Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الفرقان 25:67 – الشعراء 26:15

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الفرقان 25:67
  2. الفرقان 25:68
  3. الفرقان 25:69
  4. الفرقان 25:70
  5. الفرقان 25:71
  6. الفرقان 25:72
  7. الفرقان 25:73
  8. الفرقان 25:74
  9. الفرقان 25:75
  10. الفرقان 25:76
  11. الفرقان 25:77
  12. الشعراء 26:1
  13. الشعراء 26:2
  14. الشعراء 26:3
  15. الشعراء 26:4
  16. الشعراء 26:5
  17. الشعراء 26:6
  18. الشعراء 26:7
  19. الشعراء 26:8
  20. الشعراء 26:9
  21. الشعراء 26:10
  22. الشعراء 26:11
  23. الشعراء 26:12
  24. الشعراء 26:13
  25. الشعراء 26:14
  26. الشعراء 26:15

الفرقان 25:67

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:68

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:69

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:70

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:71

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:72

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:73

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:74

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:75

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:76

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الفرقان 25:77

اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77) [63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔ [64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘ [65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔ [66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔ [67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔ [68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘ [69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔ [70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ [71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔ [72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔ [73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ [74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔ [76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔ [77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

الشعراء 26:1

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:2

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:3

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:4

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:5

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:6

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:7

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:8

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:9

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔ [3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔ [4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘ [5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ [6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ [7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔ [8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔

الشعراء 26:10

اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68) [11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟ [14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ [17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔ [19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔ [22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟ [25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ [27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘ [28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ [33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ [37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔ [40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔ [42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔ [45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ [48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا [51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ [52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔ [56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔ [59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ [62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔ [68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔

الشعراء 26:11

اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68) [11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟ [14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ [17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔ [19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔ [22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟ [25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ [27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘ [28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ [33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ [37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔ [40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔ [42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔ [45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ [48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا [51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ [52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔ [56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔ [59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ [62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔ [68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔

الشعراء 26:12

اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68) [11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟ [14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ [17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔ [19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔ [22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟ [25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ [27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘ [28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ [33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ [37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔ [40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔ [42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔ [45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ [48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا [51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ [52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔ [56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔ [59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ [62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔ [68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔

الشعراء 26:13

اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68) [11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟ [14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ [17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔ [19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔ [22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟ [25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ [27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘ [28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ [33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ [37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔ [40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔ [42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔ [45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ [48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا [51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ [52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔ [56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔ [59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ [62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔ [68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔

الشعراء 26:14

اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68) [11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟ [14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ [17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔ [19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔ [22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟ [25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ [27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘ [28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ [33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ [37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔ [40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔ [42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔ [45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ [48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا [51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ [52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔ [56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔ [59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ [62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔ [68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔

الشعراء 26:15

اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68) [11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟ [14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘ [17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔ [19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔ [22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟ [25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ [27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘ [28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ [33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ [37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔ [40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔ [42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔ [45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ [48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا [51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ [52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔ [56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔ [59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ [62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔ [68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔