Tafsir As-Saadi - Urdu — الكهف 18:77 – الكهف 18:110
Contents
- الكهف 18:77
- الكهف 18:78
- الكهف 18:79
- الكهف 18:80
- الكهف 18:81
- الكهف 18:82
- الكهف 18:83
- الكهف 18:84
- الكهف 18:85
- الكهف 18:86
- الكهف 18:87
- الكهف 18:88
- الكهف 18:89
- الكهف 18:90
- الكهف 18:91
- الكهف 18:92
- الكهف 18:93
- الكهف 18:94
- الكهف 18:95
- الكهف 18:96
- الكهف 18:97
- الكهف 18:98
- الكهف 18:99
- الكهف 18:100
- الكهف 18:101
- الكهف 18:102
- الكهف 18:103
- الكهف 18:104
- الكهف 18:105
- الكهف 18:106
- الكهف 18:107
- الكهف 18:108
- الكهف 18:109
- الكهف 18:110
الكهف 18:77
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
الكهف 18:78
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
الكهف 18:79
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
الكهف 18:80
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
الكهف 18:81
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
الكهف 18:82
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
الكهف 18:83
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
الكهف 18:84
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
الكهف 18:85
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
الكهف 18:86
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
الكهف 18:87
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
الكهف 18:88
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
الكهف 18:89
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:90
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:91
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:92
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:93
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:94
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:95
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:96
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:97
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:98
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
الكهف 18:99
اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
الكهف 18:100
اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
الكهف 18:101
اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
الكهف 18:102
کیا پس گمان کیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، یہ کہ ٹھہرائیں وہ میرے بندوں کو، سوائے میرے، کارساز؟ بلاشبہ ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی (102)
[102] یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنھوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں ، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے… فرماتا ہے:﴿ اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا عِبَادِيۡ مِنۡ دُوۡنِيۡۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں ۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍40-41) ’’جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔‘‘ پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جبکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے … ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنا لیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہء قدرت میں نفع ونقصان نہیں ۔ یہ معنیٰ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ ﴿ قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍56) ’’کہہ دیجیے کہ تم پکار دیکھو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کارساز سمجھتے ہو تو (یاد رکھو) وہ تمھاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾(الزخرف:43؍86) ’’وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہو گی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔ ﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے!
الكهف 18:103
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
الكهف 18:104
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
الكهف 18:105
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
الكهف 18:106
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
الكهف 18:107
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ہوں گے ان کے لیے باغات فردوس کے بطور مہمانی کے (107) اس حال میں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، نہیں چاہیں گے وہ اس سے جگہ بدلنا (108)
[107] یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کیے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروع سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔ ’’جنات الفرودس‘‘ میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین ، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی مقربین، ابرار اور متوسطین ان کے حسب حال سب کوشامل ہو اور یہی معنیٰ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ معنی عام ہے، نیز اس لیے کہ جنت کو جمع کے لفظ کے ساتھ ’’فردوس‘‘ کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں فردوس کا اطلاق اس باغ پر ہوتا ہے جو انگور کی بیلوں اور گنجان درختوں پر مشتمل ہو تب یہ لفظ تمام جنت پر صادق آتا ہے۔ پس جنت فردوس ان لوگوں کے لیے مہمانی اور ضیافت کی جگہ ہے جنھوں نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل کیے۔ اس ضیافت سے بڑی، زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل القدر کون سی ضیافت ہو سکتی ہے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہر نعمت پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، مثلاً:خوبصورت گھر، سرسبز باغات، پھل دار درخت، سحرانگیز گیت، گاتے ہوئے پرندے، لذید ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویاں ، خدمت گزار لڑکے، بہتی ہوئی نہریں ، دلکش مناظر، حسی اور معنوی حسن و جمال اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ۔ اس سے بھی افضل اور جلیل القدر نعمت، رحمٰن کا تقرب، اس کی رضا کا حصول جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور رؤف و رحیم کے کلام سے لطف اندوز ہونا … اللہ کی قسم! یہ ضیافت کتنی جلیل القدر کتنی خوبصورت، ہمیشہ رہنے والی اور کتنی کامل ہو گی۔ یہ ضیافت اس سے بہت بڑی ہے کہ مخلوق میں سے کوئی شخص اس کا وصف بیان کر سکے یا دلوں میں اس کے تصور کا گزر ہو سکے۔ اگر بندوں کو ان میں سے کچھ نعمتوں کا حقیقی علم حاصل ہو کر ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے تو دل شوق سے اڑنے لگیں گے، جدائی کے درد سے روح لخت لخت ہو جائے گی اور بندے اکیلے اکیلے اور گروہ در گروہ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ وہ اس کے مقابلے میں دنیائے فانی اور اس کی ختم ہو جانے والی لذات کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے کہ یہ اوقات خسارے اور ناکامی کا باعت بنیں کیونکہ اس جنت کا ایک لمحہ دنیا کی ہزاروں سال کی نعمتوں کے برابر ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ غفلت نے گھیر رکھا ہے، ایمان کمزور پڑ گیا اور ارادہ اضمحلال کا شکار ہو گیا ہے، پس اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا، فلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم.
[108] اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا ﴾ ’’نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی‘‘ یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔
الكهف 18:108
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ہوں گے ان کے لیے باغات فردوس کے بطور مہمانی کے (107) اس حال میں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، نہیں چاہیں گے وہ اس سے جگہ بدلنا (108)
[107] یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کیے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروع سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔ ’’جنات الفرودس‘‘ میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین ، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی مقربین، ابرار اور متوسطین ان کے حسب حال سب کوشامل ہو اور یہی معنیٰ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ معنی عام ہے، نیز اس لیے کہ جنت کو جمع کے لفظ کے ساتھ ’’فردوس‘‘ کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں فردوس کا اطلاق اس باغ پر ہوتا ہے جو انگور کی بیلوں اور گنجان درختوں پر مشتمل ہو تب یہ لفظ تمام جنت پر صادق آتا ہے۔ پس جنت فردوس ان لوگوں کے لیے مہمانی اور ضیافت کی جگہ ہے جنھوں نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل کیے۔ اس ضیافت سے بڑی، زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل القدر کون سی ضیافت ہو سکتی ہے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہر نعمت پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، مثلاً:خوبصورت گھر، سرسبز باغات، پھل دار درخت، سحرانگیز گیت، گاتے ہوئے پرندے، لذید ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویاں ، خدمت گزار لڑکے، بہتی ہوئی نہریں ، دلکش مناظر، حسی اور معنوی حسن و جمال اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ۔ اس سے بھی افضل اور جلیل القدر نعمت، رحمٰن کا تقرب، اس کی رضا کا حصول جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور رؤف و رحیم کے کلام سے لطف اندوز ہونا … اللہ کی قسم! یہ ضیافت کتنی جلیل القدر کتنی خوبصورت، ہمیشہ رہنے والی اور کتنی کامل ہو گی۔ یہ ضیافت اس سے بہت بڑی ہے کہ مخلوق میں سے کوئی شخص اس کا وصف بیان کر سکے یا دلوں میں اس کے تصور کا گزر ہو سکے۔ اگر بندوں کو ان میں سے کچھ نعمتوں کا حقیقی علم حاصل ہو کر ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے تو دل شوق سے اڑنے لگیں گے، جدائی کے درد سے روح لخت لخت ہو جائے گی اور بندے اکیلے اکیلے اور گروہ در گروہ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ وہ اس کے مقابلے میں دنیائے فانی اور اس کی ختم ہو جانے والی لذات کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے کہ یہ اوقات خسارے اور ناکامی کا باعت بنیں کیونکہ اس جنت کا ایک لمحہ دنیا کی ہزاروں سال کی نعمتوں کے برابر ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ غفلت نے گھیر رکھا ہے، ایمان کمزور پڑ گیا اور ارادہ اضمحلال کا شکار ہو گیا ہے، پس اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا، فلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم.
[108] اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا ﴾ ’’نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی‘‘ یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔
الكهف 18:109
کہہ دیجیے، اگر ہو جائے سمندر (کا پانی) سیاہی، باتیں لکھنے کے لیے میرے رب کی تو ا لبتہ ختم ہو جائے سمندر پہلے اس سے کہ ختم ہوں باتیں میرے رب کی، اگر چہ لے آئیں ہم مثل اس کے (اور) بطور مدد کے (109)
[109] یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی لامحدود صفات کے متعلق آگاہ کر دیجیے، نیز ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ بندے ان صفات کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ ﴾ ’’اگر ہوں سمندر‘‘ یعنی اس دنیا میں موجود تمام سمندر ﴿ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے روشنائی‘‘ یعنی روز اول سے لے کر آخرتک شہروں اور صحراؤں کے تمام درختوں کی قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی میں تبدیل ہو جائیں ۔ ﴿ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ ﴾ تو سمندر ختم ہو جائیں گے اور قلم (لکھتے لکھتے گھس کر) ٹوٹ جائیں گے۔ ﴿ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پہلے اس کے کہ ختم ہوں میرے رب کی باتیں ‘‘ اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ مخلوق میں سے کوئی ہستی اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾(لقمان:31؍27) ’’زمین پر جتنے بھی درخت ہیں ، اگر وہ سب قلم بن جائیں ، سمندر، جیسے سات سمندر روشنائی مہیا کریں ، دوات بن جائیں تب بھی اللہ کی باتیں لکھتے لکھتے ختم نہ ہوں گی، بے شک اللہ غالب، حکمت والا ہے۔‘‘ یہ معانی کو ذہن کے قریب تر کرنے کا ایک اسلوب ہے کیونکہ یہ تمام اشیاء مخلوق ہیں اور تمام مخلوقات ختم ہونے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی جملہ صفات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی صفات غیر مخلوق ہیں جن کی کوئی حدو انتہا نہیں ۔ پس جتنی بھی عظمتیں اور وسعتیں ہیں ، جن کا تصور دلوں میں آ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب سے بڑھ کر ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی باقی صفات کامعاملہ ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی حکمت، اس کی قدرت اور اس کی رحمت … اگر زمین اور آسمان کی مخلوق میں سے تمام اولین و آخرین کے علم کو اکٹھا کر لیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم کے مقابلے میں اتنا ہی قلیل ہے جتنا ایک چڑیا کی چونچ میں وہ پانی جو وہ ایک سمندر سے لیتی ہے۔ اس قطرہ آب کو جو نسبت عظیم سمندر سے ہے، وہی نسبت عام انسانوں کی صفت کو اللہ کی عظیم صفات سے ہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ عظیم، لامحدود اور کامل صفات کا مالک ہے اور ہر چیز کی انتہا اللہ ہی کے پاس ہے۔
الكهف 18:110
(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یقینا میں تو بشر ہوں تمھاری ہی طرح، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ہے ایک ہی پس جو شخص ہے امید رکھتا ملاقات کی اپنے رب سے تو چاہیے کہ وہ عمل کرے عمل صالح اور نہ شریک ٹھہرائے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی (110)
[110]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمد (ﷺ) ان کفار سے کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ ’’میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم‘‘ یعنی میں معبود نہیں ، اقتدار الٰہی میں میرا کوئی حصہ ہے نہ میرے پاس کوئی علم عیب ہے اور نہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہی ہیں :﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ میں اپنے رب کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں ۔ ﴿ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’وحی آتی ہے مجھ پر کہ تمھارا معبود ایک معبود ہے‘‘ یعنی مجھے تم پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے اور جلیل ترین وحی یہ ہے کہ اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ تمھارا معبود ایک ہے، یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ کوئی ذرہ بھر عبادت کا مستحق ہے اور میں تمھیں ان اعمال کی دعوت دیتا ہوں جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتے ہیں اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا:﴿ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا ﴾ ’’پس جس کو امید ہو اپنے رب سے ملاقات کی، سو وہ کرے نیک عمل۔‘‘ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو واجب اور مستحب ہیں ۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘ یعنی اپنے اعمال میں ریا سے کام نہ لے بلکہ اس کے اعمال خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں ۔ یہی وہ چیز ہے جو اخلاص اور اتباع کی جامع ہے اور اسی سے مطلوب ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ اس طریقے کے سوا دیگر طریقوں کو اختیار کرنے والے لوگ اپنی دنیا و آخرت میں خائب و خاسر لوگ ہیں ۔ جو اپنے آقا و مولا کے قرب اور اس کی رضا کے حصول سے محروم ہوں گے۔