گئے… مراد یہود ہیں … ان کا اختلاف اس بات کا سبب بنا کہ اللہ ہفتے کے دن کا احترام اور تعظیم ان پر واجب کر دے ورنہ حقیقی فضیلت تو جمعہ کے دن ہی کو حاصل ہے۔ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس امت کی راہنمائی فرمائی۔ ﴿وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے‘‘ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے سامنے حق پسند اور باطل پسند کے درمیان فرق واضح کر دے گا اور ظاہر کر دے گا کہ ثواب کا مستحق کون ہے اور عذاب کا مستحق کون ہے۔

النحل 16:125

(اے پیغمبر!) بلایے (لوگوں کو) طرف راسیت کی اپنے رب کے، ساتھ حکمت اور اچھی نصیحت کےاور بحث کیجیے ان سے ساتھ اس طریقے کے کہ وہ بہت اچھا ہو، بلاشبہ آپ کا رب، وہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جو گمراہ ہوا اس کی راہ سےاور وہی خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو (125) [125] یعنی تمام مخلوق کو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر، آپ کی اپنے رب کے سیدھے راستے کی طرف دعوت، علم نافع اور عمل صالح پر مشتمل ہونی چاہیے ﴿بِالۡحِكۡمَةِ﴾ ’’حکمت کے ساتھ‘‘ یعنی ہر ایک کو اس کے حال، اس کی فہم اور اس کے اندر قبولیت اور اطاعت کے مادے کے مطابق دعوت دیجیے۔ حکمت یہ ہے کہ جہل کی بجائے علم کے ذریعے سے دعوت دی جائے اور اس چیز سے ابتدا کی جائے جو سب سے زیادہ اہم، عقل اور فہم کے سب سے زیادہ قریب ہو اور ایسے نرم طریقے سے دعوت دی جائے کہ اسے کامل طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر حکمت کے ساتھ دی گئی دعوت کے سامنے سرتسلیم خم کر دے تو ٹھیک ورنہ اچھی نصیحت کے ذریعے سے دعوت کی طرف منتقل ہو جائے اور اس سے مراد امرو نہی ہے جو ترغیب و ترہیب سے مقرون ہو… یا تو ان متعدد مصالح کا ذکر کرے جن پر اوامر مشتمل ہیں اور ان متعدد مضرتوں کو بیان کرے جو نواہی میں پنہاں ہیں یا ان لوگوں کی اللہ کے ہاں تکریم کو بیان کرے جنھوں نے اللہ کے دین کو قائم کیا اور ان لوگوں کی اہانت کا تذکرہ کرے جنھوں نے اللہ کے دین کو قائم نہیں کیا یا اس دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرے جو اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کے لیے تیار کررکھا ہے اور اس دنیاوی اور اخروی عذاب کا ذکر کرے جو اس نے نافرمانوں کے لیے تیار کیا ہوا ہے۔اگر وہ شخص جس کو دعوت دی گئی ہے، یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف برحق ہے یا داعی باطل کی طرف دعوت دینے والا ہے تو اس کے ساتھ احسن طریقے سے بحث کی جائے۔ یہ ایسا طریقہ ہے جو عقلاً اور نقلاً دعوت کی قبولیت کا زیادہ موجب ہے، مثلاً:اس شخص سے ایسے دلائل کے ساتھ بحث کی جائے جن کو وہ خود تسلیم کرتا ہو یہ حصول مقصد کا قریب ترین ذریعہ ہے۔ یہ بحث جھگڑے اور گالی گلوچ تک نہ پہنچے ورنہ مقصد فوت ہو جائے گا اور کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ بحث کا مقصد تو لوگوں کی حق کی طرف راہنمائی کرنا ہے نہ کہ بحث میں جیتنا وغیرہ۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے اس کو جو بھٹک گیا اس کے راستے سے‘‘ یعنی آپ کا رب اس سبب کو زیادہ جانتا ہے جس نے اسے گمراہی میں مبتلا کیا ہے اور وہ اس کے ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو اس کی گمراہی پر مترتب ہوئے ہیں وہ عنقریب ان کو ان اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نوازا، پھر ان پر احسان کرتے ہوئے انھیں چن لیا۔

النحل 16:126

اور اگر بدلہ لو تم تو بدلہ لو برابر اس (تکلیف) کے جو ایذاء دیے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور البتہ اگر صبر کرو تم تو وہ (صبر) بہت بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے (126) اور آپ صبر کیجیے اور نہیں ہے صبر کرنا آپ کا مگر اللہ (کی توفیق) سے ہی اور نہ غم کریں آپ ان پر اور نہ ہوں آپ تنگی میں اس سے جو وہ سازشیں کرتے ہیں (127) بلاشبہ اللہ ساتھ ہے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ان لوگوں کے کہ وہ نیکی کرنے والے ہیں (128) [126] اللہ تبارک وتعالیٰ عدل کو مباح کرتے اور فضل و احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم بدلہ لو‘‘ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمھیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے ﴿ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم تکلیف پہنچائی گئی‘‘ یعنی تمھارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے، بدلہ لیتے وقت تمھاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم صبر کر لو‘‘ یعنی بدلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کر دو تو ﴿ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجروثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ [128,127] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت پر صبر کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور نفس پر بھروسہ نہ کریں چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور صبر کیجیے اور آپ کے لیے صبر ممکن نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے‘‘ وہی صبر پر آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو ثابت قدم رکھتا ہے ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بارے میں غم نہ کرو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو دین کی دعوت دیں اور دیکھیں کہ وہ اس دعوت کو قبول نہیں کر رہے تو غمزدہ نہ ہوں کیونکہ حزن و غم آپ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ وَلَا تَكُ فِيۡ ضَيۡقٍ ﴾ ’’اور تنگ دل نہ ہوں ۔‘‘ یعنی آپ کسی سختی اور حرج میں نہ پڑیں ۔ ﴿ مِّؔمَّا يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’ان کی چالوں سے‘‘ کیونکہ ان کے مکروفریب کا وبال انھی پر لوٹے گا اور آپ تو پرہیز گاروں اور نیکوکاروں میں سے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنی معونت توفیق اور تسدید کے ذریعے سے پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور معاصی سے اجتناب کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مقام احسان پر فائز ہیں یعنی وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان پر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو انھیں یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ تو انھیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے فائدہ پہنچایا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پرہیزگاروں اور احسان کرنے والوں میں شامل کرے۔

النحل 16:127

اور اگر بدلہ لو تم تو بدلہ لو برابر اس (تکلیف) کے جو ایذاء دیے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور البتہ اگر صبر کرو تم تو وہ (صبر) بہت بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے (126) اور آپ صبر کیجیے اور نہیں ہے صبر کرنا آپ کا مگر اللہ (کی توفیق) سے ہی اور نہ غم کریں آپ ان پر اور نہ ہوں آپ تنگی میں اس سے جو وہ سازشیں کرتے ہیں (127) بلاشبہ اللہ ساتھ ہے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ان لوگوں کے کہ وہ نیکی کرنے والے ہیں (128) [126] اللہ تبارک وتعالیٰ عدل کو مباح کرتے اور فضل و احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم بدلہ لو‘‘ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمھیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے ﴿ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم تکلیف پہنچائی گئی‘‘ یعنی تمھارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے، بدلہ لیتے وقت تمھاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم صبر کر لو‘‘ یعنی بدلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کر دو تو ﴿ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجروثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ [128,127] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت پر صبر کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور نفس پر بھروسہ نہ کریں چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور صبر کیجیے اور آپ کے لیے صبر ممکن نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے‘‘ وہی صبر پر آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو ثابت قدم رکھتا ہے ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بارے میں غم نہ کرو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو دین کی دعوت دیں اور دیکھیں کہ وہ اس دعوت کو قبول نہیں کر رہے تو غمزدہ نہ ہوں کیونکہ حزن و غم آپ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ وَلَا تَكُ فِيۡ ضَيۡقٍ ﴾ ’’اور تنگ دل نہ ہوں ۔‘‘ یعنی آپ کسی سختی اور حرج میں نہ پڑیں ۔ ﴿ مِّؔمَّا يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’ان کی چالوں سے‘‘ کیونکہ ان کے مکروفریب کا وبال انھی پر لوٹے گا اور آپ تو پرہیز گاروں اور نیکوکاروں میں سے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنی معونت توفیق اور تسدید کے ذریعے سے پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور معاصی سے اجتناب کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مقام احسان پر فائز ہیں یعنی وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان پر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو انھیں یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ تو انھیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے فائدہ پہنچایا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پرہیزگاروں اور احسان کرنے والوں میں شامل کرے۔

النحل 16:128

اور اگر بدلہ لو تم تو بدلہ لو برابر اس (تکلیف) کے جو ایذاء دیے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور البتہ اگر صبر کرو تم تو وہ (صبر) بہت بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے (126) اور آپ صبر کیجیے اور نہیں ہے صبر کرنا آپ کا مگر اللہ (کی توفیق) سے ہی اور نہ غم کریں آپ ان پر اور نہ ہوں آپ تنگی میں اس سے جو وہ سازشیں کرتے ہیں (127) بلاشبہ اللہ ساتھ ہے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ان لوگوں کے کہ وہ نیکی کرنے والے ہیں (128) [126] اللہ تبارک وتعالیٰ عدل کو مباح کرتے اور فضل و احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم بدلہ لو‘‘ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمھیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے ﴿ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم تکلیف پہنچائی گئی‘‘ یعنی تمھارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے، بدلہ لیتے وقت تمھاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم صبر کر لو‘‘ یعنی بدلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کر دو تو ﴿ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجروثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ [128,127] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت پر صبر کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور نفس پر بھروسہ نہ کریں چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور صبر کیجیے اور آپ کے لیے صبر ممکن نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے‘‘ وہی صبر پر آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو ثابت قدم رکھتا ہے ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بارے میں غم نہ کرو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو دین کی دعوت دیں اور دیکھیں کہ وہ اس دعوت کو قبول نہیں کر رہے تو غمزدہ نہ ہوں کیونکہ حزن و غم آپ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ وَلَا تَكُ فِيۡ ضَيۡقٍ ﴾ ’’اور تنگ دل نہ ہوں ۔‘‘ یعنی آپ کسی سختی اور حرج میں نہ پڑیں ۔ ﴿ مِّؔمَّا يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’ان کی چالوں سے‘‘ کیونکہ ان کے مکروفریب کا وبال انھی پر لوٹے گا اور آپ تو پرہیز گاروں اور نیکوکاروں میں سے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنی معونت توفیق اور تسدید کے ذریعے سے پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور معاصی سے اجتناب کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مقام احسان پر فائز ہیں یعنی وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان پر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو انھیں یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ تو انھیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے فائدہ پہنچایا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پرہیزگاروں اور احسان کرنے والوں میں شامل کرے۔

الإسراء 17:1

پاک ہے وہ (اللہ) جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصی (بیت المقدس) تک، وہ جو برکت رکھی تھی ہم نے اس کے اردگردتاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی کچھ نشانیاں بلاشبہ وہی ہے خوب سننے والا ، دیکھنے والا (1) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں ۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے ﴿اَسۡرٰؔى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا ﴾ ’’وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔‘‘ یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو راتوں رات لے گیا ﴿ مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾’’مسجد حرام سے‘‘ جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ ﴿ اِلَى الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا ﴾ ’’مسجد اقصیٰ تک‘‘ جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سرزمین ہے۔جناب نبی مجتبیٰﷺ کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جایا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانیاں دکھائیں جن سے ہدایت، بصیرت، ثبات اور قوت تفریق و امتیاز میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی آپ پر عنایت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے تمام امور میں آپ کے لیے بھلائی کو آسان فرما دیا اور آپ کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کی بنا پر آپ نے تمام اولین و آخرین پر فوقیت حاصل کی۔ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’اسراء‘‘ کا یہ واقعہ رات کے ابتدائی حصے میں پیش آیا اور سفر مسجد حرام سے شروع ہوا مگر صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو حضرت ام ہانیr کے گھر سے رات کے اس سفر پر لے جایا گیا۔(تفسیر طبری:9؍5) اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد حرام کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ تمام حرم کے لیے ہے۔ حرم میں عبادات کا ثواب اسی طرح کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس طرح مسجد حرام میں عبادت کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے، نیز یہ ’’اسراء‘‘ (معراج) کا واقعہ آپ کو بیک وقت جسم اور روح کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اگر آپ کو معراج جسم اور روح کے ساتھ نہ ہوئی ہوتی تو اس میں ’’آیت کبریٰ‘‘ کا کوئی مفہوم ہے نہ کسی بڑی منقبت کا کوئی پہلو ہے۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب کان النبیﷺ تنام عینہ… الخ، حدیث:3570)معراج کے واقعہ میں نبی اکرمﷺ سے بہت سی صحیح احادیث منقول ہیں ان میں ان تمام امور کی تفاصیل مذکور ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا حتیٰ کہ آپ تمام آسمانوں کے اوپر چلے گئے۔ وہاں آپ نے جنت، جہنم اور تمام انبیاء کرام کو ان کے مراتب کے مطابق دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر پچاس نمازیں فرض کیں ، پھر آپ موسیٰu کے مشورے سے بار بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے حتیٰ کہ وہ بالفعل پانچ ہو گئیں مگر ان کا ثواب، پچاس نمازوں کا ہے۔ اس رات آپ کو اور آپ کی امت کو بہت سے مفاخر عطا كيے گئے جن کی مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ، قرآن مجید کو نازل کرنے کے ذکر کے مقام پر (سورۂ فرقان میں ) اور جہاں قرآن کی بابت چیلنج کیا گیا (سورۂ بقرہ میں ) ،ان تینوں مقامات میں نبیﷺ کی صفت عبودیت (آپ کے بندے ہونے کی خوبی)کو بیان فرمایا، اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے یہ مقامات بلند اپنے رب کی عبودیت کی تکمیل کی وجہ ہی سے حاصل كيے ہیں ۔﴿ الَّذِيۡ بٰرَؔكۡنَا حَوۡلَهٗ ﴾ ’’وہ جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے‘‘ یعنی درختوں ، دریاؤں اور سدا بہار شادابی کے ذریعے سے برکت عطا کی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا دیگر تمام مسجدوں پر فضیلت عطا کی گئی، نیز مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے دور سے سفر کر کے جانا مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو اپنے نبیوں اور چنے ہوئے بندوں کے رہنے کے لیے مختص فرمایا۔

الإسراء 17:2

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:3

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:4

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:5

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:6

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:7

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:8

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8) [2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ [3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔ [4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔ [5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔ [6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔ [7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ [8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

الإسراء 17:9

بے شک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے اس (راہ) کی جو سب (راہوں ) سے زیادہ سیدھی ہےاورخوشخبری دیتا ہے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، کہ بے شک ان کے لیے ہے اجر بہت بڑا(9) اور (یہ کہ) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت درد ناک(10) [10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ ﴿ يَهۡدِيۡ لِلَّتِيۡ هِيَ اَقۡوَمُ﴾ ’’بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے‘‘ یعنی عقائد، اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ ﴿وَيُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں ﴿اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا﴾ ’’کہ ان کے لیے ہے بڑا ثواب‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔

الإسراء 17:10

بے شک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے اس (راہ) کی جو سب (راہوں ) سے زیادہ سیدھی ہےاورخوشخبری دیتا ہے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، کہ بے شک ان کے لیے ہے اجر بہت بڑا(9) اور (یہ کہ) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت درد ناک(10) [10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ ﴿ يَهۡدِيۡ لِلَّتِيۡ هِيَ اَقۡوَمُ﴾ ’’بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے‘‘ یعنی عقائد، اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ ﴿وَيُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں ﴿اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا﴾ ’’کہ ان کے لیے ہے بڑا ثواب‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔

الإسراء 17:11

اور دعا مانگتا ہے انسان برائی کی مانند دعا مانگنے اس کے بھلائی کی اور ہے انسان نہایت جلد باز (11) [11] یہ انسان کی جہالت اور عجلت پسندی ہے کہ وہ غیظ و غضب کے وقت اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بددعا کرنے میں جلدی کرتا ہے جس طرح اچھی دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اس کی اچھی دعا کو تو قبول کر لیتا ہے اور بددعا کو قبول نہیں کرتا۔ ﴿ وَلَوۡ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَهُمۡ۠ بِالۡخَيۡرِ لَقُضِيَ اِلَيۡهِمۡ اَجَلُهُمۡ﴾(یونس : 10؍11) ’’اگر اللہ ان کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں اتنی ہی جلدی کرتا جیسے کہ وہ جلدی خیر مانگتے ہیں تو ان کی مدت مقررہ کے خاتمے کا فیصلہ کر دیا جاتا۔‘‘

الإسراء 17:12

اور بنایا ہم نے رات کو اوردن کو دو نشانیاں پھر مٹا دی ہم نے نشانی رات کی اور بنا دی ہم نے نشانی دن کی دکھلانے والی (ہر چیز کو) تاکہ تم تلاش کرو فضل (رزق) اپنے رب کااور تاکہ تم جان لو گنتی سالوں کی اور حساب، اور ہر چیز، خوب بیان کیا ہے ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ (12) [12]﴿ وَجَعَلۡنَا الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيۡنِ ﴾ ’’اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا۔‘‘ یعنی یہ دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت پر دلالت کرتے ہیں ، نیز یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ ﴿ فَمَحَوۡنَاۤ اٰيَةَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پھر مٹا دیا ہم نے رات کی نشانی کو‘‘ یعنی ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں سکون اور راحت حاصل کریں ﴿ وَجَعَلۡنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبۡصِرَةً ﴾ ’’اور بنایا دن کی نشانی کو دکھلانے والی‘‘ یعنی روشن ﴿ لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔‘‘ اپنی معاش، اپنی صنعت و حرفت، اپنی تجارت اور اپنے سفر میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمُوۡا ﴾ ’’اور تاکہ تم جان لو‘‘ رات اور دن کے پے درپے آنے جانے اور چاند کے گھٹنے بڑھنے سے ﴿ عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ﴾ ’’برسوں کا شمار اور حساب‘‘ پس تم جیسے چاہتے ہو دنوں کے اس حساب و کتاب پر اپنے مصالح کی بنیاد رکھتے ہو۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ فَصَّلۡنٰهُ تَفۡصِيۡلًا ﴾ ’’اور ہر چیز کو ہم نے کھول کر بیان کر دیا ہے‘‘ یعنی ہم نے آیات کو واضح کر کے ان کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے تاکہ چیزیں ایک دوسرے سے ممتاز ہوں اور باطل میں سے حق نمایاں اور واضح ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ مَا فَرَّطۡنَا فِي الۡكِتٰبِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾(الانعام : 6؍38) ’’ہم نے نوشتۂ تقدیر میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔‘‘

الإسراء 17:13

اور ہر انسان، لازم کر دیا ہم نے اس کے لیے عمل اس کا اس کی گردن میں اور ہم نکالیں گے اس کے لیے دن قیامت کے ایک کتاب، وہ دیکھے گا اسے کھلی ہوئی (13)(اسے کہا جائے گا) پڑھ لے اپنا اعمال نامہ، کافی ہے تیرا نفس ہی آج تجھ پر حساب لینے والا (14) [14,13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے عدل کامل کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے، یعنی بندہ جو اچھا یا برا کام سرانجام دیتا ہے وہ اسی کے ساتھ لازم ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کے عمل کا حساب اس سے لیا جائے گا نہ اس کا حساب کسی اور سے لیا جائے گا۔ ﴿ وَنُخۡرِجُ لَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلۡقٰىهُ مَنۡشُوۡرًا ﴾ ’’اور نکال دکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن ایک کتاب، وہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی‘‘ اس کتاب میں اس کے تمام اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال موجود ہوں گے اس سے کہا جائے گا:﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾ ’’پڑھ لے اپنی کتاب تو ہی کافی ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا‘‘ یہ سب سے بڑا عدل و انصاف ہے کہ بندے سے کہا جائے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس کے ذمہ کون کون سے حقوق ہیں جو سزا کے موجب ہیں ۔

الإسراء 17:14

اور ہر انسان، لازم کر دیا ہم نے اس کے لیے عمل اس کا اس کی گردن میں اور ہم نکالیں گے اس کے لیے دن قیامت کے ایک کتاب، وہ دیکھے گا اسے کھلی ہوئی (13)(اسے کہا جائے گا) پڑھ لے اپنا اعمال نامہ، کافی ہے تیرا نفس ہی آج تجھ پر حساب لینے والا (14) [14,13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے عدل کامل کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے، یعنی بندہ جو اچھا یا برا کام سرانجام دیتا ہے وہ اسی کے ساتھ لازم ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کے عمل کا حساب اس سے لیا جائے گا نہ اس کا حساب کسی اور سے لیا جائے گا۔ ﴿ وَنُخۡرِجُ لَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلۡقٰىهُ مَنۡشُوۡرًا ﴾ ’’اور نکال دکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن ایک کتاب، وہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی‘‘ اس کتاب میں اس کے تمام اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال موجود ہوں گے اس سے کہا جائے گا:﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾ ’’پڑھ لے اپنی کتاب تو ہی کافی ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا‘‘ یہ سب سے بڑا عدل و انصاف ہے کہ بندے سے کہا جائے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس کے ذمہ کون کون سے حقوق ہیں جو سزا کے موجب ہیں ۔

الإسراء 17:15

جس شخص نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پاتا ہے اپنے نفس ہی کے (فائدے کے) لیےاورجو کوئی گمراہ ہوا تو یقینا وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے نفس ہی پراور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا، بوجھ کسی دوسرے کااور نہیں ہیں ہم عذاب دینے والے، جب تک کہ (نہ) بھیجیں ہم کوئی رسول (15) [15] یعنی ہر نفس کی ہدایت اور گمراہی خود اس کے لیے ہے کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ ذرہ بھر تکلیف اس سے دور ہٹا سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سب سے بڑا عادل ہے وہ اس وقت تک کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ اس پر رسالت کی حجت قائم نہ ہو جائے اور یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے اس حجت کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا۔ رہا وہ شخص جس نے رسالت کی اس حجت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا یا اس کے پاس حجت پہنچی ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل فترت (یعنی اس زمانے یا علاقے کے لوگ جن تک نبوت نہیں پہنچی) اور مشرکین کے بچوں کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ ان کی طرف رسول نہ بھیج لے کیونکہ وہ ظلم سے پاک اور منزہ ہے۔

الإسراء 17:16

اور جب چاہتے ہیں ہم یہ کہ ہلاک کریں کسی بستی کو تو حکم دیتے ہیں ہم اس کے خوش حال لوگوں کو تو وہ نافرمانی کرتے ہیں اس میں پھر ثابت ہو جاتی ہے اس (بستی) پر بات (عذاب کی)، پس تباہ کر دیتے ہیں ہم اسے (مکمل) برباد کرنا (16) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے قومیں بعد نوح کےاور کافی ہے آپ کا رب، اپنے بندوں کے گناہوں کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا (17) [16] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ظالم بستی کو ہلاک کرنا اور عذاب کے ذریعے سے اس کا استیصال کرنا چاہتا ہے تو وہ اس میں رہنے والے خوشحال لوگوں کو حکم دیتا ہے… یعنی کونی و قدری حکم… وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ ﴿ فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ ﴾ ’’تب ثابت ہو جاتی ہے ان پر بات‘‘ یعنی کلمۂ عذاب، جسے کوئی نہیں ٹال سکتا ﴿ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ﴾ ’’پس اس بستی کو ہم ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں ۔‘‘ [17] نوحu کی قوم کے بعد بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا، مثلاً:عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سزا دی کیونکہ جب ان کی بغاوت بہت زیادہ ہو گئی اور ان کا کفر بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا بڑا عذاب نازل کر دیا۔ ﴿وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کافی ہے آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا دیکھنے والا۔‘‘ پس بندوں کو اس کی طرف سے کسی ظلم کا خوف نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف ان کے اپنے اعمال کی سزا دیتا ہے۔

الإسراء 17:17

اور جب چاہتے ہیں ہم یہ کہ ہلاک کریں کسی بستی کو تو حکم دیتے ہیں ہم اس کے خوش حال لوگوں کو تو وہ نافرمانی کرتے ہیں اس میں پھر ثابت ہو جاتی ہے اس (بستی) پر بات (عذاب کی)، پس تباہ کر دیتے ہیں ہم اسے (مکمل) برباد کرنا (16) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے قومیں بعد نوح کےاور کافی ہے آپ کا رب، اپنے بندوں کے گناہوں کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا (17) [16] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ظالم بستی کو ہلاک کرنا اور عذاب کے ذریعے سے اس کا استیصال کرنا چاہتا ہے تو وہ اس میں رہنے والے خوشحال لوگوں کو حکم دیتا ہے… یعنی کونی و قدری حکم… وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ ﴿ فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ ﴾ ’’تب ثابت ہو جاتی ہے ان پر بات‘‘ یعنی کلمۂ عذاب، جسے کوئی نہیں ٹال سکتا ﴿ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ﴾ ’’پس اس بستی کو ہم ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں ۔‘‘ [17] نوحu کی قوم کے بعد بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا، مثلاً:عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سزا دی کیونکہ جب ان کی بغاوت بہت زیادہ ہو گئی اور ان کا کفر بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا بڑا عذاب نازل کر دیا۔ ﴿وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کافی ہے آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا دیکھنے والا۔‘‘ پس بندوں کو اس کی طرف سے کسی ظلم کا خوف نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف ان کے اپنے اعمال کی سزا دیتا ہے۔

الإسراء 17:18

جو چاہتا ہے جلدی والی (دنیا) تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اس کو، اس (دنیا) میں جو ہم چاہتے ہیں ، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں ، پھر ٹھہرا دیتے ہیں ہم اس کے لیے جہنم، وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ، دھتکارا ہوا (18) اور جو کوئی چاہتا ہے آخرت اورکوشش کرتا ہے اس کے لیے، اس کے لائق کوشش، جبکہ وہ مومن بھی ہے، تو یہی لوگ ہیں کہ ہے کوشش ان کی قابل قدر (19) ہر ایک کو، ہم نوازتے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی عطیے سے آپ کے رب کےاور نہیں ہے عطیہ آپ کے رب کا روکا ہوا (کسی سے بھی)(20) دیکھیے! کس طرح فضیلت دی ہے ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے؟ اور البتہ آخرت تو بڑھ کر ہے درجوں میں اور بڑھ کر ہے باعتبار فضیلت کے (21) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ ﴾ ’’جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ يَصۡلٰىهَا ﴾ ’’جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا‘‘ یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴾ ’’مذموم اور راندہ ہوکر۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔ [19]﴿ وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’جو آخرت چاہتا ہے‘‘ اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے ﴿ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا ﴾ ’’اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔‘‘ یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’اور وہ مومن بھی ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشوونما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجروثواب ان کے رب کے پاس ہو گا۔ [20] اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا ﴾ ’’اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔‘‘ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ [21]﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘ یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَ كۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَ كۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾ ’’اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت‘‘ دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں ۔ کتنے ہی لوگ بلند و بالا محلوں ، مختلف انواع کی لذتوں ، فرحتوں ، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھاتے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لیے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔

الإسراء 17:19

جو چاہتا ہے جلدی والی (دنیا) تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اس کو، اس (دنیا) میں جو ہم چاہتے ہیں ، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں ، پھر ٹھہرا دیتے ہیں ہم اس کے لیے جہنم، وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ، دھتکارا ہوا (18) اور جو کوئی چاہتا ہے آخرت اورکوشش کرتا ہے اس کے لیے، اس کے لائق کوشش، جبکہ وہ مومن بھی ہے، تو یہی لوگ ہیں کہ ہے کوشش ان کی قابل قدر (19) ہر ایک کو، ہم نوازتے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی عطیے سے آپ کے رب کےاور نہیں ہے عطیہ آپ کے رب کا روکا ہوا (کسی سے بھی)(20) دیکھیے! کس طرح فضیلت دی ہے ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے؟ اور البتہ آخرت تو بڑھ کر ہے درجوں میں اور بڑھ کر ہے باعتبار فضیلت کے (21) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ ﴾ ’’جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ يَصۡلٰىهَا ﴾ ’’جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا‘‘ یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴾ ’’مذموم اور راندہ ہوکر۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔ [19]﴿ وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’جو آخرت چاہتا ہے‘‘ اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے ﴿ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا ﴾ ’’اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔‘‘ یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’اور وہ مومن بھی ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشوونما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجروثواب ان کے رب کے پاس ہو گا۔ [20] اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا ﴾ ’’اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔‘‘ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ [21]﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘ یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَ كۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَ كۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾ ’’اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت‘‘ دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں ۔ کتنے ہی لوگ بلند و بالا محلوں ، مختلف انواع کی لذتوں ، فرحتوں ، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھاتے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لیے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔

الإسراء 17:20

جو چاہتا ہے جلدی والی (دنیا) تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اس کو، اس (دنیا) میں جو ہم چاہتے ہیں ، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں ، پھر ٹھہرا دیتے ہیں ہم اس کے لیے جہنم، وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ، دھتکارا ہوا (18) اور جو کوئی چاہتا ہے آخرت اورکوشش کرتا ہے اس کے لیے، اس کے لائق کوشش، جبکہ وہ مومن بھی ہے، تو یہی لوگ ہیں کہ ہے کوشش ان کی قابل قدر (19) ہر ایک کو، ہم نوازتے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی عطیے سے آپ کے رب کےاور نہیں ہے عطیہ آپ کے رب کا روکا ہوا (کسی سے بھی)(20) دیکھیے! کس طرح فضیلت دی ہے ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے؟ اور البتہ آخرت تو بڑھ کر ہے درجوں میں اور بڑھ کر ہے باعتبار فضیلت کے (21) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ ﴾ ’’جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ يَصۡلٰىهَا ﴾ ’’جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا‘‘ یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴾ ’’مذموم اور راندہ ہوکر۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔ [19]﴿ وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’جو آخرت چاہتا ہے‘‘ اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے ﴿ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا ﴾ ’’اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔‘‘ یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’اور وہ مومن بھی ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشوونما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجروثواب ان کے رب کے پاس ہو گا۔ [20] اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا ﴾ ’’اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔‘‘ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ [21]﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘ یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَ كۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَ كۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾ ’’اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت‘‘ دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں ۔ کتنے ہی لوگ بلند و بالا محلوں ، مختلف انواع کی لذتوں ، فرحتوں ، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھاتے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لیے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔

الإسراء 17:21

جو چاہتا ہے جلدی والی (دنیا) تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اس کو، اس (دنیا) میں جو ہم چاہتے ہیں ، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں ، پھر ٹھہرا دیتے ہیں ہم اس کے لیے جہنم، وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ، دھتکارا ہوا (18) اور جو کوئی چاہتا ہے آخرت اورکوشش کرتا ہے اس کے لیے، اس کے لائق کوشش، جبکہ وہ مومن بھی ہے، تو یہی لوگ ہیں کہ ہے کوشش ان کی قابل قدر (19) ہر ایک کو، ہم نوازتے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی عطیے سے آپ کے رب کےاور نہیں ہے عطیہ آپ کے رب کا روکا ہوا (کسی سے بھی)(20) دیکھیے! کس طرح فضیلت دی ہے ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے؟ اور البتہ آخرت تو بڑھ کر ہے درجوں میں اور بڑھ کر ہے باعتبار فضیلت کے (21) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ ﴾ ’’جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ يَصۡلٰىهَا ﴾ ’’جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا‘‘ یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴾ ’’مذموم اور راندہ ہوکر۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔ [19]﴿ وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’جو آخرت چاہتا ہے‘‘ اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے ﴿ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا ﴾ ’’اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔‘‘ یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’اور وہ مومن بھی ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشوونما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجروثواب ان کے رب کے پاس ہو گا۔ [20] اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا ﴾ ’’اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔‘‘ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ [21]﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘ یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَ كۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَ كۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾ ’’اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت‘‘ دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں ۔ کتنے ہی لوگ بلند و بالا محلوں ، مختلف انواع کی لذتوں ، فرحتوں ، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھاتے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لیے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔

الإسراء 17:22

نہ ٹھہرائیں آپ ساتھ اللہ کے معبود دوسرا، پھربیٹھ رہیں گے آپ ملامت زدہ، بے یارومددگار (22) [22] یعنی یہ اعتقاد نہ رکھ کہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا کیونکہ شرک مذمت اور خذلان کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں نے شرک سے روکا ہے اور مشرک کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اس شرک کی بنا پر انتہائی مذموم ناموں سے موسوم اور قبیح اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ جو اس شرک کا مرتکب ہے، وہ بدترین اوصاف اور قبیح ترین صفات سے متصف ہے۔ وہ جتنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو ترک کرتا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کے دینی اور دنیاوی معاملات میں اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ پس جو کوئی اس کے سوا کسی اور سے تعلق قائم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اسی کے سپرد کر دیتا ہے جس کے ساتھ وہ تعلق جوڑتا ہے اور مخلوق میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لیتا ہے وہ مذمت و خذلان کا مستحق ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو ایک گردانتا ہے، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑتا ہے وہ قابل ستائش ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کی دست گیری کی جاتی ہے۔

الإسراء 17:23

اور فیصلہ کر دیا آپ کے رب نے یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اسی کی اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اگر پہنچے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان دونوں میں سے یا (وہ) دونوں ہی تو نہ کہہ تو ان سے’’اف‘‘بھی اور نہ جھڑک تو انھیں اور کہہ تو ان دونوں کے لیے بات نرم لہجے میں (23) اور جھکائے رکھ تو ان دونوں کے لیے بازو عاجزی کا، نیاز مندی سےاور کہہ، اے رب! رحم فرما ان دونوں پر جیسا کہ پرورش کی انھوں نے میری بچپن میں (24) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک سے منع کرنے کے بعد توحید کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَضٰى رَبُّكَ﴾ ’’آپ کے رب نے (دینی) فیصلہ کر دیا‘‘ اور شرعی حکم دے دیا ہے ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا ﴾ ’’کہ تم عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی زمین اور آسمان کے رہنے والوں ، زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو۔ ﴿ اِلَّاۤ اِيَّاهُ ﴾ ’’مگر صرف اس کی‘‘ کیونکہ وہ واحد اور یکتا، فرد اور بے نیاز ہے۔ جو ہر صفت کمال کا مالک ہے۔ اس کی ہر صفت کامل ترین ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی اس کی کسی صفت میں کسی بھی پہلو سے مشابہت نہیں کر سکتی وہ منعم ہے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے وہی نوازتا ہے وہی تمام تکالیف کو دور کرتا ہے، وہ خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ وہ ان تمام اوصاف میں منفرد اور یکتا ہے اس کے سوا کوئی دوسری ہستی ان اوصاف میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کے حقوق کو قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘ یعنی قول و فعل، ہر لحاظ سے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ کیونکہ والدین ہی بندے کے وجود میں آنے کا سبب ہیں ، وہ اولاد کے لیے محبت رکھتے ہیں ، اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور اولاد کو قریب رکھتے ہیں ۔ ان کے ساتھ نیک سلوک کرو جو کہ حق کی تاکید اور ان کے ساتھ بھلائی کے وجوب کا تقاضا ہے۔﴿ اِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا ﴾ ’’اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو، ان میں سے ایک یا دونوں ‘‘ یعنی جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں جس میں ان کے قوی کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ نرمی اور حسن سلوک کے محتاج ہوتے ہیں جو معروف ہے۔ ﴿ فَلَا تَقُلۡ لَّهُمَاۤ اُفٍّ ﴾ ’’تو تو ان کو ہوں بھی نہ کہہ‘‘ یہ اذیت کا ادنی مرتبہ ہے اس کے ذریعے سے اذیت کی دیگر انواع پر تنبیہ کی ہے۔ معنیٰ یہ ہے کہ ان کو ادنیٰ اذیت بھی نہ پہنچاؤ۔ ﴿ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا ﴾ ’’اور نہ ان کو جھڑکو‘‘ اور نہ ان سے سخت کلامی کرو۔ ﴿ وَقُلۡ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا﴾ ’’اور کہہ ان سے بات ادب کی‘‘ ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرو جن کو وہ پسند کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ نہایت ادب اور مہربانی سے پیش آؤ۔ انتہائی نرمی اور اچھے پیرائے میں بات کرو جس سے ان کے دل لذت محسوس کریں اور ان کو اطمینان حاصل ہو۔ یہ حسن سلوک احوال و عادات اور زمانے کے اختلاف کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ [24]﴿ وَاخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَةِ ﴾ ’’اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کے، نیاز مندی سے‘‘ یعنی ان کے سامنے تواضع، انکساری اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے جھک کر رہو۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید پر ہو نہ کہ ان سے ڈر کی بنا پر یا ان کے مال وغیرہ کے لالچ کی وجہ سے یا اس قسم کے دیگر مقاصد کی بنا پر جن پر بندے کو اجر نہیں ملتا۔ ﴿ وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا ﴾ ’’اور کہہ، اے رب ان پر رحم فرما‘‘ یعنی ان کی زندگی میں اور ان کے وفات پا جانے کے بعد ان کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ انھوں نے بچپن میں تمھاری جو تربیت کی ہے یہ اس کا بدلہ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تربیت جتنی زیادہ ہو گی والدین کا حق بھی اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا۔ اسی طرح والدین کے سوا کوئی شخص دینی اور دنیاوی امور میں کسی کی نیک تربیت کرتا ہے تو تربیت کرنے والے شخص کا اس شخص پر حق ہے جس کی اس نے تربیت کی ہے۔

الإسراء 17:24

اور فیصلہ کر دیا آپ کے رب نے یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اسی کی اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اگر پہنچے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان دونوں میں سے یا (وہ) دونوں ہی تو نہ کہہ تو ان سے’’اف‘‘بھی اور نہ جھڑک تو انھیں اور کہہ تو ان دونوں کے لیے بات نرم لہجے میں (23) اور جھکائے رکھ تو ان دونوں کے لیے بازو عاجزی کا، نیاز مندی سےاور کہہ، اے رب! رحم فرما ان دونوں پر جیسا کہ پرورش کی انھوں نے میری بچپن میں (24) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک سے منع کرنے کے بعد توحید کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَضٰى رَبُّكَ﴾ ’’آپ کے رب نے (دینی) فیصلہ کر دیا‘‘ اور شرعی حکم دے دیا ہے ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا ﴾ ’’کہ تم عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی زمین اور آسمان کے رہنے والوں ، زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو۔ ﴿ اِلَّاۤ اِيَّاهُ ﴾ ’’مگر صرف اس کی‘‘ کیونکہ وہ واحد اور یکتا، فرد اور بے نیاز ہے۔ جو ہر صفت کمال کا مالک ہے۔ اس کی ہر صفت کامل ترین ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی اس کی کسی صفت میں کسی بھی پہلو سے مشابہت نہیں کر سکتی وہ منعم ہے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے وہی نوازتا ہے وہی تمام تکالیف کو دور کرتا ہے، وہ خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ وہ ان تمام اوصاف میں منفرد اور یکتا ہے اس کے سوا کوئی دوسری ہستی ان اوصاف میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کے حقوق کو قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘ یعنی قول و فعل، ہر لحاظ سے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ کیونکہ والدین ہی بندے کے وجود میں آنے کا سبب ہیں ، وہ اولاد کے لیے محبت رکھتے ہیں ، اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور اولاد کو قریب رکھتے ہیں ۔ ان کے ساتھ نیک سلوک کرو جو کہ حق کی تاکید اور ان کے ساتھ بھلائی کے وجوب کا تقاضا ہے۔﴿ اِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا ﴾ ’’اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو، ان میں سے ایک یا دونوں ‘‘ یعنی جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں جس میں ان کے قوی کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ نرمی اور حسن سلوک کے محتاج ہوتے ہیں جو معروف ہے۔ ﴿ فَلَا تَقُلۡ لَّهُمَاۤ اُفٍّ ﴾ ’’تو تو ان کو ہوں بھی نہ کہہ‘‘ یہ اذیت کا ادنی مرتبہ ہے اس کے ذریعے سے اذیت کی دیگر انواع پر تنبیہ کی ہے۔ معنیٰ یہ ہے کہ ان کو ادنیٰ اذیت بھی نہ پہنچاؤ۔ ﴿ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا ﴾ ’’اور نہ ان کو جھڑکو‘‘ اور نہ ان سے سخت کلامی کرو۔ ﴿ وَقُلۡ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا﴾ ’’اور کہہ ان سے بات ادب کی‘‘ ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرو جن کو وہ پسند کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ نہایت ادب اور مہربانی سے پیش آؤ۔ انتہائی نرمی اور اچھے پیرائے میں بات کرو جس سے ان کے دل لذت محسوس کریں اور ان کو اطمینان حاصل ہو۔ یہ حسن سلوک احوال و عادات اور زمانے کے اختلاف کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ [24]﴿ وَاخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَةِ ﴾ ’’اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کے، نیاز مندی سے‘‘ یعنی ان کے سامنے تواضع، انکساری اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے جھک کر رہو۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید پر ہو نہ کہ ان سے ڈر کی بنا پر یا ان کے مال وغیرہ کے لالچ کی وجہ سے یا اس قسم کے دیگر مقاصد کی بنا پر جن پر بندے کو اجر نہیں ملتا۔ ﴿ وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا ﴾ ’’اور کہہ، اے رب ان پر رحم فرما‘‘ یعنی ان کی زندگی میں اور ان کے وفات پا جانے کے بعد ان کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ انھوں نے بچپن میں تمھاری جو تربیت کی ہے یہ اس کا بدلہ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تربیت جتنی زیادہ ہو گی والدین کا حق بھی اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا۔ اسی طرح والدین کے سوا کوئی شخص دینی اور دنیاوی امور میں کسی کی نیک تربیت کرتا ہے تو تربیت کرنے والے شخص کا اس شخص پر حق ہے جس کی اس نے تربیت کی ہے۔

الإسراء 17:25

تمھارا رب خوب جانتا ہے اسے جو تمھارے دلوں میں ہے، اگر ہو گے تم صالح تو بلاشبہ وہ ہے (اپنی طرف) رجوع کرنے والوں کے لیے بہت بخشنے والا (25) [25] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے اچھے اور برے چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ تمھارے اعمال اور ابدان کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمھارے دلوں اور ان کے اندر چھپے ہوئے خیر و شر پر نظر رکھتا ہے۔ ﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نیک ہو گے‘‘ یعنی اگر تمھارے ارادے اور مقاصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے دائرے میں اور تمھاری رغبت صرف انھی امور پر مرتکز رہے جو اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور تمھارے دلوں میں غیراللہ کے ارادے براجمان نہ ہوں ۔ ﴿فَاِنَّهٗ كَانَ لِلۡاَوَّابِيۡنَ۠ ﴾ ’’تو وہ رجوع کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والوں کے لیے ﴿ غَفُوۡرًؔا﴾ ’’بخشنے والا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ جس کے دل میں جھانکتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اس دل میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف انابت، اس کی محبت اور ان امور کی محبت جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہیں، کے سوا کچھ بھی نہیں ، تب اگر اس بندے سے طبائع بشری کے تقاضے کے مطابق کوئی گناہ سرزد ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان عارضی گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو مستقل طور پر جڑ نہیں پکڑتے۔

الإسراء 17:26

اور دے تو قرابت دار کو اس کا حق اورمسکین اور مسافر کو بھی اور نہ فضول خرچی کر فضول خرچی کرنا (26)یقینا فضول خرچی کرنے والے ہیں بھائی شیطانوں کےاور ہے شیطان اپنے رب کا نہایت ناشکرا(27) اور اگر اعراض کرے تو ان سے، انتظار میں رحمت کے اپنے رب کی کہ امید رکھتا ہے تو اس کی، تو کہہ تو واسطے ان کے بات آسان نرم (28)اور نہ کر تو اپنا ہاتھ بندھا ہوا گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اسے بالکل کھول دینا، کہ بیٹھ رہے تو ملامت کیا ہوا، تھکا ماندہ (29) بے شک آپ کا رب ہی فراخ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، (ان کو) دیکھنے والا (30) [27,26]﴿ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ﴾ ’’اور دے رشتے دار کو اس کا حق‘‘ یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زمان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ ﴿ وَالۡمِسۡكِيۡنَ ﴾ ’’اور مسکین کو‘‘ یعنی زکٰوۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہو جائے۔ ﴿ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور مسافر کو‘‘ اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ ﴿ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا﴾ ’’اور بے جا مت اڑا‘‘ پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زائد ہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ﴿ اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ۠ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰؔطِيۡنِ﴾ ’’بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾(الفرقان : 25؍67) ’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔‘‘ [29] اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ﴾ ’’اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ ﴾ ’’اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا‘‘ ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقۡعُدَ ﴾ ’’پس تو بیٹھ رہے گا‘‘ اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوۡمًا﴾ ’’الزام کھایا ہوا‘‘ یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’ہارا ہوا‘‘ یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا… [28] اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا:﴿ وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا ﴾ ’’اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے‘‘ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلۡ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’تو کہہ ان کو نرم بات‘‘ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى ﴾(البقرۃ:2؍263) ’’صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔ [30] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے‘‘ ﴿ وَيَقۡدِرُؔ﴾ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔

الإسراء 17:27

اور دے تو قرابت دار کو اس کا حق اورمسکین اور مسافر کو بھی اور نہ فضول خرچی کر فضول خرچی کرنا (26)یقینا فضول خرچی کرنے والے ہیں بھائی شیطانوں کےاور ہے شیطان اپنے رب کا نہایت ناشکرا(27) اور اگر اعراض کرے تو ان سے، انتظار میں رحمت کے اپنے رب کی کہ امید رکھتا ہے تو اس کی، تو کہہ تو واسطے ان کے بات آسان نرم (28)اور نہ کر تو اپنا ہاتھ بندھا ہوا گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اسے بالکل کھول دینا، کہ بیٹھ رہے تو ملامت کیا ہوا، تھکا ماندہ (29) بے شک آپ کا رب ہی فراخ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، (ان کو) دیکھنے والا (30) [27,26]﴿ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ﴾ ’’اور دے رشتے دار کو اس کا حق‘‘ یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زمان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ ﴿ وَالۡمِسۡكِيۡنَ ﴾ ’’اور مسکین کو‘‘ یعنی زکٰوۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہو جائے۔ ﴿ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور مسافر کو‘‘ اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ ﴿ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا﴾ ’’اور بے جا مت اڑا‘‘ پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زائد ہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ﴿ اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ۠ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰؔطِيۡنِ﴾ ’’بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾(الفرقان : 25؍67) ’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔‘‘ [29] اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ﴾ ’’اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ ﴾ ’’اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا‘‘ ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقۡعُدَ ﴾ ’’پس تو بیٹھ رہے گا‘‘ اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوۡمًا﴾ ’’الزام کھایا ہوا‘‘ یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’ہارا ہوا‘‘ یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا… [28] اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا:﴿ وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا ﴾ ’’اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے‘‘ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلۡ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’تو کہہ ان کو نرم بات‘‘ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى ﴾(البقرۃ:2؍263) ’’صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔ [30] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے‘‘ ﴿ وَيَقۡدِرُؔ﴾ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔

الإسراء 17:28

اور دے تو قرابت دار کو اس کا حق اورمسکین اور مسافر کو بھی اور نہ فضول خرچی کر فضول خرچی کرنا (26)یقینا فضول خرچی کرنے والے ہیں بھائی شیطانوں کےاور ہے شیطان اپنے رب کا نہایت ناشکرا(27) اور اگر اعراض کرے تو ان سے، انتظار میں رحمت کے اپنے رب کی کہ امید رکھتا ہے تو اس کی، تو کہہ تو واسطے ان کے بات آسان نرم (28)اور نہ کر تو اپنا ہاتھ بندھا ہوا گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اسے بالکل کھول دینا، کہ بیٹھ رہے تو ملامت کیا ہوا، تھکا ماندہ (29) بے شک آپ کا رب ہی فراخ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، (ان کو) دیکھنے والا (30) [27,26]﴿ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ﴾ ’’اور دے رشتے دار کو اس کا حق‘‘ یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زمان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ ﴿ وَالۡمِسۡكِيۡنَ ﴾ ’’اور مسکین کو‘‘ یعنی زکٰوۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہو جائے۔ ﴿ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور مسافر کو‘‘ اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ ﴿ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا﴾ ’’اور بے جا مت اڑا‘‘ پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زائد ہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ﴿ اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ۠ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰؔطِيۡنِ﴾ ’’بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾(الفرقان : 25؍67) ’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔‘‘ [29] اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ﴾ ’’اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ ﴾ ’’اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا‘‘ ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقۡعُدَ ﴾ ’’پس تو بیٹھ رہے گا‘‘ اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوۡمًا﴾ ’’الزام کھایا ہوا‘‘ یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’ہارا ہوا‘‘ یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا… [28] اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا:﴿ وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا ﴾ ’’اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے‘‘ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلۡ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’تو کہہ ان کو نرم بات‘‘ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى ﴾(البقرۃ:2؍263) ’’صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔ [30] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے‘‘ ﴿ وَيَقۡدِرُؔ﴾ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔

الإسراء 17:29

اور دے تو قرابت دار کو اس کا حق اورمسکین اور مسافر کو بھی اور نہ فضول خرچی کر فضول خرچی کرنا (26)یقینا فضول خرچی کرنے والے ہیں بھائی شیطانوں کےاور ہے شیطان اپنے رب کا نہایت ناشکرا(27) اور اگر اعراض کرے تو ان سے، انتظار میں رحمت کے اپنے رب کی کہ امید رکھتا ہے تو اس کی، تو کہہ تو واسطے ان کے بات آسان نرم (28)اور نہ کر تو اپنا ہاتھ بندھا ہوا گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اسے بالکل کھول دینا، کہ بیٹھ رہے تو ملامت کیا ہوا، تھکا ماندہ (29) بے شک آپ کا رب ہی فراخ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، (ان کو) دیکھنے والا (30) [27,26]﴿ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ﴾ ’’اور دے رشتے دار کو اس کا حق‘‘ یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زمان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ ﴿ وَالۡمِسۡكِيۡنَ ﴾ ’’اور مسکین کو‘‘ یعنی زکٰوۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہو جائے۔ ﴿ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور مسافر کو‘‘ اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ ﴿ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا﴾ ’’اور بے جا مت اڑا‘‘ پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زائد ہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ﴿ اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ۠ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰؔطِيۡنِ﴾ ’’بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾(الفرقان : 25؍67) ’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔‘‘ [29] اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ﴾ ’’اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ ﴾ ’’اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا‘‘ ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقۡعُدَ ﴾ ’’پس تو بیٹھ رہے گا‘‘ اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوۡمًا﴾ ’’الزام کھایا ہوا‘‘ یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’ہارا ہوا‘‘ یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا… [28] اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا:﴿ وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا ﴾ ’’اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے‘‘ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلۡ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’تو کہہ ان کو نرم بات‘‘ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى ﴾(البقرۃ:2؍263) ’’صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔ [30] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے‘‘ ﴿ وَيَقۡدِرُؔ﴾ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔

الإسراء 17:30

اور دے تو قرابت دار کو اس کا حق اورمسکین اور مسافر کو بھی اور نہ فضول خرچی کر فضول خرچی کرنا (26)یقینا فضول خرچی کرنے والے ہیں بھائی شیطانوں کےاور ہے شیطان اپنے رب کا نہایت ناشکرا(27) اور اگر اعراض کرے تو ان سے، انتظار میں رحمت کے اپنے رب کی کہ امید رکھتا ہے تو اس کی، تو کہہ تو واسطے ان کے بات آسان نرم (28)اور نہ کر تو اپنا ہاتھ بندھا ہوا گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اسے بالکل کھول دینا، کہ بیٹھ رہے تو ملامت کیا ہوا، تھکا ماندہ (29) بے شک آپ کا رب ہی فراخ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، (ان کو) دیکھنے والا (30) [27,26]﴿ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ﴾ ’’اور دے رشتے دار کو اس کا حق‘‘ یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زمان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ ﴿ وَالۡمِسۡكِيۡنَ ﴾ ’’اور مسکین کو‘‘ یعنی زکٰوۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہو جائے۔ ﴿ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور مسافر کو‘‘ اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ ﴿ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا﴾ ’’اور بے جا مت اڑا‘‘ پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زائد ہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ﴿ اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ۠ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰؔطِيۡنِ﴾ ’’بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾(الفرقان : 25؍67) ’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔‘‘ [29] اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ﴾ ’’اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ ﴾ ’’اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا‘‘ ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقۡعُدَ ﴾ ’’پس تو بیٹھ رہے گا‘‘ اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوۡمًا﴾ ’’الزام کھایا ہوا‘‘ یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’ہارا ہوا‘‘ یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا… [28] اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا:﴿ وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا ﴾ ’’اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے‘‘ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلۡ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’تو کہہ ان کو نرم بات‘‘ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى ﴾(البقرۃ:2؍263) ’’صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔ [30] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے‘‘ ﴿ وَيَقۡدِرُؔ﴾ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔

الإسراء 17:31

اور مت قتل کرو تم اپنی اولاد کو ڈرتے ہوئے مفلسی سے، ہم ہی رزق دیتے ہیں انھیں اور تمھیں بھی، بلاشبہ ان کو قتل کرنا ہے گناہ بہت بڑا (31) [31] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے والدین کو بھوک اور فقر کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا اور سب کی کفالت کا ذمہ لیا ہے اور آگاہ فرمایا ہے کہ اولاد کو قتل کرنا، بہت بڑی خطا اور کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کا سبب دل کا شفقت سے خالی ہونا اور بچوں کے قتل کی جسارت ہے جن سے کوئی گناہ اور معصیت سرزد نہیں ہوئی۔

الإسراء 17:32

اور مت قریب جاؤ تم زنا کے، یقینا وہ ہے بے حیائی اور برا راستہ (32) [32] زنا کے قریب جانے کی ممانعت، زنا کے مجرد فعل کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے، اس لیے زنا کے قریب جانے کی ممانعت، زنا کے تمام مقدمات اور اس کے اسباب کو شامل ہے کیونکہ اگر کوئی بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے آس پاس پھرتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ چراگاہ میں جا داخل ہو۔ خاص طور پر جبکہ بات یہ ہے کہ اکثر نفوس کے اندر زنا کا قوی ترین داعیہ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے زنا کی برائیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَانَ فَاحِشَةً﴾ ’’وہ بے حیائی‘‘ یعنی زنا عقل، شریعت اور فطرت انسانی کے نزدیک بہت بڑی برائی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ، عورت، اس کے گھر والوں اور اس کے شوہر کے حق میں ہتک حرمت، شوہر کے بستر کو خراب کرنے اور انساب وغیرہ کے اختلاط اور دیگر مفاسد کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَآءَ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور بری راہ ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اس گناہ عظیم کے ارتکاب کی جرأت کرتا ہے اس کا یہ راستہ بہت ہی برا راستہ ہے۔

الإسراء 17:33

اور مت قتل کرو تم اس جان کو وہ جسے حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور جو کوئی قتل کیا جائے مظلوم تو تحقیق کر دیا ہے ہم نے اس کے وارث کے لیے غلبہ، پس نہ زیادتی کرے وہ قتل میں ، بے شک وہ (وارث) ہے مدد دیا ہوا (33) [33] اس آیت کریمہ کا حکم ہر اس جان کو شامل ہے جس کے قتل کو ﴿ حَرَّمَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے‘‘ وہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام اور مسلم ہو یا کافر معاہد ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ ’’سوائے اس (قتل) کے جو برحق ہو‘‘مثلاً: مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو قتل کرنا، مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والے مرتد کو قتل کرنا اور باغی کو بغاوت کی حالت میں قتل کرنا جبکہ اس کو قتل كيے بغیر بغاوت پر قابو نہ پایا جا سکتا ہو۔ ﴿وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے۔‘‘ یعنی جسے ناحق قتل کیا گیا ہو ﴿ فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِيِّهٖ ﴾ ’’تو کی ہم نے اس کے ولی کے لیے‘‘ یہاں ’’ولی‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو مقتول کے ورثاء اور عصبہ میں سے اس کے سب سے زیادہ قریب ہو۔ ﴿ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’دلیل‘‘ یعنی ہم نے مقتول کے ولی کے لیے قاتل سے قصاص لینے کی ظاہری دلیل فراہم کر دی، نیز اسے قدری طور پر بھی قاتل پر اختیار عطا کر دیا ہے مگر یہ اس وقت ہے جب قصاص کی موجب تمام شرائط یکجا ہوں ، مثلاً:ارادہ اور تعدی کے ساتھ قتل کرنا اور مقتول اور قاتل میں برابری وغیرہ۔ ﴿ فَلَا يُسۡرِفۡ فِّي الۡقَتۡلِ﴾ ’’پس وہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے۔‘‘ یعنی ولی قاتل کے قتل میں اسراف سے کام نہ لے۔ یہاں ’’اسراف‘‘ سے مراد یہ ہے کہ مقتول کا ولی قاتل کو قتل کرنے میں حد سے تجاوز کرے۔ (اس اسراف کی تین صورتیں ہیں ۔)(۱) ولی قاتل کا مثلہ کرے۔ (یعنی اسے ایذا دے دے کر مارے، ناک کاٹے، کان کاٹے، وغیرہ وغیرہ۔)(۲)ولی قاتل کو کسی ایسی چیز کے ذریعے سے قتل کرے جس کے ذریعے سے مقتول کو قتل نہ کیا گیا ہو۔(۳) قاتل کو چھوڑ کر کسی اور کو قتل کر دیا جائے۔اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صرف ولی کو قصاص لینے کا حق ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اگر ولی قاتل کو معاف کر دے تو قصاص ساقط ہو جاتا ہے، نیز اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قاتل اور اس کے مددگاروں کے مقابلے میں مقتول کے ولی کی مدد کرتا ہے۔

الإسراء 17:34

اور مت قریب جاؤ تم مال یتیم کے مگر ساتھ اس طریقے کے کہ وہ بہت ہی اچھا ہو، یہاں تک کہ پہنچ جائے یتیم اپنی جوانی کواور پورا کرو تم عہد کو، بلاشبہ عہد، ہوگی باز پرس (اس کی بابت)(34) [34] یہ اللہ تعالیٰ کا اس یتیم پر اپنی رحمت اور لطف وکرم کا اظہار ہے۔ جس کا باپ اس کی چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے اور وہ ابھی اپنے مفادات کی معرفت رکھتا ہو نہ ان کا انتظام کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے سر پرستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ یتیم اور اس کے مال کی حفاظت کریں اور اس کے مال کی اصلاح کریں اور یہ کہ اس کے قریب بھی نہ جائیں ﴿ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾ ’’مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو‘‘ یعنی تم اس کے مال کو تجارت میں لگاؤ، اس کو اتلاف کے خطرے میں نہ ڈالو اور اس میں اضافے اور نشوونما کی خواہش رکھو اور یہ صورت حال اس وقت تک رہے یہاں تک کہ ﴿ يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ﴾ ’’وہ (یتیم) جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ یعنی بلوغت اور عقل و رشد کی عمر کو پہنچ جائے۔ پس جب وہ بالغ و عاقل ہو جائے تو اس سے سرپرستی زائل ہو جائے گی اور وہ اپنے معاملات کا خود سرپرست بن جائے گا اور اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ ﴾(النساء : 4؍6)’’پس اگر تم ان میں عقل کی پختگی پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔‘‘﴿ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ﴾ ’’اور عہد کو پورا کرو‘‘ جو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھا ہے، نیز اس عہد کو پورا کرو جو تم نے مخلوق کے ساتھ کیا ہے۔ ﴿ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔوۡلًا﴾ ’’عہد کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی۔‘‘ یعنی ایفائے عہد کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا اگر تم نے عہد پورا کیا تو تمھارے لیے بہت بڑا ثواب ہے اور اگر تم نے عہد کو پورا نہ کیا تو تم پر بہت بڑا گناہ ہے۔

الإسراء 17:35

اور پورا کرو تم ماپ کو جب ماپو تم اورتولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے، یہ بہت ہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے با عتبار انجام کے (35) [35] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عدل اور ناپ تول کو بغیر کسی کمی کے انصاف کے ساتھ پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کے عمومی معنی سے دھوکہ دہی، اندازے سے قیمت لگانے، کسی چیز کی قیمت طے ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص کی طرف سے قیمت لگانے کی ممانعت اور معاملات میں خیرخواہی اور صداقت مستنبط ہوتی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ خَيۡرٌ ﴾ ’’یہ بہتر ہے‘‘ اس کے نہ ہونے سے ﴿ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا﴾ ’’اور اس کا انجام اچھا ہے‘‘ یعنی یہ عدل انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، بندہ تاوان اور نقصان سے محفوظ رہتا ہے اور عدل و انصاف اور ناپ تول پورا کرنے سے برکت نازل ہوتی ہے۔

الإسراء 17:36

اور نہ پیچھا کریں آپ اس چیز کا کہ نہیں ہے آپ کو اس چیز کا کوئی علم، بلاشبہ کان اور آنکھ اور دل، ہر ایک (کی بابت) ان میں سے، ہو گی اس سے باز پرس (36) [36] یعنی اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہیں بلکہ تم جو کچھ کہتے یا کرتے ہو، اس کے بارے میں پوری تحقیق کر لیا کرو اور یہ خیال نہ کرو کہ تمھارا قول و فعل یوں ہی ختم ہو جائے گا، تمھیں اس کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا۔ ﴿اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَؔ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔوۡلًا﴾ ’’بے شک کان، آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی‘‘ پس جو بندہ یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کے قول و فعل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اس بارے میں اسے جواب دہی کرنی ہو گی کہ اس نے اپنے ان اعضاء کو کہاں کہاں استعمال کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے… اس پر لازم ہے کہ وہ اس سوال کا جواب تیار کر لے۔ ان امور کا جواب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس نے ان اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں استعمال نہ کیا ہو، دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نہ کیا ہو اور ان باتوں سے باز نہ رہا ہو جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔

الإسراء 17:37

اور مت چل تو زمین میں اتراتے ہوئے، بلاشبہ تو ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا زمین کو اور ہر گز نہیں پہنچ سکے گا تو پہاڑوں کو لمبائی میں (37) تمام یہ (مذکورہ کام) ہے برائی ان کی نزدیک آپ کے رب کے ناپسند (38) یہ اس میں سے ہے جو وحی کی ہے آپ کی طرف آپ کے رب نے حکمت سے اور نہ ٹھہراؤ ساتھ اللہ کے معبود دوسرا، پس ڈال دیے جاؤ گے جہنم میں ملامت زدہ، دھتکارے ہوئے (39) [37]﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا﴾ ’’اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل‘‘ یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ ﴿اِنَّكَ ﴾ ’’بے شک تو‘‘ ﴿ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا﴾ ’’بے شک تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر‘‘ بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلاشبہ جن چیزوں کا تونے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور رذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔ [38]﴿ كُلُّ ذٰلِكَ ﴾ مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ میں گزر چکا ہے، نیز والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ ﴿كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’اس کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے‘‘ یعنی ان میں سے ہر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ یہ برائی برا سلوک کرے گی اور ان کو نقصان پہنچائے گی اور اللہ تعالیٰ اس برائی کو ناپسند کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ [39]﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ یعنی یہ احکام جلیلہ جن کو ہم نے واضح کر کے بیان کردیا ہے ﴿ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤى اِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ الۡحِكۡمَةِ﴾ ’’ان باتوں میں سے ہیں جو وحی بھیجی آپ کے رب نے آپ کی طرف حکمت کے کاموں سے‘‘ اور حکمت محاسن اعمال، مکارم اخلاق کے حکم اور اخلاق رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے ممانعت کا نام ہے اور یہ اعمال جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں ، حکمت عالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو رب کائنات نے، افضل ترین کتاب، قرآن کریم میں سیدالمرسلینﷺ کی طرف وحی کیا تاکہ آپ بہترین امت کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور جسے یہ حکمت عطا کر دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی، پھر آیت کریمہ کو غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت پر ختم کیا جیسا کہ غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت سے اس کی ابتدا کی تھی۔ فرمایا:﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰى فِيۡ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور نہ ٹھہرا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، پھر پڑے گا تو جہنم میں ‘‘ یعنی ابد الآباد تک جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًؔا ﴾ ’’ملامت زدہ دھتکارا ہوا‘‘ یعنی تیرے لیے ملامت اور لعنت ہوگی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے۔

الإسراء 17:38

اور مت چل تو زمین میں اتراتے ہوئے، بلاشبہ تو ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا زمین کو اور ہر گز نہیں پہنچ سکے گا تو پہاڑوں کو لمبائی میں (37) تمام یہ (مذکورہ کام) ہے برائی ان کی نزدیک آپ کے رب کے ناپسند (38) یہ اس میں سے ہے جو وحی کی ہے آپ کی طرف آپ کے رب نے حکمت سے اور نہ ٹھہراؤ ساتھ اللہ کے معبود دوسرا، پس ڈال دیے جاؤ گے جہنم میں ملامت زدہ، دھتکارے ہوئے (39) [37]﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا﴾ ’’اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل‘‘ یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ ﴿اِنَّكَ ﴾ ’’بے شک تو‘‘ ﴿ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا﴾ ’’بے شک تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر‘‘ بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلاشبہ جن چیزوں کا تونے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور رذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔ [38]﴿ كُلُّ ذٰلِكَ ﴾ مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ میں گزر چکا ہے، نیز والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ ﴿كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’اس کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے‘‘ یعنی ان میں سے ہر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ یہ برائی برا سلوک کرے گی اور ان کو نقصان پہنچائے گی اور اللہ تعالیٰ اس برائی کو ناپسند کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ [39]﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ یعنی یہ احکام جلیلہ جن کو ہم نے واضح کر کے بیان کردیا ہے ﴿ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤى اِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ الۡحِكۡمَةِ﴾ ’’ان باتوں میں سے ہیں جو وحی بھیجی آپ کے رب نے آپ کی طرف حکمت کے کاموں سے‘‘ اور حکمت محاسن اعمال، مکارم اخلاق کے حکم اور اخلاق رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے ممانعت کا نام ہے اور یہ اعمال جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں ، حکمت عالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو رب کائنات نے، افضل ترین کتاب، قرآن کریم میں سیدالمرسلینﷺ کی طرف وحی کیا تاکہ آپ بہترین امت کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور جسے یہ حکمت عطا کر دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی، پھر آیت کریمہ کو غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت پر ختم کیا جیسا کہ غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت سے اس کی ابتدا کی تھی۔ فرمایا:﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰى فِيۡ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور نہ ٹھہرا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، پھر پڑے گا تو جہنم میں ‘‘ یعنی ابد الآباد تک جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًؔا ﴾ ’’ملامت زدہ دھتکارا ہوا‘‘ یعنی تیرے لیے ملامت اور لعنت ہوگی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے۔

الإسراء 17:39

اور مت چل تو زمین میں اتراتے ہوئے، بلاشبہ تو ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا زمین کو اور ہر گز نہیں پہنچ سکے گا تو پہاڑوں کو لمبائی میں (37) تمام یہ (مذکورہ کام) ہے برائی ان کی نزدیک آپ کے رب کے ناپسند (38) یہ اس میں سے ہے جو وحی کی ہے آپ کی طرف آپ کے رب نے حکمت سے اور نہ ٹھہراؤ ساتھ اللہ کے معبود دوسرا، پس ڈال دیے جاؤ گے جہنم میں ملامت زدہ، دھتکارے ہوئے (39) [37]﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا﴾ ’’اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل‘‘ یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ ﴿اِنَّكَ ﴾ ’’بے شک تو‘‘ ﴿ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا﴾ ’’بے شک تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر‘‘ بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلاشبہ جن چیزوں کا تونے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور رذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔ [38]﴿ كُلُّ ذٰلِكَ ﴾ مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ میں گزر چکا ہے، نیز والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ ﴿كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’اس کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے‘‘ یعنی ان میں سے ہر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ یہ برائی برا سلوک کرے گی اور ان کو نقصان پہنچائے گی اور اللہ تعالیٰ اس برائی کو ناپسند کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ [39]﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ یعنی یہ احکام جلیلہ جن کو ہم نے واضح کر کے بیان کردیا ہے ﴿ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤى اِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ الۡحِكۡمَةِ﴾ ’’ان باتوں میں سے ہیں جو وحی بھیجی آپ کے رب نے آپ کی طرف حکمت کے کاموں سے‘‘ اور حکمت محاسن اعمال، مکارم اخلاق کے حکم اور اخلاق رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے ممانعت کا نام ہے اور یہ اعمال جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں ، حکمت عالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو رب کائنات نے، افضل ترین کتاب، قرآن کریم میں سیدالمرسلینﷺ کی طرف وحی کیا تاکہ آپ بہترین امت کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور جسے یہ حکمت عطا کر دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی، پھر آیت کریمہ کو غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت پر ختم کیا جیسا کہ غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت سے اس کی ابتدا کی تھی۔ فرمایا:﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰى فِيۡ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور نہ ٹھہرا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، پھر پڑے گا تو جہنم میں ‘‘ یعنی ابد الآباد تک جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًؔا ﴾ ’’ملامت زدہ دھتکارا ہوا‘‘ یعنی تیرے لیے ملامت اور لعنت ہوگی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے۔

الإسراء 17:40

کیا چن لیا ہے تمھیں تمھارے رب نے ساتھ بیٹوں کےاور بنا لیا (خود) فرشتوں کو بیٹیاں ؟ بلاشبہ تم البتہ کہتے ہو بات بہت بڑی (خطرناک)(40) [40] یہ اس شخص پر نہایت شدت سے نکیر ہے جس کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے بنابریں فرمایا: ﴿اَفَاَصۡفٰىكُمۡ رَبُّكُمۡ بِالۡبَنِيۡنَ ﴾ ’’کیا تمھارے رب نے تم کو لڑکے دیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چن کر تمھارے لیے کامل ترین حصہ مقرر کر دیا اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا… کیونکہ مشرکین کا یہ خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’بے شک تم کہتے ہو بھاری بات۔‘‘ تمھارا یہ قول اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کر دی۔ تمھارا قول اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے اور اس کی کچھ مخلوق اس سے بے نیاز ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے حق میں اولاد کی دونوں قسموں میں سے زیادہ ردی قسم کا فیصلہ کیا یعنی تم نے اس کی طرف بیٹیوں کو منسوب کر دیا، حالانکہ اس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھیں بیٹے عطا كيے۔ پس بہت بلند ہے اللہ تعالیٰ اس بات سے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔

الإسراء 17:41

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور نہیں زیادہ کرتا یہ ان کو مگر نفرت ہی میں (41) کہہ دیجیے، اگر ہوتے اللہ کے ساتھ اور معبود جیسا کہ کہتے ہیں وہ (مشرک) تو اس وقت البتہ تلاش کرتے وہ (معبود) طرف عرش والے (اللہ) کے کوئی راستہ (42) پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ (مشرک) کہتے ہیں ، برتر بہت زیادہ (43) پاکیزگی بیان کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اور زمین بھی اور جو (مخلوق) ان میں ہے،اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ تسبیح بیان کرتی ہے ساتھ اس کی حمد کے لیکن نہیں سمجھتے تم تسبیح ان کی، بلاشبہ وہ ہے نہایت حوصلے والا، بہت بخشنے والا (44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لیے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان كيے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان كيے ہیں اور انھیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انھیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں ۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتٰی کہ وہ باطل کے لیے تعصب میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔ [42] جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان كيے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان كيے ہیں ۔ جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے ہیں ﴿ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو نکالتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ‘‘ یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾(بنی اسرائیل : 17؍57) ’’جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَؕ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾(الفرقان:25؍17۔18) ’’اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں ، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں ۔‘‘اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لیے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آ جاتے اور جو غالب آ جاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انھیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں ، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انھوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنیٰ کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ ﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ﴾(المومنون : 23؍91) ’’اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔‘‘ [43] فرمایا: ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں ﴿ عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’ان سے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے ﴿ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا﴾ ’’بہت بلند۔‘‘ پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبریائی برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں ۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ﴾(الزمر : 39؍67) ’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرواحتیاج ہر لحاظ سے، تخلیق، رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرواحتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و محبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہر حال میں اس کی پناہ لیں ۔ [44] بنابریں فرمایا ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور نہیں ہے کوئی چیز۔‘‘ یعنی حیوان ناطق، حیوان غیر ناطق، درخت، نباتات، جمادات، زندہ اور مردہ ﴿ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ‘‘ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے ﴿ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ﴾ ’’لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے‘‘ یعنی تم باقی تمام مخلوقات کی تسبیح نہیں سمجھتے جن کی زبان تمھاری زبان سے مختلف ہے۔ مگر اللہ علام الغیوب ان سب کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾ ’’بے شک وہ بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی فوراً سزا نہیں دیتا جو اس کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے، انھیں نعمتوں سے نوازتا ہے، ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو اپنے دروازے پر بلاتا ہے تاکہ وہ اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور وہ ان کو ثواب جزیل عطا کرے اور ان کے گناہ بخش دے۔ اگر اس کا حلم اور مغفرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتے اور زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچتا۔

الإسراء 17:42

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور نہیں زیادہ کرتا یہ ان کو مگر نفرت ہی میں (41) کہہ دیجیے، اگر ہوتے اللہ کے ساتھ اور معبود جیسا کہ کہتے ہیں وہ (مشرک) تو اس وقت البتہ تلاش کرتے وہ (معبود) طرف عرش والے (اللہ) کے کوئی راستہ (42) پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ (مشرک) کہتے ہیں ، برتر بہت زیادہ (43) پاکیزگی بیان کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اور زمین بھی اور جو (مخلوق) ان میں ہے،اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ تسبیح بیان کرتی ہے ساتھ اس کی حمد کے لیکن نہیں سمجھتے تم تسبیح ان کی، بلاشبہ وہ ہے نہایت حوصلے والا، بہت بخشنے والا (44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لیے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان كيے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان كيے ہیں اور انھیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انھیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں ۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتٰی کہ وہ باطل کے لیے تعصب میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔ [42] جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان كيے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان كيے ہیں ۔ جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے ہیں ﴿ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو نکالتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ‘‘ یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾(بنی اسرائیل : 17؍57) ’’جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَؕ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾(الفرقان:25؍17۔18) ’’اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں ، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں ۔‘‘اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لیے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آ جاتے اور جو غالب آ جاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انھیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں ، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انھوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنیٰ کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ ﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ﴾(المومنون : 23؍91) ’’اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔‘‘ [43] فرمایا: ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں ﴿ عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’ان سے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے ﴿ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا﴾ ’’بہت بلند۔‘‘ پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبریائی برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں ۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ﴾(الزمر : 39؍67) ’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرواحتیاج ہر لحاظ سے، تخلیق، رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرواحتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و محبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہر حال میں اس کی پناہ لیں ۔ [44] بنابریں فرمایا ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور نہیں ہے کوئی چیز۔‘‘ یعنی حیوان ناطق، حیوان غیر ناطق، درخت، نباتات، جمادات، زندہ اور مردہ ﴿ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ‘‘ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے ﴿ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ﴾ ’’لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے‘‘ یعنی تم باقی تمام مخلوقات کی تسبیح نہیں سمجھتے جن کی زبان تمھاری زبان سے مختلف ہے۔ مگر اللہ علام الغیوب ان سب کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾ ’’بے شک وہ بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی فوراً سزا نہیں دیتا جو اس کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے، انھیں نعمتوں سے نوازتا ہے، ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو اپنے دروازے پر بلاتا ہے تاکہ وہ اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور وہ ان کو ثواب جزیل عطا کرے اور ان کے گناہ بخش دے۔ اگر اس کا حلم اور مغفرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتے اور زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچتا۔

الإسراء 17:43

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور نہیں زیادہ کرتا یہ ان کو مگر نفرت ہی میں (41) کہہ دیجیے، اگر ہوتے اللہ کے ساتھ اور معبود جیسا کہ کہتے ہیں وہ (مشرک) تو اس وقت البتہ تلاش کرتے وہ (معبود) طرف عرش والے (اللہ) کے کوئی راستہ (42) پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ (مشرک) کہتے ہیں ، برتر بہت زیادہ (43) پاکیزگی بیان کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اور زمین بھی اور جو (مخلوق) ان میں ہے،اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ تسبیح بیان کرتی ہے ساتھ اس کی حمد کے لیکن نہیں سمجھتے تم تسبیح ان کی، بلاشبہ وہ ہے نہایت حوصلے والا، بہت بخشنے والا (44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لیے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان كيے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان كيے ہیں اور انھیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انھیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں ۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتٰی کہ وہ باطل کے لیے تعصب میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔ [42] جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان كيے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان كيے ہیں ۔ جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے ہیں ﴿ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو نکالتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ‘‘ یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾(بنی اسرائیل : 17؍57) ’’جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَؕ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾(الفرقان:25؍17۔18) ’’اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں ، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں ۔‘‘اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لیے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آ جاتے اور جو غالب آ جاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انھیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں ، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انھوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنیٰ کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ ﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ﴾(المومنون : 23؍91) ’’اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔‘‘ [43] فرمایا: ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں ﴿ عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’ان سے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے ﴿ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا﴾ ’’بہت بلند۔‘‘ پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبریائی برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں ۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ﴾(الزمر : 39؍67) ’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرواحتیاج ہر لحاظ سے، تخلیق، رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرواحتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و محبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہر حال میں اس کی پناہ لیں ۔ [44] بنابریں فرمایا ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور نہیں ہے کوئی چیز۔‘‘ یعنی حیوان ناطق، حیوان غیر ناطق، درخت، نباتات، جمادات، زندہ اور مردہ ﴿ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ‘‘ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے ﴿ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ﴾ ’’لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے‘‘ یعنی تم باقی تمام مخلوقات کی تسبیح نہیں سمجھتے جن کی زبان تمھاری زبان سے مختلف ہے۔ مگر اللہ علام الغیوب ان سب کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾ ’’بے شک وہ بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی فوراً سزا نہیں دیتا جو اس کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے، انھیں نعمتوں سے نوازتا ہے، ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو اپنے دروازے پر بلاتا ہے تاکہ وہ اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور وہ ان کو ثواب جزیل عطا کرے اور ان کے گناہ بخش دے۔ اگر اس کا حلم اور مغفرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتے اور زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچتا۔

الإسراء 17:44

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور نہیں زیادہ کرتا یہ ان کو مگر نفرت ہی میں (41) کہہ دیجیے، اگر ہوتے اللہ کے ساتھ اور معبود جیسا کہ کہتے ہیں وہ (مشرک) تو اس وقت البتہ تلاش کرتے وہ (معبود) طرف عرش والے (اللہ) کے کوئی راستہ (42) پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ (مشرک) کہتے ہیں ، برتر بہت زیادہ (43) پاکیزگی بیان کرتے ہیں اس کی ساتوں آسمان اور زمین بھی اور جو (مخلوق) ان میں ہے،اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ تسبیح بیان کرتی ہے ساتھ اس کی حمد کے لیکن نہیں سمجھتے تم تسبیح ان کی، بلاشبہ وہ ہے نہایت حوصلے والا، بہت بخشنے والا (44) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لیے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان كيے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان كيے ہیں اور انھیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انھیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں ۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتٰی کہ وہ باطل کے لیے تعصب میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔ [42] جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان كيے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان كيے ہیں ۔ جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے ہیں ﴿ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو نکالتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ‘‘ یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾(بنی اسرائیل : 17؍57) ’’جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَؕ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾(الفرقان:25؍17۔18) ’’اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں ، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں ۔‘‘اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لیے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آ جاتے اور جو غالب آ جاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انھیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں ، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انھوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنیٰ کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ ﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ﴾(المومنون : 23؍91) ’’اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔‘‘ [43] فرمایا: ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں ﴿ عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’ان سے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے ﴿ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا﴾ ’’بہت بلند۔‘‘ پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبریائی برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں ۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ﴾(الزمر : 39؍67) ’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرواحتیاج ہر لحاظ سے، تخلیق، رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرواحتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و محبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہر حال میں اس کی پناہ لیں ۔ [44] بنابریں فرمایا ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور نہیں ہے کوئی چیز۔‘‘ یعنی حیوان ناطق، حیوان غیر ناطق، درخت، نباتات، جمادات، زندہ اور مردہ ﴿ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ‘‘ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے ﴿ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ﴾ ’’لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے‘‘ یعنی تم باقی تمام مخلوقات کی تسبیح نہیں سمجھتے جن کی زبان تمھاری زبان سے مختلف ہے۔ مگر اللہ علام الغیوب ان سب کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾ ’’بے شک وہ بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی فوراً سزا نہیں دیتا جو اس کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے، انھیں نعمتوں سے نوازتا ہے، ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو اپنے دروازے پر بلاتا ہے تاکہ وہ اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور وہ ان کو ثواب جزیل عطا کرے اور ان کے گناہ بخش دے۔ اگر اس کا حلم اور مغفرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتے اور زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچتا۔

الإسراء 17:45

اور جب پڑھتے ہیں آپ قرآن تو بنا دیتے ہیں ہم درمیان آپ کے اور درمیان ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ایک پردہ چھپا ہوا (45) اور بنا دیے ہم نےاوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہیں اور جب ذکر کرتے ہیں آپ اپنے رب کا قرآن میں ، تنہا اسی کا تو پھر جاتے ہیں وہ اوپراپنی پیٹھوں کے، نفرت سے (46) ہم خوب جانتے ہیں اس (نیت) کو کہ سنتے ہیں وہ (قرآن کو) ساتھ اس کے، جب کان لگاتے ہیں وہ آپ کی طرف اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں (، یعنی ) جب کہتے ہیں ظالم لوگ، کہ نہیں پیروی کرتے تم مگر آدمی سحر زدہ کی (47)دیکھیے! کس طرح بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، سو نہیں پاسکتے وہ راستہ (48) [45] اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جنھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں ‘‘ جس کے اندر وعظ و تذکیر، ہدایت و ایمان، بھلائی اور علم کثیر ہے۔ ﴿ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔا﴾ ’’تو ہم کر دیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ۔‘‘ جو انھیں اس کے حقیقی فہم، اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کر دیتا ہے۔ [46]﴿ وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں ، البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِي الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ ﴾ ’’اور جب آپ ذکر کرتے ہیں اپنے رب کا قرآن میں کہ وہ اکیلا ہے‘‘ یعنی توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور شرک سے روکتے ہوئے ﴿ وَلَّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًؔا ﴾ ’’تو بھاگ جاتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر‘‘ قرآن سے نہایت سخت بغض رکھنے اور اپنے باطل موقف سے محبت کی وجہ سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾(الزمر : 39؍45) ’’جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کراہت کی وجہ سے منقبض ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ خداؤں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے کھل جاتے ہیں ۔‘‘ [47]﴿ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُوۡنَ بِهٖۤ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے یہ سنتے ہیں ‘‘ یعنی ہم نے ان کو قرآن کے استماع کے وقت اس سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا ہے کیونکہ ہم ان کے برے ارادوں کا علم رکھتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات ہی ہاتھ آئے تاکہ اس کے ذریعے سے اس میں عیب جوئی کریں ۔ ان کا قرآن سننا طلب ہدایت اور قبول حق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ تو اس کی عدم اطاعت کا تہیہ كيے ہوئے ہیں اور جن کا یہ حال ہو تو استماع قرآن ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اس لیے فرمایا:﴿ اِذۡ يَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ وَاِذۡ هُمۡ نَجۡوٰۤى ﴾ ’’جب وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں ‘‘ یعنی جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرتے ہیں ۔ ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ ظالم کہتے ہیں ‘‘ اپنی سرگوشیوں میں : ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًؔا﴾ ’’جس کی تم پیروی کرتے ہو، وہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے۔‘‘ پس جب ان کی باہمی سرگوشی اس طرح کی بے انصافی پر مبنی ہوتی تھی جس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ یہ شخص جادو زدہ ہے تو اس لیے وہ اس کے قول کا اعتبار نہیں کرتے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص نامعقول باتیں کرتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ [48]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ یعنی تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھیے۔ ﴿ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’کیسے بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ‘‘ جو کہ گمراہ ترین اور حق و صواب سے سب سے زیادہ ہٹی ہوئی مثالیں ہیں ﴿ فَضَلُّوۡا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی اس بارے میں وہ گمراہ ہو گئے یا یہ ضرب الامثال ان کی گمراہی کا سبب بن گئیں کیونکہ انھوں نے اپنے معاملات کی بنیاد ان مثالوں پر رکھی اور کسی فاسد چیز پر رکھی ہوئی بنیاد اس سے زیادہ فاسد ہوتی ہے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا﴾ ’’پس وہ راہ نہیں پاسکتے‘‘ یعنی انھیں کسی طور بھی راستہ نہیں مل سکتا، اس لیے ان کے نصیب میں محض گمراہی اور صرف ظلم ہے۔

الإسراء 17:46

اور جب پڑھتے ہیں آپ قرآن تو بنا دیتے ہیں ہم درمیان آپ کے اور درمیان ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ایک پردہ چھپا ہوا (45) اور بنا دیے ہم نےاوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہیں اور جب ذکر کرتے ہیں آپ اپنے رب کا قرآن میں ، تنہا اسی کا تو پھر جاتے ہیں وہ اوپراپنی پیٹھوں کے، نفرت سے (46) ہم خوب جانتے ہیں اس (نیت) کو کہ سنتے ہیں وہ (قرآن کو) ساتھ اس کے، جب کان لگاتے ہیں وہ آپ کی طرف اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں (، یعنی ) جب کہتے ہیں ظالم لوگ، کہ نہیں پیروی کرتے تم مگر آدمی سحر زدہ کی (47)دیکھیے! کس طرح بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، سو نہیں پاسکتے وہ راستہ (48) [45] اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جنھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں ‘‘ جس کے اندر وعظ و تذکیر، ہدایت و ایمان، بھلائی اور علم کثیر ہے۔ ﴿ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔا﴾ ’’تو ہم کر دیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ۔‘‘ جو انھیں اس کے حقیقی فہم، اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کر دیتا ہے۔ [46]﴿ وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں ، البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِي الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ ﴾ ’’اور جب آپ ذکر کرتے ہیں اپنے رب کا قرآن میں کہ وہ اکیلا ہے‘‘ یعنی توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور شرک سے روکتے ہوئے ﴿ وَلَّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًؔا ﴾ ’’تو بھاگ جاتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر‘‘ قرآن سے نہایت سخت بغض رکھنے اور اپنے باطل موقف سے محبت کی وجہ سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾(الزمر : 39؍45) ’’جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کراہت کی وجہ سے منقبض ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ خداؤں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے کھل جاتے ہیں ۔‘‘ [47]﴿ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُوۡنَ بِهٖۤ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے یہ سنتے ہیں ‘‘ یعنی ہم نے ان کو قرآن کے استماع کے وقت اس سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا ہے کیونکہ ہم ان کے برے ارادوں کا علم رکھتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات ہی ہاتھ آئے تاکہ اس کے ذریعے سے اس میں عیب جوئی کریں ۔ ان کا قرآن سننا طلب ہدایت اور قبول حق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ تو اس کی عدم اطاعت کا تہیہ كيے ہوئے ہیں اور جن کا یہ حال ہو تو استماع قرآن ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اس لیے فرمایا:﴿ اِذۡ يَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ وَاِذۡ هُمۡ نَجۡوٰۤى ﴾ ’’جب وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں ‘‘ یعنی جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرتے ہیں ۔ ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ ظالم کہتے ہیں ‘‘ اپنی سرگوشیوں میں : ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًؔا﴾ ’’جس کی تم پیروی کرتے ہو، وہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے۔‘‘ پس جب ان کی باہمی سرگوشی اس طرح کی بے انصافی پر مبنی ہوتی تھی جس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ یہ شخص جادو زدہ ہے تو اس لیے وہ اس کے قول کا اعتبار نہیں کرتے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص نامعقول باتیں کرتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ [48]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ یعنی تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھیے۔ ﴿ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’کیسے بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ‘‘ جو کہ گمراہ ترین اور حق و صواب سے سب سے زیادہ ہٹی ہوئی مثالیں ہیں ﴿ فَضَلُّوۡا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی اس بارے میں وہ گمراہ ہو گئے یا یہ ضرب الامثال ان کی گمراہی کا سبب بن گئیں کیونکہ انھوں نے اپنے معاملات کی بنیاد ان مثالوں پر رکھی اور کسی فاسد چیز پر رکھی ہوئی بنیاد اس سے زیادہ فاسد ہوتی ہے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا﴾ ’’پس وہ راہ نہیں پاسکتے‘‘ یعنی انھیں کسی طور بھی راستہ نہیں مل سکتا، اس لیے ان کے نصیب میں محض گمراہی اور صرف ظلم ہے۔

الإسراء 17:47

اور جب پڑھتے ہیں آپ قرآن تو بنا دیتے ہیں ہم درمیان آپ کے اور درمیان ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ایک پردہ چھپا ہوا (45) اور بنا دیے ہم نےاوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہیں اور جب ذکر کرتے ہیں آپ اپنے رب کا قرآن میں ، تنہا اسی کا تو پھر جاتے ہیں وہ اوپراپنی پیٹھوں کے، نفرت سے (46) ہم خوب جانتے ہیں اس (نیت) کو کہ سنتے ہیں وہ (قرآن کو) ساتھ اس کے، جب کان لگاتے ہیں وہ آپ کی طرف اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں (، یعنی ) جب کہتے ہیں ظالم لوگ، کہ نہیں پیروی کرتے تم مگر آدمی سحر زدہ کی (47)دیکھیے! کس طرح بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، سو نہیں پاسکتے وہ راستہ (48) [45] اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جنھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں ‘‘ جس کے اندر وعظ و تذکیر، ہدایت و ایمان، بھلائی اور علم کثیر ہے۔ ﴿ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔا﴾ ’’تو ہم کر دیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ۔‘‘ جو انھیں اس کے حقیقی فہم، اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کر دیتا ہے۔ [46]﴿ وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں ، البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِي الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ ﴾ ’’اور جب آپ ذکر کرتے ہیں اپنے رب کا قرآن میں کہ وہ اکیلا ہے‘‘ یعنی توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور شرک سے روکتے ہوئے ﴿ وَلَّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًؔا ﴾ ’’تو بھاگ جاتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر‘‘ قرآن سے نہایت سخت بغض رکھنے اور اپنے باطل موقف سے محبت کی وجہ سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾(الزمر : 39؍45) ’’جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کراہت کی وجہ سے منقبض ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ خداؤں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے کھل جاتے ہیں ۔‘‘ [47]﴿ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُوۡنَ بِهٖۤ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے یہ سنتے ہیں ‘‘ یعنی ہم نے ان کو قرآن کے استماع کے وقت اس سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا ہے کیونکہ ہم ان کے برے ارادوں کا علم رکھتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات ہی ہاتھ آئے تاکہ اس کے ذریعے سے اس میں عیب جوئی کریں ۔ ان کا قرآن سننا طلب ہدایت اور قبول حق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ تو اس کی عدم اطاعت کا تہیہ كيے ہوئے ہیں اور جن کا یہ حال ہو تو استماع قرآن ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اس لیے فرمایا:﴿ اِذۡ يَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ وَاِذۡ هُمۡ نَجۡوٰۤى ﴾ ’’جب وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں ‘‘ یعنی جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرتے ہیں ۔ ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ ظالم کہتے ہیں ‘‘ اپنی سرگوشیوں میں : ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًؔا﴾ ’’جس کی تم پیروی کرتے ہو، وہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے۔‘‘ پس جب ان کی باہمی سرگوشی اس طرح کی بے انصافی پر مبنی ہوتی تھی جس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ یہ شخص جادو زدہ ہے تو اس لیے وہ اس کے قول کا اعتبار نہیں کرتے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص نامعقول باتیں کرتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ [48]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ یعنی تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھیے۔ ﴿ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’کیسے بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ‘‘ جو کہ گمراہ ترین اور حق و صواب سے سب سے زیادہ ہٹی ہوئی مثالیں ہیں ﴿ فَضَلُّوۡا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی اس بارے میں وہ گمراہ ہو گئے یا یہ ضرب الامثال ان کی گمراہی کا سبب بن گئیں کیونکہ انھوں نے اپنے معاملات کی بنیاد ان مثالوں پر رکھی اور کسی فاسد چیز پر رکھی ہوئی بنیاد اس سے زیادہ فاسد ہوتی ہے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا﴾ ’’پس وہ راہ نہیں پاسکتے‘‘ یعنی انھیں کسی طور بھی راستہ نہیں مل سکتا، اس لیے ان کے نصیب میں محض گمراہی اور صرف ظلم ہے۔

الإسراء 17:48

اور جب پڑھتے ہیں آپ قرآن تو بنا دیتے ہیں ہم درمیان آپ کے اور درمیان ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، ایک پردہ چھپا ہوا (45) اور بنا دیے ہم نےاوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہیں اور جب ذکر کرتے ہیں آپ اپنے رب کا قرآن میں ، تنہا اسی کا تو پھر جاتے ہیں وہ اوپراپنی پیٹھوں کے، نفرت سے (46) ہم خوب جانتے ہیں اس (نیت) کو کہ سنتے ہیں وہ (قرآن کو) ساتھ اس کے، جب کان لگاتے ہیں وہ آپ کی طرف اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں (، یعنی ) جب کہتے ہیں ظالم لوگ، کہ نہیں پیروی کرتے تم مگر آدمی سحر زدہ کی (47)دیکھیے! کس طرح بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، سو نہیں پاسکتے وہ راستہ (48) [45] اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جنھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں ‘‘ جس کے اندر وعظ و تذکیر، ہدایت و ایمان، بھلائی اور علم کثیر ہے۔ ﴿ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔا﴾ ’’تو ہم کر دیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ۔‘‘ جو انھیں اس کے حقیقی فہم، اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کر دیتا ہے۔ [46]﴿ وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں ، البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِي الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ ﴾ ’’اور جب آپ ذکر کرتے ہیں اپنے رب کا قرآن میں کہ وہ اکیلا ہے‘‘ یعنی توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور شرک سے روکتے ہوئے ﴿ وَلَّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًؔا ﴾ ’’تو بھاگ جاتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر‘‘ قرآن سے نہایت سخت بغض رکھنے اور اپنے باطل موقف سے محبت کی وجہ سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠﴾(الزمر : 39؍45) ’’جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کراہت کی وجہ سے منقبض ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ خداؤں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے کھل جاتے ہیں ۔‘‘ [47]﴿ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُوۡنَ بِهٖۤ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے یہ سنتے ہیں ‘‘ یعنی ہم نے ان کو قرآن کے استماع کے وقت اس سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا ہے کیونکہ ہم ان کے برے ارادوں کا علم رکھتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات ہی ہاتھ آئے تاکہ اس کے ذریعے سے اس میں عیب جوئی کریں ۔ ان کا قرآن سننا طلب ہدایت اور قبول حق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ تو اس کی عدم اطاعت کا تہیہ كيے ہوئے ہیں اور جن کا یہ حال ہو تو استماع قرآن ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اس لیے فرمایا:﴿ اِذۡ يَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ وَاِذۡ هُمۡ نَجۡوٰۤى ﴾ ’’جب وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں ‘‘ یعنی جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرتے ہیں ۔ ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ ظالم کہتے ہیں ‘‘ اپنی سرگوشیوں میں : ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًؔا﴾ ’’جس کی تم پیروی کرتے ہو، وہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے۔‘‘ پس جب ان کی باہمی سرگوشی اس طرح کی بے انصافی پر مبنی ہوتی تھی جس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ یہ شخص جادو زدہ ہے تو اس لیے وہ اس کے قول کا اعتبار نہیں کرتے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص نامعقول باتیں کرتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ [48]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ یعنی تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھیے۔ ﴿ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’کیسے بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں ‘‘ جو کہ گمراہ ترین اور حق و صواب سے سب سے زیادہ ہٹی ہوئی مثالیں ہیں ﴿ فَضَلُّوۡا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی اس بارے میں وہ گمراہ ہو گئے یا یہ ضرب الامثال ان کی گمراہی کا سبب بن گئیں کیونکہ انھوں نے اپنے معاملات کی بنیاد ان مثالوں پر رکھی اور کسی فاسد چیز پر رکھی ہوئی بنیاد اس سے زیادہ فاسد ہوتی ہے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا﴾ ’’پس وہ راہ نہیں پاسکتے‘‘ یعنی انھیں کسی طور بھی راستہ نہیں مل سکتا، اس لیے ان کے نصیب میں محض گمراہی اور صرف ظلم ہے۔

الإسراء 17:49

اور کہا انھوں نے، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اورچورا چورا تو کیا بے شک ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (49)کہہ دیجیے! ہو جاؤ تم پتھر یا لوہا (50) یا (کوئی اور) مخلوق اس میں سے جو بڑی معلوم ہو تمھارے سینوں (دلوں ) میں ، پھر عنقریب کہیں گے وہ، کون دوبارہ لوٹائے گا ہمیں ؟ آپ کہہ دیں ، وہی جس نے پیدا کیا تمھیں پہلی بار، پھر عنقریب وہ ہلائیں گے آپ کی طرف اپنے سر اور وہ کہیں گے کب ہو گا وہ؟ کہہ دیجیے! شاید کہ ہو وہ قریب ہی (51) جس دن وہ (اللہ) بلائے گا تمھیں تو تم تعمیل ارشاد کرو گے، حمد کرتے ہوئے اس کی اور تم گمان کرو گے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا (ساوقت)(52) [49] اللہ تبارک و تعالیٰ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں ، اس کو جھٹلانے والوں اور اس کو بعید سمجھنے والوں کا یہ قول نقل کرتا ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ﴾ ’’کیا جب ہم ہو جائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا‘‘ یعنی جب ہم بوسیدہ ہو جائیں گے ﴿ ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’کیا پھر ہم اٹھیں گے نئے بن کر؟‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان کے زعم کے مطابق یہ بہت محال ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کر کے اور اس کی آیات کو جھٹلا کر سخت جہالت کا ثبوت دیا ہے، خالق کائنات کی قدرت کو اپنی کمزور اور عاجز قدرت پر قیاس کیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں اور وہ اس پر قدرت نہیں رکھتے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی اسی پر قیاس کر لیا۔پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو جہالت کی مثال بنایا ہے… اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں ، حالانکہ ان کی جہالت سب سے واضح، سب سے نمایاں ، دلائل و براہین کے اعتبار سے سب سے روشن اور سب سے بلند ہے… تاکہ وہ اپنے بندوں کو دکھائے کہ یہاں سوائے اس کی توفیق اور اعانت یا ہلاکت اور ضلالت کے کچھ بھی نہیں ۔ ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ﴾(آل عمران : 3؍8) ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت بخش دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر ہمیں اپنی رحمت سے نواز! بے شک تو بہت نوازنے والا ہے۔‘‘ [51,50] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ زندگی بعد موت کو بعید سمجھنے والوں سے کہہ دیں ﴿ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًاۙ ۰۰اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾’’تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جس کو تم مشکل سمجھو اپنے جی میں ‘‘ تاکہ تم اس طرح اپنے زعم کے مطابق اس بات سے محفوظ ہو جاؤ کہ تم قدرت الٰہی کی گرفت میں آؤ یا اس کی مشیت تمھاری بابت نافذ ہو۔ پس تم کسی بھی حالت میں اور کسی بھی وصف میں منتقل ہو کر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے اور اس زندگی میں اور موت کے بعد تم اپنے بارے میں کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے تدبیر اور تصرف اس ہستی کے لیے چھوڑ دو جو ہر چیز پر قادر اور ہر چیز پر محیط ہے۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے‘‘ یعنی جب آپ زندگی بعد موت کے بارے میں ان پر حجت قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ مَنۡ يُّعِيۡدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيۡ فَطَرَؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کون لوٹا کر لائے گا ہم کو؟ کہہ دیجیے! وہ جس نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔‘‘ یعنی جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اس نے تمھیں پیدا کیا اسی طرح وہ تمھیں نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ ﴿ كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾(الأنبیاء : 21؍104) ’’جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم تخلیق کا اعادہ کریں گے۔‘‘ ﴿ فَسَيُنۡغِضُوۡنَ۠ اِلَيۡكَ رُءُوۡسَهُمۡ ﴾ ’’تو (تعجب سے) تمھارے آگے سر ہلائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آپ کی بات پر تعجب اور انکار سے سر ہلاتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هُوَ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا وقت کب ہو گا جیساکہ تم کہتے ہو۔ یہ ان کی طرف سے زندگی بعد موت کا اقرار نہیں بلکہ یہ ان کی سفاہت اور بزعم خود، دلیل میں بے بس کرنا ہے۔ ﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَرِيۡبًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! شاید یہ نزدیک ہی ہوگا‘‘ اس لیے اس کے وقت کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس کا فائدہ اور اس کا دارومدار تو اس کے اقرار، اس کی تحقیق اور اس کے اثبات میں ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسے ضرور آنا ہے اس اعتبار سے وہ قریب ہی ہے۔ [52]﴿ يَوۡمَ يَدۡعُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’جس دن وہ تم کو پکارے گا‘‘ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسۡتَجِيۡبُوۡنَ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے‘‘ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمۡدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں ) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو‘‘ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں ۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں ۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰى هُوَ﴾ ’’قیامت کا دن کب ہو گا؟‘‘ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا :﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾(المطففین : 83؍17) ’’یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

الإسراء 17:50

اور کہا انھوں نے، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اورچورا چورا تو کیا بے شک ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (49)کہہ دیجیے! ہو جاؤ تم پتھر یا لوہا (50) یا (کوئی اور) مخلوق اس میں سے جو بڑی معلوم ہو تمھارے سینوں (دلوں ) میں ، پھر عنقریب کہیں گے وہ، کون دوبارہ لوٹائے گا ہمیں ؟ آپ کہہ دیں ، وہی جس نے پیدا کیا تمھیں پہلی بار، پھر عنقریب وہ ہلائیں گے آپ کی طرف اپنے سر اور وہ کہیں گے کب ہو گا وہ؟ کہہ دیجیے! شاید کہ ہو وہ قریب ہی (51) جس دن وہ (اللہ) بلائے گا تمھیں تو تم تعمیل ارشاد کرو گے، حمد کرتے ہوئے اس کی اور تم گمان کرو گے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا (ساوقت)(52) [49] اللہ تبارک و تعالیٰ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں ، اس کو جھٹلانے والوں اور اس کو بعید سمجھنے والوں کا یہ قول نقل کرتا ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ﴾ ’’کیا جب ہم ہو جائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا‘‘ یعنی جب ہم بوسیدہ ہو جائیں گے ﴿ ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’کیا پھر ہم اٹھیں گے نئے بن کر؟‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان کے زعم کے مطابق یہ بہت محال ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کر کے اور اس کی آیات کو جھٹلا کر سخت جہالت کا ثبوت دیا ہے، خالق کائنات کی قدرت کو اپنی کمزور اور عاجز قدرت پر قیاس کیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں اور وہ اس پر قدرت نہیں رکھتے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی اسی پر قیاس کر لیا۔پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو جہالت کی مثال بنایا ہے… اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں ، حالانکہ ان کی جہالت سب سے واضح، سب سے نمایاں ، دلائل و براہین کے اعتبار سے سب سے روشن اور سب سے بلند ہے… تاکہ وہ اپنے بندوں کو دکھائے کہ یہاں سوائے اس کی توفیق اور اعانت یا ہلاکت اور ضلالت کے کچھ بھی نہیں ۔ ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ﴾(آل عمران : 3؍8) ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت بخش دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر ہمیں اپنی رحمت سے نواز! بے شک تو بہت نوازنے والا ہے۔‘‘ [51,50] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ زندگی بعد موت کو بعید سمجھنے والوں سے کہہ دیں ﴿ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًاۙ ۰۰اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾’’تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جس کو تم مشکل سمجھو اپنے جی میں ‘‘ تاکہ تم اس طرح اپنے زعم کے مطابق اس بات سے محفوظ ہو جاؤ کہ تم قدرت الٰہی کی گرفت میں آؤ یا اس کی مشیت تمھاری بابت نافذ ہو۔ پس تم کسی بھی حالت میں اور کسی بھی وصف میں منتقل ہو کر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے اور اس زندگی میں اور موت کے بعد تم اپنے بارے میں کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے تدبیر اور تصرف اس ہستی کے لیے چھوڑ دو جو ہر چیز پر قادر اور ہر چیز پر محیط ہے۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے‘‘ یعنی جب آپ زندگی بعد موت کے بارے میں ان پر حجت قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ مَنۡ يُّعِيۡدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيۡ فَطَرَؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کون لوٹا کر لائے گا ہم کو؟ کہہ دیجیے! وہ جس نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔‘‘ یعنی جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اس نے تمھیں پیدا کیا اسی طرح وہ تمھیں نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ ﴿ كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾(الأنبیاء : 21؍104) ’’جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم تخلیق کا اعادہ کریں گے۔‘‘ ﴿ فَسَيُنۡغِضُوۡنَ۠ اِلَيۡكَ رُءُوۡسَهُمۡ ﴾ ’’تو (تعجب سے) تمھارے آگے سر ہلائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آپ کی بات پر تعجب اور انکار سے سر ہلاتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هُوَ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا وقت کب ہو گا جیساکہ تم کہتے ہو۔ یہ ان کی طرف سے زندگی بعد موت کا اقرار نہیں بلکہ یہ ان کی سفاہت اور بزعم خود، دلیل میں بے بس کرنا ہے۔ ﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَرِيۡبًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! شاید یہ نزدیک ہی ہوگا‘‘ اس لیے اس کے وقت کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس کا فائدہ اور اس کا دارومدار تو اس کے اقرار، اس کی تحقیق اور اس کے اثبات میں ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسے ضرور آنا ہے اس اعتبار سے وہ قریب ہی ہے۔ [52]﴿ يَوۡمَ يَدۡعُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’جس دن وہ تم کو پکارے گا‘‘ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسۡتَجِيۡبُوۡنَ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے‘‘ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمۡدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں ) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو‘‘ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں ۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں ۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰى هُوَ﴾ ’’قیامت کا دن کب ہو گا؟‘‘ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا :﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾(المطففین : 83؍17) ’’یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

الإسراء 17:51

اور کہا انھوں نے، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اورچورا چورا تو کیا بے شک ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (49)کہہ دیجیے! ہو جاؤ تم پتھر یا لوہا (50) یا (کوئی اور) مخلوق اس میں سے جو بڑی معلوم ہو تمھارے سینوں (دلوں ) میں ، پھر عنقریب کہیں گے وہ، کون دوبارہ لوٹائے گا ہمیں ؟ آپ کہہ دیں ، وہی جس نے پیدا کیا تمھیں پہلی بار، پھر عنقریب وہ ہلائیں گے آپ کی طرف اپنے سر اور وہ کہیں گے کب ہو گا وہ؟ کہہ دیجیے! شاید کہ ہو وہ قریب ہی (51) جس دن وہ (اللہ) بلائے گا تمھیں تو تم تعمیل ارشاد کرو گے، حمد کرتے ہوئے اس کی اور تم گمان کرو گے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا (ساوقت)(52) [49] اللہ تبارک و تعالیٰ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں ، اس کو جھٹلانے والوں اور اس کو بعید سمجھنے والوں کا یہ قول نقل کرتا ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ﴾ ’’کیا جب ہم ہو جائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا‘‘ یعنی جب ہم بوسیدہ ہو جائیں گے ﴿ ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’کیا پھر ہم اٹھیں گے نئے بن کر؟‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان کے زعم کے مطابق یہ بہت محال ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کر کے اور اس کی آیات کو جھٹلا کر سخت جہالت کا ثبوت دیا ہے، خالق کائنات کی قدرت کو اپنی کمزور اور عاجز قدرت پر قیاس کیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں اور وہ اس پر قدرت نہیں رکھتے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی اسی پر قیاس کر لیا۔پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو جہالت کی مثال بنایا ہے… اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں ، حالانکہ ان کی جہالت سب سے واضح، سب سے نمایاں ، دلائل و براہین کے اعتبار سے سب سے روشن اور سب سے بلند ہے… تاکہ وہ اپنے بندوں کو دکھائے کہ یہاں سوائے اس کی توفیق اور اعانت یا ہلاکت اور ضلالت کے کچھ بھی نہیں ۔ ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ﴾(آل عمران : 3؍8) ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت بخش دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر ہمیں اپنی رحمت سے نواز! بے شک تو بہت نوازنے والا ہے۔‘‘ [51,50] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ زندگی بعد موت کو بعید سمجھنے والوں سے کہہ دیں ﴿ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًاۙ ۰۰اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾’’تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جس کو تم مشکل سمجھو اپنے جی میں ‘‘ تاکہ تم اس طرح اپنے زعم کے مطابق اس بات سے محفوظ ہو جاؤ کہ تم قدرت الٰہی کی گرفت میں آؤ یا اس کی مشیت تمھاری بابت نافذ ہو۔ پس تم کسی بھی حالت میں اور کسی بھی وصف میں منتقل ہو کر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے اور اس زندگی میں اور موت کے بعد تم اپنے بارے میں کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے تدبیر اور تصرف اس ہستی کے لیے چھوڑ دو جو ہر چیز پر قادر اور ہر چیز پر محیط ہے۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے‘‘ یعنی جب آپ زندگی بعد موت کے بارے میں ان پر حجت قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ مَنۡ يُّعِيۡدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيۡ فَطَرَؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کون لوٹا کر لائے گا ہم کو؟ کہہ دیجیے! وہ جس نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔‘‘ یعنی جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اس نے تمھیں پیدا کیا اسی طرح وہ تمھیں نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ ﴿ كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾(الأنبیاء : 21؍104) ’’جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم تخلیق کا اعادہ کریں گے۔‘‘ ﴿ فَسَيُنۡغِضُوۡنَ۠ اِلَيۡكَ رُءُوۡسَهُمۡ ﴾ ’’تو (تعجب سے) تمھارے آگے سر ہلائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آپ کی بات پر تعجب اور انکار سے سر ہلاتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هُوَ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا وقت کب ہو گا جیساکہ تم کہتے ہو۔ یہ ان کی طرف سے زندگی بعد موت کا اقرار نہیں بلکہ یہ ان کی سفاہت اور بزعم خود، دلیل میں بے بس کرنا ہے۔ ﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَرِيۡبًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! شاید یہ نزدیک ہی ہوگا‘‘ اس لیے اس کے وقت کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس کا فائدہ اور اس کا دارومدار تو اس کے اقرار، اس کی تحقیق اور اس کے اثبات میں ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسے ضرور آنا ہے اس اعتبار سے وہ قریب ہی ہے۔ [52]﴿ يَوۡمَ يَدۡعُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’جس دن وہ تم کو پکارے گا‘‘ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسۡتَجِيۡبُوۡنَ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے‘‘ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمۡدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں ) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو‘‘ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں ۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں ۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰى هُوَ﴾ ’’قیامت کا دن کب ہو گا؟‘‘ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا :﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾(المطففین : 83؍17) ’’یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

الإسراء 17:52

اور کہا انھوں نے، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اورچورا چورا تو کیا بے شک ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (49)کہہ دیجیے! ہو جاؤ تم پتھر یا لوہا (50) یا (کوئی اور) مخلوق اس میں سے جو بڑی معلوم ہو تمھارے سینوں (دلوں ) میں ، پھر عنقریب کہیں گے وہ، کون دوبارہ لوٹائے گا ہمیں ؟ آپ کہہ دیں ، وہی جس نے پیدا کیا تمھیں پہلی بار، پھر عنقریب وہ ہلائیں گے آپ کی طرف اپنے سر اور وہ کہیں گے کب ہو گا وہ؟ کہہ دیجیے! شاید کہ ہو وہ قریب ہی (51) جس دن وہ (اللہ) بلائے گا تمھیں تو تم تعمیل ارشاد کرو گے، حمد کرتے ہوئے اس کی اور تم گمان کرو گے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا (ساوقت)(52) [49] اللہ تبارک و تعالیٰ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں ، اس کو جھٹلانے والوں اور اس کو بعید سمجھنے والوں کا یہ قول نقل کرتا ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ﴾ ’’کیا جب ہم ہو جائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا‘‘ یعنی جب ہم بوسیدہ ہو جائیں گے ﴿ ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’کیا پھر ہم اٹھیں گے نئے بن کر؟‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان کے زعم کے مطابق یہ بہت محال ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کر کے اور اس کی آیات کو جھٹلا کر سخت جہالت کا ثبوت دیا ہے، خالق کائنات کی قدرت کو اپنی کمزور اور عاجز قدرت پر قیاس کیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں اور وہ اس پر قدرت نہیں رکھتے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی اسی پر قیاس کر لیا۔پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو جہالت کی مثال بنایا ہے… اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں ، حالانکہ ان کی جہالت سب سے واضح، سب سے نمایاں ، دلائل و براہین کے اعتبار سے سب سے روشن اور سب سے بلند ہے… تاکہ وہ اپنے بندوں کو دکھائے کہ یہاں سوائے اس کی توفیق اور اعانت یا ہلاکت اور ضلالت کے کچھ بھی نہیں ۔ ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ﴾(آل عمران : 3؍8) ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت بخش دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر ہمیں اپنی رحمت سے نواز! بے شک تو بہت نوازنے والا ہے۔‘‘ [51,50] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ زندگی بعد موت کو بعید سمجھنے والوں سے کہہ دیں ﴿ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًاۙ ۰۰اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾’’تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جس کو تم مشکل سمجھو اپنے جی میں ‘‘ تاکہ تم اس طرح اپنے زعم کے مطابق اس بات سے محفوظ ہو جاؤ کہ تم قدرت الٰہی کی گرفت میں آؤ یا اس کی مشیت تمھاری بابت نافذ ہو۔ پس تم کسی بھی حالت میں اور کسی بھی وصف میں منتقل ہو کر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے اور اس زندگی میں اور موت کے بعد تم اپنے بارے میں کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے تدبیر اور تصرف اس ہستی کے لیے چھوڑ دو جو ہر چیز پر قادر اور ہر چیز پر محیط ہے۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے‘‘ یعنی جب آپ زندگی بعد موت کے بارے میں ان پر حجت قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ مَنۡ يُّعِيۡدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيۡ فَطَرَؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کون لوٹا کر لائے گا ہم کو؟ کہہ دیجیے! وہ جس نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔‘‘ یعنی جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اس نے تمھیں پیدا کیا اسی طرح وہ تمھیں نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ ﴿ كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾(الأنبیاء : 21؍104) ’’جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم تخلیق کا اعادہ کریں گے۔‘‘ ﴿ فَسَيُنۡغِضُوۡنَ۠ اِلَيۡكَ رُءُوۡسَهُمۡ ﴾ ’’تو (تعجب سے) تمھارے آگے سر ہلائیں گے۔‘‘ یعنی وہ آپ کی بات پر تعجب اور انکار سے سر ہلاتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هُوَ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا وقت کب ہو گا جیساکہ تم کہتے ہو۔ یہ ان کی طرف سے زندگی بعد موت کا اقرار نہیں بلکہ یہ ان کی سفاہت اور بزعم خود، دلیل میں بے بس کرنا ہے۔ ﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَرِيۡبًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! شاید یہ نزدیک ہی ہوگا‘‘ اس لیے اس کے وقت کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس کا فائدہ اور اس کا دارومدار تو اس کے اقرار، اس کی تحقیق اور اس کے اثبات میں ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسے ضرور آنا ہے اس اعتبار سے وہ قریب ہی ہے۔ [52]﴿ يَوۡمَ يَدۡعُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’جس دن وہ تم کو پکارے گا‘‘ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسۡتَجِيۡبُوۡنَ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے‘‘ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمۡدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں ) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو‘‘ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں ۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں ۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰى هُوَ﴾ ’’قیامت کا دن کب ہو گا؟‘‘ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا :﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾(المطففین : 83؍17) ’’یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

الإسراء 17:53

اور کہہ دیجیے! میرے بندوں سے کہ وہ کہیں وہ بات کہ وہ بہت ہی اچھی ہو، بلاشبہ شیطان جھگڑا ڈلواتا ہے ان کے درمیان، بے شک شیطان، ہے واسطے انسان کے دشمن صریح (53) تمھارا رب خوب جانتا ہے تمھیں ، اگر وہ چاہے تو رحم کرے تم پر یا اگر چاہے تو عذاب دے تمھیں اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار (بنا کر)(54) اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور البتہ تحقیق فضیلت دی ہم نے بعض نبیوں کو اوپر بعض کےاور دی ہم نے داود کو زبور (55) [53] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ لِّعِبَادِيۡ يَقُوۡلُوا الَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’کہہ دو، میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔‘‘ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے ، مثلاً: قراء ت قرآن، ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے، اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’بے شک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے‘‘ یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے، اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں ، اس لیے کہ وہ تو انھیں دعوت دیتا رہتا ہے ﴿ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے، نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے، اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کر سکیں گے، ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پا لیں گے۔ [54]﴿ رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِكُمۡ﴾’’تمھارا رب تمھارے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے‘‘ اس لیے تمھارے لیے وہی چاہتا ہے جس میں تمھاری بھلائی ہے اور تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری کوئی مصلحت ہے بسااوقات تم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہو مگر بھلائی اس کے برعکس کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يَرۡحَمۡكُمۡ اَوۡ اِنۡ يَّشَاۡ يُعَذِّبۡؔكُمۡ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے۔‘‘ پس جسے چاہتا ہے اسباب رحمت کی توفیق عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ پس وہ اسباب رحمت سے محروم ہو کر عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا‘‘ کہ آپ ان کے معاملات کی تدبیر کریں اور ان کو جزا دیں ۔ وکیل اور کارساز تو صرف اللہ ہے اور آپ تو صرف صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں ۔ [55]﴿ وَرَبُّكَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو جانتا ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی جس چیز کا مستحق ہے اور اس کی حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے اسے وہی عطا کرتا ہے اور وہ تمام حسی اور معنوی خصائل میں ان کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کرتا ہے۔ جیسے اس نے بعض انبیاء علیہ السلام کو وحی میں ان کے اشتراک کے باوجود بعض فضائل اور خصائص میں ، جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، بعض پر فضیلت دی ہے، مثلاً:اوصاف ممدوحہ، اخلاق جمیلہ، اعمال صالحہ، کثرت متبعین اور ان میں سے بعض پر کتابوں کا نزول جو عقائد اور احکام شریعت پر مشتمل ہیں ، جیسا کہ داؤدu پر زبور نازل فرمائی جو کہ ایک معروف آسمانی کتاب ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے اور ان میں سے بعض کو کتاب شریعت عطا کی تو پھر محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار اس کتاب اور نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس فضیلت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ کو عطا کی گئی۔

الإسراء 17:54

اور کہہ دیجیے! میرے بندوں سے کہ وہ کہیں وہ بات کہ وہ بہت ہی اچھی ہو، بلاشبہ شیطان جھگڑا ڈلواتا ہے ان کے درمیان، بے شک شیطان، ہے واسطے انسان کے دشمن صریح (53) تمھارا رب خوب جانتا ہے تمھیں ، اگر وہ چاہے تو رحم کرے تم پر یا اگر چاہے تو عذاب دے تمھیں اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار (بنا کر)(54) اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور البتہ تحقیق فضیلت دی ہم نے بعض نبیوں کو اوپر بعض کےاور دی ہم نے داود کو زبور (55) [53] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ لِّعِبَادِيۡ يَقُوۡلُوا الَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’کہہ دو، میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔‘‘ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے ، مثلاً: قراء ت قرآن، ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے، اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’بے شک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے‘‘ یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے، اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں ، اس لیے کہ وہ تو انھیں دعوت دیتا رہتا ہے ﴿ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے، نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے، اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کر سکیں گے، ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پا لیں گے۔ [54]﴿ رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِكُمۡ﴾’’تمھارا رب تمھارے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے‘‘ اس لیے تمھارے لیے وہی چاہتا ہے جس میں تمھاری بھلائی ہے اور تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری کوئی مصلحت ہے بسااوقات تم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہو مگر بھلائی اس کے برعکس کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يَرۡحَمۡكُمۡ اَوۡ اِنۡ يَّشَاۡ يُعَذِّبۡؔكُمۡ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے۔‘‘ پس جسے چاہتا ہے اسباب رحمت کی توفیق عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ پس وہ اسباب رحمت سے محروم ہو کر عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا‘‘ کہ آپ ان کے معاملات کی تدبیر کریں اور ان کو جزا دیں ۔ وکیل اور کارساز تو صرف اللہ ہے اور آپ تو صرف صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں ۔ [55]﴿ وَرَبُّكَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو جانتا ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی جس چیز کا مستحق ہے اور اس کی حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے اسے وہی عطا کرتا ہے اور وہ تمام حسی اور معنوی خصائل میں ان کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کرتا ہے۔ جیسے اس نے بعض انبیاء علیہ السلام کو وحی میں ان کے اشتراک کے باوجود بعض فضائل اور خصائص میں ، جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، بعض پر فضیلت دی ہے، مثلاً:اوصاف ممدوحہ، اخلاق جمیلہ، اعمال صالحہ، کثرت متبعین اور ان میں سے بعض پر کتابوں کا نزول جو عقائد اور احکام شریعت پر مشتمل ہیں ، جیسا کہ داؤدu پر زبور نازل فرمائی جو کہ ایک معروف آسمانی کتاب ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے اور ان میں سے بعض کو کتاب شریعت عطا کی تو پھر محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار اس کتاب اور نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس فضیلت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ کو عطا کی گئی۔

الإسراء 17:55

اور کہہ دیجیے! میرے بندوں سے کہ وہ کہیں وہ بات کہ وہ بہت ہی اچھی ہو، بلاشبہ شیطان جھگڑا ڈلواتا ہے ان کے درمیان، بے شک شیطان، ہے واسطے انسان کے دشمن صریح (53) تمھارا رب خوب جانتا ہے تمھیں ، اگر وہ چاہے تو رحم کرے تم پر یا اگر چاہے تو عذاب دے تمھیں اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار (بنا کر)(54) اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور البتہ تحقیق فضیلت دی ہم نے بعض نبیوں کو اوپر بعض کےاور دی ہم نے داود کو زبور (55) [53] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ لِّعِبَادِيۡ يَقُوۡلُوا الَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’کہہ دو، میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔‘‘ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے ، مثلاً: قراء ت قرآن، ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے، اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’بے شک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے‘‘ یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے، اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں ، اس لیے کہ وہ تو انھیں دعوت دیتا رہتا ہے ﴿ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے، نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے، اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کر سکیں گے، ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پا لیں گے۔ [54]﴿ رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِكُمۡ﴾’’تمھارا رب تمھارے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے‘‘ اس لیے تمھارے لیے وہی چاہتا ہے جس میں تمھاری بھلائی ہے اور تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری کوئی مصلحت ہے بسااوقات تم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہو مگر بھلائی اس کے برعکس کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يَرۡحَمۡكُمۡ اَوۡ اِنۡ يَّشَاۡ يُعَذِّبۡؔكُمۡ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے۔‘‘ پس جسے چاہتا ہے اسباب رحمت کی توفیق عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ پس وہ اسباب رحمت سے محروم ہو کر عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا‘‘ کہ آپ ان کے معاملات کی تدبیر کریں اور ان کو جزا دیں ۔ وکیل اور کارساز تو صرف اللہ ہے اور آپ تو صرف صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں ۔ [55]﴿ وَرَبُّكَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو جانتا ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی جس چیز کا مستحق ہے اور اس کی حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے اسے وہی عطا کرتا ہے اور وہ تمام حسی اور معنوی خصائل میں ان کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کرتا ہے۔ جیسے اس نے بعض انبیاء علیہ السلام کو وحی میں ان کے اشتراک کے باوجود بعض فضائل اور خصائص میں ، جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، بعض پر فضیلت دی ہے، مثلاً:اوصاف ممدوحہ، اخلاق جمیلہ، اعمال صالحہ، کثرت متبعین اور ان میں سے بعض پر کتابوں کا نزول جو عقائد اور احکام شریعت پر مشتمل ہیں ، جیسا کہ داؤدu پر زبور نازل فرمائی جو کہ ایک معروف آسمانی کتاب ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے اور ان میں سے بعض کو کتاب شریعت عطا کی تو پھر محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار اس کتاب اور نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس فضیلت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ کو عطا کی گئی۔

الإسراء 17:56

کہہ دیجیے! بلاؤ ان کو جنھیں (معبود) سمجھتے ہو تم سوائے اللہ کے، پس نہیں وہ اختیار رکھتے تکلیف ہٹانے کا تم سےاور نہ (اسے) بدلنے ہی کا (56) یہ لوگ جنھیں وہ (مشرک) پکارتے ہیں ، تلاش کرتے ہیں وہ اپنے رب کی طرف ذریعۂ قرب کہ کون سا ان کا زیادہ قریب ہے (اللہ سے)؟ اور امید رکھتے ہیں وہ اس کی رحمت کی اور ڈرتے ہیں وہ اس کے عذاب سے، بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا(واقعی) ہے ڈرنے کی چیز (57) [56]﴿ قُلِ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ، جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں … کہ اگر وہ سچے ہیں تو ﴿ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ﴾ ’’پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو‘‘ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں ﴿ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اللہ کو چھوڑ کر‘‘ پس غور کرو کہ آیا وہ تمھیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمھیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں ۔ ﴿ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ﴾ ’’سو وہ نہیں اختیار رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے کا‘‘ یعنی یہ خود ساختہ معبود، فقر اور سختی وغیرہ کو بالکل دور نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَلَا تَحۡوِيۡلًا﴾ ’’اور نہ بدلنے کا‘‘ اور نہ یہ باطل معبود کسی سختی کو کسی ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہی کر سکتے ہیں ۔ پس جب ان باطل معبودوں کے یہ اوصاف ہیں تو تم اللہ کے سوا انھیں کس لیے پکارتے ہو؟ یہ کسی کمال کے مالک ہیں نہ افعال نافعہ کے۔ تب ان بے بس اور بے اختیار ہستیوں کو معبود بنانا عقل و دین کی کمی اور رائے کی سفاہت ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب انسان سفاہت میں تجربے کی وجہ سے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کو اپنے گمراہ آباء و اجداد سے اخذ کرتا ہے تو اسی سفاہت کو انتہائی درست رائے اور عقل مندی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے برعکس اللہ واحد کے لیے… جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے… اخلاص کو سفاہت خیال کرتا ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز معاملہ ہے، جیسا کہ مشرکین کا قول ہے:﴿ اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٌ﴾(صٓ : 38؍5) ’’کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘ [57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں ، وہ خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اوراس کی طرف وسیلہ کے متلاشی ہیں ۔ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ﴾ ’’وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں ‘‘ یعنی انبیاء و صالحین اور فرشتے ﴿ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾ ’’وہ ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون زیادہ نزدیک ہے‘‘ یعنی اپنے رب کے قرب کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقدور بھر ایسے اعمال میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں ﴿وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗ﴾ ’’اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ پس وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو عذاب کا موجب ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًؔا﴾ ’’آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب سے بچا جائے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں ۔خوف، امید اور محبت، یہ تین امور جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقربین کا وصف قرار دیا ہے، ہر بھلائی کی اساس ہیں ۔ جس نے ان تینوں امور کی تکمیل کر لی، اس کے تمام امور مکمل ہو گئے اور اگر قلب ان امور سے خالی ہے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا اور برائیاں اس کو گھیر لیں گی اور اللہ تعالیٰ نے محبت الٰہی کی علامت یہ بتائی ہے کہ بندہ ہر اس کام میں جدوجہد کرتا ہے جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، خیرخواہی اور حتی المقدور ان کو بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اس کے قرب کے حصول کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تمام امور کے بغیر اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔

الإسراء 17:57

کہہ دیجیے! بلاؤ ان کو جنھیں (معبود) سمجھتے ہو تم سوائے اللہ کے، پس نہیں وہ اختیار رکھتے تکلیف ہٹانے کا تم سےاور نہ (اسے) بدلنے ہی کا (56) یہ لوگ جنھیں وہ (مشرک) پکارتے ہیں ، تلاش کرتے ہیں وہ اپنے رب کی طرف ذریعۂ قرب کہ کون سا ان کا زیادہ قریب ہے (اللہ سے)؟ اور امید رکھتے ہیں وہ اس کی رحمت کی اور ڈرتے ہیں وہ اس کے عذاب سے، بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا(واقعی) ہے ڈرنے کی چیز (57) [56]﴿ قُلِ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ، جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں … کہ اگر وہ سچے ہیں تو ﴿ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ﴾ ’’پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو‘‘ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں ﴿ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اللہ کو چھوڑ کر‘‘ پس غور کرو کہ آیا وہ تمھیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمھیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں ۔ ﴿ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ﴾ ’’سو وہ نہیں اختیار رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے کا‘‘ یعنی یہ خود ساختہ معبود، فقر اور سختی وغیرہ کو بالکل دور نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَلَا تَحۡوِيۡلًا﴾ ’’اور نہ بدلنے کا‘‘ اور نہ یہ باطل معبود کسی سختی کو کسی ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہی کر سکتے ہیں ۔ پس جب ان باطل معبودوں کے یہ اوصاف ہیں تو تم اللہ کے سوا انھیں کس لیے پکارتے ہو؟ یہ کسی کمال کے مالک ہیں نہ افعال نافعہ کے۔ تب ان بے بس اور بے اختیار ہستیوں کو معبود بنانا عقل و دین کی کمی اور رائے کی سفاہت ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب انسان سفاہت میں تجربے کی وجہ سے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کو اپنے گمراہ آباء و اجداد سے اخذ کرتا ہے تو اسی سفاہت کو انتہائی درست رائے اور عقل مندی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے برعکس اللہ واحد کے لیے… جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے… اخلاص کو سفاہت خیال کرتا ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز معاملہ ہے، جیسا کہ مشرکین کا قول ہے:﴿ اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٌ﴾(صٓ : 38؍5) ’’کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘ [57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں ، وہ خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اوراس کی طرف وسیلہ کے متلاشی ہیں ۔ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ﴾ ’’وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں ‘‘ یعنی انبیاء و صالحین اور فرشتے ﴿ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾ ’’وہ ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون زیادہ نزدیک ہے‘‘ یعنی اپنے رب کے قرب کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقدور بھر ایسے اعمال میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں ﴿وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗ﴾ ’’اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ پس وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو عذاب کا موجب ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًؔا﴾ ’’آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب سے بچا جائے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں ۔خوف، امید اور محبت، یہ تین امور جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقربین کا وصف قرار دیا ہے، ہر بھلائی کی اساس ہیں ۔ جس نے ان تینوں امور کی تکمیل کر لی، اس کے تمام امور مکمل ہو گئے اور اگر قلب ان امور سے خالی ہے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا اور برائیاں اس کو گھیر لیں گی اور اللہ تعالیٰ نے محبت الٰہی کی علامت یہ بتائی ہے کہ بندہ ہر اس کام میں جدوجہد کرتا ہے جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، خیرخواہی اور حتی المقدور ان کو بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اس کے قرب کے حصول کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تمام امور کے بغیر اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔

الإسراء 17:58

اور نہیں کوئی بستی مگر ہم ہلاک کریں گے اسے پہلے دن قیامت سے یا عذاب دیں گے اسے عذاب شدید، ہے یہ کتاب میں لکھا ہوا (58) [58] یعنی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلانے والی کوئی بستی ایسی نہیں جسے روز قیامت سے پہلے ہلاکت یا عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی مقرر کردہ تقدیر ہے جس کا وقوع لازمی ہے، لہٰذا اس سے قبل کہ عذاب کا حکم آ جائے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہو جائے تکذیب کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے رسولوں کی تصدیق کریں ۔

الإسراء 17:59

اور نہیں منع کیا ہمیں (اس سے) کہ بھیجیں ہم نشانیاں مگر (اس بات نے) کہ جھٹلایا تھاان کو پہلے لوگوں نےاوردی تھی ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی (نشانی) واضح، پس ظلم کیا انھوں نے اس کے ساتھ، اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے (59) اور جب کہا ہم نے آپ سے ، کہ بے شک آپ کے رب نے گھیرا ہوا ہے لوگوں کواورنہیں بنایا ہم نے اس رؤیا (دیکھنے) کو، وہ جو دکھایا ہم نے آپ کو مگر ایک آزمائش لوگوں کے لیےاور اس درخت (زقوم) کو بھی جس پر لعنت کی گئی ہے قرآن میں، اور ہم ڈراتے ہیں انھیں ، پس نہیں بڑھاتا انھیں (ہمارا ڈرانا) مگر زیادہ بڑی سرکشی ہی میں (60) [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہو جائے گا، جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنھوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پانی پینے کے دن تمام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح اگر ان کے پاس بڑے بڑے معجزات آتے، تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اس لیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چیز ان سے اوجھل اور ان پر مشتبہ ہو گئی جو رسول لے کر آیا تھا کہ آیا یہ حق ہے یا باطل کیونکہ رسول تو ان کے پاس بے شمار دلائل و براہین لے کر آیا ہے جو اس کی دعوت کی حقانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ یہ دعوت اس شخص کی ہدایت کی موجب ہے جو ہدایت کا طلب گار ہے ان کے سوا دیگر معجزات و براہین بھی انھی دلائل کی مانند ہیں جو رسول اللہﷺ پیش کر چکے ہیں انھوں نے جو سلوک ان کے ساتھ کیا تھا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے اور ان کی حالت یہ ہو تو معجزات کا نازل نہ کرنا ان کے لیے بہتر اور فائدہ مند ہے۔ ﴿وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّا تَخۡوِيۡفًا﴾ ’’اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے‘‘ یعنی ان آیات کا یہ مقصد نہ تھا کہ یہ ایمان کی موجب اور اس کی طرف دعوت دیتی تھیں اور ایمان کا حصول ان کے بغیر ممکن نہ تھا بلکہ ان آیات کا مقصد صرف تخویف و ترہیب تھا تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں ۔ [60]﴿ وَاِذۡ قُلۡنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ﴾’’اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و قدرت سے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ پس ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں جہاں یہ چھپ سکیں اور کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں اللہ سے بھاگ کر پناہ لے سکیں اور یہ چیز عقل مند کے لیے ان امور سے باز رہنے کے لیے کافی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں جس نے تمام لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔﴿ وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡيَا الَّتِيۡۤ اَرَيۡنٰكَ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’اور نہیں کیا ہم نے وہ خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے۔‘‘ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد شب معراج ہے۔ ﴿ وَالشَّجَرَةَ الۡمَلۡعُوۡنَةَ فِي الۡقُرۡاٰنِ﴾ ’’اور (ایسے ہی) وہ درخت جس پر قرآن میں پھٹکار ہے‘‘ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد زقوم (تھوہر) کا پودا ہے جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے… معنی یہ ہے کہ یہ دونوں امور لوگوں کے لیے آزمائش بن گئے یہاں تک کہ کفار اپنے کفر پر جم گئے اور ان کا شر اور زیادہ ہو گیا جب آپ نے ان کو بعض امور کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ فرمایا تھا اور آپ نے خبر دی تھی کہ ’’مجھے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا‘‘ جو ایک خارق عادت واقعہ تھا تو بعض کمزور ایمان مومن اپنے ایمان سے پھر گئے۔ زقوم کے پودے کے بارے میں خبر دینا، جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے، یہ بھی ایک خارق عادت معاملہ ہے جو ان کے لیے تکذیب کا موجب بنا۔ پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں اور بڑے بڑے خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کر لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ اور اس کے سبب سے ان کے شر میں اضافہ نہ ہو جاتا؟ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان خوارق کو ان سے ہٹا دیا۔ یہیں سے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ بڑے بڑے امور کا قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ مذکور نہ ہونا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ وہ امور جن کی نظیر کا لوگوں نے مشاہدہ نہ کیا ہو بسا اوقات ان کی عقل ان کو قبول نہیں کر پاتی اور یوں یہ چیز بعض اہل ایمان کے دلوں میں شکوک و شبہات کا باعث بنتی ہے اور ایسا مانع (رکاوٹ)بن جاتی ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتی ہے اور ان کو اسلام سے متنفر کرتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے عام الفاظ استعمال كيے ہیں جو تمام امور کو شامل ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔﴿ وَنُخَوِّفُهُمۡ١ۙ فَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا طُغۡيَانًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم ان کو ڈراتے ہیں (نشانیوں کے ساتھ) تو وہ ان کو بڑی شرارتوں میں زیادہ ہی کرتی ہیں ۔‘‘ تخویف ان کی سرکشی کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے اور شر کی محبت اور خیر سے بغض رکھنے اور خیر کی عدم پیروی کے بارے میں یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے۔

الإسراء 17:60

اور نہیں منع کیا ہمیں (اس سے) کہ بھیجیں ہم نشانیاں مگر (اس بات نے) کہ جھٹلایا تھاان کو پہلے لوگوں نےاوردی تھی ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی (نشانی) واضح، پس ظلم کیا انھوں نے اس کے ساتھ، اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے (59) اور جب کہا ہم نے آپ سے ، کہ بے شک آپ کے رب نے گھیرا ہوا ہے لوگوں کواورنہیں بنایا ہم نے اس رؤیا (دیکھنے) کو، وہ جو دکھایا ہم نے آپ کو مگر ایک آزمائش لوگوں کے لیےاور اس درخت (زقوم) کو بھی جس پر لعنت کی گئی ہے قرآن میں، اور ہم ڈراتے ہیں انھیں ، پس نہیں بڑھاتا انھیں (ہمارا ڈرانا) مگر زیادہ بڑی سرکشی ہی میں (60) [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہو جائے گا، جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنھوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پانی پینے کے دن تمام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح اگر ان کے پاس بڑے بڑے معجزات آتے، تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اس لیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چیز ان سے اوجھل اور ان پر مشتبہ ہو گئی جو رسول لے کر آیا تھا کہ آیا یہ حق ہے یا باطل کیونکہ رسول تو ان کے پاس بے شمار دلائل و براہین لے کر آیا ہے جو اس کی دعوت کی حقانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ یہ دعوت اس شخص کی ہدایت کی موجب ہے جو ہدایت کا طلب گار ہے ان کے سوا دیگر معجزات و براہین بھی انھی دلائل کی مانند ہیں جو رسول اللہﷺ پیش کر چکے ہیں انھوں نے جو سلوک ان کے ساتھ کیا تھا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے اور ان کی حالت یہ ہو تو معجزات کا نازل نہ کرنا ان کے لیے بہتر اور فائدہ مند ہے۔ ﴿وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّا تَخۡوِيۡفًا﴾ ’’اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے‘‘ یعنی ان آیات کا یہ مقصد نہ تھا کہ یہ ایمان کی موجب اور اس کی طرف دعوت دیتی تھیں اور ایمان کا حصول ان کے بغیر ممکن نہ تھا بلکہ ان آیات کا مقصد صرف تخویف و ترہیب تھا تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں ۔ [60]﴿ وَاِذۡ قُلۡنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ﴾’’اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و قدرت سے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ پس ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں جہاں یہ چھپ سکیں اور کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں اللہ سے بھاگ کر پناہ لے سکیں اور یہ چیز عقل مند کے لیے ان امور سے باز رہنے کے لیے کافی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں جس نے تمام لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔﴿ وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡيَا الَّتِيۡۤ اَرَيۡنٰكَ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’اور نہیں کیا ہم نے وہ خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے۔‘‘ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد شب معراج ہے۔ ﴿ وَالشَّجَرَةَ الۡمَلۡعُوۡنَةَ فِي الۡقُرۡاٰنِ﴾ ’’اور (ایسے ہی) وہ درخت جس پر قرآن میں پھٹکار ہے‘‘ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد زقوم (تھوہر) کا پودا ہے جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے… معنی یہ ہے کہ یہ دونوں امور لوگوں کے لیے آزمائش بن گئے یہاں تک کہ کفار اپنے کفر پر جم گئے اور ان کا شر اور زیادہ ہو گیا جب آپ نے ان کو بعض امور کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ فرمایا تھا اور آپ نے خبر دی تھی کہ ’’مجھے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا‘‘ جو ایک خارق عادت واقعہ تھا تو بعض کمزور ایمان مومن اپنے ایمان سے پھر گئے۔ زقوم کے پودے کے بارے میں خبر دینا، جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے، یہ بھی ایک خارق عادت معاملہ ہے جو ان کے لیے تکذیب کا موجب بنا۔ پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں اور بڑے بڑے خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کر لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ اور اس کے سبب سے ان کے شر میں اضافہ نہ ہو جاتا؟ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان خوارق کو ان سے ہٹا دیا۔ یہیں سے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ بڑے بڑے امور کا قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ مذکور نہ ہونا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ وہ امور جن کی نظیر کا لوگوں نے مشاہدہ نہ کیا ہو بسا اوقات ان کی عقل ان کو قبول نہیں کر پاتی اور یوں یہ چیز بعض اہل ایمان کے دلوں میں شکوک و شبہات کا باعث بنتی ہے اور ایسا مانع (رکاوٹ)بن جاتی ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتی ہے اور ان کو اسلام سے متنفر کرتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے عام الفاظ استعمال كيے ہیں جو تمام امور کو شامل ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔﴿ وَنُخَوِّفُهُمۡ١ۙ فَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا طُغۡيَانًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم ان کو ڈراتے ہیں (نشانیوں کے ساتھ) تو وہ ان کو بڑی شرارتوں میں زیادہ ہی کرتی ہیں ۔‘‘ تخویف ان کی سرکشی کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے اور شر کی محبت اور خیر سے بغض رکھنے اور خیر کی عدم پیروی کے بارے میں یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے۔

الإسراء 17:61

اور جب کہا ہم نے فرشتوں سے، سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا، کیا سجدہ کروں میں اسے جسے پیدا کیا ہے تو نے مٹی سے؟ (61)ابلیس نے کہا، دیکھ تو یہ شخص جسے بزرگی دی ہے تو نے مجھ پر البتہ اگر مہلت دی تو نے مجھے روز قیامت تک تو البتہ ضرور جڑ سے اکھیڑ دوں گا اس کی اولاد کو، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے(62) اللہ نے فرمایا: جا، پھر جو کوئی پیروی کرے گا تیری ان میں سے، تو بلاشبہ جہنم ہی سزا ہے تمھاری، سزا پوری پوری(63) اور بہکا لے جس کو تو استطاعت رکھتا ہے ان میں سے ، ساتھ اپنی آواز کےاورکھینچ لا ان پر سوار اپنے اور پیا دے اپنےاور شریک (ساجھی) بن جا تو ان کا مالوں اور اولاد میں او روعدے دے انھیں (جھوٹے)اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر فریب ہی کا (64) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے ان پر کوئی غلبہ اور کافی ہے آ پ کا رب بطور کارساز (65) [61] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بے پناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدمu کو تخلیق کیا تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ قَالَ﴾ اور نہایت تکبر سے کہا: ﴿ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾ ’’کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا‘‘ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خود وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔ [62] جب ابلیس پر واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمu کو فضیلت بخشی ہے ﴿ قَالَ ﴾ تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ﴿ اَرَءَيۡتَكَ هٰؔذَا الَّذِيۡ كَرَّمۡتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ ﴾ ’’بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کر لوں گا‘‘ یعنی میں ضلالت کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا ﴾ ’’سوائے تھوڑے لوگوں کے‘‘ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔ [63] اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’جا، ان میں سے جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اپنے رب اور اپنے حقیقی سرپرست کو چھوڑ کر تجھے چن لیا۔ ﴿فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءًؔ مَّوۡفُوۡرًؔا﴾ ’’پس تم سب کی سزا جہنم ہے، سزا پوری‘‘ یعنی تمھارے لیے تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا جمع کر دی گئی ہے۔ [64] پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُمۡ بِصَوۡتِكَ﴾ ’’اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجۡلِبۡ عَلَيۡهِمۡ بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ﴾ ’’اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔‘‘ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكۡهُمۡ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ ﴾ ’’اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں ۔‘‘ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدۡهُمۡ﴾ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں ، بنا بریں فرمایا:﴿ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًؔا ﴾ ’’شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے‘‘ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ وَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ١ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّؔنۡهُ وَفَضۡلًا﴾(البقرۃ:2؍268) ’’شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔‘‘ [65] یہ خبر دینے کے بعد کہ شیطان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت، ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾ ’’بے شک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا‘‘ یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہو گا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شر کو دور ہٹا دے گا، شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ﴿ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’اور آپ کا رب کافی ہے بطور کارساز‘‘ یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کارساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔

الإسراء 17:62

اور جب کہا ہم نے فرشتوں سے، سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا، کیا سجدہ کروں میں اسے جسے پیدا کیا ہے تو نے مٹی سے؟ (61)ابلیس نے کہا، دیکھ تو یہ شخص جسے بزرگی دی ہے تو نے مجھ پر البتہ اگر مہلت دی تو نے مجھے روز قیامت تک تو البتہ ضرور جڑ سے اکھیڑ دوں گا اس کی اولاد کو، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے(62) اللہ نے فرمایا: جا، پھر جو کوئی پیروی کرے گا تیری ان میں سے، تو بلاشبہ جہنم ہی سزا ہے تمھاری، سزا پوری پوری(63) اور بہکا لے جس کو تو استطاعت رکھتا ہے ان میں سے ، ساتھ اپنی آواز کےاورکھینچ لا ان پر سوار اپنے اور پیا دے اپنےاور شریک (ساجھی) بن جا تو ان کا مالوں اور اولاد میں او روعدے دے انھیں (جھوٹے)اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر فریب ہی کا (64) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے ان پر کوئی غلبہ اور کافی ہے آ پ کا رب بطور کارساز (65) [61] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بے پناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدمu کو تخلیق کیا تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ قَالَ﴾ اور نہایت تکبر سے کہا: ﴿ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾ ’’کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا‘‘ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خود وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔ [62] جب ابلیس پر واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمu کو فضیلت بخشی ہے ﴿ قَالَ ﴾ تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ﴿ اَرَءَيۡتَكَ هٰؔذَا الَّذِيۡ كَرَّمۡتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ ﴾ ’’بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کر لوں گا‘‘ یعنی میں ضلالت کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا ﴾ ’’سوائے تھوڑے لوگوں کے‘‘ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔ [63] اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’جا، ان میں سے جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اپنے رب اور اپنے حقیقی سرپرست کو چھوڑ کر تجھے چن لیا۔ ﴿فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءًؔ مَّوۡفُوۡرًؔا﴾ ’’پس تم سب کی سزا جہنم ہے، سزا پوری‘‘ یعنی تمھارے لیے تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا جمع کر دی گئی ہے۔ [64] پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُمۡ بِصَوۡتِكَ﴾ ’’اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجۡلِبۡ عَلَيۡهِمۡ بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ﴾ ’’اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔‘‘ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكۡهُمۡ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ ﴾ ’’اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں ۔‘‘ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدۡهُمۡ﴾ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں ، بنا بریں فرمایا:﴿ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًؔا ﴾ ’’شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے‘‘ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ وَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ١ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّؔنۡهُ وَفَضۡلًا﴾(البقرۃ:2؍268) ’’شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔‘‘ [65] یہ خبر دینے کے بعد کہ شیطان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت، ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾ ’’بے شک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا‘‘ یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہو گا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شر کو دور ہٹا دے گا، شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ﴿ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’اور آپ کا رب کافی ہے بطور کارساز‘‘ یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کارساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔

الإسراء 17:63

اور جب کہا ہم نے فرشتوں سے، سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا، کیا سجدہ کروں میں اسے جسے پیدا کیا ہے تو نے مٹی سے؟ (61)ابلیس نے کہا، دیکھ تو یہ شخص جسے بزرگی دی ہے تو نے مجھ پر البتہ اگر مہلت دی تو نے مجھے روز قیامت تک تو البتہ ضرور جڑ سے اکھیڑ دوں گا اس کی اولاد کو، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے(62) اللہ نے فرمایا: جا، پھر جو کوئی پیروی کرے گا تیری ان میں سے، تو بلاشبہ جہنم ہی سزا ہے تمھاری، سزا پوری پوری(63) اور بہکا لے جس کو تو استطاعت رکھتا ہے ان میں سے ، ساتھ اپنی آواز کےاورکھینچ لا ان پر سوار اپنے اور پیا دے اپنےاور شریک (ساجھی) بن جا تو ان کا مالوں اور اولاد میں او روعدے دے انھیں (جھوٹے)اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر فریب ہی کا (64) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے ان پر کوئی غلبہ اور کافی ہے آ پ کا رب بطور کارساز (65) [61] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بے پناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدمu کو تخلیق کیا تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ قَالَ﴾ اور نہایت تکبر سے کہا: ﴿ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾ ’’کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا‘‘ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خود وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔ [62] جب ابلیس پر واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمu کو فضیلت بخشی ہے ﴿ قَالَ ﴾ تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ﴿ اَرَءَيۡتَكَ هٰؔذَا الَّذِيۡ كَرَّمۡتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ ﴾ ’’بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کر لوں گا‘‘ یعنی میں ضلالت کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا ﴾ ’’سوائے تھوڑے لوگوں کے‘‘ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔ [63] اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’جا، ان میں سے جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اپنے رب اور اپنے حقیقی سرپرست کو چھوڑ کر تجھے چن لیا۔ ﴿فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءًؔ مَّوۡفُوۡرًؔا﴾ ’’پس تم سب کی سزا جہنم ہے، سزا پوری‘‘ یعنی تمھارے لیے تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا جمع کر دی گئی ہے۔ [64] پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُمۡ بِصَوۡتِكَ﴾ ’’اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجۡلِبۡ عَلَيۡهِمۡ بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ﴾ ’’اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔‘‘ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكۡهُمۡ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ ﴾ ’’اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں ۔‘‘ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدۡهُمۡ﴾ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں ، بنا بریں فرمایا:﴿ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًؔا ﴾ ’’شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے‘‘ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ وَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ١ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّؔنۡهُ وَفَضۡلًا﴾(البقرۃ:2؍268) ’’شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔‘‘ [65] یہ خبر دینے کے بعد کہ شیطان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت، ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾ ’’بے شک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا‘‘ یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہو گا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شر کو دور ہٹا دے گا، شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ﴿ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’اور آپ کا رب کافی ہے بطور کارساز‘‘ یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کارساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔

الإسراء 17:64

اور جب کہا ہم نے فرشتوں سے، سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا، کیا سجدہ کروں میں اسے جسے پیدا کیا ہے تو نے مٹی سے؟ (61)ابلیس نے کہا، دیکھ تو یہ شخص جسے بزرگی دی ہے تو نے مجھ پر البتہ اگر مہلت دی تو نے مجھے روز قیامت تک تو البتہ ضرور جڑ سے اکھیڑ دوں گا اس کی اولاد کو، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے(62) اللہ نے فرمایا: جا، پھر جو کوئی پیروی کرے گا تیری ان میں سے، تو بلاشبہ جہنم ہی سزا ہے تمھاری، سزا پوری پوری(63) اور بہکا لے جس کو تو استطاعت رکھتا ہے ان میں سے ، ساتھ اپنی آواز کےاورکھینچ لا ان پر سوار اپنے اور پیا دے اپنےاور شریک (ساجھی) بن جا تو ان کا مالوں اور اولاد میں او روعدے دے انھیں (جھوٹے)اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر فریب ہی کا (64) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے ان پر کوئی غلبہ اور کافی ہے آ پ کا رب بطور کارساز (65) [61] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بے پناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدمu کو تخلیق کیا تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ قَالَ﴾ اور نہایت تکبر سے کہا: ﴿ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾ ’’کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا‘‘ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خود وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔ [62] جب ابلیس پر واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمu کو فضیلت بخشی ہے ﴿ قَالَ ﴾ تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ﴿ اَرَءَيۡتَكَ هٰؔذَا الَّذِيۡ كَرَّمۡتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ ﴾ ’’بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کر لوں گا‘‘ یعنی میں ضلالت کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا ﴾ ’’سوائے تھوڑے لوگوں کے‘‘ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔ [63] اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’جا، ان میں سے جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اپنے رب اور اپنے حقیقی سرپرست کو چھوڑ کر تجھے چن لیا۔ ﴿فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءًؔ مَّوۡفُوۡرًؔا﴾ ’’پس تم سب کی سزا جہنم ہے، سزا پوری‘‘ یعنی تمھارے لیے تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا جمع کر دی گئی ہے۔ [64] پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُمۡ بِصَوۡتِكَ﴾ ’’اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجۡلِبۡ عَلَيۡهِمۡ بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ﴾ ’’اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔‘‘ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكۡهُمۡ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ ﴾ ’’اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں ۔‘‘ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدۡهُمۡ﴾ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں ، بنا بریں فرمایا:﴿ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًؔا ﴾ ’’شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے‘‘ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ وَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ١ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّؔنۡهُ وَفَضۡلًا﴾(البقرۃ:2؍268) ’’شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔‘‘ [65] یہ خبر دینے کے بعد کہ شیطان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت، ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾ ’’بے شک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا‘‘ یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہو گا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شر کو دور ہٹا دے گا، شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ﴿ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’اور آپ کا رب کافی ہے بطور کارساز‘‘ یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کارساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔

الإسراء 17:65

اور جب کہا ہم نے فرشتوں سے، سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا، کیا سجدہ کروں میں اسے جسے پیدا کیا ہے تو نے مٹی سے؟ (61)ابلیس نے کہا، دیکھ تو یہ شخص جسے بزرگی دی ہے تو نے مجھ پر البتہ اگر مہلت دی تو نے مجھے روز قیامت تک تو البتہ ضرور جڑ سے اکھیڑ دوں گا اس کی اولاد کو، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے(62) اللہ نے فرمایا: جا، پھر جو کوئی پیروی کرے گا تیری ان میں سے، تو بلاشبہ جہنم ہی سزا ہے تمھاری، سزا پوری پوری(63) اور بہکا لے جس کو تو استطاعت رکھتا ہے ان میں سے ، ساتھ اپنی آواز کےاورکھینچ لا ان پر سوار اپنے اور پیا دے اپنےاور شریک (ساجھی) بن جا تو ان کا مالوں اور اولاد میں او روعدے دے انھیں (جھوٹے)اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر فریب ہی کا (64) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے ان پر کوئی غلبہ اور کافی ہے آ پ کا رب بطور کارساز (65) [61] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بے پناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدمu کو تخلیق کیا تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ قَالَ﴾ اور نہایت تکبر سے کہا: ﴿ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾ ’’کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا‘‘ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خود وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔ [62] جب ابلیس پر واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمu کو فضیلت بخشی ہے ﴿ قَالَ ﴾ تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ﴿ اَرَءَيۡتَكَ هٰؔذَا الَّذِيۡ كَرَّمۡتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ ﴾ ’’بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کر لوں گا‘‘ یعنی میں ضلالت کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا ﴾ ’’سوائے تھوڑے لوگوں کے‘‘ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔ [63] اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’جا، ان میں سے جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اپنے رب اور اپنے حقیقی سرپرست کو چھوڑ کر تجھے چن لیا۔ ﴿فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءًؔ مَّوۡفُوۡرًؔا﴾ ’’پس تم سب کی سزا جہنم ہے، سزا پوری‘‘ یعنی تمھارے لیے تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا جمع کر دی گئی ہے۔ [64] پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُمۡ بِصَوۡتِكَ﴾ ’’اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔‘‘ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجۡلِبۡ عَلَيۡهِمۡ بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ﴾ ’’اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔‘‘ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكۡهُمۡ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ ﴾ ’’اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں ۔‘‘ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدۡهُمۡ﴾ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں ، بنا بریں فرمایا:﴿ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًؔا ﴾ ’’شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے‘‘ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ وَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ١ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّؔنۡهُ وَفَضۡلًا﴾(البقرۃ:2؍268) ’’شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔‘‘ [65] یہ خبر دینے کے بعد کہ شیطان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت، ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾ ’’بے شک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا‘‘ یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہو گا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شر کو دور ہٹا دے گا، شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ﴿ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’اور آپ کا رب کافی ہے بطور کارساز‘‘ یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کارساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔

الإسراء 17:66

تمھارا رب تو وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیاں سمندر میں تاکہ تلاش کرو تم فضل (رزق) اس کا بے شک وہ ہے تمھارے ساتھ بہت رحم کرنے والا (66) اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گم ہو جاتے ہیں وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اس ایک اللہ کے، پھر جب وہ نجات دیتا ہے تمھیں خشکی کی طرف تو منہ پھیر لیتے ہو تم اور ہے انسان نہایت ناشکرا (67) کیا پس بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ وہ دھنسا دے تمھیں ایک جانب خشکی کے یا بھیج دے تم پر سنگ ریزوں والی سخت ہوا؟ پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے کوئی کار ساز (68) یا بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ و ہ لوٹا دے تمھیں اسی (سمندر) میں دوسری بار، پھر وہ بھیجے تم پر توڑ پھوڑ دینے والی ہوا کہ وہ غرق کر دے تمھیں بوجہ اس کے کہ کفر کیا تم نے، پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے ہم پر بدلے اس کے کوئی پیچھا کرنے والا؟ (69) [66] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کشتیوں ، سفینوں اور دیگر سواریوں کو مسخر کر دیا اور ان کو الہام کے ذریعے سے کشتی سازی کی صنعت ودیعت کی، موجیں مارتا ہوا سمندر ان کے لیے مسخر کر دیا جس کی پیٹھ پر یہ سفینے تیرتے پھرتے ہیں تاکہ بندے اس پر سوار ہوں اور اپنے مال ومتاع کی نقل و حمل میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے وہ ہمیشہ سے ان پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ انھیں ہر وہ چیز عنایت کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ [67] اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو یہ دلالت کرتی ہے کہ باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ جب سمندر میں انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نیچے بلند ہوتی ہوئی موجوں کی وجہ سے جب وہ ہلاکت سے ڈرتے ہیں تو وہ ان تمام زندہ اور مردہ معبودوں کو بھول جاتے ہیں جنھیں وہ اپنی خوش حالی میں اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے… اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے کسی وقت بھی ان کمزور معبودوں کو نہیں پکارا جو کسی قسم کی تکلیف دور کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کائنات کو پیدا کرنے والے کو پکارتے ہیں جس کو تمام مخلوق اپنی سختیوں میں مدد کے لیے پکارتی ہے اور وہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے اور اسی کی سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔پس جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کر دیتا ہے اور انھیں صحیح سلامت کنارے پر لگا کر سمندر کی ہلاکت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انھوں نے اللہ کو پکارا تھا، پھر وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ کسی کو محروم کر سکتی ہیں اور اپنے رب اور مالک سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ یہ انسان کی جہالت اور نا سپاسی ہے۔ بے شک انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سخت ناسپاس ہے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ راہ راست دکھا دے۔ پس اسے عقل سلیم سے نواز دیتا ہے اور وہ راہ راست پر گامزن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مصیبتیں دور کرتا ہے، اہوال سے نجات دیتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ سختی اور نرمی میں ، خوشحالی اور تنگدستی میں تمام اعمال کو صرف اسی کے لیے خالص کیا جائے۔ رہا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اس کی کمزور عقل کے حوالے کر دے تو وہ مصیبت اور سختی کے وقت صرف موجودہ اور عارضی مصلحت کو ملحوظ اور اس حال میں اپنی نجات کو مدنظر رکھتا ہے اور جب اسے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوتی ہے اور اس سے سختی دور ہو جاتی ہے تو وہ اپنی حالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو بے بس کر دیا اور اس کے دل میں آخرت کا خیال تو کجا اسے اپنے دنیاوی انجام کے بارے میں بھی کبھی خیال نہیں آتا۔ [69,68] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کہہ کر یاد دہانی کروائی ہے۔ ﴿ اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡـبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ﴾ ’’کیا تم (اس سے) بے خوف ہو کہ اللہ تمھیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں ) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو تمھیں عذاب کے طور پر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بھیج دے اور یہ وہ عذاب ہے جو ان کو پہنچے گا اور وہ سب ہلاک ہو جائیں اس لیے یہ نہ سوچو کہ سمندر کے سوا کہیں اور عذاب نہیں آسکتا اور اگر تم یہی سمجھتے ہو تو کیا تم اس بات سے محفوظ ہو کہ ﴿ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰؔى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ ﴾ ’’وہ تمھیں پھر سمندر میں لے جائے دوسری مرتبہ، پھر بھیجے وہ تم پر سخت ہوا کا جھونکا‘‘ یعنی سخت تیز ہوا جو جہاں سے گزرے ہر چیز کو توڑ کر رکھ دے۔ ﴿ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا ﴾ ’’پس وہ تمھیں تمھاری ناشکری کی وجہ سے غرق کر دے، پھر نہ پاؤ تم اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا‘‘ یعنی کوئی تاوان اور مطالبہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذرہ بھر تم پر ظلم نہیں کیا۔

الإسراء 17:67

تمھارا رب تو وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیاں سمندر میں تاکہ تلاش کرو تم فضل (رزق) اس کا بے شک وہ ہے تمھارے ساتھ بہت رحم کرنے والا (66) اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گم ہو جاتے ہیں وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اس ایک اللہ کے، پھر جب وہ نجات دیتا ہے تمھیں خشکی کی طرف تو منہ پھیر لیتے ہو تم اور ہے انسان نہایت ناشکرا (67) کیا پس بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ وہ دھنسا دے تمھیں ایک جانب خشکی کے یا بھیج دے تم پر سنگ ریزوں والی سخت ہوا؟ پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے کوئی کار ساز (68) یا بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ و ہ لوٹا دے تمھیں اسی (سمندر) میں دوسری بار، پھر وہ بھیجے تم پر توڑ پھوڑ دینے والی ہوا کہ وہ غرق کر دے تمھیں بوجہ اس کے کہ کفر کیا تم نے، پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے ہم پر بدلے اس کے کوئی پیچھا کرنے والا؟ (69) [66] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کشتیوں ، سفینوں اور دیگر سواریوں کو مسخر کر دیا اور ان کو الہام کے ذریعے سے کشتی سازی کی صنعت ودیعت کی، موجیں مارتا ہوا سمندر ان کے لیے مسخر کر دیا جس کی پیٹھ پر یہ سفینے تیرتے پھرتے ہیں تاکہ بندے اس پر سوار ہوں اور اپنے مال ومتاع کی نقل و حمل میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے وہ ہمیشہ سے ان پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ انھیں ہر وہ چیز عنایت کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ [67] اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو یہ دلالت کرتی ہے کہ باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ جب سمندر میں انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نیچے بلند ہوتی ہوئی موجوں کی وجہ سے جب وہ ہلاکت سے ڈرتے ہیں تو وہ ان تمام زندہ اور مردہ معبودوں کو بھول جاتے ہیں جنھیں وہ اپنی خوش حالی میں اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے… اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے کسی وقت بھی ان کمزور معبودوں کو نہیں پکارا جو کسی قسم کی تکلیف دور کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کائنات کو پیدا کرنے والے کو پکارتے ہیں جس کو تمام مخلوق اپنی سختیوں میں مدد کے لیے پکارتی ہے اور وہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے اور اسی کی سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔پس جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کر دیتا ہے اور انھیں صحیح سلامت کنارے پر لگا کر سمندر کی ہلاکت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انھوں نے اللہ کو پکارا تھا، پھر وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ کسی کو محروم کر سکتی ہیں اور اپنے رب اور مالک سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ یہ انسان کی جہالت اور نا سپاسی ہے۔ بے شک انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سخت ناسپاس ہے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ راہ راست دکھا دے۔ پس اسے عقل سلیم سے نواز دیتا ہے اور وہ راہ راست پر گامزن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مصیبتیں دور کرتا ہے، اہوال سے نجات دیتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ سختی اور نرمی میں ، خوشحالی اور تنگدستی میں تمام اعمال کو صرف اسی کے لیے خالص کیا جائے۔ رہا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اس کی کمزور عقل کے حوالے کر دے تو وہ مصیبت اور سختی کے وقت صرف موجودہ اور عارضی مصلحت کو ملحوظ اور اس حال میں اپنی نجات کو مدنظر رکھتا ہے اور جب اسے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوتی ہے اور اس سے سختی دور ہو جاتی ہے تو وہ اپنی حالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو بے بس کر دیا اور اس کے دل میں آخرت کا خیال تو کجا اسے اپنے دنیاوی انجام کے بارے میں بھی کبھی خیال نہیں آتا۔ [69,68] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کہہ کر یاد دہانی کروائی ہے۔ ﴿ اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡـبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ﴾ ’’کیا تم (اس سے) بے خوف ہو کہ اللہ تمھیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں ) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو تمھیں عذاب کے طور پر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بھیج دے اور یہ وہ عذاب ہے جو ان کو پہنچے گا اور وہ سب ہلاک ہو جائیں اس لیے یہ نہ سوچو کہ سمندر کے سوا کہیں اور عذاب نہیں آسکتا اور اگر تم یہی سمجھتے ہو تو کیا تم اس بات سے محفوظ ہو کہ ﴿ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰؔى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ ﴾ ’’وہ تمھیں پھر سمندر میں لے جائے دوسری مرتبہ، پھر بھیجے وہ تم پر سخت ہوا کا جھونکا‘‘ یعنی سخت تیز ہوا جو جہاں سے گزرے ہر چیز کو توڑ کر رکھ دے۔ ﴿ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا ﴾ ’’پس وہ تمھیں تمھاری ناشکری کی وجہ سے غرق کر دے، پھر نہ پاؤ تم اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا‘‘ یعنی کوئی تاوان اور مطالبہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذرہ بھر تم پر ظلم نہیں کیا۔

الإسراء 17:68

تمھارا رب تو وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیاں سمندر میں تاکہ تلاش کرو تم فضل (رزق) اس کا بے شک وہ ہے تمھارے ساتھ بہت رحم کرنے والا (66) اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گم ہو جاتے ہیں وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اس ایک اللہ کے، پھر جب وہ نجات دیتا ہے تمھیں خشکی کی طرف تو منہ پھیر لیتے ہو تم اور ہے انسان نہایت ناشکرا (67) کیا پس بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ وہ دھنسا دے تمھیں ایک جانب خشکی کے یا بھیج دے تم پر سنگ ریزوں والی سخت ہوا؟ پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے کوئی کار ساز (68) یا بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ و ہ لوٹا دے تمھیں اسی (سمندر) میں دوسری بار، پھر وہ بھیجے تم پر توڑ پھوڑ دینے والی ہوا کہ وہ غرق کر دے تمھیں بوجہ اس کے کہ کفر کیا تم نے، پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے ہم پر بدلے اس کے کوئی پیچھا کرنے والا؟ (69) [66] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کشتیوں ، سفینوں اور دیگر سواریوں کو مسخر کر دیا اور ان کو الہام کے ذریعے سے کشتی سازی کی صنعت ودیعت کی، موجیں مارتا ہوا سمندر ان کے لیے مسخر کر دیا جس کی پیٹھ پر یہ سفینے تیرتے پھرتے ہیں تاکہ بندے اس پر سوار ہوں اور اپنے مال ومتاع کی نقل و حمل میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے وہ ہمیشہ سے ان پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ انھیں ہر وہ چیز عنایت کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ [67] اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو یہ دلالت کرتی ہے کہ باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ جب سمندر میں انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نیچے بلند ہوتی ہوئی موجوں کی وجہ سے جب وہ ہلاکت سے ڈرتے ہیں تو وہ ان تمام زندہ اور مردہ معبودوں کو بھول جاتے ہیں جنھیں وہ اپنی خوش حالی میں اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے… اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے کسی وقت بھی ان کمزور معبودوں کو نہیں پکارا جو کسی قسم کی تکلیف دور کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کائنات کو پیدا کرنے والے کو پکارتے ہیں جس کو تمام مخلوق اپنی سختیوں میں مدد کے لیے پکارتی ہے اور وہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے اور اسی کی سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔پس جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کر دیتا ہے اور انھیں صحیح سلامت کنارے پر لگا کر سمندر کی ہلاکت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انھوں نے اللہ کو پکارا تھا، پھر وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ کسی کو محروم کر سکتی ہیں اور اپنے رب اور مالک سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ یہ انسان کی جہالت اور نا سپاسی ہے۔ بے شک انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سخت ناسپاس ہے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ راہ راست دکھا دے۔ پس اسے عقل سلیم سے نواز دیتا ہے اور وہ راہ راست پر گامزن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مصیبتیں دور کرتا ہے، اہوال سے نجات دیتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ سختی اور نرمی میں ، خوشحالی اور تنگدستی میں تمام اعمال کو صرف اسی کے لیے خالص کیا جائے۔ رہا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اس کی کمزور عقل کے حوالے کر دے تو وہ مصیبت اور سختی کے وقت صرف موجودہ اور عارضی مصلحت کو ملحوظ اور اس حال میں اپنی نجات کو مدنظر رکھتا ہے اور جب اسے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوتی ہے اور اس سے سختی دور ہو جاتی ہے تو وہ اپنی حالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو بے بس کر دیا اور اس کے دل میں آخرت کا خیال تو کجا اسے اپنے دنیاوی انجام کے بارے میں بھی کبھی خیال نہیں آتا۔ [69,68] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کہہ کر یاد دہانی کروائی ہے۔ ﴿ اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡـبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ﴾ ’’کیا تم (اس سے) بے خوف ہو کہ اللہ تمھیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں ) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو تمھیں عذاب کے طور پر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بھیج دے اور یہ وہ عذاب ہے جو ان کو پہنچے گا اور وہ سب ہلاک ہو جائیں اس لیے یہ نہ سوچو کہ سمندر کے سوا کہیں اور عذاب نہیں آسکتا اور اگر تم یہی سمجھتے ہو تو کیا تم اس بات سے محفوظ ہو کہ ﴿ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰؔى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ ﴾ ’’وہ تمھیں پھر سمندر میں لے جائے دوسری مرتبہ، پھر بھیجے وہ تم پر سخت ہوا کا جھونکا‘‘ یعنی سخت تیز ہوا جو جہاں سے گزرے ہر چیز کو توڑ کر رکھ دے۔ ﴿ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا ﴾ ’’پس وہ تمھیں تمھاری ناشکری کی وجہ سے غرق کر دے، پھر نہ پاؤ تم اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا‘‘ یعنی کوئی تاوان اور مطالبہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذرہ بھر تم پر ظلم نہیں کیا۔

الإسراء 17:69

تمھارا رب تو وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیاں سمندر میں تاکہ تلاش کرو تم فضل (رزق) اس کا بے شک وہ ہے تمھارے ساتھ بہت رحم کرنے والا (66) اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گم ہو جاتے ہیں وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اس ایک اللہ کے، پھر جب وہ نجات دیتا ہے تمھیں خشکی کی طرف تو منہ پھیر لیتے ہو تم اور ہے انسان نہایت ناشکرا (67) کیا پس بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ وہ دھنسا دے تمھیں ایک جانب خشکی کے یا بھیج دے تم پر سنگ ریزوں والی سخت ہوا؟ پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے کوئی کار ساز (68) یا بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ و ہ لوٹا دے تمھیں اسی (سمندر) میں دوسری بار، پھر وہ بھیجے تم پر توڑ پھوڑ دینے والی ہوا کہ وہ غرق کر دے تمھیں بوجہ اس کے کہ کفر کیا تم نے، پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے ہم پر بدلے اس کے کوئی پیچھا کرنے والا؟ (69) [66] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کشتیوں ، سفینوں اور دیگر سواریوں کو مسخر کر دیا اور ان کو الہام کے ذریعے سے کشتی سازی کی صنعت ودیعت کی، موجیں مارتا ہوا سمندر ان کے لیے مسخر کر دیا جس کی پیٹھ پر یہ سفینے تیرتے پھرتے ہیں تاکہ بندے اس پر سوار ہوں اور اپنے مال ومتاع کی نقل و حمل میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے وہ ہمیشہ سے ان پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ انھیں ہر وہ چیز عنایت کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ [67] اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو یہ دلالت کرتی ہے کہ باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ جب سمندر میں انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نیچے بلند ہوتی ہوئی موجوں کی وجہ سے جب وہ ہلاکت سے ڈرتے ہیں تو وہ ان تمام زندہ اور مردہ معبودوں کو بھول جاتے ہیں جنھیں وہ اپنی خوش حالی میں اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے… اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے کسی وقت بھی ان کمزور معبودوں کو نہیں پکارا جو کسی قسم کی تکلیف دور کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کائنات کو پیدا کرنے والے کو پکارتے ہیں جس کو تمام مخلوق اپنی سختیوں میں مدد کے لیے پکارتی ہے اور وہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے اور اسی کی سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔پس جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کر دیتا ہے اور انھیں صحیح سلامت کنارے پر لگا کر سمندر کی ہلاکت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انھوں نے اللہ کو پکارا تھا، پھر وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ کسی کو محروم کر سکتی ہیں اور اپنے رب اور مالک سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ یہ انسان کی جہالت اور نا سپاسی ہے۔ بے شک انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سخت ناسپاس ہے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ راہ راست دکھا دے۔ پس اسے عقل سلیم سے نواز دیتا ہے اور وہ راہ راست پر گامزن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مصیبتیں دور کرتا ہے، اہوال سے نجات دیتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ سختی اور نرمی میں ، خوشحالی اور تنگدستی میں تمام اعمال کو صرف اسی کے لیے خالص کیا جائے۔ رہا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اس کی کمزور عقل کے حوالے کر دے تو وہ مصیبت اور سختی کے وقت صرف موجودہ اور عارضی مصلحت کو ملحوظ اور اس حال میں اپنی نجات کو مدنظر رکھتا ہے اور جب اسے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوتی ہے اور اس سے سختی دور ہو جاتی ہے تو وہ اپنی حالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو بے بس کر دیا اور اس کے دل میں آخرت کا خیال تو کجا اسے اپنے دنیاوی انجام کے بارے میں بھی کبھی خیال نہیں آتا۔ [69,68] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کہہ کر یاد دہانی کروائی ہے۔ ﴿ اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡـبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ﴾ ’’کیا تم (اس سے) بے خوف ہو کہ اللہ تمھیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں ) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو تمھیں عذاب کے طور پر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بھیج دے اور یہ وہ عذاب ہے جو ان کو پہنچے گا اور وہ سب ہلاک ہو جائیں اس لیے یہ نہ سوچو کہ سمندر کے سوا کہیں اور عذاب نہیں آسکتا اور اگر تم یہی سمجھتے ہو تو کیا تم اس بات سے محفوظ ہو کہ ﴿ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰؔى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ ﴾ ’’وہ تمھیں پھر سمندر میں لے جائے دوسری مرتبہ، پھر بھیجے وہ تم پر سخت ہوا کا جھونکا‘‘ یعنی سخت تیز ہوا جو جہاں سے گزرے ہر چیز کو توڑ کر رکھ دے۔ ﴿ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا ﴾ ’’پس وہ تمھیں تمھاری ناشکری کی وجہ سے غرق کر دے، پھر نہ پاؤ تم اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا‘‘ یعنی کوئی تاوان اور مطالبہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذرہ بھر تم پر ظلم نہیں کیا۔

الإسراء 17:70

اور البتہ تحقیق عزت دی ہم نے بنی آدم کو اور سوار کیا ہم نے انھیں خشکی اور تری میں اور رزق دیا ہم نے ان کو پاکیزہ (چیزوں ) سےاور فضیلت دی ہم نے ان کو اوپر بہت سی (مخلوقات) کے ان میں سے جن کو پیدا کیا ہم نے، فضیلت بڑی (70) [70] یہ اس کا بے پناہ کرم و احسان ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے بنی آدم کو ہر لحاظ سے عزت و تکریم سے نوازا۔ انھیں علم و عقل عطا کر کے، انبیاء و ورسل بھیج کراور ان پرکتابیں نازل کر کے اکرام بخشا، ان میں سے اپنے اولیاء اور دیگر چنے ہوئے بندے پیدا كيے اور ان کو اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ ﴿ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِي الۡـبَرِّ ﴾ ’’اور ہم نے سواری دی ان کو خشکی میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں اونٹوں ، خچروں ، گدھوں اور دیگر زمینی سواریوں پر سوار کرایا۔ ﴿وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’اور دریا میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں بحری جہازوں اور کشتیوں پر سوار کرایا۔ ﴿ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے روزی دی‘‘ یعنی ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات، ملبوسات اور بیویاں عطا کیں ، چنانچہ ہر وہ پاک چیز جس کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان کو مشرف فرمایا اور اس کا حصول ان کے لیے نہایت آسان کر دیا۔﴿ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا﴾ ’’اور ہم نے بہت سی مخلوق پر ان کو بڑی فضیلت عطا کی‘‘ یعنی ہم نے انھیں بہت سے مناقب کے ذریعے سے خصوصی اعزاز بخشا اور انھیں بہت سے فضائل عطا كيے جو مختلف اقسام کی دیگر مخلوقات کو عطا نہیں كيے، پھر وہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے جس نے نعمتیں عطا کیں ، تکالیف دور کیں ؟ یہ نعمتیں انھیں اللہ تعالیٰ سے محجوب نہ کریں کہ وہ ان نعمتوں میں مشغول ہو کر اپنے رب کی عبادت سے غافل ہو جائیں بلکہ بسااوقات انھوں نے ان نعمتوں کو اپنے رب کی نافرمانی میں استعمال کیا۔

الإسراء 17:71

جس دن بلائیں گے ہم تمام انسانوں کو ان کے امام کے ساتھ، پس جو شخص کہ دیا گیا اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ، سو یہی لوگ پڑھیں گے اعمال نامے اپنے اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ تاگے برابر بھی (71) اور جو کوئی ہے اس (دنیا) میں اندھا تو وہ ہو گا آخرت میں بھی اندھا اور بہت زیادہ بھٹکا ہوا راہ سے (72) [71] قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو (اپنی عدالت میں ) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشد و ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہو گی اور اس امت کو وہی رسول، اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش كيے جائیں گے، جسے لے کر رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں ۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ﴿ فَمَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾ ’’پس جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں ‘‘ کیونکہ اس نے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے اپنے ہادی و راہنما کی پیروی کی تھی اور اس کی کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنایا تھا تب اس کی نیکیاں بڑھ گئیں اور اس کے گناہ کم ہو گئے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يَقۡرَءُوۡنَؔ كِتٰبَهُمۡ ﴾ ’’پس وہ (خوش خوش) اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے‘‘ کیونکہ وہ اس اعمال نامے میں ایسی چیزیں دیکھیں گے جنھیں دیکھ کر انھیں فرحت و سرور حاصل ہو گا۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾ ’’اور ان پر ایک دھاگے برابر ظلم نہیں ہوگا‘‘ یعنی انھوں نے جو نیک عمل كيے ہیں اس بارے میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ [72]﴿ وَمَنۡ كَانَ فِيۡ هٰؔذِهٖۤ ﴾ اور جو رہا اس دنیا میں ﴿ اَعۡمٰؔى ﴾ ’’اندھا‘‘ یعنی حق کے دیکھنے سے۔ پس اس نے حق کو قبول کیا نہ اس کی پیروی کی بلکہ وہ گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ﴿ فَهُوَ فِي الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰؔى ﴾ ’’تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا‘‘ یعنی جس طرح وہ دنیا میں جنت کے راستے پر گامزن نہ ہوا اسی طرح وہ آخرت میں بھی جنت کے راستے کو دیکھ نہ سکے گا ﴿ وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور بہت دور پڑا ہوا راستے سے‘‘ کیونکہ عمل کی جزا بھی اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر امت کو اس کے دین اور کتاب کی طرف بلایا جائے گا کہ آیا اس نے اس کتاب کے مطابق عمل کیا یا نہیں ؟ ان کا کسی ایسے نبی کی شریعت کے مطابق مواخذہ نہیں کیا جائے گا جس کی اتباع کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو صرف اسی وقت عذاب دیتا ہے جب اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو اور اس نے اس کی مخالفت کی ہو اور نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور انھیں بہت زیادہ فرحت و سرور حاصل ہو گا اور اس کے برعکس برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ غم زدہ ہوں گے وہ شدت حزن و غم اور ہلاکت کی وجہ سے اپنے اعمال ناموں کو پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے۔

الإسراء 17:72

جس دن بلائیں گے ہم تمام انسانوں کو ان کے امام کے ساتھ، پس جو شخص کہ دیا گیا اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ، سو یہی لوگ پڑھیں گے اعمال نامے اپنے اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ تاگے برابر بھی (71) اور جو کوئی ہے اس (دنیا) میں اندھا تو وہ ہو گا آخرت میں بھی اندھا اور بہت زیادہ بھٹکا ہوا راہ سے (72) [71] قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو (اپنی عدالت میں ) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشد و ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہو گی اور اس امت کو وہی رسول، اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش كيے جائیں گے، جسے لے کر رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں ۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ﴿ فَمَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾ ’’پس جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں ‘‘ کیونکہ اس نے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے اپنے ہادی و راہنما کی پیروی کی تھی اور اس کی کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنایا تھا تب اس کی نیکیاں بڑھ گئیں اور اس کے گناہ کم ہو گئے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يَقۡرَءُوۡنَؔ كِتٰبَهُمۡ ﴾ ’’پس وہ (خوش خوش) اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے‘‘ کیونکہ وہ اس اعمال نامے میں ایسی چیزیں دیکھیں گے جنھیں دیکھ کر انھیں فرحت و سرور حاصل ہو گا۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾ ’’اور ان پر ایک دھاگے برابر ظلم نہیں ہوگا‘‘ یعنی انھوں نے جو نیک عمل كيے ہیں اس بارے میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ [72]﴿ وَمَنۡ كَانَ فِيۡ هٰؔذِهٖۤ ﴾ اور جو رہا اس دنیا میں ﴿ اَعۡمٰؔى ﴾ ’’اندھا‘‘ یعنی حق کے دیکھنے سے۔ پس اس نے حق کو قبول کیا نہ اس کی پیروی کی بلکہ وہ گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ﴿ فَهُوَ فِي الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰؔى ﴾ ’’تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا‘‘ یعنی جس طرح وہ دنیا میں جنت کے راستے پر گامزن نہ ہوا اسی طرح وہ آخرت میں بھی جنت کے راستے کو دیکھ نہ سکے گا ﴿ وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور بہت دور پڑا ہوا راستے سے‘‘ کیونکہ عمل کی جزا بھی اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر امت کو اس کے دین اور کتاب کی طرف بلایا جائے گا کہ آیا اس نے اس کتاب کے مطابق عمل کیا یا نہیں ؟ ان کا کسی ایسے نبی کی شریعت کے مطابق مواخذہ نہیں کیا جائے گا جس کی اتباع کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو صرف اسی وقت عذاب دیتا ہے جب اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو اور اس نے اس کی مخالفت کی ہو اور نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور انھیں بہت زیادہ فرحت و سرور حاصل ہو گا اور اس کے برعکس برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ غم زدہ ہوں گے وہ شدت حزن و غم اور ہلاکت کی وجہ سے اپنے اعمال ناموں کو پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے۔

الإسراء 17:73

اور بلاشبہ قریب تھا کہ وہ البتہ پھسلا دیتے آپ کو اس چیز سے جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف تاکہ گھڑ لیں آپ ہم پر (باتیں ) سوائے اس (وحی) کے اور اس وقت ضرور بنا لیتے وہ آپ کو دوست (73) اور اگر نہ ثابت (قدم) رکھتے ہم آپ کو تو البتہ تحقیق قریب تھے آپ کہ جھک جاتے ان کی طرف کچھ تھوڑا سا (74)اس وقت ضرور چکھاتے ہم آپ کو دگنا عذاب زندگی میں اور دگنا عذاب موت پر، پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مدد گار (75) اور بلاشبہ قریب تھے وہ کہ اکھاڑ دیں وہ آپ (کے قدموں ) کو اس زمین (مکہ) سےتاکہ نکال دیں وہ آپ کو اس سےاور اس وقت نہ ٹھہرتے وہ (خود بھی) بعد آپ کے مگر تھوڑی ہی دیر (76)(مانند) طریقے ان کے جنھیں بھیجا ہم نے پہلے آپ سے اپنے رسولوں میں سےاور نہیں پائیں گے آپ ہمارے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی (77) [73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَفۡتِنُوۡنَكَ۠ عَنِ الَّذِيۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ﴾’’یقینا قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا‘‘ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کر چکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے انھوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔﴿ وَاِذًا ﴾ ’’اور تب‘‘ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو ﴿ لَّاتَّؔخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’وہ بنا لیتے آپ کو دوست‘‘ یعنی خاص دوست، جو ان کو ان کے دوستوں سے زیادہ عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں ۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کو آپﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ﴾(الانعام:6؍33) ’’ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘ [74]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ ﴾ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا‘‘ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا‘‘ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔ [75]﴿ اِذًا ﴾ ’’تب‘‘ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ﴾ ’’ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب)زندگی میں اور دگنا مرنے میں ‘‘ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا‘‘ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ [77,76]﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور یقینا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے‘‘ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سرزمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے جیسا کہ سنت الٰہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الٰہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کر دیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدر میں عذاب نازل کر دیا، ان کے تمام بڑے بڑے اور سرکردہ سردار قتل کر دیے گئے اور ان کی کمر توڑ دی گئی۔ فلہ الحمد۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا ﴾ اور نبی اکرمﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے در پے نعمتیں عطا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سرانجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں ۔ ﴿ اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہو جاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہو جاتا ہے، تب اللہ ان پر عذاب واقع کر دیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔

الإسراء 17:74

اور بلاشبہ قریب تھا کہ وہ البتہ پھسلا دیتے آپ کو اس چیز سے جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف تاکہ گھڑ لیں آپ ہم پر (باتیں ) سوائے اس (وحی) کے اور اس وقت ضرور بنا لیتے وہ آپ کو دوست (73) اور اگر نہ ثابت (قدم) رکھتے ہم آپ کو تو البتہ تحقیق قریب تھے آپ کہ جھک جاتے ان کی طرف کچھ تھوڑا سا (74)اس وقت ضرور چکھاتے ہم آپ کو دگنا عذاب زندگی میں اور دگنا عذاب موت پر، پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مدد گار (75) اور بلاشبہ قریب تھے وہ کہ اکھاڑ دیں وہ آپ (کے قدموں ) کو اس زمین (مکہ) سےتاکہ نکال دیں وہ آپ کو اس سےاور اس وقت نہ ٹھہرتے وہ (خود بھی) بعد آپ کے مگر تھوڑی ہی دیر (76)(مانند) طریقے ان کے جنھیں بھیجا ہم نے پہلے آپ سے اپنے رسولوں میں سےاور نہیں پائیں گے آپ ہمارے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی (77) [73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَفۡتِنُوۡنَكَ۠ عَنِ الَّذِيۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ﴾’’یقینا قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا‘‘ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کر چکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے انھوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔﴿ وَاِذًا ﴾ ’’اور تب‘‘ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو ﴿ لَّاتَّؔخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’وہ بنا لیتے آپ کو دوست‘‘ یعنی خاص دوست، جو ان کو ان کے دوستوں سے زیادہ عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں ۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کو آپﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ﴾(الانعام:6؍33) ’’ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘ [74]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ ﴾ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا‘‘ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا‘‘ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔ [75]﴿ اِذًا ﴾ ’’تب‘‘ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ﴾ ’’ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب)زندگی میں اور دگنا مرنے میں ‘‘ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا‘‘ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ [77,76]﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور یقینا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے‘‘ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سرزمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے جیسا کہ سنت الٰہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الٰہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کر دیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدر میں عذاب نازل کر دیا، ان کے تمام بڑے بڑے اور سرکردہ سردار قتل کر دیے گئے اور ان کی کمر توڑ دی گئی۔ فلہ الحمد۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا ﴾ اور نبی اکرمﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے در پے نعمتیں عطا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سرانجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں ۔ ﴿ اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہو جاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہو جاتا ہے، تب اللہ ان پر عذاب واقع کر دیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔

الإسراء 17:75

اور بلاشبہ قریب تھا کہ وہ البتہ پھسلا دیتے آپ کو اس چیز سے جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف تاکہ گھڑ لیں آپ ہم پر (باتیں ) سوائے اس (وحی) کے اور اس وقت ضرور بنا لیتے وہ آپ کو دوست (73) اور اگر نہ ثابت (قدم) رکھتے ہم آپ کو تو البتہ تحقیق قریب تھے آپ کہ جھک جاتے ان کی طرف کچھ تھوڑا سا (74)اس وقت ضرور چکھاتے ہم آپ کو دگنا عذاب زندگی میں اور دگنا عذاب موت پر، پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مدد گار (75) اور بلاشبہ قریب تھے وہ کہ اکھاڑ دیں وہ آپ (کے قدموں ) کو اس زمین (مکہ) سےتاکہ نکال دیں وہ آپ کو اس سےاور اس وقت نہ ٹھہرتے وہ (خود بھی) بعد آپ کے مگر تھوڑی ہی دیر (76)(مانند) طریقے ان کے جنھیں بھیجا ہم نے پہلے آپ سے اپنے رسولوں میں سےاور نہیں پائیں گے آپ ہمارے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی (77) [73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَفۡتِنُوۡنَكَ۠ عَنِ الَّذِيۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ﴾’’یقینا قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا‘‘ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کر چکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے انھوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔﴿ وَاِذًا ﴾ ’’اور تب‘‘ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو ﴿ لَّاتَّؔخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’وہ بنا لیتے آپ کو دوست‘‘ یعنی خاص دوست، جو ان کو ان کے دوستوں سے زیادہ عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں ۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کو آپﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ﴾(الانعام:6؍33) ’’ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘ [74]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ ﴾ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا‘‘ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا‘‘ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔ [75]﴿ اِذًا ﴾ ’’تب‘‘ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ﴾ ’’ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب)زندگی میں اور دگنا مرنے میں ‘‘ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا‘‘ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ [77,76]﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور یقینا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے‘‘ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سرزمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے جیسا کہ سنت الٰہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الٰہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کر دیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدر میں عذاب نازل کر دیا، ان کے تمام بڑے بڑے اور سرکردہ سردار قتل کر دیے گئے اور ان کی کمر توڑ دی گئی۔ فلہ الحمد۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا ﴾ اور نبی اکرمﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے در پے نعمتیں عطا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سرانجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں ۔ ﴿ اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہو جاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہو جاتا ہے، تب اللہ ان پر عذاب واقع کر دیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔

الإسراء 17:76

اور بلاشبہ قریب تھا کہ وہ البتہ پھسلا دیتے آپ کو اس چیز سے جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف تاکہ گھڑ لیں آپ ہم پر (باتیں ) سوائے اس (وحی) کے اور اس وقت ضرور بنا لیتے وہ آپ کو دوست (73) اور اگر نہ ثابت (قدم) رکھتے ہم آپ کو تو البتہ تحقیق قریب تھے آپ کہ جھک جاتے ان کی طرف کچھ تھوڑا سا (74)اس وقت ضرور چکھاتے ہم آپ کو دگنا عذاب زندگی میں اور دگنا عذاب موت پر، پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مدد گار (75) اور بلاشبہ قریب تھے وہ کہ اکھاڑ دیں وہ آپ (کے قدموں ) کو اس زمین (مکہ) سےتاکہ نکال دیں وہ آپ کو اس سےاور اس وقت نہ ٹھہرتے وہ (خود بھی) بعد آپ کے مگر تھوڑی ہی دیر (76)(مانند) طریقے ان کے جنھیں بھیجا ہم نے پہلے آپ سے اپنے رسولوں میں سےاور نہیں پائیں گے آپ ہمارے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی (77) [73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَفۡتِنُوۡنَكَ۠ عَنِ الَّذِيۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ﴾’’یقینا قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا‘‘ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کر چکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے انھوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔﴿ وَاِذًا ﴾ ’’اور تب‘‘ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو ﴿ لَّاتَّؔخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’وہ بنا لیتے آپ کو دوست‘‘ یعنی خاص دوست، جو ان کو ان کے دوستوں سے زیادہ عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں ۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کو آپﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ﴾(الانعام:6؍33) ’’ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘ [74]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ ﴾ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا‘‘ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا‘‘ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔ [75]﴿ اِذًا ﴾ ’’تب‘‘ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ﴾ ’’ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب)زندگی میں اور دگنا مرنے میں ‘‘ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا‘‘ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ [77,76]﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور یقینا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے‘‘ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سرزمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے جیسا کہ سنت الٰہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الٰہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کر دیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدر میں عذاب نازل کر دیا، ان کے تمام بڑے بڑے اور سرکردہ سردار قتل کر دیے گئے اور ان کی کمر توڑ دی گئی۔ فلہ الحمد۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا ﴾ اور نبی اکرمﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے در پے نعمتیں عطا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سرانجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں ۔ ﴿ اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہو جاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہو جاتا ہے، تب اللہ ان پر عذاب واقع کر دیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔

الإسراء 17:77

اور بلاشبہ قریب تھا کہ وہ البتہ پھسلا دیتے آپ کو اس چیز سے جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف تاکہ گھڑ لیں آپ ہم پر (باتیں ) سوائے اس (وحی) کے اور اس وقت ضرور بنا لیتے وہ آپ کو دوست (73) اور اگر نہ ثابت (قدم) رکھتے ہم آپ کو تو البتہ تحقیق قریب تھے آپ کہ جھک جاتے ان کی طرف کچھ تھوڑا سا (74)اس وقت ضرور چکھاتے ہم آپ کو دگنا عذاب زندگی میں اور دگنا عذاب موت پر، پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مدد گار (75) اور بلاشبہ قریب تھے وہ کہ اکھاڑ دیں وہ آپ (کے قدموں ) کو اس زمین (مکہ) سےتاکہ نکال دیں وہ آپ کو اس سےاور اس وقت نہ ٹھہرتے وہ (خود بھی) بعد آپ کے مگر تھوڑی ہی دیر (76)(مانند) طریقے ان کے جنھیں بھیجا ہم نے پہلے آپ سے اپنے رسولوں میں سےاور نہیں پائیں گے آپ ہمارے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی (77) [73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَفۡتِنُوۡنَكَ۠ عَنِ الَّذِيۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ﴾’’یقینا قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا‘‘ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کر چکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے انھوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔﴿ وَاِذًا ﴾ ’’اور تب‘‘ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو ﴿ لَّاتَّؔخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’وہ بنا لیتے آپ کو دوست‘‘ یعنی خاص دوست، جو ان کو ان کے دوستوں سے زیادہ عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں ۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کو آپﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ﴾(الانعام:6؍33) ’’ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘ [74]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ ﴾ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا‘‘ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا‘‘ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔ [75]﴿ اِذًا ﴾ ’’تب‘‘ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ﴾ ’’ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب)زندگی میں اور دگنا مرنے میں ‘‘ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا‘‘ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ [77,76]﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور یقینا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے‘‘ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سرزمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے جیسا کہ سنت الٰہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الٰہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کر دیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدر میں عذاب نازل کر دیا، ان کے تمام بڑے بڑے اور سرکردہ سردار قتل کر دیے گئے اور ان کی کمر توڑ دی گئی۔ فلہ الحمد۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا ﴾ اور نبی اکرمﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے در پے نعمتیں عطا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سرانجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں ۔ ﴿ اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہو جاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہو جاتا ہے، تب اللہ ان پر عذاب واقع کر دیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔

الإسراء 17:78

قائم کیجیے نماز وقت ڈھلنے سورج کے، رات کے اندھیرے تک اور نمازِ صبح بھی، بے شک نمازِ صبح ہے (وقت فرشتوں کے) حاضر ہونے کا (78) اور کچھ حصہ رات سے بھی، پس تہجد پڑھیں آپ ساتھ اس (قرآن کے، یہ) زائد ہے آپ کے لیے، قریب ہے کہ کھڑا کرے آپ کو آپ کا رب، مقام محمود میں (79) اور کہیے اے میرے رب! داخل کر مجھے داخل کرنا سچا اور نکال مجھے نکالنا سچااور کرمیرے لیے اپنی طرف سے غلبہ مدد دینے والا (80) اور آپ کہہ دیجیے! آگیا حق اور مٹ گیا باطل، بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے والا (81) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ ﴾ ’’سورج ڈھلنے سے‘‘ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ﴾ ’’رات کے اندھیرے تک‘‘ یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں ۔ ﴿ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ﴾ ’’اور فجر کا قرآن پڑھنا‘‘ یعنی فجر کی نماز اور اسے ’’قرآن‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ [79]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ ﴾ ’’اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگیے‘‘ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھیے ﴿ نَافِلَةً لَّكَ﴾ ’’آپ کے لیے زیادت ہے۔‘‘ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب، بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو، بخلاف دیگر اہل ایمان کے، کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفۂ عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلائق حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرمﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔ [80]﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِيۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِيۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا‘‘ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجۡعَلۡ لِّيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ﴾ ’’اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل‘‘ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں ۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔ [81]﴿ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔‘‘ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ﴾ ’’بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا‘‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں ۔

الإسراء 17:79

قائم کیجیے نماز وقت ڈھلنے سورج کے، رات کے اندھیرے تک اور نمازِ صبح بھی، بے شک نمازِ صبح ہے (وقت فرشتوں کے) حاضر ہونے کا (78) اور کچھ حصہ رات سے بھی، پس تہجد پڑھیں آپ ساتھ اس (قرآن کے، یہ) زائد ہے آپ کے لیے، قریب ہے کہ کھڑا کرے آپ کو آپ کا رب، مقام محمود میں (79) اور کہیے اے میرے رب! داخل کر مجھے داخل کرنا سچا اور نکال مجھے نکالنا سچااور کرمیرے لیے اپنی طرف سے غلبہ مدد دینے والا (80) اور آپ کہہ دیجیے! آگیا حق اور مٹ گیا باطل، بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے والا (81) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ ﴾ ’’سورج ڈھلنے سے‘‘ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ﴾ ’’رات کے اندھیرے تک‘‘ یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں ۔ ﴿ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ﴾ ’’اور فجر کا قرآن پڑھنا‘‘ یعنی فجر کی نماز اور اسے ’’قرآن‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ [79]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ ﴾ ’’اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگیے‘‘ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھیے ﴿ نَافِلَةً لَّكَ﴾ ’’آپ کے لیے زیادت ہے۔‘‘ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب، بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو، بخلاف دیگر اہل ایمان کے، کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفۂ عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلائق حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرمﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔ [80]﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِيۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِيۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا‘‘ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجۡعَلۡ لِّيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ﴾ ’’اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل‘‘ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں ۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔ [81]﴿ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔‘‘ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ﴾ ’’بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا‘‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں ۔

الإسراء 17:80

قائم کیجیے نماز وقت ڈھلنے سورج کے، رات کے اندھیرے تک اور نمازِ صبح بھی، بے شک نمازِ صبح ہے (وقت فرشتوں کے) حاضر ہونے کا (78) اور کچھ حصہ رات سے بھی، پس تہجد پڑھیں آپ ساتھ اس (قرآن کے، یہ) زائد ہے آپ کے لیے، قریب ہے کہ کھڑا کرے آپ کو آپ کا رب، مقام محمود میں (79) اور کہیے اے میرے رب! داخل کر مجھے داخل کرنا سچا اور نکال مجھے نکالنا سچااور کرمیرے لیے اپنی طرف سے غلبہ مدد دینے والا (80) اور آپ کہہ دیجیے! آگیا حق اور مٹ گیا باطل، بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے والا (81) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ ﴾ ’’سورج ڈھلنے سے‘‘ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ﴾ ’’رات کے اندھیرے تک‘‘ یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں ۔ ﴿ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ﴾ ’’اور فجر کا قرآن پڑھنا‘‘ یعنی فجر کی نماز اور اسے ’’قرآن‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ [79]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ ﴾ ’’اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگیے‘‘ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھیے ﴿ نَافِلَةً لَّكَ﴾ ’’آپ کے لیے زیادت ہے۔‘‘ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب، بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو، بخلاف دیگر اہل ایمان کے، کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفۂ عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلائق حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرمﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔ [80]﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِيۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِيۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا‘‘ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجۡعَلۡ لِّيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ﴾ ’’اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل‘‘ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں ۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔ [81]﴿ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔‘‘ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ﴾ ’’بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا‘‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں ۔

الإسراء 17:81

قائم کیجیے نماز وقت ڈھلنے سورج کے، رات کے اندھیرے تک اور نمازِ صبح بھی، بے شک نمازِ صبح ہے (وقت فرشتوں کے) حاضر ہونے کا (78) اور کچھ حصہ رات سے بھی، پس تہجد پڑھیں آپ ساتھ اس (قرآن کے، یہ) زائد ہے آپ کے لیے، قریب ہے کہ کھڑا کرے آپ کو آپ کا رب، مقام محمود میں (79) اور کہیے اے میرے رب! داخل کر مجھے داخل کرنا سچا اور نکال مجھے نکالنا سچااور کرمیرے لیے اپنی طرف سے غلبہ مدد دینے والا (80) اور آپ کہہ دیجیے! آگیا حق اور مٹ گیا باطل، بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے والا (81) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ ﴾ ’’سورج ڈھلنے سے‘‘ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ﴾ ’’رات کے اندھیرے تک‘‘ یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں ۔ ﴿ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ﴾ ’’اور فجر کا قرآن پڑھنا‘‘ یعنی فجر کی نماز اور اسے ’’قرآن‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ [79]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ ﴾ ’’اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگیے‘‘ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھیے ﴿ نَافِلَةً لَّكَ﴾ ’’آپ کے لیے زیادت ہے۔‘‘ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب، بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو، بخلاف دیگر اہل ایمان کے، کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفۂ عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلائق حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرمﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔ [80]﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِيۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِيۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا‘‘ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجۡعَلۡ لِّيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ﴾ ’’اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل‘‘ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں ۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔ [81]﴿ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔‘‘ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ﴾ ’’بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا‘‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں ۔

الإسراء 17:82

اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن کہ وہ شفاء اور رحمت ہے مومنوں کے لیےاور نہیں زیادہ کرتا وہ ظالموں کو مگر خسارے ہی میں (82) [82]﴿ وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًؔا﴾ ’’اور اتارتے ہیں ہم قرآن میں سے جس میں شفا ہے اور مومنوں کے لیے رحمت اور گناہ گاروں کا تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے‘‘ یعنی قرآن کریم شفا اور رحمت پر مشتمل ہے اور یہ شفا اور رحمت ہر ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے جو اس کی آیات کی تصدیق کر کے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ رہے ظالم جو اس کی تصدیق نہیں کرتے یا اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اس کی آیات ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرتی ہیں کیونکہ ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ پس وہ شفا جس کو قرآن متضمن ہے وہ قلوب کے لیے شفائے عام ہے اور قلوب کو شبہات، جہالت، آراء فاسدہ، انحراف مذموم اور گھٹیا مقاصد جیسے امراض کو دور کرتی ہے کیونکہ قرآن علم یقینی پر مشتمل ہے جو ہر قسم کی جہالت اور تمام شبہات کو زائل کر دیتا ہے۔ قرآن وعظ و تذکیر پر مشتمل ہے جو ہر شہوت کو ختم کر دیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت ہو۔ قرآن ابدان کے آلام و امراض سے شفا کو متضمن ہے۔رہی رحمت تو قرآن کے اندر ایسے اسباب اور وسائل ذکر كيے گئے ہیں جن کو اختیار کرنے کی قرآن ترغیب دیتا ہے۔ جب بندہ ان کو اختیار کر لیتا ہے تو بے پایاں رحمت، ابدی سعادت، دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

الإسراء 17:83

اور جب انعام کرتے ہیں ہم اوپر انسان کے تو وہ اعراض کرتا ہے اوردور کر لیتا ہے وہ پہلو اپنا اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو ہو جاتا ہے وہ ناامید (83) [83] انسان جہاں بھی ہے یہ اس کی فطرت ہے، سوائے اس کے جس کی اللہ راہنمائی فرمائے، کہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں عطا ہوتی ہیں تو وہ ان نعمتوں پر بہت خوش ہوتا ہے، ان پر اتراتا ہے، حق سے روگردانی کرتا ہے، اینٹھتا ہے اور اپنے رب سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اس کا شکر ادا کرتا ہے نہ اس کو یاد کرتا ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور جب اس کو برائی پہنچتی ہے‘‘مثلاً: بیماری وغیرہ ﴿ كَانَ يَـــُٔوۡسًا ﴾ ’’تو مایوس ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بھلائی سے بالکل مایوس ہو جاتا ہے، رب سے اپنی امید منقطع کر لیتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جس حالت میں ہے ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ اور وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ ہدایت سے نواز دیتا ہے وہ نعمتیں میسر ہونے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جاتا ہے اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ سختی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے عافیت اور اس مصیبت کے دور ہونے کی امید رکھتا ہے اور اس سے اس کی مصیبت ہلکی ہو جاتی ہے۔

الإسراء 17:84

کہہ دیجیے! ہر شخص عمل کرتا ہے اوپر اپنے طریقے کے، پس تمھارا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو ہے زیادہ سیدھے راستے پر(84) [84]﴿ قُلۡ كُلٌّ ﴾ ’’کہہ دیجیے ہر ایک‘‘ یعنی لوگوں میں سے۔ ﴿ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾ ’’کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر‘‘ یعنی اس طریقے پر جو اس کے احوال کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ نیک بندوں میں سے ہیں تو ان کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ان کا عمل رب کائنات کی رضا کی خاطر ہوتا ہے اور اگر وہ نیک اور ابرار لوگوں کی بجائے ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے الگ ہو گیا ہو تو ان کے لیے صرف وہی عمل مناسب ہوتا ہے جو اس نے مخلوق کو خوش کرنے کے لیے کیا ہو اور ان کے موافق صرف وہی عمل ہوتا ہے جو ان کی اغراض کے موافق ہو۔ ﴿ فَرَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ اَهۡدٰؔى سَبِيۡلًا﴾ ’’پس تمھارا رب اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔‘‘ یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پس اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہے جو صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ اسے اپنے حال پر چھوڑ کر ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔

الإسراء 17:85

اور پوچھتے ہیں وہ (یہودی) آپ سے، روح کی بابت، کہہ دیجیے، روح امر ہے میرے رب کا اور نہیں دیے گئے تم علم سے مگر بہت ہی تھوڑا (85) [85] یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کو باز رکھنے کو متضمن ہے جو ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن سے ان کا مقصد محض تعنت اور مسئول کو لاجواب کرنا ہوتا ہے۔ درآں حالیکہ وہ اہم امور کے بارے میں سوال نہیں کرتے۔ پس وہ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں جس کا تعلق مخفی امور سے ہے۔ کوئی شخص بھی روح کا وصف اور اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس علم میں بھی قاصر ہیں جس کے وہ محتاج ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ ان کے سوال کا یہ جواب دیں ۔ ﴿ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! روح میرے رب کے امر سے ہے‘‘ یعنی من جملہ مخلوقات سے ہے جن کے بارے میں میرے رب نے حکم دیا کہ ’’ہو جاؤ‘‘ اور وہ وجود میں آگئیں ، لہٰذا ان کے بارے میں سوال کرنا تمھارے لیے کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر امور میں بھی تمھارا علم معدوم ہے۔ اس آیت مقدسہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جب مسئول سے کسی معاملے میں سوال کیا جائے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ (لایعنی) سوال کا جواب دینے سے گریز کرے جو سائل نے پوچھا ہے اور اس امر میں اس کی راہنمائی کرے جس کا وہ محتاج ہے اور جو اس کے لیے فائدہ مند ہے۔

الإسراء 17:86

اور البتہ اگر ہم چاہیں تو یقینا لے جائیں اس چیز (قرآن) کو جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف ، پھر نہ پائیں گے آپ اپنے لیے اس (قرآن کے لانے) پر ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی (86) مگر مہربانی سے آپ کے رب کی، بلاشبہ فضل اس کا ہے آپ پر بہت بڑا (87) [87,86] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن اور وحی جسے اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے وہ آپ پر اور بندوں پر رحمت اور احسان ہے قرآن اور وحی علی الاطلاق رسول اللہﷺ کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل و کرم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا… پس جس ہستی نے آپ پر یہ فضل و کرم کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اسے واپس لے لے پھر آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو یہ فضل و کرم واپس لا سکے اور آپ کو کوئی ایسا وکیل اور کارساز نہیں ملے گا جو اللہ کے حضور اس بارے میں بات کر سکے۔ پس آپ کو اس بارے میں خوش ہونا چاہیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہنی چاہئیں اور تکذیب کرنے والوں کی تکذیب اور گمراہوں کا استہزا و تمسخر آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سامنے جلیل ترین نعمت پیش کی گئی انھوں نے اسے ٹھکرا دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت حقیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

الإسراء 17:87

اور البتہ اگر ہم چاہیں تو یقینا لے جائیں اس چیز (قرآن) کو جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف ، پھر نہ پائیں گے آپ اپنے لیے اس (قرآن کے لانے) پر ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی (86) مگر مہربانی سے آپ کے رب کی، بلاشبہ فضل اس کا ہے آپ پر بہت بڑا (87) [87,86] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن اور وحی جسے اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے وہ آپ پر اور بندوں پر رحمت اور احسان ہے قرآن اور وحی علی الاطلاق رسول اللہﷺ کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل و کرم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا… پس جس ہستی نے آپ پر یہ فضل و کرم کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اسے واپس لے لے پھر آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو یہ فضل و کرم واپس لا سکے اور آپ کو کوئی ایسا وکیل اور کارساز نہیں ملے گا جو اللہ کے حضور اس بارے میں بات کر سکے۔ پس آپ کو اس بارے میں خوش ہونا چاہیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہنی چاہئیں اور تکذیب کرنے والوں کی تکذیب اور گمراہوں کا استہزا و تمسخر آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سامنے جلیل ترین نعمت پیش کی گئی انھوں نے اسے ٹھکرا دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت حقیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

الإسراء 17:88

کہہ دیجیے! البتہ اگر جمع ہو جائیں (تمام) انسان اور جن اوپر اس بات کے کہ (بنا) لائیں وہ مثل اس قرآن کے تو نہ لاسکیں گے وہ مثل اس کے اگر چہ ہو ان کا بعض، بعض کا مدد گار ہی(88) [88] یہ اس بات کی قطعی دلیل اور واضح برہان ہے کہ جو کچھ رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ صحیح اور صداقت پر مبنی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام جنوں اور انسانوں کو معارضے کی دعوت دی ہے کہ وہ اس جیسا قرآن بنا لائیں اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ بھی فرما دیا کہ وہ اس جیسا قرآن نہیں لا سکتے۔ خواہ وہ ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کر لیں ۔ یہ سب کچھ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جھٹلانے والوں کی بہت زیادہ خواہش تھی کہ وہ کسی طریقے سے اس دعوت کو جھوٹا ثابت کریں جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے اور وہ لغت عرب کے ماہر اور فصاحت و بلاغت کے مالک تھے۔ اگر ان میں اس دعوت کا مقابلہ کرنے کی ذرا سی بھی اہلیت ہوتی تو وہ ضرور اس کا مقابلہ کرتے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ انھوں نے طوعاً و کر ہاً اس بارے میں اپنی بے بسی کو تسلیم کر لیا اور قرآن کے معارضہ سے عاجز آ گئے… اور وہ مخلوق جو مٹی سے پیدا کی گئی، جو ہر پہلو سے ناقص ہے، جو علم، قدرت، ارادہ اور مشیت سے محروم ہے، اس کا کلام اور کمال اس کے رب کا عطا کردہ ہے، رب کائنات کے کلام کا کس طرح مقابلہ کر سکتی ہے، جو تمام بھید کو جاننے والا ہے، جو کمال مطلق، حمد مطلق اور مجد عظیم کا مالک ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر سات سمندروں کو روشنائی اور تمام درختوں کے قلم بنا دیے جائیں تو تمام روشنائی ختم ہو جائے گی اور قلم فنا ہو جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ کے کلمات کبھی ختم نہ ہوں گے۔پس جیسے اللہ تعالیٰ کی صفات میں ، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کے مماثل نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بھی… جو کہ اس کی صفت ہے… بے مثل ہے۔ اس کی ذات، اس کے اسماء، اس کی صفات اور اس کے افعال میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں ۔ تب ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو مخلوق کے کلام کو خالق کے کلام کے مشابہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ محمد (ﷺ) نے اسے اپنے دل سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کی ہے۔

الإسراء 17:89

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال، پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (نہیں )(89)اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم تجھ پر، یہاں تک کہ جاری کرے تو ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ(90) یا ہو واسطے تیرے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، پھر جاری کردے تو نہریں اس (باغ) کے درمیان (جگہ جگہ) جاری کرنا (91) یا گرادے تو آسمان، جیسا کہ دعویٰ کرتا ہے تو، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا لے آ تو اللہ کو اور فرشتو ں کو سامنے (92) یا ہو تیرے لیے ایک گھر سونے کا یا چڑھ جا تو آسمان میں اور ہرگز نہیں مانیں گے ہم تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ اتار لائے تو ہم پر ایک کتاب کہ ہم پڑھیں اسے، آپ کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب، نہیں ہوں میں مگر صرف ایک بشر (اور) رسول (93) اور نہیں منع کیا لوگوں کو (اس سے) کہ ایمان لائیں وہ، جب آگئی ان کے پاس ہدایت مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا، کیا بھیجا ہے اللہ نے ایک بشر کو رسول (بنا کر)؟ (94) کہہ دیجیے! اگر ہوتے زمین میں فرشتے، وہ چلتے ( پھرتے) اطمینان سے تو البتہ نازل کرتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول (بنا کر)(95) کہہ دیجیے! کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خوب خبر دار، خوب دیکھنے والا (96) [93-89] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال‘‘ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے، سوائے ان لوگوں کے، جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق معجزات و آیات کا مطالبہ کرکے تعنت کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے نفس کی طرف سے، جو ظالم اور جاہل ہے، آیات گھڑتے ہیں ۔ پس وہ رسول اللہﷺ سے، جو یہ قرآن لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو ہر قسم کی دلیل اور برہان پر مشتمل ہے، کہتے ہیں :﴿لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾’’ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ‘‘ یعنی بہتی ہوئی نہریں جاری کر دے۔﴿ اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا‘‘ جن کی مدد سے تو بازاروں میں چلنے پھرنے اور آ نے جانے سے مستغنی ہو جائے۔ ﴿ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا ﴾ ’’یا گرا دے ہم پر آسمان، جیسا کہ تو کہا کرتا ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرکے‘‘ یعنی عذاب سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ﴿ اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾ ’’یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے‘‘ یعنی تمام فرشتے یا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام فرشتے روبرو آجائیں اور وہ تیری نبوت کی گواہی دیں ۔ ﴿ اَوۡ يَكُوۡنَ لَكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے گھر سنہرا‘‘ یعنی سونے وغیرہ سے منقش اور آراستہ ﴿اَوۡ تَرۡقٰى فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یا تو آسمان پر چڑھ جا۔‘‘ یعنی حسی طور پر آسمان پر چڑھ جائے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّقۡرَؤُهٗ﴾ ’’ہم نہیں مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ لائے تو ہمارے پاس کتاب جسے ہم پڑھیں ‘‘ چونکہ یہ کلام محض تعنت اور رسول کو بے بس کرنے کی خواہش اور داعیہ ہے، یہ احمق ترین اور ظالم ترین لوگوں کا کلام ہے جو حق کو ٹھکرا دینے کو متضمن ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بے ادبی اور رسول اللہﷺ کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ ہے کہ آپ یہ آیات خود تصنیف کرتے ہیں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اللہ کی تنزیہ بیان کریں ۔ ﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب‘‘ یعنی جو کچھ تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے احکام اور آیات ان کی خواہشات نفس اور گمراہ آراء و نظریات کے تابع ہوں ۔ ﴿ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’میں نہیں ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا‘‘ میرے ہاتھ میں کچھ بھی اختیار نہیں … [94] یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اکثر لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ ان کی طرف جو رسول اور نبی مبعوث كيے گئے وہ سب انھی کی جنس میں سے تھے، یعنی وہ سب بشر تھے۔یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا کیونکہ وہ فرشتوں سے بلاواسطہ احکام وصول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ [95] اس لیے فرمایا: ﴿ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ ﴾ ’’ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے، بستے‘‘ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ﴿لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔‘‘ [96]﴿ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار، دیکھنے والا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائیدکی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنھوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

الإسراء 17:90

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال، پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (نہیں )(89)اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم تجھ پر، یہاں تک کہ جاری کرے تو ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ(90) یا ہو واسطے تیرے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، پھر جاری کردے تو نہریں اس (باغ) کے درمیان (جگہ جگہ) جاری کرنا (91) یا گرادے تو آسمان، جیسا کہ دعویٰ کرتا ہے تو، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا لے آ تو اللہ کو اور فرشتو ں کو سامنے (92) یا ہو تیرے لیے ایک گھر سونے کا یا چڑھ جا تو آسمان میں اور ہرگز نہیں مانیں گے ہم تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ اتار لائے تو ہم پر ایک کتاب کہ ہم پڑھیں اسے، آپ کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب، نہیں ہوں میں مگر صرف ایک بشر (اور) رسول (93) اور نہیں منع کیا لوگوں کو (اس سے) کہ ایمان لائیں وہ، جب آگئی ان کے پاس ہدایت مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا، کیا بھیجا ہے اللہ نے ایک بشر کو رسول (بنا کر)؟ (94) کہہ دیجیے! اگر ہوتے زمین میں فرشتے، وہ چلتے ( پھرتے) اطمینان سے تو البتہ نازل کرتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول (بنا کر)(95) کہہ دیجیے! کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خوب خبر دار، خوب دیکھنے والا (96) [93-89] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال‘‘ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے، سوائے ان لوگوں کے، جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق معجزات و آیات کا مطالبہ کرکے تعنت کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے نفس کی طرف سے، جو ظالم اور جاہل ہے، آیات گھڑتے ہیں ۔ پس وہ رسول اللہﷺ سے، جو یہ قرآن لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو ہر قسم کی دلیل اور برہان پر مشتمل ہے، کہتے ہیں :﴿لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾’’ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ‘‘ یعنی بہتی ہوئی نہریں جاری کر دے۔﴿ اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا‘‘ جن کی مدد سے تو بازاروں میں چلنے پھرنے اور آ نے جانے سے مستغنی ہو جائے۔ ﴿ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا ﴾ ’’یا گرا دے ہم پر آسمان، جیسا کہ تو کہا کرتا ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرکے‘‘ یعنی عذاب سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ﴿ اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾ ’’یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے‘‘ یعنی تمام فرشتے یا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام فرشتے روبرو آجائیں اور وہ تیری نبوت کی گواہی دیں ۔ ﴿ اَوۡ يَكُوۡنَ لَكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے گھر سنہرا‘‘ یعنی سونے وغیرہ سے منقش اور آراستہ ﴿اَوۡ تَرۡقٰى فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یا تو آسمان پر چڑھ جا۔‘‘ یعنی حسی طور پر آسمان پر چڑھ جائے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّقۡرَؤُهٗ﴾ ’’ہم نہیں مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ لائے تو ہمارے پاس کتاب جسے ہم پڑھیں ‘‘ چونکہ یہ کلام محض تعنت اور رسول کو بے بس کرنے کی خواہش اور داعیہ ہے، یہ احمق ترین اور ظالم ترین لوگوں کا کلام ہے جو حق کو ٹھکرا دینے کو متضمن ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بے ادبی اور رسول اللہﷺ کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ ہے کہ آپ یہ آیات خود تصنیف کرتے ہیں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اللہ کی تنزیہ بیان کریں ۔ ﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب‘‘ یعنی جو کچھ تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے احکام اور آیات ان کی خواہشات نفس اور گمراہ آراء و نظریات کے تابع ہوں ۔ ﴿ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’میں نہیں ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا‘‘ میرے ہاتھ میں کچھ بھی اختیار نہیں … [94] یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اکثر لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ ان کی طرف جو رسول اور نبی مبعوث كيے گئے وہ سب انھی کی جنس میں سے تھے، یعنی وہ سب بشر تھے۔یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا کیونکہ وہ فرشتوں سے بلاواسطہ احکام وصول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ [95] اس لیے فرمایا: ﴿ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ ﴾ ’’ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے، بستے‘‘ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ﴿لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔‘‘ [96]﴿ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار، دیکھنے والا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائیدکی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنھوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

الإسراء 17:91

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال، پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (نہیں )(89)اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم تجھ پر، یہاں تک کہ جاری کرے تو ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ(90) یا ہو واسطے تیرے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، پھر جاری کردے تو نہریں اس (باغ) کے درمیان (جگہ جگہ) جاری کرنا (91) یا گرادے تو آسمان، جیسا کہ دعویٰ کرتا ہے تو، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا لے آ تو اللہ کو اور فرشتو ں کو سامنے (92) یا ہو تیرے لیے ایک گھر سونے کا یا چڑھ جا تو آسمان میں اور ہرگز نہیں مانیں گے ہم تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ اتار لائے تو ہم پر ایک کتاب کہ ہم پڑھیں اسے، آپ کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب، نہیں ہوں میں مگر صرف ایک بشر (اور) رسول (93) اور نہیں منع کیا لوگوں کو (اس سے) کہ ایمان لائیں وہ، جب آگئی ان کے پاس ہدایت مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا، کیا بھیجا ہے اللہ نے ایک بشر کو رسول (بنا کر)؟ (94) کہہ دیجیے! اگر ہوتے زمین میں فرشتے، وہ چلتے ( پھرتے) اطمینان سے تو البتہ نازل کرتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول (بنا کر)(95) کہہ دیجیے! کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خوب خبر دار، خوب دیکھنے والا (96) [93-89] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال‘‘ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے، سوائے ان لوگوں کے، جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق معجزات و آیات کا مطالبہ کرکے تعنت کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے نفس کی طرف سے، جو ظالم اور جاہل ہے، آیات گھڑتے ہیں ۔ پس وہ رسول اللہﷺ سے، جو یہ قرآن لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو ہر قسم کی دلیل اور برہان پر مشتمل ہے، کہتے ہیں :﴿لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾’’ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ‘‘ یعنی بہتی ہوئی نہریں جاری کر دے۔﴿ اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا‘‘ جن کی مدد سے تو بازاروں میں چلنے پھرنے اور آ نے جانے سے مستغنی ہو جائے۔ ﴿ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا ﴾ ’’یا گرا دے ہم پر آسمان، جیسا کہ تو کہا کرتا ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرکے‘‘ یعنی عذاب سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ﴿ اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾ ’’یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے‘‘ یعنی تمام فرشتے یا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام فرشتے روبرو آجائیں اور وہ تیری نبوت کی گواہی دیں ۔ ﴿ اَوۡ يَكُوۡنَ لَكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے گھر سنہرا‘‘ یعنی سونے وغیرہ سے منقش اور آراستہ ﴿اَوۡ تَرۡقٰى فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یا تو آسمان پر چڑھ جا۔‘‘ یعنی حسی طور پر آسمان پر چڑھ جائے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّقۡرَؤُهٗ﴾ ’’ہم نہیں مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ لائے تو ہمارے پاس کتاب جسے ہم پڑھیں ‘‘ چونکہ یہ کلام محض تعنت اور رسول کو بے بس کرنے کی خواہش اور داعیہ ہے، یہ احمق ترین اور ظالم ترین لوگوں کا کلام ہے جو حق کو ٹھکرا دینے کو متضمن ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بے ادبی اور رسول اللہﷺ کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ ہے کہ آپ یہ آیات خود تصنیف کرتے ہیں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اللہ کی تنزیہ بیان کریں ۔ ﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب‘‘ یعنی جو کچھ تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے احکام اور آیات ان کی خواہشات نفس اور گمراہ آراء و نظریات کے تابع ہوں ۔ ﴿ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’میں نہیں ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا‘‘ میرے ہاتھ میں کچھ بھی اختیار نہیں … [94] یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اکثر لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ ان کی طرف جو رسول اور نبی مبعوث كيے گئے وہ سب انھی کی جنس میں سے تھے، یعنی وہ سب بشر تھے۔یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا کیونکہ وہ فرشتوں سے بلاواسطہ احکام وصول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ [95] اس لیے فرمایا: ﴿ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ ﴾ ’’ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے، بستے‘‘ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ﴿لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔‘‘ [96]﴿ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار، دیکھنے والا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائیدکی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنھوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔