Tafsir As-Saadi - Urdu — الزخرف 43:37 – الزخرف 43:89
Contents
- الزخرف 43:37
- الزخرف 43:38
- الزخرف 43:39
- الزخرف 43:40
- الزخرف 43:41
- الزخرف 43:42
- الزخرف 43:43
- الزخرف 43:44
- الزخرف 43:45
- الزخرف 43:46
- الزخرف 43:47
- الزخرف 43:48
- الزخرف 43:49
- الزخرف 43:50
- الزخرف 43:51
- الزخرف 43:52
- الزخرف 43:53
- الزخرف 43:54
- الزخرف 43:55
- الزخرف 43:56
- الزخرف 43:57
- الزخرف 43:58
- الزخرف 43:59
- الزخرف 43:60
- الزخرف 43:61
- الزخرف 43:62
- الزخرف 43:63
- الزخرف 43:64
- الزخرف 43:65
- الزخرف 43:66
- الزخرف 43:67
- الزخرف 43:68
- الزخرف 43:69
- الزخرف 43:70
- الزخرف 43:71
- الزخرف 43:72
- الزخرف 43:73
- الزخرف 43:74
- الزخرف 43:75
- الزخرف 43:76
- الزخرف 43:77
- الزخرف 43:78
- الزخرف 43:79
- الزخرف 43:80
- الزخرف 43:81
- الزخرف 43:82
- الزخرف 43:83
- الزخرف 43:84
- الزخرف 43:85
- الزخرف 43:86
- الزخرف 43:87
- الزخرف 43:88
- الزخرف 43:89
الزخرف 43:37
اور جو اندھا ہو جائے (تغافل کرلے) رحمٰن کے ذکر سے تو مقرر کر دیتے ہیں ہم اس کے لیے ایک شیطان کو، پس وہ اس کا ہم نشین ہو جاتا ہے (36) اور بلاشبہ وہ البتہ روکتے ہیں ان کو سیدھے راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ ہدایت پر چلنے والے ہیں (37) یہاں تک کہ جب آئے گا وہ ہمارے پاس تو کہے گا: اے کاش! ہوتی میرے اور تیرے درمیان دوری مشرق اور مغرب کی، پس بہت برا ہے ہم نشین (38) اور ہرگز نہ نفع د ے گی تم کو آج، جبکہ ظلم کیا تم نے، یہ بات کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو(39)
[36] جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ ﴾ یعنی جو منہ موڑتا ہے ﴿عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان کے ذکر سے‘‘ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے۔ جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے ، وہ خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔
[37]﴿وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ یعنی وہ انھیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں ﴿وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ شیطان کے باطل کو مزین کرنے ، اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اور اپنےاعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں، جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، حالانکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔
[38] اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا ۔اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا، تو وہ بدترین حال ہو گا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہو گا جو اس کی مصیبت کی تلافی کر سکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27-29) ’’اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا، کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر ( یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالااور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔‘‘
[39]﴿وَلَنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡيَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّـكُمۡ فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔
الزخرف 43:38
اور جو اندھا ہو جائے (تغافل کرلے) رحمٰن کے ذکر سے تو مقرر کر دیتے ہیں ہم اس کے لیے ایک شیطان کو، پس وہ اس کا ہم نشین ہو جاتا ہے (36) اور بلاشبہ وہ البتہ روکتے ہیں ان کو سیدھے راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ ہدایت پر چلنے والے ہیں (37) یہاں تک کہ جب آئے گا وہ ہمارے پاس تو کہے گا: اے کاش! ہوتی میرے اور تیرے درمیان دوری مشرق اور مغرب کی، پس بہت برا ہے ہم نشین (38) اور ہرگز نہ نفع د ے گی تم کو آج، جبکہ ظلم کیا تم نے، یہ بات کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو(39)
[36] جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ ﴾ یعنی جو منہ موڑتا ہے ﴿عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان کے ذکر سے‘‘ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے۔ جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے ، وہ خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔
[37]﴿وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ یعنی وہ انھیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں ﴿وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ شیطان کے باطل کو مزین کرنے ، اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اور اپنےاعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں، جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، حالانکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔
[38] اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا ۔اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا، تو وہ بدترین حال ہو گا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہو گا جو اس کی مصیبت کی تلافی کر سکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27-29) ’’اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا، کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر ( یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالااور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔‘‘
[39]﴿وَلَنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡيَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّـكُمۡ فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔
الزخرف 43:39
اور جو اندھا ہو جائے (تغافل کرلے) رحمٰن کے ذکر سے تو مقرر کر دیتے ہیں ہم اس کے لیے ایک شیطان کو، پس وہ اس کا ہم نشین ہو جاتا ہے (36) اور بلاشبہ وہ البتہ روکتے ہیں ان کو سیدھے راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ ہدایت پر چلنے والے ہیں (37) یہاں تک کہ جب آئے گا وہ ہمارے پاس تو کہے گا: اے کاش! ہوتی میرے اور تیرے درمیان دوری مشرق اور مغرب کی، پس بہت برا ہے ہم نشین (38) اور ہرگز نہ نفع د ے گی تم کو آج، جبکہ ظلم کیا تم نے، یہ بات کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو(39)
[36] جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ ﴾ یعنی جو منہ موڑتا ہے ﴿عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان کے ذکر سے‘‘ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے۔ جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے ، وہ خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔
[37]﴿وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ یعنی وہ انھیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں ﴿وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ شیطان کے باطل کو مزین کرنے ، اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اور اپنےاعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں، جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، حالانکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔
[38] اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا ۔اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا، تو وہ بدترین حال ہو گا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہو گا جو اس کی مصیبت کی تلافی کر سکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27-29) ’’اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا، کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر ( یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالااور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔‘‘
[39]﴿وَلَنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡيَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّـكُمۡ فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔
الزخرف 43:40
کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
الزخرف 43:41
کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
الزخرف 43:42
کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
الزخرف 43:43
کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
الزخرف 43:44
کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
الزخرف 43:45
کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔
الزخرف 43:46
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:47
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:48
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:49
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:50
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:51
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:52
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:53
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:54
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:55
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:56
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
الزخرف 43:57
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:58
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:59
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:60
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:61
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:62
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:63
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:64
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:65
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الزخرف 43:66
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:67
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:68
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:69
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:70
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:71
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:72
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:73
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
الزخرف 43:74
بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)
[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔
[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘
[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔
[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔
الزخرف 43:75
بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)
[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔
[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘
[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔
[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔
الزخرف 43:76
بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)
[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔
[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘
[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔
[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔
الزخرف 43:77
بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)
[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔
[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘
[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔
[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔
الزخرف 43:78
بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)
[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔
[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘
[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔
[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔
الزخرف 43:79
بلکہ انھوں نے پختہ فیصلہ کیا ایک کام کا، تو ہم بھی قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں(79) کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ ہم نہیں سنتے بھید ان کا اور سرگوشی کرنا ان کا؟ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کے پاس لکھتے ہیں (80)
[79] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا حق کی تکذیب کرنے والوں اور اس سے عناد رکھنے والوں نے کوئی تدبیر کی ہے؟ ﴿اَمۡرًا ﴾ یعنی انھوں نے حق کے خلاف سازش کی اور حق لانے والے کے خلاف چال چلی ہے تاکہ وہ ملمع سازی سے باطل کو مزین کر کے اور دلچسپ بنا کر حق کو سرنگوں کریں۔ ﴿فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم بھی ایک بات کو محکم بنا رہے ہیں اور ایسی تدبیر کر رہے ہیں جو ان کی تدبیر پر غالب ہے اور اس کو توڑ کر باطل کر کے رکھ دے گی اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرنے اور باطل کے ابطال کے لیے اسباب اور دلائل مقرر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ﴾(الانبیاء: 21؍18) ’’بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو حق باطل کا سر توڑ ڈالتا ہے۔‘‘
[80]﴿اَمۡ يَحۡسَبُوۡنَ ﴾ کیا وہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ﴿اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ ﴾ وہ بھید جس کو وہ اپنی زبان پر نہیں لائے بلکہ ابھی وہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے، ہم سنتے نہیں۔ ﴿وَنَجۡوٰىهُمۡ ﴾ اور ان کی خفیہ بات چیت کو جو وہ سرگوشیوں میں کرتے ہیں؟ بنابریں وہ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان معاصی پر کوئی متابعت نہیں اور نہ ان باتوں کی سزا ہی ملے گی جو چھپی ہوئی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿بَلٰى ﴾ ’’ہاں، ہاں‘‘ ہم ان کے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿وَرُسُلُنَا ﴾ ’’اور ہمارے قاصد۔‘‘ یعنی با تکریم فرشتے ﴿لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ﴾ وہ ان کے تمام اعمال کو لکھتے ہیں اور ان اعمال کو محفوظ رکھیں گے اور جب یہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو وہ ان تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے کیے تھے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
الزخرف 43:80
بلکہ انھوں نے پختہ فیصلہ کیا ایک کام کا، تو ہم بھی قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں(79) کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ ہم نہیں سنتے بھید ان کا اور سرگوشی کرنا ان کا؟ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کے پاس لکھتے ہیں (80)
[79] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا حق کی تکذیب کرنے والوں اور اس سے عناد رکھنے والوں نے کوئی تدبیر کی ہے؟ ﴿اَمۡرًا ﴾ یعنی انھوں نے حق کے خلاف سازش کی اور حق لانے والے کے خلاف چال چلی ہے تاکہ وہ ملمع سازی سے باطل کو مزین کر کے اور دلچسپ بنا کر حق کو سرنگوں کریں۔ ﴿فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم بھی ایک بات کو محکم بنا رہے ہیں اور ایسی تدبیر کر رہے ہیں جو ان کی تدبیر پر غالب ہے اور اس کو توڑ کر باطل کر کے رکھ دے گی اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرنے اور باطل کے ابطال کے لیے اسباب اور دلائل مقرر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ﴾(الانبیاء: 21؍18) ’’بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو حق باطل کا سر توڑ ڈالتا ہے۔‘‘
[80]﴿اَمۡ يَحۡسَبُوۡنَ ﴾ کیا وہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ﴿اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ ﴾ وہ بھید جس کو وہ اپنی زبان پر نہیں لائے بلکہ ابھی وہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے، ہم سنتے نہیں۔ ﴿وَنَجۡوٰىهُمۡ ﴾ اور ان کی خفیہ بات چیت کو جو وہ سرگوشیوں میں کرتے ہیں؟ بنابریں وہ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان معاصی پر کوئی متابعت نہیں اور نہ ان باتوں کی سزا ہی ملے گی جو چھپی ہوئی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿بَلٰى ﴾ ’’ہاں، ہاں‘‘ ہم ان کے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿وَرُسُلُنَا ﴾ ’’اور ہمارے قاصد۔‘‘ یعنی با تکریم فرشتے ﴿لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ﴾ وہ ان کے تمام اعمال کو لکھتے ہیں اور ان اعمال کو محفوظ رکھیں گے اور جب یہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو وہ ان تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے کیے تھے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
الزخرف 43:81
کہہ دیجیے! اگر ہو (اللہ) رحمان کی کوئی اولاد تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں (81) پاک ہے رب آسمانوں اور زمین کا اور رب عرش کا، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں (82) پس چھوڑ دیجیے ان کو وہ الجھے رہیں (اپنے جہل میں) اور کھیلیں کودیں یہاں تک کہ ملیں وہ اپنے اس دن کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (83)
[81] اے رسول ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے ﴿قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ١ۖ ۗ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے: اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔‘‘ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جز ہوتا ہے۔ میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، مگر (تم دیکھ رہے ہو) کہ میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہو گیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں اور انھیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء کامل ترین مخلوق ہیں، ہر بھلائی پر عمل کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وہ پیش پیش رہتے ہیں اور ہر برائی کو ترک کرنے، اس کا انکار کرنے اور اس سے دور رہنے میں سب سے آگے ہیں تو ایسے لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا، تو محمد بن عبداللہ (ﷺ) جو سب سے افضل رسول ہیں، اولین شخص ہوتے جو اس کی عبادت کرتے اور اس کی عبادت کرنے میں مشرکین آپ پر کبھی سبقت نہ لے جاسکتے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا اولین شخص ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے میری عبادت یہ ہے کہ اس نے جس چیز کا اثبات کیا ہے میں اس کا اثبات کرتا ہوں اور جس چیز کی اس نے نفی کی ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں، پس یہ قولی و اعتقادی عبادت ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر یہ بات حق ہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کا اثبات کرتا، لہٰذا اس سے اور عقل و نقل کے اعتبار سے مشرکین کے دعوے کا بطلان اور فساد معلوم ہوگیا۔
[82]﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، آسمانوں اور زمین کا رب (اور) عرش عظیم کا رب اس سے پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ شریک، معاون مددگار اور اولاد وغیرہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
[83]﴿فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا ﴾ ’’پس آپ انھیں چھوڑ دیں کہ وہ بے ہودہ کھیل کود میں لگے رہیں۔‘‘ یعنی یہ باطل میں مبتلا ہو کر محال امور سے کھیلتے ہیں، ان کے علوم ضرر رساں ہیں ان میں کوئی نفع نہیں، وہ ایسے علوم میں بحث کرتے اور ان میں مشغول ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے یہ لوگ حق اور دعوت کی مخالفت کرتے ہیں جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ ان کے اعمال محض لہوولعب ہیں جو نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں نہ ان سے معارف حاصل ہوتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے انھیں اس انجام کی وعید سنائی ہے جس کا قیامت کے روز انھیں سامنا کرنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتاہے وہ اس کو دیکھ لیں۔‘‘ تب انھیں معلوم ہو گا کہ انھیں اس میں کیا حاصل ہوا کہ وہ دائمی بدبختی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب میں پھنس گئے ہیں۔
الزخرف 43:82
کہہ دیجیے! اگر ہو (اللہ) رحمان کی کوئی اولاد تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں (81) پاک ہے رب آسمانوں اور زمین کا اور رب عرش کا، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں (82) پس چھوڑ دیجیے ان کو وہ الجھے رہیں (اپنے جہل میں) اور کھیلیں کودیں یہاں تک کہ ملیں وہ اپنے اس دن کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (83)
[81] اے رسول ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے ﴿قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ١ۖ ۗ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے: اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔‘‘ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جز ہوتا ہے۔ میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، مگر (تم دیکھ رہے ہو) کہ میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہو گیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں اور انھیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء کامل ترین مخلوق ہیں، ہر بھلائی پر عمل کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وہ پیش پیش رہتے ہیں اور ہر برائی کو ترک کرنے، اس کا انکار کرنے اور اس سے دور رہنے میں سب سے آگے ہیں تو ایسے لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا، تو محمد بن عبداللہ (ﷺ) جو سب سے افضل رسول ہیں، اولین شخص ہوتے جو اس کی عبادت کرتے اور اس کی عبادت کرنے میں مشرکین آپ پر کبھی سبقت نہ لے جاسکتے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا اولین شخص ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے میری عبادت یہ ہے کہ اس نے جس چیز کا اثبات کیا ہے میں اس کا اثبات کرتا ہوں اور جس چیز کی اس نے نفی کی ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں، پس یہ قولی و اعتقادی عبادت ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر یہ بات حق ہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کا اثبات کرتا، لہٰذا اس سے اور عقل و نقل کے اعتبار سے مشرکین کے دعوے کا بطلان اور فساد معلوم ہوگیا۔
[82]﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، آسمانوں اور زمین کا رب (اور) عرش عظیم کا رب اس سے پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ شریک، معاون مددگار اور اولاد وغیرہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
[83]﴿فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا ﴾ ’’پس آپ انھیں چھوڑ دیں کہ وہ بے ہودہ کھیل کود میں لگے رہیں۔‘‘ یعنی یہ باطل میں مبتلا ہو کر محال امور سے کھیلتے ہیں، ان کے علوم ضرر رساں ہیں ان میں کوئی نفع نہیں، وہ ایسے علوم میں بحث کرتے اور ان میں مشغول ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے یہ لوگ حق اور دعوت کی مخالفت کرتے ہیں جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ ان کے اعمال محض لہوولعب ہیں جو نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں نہ ان سے معارف حاصل ہوتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے انھیں اس انجام کی وعید سنائی ہے جس کا قیامت کے روز انھیں سامنا کرنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتاہے وہ اس کو دیکھ لیں۔‘‘ تب انھیں معلوم ہو گا کہ انھیں اس میں کیا حاصل ہوا کہ وہ دائمی بدبختی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب میں پھنس گئے ہیں۔
الزخرف 43:83
کہہ دیجیے! اگر ہو (اللہ) رحمان کی کوئی اولاد تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں (81) پاک ہے رب آسمانوں اور زمین کا اور رب عرش کا، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں (82) پس چھوڑ دیجیے ان کو وہ الجھے رہیں (اپنے جہل میں) اور کھیلیں کودیں یہاں تک کہ ملیں وہ اپنے اس دن کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (83)
[81] اے رسول ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے ﴿قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ١ۖ ۗ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے: اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔‘‘ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جز ہوتا ہے۔ میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، مگر (تم دیکھ رہے ہو) کہ میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہو گیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں اور انھیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء کامل ترین مخلوق ہیں، ہر بھلائی پر عمل کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وہ پیش پیش رہتے ہیں اور ہر برائی کو ترک کرنے، اس کا انکار کرنے اور اس سے دور رہنے میں سب سے آگے ہیں تو ایسے لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا، تو محمد بن عبداللہ (ﷺ) جو سب سے افضل رسول ہیں، اولین شخص ہوتے جو اس کی عبادت کرتے اور اس کی عبادت کرنے میں مشرکین آپ پر کبھی سبقت نہ لے جاسکتے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا اولین شخص ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے میری عبادت یہ ہے کہ اس نے جس چیز کا اثبات کیا ہے میں اس کا اثبات کرتا ہوں اور جس چیز کی اس نے نفی کی ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں، پس یہ قولی و اعتقادی عبادت ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر یہ بات حق ہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کا اثبات کرتا، لہٰذا اس سے اور عقل و نقل کے اعتبار سے مشرکین کے دعوے کا بطلان اور فساد معلوم ہوگیا۔
[82]﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، آسمانوں اور زمین کا رب (اور) عرش عظیم کا رب اس سے پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ شریک، معاون مددگار اور اولاد وغیرہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
[83]﴿فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا ﴾ ’’پس آپ انھیں چھوڑ دیں کہ وہ بے ہودہ کھیل کود میں لگے رہیں۔‘‘ یعنی یہ باطل میں مبتلا ہو کر محال امور سے کھیلتے ہیں، ان کے علوم ضرر رساں ہیں ان میں کوئی نفع نہیں، وہ ایسے علوم میں بحث کرتے اور ان میں مشغول ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے یہ لوگ حق اور دعوت کی مخالفت کرتے ہیں جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ ان کے اعمال محض لہوولعب ہیں جو نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں نہ ان سے معارف حاصل ہوتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے انھیں اس انجام کی وعید سنائی ہے جس کا قیامت کے روز انھیں سامنا کرنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتاہے وہ اس کو دیکھ لیں۔‘‘ تب انھیں معلوم ہو گا کہ انھیں اس میں کیا حاصل ہوا کہ وہ دائمی بدبختی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب میں پھنس گئے ہیں۔
الزخرف 43:84
اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)
[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
الزخرف 43:85
اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)
[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
الزخرف 43:86
اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)
[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
الزخرف 43:87
اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)
[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
الزخرف 43:88
اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)
[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
الزخرف 43:89
اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)
[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔