Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — النور 24:1 – النور 24:42

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. النور 24:1
  2. النور 24:2
  3. النور 24:3
  4. النور 24:4
  5. النور 24:5
  6. النور 24:6
  7. النور 24:7
  8. النور 24:8
  9. النور 24:9
  10. النور 24:10
  11. النور 24:11
  12. النور 24:12
  13. النور 24:13
  14. النور 24:14
  15. النور 24:15
  16. النور 24:16
  17. النور 24:17
  18. النور 24:18
  19. النور 24:19
  20. النور 24:20
  21. النور 24:21
  22. النور 24:22
  23. النور 24:23
  24. النور 24:24
  25. النور 24:25
  26. النور 24:26
  27. النور 24:27
  28. النور 24:28
  29. النور 24:29
  30. النور 24:30
  31. النور 24:31
  32. النور 24:32
  33. النور 24:33
  34. النور 24:34
  35. النور 24:35
  36. النور 24:36
  37. النور 24:37
  38. النور 24:38
  39. النور 24:39
  40. النور 24:40
  41. النور 24:41
  42. النور 24:42

النور 24:1

(یہ) سورت ہے، نازل کیا ہے ہم نے اسے اور فرض کیا ہم نے اس کواور نازل کیں ہم نے اس میں آیتیں واضح تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (1) [1]﴿سُوۡرَةٌ ﴾ یعنی یہ عظیم القدر سورت﴿اَنۡزَلۡنٰهَا﴾ ’’ہم نے اسے (بندوں پر رحمت کے طور پر) نازل کیا‘‘ اور ہر شیطان سے اس کو محفوظ رکھا ﴿وَفَرَضۡنٰهَا ﴾ یعنی ہم نے اس میں حدود اور شہادات کا ضابطہ وغیرہ مقرر کیا ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾ اور ہم نے اس میں جلیل القدر احکام، اوامر و نواہی اور عظیم الشان حکمتیں نازل کیں ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی جس وقت ہم تمھارے سامنے یہ احکام بیان کریں اور ہم تمھیں ان امور کی تعلیم دیں جن کا تمھیں علم نہیں تھا تب شاید تم نصیحت پکڑو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ احکام بیان کرنا شروع كيے جن کی طرف گزشتہ آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:

النور 24:2

بدکار عورت اور بدکار مرد، پس تم مارو ہر ایک کو ان دونوں میں سے سو سو کوڑےاور نہ پکڑے تمھیں ان دونوں کے حق میں شفقت اللہ کے دین (پر عمل کرنے) میں اگر ہو تم ایمان رکھتے ساتھ اللہ اور دن آخرت کےاور چاہیے کہ حاضر ہو ان دونوں کی سزا کو ایک گروہ مومنوں میں سے (2) [2] آیت میں مذکور یہ حکم غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے ہے کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں ، البتہ شادی شدہ زناکار ہو تو سنت صحیحہ مشہورہ دلالت کرتی ہے کہ ان کی حد رجم (یعنی سنگسار کرنا) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ زنا کار مرد و زن پر حد جاری کرتے وقت ہم پر رحم و شفقت کا ایسا جذبہ پیدا نہ ہو کہ جو ہمیں ان پر حد قائم کرنے سے روک دے۔ خواہ یہ رحم طبعی ہو یا قرابت یا دوستی وغیرہ کی وجہ سے ہو۔ ایمان اس رحم کی نفی کا موجب ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے سے مانع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حقیقی رحمت تو زانی پر حد نافذ کرنے میں ہے۔اگر زانی پر تقدیر کا فیصلہ جاری ہونے پر ہمیں رحم آئے تو یہ اور بات ہے مگر نفاذ حد کے پہلو سے ہمیں اس پر رحم نہیں آنا چاہیے، نیز اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ زنا کاروں پر حد جاری کرتے وقت اہل ایمان کی ایک جماعت موجود ہو تاکہ حد کا نفاذ مشتہر ہو، مجرموں کی رسوائی ہو، مجرم اس گھناؤنے جرم سے باز رہیں اور لوگ بالفعل نفاذ حد کا مشاہدہ کریں کیونکہ شریعت کے احکام کے بالفعل مشاہدے سے شریعت کا علم زیادہ پختہ اور اس کا فہم راسخ ہو جاتا ہے اور مشاہدہ کرنے والا منزل صواب کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس اس میں کوئی اضافہ کیا جاتا ہے نہ کمی۔ واللہ اعلم۔

النور 24:3

بدکار مرد نہیں نکاح کرتا مگر بدکار یا مشرک عورت ہی سےاوربدکار عورت، نہیں نکاح کرتا اس سے مگر زانی یا مشرک مرد ہی اور حرام کر دیا گیا ہے یہ (زنا کاروں سے نکاح کرنا) اوپر مومنوں کے (3) [3] اس آیت کریمہ میں زنا کی رذالت اور قباحت کا بیان ہے کہ یہ فعل بد، فاعل اور اس کے ساتھ میل جول رکھنے والے لوگوں کی عزت پر ایسا دھبہ لگا دیتا ہے جو دیگر گناہوں سے نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ زانی مرد صرف زنا کار عورت ہی سے نکاح کرے۔ اس کا حال ایسی ہی عورت کے حال سے مناسبت رکھتا ہے یا مشرک عورت اس کے مناسب حال ہے جو یوم آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھتی ہے نہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرتی ہے۔اسی طرح زانیہ عورت سے صرف زانی مرد یا مشرک ہی نکاح کرے۔ ﴿ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں پر حرام ٹھہرا دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہ وہ کسی عفت مآب عورت کا زنا کار مرد کے ساتھ نکاح کریں یا عفت مآب مرد کسی زنا کار عورت کو اپنے نکاح میں لائے۔ اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ وہ مرد یا عورت جو زنا میں ملوث ہے اور اس نے اس بدکاری سے توبہ نہیں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریم کے باوجود، اس کے ساتھ نکاح کرنے والا، دو میں سے ایک امر سے خالی نہیں ۔یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام نہیں کرتا اور یہ صرف مشرک شخص کا وتیرہ ہے یا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکے حکم کا التزام کرتا ہے اور زنا کار کے زنا کا علم رکھنے کے باوجود، اس کے ساتھ عفت مآب عورت کے نکاح کا اقدام کرتا ہے تو ایسا نکاح زنا ہے اور نکاح کرنے والا زنا کا مرتکب ہے۔ اگر وہ سچا مومن ہوتا تو کبھی بھی یہ کام نہ کرتا۔ یہ آیت کریمہ زانیہ عورت کے ساتھ نکاح کی تحریم پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ اسی طرح زانی کے ساتھ نکاح کی تحریم پر دلیل ہے کیونکہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سب سے بڑی مقارنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصّٰفّٰت:37؍22) ’’وہ لوگ جو ظلم کرتے تھے، ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی ان کے جلیسوں کو۔ چونکہ اس میں بہت بڑا شر ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو حرام ٹھہرا دیا ہے۔ اس سے غیرت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ خاوند کے ساتھ ایسی اولاد کا الحاق ہوتا ہے جو درحقیقت اس کی نہیں ۔ نیز وہ دوسری عورتوں کے ساتھ مشغول ہونے کے سبب عفت سے محروم رہتا ہے۔ یہ آیت کریمہ صریحاً دلالت کرتی ہے کہ زنا کار مومن نہیں ہوتا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جب زانی زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا …۔، ،(صحیح البخاري، المظالم، باب النہي بغیر اذن صاحبہ، ح: 2475 و صحیح مسلم، الإیمان، باب بیان نقصان الإیمان بالمعاصی…، ح:100) پس وہ اگرچہ مشرک بھی نہیں ہوتا تاہم وہ اسم مدح سے موسوم نہیں ہوتا جو کہ ایمان مطلق ہے۔

النور 24:4

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر، پھر نہیں لاتے وہ چار گواہ، پس تم مارو انھیں اَسّی کوڑے اور نہ قبول کرو تم ان کی شہادت (گواہی) کبھی بھی اور یہ لوگ ، وہی ہیں فاسق (4) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور اصلاح کر لی، پس بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (5) [4] چونکہ کوڑوں کی سزا کے وجوب کی وجہ سے زانی کے معاملہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے، نیز اگر وہ شادی شدہ ہے تو رجم بہت بڑا معاملہ ہے اسی طرح زانی کے ساتھ ہم نشینی اور اس سے اختلاط، کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں ، جس سے بندہ شر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عزت و ناموس پر زنا کی تہمت لگانے کو بہت بڑا اقدام قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو پاک باز عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ‘‘ اسی طرح پاک باز مردوں پر بہتان طرازی کرتے ہیں ۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ یہاں بہتان سے مراد، سیاق کے اعتبار سے زنا کا الزام لگانا ہے۔ ﴿ ثُمَّ لَمۡ يَاۡتُوۡا ﴾ ’’پھر نہ پیش کر سکیں وہ‘‘ یعنی اس پر جو انھوں نے بہتان لگایا ﴿ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’ چار گواہ‘‘ یعنی چار عادل مرد، جو نہایت صراحت کے ساتھ زنا کی گواہی دیں ۔ ﴿فَاجۡلِدُوۡهُمۡ ثَمٰنِيۡنَ جَلۡدَةً ﴾ ’’تو انھیں (ایک متوسط کوڑے کے ساتھ) اَسی (۸۰)کوڑے مارو‘‘ جن سے بہتان لگانے والے کو تکلیف پہنچے مگر کوڑے کی سختی اتنی زیادہ نہ ہو جس سے اس کی جان چلی جائے کیونکہ کوڑے لگانے سے مقصود تادیب ہے نہ کہ جان لینا۔ اس آیت کریمہ میں بہتان لگانے کی حد کا تعین ہے، البتہ یہ حد اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جس پر بہتان لگایا گیا ہے وہ مومن اور پاک دامن ہو اور اگر وہ پاک دامن نہ ہو تو بہتان لگانے والے پر حد نہیں لگائی جائے گی یہ چیز صرف تعزیر کی موجب ہے۔﴿ وَّلَا تَقۡبَلُوۡا لَهُمۡ شَهَادَةً اَبَدًا﴾ یہ ایک اور سزا ہے یعنی بہتان طرازی کرنے والے کی گواہی قابل قبول نہیں خواہ اس پر قذف کی حد جاری کیوں نہ کر دی گئی ہو۔ جب تک کہ وہ بہتان طرازی سے توبہ نہ کرے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آئے گا۔﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے والے ہیں ‘‘ اور جن کا شر بہت زیادہ ہے۔ یہ سزا اس لیے دی گئی ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کیا اور اپنے بھائی کی ہتک عزت کی اور لوگوں کو اس کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنانے کا موقع فراہم کیا اور اس قذف کے ذریعے سے وہ اس اخوت کو زائل کرنے کا باعث بنا جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مابین قائم کی تھی اور اس نے چاہا کہ اہل ایمان میں فواحش پھیل جائیں ۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قذف گناہ کبیرہ ہے۔ [5]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ وَاَصۡلَحُوۡا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بہتان طرازی کرنے والا خود اپنی تکذیب کرے یعنی وہ اس بات کا اقرار کرے کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا تھا اپنی تکذیب کرنا اس پر واجب ہے اگرچہ اس کو زنا کے وقوع کا یقین ہو مگر وہ چار گواہ مہیا نہ کر سکے تب بھی اس الزام کی تردید کرنا اس پر واجب ہے۔ اگر بہتان طرازی کرنے والا توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر لے اور برائی کی بجائے بھلائی کو وتیرہ بنا لے تو اس کا فسق زائل ہو جائے گا اور صحیح مذہب ہے کہ اس کی شہادت بھی قابل قبول ہے کیونکہ جو کوئی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔بہتان لگانے والے کو اس صورت میں کوڑے مارے جائیں گے جب وہ چارگواہ مہیا نہ کر سکے اور جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی نہ ہو۔ اگر جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کا ذکر اس طرح کیا ہے۔ بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں شوہر کی چار گواہیاں اسے قذف کی حد سے بچا سکتی ہیں کیونکہ غالب حالات میں شوہر بیوی پر زنا کا بہتان نہیں لگاتا جس سے اس کی بیوی کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی شخصیت بھی عیب دار ہوتی ہے سوائے اس صورت میں کہ جب وہ الزام لگانے میں سچا ہو۔نیز شوہر کا اس بارے میں حق ہے اور اسے اس بات کا بھی خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسی اولاد کا اس سے الحاق نہ ہو جائے جو اس کی نہیں ہے، نیز اس میں بعض دیگر حکمتیں بھی ہیں جو دوسرے احکام میں موجود نہیں ہیں ۔

النور 24:5

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر، پھر نہیں لاتے وہ چار گواہ، پس تم مارو انھیں اَسّی کوڑے اور نہ قبول کرو تم ان کی شہادت (گواہی) کبھی بھی اور یہ لوگ ، وہی ہیں فاسق (4) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور اصلاح کر لی، پس بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (5) [4] چونکہ کوڑوں کی سزا کے وجوب کی وجہ سے زانی کے معاملہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے، نیز اگر وہ شادی شدہ ہے تو رجم بہت بڑا معاملہ ہے اسی طرح زانی کے ساتھ ہم نشینی اور اس سے اختلاط، کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں ، جس سے بندہ شر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عزت و ناموس پر زنا کی تہمت لگانے کو بہت بڑا اقدام قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو پاک باز عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ‘‘ اسی طرح پاک باز مردوں پر بہتان طرازی کرتے ہیں ۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ یہاں بہتان سے مراد، سیاق کے اعتبار سے زنا کا الزام لگانا ہے۔ ﴿ ثُمَّ لَمۡ يَاۡتُوۡا ﴾ ’’پھر نہ پیش کر سکیں وہ‘‘ یعنی اس پر جو انھوں نے بہتان لگایا ﴿ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’ چار گواہ‘‘ یعنی چار عادل مرد، جو نہایت صراحت کے ساتھ زنا کی گواہی دیں ۔ ﴿فَاجۡلِدُوۡهُمۡ ثَمٰنِيۡنَ جَلۡدَةً ﴾ ’’تو انھیں (ایک متوسط کوڑے کے ساتھ) اَسی (۸۰)کوڑے مارو‘‘ جن سے بہتان لگانے والے کو تکلیف پہنچے مگر کوڑے کی سختی اتنی زیادہ نہ ہو جس سے اس کی جان چلی جائے کیونکہ کوڑے لگانے سے مقصود تادیب ہے نہ کہ جان لینا۔ اس آیت کریمہ میں بہتان لگانے کی حد کا تعین ہے، البتہ یہ حد اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جس پر بہتان لگایا گیا ہے وہ مومن اور پاک دامن ہو اور اگر وہ پاک دامن نہ ہو تو بہتان لگانے والے پر حد نہیں لگائی جائے گی یہ چیز صرف تعزیر کی موجب ہے۔﴿ وَّلَا تَقۡبَلُوۡا لَهُمۡ شَهَادَةً اَبَدًا﴾ یہ ایک اور سزا ہے یعنی بہتان طرازی کرنے والے کی گواہی قابل قبول نہیں خواہ اس پر قذف کی حد جاری کیوں نہ کر دی گئی ہو۔ جب تک کہ وہ بہتان طرازی سے توبہ نہ کرے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آئے گا۔﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے والے ہیں ‘‘ اور جن کا شر بہت زیادہ ہے۔ یہ سزا اس لیے دی گئی ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کیا اور اپنے بھائی کی ہتک عزت کی اور لوگوں کو اس کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنانے کا موقع فراہم کیا اور اس قذف کے ذریعے سے وہ اس اخوت کو زائل کرنے کا باعث بنا جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مابین قائم کی تھی اور اس نے چاہا کہ اہل ایمان میں فواحش پھیل جائیں ۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قذف گناہ کبیرہ ہے۔ [5]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ وَاَصۡلَحُوۡا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بہتان طرازی کرنے والا خود اپنی تکذیب کرے یعنی وہ اس بات کا اقرار کرے کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا تھا اپنی تکذیب کرنا اس پر واجب ہے اگرچہ اس کو زنا کے وقوع کا یقین ہو مگر وہ چار گواہ مہیا نہ کر سکے تب بھی اس الزام کی تردید کرنا اس پر واجب ہے۔ اگر بہتان طرازی کرنے والا توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر لے اور برائی کی بجائے بھلائی کو وتیرہ بنا لے تو اس کا فسق زائل ہو جائے گا اور صحیح مذہب ہے کہ اس کی شہادت بھی قابل قبول ہے کیونکہ جو کوئی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔بہتان لگانے والے کو اس صورت میں کوڑے مارے جائیں گے جب وہ چارگواہ مہیا نہ کر سکے اور جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی نہ ہو۔ اگر جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کا ذکر اس طرح کیا ہے۔ بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں شوہر کی چار گواہیاں اسے قذف کی حد سے بچا سکتی ہیں کیونکہ غالب حالات میں شوہر بیوی پر زنا کا بہتان نہیں لگاتا جس سے اس کی بیوی کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی شخصیت بھی عیب دار ہوتی ہے سوائے اس صورت میں کہ جب وہ الزام لگانے میں سچا ہو۔نیز شوہر کا اس بارے میں حق ہے اور اسے اس بات کا بھی خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسی اولاد کا اس سے الحاق نہ ہو جائے جو اس کی نہیں ہے، نیز اس میں بعض دیگر حکمتیں بھی ہیں جو دوسرے احکام میں موجود نہیں ہیں ۔

النور 24:6

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10) [7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔ [9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔ [10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔ چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔

النور 24:7

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10) [7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔ [9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔ [10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔ چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔

النور 24:8

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10) [7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔ [9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔ [10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔ چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔

النور 24:9

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10) [7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔ [9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔ [10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔ چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔

النور 24:10

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10) [7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔ [9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔ [10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔ چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔

النور 24:11

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:12

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:13

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:14

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:15

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:16

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:17

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:18

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:19

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:20

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:21

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:22

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:23

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:24

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:25

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:26

بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ [13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔ [14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ [15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ [16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘ [17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ [18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ [19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔ [20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔ [21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘ [22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ [23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔ [24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ [25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ [26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

النور 24:27

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم (اور) گھروں میں سوائے اپنے گھروں کے حتی کہ تم اجازت لے لواور سلام کرو اوپر ان گھر والوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (27)پس اگر نہ پاؤ تم ان میں کسی کو تو نہ داخل ہو تم ان میں حتی کہ اجازت دی جائے تمھیں اور اگر کہا جائے تمھیں ، لوٹ جاؤ تم تو لوٹ جاؤ تم، یہ (واپسی) بہت پاکیزہ ہے تمھارے لیےاور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے (28) نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ داخل ہو تم ایسے گھروں میں کہ نہیں سکونت کی جاتی ان میں ،ان میں منفعت (فائدہ) ہے تمھارے لیے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو (29) [27]اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں:(۱) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر، ح:6241 و صحیح مسلم، الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، ح:2156)اجازت طلبی میں خلل واقع ہو جانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔(۲) اجازت طلب كيے بغیر گھر میں داخل ہونا، داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب نہ کر لیں ۔ یہاں (استئذان) کو (استئناس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَتُسَلِّمُوۡا عَلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو۔‘‘ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ’’ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ! اور پھر پوچھو، کیا میں اندر آجاؤں ؟‘‘(سنن ابی داود، الأدب، باب کیف الاستئذان، ح:5177)﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی﴿ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنانا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔ [28]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَكُمۡ١ۚ وَاِنۡ قِيۡلَ لَكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ﴾ ’’اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر بھی اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ اور اگر تمھیں لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تمھیں واپس لوٹنے کے لیے کہا جائے تو انکار نہ کرو اور نہ اس پر ناراضی ہی کا اظہار کرو کیونکہ صاحب خانہ نے تمھیں کسی ایسے امر سے نہیں روکا جو تمھارا حق واجب ہو یہ تو اس کی صوابدید اور نوازش ہے چاہے اجازت دے، چاہے انکار کر دے۔ تم میں سے کسی کو ہتک اور انقباض محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ﴿ هُوَ اَزۡكٰى لَكُمۡ ﴾ تمھیں برائیوں سے پاک کرنے اور تمھاری نیکیوں میں اضافہ کرنے کے لیے یہ طریق کار تمھارے لیے بہتر ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے تھوڑے یا زیادہ، اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [29] یہ حکم ان گھروں کے لیے ہے جو آباد ہیں خواہ ان میں آدمی کا مال ومتاع موجود ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ حکم ان گھروں کے لیے بھی ہے جن میں رہائش نہ ہو مگر اس میں آدمی کا کوئی مال و متاع موجود ہو۔رہے وہ گھر جن میں گھر والے رہائش نہ رکھے ہوئے ہوں اس گھر میں داخل ہونے کے ضرورت مند شخص کا مال و متاع اس گھر میں موجود ہو، اس گھر میں گھر کے مالکان میں سے کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جس سے اجازت طلب کی جا سکتی ہو ، مثلاً: کرائے کے مکانات وغیرہ… تو ایسے گھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ ﴾ ان گھروں میں داخل ہونے میں تمھارے لیے کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا گھروں میں اجازت حاصل كيے بغیر داخل ہونا حرام ہے اور اس میں حرج اور گناہ ہے۔﴿ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ مَسۡكُوۡنَةٍ فِيۡهَا مَتَاعٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ ایسے گھروں میں تم داخل ہو جن میں رہائش نہ ہو، البتہ اس میں تمھارا سامان ہو۔‘‘ یہ حکم قرآن کریم کے تعجب انگیز احترازات میں سے ایک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اپنے گھروں کے سوا، دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو۔‘‘ ہر گھر کے بارے میں لفظ عام ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں سے ان گھروں کو خارج کر دیا جو اس کی ملکیت میں تو نہیں ہیں البتہ اس کی کوئی متاع وہاں موجود ہے اور اس گھر میں کسی کی رہائش نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں داخل ہونے میں حرج کو ساقط کر دیا۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ تمھارے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے تمھارے مصالح کا بھی علم ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام کی تشریع کی ہے جن کے تم محتاج اور ضرورت مند ہو۔

النور 24:28

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم (اور) گھروں میں سوائے اپنے گھروں کے حتی کہ تم اجازت لے لواور سلام کرو اوپر ان گھر والوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (27)پس اگر نہ پاؤ تم ان میں کسی کو تو نہ داخل ہو تم ان میں حتی کہ اجازت دی جائے تمھیں اور اگر کہا جائے تمھیں ، لوٹ جاؤ تم تو لوٹ جاؤ تم، یہ (واپسی) بہت پاکیزہ ہے تمھارے لیےاور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے (28) نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ داخل ہو تم ایسے گھروں میں کہ نہیں سکونت کی جاتی ان میں ،ان میں منفعت (فائدہ) ہے تمھارے لیے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو (29) [27]اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں:(۱) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر، ح:6241 و صحیح مسلم، الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، ح:2156)اجازت طلبی میں خلل واقع ہو جانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔(۲) اجازت طلب كيے بغیر گھر میں داخل ہونا، داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب نہ کر لیں ۔ یہاں (استئذان) کو (استئناس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَتُسَلِّمُوۡا عَلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو۔‘‘ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ’’ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ! اور پھر پوچھو، کیا میں اندر آجاؤں ؟‘‘(سنن ابی داود، الأدب، باب کیف الاستئذان، ح:5177)﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی﴿ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنانا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔ [28]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَكُمۡ١ۚ وَاِنۡ قِيۡلَ لَكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ﴾ ’’اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر بھی اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ اور اگر تمھیں لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تمھیں واپس لوٹنے کے لیے کہا جائے تو انکار نہ کرو اور نہ اس پر ناراضی ہی کا اظہار کرو کیونکہ صاحب خانہ نے تمھیں کسی ایسے امر سے نہیں روکا جو تمھارا حق واجب ہو یہ تو اس کی صوابدید اور نوازش ہے چاہے اجازت دے، چاہے انکار کر دے۔ تم میں سے کسی کو ہتک اور انقباض محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ﴿ هُوَ اَزۡكٰى لَكُمۡ ﴾ تمھیں برائیوں سے پاک کرنے اور تمھاری نیکیوں میں اضافہ کرنے کے لیے یہ طریق کار تمھارے لیے بہتر ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے تھوڑے یا زیادہ، اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [29] یہ حکم ان گھروں کے لیے ہے جو آباد ہیں خواہ ان میں آدمی کا مال ومتاع موجود ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ حکم ان گھروں کے لیے بھی ہے جن میں رہائش نہ ہو مگر اس میں آدمی کا کوئی مال و متاع موجود ہو۔رہے وہ گھر جن میں گھر والے رہائش نہ رکھے ہوئے ہوں اس گھر میں داخل ہونے کے ضرورت مند شخص کا مال و متاع اس گھر میں موجود ہو، اس گھر میں گھر کے مالکان میں سے کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جس سے اجازت طلب کی جا سکتی ہو ، مثلاً: کرائے کے مکانات وغیرہ… تو ایسے گھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ ﴾ ان گھروں میں داخل ہونے میں تمھارے لیے کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا گھروں میں اجازت حاصل كيے بغیر داخل ہونا حرام ہے اور اس میں حرج اور گناہ ہے۔﴿ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ مَسۡكُوۡنَةٍ فِيۡهَا مَتَاعٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ ایسے گھروں میں تم داخل ہو جن میں رہائش نہ ہو، البتہ اس میں تمھارا سامان ہو۔‘‘ یہ حکم قرآن کریم کے تعجب انگیز احترازات میں سے ایک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اپنے گھروں کے سوا، دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو۔‘‘ ہر گھر کے بارے میں لفظ عام ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں سے ان گھروں کو خارج کر دیا جو اس کی ملکیت میں تو نہیں ہیں البتہ اس کی کوئی متاع وہاں موجود ہے اور اس گھر میں کسی کی رہائش نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں داخل ہونے میں حرج کو ساقط کر دیا۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ تمھارے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے تمھارے مصالح کا بھی علم ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام کی تشریع کی ہے جن کے تم محتاج اور ضرورت مند ہو۔

النور 24:29

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم (اور) گھروں میں سوائے اپنے گھروں کے حتی کہ تم اجازت لے لواور سلام کرو اوپر ان گھر والوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (27)پس اگر نہ پاؤ تم ان میں کسی کو تو نہ داخل ہو تم ان میں حتی کہ اجازت دی جائے تمھیں اور اگر کہا جائے تمھیں ، لوٹ جاؤ تم تو لوٹ جاؤ تم، یہ (واپسی) بہت پاکیزہ ہے تمھارے لیےاور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے (28) نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ داخل ہو تم ایسے گھروں میں کہ نہیں سکونت کی جاتی ان میں ،ان میں منفعت (فائدہ) ہے تمھارے لیے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو (29) [27]اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں:(۱) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر، ح:6241 و صحیح مسلم، الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، ح:2156)اجازت طلبی میں خلل واقع ہو جانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔(۲) اجازت طلب كيے بغیر گھر میں داخل ہونا، داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب نہ کر لیں ۔ یہاں (استئذان) کو (استئناس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَتُسَلِّمُوۡا عَلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو۔‘‘ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ’’ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ! اور پھر پوچھو، کیا میں اندر آجاؤں ؟‘‘(سنن ابی داود، الأدب، باب کیف الاستئذان، ح:5177)﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی﴿ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنانا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔ [28]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَكُمۡ١ۚ وَاِنۡ قِيۡلَ لَكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ﴾ ’’اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر بھی اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ اور اگر تمھیں لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تمھیں واپس لوٹنے کے لیے کہا جائے تو انکار نہ کرو اور نہ اس پر ناراضی ہی کا اظہار کرو کیونکہ صاحب خانہ نے تمھیں کسی ایسے امر سے نہیں روکا جو تمھارا حق واجب ہو یہ تو اس کی صوابدید اور نوازش ہے چاہے اجازت دے، چاہے انکار کر دے۔ تم میں سے کسی کو ہتک اور انقباض محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ﴿ هُوَ اَزۡكٰى لَكُمۡ ﴾ تمھیں برائیوں سے پاک کرنے اور تمھاری نیکیوں میں اضافہ کرنے کے لیے یہ طریق کار تمھارے لیے بہتر ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے تھوڑے یا زیادہ، اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ [29] یہ حکم ان گھروں کے لیے ہے جو آباد ہیں خواہ ان میں آدمی کا مال ومتاع موجود ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ حکم ان گھروں کے لیے بھی ہے جن میں رہائش نہ ہو مگر اس میں آدمی کا کوئی مال و متاع موجود ہو۔رہے وہ گھر جن میں گھر والے رہائش نہ رکھے ہوئے ہوں اس گھر میں داخل ہونے کے ضرورت مند شخص کا مال و متاع اس گھر میں موجود ہو، اس گھر میں گھر کے مالکان میں سے کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جس سے اجازت طلب کی جا سکتی ہو ، مثلاً: کرائے کے مکانات وغیرہ… تو ایسے گھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ ﴾ ان گھروں میں داخل ہونے میں تمھارے لیے کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا گھروں میں اجازت حاصل كيے بغیر داخل ہونا حرام ہے اور اس میں حرج اور گناہ ہے۔﴿ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ مَسۡكُوۡنَةٍ فِيۡهَا مَتَاعٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ ایسے گھروں میں تم داخل ہو جن میں رہائش نہ ہو، البتہ اس میں تمھارا سامان ہو۔‘‘ یہ حکم قرآن کریم کے تعجب انگیز احترازات میں سے ایک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اپنے گھروں کے سوا، دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو۔‘‘ ہر گھر کے بارے میں لفظ عام ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں سے ان گھروں کو خارج کر دیا جو اس کی ملکیت میں تو نہیں ہیں البتہ اس کی کوئی متاع وہاں موجود ہے اور اس گھر میں کسی کی رہائش نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں داخل ہونے میں حرج کو ساقط کر دیا۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ تمھارے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے تمھارے مصالح کا بھی علم ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام کی تشریع کی ہے جن کے تم محتاج اور ضرورت مند ہو۔

النور 24:30

آپ کہہ دیجیے مومن مردوں سے، پست رکھیں وہ اپنی نگاہیں اور حفاظت کریں اپنی شرم گاہوں کی یہ بہت پاکیزہ ہے ان کے لیے، بلاشبہ اللہ خوب خبر دار ہے ساتھ ان (کاموں ) کے جو وہ کرتے ہیں (30) [30]﴿ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ مومنوں سے فرمائیے اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جن کے پاس کچھ ایمان ہے جو انھیں ایسے امور میں پڑنے سے روکتا ہے جو ایمان میں خلل ڈالتے ہیں ۔ ﴿ يَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ ﴾’’وہ اپنی نظروں کو پست رکھیں ۔‘‘ یعنی قابل ستر اور اجنبی عورتوں کی طرف سے اپنی نظروں کو ہٹا لیا کریں ، ان بے ریش لڑکوں پر سے بھی نظر ہٹا لیں جن کو دیکھنے سے فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو، نیز دنیا کی زیب و زینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو اور جو حرام میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔﴿ وَيَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَهُمۡ﴾ یعنی عورتوں یا مردوں کے ساتھ بدکاری یا ان کے علاوہ دوسری صورتوں سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ اسی طرح ان کو چھونے اور ان کو دیکھنے سے بچیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ آنکھوں اور شرم گاہ کی یہ حفاظت﴿ اَزۡكٰى لَهُمۡ﴾ ان کے لیے زیادہ طہارت، پاکیزگی اور ان کے اعمال خیر میں زیادہ اضافے کا باعث ہے کیونکہ جو کوئی اپنی نظر اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے وہ اس گندگی سے پاک ہو جاتا ہے جس میں فواحش کے مرتکب لوگ ملوث ہوتے ہیں اور ان محرمات کو ترک کرنے سے، نفس جن کی خواہش کرتا اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، اعمال خیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔ جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام پر پڑنے سے بچائے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی بصیرت کو روشن کر دیتا ہے… نیز اگر بندہ اپنی شرم گاہ اور نظر کو حرام اور اس کے مقدمات میں پڑنے سے بچا سکتا ہے درآں حالیکہ شہوت کا داعیہ پوری طرح موجود ہو تو وہ دوسرے حرام میں پڑنے سے اپنے آپ کو زیادہ بچا سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ’’حفاظت‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پس کسی محفوظ چیز کی حفاظت کے لیے نگرانی اور ان اسباب کو بروئے کار نہ لایا جائے جو اس کی حفاظت کے موجب بنیں تو وہ چیز محفوظ نہیں رہ سکتی۔اسی طرح نظر اور شرم گاہ کا معاملہ ہے، اگر بندہ ان کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتا تو وہ ان کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈال دیتی ہیں ۔ علاوہ ازیں غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے کیسے شرم گاہ کی حفاظت کا مطلق طور پر حکم دیا ہے کیونکہ شرم گاہ (کا غلط استعمال) کسی حالت میں بھی جائز نہیں ۔ لیکن نظر کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ ﴾ حرف جار (مِنْ) تبعیض پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بعض حالات میں ، کسی ضرورت کے تحت غیر محرم چہروں کو دیکھنا جائز ہے، مثلاً: گواہ، حاکم اور نکاح کا پیغام دینے والے کے لیے غیر محرم چہروں پر نظر ڈالنا جائز ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے کئی اعمال کا ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگ محرمات سے اپنے نفسوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں ۔

النور 24:31

او رآپ کہہ دیجیے مومن عورتوں سے، پست رکھیں وہ اپنی نظریں اور حفاظت کریں وہ اپنی شرم گاہوں کی اور نہ ظاہر کریں وہ اپنا بناؤ سنگھار مگر جو ظاہر ہو اس میں سے اورچاہیے کہ ڈالے رہیں وہ اپنی اوڑھنیاں اوپر اپنے گریبانوں کے اور نہ ظاہر کریں وہ اپنا بناؤ سنگھار مگر اپنے خاوندوں کے لیے یااپنے باپ دادا کے لیے یا باپ داداکے لیے اپنے خاوندوں کے یا اپنے بیٹوں کے لیے یا بیٹوں کے لیے اپنے شوہروں کے یا اپنے بھائیوں کے لیے یا بیٹوں کے لیے اپنے بھائیوں کے یا بیٹوں کے لیے اپنی بہنوں کے یا اپنی (مسلمان) عورتوں کے لیے یا ان کے جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ یا ان نوکروں چاکروں کے لیے جو نہیں حاجت مند عورتوں کے ، مردوں میں سے یا ان لڑکوں کے لیے جو نہیں واقف اوپر چھپی باتوں کے عورتوں کی اور نہ ماریں وہ (عورتیں ) پاؤں اپنے (زمین پر) تاکہ جانا جائے وہ جو چھپاتی ہیں وہ اپنے بناؤ سنگھار سے اور توبہ کرو تم طرف اللہ کی سارے ہی، اے مومنو! تاکہ تم فلاح پاؤ (31) [31] اللہ تعالیٰ نے مومنین کو نظریں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تو مومنات کو بھی نظر جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ ﴾ ’’اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے! کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔‘‘ یعنی وہ ستر کی جگہوں اور مردوں پر شہوت کی نظر ڈالنے سے اپنی آنکھوں کو بچائے رکھیں ﴿ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ ﴾اور جماع حرام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ، نیز شرم گاہوں کو چھونے اور ان کی طرف حرام نظر سے ان کی حفاظت کریں ۔﴿ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ ﴾ ’’اور اپنی زیب وزینت کی نمائش نہ کریں ‘‘مثلاً: خوبصورت لباس، زیورات اور تمام بدن زینت میں شمار ہوتے ہیں ۔ چونکہ ظاہری لباس جس کو عادت کے مطابق پہنا جاتا ہے، کی نمائش کو نہیں روکا جا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا ﴾ ’’مگر جو اس (زینت)سے ظاہر ہو۔‘‘ یعنی وہ ظاہری لباس، جو عام طور پر پہنا جاتا ہے، اس لباس میں ایسی کوئی چیز نہ ہو جو فتنہ کو دعوت دیتی ہو۔﴿ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ﴾ ’’اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ۔‘‘ اور یہ حکم کامل سترپوشی کے لیے ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہ زینت جس کی نمائش حرام ہے اس میں تمام بدن داخل ہے جیسا کہ ہم اس کا ذکر کر چکے ہیں ، پھر زیب و زینت کی نمائش سے مکرر منع کرتے ہوئے اس میں سے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا:﴿ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ یعنی اپنے شوہروں کے سامنے زینت کا اظہار جائز ہے۔ ﴿ اَوۡ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ ’’یا ان کے اپنے باپ دادا یا ان کے شوہروں کے باپ دادا کے سوا‘‘ یعنی اس استثناء میں باپ دادا اوپر تک شامل ہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَبۡنَآىِٕهِنَّ۠ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ اور اس میں اپنے بیٹے، اپنے خاوندوں کے بیٹے اور پوتے اور پرپوتے بھی، نیچے تک شامل ہیں ۔ ﴿ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِيۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ ﴾ ’’یا بھائی یا بھتیجے‘‘ خواہ وہ حقیقی (عینی)، علاتی (با پ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) بھائی ہوں ۔ ﴿ اَوۡ بَنِيۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآىِٕهِنَّ ﴾’’یا بھانجے یا ان کی عورتیں ۔‘‘ یعنی مسلمان عورتوں کے لیے ایک دوسری پر نظر ڈالنا مطلقاً جائز ہے۔ اس میں اس امر کا احتمال بھی ہے کہ اضافت جنسیت کی مقتضی ہو، یعنی اپنی ’’عورتوں ‘‘ سے مراد مسلمان عورتیں ہیں جو تمھاری جنس سے تعلق رکھتی ہیں تب اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل ہے جن کا موقف ہے کہ مسلمان عورت کی طرف ذمی عورت کا دیکھنا جائز نہیں ۔﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ ﴾ ’’یا جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے۔‘‘ یعنی اس غلام کے لیے جو گھر میں صرف خواتین کی خدمت کے لیے مامور ہے، اپنی مالکن کو اس وقت تک دیکھنا جائزہے جب تک کہ مکمل طور پر اس کی ملکیت میں ہے جب ملکیت مکمل طور پر یا جزوی طور پر زائل ہو جائے تو مالکن پر نظر ڈالنا جائز نہیں ۔ ﴿ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِي الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ ﴾ یعنی وہ مرد جو تمھارے زیردست ہیں اور تمھارے ساتھ ان کا تعلق ہے جو کسی قسم کی شہوانی اغراض نہ رکھتے ہوں ، مثلاً:ناقص العقل لوگ، جو شہوانی شعور نہیں رکھتے اور وہ لوگ جن میں عورتوں کے پاس جانے کی خواہش باقی نہ رہے، ان کی شرمگاہ میں شہوت ہو نہ ان کے دل میں خواہش۔ ایسے شخص کے لیے نظر ڈالنا جائز ہے۔﴿ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ﴾ یعنی وہ بچے جو اس قسم کی تمیز نہیں رکھتے ان کے لیے غیر عورتوں کو دیکھنا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں نہ اس کا علم رکھتے ہیں اور نہ ان میں شہوت پائی جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایسے بچوں سے پردہ کرنا فرض ہے جو سن تمیز کو پہنچ چکے ہوں کیونکہ اب وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں ۔ ﴿ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ﴾ یعنی وہ زمین پر پاؤں مار کر نہ چلیں تاکہ ان کے پہنے ہوئے زیورات ، مثلاً: پازیب وغیرہ کی آواز نہ آئے اور اس سبب سے اس کی زینت ظاہر نہ ہو جو فتنے کا وسیلہ بن سکے۔اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے ’’سدذرائع‘‘ کے فقہی قاعدے کا استنباط کیا جاتا ہے، یعنی کوئی امر، اگرچہ وہ فی نفسہٖ مباح ہے مگر اس پر عمل کرنے سے کسی حرام امر کا ارتکاب ہوتا ہے یا اس کا خدشہ ہے تو سدذریعہ کے طور پر یہ مباح امر ممنوع ہو جائے گا… زمین پر پاؤں مارنا فی نفسہ مباح ہے لیکن چونکہ یہ اظہار زینت کا ذریعہ ہے، اس لیے پاؤں مار کر چلنے سے روک دیا گیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین احکام کا حکم دیا ہے اور بہترین وصیتیں عنایت فرمائی ہیں ۔ ان پر عمل کرنے میں بندۂ مومن سے کوتاہی واقع ہونا ایک لابدی امر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمام مومنو! اللہ کے ہاں توبہ کرو‘‘ یہ حکم دینے کے بعد فلاح کو اس پر معلق رکھا، چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم کامیابی حاصل کرو‘‘ اور توبہ کیا ہے؟ ان کاموں کو ظاہری اور باطنی طور پر ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ، ان امور کی طرف لوٹنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن توبہ کا محتاج ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے، نیز اس آیت میں خالص توبہ کی ترغیب دی گئی ہے۔﴿وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ آفات دنیا، ریا اور شہرت وغیرہ جیسے فاسد مقاصد سے محفوظ ہو۔

النور 24:32

اور نکاح کروتم بے نکاحوں کا اپنے میں سے اور (ان کا بھی) جو نیک ہیں تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے اگر ہوں گے وہ فقیر تو غنی کر دے گا انھیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والا خوب جاننے والا ہے (32)اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ لوگ جو نہیں پاتے (طاقت) نکاح کی حتی کہ غنی کر دے انھیں اللہ اپنے فضل سےاور وہ لوگ جو چاہتے ہیں مکاتیب (آزادی کی تحریم لکھانا) ان لوگوں میں سے کہ مالک ہیں (ان کے) تمھارے دائیں ہاتھ تو تم لکھ کر دے دو ان کو اگر معلوم کرو تم ان میں بھلائی اور دو تم ان کو اللہ کے (دیے ہوئے) اس مال میں سے وہ جو اس نے دیا ہے تمھیں اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو اوپر بدکاری کرنے کے، اگر وہ چاہیں بچناتاکہ تلاش کرو تم سامان زندگانیٔ دنیا کا اور جو کوئی مجبور کرے گا انھیں تو بلاشبہ اللہ بعد ان کے مجبور کیے جانے کے، بہت بخشنے والا ، نہایت رحم کرنے والا ہے (33) [32] اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں ۔ (ایامی)سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردوزن، لہٰذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردوزن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ، یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست ہیں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولیٰ ہے۔﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآىِٕكُمۡ﴾’’اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہیں جو دینی اعتبار سے صالح ہوں کیونکہ لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دینی اعتبار سے صالح ہیں ، وہی لوگ ہیں جو بدکار اور زانی نہیں ہوتے، ان کا آقا اس بات پر مامور ہے کہ وہ ان کا نکاح کرے، یہ ان کی صالحیت کی جزا اور اس کی ترغیب ہے، نیز زناکار کا نکاح کرنے سے روکا گیا ہے تب یہ اس حکم کی تائید ہے جس کا ذکر سورت کی ابتداء میں کیا گیا ہے کہ زانی اور زانیہ جب تک توبہ نہ کریں ، ان کا نکاح حرام ہے… اور آزاد مرد و زن کی بجائے غلاموں کے نکاح کے لیے صالحیت کی تخصیص اس لیے ہے کہ عادۃً غلاموں میں فسق و فجور زیادہ ہوتا ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہوں جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے محتاج ہوں ۔ اس معنی کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ جب تک مملوک نکاح کا حاجت مند نہ ہو اس کا مالک اس کا نکاح کرنے پر مامور نہیں … اور یہ بھی کوئی بعید بات نہیں کہ اس سے دونوں ہی معنی مراد ہوں ۔ واللہ اعلم۔﴿ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اگر ہوں گے وہ تنگ دست۔‘‘ یعنی خاوند اور نکاح کرنے والے ﴿ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’تو غنی کر دے گا اللہ ان کو اپنے فضل سے۔‘‘ پس تمھیں یہ وہم نکاح کرنے سے نہ روک دے کہ جب تم نکاح کر لو گے تو عائلی بوجھ کی وجہ سے محتاج ہو جاؤ گے۔ اس آیت کریمہ میں نکاح کی ترغیب ہے، نیز نکاح کرنے والے سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے فقر کے بعد فراخی اور خوش حالی حاصل ہو گی۔﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بھلائی اور فضل عظیم کا مالک ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ وہ ان سب کو جانتا ہے جو اس کے دینی اور دنیاوی فضل یا کسی ایک کے مستحق ہیں اور وہ انھیں بھی جانتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہیں ۔ وہ ان سب کو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق عطا کرتا ہے۔ [33]﴿ وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو نکاح کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ پاک بازی کو اپنا شیوہ بنائے، حرام کاری میں پڑنے سے بچے اور ایسے اسباب اختیار کرے جو اسے حرام کاری سے بچائیں یعنی قلب کو ایسے خیالات سے بچائے رکھے جو حرام کاری میں پڑنے کی دعوت دیتے ہوں ، نیز وہ حرام کاری سے محفوظ رہنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔‘‘( صحیح البخاري، النکاح، باب قول النبیﷺ من استطاع منکم…، ح: 5065 و صحیح مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت…، ح:1400)﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا ﴾یعنی اپنی محتاجی یا اپنے مالکوں کی محتاجی یا مالکوں کے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اگر وہ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور وہ اپنے نکاح کے لیے اپنے مالکوں کو مجبور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معنی مقدر اس معنی سے بہتر ہے جو بعض لوگوں نے مراد لیا ہے کہ ’’جو لوگ نکاح کا مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ انھوں نے مضاف الیہ کو مضاف کا قائم مقام بنایا۔ مگر یہ معنی مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں ۔(۱)کلام میں حذف ماننا پڑے گا، جبکہ اصل عدم حذف ہے۔(۲)معنی کا اس شخص میں منحصر ہونا جس کی دو حالتیں ہوں ، اپنے مال کی وجہ سے غنا کی حالت اور ناداری کی حالت۔اس صورت میں غلام اور لونڈیاں اس سے نکل جاتی ہیں اور اسی طرح وہ بھی جن کا نکاح کرانا سرپرست کے ذمے ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔﴿ حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک دامن شخص کے لیے غنا کا وعدہ کیا ہے، نیز یہ کہ وہ اس کے معاملے کو آسان کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ کشادگی کا انتظار کرے تاکہ موجود حالات اس پر گراں نہ گزریں ۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَكَاتِبُوۡهُمۡ ﴾ یعنی تمھارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو کوئی تم سے مکاتبت کا طلب گار ہو اور اپنے آپ کو خریدنا چاہے تو اس کی بات مانتے ہوئے اس سے مکاتبت کر لو﴿ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اگر جانو تم ان میں ۔‘‘ یعنی مکاتبت کے طلب گار غلاموں میں ﴿خَيۡرًا﴾ ’’بھلائی۔‘‘ یعنی کمانے کی طاقت اور دین میں بھلائی کیونکہ مکاتبت میں دو مصلحتوں کا حصول مقصود ہے۔ آزادی کی مصلحت اور اس معاوضے کی مصلحت، جو وہ اپنے نفس کی آزادی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ بسااوقات وہ جدوجہد کر کے مکاتبت کی مدت کے اندر اپنے آقا کو اتنا مال مہیا کر دیتا ہے جو وہ غلامی میں رہتے ہوئے نہیں کر سکتا۔ اس لیے غلام کے لیے ایک بڑی منفعت کے حصول کے ساتھ ساتھ، اس مکاتبت میں آقا کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس پہلو سے مکاتبت کا حکم دیا ہے، جو وجوب کا حکم ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ یا دوسرے قول کے مطابق یہ حکم استحباب کے طور پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مکاتبت پر ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ اس کے محتاج ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَّاٰتُوۡهُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ﴾ ’’اور تم ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ اس میں مکاتب کے آقا کا معاملہ بھی شامل ہے جس نے اس کے ساتھ مکاتبت کی ہے کہ وہ اس کی مکاتبت میں اس کو کچھ عطا کرے یا مکاتبت کی مقررہ رقم میں سے کچھ حصہ ساقط کر دے اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی مکاتب کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکاتبین کے لیے زکاۃ میں حصہ رکھ دیا ہے اور زکاۃ میں سے مکاتبین کو عطا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا: ﴿ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ یعنی جس طرح، یہ مال درحقیقت اللہ کا مال ہے، اس مال کا تمھارے ہاتھوں میں ہونا تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا محض عطیہ ہے، اسی طرح تم بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر غلام مکاتبت کا مطالبہ نہ کرے تو اس کے آقا کو حکم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ مکاتبت کی ابتدا کرے، جبکہ اس میں اسے کوئی بھلائی نظر نہ آئے یا اسے معاملہ برعکس نظر آئے، یعنی وہ جانتا ہو کہ وہ کما نہیں سکتا اور اس طرح وہ لوگوں پر بوجھ بن کر ضائع ہو جائے گا۔ یا اسے یہ خوف ہو کہ جب بھی اس کو آزاد کر دیا گیا اور اسے آزادی حاصل ہو گئی تو اسے فساد برپا کرنے کی قدرت حاصل ہو جائے گی تو ایسے غلام کے بارے میں اس کے آقا کو مکاتبت کا حکم نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے برعکس اس کو مکاتبت سے روکا جائے گا کیونکہ اس میں متذکرہ بالا خطرہ موجود ہے جس سے بچنا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا تُكۡرِهُوۡا فَتَيٰتِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو‘‘ ﴿ عَلَى الۡبِغَآءِ ﴾ ’’زنا کار بننے پر‘‘ ﴿ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا ﴾ ’’اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں ۔‘‘ اس لیے کہ اس حالت کے سوا کسی حالت میں اسے مجبور کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ پاک دامن رہنا نہ چاہے تو اس صورت میں وہ بدکار ہے اور اس کے آقا پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس بدکاری سے روک دے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے اس لیے روکا ہے کہ جاہلیت میں لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آقا اجرت کی خاطر اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تاکہ تم تلاش کرو دنیا کی زندگی کا سامان۔‘‘ پس تمھارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمھاری لونڈیاں تم سے بہتر اور پاک باز ہوں اور تم صرف دنیا کے مال ومتاع کی خاطر ان کے ساتھ یہ سلوک کرو۔ دنیا کا مال بہت قلیل ہے وہ سامنے آتا ہے، پھر ختم ہو جاتا ہے۔ تمھاری کمائی تمھاری پاکیزگی، نظافت اور مروت ہے… آخرت کے ثواب وعقاب سے قطع نظر… یہ اس تھوڑے سے سامانِ دنیا کمانے سے کہیں بہتر ہے جو تمھارے رذالت اور خساست کے کمانے سے حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو توبہ کی طرف بلایا جن سے اپنی لونڈیوں پر جبر کرنے کا یہ گناہ سرزد ہوا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؔكۡرِهۡهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنۢۡ بَعۡدِ اِكۡرَاهِهِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبورکرنے کے بعد غفور رحیم ہے۔‘‘ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے اور ان تمام گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ جب وہ ان تمام گناہوں سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس پر اسی طرح رحم فرمائے گا جس طرح تائب نے اپنے نفس کو عذاب سے بچا کر اپنے آپ پر رحم کیا اور جس طرح اس نے اپنی لونڈی کو ایسے فعل پر، جو اس کے لیے ضرر رساں تھا، مجبور نہ کر کے اس پر رحم کیا۔

النور 24:33

اور نکاح کروتم بے نکاحوں کا اپنے میں سے اور (ان کا بھی) جو نیک ہیں تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے اگر ہوں گے وہ فقیر تو غنی کر دے گا انھیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والا خوب جاننے والا ہے (32)اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ لوگ جو نہیں پاتے (طاقت) نکاح کی حتی کہ غنی کر دے انھیں اللہ اپنے فضل سےاور وہ لوگ جو چاہتے ہیں مکاتیب (آزادی کی تحریم لکھانا) ان لوگوں میں سے کہ مالک ہیں (ان کے) تمھارے دائیں ہاتھ تو تم لکھ کر دے دو ان کو اگر معلوم کرو تم ان میں بھلائی اور دو تم ان کو اللہ کے (دیے ہوئے) اس مال میں سے وہ جو اس نے دیا ہے تمھیں اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو اوپر بدکاری کرنے کے، اگر وہ چاہیں بچناتاکہ تلاش کرو تم سامان زندگانیٔ دنیا کا اور جو کوئی مجبور کرے گا انھیں تو بلاشبہ اللہ بعد ان کے مجبور کیے جانے کے، بہت بخشنے والا ، نہایت رحم کرنے والا ہے (33) [32] اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں ۔ (ایامی)سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردوزن، لہٰذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردوزن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ، یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست ہیں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولیٰ ہے۔﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآىِٕكُمۡ﴾’’اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہیں جو دینی اعتبار سے صالح ہوں کیونکہ لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دینی اعتبار سے صالح ہیں ، وہی لوگ ہیں جو بدکار اور زانی نہیں ہوتے، ان کا آقا اس بات پر مامور ہے کہ وہ ان کا نکاح کرے، یہ ان کی صالحیت کی جزا اور اس کی ترغیب ہے، نیز زناکار کا نکاح کرنے سے روکا گیا ہے تب یہ اس حکم کی تائید ہے جس کا ذکر سورت کی ابتداء میں کیا گیا ہے کہ زانی اور زانیہ جب تک توبہ نہ کریں ، ان کا نکاح حرام ہے… اور آزاد مرد و زن کی بجائے غلاموں کے نکاح کے لیے صالحیت کی تخصیص اس لیے ہے کہ عادۃً غلاموں میں فسق و فجور زیادہ ہوتا ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہوں جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے محتاج ہوں ۔ اس معنی کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ جب تک مملوک نکاح کا حاجت مند نہ ہو اس کا مالک اس کا نکاح کرنے پر مامور نہیں … اور یہ بھی کوئی بعید بات نہیں کہ اس سے دونوں ہی معنی مراد ہوں ۔ واللہ اعلم۔﴿ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اگر ہوں گے وہ تنگ دست۔‘‘ یعنی خاوند اور نکاح کرنے والے ﴿ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’تو غنی کر دے گا اللہ ان کو اپنے فضل سے۔‘‘ پس تمھیں یہ وہم نکاح کرنے سے نہ روک دے کہ جب تم نکاح کر لو گے تو عائلی بوجھ کی وجہ سے محتاج ہو جاؤ گے۔ اس آیت کریمہ میں نکاح کی ترغیب ہے، نیز نکاح کرنے والے سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے فقر کے بعد فراخی اور خوش حالی حاصل ہو گی۔﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بھلائی اور فضل عظیم کا مالک ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ وہ ان سب کو جانتا ہے جو اس کے دینی اور دنیاوی فضل یا کسی ایک کے مستحق ہیں اور وہ انھیں بھی جانتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہیں ۔ وہ ان سب کو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق عطا کرتا ہے۔ [33]﴿ وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو نکاح کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ پاک بازی کو اپنا شیوہ بنائے، حرام کاری میں پڑنے سے بچے اور ایسے اسباب اختیار کرے جو اسے حرام کاری سے بچائیں یعنی قلب کو ایسے خیالات سے بچائے رکھے جو حرام کاری میں پڑنے کی دعوت دیتے ہوں ، نیز وہ حرام کاری سے محفوظ رہنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔‘‘( صحیح البخاري، النکاح، باب قول النبیﷺ من استطاع منکم…، ح: 5065 و صحیح مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت…، ح:1400)﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا ﴾یعنی اپنی محتاجی یا اپنے مالکوں کی محتاجی یا مالکوں کے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اگر وہ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور وہ اپنے نکاح کے لیے اپنے مالکوں کو مجبور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معنی مقدر اس معنی سے بہتر ہے جو بعض لوگوں نے مراد لیا ہے کہ ’’جو لوگ نکاح کا مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ انھوں نے مضاف الیہ کو مضاف کا قائم مقام بنایا۔ مگر یہ معنی مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں ۔(۱)کلام میں حذف ماننا پڑے گا، جبکہ اصل عدم حذف ہے۔(۲)معنی کا اس شخص میں منحصر ہونا جس کی دو حالتیں ہوں ، اپنے مال کی وجہ سے غنا کی حالت اور ناداری کی حالت۔اس صورت میں غلام اور لونڈیاں اس سے نکل جاتی ہیں اور اسی طرح وہ بھی جن کا نکاح کرانا سرپرست کے ذمے ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔﴿ حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک دامن شخص کے لیے غنا کا وعدہ کیا ہے، نیز یہ کہ وہ اس کے معاملے کو آسان کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ کشادگی کا انتظار کرے تاکہ موجود حالات اس پر گراں نہ گزریں ۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَكَاتِبُوۡهُمۡ ﴾ یعنی تمھارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو کوئی تم سے مکاتبت کا طلب گار ہو اور اپنے آپ کو خریدنا چاہے تو اس کی بات مانتے ہوئے اس سے مکاتبت کر لو﴿ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اگر جانو تم ان میں ۔‘‘ یعنی مکاتبت کے طلب گار غلاموں میں ﴿خَيۡرًا﴾ ’’بھلائی۔‘‘ یعنی کمانے کی طاقت اور دین میں بھلائی کیونکہ مکاتبت میں دو مصلحتوں کا حصول مقصود ہے۔ آزادی کی مصلحت اور اس معاوضے کی مصلحت، جو وہ اپنے نفس کی آزادی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ بسااوقات وہ جدوجہد کر کے مکاتبت کی مدت کے اندر اپنے آقا کو اتنا مال مہیا کر دیتا ہے جو وہ غلامی میں رہتے ہوئے نہیں کر سکتا۔ اس لیے غلام کے لیے ایک بڑی منفعت کے حصول کے ساتھ ساتھ، اس مکاتبت میں آقا کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس پہلو سے مکاتبت کا حکم دیا ہے، جو وجوب کا حکم ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ یا دوسرے قول کے مطابق یہ حکم استحباب کے طور پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مکاتبت پر ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ اس کے محتاج ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَّاٰتُوۡهُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ﴾ ’’اور تم ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ اس میں مکاتب کے آقا کا معاملہ بھی شامل ہے جس نے اس کے ساتھ مکاتبت کی ہے کہ وہ اس کی مکاتبت میں اس کو کچھ عطا کرے یا مکاتبت کی مقررہ رقم میں سے کچھ حصہ ساقط کر دے اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی مکاتب کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکاتبین کے لیے زکاۃ میں حصہ رکھ دیا ہے اور زکاۃ میں سے مکاتبین کو عطا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا: ﴿ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ یعنی جس طرح، یہ مال درحقیقت اللہ کا مال ہے، اس مال کا تمھارے ہاتھوں میں ہونا تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا محض عطیہ ہے، اسی طرح تم بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر غلام مکاتبت کا مطالبہ نہ کرے تو اس کے آقا کو حکم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ مکاتبت کی ابتدا کرے، جبکہ اس میں اسے کوئی بھلائی نظر نہ آئے یا اسے معاملہ برعکس نظر آئے، یعنی وہ جانتا ہو کہ وہ کما نہیں سکتا اور اس طرح وہ لوگوں پر بوجھ بن کر ضائع ہو جائے گا۔ یا اسے یہ خوف ہو کہ جب بھی اس کو آزاد کر دیا گیا اور اسے آزادی حاصل ہو گئی تو اسے فساد برپا کرنے کی قدرت حاصل ہو جائے گی تو ایسے غلام کے بارے میں اس کے آقا کو مکاتبت کا حکم نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے برعکس اس کو مکاتبت سے روکا جائے گا کیونکہ اس میں متذکرہ بالا خطرہ موجود ہے جس سے بچنا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا تُكۡرِهُوۡا فَتَيٰتِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو‘‘ ﴿ عَلَى الۡبِغَآءِ ﴾ ’’زنا کار بننے پر‘‘ ﴿ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا ﴾ ’’اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں ۔‘‘ اس لیے کہ اس حالت کے سوا کسی حالت میں اسے مجبور کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ پاک دامن رہنا نہ چاہے تو اس صورت میں وہ بدکار ہے اور اس کے آقا پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس بدکاری سے روک دے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے اس لیے روکا ہے کہ جاہلیت میں لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آقا اجرت کی خاطر اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تاکہ تم تلاش کرو دنیا کی زندگی کا سامان۔‘‘ پس تمھارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمھاری لونڈیاں تم سے بہتر اور پاک باز ہوں اور تم صرف دنیا کے مال ومتاع کی خاطر ان کے ساتھ یہ سلوک کرو۔ دنیا کا مال بہت قلیل ہے وہ سامنے آتا ہے، پھر ختم ہو جاتا ہے۔ تمھاری کمائی تمھاری پاکیزگی، نظافت اور مروت ہے… آخرت کے ثواب وعقاب سے قطع نظر… یہ اس تھوڑے سے سامانِ دنیا کمانے سے کہیں بہتر ہے جو تمھارے رذالت اور خساست کے کمانے سے حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو توبہ کی طرف بلایا جن سے اپنی لونڈیوں پر جبر کرنے کا یہ گناہ سرزد ہوا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؔكۡرِهۡهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنۢۡ بَعۡدِ اِكۡرَاهِهِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبورکرنے کے بعد غفور رحیم ہے۔‘‘ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے اور ان تمام گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ جب وہ ان تمام گناہوں سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس پر اسی طرح رحم فرمائے گا جس طرح تائب نے اپنے نفس کو عذاب سے بچا کر اپنے آپ پر رحم کیا اور جس طرح اس نے اپنی لونڈی کو ایسے فعل پر، جو اس کے لیے ضرر رساں تھا، مجبور نہ کر کے اس پر رحم کیا۔

النور 24:34

اور البتہ تحقیق نازل کیں ہم نے تمھاری طرف آیتیں واضح اور کچھ حال ان لوگوں کا جو گزر چکے پہلے تم سےاور نصیحت واسطے پرہیز گاروں کے (34) [34] یہ ان آیات کریمہ کی قدرومنزلت اور تعظیم ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر تلاوت فرمائی تاکہ وہ ان کی قدروقیمت کو پہچان لیں اور ان کے حقوق کو قائم کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ ﴾ ’’اور ہم نے نازل کیں تمھاری طرف آیات واضح کرنے والی ۔‘‘ یعنی وہ اصولی اور فروعی ہر معاملے میں ، جن کے تم محتاج ہو، اس طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کوئی اشکال اور شبہ باقی نہیں رہتا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس طرح نازل کیں ہم نے ﴿مَثَلًا مِّنَ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾’’ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرے۔‘‘ یعنی ہم نے تمھاری طرف تم سے پہلے گزرے ہوئے اچھے برے لوگوں ، ان کے اعمال اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا… کی خبریں نازل کیں ، جن کو مثال بنا کر تم عبرت حاصل کر سکتے ہو، یعنی جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا اس کو وہی جزا دی جائے گی جو ان لوگوں کو دی گئی۔﴿ وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ یعنی اور ہم نے تمھاری طرف اہل تقویٰ کے لیے نصیحت نازل کی ہے جو وعد و وعید اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔ اہل تقویٰ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور ان امور سے رک جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ایسے امور اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ۔

النور 24:35

اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، مثال اس کے نور کی مانند (روشنی) طاق کے ہے، اس (طاق) میں ایک چراغ ہے، (وہ) چراغ شیشے (کی قندیل) میں ہے، وہ شیشہ، گویا کہ وہ ایک ستارہ ہے چمکتا ہوا، جلایا جاتا ہے وہ (چراغ) ایک درخت سے، جو مبارک ہے، زیتون کا، نہیں ہے وہ مشرقی اور نہ مغربی، قریب ہے کہ تیل اس (زیتون) کا (خود بخود ہی) روشن ہو جائے اگرچہ نہ لگے اسے آگ، نور پر نور ہے، ہدایت دیتا ہے اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (35) [35]﴿ اَللّٰهُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ (حسی اور معنوی طور پر)آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ اللہ تعالیٰ بذات خود نور ہے اس کا حجاب نور ہے۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرۂ مبارک کے انوار و جلال حدنگاہ تک تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر دیں ۔ اس کے نور سے عرش، کرسی، سورج، چاند اور جنت منور ہیں … اسی طرح معنوی نور کا منبع بھی اللہ تعالیٰ ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کی شریعت نور ہے، ایمان نور ہے، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے مومن بندوں کے دلوں میں موجود معرفت الٰہی نور ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا نور نہ ہو تو گمراہیوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھا جائیں ، لہٰذا ہر وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ کا نور نہیں ہے وہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔﴿ مَثَلُ نُوۡرِهٖ ﴾ ’’اس کے نور کی مثال‘‘ یعنی وہ نور جس کی طرف اللہ تعالیٰ راہ نمائی فرماتا ہے اور وہ اہل ایمان کے دلوں میں ایمان اور قرآن کا نور ہے۔ ﴿كَمِشۡكٰوةٍ ﴾ ’’ایک طاق کی مانند ہے‘‘ ﴿ فِيۡهَا مِصۡبَاحٌ﴾ ’’جس میں چراغ ہو۔‘‘ کیونکہ طاق چراغ کی روشنی کو جمع کر دیتا ہے اور اسے بکھرنے نہیں دیتا ﴿اَلۡمِصۡبَاحُ فِيۡ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ﴾ ’’چراغ شیشے کے فانوس میں رکھا ہوا ہو اور وہ فانوس‘‘ اپنی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے یوں لگے ﴿ كَاَنَّهَا كَوۡؔكَبٌ دُرِّيٌّ﴾ ’’جیسے وہ چمکتا ہوا ستارہ ہو‘‘ یعنی وہ موتی کی مانند چمکتا ہو۔ ﴿ يُّوۡقَدُ ﴾ ’’جلایا جائے‘‘ یعنی وہ چراغ جو اس چمک دار فانوس کے اندر ہے ﴿ مِنۡ شَجَرَةٍ مُّؔبٰرَؔكَةٍ زَيۡتُوۡنَةٍ ﴾یعنی وہ زیتون کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جس کا شعلہ سب سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔﴿ لَّا شَرۡقِيَّةٍ ﴾ یعنی وہ فقط مشرقی جانب نہیں کہ دن کے آخری حصے میں اس کو سورج کی روشنی نہ پہنچتی ہو ﴿ وَّلَا غَرۡبِيَّةٍ﴾ اور وہ فقط مغربی جانب بھی نہیں کہ دن کے پہلے حصے میں اس کو سورج کی روشنی حاصل نہ ہوتی ہو۔ جب یہ دونوں امور نہیں تو وہ زمین کے درمیان میں اگا ہوا ہے۔ جیسے ملک شام کا زیتون، جسے صبح و شام سورج کی روشنی حاصل ہوتی ہے اس وجہ سے وہ نہایت عمدہ ہوتا ہے اور اس کا تیل انتہائی صاف ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّكَادُ زَيۡتُهَا﴾ ’’قریب ہے کہ اس کا تیل۔‘‘ یعنی انتہائی صاف ہونے کی وجہ سے﴿ يُضِيۡٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٌؔ﴾ ’’آپ ہی روشنی دینے لگے، اگرچہ اسے آگ بھی نہ چھوئے۔‘‘ اور جب اسے آگ چھوئے تو بہت زیادہ روشنی ہو ﴿ نُوۡرٌؔ عَلٰى نُوۡرٍ ﴾ ’’روشنی پر روشنی۔‘‘ یعنی آگ کی روشنی اور زیتون کے تیل کی روشنی۔یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور اسے مومن کے احوال کے ساتھ تطبیق دی ہے نیز یہ کہ اس کا قلب اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فطرت جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے وہ زیتون کے پاک صاف تیل کی مانند ہے۔ پس اس کی فطرت صاف اور تعلیمات الٰہیہ اور اعمال مشروعہ کے لیے مستعد ہے۔ جب اس کے پاس علم و ایمان پہنچتا ہے تو یہ نور اس کے قلب میں روشن ہو جاتا ہے جیسے آگ چراغ کی بتی کو روشن کر دیتی ہے۔ اس کا قلب برے ارادوں اور فہم کی خرابی سے پاک ہوتا ہے۔ جب قلب میں ایمان جاگزیں ہوتا ہے تو تمام کدورتوں سے پاک ہونے کی وجہ سے اس نور سے جگمگا اٹھتا ہے اور قلب کی یہ صفائی، موتی کی طرح چمکتے ہوئے فانوس کی مانند ہے۔ پس قلب میں نور فطرت، نور ایمان، نورعلم اور معرفت کی صفائی تمام اسباب مجتمع ہو جاتے ہیں اور یوں قلب میں روشنی پر روشنی بڑھتی چلی جاتی ہے اور چونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور ہر کسی میں اس نور کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے فرمایا:﴿ يَهۡدِي اللّٰهُ لِنُوۡرِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے اللہ اپنے نور کے لیے جس کی چاہتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے نور کے لیے صرف اسی کی راہ نمائی کرتا ہے جس کے متعلق اسے علم ہے کہ وہ پاک اور طیب و طاہر ہے اور یہ نور اس کی معیت میں مزید بڑھے گا۔﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ﴾’’اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے‘‘ تاکہ وہ اس سے عقل و فہم حاصل کریں یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے، نیز یہ مثالیں اس لیے بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ باطل سے حق واضح ہو جائے کیونکہ ضرب الامثال معانی ٔمعقولہ کو محسوسات کے قریب کر دیتی ہیں اور بندوں کو واضح طور پر ان کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔﴿ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ پس اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ضرب الامثال اس ہستی کی بیان کی ہوئی ہیں جو تمام اشیاء کے حقائق اور ان کی تفاصیل کو جانتی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ان میں بندوں کے لیے مصلحت ہے۔ پس تمھیں ان پر اعتراض اور ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے بلکہ تمھیں ان میں تدبر اور غوروفکر کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

النور 24:36

(یہ چراغ اور قندیلیں ہیں ) ان گھروں میں کہ حکم دیا ہے اللہ نے یہ کہ بلند کیے جائیں وہ اور ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کا تسبیح کرتے ہیں واسطے اس کے ان (گھروں ) میں صبح اورشام (36)وہ مرد کہ نہیں غافل کرتی انھیں تجارت اور نہ خریدو فروخت اللہ کے ذکر سےاور قائم کرنے سے نماز کےاور ادا کرنے سے زکاۃ کے، وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ الٹ جائیں گے اس میں دل اور آنکھیں (37)(وہ یہ کام کرتے ہیں ) تاکہ جزا دے انھیں اللہ بہترین اس کی جو عمل کیے انھوں نے اور وہ زیادہ دے انھیں اپنے فضل سےاور اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہتا ہے، بغیر حساب کے (38) [36] یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ ﴾ ’’گھروں میں ‘‘ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں ۔ ﴿ اَذِنَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے ﴿ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ ’’کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔‘‘ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کر دیے گئے ہیں ۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا، ان کو بچوں اور فاتر العقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے، کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغویات اور ذکر الٰہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا، شامل ہیں ۔ ﴿ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز، قراء ت قرآن، تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار، علم کی تعلیم و تعلم، علمی مذاکرہ، اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سرانجام دیا جاتا ہے، سب شامل ہیں ۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔(۱)مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا۔(۲) نماز اور ذکر الٰہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا… دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم وجوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو عبادت کے ذریعے مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں ۔‘‘ اخلاص کے ساتھ ﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ﴾’’اور دن کے آخری حصے میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو اوقات کو ان کے شرف و فضیلت کی بنا پر مخصوص کیا ہے، نیز ان دو اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سفر آسان اور سہل ہوتا ہے۔ اس تسبیح میں نماز وغیرہ داخل ہیں ، اس لیے تمام اذکار اور اوراد صبح اور شام کے اوقات میں مشروع كيے گئے ہیں ۔﴿ رِجَالٌ﴾ یعنی ان مساجد میں ، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر دنیا، اس کی لذتوں ، تجارت، کاروبار اور اللہ سے غافل کر دینے والے کسی مشغلے کو ترجیح نہیں دیتے۔ ﴿ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ ﴾ ’’ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی کوئی تجارت۔‘‘ اور یہ ہر اس کسب کو شامل ہے جس میں معاوضہ لینا مقصود ہو تب اس صورت میں ﴿ وَّلَا بَيۡعٌ ﴾ کا جملہ، عام پر عطف خاص کے باب میں سے ہے کیونکہ دیگر کاموں کی نسبت خریدوفروخت میں زیادہ مشغولیت پائی جاتی ہے۔پس یہ لوگ، اگرچہ تجارت کرتے ہیں ، خریدوفروخت کرتے ہیں … کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں … مگر یہ تمام کام انھیں غافل نہیں کرتے کہ وہ ان امور کو ﴿ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے‘‘ پر ترجیح دیتے ہوئے ان کو مقدم رکھیں بلکہ اس کے برعکس ان کی غایت مراد اور نہایت مقصود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں ۔ اس اطاعت و عبادت اور ان کے درمیان جو چیز بھی حائل ہو، وہ اسے دور پھینک دیتے ہیں ۔چونکہ اکثر نفوس کے لیے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، مختلف انواع کی تجارت اور مکاسب سے انھیں شدید محبت ہوتی ہے، غالب حالات میں ان امور کو ترک کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور ان امور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انھیں بہت تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اس کی طرف دعوت دی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ﴾ اس روز شدت ہول اور قلب و بدن کے دہشت زدہ ہونے کے باعث دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی، اس لیے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں ، بنابریں ان کے لیے عمل کرنا اور عمل سے غافل کرنے والے امور کو ترک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ [38]﴿ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔‘‘ (احسن ماعملوا) سے مراد ان کے اعمال حسنہ اور اعمال صالحہ ہیں کیونکہ یہ ان کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ وہ مباح اور دیگر اعمال بجا لاتے ہیں ۔ ثواب صرف اسی عمل پر عطا ہوتا ہے جو عمل حسن کے زمرے میں آتا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(الزمر:39؍35) ’’تاکہ جو بدترین عمل انھوں نے كيے ہیں اللہ ان کو ان کے حساب سے مٹا دے اور جو انھوں نے بہترین عمل كيے ہیں ، ان کے مطابق ان کو اجر عطا فرمائے۔‘‘ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی وہ ان کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ جزا عطا کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی عطا فرماتا ہے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرے گا کہ اس کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور اس کی آرزو کی بھی وہاں تک رسائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی شمار اور بغیر کسی ناپ تول کے اجر عطا کرے گا… اور یہ بہت زیادہ کثرت کے لیے کنایہ ہے۔ یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان، ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سرانجام دینے والوں کی حسرت ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ، چنانچہ فرمایا:

النور 24:37

(یہ چراغ اور قندیلیں ہیں ) ان گھروں میں کہ حکم دیا ہے اللہ نے یہ کہ بلند کیے جائیں وہ اور ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کا تسبیح کرتے ہیں واسطے اس کے ان (گھروں ) میں صبح اورشام (36)وہ مرد کہ نہیں غافل کرتی انھیں تجارت اور نہ خریدو فروخت اللہ کے ذکر سےاور قائم کرنے سے نماز کےاور ادا کرنے سے زکاۃ کے، وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ الٹ جائیں گے اس میں دل اور آنکھیں (37)(وہ یہ کام کرتے ہیں ) تاکہ جزا دے انھیں اللہ بہترین اس کی جو عمل کیے انھوں نے اور وہ زیادہ دے انھیں اپنے فضل سےاور اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہتا ہے، بغیر حساب کے (38) [36] یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ ﴾ ’’گھروں میں ‘‘ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں ۔ ﴿ اَذِنَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے ﴿ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ ’’کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔‘‘ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کر دیے گئے ہیں ۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا، ان کو بچوں اور فاتر العقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے، کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغویات اور ذکر الٰہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا، شامل ہیں ۔ ﴿ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز، قراء ت قرآن، تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار، علم کی تعلیم و تعلم، علمی مذاکرہ، اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سرانجام دیا جاتا ہے، سب شامل ہیں ۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔(۱)مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا۔(۲) نماز اور ذکر الٰہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا… دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم وجوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو عبادت کے ذریعے مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں ۔‘‘ اخلاص کے ساتھ ﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ﴾’’اور دن کے آخری حصے میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو اوقات کو ان کے شرف و فضیلت کی بنا پر مخصوص کیا ہے، نیز ان دو اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سفر آسان اور سہل ہوتا ہے۔ اس تسبیح میں نماز وغیرہ داخل ہیں ، اس لیے تمام اذکار اور اوراد صبح اور شام کے اوقات میں مشروع كيے گئے ہیں ۔﴿ رِجَالٌ﴾ یعنی ان مساجد میں ، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر دنیا، اس کی لذتوں ، تجارت، کاروبار اور اللہ سے غافل کر دینے والے کسی مشغلے کو ترجیح نہیں دیتے۔ ﴿ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ ﴾ ’’ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی کوئی تجارت۔‘‘ اور یہ ہر اس کسب کو شامل ہے جس میں معاوضہ لینا مقصود ہو تب اس صورت میں ﴿ وَّلَا بَيۡعٌ ﴾ کا جملہ، عام پر عطف خاص کے باب میں سے ہے کیونکہ دیگر کاموں کی نسبت خریدوفروخت میں زیادہ مشغولیت پائی جاتی ہے۔پس یہ لوگ، اگرچہ تجارت کرتے ہیں ، خریدوفروخت کرتے ہیں … کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں … مگر یہ تمام کام انھیں غافل نہیں کرتے کہ وہ ان امور کو ﴿ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے‘‘ پر ترجیح دیتے ہوئے ان کو مقدم رکھیں بلکہ اس کے برعکس ان کی غایت مراد اور نہایت مقصود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں ۔ اس اطاعت و عبادت اور ان کے درمیان جو چیز بھی حائل ہو، وہ اسے دور پھینک دیتے ہیں ۔چونکہ اکثر نفوس کے لیے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، مختلف انواع کی تجارت اور مکاسب سے انھیں شدید محبت ہوتی ہے، غالب حالات میں ان امور کو ترک کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور ان امور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انھیں بہت تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اس کی طرف دعوت دی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ﴾ اس روز شدت ہول اور قلب و بدن کے دہشت زدہ ہونے کے باعث دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی، اس لیے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں ، بنابریں ان کے لیے عمل کرنا اور عمل سے غافل کرنے والے امور کو ترک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ [38]﴿ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔‘‘ (احسن ماعملوا) سے مراد ان کے اعمال حسنہ اور اعمال صالحہ ہیں کیونکہ یہ ان کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ وہ مباح اور دیگر اعمال بجا لاتے ہیں ۔ ثواب صرف اسی عمل پر عطا ہوتا ہے جو عمل حسن کے زمرے میں آتا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(الزمر:39؍35) ’’تاکہ جو بدترین عمل انھوں نے كيے ہیں اللہ ان کو ان کے حساب سے مٹا دے اور جو انھوں نے بہترین عمل كيے ہیں ، ان کے مطابق ان کو اجر عطا فرمائے۔‘‘ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی وہ ان کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ جزا عطا کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی عطا فرماتا ہے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرے گا کہ اس کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور اس کی آرزو کی بھی وہاں تک رسائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی شمار اور بغیر کسی ناپ تول کے اجر عطا کرے گا… اور یہ بہت زیادہ کثرت کے لیے کنایہ ہے۔ یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان، ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سرانجام دینے والوں کی حسرت ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ، چنانچہ فرمایا:

النور 24:38

(یہ چراغ اور قندیلیں ہیں ) ان گھروں میں کہ حکم دیا ہے اللہ نے یہ کہ بلند کیے جائیں وہ اور ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کا تسبیح کرتے ہیں واسطے اس کے ان (گھروں ) میں صبح اورشام (36)وہ مرد کہ نہیں غافل کرتی انھیں تجارت اور نہ خریدو فروخت اللہ کے ذکر سےاور قائم کرنے سے نماز کےاور ادا کرنے سے زکاۃ کے، وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ الٹ جائیں گے اس میں دل اور آنکھیں (37)(وہ یہ کام کرتے ہیں ) تاکہ جزا دے انھیں اللہ بہترین اس کی جو عمل کیے انھوں نے اور وہ زیادہ دے انھیں اپنے فضل سےاور اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہتا ہے، بغیر حساب کے (38) [36] یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ ﴾ ’’گھروں میں ‘‘ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں ۔ ﴿ اَذِنَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے ﴿ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ ’’کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔‘‘ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کر دیے گئے ہیں ۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا، ان کو بچوں اور فاتر العقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے، کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغویات اور ذکر الٰہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا، شامل ہیں ۔ ﴿ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز، قراء ت قرآن، تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار، علم کی تعلیم و تعلم، علمی مذاکرہ، اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سرانجام دیا جاتا ہے، سب شامل ہیں ۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔(۱)مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا۔(۲) نماز اور ذکر الٰہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا… دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم وجوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو عبادت کے ذریعے مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں ۔‘‘ اخلاص کے ساتھ ﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ﴾’’اور دن کے آخری حصے میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو اوقات کو ان کے شرف و فضیلت کی بنا پر مخصوص کیا ہے، نیز ان دو اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سفر آسان اور سہل ہوتا ہے۔ اس تسبیح میں نماز وغیرہ داخل ہیں ، اس لیے تمام اذکار اور اوراد صبح اور شام کے اوقات میں مشروع كيے گئے ہیں ۔﴿ رِجَالٌ﴾ یعنی ان مساجد میں ، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر دنیا، اس کی لذتوں ، تجارت، کاروبار اور اللہ سے غافل کر دینے والے کسی مشغلے کو ترجیح نہیں دیتے۔ ﴿ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ ﴾ ’’ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی کوئی تجارت۔‘‘ اور یہ ہر اس کسب کو شامل ہے جس میں معاوضہ لینا مقصود ہو تب اس صورت میں ﴿ وَّلَا بَيۡعٌ ﴾ کا جملہ، عام پر عطف خاص کے باب میں سے ہے کیونکہ دیگر کاموں کی نسبت خریدوفروخت میں زیادہ مشغولیت پائی جاتی ہے۔پس یہ لوگ، اگرچہ تجارت کرتے ہیں ، خریدوفروخت کرتے ہیں … کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں … مگر یہ تمام کام انھیں غافل نہیں کرتے کہ وہ ان امور کو ﴿ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے‘‘ پر ترجیح دیتے ہوئے ان کو مقدم رکھیں بلکہ اس کے برعکس ان کی غایت مراد اور نہایت مقصود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں ۔ اس اطاعت و عبادت اور ان کے درمیان جو چیز بھی حائل ہو، وہ اسے دور پھینک دیتے ہیں ۔چونکہ اکثر نفوس کے لیے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، مختلف انواع کی تجارت اور مکاسب سے انھیں شدید محبت ہوتی ہے، غالب حالات میں ان امور کو ترک کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور ان امور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انھیں بہت تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اس کی طرف دعوت دی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ﴾ اس روز شدت ہول اور قلب و بدن کے دہشت زدہ ہونے کے باعث دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی، اس لیے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں ، بنابریں ان کے لیے عمل کرنا اور عمل سے غافل کرنے والے امور کو ترک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ [38]﴿ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔‘‘ (احسن ماعملوا) سے مراد ان کے اعمال حسنہ اور اعمال صالحہ ہیں کیونکہ یہ ان کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ وہ مباح اور دیگر اعمال بجا لاتے ہیں ۔ ثواب صرف اسی عمل پر عطا ہوتا ہے جو عمل حسن کے زمرے میں آتا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(الزمر:39؍35) ’’تاکہ جو بدترین عمل انھوں نے كيے ہیں اللہ ان کو ان کے حساب سے مٹا دے اور جو انھوں نے بہترین عمل كيے ہیں ، ان کے مطابق ان کو اجر عطا فرمائے۔‘‘ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی وہ ان کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ جزا عطا کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی عطا فرماتا ہے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرے گا کہ اس کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور اس کی آرزو کی بھی وہاں تک رسائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی شمار اور بغیر کسی ناپ تول کے اجر عطا کرے گا… اور یہ بہت زیادہ کثرت کے لیے کنایہ ہے۔ یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان، ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سرانجام دینے والوں کی حسرت ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ، چنانچہ فرمایا:

النور 24:39

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال مانند سراب کے ہیں چٹیل میدان میں ، گمان کرتا ہے اس کو پیاسا پانی، یہاں تک کہ جب وہ آیا اس کے پاس تو نہ پایا اسے کچھ بھی اور پایا اللہ کو اپنے پاس، پھر پورا (چکا) دیا اللہ نے اسے اس کاحساب اور اللہ بہت جلد لینے والا ہے حساب (39)یا (ان کے اعمال) اندھیروں کی مانند ہیں نہایت گہرے سمندر کے، ڈھانپتی ہے اسے ایک موج، اس کے اوپر ایک (اور) موج ہے، اس کے اوپر ایک بادل ہے، اندھیرے ہیں بعض ان میں سے اوپر بعض کے (اوپر تلے) ہیں ، جب و ہ نکالے اپنا ہاتھ نہیں قریب کہ وہ دیکھ سکے اس کو اور وہ شخص کہ نہیں بنایا اللہ نے اس کے لیے کوئی نور تو نہیں ہے اس کے لیے (کہیں بھی) کوئی نور (40) [39]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اپنے رب کے ساتھ اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا﴿ اَعۡمَالُهُمۡ كَسَرَابٍۭ بِقِيۡعَةٍ ﴾ ’’ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کی مثال ایسا دشت بے آب ہے جہاں کوئی درخت ہو نہ نباتات ﴿يَّحۡسَبُهُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ﴾ ’’پیاسا آدمی سے پانی سمجھتا ہے۔‘‘ یعنی سخت پیاسا شخص اس سراب کو پانی سمجھتا ہے کیونکہ پیاس کے مارے شخص کو پیاس کی وجہ سے وہ تو ہم لاحق ہوتا ہے جو کسی اور کو لاحق نہیں ہوتا۔ اور یہ گمان باطل ہے لیکن پیاسا شخص اپنی پیاس بجھانے کا ارادہ کرتا ہے﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’حتی کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو کچھ نہیں پاتا۔‘‘ پس اسے سخت ندامت ہوتی ہے اور امید کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے اس کی پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح کفار کے اعمال سراب کی مانند ہیں ۔ جاہل شخص جو معاملات کو نہیں جانتا اسے وہ اعمال اچھے دکھائی دیتے ہیں ، ان کی ظاہری شکل و صورت اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے انھیں بھی اچھے اعمال سمجھتا ہے اور وہ اعمال کا اسی طرح محتاج ہوتا ہے جس طرح ایک پیاسا شخص پانی کا محتاج ہوتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے روز جب اپنے اعمال کا سامنا کرے گا تو ان کو ضائع شدہ اور بے فائدہ پائے گا اور حال یہ ہو گا کہ یہ اعمال اس کے حق میں ہوں گے نہ اس کے خلاف ہوں گے۔ ﴿ وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ﴾ ’’بلکہ وہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے جو اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔‘‘ اس پر اس کا معمولی سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکے گا اور وہاں تھوڑا یا زیادہ عمل مفقود نہ ہو گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ پس یہ جاہل لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدے کو دور نہ سمجھیں ۔ یہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کے اعمال کو سراب کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو ایسے دشت بے آب و گیاہ میں نظر آتا ہے جہاں کوئی درخت ہوتا ہے نہ نباتات۔ کفار کے دلوں کی یہی مثال ہے جن میں کوئی بھلائی اور کوئی نیکی نہیں ہوتی۔ پس وہ وہاں اعمال خیر چھوڑ دیتے ہیں ، ایک مانع کی وجہ سے اور وہ کفر ہے۔کفار کے اعمال کے بطلان کو واضح کرنے کے لیے یہ دوسری مثال ہے۔ ﴿ اَوۡؔ كَظُلُمٰتٍ فِيۡ بَحۡرٍ لُّجِّيٍّ ﴾ ’’یا (ان کے عملوں کی مثال) ان اندھیروں کی سی ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں ہوں ۔‘‘ اتھاہ اور بے کراں سمندر ﴿ يَّغۡشٰىهُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ﴾ ’’جس پر لہر چلی آتی ہو اور اس کے اوپر دوسری لہر اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ، ایک پر ایک۔‘‘ بحربے پایاں کی تاریکی، پھر اس پر ایک دوسری کے اوپر سوار موجوں کی تاریکی، پھر بادلوں کا گھٹاٹوپ اندھیرا اور پھر سیاہ رات کا اندھیرا… اور جہاں یہ حال ہو تو تاریکی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ﴿اِذَاۤ اَخۡرَجَ يَدَهٗ لَمۡ يَكَدۡ يَرٰىهَا﴾ ’’جب آدمی اپنے ہاتھ کو نکالتا ہے تو اسے (اپنے قریب ہونے کے باوجود بھی) نہیں دیکھ پاتا‘‘ پھر دوسری چیزوں کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔ [40]کفار کا بھی یہی حال ہے، ان کے دلوں کو تہ در تہ تاریکیوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ طبیعت کی تاریکی، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، اس کے اوپر کفر کی تاریکی، اس کے اوپر جہالت کی تاریکی اور اس کے اوپر ان مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے صادر ہونے والے اعمال کی تاریکی… پس کفار ان اندھیروں میں متحیر، اپنی جہالت میں سرگرداں ، صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے، ضلالت اور گمراہی کے راستوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی توفیق سے محروم کر کے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اور انھیں اپنا نور عطا نہیں کیا۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَجۡعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوۡرًؔا فَمَا لَهٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴾ ’’اور جس کے حصے میں اللہ نور نہ کرے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں ۔‘‘ کیونکہ اس کا نفس ظالم اور جاہل ہے، اس میں کوئی بھلائی اور کوئی روشنی نہیں سوائے اس بھلائی اور روشنی کے جو اس کا رب اسے عطا کر دے… ان دونوں تمثیلوں میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے تمام کفار کے اعمال مراد ہوں ۔ دونوں تمثیلیں کفار کے اعمال پر منطبق ہوتی ہیں اور اعمال کے تعدد اوصاف کی بنا پر ان کو متعدد بیان کیا ہے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں مثالیں الگ الگ گروہوں کے لیے بیان کی گئی ہوں ۔ پہلی تمثیل قائدین کے لیے اور دوسری مثال پیروکاروں کے لیے ہو۔واللہ اعلم۔

النور 24:40

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال مانند سراب کے ہیں چٹیل میدان میں ، گمان کرتا ہے اس کو پیاسا پانی، یہاں تک کہ جب وہ آیا اس کے پاس تو نہ پایا اسے کچھ بھی اور پایا اللہ کو اپنے پاس، پھر پورا (چکا) دیا اللہ نے اسے اس کاحساب اور اللہ بہت جلد لینے والا ہے حساب (39)یا (ان کے اعمال) اندھیروں کی مانند ہیں نہایت گہرے سمندر کے، ڈھانپتی ہے اسے ایک موج، اس کے اوپر ایک (اور) موج ہے، اس کے اوپر ایک بادل ہے، اندھیرے ہیں بعض ان میں سے اوپر بعض کے (اوپر تلے) ہیں ، جب و ہ نکالے اپنا ہاتھ نہیں قریب کہ وہ دیکھ سکے اس کو اور وہ شخص کہ نہیں بنایا اللہ نے اس کے لیے کوئی نور تو نہیں ہے اس کے لیے (کہیں بھی) کوئی نور (40) [39]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اپنے رب کے ساتھ اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا﴿ اَعۡمَالُهُمۡ كَسَرَابٍۭ بِقِيۡعَةٍ ﴾ ’’ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کی مثال ایسا دشت بے آب ہے جہاں کوئی درخت ہو نہ نباتات ﴿يَّحۡسَبُهُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ﴾ ’’پیاسا آدمی سے پانی سمجھتا ہے۔‘‘ یعنی سخت پیاسا شخص اس سراب کو پانی سمجھتا ہے کیونکہ پیاس کے مارے شخص کو پیاس کی وجہ سے وہ تو ہم لاحق ہوتا ہے جو کسی اور کو لاحق نہیں ہوتا۔ اور یہ گمان باطل ہے لیکن پیاسا شخص اپنی پیاس بجھانے کا ارادہ کرتا ہے﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’حتی کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو کچھ نہیں پاتا۔‘‘ پس اسے سخت ندامت ہوتی ہے اور امید کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے اس کی پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح کفار کے اعمال سراب کی مانند ہیں ۔ جاہل شخص جو معاملات کو نہیں جانتا اسے وہ اعمال اچھے دکھائی دیتے ہیں ، ان کی ظاہری شکل و صورت اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے انھیں بھی اچھے اعمال سمجھتا ہے اور وہ اعمال کا اسی طرح محتاج ہوتا ہے جس طرح ایک پیاسا شخص پانی کا محتاج ہوتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے روز جب اپنے اعمال کا سامنا کرے گا تو ان کو ضائع شدہ اور بے فائدہ پائے گا اور حال یہ ہو گا کہ یہ اعمال اس کے حق میں ہوں گے نہ اس کے خلاف ہوں گے۔ ﴿ وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ﴾ ’’بلکہ وہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے جو اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔‘‘ اس پر اس کا معمولی سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکے گا اور وہاں تھوڑا یا زیادہ عمل مفقود نہ ہو گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ پس یہ جاہل لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدے کو دور نہ سمجھیں ۔ یہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کے اعمال کو سراب کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو ایسے دشت بے آب و گیاہ میں نظر آتا ہے جہاں کوئی درخت ہوتا ہے نہ نباتات۔ کفار کے دلوں کی یہی مثال ہے جن میں کوئی بھلائی اور کوئی نیکی نہیں ہوتی۔ پس وہ وہاں اعمال خیر چھوڑ دیتے ہیں ، ایک مانع کی وجہ سے اور وہ کفر ہے۔کفار کے اعمال کے بطلان کو واضح کرنے کے لیے یہ دوسری مثال ہے۔ ﴿ اَوۡؔ كَظُلُمٰتٍ فِيۡ بَحۡرٍ لُّجِّيٍّ ﴾ ’’یا (ان کے عملوں کی مثال) ان اندھیروں کی سی ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں ہوں ۔‘‘ اتھاہ اور بے کراں سمندر ﴿ يَّغۡشٰىهُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ﴾ ’’جس پر لہر چلی آتی ہو اور اس کے اوپر دوسری لہر اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ، ایک پر ایک۔‘‘ بحربے پایاں کی تاریکی، پھر اس پر ایک دوسری کے اوپر سوار موجوں کی تاریکی، پھر بادلوں کا گھٹاٹوپ اندھیرا اور پھر سیاہ رات کا اندھیرا… اور جہاں یہ حال ہو تو تاریکی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ﴿اِذَاۤ اَخۡرَجَ يَدَهٗ لَمۡ يَكَدۡ يَرٰىهَا﴾ ’’جب آدمی اپنے ہاتھ کو نکالتا ہے تو اسے (اپنے قریب ہونے کے باوجود بھی) نہیں دیکھ پاتا‘‘ پھر دوسری چیزوں کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔ [40]کفار کا بھی یہی حال ہے، ان کے دلوں کو تہ در تہ تاریکیوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ طبیعت کی تاریکی، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، اس کے اوپر کفر کی تاریکی، اس کے اوپر جہالت کی تاریکی اور اس کے اوپر ان مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے صادر ہونے والے اعمال کی تاریکی… پس کفار ان اندھیروں میں متحیر، اپنی جہالت میں سرگرداں ، صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے، ضلالت اور گمراہی کے راستوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی توفیق سے محروم کر کے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اور انھیں اپنا نور عطا نہیں کیا۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَجۡعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوۡرًؔا فَمَا لَهٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴾ ’’اور جس کے حصے میں اللہ نور نہ کرے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں ۔‘‘ کیونکہ اس کا نفس ظالم اور جاہل ہے، اس میں کوئی بھلائی اور کوئی روشنی نہیں سوائے اس بھلائی اور روشنی کے جو اس کا رب اسے عطا کر دے… ان دونوں تمثیلوں میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے تمام کفار کے اعمال مراد ہوں ۔ دونوں تمثیلیں کفار کے اعمال پر منطبق ہوتی ہیں اور اعمال کے تعدد اوصاف کی بنا پر ان کو متعدد بیان کیا ہے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں مثالیں الگ الگ گروہوں کے لیے بیان کی گئی ہوں ۔ پہلی تمثیل قائدین کے لیے اور دوسری مثال پیروکاروں کے لیے ہو۔واللہ اعلم۔

النور 24:41

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ، تسبیح کرتا ہے اس کے لیے جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے (بھی) ہر ایک (مخلوق) نے یقینا جان لی ہے اپنی نماز (عبادت) اور اپنی تسبیح اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو کچھ وہ کرتے ہیں (41)اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف ہے واپسی (42) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات و جمادات﴿ وَالطَّيۡرُ صٰٓفّٰتٍ﴾ اور وہ پرندے (جو آسمان میں ) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک نے‘‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ ﴾ ’’جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز اور تسبیح الہام کی ہے خواہ انبیاء ومرسلین کے توسط سے، جیسے جنوں ، انسانوں اور فرشتوں کی نماز اور تسبیح۔ یا اپنی جانب سے الہام کے ذریعے سے، جیسے دیگر مخلوق اور یہ احتمال زیادہ راجح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انھیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں ، جو جزا و سزا کو متضمن ہیں ، اپنے علم کو جمع کر دیا۔آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ﴾ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے… اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کیا ہے… یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں ۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘ [42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی، بعدازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار، تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق، رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:﴿ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔

النور 24:42

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ، تسبیح کرتا ہے اس کے لیے جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے (بھی) ہر ایک (مخلوق) نے یقینا جان لی ہے اپنی نماز (عبادت) اور اپنی تسبیح اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو کچھ وہ کرتے ہیں (41)اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف ہے واپسی (42) [41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات و جمادات﴿ وَالطَّيۡرُ صٰٓفّٰتٍ﴾ اور وہ پرندے (جو آسمان میں ) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک نے‘‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ ﴾ ’’جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز اور تسبیح الہام کی ہے خواہ انبیاء ومرسلین کے توسط سے، جیسے جنوں ، انسانوں اور فرشتوں کی نماز اور تسبیح۔ یا اپنی جانب سے الہام کے ذریعے سے، جیسے دیگر مخلوق اور یہ احتمال زیادہ راجح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انھیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں ، جو جزا و سزا کو متضمن ہیں ، اپنے علم کو جمع کر دیا۔آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ﴾ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے… اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کیا ہے… یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں ۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘ [42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی، بعدازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار، تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق، رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:﴿ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔