Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — الصافات 37:129 – ص 38:37

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. الصافات 37:129
  2. الصافات 37:130
  3. الصافات 37:131
  4. الصافات 37:132
  5. الصافات 37:133
  6. الصافات 37:134
  7. الصافات 37:135
  8. الصافات 37:136
  9. الصافات 37:137
  10. الصافات 37:138
  11. الصافات 37:139
  12. الصافات 37:140
  13. الصافات 37:141
  14. الصافات 37:142
  15. الصافات 37:143
  16. الصافات 37:144
  17. الصافات 37:145
  18. الصافات 37:146
  19. الصافات 37:147
  20. الصافات 37:148
  21. الصافات 37:149
  22. الصافات 37:150
  23. الصافات 37:151
  24. الصافات 37:152
  25. الصافات 37:153
  26. الصافات 37:154
  27. الصافات 37:155
  28. الصافات 37:156
  29. الصافات 37:157
  30. الصافات 37:158
  31. الصافات 37:159
  32. الصافات 37:160
  33. الصافات 37:161
  34. الصافات 37:162
  35. الصافات 37:163
  36. الصافات 37:164
  37. الصافات 37:165
  38. الصافات 37:166
  39. الصافات 37:167
  40. الصافات 37:168
  41. الصافات 37:169
  42. الصافات 37:170
  43. الصافات 37:171
  44. الصافات 37:172
  45. الصافات 37:173
  46. الصافات 37:174
  47. الصافات 37:175
  48. الصافات 37:176
  49. الصافات 37:177
  50. الصافات 37:178
  51. الصافات 37:179
  52. الصافات 37:180
  53. الصافات 37:181
  54. الصافات 37:182
  55. ص 38:1
  56. ص 38:2
  57. ص 38:3
  58. ص 38:4
  59. ص 38:5
  60. ص 38:6
  61. ص 38:7
  62. ص 38:8
  63. ص 38:9
  64. ص 38:10
  65. ص 38:11
  66. ص 38:12
  67. ص 38:13
  68. ص 38:14
  69. ص 38:15
  70. ص 38:16
  71. ص 38:17
  72. ص 38:18
  73. ص 38:19
  74. ص 38:20
  75. ص 38:21
  76. ص 38:22
  77. ص 38:23
  78. ص 38:24
  79. ص 38:25
  80. ص 38:26
  81. ص 38:27
  82. ص 38:28
  83. ص 38:29
  84. ص 38:30
  85. ص 38:31
  86. ص 38:32
  87. ص 38:33
  88. ص 38:34
  89. ص 38:35
  90. ص 38:36
  91. ص 38:37

الصافات 37:129

اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132) [132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔

الصافات 37:130

اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132) [132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔

الصافات 37:131

اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132) [132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔

الصافات 37:132

اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132) [132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔

الصافات 37:133

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138) [138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

الصافات 37:134

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138) [138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

الصافات 37:135

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138) [138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

الصافات 37:136

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138) [138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

الصافات 37:137

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138) [138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

الصافات 37:138

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138) [138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

الصافات 37:139

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:140

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:141

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:142

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:143

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:144

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:145

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:146

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:147

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:148

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148) [139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ [140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔ [141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ [142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔ [144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔ [145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔ [146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ [147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

الصافات 37:149

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:150

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:151

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:152

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:153

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:154

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:155

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:156

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:157

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157) [149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ [150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔ [157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

الصافات 37:158

اور ٹھہرایا انھوں نے درمیان اس (اللہ) کے اور درمیان جنوں کے رشتہ، اور البتہ تحقیق جان لیا جنوں نے کہ بلاشبہ وہ حاضر کیے جائیں گے(158) پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو وہ (اس کی بابت) بیان کرتے ہیں(159) سوائے بندگان الٰہی کے (جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں(160) [158] یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ [159، 160]﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیمِ کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کررہے ہیں جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اسے جن اوصاف سے موصوف کیا اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ نہیں کہا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صرف انھی اوصاف سے موصوف کیا ہے جو اس کے جلال کے لائق ہیں اور بایں وجہ وہ مخلص بندے ہیں۔

الصافات 37:159

اور ٹھہرایا انھوں نے درمیان اس (اللہ) کے اور درمیان جنوں کے رشتہ، اور البتہ تحقیق جان لیا جنوں نے کہ بلاشبہ وہ حاضر کیے جائیں گے(158) پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو وہ (اس کی بابت) بیان کرتے ہیں(159) سوائے بندگان الٰہی کے (جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں(160) [158] یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ [159، 160]﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیمِ کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کررہے ہیں جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اسے جن اوصاف سے موصوف کیا اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ نہیں کہا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صرف انھی اوصاف سے موصوف کیا ہے جو اس کے جلال کے لائق ہیں اور بایں وجہ وہ مخلص بندے ہیں۔

الصافات 37:160

اور ٹھہرایا انھوں نے درمیان اس (اللہ) کے اور درمیان جنوں کے رشتہ، اور البتہ تحقیق جان لیا جنوں نے کہ بلاشبہ وہ حاضر کیے جائیں گے(158) پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو وہ (اس کی بابت) بیان کرتے ہیں(159) سوائے بندگان الٰہی کے (جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں(160) [158] یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ [159، 160]﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیمِ کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کررہے ہیں جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اسے جن اوصاف سے موصوف کیا اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ نہیں کہا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صرف انھی اوصاف سے موصوف کیا ہے جو اس کے جلال کے لائق ہیں اور بایں وجہ وہ مخلص بندے ہیں۔

الصافات 37:161

بے شک تم اور(وہ) جن کی تم عبادت کرتے ہو(161) نہیں ہو تم اس (اللہ) کے خلاف بہکانے والے (162) مگر اسی کو جو ہے جانے والا جہنم میں (163) [163-161] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے مشرکو! تم اور تمھارے خود ساختہ الٰہ کسی کو فتنہ میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کرنا مقصود ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔

الصافات 37:162

بے شک تم اور(وہ) جن کی تم عبادت کرتے ہو(161) نہیں ہو تم اس (اللہ) کے خلاف بہکانے والے (162) مگر اسی کو جو ہے جانے والا جہنم میں (163) [163-161] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے مشرکو! تم اور تمھارے خود ساختہ الٰہ کسی کو فتنہ میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کرنا مقصود ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔

الصافات 37:163

بے شک تم اور(وہ) جن کی تم عبادت کرتے ہو(161) نہیں ہو تم اس (اللہ) کے خلاف بہکانے والے (162) مگر اسی کو جو ہے جانے والا جہنم میں (163) [163-161] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے مشرکو! تم اور تمھارے خود ساختہ الٰہ کسی کو فتنہ میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کرنا مقصود ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔

الصافات 37:164

اور نہیں ہے ہم میں سے (کوئی) مگر اس کے لیے مرتبہ ہے معلوم(اللہ کے نزدیک)(164) اور بلاشبہ ہم البتہ صف باندھے، کھڑے رہنے والے ہیں (165) اور بے شک ہم البتہ تسبیح (پاکیزگی بیان) کرنے والے ہیں(166) [166-164] یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے براء ت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک مقام اور کسی تدبیر کی ذمہ داری سونپی ہے وہ اس سے تجاوز کر سکتے ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿وَّاِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ﴾ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خدمت میں صف آرا ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور بے شک ہم پاکی بیان کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ہر ایسے وصف سے جو اس کی کبریائی کے لائق نہیں۔ بایں ہمہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے بہتان سے بلندوبالاتر ہے۔

الصافات 37:165

اور نہیں ہے ہم میں سے (کوئی) مگر اس کے لیے مرتبہ ہے معلوم(اللہ کے نزدیک)(164) اور بلاشبہ ہم البتہ صف باندھے، کھڑے رہنے والے ہیں (165) اور بے شک ہم البتہ تسبیح (پاکیزگی بیان) کرنے والے ہیں(166) [166-164] یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے براء ت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک مقام اور کسی تدبیر کی ذمہ داری سونپی ہے وہ اس سے تجاوز کر سکتے ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿وَّاِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ﴾ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خدمت میں صف آرا ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور بے شک ہم پاکی بیان کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ہر ایسے وصف سے جو اس کی کبریائی کے لائق نہیں۔ بایں ہمہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے بہتان سے بلندوبالاتر ہے۔

الصافات 37:166

اور نہیں ہے ہم میں سے (کوئی) مگر اس کے لیے مرتبہ ہے معلوم(اللہ کے نزدیک)(164) اور بلاشبہ ہم البتہ صف باندھے، کھڑے رہنے والے ہیں (165) اور بے شک ہم البتہ تسبیح (پاکیزگی بیان) کرنے والے ہیں(166) [166-164] یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے براء ت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک مقام اور کسی تدبیر کی ذمہ داری سونپی ہے وہ اس سے تجاوز کر سکتے ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿وَّاِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ﴾ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خدمت میں صف آرا ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور بے شک ہم پاکی بیان کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ہر ایسے وصف سے جو اس کی کبریائی کے لائق نہیں۔ بایں ہمہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے بہتان سے بلندوبالاتر ہے۔

الصافات 37:167

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:168

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:169

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:170

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:171

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:172

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:173

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:174

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:175

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:176

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:177

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:178

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:179

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:180

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:181

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

الصافات 37:182

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182) [170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ [179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔ [182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔

ص 38:1

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:2

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:3

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:4

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:5

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:6

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:7

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:8

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:9

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:10

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:11

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11) [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ [2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ [3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ [4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘ [5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ [6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔ [7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔ [8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ [9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔ [10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟ [11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘

ص 38:12

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15) [15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔

ص 38:13

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15) [15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔

ص 38:14

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15) [15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔

ص 38:15

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15) [15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔

ص 38:16

اور (کافروں نے) کہا: اے ہمارے رب! جلدی دے ہمیں ہمارا حصہ پہلے یوم حساب سے (16) صبر کیجیے ان باتوں پرجو وہ کہتے ہیں اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤ د صاحبِ قوت کو، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (17) [16] یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن سے پہلے۔‘‘ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمدﷺ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔ [17] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِهَا ﴾(طٰہٰ:20؍130)(اے محمد!ﷺ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔‘‘ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ دu ہیں وہ ﴿ذَا الۡاَيۡدِ ﴾ ’’صاحب قوت تھے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

ص 38:17

اور (کافروں نے) کہا: اے ہمارے رب! جلدی دے ہمیں ہمارا حصہ پہلے یوم حساب سے (16) صبر کیجیے ان باتوں پرجو وہ کہتے ہیں اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤ د صاحبِ قوت کو، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (17) [16] یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن سے پہلے۔‘‘ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمدﷺ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔ [17] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِهَا ﴾(طٰہٰ:20؍130)(اے محمد!ﷺ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔‘‘ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ دu ہیں وہ ﴿ذَا الۡاَيۡدِ ﴾ ’’صاحب قوت تھے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20) [18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔ [20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔

ص 38:18

بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20) [18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔ [20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔

ص 38:19

بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20) [18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔ [20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔

ص 38:20

بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20) [18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔ [20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔

ص 38:21

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26) [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ [22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘ [23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ [25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ [26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

ص 38:22

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26) [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ [22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘ [23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ [25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ [26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

ص 38:23

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26) [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ [22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘ [23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ [25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ [26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

ص 38:24

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26) [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ [22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘ [23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ [25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ [26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

ص 38:25

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26) [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ [22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘ [23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ [25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ [26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

ص 38:26

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26) [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ [22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘ [23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ [24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ [25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ [26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

ص 38:27

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29) [27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔ [28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔ [29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔

ص 38:28

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29) [27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔ [28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔ [29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔

ص 38:29

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29) [27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔ [28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔ [29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔

ص 38:30

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:31

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:32

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:33

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:34

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:35

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:36

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

ص 38:37

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40) [30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ [33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔ [34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ [39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ [40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔