Tafsir As-Saadi - Urdu — الصافات 37:87 – الصافات 37:127
Contents
- الصافات 37:87
- الصافات 37:88
- الصافات 37:89
- الصافات 37:90
- الصافات 37:91
- الصافات 37:92
- الصافات 37:93
- الصافات 37:94
- الصافات 37:95
- الصافات 37:96
- الصافات 37:97
- الصافات 37:98
- الصافات 37:99
- الصافات 37:100
- الصافات 37:101
- الصافات 37:102
- الصافات 37:103
- الصافات 37:104
- الصافات 37:105
- الصافات 37:106
- الصافات 37:107
- الصافات 37:108
- الصافات 37:109
- الصافات 37:110
- الصافات 37:111
- الصافات 37:112
- الصافات 37:113
- الصافات 37:114
- الصافات 37:115
- الصافات 37:116
- الصافات 37:117
- الصافات 37:118
- الصافات 37:119
- الصافات 37:120
- الصافات 37:121
- الصافات 37:122
- الصافات 37:123
- الصافات 37:124
- الصافات 37:125
- الصافات 37:126
- الصافات 37:127
الصافات 37:87
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:88
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:89
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:90
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:91
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:92
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:93
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:94
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:95
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:96
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:97
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:98
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:99
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:100
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:101
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:102
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:103
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:104
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:105
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:106
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:107
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:108
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:109
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:110
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:111
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:112
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:113
اور بے شک اسی (نوح) کے گروہ سے البتہ ابراہیم تھا (83) جبکہ آیا وہ اپنے رب کے پاس پاک صاف دل کے ساتھ (84) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو؟ (85) کیا جھوٹے گھڑے ہوئے معبودوں کو، سوائے اللہ کے، تم چاہتے ہو؟ (86) پس کیا خیال ہے تمھارا جہانوں کے رب کی نسبت؟ (87) پس اس نے دیکھا ایک نظر دیکھنا ستاروں کی طرف (88) پھر کہا: بے شک میں تو بیمار ہوں (89) پس وہ واپس پھرے اس سے پیٹھ پھیرتے ہوئے (90) پس وہ متوجہ ہوا طرف ان کے معبودوں کی اور کہا: کیا نہیں تم کھاتے؟ (91) کیا ہے تمھیں، نہیں تم بولتے؟ (92) پس متوجہ ہوا ان پر مارتا ہوا دائیں ہاتھ سے (93) پس وہ آئے اس کی طرف دوڑتے ہوئے (94) اس نے کہا: کیا تم عبادت کرتے ہو(ان کی) جن کو تم خود تراشتے ہو (95) اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور جو تم کرتے ہو (96) انھوں نے کہا: بناؤ اس کے لیے ایک مکان (آگ جلاؤ ) اور ڈالو اس کو آگ میں (97) پس ارادہ کیا انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا، سو کر دیا ہم نے ان کو نیچا (98) اورکہا اس نے: بے شک میں جانے والا ہوں طرف اپنے رب کی، یقیناً وہ میری رہنمائی کرے گا(99) اے میرے رب! عطا فرما مجھے(لڑکا)صالحین میں سے(100) پس خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے بردبار کی(101) پس جب پہنچ گیا وہ، اس کےساتھ دوڑنے (کی عمر) کو اس نے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں ذبح کر رہا ہوں تجھے، پس دیکھ تو، کیا دیکھتا ہے؟ بیٹے نے کہا، ابا جان! کر گزریے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، یقیناً آپ پائیں گے مجھے، اگر چاہا اللہ نے، صبر کرنے والوں میں سے(102) پس جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے لٹا دیا اس کو کروٹ کے بل (103) اور پکارا ہم نے اسے اے ابراہیم! (104) تحقیق سچ کر دکھایا تو نے (اپنا) خواب، بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (105) بلاشبہ یہ البتہ وہی ہے آزمائش صریح (106) اور بدلے میں دیا ہم نے اس (اسماعیل) کے ذبح کرنے کو عظیم القدر(جانور)(107) اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے پچھلے لوگوں میں(108) کہ سلام ہو اوپر ابراہیم کے(109) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو(110)بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے (111)اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحق(بیٹے) کی، اس حال میں کہ وہ نبی ہو گا (اور)صالحین میں سے(112) اور برکت (نازل) کی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے، اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی ظلم کرنے والا ہے اپنے نفس پر کھلم کھلا(113)
[83، 84] یعنی نوحu اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہu بھی شامل ہیں۔ ﴿اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے‘‘ شرک، شبہات وشہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندۂ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہو گا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہو گی۔ بندۂ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ ہے کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
[87-85] اس لیے حضرت ابراہیمu نے محض اللہ کے لیے مخلوق کی خیرخواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتدا کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ ﴿اَىِٕفۡكًا اٰلِهَةً دُوۡنَ اللّٰهِ تُرِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہ تمھارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمھیں کسی نقص کا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم سر اور شریک بنا ڈالے۔
[93-88] حضرت ابراہیمu نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا ، چنانچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لیے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیمu کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آ گیا آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے۔ ﴿فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِي النُّجُوۡمِۙ ۰۰ فَقَالَ اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’تب انھوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔‘‘ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیمu نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے ، ایک موقع پر فرمایا:﴿اِنِّيۡ سَقِيۡمٌ ﴾ ’’میں بیمار ہوں‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا: ﴿قَالَ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا: ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ ابراہیمu کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبے کی تکمیل کریں گے ﴿فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔‘‘ پس ابراہیمu کو موقع مل گیا۔ ﴿فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمۡ ﴾ یعنی ابراہیمu جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے ﴿فَقَالَ﴾ اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا: ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَۚ۰۰ مَا لَكُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴾’’تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمھیں کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے جو حیوانات سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھا پی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔﴿فَرَاغَ عَلَيۡهِمۡ ضَرۡبًـۢا بِالۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’، پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتیٰ کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
[96-94]﴿فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَيۡهِ يَزِفُّوۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ بھاگے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍59) ’’ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا:﴿سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهٗۤ اِبۡرٰهِيۡمُ﴾(الانبیاء: 21/60) ’’ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا:﴿تَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍57) ’’اللہ کی قسم! میں تمھاری عدم موجودگی میں، تمھارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو زجروتوبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ۰۰ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ١ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ۰۰قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾(الانبیاء: 21؍63-66) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو، انھوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بولے :بے شک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے:تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا: تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟‘‘﴿قَالَ ﴾ اس مقام پر ابراہیمu نے فرمایا: ﴿اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ﴾ یعنی جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو۔ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو؟ جس نے ﴿خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُوۡنَ۰۰ ﴾’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔‘‘
[97، 98]﴿قَالُوا ابۡنُوۡا لَهٗ بُنۡيَانًا﴾ ’’تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ ۔‘‘ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلۡقُوۡهُ فِي الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو‘‘ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیمu کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
[99]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب انھوں نے ابراہیمu کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیمu نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دور کر دیا تو: ﴿قَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سرزمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ ﴿سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ١ۖٞ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا ﴾(مریم: 19؍48) ’’میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔‘‘
[100]﴿رَبِّ هَبۡ لِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب مجھے عطا کر‘‘ بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگوں میں سے ہو‘‘ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
[101] اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔‘‘ بلاشک اس سے مراد اسماعیلu ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاقu کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاقu کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے:﴿فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ہود: 11؍71) ’’ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاقu ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیلu کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
[102]﴿فَلَمَّا بَلَغَ ﴾ ’’پس جب پہنچا‘‘ لڑکا ﴿مَعَهُ السَّعۡيَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہو گئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہو چکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَرٰى فِي الۡمَنَامِ اَنِّيۡۤ اَذۡبَحُكَ ﴾ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ﴿فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰى ﴾’’پس تم سوچو کہ تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔﴿قَالَ ﴾ اسماعیلu نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا:﴿يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ﴾ اباجان اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریے ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ حضرت اسماعیلu نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔
[103]﴿فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا ﴾ جب حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا، حضرت ابراہیمu نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہو گئی۔ ﴿وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ﴾ یعنی ابراہیمu نے اسماعیلu کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لیے ان کو لٹائیں۔ اسماعیلu اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیمu ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
[104، 105]﴿وَنَادَيۡنٰهُ ﴾ یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی:﴿اَنۡ يّٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ۠ۙ۰۰ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا﴾ ’’اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لیے تمام اسباب اختیار کر لیے تھے، صرف حضرت اسماعیلu کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں‘‘ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
[106]﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’بے شک یہ بات‘‘ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’ البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی‘‘ اس کے ذریعے سے ابراہیمu کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو اسماعیلu عطا فرمائے، حضرت ابراہیمu حضرت اسماعیلu سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیمu کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیلu کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔جب ابراہیمu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ۰۰ ﴾ ’’بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔‘‘
[107]﴿وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔‘‘ یعنی اسماعیلu کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیمu نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیلu کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے ،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
[108، 109]﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیمu کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیمu کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیمu پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ﴾(النحل: 27؍59) ’’اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
[110]﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مرتبہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کر دیتے ہیں اور انھیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
[111]﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾(الانعام:6؍75) ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘
[112]﴿وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاقu کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوبu کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاقu کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
[113]﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیلu کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاقu کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ مُبِيۡنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَبٰرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ وَعَلٰۤى اِسۡحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
الصافات 37:114
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:115
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:116
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:117
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:118
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:119
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:120
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:121
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:122
اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)
[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
الصافات 37:123
اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)
[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔
الصافات 37:124
اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)
[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔
الصافات 37:125
اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)
[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔
الصافات 37:126
اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)
[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔
الصافات 37:127
اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)
[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔