Tafsir As-Saadi - Urdu — محمد 47:1 – الحجرات 49:18
Contents
- محمد 47:1
- محمد 47:2
- محمد 47:3
- محمد 47:4
- محمد 47:5
- محمد 47:6
- محمد 47:7
- محمد 47:8
- محمد 47:9
- محمد 47:10
- محمد 47:11
- محمد 47:12
- محمد 47:13
- محمد 47:14
- محمد 47:15
- محمد 47:16
- محمد 47:17
- محمد 47:18
- محمد 47:19
- محمد 47:20
- محمد 47:21
- محمد 47:22
- محمد 47:23
- محمد 47:24
- محمد 47:25
- محمد 47:26
- محمد 47:27
- محمد 47:28
- محمد 47:29
- محمد 47:30
- محمد 47:31
- محمد 47:32
- محمد 47:33
- محمد 47:34
- محمد 47:35
- محمد 47:36
- محمد 47:37
- محمد 47:38
- الفتح 48:1
- الفتح 48:2
- الفتح 48:3
- الفتح 48:4
- الفتح 48:5
- الفتح 48:6
- الفتح 48:7
- الفتح 48:8
- الفتح 48:9
- الفتح 48:10
- الفتح 48:11
- الفتح 48:12
- الفتح 48:13
- الفتح 48:14
- الفتح 48:15
- الفتح 48:16
- الفتح 48:17
- الفتح 48:18
- الفتح 48:19
- الفتح 48:20
- الفتح 48:21
- الفتح 48:22
- الفتح 48:23
- الفتح 48:24
- الفتح 48:25
- الفتح 48:26
- الفتح 48:27
- الفتح 48:28
- الفتح 48:29
- الحجرات 49:1
- الحجرات 49:2
- الحجرات 49:3
- الحجرات 49:4
- الحجرات 49:5
- الحجرات 49:6
- الحجرات 49:7
- الحجرات 49:8
- الحجرات 49:9
- الحجرات 49:10
- الحجرات 49:11
- الحجرات 49:12
- الحجرات 49:13
- الحجرات 49:14
- الحجرات 49:15
- الحجرات 49:16
- الحجرات 49:17
- الحجرات 49:18
محمد 47:1
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔
[2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔
[3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘
محمد 47:2
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔
[2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔
[3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘
محمد 47:3
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔
[2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔
[3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘
محمد 47:4
پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6)
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔
[5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔
[6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
محمد 47:5
پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6)
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔
[5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔
[6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
محمد 47:6
پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6)
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔
[5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔
[6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
محمد 47:7
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9)
[7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔
[8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔
[9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘
محمد 47:8
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9)
[7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔
[8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔
[9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘
محمد 47:9
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9)
[7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔
[8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔
[9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘
محمد 47:10
کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پھر دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ تباہی ڈال دی اللہ نے ان پر، اور کافروں کے لیے اس جیسی سزائیں ہیں (10) یہ اس لیے کہ بلاشبہ اللہ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، اور بے شک کافر لوگ، نہیں کوئی مددگار ان کا (11)
[10] رسول مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں؟ ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے انجام کو بدترین انجام پائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہو گئے، ان کے کفر اور تکذیبِ انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کر دیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے، اور انھیں بری سزائیں ملتی ہیں، رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انھیں بے پایاں ثواب عطا کرتا ہے۔
[11]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوۡلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والی و مددگار ہے۔‘‘ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سر پرستی کی، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ ﴿ وَاَنَّ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سر پرستی کے تعلق کو قطع کر دیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمت کے دروازے بند کر لیے۔ ﴿ لَا مَوۡلٰى لَهُمۡ﴾ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سر پرست تو طاغوت ہیں جو انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
محمد 47:11
کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پھر دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ تباہی ڈال دی اللہ نے ان پر، اور کافروں کے لیے اس جیسی سزائیں ہیں (10) یہ اس لیے کہ بلاشبہ اللہ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، اور بے شک کافر لوگ، نہیں کوئی مددگار ان کا (11)
[10] رسول مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں؟ ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے انجام کو بدترین انجام پائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہو گئے، ان کے کفر اور تکذیبِ انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کر دیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے، اور انھیں بری سزائیں ملتی ہیں، رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انھیں بے پایاں ثواب عطا کرتا ہے۔
[11]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوۡلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والی و مددگار ہے۔‘‘ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سر پرستی کی، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ ﴿ وَاَنَّ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سر پرستی کے تعلق کو قطع کر دیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمت کے دروازے بند کر لیے۔ ﴿ لَا مَوۡلٰى لَهُمۡ﴾ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سر پرست تو طاغوت ہیں جو انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
محمد 47:12
بلاشبہ اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، باغات میں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں (دنیا ہی کا)، اور وہ کھاتے ہیں جس طرح کھاتے ہیں چوپائے اور آگ ہی ٹھکانا ہے ان کا (12)
[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا سر پرست ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں داخل کرے گا، جہاں نہریں بہتی ہوں گی جو خوبصورت باغات، ہر قسم کے تر و تازہ پھل اور میوے دار درختوں کو سیراب کریں گی۔ چونکہ کفار کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں، اس لیے فرمایا کہ ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بنابریں وہ مروت کی صفات سے متصف ہو سکے نہ انسانی صفات سے بلکہ وہ نچلی سطح پر گر کر چوپایوں کی مانند ہو گئے ہیں جو عقل سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد صرف دنیا کی لذات و شہوات سے متمتع ہونا ہے۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ ان کی ظاہری و باطنی حرکات انھی لذات و شہوات کے دائرہ میں ہوتی ہیں اور ان امور کے لیے نہیں ہوتیں جن میں خیر اور سعادت ہوتی ہے۔ بنابریں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، یعنی جہنم کے اندر ان کے لیے گھر تیار کیا گیا ہو گا۔ جہاں ان کے عذاب میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہو گا۔
محمد 47:13
اور کتنی ہی بستیاں، وہ شدید تر تھیں قوت میں آپ کی (اس) بستی (مکہ) سے، جس سے نکالا ہے اس (کے رہنے والوں) نے آپ کو، ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، پس نہیں تھا کوئی (بھی) مدد کرنے والا ان کی (13)
[13] تکذیب کرنے والوں کی بستیوں میں سے کتنی ہیں جو اموال و اولاد، اعوان و انصار اور عمارات و آلات کے لحاظ سے آپ کی بستی سے زیادہ طاقتور تھیں ﴿اَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾جب انھوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان کو وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ دیا نہ ہم نے ان کا کوئی مددگار پایا نہ ان کی قوت اور طاقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کام آسکی۔ تب آپ کی بستی والے ان کمزور لوگوں کا کیا حال ہے، جب انھوں نے آپ کو آپ کے وطن سے نکال دیا، آپ کی تکذیب کی، آپ سے عداوت رکھی حالانکہ آپﷺ افضل المرسلین اور خیرالاولین ولآخرین ہیں؟ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو رحمت اور ہر کافر اور منکرِ حق پر نرمی کے ساتھ مبعوث نہ کیا ہوتا، تو کیا یہ لوگ ہلاکت اور سزا کے دوسروں سے زیادہ مستحق نہیں؟
محمد 47:14
کیا پس جو شخص کہ وہ ہے اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے، مانند اس شخص کے ہے کہ مزین کر دی گئی اس کے لیے بدعملی اس کی اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی؟ (14)
[14] یعنی وہ شخص جو اپنے امور دین میں علم و عمل کے اعتبار سے بصیرت سے بہرہ ور ہے، علم حق سے سرفراز اور اس کی اتباع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ جو وعدہ کر رکھا ہے، اس پر اسے پورا یقین ہے کیا ایسے شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو دل کا اندھا ہے، جس نے حق کو چھوڑ کر اسے گم کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے بغیر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ بایں ہمہ وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے؟ دونوں فریقوں کے درمیان کتنا فرق اور دونوں گروہوں، یعنی اہل حق اور اہل باطل کے درمیان کتنا تفاوت ہے۔
محمد 47:15
مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیے گئے متقی لوگ، (یہ ہے)، اس میں نہریں ہیں (ایسے) پانی کی کہ نہیں وہ بدلنے والا اور نہریں ہیں ایسے دودھ کی کہ نہیں تبدیل ہوا (کبھی) ذائقہ اس کا اور نہریں ہیں ایسی شراب کی جو لذیذ ہے پینے والوں کے لیے اور نہریں ہیں شہدکی جو صاف کیا ہوا ہے اور ان کے لیے اس میں ہرقسم کے پھل ہوں گے اور مغفرت ہو گی ان کے رب (کی طرف) سے، (کیا یہ لوگ) مانند ان لوگوں کے ہو سکتے ہیں کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں آگ میں، اور وہ پلائے جائیں گے پانی سخت گرم کھولتا ہوا؟ پس وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ان کی آنتیں (15)
[15] یعنی جنت جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لیے تیار کیا جو اس کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی رضا کی پیروی کی کہ یہ اس کی صفت اور اس کا وصف جمیل ہے ﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ﴾ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کسی مضر صحت امر، بدبو، حرارت اور گدلے پن کی وجہ سے متغیر نہ ہو گا بلکہ وہ صاف ترین اور شیریں ترین پانی ہو گا، اس کی خوشبو بہترین اور پینے میں نہایت لذیذ ہو گا۔ ﴿ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ﴾ ’’اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلتا‘‘ یعنی خراب اور کھٹا ہو جانے کے باعث اس کا ذائقہ متغیر نہ ہوا ہو گا۔ ﴿ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ﴾ ’’اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لیے بڑی لذت ہے‘‘ یعنی اس شراب سے بہت زیادہ لذت حاصل ہو گی، دنیا کی شراب کی مانند نہیں کہ جس کا ذائقہ نہایت ناخوشگوار ہوتا ہے، جو سر کو چکرا دیتی ہے اور عقل کو خراب کر دیتی ہے ﴿ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾’’اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہے۔‘‘ یعنی یہ شہد موم اور دیگر ہر قسم کے میل کچیل سے پاک ہو گا۔﴿ وَلَهُمۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ﴾ جنت میں کھجور، انگور، سیب، انار، لیموں، انجیر اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے پھل ہوں گے جن کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔ یہ تمام محبوب و مطلوب چیزیں انھیں حاصل ہوں گی۔ پھر فرمایا:﴿ وَمَغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ ’’اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔‘‘ جس سے وہ امور زائل ہوجائیں گے جو ڈرانے والے ہیں۔پس یہ لوگ بہتر ہیں یا وہ شخص جو ہمیشہ آگ میں رہے گا، جس کی حرارت نہایت شدید ہو گی اور اس کا عذاب کئی گنا ہو گا ﴿وَسُقُوۡا﴾ ’’اور انھیں پلایا جائے گا۔‘‘ یعنی جہنم میں ﴿ مَآءً حَمِيۡمًا﴾ سخت کھولتا ہوا پانی ﴿ فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَهُمۡ﴾ جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے دونوں گھروں یعنی جنت اور جہنم، دونوں قسم کی جزاؤ ں، دونوں قسم کے عمل کرنے والوں اور دونوں قسم کے اعمال میں تفاوت رکھا۔
محمد 47:16
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے، تو کہتے ہیں ان لوگوں سے کہ وہ دیے گئے علم، کیا کہا تھا اس (پیغمبر) نے ابھی؟ یہی وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی (16) اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی، اللہ نے زیادہ کیا ان کو ہدایت میں اور دیا انھیں تقویٰ ان کا (17)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں ﴿ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ﴾ کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔‘‘ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انھوں نے سنا جس میں انھیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں:﴿ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا﴾ یعنی ابھی ابھی آپﷺ نے کیا کہا؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مند ہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کر لیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لیے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لیے بھلائی کے تمام دروازے بند کر دیے، کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا﴾ وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمۡ هُدًى﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمۡ تَقۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔‘‘ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
محمد 47:17
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے، تو کہتے ہیں ان لوگوں سے کہ وہ دیے گئے علم، کیا کہا تھا اس (پیغمبر) نے ابھی؟ یہی وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی (16) اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی، اللہ نے زیادہ کیا ان کو ہدایت میں اور دیا انھیں تقویٰ ان کا (17)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں ﴿ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ﴾ کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔‘‘ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انھوں نے سنا جس میں انھیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں:﴿ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا﴾ یعنی ابھی ابھی آپﷺ نے کیا کہا؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مند ہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کر لیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لیے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لیے بھلائی کے تمام دروازے بند کر دیے، کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا﴾ وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمۡ هُدًى﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمۡ تَقۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔‘‘ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
محمد 47:18
سو نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا یہ کہ آئے ان کے پاس اچانک، پس تحقیق آ چکی ہیں نشانیاں اس کی، پس کہاں ہو گا ان کے لیے، جب آ جائے گی ان کے پاس قیامت، نصیحت (حاصل کرنا) ان کا؟ (18)
[18] کیا یہ اہل تکذیب منتظر ہیں ﴿ اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً﴾ کہ قیامت کی گھڑی ان کے پاس آئے، یعنی اچانک آ جائے انھیں شعور بھی نہ ہو ﴿ فَقَدۡ جَآءَؔ اَشۡرَاطُهَا﴾ یعنی قیامت کی وہ علامات آ چکی ہیں جو اس کے قریب آجانے پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ فَاَنّٰى لَهُمۡ اِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرٰىهُمۡ﴾ یعنی جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی، ان کی مدت مقررہ اختتام کو پہنچ جائے گی تو ان کا نصیحت پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہونا کس کام آئے گا؟ یہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا، نصیحت پکڑنے کا وقت گزر گیا، انھوں نے وہ عمر گزار لی، جس کے اندر نصیحت پکڑی جا سکتی تھی حالانکہ ان کے پاس برے انجام سے ڈرانے والا بھی آیا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ موت کے اچانک آ جانے سے پہلے پہلے، اس کی تیاری کر لینی چاہیے، کیونکہ انسان کی موت ہی اس کے لیے قیامت کی گھڑی ہے۔
محمد 47:19
پس آپ جان لیجیے کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ ہی اور بخشش مانگیے اپنے گناہ کی اور مومن مَردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ جانتا ہے چلنا پھرنا تمھارا اور ٹھکانا تمھارا(19)
[19] علم میں اقرارِ قلب اور اس معنی کی معرفت، جو علم اس سے طلب کرتا ہے، لازمی امر ہے اور علم کی تکمیل یہ ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کیا جائے۔ اور یہ علم جس کے حصول کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم ہے اور ہر انسان پر فرض عین ہے اور کسی پر بھی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ساقط نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لیے اس کا حصول ضروری ہے۔ اس علم کے حصول کا طریق کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، چند امور پر مبنی ہے:(۱)سب سے بڑا امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال میں تدبر کیا جائے جو اس کے کمال اور اس کی عظمت و جلال پر دلالت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسماء و صفات میں تدبر، عبادت میں کوشش صرف کرنے اور رب کامل کے لیے تعبد کا موجب ہوتا ہے جو ہر قسم کی حمد و مجد اور جلال و جمال کا مالک ہے۔(۲)اس حقیقت کا علم کہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے، اس کے ذریعے سے اس بات کا علم حاصل ہو گا کہ وہ الوہیت میں بھی متفرد ہے۔(۳)اس امر کا علم کہ ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کرنے میں وہ متفرد ہے۔ یہ علم دل کے اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے، اس سے محبت کرنے، اس اکیلے کی عبادت کرنے کا موجب بنتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔(۴)ہم یہ جو دیکھتے اور سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے، جو اس کی توحید کو قائم کرتے ہیں، فتح و نصرت اور دنیاوی نعمتیں ہیں اور اس کے دشمن مشرکین کے لیے سزا اور عذاب ہے… یہ چیز اس علم کے حصول کی طرف دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور تمام تر عبادت کا وہی مستحق ہے۔(۵)ان بتوں اور خود ساختہ ہم سروں کے اوصاف کی معرفت، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے اور انھیں معبود بنا لیا گیا ہے، کہ یہ ہر لحاظ سے ناقص اور بالذات محتاج ہیں، یہ خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، ان کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ یہ دوبارہ زندگی ہی عطا کر سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے جو ان کی عبادت کرتے ہیں بھلائی عطا کرنے اور شر کو دور کرنے میں ان کے ذرہ بھر کام نہیں آ سکتے۔ کیونکہ ان اوصاف کا علم، اس حقیقت کے علم کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، نیز یہ علم اللہ کے ماسوا کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہے۔(۶)حقیقت توحید پر اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں اتفاق کرتی ہیں۔(۷)اللہ تعالیٰ کے خاص بندے، جو اخلاق، عقل، رائے، صواب اور علم کے اعتبار سے اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامل ہیں، یعنی انبیاء و مرسلین اور علمائے ربانی، اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔(۸)اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دلائل افقیہ اور نفسیہ قائم کیے ہیں، جو توحید الٰہی پر سب سے بڑی دلیل ہیں، اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی باریک کاری گری، اس کی عجیب و غریب حکمتوں اور اس کی انوکھی تخلیق کا اعلان کرتے ہیں۔یہ وہ طریقے ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کثرت سے اس امر کی دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ان کو اپنی کتاب میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے اور بار بار ان کا اعادہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض پر غور و فکر کرنے سے بندے کو علم اور یقین حاصل ہونا، ایک لازمی امر ہے، تب بندے کو کیوں کر علم اور یقین حاصل نہ ہو گا جب دلائل ہر جانب سے مجتمع اور متفق ہو کر توحید پر دلالت کرتے ہوں۔ یہاں بندۂ مومن کے دل میں، توحید پر ایمان اور اس کا علم راسخ ہو کر پہاڑوں کی مانند بن جاتے ہیں، شبہات و خیالات انھیں متزلزل نہیں کر سکتے، باطل اور شبہات کے بار بار وارد ہونے سے ان کی نشوونما اور ان کے کمال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اگر آپ اس عظیم دلیل اور بہت بڑے معاملے کو دیکھیں اور وہ ہے قرآن عظیم میں تدبر اور اس کی آیات میں غور و فکر... تو یہ علم توحید تک پہنچنے کے لیے بہت بڑا دروازہ ہے، اس کے ذریعے سے توحید کی وہ تفاصیل حاصل ہوتی ہیں جو کسی دوسرے طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔﴿ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجیے، یعنی توبہ مغفرت کی دعا، ایسی نیکیوں کے ذریعے سے جو گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، گناہوں کو ترک اور جرائم کو معاف کر کے مغفرت کے اسباب پر عمل کیجیے۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح بخشش طلب کیجیے ﴿لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ﴾ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے کیونکہ وہ اپنے ایمان کے سبب سے، ہر مسلمان مرد اور عورت پر حق رکھتے ہیں اور ان کے جملہ حقوق میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ان کے لیے دعا کی جائے اور ان کے گناہوں کی بخشش مانگی جائے۔جب آپ ان کے لیے استغفار پر مامور ہیں جو ان سے گناہوں اور ان کی سزا کے ازالے کو متضمن ہے تب اس کے لوازم میں سے ہے کہ ان کی خیر خواہی کی جائے، ان کے لیے بھلائی کو پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، ان کے لیے برائی کو ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں، انھیں ان کاموں کا حکم دیں جن میں ان کے لیے بھلائی ہے اور ان کاموں سے روکیں جن سے ان کو ضرر پہنچتا ہے، ان کی کوتاہیوں اور عیبوں کو معاف کر دیں، ان کے ساتھ اس طرح اکٹھے رہنے کی خواہش رکھیں جس سے ان کے دل اکٹھے رہیں، اور ان کے درمیان کینہ اور بغض زائل ہو جو عداوت اور ایسی مخالفت کا سبب بنتا ہے جس سے ان کے گناہ اور معاصی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ حرکات و تصرفات اور تمھاری آمدورفت کو خوب جانتا ہے۔ ﴿وَمَثۡوٰىكُمۡ﴾ اور تمھاری رہائش کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ جہاں تم ٹھہرتے ہو وہ تمھاری حرکات و سکنات کو جانتا ہے۔ وہ تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
محمد 47:20
اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔
[21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔
[22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
[23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
محمد 47:21
اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔
[21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔
[22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
[23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
محمد 47:22
اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔
[21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔
[22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
[23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
محمد 47:23
اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔
[21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔
[22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
[23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
محمد 47:24
کیا پس نہیں غور وفکر کرتے وہ لوگ قرآن میں یا دلوں پر تالے لگے ہیں ان کے؟ (24)
[24] کتاب اللہ سے روگردانی کرنے والے یہ لوگ، کتاب اللہ میں تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے، جیسا کہ غور و فکر کرنے کا حق ہے، اگر انھوں نے اس میں اچھی طرح تدبر کیا ہوتا تو یہ ہر بھلائی کی طرف ان کی راہ نمائی کرتی، انھیں ہر برائی سے بچاتی، ان کے دلوں کو ایمان سے اور ان کی عقلوں کو ایقان سے لبریز کر دیتی، وہ انھیں بلند مقاصد اور انمول عطیات تک پہنچاتی، ان کے سامنے وہ راستہ روشن کر دیتی جو انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز اس جنت کی تکمیل کرنے والے امور پر اور اس کو فاسد کرنے والے امور پر دلالت کرتی، انھیں وہ راستہ بھی دکھاتی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی بتاتی کہ کس چیز کے ذریعے سے اس سے بچا جائے۔ وہ انھیں ان کے رب، اس کے اسماء و صفات اور اس کے احسان کی معرفت عطا کرتی، ان میں بے پایاں ثواب حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتی اور انھیں درد ناک عذاب سے ڈراتی۔ ﴿ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُهَا﴾ ’’یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔‘‘ یعنی دلوں میں روگردانی، غفلت اور اعتراضات کوٹ کوٹ کر بھر دیے گئے ، پھر ان کو بند کر کے ان پر تالے لگا دیے پس ان میں بھلائی کبھی داخل نہیں ہو گی؟ فی الواقع ان کا یہی حال ہے۔
محمد 47:25
بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
[26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
[27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘
[28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
محمد 47:26
بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
[26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
[27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘
[28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
محمد 47:27
بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
[26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
[27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘
[28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
محمد 47:28
بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
[26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
[27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘
[28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
محمد 47:29
کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31)
[29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔
[30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔
[31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
محمد 47:30
کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31)
[29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔
[30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔
[31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
محمد 47:31
کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31)
[29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔
[30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔
[31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
محمد 47:32
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، اور مخالفت کی رسول (u) کی بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، ہرگز نہیں بگاڑ سکیں گے وہ اللہ کا کچھ بھی اور عنقریب وہ (اللہ) برباد کرے گا اعمال ان کے (32)
[32] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید ہے جس میں ہر قسم کا شر جمع ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تک پہنچانے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ ﴿ وَشَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡهُدٰؔى﴾ یعنی انھوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عناد رکھا، جہالت، گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی مخالفت کی ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔؔا﴾’’اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔‘‘ پس اس سے اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔﴿ وَسَيُحۡبِطُ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دے گا جو وہ باطل کی مدد کے لیے کر رہے ہیں، یعنی ان کو ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور ان کے وہ اعمال جن پر انھیں ثواب کی امیدیں ہیں، قبولیت کی شرائط کے عدم وجود کی بنا پر قبول نہ کیے جائیں گے۔
محمد 47:33
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور نہ باطل کرو اپنے عملوں کو (33)
[33] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انھیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔‘‘ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً: نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر ، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے گناہوں کا ارتکاب جو نیک اعمال کو مضمحل کر کے ان کے اجر و ثواب کو ضائع کر دیتے ہیں۔ نیز یہ نہی عمل کو اس کے وقوع کے وقت، اس کو فاسد کرنے کو شامل ہے، مثلاً: عمل کو مکمل کیے بغیر چھوڑ دینا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرنا جو اس عمل کی مفسدات میں شمار ہوتا ہے۔ پس نماز، روزہ اور حج کو باطل کرنے والے امور اسی زمرے میں آتے ہیں اور ان سے روکا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاءS بغیر کسی موجب کے فرض کو منقطع کرنے کی تحریم اور نفل کو منقطع کرنے کی کراہت پر استدلال کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعمال کو باطل کرنے سے روکا ہے تو اس نے گویا اعمال کی اصلاح، اس کی تکمیل و اتمام اور ان کو اس طرح بجا لانے کا حکم دیا ہے جو علم و عمل کے اعتبار سے درست ہو۔
محمد 47:34
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے ، پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے، تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو (34) سو نہ سستی کرو تم اور (نہ) بلاؤ تم صلح کی طرف جب کہ تم (ہی) بلند (غالب) ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور ہرگز نہیں کم گرے گا، تم سے (ثواب) تمھارے عملوں کا (35)
[34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾(البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوۡا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔
[35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوۡا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِرَؔكُمۡ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے:(۱)ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔(۲)اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ۰۰ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔
محمد 47:35
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے ، پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے، تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو (34) سو نہ سستی کرو تم اور (نہ) بلاؤ تم صلح کی طرف جب کہ تم (ہی) بلند (غالب) ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور ہرگز نہیں کم گرے گا، تم سے (ثواب) تمھارے عملوں کا (35)
[34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾(البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوۡا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔
[35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوۡا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِرَؔكُمۡ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے:(۱)ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔(۲)اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ۰۰ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔
محمد 47:36
یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38)
[37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔
[38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘
محمد 47:37
یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38)
[37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔
[38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘
محمد 47:38
یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38)
[37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔
[38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘
الفتح 48:1
بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی.
[2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔
[3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
الفتح 48:2
بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی.
[2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔
[3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
الفتح 48:3
بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی.
[2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔
[3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
الفتح 48:4
وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6)
[4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔
[5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔
[6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
الفتح 48:5
وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6)
[4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔
[5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔
[6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
الفتح 48:6
وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6)
[4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔
[5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔
[6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
الفتح 48:7
اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے، اور ہے اللہ نہایت زبردست، خوب حکمت والا(7)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتکرار آگاہ فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر موجود لشکر، اسی کی ملکیت ہیں، تاکہ بندے اس حقیقت کو جان لیں کہ وہی عزت عطا کرنے والا اور وہی ذلت سے دوچار کرنے والا ہے۔ وہ عنقریب اپنے ان لشکروں کو فتح و نصرت سے ہم کنار کرے گا جو اس کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا:﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات:37؍173) ’’بلاشبہ ہمارا لشکر ہی غالب آ کر رہے گا۔‘‘ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ طاقت ور، زبردست اور ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبہ کے باوجود، اپنی تخلیق و تدبیر میں حکمت والا ہے، وہ اپنی حکمت اور مہارت کے مطابق فعل سر انجام دیتا ہے۔
الفتح 48:8
بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو گواہی دینے والا، اور بشارت دینے والا، اور ڈرانے والا (بنا کر)(8) تاکہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، اور (تاکہ) مدد کرو تم اس کی اور توقیر کرو اس کی اور (تاکہ) پاکی بیان کرو تم اس کی صبح اور شام(9)
[8]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ اے رسول کریم! (ﷺ) ہم نے آپ کو بھیجا۔ ﴿ شَاهِدًا﴾ گواہ بناکر ،یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا اور تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ ﴿وَّمُبَشِّرًا﴾ جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لیے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انذار یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ، چنانچہ آپ خیر و شر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کر دینے والے ہیں۔
[9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ رسول اللہﷺ کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ﴾ تم رسول اللہﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپﷺ کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوۡهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
الفتح 48:9
بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو گواہی دینے والا، اور بشارت دینے والا، اور ڈرانے والا (بنا کر)(8) تاکہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، اور (تاکہ) مدد کرو تم اس کی اور توقیر کرو اس کی اور (تاکہ) پاکی بیان کرو تم اس کی صبح اور شام(9)
[8]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ اے رسول کریم! (ﷺ) ہم نے آپ کو بھیجا۔ ﴿ شَاهِدًا﴾ گواہ بناکر ،یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا اور تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ ﴿وَّمُبَشِّرًا﴾ جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لیے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انذار یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ، چنانچہ آپ خیر و شر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کر دینے والے ہیں۔
[9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ رسول اللہﷺ کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ﴾ تم رسول اللہﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپﷺ کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوۡهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
الفتح 48:10
بلاشبہ وہ لوگ جو بیعت کرتے ہیں آپ سے، یقیناً وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے، اللہ کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھوں کے، پھر جس نے عہد شکنی کی تو یقیناً وہ عہد شکنی کرے گا اپنی ہی ذات کے خلاف اور جس نے پورا کیا اس کو کہ عہد کیا تھا اس نے اس پر اللہ سے تو عنقریب وہ دے گا اس کو اجر بہت بڑا (10)
[10] یہ بیعت جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ’’بیعت رضوان‘‘ ہے، اس میں صحابہ کرام y نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں، حقیقتِ امر یہ ہے کہ وہ ﴿ يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ﴾ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا:﴿يَدُ اللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ ’’اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔‘‘ گویا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کی ہے اور اس بیعت میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ زیادہ تاکید، تقویت اور ان کو اس بیعت کے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا، بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ نَّـكَثَ﴾ ’’پس جو بیعت کو توڑے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اسے پورا نہ کرے ﴿فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ﴾ ’’تو بے شک عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔‘‘ کیونکہ اس کا وبال اسی کی طرف لوٹے گا اور اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ ﴿وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ ﴾ ’’اور جو اس بات کو جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، پورا کرے۔‘‘ یعنی اس معاہدے پر کامل طور پر عمل کرے ﴿فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔‘‘ اس اجر کی عظمت اور قدر کو صرف وہی جان سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ یہ اجر عطا کرے گا۔
الفتح 48:11
ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13)
[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
الفتح 48:12
ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13)
[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
الفتح 48:13
ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13)
[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
الفتح 48:14
اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ بخشتا ہے واسطے جس کے چاہتا ہے اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور ہے اللہ نہایت بخشنے والا بڑا مہربان (14)
[14] یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے، آسمانوں اور زمین میں اپنے احکام قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی نافذ کرتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی کا ذکر فرمایا جو احکام شرعی پر مترتب ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے۔‘‘ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ ﴿ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور وہ جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ جانا۔ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس کا وصف لازم ہے جس کی بنا پر مغفرت اور رحمت کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت گناہ گاروں کے گناہ بخشتا ہے، خطا کاروں کی خطاؤ ں سے درگزر کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کی بے پایاں بھلائی رات دن نازل ہوتی رہتی ہے۔
الفتح 48:15
عنقریب کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، جب چلو گے تم غنیمتوں کی طرف تاکہ لو تم وہ، چھوڑو ہمیں! ہم بھی چلیں تمھارے ساتھ ، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ بدل دیں کلام اللہ کا، کہہ دیجیے! ہرگز نہیں چلو گے تم ہمارے ساتھ، اسی طرح کہہ دیا ہے اللہ نے پہلے ہی سے، پھر یقیناً وہ کہیں گے، بلکہ حسد کرتے ہو تم ہم سے، (نہیں)بلکہ ہیں وہ لوگ نہیں سمجھتے مگر تھوڑا ہی (15)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مذمت کی، تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان کی دنیاوی سزا یہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کرام، ایسی غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، جس میں جنگ نہیں ہو گی، تو یہ لوگ ان سے صحبت اور مشارکت کی درخواست کریں گے، وہ کہیں گے:﴿ ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡكُمۡ١ۚ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ ’’ہمیں بھی اجازت دیں کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں، وہ چاہتے ہیں‘‘ اس سے ﴿ اَنۡ يُّبَدِّلُوۡا كَلٰمَ اللّٰهِ﴾ ’’ کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان غنائم کو شرعاً اور قدراً صحابہ کرام یعنی اہل ایمان سے مختص کیا ہے۔ ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا كَذٰلِكُمۡ قَالَ اللّٰهُ مِنۡ قَبۡلُ﴾’’تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اسی طرح اللہ نے پہلے فرما دیا ہے۔‘‘ تمھیں اس جرم کی پاداش میں جس کا ارتکاب تم نے اپنے آپ پر کیا، غنائم سے محروم کیا جاتا ہے، نیز اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے پہلی مرتبہ جہاد کو ترک کیا۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠﴾ پس وہ اس بات کا جواب دیتے ہوئے، جس کی بنا پر انھیں جنگ کے لیے نکلنے سے منع کیا گیا ہے، کہیں گے ﴿ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا﴾ یعنی تم مال غنیمت کے بارے میں ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ اس مقام پر یہ ان کا منتہائے علم ہے، اگر انھوں نے رشد و فہم سے کام لیا ہوتا تو انھیں معلوم ہوتا کہ ان کی محرومی کا سبب، ان کی نافرمانی ہے، گناہوں کی کچھ دنیاوی اور کچھ دینی سزا ہوتی ہے اسی لیے فرمایا:﴿ بَلۡ كَانُوۡا لَا يَفۡقَهُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’بلکہ یہ بہت کم سمجھتے ہیں۔‘‘
الفتح 48:16
کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17)
[16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
الفتح 48:17
کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17)
[16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
الفتح 48:18
البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21)
[19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔
[20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔
[21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
الفتح 48:19
البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21)
[19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔
[20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔
[21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
الفتح 48:20
البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21)
[19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔
[20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔
[21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
الفتح 48:21
البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21)
[19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔
[20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔
[21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
الفتح 48:22
اور اگر لڑتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تویقیناً وہ پھیر جاتے (اپنی) پیٹھیں ، پھر نہ پاتے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار (22)(مانند) طریقے اللہ کے وہ جو تحقیق گزر چکا ہے (اس سے )پہلے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی میں کوئی تبدیلی (23)
[22] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی ﴿ لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡنَ وَلِيًّا﴾ ’’تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ، پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سر پرستی کرے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’اور نہ مددگار۔‘‘ جو ان کی مدد کرے اور تمھارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دیے جائیں گے۔
[23] گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں ﴿ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔‘‘
الفتح 48:23
اور اگر لڑتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تویقیناً وہ پھیر جاتے (اپنی) پیٹھیں ، پھر نہ پاتے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار (22)(مانند) طریقے اللہ کے وہ جو تحقیق گزر چکا ہے (اس سے )پہلے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی میں کوئی تبدیلی (23)
[22] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی ﴿ لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡنَ وَلِيًّا﴾ ’’تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ، پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سر پرستی کرے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’اور نہ مددگار۔‘‘ جو ان کی مدد کرے اور تمھارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دیے جائیں گے۔
[23] گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں ﴿ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔‘‘
الفتح 48:24
اور وہ، وہ ذات ہے جس نے روکے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں اس کے بعد کہ کامیابی دے دی تھی اس نے تمھیں ان پر اور ہے اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا (24) وہ، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو اس حال میں کہ (جانور) روکے گئے اس سے کہ پہنچیں وہ اپنی قربان گاہ میں اور اگر نہ ہوتے (کچھ) مرد ایماندار اور (کچھ) عورتیں ایماندار (مکہ میں) کہ نہیں جانتے تم ان کو (اگر نہ ہوتا خطرہ) یہ کہ تم روند (کچل) ڈالو گے انھیں، پس پہنچے تمھیں بوجہ ان ( کے قتل) کے تکلیف، بغیر علم کے (تو ضرور اجازت دے دی جاتی تمھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر جدا (الگ تھلگ) ہوتے وہ (مومن تو) ضرور عذاب دیتے ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب نہایت درد ناک (25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے:﴿ وَ هُوَ الَّذِيۡ كَفَّ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔‘‘ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنۡكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُمۡ بِبَطۡنِ مَكَّـةَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔
[25] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو، بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج و عمرہ کے لیے آنے سے روکنا۔ انھی لوگوں نے ﴿وَالۡهَدۡيَ مَعۡكُوۡفًا ﴾ قربانی کے جانوروں کو روکا ﴿ اَنۡ يَّبۡلُغَ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’یہ کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انھوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے ﴿ اَنۡ تَطَـُٔوۡهُمۡ ﴾یعنی ان کو لا علمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا ﴿فَتُصِيۡبَكُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔‘‘ (اَلْمَعَرَّۃُ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بے خبری میں پہنچ سکتا تھا، اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے داخل چاہے کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے، اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ ﴿ لَوۡ تَزَيَّلُوۡا ﴾ اگر وہ کفار سے الگ ہو جاتے ﴿ لَعَذَّبۡنَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’تو جو ان میں کافر تھے، ہم انھیں دردناک عذاب دیتے۔‘‘ وہ اس طرح کہ ہم تمھارے لیے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمھیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمھیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔
الفتح 48:25
اور وہ، وہ ذات ہے جس نے روکے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں اس کے بعد کہ کامیابی دے دی تھی اس نے تمھیں ان پر اور ہے اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا (24) وہ، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو اس حال میں کہ (جانور) روکے گئے اس سے کہ پہنچیں وہ اپنی قربان گاہ میں اور اگر نہ ہوتے (کچھ) مرد ایماندار اور (کچھ) عورتیں ایماندار (مکہ میں) کہ نہیں جانتے تم ان کو (اگر نہ ہوتا خطرہ) یہ کہ تم روند (کچل) ڈالو گے انھیں، پس پہنچے تمھیں بوجہ ان ( کے قتل) کے تکلیف، بغیر علم کے (تو ضرور اجازت دے دی جاتی تمھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر جدا (الگ تھلگ) ہوتے وہ (مومن تو) ضرور عذاب دیتے ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب نہایت درد ناک (25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے:﴿ وَ هُوَ الَّذِيۡ كَفَّ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔‘‘ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنۡكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُمۡ بِبَطۡنِ مَكَّـةَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔
[25] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو، بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج و عمرہ کے لیے آنے سے روکنا۔ انھی لوگوں نے ﴿وَالۡهَدۡيَ مَعۡكُوۡفًا ﴾ قربانی کے جانوروں کو روکا ﴿ اَنۡ يَّبۡلُغَ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’یہ کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انھوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے ﴿ اَنۡ تَطَـُٔوۡهُمۡ ﴾یعنی ان کو لا علمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا ﴿فَتُصِيۡبَكُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔‘‘ (اَلْمَعَرَّۃُ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بے خبری میں پہنچ سکتا تھا، اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے داخل چاہے کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے، اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ ﴿ لَوۡ تَزَيَّلُوۡا ﴾ اگر وہ کفار سے الگ ہو جاتے ﴿ لَعَذَّبۡنَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’تو جو ان میں کافر تھے، ہم انھیں دردناک عذاب دیتے۔‘‘ وہ اس طرح کہ ہم تمھارے لیے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمھیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمھیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔
الفتح 48:26
جب پیدا کر لی ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں حمیت، حمیت جاہلیت کی تو نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اور لازم کر دی اس نے ان پر بات تقوے کی اور تھے وہ زیادہ حق دار اس (تقوے کی بات) کے اور لائق اس کے، اور ہے اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا (26)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِذۡ جَعَلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الۡجَاهِلِيَّةِ﴾ ’’جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی‘‘ کیونکہ انھوں نے رسول اللہﷺ کے معاہدے کی دستاویز سے (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ)کو نکال دیا، نیز انھوں نے رسول اللہﷺ اور مومنین کو اس سال مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ مسلمان قریش پر غالب آ کر مکہ میں داخل ہوئے۔ یہ اور اس قسم کے تمام امور، جاہلیت کے امور ہیں جو ان کے دلوں میں موجود تھے اور بے شمار گناہوں کے موجب بنے رہے۔﴿ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔‘‘ اس لیے کفار کے برتاؤ کے مقابلہ میں، ان پر غضب و غصہ غالب نہ آیا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر انہوں نے صبر کیا اور ان شرائط کا التزام کیا، جن میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم تھی، خواہ وہ کچھ بھی تھیں اور انھوں نے باتیں بنانے والوں کی کوئی پروا کی نہ ملامت کرنے والوں کی ملامت کو خاطر میں لائے۔ ﴿ وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى ﴾ ’’اور ان کو تقویٰ کی بات پرقائم رکھا۔‘‘ اس سے مراد کلمہ (لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ) اور اس کے حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لازم ٹھہرایا کہ کلمہ اور اس کے حقوق کو ادا کریں۔ پس اہل ایمان نے ان حقوق کا التزام کر کے ان کو قائم کیا۔ ﴿ وَكَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا ﴾ اور وہ اس چیز کے، دوسروں کی نسبت زیادہ مستحق تھے۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ تھے وہ﴿اَهۡلَهَا ﴾ ’’ اس کے اہل ‘‘ جو اپنے آپ کو اس کا اہل جانتے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس جو کچھ تھا اور ان کے دلوں میں جو بھلائی تھی اللہ تعالیٰ جانتا تھا۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا﴾ اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
الفتح 48:27
البتہ تحقیق سچی خبر دی اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں ساتھ حق کے، کہ ضرور داخل ہو گے تم مسجد حرام میں، اگر چاہا اللہ نے، امن سے، منڈاتے ہوئے سر اپنے اور بال کتراتے ہوئے، نہ ڈرتے ہو گے تم (کسی سے بھی) پس جان لی اللہ نے وہ بات جو نہیں جانی تم نے، سو کر دی اس نے پہلے اس سے ایک فتح جلد ہی (27) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے، تاکہ غالب کرے وہ اس کو اوپر سب دینوں کے اور کافی ہے اللہ گواہ (28)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ان باتوں کا رسول اللہﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا ، چنانچہ انھوں نے آپ سے عرض کیا ’’کیاآپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئیں گے اور طواف کریں گے؟‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لیے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ..... حدیث: 2732,2731)یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا ضروری امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جا سکتی ﴿ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ١ۙ مُحَلِّقِيۡنَ رُءُوۡسَكُمۡ وَمُقَصِّرِيۡنَ﴾یعنی تم اس حال میں مسجدِ حرام ميں داخل ہو گے جو اس محترم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے، کہ تم سر منڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہو گے ان کی تکمیل کر رہے ہو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہو گا۔﴿ فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡافَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ﴾ ’’جو تمھیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے‘‘ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے﴿فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾ ’’نزدیک کی فتح‘‘
[28] چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہو گئی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى﴾ ’’وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔‘‘ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر و شر کے تمام راستے واضح کر دیتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ﴾ اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا، جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ﴾ تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ﴿ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ ’’تمام ادیان پر‘‘ یعنی حجت و برہان کے ذریعے سے اور یہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔
الفتح 48:28
البتہ تحقیق سچی خبر دی اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں ساتھ حق کے، کہ ضرور داخل ہو گے تم مسجد حرام میں، اگر چاہا اللہ نے، امن سے، منڈاتے ہوئے سر اپنے اور بال کتراتے ہوئے، نہ ڈرتے ہو گے تم (کسی سے بھی) پس جان لی اللہ نے وہ بات جو نہیں جانی تم نے، سو کر دی اس نے پہلے اس سے ایک فتح جلد ہی (27) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے، تاکہ غالب کرے وہ اس کو اوپر سب دینوں کے اور کافی ہے اللہ گواہ (28)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ان باتوں کا رسول اللہﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا ، چنانچہ انھوں نے آپ سے عرض کیا ’’کیاآپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئیں گے اور طواف کریں گے؟‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لیے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ..... حدیث: 2732,2731)یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا ضروری امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جا سکتی ﴿ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ١ۙ مُحَلِّقِيۡنَ رُءُوۡسَكُمۡ وَمُقَصِّرِيۡنَ﴾یعنی تم اس حال میں مسجدِ حرام ميں داخل ہو گے جو اس محترم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے، کہ تم سر منڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہو گے ان کی تکمیل کر رہے ہو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہو گا۔﴿ فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡافَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ﴾ ’’جو تمھیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے‘‘ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے﴿فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾ ’’نزدیک کی فتح‘‘
[28] چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہو گئی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى﴾ ’’وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔‘‘ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر و شر کے تمام راستے واضح کر دیتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ﴾ اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا، جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ﴾ تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ﴿ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ ’’تمام ادیان پر‘‘ یعنی حجت و برہان کے ذریعے سے اور یہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔
الفتح 48:29
محمد (ﷺ) رسول ہیں اللہ کے، اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں بہت سخت ہیں کافروں پر، نہایت مہربان ہیں آپس میں، تو دیکھے گا انھیں رکوع سجود کرتے ہوئے، وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضامندی (اس کی)، علامت ان کی، ان کے چہروں میں ہو گا نشان سجدوں کا، یہ صفت ان کی تورات میں ہے، اور صفت ان کی انجیل میں مانند کھیتی کے ہے جس نے نکالی اپنی سوئی ، پھر اس نے مضبوط کیا اس (سوئی) کو، پھر وہ سخت ہوئی، پھر کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر، خوش کرتی ہے کاشتکاروں کو (اللہ نے یہ کیا) تاکہ غصہ دلائے بوجہ ان(صحابہ کرام)کے کافروں کو۔ وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک ان میں سے، مغفرت اور اجر عظیم کا(29)
[29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور ان کے صحابہ، جو مہاجرین و انصار میں سے ہیں، ان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کامل ترین صفات اور جلیل ترین احوال کے حامل ہیں اور وہ ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ ﴾کفار کے ساتھ بہت سخت ہیں، فتح و نصرت میں جدوجہد اور اس بارے میں پوری کوشش کرنے والے ہیں۔ وہ کفار کے ساتھ صرف درشتی اور سختی سے پیش آتے ہیں۔ اسی لیے ان کے دشمن ان کے سامنے ذلیل ہو گئے، ان کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمان ان پر غالب آ گئے۔﴿ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی صحابہ آپس میں محبت کرنے والے، ایک دوسرے پر مہربانی کرنے والے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور عاطفت کے ساتھ پیش آنے والے ہیں وہ جسد واحد کی مانند ہیں، ان میں سے ہر کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ہے ان کا مخلوق کے ساتھ معاملہ۔ رہا خالق کے ساتھ ان کا معاملہ، تو ﴿ تَرٰىهُمۡ رُؔكَّـعًا سُجَّدًا ﴾ ’’ تم ان کو رکوع اور سجدے کی حالت میں دیکھو گے۔‘‘ یعنی ان کا وصف کثرتِ نماز ہے جس کے جلیل ترین ارکان رکوع اور سجود ہیں ﴿ يَّبۡتَغُوۡنَ ﴾ وہ اس عبادت کے ذریعے سے طلب گار ہیں ﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا ﴾’’اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچنا اور اس کا ثواب حاصل کرنا ان کا مطلوب و مقصود ہے۔﴿ سِيۡمَاهُمۡ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ﴾ حسن عبادت اور اس کی کثرت نے ان کے چہروں پر اثر کیا ہے حتیٰ کہ وہ منور ہو گئے ہیں، چونکہ نماز کے نور سے ان کے باطن روشن ہیں لہذا جلال سے ان کے ظاہر منور ہیں ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ احوال ﴿ مَثَلُهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ ﴾ یعنی ان کا یہ وصف جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، تو رات کریم میں اسی طرح ذکر کیا گیا ہے۔ انجیل میں ان کو ایک اور وصف سے موصوف کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کمال اور باہم تعاون میں ﴿ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ ﴾ ’’گویا ایک کھیتی ہے جس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنی جڑ سے شاخیں نکالیں ، پھر ان کو استوا و ثبات میں مضبوط کیا۔ ﴿ فَاسۡتَغۡلَظَ ﴾ پس یہ کھیتی طاقت ور اور مضبوط ہو گئی۔ ﴿ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ ﴾ ’’پھر قوت کے ساتھ کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر‘‘ (سوق)جمع ہے ساق کی، یعنی اپنی جڑوں پر کھڑی ہو گئی۔ مراد یہ ہے کہ یہ کھیتی مضبوط اور قوی ہو گئی اور اس کے تنے کھڑے ہو گئے۔﴿ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ ﴾ جو اپنے کامل طور پر سیدھا کھڑا ہونے اور اپنے حسن اعتدال کی بنا پر کاشتکاروں کو بھلی لگتی ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام y مخلوق کو نفع پہنچانے اور لوگوں کا ان کی طرف ضرورت مند ہونے کی وجہ سے، کھیتی کی مانند ہیں۔ ان کی قوت ایمان اور قوت عمل پودے کی رگوں اور اس کے تنوں کی مانند ہے۔ وہ کم عمر صحابہ کرام اور جن کا اسلام متاخر تھا، جنھوں نے بزرگ صحابہ کرام کی پیروی کی، ان کے ہاتھ مضبوط کیے، اقامت دین اور دعوت دین میں، ان کی مثال اس کھیتی کی مانند ہے جس نے اپنی جڑوں سے اور سوئے نکالے، پھر اس کو مضبوط کیا ، پھر وہ موٹی ہو گئی۔بنابریں فرمایا:﴿ لِيَغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’تاکہ ان کی وجہ سے اللہ کافروں کو چڑائے‘‘ جب کفار ان کے اجتماع اور دشمنان دین پر ان کی سختی کو دیکھتے ہیں، نیز جب وہ دست بدست لڑائی اور جنگی معرکوں میں ان کی بہادری کو دیکھتے ہیں، تو یہ چیز ان کے دل کو جلاتی ہے۔ ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ پس صحابہ کرام y ، جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت جس کا لازمہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کے شر سے حفاظت ہے اور دنیا و آخرت کے اندر اجر عظیم کو جمع کیا۔
صلح حدیبیہ کے واقعاتہم صلح حدیبیہ کے واقعات پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں جیسا کہ امام شمس الدین ابن القیم a نے ’’زاد المعاد‘‘ (زاد المعاد: 296-286)میں بیان کیے ہیں کیونکہ ان واقعات سے اس سورۂ مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ابن القیم نے اس سورۂ مبارکہ کے اسرار و معانی پر بھی بحث کی ہے، چنانچہ انھوں نے فرمایا: نافع کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ذی قعد ۶ھ میں پیش آیا اور یہی صحیح ہے۔ امام زہری ، قتادہ ، موسیٰ بن عقبہ ، اور محمد بن اسحاقS وغیرهم کی بھی یہی رائے ہے۔ہشام بن عروہ a اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ماہ رمضان میں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے اور صلح حدیبیہ کا واقعہ شوال میں پیش آیا مگر یہ وہم ہے رمضان میں تو مکہ فتح ہوا تھا۔ ابوالاسود، عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ صلح حدیبیہ ذی قعد میں ہوئی تھی۔ صحیحین میں حضرت انسt سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چار عمرے کیے، جو سب کے سب ذی قعد میں تھے۔ ان میں عمرہ حدیبیہ بھی ذکر کیا، آپ کے ساتھ پندرہ سو نفوس تھے۔ صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہw سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیحین میں حضرت جابرt سے مروی ہے کہ نبیﷺ کے ساتھ چودہ سو نفوس تھے۔ صحیحین میں عبداللہ بن ابی اوفیٰt سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم تیرہ سو افراد تھے۔ قتادہa روایت کرتے ہیں کہ میں نے جناب سعید بن المسیبa سے پوچھا کہ کتنے لوگوں کی جماعت تھی جو بیعت رضوان میں شریک ہوئی؟ انھوں نے جواب دیا ’’پندرہ سو افراد تھے‘‘ میں نے عرض کیا ’’حضرت جابرt فرماتے ہیں کہ وہ چودہ سو افراد تھے‘‘ سعید بن المسیبa نے فرمایا: ’’اللہ ان پر رحم فرمائے، انھیں وہم ہوا ہے، انھی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ پندرہ سو افراد تھے۔‘‘ میں (ابن القیم) کہتا ہوں ’’حضرت جابر بن عبداللہw سے دونوں قول صحت کے ساتھ مروی ہیں اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ حدیبیہ والے سال ستر اونٹ قربان کیے، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا ’’آپ کتنے افراد تھے؟‘‘ حضرت جابرt نے جواب دیا ’’سوار اور پیدل دونوں مل کر چودہ سو نفوس تھے‘‘ یعنی ان کے سوار اور پیا دے۔میلان قلب بھی زیادہ اسی طرف ہے، براء بن عازب، معقل بن یسار اور سلمہ بن الاکوع y سے بھی صحیح تر روایت کے مطابق یہی تعداد ہے اور مسیب بن حزنw کا بھی قول ہے۔ شعبہa ، قتادهa سے، قتاد سعید بن المسیبa سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ درخت کے نیچے (بیعت کرنے والے) چودہ سو افراد تھے۔جس نے یہ کہا کہ وہ کل سات سو افراد تھے اس نے واضح طور پر غلطی کی ہے۔ سات سو افراد کہنے والے حضرات کا عذر یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس روز ستر اونٹ ذبح کیے تھے اونٹ کی قربانی کے بارے میں آتا ہے کہ اونٹ کی قربانی سات یا دس افراد کی طرف سے کافی ہے۔ مگر یہ بھی اس قائل کے دعویٰ پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ راوی نے تصریح کی ہے کہ اس غزوہ میں ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کیا گیا تھا۔ اگر قربانی کے ستر اونٹ سب کی طرف سے ہوتے تو کل چار سو نوے افراد ہوتے۔ راوی مکمل حدیث اسی طرح بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کل چودہ سو نفوس تھے۔فصلجب رسول اللہﷺ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانیوں کو ہار پہنائے اور علامتیں لگائیں اور عمرے کا احرام باندھا اور اپنے آگے بنو خزاعہ میں سے ایک جاسوس بھیجا جو قریش کے حالات کے بارے میں آگاہ کرے۔ جب آپ عسفان کے قریب پہنچے تو آپ کے جاسوس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا ’’میں کعب بن لوی کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ انھوں نے آپ کے مقابلے کے لیے، مختلف قبیلوں سے لوگوں کو جمع کر رکھا ہے وہ سب جمع ہو کر آپ سے ضرور لڑیں گے اور بیت اللہ کی زیارت سے آپ کو روکیں گے۔رسول مصطفیﷺ نے اپنے اصحاب کرام سے مشورہ کیا کہ آیا ہم ان قبائل کے پسماندگان پر حملہ کر دیں جو قریش کی مدد کے لیے جمع ہوئے ہیں اور ان کو قیدی بنا لیں، اگر وہ پھر بیٹھے رہے تو بدلہ لیے بغیر غم زدہ بیٹھے رہیں گے اور اگر وہ بچ نکلے تو وہ ایسی گردن ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے کاٹ دیا ہے… یا تمھارا خیال ہے کہ ہم بیت اللہ کا قصد رکھیں، جو کوئی ہمیں روکنے کی کوشش کرے تو ہم اس سے جنگ کریں؟حضرت ابوبکرt نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، ہم کسی کے خلاف لڑنے کے لیے نہیں آئے۔ تاہم جو کوئی ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا ہم اس سے ضرور لڑیں گے۔‘‘ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’تو پھر کوچ کرو!‘‘ پس صحابہ کرام نے کوچ کیا، ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’خالدبن ولید قریش کے گھڑ سواروں کے ساتھ غمیم کے مقام پر پڑاؤ کیے ہوئے ہے، اس لیے پہلو بچا کر دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو‘‘ اللہ کی قسم! خالد بن ولید کو صحابہ کرام کے نکل جانے کا پتہ تک نہ چلا، یہاں تک مسلمانوں کے لشکر کی گرد ان تک پہنچی تو مسلمانوں کی آمد کا ان کو علم ہوا تو وہ فوراً قریش کو آگاہ کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ اس دوران میں نبی اکرمﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ آپ اس گھاٹی میں پہنچ گئے۔ جہاں سے ہو کر مکہ کی طرف اترتے ہیں، تو آپ کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ نے کہا:(حُلْ حُلْ) مگر اونٹنی بیٹھی رہی۔ صحابہ نے کہا، قصواء تھک کر بیٹھ گئی‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا‘‘ قصواء تھک کر نہیں بیٹھی اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ اس کو اس ہستی نے روک دیا ہے جس نے ہاتھی کو روکا تھا، پھر فرمایا ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریش مجھ سے جس چیز کا سوال کریں، جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی حرمت کا لحاظ رکھا ہو، میں ان کو یہ چیز ضرور عطا کر دوں گا۔‘‘ پھر آپ نے اونٹنی کو جھڑکا، وہ فوراً جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی، پس رسول اللہﷺ اس گھاٹی سے ایک طرف سے ہٹ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حدیبیہ کے کنویں کے پاس اتر پڑے جس میں بہت ہی تھوڑا پانی تھا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لیتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے پانی ختم کر دیا۔ پس انھوں نے رسول اللہﷺ کے پاس پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور صحابہ سے کہا، کہ وہ اس تیر کو اس کنویں میں ڈال دیں۔ راوی کہتا ہے ’’اللہ کی قسم! پورا لشکر اس کنویں سے سیراب ہوتا رہا یہاں تک کہ انھوں نے وہاں سے کوچ کیا۔ قریش آپ کی روانگی کا سن کر بہت گھبرائے۔رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کرام میں سے کسی شخص کو ایلچی بنا کر بھیجنا چاہتے تھے ، چنانچہ آپ نے عمرt کو بلایا تاکہ ان کو قریش کی طرف بھیجیں۔ حضرت عمرt نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ (ﷺ)! اگر مکہ میں مجھے کوئی تکلیف پہنچائی گئی تو بنو کعب بن لؤی میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو میری خاطر ناراض ہو۔ اس لیے آپ حضرت عثمان کو بھیجيے، وہاں ان کا بہت بڑا قبیلہ ہے اور جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کا پیغام پہنچا دیں گے۔رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو بلایا اور ان کو سفیر بنا کر قریش کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ قریش کو کہہ دو کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کے لیے آئے ہیں اور انھیں اسلام کی دعوت دو‘‘ نیز آپ نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ مکہ مکرمہ میں جو مومن مرد اور عورتیں ہیں وہ ان کے پاس بھی جائیں اور ان کو فتح کی خوشخبری دیں۔ نیز ان کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ عنقریب مکہ میں اپنے دین کو غالب کرے گا۔ حتیٰ کہ یہاں ایمان کو چھپایا نہیں جائے گا۔حضرت عثمانt روانہ ہوئے، بلدح کے مقام پر ان کا گزر قریش کے پاس سے ہوا۔ قریش نے پوچھا ’’عثمان کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ حضرت عثمان نے فرمایا ’’مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں اور ہم تمھیں آگاہ کرتے ہیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا ’’تم نے جو کہا، ہم نے سن لیا، اب جاؤ اپنا کام کرو‘‘ ابان بن سعید اٹھا، اس نے حضرت عثمان کو مرحبا کہا، اپنے گھوڑے پر زین رکھی، حضرت عثمان کو گھوڑے پر سوار کرایا اور ان کو پناہ دی، ابان بن سعید حضرت عثمان کو اپنے ساتھ بٹھا کر مکہ آیا۔ حضرت عثمان کے واپس لوٹنے سے پہلے مسلمانوں نے کہا ’’عثمانt ہم سے پہلے بیت اللہ پہنچ کر طواف کریں گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میرا خیال ہے وہ اس حالت میں کہ ہم یہاں محصور ہیں، بیت اللہ کا طواف نہیں کریں گے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! وہ بیت اللہ پہنچ گئے ہیں، انھیں کون سی چیز بیت اللہ کے طواف سے روک سکتی ہے؟آپ نے فرمایا ’’عثمان کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ کعبہ کا طواف اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ ان کے ساتھ ہم نہ کریں۔‘‘ مسلمان صلح کے معاملے میں مشرکین کے ساتھ گھل مل گئے۔ فریقین میں سے کسی شخص نے دوسرے فریق کے کسی آدمی کو پتھر مارا، بس معرکہ برپا ہو گیا فریقین نے ایک دوسرے پر تیر چلانے اور پتھر پھینکنے شروع کر دیے دونوں فریق چلائے ہر فریق اپنے اپنے آدمیوں کے فعل پر مجبور تھا۔ رسول اللہﷺ تک جناب عثمان کے قتل کی افواہ پہنچی تو آپ نے بیعت کے لیے صحابہ کرام کو طلب فرمایا۔رسول اللہﷺ درخت کے سائے میں تشریف فرما تھے مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے۔ رسول اللہﷺ نے اپنا دست مبارک پکڑا اور فرمایا ’’یہ عثمانt کی طرف سے بیعت ہے۔‘‘ جب بیعت مکمل ہو گئی تو حضرت عثمانt بھی واپس آ گئے۔ صحابہ کرام نے حضرت عثمانt سے کہا ’’آپ نے تو بیت اللہ کا طواف کر کے اپنے دل کو ٹھنڈا کر لیا۔‘‘ حضرت عثمانt نے کہا ’’میرے بارے میں تم نے بہت ہی برا گمان رکھا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر سال بھر بھی میں مکہ مکرمہ میں رہوں، اور رسول اللہﷺ حدیبیہ کے مقام پر فروکش ہوں، تو میں اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہﷺ طواف نہ کر لیں۔ قریش نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے کی دعوت دی تھی مگر میں نے انکار کر دیا تھا‘‘ صحابہ کرام نے کہا ’’رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ہم سے زیادہ اچھا گمان رکھتے ہیں۔‘‘ حضرت عمرt نے درخت کے نیچے بیعت کے لیے جناب رسول اللہﷺ کا دست مبارک تھامے رکھا اور جد بن قیس کے سوا تمام مسلمانوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضرت معقل بن یسارt آپ پر درخت کی ٹہنیاں اٹھائے رہے۔ابوسنان اسدیt پہلے شخص تھے جنھوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ سلمہ بن الاکوعt نے تین مرتبہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، ایک دفعہ ابتدا میں، پھر درمیان میں اور ایک دفعہ آخر میں۔بیعت کا سلسلہ اسی طرح جاری تھا کہ بدیل بن ورقاء خزاعی بنو خزاعہ کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تہامہ کی پوری وادی میں صرف خزاعی آپ کے خیر خواہ تھے، بدیل نے کہا ’’میں بنو کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑ کر آ رہا ہوں کہ وہ حدیبیہ کے چشموں پراترے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں بھی ہیں، وہ آپﷺ کے ساتھ لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہم کسی کے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، جنگ نے قریش کو کمزور کر دیا ہے اور ان کو نقصان پہنچایا ہے، اس صورت میں اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت کے لیے ان کے ساتھ صلح کر لوں گا، وہ میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں، اگر وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں، ورنہ آرام سے بیٹھیں۔ اور اگر انھیں جنگ کے سوا کچھ منظور نہیں تو قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری زندگی ہے۔ میں اپنے اس دین پر ان سے ضرور لڑوں گا یہاں تک کہ میری گردن تن سے جدا ہو جائے، یا اللہ تعالیٰ اپنے دین کو نافذ کر دے۔‘‘ بدیل نے عرض کیا ’’میں آپ کی بات قریش تک پہنچا دوں گا۔‘‘ بدیل چلا گیا حتیٰ کہ وہ قریش کے پاس پہنچا اور ان سے کہنے لگا ’’میں اس شخص کے پاس سے ہو کر آیا ہوں، میں نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے، اگر آپ لوگ چاہیں تو میں وہ بات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘ قریش کے بیوقوف لوگوں نے کہا ’’ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں کچھ سناؤ ‘‘ مگر ان میں سے اصحاب رائے نے کہا ’’ہاں بتاؤ تم نے اس سے کیا سنا ہے‘‘ بدیل نے کہا ’’میں نے اس کو یہ کچھ کہتے سنا ہے۔‘‘ عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا: ’’اس شخص نے تمھارے سامنے ایک اچھی بات پیش کی ہے، اس کو قبول کر لو، اور مجھے اس کے پاس جانے دو‘‘ قریش نے کہا ’’ہاں تم اس کے پاس جاؤ ۔‘‘ عروہ بن مسعود ثقفی آپ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺ نے عروہ بن مسعود سے بھی وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی۔ اس پر عروہ بن مسعود نے کہا ’’اے محمد(ﷺ)! کیا تم اپنی قوم ہی کی جڑ کاٹو گے، کیا تم نے کسی عرب کے بارے میں سنا ہے کہ اس نے تم سے پہلے اپنی قوم کو نیست و نابود کیا ہو؟ اگر کوئی دوسری بات ہوئی تو اللہ کی قسم! میں کچھ ایسے چہرے اور اس طرح کے لوگ دیکھ رہا ہوں جو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔‘‘ حضرت ابوبکرt نے اس سے کہا ’’تو، لات کی شرم گاہ چو ستا رہ، کیا ہم رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟‘‘ عروہ بن مسعود نے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ حضرت ابوبکر صدیقt نے کہا ’’میں ابوبکر ہوں۔‘‘ عروہ بن مسعود نے کہا ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تیرا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا بدلہ میں ابھی تک نہیں اتار سکا تو میں تجھے اس کا جواب دیتا۔‘‘ اس نے رسول اللہﷺ سے بات چیت شروع کی۔ جب وہ بات کرتا تو آپ کی ریش مبارک کو چھوتا، حضرت مغیرہ بن شعبہt آپ کے سر پر کھڑے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود پہن رکھا تھا۔ جب بھی عروہ بن مسعود اپنا ہاتھ آپ کی ریش مبارک کی طرف بڑھاتا، تو مغیرہt اپنی تلوار کا نعل اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے ’’اپنے ہاتھ کو رسول اللہﷺ کی ریش مبارک سے دور رکھو۔‘‘ عروہ بن مسعود نے اپنا سر اٹھا کر پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ مغیرہt نے کہا ’’میں مغیرہ بن شعبہ ہوں۔‘‘ عروہ بن مسعود نے کہا ’’اے بے وفا شخص! کیا میں تیری بے وفائی کے انتقام کی کوشش میں نہیں ہوں؟‘‘ حضرت مغیرہ بن شعبہt ایام جاہلیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ مصاحبت رکھتے تھے، پس مغیرہ بن شعبہt نے ان لوگوں کو قتل کر دیا ان کا مال لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آئے۔ آپ نے فرمایا ’’میں تمھارا اسلام لانا تو قبول کرتا ہوں، لیکن مال کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ پھر عروہ بن مسعود دیر تک اصحاب رسولﷺ کو دیکھتا رہا، اللہ کی قسم! جب کبھی نبی اکرمﷺ نے تھوک پھینکا تو کسی نہ کسی شخص نے اسے اپنے ہاتھ پر لیا اور اسے اپنے جسم اور چہرے پر مل لیا ۔آپ کوئی حکم دیتے تو صحابہ اس کی تعمیل کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، جب آپ وضو فرماتے تو صحابہ آپ کے وضو کے مستعمل پانی پر گویا لڑتے تھے، جب آپ گفتگو فرماتے تو صحابہ کرام آپ کے پاس اپنی آوازوں کو پست کر لیتے تھے، آپ تعظیم کی وجہ سے آپﷺ کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔عروہ بن مسعود اپنے اصحاب ( یعنی قریش) میں واپس آیا اور ان سے کہنے لگا ’’اے لوگو! میں کسریٰ، قیصر اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں، میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے مصاحبین اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد (ﷺ) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) جب بھی تھوک پھینکتے تو کوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھ پر لے کر اپنے جسم اور چہرے پر مل لیتا تھا۔ جب محمد (ﷺ) کوئی حکم دیتے تو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تعمیل کی کوشش کرتے، جب محمد (ﷺ) وضو کرتے تو وضو کے مستعمل پانی کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑتے تھے۔ جب محمد (ﷺ) گفتگو کرتے تو لوگ اپنی آوازوں کو پست کر لیتے وہ محمد (ﷺ) کی تعظیم کے طور پر ان کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔ بے شک انھوں نے ایک نہایت اچھی بات تمھارے سامنے پیش کی ہے اور اس پر زور دیا ہےکہ تم اسے قبول کر لو۔‘‘ بنو کنانہ میں سے ایک شخص نے کہا ’’مجھے اس کے پاس جانے دو۔‘‘ قریش نے کہا ’’تم اس کے پاس جاؤ ۔‘‘ جب یہ شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ فلاں شخص ہے اور اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جو قربانی کے جانوروں کا بہت احترام کرتے ہیں، تم قربانی کے جانور اس کے پاس لے کر آؤ ، پس لوگ قربانی کے جانور اس کے پاس لے کر آئے اور تلبیہ کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا ’’سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب نہیں‘‘ پھر وہ اپنے لوگوں کی طرف واپس آیا اور ان سے کہا ’’میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا ہے کہ ان کو ہار پہنائے گئے ہیں اور ان کا اشعار کیا گیا ہے میری رائے ہے کہ ان کو بیت اللہ سے نہ روکا جائے۔‘‘ پھر مکرز بن حفص کھڑا ہوا اور اس نے کہا ’’مجھے اجازت دو کہ میں محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ ں‘‘ جب مکرز ان کے پاس آیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ مکرز بن حفص ہے اور یہ فاسق و فاجر شخص ہے۔ مکرز بن حفص نے رسول اللہﷺ سے گفتگو شروع کی۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمھارا معاملہ آسان فرما دیا۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کا معاہدہ لکھ دیجیے‘‘ رسول اللہﷺ نے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا: ’’لکھو: (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) سہیل بن عمرو نے کہا ’’رہا رحمٰن، تو اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کیا ہے بلکہ لکھو ( بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) جیسا کہ تو لکھا کرتا تھا۔مسلمانوں نے کہا ’’اللہ کی قسم! ہم تو (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) ہی لکھیں گے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) ہی لکھ دو‘‘ پھر فرمایا: ’’لکھو: یہ وہ تحریر ہے، جس پر محمد رسول اللہ (ﷺ) نے صلح کی۔‘‘ اس پر سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا ’’اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ کی زیارت سے نہ روکتے اور نہ آپ کے خلاف جنگ کرتے۔ بلکہ لکھو ’’محمد بن عبداللہ‘‘نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم نے میری تکذیب کی ہے، تاہم لکھ دو ’’محمد بن عبداللہ‘‘نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’اس بات پر صلح ہے کہ تم بیت اللہ اور ہمارے درمیان سے ہٹ جاؤ گے اور ہم طواف کریں گے۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا، کہیں عرب یہ نہ کہیں کہ ہمیں مجبور کر دیا گیا، البتہ آپ آئندہ سال طواف کریں، پس یہی لکھ دیا گیا۔سہیل بن عمرو نے کہا ’’یہ اس بات پر صلح نامہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی شخص (بھاگ کر) تمھارے پاس آ جائے تو تم اسے واپس کر دو گے، خواہ وہ تمھارے دین پر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ مسلمانوں نے کہا ’’سبحان اللّٰہ! جو شخص مسلمان ہو کر آیا ہو اسے کیسے مشرکین کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا‘‘ ابھی وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ ابوجندل بن سہیلw اپنی بیڑیوں میں بڑی مشکل سے چلتے ہوئے، نشیب مکہ سے نکلے اور اپنے آپ کو صحابہ کے درمیان ڈال دیا، سہیل بن عمرو نے کہا ’’اے محمد! (ﷺ) یہ پہلی شرط ہے جس پر میں نے تمھارے ساتھ صلح کی ہے، ابوجندل کو واپس کر دو۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ابھی ہم نے تحریر ختم نہیں کی۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’اللہ کی قسم! اگر یہ بات ہے تو میں تمھارے ساتھ کسی بات پر کبھی بھی صلح نہیں کروں گا۔‘‘ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس کی اجازت دے دو‘‘سہیل بن عمرو نے کہا ’’میں ہرگز اس کی اجازت نہیں دوں گا‘‘آپ نے فرمایا ’’کیوں نہیں! اجازت دے دو‘‘سہیل بن عمرو نے کہا ’’میں اجازت نہیں دوں گا‘‘مکرز نے کہا ’’میں اجازت دیتا ہوں‘‘ابوجندل نے کہا ’’اے مسلمانو! کیا مجھے مشرکین کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا دراں حالیکہ میں مسلمان ہو کر تمھارے پاس آیا ہوں، کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ مجھے کن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‘‘حضرت ابوجندلt کو اللہ کے راستے میں سخت عذاب سے دو چار کیا گیا تھا۔ حضرت عمرt فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں مجھے اسلام کی حقانیت پر، اس دن کے سوا، کبھی شک نہیں ہوا، میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! کیا آپ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟‘‘آپ نے فرمایا ’’کیوں نہیں‘‘میں نے عرض کیا ’’کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟‘‘آپ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں‘‘میں نے عرض کیا ’’تو پھر ہم اپنے دین میں کمزوری کیوں دکھائیں؟آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ کا رسول ہوں، وہی میرا مددگار ہے، میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘میں نے عرض کیا’’ کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب بیت اللہ کا طواف کریں گے؟‘‘رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ تم اسی سال آ کر بیت اللہ کا طواف کرو گے؟‘‘میں نے عرض کیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا ’’تم ضرور بیت اللہ کی زیارت اور طواف کرو گے۔‘‘حضرت عمرt کہتے ہیں: اس کے بعد میں ابوبکرt کے پاس آیا اور ان سے بھی وہی کچھ کہا جو رسول اللہﷺ سے کہا تھا اور انھوں نے بھی وہی جواب دیا جو رسول اللہﷺ نے دیا تھا، اور مزید کہا: ’’مرتے دم تک ان کے امر و نہی کی اطاعت کر، اللہ کی قسم! وہ حق پر ہیں‘‘ حضرت عمر فرماتے ہیں ’’میں نے اس سوال جواب کی گستاخی کی تلافی کے لیے کفارے کے طور پر بہت اعمال کیے۔‘‘ جب رسول اللہﷺ صلح نامہ کی تحریر سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’اٹھو قربانی کرو اور اپنا سر منڈاؤ ۔‘‘ اللہ کی قسم! کوئی شخص نہ اٹھا حتیٰ کہ آپ نے تین مرتبہ کہا۔ جب ان میں سے کوئی آدمی نہ اٹھا تو آپ اٹھ کر ام سلمہ r کے خیمہ میں چلے گئے، جو کچھ لوگوں کی طرف سے پیش آیا تھا حضرت ام سلمہr سے کہہ سنایا۔حضرت ام سلمہr نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا آپ واقعی یہی چاہتے ہیں؟ اگر یہ بات ہے تو آپ باہر تشریف لے جائیے، اور اس وقت تک کسی سے بات نہ کیجیے جب تک کہ آپ اپنی قربانی کو ذبح نہ کر لیں، پھر حجام کو بلائیے اور وہ آپ کا سر مونڈ دے‘‘ نبئ اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور باہر نکل گئے، آپ نے کسی سے گفتگو نہ فرمائی، جب تک کہ یہ سب کچھ نہ کر لیا، آپ نے اپنے قربانی کے جانور ذبح کیے ، پھر حجام کو بلوایا، اس نے آپ کا سر مونڈا۔ جب صحابہ کرام نے یہ دیکھا تو وہ اٹھے اور انھوں نے بھی قربانی کے جانور ذبح کیے اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے، پھر ازدحام کی وجہ سے ایسے لگتا تھا کہ کہیں وہ ایک دوسرے کو قتل نہ کر دیں۔ پھر مومن خواتین آئیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِـاِيۡمَانِهِنَّ۠١ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡهُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡهُنَّ اِلَى الۡكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ١ؕ وَاٰتُوۡهُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا١ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ١ؕ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ﴾(الممتحنۃ:60؍10) ’’اے ایمان والو! جب تمھارے پاس مومن عوتیں آئیں تو ان کو آزما لیا کرو، ان کے ایمان کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر تمھیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف مت لوٹاؤ وہ ان کفار کے لیے حلال نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں اور انھوں نے جو کچھ ان پر خرچ کیا ہے انھیں دے دو، اور تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم ان کے ساتھ مہر مقرر کرنے کے بعد نکاح کر لو اور کافر عورتوں کو اپنے پاس نہ رکھو۔‘‘ حضرت عمرt نے اس روز اپنی دو بیویوں کو طلاق دی تھی جو شرک کی حالت میں ان کے پاس تھیں۔ ان میں سے ایک کے ساتھ امیر معاویہt نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر رسول اللہﷺ واپس مدینہ لوٹ آئے، واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سورۂ فتح نازل فرمائی۔ حضرت عمرt نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘! صحابہ کرامy نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(الفتح: 4/48)
الحجرات 49:1
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
الحجرات 49:2
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
الحجرات 49:3
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
الحجرات 49:4
بلاشبہ وہ لوگ جو پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے باہر سے، اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(4) اور اگربے شک وہ صبر کرتے حتی کہ آپ(خود ہی)نکلتے ان کی طرف تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(5)
[4] یہ آیت کریمہ، اعراب (عرب دیہاتیوں)میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انھوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا، انھوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کر سکے اور پکارنا شروع کر دیا ’’اے محمد! اے محمد! (ﷺ) ہمارے پاس آؤ ‘‘ ... پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و احترام کو نہ سمجھ سکے۔ جیسا کہ ادب کا استعمال عقل مندی میں شمار ہوتا ہے، بندے کا باادب ہونا اس کی عقل کا عنوان ہے۔اللہ بندے کی بھلائی چاہتا ہے
[5] بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰى تَخۡرُجَ اِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
الحجرات 49:5
بلاشبہ وہ لوگ جو پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے باہر سے، اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(4) اور اگربے شک وہ صبر کرتے حتی کہ آپ(خود ہی)نکلتے ان کی طرف تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(5)
[4] یہ آیت کریمہ، اعراب (عرب دیہاتیوں)میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انھوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا، انھوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کر سکے اور پکارنا شروع کر دیا ’’اے محمد! اے محمد! (ﷺ) ہمارے پاس آؤ ‘‘ ... پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و احترام کو نہ سمجھ سکے۔ جیسا کہ ادب کا استعمال عقل مندی میں شمار ہوتا ہے، بندے کا باادب ہونا اس کی عقل کا عنوان ہے۔اللہ بندے کی بھلائی چاہتا ہے
[5] بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰى تَخۡرُجَ اِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
الحجرات 49:6
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر لائے تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو تحقیق کر لیا کرو (اس کی، ایسا نہ ہو) کہ تکلیف پہنچاؤ تم کسی قوم کو نادانی سے، پھر ہو جاؤ تم اس پر جو کیا تم نے نادم(6)
[6] یہ بھی ان آداب میں شامل ہے جن پر عقل مند لوگ عمل پیرا ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو وہ اس کی خبر کی تحقیق کر لیا کریں اور تحقیق کے بغیر اس پر عمل نہ کریں، کیونکہ اس میں بہت بڑا خطرہ اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ جب فاسق و فاجر شخص کی خبر کو صادق اور عادل شخص کی خبر کے طور پر لیا جائے، اور اس کے موجب اور تقاضے کے مطابق حکم لگایا جائے، تو اس خبر کے سبب سے ناحق جان و مال کا اتلاف ہو گا جو ندامت کا باعث ہو گا۔ فاسق و فاجر کی دی ہوئی خبر سننے کے بعد اس کی تحقیق و تبیین واجب ہے۔ اگر دلائل اور قرائن اس کی صداقت پر دلالت کرتے ہوں تو اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے، اور اگر دلائل و قرائن اس کے کذب پر دلالت کریں تو اس کو جھوٹ سمجھا جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے۔اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صادق و عادل کی خبر مقبول، کاذب کی خبر مردود اور فاسق کی خبر میں توقف ہے۔ بنابریں سلف نے خوارج کی بہت سی روایات کو قبول کیا ہے، جو صداقت میں معروف تھے۔ اگرچہ وہ فاسق تھے۔
الحجرات 49:7
اور جان لو بلاشبہ تم میں اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تمھاری اطاعت کریں بہت سے معاملات میں (تو) یقیناً تم مشقت میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے محبوب بنا دیا تمھاری طرف ایمان کو اور مزین کر دیا اس نے اسے تمھارے دلوں میں، اور ناپسندیدہ بنا دیا تمھارے لیے کفر اور فسق اور نافرمانی کو، اور یہی لوگ ہیں رشد و ہدایت والے(7) بطور فضل کے اللہ کی طرف سے اور احسان کے اور اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے(8)
[7]یعنی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہﷺ تمھارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہِراست دکھانے والے ہیں، جو تمھاری بھلائی چاہتے ہیں تمھارے خیرخواہ ہیں اور تم اپنے لیے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمھاری موافقت نہیں کر سکتے۔ اگر رسولﷺ بہت سے معاملات میں تمھاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ مگر رسول اللہﷺ تمھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح ودیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے…وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔اس نے تمھارے دلوں میں شر سے جو نفرت و دیعت کی ہے، تمھارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمھارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے جو کراہت پیدا کی ہے...۔ وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں کے لیے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبوب بنا دیا، اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا۔ ﴿ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ﴾ ’’وہی راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔ان کے برعکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لیے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انھوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ﴿ زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا۔
[8]﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً﴾ یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
الحجرات 49:8
اور جان لو بلاشبہ تم میں اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تمھاری اطاعت کریں بہت سے معاملات میں (تو) یقیناً تم مشقت میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے محبوب بنا دیا تمھاری طرف ایمان کو اور مزین کر دیا اس نے اسے تمھارے دلوں میں، اور ناپسندیدہ بنا دیا تمھارے لیے کفر اور فسق اور نافرمانی کو، اور یہی لوگ ہیں رشد و ہدایت والے(7) بطور فضل کے اللہ کی طرف سے اور احسان کے اور اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے(8)
[7]یعنی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہﷺ تمھارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہِراست دکھانے والے ہیں، جو تمھاری بھلائی چاہتے ہیں تمھارے خیرخواہ ہیں اور تم اپنے لیے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمھاری موافقت نہیں کر سکتے۔ اگر رسولﷺ بہت سے معاملات میں تمھاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ مگر رسول اللہﷺ تمھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح ودیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے…وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔اس نے تمھارے دلوں میں شر سے جو نفرت و دیعت کی ہے، تمھارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمھارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے جو کراہت پیدا کی ہے...۔ وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں کے لیے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبوب بنا دیا، اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا۔ ﴿ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ﴾ ’’وہی راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔ان کے برعکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لیے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انھوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ﴿ زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا۔
[8]﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً﴾ یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
الحجرات 49:9
اور اگر دو گروہ مومنوں کے آپس میں لڑپڑیں تو تم صلح کرا دو ان کے درمیان پھر اگر زیادتی کرے ایک (گروہ ان) دونوں میں سے دوسرے پر تو تم لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے حتٰی کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف ، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو تم صلح کرا دو ان دونوں کے درمیان ساتھ عدل (حق) کے اور تم انصاف کرو، بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(9) یقیناً مومن (ایک دوسرے کے) بھائی ہیں، سو تم صلح کراؤ درمیان اپنے بھائیوں کے اور ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ (10)
[9] یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہو جائے، اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کر لیں تو بہت اچھی بات ہے ﴿ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔‘‘ یعنی اس حد کی طرف لوٹ آئیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے یعنی فعل خیر اور ترک شر۔ اور سب سے بڑا شر آپس میں لڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’پس جب وہ رجوع کرلے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔‘‘ صلح اور صلح میں عدل و انصاف کا حکم ہے کیونکہ کبھی کبھار صلح تو ہوتی ہے مگر عدل و انصاف پر نہیں بلکہ ظلم اور کسی ایک فریق پر زیادتی پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے یہ وہ صلح نہیں جس کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ فریقین میں سے کسی کی کسی قرابت یا وطن یا دیگر اغراض و مقاصد کے حوالے سے رعایت نہ رکھی جائے، جو عدل و انصاف سے انحراف کے موجب بنتے ہیں۔ ﴿ وَاَقۡسِطُوۡا ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اور عدل کرو بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جو لوگوں کے درمیان اپنے فیصلوں اور ان تمام ذمہ داریوں میں جن پر ان کو متعین کیا جاتا ہے انصاف سے کام لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں وہ عدل و انصاف بھی داخل ہے جو انسان اپنے اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں کرتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر فائز ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور منصبی ذمہ داریوں میں انصاف کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، الإمارۃ، حدیث: 1827)
[10]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾ ’’بے شک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے درمیان قائم کیا ہے، زمین کے مشرق یا مغرب میں کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ مومنوں کا بھائی ہے۔ یہ ایسی اخوت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ مومن اس کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور وہ چیز اس کے لیے ناپسند کریں جسے وہ اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ بنابریں رسول مصطفیﷺ نے اسی اخوت ایمان کی بنا پر حکم دیتے ہوئے فرمایا: ’’باہم حسد نہ کرو، مال کی خرید و فروخت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 1543 مختصراً و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2564)صحیحین میں رسول اللہﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔‘‘ اور رسول اللہﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دکھایا۔(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6026، و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2585)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے حکم دیا کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں اور ایک دوسرے سے ایسا سلوک کریں جس سے باہمی الفت، محبت اور باہمی میل جول پیدا ہوتا ہے یہ سب کچھ ایک دوسرے کے حقوق کی تائید ہے۔اہل ایمان کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کسی ایسی لڑائی میں مبتلا ہو جائیں جو دلوں میں تفرقہ، باہم ناراضی، اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی موجب ہو تو اہل ایمان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باہمی دشمنی ختم ہو جائے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی تقویٰ کا حکم دیا اور قیام تقویٰ اور مومنوں کے حقوق کی ادائیگی پر رحمت کو مترتب فرمایا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہو جاتی ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے حقوق کی عدم ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ان دو آیات کریمہ میں مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ بھی بعض فوائد ہیں:(۱)اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، اخوت ایمانی کے منافی ہے، اس لیے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔(۲)ایمان اور اخوت ایمانی، آپس کی لڑائی کے باوجود زائل نہیں ہوتے جیسے دوسرے کبیرہ گناہوں سے ایمان زائل نہیں ہوتا، جو شرک سے کم تر ہوں۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔(۳)یہ آیاتِ کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ مومنوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا واجب ہے۔(۴)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے خلاف لڑنا واجب ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔(۵)نیز یہ آیات کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اگر باغی غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، یعنی وہ اس طرح رجوع کریں جس پر قائم رہنا اور اس کا التزام جائز نہ ہو، تو غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔(۶) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے اموال معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بغاوت پر جمے رہنے کی بنا پر، ان کے اموال کی بجائے خاص طور پر ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔
الحجرات 49:10
اور اگر دو گروہ مومنوں کے آپس میں لڑپڑیں تو تم صلح کرا دو ان کے درمیان پھر اگر زیادتی کرے ایک (گروہ ان) دونوں میں سے دوسرے پر تو تم لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے حتٰی کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف ، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو تم صلح کرا دو ان دونوں کے درمیان ساتھ عدل (حق) کے اور تم انصاف کرو، بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(9) یقیناً مومن (ایک دوسرے کے) بھائی ہیں، سو تم صلح کراؤ درمیان اپنے بھائیوں کے اور ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ (10)
[9] یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہو جائے، اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کر لیں تو بہت اچھی بات ہے ﴿ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔‘‘ یعنی اس حد کی طرف لوٹ آئیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے یعنی فعل خیر اور ترک شر۔ اور سب سے بڑا شر آپس میں لڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’پس جب وہ رجوع کرلے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔‘‘ صلح اور صلح میں عدل و انصاف کا حکم ہے کیونکہ کبھی کبھار صلح تو ہوتی ہے مگر عدل و انصاف پر نہیں بلکہ ظلم اور کسی ایک فریق پر زیادتی پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے یہ وہ صلح نہیں جس کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ فریقین میں سے کسی کی کسی قرابت یا وطن یا دیگر اغراض و مقاصد کے حوالے سے رعایت نہ رکھی جائے، جو عدل و انصاف سے انحراف کے موجب بنتے ہیں۔ ﴿ وَاَقۡسِطُوۡا ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اور عدل کرو بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جو لوگوں کے درمیان اپنے فیصلوں اور ان تمام ذمہ داریوں میں جن پر ان کو متعین کیا جاتا ہے انصاف سے کام لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں وہ عدل و انصاف بھی داخل ہے جو انسان اپنے اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں کرتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر فائز ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور منصبی ذمہ داریوں میں انصاف کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، الإمارۃ، حدیث: 1827)
[10]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾ ’’بے شک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے درمیان قائم کیا ہے، زمین کے مشرق یا مغرب میں کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ مومنوں کا بھائی ہے۔ یہ ایسی اخوت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ مومن اس کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور وہ چیز اس کے لیے ناپسند کریں جسے وہ اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ بنابریں رسول مصطفیﷺ نے اسی اخوت ایمان کی بنا پر حکم دیتے ہوئے فرمایا: ’’باہم حسد نہ کرو، مال کی خرید و فروخت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 1543 مختصراً و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2564)صحیحین میں رسول اللہﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔‘‘ اور رسول اللہﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دکھایا۔(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6026، و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2585)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے حکم دیا کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں اور ایک دوسرے سے ایسا سلوک کریں جس سے باہمی الفت، محبت اور باہمی میل جول پیدا ہوتا ہے یہ سب کچھ ایک دوسرے کے حقوق کی تائید ہے۔اہل ایمان کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کسی ایسی لڑائی میں مبتلا ہو جائیں جو دلوں میں تفرقہ، باہم ناراضی، اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی موجب ہو تو اہل ایمان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باہمی دشمنی ختم ہو جائے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی تقویٰ کا حکم دیا اور قیام تقویٰ اور مومنوں کے حقوق کی ادائیگی پر رحمت کو مترتب فرمایا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہو جاتی ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے حقوق کی عدم ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ان دو آیات کریمہ میں مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ بھی بعض فوائد ہیں:(۱)اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، اخوت ایمانی کے منافی ہے، اس لیے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔(۲)ایمان اور اخوت ایمانی، آپس کی لڑائی کے باوجود زائل نہیں ہوتے جیسے دوسرے کبیرہ گناہوں سے ایمان زائل نہیں ہوتا، جو شرک سے کم تر ہوں۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔(۳)یہ آیاتِ کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ مومنوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا واجب ہے۔(۴)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے خلاف لڑنا واجب ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔(۵)نیز یہ آیات کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اگر باغی غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، یعنی وہ اس طرح رجوع کریں جس پر قائم رہنا اور اس کا التزام جائز نہ ہو، تو غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔(۶) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے اموال معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بغاوت پر جمے رہنے کی بنا پر، ان کے اموال کی بجائے خاص طور پر ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔
الحجرات 49:11
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ٹھٹھا کرے ایک قوم (دوسری) قوم سے، شاید کہ ہوں وہ (لوگ) بہتر ان سے اور نہ عورتیں ہی (ٹھٹھا کریں دوسری) عورتوں سے، شاید کہ ہوں وہ (عورتیں) بہتر ان سے اور نہ عیب لگاؤ تم آپس میں (ایک دوسرے پر) اور نہ پکارو تم ایک دوسرے کو برے لقبوں سے برا ہے نام فسق (سے ملقب کرنا) بعد ایمان کے اور جس نے توبہ نہ کی، تو وہی (لوگ) ظالم ہیں (11)
[11] یہ بھی مومنوں کے باہمی حقوق میں شمار ہوتا ہے ﴿ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ﴾ ’’کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے۔‘‘ یعنی کسی قسم کی گفتگو اور قول و فعل کے ذریعے سے تمسخر نہ اڑائے، جو مسلمان بھائی کی تحقیر پر دلالت کرتے ہوں۔ بے شک یہ تمسخر حرام ہے اور کسی طرح جائز نہیں نیز یہ چیز تمسخر اڑانے والے کی خود پسندی پر دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے جس کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے وہ تمسخر اڑانے والے سے بہتر ہو اور غالب طور پر یہی ہوتا ہے۔ کیونکہ تمسخر صرف اسی شخص سے صادر ہوتا ہے جس کا قلب اخلاق بد سے لبریز ہو، جو ہر قسم کے اخلاق مذمومہ سے آراستہ اور اخلاق کریمہ سے بالکل خالی ہو۔ بنابریں نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا: ’’کسی شخص کی برائی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم..... حدیث: 2564) پھر فرمایا: ﴿ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ یعنی تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی عیب چینی نہ کرے۔ (اَللَّمْزُ) قول کے ذریعے سے عیب چینی کرنا۔ (اَلْھَمْزُ) فعل کے ذریعے سے عیب چینی کرنا یہ دونوں امور ممنوع اور حرام ہیں جن پر جہنم کی آگ کی وعید سنائی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﴾(الہمزۃ:104؍1)’’ہلاکت ہے ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے عیب جو کے لیے۔‘‘ مسلمان بھائی کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے نفس سے موسوم کیا ہے کیونکہ تمام اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ جسد واحد کی مانند ہوں، نیز جب وہ کسی دوسرے کی عیب چینی کرے تو یہ چیز اس بات کی موجب ہو گی کہ دوسرا اس کی عیب چینی کرے، لہذا وہی اس عیب چینی کا سبب بنے گا۔﴿ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ﴾ یعنی تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کسی ایسے لقب سے ملقب نہ کرے جس سے پکارا جانا وہ ناپسند کرتا ہے، اور یہی (تَنَابُزْ) ’’یعنی ایک دوسرے کو برا لقب دینا‘‘ ہے۔ رہے غیر مذموم القاب، تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔ ﴿ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِيۡمَانِ﴾ ’’ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے۔‘‘ یعنی کتنی بری ہے وہ چیز جو تم نے ایمان اور شریعت پر عمل کے بدلے حاصل کی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے اعراض کے ذریعے سے فسق و عصیان کے نام کی مقتضی ہے جو کہ تنابز بالالقاب ہے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔‘‘ اور یہی چیز بندے پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنے مسلمان بھائی سے اس کے حق کو حلال کرا کے، اس کے لیے استغفار کر کے، اور اس کی جو مذمت کی گئی ہے اس کے مقابلے میں اس کی مدح و ستائش کر کے اس کا حق ادا کرے ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور جس نے توبہ نہیں کی، تو وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ لوگوں کی دو اقسام ہیں1 اپنی جان پر ظلم کرنے والا وہ شخص جو توبہ نہیں کرتا۔ 2توبہ کر کے فوز و فلاح سے بہرہ مند ہونے والا۔ ان دو اقسام کے سوا اور کوئی قسم نہیں۔
الحجرات 49:12
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اجتناب کرو بہت سی بدگمانیوں سے، بلاشبہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور نہ ا یک د وسرے کی جاسوسی کرو اور نہ غیبت کرے تم میں سے کوئی دوسرے کی کیا پسند کرتا ہے (کوئی) ایک تم میں سے یہ کہ وہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جبکہ ہو وہ(بھائی) مردہ؟ پس تم ناپسند کرتے ہو اس کو اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (12)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں بدگمانی سے روکا ہے، اس لیے کہ ﴿ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ﴾ ’’بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ ظن و گمان ہے جو حقیقت اور قرینے سے خالی ہے ، مثلاً: وہ بدگمانی جس کے ساتھ بہت سے اقوال بد اور افعال بد مقرون ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل کے اندر بدگمانی کے جڑ پکڑ لینے سے، بدگمانی کرنے والا شخص صرف بدگمانی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے بارے میں باتیں اور ایسے کام کرتا رہتا ہے جس کا کرنا مناسب نہیں، نیز یہ چیز مسلمان کے بارے میں بدگمانی، اس کے ساتھ بغض و عداوت کو متضمن ہے جس کے برعکس معاملے کا حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا﴾ یعنی مسلمانوں کے پوشید معاملات کی ٹوہ لگاؤ نہ ان کا پیچھا کرو۔ مسلمان کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دو اور اس کی ان لغزشوں کو نظر انداز کر دو جن کی اگر تفتیش کی جائے تو نامناسب امور ظاہر ہوں۔ ﴿ وَلَا يَغۡتَبۡ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔‘‘ غیبت کا معنی یہ ہے، جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا: ’’تو اپنے بھائی کی کسی خامی کا ذکر کرے جس کے ظاہر کرنے کو وہ ناپسند کرتا ہو ...خواہ وہ خامی اس کے اندر موجود ہو۔‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2589) پھر اللہ تعالیٰ نے غیبت سے نفرت دلانے کے لیے مثال دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ يَّاۡكُلَ لَحۡمَ اَخِيۡهِ مَيۡتًا فَؔكَرِهۡتُمُوۡهُ۠﴾’’کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ پس اس سے تم نفرت کرو گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، جو نفوس انسانی کے لیے انتہائی ناپسندیدہ چیز ہے۔ پس جس طرح تم اپنے بھائی، خاص طور پر بے جان اور مردہ بھائی کا گوشت کھانا ناپسند کرتے ہو اسی طرح تمھیں اس کی غیبت کرنا اور زندہ حالت میں اس کا گوشت کھانے کو ناپسند کرنا چاہیے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘(تَوَّاب) وہ ہستی ہے جو اپنے بندے کو توبہ کا حکم دے کر اسے توبہ کی توفیق سے نوازتی ہے، پھر اس کی توبہ قبول کر کے اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے کہ اس نے ان کو اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں غیبت سے نہایت سختی سے ڈرایا گیا ہے، نیز یہ کہ غیبت کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
الحجرات 49:13
اے لوگو! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے، اور بنائے ہم نے تمھارے خاندان اور قبیلے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بلاشبہ زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے ہاں، (وہ ہے جو) زیادہ پرہیز گار ہے تم میں سے بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا خوب خبردار ہے (13)
[13] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی آدم کو ایک ہی اصل اور ایک ہی جنس سے پیدا کیا ہے تمام بنی آدم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا۔ تمام بنی آدم، حضرت آدم اور حواi کی طرف لوٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی نسل میں سے بے شمار مردوں اور عورتوں کو پھیلایا، پھر ان کو قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا ، یعنی چھوٹے بڑے قبیلوں میں تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان کر رکھیں۔ کیونکہ اگر ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت کو قائم رکھے تو وہ تعارف حاصل نہیں ہو سکتا جس پر ایک دوسرے کی مدد اور باہمی تعاون، باہمی توارث اور عزیز و اقارب کے حقوق کا قیام مرتب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ وہ امور حاصل ہو سکیں جو باہمی تعارف اور الحاقِ نسب پر موقوف ہیں۔ مگر عزت کا معیار تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ شعار ہے اور یہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا اور گناہوں سے رکنے والا ہے۔ وہ شخص سب سے زیادہ عزت والا نہیں جس کا کنبہ قبیلہ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ بلند حسب و نسب رکھتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے وہ جانتا ہے کہ ان میں کون ظاہر اور باطن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور کون اللہ تعالیٰ سے اپنے ظاہر میں ڈرتا ہے نہ باطن میں پس اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ایسی جزا دے گا جس کا مستحق وہ ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسب و نسب کی معرفت مطلوب اور مشروع ہے کیونکہ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قوم اور قبیلے بنائے۔
الحجرات 49:14
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
الحجرات 49:15
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
الحجرات 49:16
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
الحجرات 49:17
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
الحجرات 49:18
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔