Tafsir As-Saadi - Urdu — غافر 40:35 – غافر 40:75
Contents
- غافر 40:35
- غافر 40:36
- غافر 40:37
- غافر 40:38
- غافر 40:39
- غافر 40:40
- غافر 40:41
- غافر 40:42
- غافر 40:43
- غافر 40:44
- غافر 40:45
- غافر 40:46
- غافر 40:47
- غافر 40:48
- غافر 40:49
- غافر 40:50
- غافر 40:51
- غافر 40:52
- غافر 40:53
- غافر 40:54
- غافر 40:55
- غافر 40:56
- غافر 40:57
- غافر 40:58
- غافر 40:59
- غافر 40:60
- غافر 40:61
- غافر 40:62
- غافر 40:63
- غافر 40:64
- غافر 40:65
- غافر 40:66
- غافر 40:67
- غافر 40:68
- غافر 40:69
- غافر 40:70
- غافر 40:71
- غافر 40:72
- غافر 40:73
- غافر 40:74
- غافر 40:75
غافر 40:35
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:36
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:37
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:38
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:39
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:40
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:41
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:42
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:43
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:44
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:45
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:46
[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔
غافر 40:47
اور جب وہ باہم جھگڑیں گے جہنم میں، پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنھوں نے تکبر کیا تھا، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے تابع، کیا پس تم ہٹاؤ گے ہم سے کچھ حصہ آگ سے؟ (47) کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے تکبر کیا تھا، بے شک ہم سب ہی اس(آگ) میں ہیں، بلاشبہ اللہ نے تحقیق فیصلہ (بھی)کردیا ہے درمیان بندوں کے (48) اورکہیں گے وہ (سب)لوگ جو آگ میں ہوں گے دربانان جہنم سے، دعا کرو تم اپنے رب سے ہلکا کر دے وہ ہم سے کسی دن کچھ عذاب(49) وہ کہیں گے، کیا نہیں تھے آتے تمھارے پاس تمھارے رسول ساتھ واضح دلائل کے؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، وہ کہیں گے، پس تم (خود ہی) دعا کرو اور نہیں ہو گی دعا کافروں کی مگر تباہی ہی میں (50)
[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِي النَّارِ ﴾’’اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔﴿فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس ضعفاء کہیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا ﴾ ’’ہم تمھارے تابع تھے۔‘‘ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔‘‘ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔
[48]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑے آدمی کہیں گے۔‘‘ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ ﴾ ’’ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔‘‘ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔
[49]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِي النَّارِ ﴾ ’’جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔‘‘ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔‘‘ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔
[50]﴿قَالُوۡۤا ﴾ تو جہنم کے داروغے ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی، یہ کہیں گے:﴿اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’کیا تمھارے پاس تمھارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟‘‘ ان دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمھیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے:﴿فَادۡعُوۡا ﴾ تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمھیں کوئی فائدہ دے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿وَمَا دُعٰٓؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ یعنی ان کی دعا اور پکار اکارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو ساقط کر دیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔
غافر 40:48
اور جب وہ باہم جھگڑیں گے جہنم میں، پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنھوں نے تکبر کیا تھا، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے تابع، کیا پس تم ہٹاؤ گے ہم سے کچھ حصہ آگ سے؟ (47) کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے تکبر کیا تھا، بے شک ہم سب ہی اس(آگ) میں ہیں، بلاشبہ اللہ نے تحقیق فیصلہ (بھی)کردیا ہے درمیان بندوں کے (48) اورکہیں گے وہ (سب)لوگ جو آگ میں ہوں گے دربانان جہنم سے، دعا کرو تم اپنے رب سے ہلکا کر دے وہ ہم سے کسی دن کچھ عذاب(49) وہ کہیں گے، کیا نہیں تھے آتے تمھارے پاس تمھارے رسول ساتھ واضح دلائل کے؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، وہ کہیں گے، پس تم (خود ہی) دعا کرو اور نہیں ہو گی دعا کافروں کی مگر تباہی ہی میں (50)
[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِي النَّارِ ﴾’’اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔﴿فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس ضعفاء کہیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا ﴾ ’’ہم تمھارے تابع تھے۔‘‘ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔‘‘ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔
[48]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑے آدمی کہیں گے۔‘‘ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ ﴾ ’’ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔‘‘ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔
[49]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِي النَّارِ ﴾ ’’جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔‘‘ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔‘‘ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔
[50]﴿قَالُوۡۤا ﴾ تو جہنم کے داروغے ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی، یہ کہیں گے:﴿اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’کیا تمھارے پاس تمھارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟‘‘ ان دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمھیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے:﴿فَادۡعُوۡا ﴾ تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمھیں کوئی فائدہ دے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿وَمَا دُعٰٓؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ یعنی ان کی دعا اور پکار اکارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو ساقط کر دیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔
غافر 40:49
اور جب وہ باہم جھگڑیں گے جہنم میں، پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنھوں نے تکبر کیا تھا، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے تابع، کیا پس تم ہٹاؤ گے ہم سے کچھ حصہ آگ سے؟ (47) کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے تکبر کیا تھا، بے شک ہم سب ہی اس(آگ) میں ہیں، بلاشبہ اللہ نے تحقیق فیصلہ (بھی)کردیا ہے درمیان بندوں کے (48) اورکہیں گے وہ (سب)لوگ جو آگ میں ہوں گے دربانان جہنم سے، دعا کرو تم اپنے رب سے ہلکا کر دے وہ ہم سے کسی دن کچھ عذاب(49) وہ کہیں گے، کیا نہیں تھے آتے تمھارے پاس تمھارے رسول ساتھ واضح دلائل کے؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، وہ کہیں گے، پس تم (خود ہی) دعا کرو اور نہیں ہو گی دعا کافروں کی مگر تباہی ہی میں (50)
[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِي النَّارِ ﴾’’اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔﴿فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس ضعفاء کہیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا ﴾ ’’ہم تمھارے تابع تھے۔‘‘ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔‘‘ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔
[48]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑے آدمی کہیں گے۔‘‘ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ ﴾ ’’ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔‘‘ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔
[49]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِي النَّارِ ﴾ ’’جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔‘‘ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔‘‘ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔
[50]﴿قَالُوۡۤا ﴾ تو جہنم کے داروغے ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی، یہ کہیں گے:﴿اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’کیا تمھارے پاس تمھارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟‘‘ ان دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمھیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے:﴿فَادۡعُوۡا ﴾ تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمھیں کوئی فائدہ دے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿وَمَا دُعٰٓؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ یعنی ان کی دعا اور پکار اکارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو ساقط کر دیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔
غافر 40:50
اور جب وہ باہم جھگڑیں گے جہنم میں، پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنھوں نے تکبر کیا تھا، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے تابع، کیا پس تم ہٹاؤ گے ہم سے کچھ حصہ آگ سے؟ (47) کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے تکبر کیا تھا، بے شک ہم سب ہی اس(آگ) میں ہیں، بلاشبہ اللہ نے تحقیق فیصلہ (بھی)کردیا ہے درمیان بندوں کے (48) اورکہیں گے وہ (سب)لوگ جو آگ میں ہوں گے دربانان جہنم سے، دعا کرو تم اپنے رب سے ہلکا کر دے وہ ہم سے کسی دن کچھ عذاب(49) وہ کہیں گے، کیا نہیں تھے آتے تمھارے پاس تمھارے رسول ساتھ واضح دلائل کے؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، وہ کہیں گے، پس تم (خود ہی) دعا کرو اور نہیں ہو گی دعا کافروں کی مگر تباہی ہی میں (50)
[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِي النَّارِ ﴾’’اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔﴿فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس ضعفاء کہیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا ﴾ ’’ہم تمھارے تابع تھے۔‘‘ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔‘‘ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔
[48]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑے آدمی کہیں گے۔‘‘ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ ﴾ ’’ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔‘‘ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔
[49]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِي النَّارِ ﴾ ’’جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔‘‘ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔‘‘ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔
[50]﴿قَالُوۡۤا ﴾ تو جہنم کے داروغے ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی، یہ کہیں گے:﴿اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’کیا تمھارے پاس تمھارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟‘‘ ان دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمھیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے:﴿فَادۡعُوۡا ﴾ تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمھیں کوئی فائدہ دے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿وَمَا دُعٰٓؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ یعنی ان کی دعا اور پکار اکارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو ساقط کر دیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔
غافر 40:51
بلاشبہ ہم البتہ مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے زندگانی ٔدنیا میں اور اس دن کہ (جب) کھڑے ہوں گے گواہ (51) اس دن نہیں نفع دے گی ظالموں کو معذرت ان کی اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہوگا (52)
[ً51] جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لیے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا:﴿اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’ہم یقینا اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ﴾ ’’اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔‘‘ اور آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف جنگ کی۔
[52]﴿يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ الظّٰلِمِيۡنَ مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’(جب وہ معذرت کریں گے تو) ظالموں کی معذرت اس دن انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔‘‘ ﴿وَلَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴾ ’’اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔‘‘ یعنی بہت برا گھر جو وہاں داخل ہونے والوں کو بہت تکلیف دے گا۔
غافر 40:52
بلاشبہ ہم البتہ مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے زندگانی ٔدنیا میں اور اس دن کہ (جب) کھڑے ہوں گے گواہ (51) اس دن نہیں نفع دے گی ظالموں کو معذرت ان کی اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہوگا (52)
[ً51] جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لیے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا:﴿اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’ہم یقینا اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ﴾ ’’اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔‘‘ اور آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف جنگ کی۔
[52]﴿يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ الظّٰلِمِيۡنَ مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’(جب وہ معذرت کریں گے تو) ظالموں کی معذرت اس دن انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔‘‘ ﴿وَلَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴾ ’’اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔‘‘ یعنی بہت برا گھر جو وہاں داخل ہونے والوں کو بہت تکلیف دے گا۔
غافر 40:53
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو ہدایت اوروارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا (53) برائے ہدایت اور نصیحت ارباب عقل کے لیے (54) پس صبر کیجیے! بلاشبہ وعدہ اللہ کا سچا ہے اور معافی مانگیے اپنے گناہ کی اور پاکیزگی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو اور صبح کو (55)
[53، 54] موسیٰu اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰu کو ﴿الۡهُدٰؔى ﴾ ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نوازا جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَاَوۡرَثۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا‘‘ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف ﴿لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔
[55]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’(اے رسول!) صبر کیجیے‘‘ جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک وشبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ ہے جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لیے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسّک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ﴿وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ ﴾ ’’اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔‘‘ یعنی جو آپ کے لیے فوزوفلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکروہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا۔ خاص طور پر ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ ﴾ ’’صبح و شام کو‘‘ جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اذکارو وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد ملتی ہے۔
غافر 40:54
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو ہدایت اوروارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا (53) برائے ہدایت اور نصیحت ارباب عقل کے لیے (54) پس صبر کیجیے! بلاشبہ وعدہ اللہ کا سچا ہے اور معافی مانگیے اپنے گناہ کی اور پاکیزگی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو اور صبح کو (55)
[53، 54] موسیٰu اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰu کو ﴿الۡهُدٰؔى ﴾ ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نوازا جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَاَوۡرَثۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا‘‘ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف ﴿لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔
[55]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’(اے رسول!) صبر کیجیے‘‘ جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک وشبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ ہے جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لیے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسّک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ﴿وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ ﴾ ’’اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔‘‘ یعنی جو آپ کے لیے فوزوفلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکروہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا۔ خاص طور پر ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ ﴾ ’’صبح و شام کو‘‘ جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اذکارو وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد ملتی ہے۔
غافر 40:55
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو ہدایت اوروارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا (53) برائے ہدایت اور نصیحت ارباب عقل کے لیے (54) پس صبر کیجیے! بلاشبہ وعدہ اللہ کا سچا ہے اور معافی مانگیے اپنے گناہ کی اور پاکیزگی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو اور صبح کو (55)
[53، 54] موسیٰu اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰu کو ﴿الۡهُدٰؔى ﴾ ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نوازا جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَاَوۡرَثۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا‘‘ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف ﴿لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔
[55]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’(اے رسول!) صبر کیجیے‘‘ جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک وشبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ ہے جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لیے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسّک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ﴿وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ ﴾ ’’اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔‘‘ یعنی جو آپ کے لیے فوزوفلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکروہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا۔ خاص طور پر ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ ﴾ ’’صبح و شام کو‘‘ جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اذکارو وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد ملتی ہے۔
غافر 40:56
بلاشبہ وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جو آئی ہو ان کے پاس، نہیں ہے ان کے سینوں میں مگر بڑائی (کا خبط) نہیں ہیں وہ پہنچنے والے اس تک، پس پناہ مانگیے اللہ سے، بلاشبہ وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (56)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو باطل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کا ابطال کرنے کے لیے کسی دلیل اور حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، ان کا یہ جدال، حق اور اس کے لانے والے کے بارے میں، ان کے سینوں میں موجود تکبر کی وجہ سے صادر ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطل نظریات کے ذریعے سے حق پر غالب آنا چاہتے ہیں اور یہی ان کا مقصد اور یہی ان کی مراد ہےمگر ان کایہ مقصد کبھی حاصل نہ ہو گا اور ان کی یہ مراد کبھی پوری نہ ہو گی۔ یہ صریح نص اور واضح بشارت ہے کہ جو کوئی حق کے خلاف بحث و جدال کرتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جو حق کے خلاف تکبر کا رویہ رکھتا ہے وہ نہایت ذلیل وخوار ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’ لہٰذا آپ (ان کی شرارتوں سے) اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ کی پناہ طلب کریں۔ یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ آپ کس چیز سے پناہ طلب کریں؟ درحقیقت اس سے عموم مراد ہے، یعنی کبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں جو حق کے مقابلے میں تکبر کا موجب ہے۔ شیاطین جن و انس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں اور ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ وہ تمام آوازوں کو ان کے اختلاف کے باوجود سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ﴾ تمام مرئیات، خواہ وہ کسی بھی زمان و مکان میں ہوں، اس کی نظر میں ہیں۔
غافر 40:57
البتہ پیدائش آسمانوں اور زمین کی زیادہ بڑی (بات) ہے لوگوں کی پیدائش سے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (57) اور نہیں برابر ہوتاہے اندھا اوردیکھنے والا اور وہ لوگ جوایمان لائے اورعمل کیے انھوں نے نیک اور نہ برائی کرنے والا، بہت تھوڑی ہی تم نصیحت پکڑتے ہو (58) بلاشبہ قیامت البتہ آنے والی ہے، نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے۔ کیونکہ انسان آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت سے بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لیے حیات بعدالموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعدالموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غوروفکر نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔
[58]﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ۙ۬ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَلَا الۡمُسِيۡٓءُ ﴾ ’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کیے ،وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تم کم ہی نصیحت پکڑتے ہو‘‘ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیروشر کے مقامات اور نیکوکاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔
[59]﴿اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
غافر 40:58
البتہ پیدائش آسمانوں اور زمین کی زیادہ بڑی (بات) ہے لوگوں کی پیدائش سے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (57) اور نہیں برابر ہوتاہے اندھا اوردیکھنے والا اور وہ لوگ جوایمان لائے اورعمل کیے انھوں نے نیک اور نہ برائی کرنے والا، بہت تھوڑی ہی تم نصیحت پکڑتے ہو (58) بلاشبہ قیامت البتہ آنے والی ہے، نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے۔ کیونکہ انسان آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت سے بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لیے حیات بعدالموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعدالموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غوروفکر نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔
[58]﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ۙ۬ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَلَا الۡمُسِيۡٓءُ ﴾ ’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کیے ،وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تم کم ہی نصیحت پکڑتے ہو‘‘ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیروشر کے مقامات اور نیکوکاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔
[59]﴿اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
غافر 40:59
البتہ پیدائش آسمانوں اور زمین کی زیادہ بڑی (بات) ہے لوگوں کی پیدائش سے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (57) اور نہیں برابر ہوتاہے اندھا اوردیکھنے والا اور وہ لوگ جوایمان لائے اورعمل کیے انھوں نے نیک اور نہ برائی کرنے والا، بہت تھوڑی ہی تم نصیحت پکڑتے ہو (58) بلاشبہ قیامت البتہ آنے والی ہے، نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے۔ کیونکہ انسان آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت سے بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لیے حیات بعدالموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعدالموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غوروفکر نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔
[58]﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ۙ۬ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَلَا الۡمُسِيۡٓءُ ﴾ ’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کیے ،وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تم کم ہی نصیحت پکڑتے ہو‘‘ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیروشر کے مقامات اور نیکوکاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔
[59]﴿اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
غافر 40:60
اورکہا تمھارے رب نے، پکارو تم مجھے میں قبول کروں گا تمھاری پکار، بلاشبہ وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل ہو کر (60)
[60] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انھیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں... یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ… اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور ان متکبرین کو وعید سنائی ہے جو تکبر کی بنا پر اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِيۡ سَيَدۡخُلُوۡنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں وہ جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے تکبر کی پاداش میں، ان کے لیے عذاب اور رسوائی کو اکٹھا کر دیا جائے گا۔
ان آیات کریمہ میں غوروفکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کے لامحدود فضل و کرم، اس کے لیے وجوب شکر، اس کی قدت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کے وسیع اقتدار، تمام اشیاء کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کے تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمدوثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود حقیقی ہے اس کے سوا جس طرح کوئی ہستی ربوبیت کی مستحق نہیں اسی طرح عبودیت کی مستحق نہیں۔ یہ حقیقت اس امر کی موجب ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کے خوف اور اس پر امید سے لبریز ہوں۔ یہ دو امور ہیں جن کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کو تخلیق فرمایا… اور وہ ہیں معرفت الٰہی اور عبادت الٰہی… یہی دو امور ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقصد مقرر فرمایا ہے۔ یہی دو امور ہر قسم کی بھلائی، خیروفلاح، دینی اور دنیاوی سعادت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، یہی دو امور اللہ کریم کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے بہترین عطیہ ہیں اور یہی دو امور علی الاطلاق لذید ترین چیزیں ہیں۔ اگر بندہ ان دو چیزوں سے محروم ہو جائے تو وہ ہر خیر سے محروم ہو کر ہر شر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو اپنی معرفت و محبت سے لبریز کر دے، ہماری باطنی اور ظاہری تمام حرکات صرف اس کی رضا کے لیے اور صرف اسی کے حکم کے تابع ہوں، کوئی سوال اس کے لیے پورا کرنا مشکل ہے نہ اس کی کوئی عطا اسے لاچار کر سکتی ہے۔
غافر 40:61
اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا) دن کو دکھلانے والا، بلاشبہ اللہ البتہ بڑے فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (61) یہی اللہ رب ہے تمھارا، پیدا کرنے والا ہرچیز کا، نہیں کوئی معبود مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ (62) اسی طرح پھیرے گئے وہ لوگ جو تھے اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے (63) اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت اور اس نے صورتیں بنائیں تمھاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمھاری اور اس نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے، یہی اللہ رب ہے تمھارا، پس بہت بابرکت ہے اللہ رب جہانوں کا (64) وہ زندہ ہے، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس پکارو تم اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے جہانوں کا (65)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھاری خاطر رات کو سیاہ بنایا ﴿لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾’’تاکہ تم اس میں آرام کرسکو‘‘ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمھیں نقصان پہنچتا۔ اور سکون کے حصول کے لیے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کر دیتا ہے جس سے انسان کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند انسانی ضروریات کا حصہ ہے انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہو جاتے ہیں۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ بنایا اللہ تعالیٰ نے ﴿النَّهَارَ مُبۡصِرًا ﴾’’دن کو دکھلانے والا‘‘ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قراء ت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدوفروخت اور کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار وغیرہ اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہے۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ ﴾ ’’بے شک اللہ فضل والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس پر (فَضْلٍ) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ ﴿عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’تمام لوگوں پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(السبا: 34؍13) ’’میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہوں۔
[62]﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب‘‘ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔‘‘ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔‘‘ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
[63]﴿كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ١ؕ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾(التوبۃ: 9؍127) ’’جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
[64]﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے زمین کو ساکن بنایا اور زمین ہی سے تمھیں تمھارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ ﴿وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ﴾ ’’اور آسمان کو چھت‘‘ یعنی آسمان کو زمین کے لیے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ﴿وَّصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ ﴾ ’’اس نے تمھاری شکل بنائی اور تمھاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔‘‘ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین: 95؍4)’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اگر آپ انسان کی خوب صورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکمت کی معرفت چاہتے ہیں تو انسان کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو؟ پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اختلاق میں اور خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔﴿وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور تمھیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔‘‘ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبوسات، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمھیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب ہے‘‘ ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے۔‘‘ جس کی بھلائی اور احسانات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
[65]﴿هُوَ الۡحَيُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادۡعُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾(البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
غافر 40:62
اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا) دن کو دکھلانے والا، بلاشبہ اللہ البتہ بڑے فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (61) یہی اللہ رب ہے تمھارا، پیدا کرنے والا ہرچیز کا، نہیں کوئی معبود مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ (62) اسی طرح پھیرے گئے وہ لوگ جو تھے اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے (63) اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت اور اس نے صورتیں بنائیں تمھاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمھاری اور اس نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے، یہی اللہ رب ہے تمھارا، پس بہت بابرکت ہے اللہ رب جہانوں کا (64) وہ زندہ ہے، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس پکارو تم اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے جہانوں کا (65)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھاری خاطر رات کو سیاہ بنایا ﴿لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾’’تاکہ تم اس میں آرام کرسکو‘‘ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمھیں نقصان پہنچتا۔ اور سکون کے حصول کے لیے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کر دیتا ہے جس سے انسان کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند انسانی ضروریات کا حصہ ہے انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہو جاتے ہیں۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ بنایا اللہ تعالیٰ نے ﴿النَّهَارَ مُبۡصِرًا ﴾’’دن کو دکھلانے والا‘‘ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قراء ت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدوفروخت اور کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار وغیرہ اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہے۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ ﴾ ’’بے شک اللہ فضل والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس پر (فَضْلٍ) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ ﴿عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’تمام لوگوں پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(السبا: 34؍13) ’’میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہوں۔
[62]﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب‘‘ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔‘‘ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔‘‘ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
[63]﴿كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ١ؕ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾(التوبۃ: 9؍127) ’’جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
[64]﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے زمین کو ساکن بنایا اور زمین ہی سے تمھیں تمھارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ ﴿وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ﴾ ’’اور آسمان کو چھت‘‘ یعنی آسمان کو زمین کے لیے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ﴿وَّصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ ﴾ ’’اس نے تمھاری شکل بنائی اور تمھاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔‘‘ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین: 95؍4)’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اگر آپ انسان کی خوب صورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکمت کی معرفت چاہتے ہیں تو انسان کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو؟ پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اختلاق میں اور خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔﴿وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور تمھیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔‘‘ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبوسات، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمھیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب ہے‘‘ ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے۔‘‘ جس کی بھلائی اور احسانات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
[65]﴿هُوَ الۡحَيُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادۡعُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾(البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
غافر 40:63
اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا) دن کو دکھلانے والا، بلاشبہ اللہ البتہ بڑے فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (61) یہی اللہ رب ہے تمھارا، پیدا کرنے والا ہرچیز کا، نہیں کوئی معبود مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ (62) اسی طرح پھیرے گئے وہ لوگ جو تھے اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے (63) اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت اور اس نے صورتیں بنائیں تمھاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمھاری اور اس نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے، یہی اللہ رب ہے تمھارا، پس بہت بابرکت ہے اللہ رب جہانوں کا (64) وہ زندہ ہے، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس پکارو تم اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے جہانوں کا (65)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھاری خاطر رات کو سیاہ بنایا ﴿لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾’’تاکہ تم اس میں آرام کرسکو‘‘ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمھیں نقصان پہنچتا۔ اور سکون کے حصول کے لیے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کر دیتا ہے جس سے انسان کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند انسانی ضروریات کا حصہ ہے انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہو جاتے ہیں۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ بنایا اللہ تعالیٰ نے ﴿النَّهَارَ مُبۡصِرًا ﴾’’دن کو دکھلانے والا‘‘ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قراء ت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدوفروخت اور کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار وغیرہ اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہے۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ ﴾ ’’بے شک اللہ فضل والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس پر (فَضْلٍ) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ ﴿عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’تمام لوگوں پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(السبا: 34؍13) ’’میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہوں۔
[62]﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب‘‘ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔‘‘ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔‘‘ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
[63]﴿كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ١ؕ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾(التوبۃ: 9؍127) ’’جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
[64]﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے زمین کو ساکن بنایا اور زمین ہی سے تمھیں تمھارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ ﴿وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ﴾ ’’اور آسمان کو چھت‘‘ یعنی آسمان کو زمین کے لیے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ﴿وَّصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ ﴾ ’’اس نے تمھاری شکل بنائی اور تمھاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔‘‘ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین: 95؍4)’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اگر آپ انسان کی خوب صورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکمت کی معرفت چاہتے ہیں تو انسان کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو؟ پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اختلاق میں اور خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔﴿وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور تمھیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔‘‘ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبوسات، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمھیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب ہے‘‘ ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے۔‘‘ جس کی بھلائی اور احسانات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
[65]﴿هُوَ الۡحَيُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادۡعُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾(البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
غافر 40:64
اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا) دن کو دکھلانے والا، بلاشبہ اللہ البتہ بڑے فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (61) یہی اللہ رب ہے تمھارا، پیدا کرنے والا ہرچیز کا، نہیں کوئی معبود مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ (62) اسی طرح پھیرے گئے وہ لوگ جو تھے اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے (63) اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت اور اس نے صورتیں بنائیں تمھاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمھاری اور اس نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے، یہی اللہ رب ہے تمھارا، پس بہت بابرکت ہے اللہ رب جہانوں کا (64) وہ زندہ ہے، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس پکارو تم اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے جہانوں کا (65)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھاری خاطر رات کو سیاہ بنایا ﴿لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾’’تاکہ تم اس میں آرام کرسکو‘‘ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمھیں نقصان پہنچتا۔ اور سکون کے حصول کے لیے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کر دیتا ہے جس سے انسان کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند انسانی ضروریات کا حصہ ہے انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہو جاتے ہیں۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ بنایا اللہ تعالیٰ نے ﴿النَّهَارَ مُبۡصِرًا ﴾’’دن کو دکھلانے والا‘‘ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قراء ت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدوفروخت اور کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار وغیرہ اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہے۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ ﴾ ’’بے شک اللہ فضل والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس پر (فَضْلٍ) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ ﴿عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’تمام لوگوں پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(السبا: 34؍13) ’’میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہوں۔
[62]﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب‘‘ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔‘‘ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔‘‘ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
[63]﴿كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ١ؕ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾(التوبۃ: 9؍127) ’’جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
[64]﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے زمین کو ساکن بنایا اور زمین ہی سے تمھیں تمھارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ ﴿وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ﴾ ’’اور آسمان کو چھت‘‘ یعنی آسمان کو زمین کے لیے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ﴿وَّصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ ﴾ ’’اس نے تمھاری شکل بنائی اور تمھاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔‘‘ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین: 95؍4)’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اگر آپ انسان کی خوب صورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکمت کی معرفت چاہتے ہیں تو انسان کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو؟ پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اختلاق میں اور خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔﴿وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور تمھیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔‘‘ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبوسات، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمھیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب ہے‘‘ ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے۔‘‘ جس کی بھلائی اور احسانات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
[65]﴿هُوَ الۡحَيُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادۡعُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾(البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
غافر 40:65
اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا) دن کو دکھلانے والا، بلاشبہ اللہ البتہ بڑے فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (61) یہی اللہ رب ہے تمھارا، پیدا کرنے والا ہرچیز کا، نہیں کوئی معبود مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ (62) اسی طرح پھیرے گئے وہ لوگ جو تھے اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے (63) اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت اور اس نے صورتیں بنائیں تمھاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمھاری اور اس نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے، یہی اللہ رب ہے تمھارا، پس بہت بابرکت ہے اللہ رب جہانوں کا (64) وہ زندہ ہے، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس پکارو تم اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے جہانوں کا (65)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھاری خاطر رات کو سیاہ بنایا ﴿لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾’’تاکہ تم اس میں آرام کرسکو‘‘ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمھیں نقصان پہنچتا۔ اور سکون کے حصول کے لیے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کر دیتا ہے جس سے انسان کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند انسانی ضروریات کا حصہ ہے انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہو جاتے ہیں۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ بنایا اللہ تعالیٰ نے ﴿النَّهَارَ مُبۡصِرًا ﴾’’دن کو دکھلانے والا‘‘ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قراء ت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدوفروخت اور کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار وغیرہ اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہے۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ ﴾ ’’بے شک اللہ فضل والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس پر (فَضْلٍ) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ ﴿عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’تمام لوگوں پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(السبا: 34؍13) ’’میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہوں۔
[62]﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب‘‘ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔‘‘ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔‘‘ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
[63]﴿كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ١ؕ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾(التوبۃ: 9؍127) ’’جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
[64]﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے زمین کو ساکن بنایا اور زمین ہی سے تمھیں تمھارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ ﴿وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ﴾ ’’اور آسمان کو چھت‘‘ یعنی آسمان کو زمین کے لیے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ﴿وَّصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ ﴾ ’’اس نے تمھاری شکل بنائی اور تمھاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔‘‘ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین: 95؍4)’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اگر آپ انسان کی خوب صورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکمت کی معرفت چاہتے ہیں تو انسان کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو؟ پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اختلاق میں اور خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔﴿وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور تمھیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔‘‘ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبوسات، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمھیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب ہے‘‘ ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے۔‘‘ جس کی بھلائی اور احسانات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
[65]﴿هُوَ الۡحَيُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادۡعُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾(البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
غافر 40:66
کہہ دیجیے:بے شک میں تو روک دیا گیا ہوں اس سے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے جبکہ آ گئیں میرے پاس واضح دلیلیں میرے رب کی طرف سے اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ فرمان بردار رہوں میں واسطے رب العالمین کے (66) وہی ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو مٹی سے ، پھر نطفے سے ، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر نکالتا ہے وہ تم کو بچہ بنا کر، پھر تاکہ پہنچو تم اپنی جوانی(کی قوتوں)کو، پھر تاکہ ہو جاؤ تم بوڑھے، اور تم میں سے کچھ وہ ہیں جو فوت کر دیے جاتے ہیں اس سے پہلے ہی اورتاکہ پہنچو تم ایک مدت معین کو اور تاکہ تم عقل پکڑو (67) وہ (اللہ) وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے، پس جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے کسی کام تو وہ صرف (یہ)کہتا ہے اس کو، ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے (68)
[66] اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اپنے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل و براہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیراللہ کی عبادت سے روکا ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! کہہ دیجیے: ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔‘‘ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿لَمَّا جَآءَؔنِيَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّيۡ١ٞ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔‘‘ مجھے اپنے دل، زبان، اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے ’’بڑا حکم‘‘ ہے۔ اسی طرح غیراللہ کی عبادت سے ’’نہی‘‘ علی الاطلاق سب سے بڑی نہی ہے۔
[67] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمھارا خالق ہے اور اس نے تمھیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمھیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم اسی کے لیے عبادت کرو، چنانچہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’وہی تو ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘یعنی اس نے تمھارے جدامجد حضرت آدمu کو مٹی سے تخلیق فرمایا ﴿ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾’’ پھر نطفہ سے‘‘ یہ تمام نوع انسانی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، نطفہ سے خون کا لوتھڑا بننا، پھر بوٹی بننا ، پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔﴿ثُمَّ يُخۡرِجُؔكُمۡ طِفۡلًا ﴾ ’’ پھر تمھیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔‘‘ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کوپہنچ جاؤ اور تمھارے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجائیں۔ ﴿ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا١ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بالغ ہونے سے پہلے ﴿وَلِتَبۡلُغُوۡۤا ﴾’’اور تاکہ تم پہنچ جاؤ ۔‘‘ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمھاری عمر ختم ہو جاتی ہے۔﴿وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمھیں معلوم ہو کہ تمھیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔
[68]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ ’’وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے‘‘ یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(فاطر: 35؍11)’’کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘﴿فَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا ﴾ ’’ پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔‘‘ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
غافر 40:67
کہہ دیجیے:بے شک میں تو روک دیا گیا ہوں اس سے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے جبکہ آ گئیں میرے پاس واضح دلیلیں میرے رب کی طرف سے اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ فرمان بردار رہوں میں واسطے رب العالمین کے (66) وہی ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو مٹی سے ، پھر نطفے سے ، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر نکالتا ہے وہ تم کو بچہ بنا کر، پھر تاکہ پہنچو تم اپنی جوانی(کی قوتوں)کو، پھر تاکہ ہو جاؤ تم بوڑھے، اور تم میں سے کچھ وہ ہیں جو فوت کر دیے جاتے ہیں اس سے پہلے ہی اورتاکہ پہنچو تم ایک مدت معین کو اور تاکہ تم عقل پکڑو (67) وہ (اللہ) وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے، پس جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے کسی کام تو وہ صرف (یہ)کہتا ہے اس کو، ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے (68)
[66] اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اپنے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل و براہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیراللہ کی عبادت سے روکا ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! کہہ دیجیے: ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔‘‘ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿لَمَّا جَآءَؔنِيَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّيۡ١ٞ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔‘‘ مجھے اپنے دل، زبان، اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے ’’بڑا حکم‘‘ ہے۔ اسی طرح غیراللہ کی عبادت سے ’’نہی‘‘ علی الاطلاق سب سے بڑی نہی ہے۔
[67] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمھارا خالق ہے اور اس نے تمھیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمھیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم اسی کے لیے عبادت کرو، چنانچہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’وہی تو ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘یعنی اس نے تمھارے جدامجد حضرت آدمu کو مٹی سے تخلیق فرمایا ﴿ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾’’ پھر نطفہ سے‘‘ یہ تمام نوع انسانی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، نطفہ سے خون کا لوتھڑا بننا، پھر بوٹی بننا ، پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔﴿ثُمَّ يُخۡرِجُؔكُمۡ طِفۡلًا ﴾ ’’ پھر تمھیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔‘‘ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کوپہنچ جاؤ اور تمھارے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجائیں۔ ﴿ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا١ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بالغ ہونے سے پہلے ﴿وَلِتَبۡلُغُوۡۤا ﴾’’اور تاکہ تم پہنچ جاؤ ۔‘‘ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمھاری عمر ختم ہو جاتی ہے۔﴿وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمھیں معلوم ہو کہ تمھیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔
[68]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ ’’وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے‘‘ یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(فاطر: 35؍11)’’کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘﴿فَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا ﴾ ’’ پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔‘‘ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
غافر 40:68
کہہ دیجیے:بے شک میں تو روک دیا گیا ہوں اس سے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے جبکہ آ گئیں میرے پاس واضح دلیلیں میرے رب کی طرف سے اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ فرمان بردار رہوں میں واسطے رب العالمین کے (66) وہی ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو مٹی سے ، پھر نطفے سے ، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر نکالتا ہے وہ تم کو بچہ بنا کر، پھر تاکہ پہنچو تم اپنی جوانی(کی قوتوں)کو، پھر تاکہ ہو جاؤ تم بوڑھے، اور تم میں سے کچھ وہ ہیں جو فوت کر دیے جاتے ہیں اس سے پہلے ہی اورتاکہ پہنچو تم ایک مدت معین کو اور تاکہ تم عقل پکڑو (67) وہ (اللہ) وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے، پس جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے کسی کام تو وہ صرف (یہ)کہتا ہے اس کو، ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے (68)
[66] اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اپنے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل و براہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیراللہ کی عبادت سے روکا ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! کہہ دیجیے: ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔‘‘ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿لَمَّا جَآءَؔنِيَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّيۡ١ٞ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔‘‘ مجھے اپنے دل، زبان، اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے ’’بڑا حکم‘‘ ہے۔ اسی طرح غیراللہ کی عبادت سے ’’نہی‘‘ علی الاطلاق سب سے بڑی نہی ہے۔
[67] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمھارا خالق ہے اور اس نے تمھیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمھیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم اسی کے لیے عبادت کرو، چنانچہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’وہی تو ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘یعنی اس نے تمھارے جدامجد حضرت آدمu کو مٹی سے تخلیق فرمایا ﴿ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾’’ پھر نطفہ سے‘‘ یہ تمام نوع انسانی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، نطفہ سے خون کا لوتھڑا بننا، پھر بوٹی بننا ، پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔﴿ثُمَّ يُخۡرِجُؔكُمۡ طِفۡلًا ﴾ ’’ پھر تمھیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔‘‘ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کوپہنچ جاؤ اور تمھارے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجائیں۔ ﴿ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا١ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بالغ ہونے سے پہلے ﴿وَلِتَبۡلُغُوۡۤا ﴾’’اور تاکہ تم پہنچ جاؤ ۔‘‘ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمھاری عمر ختم ہو جاتی ہے۔﴿وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمھیں معلوم ہو کہ تمھیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔
[68]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ ’’وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے‘‘ یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(فاطر: 35؍11)’’کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘﴿فَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا ﴾ ’’ پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔‘‘ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
غافر 40:69
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
غافر 40:70
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
غافر 40:71
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
غافر 40:72
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
غافر 40:73
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
غافر 40:74
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
غافر 40:75
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔