Tafsir As-Saadi - Urdu — المؤمنون 23:1 – المؤمنون 23:66
Contents
- المؤمنون 23:1
- المؤمنون 23:2
- المؤمنون 23:3
- المؤمنون 23:4
- المؤمنون 23:5
- المؤمنون 23:6
- المؤمنون 23:7
- المؤمنون 23:8
- المؤمنون 23:9
- المؤمنون 23:10
- المؤمنون 23:11
- المؤمنون 23:12
- المؤمنون 23:13
- المؤمنون 23:14
- المؤمنون 23:15
- المؤمنون 23:16
- المؤمنون 23:17
- المؤمنون 23:18
- المؤمنون 23:19
- المؤمنون 23:20
- المؤمنون 23:21
- المؤمنون 23:22
- المؤمنون 23:23
- المؤمنون 23:24
- المؤمنون 23:25
- المؤمنون 23:26
- المؤمنون 23:27
- المؤمنون 23:28
- المؤمنون 23:29
- المؤمنون 23:30
- المؤمنون 23:31
- المؤمنون 23:32
- المؤمنون 23:33
- المؤمنون 23:34
- المؤمنون 23:35
- المؤمنون 23:36
- المؤمنون 23:37
- المؤمنون 23:38
- المؤمنون 23:39
- المؤمنون 23:40
- المؤمنون 23:41
- المؤمنون 23:42
- المؤمنون 23:43
- المؤمنون 23:44
- المؤمنون 23:45
- المؤمنون 23:46
- المؤمنون 23:47
- المؤمنون 23:48
- المؤمنون 23:49
- المؤمنون 23:50
- المؤمنون 23:51
- المؤمنون 23:52
- المؤمنون 23:53
- المؤمنون 23:54
- المؤمنون 23:55
- المؤمنون 23:56
- المؤمنون 23:57
- المؤمنون 23:58
- المؤمنون 23:59
- المؤمنون 23:60
- المؤمنون 23:61
- المؤمنون 23:62
- المؤمنون 23:63
- المؤمنون 23:64
- المؤمنون 23:65
- المؤمنون 23:66
المؤمنون 23:1
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:2
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:3
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:4
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:5
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:6
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:7
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:8
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:9
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:10
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:11
یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔
[1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔
[2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔
[3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔
[4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔
[6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔
[7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں)
[8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔
[9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔
[10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾
[11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
المؤمنون 23:12
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔
[13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
[14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔
[15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔
[16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
المؤمنون 23:13
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔
[13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
[14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔
[15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔
[16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
المؤمنون 23:14
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔
[13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
[14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔
[15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔
[16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
المؤمنون 23:15
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔
[13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
[14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔
[15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔
[16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
المؤمنون 23:16
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔
[13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
[14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔
[15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔
[16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
المؤمنون 23:17
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20)
[17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔
[18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘
[19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔
[20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
المؤمنون 23:18
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20)
[17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔
[18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘
[19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔
[20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
المؤمنون 23:19
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20)
[17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔
[18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘
[19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔
[20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
المؤمنون 23:20
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20)
[17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔
[18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘
[19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔
[20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
المؤمنون 23:21
اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپایوں میں البتہ عبرت ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہےاور تمھارے لیے ان میں منافع ہیں بہت اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو (21) اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (22)
[21]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً﴾ یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے مویشيوں ، یعنی اونٹوں ، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے فوائد ہیں ۔ ﴿ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّؔمَّا فِيۡ بُطُوۡنِهَا﴾ ’’پلاتے ہیں ہم تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔‘‘ یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے ﴿ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ ﴾ یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمھارے لیے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمھارے لیے خیمے بنائے جنھیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں ) بہت ہلکا پاتے ہو۔ ﴿ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ یعنی تم ان كے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانا کھاتے ہو۔
[22]﴿ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔‘‘ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں ۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔
المؤمنون 23:22
اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپایوں میں البتہ عبرت ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہےاور تمھارے لیے ان میں منافع ہیں بہت اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو (21) اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (22)
[21]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً﴾ یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے مویشيوں ، یعنی اونٹوں ، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے فوائد ہیں ۔ ﴿ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّؔمَّا فِيۡ بُطُوۡنِهَا﴾ ’’پلاتے ہیں ہم تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔‘‘ یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے ﴿ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ ﴾ یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمھارے لیے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمھارے لیے خیمے بنائے جنھیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں ) بہت ہلکا پاتے ہو۔ ﴿ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ یعنی تم ان كے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانا کھاتے ہو۔
[22]﴿ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔‘‘ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں ۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔
المؤمنون 23:23
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:24
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:25
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:26
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:27
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:28
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:29
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:30
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
المؤمنون 23:31
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:32
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:33
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:34
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:35
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:36
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:37
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:38
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:39
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:40
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:41
پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
المؤمنون 23:42
پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44)
[43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔
[44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔
بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔
المؤمنون 23:43
پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44)
[43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔
[44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔
بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔
المؤمنون 23:44
پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44)
[43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔
[44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔
بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔
المؤمنون 23:45
پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)
[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
المؤمنون 23:46
پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)
[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
المؤمنون 23:47
پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)
[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
المؤمنون 23:48
پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)
[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
المؤمنون 23:49
پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)
[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
المؤمنون 23:50
اور بنایا ہم نے (عیسیٰ) ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک (عظیم) نشانی اور پناہ دی ہم نے ان دونوں کو طرف ایک بلند جگہ کی (جو) سکون و آرام اور جاری چشمہ والی (تھی)(50)
[50]﴿ وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰ ابن مریم (i) پر احسان کیا، ان کو اور ان کی والدہ کو انتہائی تعجب انگیز نشان بنا دیا کیونکہ حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر آپ کو جنم دیا اور حضرت عیسیٰu نے گہوارے میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات دکھائے۔ ﴿ وَّاٰوَيۡنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبۡوَةٍ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی اور یہ اس وقت کی بات ہے… واللہ اعلم … جب حضرت جناب مریم[ نے عیسیٰ u کو جنم دیا۔ ﴿ ذَاتِ قَرَارٍ ﴾ یعنی آرام دہ ٹھکانا ﴿ مَعِيۡنٍ ﴾ یعنی جاری چشمے کا پانی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ ﴾ ’’کر دی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے‘‘ یعنی اس جگہ سے بہت نیچے جہاں حضرت مریم[ نے پناہ لی تھی اور یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ آپ بلند جگہ پر تھیں ۔ ﴿ سَرِيًّا ﴾ یعنی ندی اور وہ چشمے کا بہتا ہوا پانی ہے۔ ﴿ وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّاٞ۰۰فَكُلِيۡ وَاشۡرَبِيۡ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا ﴾(مریم:19؍25،26) ’’تو کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ کھا، پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔‘‘
المؤمنون 23:51
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
المؤمنون 23:52
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
المؤمنون 23:53
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
المؤمنون 23:54
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
المؤمنون 23:55
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
المؤمنون 23:56
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
المؤمنون 23:57
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
المؤمنون 23:58
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
المؤمنون 23:59
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
المؤمنون 23:60
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
المؤمنون 23:61
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
المؤمنون 23:62
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
المؤمنون 23:63
بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71)
[63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
[65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔
[66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔
[67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔
[68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟
[70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘
[71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
المؤمنون 23:64
بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71)
[63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
[65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔
[66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔
[67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔
[68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟
[70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘
[71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
المؤمنون 23:65
بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71)
[63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
[65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔
[66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔
[67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔
[68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟
[70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘
[71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
المؤمنون 23:66
بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71)
[63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
[65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔
[66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔
[67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔
[68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟
[70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘
[71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟