Tafsir As-Saadi - Urdu — الشعراء 26:61 – الشعراء 26:84
Contents
- الشعراء 26:61
- الشعراء 26:62
- الشعراء 26:63
- الشعراء 26:64
- الشعراء 26:65
- الشعراء 26:66
- الشعراء 26:67
- الشعراء 26:68
- الشعراء 26:69
- الشعراء 26:70
- الشعراء 26:71
- الشعراء 26:72
- الشعراء 26:73
- الشعراء 26:74
- الشعراء 26:75
- الشعراء 26:76
- الشعراء 26:77
- الشعراء 26:78
- الشعراء 26:79
- الشعراء 26:80
- الشعراء 26:81
- الشعراء 26:82
- الشعراء 26:83
- الشعراء 26:84
الشعراء 26:61
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:62
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:63
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:64
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:65
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:66
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:67
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:68
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
الشعراء 26:69
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:70
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:71
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:72
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:73
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:74
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:75
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:76
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:77
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:78
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:79
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:80
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:81
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:82
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:83
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
الشعراء 26:84
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘